يوسف — Yusuf
Ayah 106 / 111 • Meccan
360
106
Yusuf
يوسف • Meccan
وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ
And most of them are such that they do not believe in Allah except while ascribing partners (to Him)!
اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر یہ کہ وہ مشرک ہیں
Tafsir Ibn Kathir
People neglect to ponder the Signs before Them
Allah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn `Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, `Who created the heavens Who created the earth Who created the mountains' They say, `Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, `Ata, `Ikrimah, Ash-Sha`bi, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13 This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that `Abdullah bin Mas`ud said, "I said, `O Allah's Messenger! What is the greatest sin' He said,
«أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك»
(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,
إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ يُخَـدِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلَوةِ قَامُواْ كُسَالَى يُرَآءُونَ النَّاسَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلِيلاً
(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.) 4:142 There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that `Asim bin Abi An-Najud said that `Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn `Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet said,
«مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَك»
(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْك»
(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet said,
«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّل»
(Verily, At-Tiyarah omen is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,
أَفَأَمِنُواْ أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ
(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah) Allah asks, `Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not' Allah said in other `Ayat,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment) Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health) Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.) 16:45-47 and,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah except the people who are the losers.) 7:97-99)
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت ﷺ فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود ؓ نے رسالت پناہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ (ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) (مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ ؑ نے دریافت کیا حضور ﷺ پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر ؓ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم (مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ)ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔)فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙ) 16۔ النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
Alif-Lam-Ra*; these are verses of the clear Book. (* Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
الف، لام، را (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Qualities of the Qur'an
In the beginning of Surat Al-Baqarah we talked about the separate letters, Allah said,
تِلْكَ ءايَـتُ الْكِتَـبِ
(These are the verses of the Book) in reference to the Clear Qur'an that is plain and apparent, and explains, clarifies and makes known the unclear matters. Allah said next,
إِنَّآ أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.) The Arabic language is the most eloquent, plain, deep and expressive of the meanings that might arise in one's mind. Therefore, the most honorable Book, was revealed in the most honorable language, to the most honorable Prophet and Messenger , delivered by the most honorable angel, in the most honorable land on earth, and its revelation started during the most honorable month of the year, Ramadan. Therefore, the Qur'an is perfect in every respect. So Allah said,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْءَانَ
(We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an.)
Reason behind revealing Ayah (12:3)
On the reason behind revealing Ayah (12:3), Ibn Jarir At-Tabari recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "They said, `O, Allah's Messenger! Why not narrate to us stories' Later on, this Ayah was revealed,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ
(We relate unto you the best of stories...)" There is a Hadith that is relevant upon mentioning this honorable Ayah, which praises the Qur'an and demonstrates that it is sufficient from needing all books besides it. Imam Ahmad recorded a narration from Jabir bin `Abdullah that `Umar bin Al-Khattab came to the Prophet with a book that he took from some of the People of the Book. `Umar began reading it to the Prophet who became angry. He said,
«أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقَ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي»
(Are you uncertain about it Ibn Al-Khattab By the One in Whose Hand is my soul! I have come to you with it white and pure. Do not ask them about anything, for they might tell you something true and you reject it, or they might tell you something false and you believe it. By the One in Whose Hand is my soul! If Musa were living, he would have no choice but to follow me.) Imam Ahmad also recorded a narration from `Abdullah bin Thabit who said, "`Umar came to Allah's Messenger ﷺ and said; `O Messenger of Allah! I passed by a brother of mine from the tribe of Qurayzah, so he wrote some comprehensive statements from the Tawrah for me, should I read them to you' The face of Allah's Messenger ﷺ changed with anger. So I said to him, `Don't you see the face of Allah's Messenger ﷺ" `Umar said, `We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad ﷺ as our Messenger.' So the anger of the Prophet subsided, and he said,
«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّين»
(By the One in Whose Hand is Muhammad's soul, if Musa appeared among you and you were to follow him, abandoning me, then you would have strayed. Indeed you are my share of the nations, and I am your share of the Prophets.)"
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے ؟ اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا حضور ﷺ کوئی واقعہ بھی بیان ہوجاتا تو ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر (آیت اللہ نزل الخ،) اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کردینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کردیں جس میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ سخت غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اسکی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ سے کہا کہ بنو قریضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ ؟ آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن ثابت نے کہا کہ اے عمر کیا تم حضور ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ؟ اب حضرت عمر کی نگاہ پڑی تو آپ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اگر تم میں خود حضرت موسیٰ ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہوجاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ ابو یعلی میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم ؓ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے ؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المومنین میرا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی (آیتیں لمن الغافلین) تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیرالمومنین میرا قصور کیا ہے آپ نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جاکر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لئے ہوئےحضور ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہوگئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے حضور ﷺ کو ناراض کردیا ہے اور منبر نبوی ﷺ کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ نے فرمایا لوگو میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔ گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے میں تو یارسول اللہ ﷺ اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو ﷺ منبر سے اترے اس کے ایک روای عبدالرحمن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں ؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں حضور ﷺ کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آکر حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور ﷺ کو میرا یہ کام پسند آگیا۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور ﷺ تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چناچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہوجائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کردیں۔ مراسیل ابی داؤد میں بھی حضرت عمر ؓ سے ایسی ہی روایت ہے واللہ اعلم۔
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَٰنًا عَرَبِيّٗا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
Indeed We have sent down an Arabic Qur’an, so that you may perceive.
بیشک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Qualities of the Qur'an
In the beginning of Surat Al-Baqarah we talked about the separate letters, Allah said,
تِلْكَ ءايَـتُ الْكِتَـبِ
(These are the verses of the Book) in reference to the Clear Qur'an that is plain and apparent, and explains, clarifies and makes known the unclear matters. Allah said next,
إِنَّآ أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.) The Arabic language is the most eloquent, plain, deep and expressive of the meanings that might arise in one's mind. Therefore, the most honorable Book, was revealed in the most honorable language, to the most honorable Prophet and Messenger , delivered by the most honorable angel, in the most honorable land on earth, and its revelation started during the most honorable month of the year, Ramadan. Therefore, the Qur'an is perfect in every respect. So Allah said,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْءَانَ
(We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an.)
Reason behind revealing Ayah (12:3)
On the reason behind revealing Ayah (12:3), Ibn Jarir At-Tabari recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "They said, `O, Allah's Messenger! Why not narrate to us stories' Later on, this Ayah was revealed,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ
(We relate unto you the best of stories...)" There is a Hadith that is relevant upon mentioning this honorable Ayah, which praises the Qur'an and demonstrates that it is sufficient from needing all books besides it. Imam Ahmad recorded a narration from Jabir bin `Abdullah that `Umar bin Al-Khattab came to the Prophet with a book that he took from some of the People of the Book. `Umar began reading it to the Prophet who became angry. He said,
«أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقَ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي»
(Are you uncertain about it Ibn Al-Khattab By the One in Whose Hand is my soul! I have come to you with it white and pure. Do not ask them about anything, for they might tell you something true and you reject it, or they might tell you something false and you believe it. By the One in Whose Hand is my soul! If Musa were living, he would have no choice but to follow me.) Imam Ahmad also recorded a narration from `Abdullah bin Thabit who said, "`Umar came to Allah's Messenger ﷺ and said; `O Messenger of Allah! I passed by a brother of mine from the tribe of Qurayzah, so he wrote some comprehensive statements from the Tawrah for me, should I read them to you' The face of Allah's Messenger ﷺ changed with anger. So I said to him, `Don't you see the face of Allah's Messenger ﷺ" `Umar said, `We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad ﷺ as our Messenger.' So the anger of the Prophet subsided, and he said,
«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّين»
(By the One in Whose Hand is Muhammad's soul, if Musa appeared among you and you were to follow him, abandoning me, then you would have strayed. Indeed you are my share of the nations, and I am your share of the Prophets.)"
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے ؟ اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا حضور ﷺ کوئی واقعہ بھی بیان ہوجاتا تو ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر (آیت اللہ نزل الخ،) اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کردینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کردیں جس میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ سخت غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اسکی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ سے کہا کہ بنو قریضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ ؟ آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن ثابت نے کہا کہ اے عمر کیا تم حضور ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ؟ اب حضرت عمر کی نگاہ پڑی تو آپ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اگر تم میں خود حضرت موسیٰ ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہوجاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ ابو یعلی میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم ؓ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے ؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المومنین میرا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی (آیتیں لمن الغافلین) تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیرالمومنین میرا قصور کیا ہے آپ نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جاکر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لئے ہوئےحضور ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہوگئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے حضور ﷺ کو ناراض کردیا ہے اور منبر نبوی ﷺ کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ نے فرمایا لوگو میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔ گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے میں تو یارسول اللہ ﷺ اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو ﷺ منبر سے اترے اس کے ایک روای عبدالرحمن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں ؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں حضور ﷺ کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آکر حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور ﷺ کو میرا یہ کام پسند آگیا۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور ﷺ تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چناچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہوجائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کردیں۔ مراسیل ابی داؤد میں بھی حضرت عمر ؓ سے ایسی ہی روایت ہے واللہ اعلم۔
نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ أَحۡسَنَ ٱلۡقَصَصِ بِمَآ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبۡلِهِۦ لَمِنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ
We relate to you the best narrative because We have sent the divine revelation of this Qur’an, to you; although surely you were unaware before this.
(اے حبیب!) ہم آپ سے ایک بہترین قصہ بیان کرتے ہیں اس قرآن کے ذریعہ جسے ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے، اگرچہ آپ اس سے قبل (اس قصہ سے) بے خبر تھے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Qualities of the Qur'an
In the beginning of Surat Al-Baqarah we talked about the separate letters, Allah said,
تِلْكَ ءايَـتُ الْكِتَـبِ
(These are the verses of the Book) in reference to the Clear Qur'an that is plain and apparent, and explains, clarifies and makes known the unclear matters. Allah said next,
إِنَّآ أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
(Verily, We have sent it down as an Arabic Qur'an in order that you may understand.) The Arabic language is the most eloquent, plain, deep and expressive of the meanings that might arise in one's mind. Therefore, the most honorable Book, was revealed in the most honorable language, to the most honorable Prophet and Messenger , delivered by the most honorable angel, in the most honorable land on earth, and its revelation started during the most honorable month of the year, Ramadan. Therefore, the Qur'an is perfect in every respect. So Allah said,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـذَا الْقُرْءَانَ
(We relate unto you the best of stories through Our revelations unto you, of this Qur'an.)
Reason behind revealing Ayah (12:3)
On the reason behind revealing Ayah (12:3), Ibn Jarir At-Tabari recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "They said, `O, Allah's Messenger! Why not narrate to us stories' Later on, this Ayah was revealed,
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ
(We relate unto you the best of stories...)" There is a Hadith that is relevant upon mentioning this honorable Ayah, which praises the Qur'an and demonstrates that it is sufficient from needing all books besides it. Imam Ahmad recorded a narration from Jabir bin `Abdullah that `Umar bin Al-Khattab came to the Prophet with a book that he took from some of the People of the Book. `Umar began reading it to the Prophet who became angry. He said,
«أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقَ فَتُكَذِّبُونَهُ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي»
(Are you uncertain about it Ibn Al-Khattab By the One in Whose Hand is my soul! I have come to you with it white and pure. Do not ask them about anything, for they might tell you something true and you reject it, or they might tell you something false and you believe it. By the One in Whose Hand is my soul! If Musa were living, he would have no choice but to follow me.) Imam Ahmad also recorded a narration from `Abdullah bin Thabit who said, "`Umar came to Allah's Messenger ﷺ and said; `O Messenger of Allah! I passed by a brother of mine from the tribe of Qurayzah, so he wrote some comprehensive statements from the Tawrah for me, should I read them to you' The face of Allah's Messenger ﷺ changed with anger. So I said to him, `Don't you see the face of Allah's Messenger ﷺ" `Umar said, `We are pleased with Allah as our Lord, Islam as our religion, and Muhammad ﷺ as our Messenger.' So the anger of the Prophet subsided, and he said,
«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ، وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّين»
(By the One in Whose Hand is Muhammad's soul, if Musa appeared among you and you were to follow him, abandoning me, then you would have strayed. Indeed you are my share of the nations, and I am your share of the Prophets.)"
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ اگر کوئی واقعہ بیان فرماتے ؟ اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک زمانے تک قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور آپ صحابہ کے سامنے تلاوت فرماتے رہے پھر انہوں نے کہا حضور ﷺ کوئی واقعہ بھی بیان ہوجاتا تو ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں پھر کچھ وقت کے بعد کہا کاش کہ آپ کوئی بات بیان فرماتے اس پر یہ (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 23) 39۔ الزمر :23) اتری۔ اور بات بیان ہوئی۔ روش کلام کا ایک ہی انداز دیکھ کر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ بات سے اوپر کی اور قرآن سے نیچے کی کوئی چیز ہوتی یعنی واقعہ، اس پر یہ آیتیں اتریں، پھر انہوں نے حدیث کی خواہش کی اس پر (آیت اللہ نزل الخ،) اتری۔ پس قصے کے ارادے پر بہترین قصہ اور بات کے ارادے پر بہترین بات نازل ہوئی۔ اس جگہ جہاں کہ قرآن کریم کی تعریف ہو رہی ہے۔ اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کردینے والا ہے۔ مناسب ہے کہ ہم مسند احمد کی اس حدیث کو بھی بیان کردیں جس میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو کسی اہل کتاب سے ایک کتاب ہاتھ لگ گئی تھی اسے لے کر آپ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور آپ کے سامنے سنانے لگے آپ سخت غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے اے خطاب کے لڑکے کیا تم اس میں مشغول ہو کر بہک جانا چاہتے ہو اسکی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اس کو نہایت روشن اور واضح طور پر لے کر آیا ہوں۔ تم ان اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھو ممکن ہے کہ وہ صحیح جواب دیں اور تم سے جھٹلا دو۔ اور ہوسکتا ہے کہ وہ غلط جواب دیں اور تم اسے سچا سمجھ لو۔ سنو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آج خود حضرت موسیٰ ؑ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی سوائے میری تابعداری کے کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ سے کہا کہ بنو قریضہ قبیلہ کے میرے ایک دوست نے تورات میں سے چند جامع باتیں مجھے لکھ دی ہیں۔ تو کیا میں انہیں آپ کو سناؤ ؟ آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن ثابت نے کہا کہ اے عمر کیا تم حضور ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھ رہے ؟ اب حضرت عمر کی نگاہ پڑی تو آپ کہنے لگے ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے رضامند ہیں۔ اب آپ کے چہرہ سے غصہ دور ہوا اور فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اگر تم میں خود حضرت موسیٰ ہوتے پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع میں لگ جاتے تو تم سب گمراہ ہوجاتے امتوں میں سے میرا حصہ تم ہو اور نبیوں میں سے تمہارا حصہ میں ہوں۔ ابو یعلی میں ہے کہ سوس کا رہنے والا قبیلہ عبدالقیس کا ایک شخص جناب فاروق اعظم ؓ کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کہ تیرا نام فلاں فلاں ہے ؟ اس نے کہا ہاں پوچھا تو سوس میں مقیم ہے ؟ اس نے کہا ہاں تو آپ کے ہاتھ میں جو خوشہ تھا اسے مارا۔ اس نے کہا امیر المومنین میرا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جا۔ میں بتاتا ہوں پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی (آیتیں لمن الغافلین) تک پڑھیں تین مرتبہ ان آیتوں کی تلاوت کی اور تین مرتبہ اسے مارا۔ اس نے پھر پوچھا کہ امیرالمومنین میرا قصور کیا ہے آپ نے فرمایا تو نے دانیال کی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نے کہا پھر جو آپ فرمائیں۔ میں کرنے کو تیار ہوں، آپ نے فرمایا جا اور گرم پانی اور سفید روئی سے اسے بالکل مٹا دے۔ خبردار آج کے بعد سے اسے خود پڑھنا نہ کسی اور کو پڑھانا۔ اب اگر میں اس کے خلاف سنا کہ تو نے خود اسے پڑھا یا کسی کو پڑھایا تو ایسی سخت سزا کروں گا کہ عبرت بنے۔ پھر فرمایا بیٹھ جا، ایک بات سنتا جا۔ میں نے جاکر اہل کتاب کی ایک کتاب لکھی پھر اسے چمڑے میں لئے ہوئےحضور ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا ایک کتاب ہے کہ ہم علم میں بڑھ جائیں۔ اس پر آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ غصے کی وجہ سے آپ کے رخسار پر سرخی نمودار ہوگئی پھر منادی کی گئی کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اسی وقت انصار نے ہتھیار نکال لیے کہ کسی نے حضور ﷺ کو ناراض کردیا ہے اور منبر نبوی ﷺ کے چاروں طرف وہ لوگ ہتھیار بند بیٹھ گئے۔ اب آپ نے فرمایا لوگو میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور کلمات کے خاتم دیا گیا ہوں اور پھر میرے لیے بہت ہی اختصار کیا گیا ہے میں اللہ کے دین کی باتیں بہت سفید اور نمایاں لایا ہوں۔ خبردار تم بہک نہ جانا۔ گہرائی میں اترنے والے کہیں تمہیں بہکا نہ دیں۔ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے میں تو یارسول اللہ ﷺ اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر آپ کے رسول ﷺ ہونے پر دل سے راضی ہوں۔ اب جو ﷺ منبر سے اترے اس کے ایک روای عبدالرحمن بن اسحاق کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری ان کی حدیث کو صحیح نہیں لکھتے۔ میں کہتا ہوں اس کا ایک شاہد اور سند حافظ ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی لائے ہیں کہ خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں ؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں حضور ﷺ کے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آکر حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور ﷺ کو میرا یہ کام پسند آگیا۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور ﷺ تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میر رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چناچہ آپ نے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہوجائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کردیں۔ مراسیل ابی داؤد میں بھی حضرت عمر ؓ سے ایسی ہی روایت ہے واللہ اعلم۔
إِذۡ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّي رَأَيۡتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوۡكَبٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ رَأَيۡتُهُمۡ لِي سَٰجِدِينَ
Remember when Yusuf (Joseph) said to his father, “O my father! I saw eleven stars and the sun and the moon – I saw them prostrating to me.”
(وہ قصّہ یوں ہے) جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا: اے میرے والد گرامی! میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Dream
Allah says, `Mention to your people, O Muhammad, among the stories that you narrate to them, the story of Yusuf.' Prophet Yusuf (Joseph) mentioned his dream to his father, Prophet Ya`qub (Jacob), son of Prophet Ishaq (Isaac), son of Prophet Ibrahim (Abraham), peace be upon them all. `Abdullah bin `Abbas stated that the dreams of Prophets are revelations from Allah. Scholars of Tafsir explained that in Yusuf's dream the eleven stars represent his brothers, who were eleven, and the sun and the moon represent his father and mother. This explanation was collected from Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah, Sufyan Ath-Thawri and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Yusuf's vision became a reality forty years later, or as some say, eighty years, when Yusuf raised his parents to the throne while his brothers were before him,
وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدَا وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا
(and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true!")
بہترین قصہ حضرت یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کے والد حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ ہم السلام ہیں۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ " کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ؑ ہیں۔ (بخاری) آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا کہ سب لوگوں میں زیادہ بزرگ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کے دل میں اللہ کا ڈر سب سے زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا ہمارا مقصود ایسا عام جواب نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا پھر سب لوگوں میں زیادہ بزرگ حضرت یوسف ہیں جو خود نبی تھے، جن کے والد نبی تھے جن کے دادا نبی تھے، جن کے پردادا نبی اور خلیل تھے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ آپ نے فرمایا پھر کیا تم عرب کے قبیلوں کی نسبت یہ سوال کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا سنو جاہلیت کے زمانے میں جو ممتاز اور شریف تھے۔ وہ اسلام لانے کے بعد بھی ویسے ہی شریف ہیں، جب کہ انہوں نے دینی سمجھ حاصل کرلی ہو000بخاری) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں نبیوں کے خواب اللہ کی وحی ہوتے ہیں۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں گیارہ ستاروں سے مراد حضرت یوسف ؑ کے گیارہ بھائی ہیں اور سورج چاند سے مراد آپ کے والد اور والدہ ہیں۔ اس خواب کی تعبیر خواب دیکھنے کے چالیس سال بعد ظاہر ہوئی۔ بعض کہتے ہیں اسی برس کے بعد ظاہر ہوئی۔ جب کہ آپ نے اپنے ماں باپ کو تخت شاہی پر بٹھایا۔ اور گیارہ بھائی آپ کے سامنے سجدے میں گرپڑے۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میرے مہربان باپ یہ دیکھئے آج اللہ تعالیٰ نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ایک روایت میں ہے کہ بستانہ نامی یہودیوں کا ایک زبردست عالم تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے ان گیارہ ستاروں کے نام دریافت کئے۔ آپ خاموش رہے۔ جبرائیل ؑ نے آسمان سے نازل ہو کر آپ کو نام بتائے آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا اگر میں تجھے ان کے نام بتادوں تو تو مسلمان ہوجائے گا اس نے اقرار کیا تو آپ نے فرمایا سن ان کے نام یہ ہیں۔ جریان، طارق۔ ذیال، ذوالکتفین۔ قابل۔ وثاب۔ عمودان۔ فلیق۔ مصبح۔ فروح۔ فرغ۔ یہودی نے کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم ان ستاروں کے یہی نام ہیں (ابن جریر) یہ روایت دلائل بیہقی میں اور ابو یعلی بزار اور ابن ابی حاتم میں بھی ہے۔ ابو یعلی میں یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے جب یہ خواب اپنے والد صاحب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا " یہ سچا خواب ہے یہ پورا ہو کر رہے گا "۔ آپ فرماتے ہیں سورج سے مراد باپ ہیں اور چاند سے مراد ماں ہیں۔ لیکن اس روایت کی سند میں حکم بن ظہیر فزاری منفرد ہیں جنہیں بعض اماموں نے ضعیف کہا ہے اور اکثر نے انہیں متروک کر رکھا ہے یہی حسن یوسف کی روایت کے راوی ہیں۔ انہیں چاروں ہی ضعیف کہتے ہیں۔
قَالَ يَٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلَىٰٓ إِخۡوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيۡدًاۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٞ مُّبِينٞ
He said, “O my child! Do not relate your dream to your brothers, for they will hatch a plot against you; indeed Satan is an open enemy towards mankind.”
انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی پُر فریب چال چلیں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub orders Yusuf to hide His Vision to avoid Shaytan's Plots
Allah narrates the reply Ya`qub gave his son Yusuf when he narrated to him the vision that he saw, which indicated that his brothers would be under his authority. They would be subjugated to Yusuf's authority to such an extent that they would prostrate before him in respect, honor and appreciation. Ya`qub feared that if Yusuf narrated his vision to any of his brothers, they would envy him and conspire evil plots against him. This is why Ya`qub said to Yusuf,
لاَ تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَى إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا
(Relate not your vision to your brothers, lest they should arrange a plot against you.) This Ayah means, "They might arrange a plot against you that causes your demise." In the Sunnah, there is a confirmed Hadith that states,
«إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلْيُحَدِّثْ بِهِ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَحَوَّلْ إِلَى جَنْبِهِ الْآخَرِ، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّه»
(If any of you saw a vision that he likes, let him narrate it. If he saw a dream that he dislikes, let him turn on his other side, blow to his left thrice, seek refuge with Allah from its evil and not tell it to anyone. Verily, it will not harm him in this case.) In another Hadith that Imam Ahmad and collectors of the Sunan collected, Mu`awiyah bin Haydah Al-Qushayri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ، فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَت»
(The dream is tied to a bird's leg, as long as it is not interpreted. If it is interpreted, it comes true.) Therefore, one should hide the prospects or the coming of a bounty until it comes into existence and becomes known. The Prophet said,
«اسْتَعِينُوا عَلَى قَضَاءِ الْحَوَائِجِ بِكِتْمَانِهَا، فَإِنَّ كُلَّ ذِي نِعْمَةٍ مَحْسُود»
(Earn help for fulfilling needs by being discrete, for every owner of a blessing is envied.)
یعقوب ؑ کی تعبیر اور ہدایات حضرت یوسف کا یہ خواب سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر حضرت یعقوب ؑ نے تاکید کردی کہ اسے بھائیوں کے سامنے نہ دہرانا کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اور بھائی آپ کے سامنے پس ہونگے یہاں تک کہ وہ آپ کی عزت و تعظیم کے لیے آپ کے سامنے اپنی بہت ہی لاچاری اور عاجزی ظاہر کریں اس لیے بہت ہی ممکن ہے کہ اس خواب کو سن کر اس کی تعبیر کو سامنے رکھ کر شیطان کے بہکاوے میں آکر ابھی سے وہ تمہاری دشمنی میں لگ جائیں۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نامعقول طریق کار کرنے لگ جائیں اور کسی حیلے سے تجھے پست کرنے کی فکر میں لگ جائیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں تم لوگ کوئی اچھا خواب دیکھو تو خیر اسے بیان کردو اور جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو جس کروٹ پر ہو وہ کروٹ بدل دے اور بائیں طرف تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کی برائی سے اللہ کی پناہ طلب کرے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے۔ اس صورت میں اسے وہ خواب کوئی نقصان نہ دے گا۔ مسند احمد وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں خواب کی تعبیر جب تک نہ لی جائے وہ گویا پرند کے پاؤں پر ہے۔ ہاں جب اس کی تعبیر بیان ہوگئی پھر وہ ہوجاتا ہے۔ اسی سے یہ حکم بھی لیا جاسکتا ہے۔ کہ نعمت کو چھپانا چاہئے۔ جب تک کہ وہ ازخود اچھی طرح حاصل نہ ہوجائے اور ظاہر نہ ہوجائے، جیسے کہ ایک حدیث میں ہے۔ ضرورتوں کے پورا کرنے پر ان کی چھپانے سے بھی مدد لیا کرو کیونکہ ہر وہ شخص جسے کوئی نعمت ملے لوگ اس کے حسد کے درپے ہوجاتے ہیں۔
وَكَذَٰلِكَ يَجۡتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعۡقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيۡكَ مِن قَبۡلُ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
“And this is how your Lord will choose you and teach you how to interpret events, and will perfect His favours upon you and upon the family of Yaqub, the way He perfected it upon both your forefathers, Ibrahim and Ishaq; indeed your Lord is All Knowing, Wise.”
اسی طرح تمہارا رب تمہیں (بزرگی کے لئے) منتخب فرما لے گا اور تمہیں باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی خوابوں کی تعبیر کا علم) سکھائے گا اور تم پر اور اولادِ یعقوب پر اپنی نعمت تمام فرمائے گا جیسا کہ اس نے اس سے قبل تمہارے دونوں باپ (یعنی پردادا اور دادا) ابراہیم اور اسحاق (علیھما السلام) پر تمام فرمائی تھی۔ بیشک تمہارا رب خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Interpretation of Yusuf's Vision
Allah says that Ya`qub said to his son Yusuf, `Just as Allah chose you to see the eleven stars, the sun and the moon prostrate before you in a vision,
وَكَذلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ
(Thus will your Lord choose you) designate and assign you to be a Prophet from Him,
وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الاٌّحَادِيثِ
(and teach you the interpretation of Ahadith).' Mujahid and several other scholars said that this part of the Ayah is in reference to the interpreting of dreams. He said next,
وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ
(and perfect His favor on you), `by His Message and revelation to you.' This is why Ya`qub said afterwards,
كَمَآ أَتَمَّهَآ عَلَى أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَهِيمَ
(as He perfected it aforetime on your fathers, Ibrahim...), Allah's intimate friend,
وَإِسْحَـقَ
(and Ishaq), Ibrahim's son,
إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(Verily, your Lord is All-Knowing, All-Wise.) Allah knows best whom to chose for His Messages.
بشارت اور نصیحت حضرت یعقوب ؑ اپنے لخت جگر حضرت یوسف ؑ کو انہیں ملنے والے مرتبوں کی خبر دیتے ہیں کہ جس طرح خواب میں اس نے تمہیں یہ فضیلت دکھائی اسی طرح وہ تمہیں نبوت کا بلند مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر سکھا دے گا۔ اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دے گا یعنی نبوت۔ جیسے کہ اس سے پہلے وہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کو اور حضرت اسحاق ؑ کو بھی عطا فرما چکا ہے جو تمہارے دادا اور پردادا تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے کہ نبوت کے لائق کون ہے ؟
۞لَّقَدۡ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخۡوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٞ لِّلسَّآئِلِينَ
Indeed in Yusuf and his brothers are signs* for those who enquire**. (* Of the truthfulness of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him. ** The Jews who enquired about their story.)
بیشک یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں (کے واقعہ) میں پوچھنے والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are `Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَلٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, `Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُواْ مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَـلِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham`un (Simeon) who said,
لاَ تَقْتُلُواْ يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder. However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَـعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this state- ment, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
إِذۡ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
When they said, “Indeed Yusuf and his brother* are dearer to our father than we are, and we are one group; undoubtedly our father is, clearly, deeply engrossed in love.” (* Of the same mother.)
(وہ وقت یاد کیجئے) جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا کہ واقعی یوسف (علیہ السلام) اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم (دس افراد پر مشتمل) زیادہ قوی جماعت ہیں۔ بیشک ہمارے والد (ان کی محبت کی) کھلی وارفتگی میں گم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are `Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَلٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, `Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُواْ مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَـلِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham`un (Simeon) who said,
لاَ تَقْتُلُواْ يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder. However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَـعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this state- ment, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
ٱقۡتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ ٱطۡرَحُوهُ أَرۡضٗا يَخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ أَبِيكُمۡ وَتَكُونُواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ قَوۡمٗا صَٰلِحِينَ
“Kill Yusuf or throw him somewhere in the land, so that your father’s attention may be directed only towards you, and then after it you may again become righteous!”
(اب یہی حل ہے کہ) تم یوسف (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا دور کسی غیر معلوم علاقہ میں پھینک آؤ (اس طرح) تمہارے باپ کی توجہ خالصتًا تمہاری طرف ہو جائے گی اور اس کے بعد تم (توبہ کر کے) صالحین کی جماعت بن جانا
Tafsir Ibn Kathir
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are `Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَلٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, `Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُواْ مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَـلِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham`un (Simeon) who said,
لاَ تَقْتُلُواْ يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder. However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَـعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this state- ment, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
10
View Single
قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُواْ يُوسُفَ وَأَلۡقُوهُ فِي غَيَٰبَتِ ٱلۡجُبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ
A speaker among them said, “Do not kill Yusuf – and drop him into a dark well so that some traveller may come and take him away, if you have to.”
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا: یوسف (علیہ السلام) کو قتل مت کرو اور اسے کسی تاریک کنویں کی گہرائی میں ڈال دو اسے کوئی راہ گیر مسافر اٹھا لے جائے گا اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو (تو یہ کرو)
Tafsir Ibn Kathir
There are Lessons to draw from the Story of Yusuf
Allah says that there are Ayat, lessons and wisdom to learn from the story of Yusuf and his brothers, for those who ask about their story and seek its knowledge. Surely, their story is unique and is worthy of being narrated.
إِذْ قَالُواْ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا
(When they said: "Truly, Yusuf and his brother are dearer to our father than we...") They swore, according to their false thoughts, that Yusuf and his brother Binyamin (Benjamin), Yusuf's full brother,
أَحَبُّ إِلَى أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ
(dearer to our father than we, while we are `Usbah.) meaning, a group. Therefore, they thought, how can he love these two more than the group,
إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَلٍ مُّبِينٍ
(Really, our father is in a plain error.) because he preferred them and loved them more than us.
اقْتُلُواْ يُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ
(Kill Yusuf or cast him out to some (other) land, so that the favor of your father may be given to you alone,) They said, `Remove Yusuf, who competes with you for your father's love, from in front of your father's face so that his favor is yours alone. Either kill Yusuf or banish him to a distant land so that you are rid of his trouble and you alone enjoy the love of your father. '
وَتَكُونُواْ مِن بَعْدِهِ قَوْمًا صَـلِحِينَ
(and after that you will be righteous folk.), thus intending repentance before committing the sin,
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ
(One from among them said...) Qatadah and Muhammad bin Ishaq said that he was the oldest among them and his name was Rubil (Reuben). As-Suddi said that his name was Yahudha (Judah). Mujahid said that it was Sham`un (Simeon) who said,
لاَ تَقْتُلُواْ يُوسُفَ
(Kill not Yusuf,), do not let your enmity and hatred towards him reach this level, of murder. However, their plot to kill Yusuf would not have succeeded, because Allah the Exalted willed that Yusuf fulfill a mission that must be fulfilled and complete; he would receive Allah's revelation and become His Prophet. Allah willed Yusuf to be a powerful man in Egypt and govern it. Consequently, Allah did not allow them to persist in their intent against Yusuf, through Rubil's words and his advice to them that if they must do something, they should throw him down to the bottom of a well,
يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّيَّارَةِ
(he will be picked up by some caravan) of travelers passing by. This way, he said, you will rid yourselves of this bother without having to kill him,
إِن كُنتُمْ فَـعِلِينَ
(if you must do something,) meaning, if you still insist on getting rid of him. Muhammad bin Ishaq bin Yasar said, "They agreed to a particularly vicious crime that involved cutting the relation of the womb, undutiful treatment of parents, and harshness towards the young, helpless and sinless. It was also harsh towards the old and weak who have the rights of being respected, honored and appreciated, as well as, being honored with Allah and having parental rights on their offspring. They sought to separate the beloved father, who had reached old age and his bones became weak, yet had a high status with Allah, from his beloved young son, in spite of his weakness, tender age and his need of his father's compassion and kindness. May Allah forgive them, and indeed, He is the Most Merciful among those who have mercy, for they intended to carry out a "grave error." Ibn Abi Hatim collected this state- ment, from the route of Salamah bin Al-Fadl from Muhammad bin Ishaq.
یوسف ؑ کے خاندان کا تعارف فی الواقع حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات اس قابل ہیں کہ ان کا دریافت کرنے والا ان سے بہت سی عبرتیں حاصل کرسکے اور نصیحتیں لے سکے۔ حضرت یوسف کے ایک ہی ماں سے دوسرے بھائی بنیامین تھے باقی سب بھائی دوسری ماں سے تھے۔ یہ سب آپس میں کہتے ہیں ہے کہ واللہ ابا جان ہم سے زیادہ ان دونوں کو چاہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ہم پر جو جماعت ہیں ان کو ترجیح دیتے ہیں جو صرف دو ہیں۔ یقینا یہ تو والد صاحب کی صریح غلطی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کی نبوت پر در اصل کوئی دلیل نہیں اور آیت کا طرز بیان تو بالکل اس کے خلاف پر ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہیں نبوت ملی لیکن یہ چیز بھی محتاج دلیل ہے اور دلیل میں آیت قرآنی (قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ01306) 2۔ البقرة :136) میں سے لفظ اسباط پیش کرنا بھی احتمال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ بطون بنی اسرائیل کو اسباط کہا جاتا جا ہے جیسے کہ عرب کو قبائل کہا جاتا ہے اور عجم کو شعوب کہا جاتا ہے۔ پس آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ بنی اسرائیل کے اسباط پر وحی الٰہی نازل ہوگئی انہیں اس لیے اجمالاً ذکر کیا گیا کہ یہ بہت تھے لیکن ہر سبط برادران یوسف میں سے ایک کی نسل تھی۔ پس اس کی کوئی دلیل نہیں کہ خاص ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے خلعت نبوت سے نوازا تھا واللہ اعلم۔ پھر آپس میں کہتے ہیں ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یوسف کا پاپ ہی کاٹو۔ نہ یہ ہو نہ ہماری راہ کا کانٹا بنے۔ ہم ہی ہم نظر آئیں۔ اور ابا کی محبت صرف ہمارے ہی ساتھ رہے۔ اب اسے باپ سے ہٹانے کی دو صورتیں ہیں یا تو اسے مار ہی ڈالو۔ یا کہیں ایسی دور دوراز جگہ پھینک آؤ کہ ایک کی دوسرے کو خبر ہی نہ ہو۔ اور یہ واردات کر کے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا اللہ معاف کرنے والا ہے یہ سن کر ایک نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اس کا نام روبیل تھا۔ کوئی کہتا ہے یہودا تھا کوئی کہتا ہے شمعون تھا۔ اس نے کہا بھئی یہ تو ناانصافی ہے۔ بےوجہ، بےقصور صرف عداوت میں آکر خون ناحق گردن پر لینا تو ٹھیک نہیں۔ یہ بھی کچھ اللہ کی حکمت تھی رب کو منظور ہی نہ تھا ان میں قتل یوسف کی قوت ہی نہ تھی۔ منظور رب تو یہ تھا کہ یوسف کو نبی بنائے، بادشاہ بنائے اور انہیں عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا کرے۔ پس ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے اور طے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں پھینک دیں۔ قتادہ کہتے ہیں یہ بیت المقدس کا کنواں تھا انہیں یہ خیال ہوا کہ ممکن ہے مسافر وہاں سے گزریں اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں پھر کہاں یہ اور کہاں ہم ؟ جب گڑ دیئے کام نکلتا ہو تو زہر کیوں دو ؟ بغیر قتل کئے مقصود حاصل ہوتا ہے تو کیوں ہاتھ خون سے آلود کرو۔ ان کے گناہ کا تصور تو کرو۔ یہ رشتے داری کے توڑنے، باپ کی نافرمانی کرنے، چھوٹے پر ظلم کرنے، بےگناہ کو نقصان پہنچانے بڑے بوڑھے کو ستانے اور حقدار کا حق کاٹنے حرمت و فضلیت کا خلاف کرنے بزرگی کو ٹالنے اور اپنے باپ کو دکھ پہنچانے اور اسے اس کے کلیجے کی ٹھنڈک اور آنکھوں کے سکھ سے ہمیشہ کے لیے دور کرنے اور بوڑھے باپ، اللہ کے لاڈلے پیغمبر کو اس بڑھاپے میں ناقابل برداشت صدمہ پہنچانے اور اس بےسمجھ بچے کو اپنے مہربان باپ کی پیار بھری نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل کرنے کے درپے ہیں۔ اللہ کے دو نبیوں کو دکھ دینا چاہتے ہیں۔ محبوب اور محب میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، سکھ کی جانوں کو دکھ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھول سے نازک بےزبان بچے کو اس کے مشفق مہربان بوڑھے باپ کی نرم و گرم گودی سے الگ کرتے ہیں۔ اللہ انہیں بخشے آہ شیطان نے کیسی الٹی پڑھائی ہے۔ اور انہوں نے بھی کیسی بدی پر کمر باندھی ہے۔
11
View Single
قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأۡمَ۬نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَٰصِحُونَ
They said, “O our father! What is the matter with you that you do not trust us with Yusuf, although we are in fact his well-wishers?”
انہوں نے کہا: اے ہمارے باپ! آپ کو کیا ہوگیا ہے آپ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم یقینی طور پر اس کے خیر خواہ ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers ask for Their Father's Permission to take Yusuf with Them
When Yusuf's brothers agreed to take him and throw him down the well, taking the advice of their elder brother Rubil, they went to their father Ya`qub, peace be upon him. They said to him, "Why is it that you,
لاَ تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَـصِحُونَ
(do not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers)." They started executing their plan by this introductory statement, even though they really intended its opposite, out of envy towards Yusuf for being loved by his father. They said,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا
"(Send him with us) tomorrow so that we all enjoy ourselves and play." Qatadah, Ad-Dahhak and As-Suddi said similarly. Yusuf's brothers said next,
وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ
(and verily, we will take care of him.), we will protect him and ensure his safety for you.
بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کرلیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کرلے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجود یکہ تھے بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے ؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کرسکتا ہے۔ ؟ (يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 12 ) 12۔ یوسف :12) کی دوسری قرآت (آیت ترتع و نلعب) بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہوگا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بےفکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔
12
View Single
أَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدٗا يَرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
“Send him with us tomorrow so that he may eat some fruits and play, and indeed we are his protectors.”
آپ اسے کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے وہ خوب کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کے محافظ ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers ask for Their Father's Permission to take Yusuf with Them
When Yusuf's brothers agreed to take him and throw him down the well, taking the advice of their elder brother Rubil, they went to their father Ya`qub, peace be upon him. They said to him, "Why is it that you,
لاَ تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَـصِحُونَ
(do not trust us with Yusuf though we are indeed his well-wishers)." They started executing their plan by this introductory statement, even though they really intended its opposite, out of envy towards Yusuf for being loved by his father. They said,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا
"(Send him with us) tomorrow so that we all enjoy ourselves and play." Qatadah, Ad-Dahhak and As-Suddi said similarly. Yusuf's brothers said next,
وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ
(and verily, we will take care of him.), we will protect him and ensure his safety for you.
بڑے بھائی کی رائے پر اتفاق بڑے بھائی روبیل کے سمجھانے پر سب بھائیوں نے اس رائے پر اتفاق کرلیا کہ یوسف کو لے جائیں اور کسی غیر آباد کنویں میں ڈال آئیں۔ یہ طے کرنے کے بعد باپ کو دھوکہ دینے اور بھائی کو پھسلا کرلے جانے اور اس پر آفت ڈھانے کے لیے سب مل کر باپ کے پاس آئے۔ باوجود یکہ تھے بد اندیش بد خواہ برا چاہنے والے لیکن باپ کو اپنی باتوں میں پھنسانے کے لیے اور اپنی گہری سازش میں انہیں الجھانے کے لیے پہلے ہی جال بچھاتے ہیں کہ ابا جی آخر کیا بات ہے جو آپ ہمیں یوسف کے بارے میں امین نہیں جانتے ؟ ہم تو اس کے بھائی ہیں اس کی خیر خواہیاں ہم سے زیادہ کون کرسکتا ہے۔ ؟ (يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 12 ) 12۔ یوسف :12) کی دوسری قرآت (آیت ترتع و نلعب) بھی ہے۔ باپ سے کہتے ہیں کہ بھائی یوسف کو کل ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے۔ ان کا جی خوش ہوگا، دو گھڑی کھیل کود لیں گے، ہنس بول لیں گے، آزادی سے چل پھر لیں گے۔ آپ بےفکر رہیے ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ ہر وقت دیکھ بھال رکھیں گے۔ آپ ہم پر اعتماد کیجئے ہم اس کے نگہبان ہیں۔
13
View Single
قَالَ إِنِّي لَيَحۡزُنُنِيٓ أَن تَذۡهَبُواْ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأۡكُلَهُ ٱلذِّئۡبُ وَأَنتُمۡ عَنۡهُ غَٰفِلُونَ
He said, “I will indeed be saddened by your taking him away, and I fear that the wolf may devour him, whilst you are unaware of him.” (* Prophet Yaqub knew of what was about to happen.)
انہوں نے کہا: بیشک مجھے یہ خیال مغموم کرتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں (اس خیال سے بھی) خوف زدہ ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے اور تم اس (کی حفاظت) سے غافل رہو
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub's Answer to Their Request
Allah narrates to us that His Prophet Ya`qub said to his children, in response to their request that he send Yusuf with them to the desert to tend their cattle,
إِنِّى لَيَحْزُنُنِى أَن تَذْهَبُواْ بِهِ
(Truly, it saddens me that you should take him away.) He said that it was hard on him that he be separated from Yusuf for the duration of their trip, until they came back. This demonstrates the deep love that Ya`qub had for his son, because he saw in Yusuf great goodness and exalted qualities with regards to conduct and physical attractiveness associated with the rank of prophethood. May Allah's peace and blessings be on him. Prophet Ya`qub's statement next,
وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنْتُمْ عَنْهُ غَـفِلُونَ
(I fear lest a wolf should devour him, while you are careless of him.) He said to them, `I fear that you might be careless with him while you are tending the cattle and shooting, then a wolf might come and eat him while you are unaware.' They heard these words from his mouth and used them in their response for what they did afterwards. They also gave a spontaneous reply for their father's statement, saying,
لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذَا لَّخَـسِرُونَ
(If a wolf devours him, while we are an `Usbah, then surely, we are the losers.) They said, `If a wolf should attack and devour him while we are all around him in a strong group, then indeed we are the losers and weak.'
انجانے خطرے کا اظہار نبی اللہ حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ حضرت یعقوب کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ حضرت یوسف کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ وسلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آکر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ حضرت یعقوب ؑ کی اسی بات کو انہوں نے لے لیا اور دماغ میں بسا لیا کہ یہی ٹھیک عذر ہے، یوسف کو الگ کر کے ابا کے سامنے یہی من گھڑت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا آپ نے کیا خوب سوچا۔ ہماری جماعت کی جماعت قوی اور طاقتور موجود ہو اور ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھاجائے ؟ بالکل ناممکن ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر تو ہم سب بیکار نکمے عاجز نقصان والے ہی ہوئے۔
14
View Single
قَالُواْ لَئِنۡ أَكَلَهُ ٱلذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ إِنَّآ إِذٗا لَّخَٰسِرُونَ
They said, “If the wolf devours him, whereas we are a group, then surely we are useless!”
وہ بولے: اگر اسے بھیڑیا کھا جائے حالانکہ ہم ایک قوی جماعت بھی (موجود) ہوں تو ہم تو بالکل ناکارہ ہوئے
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub's Answer to Their Request
Allah narrates to us that His Prophet Ya`qub said to his children, in response to their request that he send Yusuf with them to the desert to tend their cattle,
إِنِّى لَيَحْزُنُنِى أَن تَذْهَبُواْ بِهِ
(Truly, it saddens me that you should take him away.) He said that it was hard on him that he be separated from Yusuf for the duration of their trip, until they came back. This demonstrates the deep love that Ya`qub had for his son, because he saw in Yusuf great goodness and exalted qualities with regards to conduct and physical attractiveness associated with the rank of prophethood. May Allah's peace and blessings be on him. Prophet Ya`qub's statement next,
وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنْتُمْ عَنْهُ غَـفِلُونَ
(I fear lest a wolf should devour him, while you are careless of him.) He said to them, `I fear that you might be careless with him while you are tending the cattle and shooting, then a wolf might come and eat him while you are unaware.' They heard these words from his mouth and used them in their response for what they did afterwards. They also gave a spontaneous reply for their father's statement, saying,
لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذَا لَّخَـسِرُونَ
(If a wolf devours him, while we are an `Usbah, then surely, we are the losers.) They said, `If a wolf should attack and devour him while we are all around him in a strong group, then indeed we are the losers and weak.'
انجانے خطرے کا اظہار نبی اللہ حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ حضرت یعقوب کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ حضرت یوسف کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ وسلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آکر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ حضرت یعقوب ؑ کی اسی بات کو انہوں نے لے لیا اور دماغ میں بسا لیا کہ یہی ٹھیک عذر ہے، یوسف کو الگ کر کے ابا کے سامنے یہی من گھڑت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا آپ نے کیا خوب سوچا۔ ہماری جماعت کی جماعت قوی اور طاقتور موجود ہو اور ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھاجائے ؟ بالکل ناممکن ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر تو ہم سب بیکار نکمے عاجز نقصان والے ہی ہوئے۔
15
View Single
فَلَمَّا ذَهَبُواْ بِهِۦ وَأَجۡمَعُوٓاْ أَن يَجۡعَلُوهُ فِي غَيَٰبَتِ ٱلۡجُبِّۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمۡرِهِمۡ هَٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
So when they took him away – and all of them agreed that they should drop him in the dark well; and We sent the divine revelation to him, “You will surely tell them of their deed at a time when they will not know.”
پھر جب وہ اسے لے گئے اور سب اس پر متفق ہوگئے کہ اسے تاریک کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں تب ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی: (اے یوسف! پریشان نہ ہونا ایک وقت آئے گا) کہ تم یقینًا انہیں ان کا یہ کام جتلاؤ گے اور انہیں (تمہارے بلند رتبہ کا) شعور نہیں ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf is thrown in a Well
Allah says that when Yusuf's brothers took him from his father, after they requested him to permit that,
وَأَجْمَعُواْ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَابَةِ الْجُبِّ
(they all agreed to throw him down to the bottom of the well,) This part of the Ayah magnifies their crime, in that it mentions that they all agreed to throw him to the bottom of the well. This was their intent, yet when they took him from his father, they pretended otherwise, so that his father sends him with a good heart and feeling at ease and comfortable with his decision. It was reported that Ya`qub, peace be upon him, embraced Yusuf, kissed him and supplicated to Allah for him when he sent him with his brothers. As-Suddi said that the time spent between pretending to be well-wishers and harming Yusuf was no longer than their straying far from their father's eyes. They then started abusing Yusuf verbally, by cursing, and harming him by beating. When they reached the well that they agreed to throw him in, they tied him with rope and lowered him down. When Yusuf would beg one of them, he would smack and curse him. When he tried to hold to the sides of the well, they struck his hand and then cut the rope when he was only half the distance from the bottom of the well. He fell into the water and was submerged. However, he was able to ascend a stone that was in the well and stood on it. Allah said next,
وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هَـذَا وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
(and We revealed to him: "Indeed, you shall (one day) inform them of this their affair, when they know (you) not. ") In this Ayah, Allah mentions His mercy and compassion and His compensation and relief that He sends in times of distress. Allah revealed to Yusuf, during that distressful time, in order to comfort his heart and strengthen his resolve, `Do not be saddened by what you have suffered. Surely, you will have a way out of this distress and a good end, for Allah will aid you against them, elevate your rank and raise your grade. Later on, you will remind them of what they did to you,' i
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
(when they know not.) "Ibn `Abbas commented on this Ayah, "You will remind them of this evil action against you, while they are unaware of your identity and unable to recognize you."
بھائی اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوگئے۔ سمجھا بجھا کر بھائیوں نے باپ کو راضی کر ہی لیا۔ اور حضرت یوسف کو لے کر چلے جنگل میں جا کر سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف کو کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں ڈال دیں۔ حالانکہ باپ سے یہ کہہ کرلے گئے تھے کہ اس کا جی بہلے گا، ہم اسے عزت کے ساتھ لے جائیں گے۔ ہر طرح خوش رکھیں گے۔ اس کا جی بہل جائے گا اور یہ راضی خوشی رہے گا۔ یہاں آتے ہی غداری شروع کردی اور لطف یہ ہے کہ سب نے ایک ساتھ دل سخت کرلیا۔ باپ نے ان کی باتوں میں آکر اپنے لخت جگر کو ان کے سپرد کردیا۔ جاتے ہوئے سینے سے لگا کر پیار پچکار کر دعائیں دے کر رخصت کیا۔ باپ کی آنکھوں سے ہٹتے ہی ان سب نے بھائی کو ایذائیں دینی شروع کردیں برا بھلا کہنے لگے اور چانٹا چٹول سے بھی باز نہ رہے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے، اس کنویں کے پاس پہنچے اور ہاتھ پاؤں رسی سے جکڑ کر کنویں میں گرانا چاہا۔ آپ ایک ایک کے دامن سے چمٹتے ہیں اور ایک ایک سے رحم کی درخواست کرتے ہیں لیکن ہر ایک جھڑک دیتا ہے اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا ہے مایوس ہوگئے سب نے مل کر مضبوط باندھا اور کنویں میں لٹکا دیا آپ نے کنویں کا کنارا ہاتھ سے تھام لیا لیکن بھائیوں نے انگلویوں پر مار مار کر اسے بھی ہاتھ سے چھڑا لیا۔ آدھی دور آپ پہنچے ہوں گے کہ انہوں نے رسی کاٹ دی۔ آپ تہ میں جا گرے، کنویں کے درمیان ایک پتھر تھا جس پر آکر کھڑے ہوگئے۔ عین اس مصیبت کے وقت عین اس سختی اور تنگی کے وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کی جانب وحی کی کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے آپ صبر و برداشت سے کام لیں اور انجام کا آپ کو علم ہوجائے۔ وحی میں فرمایا گا کہ غمگین نہ ہو یہ نہ سمجھ کہ یہ مصیبت دور نہ ہوگی۔ سن اللہ تعالیٰ تجھے اس سختی کے بعد آسانی دے گا۔ اس تکلیف کے بعد راحت ملے گی۔ ان بھائیوں پر اللہ تجھے غلبہ دے گا۔ یہ گو تجھے پست کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ کی چاہت ہے کہ وہ تجھے بلند کرے۔ یہ جو کچھ آج تیرے ساتھ کر رہے ہیں وقت آئے گا کہ تو انہیں ان کے اس کرتوت کو یاد دلائے گا اور یہ ندامت سے سر جھکائے ہوئے ہوں گے اپنے قصور سن رہے ہوں گے۔ اور انہیں یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ تو وہ ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب برادران یوسف حضرت یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے تو انہیں پہچان لیا لیکن یہ نہ پہچان سکے۔ اس وقت آپ نے ایک پیالہ منگوایا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر اسے انگلی سے ٹھونکا۔ آواز نکلی ہی تھی اس وقت آپ نے فرمایا لو یہ جام تو کچھ کہہ رہا ہے اور تمہارے متعلق ہی کچھ خبر دے رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے تہارا ایک یوسف نامی سوتیلا بھائی تھا۔ تم اسے باپ کے پاس سے لے گئے اور اسے کنویں میں پھینک دیا۔ پھر اسے انگلی ماری اور ذرا سی دیر کان لگا کر فرمایا لو یہ کہہ رہا ہے کہ پھر تم اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر باپ کے پاس گئے اور وہاں جاکر ان سے کہہ دیا کہ تیرے لڑکے کو بھیڑیئے نے کھالیا۔ اب تو یہ حیران ہوگئے آپس میں کہنے لگے ہائے برا ہوا بھانڈا پھوٹ گیا اس جام نے تو تمام سچی سچی باتیں بادشاہ سے کہہ دیں۔ پس یہی ہے جو آپ کو کنویں میں وحی ہوئی کہ ان کے اس کے کرتوت کو تو انہیں ان کے بےشعوری میں جتائے گا۔
16
View Single
وَجَآءُوٓ أَبَاهُمۡ عِشَآءٗ يَبۡكُونَ
And at nightfall they came to their father, weeping.
اور وہ (یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینک کر) اپنے باپ کے پاس رات کے وقت (مکاری کا رونا) روتے ہوئے آئے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers try to deceive Their Father
Allah narrates to us the deceit that Yusuf's brothers resorted to, after they threw him to the bottom of the well. They went back to their father, during the darkness of the night, crying and showing sorrow and grief for losing Yusuf. They started giving excuses to their father for what happened to Yusuf, falsely claiming that,
إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ
(We went racing with one another), or had a shooting competition,
وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـعِنَا
(and left Yusuf by our belongings), guarding our clothes and luggage,
فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ
(and a wolf devoured him), which is exactly what their father told them he feared for Yusuf and warned against. They said next,
وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـدِقِينَ
(but you will never believe us even when we speak the truth.) They tried to lessen the impact of the grave news they were delivering. They said, `We know that you will not believe this news, even if you consider us truthful. So what about when you suspect that we are not truthful, especially since you feared that the wolf might devour Yusuf and that is what happened' Therefore, they said, `You have reason not to believe us because of the strange coincidence and the amazing occurrence that happened to us. '
وَجَآءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ
(And they brought his shirt stained with false blood.) on it, to help prove plot that they all agreed on. They slaughtered a sheep, according to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Ya`qub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your ownselves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting.) Ya`qub said, `I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion,
وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ
(And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe.), against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'
بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقا ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے حضرت یوسف کا پیراہن داغدار کردیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔ لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں ؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہوگیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری ؒ اس موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال حضرت یوسف کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔
17
View Single
قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئۡبُۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤۡمِنٖ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صَٰدِقِينَ
Saying, “O our father! We went far ahead while racing, and left Yusuf near our resources – therefore the wolf devoured him; and you will not believe us although we may be truthful.”
کہنے لگے: اے ہمارے باپ! ہم لوگ دوڑ میں مقابلہ کرنے چلے گئے اور ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے بھیڑئیے نے کھا لیا، اور آپ (تو) ہماری بات کا یقین (بھی) نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہی ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers try to deceive Their Father
Allah narrates to us the deceit that Yusuf's brothers resorted to, after they threw him to the bottom of the well. They went back to their father, during the darkness of the night, crying and showing sorrow and grief for losing Yusuf. They started giving excuses to their father for what happened to Yusuf, falsely claiming that,
إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ
(We went racing with one another), or had a shooting competition,
وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـعِنَا
(and left Yusuf by our belongings), guarding our clothes and luggage,
فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ
(and a wolf devoured him), which is exactly what their father told them he feared for Yusuf and warned against. They said next,
وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـدِقِينَ
(but you will never believe us even when we speak the truth.) They tried to lessen the impact of the grave news they were delivering. They said, `We know that you will not believe this news, even if you consider us truthful. So what about when you suspect that we are not truthful, especially since you feared that the wolf might devour Yusuf and that is what happened' Therefore, they said, `You have reason not to believe us because of the strange coincidence and the amazing occurrence that happened to us. '
وَجَآءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ
(And they brought his shirt stained with false blood.) on it, to help prove plot that they all agreed on. They slaughtered a sheep, according to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Ya`qub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your ownselves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting.) Ya`qub said, `I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion,
وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ
(And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe.), against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'
بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقا ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے حضرت یوسف کا پیراہن داغدار کردیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔ لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں ؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہوگیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری ؒ اس موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال حضرت یوسف کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔
18
View Single
وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٖ كَذِبٖۚ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٞۖ وَٱللَّهُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
And they brought his shirt stained with faked blood; he said, “On the contrary – your hearts have fabricated an excuse for you; therefore patience is better; and from Allah only I seek help against the matters that you relate.”
اور وہ اس کے قمیض پر جھوٹا خون (بھی) لگا کر لے آئے، (یعقوب علیہ السلام نے) کہا: (حقیقت یہ نہیں ہے) بلکہ تمہارے (حاسد) نفسوں نے ایک (بہت بڑا) کام تمہارے لئے آسان اور خوشگوار بنا دیا (جو تم نے کر ڈالا)، پس (اس حادثہ پر) صبر ہی بہتر ہے، اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں اس پر جو کچھ تم بیان کر رہے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers try to deceive Their Father
Allah narrates to us the deceit that Yusuf's brothers resorted to, after they threw him to the bottom of the well. They went back to their father, during the darkness of the night, crying and showing sorrow and grief for losing Yusuf. They started giving excuses to their father for what happened to Yusuf, falsely claiming that,
إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ
(We went racing with one another), or had a shooting competition,
وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـعِنَا
(and left Yusuf by our belongings), guarding our clothes and luggage,
فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ
(and a wolf devoured him), which is exactly what their father told them he feared for Yusuf and warned against. They said next,
وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـدِقِينَ
(but you will never believe us even when we speak the truth.) They tried to lessen the impact of the grave news they were delivering. They said, `We know that you will not believe this news, even if you consider us truthful. So what about when you suspect that we are not truthful, especially since you feared that the wolf might devour Yusuf and that is what happened' Therefore, they said, `You have reason not to believe us because of the strange coincidence and the amazing occurrence that happened to us. '
وَجَآءُوا عَلَى قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ
(And they brought his shirt stained with false blood.) on it, to help prove plot that they all agreed on. They slaughtered a sheep, according to Mujahid, As-Suddi and several other scholars, and stained Yusuf's shirt with its blood. They claimed that this was the shirt Yusuf was wearing when the wolf devoured him, being stained with his blood. But, they forgot to tear the shirt, and this is why Allah's Prophet Ya`qub did not believe them. Rather, he told them what he felt about what they said to him, thus refusing their false claim,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your ownselves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting.) Ya`qub said, `I will firmly observe patience for this plot on which you agreed, until Allah relieves the distress with His aid and compassion,
وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ
(And it is Allah (alone) Whose help can be sought against that which you describe.), against the lies and unbelievable incident that you said had occurred.'
بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقا ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے حضرت یوسف کا پیراہن داغدار کردیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔ لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں ؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہوگیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری ؒ اس موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال حضرت یوسف کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔
19
View Single
وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٞ فَأَرۡسَلُواْ وَارِدَهُمۡ فَأَدۡلَىٰ دَلۡوَهُۥۖ قَالَ يَٰبُشۡرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٞۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةٗۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
And there came a caravan – so they sent their water-drawer, he therefore lowered his pail; he said, “What good luck, this is a boy!”; and they hid him as a treasure; and Allah knows what they do.
اور (ادھر) راہ گیروں کا ایک قافلہ آپہنچا تو انہوں نے اپنا پانی بھرنے والا بھیجا سو اس نے اپنا ڈول (اس کنویں میں) لٹکایا، وہ بول اٹھا: خوشخبری ہو یہ ایک لڑکا ہے، اور انہوں نے اسے قیمتی سامانِ تجارت سمجھتے ہوئے چھپا لیا، اور اللہ ان کاموں کو جو وہ کر رہے تھے خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf is Rescued from the Well and sold as a Slave
Allah narrates what happened to Yusuf, peace be upon him, after his brothers threw him down the well and left him in it, alone, where he remained for three days, according to Abu Bakr bin `Ayyash. Muhammad bin Ishaq said, "After Yusuf's brothers threw him down the well, they remained around the well for the rest of the day to see what he might do and what would happen to him. Allah sent a caravan of travelers that camped near that well, and they sent to it the man responsible for drawing water for them. When he approached the well, he lowered his bucket down into it, Yusuf held on to it and the man rescued him and felt happy,
يبُشْرَى هَـذَا غُلاَمٌ
("What good news! Here is a boy.") Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas commented, "Allah's statement,
وَأَسَرُّوهُ بِضَـعَةً
(So they hid him as merchandise), is in reference to Yusuf's brothers, who hid the news that he was their brother. Yusuf hid this news for fear that his brothers might kill him and preferred to be sold instead. Consequently, Yusuf's brothers told the water drawer about him and that man said to his companions,
يبُشْرَى هَـذَا غُلاَمٌ
("What good news! Here is a boy."), a slave whom we can sell. Therefore, Yusuf's own brothers sold him." Allah's statement,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(And Allah was the All-Knower of what they did. ) states that Allah knew what Yusuf's brothers, and those who bought him, did. He was able to stop them and prevent them from committing their actions, but out of His perfect wisdom He decreed otherwise. He let them do what they did, so that His decision prevails and His appointed destiny rules,
أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of the all that exists!) 7:54 This reminds Allah's Messenger Muhammad ﷺ, that Allah has perfect knowledge in the persecution that his people committed against him and that He is able to stop them. However, He decided to give them respite, then give Muhammad ﷺ the victory and make him prevail over them, just as He gave Yusuf victory and made him prevail over his brothers. Allah said next,
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَهِمَ مَعْدُودَةٍ
(And they sold him for a Bakhs price, - for a few Dirhams) in reference to Yusuf's brothers selling him for a little price, according to Mujahid and `Ikrimah. `Bakhs' means decreased, just as Allah the Exalted said in another Ayah,
فَلاَ يَخَافُ بَخْساً وَلاَ رَهَقاً
(shall have no fear, either of a Bakhs (a decrease in the reward of his good deeds) or a Rahaq (an increase in the punishment for his sins).) 72:13 meaning that Yusuf's brothers exchanged him for a miserably low price. Yet, he was so insignificant to them that had the caravan people wanted him for free, they would have given him for free to them! Ibn `Abbas, Mujahid and Ad-Dahhak said that,
وَشَرَوْهُ
(And they sold him), is in reference to Yusuf's brothers. They sold Yusuf for the lowest price, as indicated by Allah's statement next,
دَرَهِمَ مَعْدُودَةٍ
(for a few Dirhams), twenty Dirhams, according to `Abdullah bin Mas`ud. Similar was said by Ibn `Abbas, Nawf Al-Bikali, As-Suddi, Qatadah and `Atiyah Al-`Awfi, who added that they divided the Dirhams among themselves, each getting two Dirhams. Ad-Dahhak commented on Allah's statement,
وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ الزَهِدِينَ
(And they were of those who regarded him insignificant.) "Because they had no knowledge of his prophethood and glorious rank with Allah, the Exalted and Most Honored."
کنویں سے بازار مصر تک بھائی تو حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گذر گئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیارہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آگیا۔ دوسری قرأت اس کی یا بشرای بھی ہے۔ سدی کہتے ہیں بشریٰ سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہوسکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یائے اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت یا بشرای سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے یا نفس اصبری اور یا غلام اقبل اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپالیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور حضرت یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کردیں۔ اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف ؑ کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بیخبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کردوں لیکن میرے کام حکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بےفکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کردوں گا۔ جیسے کہ یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام حضرت یوسف کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔ لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کردیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بےرغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے ؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا حضرت یوسف کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ حضرت یوسف ؑ نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن ؑ تھا۔ پس آپ تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے ؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لئے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو ، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کو بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہوجائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔
20
View Single
وَشَرَوۡهُ بِثَمَنِۭ بَخۡسٖ دَرَٰهِمَ مَعۡدُودَةٖ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ ٱلزَّـٰهِدِينَ
And the brothers sold him for an improper price, a limited number of coins; and they had no interest in him.
اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے (جو موقع پر آگئے تھے اسے اپنا بھگوڑا غلام کہہ کر انہی کے ہاتھوں) بہت کم قیمت گنتی کے چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا کیونکہ وہ راہ گیر اس (یوسف علیہ السلام کے خریدنے) کے بارے میں (پہلے ہی) بے رغبت تھے (پھر راہ گیروں نے اسے مصر لے جا کر بیچ دیا)
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf is Rescued from the Well and sold as a Slave
Allah narrates what happened to Yusuf, peace be upon him, after his brothers threw him down the well and left him in it, alone, where he remained for three days, according to Abu Bakr bin `Ayyash. Muhammad bin Ishaq said, "After Yusuf's brothers threw him down the well, they remained around the well for the rest of the day to see what he might do and what would happen to him. Allah sent a caravan of travelers that camped near that well, and they sent to it the man responsible for drawing water for them. When he approached the well, he lowered his bucket down into it, Yusuf held on to it and the man rescued him and felt happy,
يبُشْرَى هَـذَا غُلاَمٌ
("What good news! Here is a boy.") Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas commented, "Allah's statement,
وَأَسَرُّوهُ بِضَـعَةً
(So they hid him as merchandise), is in reference to Yusuf's brothers, who hid the news that he was their brother. Yusuf hid this news for fear that his brothers might kill him and preferred to be sold instead. Consequently, Yusuf's brothers told the water drawer about him and that man said to his companions,
يبُشْرَى هَـذَا غُلاَمٌ
("What good news! Here is a boy."), a slave whom we can sell. Therefore, Yusuf's own brothers sold him." Allah's statement,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
(And Allah was the All-Knower of what they did. ) states that Allah knew what Yusuf's brothers, and those who bought him, did. He was able to stop them and prevent them from committing their actions, but out of His perfect wisdom He decreed otherwise. He let them do what they did, so that His decision prevails and His appointed destiny rules,
أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of the all that exists!) 7:54 This reminds Allah's Messenger Muhammad ﷺ, that Allah has perfect knowledge in the persecution that his people committed against him and that He is able to stop them. However, He decided to give them respite, then give Muhammad ﷺ the victory and make him prevail over them, just as He gave Yusuf victory and made him prevail over his brothers. Allah said next,
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَهِمَ مَعْدُودَةٍ
(And they sold him for a Bakhs price, - for a few Dirhams) in reference to Yusuf's brothers selling him for a little price, according to Mujahid and `Ikrimah. `Bakhs' means decreased, just as Allah the Exalted said in another Ayah,
فَلاَ يَخَافُ بَخْساً وَلاَ رَهَقاً
(shall have no fear, either of a Bakhs (a decrease in the reward of his good deeds) or a Rahaq (an increase in the punishment for his sins).) 72:13 meaning that Yusuf's brothers exchanged him for a miserably low price. Yet, he was so insignificant to them that had the caravan people wanted him for free, they would have given him for free to them! Ibn `Abbas, Mujahid and Ad-Dahhak said that,
وَشَرَوْهُ
(And they sold him), is in reference to Yusuf's brothers. They sold Yusuf for the lowest price, as indicated by Allah's statement next,
دَرَهِمَ مَعْدُودَةٍ
(for a few Dirhams), twenty Dirhams, according to `Abdullah bin Mas`ud. Similar was said by Ibn `Abbas, Nawf Al-Bikali, As-Suddi, Qatadah and `Atiyah Al-`Awfi, who added that they divided the Dirhams among themselves, each getting two Dirhams. Ad-Dahhak commented on Allah's statement,
وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ الزَهِدِينَ
(And they were of those who regarded him insignificant.) "Because they had no knowledge of his prophethood and glorious rank with Allah, the Exalted and Most Honored."
کنویں سے بازار مصر تک بھائی تو حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گذر گئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیارہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آگیا۔ دوسری قرأت اس کی یا بشرای بھی ہے۔ سدی کہتے ہیں بشریٰ سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہوسکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یائے اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت یا بشرای سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے یا نفس اصبری اور یا غلام اقبل اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپالیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور حضرت یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کردیں۔ اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف ؑ کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بیخبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کردوں لیکن میرے کام حکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بےفکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کردوں گا۔ جیسے کہ یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام حضرت یوسف کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔ لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کردیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بےرغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے ؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا حضرت یوسف کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ حضرت یوسف ؑ نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن ؑ تھا۔ پس آپ تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے ؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لئے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو ، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کو بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہوجائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔
21
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِي ٱشۡتَرَىٰهُ مِن مِّصۡرَ لِٱمۡرَأَتِهِۦٓ أَكۡرِمِي مَثۡوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوۡ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدٗاۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
And the Egyptian who purchased him said to his wife, “Keep him honourably – we may derive some benefit due to him or we may adopt him as our son”; and this is how we established Yusuf in the land, and that We might teach him how to interpret events; and Allah is Dominant upon His works, but most men do not know.
اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا (اس کا نام قطفیر تھا اور وہ بادشاہِ مصر ریان بن ولید کا وزیر خزانہ تھا اسے عرف عام میں عزیزِ مصر کہتے تھے) اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا: اسے عزت و اکرام سے ٹھہراؤ! شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں، اور اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو زمین (مصر) میں استحکام بخشا اور یہ اس لئے کہ ہم اسے باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی علمِ تعبیرِ رؤیا) سکھائیں، اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf in Egypt
Allah mentions the favors that He granted Yusuf, peace be on him, by which He made the man from Egypt who bought him, take care of him and provide him with a comfortable life. He also ordered his wife to be kind to Yusuf and had good hopes for his future, because of his firm righteous behavior. He said to his wife,
أَكْرِمِى مَثْوَاهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا
(Make his stay comfortable, maybe he will profit us or we shall adopt him as a son.) The man who bought Yusuf was the minister of Egypt at the time, and his title was `Aziz'. Abu Ishaq narrated that Abu `Ubaydah said that `Abdullah bin Mas`ud said, "Three had the most insight: the `Aziz of Egypt, who said to his wife,
أَكْرِمِى مَثْوَاهُ
(Make his stay comfortable...), the woman who said to her father,
يأَبَتِ اسْتَـْجِرْهُ
(O my father! Hire him...), 28:26 and Abu Bakr As-Siddiq when he appointed `Umar bin Al-Khattab to be the Khalifah after him, may Allah be pleased with them both." Allah said next that just as He saved Yusuf from his brothers,
كَذَلِكَمَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى الاٌّرْضِ
(Thus did We establish Yusuf in the land), in reference to Egypt,
وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الاٌّحَادِيثِ
(that We might teach him the interpretation of events.) the interpretation of dreams, according to Mujahid and As-Suddi. Allah said next,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) if He wills something, then there is no averting His decision, nor can it ever be stopped or contradicted. Rather, Allah has full power over everything and everyone else. Sa`id bin Jubayr said while commenting on Allah's statement,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) "He does what ever He wills." Allah said,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most of men know not.) meaning, have no knowledge of Allah's wisdom with regards to His creation, compassion and doing what He wills. Allah said next,
وَلَمَّا بَلَغَ
(And when he attained), in reference to Prophet Yusuf, peace be upon him,
أَشُدَّهُ
(his full manhood), sound in mind and perfect in body,
آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا
(We gave him wisdom and knowledge), which is the prophethood that Allah sent him with for the people he lived among,
وَكَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(thus We reward the doers of good.) because Yusuf used to do good in the obedience of Allah the Exalted.
بازار مصر سے شاہی محل تک رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ حضرت یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کرلیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔ تیسرے حضرت صدیق اکبر ؓ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت حضرت عمر ؓ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سرزمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے ؟ کون خلاف کرسکتا ہے ؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کرچکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اوراقوال بھی ہیں واللہ اعلم
22
View Single
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ
And when he matured to his full strength, We bestowed him wisdom and knowledge; and this is how We reward the virtuous.
اور جب وہ اپنے کمالِ شباب کو پہنچ گیا (تو) ہم نے اسے حکمِ (نبوت) اور علمِ (تعبیر) عطا فرمایا، اور اسی طرح ہم نیکوکاروں کو صلہ بخشا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf in Egypt
Allah mentions the favors that He granted Yusuf, peace be on him, by which He made the man from Egypt who bought him, take care of him and provide him with a comfortable life. He also ordered his wife to be kind to Yusuf and had good hopes for his future, because of his firm righteous behavior. He said to his wife,
أَكْرِمِى مَثْوَاهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا
(Make his stay comfortable, maybe he will profit us or we shall adopt him as a son.) The man who bought Yusuf was the minister of Egypt at the time, and his title was `Aziz'. Abu Ishaq narrated that Abu `Ubaydah said that `Abdullah bin Mas`ud said, "Three had the most insight: the `Aziz of Egypt, who said to his wife,
أَكْرِمِى مَثْوَاهُ
(Make his stay comfortable...), the woman who said to her father,
يأَبَتِ اسْتَـْجِرْهُ
(O my father! Hire him...), 28:26 and Abu Bakr As-Siddiq when he appointed `Umar bin Al-Khattab to be the Khalifah after him, may Allah be pleased with them both." Allah said next that just as He saved Yusuf from his brothers,
كَذَلِكَمَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى الاٌّرْضِ
(Thus did We establish Yusuf in the land), in reference to Egypt,
وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الاٌّحَادِيثِ
(that We might teach him the interpretation of events.) the interpretation of dreams, according to Mujahid and As-Suddi. Allah said next,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) if He wills something, then there is no averting His decision, nor can it ever be stopped or contradicted. Rather, Allah has full power over everything and everyone else. Sa`id bin Jubayr said while commenting on Allah's statement,
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ
(And Allah has full power and control over His affairs,) "He does what ever He wills." Allah said,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most of men know not.) meaning, have no knowledge of Allah's wisdom with regards to His creation, compassion and doing what He wills. Allah said next,
وَلَمَّا بَلَغَ
(And when he attained), in reference to Prophet Yusuf, peace be upon him,
أَشُدَّهُ
(his full manhood), sound in mind and perfect in body,
آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا
(We gave him wisdom and knowledge), which is the prophethood that Allah sent him with for the people he lived among,
وَكَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(thus We reward the doers of good.) because Yusuf used to do good in the obedience of Allah the Exalted.
بازار مصر سے شاہی محل تک رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ حضرت یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کرلیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔ تیسرے حضرت صدیق اکبر ؓ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت حضرت عمر ؓ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سرزمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے ؟ کون خلاف کرسکتا ہے ؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کرچکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اوراقوال بھی ہیں واللہ اعلم
23
View Single
وَرَٰوَدَتۡهُ ٱلَّتِي هُوَ فِي بَيۡتِهَا عَن نَّفۡسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلۡأَبۡوَٰبَ وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَكَۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ رَبِّيٓ أَحۡسَنَ مَثۡوَايَۖ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
And the woman in whose house he was, allured him not to restrain himself and she closed all the doors – and said, “Come! It is you I address!”; he said, “(I seek) The refuge of Allah – indeed the governor is my master – he treats me well; undoubtedly the unjust never prosper.”
اور اس عورت (زلیخا) نے جس کے گھر وہ رہتے تھے آپ سے آپ کی ذات کی شدید خواہش کی اور اس نے دروازے (بھی) بند کر دیئے اور کہنے لگی: جلدی آجاؤ (میں تم سے کہتی ہوں)۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اللہ کی پناہ! بیشک وہ (جو تمہارا شوہر ہے) میرا مربّی ہے اس نے مجھے بڑی عزت سے رکھا ہے۔ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Wife of the `Aziz loves Yusuf and plots against Him
Allah states that the wife of the `Aziz of Egypt, in whose house Yusuf resided and whose husband recommended that she takes care of him and be generous to him, tried to seduce Yusuf! She called him to do an evil act with her, because she loved him very much. Yusuf was very handsome, filled with manhood and beauty. She beautified herself for him, closed the doors and called him,
وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ
(and (she) said: "Come on, O you.") But he categorically refused her call,
قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّى أَحْسَنَ مَثْوَاىَّ
(He said: "I seek refuge in Allah! Truly, he is my Rabb! He made my living in a great comfort!") as they used to call the chief and master a `Rabb', Yusuf said to her, `your husband is my master who provided me with comfortable living and was kind to me, so I will never betray him by committing immoral sins with his wife,'
إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّـلِمُونَ
(Verily, the wrongdoers will never be successful.) This was said by Mujahid, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others. The scholars differ in their recitation of,
هَيْتَ لَكَ
(Hayta Laka), whereby Ibn `Abbas, Mujahid and several other scholars said that it means that she was calling him to herself. Al-Bukhari said; "Ikrimah said that,
هَيْتَ لَكَ
(Hayta Laka') means, `come on, O you', in the Aramaic language." Al-Bukhari collected this statement from `Ikrimah without a chain of narration. Other scholars read it with the meaning, `I am ready for you'. Ibn `Abbas, Abu `Abdur-Rahman As-Sulami, Abu Wa'il, `Ikrimah and Qatadah were reported to have read this part of the Ayah this way and explained it in the manner we mentioned, as `I am ready for you'.
زلیخا کی بدنیتی سے الزام تک عزیز مصر جس نے آپ کو خریدا تھا اور بہت اچھی طرح اولاد کے مثل رکھا تھا اپنی گھر والی سے بھی تاکیداً کہا تھا کہ انہیں کسی طرح تکلیف نہ ہو عزت و اکرام سے انہیں رکھو۔ اس عورت کی نیت میں کھوٹ آجاتی ہے۔ جمال یوسف پر فریفتہ ہوجاتی ہے۔ دروازے بھیڑ کر بن سنور کر برے کام کی طرف یوسف کو بلاتی ہے لیکن حضرت یوسف بڑی سختی سے انکار کر کے اسے مایوس کردیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ تیرا خاوند میرا سردار ہے۔ اس وقت اہل مصر کے محاورے میں بڑوں کے لیے یہی لفظ بولا جاتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں تمہارے خاوند کی مجھ پر مہربانی ہے وہ میرے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں ان کی خیانت کروں۔ یاد رکھو چیز کو غیر جگہ رکھنے والے بھلائی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ (آیت ھیت لک) کو بعض لوگ سریانی زبان کا لفظ کہتے ہیں بعض قطبی زبان کا بعض اسے غریب لفظ بتلاتے ہیں۔ کسائی اسی قرأت کو پسند کرتے تھے اور کہتے تھے اہل حوران کا یہ لغت ہے جو حجاز میں آگیا ہے۔ اہل حوران کے ایک عالم نے کہا ہے کہ یہ ہمارا لغت ہے۔ امام ابن جریر نے اس کی شہادت میں شعر بھی پیش کیا ہے۔ اس کے دوسری قرأت ھئت بھی ہے پہلی قرأت کے معنی تو آؤ کے تھے، اس کے معنی میں تیرے لیے تیار ہوں بعض لوگ اس قرأت کا انکار ہی کرتے ہیں۔ ایک قرأت ھئت بھی ہے۔ یہ قرأت غریب ہے۔ عام مدنی لوگوں کی یہی قرأت ہے۔ اس پر بھی شہادت میں شعر پیش کیا جاتا ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں قاریوں کی قرأتیں قریب قریب ہیں پس جس طرح تم سکھائے گئے ہو پڑھتے رہو۔ گہرائی سے اور اختلاف سے اور لعن طعن سے اور اعتراض سے بچو اس لفظ کے یہی معنی ہیں کہ آ اور سامنے ہو وغیرہ۔ پھر آپ نے اس لفظ کو پڑھا کسی نے کہا اسے دوسری طرح بھی پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا درست ہے مگر میں نے تو جس طرح سیکھا ہے اسی طرح پڑھوں گا۔ یعنی ھیت نہ کہ ھیت یہ لفظ تذکیر تانیث واحد تثنیہ جمع سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ جیسے (آیت ھیت لک ھیت لکم ھیت لکماا ھیتا لکن ھیت لھن)۔
24
View Single
وَلَقَدۡ هَمَّتۡ بِهِۦۖ وَهَمَّ بِهَا لَوۡلَآ أَن رَّءَا بُرۡهَٰنَ رَبِّهِۦۚ كَذَٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلۡفَحۡشَآءَۚ إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُخۡلَصِينَ
And indeed the woman desired him; and he too would have desired her were he not to witness the sign of his Lord*; this is what We did, to turn away evil and lewdness from him; indeed He is one of Our chosen bondmen. (* Allah saved him and he never desired this immorality.)
(یوسف علیہ السلام نے انکار کر دیا) اور بیشک اس (زلیخا) نے (تو) ان کا ارادہ کر (ہی) لیا تھا، (شاید) وہ بھی اس کا قصد کر لیتے اگر انہوں نے اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھا ہوتا۔٭ اس طرح (اس لئے کیا گیا) کہ ہم ان سے تکلیف اور بے حیائی (دونوں) کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے (برگزیدہ) بندوں میں سے تھےo٭ (یا انہوں نے بھی اس کو طاقت سے دور کرنے کا قصد کر لیا تھا۔ اگر وہ اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھ لیتے تو اپنے دفاع میں سختی کر گزرتے اور ممکن ہے اس دوران ان کا قمیض آگے سے پھٹ جاتا جو بعد ازاں ان کے خلاف شہادت اور وجہ تکلیف بنتا، سو اﷲ کی نشانی نے انہیں سختی کرنے سے روک دیا۔)
Tafsir Ibn Kathir
«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ فَاكْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً، فَإِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرّائِي، فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا»
(Allah the Exalted said, `If my slave intends to perform a good deed, then record it for him as one good deed; if he performs it, then record it for him multiplied ten folds. If he intends to commit an evil act but did not commit it, then record it for him as one good deed, if he left it for My sake. But if he commits it, then write it as one evil deed.') This Hadith was also collected in the Two Sahihs using various wording, this is one of them. It was also reported that the Ayah means that Yusuf was about to beat her. As for the evidence that Yusuf saw at that moment, there are conflicting opinions to what it was. Ibn Jarir At-Tabari said, "The correct opinion is that we should say that he saw an Ayah from among Allah's Ayat that repelled the thought that crossed his mind. This evidence might have been the image of Ya`qub, or the image of an angel, or a divine statement that forbade him from doing that evil sin, etc. There are no clear proofs to support any of these statements in specific, so it should be left vague, as Allah left it. Allah's statement next,
كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَآءَ
(Thus it was, that We might turn away from him evil and immoral sins.) means, `Just as We showed him the evidence that turned him away from that sin, We save him from all types of evil and illegal sexual activity in all his affairs,' because,
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ
(Surely, he was one of Our Mukhlasin servants. ) meaning, chosen, purified, designated, appointed and righte- ous. May Allah's peace and blessings be on him."
وَاسُتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِن دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا إِلاَ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ - قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الكَـذِبِينَ - وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن الصَّـدِقِينَ - فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
یوسف ؑ کے تقدس کا سبب سلف کی ایک جماعت سے تو اس آیت کے بارے میں وہ مروی ہے جو ابن جریر وغیرہ لائے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یوسف ؑ کا قصد اس عورت کے ساتھ صرف نفس کا کھٹکا تھا۔ بغوی کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان ہے کہ جب میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو تم اس کی نیکی لکھ لو۔ اور جب اس نیکی کو کر گزرے تو اس جیسی دس گنی نیکی لکھ لو۔ اور اگر کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے نیکی لکھ لو۔ کیونکہ اس نے میری وجہ سے اس برائی کو چھوڑا ہے۔ اور اگر اس برائی کو ہی کر گزرے تو اس کے برابر اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے الفاظ اور بھی کئی ایک ہیں اصل بخاری، مسلم میں بھی ہے۔ ایک قول ہے کہ حضرت یوسف نے اسے مارنے کا قصد کیا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے بیوی بنانے کی تمنا کی تھی۔ ایک قول ہے کہ آپ قصد کرتے اگر اگر دلیل نہ دیکھتے لیکن چونکہ دلیل دیکھ لی قصد نہیں فرمایا۔ لیکن اس قول میں عربی زبان کی حیثیت سے کلام ہے جسے امام ابن جریر وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ یہ تو تھے اقوال قصد یوسف کے متعلق۔ وہ دلیل جو آپ نے دیکھی اس کے متعلق بھی اقوال ملاحظہ فرمائیے۔ کہتے ہیں اپنے والد حضرت یعقوب کو دیکھا کہ گویا وہ اپنی انگلی منہ میں ڈالے کھڑے ہیں۔ اور حضرت یوسف کے سینے پر آپ نے ہاتھ مارا۔ کہتے ہیں اپنے سردار کی خیالی تصویر سامنے آگئی۔ کہتے ہیں آپ کی نظر چھت کی طرف اٹھ گئی دیکھتے ہیں کہ اس پر یہ آیت لکھی ہوئی ہے (آیت لا تقربو الزنی انہ کان فاحشتہ و مقتا و ساء سبیلا) خبردار زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا وہ بڑی بےحیائی کا اور اللہ کے غضب کا کام ہے اور وہ بڑا ہی برا راستہ ہے۔ کہتے ہیں تین آیتیں لکھی ہوئی تھیں ایک تو (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10 ۙ) 82۔ الإنفطار :10) تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ دوسری (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْه 61) 10۔ یونس :61) تم جس حال میں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ تیسری (اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ 33۔) 13۔ الرعد :33) اللہ ہر شخص کے ہر عمل پر حاضر ناظر ہے کہتے ہیں کہ چار آیتیں لکھی پائی تین وہی جو اوپر ہیں اور ایک حرمت زنا کی جو اس سے پہلے ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی آیت دیوار پر ممانعت زنا کے بارے میں لکھی ہوئی پائی۔ کہتے ہیں ایک نشان تھا جو آپ کے ارادے سے آپ کو روک رہا تھا۔ ممکن ہے وہ صورت یعقوب ہو۔ اور ممکن ہے اپنے خریدنے والے کی صورت ہو۔ اور ممکن ہے آیت قرآنی ہو کوئی ایسی صاف دلیل نہیں کہ کسی خاص ایک چیز کے فیصلے پر ہم پہنچ سکیں۔ پس بہت ٹھیک راہ ہمارے لیے یہی ہے کہ اسے یونہی مطلق چھوڑ دیا جائے جیسے کہ اللہ کے فرمان میں بھی اطلاق ہے (اسی طرح قصد کو بھی) پھر فرماتا ہے ہم نے جس طرح اس وقت اسے ایک دلیل دکھا کر برائی سے بچا لیا، اسی طرح اس کے اور کاموں میں بھی ہم اس کی مدد کرتے رہے اور اسے برائیوں اور بےحیائیوں سے محفوظ رکھتے رہے۔ وہ تھا بھی ہمارا برگزیدہ پسندیدہ بہترین اور مخلص بندہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر درود وسلام نازل ہوں۔
25
View Single
وَٱسۡتَبَقَا ٱلۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٖ وَأَلۡفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلۡبَابِۚ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ أَرَادَ بِأَهۡلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسۡجَنَ أَوۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
And they both raced towards the door, and the woman tore his shirt from behind, and they both found her husband at the door; she said, “What is the punishment of the one who sought evil with your wife, other than prison or a painful torture?”
اور دونوں دروازے کی طرف (آگے پیچھے) دوڑے اور اس (زلیخا) نے ان کا قمیض پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور دونوں نے اس کے خاوند (عزیزِ مصر) کو دروازے کے قریب پا لیا وہ (فورًا) بول اٹھی کہ اس شخص کی سزا جو تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اور کیا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ وہ قید کر دیا جائے یا (اسے) درد ناک عذاب دیا جائے۔
Tafsir Ibn Kathir
مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife...), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلاَ أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He Yusuf said), in truth and honesty,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن الصَّـدِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!) Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back. There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. `Abdur-Razzaq recorded that Ibn `Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn `Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the `Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his Yusuf's shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, `This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The `Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـذَا
(O Yusuf ! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِى لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin, ) addressing his wife. The `Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, `Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَـطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
26
View Single
قَالَ هِيَ رَٰوَدَتۡنِي عَن نَّفۡسِيۚ وَشَهِدَ شَاهِدٞ مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٖ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
Said Yusuf, “It was she who lured me, that I may not guard myself” – and a witness from her own household testified; “If his shirt is torn from the front, then the woman is truthful and he has spoken incorrectly.”
یوسف (علیہ السلام) نے کہا: (نہیں بلکہ) اس نے خود مجھ سے مطلب براری کے لئے مجھے پھسلانا چاہا اور (اتنے میں خود) اس کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (جو شیر خوار بچہ تھا) گواہی دی کہ اگر اس کا قمیض آگے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife...), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلاَ أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He Yusuf said), in truth and honesty,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن الصَّـدِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!) Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back. There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. `Abdur-Razzaq recorded that Ibn `Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn `Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the `Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his Yusuf's shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, `This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The `Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـذَا
(O Yusuf ! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِى لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin, ) addressing his wife. The `Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, `Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَـطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
27
View Single
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٖ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
“And if his shirt is torn from behind, then the woman is a liar and he is truthful.”
اور اگر اس کا قمیض پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچوں میں سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife...), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلاَ أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He Yusuf said), in truth and honesty,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن الصَّـدِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!) Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back. There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. `Abdur-Razzaq recorded that Ibn `Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn `Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the `Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his Yusuf's shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, `This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The `Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـذَا
(O Yusuf ! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِى لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin, ) addressing his wife. The `Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, `Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَـطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
28
View Single
فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٖ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيۡدِكُنَّۖ إِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيمٞ
So when the governor saw his shirt torn from behind, he said, “Indeed this is a deception of women; undoubtedly the deception of women is very great.”
پھر جب اس (عزیزِ مصر) نے ان کا قمیض دیکھا (کہ) وہ پیچھے سے پھٹا ہوا تھا تو اس نے کہا: بیشک یہ تم عورتوں کا فریب ہے۔ یقیناً تم عورتوں کا فریب بڑا (خطرناک) ہوتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife...), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلاَ أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He Yusuf said), in truth and honesty,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن الصَّـدِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!) Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back. There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. `Abdur-Razzaq recorded that Ibn `Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn `Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the `Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his Yusuf's shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, `This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The `Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـذَا
(O Yusuf ! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِى لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin, ) addressing his wife. The `Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, `Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَـطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
29
View Single
يُوسُفُ أَعۡرِضۡ عَنۡ هَٰذَاۚ وَٱسۡتَغۡفِرِي لِذَنۢبِكِۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلۡخَاطِـِٔينَ
“O Yusuf! Disregard this – and O woman! Seek forgiveness for your sin; indeed you are of the mistaken.”
اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور (اے زلیخا!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے تھی
Tafsir Ibn Kathir
مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا
(What is the recompense (punishment) for him who intended an evil design against your wife...), in reference to illegal sexual intercourse,
إِلاَ أَن يُسْجَنَ
(except that he be put in prison)
أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(or a painful torment) tormented severely with painful beating. Yusuf did not stand idle, but he declared the truth and exonerated himself from the betrayal she accused him of,
قَالَ
(He Yusuf said), in truth and honesty,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me), and mentioned that she pursued him and pulled him towards her until she tore his shirt.
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ
(And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front..."), not from the back,
فَصَدَقَتْ
(then her tale is true) that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have sex with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front,
وَإِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِن الصَّـدِقِينَ
(But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!) Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back. There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. `Abdur-Razzaq recorded that Ibn `Abbas said that,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "was a bearded man," meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn `Abbas said, "He was from the king's entourage." Mujahid, `Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ
(and a witness of her household bore witness) "He was a babe in the cradle. " Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the `Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view. Allah's statement,
فَلَمَّا رَأَى قَمِيصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ
(So when he saw his Yusuf's shirt torn at the back,) indicates that when her husband became certain that Yusuf was telling the truth and that his wife was lying when she heralded the accusation of betrayal at Yusuf,
قَالَ إِنَّهُ مِن كَيْدِكُنَّ
(he said: "Surely, it is a plot of you women!...") He said, `This false accusation and staining the young man's reputation is but a plot of many that you, women, have,'
إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ
(Certainly mighty is your plot!) The `Aziz ordered Yusuf, peace be upon him, to be discrete about what happened,
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـذَا
(O Yusuf ! Turn away from this!), do not mention to anyone what has happened,
وَاسْتَغْفِرِى لِذَنبِكِ
(And ask forgiveness for your sin, ) addressing his wife. The `Aziz was an easy man, or gave excuse to his wife because she saw in Yusuf an appeal she could not resist. He said to her, `Ask forgiveness for your sin, the evil desire that you wanted to satisfy with this young man, and then inventing false accusations about him,'
إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَـطِئِينَ
(verily, you were of the sinful.)
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان کرتے ہوئے کہتی ہے فرمائیے حضور آپ کی بیوی سے جو بدکاری کا ارادہ رکھے اس کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟ قید سخت یا بری مار سے کم تو ہرگز کوئی سزا اس جرم کی نہیں ہوسکتی۔ اب جب کہ حضرت یوسف نے اپنی آبرو کو خطرے میں دیکھا اور خیانت کی بدترین تہمت لگتی دیکھی تو اپنے اوپر سے الزام ہٹانے اور صاف اور سچی حقیقت کے ظاہر کردینے کے لیے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہی میرے پیچھے پڑی تھیں، میرے بھاگنے پر مجھے پکڑ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا کرتا بھی پھاڑ دیا۔ اس عورت کے قبیلے سے ایک گواہ نے گواہی دی۔ اور مع ثبوت و دلیل ان سے کہا کہ پھٹے ہوئے پیرہن کو دکھ لو اگر وہ سامنے کے رخ سے پھٹا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے اس نے اسے اپنی طرف لانا چاہا اس نے اسے دھکے دیئے۔ روکا منع کیا ہٹایا اس میں سامنے سے کرتا پھٹ گیا تو واقع قصور وار مرد ہے اور عورت جو اپنی بےگناہی بیان کرتی ہے وہ سچی ہے فی الواقع اس صورت میں وہ سچی ہے۔ اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا پاؤ تو عورت کے جھوٹ اور مرد کے سچ ہونے میں شبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ عورت اس پر مائل تھی یہ اس سے بھاگا وہ دوڑی، پکڑا، کرتا ہاتھ میں آگیا اس نے اپنی طرف گھسیٹا اس نے اپنی جانب کھینچا وہ پیچھے کی طرف سے پھٹ گیا۔ کہتے ہیں یہ گواہ بڑا آدمی تھا جس کے منہ پر داڑھی تھی یہ عزیز مصر کا خاص آدمی تھا اور پوری عمر کا مرد تھا۔ اور زلیخا کے چچا کا لڑکا تھا زلیخا بادشاہ وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی پس ایک قول تو اس گواہ کے متعلق یہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا دودھ پیتا گہوارے میں جھولتا بچہ تھا۔ ابن جریر میں ہے کہ چار چھوٹے بچوں چھٹپن میں ہی کلام کیا ہے اس پوری حدیث میں ہے اس بچے کا بھی ذکر ہے اس نے حضرت یوسف صدیق کی پاک دامنی کی شہادت دی تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں چار بچوں نے کلام کیا ہے۔ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواہ نے۔ جریج کے صاحب نے اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے۔ مجاہد نے تو ایک بالکل ہی غریب بات کہی ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ صرف اللہ کا حکم تھا کوئی انسان تھا ہی نہیں۔ اسی تجویز کے مطابق جب زلیخا کے شوہر نے دیکھا تو حضرت یوسف کے پیراہن کو پیچھے کی جانب سے پھٹا ہوا دیکھا۔ اس کے نزدیک ثابت ہوگیا کہ یوسف سچا ہے اور اس کی بیوی جھوٹی ہے وہ یوسف صدیق پر تہمت لگا رہی ہے تو بےساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ تو تم عورتوں کا فریب ہے۔ اس نوجوان پر تم تہمت باندھ رہی ہو اور جھوٹا الزام رکھ رہی ہو۔ تمہارے چلتر تو ہیں ہی چکر میں ڈال دینے والے۔ پھر حضرت یوسف سے کہتا ہے کہ آپ اس واقعہ کو بھول جائیے، جانے دیجئے۔ اس نامراد واقعہ کا پھر سے ذکر ہی نہ کیجئے۔ پھر اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو نرم آدمی تھا نرم اخلاق تھے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ وہ جان رہا تھا کہ عورت معذور سمجھے جانے کے لائق ہے اس نے وہ دیکھا جس پر صبر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اسے ہدایت کردی کہ اپنے برے ارادے سے توبہ کر۔ سراسر تو ہی خطا وار ہے۔ کیا خود اور الزام دوسروں کے سر رکھا۔
30
View Single
۞وَقَالَ نِسۡوَةٞ فِي ٱلۡمَدِينَةِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفۡسِهِۦۖ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّاۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
And some women of the city said, “The governor’s wife is seducing her young slave; indeed his love has taken root in her heart; and we find her clearly lost.”
اور شہر میں (اُمراء کی) کچھ عورتوں نے کہنا (شروع) کر دیا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس سے مطلب براری کے لئے پھسلاتی ہے، اس (غلام) کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے، بیشک ہم اسے کھلی گمراہی میں دیکھ رہی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the `Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the `Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَـهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the `Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَئًا
(and prepared a banquet for them.) Ibn `Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows to recline on and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَءَاتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مَّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said to Yusuf: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّآ
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him) they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir. Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the `Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed
وَقُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا هَـذَا بَشَرًا إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah ﷺ passed by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
«فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْن»
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said they said: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَـذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌقَالَتْ فَذلِكُنَّ الَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّن الصَّـغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن منَ الْجَـهِلِينَفَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the `Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the `Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward. It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاه»
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
31
View Single
فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ أَرۡسَلَتۡ إِلَيۡهِنَّ وَأَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـٔٗا وَءَاتَتۡ كُلَّ وَٰحِدَةٖ مِّنۡهُنَّ سِكِّينٗا وَقَالَتِ ٱخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّۖ فَلَمَّا رَأَيۡنَهُۥٓ أَكۡبَرۡنَهُۥ وَقَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٞ كَرِيمٞ
And when she heard of their secret talk, she sent for them and prepared cushioned mattresses for them and gave a knife to each one of them and said to Yusuf, “Come out before them!” When the women saw him they praised him and cut their hands, and said, “Purity is to Allah – this is no human being; this is not but an honourable angel!”
پس جب اس (زلیخا) نے ان کی مکارانہ باتیں سنیں (تو) انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مجلس آراستہ کی (پھر ان کے سامنے پھل رکھ دیئے) اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دے دی اور (یوسف علیہ السلام سے) درخواست کی کہ ذرا ان کے سامنے سے (ہوکر) نکل جاؤ (تاکہ انہیں بھی میری کیفیت کا سبب معلوم ہو جائے)، سو جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام کے حسنِ زیبا) کو دیکھا تو اس (کے جلوۂ جمال) کی بڑائی کرنے لگیں اور وہ (مدہوشی کے عالم میں پھل کاٹنے کے بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور (دیکھ لینے کے بعد بے ساختہ) بول اٹھیں: اللہ کی پناہ! یہ تو بشر نہیں ہے، یہ تو بس کوئی برگزیدہ فرشتہ (یعنی عالمِ بالا سے اترا ہوا نور کا پیکر) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the `Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the `Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَـهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the `Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَئًا
(and prepared a banquet for them.) Ibn `Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows to recline on and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَءَاتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مَّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said to Yusuf: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّآ
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him) they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir. Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the `Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed
وَقُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا هَـذَا بَشَرًا إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah ﷺ passed by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
«فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْن»
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said they said: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَـذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌقَالَتْ فَذلِكُنَّ الَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّن الصَّـغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن منَ الْجَـهِلِينَفَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the `Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the `Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward. It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاه»
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
32
View Single
قَالَتۡ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِي لُمۡتُنَّنِي فِيهِۖ وَلَقَدۡ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ فَٱسۡتَعۡصَمَۖ وَلَئِن لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُونٗا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ
She said, “This is he on whose account you used to insult me; and indeed I tried to entice him, so he safeguarded himself; and indeed if he does not do what I tell him to, he will surely be imprisoned, and will surely be humiliated.”
(زلیخا کی تدبیر کامیاب ہوگئی تب) وہ بولی: یہی وہ (پیکرِ نور) ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور بیشک میں نے ہی (اپنی خواہش کی شدت میں) اسے پھسلانے کی کوشش کی مگر وہ سراپا عصمت ہی رہا، اور اگر (اب بھی) اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے کہتی ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ یقینًا بے آبرو کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the `Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the `Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَـهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the `Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَئًا
(and prepared a banquet for them.) Ibn `Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows to recline on and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَءَاتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مَّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said to Yusuf: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّآ
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him) they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir. Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the `Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed
وَقُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا هَـذَا بَشَرًا إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah ﷺ passed by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
«فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْن»
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said they said: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَـذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌقَالَتْ فَذلِكُنَّ الَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّن الصَّـغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن منَ الْجَـهِلِينَفَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the `Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the `Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward. It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاه»
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
33
View Single
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجۡنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِۖ وَإِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّي كَيۡدَهُنَّ أَصۡبُ إِلَيۡهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ
He said, “O my Lord! Prison is dearer to me than the deed they invite me to; and if You do not repel their deceit away from me, I may incline towards them and be unwise.”
(اب زنانِ مصر بھی زلیخا کی ہم نوا بن گئی تھیں) یوسف (علیہ السلام) نے (سب کی باتیں سن کر) عرض کیا: اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے کہیں زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں، (پھر یوسف علیہ السلام تضرّع اور استغاثہ کی غرض سے بارگاہ الٰہی کی طرف متوجہ ہوئے جیسے اَنبیاء و مرسلین کی عادت ہے،) اور (عرض کیا:) اگر تو نے ان کے مکر کو مجھ سے نہ پھیرا تو (تیری مدد اور حفاظت کے بغیر) میں اُن کی (باتوں کی) طرف مائل ہو جاؤں گا اور میں نادانوں میں سے ہو جاؤں گا
Tafsir Ibn Kathir
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the `Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the `Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَـهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the `Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَئًا
(and prepared a banquet for them.) Ibn `Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows to recline on and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَءَاتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مَّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said to Yusuf: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّآ
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him) they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir. Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the `Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed
وَقُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا هَـذَا بَشَرًا إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah ﷺ passed by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
«فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْن»
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said they said: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَـذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌقَالَتْ فَذلِكُنَّ الَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّن الصَّـغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن منَ الْجَـهِلِينَفَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the `Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the `Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward. It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاه»
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
34
View Single
فَٱسۡتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنۡهُ كَيۡدَهُنَّۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
So his Lord heard his prayer and repelled the women’s deceit away from him; indeed He only is the All Hearing, the All Knowing.
سو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی اور عورتوں کے مکر و فریب کو ان سے دور کر دیا۔ بیشک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The News reaches Women in the City, Who also plot against Yusuf
Allah states that the news of what happened between the wife of the `Aziz and Yusuf spread in the city, that is, Egypt, and people talked about it,
وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِينَةِ
(And women in the city said...), such as women of chiefs and princes said, while admonishing and criticizing the wife of the `Aziz,
امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَـهَا عَن نَّفْسِهِ
(The wife of the `Aziz is seeking to seduce her (slave) young man,), she is luring her servant to have sex with her,
قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا
(indeed she loves him violently;), her love for him filled her heart and engulfed it,
إِنَّا لَنَرَاهَا فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(verily, we see her in plain error.), by loving him and trying to seduce him.
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
(So when she heard of their accusation,) especially their statement, "indeed she loves him violently." Muhammad bin Ishaq commented, "They heard of Yusuf's beauty and wanted to see him, so they said these words in order to get a look at him. " This is when,
أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ
(she sent for them), invited them to her house,
وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَئًا
(and prepared a banquet for them.) Ibn `Abbas, Sa'id bin Jubayr, Mujahid, Al-Hasan, As-Suddi and several others commented that she prepared a sitting room which had couches, pillows to recline on and food that requires knives to cut, such as citron. This is why Allah said next,
وَءَاتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مَّنْهُنَّ سِكِّينًا
(and she gave each one of them a knife), as a part of her plan of revenge for their plot to see Yusuf,
وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ
(and she said to Yusuf: "Come out before them."), for she had asked him to stay somewhere else in the house,
فَلَمَّآ
(Then, when) he went out and,
رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ
(they saw him, they exalted him) they thought highly of him and were astonished at what they saw. They started cutting their hands in amazement at his beauty, while thinking that they were cutting the citron with their knives. Therefore, they injured their hands with the knives they were holding, according to several reports of Tafsir. Others said that after they ate and felt comfortable, and after having placed citron in front of them, giving each one of them a knife, the wife of the `Aziz asked them, "Would you like to see Yusuf" They said, "Yes." So she sent for him to come in front of them and when they saw him, they started cutting their hands. She ordered him to keep coming and going, so that they saw him from all sides, and he went back in while they were still cutting their hands. When they felt the pain, they started screaming and she said to them, "You did all this from one look at him, so how can I be blamed
وَقُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا هَـذَا بَشَرًا إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ
(They said: "How perfect is Allah! No man is this! This is none other than a noble angel!") They said to her, "We do not blame you anymore after the sight that we saw." They never saw anyone like Yusuf before, for he, peace be upon him, was given half of all beauty. An authentic Hadith stated that the Messenger of Allah ﷺ passed by Prophet Yusuf, during the Night of Isra' in the third heaven and commented,
«فَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْن»
(He was given a half of all beauty.) Mujahid and others said they said: "We seek refuge from Allah,"
مَا هَـذَا بَشَرًا
(No man is this!) They said next,
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌقَالَتْ فَذلِكُنَّ الَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ
("This is none other than a noble angel!" She said: "This is he (the young man) about whom you did blame me...") She said these words to them so that they excuse her behavior, for a man who looks this beautiful and perfect, is worthy of being loved, she thought. She said,
وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ
(and I did seek to seduce him, but he refused) to obey me. Some scholars said that when the women saw Yusuf's beauty, she told them about his inner beauty that they did not know of, being chaste and beautiful from the inside and outside. She then threatened him,
وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّن الصَّـغِرِينَ
(And now if he refuses to obey my order, he shall certainly be cast into prison, and will be one of those who are disgraced.) This is when Prophet Yusuf sought refuge with Allah from their evil and wicked plots,
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me...") illegal sexual acts,
وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ
(Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them) Yusuf invoked Allah: If You abandon me and I am reliant on myself, then I have no power over myself, nor can I bring harm or benefit to myself, except with Your power and will. Verily, You are sought for each and everything, and our total reliance is on You Alone for each and everything. Please, do not abandon me and leave me to rely on myself, for then,
أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن منَ الْجَـهِلِينَفَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ
("I will feel inclined towards them and be one of the ignorant." So his Lord answered his invocation) Yusuf, peace be upon him, was immune from error by Allah's will, and He saved him from accepting the advances of the wife of the `Aziz'. He preferred prison, rather than accept her illicit call. This indicates the best and most perfect grade in this case, for Yusuf was youthful, beautiful and full of manhood. His master's wife was calling him to herself, and she was the wife of the `Aziz of Egypt. She was also very beautiful and wealthy, as well as having a great social rank. He refused all this and preferred prison, for he feared Allah and hoped to earn His reward. It is recorded in the Two Sahihs that the Messenger of Allah ﷺ said,
«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ، اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا أَنْفَقَتْ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاه»
(Allah will give shade to seven, on the Day when there will be no shade but His: A just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, a man whose heart is attached to the Masjid, from the time he goes out of the Masjid until he gets back to it, two persons who love each other only for Allah's sake and they meet and part in Allah's cause only, a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says: "I am afraid of Allah, and a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears.")
داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی اور پھر اس میں اس نے اپنی معزوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے ہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل، اور بیٹھک درست کرلی جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کے لیے ایک ایک تیز چاقو سب کے ہاتھ میں دیدیا یہ تھا ان عورتوں کے دھوکہ کا جواب انہوں نے اعتراض کر کے جمال یوسف دیکھنا چاہا اس نے آپ کو معذور ظاہر کرنے اور ان کے مکر کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں خود زخمی کردیا اور خود ان ہی کے ہاتھ سے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ آپ آئے۔ انہیں اپنی مالکہ کا حکم ماننے سے کیسے انکار ہوسکتا تھا ؟ اسی وقت جس کمرے میں تھے وہاں سے آگئے۔ عورتوں کی نگاہ جو آپ کے چہرے پر پڑی تو سب کی سب دہشت زدہ رہ گئیں۔ ہیبت و جلال اور رعب حسن سے بےخود ہوگئیں اور بجائے اس کے کہ ان تیز چلنے والی چھریوں سے پھل کٹتے ان کے ہاتھ اور انگلیاں کٹنے لگیں۔ حضرت زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ ضیافت باقاعدہ پہلے ہوچکی تھی اب تو صرف میوے سے تواضع ہو رہی تھی۔ میٹھے ہاتھوں میں تھے، چاقو چل رہے تھے جو اس نے کہا یوسف کو دیکھنا چاہتی ہو ؟ سب یک زبان ہو کر بول اٹھیں ہاں ہاں ضرور۔ اسی وقت حضرت یوسف سے کہلوا بھیجا کہ تشریف لائیے۔ آپ آئے پھر اس نے کہا جائیے آپ چلے گئے۔ آتے جاتے سامنے سے پیچھے سے ان سب عورتوں نے پوری طرح آپ کو دیکھا دیکھتے ہی سب سکتے میں آگئیں ہوش حواس جاتے رہے بجائے لیموں کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ اور کوئی احساس تک نہ ہوا ہاں جب حضرت یوسف چلے گئے تب ہوش آیا اور تکلیف محسوس ہوئی۔ تب پتہ چلا کہ بجائے پھل کے ہاٹھ کاٹ لیا ہے۔ اس پر عزیز کی بیوی نے کہا دیکھا ایک ہی مرتبہ کے جمال نے تو تمہیں ایسا از خود رفتہ کردیا پھر بتاؤ میرا کیا حال ہوگا عورتوں نے کہا واللہ یہ انسان نہیں۔ یہ تو فرشتہ ہے اور فرشتہ بھی بڑے مرتبے والا۔ آج کے بعد ہم کبھی تمہیں ملامت نہ کریں گی۔ ان عورتوں نے حضرت یوسف جیسا تو کہاں ان کے قریب ان کے مشابہ بھی کوئی شخص نہیں دیکھا تھا۔ آپ کو آدھا حسن قدرت نے عطا فرما رکھا تھا۔ چناچہ معراج کی حدیث میں ہے کہ تیسرے آسمان میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت یوسف ؑ سے ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف اور آپ کی والدہ صاحبہ کو آدھا حسن قدرت کی فیاضیوں نے عنایت فرمایا تھا۔ اور روایت میں تہائی حسن یوسف کو اور آپ کی والدہ کو دیا گیا تھا۔ آپ کا چہرہ بجلی کی طرح روشن تھا۔ جب کبھی کوئی عورت آپ کے پاس کسی کام کے لیے آتی تو آپ اپنا منہ ڈھک کر اس سے بات کرتے کہ کہیں وہ فتنے میں نہ پڑجائے اور روایت میں ہے کہ حسن کے تین حصے کئے گئے تمام لوگوں میں دو حصے تقسیم کئے گئے اور ایک حصہ صرف آپ کو اور آپ کی ماں کو دیا گیا۔ یا جن کی دو تہائیاں ان ماں بیٹے کو ملیں اور ایک تہائی میں دنیا کے تمام لوگ اور روایت میں ہے کہ حسن کے دو حصے کئے گئے ایک حصے میں حضرت یوسف اور آپ کی والدہ حضرت سارہ اور ایک حصے میں دنیا کے اور سب لوگ۔ سہیلی میں ہے کہ آپ کو حضرت آدم کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنے ہاتھ سے کمال صورت کا نمونہ بنایا تھا اور بہت ہی حسین پیدا کیا تھا۔ آپ کی اولاد میں آپ کا ہم پلہ کوئی نہ تھا اور حضرت یوسف کو ان کا آدھا حسن دیا گیا تھا۔ پس ان عورتوں نے آپ کو دیکھ کر ہی کہا کہ معاذ للہ یہ انسان نہیں ذی عزت فرشتہ ہے۔ اب عزیز کی بیوی نے کہا بتلاؤ اب تو تم مجھے عذر والی سمجھو گی ؟ اس کا جمال و کمال کیا ایسا نہیں کہ صبر و برداشت چھین لے ؟ میں نے اسے ہرچند اپنی طرف مائل کرنا چاہا لیکن یہ میرے قبضے میں نہیں آیا اب سمجھ لو کہ جہاں اس میں یہ بہترین ظاہری خوبی ہے وہاں عصمت و عفت کی یہ باطنی خوبی بھی بےنظیر ہے۔ پھر دھمکانے لگی کہ اگر میری بات یہ نہ مانے گا تو اسے قید خانہ بھگتنا پڑے گا۔ اور میں اس کو بہت ذلیل کروں گی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے ان کے اس ڈھونگ سے اللہ کی پناہ طلب کی اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے جیل خانے جانا پسند ہے مگر تو مجھے ان کے بد ارادوں سے محفوظ رکھ ایسا نہ ہو کہ میں کسی برائی میں پھنس جاؤ۔ اے اللہ تو اگر مجھے بچا لے تب تو میں بچ سکتا ہوں ورنہ مجھ میں اتنی قوت نہیں۔ مجھے اپنے کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں۔ تیری مدد اور تیرے رحم و کرم کے بغیر نہ میں کسی گناہ سے رک سکوں نہ کسی نیکی کو کرسکوں۔ اے باری تعالیٰ میں تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، تجھی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تو مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کردے کہ میں ان عورتوں کی طرف جھک جاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ اللہ تعالیٰ کریم و قادر نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور آپ کو بال بال بچا لیا، عصمت عفت عطا فرمائی، اپنی حفاظت میں رکھا اور برائی سے آپ بچے ہی رہے۔ باوجود بھرپور جوانی کے باوجود بےانداز حسن و خوبی کے، باوجود ہر طرح کے کمال کے، جو آپ میں تھا، آپ اپنی خواہش نفس کی بےجا تکمیل سے بچتے رہے۔ اور اس عورت کی طرف رخ بھی نہ کیا جو رئیس زادی ہے۔ رئیس کی بیوی ہے، ان کی مالک ہے، پھر بہت ہی خوبصورت ہے، جمال کے ساتھ ہی مال بھی ہے، ریاست بھی ہے، وہ اپنی بات کے ماننے پر انعام و اکرام کا اور نہ ماننے پر جیل کا اور سخت سزا کا حکم سنا رہی ہے۔ لیکن آپ کے دل میں اللہ کے خوف سمندر موجزن ہے، آپ اپنے اس دنیوی آرام کو اور اس عیش اور لذت کو نام رب پر قربان کرتے ہیں اور قید و بند کو اس پر ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں سے بچ جائیں اور آخرت میں ثواب کے مستحق بن جائیں۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے سائے تلے سایہ دے گا جس دن کوئی سایہ سوا اس کے سائے کے نہ ہوگا۔ 001 مسلمان عادل بادشاہ 002 وہ جوان مرد و عورت جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری 003 وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو جب مسجد سے نکلے مسجد کی دھن میں رہے یہاں تک کہ پھر وہاں جائے 004 وہ دو شخص جو آپس میں محض اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اسی پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں 005 وہ شخص جو صدقہ دیتا ہے لیکن اس پوشیدگی سے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہات کو نہیں ہوتی 006 وہ شخص جسے کوئی جاہ و منصب والی جمال و صورت والی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں 007 وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس کی دونوں آنکھیں بہ نکلی۔
35
View Single
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا رَأَوُاْ ٱلۡأٓيَٰتِ لَيَسۡجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٖ
Then after having seeing all the signs, they all decided that he should be imprisoned for some time.
پھر انہیں (یوسف علیہ السلام کی پاک بازی کی) نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی یہی مناسب معلوم ہوا کہ اسے ایک مدت تک قید کر دیں (تاکہ عوام میں اس واقعہ کا چرچا ختم ہو جائے)
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf is imprisoned without Justification
Allah says, `Then it occurred to them that it would be in their interest to imprison Yusuf for a time, even after they were convinced of his innocence and saw the proofs of his truth, honesty and chastity.' It appears, and Allah knows best, that they imprisoned him after the news of what happened spread. They wanted to pretend that Yusuf was the one who tried to seduce the `Aziz's wife and that they punished him with imprisonment. This is why when the Pharaoh asked Yusuf to leave jail a long time afterwards, he refused to leave until his innocence was acertained and the allegation of his betrayal was refuted. When this was successfully achieved, Yusuf left the prison with his honor intact, peace be upon him.
جیل خانہ اور یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی کا راز سب پر کھل گیا۔ لیکن تاہم ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ کچھ مدت تک حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ مییں رکھیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں ان سب نے یہ مصلحت سوچی ہو کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عزیز کی بیوی اس کی چاہت میں مبتلا ہے۔ جب ہم یوسف کو قید کردیں گے وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ قصور اسی کا تھا اسی نے کوئی ایسی نگاہ کی ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ جب شاہ مصر نے آپ کو قید خانے سے آزاد کرنے کے لیے اپنے پاس بلوایا تو آپ نے وہیں سے فرمایا کہ میں نہ نکلوں گا جب تک میری برات اور میری پاکدامنی صاف طور پر ظاہر نہ ہوجائے اور آپ حضرات اس کی پوری تحقیق نہ کرلیں جب تک بادشاہ نے ہر طرح کے گواہ سے بلکہ خود عزیز کی بیوی سے پوری تحقیق نہ کرلی اور آپ کا بےقصور ہونا، ساری دنیا پر کھل نہ گیا آپ جیل خانے سے باہر نہ نکلے۔ پھر آپ باہر آئے جب کہ ایک دل بھی ایسا نہ تھا جس میں صدیق اکبر، نبی اللہ پاکدامن اور معصوم رسول اللہ حضرت یوسف علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف سے ذرا بھی بدگمانی ہو۔ قید کرنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ عزیز کی بیوی کی رسوائی نہ ہو۔
36
View Single
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجۡنَ فَتَيَانِۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَعۡصِرُ خَمۡرٗاۖ وَقَالَ ٱلۡأٓخَرُ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَحۡمِلُ فَوۡقَ رَأۡسِي خُبۡزٗا تَأۡكُلُ ٱلطَّيۡرُ مِنۡهُۖ نَبِّئۡنَا بِتَأۡوِيلِهِۦٓۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
And two young men went to prison along with him; one of them said, “I dreamt that I am pressing wine”; the other said, “I dreamt that I am carrying some bread upon my head from which birds were eating”; “Tell us their interpretation; indeed we see that you are virtuous.”
اور ان کے ساتھ دو جوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں (انگور سے) شراب نچوڑ رہا ہوں، اور دوسرے نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں، اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔ (اے یوسف!) ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، بیشک ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھ رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Two Jail Mates ask Yusuf to interpret their Dreams
Qatadah said, "One of them was the king's distiller and the other was his baker." Each of these two men had a dream and asked Yusuf to interpret it for them.
جیل خانہ میں بادشاہ کے باورچی اور ساقی سے ملاقات اتفاق سے جس روز حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ جانا پڑا اسی دن باشاہ کا ساقی اور نان بائی بھی کسی جرم میں جیل خانے بھیج دیئے گئے۔ ساقی کا نام بندار تھا اور باورچی کا نام بحلث تھا۔ ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں بادشاہ کو زہر دینے کی سازش کی تھی۔ قید خانے میں بھی نبی اللہ حضرت یوسف ؑ کی نیکیوں کی کافی شہرت تھی۔ سچائی، امانت داری، سخاوت، خوش خلقی، کثرت عبادت، اللہ ترسی، علم و عمل، تعبیر خواب، احسان و سلوک وغیرہ میں آپ مشہور ہوگئے تھے۔ جیل خانے کے قیدیوں کی بھلائی ان کی خیر خواہی ان سے مروت و سلوک ان کے ساتھ بھلائی اور احسان ان کی دلجوئی اور دلداری ان کے بیماروں کی تیمارداری خدمت اور دوا دارو بھی آپ کا تشخص تھا۔ یہ دونوں ہی ملازم حضرت یوسف ؑ سے بہت ہی محبت کرنے لگے۔ ایک دن کہنے لگے کہ حضرت ہمیں آپ سے بہت ہی محبت ہوگئی ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے۔ بات یہ ہے کہ مجھے تو جس نے چاہا کوئی نہ کوئی آفت ہی مجھ پر لایا۔ پھوپھی کی محبت، باپ کا پیار، عزیز کی بیوی کی چاہت، سب مجھے یاد ہے۔ اور اس کا نتیجہ میری ہی نہیں بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب دونوں نے ایک مرتبہ خواب دیکھا ساقی نے دیکھا کہ وہ انگور کا شیرہ نچوڑ رہا ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں خمرا کے بدلے لفظ عنبا ہے، اہل عمان انگور کو خمر کہتے ہیں۔ اس نے دیکھا تھا کہ گویا اس نے انگور کی بیل بوئی ہے اس میں خوشے لگے ہیں، اس نے توڑے ہیں۔ پھر ان کا شیرہ نچوڑ رہا ہے کہ بادشاہ کو پلائے۔ یہ خواب بیان کر کے آرزو کی کہ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتلائیے۔ اللہ کے پیغمبر نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہیں تین دن کے بعد جیل خانے سے آزاد کردیا جائے گا اور تم اپنے کام پر یعنی بادشاہ کی ساقی گری میں لگ جاؤ گے۔ دوسرے نے کہا جناب میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے آ آکر اس میں سے کھا رہے ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات تو یہی ہے کہ واقعہ ان دونوں نے یہی خواب دیکھے تھے اور ان کی صحیح تعبیر حضرت یوسف ؑ سے دریافت کی تھی۔ لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ درحقیقت انہوں نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا تھا۔ لیکن حضرت یوسف ؑ کی آزمائش کے لیے جھوٹے خواب بیان کر کے تعبیر طلب کی تھی۔
37
View Single
قَالَ لَا يَأۡتِيكُمَا طَعَامٞ تُرۡزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأۡتُكُمَا بِتَأۡوِيلِهِۦ قَبۡلَ أَن يَأۡتِيَكُمَاۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّيٓۚ إِنِّي تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ
Said Yusuf, “The food which you get will not reach you, but I will tell you the interpretation of this before it comes to you; this is one of the sciences my Lord has taught me; indeed I did not accept the religion of the people who do not believe in Allah and are deniers of the Hereafter.”
یوسف (علیہ السلام) نے کہا: جو کھانا (روز) تمہیں کھلایا جاتا ہے وہ تمہارے پاس آنے بھی نہ پائے گا کہ میں تم دونوں کو اس کی تعبیر تمہارے پاس اس کے آنے سے قبل بتا دوں گا، یہ (تعبیر) ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے ہیں۔ بیشک میں نے اس قوم کا مذہب (شروع ہی سے) چھوڑ رکھا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf calls His Jail Mates to Tawhid even before He interprets Their Dreams
Yusuf, peace be upon him, told the two men that he has knowledge in the interpretation of whatever they saw in their dream, and that he will tell them about the interpretation of the dreams before they become a reality. This is why he said,
لاَ يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلاَّ نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ
(No food will come to you as your provision, but I will inform you of its interpretation) Mujahid commented,
لاَ يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ
(No food will come to you as your provision,) this day,
إِلاَّ نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا
(but I will inform you of its interpretation before it comes.) As-Suddi said similarly. Yusuf said that, this knowledge is from Allah Who taught it to me, because I shunned the religion of those who disbelieve in Him and the Last Day, who neither hope for Allah's reward nor fear His punishment on the Day of Return,
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِي إِبْرَهِيمَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(And I have followed the religion of my fathers, - Ibrahim, Ishaq and Ya`qub) Yusuf said, `I have avoided the way of disbelief and polytheism, and followed the way of these honorable Messengers,' may Allah's peace and blessings be on them. This, indeed, is the way of he who seeks the path of guidance and follows the way of the Messengers, all the while shunning the path of deviation. It is he whose heart Allah will guide, teaching him what he did not know beforehand. It is he whom Allah will make an Imam who is imitated in the way of righteousness, and a caller to the path of goodness. Yusuf said next,
مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَىْءٍ ذلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ
(and never could we attribute any partners whatsoever to Allah. This is from the grace of Allah to us and to mankind,) this Tawhid -Monotheism-, affirming that there is no deity worthy of worship except Allah alone without partners,
مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا
(is from the grace of Allah to us), He has revealed it to us and ordained it on us,
وَعَلَى النَّاسِ
(and to mankind,), to whom He has sent us as callers to Tawhid,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ
(but most men thank not.) they do not admit Allah's favor and blessing of sending the Messengers to them, but rather,
بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction.) 14:28
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید حضرت یوسف ؑ اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتادوں گا۔ حضرت یوسف کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ ابن عباس سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔ اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کردیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کردیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے ؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کرلیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو حضرت یوسف کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔
38
View Single
وَٱتَّبَعۡتُ مِلَّةَ ءَابَآءِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشۡرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ ذَٰلِكَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ
“And I have chosen the religion of my forefathers, Ibrahim and Ishaq and Yaqub; it is not rightful for us to ascribe anything as a partner to Allah; this is a grace of Allah upon us and upon mankind, but most men are not thankful.”
اور میں نے تو اپنے باپ دادا، ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) کے دین کی پیروی کر رکھی ہے، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو بھی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، یہ (توحید) ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا (خاص) فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf calls His Jail Mates to Tawhid even before He interprets Their Dreams
Yusuf, peace be upon him, told the two men that he has knowledge in the interpretation of whatever they saw in their dream, and that he will tell them about the interpretation of the dreams before they become a reality. This is why he said,
لاَ يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلاَّ نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ
(No food will come to you as your provision, but I will inform you of its interpretation) Mujahid commented,
لاَ يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ
(No food will come to you as your provision,) this day,
إِلاَّ نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا
(but I will inform you of its interpretation before it comes.) As-Suddi said similarly. Yusuf said that, this knowledge is from Allah Who taught it to me, because I shunned the religion of those who disbelieve in Him and the Last Day, who neither hope for Allah's reward nor fear His punishment on the Day of Return,
وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِي إِبْرَهِيمَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ
(And I have followed the religion of my fathers, - Ibrahim, Ishaq and Ya`qub) Yusuf said, `I have avoided the way of disbelief and polytheism, and followed the way of these honorable Messengers,' may Allah's peace and blessings be on them. This, indeed, is the way of he who seeks the path of guidance and follows the way of the Messengers, all the while shunning the path of deviation. It is he whose heart Allah will guide, teaching him what he did not know beforehand. It is he whom Allah will make an Imam who is imitated in the way of righteousness, and a caller to the path of goodness. Yusuf said next,
مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِاللَّهِ مِن شَىْءٍ ذلِكَ مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ
(and never could we attribute any partners whatsoever to Allah. This is from the grace of Allah to us and to mankind,) this Tawhid -Monotheism-, affirming that there is no deity worthy of worship except Allah alone without partners,
مِن فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا
(is from the grace of Allah to us), He has revealed it to us and ordained it on us,
وَعَلَى النَّاسِ
(and to mankind,), to whom He has sent us as callers to Tawhid,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ
(but most men thank not.) they do not admit Allah's favor and blessing of sending the Messengers to them, but rather,
بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
(Have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction.) 14:28
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید حضرت یوسف ؑ اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتادوں گا۔ حضرت یوسف کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ ابن عباس سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے ہیں مجھے یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا فرما گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں نے ان کافروں کا مذہب چھوڑ رکھا ہے جو نہ اللہ کو مانیں نہ آخرت کو برحق جانیں میں نے اللہ کے پیغمبروں کے سچے دین کو مان رکھا ہے اور اسی کی تابعداری کرتا ہوں۔ خود میرے باپ دادا اللہ کے رسول تھے۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہ الصلواۃ والسلام۔ فی الواقع جو بھی راہ راست پر استقامت سے چلے ہدایت کا پیرو رہے۔ اللہ کے رسولوں کی اتباع کو لازم پکڑ لے، گمراہوں کی راہ سے منہ پھیر لے۔ اللہ تبارک تعالیٰ اس کے دل کو پرنور اور اس کے سینے کو معمور کردیتا ہے۔ اسے علم و عرفان کی دولت سے مالا مال کردیتا ہے۔ اسے بھلائی میں لوگوں کا پیشوا کردیتا ہے کہ اور دنیا کو وہ نیکی کی طرف بلاتا رہتا ہے۔ ہم جب کہ راہ راست دکھا دئیے گئے توحید کی سمجھ دے دئیے گئے شرک کی برائی بتا دئیے گئے۔ پھر ہمیں کیسے یہ بات زیب دیتی ہے ؟ کہ ہم اللہ کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک کرلیں۔ یہ توحید اور سچا دین اور یہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی یہ خاص اللہ کا فضل ہے جس میں ہم تنہا نہیں بلکہ اللہ کی اور مخلوق بھی شامل ہے۔ ہاں ہمیں یہ برتری ہے کہ ہماری جانب یہ براہ راست اللہ کی وحی آئی ہے۔ اور لوگوں کو ہم نے یہ وحی پہنچائی۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی اس زبردست نعمت کی جو اللہ نے ان پر رسول بھیج کر انعام فرمائی ہے ناقدری کرتے ہیں اور اسے مان کر نہیں رہتے بلکہ رب کی نعمت کے بدلے کفر کرتے ہیں۔ اور خود مع اپنے ساتھیوں کے ہلاکت کے گھر میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس دادا کو بھی باپ کے مساوی میں رکھتے ہیں اور فرماتے جو چاہے حطیم میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے دادا دادی کا ذکر نہیں کیا دیکھو حضرت یوسف کے بارے میں فرمایا میں نے اپنے باپ ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔
39
View Single
يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ ءَأَرۡبَابٞ مُّتَفَرِّقُونَ خَيۡرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ
“O both my fellow-prisoners! Are various lords better, or One Allah, the Dominant above all?”
اے میرے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! (بتاؤ) کیا الگ الگ بہت سے معبود بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے
Tafsir Ibn Kathir
ءَأَرْبَابٌ مُّتَّفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(Are many different lords (gods) better or Allah, the One, the Irresistible) to Whose grace and infinite kingdom everything and everyone has submitted in humiliation. Prophet Yusuf explained to them next that it is because of their ignorance that they worship false deities and give them names, for these names were forged and are being transferred from one generation to the next generation. They have no proof or authority that supports this practice, hence his statement to them,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority) or proof and evidence. He then affirmed that the judgement, decision, will and kingdom are all for Allah alone, and He has commanded all of His servants to worship none but Him. He said,
ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
(that is the straight religion,) `this, Tawhid of Allah and directing all acts of worship at Him alone in sincerity, that I am calling you to is the right, straight religion that Allah has ordained and for which He has revealed what He wills of proofs and evidences,'
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most men know not.), and this is why most of them are idolators,
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you eagerly desire it.) 12:103 When Yusuf finished calling them, he started interpreting their dreams for them,
شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید یوسف ؑ سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے انہیں تعبیر خواب بتادینے کا اقرار کرلیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہر چیز پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بےبس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرے ذرے پر ہے وہی ایک بہتر ؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر ؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ تمہاری اپنی گھڑت ہے۔ زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے باپ دادے بھی اس مرض کے مریض تھے۔ لیکن کوئی دلیل اس کی تم لا نہیں سکتے بلکہ اس کی کوئی عقلی دلیل دنیا میں اللہ نے بنائی نہیں۔ حکم تصرف قبضہ، قدرت، کل کی کل اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا اور اپنے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے باز آنے کا قطعی اور حتمی حکم دے رکھا ہے۔ دین مستقیم یہی ہے کہ اللہ کی توحید ہو اس کے لئے ہی عمل و عبادت ہو۔ اسی اللہ کا حکم اس پر بیشمار دلیلیں موجود۔ لیکن اکثر لوگ ان باتوں سے ناواقف ہیں۔ نادان ہیں توحید و شرک کا فرق نہیں جانتے۔ اس لیے اکثر شک کے دلدل میں دھنسے رہتے ہیں۔ باوجود نبیوں کی چاہت کے انہیں یہ منصیب نہیں ہوتا۔ خواب کی تعبیر سے پہلے اس بحث کے چھیڑنے کی ایک خاص مصلحت یہ بھی کہ ان میں سے ایک کے لیے تعبیر نہایت بری تھی تو آپ نے چاہا کہ یہ اسے نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ لیکن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ؟ خصوصا ایسے موقعہ پر جب کہ اللہ کے پیغمبر ان سے تعبیر دینے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ یہاں تو صرف یہ بات ہے کہ انہوں نے آپ کی بزرگی و عزت دیکھ کر آپ سے ایک بات پوچھی۔ آپ نے اس کے جواب سے پہلے انہیں اس سے زیادہ بہتر کی طرف توجہ دلائی۔ اور دین اسلام ان کے سامنے مع دلائل پیش فرمایا۔ کیونکہ آپ نے دیکھا تھا کہ ان میں بھلائی کے قبول کرنے کا مادہ ہے۔ بات کو سوچیں گے۔ جب آپ اپنا فرض ادا کرچکے۔ احکام اللہ کی تبلیغ کرچکے۔ تو اب بغیر اس کے کہ وہ دوبارہ پوچھیں آپ نے ان کا جواب شروع کیا۔
40
View Single
مَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسۡمَآءٗ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٍۚ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
“You do not worship anything besides Him, but which are merely names coined by you and your forefathers – Allah has not sent down any proof regarding them; there is no command but that of Allah; He has commanded that you do not worship anyone except Him; this is the proper religion, but most people do not know.”
تم (حقیقت میں) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے ہو مگر چند ناموں کی جو خود تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنے پاس سے) رکھ لئے ہیں، اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔ حکم کا اختیار صرف اللہ کو ہے، اسی نے حکم فرمایا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا راستہ (درست دین) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
ءَأَرْبَابٌ مُّتَّفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
(Are many different lords (gods) better or Allah, the One, the Irresistible) to Whose grace and infinite kingdom everything and everyone has submitted in humiliation. Prophet Yusuf explained to them next that it is because of their ignorance that they worship false deities and give them names, for these names were forged and are being transferred from one generation to the next generation. They have no proof or authority that supports this practice, hence his statement to them,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority) or proof and evidence. He then affirmed that the judgement, decision, will and kingdom are all for Allah alone, and He has commanded all of His servants to worship none but Him. He said,
ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
(that is the straight religion,) `this, Tawhid of Allah and directing all acts of worship at Him alone in sincerity, that I am calling you to is the right, straight religion that Allah has ordained and for which He has revealed what He wills of proofs and evidences,'
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most men know not.), and this is why most of them are idolators,
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you eagerly desire it.) 12:103 When Yusuf finished calling them, he started interpreting their dreams for them,
شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید یوسف ؑ سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے انہیں تعبیر خواب بتادینے کا اقرار کرلیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہر چیز پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بےبس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرے ذرے پر ہے وہی ایک بہتر ؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر ؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ تمہاری اپنی گھڑت ہے۔ زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے باپ دادے بھی اس مرض کے مریض تھے۔ لیکن کوئی دلیل اس کی تم لا نہیں سکتے بلکہ اس کی کوئی عقلی دلیل دنیا میں اللہ نے بنائی نہیں۔ حکم تصرف قبضہ، قدرت، کل کی کل اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت کا اور اپنے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے باز آنے کا قطعی اور حتمی حکم دے رکھا ہے۔ دین مستقیم یہی ہے کہ اللہ کی توحید ہو اس کے لئے ہی عمل و عبادت ہو۔ اسی اللہ کا حکم اس پر بیشمار دلیلیں موجود۔ لیکن اکثر لوگ ان باتوں سے ناواقف ہیں۔ نادان ہیں توحید و شرک کا فرق نہیں جانتے۔ اس لیے اکثر شک کے دلدل میں دھنسے رہتے ہیں۔ باوجود نبیوں کی چاہت کے انہیں یہ منصیب نہیں ہوتا۔ خواب کی تعبیر سے پہلے اس بحث کے چھیڑنے کی ایک خاص مصلحت یہ بھی کہ ان میں سے ایک کے لیے تعبیر نہایت بری تھی تو آپ نے چاہا کہ یہ اسے نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ لیکن اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ؟ خصوصا ایسے موقعہ پر جب کہ اللہ کے پیغمبر ان سے تعبیر دینے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ یہاں تو صرف یہ بات ہے کہ انہوں نے آپ کی بزرگی و عزت دیکھ کر آپ سے ایک بات پوچھی۔ آپ نے اس کے جواب سے پہلے انہیں اس سے زیادہ بہتر کی طرف توجہ دلائی۔ اور دین اسلام ان کے سامنے مع دلائل پیش فرمایا۔ کیونکہ آپ نے دیکھا تھا کہ ان میں بھلائی کے قبول کرنے کا مادہ ہے۔ بات کو سوچیں گے۔ جب آپ اپنا فرض ادا کرچکے۔ احکام اللہ کی تبلیغ کرچکے۔ تو اب بغیر اس کے کہ وہ دوبارہ پوچھیں آپ نے ان کا جواب شروع کیا۔
41
View Single
يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسۡقِي رَبَّهُۥ خَمۡرٗاۖ وَأَمَّا ٱلۡأٓخَرُ فَيُصۡلَبُ فَتَأۡكُلُ ٱلطَّيۡرُ مِن رَّأۡسِهِۦۚ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ٱلَّذِي فِيهِ تَسۡتَفۡتِيَانِ
“O my two fellow-prisoners! One of you will give his lord (the king) wine to drink; regarding the other, he will be crucified, therefore birds will eat from his head; the command has been given concerning the matter you had enquired about.”
اے میرے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں سے ایک (کے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ وہ) اپنے مربّی (یعنی بادشاہ) کو شراب پلایا کرے گا، اور رہا دوسرا (جس نے سر پر روٹیاں دیکھی ہیں) تو وہ پھانسی دیا جائے گا پھر پرندے اس کے سر سے (گوشت نوچ کر) کھائیں گے، (قطعی) فیصلہ کر دیا گیا جس کے بارے میں تم دریافت کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Interpretation of the Dreams
Yusuf said,
يصَاحِبَىِ السِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُ خَمْرًا
(O two companions of the prison! As for one of you, he will pour out wine for his master to drink;) to the man who saw in a dream that he was pressing wine. He did not direct this speech at him, however, so that to lessen the grief of the other person. This is why he made his statement indirect,
وَأَمَّا الاٌّخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ
(and as for the other, he will be crucified and birds will eat from his head.) which is the interpretation of the other man's dream in which he saw himself carrying bread above his head. Yusuf told them that the decision about their matter has already been taken and it shall come to pass. This is because the dream is tied to a bird's leg, as long as it is not truthfully interpreted. If it is interpreted, then it becomes a reality. Ath-Thawri said that `Imarah bin Al-Qa`qa` narrated that Ibrahim said that `Abdullah bin Mas`ud said, "When they said what they said to him, and he explained their dreams to them, they replied, `We did not see anything at all.' This is when he said,
قُضِىَ الاٌّمْرُ الَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ
(Thus is the case judged concerning which you both did inquire.)" The understanding in this is that he who claims that he saw a dream and was given its interpretation, then he will be tied to its interpretation, and Allah has the best knowledge. There is an honorable Hadith that Imam Ahmad collected from Mu`awiyah bin Haydah that the Prophet said,
«الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ، فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَت»
(The dream is tied to a bird's leg, as long as it is not interpreted. If it is interpreted, it becomes a reality.)
خواب اور اس کی تعبیر اب اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ان کے خواب کی تعبیر بتلا رہے ہیں لیکن یہ نہیں فرماتے کہ تیری خواب کی یہ تعبیر ہے اور تیرے خواب کی یہ تعبیر ہے تاکہ ایک رنجیدہ نہ ہوجائے اور موت سے پہلے اس پر موت کا بوجھ نہ پڑجائے۔ بلکہ مبہم کر کے فرماتے ہیں تم دو میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کا ساقی بن جائے گا یہ دراصل یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے جس نے شیرہ انگور تیار کرتے اپنے تئیں دیکھا تھا۔ اور دوسرے جس نے اپنے سر پر روٹیاں دیکھی تھیں۔ اس کے خواب کی تعبیر یہ دی کہ اسے سولی دی جائے گی اور پرندے اس کا مغز کھائیں گے۔ پھر ساتھ ہی فرمایا کہ یہ اب ہو کر ہی رہے گا۔ اس لیے کہ جب تک خواب کی تعبیر بیان نہ کی جائے وہ معلق رہتا ہے اور جب تعبیر ہوچکی وہ ظاہر ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ تعبیر سننے کے بعد ان دونوں نے کہا کہ ہم نے تو دراصل کوئی خواب دیکھا ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا اب تو تمہارے سوال کے مطابق ظاہر ہو کر ہی رہے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو شخص خواہ مخواہ کا خواب گھڑ لے اور پھر اس کی تعبیر بھی دی دے دی جائے تو وہ لازم ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں خواب گویا پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک اس کی تعبیر نہ دے دی جائے جب تعبیر دے دی گئی پھر وہ واقع ہوجاتا ہے مسند ابو یعلی میں مرفوعا مروی ہے کہ خواب کی تعبیر سب سے پہلے جس نے دی اس کے لیے ہے۔
42
View Single
وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٖ مِّنۡهُمَا ٱذۡكُرۡنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِي ٱلسِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِينَ
And of the two, Yusuf said to the one whom he sensed would be released, “Remember me, in the company of your lord”; so Satan caused him to forget to mention Yusuf to his lord, he therefore stayed in prison for several years more.
اور یوسف (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا جسے ان دونوں میں سے رہائی پانے والا سمجھا کہ اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کر دینا (شاید اسے یاد آجائے کہ ایک اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا نتیجۃً یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک قید خانہ میں ٹھہرے رہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf asks the King's Distiller to mention Him to the King
Yusuf knew that the distiller would be saved. So discretely, so that the other man's suspicion that he would be crucified would not intensify, he said,
اذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ
(Mention me to your King.) asking him to mention his story to the king. That man forgot Yusuf's request and did not mention his story to the king, a plot from the devil, so that Allah's Prophet would not leave the prison. This is the correct meaning of,
فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَـنُ ذِكْرَ رَبِّهِ
(But Shaytan made him forget to mention it to his master.) that it refers to the man who was saved. As was said by Mujahid, Muhammad bin Ishaq and several others. As for, `a few years', or, Bida` in Arabic, it means between three and nine, according to Mujahid and Qatadah. Wahb bin Munabbih said, "Ayyub suffered from the illness for seven years, Yusuf remained in prison for seven years and Bukhtanassar (Nebuchadnezzar - Chaldean king of Babylon) was tormented for seven years."
تعبیر بتا کر بادشاہ وقت کو اپنی یاد دہانی کی تاکید جسے حضرت یوسف نے اس کے خواب کی تعبیر کے مطابق اپنے خیال میں جیل خانہ سے آزاد ہونے والا سمجھا تھا اس سے در پردہ علیحدگی میں کہ وہ دوسرا یعنی باورچی نہ سنے فرمایا کہ بادشاہ کے سامنے ذرا میرا ذکر بھی کردینا۔ لیکن یہ اس بات کو بالکل ہی بھول گیا۔ یہ بھی ایک شیطانی چال ہی تھی جس سے نبی اللہ ؑ کئی سال تک قید خانے میں ہی رہے۔ پس ٹھیک قول یہی ہے کہ فانساہ میں ہ کی ضمیر کا مرجع نجات پانے والا شخص ہی ہے۔ گویا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ضمیر حضرت یوسف کی طرف پھرتی ہے۔ ابن عباس سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یوسف یہ کلمہ نہ کہتے تو جیل خانے میں اتنی لمبی مدت نہ گزارتے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور سے کشادگی چاہی۔ یہ روایت بہت ہی ضعیف ہے۔ اس لیے کہ سفیان بن وکیع اور ابراہیم بن یزید دونوں راوی ضعیف ہیں۔ حسن اور قتادہ سے مرسلاً مروی ہے۔ گو مرسل حدیثیں کسی موقع پر قابل قبول بھی ہوں لیکن ایسے اہم مقامات پر ایسی مرسل روایتیں ہرگز احتجاج کے قابل نہیں ہوسکتیں واللہ اعلم۔ بضع لفظ تین سے نو تک کے لیے آتا ہے۔ حضرت وہب بن منبہ کا بیان ہے کہ حضرت ایوب بیماری میں سات سال تک مبتلا رہے اور حضرت یوسف قید خانے میں سات سال تک رہے اور بخت نصر کا عذاب بھی سات سال تک رہا ابن عباس کہتے ہیں مدت قید بارہ سال تھی۔ ضحاک کہتے ہیں چودہ برس آپ نے قید خانے میں گزارے۔
43
View Single
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ إِنِّيٓ أَرَىٰ سَبۡعَ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖۖ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ أَفۡتُونِي فِي رُءۡيَٰيَ إِن كُنتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُونَ
And the king said, “I saw in a dream seven healthy cows whom seven lean cows were eating, and seven green ears of corn and seven others dry; O court-members! Explain my dream, if you can interpret dreams.”
اور (ایک روز) بادشاہ نے کہا: میں نے (خواب میں) سات موٹی تازی گائیں دیکھی ہیں، انہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے (دیکھے) ہیں اور دوسرے (سات ہی) خشک، اے درباریو! مجھے میرے خواب کا جواب بیان کرو اگر تم خواب کی تعبیر جانتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَـثُ أَحْلَـمٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الاٌّحْلَـمِ بِعَـلِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَاْ أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us..) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعُ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) `you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, `Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows. During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
44
View Single
قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمٖۖ وَمَا نَحۡنُ بِتَأۡوِيلِ ٱلۡأَحۡلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ
They answered, “These are confused dreams – and we do not know the interpretation of dreams.”
انہوں نے کہا: (یہ) پریشاں خوابیں ہیں، اور ہم پریشاں خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَـثُ أَحْلَـمٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الاٌّحْلَـمِ بِعَـلِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَاْ أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us..) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعُ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) `you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, `Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows. During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
45
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِي نَجَا مِنۡهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعۡدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأۡوِيلِهِۦ فَأَرۡسِلُونِ
And of the two the one who was released said – and after a long time he had remembered – “I will tell you its interpretation, therefore send me forth.”
اور وہ شخص جو ان دونوں میں سے رہائی پا چکا تھا بولا، اور (اب) اسے ایک مدت کے بعد (یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا ہوا وعدہ) یاد آگیا: میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا سو تم مجھے (یوسف علیہ السلام کے پاس) بھیجو
Tafsir Ibn Kathir
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَـثُ أَحْلَـمٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الاٌّحْلَـمِ بِعَـلِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَاْ أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us..) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعُ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) `you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, `Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows. During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
46
View Single
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفۡتِنَا فِي سَبۡعِ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖ لَّعَلِّيٓ أَرۡجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُونَ
“O Yusuf! O truthful one! Explain for us the seven healthy cows which seven lean cows were eating and the seven green ears of corn and seven others dry, so I may return to the people, possibly they may come to know.”
(وہ قید خانہ میں پہنچ کر کہنے لگا:) اے یوسف، اے صدقِ مجسّم! آپ ہمیں (اس خواب کی) تعبیر بتا دیں کہ سات فربہ گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے سات خشک؛ تاکہ میں (یہ تعبیر لے کر) واپس لوگوں کے پاس جاؤں شاید انہیں (آپ کی قدر و منزلت) معلوم ہو جائے
Tafsir Ibn Kathir
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَـثُ أَحْلَـمٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الاٌّحْلَـمِ بِعَـلِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَاْ أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us..) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعُ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) `you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, `Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows. During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
47
View Single
قَالَ تَزۡرَعُونَ سَبۡعَ سِنِينَ دَأَبٗا فَمَا حَصَدتُّمۡ فَذَرُوهُ فِي سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تَأۡكُلُونَ
He said, “You will cultivate for seven years continuously; so leave all that you harvest in the ear, except a little which you eat.”
یوسف (علیہ السلام) نے کہا: تم لوگ دائمی عادت کے مطابق مسلسل سات برس تک کاشت کرو گے سو جو کھیتی تم کاٹا کرو گے اسے اس کے خوشوں (ہی) میں (ذخیرہ کے طور پر) رکھتے رہنا مگر تھوڑا سا (نکال لینا) جسے تم (ہر سال) کھا لو
Tafsir Ibn Kathir
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَـثُ أَحْلَـمٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الاٌّحْلَـمِ بِعَـلِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَاْ أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us..) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعُ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) `you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, `Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows. During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
48
View Single
ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ سَبۡعٞ شِدَادٞ يَأۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تُحۡصِنُونَ
“Then after that will come seven hard years which will devour all that you had stored for them, except a little which you may save.”
پھر اس کے بعد سات (سال) بہت سخت (خشک سالی کے) آئیں گے وہ اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم ان کے لئے پہلے جمع کرتے رہے تھے مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا) جو تم محفوظ کر لوگے
Tafsir Ibn Kathir
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَـثُ أَحْلَـمٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الاٌّحْلَـمِ بِعَـلِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَاْ أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us..) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعُ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) `you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, `Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows. During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
49
View Single
ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَامٞ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعۡصِرُونَ
“Then after that will come a year when the people will be given rain and in which they will extract juices.”
پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کو (خوب) بارش دی جائے گی اور (اس سال اس قدر پھل ہوں گے کہ) لوگ اس میں (پھلوں کا) رس نچوڑیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Dream of the King of Egypt
The King of Egypt had a dream that Allah the Exalted made a reason for Yusuf's release from prison, with his honor and reputation preserved. When the king had this dream, he was astonished and fearful and sought its interpretation. He gathered the priests, the chiefs of his state and the princes and told them what he had seen in a dream, asking them to interpret it for him. They did not know its interpretation and as an excuse, they said,
أَضْغَـثُ أَحْلَـمٍ
(Mixed up false dreams), which you saw,
وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ الاٌّحْلَـمِ بِعَـلِمِينَ
(and we are not skilled in the interpretation of dreams.) They said, had your dream been a vision rather than a mixed up false dream, we would not have known its interpretation. The man who was saved from the two, who were Yusuf's companions in prison, remembered. Shaytan plotted to make him forget the request of Yusuf, to mention his story to the king. Now, years later, he remembered after forgetfulness and said to the king and his entourage,
أَنَاْ أُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِهِ
(I will tell you its interpretation,) he interpretation of this dream,
فَأَرْسِلُونِ
(so send me forth.) to the prison, to Yusuf, the man of truth. So they sent him, and he said to Yusuf,
يُوسُفُ أَيُّهَا الصِّدِّيقُ أَفْتِنَا
(O Yusuf, the man of truth! Explain to us..) and mentioned the king's dream to him.
Yusuf's Interpretation of the King's Dream
This is when Yusuf, peace be upon him, told the interpretation of the dream, without criticizing the man for forgetting his request that he had made to him. Neither did he make a precondition that he be released before explaining the meaning. Rather, he said,
تَزْرَعُونَ سَبْعُ سِنِينَ دَأَبًا
(For seven consecutive years, you shall sow as usual) `you will receive the usual amount of rain and fertility for seven consecutive years.' He interpreted the cows to be years, because cows till the land that produce fruits and vegetables, which represent the green ears of corn in the dream. He next recommended what they should do during these fertile years,
فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنبُلِهِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تَأْكُلُونَ
(and that (the harvest) which you reap you shall leave it in the ears, (all) except a little of it which you may eat.) He said, `Whatever you harvest during those seven fertile years, leave it in the ears so as to preserve it better. This will help the harvest stay healthy longer, except the amount that you need to eat, which should not be substantial. Stay away from extravagance, so that you use what remains of the harvest during the seven years of drought that will follow the seven fertile years.' This was represented by the seven lean cows that eat the seven fat cows. During the seven years of drought, they will eat from the harvest they collected during the seven fertile years, as represented by the dry ears of corn in the dream. Yusuf told them that during these years, the remaining ears will not produce anything and whatever they try to plant, will not produce any harvest, so he said,
يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّا تُحْصِنُونَ
(which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored).) He delivered the good news to them that after the consecutive years of drought, there will come a fertile year, during which people will receive rain and the land will produce in abundance. The people will then press wine and oil as usual.
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔ اس کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔ اس وقت شاہی ساقی کو حضرت یوسف ؑ یاد آگئے کہ وہ تعبیر خواب کے پورے ماہر ہیں۔ اس علم میں ان کو کافی مہارت ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ جیل خانہ بھگت رہا تھا یہ بھی اور اس کا ایک اور ساتھی بھی۔ اسی سے حضرت یوسف ؑ نے کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس میرا ذکر بھی کرنا۔ لیکن اسے شیطان نے بھلا دیا تھا۔ آج مدت مدید کے بعد اسے یاد آگیا اور اس نے سب کے سامنے کہا کہ اگر آپ کو اس کی تعبیر سننے کا شوق ہے اور وہ بھی صحیح تعبیر تو مجھے اجازت دو۔ یوسف صدیق ؑ جو قید خانے میں ہیں ان کے پاس جاؤں اور ان سے دریافت کر آؤں۔ آپ نے اسے منظور کیا اور اسے اللہ کے محترم نبی ﷺ کے پاس بھیجا۔ امتہ کی دوسری قرأت امتہ بھی ہے۔ اس کے معنی بھول کے ہیں۔ یعنی بھول جانے کے بعد اسے حضرت یوسف ؑ کا فرمان یاد آیا۔ دربار سے اجازت لے کر یہ چلا۔ قید خانے پہنچ کر اللہ کے نبی ابن نبی ابن نبی ابن نبی ؑ سے کہا کہ اے نرے سچے یوسف ؑ بادشاہ نے اس طرح کا ایک خواب دیکھا ہے۔ اسے تعبیر کا اشتیاق ہے۔ تمام دربار بھرا ہوا ہے۔ سب کی نگاہیں لگیں ہوئی ہیں۔ آپ مجھے تعبیر بتلا دیں تو میں جا کر انہیں سناؤں اور سب معلوم کرلیں۔ آپ نے نہ تو اسے کوئی ملامت کی کہ تو اب تک مجھے بھولے رہا۔ باوجود میرے کہنے کے تو نے آج تک بادشاہ سے میرا ذکر بھی نہ کیا۔ نہ اس امر کی درخواست کی کہ مجھے جیل خانے سے آزاد کیا جائے بلکہ بغیر کسی تمنا کے اظہار کے بغیر کسی الزام دینے کے خواب کی پوری تعبیر سنا دی اور ساتھ ہی تدبیر بھی بتادی۔ فرمایا کہ سات فربہ گایوں سے مراد یہ ہے کہ سات سال تک برابر حاجت کے مطابق بارش برستی رہے گی۔ خوب ترسالی ہوگی۔ غلہ کھیت باغات خوب پھلیں گے۔ یہی مراد سات ہری بالیوں سے ہے۔ گائیں بیل ہی ہلوں میں جتتے ہیں ان سے زمین پر کھیتی کی جاتی ہے۔ اب ترکیب بھی بتلا دی کہ ان سات برسوں میں جو اناج غلہ نکلے۔ اسے بطور ذخیرے کے جمع کرلینا اور رکھنا بھی بالوں اور خوشوں سمیت تاکہ سڑے گلے نہیں خراب نہ ہو۔ ہاں اپنی کھانے کی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لینا۔ لیکن خیال رہے کہ ذرا سا بھی زیادہ نہ لیا جائے صرف حاجت کے مطابق ہی نکالا جائے۔ ان سات برسوں کے گزرتے ہی اب جو قحط سالیاں شروع ہوں گی وہ برابر سات سال تک متواتر رہیں گی۔ نہ بارش برسے گی نہ پیداوار ہوگی۔ یہی مراد ہے سات دبلی گایوں اور سات خشک خوشوں سے ہے کہ ان سات برسوں میں وہ جمع شدہ ذخیرہ تم کھاتے پیتے رہو گے۔ یاد رکھنا ان میں کوئی غلہ کھیتی نہ ہوگی۔ وہ جمع کردہ ذخیرہ ہی کام آئے گا۔ تم دانے بوؤ گے لیکن پیداوار کچھ بھی نہ ہوگی۔ آپ نے خواب کی پوری تعبیر دے کر ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی سنا دی کہ ان سات خشک سالیوں کے بعد جو سال آئے گا وہ بڑی برکتوں والا ہوگا۔ خوب بارشیں برسیں گی خوب غلے اور کھیتیاں ہوں گی۔ ریل پیل ہوجائے گی اور تنگی دور ہوجائے گی اور لوگ حسب عادت زیتون وغیرہ کا تیل نکالیں گے اور حسب عادت انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔ اور جانوروں کے تھن دودھ سے لبریز ہوجائیں گے کہ خوب دودھ نکالیں پئیں۔
50
View Single
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرۡجِعۡ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسۡـَٔلۡهُ مَا بَالُ ٱلنِّسۡوَةِ ٱلَّـٰتِي قَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيمٞ
And the king said, “Bring him to me”; so when the bearer came to him, Yusuf said, “Return to your lord and ask him what is the status of the women who had cut their hands; indeed my Lord knows their deception.”
اور (یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا: یوسف (علیہ السلام) کو (فورًا) میرے پاس لے آؤ، پس جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا: اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ بیشک میرا رب ان کے مکر و فریب کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The King investigates what happened between the Wife of the `Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِى بِهِ
(Bring him to me.) `Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the `Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king...) The Sunnah of our Prophet praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَال»
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ الْمَوْتَى
(My Lord! Show me how You give life to the dead. ..)
«وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِي»
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الَّـتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, `What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot."')
«لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْر»
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the `Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the `Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf) on the day of the banquet
قُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, `Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الَنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the `Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn `Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, `became clear and plain',
أَنَاْ رَوَدْتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّـدِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me.)
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence. ) She said, `I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَوَمَآ أُبَرِّىءُ نَفْسِى
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, `I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-`Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work. It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the `Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, `I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the `Aziz be certain that,
أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the `Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اسکے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کرلیں کہ میرا قصور کیا تھا ؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا ؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر ؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔ حدیث شریف میں بھی حضرت یوسف ؑ کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت حضرت ابراہیم ؑ کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا (یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کرسکتے تھے ؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازروئے شک۔ چناچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔ اللہ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف ؑ کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کرلیتا۔ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آکر آپ سے تعبیر پوچھتا ہے آپ فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بےقصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں انکی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔ اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتیں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی ؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف پر کوئی الزام نہیں اس پر بےسروپا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اٹھی کہ اب حق ظاہر ہوگیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔
51
View Single
قَالَ مَا خَطۡبُكُنَّ إِذۡ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفۡسِهِۦۚ قُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِن سُوٓءٖۚ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡـَٰٔنَ حَصۡحَصَ ٱلۡحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
The king said, “O women! What was your role when you tried to entice Yusuf?” They answered, “Purity is to Allah – we did not find any immorality in him”; said the wife of the governor, “Now the truth is out; it was I who tried to entice him, and indeed he is truthful.”
بادشاہ نے (زلیخا سمیت عورتوں کو بلا کر) پوچھا: تم پر کیا بیتا تھا جب تم (سب) نے یوسف (علیہ السلام) کو ان کی راست روی سے بہکانا چاہا تھا (بتاؤ وہ معاملہ کیا تھا)؟ وہ سب (بہ یک زبان) بولیں: اللہ کی پناہ! ہم نے (تو) یوسف (علیہ السلام) میں کوئی برائی نہیں پائی۔ عزیزِ مصر کی بیوی (زلیخا بھی) بول اٹھی: اب تو حق آشکار ہو چکا ہے (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے ہی انہیں اپنی مطلب براری کے لئے پھسلانا چاہا تھا اور بیشک وہی سچے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The King investigates what happened between the Wife of the `Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِى بِهِ
(Bring him to me.) `Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the `Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king...) The Sunnah of our Prophet praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَال»
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ الْمَوْتَى
(My Lord! Show me how You give life to the dead. ..)
«وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِي»
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الَّـتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, `What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot."')
«لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْر»
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the `Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the `Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf) on the day of the banquet
قُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, `Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الَنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the `Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn `Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, `became clear and plain',
أَنَاْ رَوَدْتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّـدِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me.)
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence. ) She said, `I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَوَمَآ أُبَرِّىءُ نَفْسِى
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, `I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-`Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work. It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the `Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, `I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the `Aziz be certain that,
أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the `Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اسکے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کرلیں کہ میرا قصور کیا تھا ؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا ؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر ؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔ حدیث شریف میں بھی حضرت یوسف ؑ کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت حضرت ابراہیم ؑ کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا (یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کرسکتے تھے ؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازروئے شک۔ چناچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔ اللہ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف ؑ کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کرلیتا۔ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آکر آپ سے تعبیر پوچھتا ہے آپ فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بےقصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں انکی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔ اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتیں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی ؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف پر کوئی الزام نہیں اس پر بےسروپا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اٹھی کہ اب حق ظاہر ہوگیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔
52
View Single
ذَٰلِكَ لِيَعۡلَمَ أَنِّي لَمۡ أَخُنۡهُ بِٱلۡغَيۡبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي كَيۡدَ ٱلۡخَآئِنِينَ
Said Yusuf, “I did this so that the governor may realise that I did not betray him behind his back, and Allah does not let the deceit of betrayers be successful.”
(یوسف علیہ السلام نے کہا: میں نے) یہ اس لئے (کیا ہے) کہ وہ (عزیزِ مصر جو میرا محسن و مربّی تھا) جان لے کہ میں نے اس کی غیابت میں (پشت پیچھے) اس کی کوئی خیانت نہیں کی اور بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو کامیاب نہیں ہونے دیتا
Tafsir Ibn Kathir
The King investigates what happened between the Wife of the `Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِى بِهِ
(Bring him to me.) `Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the `Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king...) The Sunnah of our Prophet praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَال»
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ الْمَوْتَى
(My Lord! Show me how You give life to the dead. ..)
«وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِي»
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الَّـتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, `What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot."')
«لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْر»
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the `Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the `Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf) on the day of the banquet
قُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, `Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الَنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the `Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn `Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, `became clear and plain',
أَنَاْ رَوَدْتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّـدِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me.)
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence. ) She said, `I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَوَمَآ أُبَرِّىءُ نَفْسِى
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, `I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-`Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work. It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the `Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, `I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the `Aziz be certain that,
أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the `Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب تک کہ شاہ مصر اور اسکے درباری اور اہل مصر یہ نہ معلوم کرلیں کہ میرا قصور کیا تھا ؟ عزیز کی بیوی کی نسبت جو بات مجھ سے منسوب کی گئی ہے اس میں سچ کہاں تک ہے اب تک میرا قید خانہ بھگتنا واقعہ کسی حقیقت کی بنا پر تھا ؟ یا صرف ظلم و زیادتی کی بناء پر ؟ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر میرا یہ پیغام پہنچاؤ کہ وہ اس واقعہ کی پوری تحقیق کریں۔ حدیث شریف میں بھی حضرت یوسف ؑ کے اس صبر کی اور آپ کی اس شرافت و فضیلت کی تعریف آئی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ شک کے حقدار ہم بہ نسبت حضرت ابراہیم ؑ کے بابت زیادہ ہیں جب کہ انہوں نے فرمایا تھا میرے رب مجھے اپنا مردوں کا زندہ کرنا مع کیفیت دکھا (یعنی جب ہم اللہ کی اس قدرت میں شک نہیں کرتے تو حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر کیسے شک کرسکتے تھے ؟ پس آپ کی یہ طلب از روئے مزید اطمینان کے تھی نہ کہ ازروئے شک۔ چناچہ خود قرآن میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ میرے اطمینان دل کے لیے ہے۔ اللہ حضرت لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی زور آور جماعت یا مضبوط قلعہ کی پناہ میں آنا چاہنے لگے۔ اور سنو اگر میں یوسف ؑ کے برابر جیل خانہ بھگتے ہوئے ہوتا اور پھر قاصد میری رہائی کا پیغام لاتا تو میں تو اسی وقت جیل خانے سے آزادی منظور کرلیتا۔ مسند احمد میں اسی آیت فاضلہ کی تفسیر میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں ہوتا تو اسی وقت قاصد کی بات مان لیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔ مسند عبدالرزاق میں ہے آپ فرماتے ہیں واللہ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر رہ رہ کر تعجب آتا ہے اللہ اسے بخشے دیکھو تو سہی بادشاہ نے خواب دیکھا ہے وہ تعبیر کے لیے مضطرب ہے قاصد آکر آپ سے تعبیر پوچھتا ہے آپ فوراً بغیر کسی شرط کے بتا دیتے ہیں۔ اگر میں ہوتا تو جب تک جیل خانے سے اپنی رہائی نہ کرا لیتا ہرگز نہ بتلاتا۔ مجھے حضرت یوسف ؑ کے صبر و کرم پر تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اللہ انہیں بخشے کہ جب ان کے پاس قاصد ان کی رہائی کا پیغام لے کر پہنچتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ابھی نہیں جب تک کہ میری پاکیزگی، پاک دامنی اور بےقصوری سب پر تحقیق سے کھل نہ جائے۔ اگر میں انکی جگہ ہوتا تو میں تو دوڑ کر دروازے پر پہنچتا یہ روایت مرسل ہے۔ اب بادشاہ نے تحقیق کرنی شروع کی ان عورتیں کو جنہیں عزیز کی بیوی نے اپنے ہاں دعوت پر جمع کیا تھا اور خود اسے بھی دربار میں بلوایا۔ پھر ان تمام عورتوں سے پوچھا کہ ضیافت والے دن کیا گزری تھی ؟ سب بیان کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ماشا اللہ یوسف پر کوئی الزام نہیں اس پر بےسروپا تہمت ہے۔ واللہ ہم خوب جانتی ہیں کہ یوسف میں کوئی بدی نہیں اس وقت عزیز کی بیوی خود بھی بول اٹھی کہ اب حق ظاہر ہوگیا واقعہ کھل گیا۔ حقیقت نکھر آئی مجھے خود اس امر کا اقرار ہے۔ کہ واقعی میں نے ہی اسے پھنسانا چاہا تھا۔ اس نے جو بروقت کہا تھا کہ یہ عورت مجھے پھسلا رہی تھی اس میں وہ بالکل سچا ہے۔ میں اس کا اقرار کرتی ہوں اور اپنا قصور آپ بیان کرتی ہوں تاکہ میرے خاوند یہ بات بھی جان لیں کہ میں نے اس کی کوئی خیانت دراصل نہیں کی۔ یوسف کی پاکدامنی کی وجہ سے کوئی شر اور برائی مجھ سے ظہور میں نہیں آئی۔ بدکاری سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچائے رکھا۔ میری اس اقرار سے اور واقعہ کے کھل جانے سے صاف ظاہر ہے اور میرے خاوند جان سکتے ہیں کہ میں برائی میں مبتلا نہیں ہوئی۔ یہ بالکل سچ ہے کہ خیانت کرنے والوں کی مکاریوں کو اللہ تعالیٰ فروغ نہیں دیا۔ ان کی دغا بازی کوئی پھل نہیں لاتی۔ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے بارہویں پارے کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین۔
53
View Single
۞وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِيٓۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيٓۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ
“And I do not portray my soul as innocent; undoubtedly the soul excessively commands towards evil, except upon whom my Lord has mercy; indeed my Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.”
اور میں اپنے نفس کی برات (کا دعوٰی) نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرما دے۔ بیشک میرا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The King investigates what happened between the Wife of the `Aziz, the Women in the City, and Yusuf
Allah narrates to us that when the king was conveyed the interpretation of his dream, he liked Yusuf's interpretation and felt sure that it was true. He realized the virtue of Prophet Yusuf, recognized his knowledge in the interpretation of dreams and valued his good conduct with his subjects in his country. The king said,
ائْتُونِى بِهِ
(Bring him to me.) `Release him from prison and bring him to me.' When the king's emissary came to Yusuf and conveyed the news of his imminent release, Yusuf refused to leave the prison until the king and his subjects declare his innocence and the integrity of his honor, denouncing the false accusation that the wife of the `Aziz made against him. He wanted them to know that sending him to prison was an act of injustice and aggression, not that he committed an offense that warranted it. He said,
ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ
(Return to your lord (i.e. king...) The Sunnah of our Prophet praised Prophet Yusuf and asserted his virtues, honor, elevated rank and patience, may Allah's peace and blessings be on him. The Musnad and the Two Sahihs recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَال»
(We are more liable to be in doubt than Ibrahim when he said,)
رَبِّ أَرِنِى كَيْفَ تُحْىِ الْمَوْتَى
(My Lord! Show me how You give life to the dead. ..)
«وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ لَأَجَبْتُ الدَّاعِي»
(And may Allah send His mercy on Lut! He wished to have powerful support! If I were to stay in prison for such a long time as Yusuf did, I would have accepted the offer.) In another narration collected by Ahmad from Abu Hurayrah, the Prophet said about Yusuf's statement,
فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الَّـتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ
("...and ask him, `What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot."')
«لَوْ كُنْتُ أَنَا، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْر»
(If it was me, I would have accepted the offer rather than await my exoneration first.) Allah said (that the king asked),
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(He said, "What was your affair when you did seek to seduce Yusuf") The king gathered those women who cut their hands, while being hosted at the house of the wife of the `Aziz. He asked them all, even though he was directing his speech at the wife of his minister, the `Aziz in particular. He asked the women who cut their hands,
مَا خَطْبُكُنَّ
(What was your affair...), what was your story with regards to,
إِذْ رَاوَدتُنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ
(when you did seek to seduce Yusuf) on the day of the banquet
قُلْنَ حَاشَ للَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ
(The women said: "Allah forbid! No evil know we against him!") The women answered the king, `Allah forbid that Yusuf be guilty of this, for by Allah, we never knew him to do evil.' This is when,
قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الَنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ
(The wife of the `Aziz said: "Now the truth has Hashasa...") or the truth is manifest to all, according to Ibn `Abbas, Mujahid and others. Hashasa also means, `became clear and plain',
أَنَاْ رَوَدْتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّـدِقِينَ
(it was I who sought to seduce him, and he is surely of the truthful.) when he said,
هِىَ رَاوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى
(It was she that sought to seduce me.)
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ
(in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence. ) She said, `I admit this against myself so that my husband knows that I did not betray him in his absence and that adultery did not occur. I tried to seduce this young man and he refused, and I am admitting this so that he knows I am innocent,'
وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَوَمَآ أُبَرِّىءُ نَفْسِى
(And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers. And I free not myself (from the blame).) She said, `I do not exonerate myself from blame, because the soul wishes and lusts, and this is what made me seduce him,' for,
النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّى
(Verily, the (human) self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills).) whom Allah the Exalted wills to grant them immunity,
إِنَّ رَبِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is the most viable and suitable understanding for the continuity of the story and the meanings of Arabic speech. Al-Mawardi mentioned this in his Tafsir, in support of it, it was also preferred by Imam Abu Al-`Abbas Ibn Taymiyyah who wrote about it in detail in a separate work. It was said Yusuf peace be upon him is the one who said,
ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(in order that he (the `Aziz) may know that I betrayed him not) with his wife,
بِالْغَيْبِ
(in (his) absence).) until the end of Ayah (53) He said, `I sent back the emissary, so that the king would investigate my innocence and the `Aziz be certain that,
أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ
(I betrayed him not), with his wife,
بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى كَيْدَ الْخَـئِنِينَ
(in (his) absence. And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.)' This is the only explanation presented by Ibn Jarir At-Tabari and Ibn Abi Hatim, but the first view is stronger and more obvious because it is a continuation of what the wife of the `Aziz said in the presence of the king. Yusuf was not present at all during this time, for he was released later on and brought to the king by his order.
عزیز مصر کی بیوی کہہ رہی ہے کہ میں اپنی پاکیزگی بیان نہیں کر رہی اپنے آپ کو نہیں سراہتی۔ نفس انسانی تمناؤں اور بری باتوں کا مخزن ہے۔ اس میں ایسے جذبات اور شوق اچھلتے رہتے ہیں۔ وہ برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے۔ اسی کے پھندے میں پھنس کر میں نے حضرت یوسف ؑ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ مگر جسے اللہ چاہے نفس کی برائی سے محفوظ رکھ لیتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ بخشش کرنا معافی دینا اس کی ابدی اور لازمی صفت ہے۔ یہ قول عزیز مصر کی عورت کا ہی ہے۔ یہی بات مشہور ہے اور زیادہ لائق ہے اور واقعہ کے بیان سے بھی زیادہ مناسب ہے۔ اور کلام کے معنی کے ساتھ بھی زیادہ موافق ہے۔ اما ماوردی ؒ نے اپنی تفسیر میں اسے وارد کیا ہے۔ اور علامہ ابو العباس حضرت امام ابن تیمیہ ؒ نے تو اسے ایک مستقل تصنیف میں بیان فرمایا ہے اور اس کی پوری تائید کی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قول حضرت یوسف ؑ کا ہے۔ لیعلم سے اس دوسری آیت کے ختم تک انہی کا فرمان ہے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے تو صرف یہی ایک قول نقل کیا ہے۔ چناچہ ابن جریر میں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بادشاہ نے عورتوں کو جمع کر کے جب ان سے پوچھا کہ کیا تم نے حضرت یوسف ؑ کو بہلایا پھسلایا تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حاش اللہ ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے اقرار کیا کہ واقعی حق تو یہی ہے۔ تو حضرت یوسف ؑ نے فرمایا یہ سب اس لئے تھا کہ میری امانت درای کا یقین ہوجائے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے آپ سے فرمایا وہ دن بھی یاد ہے ؟ کہ آپ نے کچھ ارادہ کرلیا تھا ؟ تب آپ نے فرمایا میں اپنے نفس کی برات تو نہیں کر رہا ؟ بیشک نفس برائیوں کا حکم دیتا ہے۔ الغرض ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ کلام حضرت یوسف ؑ کا ہے۔ لیکن پہلا قول یعنی اس کلام کا عزیز کی موت کا کلام ہونا ہی زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اوپر سے انہی کا کلام چلا آ رہا ہے جو بادشاہ کے سامنے سب کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ اس وقت تو حضرت یوسف علی السلام وہاں موجود ہی نہ تھے۔ اس تمام قصے کے کھل جانے کے بعد بادشاہ نے آپ کو بلوایا۔
54
View Single
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦٓ أَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِينٌ أَمِينٞ
And the king said, “Bring him to me so that I may choose him especially for myself”; and when he had talked to him he said, “Indeed you are today, before us, the honourable, the trusted.”
اور بادشاہ نے کہا: انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لئے (مشیرِ) خاص کر لوں، سو جب بادشاہ نے آپ سے (بالمشافہ) گفتگو کی (تو نہایت متاثر ہوا اور) کہنے لگا: (اے یوسف!) بیشک آپ آج سے ہمارے ہاں مقتدر (اور) معتمد ہیں (یعنی آپ کو اقتدار میں شریک کر لیا گیا ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Rank with the King of Egypt
Allah states that when he became aware of Yusuf's innocence and his innocense of what he was accused of, the king said,
ائْتُونِى بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى
(Bring him to me that I may attach him to my person.), `that I may make him among my close aids and associates,'
فَلَمَّا كَلَّمَهُ
(Then, when he spoke to him), when the king spoke to Yusuf and further recognized his virtues, great ability, brilliance, good conduct and perfect mannerism, he said to him,
إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مِكِينٌ أَمِينٌ
(Verily, this day, you are with us high in rank and fully trusted.) The king said to Yusuf, `You have assumed an exalted status with us and are indeed fully trusted.' Yusuf, peace be upon him said,
اجْعَلْنِى عَلَى خَزَآئِنِ الاٌّرْضِ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌ
(Set me over the storehouses of the land; I will indeed guard them with full knowledge.) Yusuf praised himself, for this is allowed when one's abilities are unknown and there is a need to do so. He said that he is,
حَفِيظٌ
(Hafiz), an honest guard,
عَلِيمٌ
(`Alim), having knowledge and wisdom about the job he is to be entrusted with. Prophet Yusuf asked the king to appoint him as minister of finance for the land, responsible for the harvest storehouses, in which they would collect produce for the years of drought which he told them will come. He wanted to be the guard, so that he could dispense the harvest in the wisest, best and most beneficial way. The king accepted Yusuf's offer, for he was eager to draw Yusuf close to him and to honor him. So Allah said,
جب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کرلوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ کی صورت دیکھی۔ آپ کی باتیں سنیں، آپ کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہوگیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ نے ایک خدمت اپنے لئے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کرسکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کرلیا۔
55
View Single
قَالَ ٱجۡعَلۡنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرۡضِۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٞ
Said Yusuf, “Appoint me over the treasures of the earth; indeed I am a protector, knowledgeable.”
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا: (اگر تم نے واقعی مجھ سے کوئی خاص کام لینا ہے تو) مجھے سرزمینِ (مصر) کے خزانوں پر (وزیر اور امین) مقرر کر دو، بیشک میں (ان کی) خوب حفاظت کرنے والا (اور اقتصادی امور کا) خوب جاننے والا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Rank with the King of Egypt
Allah states that when he became aware of Yusuf's innocence and his innocense of what he was accused of, the king said,
ائْتُونِى بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى
(Bring him to me that I may attach him to my person.), `that I may make him among my close aids and associates,'
فَلَمَّا كَلَّمَهُ
(Then, when he spoke to him), when the king spoke to Yusuf and further recognized his virtues, great ability, brilliance, good conduct and perfect mannerism, he said to him,
إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مِكِينٌ أَمِينٌ
(Verily, this day, you are with us high in rank and fully trusted.) The king said to Yusuf, `You have assumed an exalted status with us and are indeed fully trusted.' Yusuf, peace be upon him said,
اجْعَلْنِى عَلَى خَزَآئِنِ الاٌّرْضِ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌ
(Set me over the storehouses of the land; I will indeed guard them with full knowledge.) Yusuf praised himself, for this is allowed when one's abilities are unknown and there is a need to do so. He said that he is,
حَفِيظٌ
(Hafiz), an honest guard,
عَلِيمٌ
(`Alim), having knowledge and wisdom about the job he is to be entrusted with. Prophet Yusuf asked the king to appoint him as minister of finance for the land, responsible for the harvest storehouses, in which they would collect produce for the years of drought which he told them will come. He wanted to be the guard, so that he could dispense the harvest in the wisest, best and most beneficial way. The king accepted Yusuf's offer, for he was eager to draw Yusuf close to him and to honor him. So Allah said,
جب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کرلوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ کی صورت دیکھی۔ آپ کی باتیں سنیں، آپ کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہوگیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ نے ایک خدمت اپنے لئے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کرسکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کرلیا۔
56
View Single
وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَتَبَوَّأُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُۚ نُصِيبُ بِرَحۡمَتِنَا مَن نَّشَآءُۖ وَلَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
And this is how We gave Yusuf the control over that land; to stay in it wherever he pleased; We may convey Our mercy to whomever We will, and We do not waste the wages of the righteous.
اور اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں اقتدار بخشا (تاکہ) اس میں جہاں چاہیں رہیں۔ ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے سرفراز فرماتے ہیں اور نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Reign in Egypt
Allah said next,
وَكَذلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى الاٌّرْضِ
(Thus did We give full authority to Yusuf in the land), in Egypt,
يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ
(to take possession therein, when or where he likes.) As-Suddi and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that this part of the Ayah means, "To do whatever he wants therein." Ibn Jarir at Tabari said that it means, "He used to move about freely in the land after being imprisoned, suffering from hardship and the disgrace of slavery." Allah said next,
نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ وَلاَ نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
(We bestow of Our mercy on whom We will, and We make not to be lost the reward of the good doers.) Allah says here, We did not let the patience of Yusuf, from the harm his brothers exerted on him and being imprisoned because of the wife of the `Aziz, to be lost. Instead, Allah the Exalted and Most Honored rewarded him with His aid and victory,
وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى الاٌّرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ وَلاَ نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - وَلاّجْرُ الاٌّخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(And We make not to be lost the reward of the good doers. And verily, the reward of the Hereafter is better for those who believed and had Taqwa.) Allah states that what He has prepared for His Prophet Yusuf, peace be upon him, in the Hereafter is much greater, subs- tantial and honored than the authority He gave him in this life. Allah said about His Prophet Sulayman (Solomon), peace be upon him,
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ - وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
("This is Our gift, so spend or withhold, no account will be asked of you." And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (Paradise).) 38:39-40 Yusuf, peace be upon him, was appointed minister of finance by Ar-Rayyan bin Al-Walid, king of Egypt at the time, instead of the `Aziz who bought him and the husband of she who tried to seduce him. The king of Egypt embraced Islam at the hands of Yusuf, peace be upon him, according to Mujahid.
زمین مصر میں یوں حضرت یوسف ؑ کی ترقی ہوئی۔ اب ان کے اختیار میں تھا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ جہاں چاہیں مکانات تعمیر کریں۔ یا اس تنہائی اور قید کو دیکھئے یا اب اس اختیار اور آزادی کو دیکھئے۔ سچ ہے رب جسے چاہے اپنی رحمت کا جتنا حصہ چاہے دے۔ صابروں کا پھل لا کر ہی رہتا ہے۔ بھائیوں کا دکھ سہا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لئے عزیز مصر کی عورت سے بگاڑ لی اور قید خانے کی مصیبتیں برداشت کیں۔ پس رحمت الہی کا ہاتھ بڑھا اور صبر کا اجر ملا۔ نیک کاروں کی نیکیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ پھر ایسے باایمان تقوی والے آخرت میں بڑے درجے اور اعلی ثواب پاتے ہیں۔ یہاں یہ ملا، وہاں کے ملنے کی تو کچھ نہ پوچھئے۔ حضرت سلیمان ؑ کے بارے میں بھی قرآن میں آیا ہے کہ یہ دنیا کی دولت و سلطنت ہم نے تجھے اپنے احسان سے دی ہے اور قیامت کے دن بھی تیرے لئے ہمارے ہاں اچھی مہمانی ہے۔ الغرض شاہ مصر ریان بن ولید نے سلطنت مصر کی وزارت آپ کو دی، پہلے اسی عہدے پر اس عورت کا خاوند تھا۔ جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اسی نے آپ کو خرید لیا تھا۔ آخر شاہ مصر آپ کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ آپ کے خریدنے والے کا نام اطغر تھا۔ یہ انہی دنوں میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد باشاہ نے اس کی زوجہ راعیل سے حضرت یوسف ؑ کا نکاح کردیا۔ جب آپ ان سے ملے تو فرمایا کہو کیا یہ تمہارے اس ارادے سے بہتر نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجیئے آپ کو معلوم ہے کہ میں حسن و خوبصورتی والی دھن دولت والی عورت تھی میرے خاوند مردمی سے محروم تھے وہ مجھ سے مل ہی نہیں سکتے تھے۔ ادھر آپ کو قدرت نے جس فیاضی سے دولت حسن کے ساتھ مالا مال کیا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ پس مجھے اب ملامت نہ کیجئے۔ کہتے ہیں کہ واقعی حضرت یوسف ؑ نے انہیں کنواری پایا۔ پھر ان کے بطن سے آپ کو دو لڑکے ہوئے افراثیم اور میضا۔ افراثیم کے ہاں نون پیدا ہوئے جو حضرت یوشع کے والد ہیں اور رحمت نامی صاحبزادی ہوئی جو حضرت ایوب ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جو حضرت یوسف ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جب حضرت یوسف ؑ کی سواری نکلی تو بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ الحمد اللہ اللہ کی شان کے قربان جس نے اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہی پر پہنچایا اور اپنی نافرمانی کی وجہ سے بادشاہوں کو غلامی پر لا اتارا۔
57
View Single
وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
And undoubtedly the reward of the Hereafter is better, for those who accept faith and remain pious.
اور یقیناً آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو ایمان لائے اور روشِ تقوٰی پر گامزن رہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Reign in Egypt
Allah said next,
وَكَذلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى الاٌّرْضِ
(Thus did We give full authority to Yusuf in the land), in Egypt,
يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ
(to take possession therein, when or where he likes.) As-Suddi and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that this part of the Ayah means, "To do whatever he wants therein." Ibn Jarir at Tabari said that it means, "He used to move about freely in the land after being imprisoned, suffering from hardship and the disgrace of slavery." Allah said next,
نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ وَلاَ نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
(We bestow of Our mercy on whom We will, and We make not to be lost the reward of the good doers.) Allah says here, We did not let the patience of Yusuf, from the harm his brothers exerted on him and being imprisoned because of the wife of the `Aziz, to be lost. Instead, Allah the Exalted and Most Honored rewarded him with His aid and victory,
وَكَذَلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى الاٌّرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ وَلاَ نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - وَلاّجْرُ الاٌّخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(And We make not to be lost the reward of the good doers. And verily, the reward of the Hereafter is better for those who believed and had Taqwa.) Allah states that what He has prepared for His Prophet Yusuf, peace be upon him, in the Hereafter is much greater, subs- tantial and honored than the authority He gave him in this life. Allah said about His Prophet Sulayman (Solomon), peace be upon him,
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ - وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
("This is Our gift, so spend or withhold, no account will be asked of you." And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return (Paradise).) 38:39-40 Yusuf, peace be upon him, was appointed minister of finance by Ar-Rayyan bin Al-Walid, king of Egypt at the time, instead of the `Aziz who bought him and the husband of she who tried to seduce him. The king of Egypt embraced Islam at the hands of Yusuf, peace be upon him, according to Mujahid.
زمین مصر میں یوں حضرت یوسف ؑ کی ترقی ہوئی۔ اب ان کے اختیار میں تھا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ جہاں چاہیں مکانات تعمیر کریں۔ یا اس تنہائی اور قید کو دیکھئے یا اب اس اختیار اور آزادی کو دیکھئے۔ سچ ہے رب جسے چاہے اپنی رحمت کا جتنا حصہ چاہے دے۔ صابروں کا پھل لا کر ہی رہتا ہے۔ بھائیوں کا دکھ سہا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لئے عزیز مصر کی عورت سے بگاڑ لی اور قید خانے کی مصیبتیں برداشت کیں۔ پس رحمت الہی کا ہاتھ بڑھا اور صبر کا اجر ملا۔ نیک کاروں کی نیکیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ پھر ایسے باایمان تقوی والے آخرت میں بڑے درجے اور اعلی ثواب پاتے ہیں۔ یہاں یہ ملا، وہاں کے ملنے کی تو کچھ نہ پوچھئے۔ حضرت سلیمان ؑ کے بارے میں بھی قرآن میں آیا ہے کہ یہ دنیا کی دولت و سلطنت ہم نے تجھے اپنے احسان سے دی ہے اور قیامت کے دن بھی تیرے لئے ہمارے ہاں اچھی مہمانی ہے۔ الغرض شاہ مصر ریان بن ولید نے سلطنت مصر کی وزارت آپ کو دی، پہلے اسی عہدے پر اس عورت کا خاوند تھا۔ جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اسی نے آپ کو خرید لیا تھا۔ آخر شاہ مصر آپ کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ آپ کے خریدنے والے کا نام اطغر تھا۔ یہ انہی دنوں میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد باشاہ نے اس کی زوجہ راعیل سے حضرت یوسف ؑ کا نکاح کردیا۔ جب آپ ان سے ملے تو فرمایا کہو کیا یہ تمہارے اس ارادے سے بہتر نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجیئے آپ کو معلوم ہے کہ میں حسن و خوبصورتی والی دھن دولت والی عورت تھی میرے خاوند مردمی سے محروم تھے وہ مجھ سے مل ہی نہیں سکتے تھے۔ ادھر آپ کو قدرت نے جس فیاضی سے دولت حسن کے ساتھ مالا مال کیا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ پس مجھے اب ملامت نہ کیجئے۔ کہتے ہیں کہ واقعی حضرت یوسف ؑ نے انہیں کنواری پایا۔ پھر ان کے بطن سے آپ کو دو لڑکے ہوئے افراثیم اور میضا۔ افراثیم کے ہاں نون پیدا ہوئے جو حضرت یوشع کے والد ہیں اور رحمت نامی صاحبزادی ہوئی جو حضرت ایوب ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جو حضرت یوسف ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جب حضرت یوسف ؑ کی سواری نکلی تو بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ الحمد اللہ اللہ کی شان کے قربان جس نے اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہی پر پہنچایا اور اپنی نافرمانی کی وجہ سے بادشاہوں کو غلامی پر لا اتارا۔
58
View Single
وَجَآءَ إِخۡوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ
And Yusuf’s brothers came and presented themselves before him, so he recognised them whereas they remained unaware of him.
اور (قحط کے زمانہ میں) یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (غلہ لینے کے لئے مصر) آئے تو ان کے پاس حاضر ہوئے پس یوسف (علیہ السلام) نے انہیں پہچان لیا اور وہ انہیں نہ پہچان سکے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana`an (Canaan), where Prophet Ya`qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt. Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the `Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya`qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf. When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land" They said, "O, `Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from" They said, "From the area of Kana`an, and our father is Allah's Prophet Ya`qub." He asked them, "Does he have other children besides you" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother who died." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّى أُوفِى الْكَيْلَ وَأَنَاْ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me. ) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلاَ تَقْرَبُونِ - قَالُواْ سَنُرَوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, `We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And Yusuf told his servants), or his slaves,
اجْعَلُواْ بِضَـعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِى رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
59
View Single
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ٱئۡتُونِي بِأَخٖ لَّكُم مِّنۡ أَبِيكُمۡۚ أَلَا تَرَوۡنَ أَنِّيٓ أُوفِي ٱلۡكَيۡلَ وَأَنَا۠ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ
And when he provided them with their provisions he said, “Bring your step-brother to me; do you not see that I measure in full and that I am the best host?”
اور جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کا سامان (زاد و متاع) انہیں مہیا کر دیا (تو) فرمایا: اپنے پدری بھائی (بنیامین) کو میرے پاس لے آؤ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں (کس قدر) پورا ناپتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز (بھی) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana`an (Canaan), where Prophet Ya`qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt. Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the `Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya`qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf. When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land" They said, "O, `Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from" They said, "From the area of Kana`an, and our father is Allah's Prophet Ya`qub." He asked them, "Does he have other children besides you" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother who died." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّى أُوفِى الْكَيْلَ وَأَنَاْ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me. ) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلاَ تَقْرَبُونِ - قَالُواْ سَنُرَوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, `We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And Yusuf told his servants), or his slaves,
اجْعَلُواْ بِضَـعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِى رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
60
View Single
فَإِن لَّمۡ تَأۡتُونِي بِهِۦ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِندِي وَلَا تَقۡرَبُونِ
“And if you do not bring him to me, there shall be no measure (provisions) for you with me and do not ever come near me.”
پس اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو (آئندہ) تمہارے لئے میرے پاس (غلہ کا) کوئی پیمانہ نہ ہوگا اور نہ (ہی) تم میرے قریب آسکو گے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana`an (Canaan), where Prophet Ya`qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt. Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the `Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya`qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf. When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land" They said, "O, `Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from" They said, "From the area of Kana`an, and our father is Allah's Prophet Ya`qub." He asked them, "Does he have other children besides you" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother who died." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّى أُوفِى الْكَيْلَ وَأَنَاْ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me. ) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلاَ تَقْرَبُونِ - قَالُواْ سَنُرَوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, `We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And Yusuf told his servants), or his slaves,
اجْعَلُواْ بِضَـعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِى رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
61
View Single
قَالُواْ سَنُرَٰوِدُ عَنۡهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ
They said, “We will seek him from his father – this we must surely do.”
وہ بولے: ہم اس کے بھیجنے سے متعلق اس کے باپ سے ضرور تقاضا کریں گے اور ہم یقیناً (ایسا) کریں گے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana`an (Canaan), where Prophet Ya`qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt. Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the `Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya`qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf. When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land" They said, "O, `Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from" They said, "From the area of Kana`an, and our father is Allah's Prophet Ya`qub." He asked them, "Does he have other children besides you" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother who died." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّى أُوفِى الْكَيْلَ وَأَنَاْ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me. ) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلاَ تَقْرَبُونِ - قَالُواْ سَنُرَوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, `We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And Yusuf told his servants), or his slaves,
اجْعَلُواْ بِضَـعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِى رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
62
View Single
وَقَالَ لِفِتۡيَٰنِهِ ٱجۡعَلُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ فِي رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
He said to his slaves, “Place their means back into their sacks, perhaps they may recognise it when they return to their homes, perhaps they may come again.”
اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غلاموں سے فرمایا: ان کی رقم (جو انہوں نے غلہ کے عوض اد اکی تھی واپس) ان کی بوریوں میں رکھ دو تاکہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں تو اسے پہچان لیں (کہ یہ رقم تو واپس آگئی ہے) شاید وہ (اسی سبب سے) لوٹ کر آجائیں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers travel to Egypt
As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and several others said that the reason why Yusuf's brothers went to Egypt, is that after Yusuf became minister of Egypt and the seven years of abundance passed, then came the seven years of drought that struck all areas of Egypt. The drought also reached the area of Kana`an (Canaan), where Prophet Ya`qub, peace be upon him, and his children resided. Prophet Yusuf efficiently guarded the people's harvest and collected it, and what he collected became a great fortune for the people. This also permitted Yusuf to give gifts to the people who sought his aid from various areas who came to buy food and provisions for their families. Yusuf would not give a family man more than whatever a camel could carry, as annual provisions for them. Yusuf himself did not fill his stomach from this food, nor did the king and his aids eat except one meal a day. By doing so, the people could sustain themselves with what they had for the remainder of the seven years. Indeed, Yusuf was a mercy from Allah sent to the people of Egypt. Yusuf's brothers were among those who came to Egypt to buy food supplies, by the order of their father. They knew that the `Aziz of Egypt was selling food to people who need it for a low price, so they took some merchandise from their land with them to exchange it for food. They were ten, because Ya`qub peace be upon him kept his son and Yusuf's brother Binyamin with him. Binyamin was the dearest of his sons to him after Yusuf. When Prophet Yusuf's brothers entered on him in his court and the center of his authority, he knew them the minute he saw them. However, they did not recognize him because they got rid of him when he was still young, and sold him to a caravan of travelers while unaware of their destination. They could not have imagined that Yusuf would end up being a minister, and this is why they did not recognize him, while he did recognize them. As-Suddi said that Yusuf started talking to his brothers and asked them, "What brought you to my land" They said, "O, `Aziz, we came to buy provisions." He asked them, "You might be spies." They said, "Allah forbids." He asked them, "Where are you from" They said, "From the area of Kana`an, and our father is Allah's Prophet Ya`qub." He asked them, "Does he have other children besides you" They said, "Yes, we were twelve brothers. Our youngest died in the desert, and he used to be the dearest to his father. His full brother is alive and his father kept him, so that his closeness compensates him for losing our youngest brother who died." Yusuf ordered that his brothers be honored and allowed to remain,
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ
(And when he furnished them with their provisions,) according to their needs and gave them what they wanted to buy, he said to them, "Bring me your brother from your father's side whom you mentioned, so that I know that you have told me the truth." He continued,
أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّى أُوفِى الْكَيْلَ وَأَنَاْ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ
(See you not that I give full measure, and that I am the best of the hosts) encouraging them to return to him. He then threatened them,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى
(But if you bring him not to me, there shall be no measure (of corn) for you with me. ) He threatened them that if the next time they come without Binyamin with them, they will not be allowed to buy the food that they need,
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِ فَلاَ كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلاَ تَقْرَبُونِ - قَالُواْ سَنُرَوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـعِلُونَ
("...nor shall you come near me." They said: "We shall try to get permission (for him) from his father, and verily, we shall do it.") They said, `We will try our best to bring him with us, so that we spare no effort to prove to you that we are truthful in what we told you about ourselves.' Allah said,
وَقَالَ لِفِتْيَانِهِ
(And Yusuf told his servants), or his slaves,
اجْعَلُواْ بِضَـعَتَهُمْ
(to put their money), or the merchandise they brought with them to exchange for food,
فِى رِحَالِهِمْ
(into their bags,), while they were unaware,
لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(in order that they might come again.) It was said that Yusuf did this because he feared that his brothers might not have any more merchandise they could bring with them to exchange for food.
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال بھی اور چوتھے سال بھی۔ پھر خود لوگوں کی جان اور ان کی اولاد کے بدلے۔ پس خود لوگ ان کے بچے اور ان کی کل ملیکت اور مال کے آپ مالک بن گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے سب کو آزاد کردیا اور ان کے مال بھی ان کے حوالے کر دئے۔ یہ روایت بنو اسرائیل کی ہے جسے ہم سچ جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ ان آنے والوں میں برادران یوسف بھی تھے۔ جو باپ کے حکم سے آئے تھے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ عزیز مصر مال متاع کے بدلے غلہ دیتے ہیں تو آپ نے اپنے دس بیٹوں کو یہاں بھیجا اور حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی بنیامین کو جو آپ کے بعد حضرت یعقوب ؑ کے نزدیک بہت ہی پیارے تھے اپنے پاس روک لیا۔ جب یہ قافلہ اللہ کے نبی ؑ کے پاس پہنچا تو آپ نے تو بیک نگاہ سب کو پہچان لیا لیکن انمیں سے ایک بھی آپ کو نہ پہچان سکا۔ اس لئے کہ آپ ان سے بچپن میں ہی جدا ہوگئے تھے۔ بھائیوں نے آپ کو سوداگروں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ پھر کیا ہوا۔ اور یہ تو ذہن میں بھی نہ آسکتا تھا کہ وہ بچہ جسے بحیثیت غلام بیچا تھا۔ آج وہی عزیز مصر بن کر بیٹھا ہے۔ ادھر حضرت یوسف ؑ نے طرز گفتگو بھی ایسا اختیار کیا کہ انہیں وہم بھی نہ ہو۔ ان سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ملک میں کیسے آگئے ؟ انہوں نے کہا یہ سن کر کہ آپ غلہ عطا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے تو شک ہوتا ہے کہ کہیں تم جاسوس نہ ہو ؟ انہوں نے کہا معاذ اللہ ہم جاسوس نہیں۔ فرمایا تم رہنے والے کہاں کے ہو ؟ کہا کنعان کے اور ہمارے والد صاحب کا نام یعقوب نبی اللہ ہے۔ آپ نے پوچھا تمہارے سوا ان کے اور لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں ہم بارہ بہائی تھے۔ ہم میں جو سب سے چھوٹا تھا اور ہمارے باپ کی آنکھوں کا تارا تھا وہ تو ہلاک ہوگیا۔ اسی کا ایک بھائی اور ہے۔ اسے باپ نے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا بلکہ اپنے پاس ہی روک لیا ہے کہ اس سے ذرا آپ کو اطمینان اور تسلی رہے۔ ان باتوں کے بعد آپ نے حکم دیا کہ انہیں سرکاری مہمان سمجھا جائے اور ہر طرح حاظر مدارات کی جائے اور اچھی جگہ ٹھیرایا جائے۔ اب جب انہیں غلہ دیا جانے لگا اور ان تھلیے بھر دئے گئے اور جتنے جانور ان کے ساتھ تھے وہ جتنا غلہ اٹھا سکتے تھے بھر دیا تو فرمایا دیکھو اپنی صداقت کے اظہار کے لئے اپنے اس بھائی کو جسے تم اس مرتبہ اپنے ساتھ نہ لائے اب اگر آؤ تو لیتے آنا دیکھو میں نے تم سے اچھا سلوک کیا ہے اور تمہاری بڑی خاطر تواضع کی ہے اس طرح رغبت دلا کر پھر دھمکا بھی دیا کہ اگر دوبارہ کے آنے میں اسے ساتھ نہ لائے تو میں تمہیں ایک دانہ اناج کا نہ دوں گا بلکہ تمہیں اپنے نزدیک بھی نہ آنے دوں گا۔ انہوں نے وعدے کئے کہ ہم انہیں کہہ سن کر لالچ دکھا کر ہر طرح پوری کوشش کریں گے کہ اپنے اس بھائی کو بھی لائیں تاکہ بادشاہ کے سامنے ہم جھوٹے نہ پڑیں۔ سدی ؒ تو کہتے ہیں کہ آپ نے تو ان سے رہن رکھ لیا کہ جب لاؤ گے تو یہ پاؤ گے۔ لیکن یہ بات کچھ جی کو لگتی نہیں اس لئے کہ آپ نے تو انہیں واپسی کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تمنا ظاہر کی۔ جب بھائی کوچ کی تیاریاں کرنے لگے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے چالاک چاکروں سے اشارہ کیا کہ جو اسباب یہ لائے تھے اور جس کے عوض انہوں نے ہم سے غلہ لیا ہے وہ انہیں واپس کردو لیکن اس خوبصورتی سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔ ان کے کجاوں اور بوروں میں ان کی تمام چیزیں رکھ دو۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو خیال ہوا ہو کہ اب گھر میں کیا ہوگا جسے لے کر یہ غلہ لینے کے لئے آئیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائی سے اناج کا کچھ معاوضہ لینا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ نے یہ خیال فرمایا ہو کہ جب یہ اپنا اسباب کھولیں گے اور یہ چیزیں اس میں پائیں گے تو ضروری ہے کہ ہماری یہ چیزیں ہمیں واپس دینے کو آئیں تو اس بہانے ہی بھائی سے ملاقات ہوجائے گی۔
63
View Single
فَلَمَّا رَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيهِمۡ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلۡكَيۡلُ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَآ أَخَانَا نَكۡتَلۡ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
So when they returned to their father, they said, “O our father! The provisions have been denied to us, therefore send our brother with us so that we may bring the provisions, and we will surely protect him.”
سو جب وہ اپنے والد کی طرف لوٹے (تو) کہنے لگے: اے ہمارے باپ! (آئندہ کے لئے) ہم پر غلہ بند کر دیا گیا ہے (سوائے اس کے کہ بنیامین ہمارے ساتھ جائے) پس ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیں (تاکہ) ہم (مزید) غلہ لے آئیں اور ہم یقیناً اس کے محافظ ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers ask Ya`qub's Permission to send Their Brother Binyamin with Them to Egypt
Allah says that when they went back to their father,
قَالُواْ يأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ
(they said: "O our father! No more measure of grain shall we get...") `after this time, unless you send our brother Binyamin with us. So send him with us, and we shall get our measure and we shall certainly guard him.' Some scholars read this Ayah in a way that means, `and he shall get his ration.' They said,
وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ
(and truly, we will guard him.), `do not fear for his safety, for he will be returned back to you.' This is what they said to Ya`qub about their brother Yusuf,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَداً يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ
("Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and verily, we will take care of him.") 12:12 This is why Prophet Ya`qub said to them,
هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلاَّ كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِن قَبْلُ
(Can I entrust him to you except as I entrusted his brother Yusuf to you aforetime) He asked them, `Will you do to him except what you did to his brother Yusuf before, when you took him away from me and separated me from him'
فَاللَّهُ خَيْرٌ حَـفِظًا
وَهُوَ أَرْحَمُ الرَحِمِينَ
(But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy.) Ya`qub said, `Allah has the most mercy with me among all those who show mercy, He is compassionate with me for my old age, feebleness and eagerness for my son. I invoke Allah to return him to me, and to allow him and I to be together; for surely, He is the Most Merciful of those who show mercy.'
بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کردیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کرچکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنادی۔ حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم وکرم کو نہیں روکتا۔
64
View Single
قَالَ هَلۡ ءَامَنُكُمۡ عَلَيۡهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمۡ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبۡلُ فَٱللَّهُ خَيۡرٌ حَٰفِظٗاۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
He said, “Shall I trust you regarding him the same way I had trusted you earlier regarding his brother? Therefore Allah is the Best Protector; and He is More Merciful than all those who show mercy.”
یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا میں اس کے بارے میں (بھی) تم پر اسی طرح اعتماد کر لوں جیسے اس سے قبل میں نے اس کے بھائی (یوسف علیہ السلام) کے بارے میں تم پر اعتماد کر لیا تھا؟ تو اللہ ہی بہتر حفاظت فرمانے والا ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers ask Ya`qub's Permission to send Their Brother Binyamin with Them to Egypt
Allah says that when they went back to their father,
قَالُواْ يأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ
(they said: "O our father! No more measure of grain shall we get...") `after this time, unless you send our brother Binyamin with us. So send him with us, and we shall get our measure and we shall certainly guard him.' Some scholars read this Ayah in a way that means, `and he shall get his ration.' They said,
وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ
(and truly, we will guard him.), `do not fear for his safety, for he will be returned back to you.' This is what they said to Ya`qub about their brother Yusuf,
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَداً يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ
("Send him with us tomorrow to enjoy himself and play, and verily, we will take care of him.") 12:12 This is why Prophet Ya`qub said to them,
هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلاَّ كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِن قَبْلُ
(Can I entrust him to you except as I entrusted his brother Yusuf to you aforetime) He asked them, `Will you do to him except what you did to his brother Yusuf before, when you took him away from me and separated me from him'
فَاللَّهُ خَيْرٌ حَـفِظًا
وَهُوَ أَرْحَمُ الرَحِمِينَ
(But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy.) Ya`qub said, `Allah has the most mercy with me among all those who show mercy, He is compassionate with me for my old age, feebleness and eagerness for my son. I invoke Allah to return him to me, and to allow him and I to be together; for surely, He is the Most Merciful of those who show mercy.'
بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کردیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کرچکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنادی۔ حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم وکرم کو نہیں روکتا۔
65
View Single
وَلَمَّا فَتَحُواْ مَتَٰعَهُمۡ وَجَدُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ رُدَّتۡ إِلَيۡهِمۡۖ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبۡغِيۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتۡ إِلَيۡنَاۖ وَنَمِيرُ أَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ أَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيرٖۖ ذَٰلِكَ كَيۡلٞ يَسِيرٞ
And when they opened their belongings they found that their means had been returned to them; they said, “O our father! What more can we ask for? Here are our means returned to us; we may get the provision for our homes and guard our brother, and get a camel-load extra; giving all these is insignificant for the king.”
جب انہوں نے اپنا سامان کھولا (تو اس میں) اپنی رقم پائی (جو) انہیں لوٹا دی گئی تھی، وہ کہنے لگے: اے ہمارے والد گرامی! ہمیں اور کیا چاہئے؟ یہ ہماری رقم (بھی) ہماری طرف لوٹا دی گئی ہے اور (اب تو) ہم اپنے گھر والوں کے لئے (ضرور ہی) غلہ لائیں گے اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے، اور یہ (غلہ جو ہم پہلے لائے ہیں) تھوڑی مقدار (میں) ہے
Tafsir Ibn Kathir
They find Their Money returned to Their Bags
Allah says, when Yusuf's brothers opened their bags, they found their merchandise inside them, for Yusuf had ordered his servants to return it to their bags. When they found their merchandise in their bags,
قَالُواْ يأَبَانَا مَا نَبْغِى
(They said: "O our father! What (more) can we desire..."), what more can we ask for,
هَـذِهِ بِضَـعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا
(This, our money has been returned to us;) Qatadah commented (that they said), "What more can we ask for, our merchandise was returned to us and the `Aziz has given us the sufficient load we wanted" They said next,
وَنَمِيرُ أَهْلَنَا
(so we shall get (more) food for our family,), `if you send our brother with us the next time we go to buy food for our family,'
وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ
(and we shall guard our brother and add one more measure of a camel's load.) since Yusuf, peace be upon him, gave each man a camel's load of corn.
ذلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
(This quantity is easy (for the king to give).) They said these words to make their case more appealing, saying that taking their brother with them is worth this gain,
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
(He Ya`qub (Jacob) said: "I will not send him with you until you swear a solemn oath to me in Allah's Name..."), until you swear by Allah with the strongest oath,
لَتَأْتُنَّنِى بِهِ إِلاَّ أَن يُحَاطَ بِكُمْ
(that you will bring him back to me unless you are yourselves surrounded (by enemies)), unless you were all overwhelmed and were unable to rescue him,
فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ
(And when they had sworn their solemn oath), he affirmed it further, saying,
اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
(Allah is the Witness to what we have said.) Ibn Ishaq commented, "Ya`qub did that because he had no choice but to send them to bring necessary food supplies for their survival. So he sent Binyamin with them."
یہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی نے ان کا مال و متاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کردیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور کیا چاہئے۔ اصل تک تو عزیز مصر نے ہمیں واپس کردی ہے اور بدلے کا غلہ پورا پورا دے دیا ہے۔ اب تو آپ بھائی صاحب کو ضرور ہمارے ساتھ کر دیجئے تو ہم خاندان کے لئے غلہ بھی لائیں گے اور بھائی کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ اور بھی مل جائے گا کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی دیتے ہیں۔ اور آپ کو انہیں ہمارے ساتھ کرنے میں تامل کیوں ہے ؟ ہم اس کی دیکھ بھال اور نگہداشت پوری طرح کریں گے۔ یہ ناپ بہت ہی آسان ہے یہ تھا اللہ کا کلام کا تتممہ اور کلام کو اچھا کرنا۔ حضرت یعقوب ؑ ان تمام باتوں کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جب تک تم حلفیہ اقرار نہ کرو کہ اپنے اس بھائی کو اپنے ہمراہ مجھ تک واپس پہنچاؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ بھیجنے کا نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ نہ کرے تم سب ہی گھر جاؤ اور چھوٹ نہ سکو۔ چناچہ بیٹوں نے اللہ کو بیچ میں رکھ کر مضبوط عہدو پیمان کیا۔ اب حضرت یعقوب ؑ نے یہ فرما کر کہ ہماری اس گفتگو کا اللہ وکیل ہے۔ اپنے پیارے بچے کو ان کے ساتھ کردیا۔ اس لئے کہ قحط کے مارے غلے کی ضرورت تھی اور بغیر بھیجے چارہ نہ تھا۔
66
View Single
قَالَ لَنۡ أُرۡسِلَهُۥ مَعَكُمۡ حَتَّىٰ تُؤۡتُونِ مَوۡثِقٗا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأۡتُنَّنِي بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمۡۖ فَلَمَّآ ءَاتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٞ
He said, “I shall never send him with you until you give me an oath upon Allah that you will bring him back to me, unless you are surrounded”; and (recall) when they gave him their oath that “Allah’s guarantee is upon what we say.” (* He knew that Bin Yamin would be restrained.)
یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا یہاں تک کہ تم اللہ کی قسم کھا کر مجھے پختہ وعدہ دو کہ تم اسے ضرور میرے پاس (واپس) لے آؤ گے سوائے اس کے کہ تم (سب) کو (کہیں) گھیر لیا جائے (یا ہلاک کر دیا جائے)، پھر جب انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو اپنا پختہ عہد دے دیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے
Tafsir Ibn Kathir
They find Their Money returned to Their Bags
Allah says, when Yusuf's brothers opened their bags, they found their merchandise inside them, for Yusuf had ordered his servants to return it to their bags. When they found their merchandise in their bags,
قَالُواْ يأَبَانَا مَا نَبْغِى
(They said: "O our father! What (more) can we desire..."), what more can we ask for,
هَـذِهِ بِضَـعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا
(This, our money has been returned to us;) Qatadah commented (that they said), "What more can we ask for, our merchandise was returned to us and the `Aziz has given us the sufficient load we wanted" They said next,
وَنَمِيرُ أَهْلَنَا
(so we shall get (more) food for our family,), `if you send our brother with us the next time we go to buy food for our family,'
وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ
(and we shall guard our brother and add one more measure of a camel's load.) since Yusuf, peace be upon him, gave each man a camel's load of corn.
ذلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
(This quantity is easy (for the king to give).) They said these words to make their case more appealing, saying that taking their brother with them is worth this gain,
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ
(He Ya`qub (Jacob) said: "I will not send him with you until you swear a solemn oath to me in Allah's Name..."), until you swear by Allah with the strongest oath,
لَتَأْتُنَّنِى بِهِ إِلاَّ أَن يُحَاطَ بِكُمْ
(that you will bring him back to me unless you are yourselves surrounded (by enemies)), unless you were all overwhelmed and were unable to rescue him,
فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ
(And when they had sworn their solemn oath), he affirmed it further, saying,
اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ
(Allah is the Witness to what we have said.) Ibn Ishaq commented, "Ya`qub did that because he had no choice but to send them to bring necessary food supplies for their survival. So he sent Binyamin with them."
یہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی نے ان کا مال و متاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کردیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور کیا چاہئے۔ اصل تک تو عزیز مصر نے ہمیں واپس کردی ہے اور بدلے کا غلہ پورا پورا دے دیا ہے۔ اب تو آپ بھائی صاحب کو ضرور ہمارے ساتھ کر دیجئے تو ہم خاندان کے لئے غلہ بھی لائیں گے اور بھائی کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ اور بھی مل جائے گا کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی دیتے ہیں۔ اور آپ کو انہیں ہمارے ساتھ کرنے میں تامل کیوں ہے ؟ ہم اس کی دیکھ بھال اور نگہداشت پوری طرح کریں گے۔ یہ ناپ بہت ہی آسان ہے یہ تھا اللہ کا کلام کا تتممہ اور کلام کو اچھا کرنا۔ حضرت یعقوب ؑ ان تمام باتوں کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جب تک تم حلفیہ اقرار نہ کرو کہ اپنے اس بھائی کو اپنے ہمراہ مجھ تک واپس پہنچاؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ بھیجنے کا نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ نہ کرے تم سب ہی گھر جاؤ اور چھوٹ نہ سکو۔ چناچہ بیٹوں نے اللہ کو بیچ میں رکھ کر مضبوط عہدو پیمان کیا۔ اب حضرت یعقوب ؑ نے یہ فرما کر کہ ہماری اس گفتگو کا اللہ وکیل ہے۔ اپنے پیارے بچے کو ان کے ساتھ کردیا۔ اس لئے کہ قحط کے مارے غلے کی ضرورت تھی اور بغیر بھیجے چارہ نہ تھا۔
67
View Single
وَقَالَ يَٰبَنِيَّ لَا تَدۡخُلُواْ مِنۢ بَابٖ وَٰحِدٖ وَٱدۡخُلُواْ مِنۡ أَبۡوَٰبٖ مُّتَفَرِّقَةٖۖ وَمَآ أُغۡنِي عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍۖ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِۖ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ
And he said, “O my sons! Do not enter all by one gate – and enter by different gates; I cannot save you against Allah; there is no command but that of Allah; upon Him do I rely; and all those who trust, must rely only upon Him.”
اور فرمایا: اے میرے بیٹو! (شہر میں) ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے (تقسیم ہو کر) داخل ہونا، اور میں تمہیں اللہ (کے اَمر) سے کچھ نہیں بچا سکتا کہ حکم (تقدیر) صرف اللہ ہی کے لئے ہے۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub orders His Children to enter Egypt from Different Gates
Allah says that Ya`qub, peace be upon him, ordered his children, when he sent Binyamin with them to Egypt, to enter from different gates rather than all of them entering from one gate. Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Mujahid, Ad-Dahhak Qatadah, As-Suddi and several others said that he feared the evil eye for them, because they were handsome and looked beautiful and graceful. He feared that people might direct the evil eye at them, because the evil eye truly harms, by Allah's decree, and brings down the mighty warrior-rider from his horse. He next said, l
وَمَآ أُغْنِى عَنكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(and I cannot avail you against Allah at all.) this precaution will not resist Allah's decision and appointed decree. Verily, whatever Allah wills, cannot be resisted or stopped,
إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ للَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَوَلَمَّا دَخَلُواْ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُمْ مِّنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلاَّ حَاجَةً فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا
("Verily, the decision rests only with Allah. In Him, I put my trust and let all those that trust, put their trust in Him." And when they entered according to their father's advice, it did not avail them in the least against (the will of) Allah; it was but a need of Ya`qub's inner self which he discharged. ), as a precaution against the evil eye,
وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ
(And verily, he was endowed with knowledge because We had taught him,) he had knowledge that he implemented, according to Qatadah and Ath-Thawri. Ibn Jarir said that this part of the Ayah means, he has knowledge that We taught him,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most men know not.)
چونکہ اللہ کے نبی نے حضرت یعقوب ؑ کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لئے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پہیری نہیں کرسکتی۔ اللہ کی قضا کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے ؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے ؟ اس کی قضا کو لوٹا سکے ؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ چناچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے۔ اس طرح وہ اللہ کی قضا کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں حضرت یعقوب ؑ نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں۔ وہ ذی علم تھے، الہامی علم ان کے پاس تھا۔ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔
68
View Single
وَلَمَّا دَخَلُواْ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَهُمۡ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغۡنِي عَنۡهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍ إِلَّا حَاجَةٗ فِي نَفۡسِ يَعۡقُوبَ قَضَىٰهَاۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلۡمٖ لِّمَا عَلَّمۡنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
And when they entered from the place where their father had commanded them to; that would not at all have saved them against Allah – except that it was Yaqub’s secret wish, which he fulfilled; and indeed he is a possessor of knowledge, due to Our teaching, but most people do not know.
اور جب وہ (مصر میں) داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا، وہ (حکم) انہیں اللہ (کی تقدیر) سے کچھ نہیں بچا سکتا تھا مگر یہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی ایک خواہش تھی جسے اس نے پورا کیا، اور (اس خواہش و تدبیر کو لغو بھی نہ سمجھنا، تمہیں کیا خبر!) بیشک یعقوب (علیہ السلام) صاحبِ علم تھے اس وجہ سے کہ ہم نے انہیں علمِ (خاص) سے نوازا تھا مگر اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub orders His Children to enter Egypt from Different Gates
Allah says that Ya`qub, peace be upon him, ordered his children, when he sent Binyamin with them to Egypt, to enter from different gates rather than all of them entering from one gate. Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Mujahid, Ad-Dahhak Qatadah, As-Suddi and several others said that he feared the evil eye for them, because they were handsome and looked beautiful and graceful. He feared that people might direct the evil eye at them, because the evil eye truly harms, by Allah's decree, and brings down the mighty warrior-rider from his horse. He next said, l
وَمَآ أُغْنِى عَنكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(and I cannot avail you against Allah at all.) this precaution will not resist Allah's decision and appointed decree. Verily, whatever Allah wills, cannot be resisted or stopped,
إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ للَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَوَلَمَّا دَخَلُواْ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُمْ مِّنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلاَّ حَاجَةً فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا
("Verily, the decision rests only with Allah. In Him, I put my trust and let all those that trust, put their trust in Him." And when they entered according to their father's advice, it did not avail them in the least against (the will of) Allah; it was but a need of Ya`qub's inner self which he discharged. ), as a precaution against the evil eye,
وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنَاهُ
(And verily, he was endowed with knowledge because We had taught him,) he had knowledge that he implemented, according to Qatadah and Ath-Thawri. Ibn Jarir said that this part of the Ayah means, he has knowledge that We taught him,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most men know not.)
چونکہ اللہ کے نبی نے حضرت یعقوب ؑ کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لئے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پہیری نہیں کرسکتی۔ اللہ کی قضا کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے ؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے ؟ اس کی قضا کو لوٹا سکے ؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ چناچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے۔ اس طرح وہ اللہ کی قضا کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں حضرت یعقوب ؑ نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں۔ وہ ذی علم تھے، الہامی علم ان کے پاس تھا۔ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔
69
View Single
وَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَخَاهُۖ قَالَ إِنِّيٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
And when they entered in the company Yusuf, he seated his brother close to him and said, “Be assured, I really am your brother – therefore do not grieve for what they do.”
اور جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اسے آہستہ سے) کہا: بیشک میں ہی تیرا بھائی (یوسف) ہوں پس تو غمزدہ نہ ہو ان کاموں پر جو یہ کرتے رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf comforts Binyamin
Allah states that when Yusuf's brothers went in before him along with his full brother Binyamin, he invited them to a place of honor as privileged guests. He granted them gifts and generous hospitality and kindness. He met his brother in confidence and told him the story of what happened to him and that he was in fact his brother. He said to him,
لاتَبْتَئِسْ
`(grieve not) nor feel sad for what they did to me.' He ordered Binyamin to hide the news from them and to refrain from telling them that the `Aziz is his brother Yusuf. He plotted with him to keep him in Egypt enjoying honor and great hospitality.
بنیامین جو حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی تھے انہیں لے کر آپ کے اور بھائی جب مصر پہنچے آپ نے أپ نے سرکاری مہمان خانے میں ٹھیرایا، بڑی عزت تکریم کی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا، اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں، اللہ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے، اب تمہیں چاہئے کہ بھائیوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے، اس کا رنج نہ کرو اور اس حقیقت کو بھی ان پر نہ کھولو میں کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔
70
View Single
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِي رَحۡلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلۡعِيرُ إِنَّكُمۡ لَسَٰرِقُونَ
And when he had provided them their provision, he put the drinking-cup in his brother’s bag, and then an announcer cried, “O people of the caravan! You are indeed thieves!”
پھر جب (یوسف علیہ السلام نے) ان کا سامان انہیں مہیا کر دیا تو (شاہی) پیالہ اپنے بھائی (بنیامین) کی بوری میں رکھ دیا بعد ازاں پکارنے والے نے آواز دی: اے قافلہ والو! (ٹھہرو) یقیناً تم لوگ ہی چور (معلوم ہوتے) ہو
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf had His Golden Bowl placed in Binyamin's Bag; a Plot to keep Him in Egypt
After Yusuf supplied them with their provisions, he ordered some of his servants to place his silver bowl (in Binyamin's bag), according to the majority of scholars. Some scholars said that the king's bowl was made from gold. Ibn Zayd added that the king used it to drink from, and later, measured food grains with it since food became scarce in that time, according to Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd. Shu`bah said that Abu Bishr narrated that Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said that the king's bowl was made from silver and he used it to drink with. Yusuf had the bowl placed in Binyamin's bag while they were unaware, and then had someone herald,
أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
(O you (in) the caravan! Surely, you are thieves!) They looked at the man who was heralding this statement and asked him,
مَّاذَا تَفْقِدُونَقَالُواْ نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ
("What is it that you have lost" They said: "We have lost the bowl of the king..."), which he used to measure food grains,
وَلِمَن جَآءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ
(and for him who produces it is a camel load), as a reward,
وَأَنَاْ بِهِ زَعِيمٌ
(and I will be bound by it.), as assurance of delivery of the reward.
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔
71
View Single
قَالُواْ وَأَقۡبَلُواْ عَلَيۡهِم مَّاذَا تَفۡقِدُونَ
They answered and turned towards them, “What is it you cannot find?”
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf had His Golden Bowl placed in Binyamin's Bag; a Plot to keep Him in Egypt
After Yusuf supplied them with their provisions, he ordered some of his servants to place his silver bowl (in Binyamin's bag), according to the majority of scholars. Some scholars said that the king's bowl was made from gold. Ibn Zayd added that the king used it to drink from, and later, measured food grains with it since food became scarce in that time, according to Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd. Shu`bah said that Abu Bishr narrated that Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said that the king's bowl was made from silver and he used it to drink with. Yusuf had the bowl placed in Binyamin's bag while they were unaware, and then had someone herald,
أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
(O you (in) the caravan! Surely, you are thieves!) They looked at the man who was heralding this statement and asked him,
مَّاذَا تَفْقِدُونَقَالُواْ نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ
("What is it that you have lost" They said: "We have lost the bowl of the king..."), which he used to measure food grains,
وَلِمَن جَآءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ
(and for him who produces it is a camel load), as a reward,
وَأَنَاْ بِهِ زَعِيمٌ
(and I will be bound by it.), as assurance of delivery of the reward.
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔
72
View Single
قَالُواْ نَفۡقِدُ صُوَاعَ ٱلۡمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمۡلُ بَعِيرٖ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٞ
They said, “We cannot find the king’s cup, and for him who brings it is a camel-load, and I am its guarantor.”
وہ (درباری ملازم) بولے: ہمیں بادشاہ کا پیالہ نہیں مل رہا اور جو کوئی اسے (ڈھونڈ کر) لے آئے اس کے لئے ایک اونٹ کا غلہ (انعام) ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf had His Golden Bowl placed in Binyamin's Bag; a Plot to keep Him in Egypt
After Yusuf supplied them with their provisions, he ordered some of his servants to place his silver bowl (in Binyamin's bag), according to the majority of scholars. Some scholars said that the king's bowl was made from gold. Ibn Zayd added that the king used it to drink from, and later, measured food grains with it since food became scarce in that time, according to Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd. Shu`bah said that Abu Bishr narrated that Sa`id bin Jubayr said that Ibn `Abbas said that the king's bowl was made from silver and he used it to drink with. Yusuf had the bowl placed in Binyamin's bag while they were unaware, and then had someone herald,
أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
(O you (in) the caravan! Surely, you are thieves!) They looked at the man who was heralding this statement and asked him,
مَّاذَا تَفْقِدُونَقَالُواْ نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ
("What is it that you have lost" They said: "We have lost the bowl of the king..."), which he used to measure food grains,
وَلِمَن جَآءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ
(and for him who produces it is a camel load), as a reward,
وَأَنَاْ بِهِ زَعِيمٌ
(and I will be bound by it.), as assurance of delivery of the reward.
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب ملا کہ شاہی پیمانہ جس سے اناج ناپا جاتا تھا، سنو شاہی اعلان ہے کہ اس کے ڈھونڈ لانے والے کو ایک بوجھ غلہ ملے گا اور میں خود ضامن ہوں۔
73
View Single
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُم مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ
They said, “By Allah, you know very well that we did not come here to cause turmoil in the land, and nor are we thieves!”
وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! بیشک تم جان گئے ہو (گے) ہم اس لئے نہیں آئے تھے کہ (جرم کا ارتکاب کر کے) زمین میں فساد بپا کریں اور نہ ہی ہم چور ہیں
Tafsir Ibn Kathir
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) `Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, `Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَآؤُهُ
`(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَـذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars) They asked them, `What should be the thief's punishment if he is one of you'
قَالُواْ جَزؤُهُ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِى الظَّـلِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.) 58:11 Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored. In addition, `Abdur-Razzaq recorded that Sa`id bin Jubayr said, "We were with Ibn `Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, `All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn `Abbas responded, `Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that `Ikrimah said that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from `Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." `Abdullah bin Mas`ud read the Ayah this way, (وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ) "And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
74
View Single
قَالُواْ فَمَا جَزَـٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمۡ كَٰذِبِينَ
They said, “And what shall be the punishment for it, if you are liars?”
وہ (ملازم) بولے: (تم خود ہی بتاؤ) کہ اس (چور) کی کیا سزا ہوگی اگر تم جھوٹے نکلے
Tafsir Ibn Kathir
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) `Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, `Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَآؤُهُ
`(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَـذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars) They asked them, `What should be the thief's punishment if he is one of you'
قَالُواْ جَزؤُهُ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِى الظَّـلِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.) 58:11 Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored. In addition, `Abdur-Razzaq recorded that Sa`id bin Jubayr said, "We were with Ibn `Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, `All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn `Abbas responded, `Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that `Ikrimah said that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from `Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." `Abdullah bin Mas`ud read the Ayah this way, (وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ) "And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
75
View Single
قَالُواْ جَزَـٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِي رَحۡلِهِۦ فَهُوَ جَزَـٰٓؤُهُۥۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّـٰلِمِينَ
They said, “The punishment for it is that he in whose bag it shall be found, shall himself become a slave for it; this is how we punish the unjust.”
انہوں نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں سے وہ (پیالہ) برآمد ہو وہ خود ہی اس کا بدلہ ہے (یعنی اسی کو اس کے بدلہ میں رکھ لیا جائے)، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) `Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, `Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَآؤُهُ
`(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَـذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars) They asked them, `What should be the thief's punishment if he is one of you'
قَالُواْ جَزؤُهُ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِى الظَّـلِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.) 58:11 Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored. In addition, `Abdur-Razzaq recorded that Sa`id bin Jubayr said, "We were with Ibn `Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, `All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn `Abbas responded, `Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that `Ikrimah said that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from `Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." `Abdullah bin Mas`ud read the Ayah this way, (وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ) "And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
76
View Single
فَبَدَأَ بِأَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسۡتَخۡرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِۚ كَذَٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوسُفَۖ مَا كَانَ لِيَأۡخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ ٱلۡمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٞ
So he first searched their bags before his brother’s bag, then removed it from his brother’s bag; this was the plan We had taught Yusuf; he had no right to take his brother by the king’s law, except if Allah wills; We may raise in ranks whomever We will; and above every possessor of knowledge is another scholar.
پس یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی شروع کی پھر (بالآخر) اس (پیالے) کو اپنے (سگے) بھائی (بنیامین) کی بوری سے نکال لیا۔ یوں ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو تدبیر بتائی۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہِ (مصر) کے قانون کی رو سے (اسیر بنا کر) نہیں رکھ سکتے تھے مگر یہ کہ (جیسے) اللہ چاہے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں، اور ہر صاحبِ علم سے اوپر (بھی) ایک علم والا ہوتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(By Allah! Indeed you know that we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) `Ever since you knew us, you, due to our good conduct, became certain that,
مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى الاٌّرْضِ وَمَا كُنَّا سَـرِقِينَ
(we came not to make mischief in the land, and we are no thieves!) They said, `Theft is not in our character, as you came to know.' Yusuf's men said,
فَمَا جَزَآؤُهُ
`(What then shall be the penalty of him), in reference to the thief, if it came out that he is one of you,'
إِن كُنتُمْ كَـذِبِينَ
(if you are (proved to be) liars) They asked them, `What should be the thief's punishment if he is one of you'
قَالُواْ جَزؤُهُ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِى الظَّـلِمِينَ
(They said: "His penalty should be that he, in whose bag it is found, should be held for the punishment. Thus we punish the wrongdoers!") This was the law of Prophet Ibrahim, peace be upon him, that the thief be given as a slave to the victim of theft. This is what Yusuf wanted, and this is why he started with their bags first before his brother's bag, to perfect the plot,
ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ
(Then he brought it out of his brother's bag.) Therefore, Yusuf took Binyamin as a slave according to their judgement and the law which they believed in. So Allah said;
كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ
(Thus did We plan for Yusuf.) and this is a good plot that Allah likes and prefers, because it seeks a certain benefit using wisdom and the benefit of all. Allah said next,
مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ الْمَلِكِ
(He could not take his brother by the law of the king,) as a captive, for this was not the law of king of Egypt, according to Ad-Dahhak and several other scholars. Allah only allowed Yusuf to take his brother as a captive after his brothers agreed to this judgement beforehand, and he knew that this was their law. This is why Allah praised him when He said,
نَرْفَعُ دَرَجَـتٍ مَّن نَّشَآءُ
(We raise to degrees whom We will,) just as He said in another Ayah,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ
(Allah will exalt in degree those of you who believe.) 58:11 Allah said next,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing.) Al-Hasan commented, "There is no knowledgeable person, but there is another person with more knowledge until it ends at Allah the Exalted and Most Honored. In addition, `Abdur-Razzaq recorded that Sa`id bin Jubayr said, "We were with Ibn `Abbas when he narrated an amazing Hadith. A man in the audience said, `All praise is to Allah! There is an all-knowing above every person endowed with knowledge.' Ibn `Abbas responded, `Worse it is that which you said! Allah is the All-Knowing and His knowledge is above the knowledge of every knowledgeable person.' Simak narrated that `Ikrimah said that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ
(but over all those endowed with knowledge is the All-Knowing (Allah).) "This person has more knowledge than that person, and Allah is above all knowledgeable persons." Similar was narrated from `Ikrimah. Qatadah said, "Over every person endowed with knowledge is a more knowledgeable person until all knowledge ends with Allah. Verily, knowledge started from Allah, and from Him the scholars learn, and to Him all knowledge returns." `Abdullah bin Mas`ud read the Ayah this way, (وَفَوْقَ كُلِّ عَالِمٍ عَلِيمٌ) "And above every scholar, is the All-Knower (Allah)."
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی خورجیاں خالی ہیں لیکن صرف اس لئے کہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو کوئی شبہ نہ آپ نے یہ کام کیا۔ جب بھائیوں کی تلاشی ہوچکی اور جام نہ ملا تو اب بنیامین کے اسباب کی تلاشی شروع ہوئی چونکہ ان کے اسباب میں رکھوایا تھا اس لئے اس میں سے نکلنا ہی تھا، نکلتے ہی حکم دیا کہ انہیں روک لیا جائے۔ یہ تھی وہ ترکیب جو جناب باری نے اپنی حکمت اور حضرت یوسف کی اور بنیامین وغیرہ کی مصلحت کے لئے حضرت یوسف صدیق ؑ کو سکھائی تھی۔ کیونکہ شاہ مصر کے قانون کے مطابق تو باوجود چور ہونے کے بنیامین کو حضرت یوسف ؑ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے لیکن چونکہ بھائی خود یہی فیصلہ کرچکے تھے، اس لئے یہی فیصلہ حضرت یوسف ؑ نے جاری کردیا۔ آپ کو معلوم تھا کہ شرع ابراہیمی کا فیصلہ چور کی بابت کیا ہے۔ اس لئے بھائیوں سے پہلے ہی منوا لیا تھا۔ جس کے درجے اللہ بڑھانا چاہے، بڑھا دیتا ہے۔ جیسے فرمان ہے تم میں سے ایمانداروں کے درجے ہم بلند کریں گے۔ ہر عالم سے بالا کوئی اور عالم بھی ہے یہاں تک کہ اللہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اسی سے علم کی ابتدا ہے اور اسی کی طرف علم کی انتہا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی قرأت میں فوق کل عالم علیم ہے۔
77
View Single
۞قَالُوٓاْ إِن يَسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ أَخٞ لَّهُۥ مِن قَبۡلُۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفۡسِهِۦ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡۚ قَالَ أَنتُمۡ شَرّٞ مَّكَانٗاۖ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
They said, “If he steals, then indeed his brother has stolen before”; so Yusuf kept this in his heart and did not reveal it to them; he replied within himself, “In fact, you are in a worse position; and Allah well knows the matters you fabricate.”
انہوں نے کہا: اگر اس نے چوری کی ہے (تو کوئی تعجب نہیں) بیشک اس کا بھائی (یوسف) بھی اس سے پہلے چوری کر چکا ہے، سو یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے دل میں (چھپائی) رکھی اور اسے ان پر ظاہر نہ کیا، (دل میں ہی) کہا: تمہارا حال نہایت برا ہے، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers accuse Him of Theft!
After Yusuf's brothers saw that the king's bowl was taken out of Binyamin's bag, they said,
إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ
(If he steals, there was a brother of his who did steal before.) They tried to show themselves as innocent from being like Binyamin, saying that he did just like a brother of his did beforehand, meaning Yusuf, peace be upon him! Allah said,
فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِ
(But these things did Yusuf keep in himself), meaning the statement that he said afterwards,
أَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَاناً وَاللَّهُ أَعْلَمْ بِمَا تَصِفُونَ
(You are in an evil situation, and Allah is the Best Knower of that which you describe!) Yusuf said this to himself and did not utter it aloud, thus intending to hide what he wanted to say to himself even before he said it. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِ
(But these things did Yusuf keep in himself), "He kept in himself his statement next,
أَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَاناً وَاللَّهُ أَعْلَمْ بِمَا تَصِفُونَ
(You are in an evil situation, and Allah is the Best Knower of that which you describe!)."
بھائی کے شلیتے میں سے جام کا نکلنا دیکھ کر بات بنادی کہ دیکھو اس نے چوری کی تھی اور یہی کیا اس کے بھائی یوسف نے بہی ایک مرتبہ اس سے پہلے چوری کرلی تھی۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ اپنے نانا کا بت چپکے سے اٹھا لائے تھے اور اسے توڑ دیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی ایک بڑی بہن تھیں، جن کے پاس اپنے والد اسحاق ؑ کا ایک کمر پٹہ تھا جو خاندان کے بڑے آدمی کے پاس رہا کرتا تھا۔ حضرت یوسف ؑ پیدا ہوتے ہی اپنی ان پھوپھی صاحبہ کی پرورش میں تھے۔ انہیں حضرت یوسف ؑ سے کمال درجے کی محبت تھی۔ جب آپ کچھ بڑے ہوگئے تو حضرت یعقوب ؑ نے آپ کو لے جانا چاہا۔ بہن صاحبہ سے درخواست کی۔ لیکن بہن نے جدائی و ناقابل برداشت بیان کر کے انکار کردیا۔ ادھر آپ کے والد صاحب حضرت یعقوب ؑ کے شوق کی بھی انتہا نہ تھی، سر ہوگئے۔ آخر بہن صاحبہ نے فرمایا اچھا کچھ دنوں رہنے دو پھر لے جانا۔ اسی اثنا میں ایک دن انہوں نے وہی کمر پٹہ حضرت یوسف ؑ کے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا، پھر تلاش شروع کی۔ گھر بھر چھان مارا، نہ ملا، شور مچا، آخر یہ ٹھری کہ گھر میں جو ہیں، ان کی تلاشیاں لی جائیں۔ تلاشیاں لی گئیں۔ کسی کے پاس ہو تو نکلے آخر حضرت یوسف ؑ کی تلاشی لی گئی، ان کے پاس سے برآمد ہوا۔ حضرت یعقوب ؑ کو خبر دی گئی۔ اور ملت ابراہیمی کے قانون کے مطابق آپ اپنی پھوپھی کی تحویل میں کر دئے گئے۔ اور پھوپھی نے اس طرح اپنے شوق کو پورا کیا۔ انتقال کے وقت تک حضرت یوسف ؑ کو نہ چھوڑا۔ اسی بات کا طعنہ آج بھائی دے رہے ہیں۔ جس کے جواب میں حضرت یوسف ؑ نے چپکے سے اپنے دل میں کہا کہ تم بڑے خانہ خراب لوگ ہو اس کے بھائی کی چوری کا حال اللہ خوب جانتا ہے۔
78
View Single
قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبٗا شَيۡخٗا كَبِيرٗا فَخُذۡ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
They said, “O governor! He has a very aged father, so take one of us in his stead; indeed we witness your favours.”
وہ بولے: اے عزیزِ مصر! اس کے والد بڑے معمر بزرگ ہیں، آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیں، بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والوں میں پاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers offer taking One of Them instead of Binyamin as a Slave, Yusuf rejects the Offer
When it was decided that Benyamin was to be taken and kept with Yusuf according to the law they adhered by, Yusuf's brothers started requesting clemency and raising compassion in his heart for them,
قَالُواْ يأَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا
(They said, "O `Aziz! Verily, he has an old father...") who loves him very much and is comfor- ted by his presence from the son that he lost,
فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ
(so take one of us in his place.), instead of Binyamin to remain with you,
إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
(Indeed we think that you are one of the doers of good.), the good doers, just, and accepting fairness,
قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلاَّ مَن وَجَدْنَا مَتَـعَنَا عِندَهُ
(He said: "Allah forbid, that we should take anyone but him with whom we found our property..."), `according to the judgement that you gave for his punishment,
إِنَّـآ إِذًا لَّظَـلِمُونَ
(Indeed, we should be wrongdoers.), if we take an innocent man instead of the guilty man. '
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھور دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔
79
View Single
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأۡخُذَ إِلَّا مَن وَجَدۡنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّظَٰلِمُونَ
He said, “The refuge of Allah from that we should take anyone except him with whom our property was found – we would then surely be unjust.”
یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اللہ کی پناہ کہ ہم نے جس کے پاس اپنا سامان پایا اس کے سوا کسی (اور) کو پکڑ لیں تب تو ہم ظالموں میں سے ہو جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf's Brothers offer taking One of Them instead of Binyamin as a Slave, Yusuf rejects the Offer
When it was decided that Benyamin was to be taken and kept with Yusuf according to the law they adhered by, Yusuf's brothers started requesting clemency and raising compassion in his heart for them,
قَالُواْ يأَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا
(They said, "O `Aziz! Verily, he has an old father...") who loves him very much and is comfor- ted by his presence from the son that he lost,
فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ
(so take one of us in his place.), instead of Binyamin to remain with you,
إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ
(Indeed we think that you are one of the doers of good.), the good doers, just, and accepting fairness,
قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلاَّ مَن وَجَدْنَا مَتَـعَنَا عِندَهُ
(He said: "Allah forbid, that we should take anyone but him with whom we found our property..."), `according to the judgement that you gave for his punishment,
إِنَّـآ إِذًا لَّظَـلِمُونَ
(Indeed, we should be wrongdoers.), if we take an innocent man instead of the guilty man. '
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھور دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔
80
View Single
فَلَمَّا ٱسۡتَيۡـَٔسُواْ مِنۡهُ خَلَصُواْ نَجِيّٗاۖ قَالَ كَبِيرُهُمۡ أَلَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ أَبَاكُمۡ قَدۡ أَخَذَ عَلَيۡكُم مَّوۡثِقٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبۡلُ مَا فَرَّطتُمۡ فِي يُوسُفَۖ فَلَنۡ أَبۡرَحَ ٱلۡأَرۡضَ حَتَّىٰ يَأۡذَنَ لِيٓ أَبِيٓ أَوۡ يَحۡكُمَ ٱللَّهُ لِيۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡحَٰكِمِينَ
So when they did not anticipate anything from him, they went away and started consulting each other; their eldest brother said, “Do you not know that your father has taken from you an oath upon Allah, and before this, how you had failed in respect of Yusuf? Therefore I will not move from here until my father permits or Allah commands me; and His is the best command.”
پھر جب وہ یوسف (علیہ السلام) سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں (باہم) سرگوشی کرنے لگے، ان کے بڑے (بھائی) نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کی قسم اٹھوا کر پختہ وعدہ لیا تھا اور اس سے پہلے تم یوسف کے حق میں جو زیادتیاں کر چکے ہو (تمہیں وہ بھی معلوم ہیں)، سو میں اس سرزمین سے ہرگز نہیں جاؤں گا جب تک مجھے میرا باپ اجازت (نہ) دے یا میرے لئے اللہ کوئی فیصلہ فرما دے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophet Ya`qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya`qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf' shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya`qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before to Yusuf, they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did to Yusuf. Therefore, Ya`qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya`qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. `Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-`Usfuri said that Sa`id bin Jubayr said, "Only this nation the following of Prophet Muhammad ﷺ were given Al-Istirja'. Have you not heard the statement of Ya`qub, peace be upon him,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing. )" Ya`qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya`qub was aggrieved, sorrowful and sad." Ya`qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), `you will keep remembering Yusuf,
حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَـلِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, `if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya`qub said,
إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى
`(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah, ) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn `Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر رہا ہے جو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں ہم سے اس سے پہلے سرزد ہوچکا ہے پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں۔ یہاں تک کہ یا تو والد صاحب میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ بجھا دے کہ میں یا تو لڑ بھڑ کر اپنے بھائی کو لے کر جاؤں یا اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت بنا دے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا نام روبیل تھا یا یہودا تھا یہی تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو جب اور بھائیوں نے قتل کرنا جاہا تھا انہوں نے روکا تھا۔ اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کرلیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کردی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔
81
View Single
ٱرۡجِعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيكُمۡ فَقُولُواْ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبۡنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدۡنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حَٰفِظِينَ
“Return to your father and then submit, ‘O our father! Indeed your son has stolen; we were witness only to what we know and we were not guardians of the unseen.’
تم اپنے باپ کی طرف لوٹ جاؤ پھر (جا کر) کہو: اے ہمارے باپ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے (اس لئے وہ گرفتار کر لیا گیا) اور ہم نے فقط اسی بات کی گواہی دی تھی جس کا ہمیں علم تھا اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophet Ya`qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya`qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf' shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya`qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before to Yusuf, they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did to Yusuf. Therefore, Ya`qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya`qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. `Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-`Usfuri said that Sa`id bin Jubayr said, "Only this nation the following of Prophet Muhammad ﷺ were given Al-Istirja'. Have you not heard the statement of Ya`qub, peace be upon him,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing. )" Ya`qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya`qub was aggrieved, sorrowful and sad." Ya`qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), `you will keep remembering Yusuf,
حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَـلِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, `if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya`qub said,
إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى
`(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah, ) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn `Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر رہا ہے جو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں ہم سے اس سے پہلے سرزد ہوچکا ہے پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں۔ یہاں تک کہ یا تو والد صاحب میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ بجھا دے کہ میں یا تو لڑ بھڑ کر اپنے بھائی کو لے کر جاؤں یا اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت بنا دے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا نام روبیل تھا یا یہودا تھا یہی تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو جب اور بھائیوں نے قتل کرنا جاہا تھا انہوں نے روکا تھا۔ اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کرلیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کردی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔
82
View Single
وَسۡـَٔلِ ٱلۡقَرۡيَةَ ٱلَّتِي كُنَّا فِيهَا وَٱلۡعِيرَ ٱلَّتِيٓ أَقۡبَلۡنَا فِيهَاۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
‘And ask the township in which we were, and the caravan in which we came; and indeed we are truthful.’”
اور (اگر آپ کو اعتبار نہ آئے تو) اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلہ (والوں) سے (معلوم کر لیں) جس میں ہم آئے ہیں، اور بیشک ہم (اپنے قول میں) یقیناً سچے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophet Ya`qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya`qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf' shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya`qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before to Yusuf, they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did to Yusuf. Therefore, Ya`qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya`qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. `Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-`Usfuri said that Sa`id bin Jubayr said, "Only this nation the following of Prophet Muhammad ﷺ were given Al-Istirja'. Have you not heard the statement of Ya`qub, peace be upon him,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing. )" Ya`qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya`qub was aggrieved, sorrowful and sad." Ya`qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), `you will keep remembering Yusuf,
حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَـلِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, `if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya`qub said,
إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى
`(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah, ) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn `Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر رہا ہے جو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں ہم سے اس سے پہلے سرزد ہوچکا ہے پس اب میں تو یہیں رک جاتا ہوں۔ یہاں تک کہ یا تو والد صاحب میرا قصور معاف فرما کر مجھے اپنے پاس حاضر ہونے کی اجازت دیں یا اللہ تعالیٰ مجھے کوئی فیصلہ بجھا دے کہ میں یا تو لڑ بھڑ کر اپنے بھائی کو لے کر جاؤں یا اللہ تعالیٰ کوئی اور صورت بنا دے۔ کہا گیا ہے کہ ان کا نام روبیل تھا یا یہودا تھا یہی تھے کہ حضرت یوسف ؑ کو جب اور بھائیوں نے قتل کرنا جاہا تھا انہوں نے روکا تھا۔ اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کرلیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کردی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔
83
View Single
قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٌۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَنِي بِهِمۡ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ
Said Yaqub, “Your souls have fabricated an excuse for you; therefore patience is excellent; it is likely that Allah will bring all* of them to me; undoubtedly only He is the All Knowing, the Wise.” (* All three including Yusuf.)
یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: (ایسا نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے یہ بات تمہارے لئے مرغوب بنا دی ہے، اب صبر (ہی) اچھا ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے، بیشک وہ بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophet Ya`qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya`qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf' shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya`qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before to Yusuf, they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did to Yusuf. Therefore, Ya`qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya`qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. `Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-`Usfuri said that Sa`id bin Jubayr said, "Only this nation the following of Prophet Muhammad ﷺ were given Al-Istirja'. Have you not heard the statement of Ya`qub, peace be upon him,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing. )" Ya`qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya`qub was aggrieved, sorrowful and sad." Ya`qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), `you will keep remembering Yusuf,
حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَـلِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, `if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya`qub said,
إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى
`(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah, ) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn `Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
84
View Single
وَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبۡيَضَّتۡ عَيۡنَاهُ مِنَ ٱلۡحُزۡنِ فَهُوَ كَظِيمٞ
And he turned away from them and said, “Alas – the separation from Yusuf!” and his eyes turned white with sorrow, he therefore kept suppressing his anger.
اور یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا: ہائے افسوس! یوسف (علیہ السلام کی جدائی) پر اور ان کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں سو وہ غم کو ضبط کئے ہوئے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophet Ya`qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya`qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf' shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya`qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before to Yusuf, they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did to Yusuf. Therefore, Ya`qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya`qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. `Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-`Usfuri said that Sa`id bin Jubayr said, "Only this nation the following of Prophet Muhammad ﷺ were given Al-Istirja'. Have you not heard the statement of Ya`qub, peace be upon him,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing. )" Ya`qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya`qub was aggrieved, sorrowful and sad." Ya`qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), `you will keep remembering Yusuf,
حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَـلِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, `if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya`qub said,
إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى
`(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah, ) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn `Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
85
View Single
قَالُواْ تَٱللَّهِ تَفۡتَؤُاْ تَذۡكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوۡ تَكُونَ مِنَ ٱلۡهَٰلِكِينَ
They said, “By Allah, you will keep remembering Yusuf till your health fails you or you lose your life.”
وہ بولے: اللہ کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف (علیہ السلام ہی) کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ قریب مرگ ہو جائیں گے یا آپ وفات پا جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophet Ya`qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya`qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf' shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya`qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before to Yusuf, they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did to Yusuf. Therefore, Ya`qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya`qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. `Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-`Usfuri said that Sa`id bin Jubayr said, "Only this nation the following of Prophet Muhammad ﷺ were given Al-Istirja'. Have you not heard the statement of Ya`qub, peace be upon him,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing. )" Ya`qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya`qub was aggrieved, sorrowful and sad." Ya`qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), `you will keep remembering Yusuf,
حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَـلِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, `if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya`qub said,
إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى
`(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah, ) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn `Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
86
View Single
قَالَ إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
He said, “I complain of my worry and grief only to Allah, and I know the great traits of Allah which you do not know.”
انہوں نے فرمایا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اللہ کے حضور کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophet Ya`qub receives the Grievous News
Allah's Prophet Ya`qub repeated to his children the same words he said to them when they brought false blood on Yusuf' shirt,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Muhammad bin Ishaq said, "When they went back to Ya`qub and told him what happened, he did not believe them and thought that this was a repetition of what they did to Yusuf. So he said,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) Some said that since this new development came after what they did before to Yusuf, they were given the same judgement to this later incident that was given to them when they did what they did to Yusuf. Therefore, Ya`qub's statement here is befitting,
بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ
(Nay, but your own selves have beguiled you into something. So patience is most fitting (for me).) He then begged Allah to bring back his three sons: Yusuf, Binyamin and Rubil to him." Rubil had remained in Egypt awaiting Allah's decision about his case, either his father's permission ordering him to go back home, or to secure the release of his brother in confidence. This is why Ya`qub said,
عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(May be Allah will bring them (back) all to me. Truly, He! Only He is All-Knowing,), in my distress,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise), in His decisions and the decree and preordainment He appoints. Allah said next,
وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(And he turned away from them and said: "Alas, my grief for Yusuf!") He turned away from his children and remembered his old grief for Yusuf,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ
(Alas, my grief for Yusuf!) The new grief, losing Binyamin and Rubil, renewed his old sadness that he kept to himself. `Abdur-Razzaq narrated that Ath-Thawri said that Sufyan Al-`Usfuri said that Sa`id bin Jubayr said, "Only this nation the following of Prophet Muhammad ﷺ were given Al-Istirja'. Have you not heard the statement of Ya`qub, peace be upon him,
يأَسَفَا عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
("Alas, my grief for Yusuf !" And he lost his sight because of the sorrow that he was suppressing. )" Ya`qub suppressed his sorrow and did not complain to a created being, according to Qatadah and other scholars. Ad-Dahhak also commented, "Ya`qub was aggrieved, sorrowful and sad." Ya`qub's children felt pity for him and said, while feeling sorrow and compassion,
تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ
(By Allah! You will never cease remembering Yusuf), `you will keep remembering Yusuf,
حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً
(until you become weak with old age,), until your strength leaves you,'
أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَـلِكِينَ
(or until you be of the dead.) They said, `if you continue like this, we fear for you that you might die of grief,'
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى إِلَى اللَّهِ
(He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah.") When they said these words to him, Ya`qub said,
إِنَّمَآ أَشْكُو بَثِّى وَحُزْنِى
`(I only complain of my grief and sorrow) for the afflictions that struck me,
إِلَى اللَّهِ
(to Allah, ) alone,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) I anticipate from Allah each and every type of goodness.' Ibn `Abbas commented on the meaning of,
وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(and I know from Allah that which you know not.) "The vision that Yusuf saw is truthful and Allah will certainly make it come true."
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس لوٹیں۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علیم ہے میری حالت کو خوب جان رہا ہے۔ حکیم ہے اس کی قضا وقدر اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اب آپ کے اس نئے رنج نے پرانا رنج بھی تازہ کردیا اور حضرت یوسف کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انا للہ الخ پڑھنے کی ہدایات صرف اسی امت کو کی گئی ہے اس نعمت سے اگلی امتیں مع اپنے نبیوں کے محروم تھیں۔ دیکھئے حضرت یعقوب ؑ بھی ایسے موقعہ پر آیت (يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84) 12۔ یوسف :84) کہتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ غم نے آپ کو نابینا کردیا تھا اور زبان خاموش تھی۔ مخلوق میں سے کسی شکایت وشکوہ نہیں کرتے تھے۔ غمگین اور اندوہ گین رہا کرتے تھے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کی کہ لوگ تجھ سے یہ کہہ کر دعا مانگتے ہیں کہ اے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے رب، تو تو ایسا کر کہ ان تین ناموں میں چوتھا نام میرا بھی شامل ہوجائے۔ جواب ملا کہ اے داؤد حضرت ابراہیم ؑ آگ میں ڈالے گئے اور صبر کیا۔ تیری آزائش ابھی ایسی نہیں ہوئی۔ اسحاق ؑ نے خود اپنی قربانی منظور کرلی اور اپنا گلا کٹوانے بیٹھ گئے۔ تجھ پر یہ بات بھی نہیں آئی۔ یعقوب ؑ سے میں نے ان کے لخت جگر کو الگ کردیا اس نے بھی صبر کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ بھی نہیں ہوا یہ روایت مرسل ہے اور اس میں نکارت بھی ہے اس میں بیان ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ تھے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ تھے۔ اس روایت کے راوی علی بن زید بن جدعان اکثر منکر اور غریب روایتیں بیان کردیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ احنف بن قیس ؒ نے یہ روایت بنی اسرائیل سے لی ہو، جیسے کعب وہب وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل کی ورایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے حضرت یوسف کو اس موقعہ پر جب کہ بنیامین قید میں تھے۔ ایک خط لکھا تھا جس میں انہیں رحم دلانے کے لئے لکھا تھا کہ ہم مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ میرے دادا حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے۔ میرے والد حضرت اسحاق ؑ ذبح کے ساتھ آزمائے گئے۔ میں خود فراق یوسف میں مبتلا ہوں۔ لیکن یہ روایت بھی سندا ثابت نہیں۔ بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ حضرت یعقوب ؑ نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی ؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا یوسف کو رو رو کر آنکھیں کھو بیھٹا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں ؟ حضرت یعقوب ؑ نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔
87
View Single
يَٰبَنِيَّ ٱذۡهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَاْيۡـَٔسُواْ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ لَا يَاْيۡـَٔسُ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ
“O my sons, go and search for Yusuf and his brother, and do not lose hope in the mercy of Allah; indeed none lose hope in the mercy of Allah except the disbelieving people.”
اے میرے بیٹو! جاؤ (کہیں سے) یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی خبر لے آؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے صرف وہی لوگ مایوس ہوتے ہیں جو کافر ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub orders His Children to inquire about Yusuf and His Brother
Allah states that Ya`qub, peace be upon him, ordered his children to go back and inquire about the news of Yusuf and his brother Binyamin, in a good manner, not as spies. He encouraged them, delivered to them the good news and ordered them not to despair of Allah's mercy. He ordered them to never give up hope in Allah, nor to ever discontinue trusting in Him for what they seek to accomplish. He said to them that only the disbelieving people despair of Allah's mercy.
Yusuf's Brothers stand before Him
Allah said next,
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيْهِ
(Then, when they entered unto him), when they went back to Egypt and entered upon Yusuf,
قَالُواْ يأَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ
(they said: "O Aziz! A hard time has hit us and our family..."), because of severe droughts and the scarcity of food,
وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ
(and we have brought but poor capital,) means, `we brought money for the food we want to buy, but it is not substantial,' according to Mujahid, Al-Hasan and several others. Allah said that they said next,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ
(so pay us full measure) meaning, `in return for the little money we brought, give us the full measure that you gave us before.' Ibn Mas`ud read this Ayah in a way that means, "So give the full load on our animals and be charitable with us." Ibn Jurayj commented, "So be charitable to us by returning our brother to us." And when Sufyan bin `Uyaynah was asked if the Sadaqah (charity) was prohibited for any Prophet before our Prophet , he said, "Have you not heard the Ayah,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِى الْمُتَصَدِّقِينَ
(so pay us full measure and be charitable to us. Truly, Allah does reward the charitable.)" Ibn Jarir At-Tabari collected this statement.
حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کو حکم فرما رہے ہیں کہ تم ادھر ادھر جاؤ اور حضرت یوسف اور بنیامین کی تلاش کرو۔ عربی میں تحسس کا لفظ بھلائی کی جستجو کے لئے بولا جاتا ہے اور برائی کی ٹٹول کے لئے تجسس کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ساتھ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیے اس کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کفر ہوتا ہے۔ تم تلاش بند نہ کرو، اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنی کوشش جاری رکھو۔ چناچہ یہ لوگ چلے، پھر مصر پہنچے، حضرت یوسف کے دربار میں حاضر ہوئے، وہاں اپنی خستہ حالی ظاہر کی کہ قحط سالی نے ہمارے خاندان کو ستا رکھا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں رہا، جس سے غلہ خریدتے اب ردی، واہی، ناقص، بیکار، کھوٹی اور قیمت نہ بننے والی کچھ یونہی سی رکھی رکھائی چیزیں لے کر آپ کے پاس آئے ہیں گویہ بدلہ نہیں کہا جاسکتا نہ قیمت بنتی ہے لیکن تاہم ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں وہی دیجئے جو سچی صحیح اور پوری قیمت پر دیا کرتے ہیں۔ ہمارے بوجھ بھر دیجئے، ہماری خورجیاں پر کر دیجئے، ابن مسعود کی قرأت میں (فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ 88) 12۔ یوسف :88) کے بدلے فاوقرر کا بنا ہے یعنی ہمارے اونٹ غلے سے لاد دیجئے۔ اور ہم پر صدقہ کیجئے ہمارے بھائی کو رہائی دیجئے، یا یہ مطلب ہے کہ یہ غلہ ہمیں ہمارے اس مال کے بدلے نہیں بلکہ بطور خیرات دیجئے۔ حضرت سفیان بن عیینہ ؒ سے سوال ہوتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ سے پہلے بھی کسی نبی پر صدقہ حرام ہوا ہے ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر استدلال کیا کہ نہیں ہوا۔ حضرت مجاہد ؒ سے سوال ہوا کہ کیا کسی شخص کا اپنی دعا میں یہ کہنا مکروہ ہے کہ یا اللہ مجھ پر صدقہ کر۔ فرمایا ہاں اس لئے کہ صدقہ وہ کرتا ہے جو طالب ثواب ہو۔
88
View Single
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيۡهِ قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهۡلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَٰعَةٖ مُّزۡجَىٰةٖ فَأَوۡفِ لَنَا ٱلۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجۡزِي ٱلۡمُتَصَدِّقِينَ
Then when they reached in the company of Yusuf they said, “O governor! Calamity has struck us and our household, and we have brought goods of little value, so give us the full measure and be generous to us; undoubtedly Allah rewards the generous.”
سو جب وہ (دوبارہ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے تو کہنے لگے: اے عزیزِ مصر! ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر مصیبت آن پڑی ہے (ہم شدید قحط میں مبتلا ہیں) اور ہم (یہ) تھوڑی سی رقم لے کر آئے ہیں سو (اس کے بدلے) ہمیں (غلہ کا) پورا پورا ناپ دے دیں اور (اس کے علاوہ) ہم پر (کچھ) صدقہ (بھی) کر دیں۔ بیشک اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub orders His Children to inquire about Yusuf and His Brother
Allah states that Ya`qub, peace be upon him, ordered his children to go back and inquire about the news of Yusuf and his brother Binyamin, in a good manner, not as spies. He encouraged them, delivered to them the good news and ordered them not to despair of Allah's mercy. He ordered them to never give up hope in Allah, nor to ever discontinue trusting in Him for what they seek to accomplish. He said to them that only the disbelieving people despair of Allah's mercy.
Yusuf's Brothers stand before Him
Allah said next,
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيْهِ
(Then, when they entered unto him), when they went back to Egypt and entered upon Yusuf,
قَالُواْ يأَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ
(they said: "O Aziz! A hard time has hit us and our family..."), because of severe droughts and the scarcity of food,
وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ
(and we have brought but poor capital,) means, `we brought money for the food we want to buy, but it is not substantial,' according to Mujahid, Al-Hasan and several others. Allah said that they said next,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ
(so pay us full measure) meaning, `in return for the little money we brought, give us the full measure that you gave us before.' Ibn Mas`ud read this Ayah in a way that means, "So give the full load on our animals and be charitable with us." Ibn Jurayj commented, "So be charitable to us by returning our brother to us." And when Sufyan bin `Uyaynah was asked if the Sadaqah (charity) was prohibited for any Prophet before our Prophet , he said, "Have you not heard the Ayah,
فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِى الْمُتَصَدِّقِينَ
(so pay us full measure and be charitable to us. Truly, Allah does reward the charitable.)" Ibn Jarir At-Tabari collected this statement.
حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کو حکم فرما رہے ہیں کہ تم ادھر ادھر جاؤ اور حضرت یوسف اور بنیامین کی تلاش کرو۔ عربی میں تحسس کا لفظ بھلائی کی جستجو کے لئے بولا جاتا ہے اور برائی کی ٹٹول کے لئے تجسس کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ساتھ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیے اس کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کفر ہوتا ہے۔ تم تلاش بند نہ کرو، اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنی کوشش جاری رکھو۔ چناچہ یہ لوگ چلے، پھر مصر پہنچے، حضرت یوسف کے دربار میں حاضر ہوئے، وہاں اپنی خستہ حالی ظاہر کی کہ قحط سالی نے ہمارے خاندان کو ستا رکھا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں رہا، جس سے غلہ خریدتے اب ردی، واہی، ناقص، بیکار، کھوٹی اور قیمت نہ بننے والی کچھ یونہی سی رکھی رکھائی چیزیں لے کر آپ کے پاس آئے ہیں گویہ بدلہ نہیں کہا جاسکتا نہ قیمت بنتی ہے لیکن تاہم ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں وہی دیجئے جو سچی صحیح اور پوری قیمت پر دیا کرتے ہیں۔ ہمارے بوجھ بھر دیجئے، ہماری خورجیاں پر کر دیجئے، ابن مسعود کی قرأت میں (فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ 88) 12۔ یوسف :88) کے بدلے فاوقرر کا بنا ہے یعنی ہمارے اونٹ غلے سے لاد دیجئے۔ اور ہم پر صدقہ کیجئے ہمارے بھائی کو رہائی دیجئے، یا یہ مطلب ہے کہ یہ غلہ ہمیں ہمارے اس مال کے بدلے نہیں بلکہ بطور خیرات دیجئے۔ حضرت سفیان بن عیینہ ؒ سے سوال ہوتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ سے پہلے بھی کسی نبی پر صدقہ حرام ہوا ہے ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھ کر استدلال کیا کہ نہیں ہوا۔ حضرت مجاہد ؒ سے سوال ہوا کہ کیا کسی شخص کا اپنی دعا میں یہ کہنا مکروہ ہے کہ یا اللہ مجھ پر صدقہ کر۔ فرمایا ہاں اس لئے کہ صدقہ وہ کرتا ہے جو طالب ثواب ہو۔
89
View Single
قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُم مَّا فَعَلۡتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذۡ أَنتُمۡ جَٰهِلُونَ
He said, “Are you aware of what you did to Yusuf and his brother when you were unwise?”
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا (سلوک) کیا تھا کیا تم (اس وقت) نادان تھے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant) meaning, `when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(when you were ignorant) He said, `What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)94:5-6 This is when they said to Yusuf,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَاْ يُوسُفُ وَهَـذَا أَخِى
(Are you indeed Yusuf He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَآ
`(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيِصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَقَالُواْ تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لاَ تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, `There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
90
View Single
قَالُوٓاْ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِيۖ قَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَآۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
They said, “Are you, in truth you, really Yusuf?” He said, “I am Yusuf and this is my brother; indeed Allah has bestowed favour upon us; undoubtedly whoever practices piety and patience – so Allah does not waste the wages of the righteous.”
وہ بولے: کیا واقعی تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے فرمایا: (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے بیشک اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے، یقیناً جو شخص اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو بیشک اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant) meaning, `when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(when you were ignorant) He said, `What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)94:5-6 This is when they said to Yusuf,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَاْ يُوسُفُ وَهَـذَا أَخِى
(Are you indeed Yusuf He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَآ
`(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيِصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَقَالُواْ تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لاَ تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, `There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
91
View Single
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ
They said, “By Allah, undoubtedly Allah has given you superiority over us, and we were indeed guilty.”
وہ بول اٹھے: اللہ کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی ہے اور یقیناً ہم ہی خطاکار تھے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant) meaning, `when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(when you were ignorant) He said, `What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)94:5-6 This is when they said to Yusuf,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَاْ يُوسُفُ وَهَـذَا أَخِى
(Are you indeed Yusuf He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَآ
`(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيِصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَقَالُواْ تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لاَ تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, `There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
92
View Single
قَالَ لَا تَثۡرِيبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَۖ يَغۡفِرُ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
He said, “There is no reproach on you, this day! May Allah forgive you – and He is the Utmost Merciful, of all those who show mercy.”
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا: آج کے دن تم پر کوئی ملامت (اور گرفت) نہیں ہے، اللہ تمہیں معاف فرما دے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf reveals His True Identity to His Brothers and forgives Them
Allah says, when Yusuf's brothers told him about the afflictions and hardship, and shortages in food they suffered from in the aftermath of the drought that struck them, and he remembered his father's grief for losing his two children, he felt compassion, pity and mercy for his father and brothers. He felt this way, especially since he was enjoying kingship, authority and power, so he cried and revealed his true identity to them when he asked them,
هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(Do you know what you did with Yusuf and his brother, when you were ignorant) meaning, `when you separated between Yusuf and his brother,'
إِذْ أَنتُمْ جَـهِلُونَ
(when you were ignorant) He said, `What made you do this is your ignorance of the tremendous sin you were about to commit.' It appears, and Allah knows best, that Yusuf revealed his identity to his brothers only then by Allah's command, just as he hid his identity from them in the first two meetings, by Allah's command. When the affliction became harder, Allah sent His relief from that affliction, just as He said He does,
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً
(Verily, along with every hardship is relief. Verily, along with every hardship is relief.)94:5-6 This is when they said to Yusuf,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ
(Are you indeed Yusuf), in amazement, because they had been meeting him for more than two years while unaware of who he really was. Yet, he knew who they were and hid this news from them. Therefore, they asked in astonishment,
أَءِنَّكَ لاّنتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَاْ يُوسُفُ وَهَـذَا أَخِى
(Are you indeed Yusuf He said: "I am Yusuf, and this is my brother...") Yusuf said next,
قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَآ
`(Allah has indeed been gracious to us.) by gathering us together after being separated all this time,'
إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيِصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَقَالُواْ تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا
("Verily, he who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost." They said: "By Allah! Indeed Allah has preferred you above us.") They affirmed Yusuf's virtue above them, being blessed with beauty, conduct, richness, kingship, authority and, above all, prophethood. They admitted their error and acknowledged that they made a mistake against him,
قَالَ لاَ تَثْرَيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ
(He said: "No reproach on you this day.") He said to them, `There will be no blame for you today or admonishment, and I will not remind you after today of your error against me.' He then multiplied his generosity by invoking Allah for them for mercy,
يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَحِمِينَ
(may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!)
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے معاملہ صاف کردیا۔ جب تکلیف بڑھ گئی سختی زیادہ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے راحت دے دی اور کشادگی عطا فرما دی۔ جیسے ارشاد ہے کہ سختی کے ساتھ آسانی ہے یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ اب بھائی چونک پڑے کچھ اس وجہ سے کہ تاج اتار نے کے بعد پیشانی کی نشانی دیکھ لی اور کچھ اس قسم کے سوالات کچھ حالات کچھ اگلے واقعات سب سامنے آگئے تاہم اپنا شک دور کرنے کے لئے پوچھا کہ کیا آپ ہی یوسف ہیں ؟ آپ نے اس سوال کے جواب میں صاف کہہ دیا کہ ہاں میں خود یوسف ہوں اور یہ میرا سگا بھائی ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا بچھڑنے کے بعد ملا دیا تفرقہ کے بعد اجتماع کردیا تقوی اور صبر رائگاں نہیں جاتے۔ نیک کاری بےپھل لائے نہیں رہتی۔ اب تو بھائیوں نے حضرت یوسف ؑ کی فضیلت اور بزرگی کا اقرار کرلیا کہ واقعی صورت سیرت دونوں اعتبار سے آپ ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔ ملک و مال کے اعتبار سے بھی اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک نبوت کے اعتبار سے بھی کیونکہ حضرت یوسف نبی تھے اور یہ بھائی نبی نہ تھے۔ اس اقرار کے بعد اپنی خطا کاری کا بھی اقرار کیا۔ اسی وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں آج کے دن کے بعد سے تمہیں تمہاری یہ خطا یاد بھی نہ دلاؤں گا میں تمہیں کوئی ڈانٹ ڈپٹ کرنا نہیں چاہتا نہ تم پر الزام رکھتا ہوں نہ تم پر اظہار خفگی کرتا ہوں بلکہ میری دعا ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے وہ ارحم الراحمین ہے۔ بھائیوں نے عذر پیش کیا اپنے قبول فرما لیا اللہ تمہاری پردہ پوشی کرے اور تم نے جو کیا ہے اسے بخش دے۔
93
View Single
ٱذۡهَبُواْ بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلۡقُوهُ عَلَىٰ وَجۡهِ أَبِي يَأۡتِ بَصِيرٗا وَأۡتُونِي بِأَهۡلِكُمۡ أَجۡمَعِينَ
“Take along this shirt of mine and lay it on my father’s face, his vision will be restored; and bring your entire household to me.” (Prophet Yusuf knew that this miracle would occur.)
میرا یہ قمیض لے جاؤ، سو اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ بینا ہو جائیں گے، اور (پھر) اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub finds the Scent of Yusuf in his Shirt!
Yusuf said, `Take this shirt of mine,
فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًا
(and cast it over the face of my father, his vision will return),' because Ya`qub had lost his sight from excessive crying,
وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
(and bring to me all your family.) all the children of Ya`qub.
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ
(And when the caravan departed) from Egypt,
قَالَ أَبُوهُمْ
(their father said...), Ya`qub, peace be upon him, said to the children who remained with him,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
`(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.), except that you might think me senile because of old age.' `Abdur-Razzaq narrated that Ibn `Abbas said, "When the caravan departed from Egypt, a wind started blowing and brought the scent of Yusuf's shirt to Ya`qub. He said,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf , if only you think me not senile.) He found his scent from a distance of eight days away!" Similar was also reported through Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah and others reported it from Abu Sinan. Ya`qub said to them,
لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(if only you think me not senile.) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ata, Qatadah and Sa'id bin Jubayr commented, "If only you think me not a fool!" Mujahid and Al-Hasan said that it means, "If only you think me not old." Their answer to him was,
إِنَّكَ لَفِى ضَلَـلِكَ الْقَدِيمِ
(Certainly, you are in your old Dalal.) meaning, `in your old error,' according to Ibn `Abbas. Qatadah commented, "They meant that, `because of your love for Yusuf you will never forget him.' So they uttered a harsh word to their father that they should never have uttered to him, nor to a Prophet of Allah." Similar was said by As-Suddi and others.
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .
94
View Single
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلۡعِيرُ قَالَ أَبُوهُمۡ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ لَوۡلَآ أَن تُفَنِّدُونِ
When the caravan left Egypt, their father said*, “Indeed I sense the fragrance of Yusuf, if you do not call me senile.” (* Prophet Yaqub said this in Palestine, to other members of his family. He could discern the fragrance of Prophet Yusuf’s shirt from far away.)
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا ان کے والد (یعقوب علیہ السلام) نے (کنعان میں بیٹھے ہی) فرما دیا: بیشک میں یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں اگر تم مجھے بڑھاپے کے باعث بہکا ہوا خیال نہ کرو
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub finds the Scent of Yusuf in his Shirt!
Yusuf said, `Take this shirt of mine,
فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًا
(and cast it over the face of my father, his vision will return),' because Ya`qub had lost his sight from excessive crying,
وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
(and bring to me all your family.) all the children of Ya`qub.
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ
(And when the caravan departed) from Egypt,
قَالَ أَبُوهُمْ
(their father said...), Ya`qub, peace be upon him, said to the children who remained with him,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
`(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.), except that you might think me senile because of old age.' `Abdur-Razzaq narrated that Ibn `Abbas said, "When the caravan departed from Egypt, a wind started blowing and brought the scent of Yusuf's shirt to Ya`qub. He said,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf , if only you think me not senile.) He found his scent from a distance of eight days away!" Similar was also reported through Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah and others reported it from Abu Sinan. Ya`qub said to them,
لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(if only you think me not senile.) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ata, Qatadah and Sa'id bin Jubayr commented, "If only you think me not a fool!" Mujahid and Al-Hasan said that it means, "If only you think me not old." Their answer to him was,
إِنَّكَ لَفِى ضَلَـلِكَ الْقَدِيمِ
(Certainly, you are in your old Dalal.) meaning, `in your old error,' according to Ibn `Abbas. Qatadah commented, "They meant that, `because of your love for Yusuf you will never forget him.' So they uttered a harsh word to their father that they should never have uttered to him, nor to a Prophet of Allah." Similar was said by As-Suddi and others.
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .
95
View Single
قَالُواْ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَٰلِكَ ٱلۡقَدِيمِ
They said, “By Allah, you are still deeply engrossed in the same old love of yours.”
وہ بولے: اللہ کی قسم یقیناً آپ اپنی (اسی) پرانی محبت کی خود رفتگی میں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Ya`qub finds the Scent of Yusuf in his Shirt!
Yusuf said, `Take this shirt of mine,
فَأَلْقُوهُ عَلَى وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًا
(and cast it over the face of my father, his vision will return),' because Ya`qub had lost his sight from excessive crying,
وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
(and bring to me all your family.) all the children of Ya`qub.
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ
(And when the caravan departed) from Egypt,
قَالَ أَبُوهُمْ
(their father said...), Ya`qub, peace be upon him, said to the children who remained with him,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
`(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.), except that you might think me senile because of old age.' `Abdur-Razzaq narrated that Ibn `Abbas said, "When the caravan departed from Egypt, a wind started blowing and brought the scent of Yusuf's shirt to Ya`qub. He said,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf , if only you think me not senile.) He found his scent from a distance of eight days away!" Similar was also reported through Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah and others reported it from Abu Sinan. Ya`qub said to them,
لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(if only you think me not senile.) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ata, Qatadah and Sa'id bin Jubayr commented, "If only you think me not a fool!" Mujahid and Al-Hasan said that it means, "If only you think me not old." Their answer to him was,
إِنَّكَ لَفِى ضَلَـلِكَ الْقَدِيمِ
(Certainly, you are in your old Dalal.) meaning, `in your old error,' according to Ibn `Abbas. Qatadah commented, "They meant that, `because of your love for Yusuf you will never forget him.' So they uttered a harsh word to their father that they should never have uttered to him, nor to a Prophet of Allah." Similar was said by As-Suddi and others.
چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا جو بحکم الہی ہوا نے حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی سے یہ کہے .
96
View Single
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلۡبَشِيرُ أَلۡقَىٰهُ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ فَٱرۡتَدَّ بَصِيرٗاۖ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
Then when the bearer of glad tidings came, he laid the shirt on his face, he therefore immediately regained his eyesight*; he said, “Was I not telling you? I know the great traits of Allah which you do not know!” (This was a miracle that took place by applying Prophet Yusuf’s shirt.)
پھر جب خوشخبری سنانے والا آپہنچا اس نے وہ قمیض یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا تو اسی وقت ان کی بینائی لوٹ آئی، یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ بیشک میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News
Ibn `Abbas and Ad-Dahhak said;
الْبَشِيرُ
(good news) means information. Mujahid and As-Suddi said that the bearer of good news was Yahudha, son of Ya`qub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya`qub said to his children,
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ إِنِّى أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(Did I not say to you, `I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.)
Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful
This is when Yusuf's brothers said to their father, with humble- ness,
قَالُواْ يأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـطِئِينَ - قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّى إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
("O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners." He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.") and He forgives those who repent to Him. `Abdullah bin Mas`ud, Ibrahim At-Taymi, `Amr bin Qays, Ibn Jurayj and several others said that Prophet Ya`qub delayed fulfilling their request until the latter part of the night.
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر ؓ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر سے یہ آواز آرہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آجائے۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم۔
97
View Single
قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا ٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ
They said, “O our father! Seek forgiveness for our sins, for we were indeed guilty.”
وہ بولے: اے ہمارے باپ! ہمارے لئے (اللہ سے) ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے، بیشک ہم ہی خطاکار تھے
Tafsir Ibn Kathir
Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News
Ibn `Abbas and Ad-Dahhak said;
الْبَشِيرُ
(good news) means information. Mujahid and As-Suddi said that the bearer of good news was Yahudha, son of Ya`qub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya`qub said to his children,
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ إِنِّى أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(Did I not say to you, `I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.)
Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful
This is when Yusuf's brothers said to their father, with humble- ness,
قَالُواْ يأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـطِئِينَ - قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّى إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
("O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners." He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.") and He forgives those who repent to Him. `Abdullah bin Mas`ud, Ibrahim At-Taymi, `Amr bin Qays, Ibn Jurayj and several others said that Prophet Ya`qub delayed fulfilling their request until the latter part of the night.
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر ؓ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر سے یہ آواز آرہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آجائے۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم۔
98
View Single
قَالَ سَوۡفَ أَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
He said, “I shall soon seek forgiveness for you from my Lord; indeed He only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.”
یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، بیشک وہی بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Yahudha brings Yusuf's Shirt and Good News
Ibn `Abbas and Ad-Dahhak said;
الْبَشِيرُ
(good news) means information. Mujahid and As-Suddi said that the bearer of good news was Yahudha, son of Ya`qub. As-Suddi added, "He brought it (Yusuf's shirt) because it was he who brought Yusuf's shirt stained with the false blood. So he liked to erase that error with this good act, by bringing Yusuf's shirt and placing it on his father's face. His father's sight was restored to him." Ya`qub said to his children,
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ إِنِّى أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
(Did I not say to you, `I know from Allah that which you know not'), that I know that Allah will return Yusuf to me and that,
إِنِّى لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلاَ أَن تُفَنِّدُونِ
(I do indeed feel the smell of Yusuf, if only you think me not senile.)
Yusuf's Brothers feel Sorry and Regretful
This is when Yusuf's brothers said to their father, with humble- ness,
قَالُواْ يأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـطِئِينَ - قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّى إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
("O our father! Ask forgiveness (from Allah) for our sins, indeed we have been sinners." He said: "I will ask my Lord for forgiveness for you, verily, He! Only He is the Oft-Forgiving, the Most Merciful.") and He forgives those who repent to Him. `Abdullah bin Mas`ud, Ibrahim At-Taymi, `Amr bin Qays, Ibn Jurayj and several others said that Prophet Ya`qub delayed fulfilling their request until the latter part of the night.
کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف کا خون ہے، اب بدلے کے لئے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہوجائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہوجائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت حضرت یعقوب ؑ کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بیخبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لئے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لئے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت عمر ؓ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے گھر سے یہ آواز آرہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لئے حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لئے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آجائے۔ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے واللہ اعلم۔
99
View Single
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَبَوَيۡهِ وَقَالَ ٱدۡخُلُواْ مِصۡرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ
So when they all reached in Yusuf’s company, he kept his parents close to him, and said, “Enter Egypt, if Allah wills, in safety.”
پھر جب وہ (سب اَفرادِ خانہ) یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے (تو) یوسف (علیہ السلام) نے (شہر سے باہر آکر ہزارہا سواریوں، فوجیوں اور لوگوں کے ہمراہ شاہی جلوس کی صورت میں ان کا استقبال کیا اور) اپنے ماں باپ کو تعظیماً اپنے قریب جگہ دی (یا انہیں اپنے گلے سے لگا لیا) اور (خوش آمدید کہتے ہوئے) فرمایا: آپ مصر میں داخل ہو جائیں اگر اللہ نے چاہا (تو) امن و عافیت کے ساتھ (یہیں قیام کریں)
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf welcomes His Parents - His Dream comes True
Allah states that Ya`qub went to Yusuf in Egypt. Yusuf had asked his brothers to bring all of their family, and they all departed their area and left Kana`an to Egypt. When Yusuf received news of their approach to Egypt, he went out to receive them. The king ordered the princes and notable people to go out in the receiving party with Yusuf to meet Allah's Prophet Ya`qub, peace be upon him. It is said that the king also went out with them to meet Ya`qub. Yusuf said to his family, after they entered unto him and he took them to himself,
وَقَالَ ادْخُلُواْ مِصْرَ إِن شَآءَ اللَّهُ ءَامِنِينَ
(and said: "Enter Egypt, if Allah wills, in security.") He said to them, `enter Egypt', meaning, `reside in Egypt', and added, `if Allah wills, in security', in reference to the hardship and famine that they suffered. Allah said next,
ءَاوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ
(and he took his parents to himself) As-Suddi and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that his parents were his father and maternal aunt, as his mother had died long ago. Muhammad bin Ishaq and Ibn Jarir At-Tabari said, "His father and mother were both alive." Ibn Jarir added, "There is no evidence that his mother had died before then. Rather, the apparent words of the Qur'an testify that she was alive." This opinion has the apparent and suitable meaning that this story testifies to. Allah said next,
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ
(And he raised his parents to Al-'Arsh) he raised them to his bedstead where he sat, according to Ibn `Abbas, Mujahid and several others. Allah said,
وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدَا
(and they fell down before him prostrate.) Yusuf's parents and brothers prostrated before him, and they were eleven men,
وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ
(And he said: "O my father! This is the Ta'wil (interpretation) of my dream aforetime..."), in reference to the dream that he narrated to his father before,
إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا
(I saw (in a dream) eleven stars...) In the laws of these and previous Prophets, it was allowed for the people to prostrate before the men of authority, when they met them. This practice was allowed in the law of Adam until the law of `Isa, peace be upon them, but was later prohibited in our law. Islam made prostration exclusively for Allah Alone, the Exalted and Most Honored. The implication of this statement was collected from Qatadah and other scholars. When Mu`adh bin Jabal visited the Sham area, he found them prostrating before their priests. When he returned (to Al-Madinah), he prostrated before the Messenger of Allah ﷺ, who asked him,
«مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟»
(What is this, O, Mu`adh) Mu`adh said, "I saw that they prostrate before their priests. However, you, O Messenger of Allah, deserve more to be prostrated before." The Messenger ﷺ said,
«لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا»
(If I were to order anyone to prostrate before anyone else (among the creation), I would have ordered the wife to prostrate before her husband because of the enormity of his right on her.) Therefore, this practice was allowed in previous laws, as we stated. This is why they (Ya`qub and his wife and eleven sons) prostrated before Yusuf, who said at that time,
يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا
(O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime! My Lord has made it come true!) using the word, `Ta'wil', to describe what became of the matter, later on. Allah said in another Ayah,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ
(Await they just for its Ta'wil On the Day the event is finally fulfilled...), meaning, on the Day of Judgement what they were promised of good or evil will surely come to them. Yusuf said,
قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا
(My Lord has made it come true!) mentioning that Allah blessed him by making his dream come true,
وَقَدْ أَحْسَنَ بَى إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ
(He was indeed good to me, when He took me out of the prison, and brought you (all here) out of the bedouin life,) out of the desert, for they lived a bedouin life and raised cattle, according to Ibn Jurayj and others. He also said that they used to live in the Arava, Ghur area of Palestine, in Greater Syria. Yusuf said next,
مِن بَعْدِ أَن نَّزغَ الشَّيْطَـنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِى إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌ لِّمَا يَشَآءُ
(after Shaytan had sown enmity between me and my brothers. Certainly, my Lord is the Most Courteous and Kind unto whom He wills.) for when Allah wills something, He brings forth its reasons and elements of existence, then wills it into existence and makes it easy to attain,
إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(Truly, He! Only He is the All-Knowing.) what benefits His servants,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise.) in His statements, actions, decrees, preordain- ment and what He chooses and wills.
بھائیوں پر حضرت یوسف ؑ نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ حضرت یوسف ؑ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، انشاء اللہ پر امن اور بےخطر رہو گے اب شہر میں داخلے کے بعد آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور انہیں اونچے تخت پر بٹھایا۔ لیکن امام ابن جریر ؒ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی ؒ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کرلیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ ایوا اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے اوؤ الیہ احاہ میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے من اوی محدثا پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آجانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے، وہ حضرت یعقوب ؑ کی تشریف آوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دئے۔ جیسے کہ اہل مکہ کی قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان نے آپ سے شکایت کی اور بہت روئے پیٹے اور سفارش چاہی۔ عبد الرحمن کہتے ہیں حضرت یوسف ؑ کی والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔ اس وقت آپ کے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی خالہ صاحبہ آئی تھیں۔ لیکن امام ابن جریر اور امام محمد بن اسحاق ؒ کا قول ہے کہ آپ کی والدہ خود ہی زندہ موجود تھیں، ان کی موت پر کوئی صحیح دلیل نہیں اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ اس بات کو چاہتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ زندہ موجود تھیں، یہی بات ٹھیک بھی ہے۔ آپ نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت شاہی پر بٹھا لیا۔ اس وقت ماں باپ بھی اور گیارہ بھائی کل کے کل آپ کے سامنے سجدے میں گرپڑے۔ آپ نے فرمایا ابا جی لیجئے میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہوگئی یہ ہیں گیارہ ستارے اور یہ ہیں سورج چاند جو میرے سامنے سجدے میں ہیں۔ ان کی شرع میں یہ جائز تھی کہ بڑوں کو سلام کے ساتھ سجدہ کرتے تھے بلکہ حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک یہ بات جائز ہی رہی لیکن اس ملت محمدیہ میں اللہ تبارک وتعالی نے کسی اور کے لئے سوائے اپنی ذات پاک کے سجدے کو مطلقا حرام کردیا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالی نے اسے اپنے لئے ہی مخصوص کرلیا۔ حضرت قتادہ ؒ وغیرہ کے قول کا ماحصل مضمون یہی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ ملک شام گئے، وہاں انہوں نے دیکہا کہ شامی لوگ اپنے بڑوں کو سجدے کرتے ہیں یہ جب لوٹے تو انہوں نے حضور ﷺ کو سجدہ کیا، آب نے پوچھا، معاذ یہ کیا بات ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے اہل شام کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں کسی کے لئے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ بہ سبب اس کے بہت بڑے حق کے جو اس پر ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں حضور ﷺ کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبہی نہ مرے گا۔ الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لئے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہوگیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہوگیا۔ چناچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لئے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے آیت (یوم یاتی تاویلہ) پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاکنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔ آپ چونکہ جانوروں کے پالنے والے تھے، اس لئے عموما بادیہ میں ہی قیام رہتا تھا، فلسطین بھی شام کے جنگلوں میں ہے اکثر اوقات پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ اولاج میں حسمی کے نیچے رہا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، اونٹ بکریاں وغیرہ ساتھ رہتی تھیں۔ بھر فرماتے ہیں اس کے بعد کہ شیطان نے ہم میں پھوٹ ڈلوا دی تھی، اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اس کے ویسے ہی اسباب مہیا کردیتا ہے اور اسے آسان اور سہل کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اپنے افعال اقوال قضا و قدر مختار و مراد میں وہ باحکمت ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں یہ آخری مدت ہے۔ حضرت حسن ؒ سے روایت ہے کہ باپ بیٹے اسی برس کے بعد ملے تم خیال تو کرو کہ زمین پر حضرت یعقوب ؑ سے زیادہ اللہ کا کوئی محبوب بندہ نہ تھا۔ پھر بھی اتنی مدت انہیں فراق یوسف میں گزری، ہر وقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور دل میں غم کی موجیں اٹھتیں اور روایت میں ہے کہ یہ مدت تراسی سال کی تھی۔ فرماتے ہیں جب حضرت یوسف ؑ کنویں میں ڈالے گئے اس وقت آپ کی عمر سترہ سال کی تھی۔ اسی برس تک آپ باپ کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر ملاقات کے بعد تیئس برس زندہ رہے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں انتقال کیا۔ بقول قتادہ ؒ ترپن برس کے بعد باپ بیٹا ملے۔ ایک قول ہے کہ اٹھارہ سال ایک دوسرے سے دور رہے اور ایک قول ہے کہ چالیس سال کی جدائی رہی اور پھر مصر میں باپ سے ملنے کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جب مصر پہنچے ہیں ان کی تعداد صرف تریسٹھ کی تھی اور جب یہاں سے نکلے ہیں اس وقت ان کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کی تھی۔ مسروق کہتے ہیں آنے کے وقت یہ مع مرد و عورت تین سو نوے تھے، عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ جب یہ لوگ آئے کل چھیاسی تھے یعنی مرد عورت بوڑھے بچے سب ملا کر اور جب نکلے ہیں اس وقت ان کی گنتی چھ لاکھ سے اوپر اوپر تھی۔
100
View Single
وَرَفَعَ أَبَوَيۡهِ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدٗاۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأۡوِيلُ رُءۡيَٰيَ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّي حَقّٗاۖ وَقَدۡ أَحۡسَنَ بِيٓ إِذۡ أَخۡرَجَنِي مِنَ ٱلسِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلۡبَدۡوِ مِنۢ بَعۡدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بَيۡنِي وَبَيۡنَ إِخۡوَتِيٓۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٞ لِّمَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ
And he seated his parents on the throne, and they all prostrated before him; and Yusuf said, “O my father! This is the interpretation of my former dream; my Lord has made it true; and indeed He has bestowed favour upon me, when He brought me out of prison and brought you all from the village, after Satan had created a resentment between me and my brothers; indeed my Lord may make easy whatever He wills; undoubtedly He is the All Knowing, the Wise.”
اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اوپر تخت پر بٹھا لیا اور وہ (سب) یوسف (علیہ السلام) کے لئے سجدہ میں گر پڑے، اور یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اے ابا جان! یہ میرے (اس) خواب کی تعبیر ہے جو (بہت) پہلے آیا تھا (اکثر مفسرین کے نزدیک اسے چالیس سال کا عرصہ گزر گیا تھا) اور بیشک میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا ہے، اور بیشک اس نے مجھ پر (بڑا) احسان فرمایا جب مجھے جیل سے نکالا اور آپ سب کو صحرا سے (یہاں) لے آیا اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد پیدا کر دیا تھا، اور بیشک میرا رب جس چیز کو چاہے (اپنی) تدبیر سے آسان فرما دے، بیشک وہی خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf welcomes His Parents - His Dream comes True
Allah states that Ya`qub went to Yusuf in Egypt. Yusuf had asked his brothers to bring all of their family, and they all departed their area and left Kana`an to Egypt. When Yusuf received news of their approach to Egypt, he went out to receive them. The king ordered the princes and notable people to go out in the receiving party with Yusuf to meet Allah's Prophet Ya`qub, peace be upon him. It is said that the king also went out with them to meet Ya`qub. Yusuf said to his family, after they entered unto him and he took them to himself,
وَقَالَ ادْخُلُواْ مِصْرَ إِن شَآءَ اللَّهُ ءَامِنِينَ
(and said: "Enter Egypt, if Allah wills, in security.") He said to them, `enter Egypt', meaning, `reside in Egypt', and added, `if Allah wills, in security', in reference to the hardship and famine that they suffered. Allah said next,
ءَاوَى إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ
(and he took his parents to himself) As-Suddi and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that his parents were his father and maternal aunt, as his mother had died long ago. Muhammad bin Ishaq and Ibn Jarir At-Tabari said, "His father and mother were both alive." Ibn Jarir added, "There is no evidence that his mother had died before then. Rather, the apparent words of the Qur'an testify that she was alive." This opinion has the apparent and suitable meaning that this story testifies to. Allah said next,
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ
(And he raised his parents to Al-'Arsh) he raised them to his bedstead where he sat, according to Ibn `Abbas, Mujahid and several others. Allah said,
وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدَا
(and they fell down before him prostrate.) Yusuf's parents and brothers prostrated before him, and they were eleven men,
وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ
(And he said: "O my father! This is the Ta'wil (interpretation) of my dream aforetime..."), in reference to the dream that he narrated to his father before,
إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا
(I saw (in a dream) eleven stars...) In the laws of these and previous Prophets, it was allowed for the people to prostrate before the men of authority, when they met them. This practice was allowed in the law of Adam until the law of `Isa, peace be upon them, but was later prohibited in our law. Islam made prostration exclusively for Allah Alone, the Exalted and Most Honored. The implication of this statement was collected from Qatadah and other scholars. When Mu`adh bin Jabal visited the Sham area, he found them prostrating before their priests. When he returned (to Al-Madinah), he prostrated before the Messenger of Allah ﷺ, who asked him,
«مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟»
(What is this, O, Mu`adh) Mu`adh said, "I saw that they prostrate before their priests. However, you, O Messenger of Allah, deserve more to be prostrated before." The Messenger ﷺ said,
«لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِعِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا»
(If I were to order anyone to prostrate before anyone else (among the creation), I would have ordered the wife to prostrate before her husband because of the enormity of his right on her.) Therefore, this practice was allowed in previous laws, as we stated. This is why they (Ya`qub and his wife and eleven sons) prostrated before Yusuf, who said at that time,
يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا
(O my father! This is the Ta'wil of my dream aforetime! My Lord has made it come true!) using the word, `Ta'wil', to describe what became of the matter, later on. Allah said in another Ayah,
هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ
(Await they just for its Ta'wil On the Day the event is finally fulfilled...), meaning, on the Day of Judgement what they were promised of good or evil will surely come to them. Yusuf said,
قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا
(My Lord has made it come true!) mentioning that Allah blessed him by making his dream come true,
وَقَدْ أَحْسَنَ بَى إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ
(He was indeed good to me, when He took me out of the prison, and brought you (all here) out of the bedouin life,) out of the desert, for they lived a bedouin life and raised cattle, according to Ibn Jurayj and others. He also said that they used to live in the Arava, Ghur area of Palestine, in Greater Syria. Yusuf said next,
مِن بَعْدِ أَن نَّزغَ الشَّيْطَـنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِى إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌ لِّمَا يَشَآءُ
(after Shaytan had sown enmity between me and my brothers. Certainly, my Lord is the Most Courteous and Kind unto whom He wills.) for when Allah wills something, He brings forth its reasons and elements of existence, then wills it into existence and makes it easy to attain,
إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ
(Truly, He! Only He is the All-Knowing.) what benefits His servants,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise.) in His statements, actions, decrees, preordain- ment and what He chooses and wills.
بھائیوں پر حضرت یوسف ؑ نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ حضرت یوسف ؑ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، انشاء اللہ پر امن اور بےخطر رہو گے اب شہر میں داخلے کے بعد آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور انہیں اونچے تخت پر بٹھایا۔ لیکن امام ابن جریر ؒ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی ؒ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کرلیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ ایوا اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے اوؤ الیہ احاہ میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے من اوی محدثا پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آجانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے، وہ حضرت یعقوب ؑ کی تشریف آوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دئے۔ جیسے کہ اہل مکہ کی قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان نے آپ سے شکایت کی اور بہت روئے پیٹے اور سفارش چاہی۔ عبد الرحمن کہتے ہیں حضرت یوسف ؑ کی والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔ اس وقت آپ کے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی خالہ صاحبہ آئی تھیں۔ لیکن امام ابن جریر اور امام محمد بن اسحاق ؒ کا قول ہے کہ آپ کی والدہ خود ہی زندہ موجود تھیں، ان کی موت پر کوئی صحیح دلیل نہیں اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ اس بات کو چاہتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ زندہ موجود تھیں، یہی بات ٹھیک بھی ہے۔ آپ نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت شاہی پر بٹھا لیا۔ اس وقت ماں باپ بھی اور گیارہ بھائی کل کے کل آپ کے سامنے سجدے میں گرپڑے۔ آپ نے فرمایا ابا جی لیجئے میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہوگئی یہ ہیں گیارہ ستارے اور یہ ہیں سورج چاند جو میرے سامنے سجدے میں ہیں۔ ان کی شرع میں یہ جائز تھی کہ بڑوں کو سلام کے ساتھ سجدہ کرتے تھے بلکہ حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک یہ بات جائز ہی رہی لیکن اس ملت محمدیہ میں اللہ تبارک وتعالی نے کسی اور کے لئے سوائے اپنی ذات پاک کے سجدے کو مطلقا حرام کردیا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالی نے اسے اپنے لئے ہی مخصوص کرلیا۔ حضرت قتادہ ؒ وغیرہ کے قول کا ماحصل مضمون یہی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ ملک شام گئے، وہاں انہوں نے دیکہا کہ شامی لوگ اپنے بڑوں کو سجدے کرتے ہیں یہ جب لوٹے تو انہوں نے حضور ﷺ کو سجدہ کیا، آب نے پوچھا، معاذ یہ کیا بات ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے اہل شام کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں کسی کے لئے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ بہ سبب اس کے بہت بڑے حق کے جو اس پر ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں حضور ﷺ کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبہی نہ مرے گا۔ الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لئے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہوگیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہوگیا۔ چناچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لئے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے آیت (یوم یاتی تاویلہ) پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاکنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔ آپ چونکہ جانوروں کے پالنے والے تھے، اس لئے عموما بادیہ میں ہی قیام رہتا تھا، فلسطین بھی شام کے جنگلوں میں ہے اکثر اوقات پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ اولاج میں حسمی کے نیچے رہا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، اونٹ بکریاں وغیرہ ساتھ رہتی تھیں۔ بھر فرماتے ہیں اس کے بعد کہ شیطان نے ہم میں پھوٹ ڈلوا دی تھی، اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اس کے ویسے ہی اسباب مہیا کردیتا ہے اور اسے آسان اور سہل کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اپنے افعال اقوال قضا و قدر مختار و مراد میں وہ باحکمت ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں یہ آخری مدت ہے۔ حضرت حسن ؒ سے روایت ہے کہ باپ بیٹے اسی برس کے بعد ملے تم خیال تو کرو کہ زمین پر حضرت یعقوب ؑ سے زیادہ اللہ کا کوئی محبوب بندہ نہ تھا۔ پھر بھی اتنی مدت انہیں فراق یوسف میں گزری، ہر وقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور دل میں غم کی موجیں اٹھتیں اور روایت میں ہے کہ یہ مدت تراسی سال کی تھی۔ فرماتے ہیں جب حضرت یوسف ؑ کنویں میں ڈالے گئے اس وقت آپ کی عمر سترہ سال کی تھی۔ اسی برس تک آپ باپ کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر ملاقات کے بعد تیئس برس زندہ رہے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں انتقال کیا۔ بقول قتادہ ؒ ترپن برس کے بعد باپ بیٹا ملے۔ ایک قول ہے کہ اٹھارہ سال ایک دوسرے سے دور رہے اور ایک قول ہے کہ چالیس سال کی جدائی رہی اور پھر مصر میں باپ سے ملنے کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جب مصر پہنچے ہیں ان کی تعداد صرف تریسٹھ کی تھی اور جب یہاں سے نکلے ہیں اس وقت ان کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کی تھی۔ مسروق کہتے ہیں آنے کے وقت یہ مع مرد و عورت تین سو نوے تھے، عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ جب یہ لوگ آئے کل چھیاسی تھے یعنی مرد عورت بوڑھے بچے سب ملا کر اور جب نکلے ہیں اس وقت ان کی گنتی چھ لاکھ سے اوپر اوپر تھی۔
101
View Single
۞رَبِّ قَدۡ ءَاتَيۡتَنِي مِنَ ٱلۡمُلۡكِ وَعَلَّمۡتَنِي مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
“O my Lord! you have given me a kingdom* and have taught me how to interpret some events; O Creator of the heavens and the earth – you are my Supporter in the world and in the Hereafter; cause me to die as a Muslim, and unite me with those who deserve Your proximity.” (* Prophethood and the rule over Egypt. Prophet Yusuf said this prayer while his death approached him.)
اے میرے رب! بیشک تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کے علم سے نوازا، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے! تو دنیا میں (بھی) میرا کارساز ہے اور آخرت میں (بھی)، مجھے حالتِ اسلام پر موت دینا اور مجھے صالح لوگوں کے ساتھ ملا دے
Tafsir Ibn Kathir
Yusuf begs Allah to die as A Muslim
This is the invocation of Yusuf, the truthful one, to his Lord the Exalted and Most Honored. He invoked Allah after His favor was complete on him by being reunited with his parents and brothers, after He had bestowed on him prophethood and kingship. He begged his Lord the Exalted and Ever High, that as He has perfected His bounty on him in this life, to continue it until the Hereafter. He begged Him that, when he dies, he dies as a Muslim, as Ad-Dahhak said, and to join him with the ranks of the righteous, with his brethren the Prophets and Messengers, may Allah's peace and blessings be on them all. It is possible that Yusuf, peace be upon him, said this supplication while dying. In the Two Sahihs it is recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her, said that while dying, the Messenger of Allah ﷺ was raising his finger and said - thrice,
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
ثَلَاثًا (O Allah to Ar-Rafiq Al-A`la the uppermost, highest company in heaven.) It is also possible that long before he died, Yusuf begged Allah to die as a Muslim and be joined with the ranks of the righteous.
نبوت مل چکی، بادشاہت عطا ہوگئی، دکھ کٹ گئے، ماں باپ اور بھائی سب سے ملاقات ہوگئی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہے کہ جیسے یہ دنیوں نعمتیں تو نے مجھ پر پوری کی ہیں، ان نعمتوں کو آخرت میں پوری فرما، جب بھی موت آئے تو اسلام پر اور تیری فرمانبرداری پر آئے اور میں نیک لوگوں میں ملا دیا جاؤں اور نبیوں اور رسولوں میں صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین بہت ممکن ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی یہ دعا بوقت وفات ہو۔ جیسے کہ بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ثابت ہے کہ انتقال کے وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی اٹھائی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ رفیق اعلی میں ملا دے۔ تین مرتبہ آپ نے یہی دعا کی۔ ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی اس دعا کا مقصود یہ ہے کہ جب بھی وفات آئے اسلام پر آئے اور نیکوں میں مل جاؤں۔ یہ نہیں کہ اسی وقت آپ نے یہ دعا اپنی موت کے لئے کی ہو۔ اس کی بالکل وہی مثال ہے جو کوئی کسی کو دعا دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تجھے اسلام پر موت دے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ ابھی ہی تجھے موت آجائے۔ یا جیسے ہم مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں تیرے دین پر ہی موت آئے یا ہماری یہی دعا کہ اللہ مجھے اسلام پر مار اور نیک کاروں میں ملا۔ اور اگر یہی مراد ہو کہ واقعی آپ نے اسی وقت موت مانگی تو ممکن ہے کہ یہ بات اس شریعت میں جائز ہو۔ چناچہ قتادہ ؒ کا قول ہے کہ جب آپ کے تمام کام بن گئے، آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں، ملک، مال، عزت، آبرو، خاندان، برادری، بادشاہت سب مل گئے تو آپ کو صالحین کی جماعت میں پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہی سب سے پہلے اس دعا کے مانگنے والے ہیں، ممکن ہے اس سے مراد ابن عباس کی یہ ہو کہ اس دعا کو سب سے پہلے کرنے والے یعنی خاتمہ اسلام پر ہونے کی دعا کے سب سے پہلے مانگنے والے آپ ہی تھے۔ جیسے کہ یہ دعا کو سب سے پہلے کرنے والے یعنی خاتمہ اسلام پر ہونے کی دعا کے سب سے پہلے مانگنے والے آپ ہی تھے۔ جیسے کہ یہ دعا رب اففرلی ولوالدی سب سے پہلے حضرت نوح ؑ نے مانگی تھی۔ باوجود اس کے بھی اگر یہی کہا جائے کہ حضرت یوسف ؑ نے موت کی ہی دعا کی تھی تو ہم کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ ان کے دین میں جائز ہو۔ ہمارے ہاں تو سخت ممنوع ہے۔ مسند میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی کسی سختی اور ضرر سے گھبرا کر موت کی آرزو نہ کرے اگر اسے ایسی ہی تمنا کرنی ضروری ہے تو یوں کہے اے اللہ جب تک میری حیات تیرے علم میں میرے لئے بہتر ہے، مجھے زندہ رکھ اور جب تیرے علم میں میری موت میرے لئے بہتر ہو، مجھے موت دے دے۔ بخاری مسلم کی اسی حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی کسی سختی کے نازل ہونے کی وجہ سے موت کی تمنا ہرگز نہ کرے اگر وہ نیک ہے تو اس کی زندگی اس کی نیکیاں بڑھائے گی اور اگر وہ بد ہے تو بہت ممکن ہے کہ زندگی میں کسی وقت توبہ کی توفیق ہوجائے بلکہ یوں کہے اے اللہ جب تک میرے لئے حیات بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ۔ مسند احمد میں ہے ہم ایک مرتبہ حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور ہمارے دل گرما دئے۔ اس وقت ہم میں سب سے زیادہ رونے والے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ تھے، روتے ہی روتے ان کی زبان سے نکل گیا کہ کاش کہ میں مرجاتا آپ نے فرمایا سعد میرے سامنے موت کی تمنا کرتے ہو ؟ تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے۔ پھر فرمایا اے سعد اگر تو جنت کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو جس قدر عمر بڑھے گی اور نیکیاں زیادہ ہوں گی، تیرے حق میں بہتر ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی ہرگز ہرگز موت کی تمنا نہ کرے نہ اس کی دعا کرے اس سے پہلے کہ وہ آئے۔ ہاں اگر کوئی ایسا ہو کہ اسے اپنے اعمال کا وثوق اور ان پر یقین ہو۔ سنو تم میں سے جو مرتا ہے، اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں۔ مومن کے اعمال اس کی نیکیاں ہی بڑھاتے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ یہ حکم اس مصیبت میں ہے جو دنیوی ہو اور اسی کی ذات کے متعلق ہو۔ لیکن اگر فتنہ مذہبی ہو، مصیبت دینی ہو، تو موت کا سوال جائز ہے۔ جیسے کہ فرعون کے جادو گروں نے اس وقت دعا کی تھی جب کہ فرعون انہیں قتل کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ کہا تھا کہ اللہ ہم کو صبر عطا کر اور ہمیں اسلام کی حالت میں موت دے۔ اسی طرح حضرت مریم (علیہا السلام) جب درد زہ سے گھبرا کر کھجور کے تنے تلے گئیں تو بےساختہ منہ سے نکل گیا کہ کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور آج تو لوگوں کی زبان ودل سے بھلا دی گئی ہوتی۔ یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب معلوم ہوا کہ لوگ انہیں زنا کی تہمت لگا رہے ہیں، اس لئے کہ آپ خاوند والی نہ تھیں اور حمل ٹھر گیا تھا۔ پھر بچہ پیدا ہوا تھا اور دنیا نے شور مچایا تھا کہ مریم بڑی بد عورت ہے، نہ ماں بری نہ باپ بدکار۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی مخلصی کردی اور اپنے بندے حضرت عیسیٰ ؑ کو گہوارے میں زبان دی اور مخلوق کو زبردست معجزہ اور ظاہر نشان دکھا دیا صلوات اللہ وسلامہ علیہا ایک حدیث میں ایک لمبی دعا کا ذکر ہے جس میں یہ جملہ بھی ہے کہ اللہ جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنہ کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا کرنے سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دو چیزوں کو انسان اپنے حق میں بری جانتا ہے ؛ موت کو بری جانتا ہے اور موت مومن کے لئے فتنے سے بہتر ہے۔ مال کی کمی کو انسان اپنے لئے برائی خیال کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کی کمی ہے الغرض دینی فتنوں کے وقت طلب موت جائز ہے۔ چناچہ حضرت علی ؓ نے اپنی خلافت کے آخری زمانے میں جب دیکھا کہ لوگوں کی شرارتیں کسی طرح ختم نہیں ہوتیں اور کسی طرح اتفاق نصیب نہیں ہوتا تو دعا کی کہ الہ العالمین مجھے اب تو اپنی طرف قبض کرلے۔ یہ لوگ مجھ سے اور میں ان سے تنگ آچکا ہوں۔ حضرت امام بخاری ؒ پر بھی جب فتنوں کی زیادتی ہوئی اور دین کا سنبھالنا مشکل ہو پڑا اور امیر خراسان کے ساتھ بڑے معرکے پیش آئے تو آپ نے جناب باری سے دعا کی کہ اللہ اب مجھے اپنے پاس بلا لے۔ ایک حدیث میں ہے کہ فتنوں کے زمانوں میں انسان قبر کو دیکھ کر کہے گا کاش کہ میں اس جگہ ہوتا کیونکہ فتنوں بلاؤں زلزلوں اور سختیوں نے ہر ایک مفتون کو فتنے میں ڈال رکھا ہوگا۔ ابن جریر میں ہے کہ جب حضرت یعقوب ؑ نے اپنے ان بیٹوں کے لئے جن سے بہت سے قصور سرزد ہوچکے تھے۔ استغفار کیا تو اللہ نے ان کا استغفار قبول کیا اور انہیں بخش دیا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب سارا خاندان مصر میں جمع ہوگیا تو برادران یوسف نے ایک روز آپس میں کہا کہ ہم نے ابا جان کو جتنا ستایا ہے ظاہر ہے ہم نے بھائی یوسف پر جو ظلم توڑے ہیں، ظاہر ہیں۔ اب گویہ دونوں بزرگ ہمیں کچھ نہ کہیں اور ہماری خطا سے درگزر فرما جائیں۔ لیکن کچھ خیال بھی ہے کہ اللہ کے ہاں ہماری کیسی درگت بنے گی ؟ آخر یہ ٹھیری کہ آؤ ابا جی کے پاس چلیں اور ان سے التجائیں کریں۔ چناچہ سب مل کر آپ کے پاس آئے۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ بھی باپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آتے ہی انہوں نے بیک زبان کہا کہ حضور ہم آپ کے پاس ایک ایسے اہم امر کے لئے آج آئے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسے اہم کام کے لئے آپ کے پاس نہیں آئے تھے، ابا جی اور اے بھائی صاحب ہم اس وقت ایسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہمارے دل اس قدر کپکپا رہے ہیں کہ آج سے پہلے ہماری ایسی حالت کبھی نہیں ہوئی۔ الغرض کچھ اس طرح نرمی اور لجاجت کی کہ دونوں بزرگوں کا دل بہر آیا ظاہر ہے کہ انبیا کے دلوں میں تمام مخلوق سے زیادہ رحم اور نرمی ہوتی ہے۔ پوچھا کہ آخر تم کیا کہتے ہو اور ایسی تم پر کیا بپتا پڑی ہے ؟ سب نے کہا آپ کو خوب معلوم ہے کہ ہم نے آپ کو کس قدر ستایا، ہم نے بھائی پر کیسے ظلم وستم ڈھائے ؟ دونوں نے کہا ہاں معلوم ہے پہر ؟ کہا کیا یہ درست ہے کہ آپ دونوں نے ہماری تقصیر معاف فرما دی ؟ ہاں بالکل درست ہے۔ ہم دل سے معاف کرچکے۔ تب لڑکوں نے کہا، آپ کا معاف کردینا بھی بےسود ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف نہ کر دے۔ پوچھا اچھا پھر مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ جواب دیا یہی کہ آپ ہمارے لئے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں، یہاں تک کہ بذریعہ وحی آپ کو معلوم ہوجائے کہ اللہ نے ہمیں بخش دیا تو البتہ ہماری آنکھوں میں نور اور دل میں سرور آسکتا ہے ورنہ ہم تو دونوں جہاں سے گئے گزرے۔ اس وقت آپ کھڑے ہوگئے، قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے حضرت یوسف ؑ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، بڑے ہی خشوع خضوع سے جناب باری میں گڑگڑا گڑا گڑا کر دعائیں شروع کیں۔ حضرت یعقوب ؑ دعا کرتے تھے اور حضرت یوسف آمین کہتے تھے، کہتے ہیں کہ بیس سال تک دعا مقبول نہ ہوئی۔ آخر بیس سال تک جب کہ بھائیوں کا خون اللہ کے خوف سے خشک ہونے لگا، تب وحی آئی اور قبولیت دعا اور بخشش فرزندان کی بشارت سنائی گئی بلکہ یہ بھی فرمایا گیا کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ تیرے بعد نبوت بھی انہیں ملے گی۔ یہ قول حضرت انس ؓ کا ہے اور اس میں دو راوی ضعیف ہیں یزید رقاشی۔ صالح مری۔ سدی ؒ فرماتے ہیں حضرت یعقوب ؑ نے اپنی موت کے وقت حضرت یوسف ؑ کو وصیت کی کہ مجھے ابراہیم واسحاق کی جگہ میں دفن کرنا۔ چناچہ بعد از انتقال آپ نے یہ وصیت پوری کی اور ملک شام کی زمین میں آپ کے باپ دادا کے پاس دفن کیا۔ علیہم الصلوات والسلام
102
View Single
ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۖ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ أَجۡمَعُوٓاْ أَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُونَ
These are some tidings of the Hidden which We divinely reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not with them when they set their task and when they were scheming.
(اے حبیبِ مکرّم!) یہ (قصّہ) غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم آپ کی طرف وحی فرما رہے ہیں، اور آپ (کوئی) ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ (برادرانِ یوسف) اپنی سازشی تدبیر پر جمع ہو رہے تھے اور وہ مکر و فریب کر رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
This Story is a Revelation from Allah
Allah narrated to Muhammad ﷺ, the story of Yusuf and his brothers and how Allah raised him over them, giving him the better end, triumph, the sovereignty and wisdom (i.e., prophethood), even though they tried to harm and kill him. Allah said, `This and similar stories are part of the unseen incidents of the past, O Muhammad,
نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(which We reveal to you.) and inform you of, O Muhammad, because it carries a lesson, for you to draw from and a reminder to those who defy you.' Allah said next,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ
`(You were not (present) with them), you did not witness their conference nor saw them,
إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَهُمْ
(when they arranged their plan together,) to throw Yusuf into the well,
وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(and (while) they were plotting) against him. We taught you all this through Our Revelation which We sent down to you.' Allah said in other Ayat,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ
(You were not with them, when they cast lots with their pens..) and,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِىِّ إِذْ قَضَيْنَآ إِلَى مُوسَى الاٌّمْرَ
(And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment...) 28:44 until,
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا
(And you were not at the side of the Tur when We did call.)28:46 Allah also said,
وَمَا كُنتَ ثَاوِياً فِى أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our verses to them.) 28:45 Allah states that Muhammad is His Messenger and that He has taught him the news of what occurred in the past, which carry lessons for people to draw from, so that they acquire their safety in their religious affairs as well as their worldly affairs. Yet, most people did not and will not believe, so Allah said,
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) Allah said in similar Ayat,
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى الاٌّرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path) 6:116, and,
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers.) 26:8 Allah said next,
وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(And no reward you ask of them for it;) Allah says, `You, O Muhammad, do not ask them in return for this advice and your call to all that is good and righteous, for any price or compensation for delivering it. Rather, you do so seeking Allah's Face and to deliver good and sincere advice to His creatures,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَـلَمِينَ
(it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the `Alamin (men and Jinn)) with which they remember, receive guidance and save themselves in this life and the Hereafter.'
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ01106) 6۔ الانعام :116) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
103
View Single
وَمَآ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِينَ
And however much you long for, most men will not accept faith.
اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں اگرچہ آپ (کتنی ہی) خواہش کریں
Tafsir Ibn Kathir
This Story is a Revelation from Allah
Allah narrated to Muhammad ﷺ, the story of Yusuf and his brothers and how Allah raised him over them, giving him the better end, triumph, the sovereignty and wisdom (i.e., prophethood), even though they tried to harm and kill him. Allah said, `This and similar stories are part of the unseen incidents of the past, O Muhammad,
نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(which We reveal to you.) and inform you of, O Muhammad, because it carries a lesson, for you to draw from and a reminder to those who defy you.' Allah said next,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ
`(You were not (present) with them), you did not witness their conference nor saw them,
إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَهُمْ
(when they arranged their plan together,) to throw Yusuf into the well,
وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(and (while) they were plotting) against him. We taught you all this through Our Revelation which We sent down to you.' Allah said in other Ayat,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ
(You were not with them, when they cast lots with their pens..) and,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِىِّ إِذْ قَضَيْنَآ إِلَى مُوسَى الاٌّمْرَ
(And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment...) 28:44 until,
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا
(And you were not at the side of the Tur when We did call.)28:46 Allah also said,
وَمَا كُنتَ ثَاوِياً فِى أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our verses to them.) 28:45 Allah states that Muhammad is His Messenger and that He has taught him the news of what occurred in the past, which carry lessons for people to draw from, so that they acquire their safety in their religious affairs as well as their worldly affairs. Yet, most people did not and will not believe, so Allah said,
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) Allah said in similar Ayat,
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى الاٌّرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path) 6:116, and,
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers.) 26:8 Allah said next,
وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(And no reward you ask of them for it;) Allah says, `You, O Muhammad, do not ask them in return for this advice and your call to all that is good and righteous, for any price or compensation for delivering it. Rather, you do so seeking Allah's Face and to deliver good and sincere advice to His creatures,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَـلَمِينَ
(it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the `Alamin (men and Jinn)) with which they remember, receive guidance and save themselves in this life and the Hereafter.'
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ01106) 6۔ الانعام :116) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
104
View Single
وَمَا تَسۡـَٔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
You do not ask them any fee in return for it; this is not but an advice to the entire world.
اور آپ ان سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی صلہ تو نہیں مانگتے، یہ قرآن جملہ جہان والوں کے لئے نصیحت ہی تو ہے
Tafsir Ibn Kathir
This Story is a Revelation from Allah
Allah narrated to Muhammad ﷺ, the story of Yusuf and his brothers and how Allah raised him over them, giving him the better end, triumph, the sovereignty and wisdom (i.e., prophethood), even though they tried to harm and kill him. Allah said, `This and similar stories are part of the unseen incidents of the past, O Muhammad,
نُوحِيهِ إِلَيْكَ
(which We reveal to you.) and inform you of, O Muhammad, because it carries a lesson, for you to draw from and a reminder to those who defy you.' Allah said next,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ
`(You were not (present) with them), you did not witness their conference nor saw them,
إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَهُمْ
(when they arranged their plan together,) to throw Yusuf into the well,
وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(and (while) they were plotting) against him. We taught you all this through Our Revelation which We sent down to you.' Allah said in other Ayat,
وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ
(You were not with them, when they cast lots with their pens..) and,
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِىِّ إِذْ قَضَيْنَآ إِلَى مُوسَى الاٌّمْرَ
(And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment...) 28:44 until,
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا
(And you were not at the side of the Tur when We did call.)28:46 Allah also said,
وَمَا كُنتَ ثَاوِياً فِى أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our verses to them.) 28:45 Allah states that Muhammad is His Messenger and that He has taught him the news of what occurred in the past, which carry lessons for people to draw from, so that they acquire their safety in their religious affairs as well as their worldly affairs. Yet, most people did not and will not believe, so Allah said,
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) Allah said in similar Ayat,
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى الاٌّرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path) 6:116, and,
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers.) 26:8 Allah said next,
وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(And no reward you ask of them for it;) Allah says, `You, O Muhammad, do not ask them in return for this advice and your call to all that is good and righteous, for any price or compensation for delivering it. Rather, you do so seeking Allah's Face and to deliver good and sincere advice to His creatures,
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَـلَمِينَ
(it (the Qur'an) is no less than a Reminder unto the `Alamin (men and Jinn)) with which they remember, receive guidance and save themselves in this life and the Hereafter.'
حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ01106) 6۔ الانعام :116) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔
105
View Single
وَكَأَيِّن مِّنۡ ءَايَةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ يَمُرُّونَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُونَ
And how many signs exist in the heavens and the earth, over which most people pass and remain unaware of them!
اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان سے صرفِ نظر کئے ہوئے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
People neglect to ponder the Signs before Them
Allah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn `Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, `Who created the heavens Who created the earth Who created the mountains' They say, `Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, `Ata, `Ikrimah, Ash-Sha`bi, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13 This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that `Abdullah bin Mas`ud said, "I said, `O Allah's Messenger! What is the greatest sin' He said,
«أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك»
(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,
إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ يُخَـدِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلَوةِ قَامُواْ كُسَالَى يُرَآءُونَ النَّاسَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلِيلاً
(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.) 4:142 There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that `Asim bin Abi An-Najud said that `Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn `Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet said,
«مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَك»
(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْك»
(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet said,
«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّل»
(Verily, At-Tiyarah omen is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,
أَفَأَمِنُواْ أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ
(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah) Allah asks, `Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not' Allah said in other `Ayat,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment) Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health) Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.) 16:45-47 and,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah except the people who are the losers.) 7:97-99)
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت ﷺ فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود ؓ نے رسالت پناہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ (ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) (مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ ؑ نے دریافت کیا حضور ﷺ پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر ؓ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم (مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ)ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔)فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙ) 16۔ النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
106
View Single
وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ
And most of them are such that they do not believe in Allah except while ascribing partners (to Him)!
اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر یہ کہ وہ مشرک ہیں
Tafsir Ibn Kathir
People neglect to ponder the Signs before Them
Allah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn `Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, `Who created the heavens Who created the earth Who created the mountains' They say, `Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, `Ata, `Ikrimah, Ash-Sha`bi, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13 This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that `Abdullah bin Mas`ud said, "I said, `O Allah's Messenger! What is the greatest sin' He said,
«أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك»
(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,
إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ يُخَـدِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلَوةِ قَامُواْ كُسَالَى يُرَآءُونَ النَّاسَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلِيلاً
(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.) 4:142 There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that `Asim bin Abi An-Najud said that `Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn `Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet said,
«مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَك»
(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْك»
(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet said,
«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّل»
(Verily, At-Tiyarah omen is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,
أَفَأَمِنُواْ أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ
(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah) Allah asks, `Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not' Allah said in other `Ayat,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment) Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health) Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.) 16:45-47 and,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah except the people who are the losers.) 7:97-99)
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت ﷺ فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود ؓ نے رسالت پناہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ (ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) (مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ ؑ نے دریافت کیا حضور ﷺ پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر ؓ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم (مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ)ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔)فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙ) 16۔ النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
107
View Single
أَفَأَمِنُوٓاْ أَن تَأۡتِيَهُمۡ غَٰشِيَةٞ مِّنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوۡ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
Do they remain complacent over Allah’s punishment coming and surrounding them, or the Last Day coming suddenly upon them whilst they are unaware?
کیا وہ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر اللہ کے عذاب کی چھا جانے والی آفت آجائے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
Tafsir Ibn Kathir
People neglect to ponder the Signs before Them
Allah states that most people do not think about His signs and proofs of His Oneness that He created in the heavens and earth. Allah created brilliant stars and rotating heavenly objects and planets, all made subservient. There are many plots of fertile land next to each other on earth, and gardens, solid mountains, lively oceans, with their waves smashing against each other, and spacious deserts. There are many live creatures and others that have died; and animals, plants and fruits that are similar in shape, but different in taste, scent, color and attributes. All praise is due to Allah the One and Only, Who created all types of creations, Who Alone will remain and last forever. It is He Who is unique in His Names and Attributes. Allah said next,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) Ibn `Abbas commented, "They have a part of faith, for when they are asked, `Who created the heavens Who created the earth Who created the mountains' They say, `Allah did.' Yet, they associate others with Him in worship." Similar is said by Mujahid, `Ata, `Ikrimah, Ash-Sha`bi, Qatadah, Ad-Dahhak and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. In the Sahih, it is recorded that during the Hajj season, the idolators used to say in their Talbiyah: "Here we rush to Your service. You have no partners with You, except a partner with You whom You own but he owns not!" Allah said in another Ayah,
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) 31:13 This indeed is the greatest type of Shirk, associating others with Allah in worship. It is recorded in the Two Sahihs that `Abdullah bin Mas`ud said, "I said, `O Allah's Messenger! What is the greatest sin' He said,
«أَنْ تَجْعَلَ للهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَك»
(That you call a rival to Allah while He alone created you.)" Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) "This is the hypocrite; if he performs good deeds, he does so to show off with the people, and he is an idolator while doing this." Al-Hasan was referring to Allah's statement,
إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ يُخَـدِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلَوةِ قَامُواْ كُسَالَى يُرَآءُونَ النَّاسَ وَلاَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلاَّ قَلِيلاً
(Verily, the hypocrites seek to deceive Allah, but it is He Who deceives them. And when they stand up for As-Salah, they stand with laziness and to be seen of men, and they do not remember Allah but little.) 4:142 There is another type of hidden Shirk that most people are unaware of. Hammad bin Salamah narrated that `Asim bin Abi An-Najud said that `Urwah said, "Hudhayfah visited an ill man and saw a rope tied around his arm, so he ripped it off while reciting,
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلاَّ وَهُمْ مُّشْرِكُونَ
(And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him.) In a Hadith, from Ibn `Umar collected by At-Tirmidhi who said it was Hasan, the Prophet said,
«مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ أَشْرَك»
(He who swears by other than Allah, commits Shirk.) Imam Ahmad, Abu Dawud and other scholars of Hadith narrated that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْك»
(Verily, Ar-Ruqa, At-Tama'im and At-Tiwalah are all acts of Shirk.) In another narration collected by Ahmad and Abu Dawud, the Prophet said,
«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّل»
(Verily, At-Tiyarah omen is Shirk; everyone might feel a glimpse of it, but Allah dissipates it with Tawakkul.)" Allah said next,
أَفَأَمِنُواْ أَن تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللَّهِ
(Do they then feel secure from the coming against them of the covering veil of the torment of Allah) Allah asks, `Do these idolators who associate others with Allah in the worship, feel secure from the coming of an encompassing torment from where they perceive not' Allah said in other `Ayat,
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُواْ السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الاٌّرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ - أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Do then those who devise evil plots feel secure that Allah will not sink them into the earth, or that the torment will not seize them from directions they perceive not Or that He may catch them in the midst of their going to and from, so that there be no escape for them (from Allah's punishment) Or that He may catch them with gradual wasting (of their wealth and health) Truly, Your Lord is indeed full of kindness, Most Merciful.) 16:45-47 and,
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَـسِرُونَ
(Did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns then feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing Did they then feel secure against the plan of Allah None feels secure from the plan of Allah except the people who are the losers.) 7:97-99)
بیان ہو رہا ہے قدرت کی بہت سی نشانیاں، وحدانیت کی بہت سے گواہیاں، دن رات ان کے سامنے ہیں، پھر بھی اکثر لوگ نہایت بےپرواہی اور سبک سری سے ان میں کبھی غور وفکر نہیں کرتے۔ کیا یہ اتنا وسیع آسمان، کیا یہ اس قدر پھیلی ہوئی، زمین، کیا یہ روشن ستارے یہ گردش والا سورج، چاند، یہ درخت اور یہ پہاڑ، یہ کھیتیاں اور سبزیاں، یہ تلاطم برپا کرنے والے سمندر، یہ بزور چلنے والی ہوائیں، یہ مختلف قسم کے رنگا رنگ میوے، یہ الگ الگ غلے اور قدرت کی بیشمار نشانیاں ایک عقل مند کو اس قدر بھی کام نہیں آسکتیں ؟ کہ وہ ان سے اپنے اللہ کی جو احد ہے، صمد ہے، فرد ہے، واحد ہے، لا شریک ہے، قادر وقیوم ہے، باقی اور کافی ہے اس ذات کو پہچان لیں اور اس کے ناموں اور صفتوں کے قائل ہوجائیں ؟ بلکہ ان میں سے اکثریت کی ذہنیت تو یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اللہ پر ایمان ہے پھر شرک سے دست برداری نہیں۔ آسمان و زمین پہاڑ اور درخت کا انسان اور دن کا خالق اللہ مانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے سوا دوسروں کو اس کے ساتھ اس کا شریک ٹھراتے ہیں۔ یہ مشرکین حج کو آتے ہیں، احرام باندھ کر لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تیرا کوئی شریک ہیں، جو بھی شریک ہیں، ان کا خود کا مالک بھی تو ہے اور ان کی ملکیت کا مالک بھی تو ہی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب وہ اتنا کہتے ہیں کہ ہم حاضر ہیں الہٰی تیرا کوئی شریک نہیں تو آنحضرت ﷺ فرماتے بس بس، یعنی اب آگے کچھ نہ کہو۔ فی الواقع شرک ظلم عظیم ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کی بھی عبادت۔ بخاری ومسلم میں ہے ابن مسعود ؓ نے رسالت پناہ ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تیرا اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسی آیت کے تحت میں منافقین بھی داخل ہیں۔ ان کے عمل اخلاص والے نہیں ہوتے بلکہ وہ ریا کار ہوتے ہیں اور ریا کاری بھی شرک ہے۔ قرآن کا فرمان ہے آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا01402ۡۙ) 4۔ النسآء :142) ، منافق اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ کی طرف سے خود دھوکے میں ہیں۔ یہ نماز کو بڑے ہی سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھانا مقصود ہوتا ہے ذکر اللہ تو برائے نام ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ بعض شرک بہت ہلکے اور پوشیدہ ہوتے ہیں خود کرنے والے کو بھی پتہ نہیں چلتا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ ایک بیمار کے پاس گئے، اس کے بازو پر ایک دھاگا بندھا ہوا دیکھ کر آپ نے اسے توڑ دیا اور یہی آیت پڑھی کہ ایماندار ہوتے ہوئے بھی مشرک بنتے ہو ؟ حدیث شریف میں ہے اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی جس نے قسم کھائی وہ مشرک ہوگیا۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جھاڑ پھونک ڈورے دھاگے اور جھوٹے تعویذ شرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو توکل کے باعث سب سختیوں سے دور کردیتا ہے۔ (ابو داؤد وغیرہ) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ کی عادت تھی، جب کبھی باہر سے آتے زور سے کھنکھارتے، تھوکتے کہ گھر والے سمجھ جائیں اور آپ انہیں کسی ایس حالت میں نہ دیکھ پائیں کہ برا لگے۔ ایک دن اسی طرح آپ آئے اس وقت میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو بوجہ بیماری کے مجھ پر دم جھاڑ کرنے کو آئی تھی میں نے آپ کی کھنکھار کی آواز سنتے ہی اسے چار پائی تلے چھپا دیا آپ آئے میرے پاس میری چار پائی پر بیٹھ گئے اور میرے گلے میں دھاگا دیکھ کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا اس میں دم کرا کے میں نے باندھ لیا ہے . آپ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا اور فرمایا عبداللہ کا گھر شرک سے بےنیاز ہے۔ خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جھاڑ پھونک تعویدات اور ڈورے دھاگے شرک ہیں۔ میں نے کہا یہ آپ کیسے فرماتے ہیں میری آنکھ دکھ رہی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس جایا کرتی تھی، وہ دم جھارا کردیتا تھا تو سکون ہوجاتا تھا، آپ نے فرمایا تیری آنکھ میں شیطان چوکا مارا کرتا تھا اور اس کی پھونک سے وہ رک جاتا تھا تجھے یہ کافی تھا کہ وہ کہتی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے دعا (اذھب الباس رب الناس اشف وانت الشاف لا شفاء الا شفاوک شفاء لا یغدر سقما) (مسند احمد) مسند احمد کی اور حدیث میں عیسیٰ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حکیم بیمار پڑے۔ ہم ان کی عیادت کے لئے گئے، ان سے کہا گیا کہ آپ کوئی ڈورا دھاگا لٹکا لیں تو اچھا ہو آپ نے فرمایا میں ڈورا دھاگا لٹکاؤں ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جو چیز لٹکائے وہ اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مسند میں ہے جو شخص کوئی ڈورا دھاگا لٹکائے اس نے شرک کیا۔ ایک روایت میں ہے جو شخص ایسی کوئی چیز لٹکائے، اللہ اس کا کام پورا نہ کرے اور جو شخص اسے لٹکائے اللہ اسے لٹکا ہوا ہی رکھے . ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ بےنیاز اور بےپرواہ ہوں جو شخص اپنے کسی کام میں میرا کوئی شریک ٹھرائے میں اسے اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ (مسلم) مسنند میں ہے قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہوں گے، اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرے گا کہ جس نے اپنے عمل میں شرک کیا ہے، وہ اس کا ثواب اپنے شریک سے طلب کرلے، اللہ تعالیٰ تمام شرکاء سے بڑھ کر شرک سے بےنیاز ہے۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریا کاری، قیامت کے دن لوگوں کو جزائے اعمال دی جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے ریا کرو تم جاؤ اور جن کے دکھانے سنانے کے لئے تم نے عمل کئے تھے، انہیں سے اپنا اجر طلب کرو اور دیکھو کہ وہ دیتے ہیں یا نہیں ؟ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں جو شخص کوئی بد شگونی لے کر اپنے کام سے لوٹ جائے وہ مشرک ہوگیا۔ صحابہ ؑ نے دریافت کیا حضور ﷺ پھر اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہنا دعا (اللہم لا خیر الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک) یعنی اے اللہ سب بھلائیاں سب نیک شگون تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تیرے سوا کوئی بھلائیوں اور نیک شگونیوں والا نہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ لوگو شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ چیز ہے، اس پر حضرت عبداللہ بن حرب اور حضرت قیس بن مصابب کھڑے ہوگئے اور کہا یا تو آپ اس کی دلیل پیش کیجئے یا ہم جائیں اور حضرت عمر ؓ سے آپ کی شکایت کریں۔ آپ نے فرمایا لو دلیل لو۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ سنایا اور فرمایا لوگو ! شرک سے بچو وہ تو چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے پس کسی نے آپ سے پوچھا کہ پھر اس سے بچاؤ کیسے ہوسکتا ہے ؟ فرمایا یہ دعا پڑھا کرو دعا (اللہم انا نعوذ بک ان نشرک بک شیئا تعلمہ ونستغفرک مما لا نعلم)ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سوال کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ آپ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ شرک تو یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے۔ اس حدیث میں دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت (اللہم انی اعوذ بک ان اشرک بک وانا اعلم واستغفرک مما لا اعلم (مسند ابو یعلی) ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے جسے میں صبح شام اور سوتے وقت پڑھا کروں تو آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھ دعا (اللہم فاطر السموت والارض عالم الغیب الشہادۃ رب کل شئی وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذ بک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشر کہ)ایک روایت میں ہے کہ مجھے حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھنی سکھائی اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں دعا (وان اقترف علی نفسی سوا او اجرہ الی مسلم۔)فرمان ہے کہ کیا ان مشرکوں کو اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہو تو چاروں طرف سے عذاب الہٰی انہیں اس طرح آ گھیرے کہ انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ جیسے ارشاد ہے آیت (اَفَاَمِنَ الَّذِيْنَ مَكَرُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ يَاْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُوْنَ 45ۙ) 16۔ النحل :45) یعنی مکاریاں اور برائیاں کرنے والے کیا اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ایسی جگہ سے عذاب لا دے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو یا انہیں لیٹتے بیٹھتے ہی پکڑ لے یا ہوشیار کر کے تھام لے۔ اللہ کسی بات میں عاجز نہیں، یہ تو صرف اس کی رحمت ورافت ہے کہ گنا کریں اور پھلیں پھولیں۔ فرمان اللہ ہے کہ بستیوں کے گنہگار اس بات سے بےخطرے ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس راتوں کو ان کے سوتے ہوئے ہی عذاب آجائیں یا دن دھاڑے بلکہ ہنستے کھیلتے ہوئے عذاب آ دھمکیں اللہ کے مکر سے بےخوف نہ ہونا چاہئے ایسے لوگ سخت نقصان اٹھاتے ہیں۔
108
View Single
قُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Proclaim, “This is my path – I call towards Allah; I, and whoever follows me, are upon perception; and Purity is to Allah – and I am not of the polytheists.”
(اے حبیبِ مکرّم!) فرما دیجئے: یہی میری راہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Messenger's ﷺ Way
Allah orders His Messenger to say to mankind and the Jinns that this is his way, meaning, his method, path and Sunnah, concentrating on calling to the testimony that there is no deity worthy of worship except Allah alone without partners. The Messenger ﷺ calls to this testimonial with sure knowledge, certainty and firm evidence. He calls to this way, and those who followed him call to what Allah's Messenger ﷺ called to with sure knowledge, certainty and evidence, whether logical or religious evidence,
وَسُبْحَانَ اللَّهِ
(And Glorified and Exalted be Allah.) This part of the Ayah means, I glorify, honor, revere and praise Allah from having a partner, equal, rival, parent, son, wife, minister or advisor. All praise and honor be to Allah, glorified He is from all that they attribute to Him,
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَـوَتُ السَّبْعُ وَالاٌّرْضُ وَمَن فِيهِنَّ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدَهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
(The seven heavens and the earth and all that is therein, glorify Him, and there is not a thing but glorifies His praise. But you understand not their glorification. Truly, He is Ever Forbearing, Oft-Forgiving.) 17:44)
دعوت وحدانیت اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جنہیں تمام جن و انس کی طرف بھیجا ہے، حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو خبر کر دوں کہ میرا مسلک، میرا طریق، میری سنت یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کی دعوت عام کر دوں۔ پورے یقین دلیل اور بصیرت کے ساتھ۔ میں اس طرف سب کو بلا رہا ہوں میرے جتنے پیرو ہیں، وہ بھی اسی طرف سب کو بلا رہے ہیں، شرعی، نقلی اور عقلی دلیلوں کے ساتھ اس طرف دعوت دیتے ہیں ہم اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اس کی تعظیم تقدیس، تسبیح تہلیل بیان کرتے ہیں، اسے شریک سے، نظیر سے، عدیل سے، وزیر سے، مشیر سے اور ہر طرح کی کمی اور کمزوری سے پاک مانتے ہیں، نہ اس کی اولاد مانیں، نہ بیوی، نہ ساتھی، نہ ہم جنس۔ وہ ان تمام بری باتوں سے پاک اور بلند وبالا ہے۔ آسمان و زمین اور ان کی ساری مخلوق اس کی حمد و تسبیح کر رہی ہے لیکن لوگ ان کی تسبیح سمجھتے نہیں، اللہ بڑا ہی حلیم اور غفور ہے۔
109
View Single
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰٓۗ أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
And all the Noble Messengers We sent before you, were exclusively men – towards whom We sent the divine revelations, and were dwellers of townships; so have not these people travelled in the land and seen what sort of fate befell those before them? And undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی (مختلف) بستیوں والوں میں سے مَردوں ہی کو (رسول بنا کر) بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی فرماتے تھے، کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ (خود) دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیا ہوا، اور بے شک آخرت کا گھر پرہیزگاری اختیار کرنے والوں کے لیے بہتر ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
Tafsir Ibn Kathir
All of the Prophets are Humans and Men
Allah states that He only sent Prophets and Messengers from among men and not from among women, as this Ayah clearly states. Allah did not reveal religious and legislative laws to any woman from among the daughters of Adam. This is the belief of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah. Shaykh Abu Al-Hasan, `Ali bin Isma`il Al-Ash`ari mentioned that it is the view of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah, that there were no female Prophets, but there were truthful believers from among women. Allah mentions the most honorable of the truthful female believers, Maryam, the daughter of `Imran, when He said,
مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلاَنِ الطَّعَامَ
(The Messiah 'Isa, son of Maryam (Mary), was no more than a Messenger; many were the Messengers that passed away before him. His mother was a Siddiqah truthful believer. They both used to eat food.) 5:75 Therefore, the best description Allah gave her is Siddiqah. Had she been a Prophet, Allah would have mentioned this fact when He was praising her qualities and honor. Therefore, Mary was a truthful believer according to the words of the Qur'an.
All Prophets were Humans not Angels
Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas commented on Allah's statement,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً
(And We sent not before you (as Messengers) any but men) "They were not from among the residents of the heaven (angels), as you claimed." This statement of Ibn `Abbas is supported by Allah's statements,
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you any of the Messengers, but verily, they ate food and walked in the markets), 25:20
وَمَا جَعَلْنَاهمْ جَسَداً لاَّ يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَـلِدِينَ - ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنجَيْنَاهُمْ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرفِينَ
(And We did not create them with bodies that ate not food, nor were they immortals. Then We fulfilled to them the promise. So We saved them and those whom We willed, but We destroyed extravagants), 21:8-9 and,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.") 46:9 Allah said next,
مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(from among the people of townships), meaning, from among the people of cities, not that they were sent among the bedouins who are some of the harshest and roughest of all people.
Drawing Lessons from the Incidents of the Past
Allah said next,
أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ
(Have they not traveled in the land), meaning, `Have not these people who rejected you, O Muhammad, traveled in the land,'
فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(and seen what was the end of those who were before them) that is, the earlier nations that rejected the Messengers, and how Allah destroyed them. A similar end is awaiting all disbelievers. Allah said in another Ayah,
أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَآ
(Have they not traveled through the land, and have they hearts wherewith to understand) 22:46 When they hear this statement, they should realize that Allah destroyed the disbelievers and saved the believers, and this is His way with His creation. This is why Allah said,
وَلَدَارُ الاٌّخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَواْ
(And verily, the home of the Hereafter is the best for those who have Taqwa.) Allah says, `Just as We saved the faithful in this life, We also wrote safety for them in the Hereafter, which is far better for them than the life of the present world.' Allah said in another Ayah,
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth (i.e. Day of Resurrection). The Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode (in Hellfire).) 40:51-52)
رسول اور نبی صرف مرد ہی ہوئے ہیں بیان فرماتا ہے کہ رسول اور نبی مرد ہی بنتے رہے نہ کہ عورتیں۔ جمہور اہل اسلام کا یہی قول ہے کہ نبوت عورتوں کو کبھی نہیں ملی۔ اس آیت کریمہ کا سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ خلیل اللہ ؑ کی بیوی حضرت سارہ، موسیٰ ؑ کی والدہ مریم بھی نبیہ تھیں۔ ملائیکہ نے حضرت سارہ کو ان کے لڑکے اسحاق اور پوتے یعقوب کی بشارت دی۔ موسیٰ کی ماں کی طرف انہیں دودھ پلانے کی وحی ہوئی۔ مریم کو حضرت عیسیٰ کی بشارت فرشتے نے دی۔ فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اللہ نے تجھے پسندیدہ پاک اور برگزیدہ کرلیا ہے تمام جہان کی عورتوں پر۔ اے مریم اپنے رب کی فرماں برداری کرتی رہو، اس کے لئے سجدے کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنا تو ہم مانتے ہیں، جتنا قرآن نے بیان فرمایا۔ لیکن اس سے ان کی نبوت ثابت نہیں ہوتی۔ صرف اتنا فرمان یا اتنی بشارت یا اتنے حکم کسی کی نبوت کے لئے دلیل نہیں۔ اہل سنت والجماعت کا اور سب کا مذہب یہ کہ عورتوں میں سے کوئی نبوت والی نہیں۔ ہاں ان میں صدیقات ہیں جیسے کہ سب سے اشرف وافضل عورت حضرت مریم کی نسبت قرآن نے فرمایا ہے آیت (وامہ صدیقتہ) پس اگر وہ نبی ہوتیں تو اس مقام میں وہی مرتبہ بیان کیا جاتا۔ آیت میں آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20) 25۔ الفرقان :20) یعنی تجھ سے بھلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں آمد و رفت بھی رکھتے تھے۔ وہ ایسے نہ تھے کہ کھانا کھانے سے پاک ہوں، نہ ایسے تھے کہ کبھی مرنے والے ہی نہ ہوں، ہم نے ان سے اپنے وعدے پورے کئے، انہیں اور ان کے ساتھ جنہیں ہم نے چاہا، نجات دی اور مسرف لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اسی طرح اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی پہلا رسول تو نہیں ؟ الخ یاد رہے کہ اہل قری سے مراد اہل شہر ہیں نہ کہ بادیہ نشین وہ تو بڑے کج طبع اور بداخلاق ہوتے ہیں۔ مشہور و معروف ہے کہ شہری نرم طبع اور خوض خلق ہوتے ہیں اسی طرح بستیوں سے دور والے، پرے کنارے رہنے والے بھی عموما ایسے ہی ٹیڑھے ترچھے ہوتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے آیت (اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 97۔) 9۔ التوبہ :97) جنگلوں کے رہنے والے بدو کفر ونفاق میں بہت سخت ہیں۔ قتادہ بھی یہی مطلب بیان فرماتے ہیں کیونکہ شہریوں میں علم وحلم زیادہ ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ بادیہ نشین اعراب میں سے کسی نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا آپ نے اسے بدلہ دیا لیکن اسے اس نے بہت کم سمجھا، آپ نے اور دیا اور دیا یہاں تک کہ اسے خوش کردیا۔ پھر فرمایا میرا تو جی چاہتا ہے کہ سوائے قریش اور انصاری اور ثقفی اور دوسی لوگوں کے اوروں کا تحفہ قبول ہی نہ کروں۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ مومن جو لوگوں سے ملے جلے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرے، وہ اس سے بہتر ہے جو نہ ان سے ملے جلے ہو نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے۔ یہ جہٹلانے والے کیا ملک میں چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ اپنے سے پہلے کے جھٹلانے والوں کی حالتوں کو دیکھیں اور ان کے انجام پر غور کریں ؟ جیسے فرمان ہے آیت (اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ 46) 22۔ الحج :46) یعنی کیا انہوں نے زمین کی سیر نہیں کی کہ ان کے دل سجھدار ہوتے، الخ۔ ان کے کان سن لیتے، ان کی آنکھیں دیکھ لیتیں کہ ان جیسے گنہگاروں کا کیا حشر ہوتا رہا ہے ؟ وہ نجات سے محروم رہتے ہیں، عتاب الہٰی انہیں غارت کردیتا ہے، عالم آخرت انکے لئے بہت ہی بہتر ہے جو احتیاط سے زندگی گزار دیتے ہیں۔ یہاں بھی نجات پاتے ہیں اور وہاں بھی اور وہاں کی نجات یہاں کی نجات سے بہت ہی بہتر ہے۔ وعدہ الہٰی ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دینا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور قیامت کے دن بھی ان کی امداد کریں گے، اس دن گواہ کھڑے ہوں گے، ظالموں کے عذر بےسود رہیں گے، ان پر لعنت برسے گی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا۔ گھر کی اضافت آخرت کی طرف کی۔ جیسے صلوۃ اولیٰ اور مسجد جامع اور عام اول اور بارحۃ الاولیٰ اور یوم الخمیس میں ایسے ہی اضافت ہے، عربی شعروں میں بھی یہ اضافت بکثرت آئی ہے۔
110
View Single
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسۡتَيۡـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُواْ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَآءُۖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُنَا عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
To the extent that when the Noble Messengers lost hope from the visible means, and the people thought that they had spoken wrongly, Our help came to them – therefore whoever We willed was saved; and Our punishment is never averted from the guilty.
یہاں تک کہ جب پیغمبر (اپنی نافرمان قوموں سے) مایوس ہوگئے اور ان منکر قوموں نے گمان کر لیا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا ہے (یعنی ان پر کوئی عذاب نہیں آئے گا) تو ان رسولوں کو ہماری مدد آپہنچی پھر ہم نے جسے چاہا (اسے) نجات بخش دی، اور ہمارا عذاب مجرم قوم سے پھیرا نہیں جاتا
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Prophets are aided by Victory in Times of Distress and Need
Allah states that He sends His aid and support to His Messengers, peace be upon them, when distress and hardship surround them and they eagerly await Allah's aid. Allah said in another Ayah,
وَزُلْزِلُواْ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ
(..and were so shaken that even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah") 2:214 As for saying of Allah,
كَذَّبُواْ
(they were denied) There are two recitations for it. One of them is with a Shadda (meaning: they were betrayed by their people). And this is the way `A'ishah, may Allah be pleased with her, recited it. Al-Bukhari said that `Urwah bin Az-Zubayr narrated that he asked `Aishah about the meaning of the following verse,
حَتَّى إِذَا اسْتَيْـَسَ الرُّسُلُ
(`Until when the Messengers give up hope...), Respite will be granted, is it denied or betrayed `A'0ishah replied, "betrayed." `Urwah said, "I said, `They were sure that their people betrayed them, so why use the word `thought" She said, `Yes, they were sure that they betrayed them.' I said,
وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ
(and they thought that they were denied (by Allah)) `A'0ishah said, `Allah forbid! The Messengers ﷺ did not suspect their Lord of such a thing.' I asked, `So what does this Ayah mean' She said, `This Verse is concerned with the Messengers' ﷺ followers who had faith in their Lord and believed in their Messengers. The period of trials for those followers was long and Allah's help was delayed until the Messengers gave up hope for the conversion of the disbelievers amongst their nation and suspected that even their followers were shaken in their belief, Allah's help then came to them."' Ibn Jurayj narrated that Ibn Abi Mulaikah said that Ibn `Abbas read this Ayah this way,
وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ
(and they thought they were denied.) `Abdullah bin Abi Mulaikah said, "Then Ibn `Abbas said to me that they were humans. He then recited this Ayah,
حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
(..even the Messenger and those who believed along with him said, "When (will come) the help of Allah" Yes! Certainly, the help of Allah is near!)2:214" Ibn Jurayj also narrated that Ibn Abi Mulaykah said that `Urwah narrated to him that `Aishah did not agree to this and rejected it. She said, "Nothing that Allah has promised Muhammad ﷺ, but Muhammad knew for certainty that it shall come, until he died. However, the Messengers were tried with trials until they thought that those believers, who were with them, did not fully support them." Ibn Abi Mulaykah said that `Urwah narrated that `Aishah recited this Ayah this way, (وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَد كُذِّبُوا) "and they thought that they were betrayed." Therefore, there is another way of reciting this word, and there is a difference of opinion about its meaning. We narrated the meaning that Ibn `Abbas gave. Ibn Mas`ud said, as Sufyan Ath-Thawri narrated from him, that he read the Ayah this way,
حَتَّى إِذَا اسْتَيْـَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ
(until, when the Messengers gave up hope and thought that they were denied.) `Abdullah commented that this is the recitation that you dislike. Ibn `Abbas also commented on the Ayah,
حَتَّى إِذَا اسْتَيْـَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ
(until, when the Messengers gave up hope and thought that they were denied) "When the Messengers gave up hope that their people would accept their messages, and their people thought that their Messengers had not said the truth to them, Allah's victory came then,
فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ
(and whomsoever We willed were rescued.) Ibn Jarir At-Tabari narrated that Ibrahim bin Abi Hamzah Hurrah Al-Jazari said, "A young man from Quraysh asked Sa'id bin Jubayr `O, Abu `Abdullah! How do you read this word, for when I pass by it, I wish I had not read this Surah,
حَتَّى إِذَا اسْتَيْـَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ
(until, when the Messengers gave up hope and thought that they were denied...) He said, `Yes, it means, when the Messengers gave up hope that their people will believe in them and those to whom the Messengers were sent thought that the Messengers were not truthful."' Ad-Dahhak bin Muzahim commented, "I have not seen someone who is called to knowledge and is lazy accepting the invitation, until today! If you traveled to Yemen just to get this explanation, it will still be worth it." Ibn Jarir At-Tabari narrated that Muslim bin Yasar asked Sa`id bin Jubayr about the same Ayah and he gave the same response. Muslim stood up and embraced Sa'id bin Jubayr, saying, "May Allah relieve a distress from you as you relieved a distress from me!" This was reported from Sa'id bin Jubayr through various chains of narration. This is also the Tafsir that Mujahid bin Jabr and several other Salaf scholars gave for this Ayah. However, some scholars said that the Ayah,
وَظَنُّواْ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُواْ
(and thought that they were denied), is in reference to the believers who followed the Messengers, while some said it is in reference to the disbelievers among the Messengers' nation. In the latter case, the meaning becomes: `and the disbelievers thought that the Messengers were not given a true promise of victory. ' Ibn Jarir At-Tabari narrated that Tamim bin Hadhlam said, "I heard `Abdullah bin Mas`ud comment on this Ayah,
حَتَّى إِذَا اسْتَيْـَسَ الرُّسُلُ
(until, when the Messengers gave up hope) that their people will believe in them, and their people thought when the respite was long, that the Messengers were not given a true promise."
جب مخالفت عروج پر ہو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی مدد اس کے رسولوں پر بروقت اترتی ہے۔ دنیا کے جھٹکے جب زوروں پر ہوتے ہیں، مخالفت جب تن جاتی ہے، اختلاف جب بڑھ جاتا ہے، دشمنی جب پوری ہوجاتی ہے، انبیاء اللہ کو جب چاروں طرف سے گھیر لیا جاتا ہے، معا اللہ کی مدد آپہنچتی ہے۔ کذبوا اور کذبوا دونوں قرأتیں ہیں، حضرت عائشہ کی قرأت ذال کی تشدید سے ہے، چناچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ یہ لفظ کذبوا یا کذبوا ہے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کذبوا ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو یہ معنی ہوئے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ وہ جھٹلائے گئے تو یہ گمان کی کون سی بات تھی یہ تو یقینی بات تھی کہ وہ جھٹلائے جاتے تھے۔ آپ نے فرمایا بیشک یہ یقینی بات تھے کہ وہ کفار کی طرف سے جھٹلائے جاتے تھے لیکن وہ وقت بھی آئے کہ ایمان دار امتی بھی ایسے زلزلے میں ڈالے گئے اور اس طرح ان کی مدد میں تاخیر ہوئی کہ رسولوں کے دل میں آئی کہ غالبا اب تو ہماری جماعت بھی ہمیں جھٹلانے لگی ہوگی۔ اب مدد رب آئی۔ اور انہیں غلبہ ہوا۔ تم اتنا تو خیال کرو کہ کذبوا کیسے ٹھیک ہوسکتا ہے ؟ معاذ اللہ کیا انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی نسبت یہ بدگمانی کرسکتے ہیں کہ انہیں رب کی طرف سے جھٹلایا گیا ؟ ابن عباس کی قرأت میں کذبوا ہے۔ آپ اس کی دلیل میں آیت (حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ02104) 2۔ البقرة :214) پڑھ دیتے تھے یعنی یہاں تک کہ انبیاء اور ایماندار کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے۔ یاد رکھو مدد رب بالکل قریب ہے۔ حضرت عائشہ ؓ اس کا سختی سے انکار کرتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ جناب رسول اللہ آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے جتنے وعدے کئے، آپ کو کامل یقین تھا کہ وہ سب یقینی اور حتمی ہیں اور سب پورے ہو کر ہی رہیں گے آخر دم تک کبھی نعوذ باللہ آب کے دل میں یہ وہم ہی پیدا نہیں ہوا کہ کوئی وعدہ ربانی غلط ثابت ہوگا۔ یا ممکن ہے کہ غلظ ہوجائے یا پورا نہ ہو۔ ہاں انبیا (علیہم السلام) پر برابر بلائیں اور آزمائشیں آتی رہیں، یہاں تک کہ ان کے دل میں یہ خطرہ پیدا ہونے لگا کہ کہیں میرے ماننے والے بھی مجھ سے بدگمان ہو کر مجھے جھٹلا نہ رہے ہوں۔ ایک شخص قاسم بن محمد کے پاس آ کر کہتا ہے کہ محمد بن کعب قرظی کذبوا پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ صدیقہ عائشہ سے سنا ہے وہ کذبوا پڑھتی تھیں یعنی ان کے ماننے والوں نے انہیں جھٹلایا۔ پس ایک قرأت تو تشدید کے ساتھ ہے دوسری تخفیف کے ساتھ ہے، پھر اس کی تفسیر میں ابن عباس سے تو وہ مری ہے جو اوپر گزر چکا۔ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ آیت اسی طرح پڑھ کر فرمایا یہی وہ ہے جو تو برا جانتا ہے۔ یہ روایت اس روایت کے خلاف ہے، جسے ان دونوں بزرگوں سے اوروں نے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا جب رسول ناامید ہوگئے کہ ان کی قوم ان کی مانے گی اور قوم نے یہ سمجھ لیا کہ نبیوں نے ان سے جھوٹ کہا، اسی وقت اللہ کی مدد آپہنچی اور جسے اللہ نے چاہا نجات بخشی۔ اسی طرح کی تفسیر اوروں سے بھی مروی ہے۔ ایک نوجوان قریشی نے حضرت سعید بن جبیر ؒ سے کہا کہ حضرت ہمیں بتائیے، اس لفظ کو کیا پڑھیں، مجھ سے تو اس لفظ کی قرأت کی وجہ سے ممکن ہے کہ اس سورت کا پڑھنا ہی چھوٹ جائے۔ آپ نے فرمایا سنو اس کا مطلب یہ کہ انبیاء اس سے مایوس ہوگئے کہ ان کی قوم ان کی بات مانے گی اور قوم والے سمجھ بیٹھے کہ نبیوں نے غلط کہا ہے یہ سن کر حضرت ضحاک بن مزاحم بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا کہ اس جیسا جواب کسی ذی علم کا میں نے نہیں سنا اگر میں یہاں سے یمن پہنچ کر بھی ایسے جواب کو سنتا تو میں اسے بھی بہت آسان جانتا۔ مسلم بن یسار ؒ نے بھی آپ کا یہ جواب سن کر اٹھ کر آپ سے معانقہ کیا اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کی پریشانیوں کو بھی اسی طرح دور کر دے، جس طرح آپ نے ہماری پریشانی دور فرمائی۔ بہت سے اور مفسرین نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے بلکہ مجاہد ؒ کی تو قرأت ذال کے زبر سے ہے یعنی کذبوا ہاں بعض مفسرین وظنوا کا فاعل مومنوں کو بتاتے ہیں اور بعض کافروں کو یعنی کافروں نے یا یہ کہ بعض مومنوں نے یہ گمان کیا کہ رسولوں سے جو وعدہ مدد کا تھا اس میں وہ جھوٹے ثابت ہوئے عبداللہ بن مسعود ؓ تو فرماتے ہیں رسول ناامید ہوگئے یعنی اپنی قوم کے ایمان سے اور نصرت ربانی میں دیر دیکھ کر ان کو قوم گمان کرنے لگی کہ وہ جھوٹا وعدہ دئے گئے تھے۔ پس یہ دونوں روایتیں تو ان دونوں بزرگ صحابیوں سے مروی ہیں۔ اور حضرت عائشہ ؓ اس کا صاف انکار کرتی ہیں۔ ابن جریر ؒ بھی قول صدیقہ کی طرفداری کرتے اور دوسرے قول کی تردید کرتے ہیں اور اسے ناپسند کر کے رد کردیتے ہیں، واللہ اعلم۔
111
View Single
لَقَدۡ كَانَ فِي قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٞ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِۗ مَا كَانَ حَدِيثٗا يُفۡتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
Indeed in their tidings is enlightenment for the men of understanding; this (the Qur’an) is not some made up story but a confirmation of the Books before it, and a detailed explanation of all things, and a guidance and a mercy for the Muslims.
بیشک ان کے قصوں میں سمجھ داروں کے لئے عبرت ہے، یہ (قرآن) ایسا کلام نہیں جو گھڑ لیا جائے بلکہ (یہ تو) ان (آسمانی کتابوں) کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان لے آئے
Tafsir Ibn Kathir
A Lesson for Men Who have Understanding
Allah states here that the stories of the Messengers and their nations and how we saved the believers and destroyed the disbelievers are,
عِبْرَةٌ لاوْلِى الأَلْبَـبِ
(a lesson for men of understanding), who have sound minds,
مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَى
(It is not a forged statement.) Allah says here that this Qur'an could not have been forged; it truly came from Allah,
وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ
(but a confirmation of that which was before it) in reference to the previously revealed Divine Books, by which this Qur'an testifies to the true parts that remain in them and denies and refutes the forged parts that were added, changed and falsified by people. The Qur'an accepts or abrogates whatever Allah wills of these Books,
وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍ
(and a detailed explanation of everything) Meaning the allowed, the prohibited, the preferred and the disliked matters. The Qur'an deals with the acts of worship, the obligatory and recommended matters, forbids the unlawful and discourages from the disliked. The Qur'an contains major facts regarding the existence and about matters of the future in general terms or in detail. The Qur'an tells us about the Lord, the Exalted and Most Honored, and about His Names and Attributes and teaches us that Allah is glorified from being similar in any way to the creation. Hence, the Qur'an is,
هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(a guide and a mercy for the people who believe.) with which their hearts are directed from misguidance to guidance and from deviation to conformance, and with which they seek the mercy of the Lord of all creation in this life and on the Day of Return. We ask Allah the Most Great to make us among this group in the life of the present world and in the Hereafter, on the Day when those who are successful will have faces that radiate with light, while those whose faces are dark will end up with the losing deal. This is the end of the Tafsir of Surah Yusuf; and all the thanks and praises are due to Allah, and all our trust and reliance are on Him Alone.
عبرت و نصیحت نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہوگئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل وعلا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کرلیتے ہیں۔ ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا آخرت میں ایسے ہی مومنوں کا ساتھ دے اور قیامت کے دن جب کہ بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہوجائیں گے، ہمیں مومنوں کے ساتھ نورانی چہروں میں شامل رکھے آمین۔ الحمد للہ سورة یوسف کی تفسیر ختم ہوگئی۔ اللہ کا شکر ہے وہی تعریفوں کے لائق ہے اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔
Jump to Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111