ص — Sad
Ayah 35 / 88 • Meccan
2,399
35
Sad
ص • Meccan
قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ
He said, “My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom, which shall not befit anyone after me; indeed only You are the Great Bestower.”
عرض کیا: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو، بیشک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
صٓۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ذِي ٱلذِّكۡرِ
Saad* – By oath of the renowned Qur’an, (Alphabet of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
ص (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، ذکر والے قرآن کی قسم
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
وَالْقُرْءَانِ ذِى الذِّكْرِ
(By the Qur'an full of reminding.) means, by the Qur'an which includes all that is in it as a reminder and a benefit to people in this life and the Hereafter. Ad-Dahhak said that the Ayah,
ذِى الذِّكْرِ
(full of reminding.) is like the Ayah,
لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَـباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you (O mankind) a Book in which there is Dhikrukum) (21:10). i.e., your reminder. This was also the view of Qatadah and of Ibn Jarir. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Sa`id bin Jubayr, Isma`il bin Abi Khalid, Ibn `Uyaynah, Abu Husayn, Abu Salih and As-Suddi said:
ذِى الذِّكْرِ
(full of reminding.) "Full of honor," i.e., of high standing. There is no contradiction between the two views, because it is a noble Book which includes reminders and leaves no excuse and brings warnings. The reason for this oath is to be found in the Ayah:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) (38:14). Qatadah said, "The reason for it is to be found in the Ayah:
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition)." This was the view favored by Ibn Jarir.
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition.) means, in this Qur'an there is a reminder for those who will be reminded and a lesson for those who will learn a lesson, but the disbelievers will not benefit from it because they
فِى عِزَّةٍ
(are in false pride) meaning, arrogance and tribalism,
وَشِقَاقٍ
(and opposition.) means, they are stubbornly opposed to it and go against it. Then Allah scares them with news of how the nations who came before them were destroyed because of their opposition to the Messengers and their disbelief in the Scriptures that were revealed from heaven. Allah says:
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ
(How many a generation have We destroyed before them!) meaning, disbelieving nations.
فَنَادَوْاْ
(And they cried out) means, when the punishment came to them, they called for help and cried out to Allah, but that did not save them at all. This is like the Ayat:
فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأْسَنَآ إِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُونَ - لاَ تَرْكُضُواْ وَارْجِعُواْ إِلَى مَآ أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَـكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(Then, when they perceived (saw) Our torment, behold, they (tried to) flee from it. Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned.) (21:12-13). Abu Dawud At-Tayalisi recorded that At-Tamimi said, "I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, about the Ayah:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) He said that it was not the time for them to call or flee or escape. Muhammad bin Ka`b said, concerning the Ayah:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "They called for Tawhid when their lives were over, and they resorted to repentance when their lives were over." Qatadah said, "When they saw the punishment, they wanted to repent when there was no longer time to call out." Mujahid said:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "It was not the time to flee or escape." Allah says:
وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(when there was no longer time for escape.) meaning, there was no time to escape or run away; and Allah knows best.
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ 64) 38۔ ص :64) ، ہے لیکن یہ زیادہ مناسب نہیں ملعوم ہوتا۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس کا جواب اس کے بعد کی آیت ہے۔ ابن جریر اسی کو مختار بتاتے ہیں۔ بعض عربی داں کہتے ہیں اس کا جواب ص ہے اور اس لفظ کے معنی صداقت اور حقانیت کے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ پوری سورت کا خلاصہ اس قسم کا جواب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے یہ قرآن تو سراسر عبرت و نصیحت ہے مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں ایمان ہے کافر لوگ اس فائدے سے اس لئے محروم ہیں کہ وہ متکبر ہیں اور مخالف ہیں یہ لوگ اپنے سے پہلے اور اپنے جیسے لوگوں کے انجام پر نظر ڈالیں تو اپنے انجام سے ڈریں۔ اگلی امتیں اسی جرم پر ہم نے تہ وبالا کردی ہیں عذاب آ پڑنے کے بعد تو بڑے روئے پیٹے خوب آہو زاری کی لیکن اس وقت کی تمام باتیں بےسود ہیں۔ جیسے فرمایا (فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَ 12ۭ) 21۔ الأنبیاء :12) ہمارے عذابوں کو معلوم کر کے ان سے بچنا اور بھاگنا چاہا۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اب بھاگنے کا وقت نہیں نہ فریاد کا وقت ہے، اس وقت کوئی فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ چاہو جتنا چیخو چلاؤ محض بےسود ہے۔ اب توحید کی قبولیت بےنفع، توبہ بیکار ہے۔ یہ بےوقت کی پکار ہے۔ لات معنی میں لا کے ہے۔ اس میں " ت " زائد ہے جیسے ثم میں بھی " ت " زیادہ ہوتی ہے اور ربت میں بھی۔ یہ مفصولہ ہے اور اس پر وقف ہے۔ امام ابن جریر کا قول ہے کہ یہ " ت " حین سے ملی ہوئی ہے یعنی ولاتحین ہے، لیکن مشہور اول ہی ہے۔ جمہور نے حین کو زبر سے پڑھا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ وقت آہو زاری کا وقت نہیں۔ بعض نے یہاں زیر پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لغت میں نوص کہتے ہیں پیچھے ہٹنے کو اور بوص کہتے ہیں آگے بڑھنے کو پس مقصد یہ ہے کہ یہ وقت بھاگنے اور نکل جانے کا وقت نہیں واللہ الموفق۔
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي عِزَّةٖ وَشِقَاقٖ
In fact, the disbelievers are in false pride and opposition.
بلکہ کافر لوگ (ناحق) حمیّت و تکبّر میں اور (ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مخالفت و عداوت میں (مبتلا) ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
وَالْقُرْءَانِ ذِى الذِّكْرِ
(By the Qur'an full of reminding.) means, by the Qur'an which includes all that is in it as a reminder and a benefit to people in this life and the Hereafter. Ad-Dahhak said that the Ayah,
ذِى الذِّكْرِ
(full of reminding.) is like the Ayah,
لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَـباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you (O mankind) a Book in which there is Dhikrukum) (21:10). i.e., your reminder. This was also the view of Qatadah and of Ibn Jarir. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Sa`id bin Jubayr, Isma`il bin Abi Khalid, Ibn `Uyaynah, Abu Husayn, Abu Salih and As-Suddi said:
ذِى الذِّكْرِ
(full of reminding.) "Full of honor," i.e., of high standing. There is no contradiction between the two views, because it is a noble Book which includes reminders and leaves no excuse and brings warnings. The reason for this oath is to be found in the Ayah:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) (38:14). Qatadah said, "The reason for it is to be found in the Ayah:
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition)." This was the view favored by Ibn Jarir.
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition.) means, in this Qur'an there is a reminder for those who will be reminded and a lesson for those who will learn a lesson, but the disbelievers will not benefit from it because they
فِى عِزَّةٍ
(are in false pride) meaning, arrogance and tribalism,
وَشِقَاقٍ
(and opposition.) means, they are stubbornly opposed to it and go against it. Then Allah scares them with news of how the nations who came before them were destroyed because of their opposition to the Messengers and their disbelief in the Scriptures that were revealed from heaven. Allah says:
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ
(How many a generation have We destroyed before them!) meaning, disbelieving nations.
فَنَادَوْاْ
(And they cried out) means, when the punishment came to them, they called for help and cried out to Allah, but that did not save them at all. This is like the Ayat:
فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأْسَنَآ إِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُونَ - لاَ تَرْكُضُواْ وَارْجِعُواْ إِلَى مَآ أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَـكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(Then, when they perceived (saw) Our torment, behold, they (tried to) flee from it. Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned.) (21:12-13). Abu Dawud At-Tayalisi recorded that At-Tamimi said, "I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, about the Ayah:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) He said that it was not the time for them to call or flee or escape. Muhammad bin Ka`b said, concerning the Ayah:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "They called for Tawhid when their lives were over, and they resorted to repentance when their lives were over." Qatadah said, "When they saw the punishment, they wanted to repent when there was no longer time to call out." Mujahid said:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "It was not the time to flee or escape." Allah says:
وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(when there was no longer time for escape.) meaning, there was no time to escape or run away; and Allah knows best.
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ 64) 38۔ ص :64) ، ہے لیکن یہ زیادہ مناسب نہیں ملعوم ہوتا۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس کا جواب اس کے بعد کی آیت ہے۔ ابن جریر اسی کو مختار بتاتے ہیں۔ بعض عربی داں کہتے ہیں اس کا جواب ص ہے اور اس لفظ کے معنی صداقت اور حقانیت کے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ پوری سورت کا خلاصہ اس قسم کا جواب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے یہ قرآن تو سراسر عبرت و نصیحت ہے مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں ایمان ہے کافر لوگ اس فائدے سے اس لئے محروم ہیں کہ وہ متکبر ہیں اور مخالف ہیں یہ لوگ اپنے سے پہلے اور اپنے جیسے لوگوں کے انجام پر نظر ڈالیں تو اپنے انجام سے ڈریں۔ اگلی امتیں اسی جرم پر ہم نے تہ وبالا کردی ہیں عذاب آ پڑنے کے بعد تو بڑے روئے پیٹے خوب آہو زاری کی لیکن اس وقت کی تمام باتیں بےسود ہیں۔ جیسے فرمایا (فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَ 12ۭ) 21۔ الأنبیاء :12) ہمارے عذابوں کو معلوم کر کے ان سے بچنا اور بھاگنا چاہا۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اب بھاگنے کا وقت نہیں نہ فریاد کا وقت ہے، اس وقت کوئی فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ چاہو جتنا چیخو چلاؤ محض بےسود ہے۔ اب توحید کی قبولیت بےنفع، توبہ بیکار ہے۔ یہ بےوقت کی پکار ہے۔ لات معنی میں لا کے ہے۔ اس میں " ت " زائد ہے جیسے ثم میں بھی " ت " زیادہ ہوتی ہے اور ربت میں بھی۔ یہ مفصولہ ہے اور اس پر وقف ہے۔ امام ابن جریر کا قول ہے کہ یہ " ت " حین سے ملی ہوئی ہے یعنی ولاتحین ہے، لیکن مشہور اول ہی ہے۔ جمہور نے حین کو زبر سے پڑھا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ وقت آہو زاری کا وقت نہیں۔ بعض نے یہاں زیر پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لغت میں نوص کہتے ہیں پیچھے ہٹنے کو اور بوص کہتے ہیں آگے بڑھنے کو پس مقصد یہ ہے کہ یہ وقت بھاگنے اور نکل جانے کا وقت نہیں واللہ الموفق۔
كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ فَنَادَواْ وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٖ
Many a generation We did destroy before them – thereupon they cried out whereas it is not the time to escape!
ہم نے کتنی ہی امّتوں کو اُن سے پہلے ہلاک کر دیا تو وہ (عذاب کو دیکھ کر) پکارنے لگے حالانکہ اب خلاصی (اور رہائی) کا وقت نہیں رہا تھا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
وَالْقُرْءَانِ ذِى الذِّكْرِ
(By the Qur'an full of reminding.) means, by the Qur'an which includes all that is in it as a reminder and a benefit to people in this life and the Hereafter. Ad-Dahhak said that the Ayah,
ذِى الذِّكْرِ
(full of reminding.) is like the Ayah,
لَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَـباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ
(Indeed, We have sent down for you (O mankind) a Book in which there is Dhikrukum) (21:10). i.e., your reminder. This was also the view of Qatadah and of Ibn Jarir. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Sa`id bin Jubayr, Isma`il bin Abi Khalid, Ibn `Uyaynah, Abu Husayn, Abu Salih and As-Suddi said:
ذِى الذِّكْرِ
(full of reminding.) "Full of honor," i.e., of high standing. There is no contradiction between the two views, because it is a noble Book which includes reminders and leaves no excuse and brings warnings. The reason for this oath is to be found in the Ayah:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) (38:14). Qatadah said, "The reason for it is to be found in the Ayah:
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition)." This was the view favored by Ibn Jarir.
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
(Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition.) means, in this Qur'an there is a reminder for those who will be reminded and a lesson for those who will learn a lesson, but the disbelievers will not benefit from it because they
فِى عِزَّةٍ
(are in false pride) meaning, arrogance and tribalism,
وَشِقَاقٍ
(and opposition.) means, they are stubbornly opposed to it and go against it. Then Allah scares them with news of how the nations who came before them were destroyed because of their opposition to the Messengers and their disbelief in the Scriptures that were revealed from heaven. Allah says:
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ
(How many a generation have We destroyed before them!) meaning, disbelieving nations.
فَنَادَوْاْ
(And they cried out) means, when the punishment came to them, they called for help and cried out to Allah, but that did not save them at all. This is like the Ayat:
فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأْسَنَآ إِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُونَ - لاَ تَرْكُضُواْ وَارْجِعُواْ إِلَى مَآ أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَـكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ
(Then, when they perceived (saw) Our torment, behold, they (tried to) flee from it. Flee not, but return to that wherein you lived a luxurious life, and to your homes, in order that you may be questioned.) (21:12-13). Abu Dawud At-Tayalisi recorded that At-Tamimi said, "I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, about the Ayah:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) He said that it was not the time for them to call or flee or escape. Muhammad bin Ka`b said, concerning the Ayah:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "They called for Tawhid when their lives were over, and they resorted to repentance when their lives were over." Qatadah said, "When they saw the punishment, they wanted to repent when there was no longer time to call out." Mujahid said:
فَنَادَواْ وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(And they cried out when there was no longer time for escape.) "It was not the time to flee or escape." Allah says:
وَّلاَتَ حِينَ مَنَاصٍ
(when there was no longer time for escape.) meaning, there was no time to escape or run away; and Allah knows best.
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ 64) 38۔ ص :64) ، ہے لیکن یہ زیادہ مناسب نہیں ملعوم ہوتا۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس کا جواب اس کے بعد کی آیت ہے۔ ابن جریر اسی کو مختار بتاتے ہیں۔ بعض عربی داں کہتے ہیں اس کا جواب ص ہے اور اس لفظ کے معنی صداقت اور حقانیت کے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ پوری سورت کا خلاصہ اس قسم کا جواب ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے یہ قرآن تو سراسر عبرت و نصیحت ہے مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں ایمان ہے کافر لوگ اس فائدے سے اس لئے محروم ہیں کہ وہ متکبر ہیں اور مخالف ہیں یہ لوگ اپنے سے پہلے اور اپنے جیسے لوگوں کے انجام پر نظر ڈالیں تو اپنے انجام سے ڈریں۔ اگلی امتیں اسی جرم پر ہم نے تہ وبالا کردی ہیں عذاب آ پڑنے کے بعد تو بڑے روئے پیٹے خوب آہو زاری کی لیکن اس وقت کی تمام باتیں بےسود ہیں۔ جیسے فرمایا (فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَرْكُضُوْنَ 12ۭ) 21۔ الأنبیاء :12) ہمارے عذابوں کو معلوم کر کے ان سے بچنا اور بھاگنا چاہا۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اب بھاگنے کا وقت نہیں نہ فریاد کا وقت ہے، اس وقت کوئی فریاد رسی نہیں کرسکتا۔ چاہو جتنا چیخو چلاؤ محض بےسود ہے۔ اب توحید کی قبولیت بےنفع، توبہ بیکار ہے۔ یہ بےوقت کی پکار ہے۔ لات معنی میں لا کے ہے۔ اس میں " ت " زائد ہے جیسے ثم میں بھی " ت " زیادہ ہوتی ہے اور ربت میں بھی۔ یہ مفصولہ ہے اور اس پر وقف ہے۔ امام ابن جریر کا قول ہے کہ یہ " ت " حین سے ملی ہوئی ہے یعنی ولاتحین ہے، لیکن مشہور اول ہی ہے۔ جمہور نے حین کو زبر سے پڑھا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ وقت آہو زاری کا وقت نہیں۔ بعض نے یہاں زیر پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لغت میں نوص کہتے ہیں پیچھے ہٹنے کو اور بوص کہتے ہیں آگے بڑھنے کو پس مقصد یہ ہے کہ یہ وقت بھاگنے اور نکل جانے کا وقت نہیں واللہ الموفق۔
وَعَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٞ مِّنۡهُمۡۖ وَقَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا سَٰحِرٞ كَذَّابٌ
And they were surprised that a Herald of Warning came to them from among themselves; and the disbelievers said, “He is a magician, a great liar!”
اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس اُن ہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے۔ اور کفّار کہنے لگے: یہ جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
أَجَعَلَ ٱلۡأٓلِهَةَ إِلَٰهٗا وَٰحِدًاۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٞ
“Has he made all the Gods into One God? This is really something very strange!”
کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
وَٱنطَلَقَ ٱلۡمَلَأُ مِنۡهُمۡ أَنِ ٱمۡشُواْ وَٱصۡبِرُواْ عَلَىٰٓ ءَالِهَتِكُمۡۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٞ يُرَادُ
And their leaders went about, “Leave him and cling steadfastly to your Gods! Indeed he has a hidden objective in this!”
اور اُن کے سردار (ابوطالب کے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر) چل کھڑے ہوئے (باقی لوگوں سے) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے معبودوں (کی پرستش) پر ثابت قدم رہو، یہ ضرور ایسی بات ہے جس میں کوئی غرض (اور مراد) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
مَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِي ٱلۡمِلَّةِ ٱلۡأٓخِرَةِ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا ٱخۡتِلَٰقٌ
“We never heard of this even in Christianity, the latest religion; this is clearly a newly fabricated matter.”
ہم نے اس (عقیدۂ توحید) کو آخری ملّتِ (نصرانی یا مذہبِ قریش) میں بھی نہیں سنا، یہ صرف خود ساختہ جھوٹ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
أَءُنزِلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ مِنۢ بَيۡنِنَاۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّن ذِكۡرِيۚ بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
“Is the Qur’an which is sent to him, among us?” In fact they are in a doubt concerning My Book; in fact, they have not yet tasted My punishment.
کیا ہم سب میں سے اسی پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے؟ بلکہ وہ میرے ذکر کی نسبت شک میں (گرفتار) ہیں، بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآئِنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡوَهَّابِ
Or do they hold the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Great Bestower?
کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے بہت عطا فرمانے والا ہے؟
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
10
View Single
أَمۡ لَهُم مُّلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۖ فَلۡيَرۡتَقُواْ فِي ٱلۡأَسۡبَٰبِ
Is the kingdom of the heavens and the earth and all that is between them, for them? So would they not just ascend using ropes?
یا اُن کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ اِن دونوں کے درمیان ہے اس کی بادشاہت ہے؟ (اگر ہے) تو انہیں چاہئے کہ رسّیاں باندھ کر (آسمان پر) چڑھ جائیں
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
11
View Single
جُندٞ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُومٞ مِّنَ ٱلۡأَحۡزَابِ
This is just one of the disgraced armies, that will be routed there and then.
(کفّار کے) لشکروں میں سے یہ ایک حقیر سا لشکر ہے جو اسی جگہ شکست خوردہ ہونے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators were amazed at the Message, Tawhid and the Qur'an
Allah tells us that the idolators wondered at the sending of the Messenger of Allah as a bringer of glad tidings and a warner. This is like the Ayah:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ ءامَنُواْ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَـفِرُونَ إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ مُّبِينٌ
(Is it a wonder for mankind that We have sent Our revelation to a man from among themselves (saying): "Warn mankind, and give good news to those who believe that they shall have with their Lord the rewards of their good deeds" (But) the disbelievers say: "This is indeed an evident sorcerer!") (10:2). And Allah says here:
وَعَجِبُواْ أَن جَآءَهُم مٌّنذِرٌ مِّنْهُمْ
(And they wonder that a warner has come to them from among themselves.) meaning, a human being like themselves.
وَقَالَ الْكَـفِرُونَ هَـذَا سَـحِرٌ كَذَّابٌأَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً
(And the disbelievers said: "This is a sorcerer, a liar. Has he made the gods into One God") meaning, does he claim that the One Who is to worshipped is One and there is no god besides Him The idolators -- may Allah curse them -- denounced that and were amazed at the idea of giving up Shirk, because they had learned from their forefathers to worship idols and their hearts were filled with love for that. When the Messenger called them to rid their hearts of that and to worship Allah Alone, this was too much for them and they were astounded by it. They said:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلأُ مِنْهُمْ
("Has he made the gods into One God Verily, this is a curious thing!" And the leaders among them went about) meaning the chiefs and masters and nobles,
امْشُواْ
((saying): "Go on...") meaning, `persist in your religion,'
وَاْصْبِرُواْ عَلَى ءَالِهَتِكُمْ
(and remain constant to your gods!), meaning, `do not respond to Muhammad's call to Tawhid.'
إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ يُرَادُ
(Verily, this is a thing designed!) Ibn Jarir said, "The Tawhid to which Muhammad is calling you is something by which he wishes to gain power over you, and exalt his own position, so that he will have followers among you, but we will not respond
The Reason for the Revelation of These Ayat
Abu Ja`far bin Jarir recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "When Abu Talib fell sick, some of the people of the Quraysh, including Abu Jahl, entered upon him and said, `Your brother's son is insulting our gods; he does such and such and says such and such. Why don't you send for him and tell him not to do that' So he sent for the Prophet and he entered the house. There was space enough for one man to sit between them and Abu Talib, and Abu Jahl, may Allah curse him, was afraid that if the Prophet were to sit beside Abu Talib he would be more lenient with him, so he jumped up and sat in that spot, and the Messenger of Allah could find nowhere to sit near his uncle, so he sat by the door. Abu Talib said to him, `O son of my brother, why are your people complaining about you and claiming that you insult their gods and say such and such' They made so many complaints against him. Thereupon, he said,
«يَا عَمِّ إِنِّي أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ يَقُولُونَهَا تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَة»
(O uncle, all I want from them is one word which, if they say it, the Arabs will become their followers and the non-Arabs will pay Jizyah to them.) They were worried about what he said, so they said, `One word Yes, by your father, (we will say) ten words! What is it' Abu Talib said, `What word is it, O son of my brother' He said,
«لَا إِلَهَ إِلَّا الله»
(La ilaha illallah.) They stood up in agitation, brushing down their clothes, saying,
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
(Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!) Then this passage was revealed, from this Ayah to the Ayah:
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!)" This is the wording of Abu Kurayb. Something similar was also recorded by Imam Ahmad and An-Nasa'i, and At-Tirmidhi said, "Hasan."
مَا سَمِعْنَا بِهَـذَا فِى الْمِلَّةِ الاٌّخِرَةِ
(We have not heard (the like) of this in the religion of these later days.) means, `we have not heard anything like this Tawhid to which Muhammad calls us in the religion of these later days.' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "`We have not heard of this from the religion of these later days (meaning Christianity); if this Qur'an were true, the Christians would have told us about it."
إِنْ هَـذَا إِلاَّ اخْتِلاَقٌ
(This is nothing but an invention!) Mujahid and Qatadah said, "A lie." Ibn `Abbas said, "A fabrication."
أَءَنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا
(Has the Reminder been sent down to him (alone) from among us) They thought it unlikely that he would be singled out from among them to receive the Qur'an. This is like the Ayat:
لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
(And they say: "Why is not this Qur'an sent down to some great man of the two towns") (43:31). Allah said:
أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيشَتَهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(Is it they who would portion out the mercy of your Lord It is We Who portion out between them their livelihood in this world, and We raised some of them above others in ranks) (43:32). When they said this, it indicated their ignorance and lack of understanding since they thought it was unlikely that the Qur'an would be revealed to the Messenger and not to somebody else.
بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
(Nay, but they have not tasted (My) torment!) means, they say this because they have not yet tasted the punishment and vengeance of Allah. But they will come to know the consequences of what they say and what they rejected on the Day when they are herded into the fire of Hell. Then Allah points out that He is the One Who is in control of His Creation and Who does whatever He wills, Who gives whatever He wants to whomever He wants, and honors whomever He wants and humiliates whomever He wants, and guides whomever He wants and misguides whomever He wants, and sends the Ruh (Jibril) by His command upon whomsoever He wants among His servants, and seals the hearts of whomever He wants, so no one can guide him apart from Allah. His servants do not possess any power and have no control over His dominion, not even a speck of dust's weight; they do not possess even a thin membrane over a date stone. Allah says, denouncing them:
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
(Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower) meaning, the Almighty Whose might cannot be overcome, the Bestower Who gives whatever He wills to whomsoever He wills. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذاً لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيراً - أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ ءَاتَيْنَآ ءَالَ إِبْرَهِيمَ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ وَءَاتَيْنَـهُمْ مُّلْكاً عَظِيماً - فَمِنْهُمْ مَّنْ ءَامَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَى بِجَهَنَّمَ سَعِيراً
(Or have they a share in the dominion Then in that case they would not give mankind even a speck on the back of a date stone. Or do they envy men for what Allah has given them of His bounty Then, We had already given the family of Ibrahim the Book and Al-Hikmah, and conferred upon them a great kingdom. Of them were (some) who believed in him, and of them were (some) who averted their faces from him; and enough is Hell for burning (them).) (4:53-55).
قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّى إِذًا لأمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الإِنفَاقِ وَكَانَ الإنْسَـنُ قَتُورًا
(Say: "If you possessed the treasure of the mercy of my Lord (wealth), then you would surely hold back for fear of (being exhausted), and man is ever miserly!") (17:100). This is after Allah tells us the story of how the disbeliever denied the sending of a human Messenger, as He tells us that the people of Salih, peace be upon him, said:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:25, 26)
أَمْ لَهُم مٌّلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيَنَهُمَا فَلْيَرْتَقُواْ فِى الاٌّسْبَابِ
(Or is it that the dominion of the heavens and the earth and all that is between them is theirs If so, let them ascend up with means.) means, if they have that, then let them ascend up with means. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said, "The ways to the heaven." Ad-Dahhak, said, "Then let them ascend into the seventh heaven." Then Allah says,
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّن الاٌّحَزَابِ
(they will be a defeated host like the Confederates of the old times.) meaning, these hosts of disbelievers who are in false pride and opposition will be defeated and overwhelmed and disgraced, just as the Confederates of the old times were disgraced before them. This Ayah is like the Ayah:
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ - سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious" Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) (54:44-45) -- which is what happened on the day of Badr --
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time, and the Hour will be more grievous and more bitter.) (54:46)
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے کہ انہی میں سے انہی جیسے ایک انسان کے رسول بن کر آنے پر انہیں تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور کذاب ہے۔ رسول ﷺ کی رسالت پر تعجب کے ساتھ ہی اللہ کی وحدانیت پر بھی انہیں تعجب معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ اور سنو اتنے سارے معبودوں کے بدلے یہ تو کہتا ہے کہ اللہ ایک ہی ہے اور اس کا کوئی کسی طرح کا شریک ہی نہیں ان بیوقوفوں کو اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی جس شرک و کفر کی عادت تھی اس کے خلاف آواز سن کر ان کے دل دکھنے اور رکنے لگے اور وہ توحید کو ایک انوکھی اور انجان چیز سمجھنے لگے۔ ان کے بڑوں اور سرداروں نے تکبر کے ساتھ منہ موڑتے ہوئے اعلان کیا کہ اپنے قدیمی مذہب پر جمے رہو۔ اس کی بات نہ مانو اور اپنے معبودوں کی عبادت کرتے رہو۔ یہ تو صرف اپنے مطلب کی باتیں کہتا ہے۔ یہ اس بہانے اپنی جما رہا ہے کہ یہ تمہارا سب کا بڑا بن جائے اور تم اس کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ ایک بار قریشیوں کے شریف اور سردار رؤسا ایک مرتبہ جمع ہوئے ان میں ابو جہل بن ہشام عاص بن وائل اسود بن المطلب اسود بن عبد یغوث وغیرہ بھی تھے اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چل کر آج ابو طالب سے آخری فیصلہ کرلیں وہ انصاف کے ساتھ ایک بات ہمارے ذمہ ڈال دے اور ایک اپنے بھتیجے کے ذمے۔ کیونکہ یہ اب انتہائی عمر کو پہنچ چکے ہیں چراغ سحری ہو رہے ہیں اگر مرگئے اور ان کے بعد ہم نے محمد ﷺ کو کوئی مصیبت پہنچائی تو عرب میں طعنہ دیں گے کہ بڈھے کی موجودگی تک تو کچھ نہ چلی اور ان کی موت کے بعد بہادری آگئی۔ چناچہ ایک آدمی بھیج کر ابو طالب سے اجازت مانگی ان کی اجازت پر سب گھر میں گئے اور کہا سنئے جناب ! آپ ہمارے سردار ہیں بزرگ ہیں بڑے ہیں۔ ہم آپ کے بھتیجے سے اب بہت تنگ آگئے ہیں آپ انصاف کے ساتھ ہم میں اور اس میں فیصلہ کر دیجئے۔ دیکھئے ہم آپ سے انصاف چاہتے ہیں وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں اور نہ ہم انہیں ستائیں وہ مختار ہیں جس کی چاہیں عبادت کریں لیکن ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابو طالب نے آدمی بھیج کر اللہ کے رسول ﷺ کو بلوایا اور کہا جان پدر دیکھتے ہو آپ کی قوم کے سردار اور بزرگ سب جمع ہوئے ہیں اور آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودوں کی توہین اور برائی کرنے سے باز آجائیں اور یہ آپ کو آپ کے دین پر چلنے میں آزادی دے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا چچا جان کیا میں انہیں بہترین اور بڑی بھلائی کی طرف نہ بلاؤں ؟ ابو طالب نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک کلمہ کہہ دیں صرف اس کے کہنے کی وجہ سے سارا عرب ان کے ماتحت ہوجائے گا اور سارے عجم پر ان کی حکومت ہوجائے گی۔ ابو جہل ملعون نے سوال کیا کہ اچھا بتاؤ وہ ایسا کونسا کلمہ ہے ؟ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہو لا الہ الا اللہ بس یہ سننا تھا کہ شور و غل کردیا اور کہنے لگے اس کے سوا جو تو مانگے ہم دینے کو تیار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سورج کو بھی لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دو تو بھی تو تم سے اس کلمے کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا۔ سارے کے سارے مارے غصے اور غضب کے بھنا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے واللہ ہم تجھے اور تیرے اللہ کو گالیاں دیں گے جس نے تجھے یہ حکم دیا ہے۔ اب یہ چلے اور ان کے سردار یہ کہتے رہے کہ جاؤ اپنے دین پر اور اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔ معلوم ہوگیا کہ اس شخص کا تو ارادہ ہی اور ہے یہ تو بڑا بننا چاہتا ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کے بعد حضور نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ ہی اس کلمے کو پڑھ لیجئے اس نے کہا نہیں میں تو اپنے باپ دادوں اور قوم کے بڑوں کے دین پر ہی رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا کہ جسے تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ابو طالب بیمار تھے اور اسی وجہ سے وہ مرا بھی۔ جس وقت حضور ﷺ تشریف لائے اس وقت ابو طالب کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی باقی تمام گھر آدمیوں سے بھرا ہوا تھا تو ابو جہل خبیث نے خیال کیا کہ اگر آپ ﷺ آ کر اپنے چچا کے پاس بیٹھ گئے تو زیادہ اثر ڈال سکیں گے اس لئے یہ ملعون کود کر وہاں جا بیٹھا اور حضور ﷺ کو دروازہ کے پاس ہی بیٹھنا پڑا۔ حضور ﷺ نے جب ایک کلمہ کہنے کو کہا تو سب نے جواب دیا کہ ایک نہیں دس ہم سب منتظر ہیں فرمایئے وہ کیا کلمہ ہے ؟ اور جب کلمہ توحید آپ کی زبانی سنا تو کپڑے جھاڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے لو اور سنو یہ تو سارے معبودوں کا ایک معبود بنا رہا ہے۔ اس پر یہ آیتیں، عذاب تک، اتریں۔ امام ترمذی اس روایت کو حسن کہتے ہیں۔ ہم نے تو یہ بات نہ اپنے دین میں دیکھی نہ نصرانیوں کے دین میں۔ یہ بالکل غلط اور جھوٹ اور بےسند بات ہے۔ یہ کیسے کچھ تعجب کی بات ہے کہ اللہ میاں کو کوئی اور نظر ہی نہ آیا اور اس پر قرآن اتار دیا۔ جیسے ایک اور آیت میں ان کا قول ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31) 43۔ الزخرف :31) یعنی ان دونوں شہروں میں کے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا ؟ جس کے جواب میں جناب باری کا ارشاد ہوا کہ کیا یہی لوگ رب کی رحمت کی تقسیم کرنے والے ہیں ؟ یہ تو اس قدر محتاج ہیں کہ ان کی اپنی روزیاں اور درجے بھی ہم تقسیم کرتے ہیں۔ الغرض یہ اعتراض بھی ان کی حماقت کا غرہ تھا۔ اللہ فرماتا ہے، یہ ہے ان کے شک کا نتیجہ اور وجہ یہ ہے کہ اب تک یہ چکنی چپڑی کھاتے رہے ہیں ہمارے عذابوں سے سابقہ نہیں پڑا۔ کل قیامت کے دن جبکہ دھکے دے کر جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اس وقت اپنی اس سرکشی کا مزہ پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا قبضہ اور اپنی قدرت ظاہر فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے کرے، جسے چاہے جو چاہے دے، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے، ہدایت ضلالت اس کی طرف سے ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وحی نازل فرمائے اور جس کے دل پر چاہے اپنی مہر لگا دے بندوں کے اختیار میں کچھ نہیں وہ محض بےبس بالکل لاچار اور سراسر مجبور ہیں۔ اسی لئے فرمایا کیا ان کے پاس اس بلند جناب غالب، وہاب اللہ کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یعنی نہیں ہیں جیسے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا 53ۙ) 4۔ النسآء :53) ، اگر اللہ کی حکمرانی کا کوئی حصہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو یہ بخیل تو کسی کو ٹکڑا بھی نہ کھانے دیتے۔ اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں اللہ کا فضل دیکھ کر حسد آ رہا ہے ؟ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بہت بڑی سلطنت دی تھی۔ ان میں سے بعض تو ایمان لائے اور بعض ایمان سے رکے رہے جو بھڑکتی جہنم کے لقمے بنیں گے وہ آگ ہی انہیں کافی ہے اور آیت میں ہے (قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا01000ۧ) 17۔ الإسراء :100)۔ یعنی اگر میرے رب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم تو کمی سے ڈر کر خرچ کرنے سے رک جاتے انسان ہے ہی ناشکرا۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی ﷺ سے یہی کہا تھا کہ الخ، کیا ہم سب کو چھوڑ کر اسی پر ذکر اتارا گیا ؟ نہیں بلکہ یہ کذاب اور شریر ہے۔ اللہ فرماتا ہے کل معلوم کرلیں گے کہ ایسا کون ہے ؟ پھر فرمایا کیا زمین آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں پر ان کا اختیار ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر آسمانوں کی راہوں پر چڑھ جائیں ساتویں آسمان پر پہنچ جائیں۔ یہ یہاں کا لشکر بھی عنقریب ہزیمت و شکست اٹھائے گا اور مغلوب و ذلیل ہوگا۔ جیسے اور بڑے بڑے گروہ حق سے ٹکرائے اور پاش پاش ہوگئے، جیسے اور آیت میں ہے (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ 44) 54۔ القمر :44) ، یعنی کیا ان کا قول ہے کہ ہم بڑی جماعت ہیں اور ہم ہی فتح یاب رہیں گے ؟ سنو انہیں ابھی ابھی شکست فاش ہوگی اور پیٹھ دکھاتے ہوئے بزدلی کے ساتھ بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوں گے چناچہ بدر والے دن اللہ کی فرماں روائی نے اللہ کی باتوں کی سچائی انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی اور ابھی ان کے عذابوں کے وعدے کا دن تو آخرت کا دن ہے جو سخت کڑوا اور نہایت دہشت ناک اور وحشت والا ہے۔
12
View Single
كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَعَادٞ وَفِرۡعَوۡنُ ذُو ٱلۡأَوۡتَادِ
Before them, the people of Nooh had denied, and the tribe of A’ad, and Firaun who used to crucify.
اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور عاد نے اور بڑی مضبوط حکومت والے (یا میخوں سے اذیّت دینے والے) فرعون نے (بھی) جھٹلایا تھا
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُوْلَـئِكَ الاٌّحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, `they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) `The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنظُرُ هَـؤُلآءِ إِلاَّ صَيْحَةً وحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.) Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!") Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said: e
اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma`il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
13
View Single
وَثَمُودُ وَقَوۡمُ لُوطٖ وَأَصۡحَٰبُ لۡـَٔيۡكَةِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلۡأَحۡزَابُ
And the tribe of Thamud, and the people of Lut, and the People of the Woods; these are the groups.
اور ثمود نے اور قومِ لوط نے اور اَیکہ (بَن) کے رہنے والوں نے (یعنی قومِ شعیب نے) بھی (جھٹلایا تھا)، یہی وہ بڑے لشکر تھے
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُوْلَـئِكَ الاٌّحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, `they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) `The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنظُرُ هَـؤُلآءِ إِلاَّ صَيْحَةً وحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.) Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!") Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said: e
اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma`il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
14
View Single
إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
None of them was such that it did not deny the Noble Messengers, therefore My punishment became inevitable.
(اِن میں سے) ہر ایک گروہ نے رسولوں کو جھٹلایا تو (اُن پر) میرا عذاب واجب ہو گیا
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُوْلَـئِكَ الاٌّحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, `they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) `The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنظُرُ هَـؤُلآءِ إِلاَّ صَيْحَةً وحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.) Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!") Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said: e
اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma`il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
15
View Single
وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ مَّا لَهَا مِن فَوَاقٖ
They await just one Scream, which no one can avert.
اور یہ سب لوگ ایک نہایت سخت آواز (چنگھاڑ) کا انتظار کر رہے ہیں جس میں کچھ بھی توقّف نہ ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُوْلَـئِكَ الاٌّحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, `they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) `The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنظُرُ هَـؤُلآءِ إِلاَّ صَيْحَةً وحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.) Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!") Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said: e
اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma`il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
16
View Single
وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ يَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ
And they said, “Our Lord! Give us our share quickly, before the Day of Reckoning.”
اور وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! روزِ حساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلد دے دے
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder of Those Who were destroyed among the Previous Nations
Allah tells us about those past nations and the punishment and vengeance that struck them for their going against the Messengers and disbelieving in the Prophets, peace be upon them. We have already seen their stories in detail in numerous places (in the Qur'an). Allah says:
أُوْلَـئِكَ الاٌّحْزَابُ
(such were the Confederates.) meaning, `they were greater and stronger than you, they had more wealth and children, but that did not protect them from the punishment of Allah at all when the command of your Lord came to pass.' Allah says:
إِن كُلٌّ إِلاَّ كَذَّبَ الرٌّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(Not one of them but denied the Messengers; therefore My torment was justified.) `The reason for their destruction was their disbelief in the Messengers, so let those who are addressed here beware and be afraid.'
وَمَا يَنظُرُ هَـؤُلآءِ إِلاَّ صَيْحَةً وحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ
(And these only wait for a single Sayhah there will be no pause or ending thereto.) Malik narrated from Zayd bin Aslam; "There will none who can avert it," i.e., they will only wait for the Hour that it shall come upon them suddenly while they perceive not. But some of its portents have already come, i.e., it has drawn nigh. This Sayhah is the blast on the Trumpet when Allah will command Israfil to sound a long note, and there will be no one in the heaven or on earth but will be terrified, except those whom Allah spares.
وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
(They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!") Here Allah denounces the idolators for calling for the punishment to be hastened upon themselves. Qitt refers to a book or record, or it was said that it means one's allotted share or fortune. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said, "They asked for the punishment to be hastened." Qatadah added, this is like when they said: e
اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
("O Allah! If this (the Qur'an) is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky or bring on us a painful torment.") (8:32). It was also said that they asked for their share of Paradise to be hastened, if it really existed, so that they might have their share in this world; they said this because they thought it unlikely to exist and they disbelieved in it. Ibn Jarir said, "They asked for whatever they deserved, good or bad, to be hastened for them in this world." What he said is good, and A-Dahhak and Isma`il bin Abi Khalid based their views on it. And Allah knows best. They said this by way of mockery and disbelief, so Allah commanded His Messenger to be patient in the face of their insults, and He gave him the glad tidings that his patience would be rewarded with victory and success.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
17
View Single
ٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
Have patience upon what they say, and remember Our bondman Dawud, the one blessed with favours; he is indeed most inclined (towards His Lord).
(اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power
Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength." Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا»
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq. ) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُ وَالطَّيْرَ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!) (34:10). The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from `Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. `Abdullah said: "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, `Tell him what you told me.' She said, `The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak`ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, `I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, `We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَءَاتَيْنَـهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha`bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu `Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
18
View Single
إِنَّا سَخَّرۡنَا ٱلۡجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحۡنَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِشۡرَاقِ
Indeed We subjected the hills to say the praise with him, at night and at morn.
بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power
Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength." Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا»
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq. ) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُ وَالطَّيْرَ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!) (34:10). The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from `Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. `Abdullah said: "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, `Tell him what you told me.' She said, `The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak`ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, `I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, `We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَءَاتَيْنَـهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha`bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu `Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
19
View Single
وَٱلطَّيۡرَ مَحۡشُورَةٗۖ كُلّٞ لَّهُۥٓ أَوَّابٞ
And birds gathered together; they were all obedient to him.
اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھا
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power
Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength." Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا»
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq. ) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُ وَالطَّيْرَ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!) (34:10). The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from `Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. `Abdullah said: "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, `Tell him what you told me.' She said, `The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak`ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, `I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, `We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَءَاتَيْنَـهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha`bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu `Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
20
View Single
وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهُۥ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ ٱلۡخِطَابِ
And We strengthened his kingdom and gave him wisdom and just speech.
اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us that His servant and Messenger Dawud, peace be upon him, was endued with power
Al-Ayd means strength in knowledge and action. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, As-Suddi and Ibn Zayd said, "Al-Ayd means strength." Mujahid said, "Al-Ayd means strength in obedience to Allah." Qatadah said, "Dawud, peace be upon him, was given strength in worship and the proper understanding of Islam." He told us that he, peace be upon him, used to spend a third of the night in prayer, and he fasted for half a lifetime. This was reported in the Two Sahihs, where it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، وَأَنَّهُ كَانَ أَوَّابًا»
(The most beloved of prayer to Allah is the prayer of Dawud, and the most beloved of fasting to Allah is the fasting of Dawud. He used to sleep for half of the night, stand in prayer for a third of the night, then sleep for a sixth of the night, and he used to fast alternate days. He never fled from the battlefield, and he always turned to Allah.) which means that he turned to Allah with regard to all of his affairs.
إِنَّا سَخَّرْنَا الجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(Verily, We made the mountains to glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq. ) means, Allah caused the mountains to glorify His praises with him at sunrise and at the end of the day. This is like the Ayah:
يَجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُ وَالطَّيْرَ
(O you mountains. Glorify (Allah) with him! And you birds (also)!) (34:10). The birds also used to glorify Allah's praises with him. If a bird flew by him and heard him chanting the Zabur, it would not go away; instead it would stay hovering in the air, glorifying Allah along with him. And the lofty mountains would respond to him and echo his glorification of Allah. Ibn Jarir recorded from `Abdullah bin Al-Harith bin Nawfal that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, did not pray Ad-Duha. `Abdullah said: "So I took him to Umm Hani, may Allah be pleased with her, and said to her, `Tell him what you told me.' She said, `The Messenger of Allah ﷺ entered my house on the day of the conquest of Makkah. He called for water to be poured into a large bowl, then he called for a garment which he used as a screen between me and him, and he washed himself. Then he sprinkled water around the house and prayed eight Rak`ahs. This was Ad-Duha, and its standing, bowing, prostration and sitting were all equal in brevity.' Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, left, saying, `I have read the Qur'an from cover to cover, and I never knew about Salat Ad-Duha until now!' Then he recited:
يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِىِّ وَالإِشْرَاقِ
(glorify Our praises with him in the `Ashi and Ishraq.) I used to say, "What is Salat Al-Ishraq, but now I know what it is."
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً
(And (so did) the birds assembled,) meaning, hovering in the air.
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, they obeyed him and followed him in glorifying Allah. Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Malik said, narrating from Zayd bin Aslam and Ibn Zayd:
كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
(all obedient to him.) means, "Following his commands."
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ
(We made his kingdom strong) means, `We gave him complete dominion with all that kings need.' Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "He was the strongest and most powerful of the people of this world."
وَءَاتَيْنَـهُ الْحِكْمَةَ
(and gave him Al-Hikmah) Mujahid said, "This means understanding, reason and intelligence." Qatadah said, "The Book of Allah and following what is in it." As-Suddi said:
الْحِكْمَةَ
(Al-Hikmah) "Prophethood."
وَفَصْلَ الْخِطَابِ
(and sound judgement) Shurayh Al-Qadi and Ash-Sha`bi said, "Sound judgement is testimony and oaths." Qatadah said, "Two witnesses for the plaintiff or an oath on the part of the defendant is meaning of sound judgement." This is the sound judgement which the Prophets and Messengers judged and the believers and righteous accepted. This is the basis of this Ummah's judicial system until the Day of Resurrection. This was the view of Abu `Abdur-Rahman As-Sulami. Mujahid and As-Suddi said, "It means passing the right judgement and understanding the case." Mujahid also said, "It is soundness in speech and in judgement, and this includes all of the above." This is what is meant, and this is the view favored by Ibn Jarir.
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ کر نڈر ہو کر عذابوں کے طلب کرنے کا ذکر ہو رہا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اللہ اگر یہ صحیح ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا اور کوئی درد ناک عذاب آسمانی ہمیں پہنچا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا جنت کا حصہ یہاں طلب کیا اور یہ جو کچھ کہا یہ بہ وجہ اسے جھوٹا سمجھنے اور محال جاننے کے تھا۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ جس خیر و شر کے وہ دنیا میں مستحق تھے اسے انہوں نے جلد طلب کیا۔ یہی بات ٹھیک ہے ضحاک اور اسماعیل کی تفسیر کا ماحصل بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تکذیب اور ہنسی کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو صبر کی تعلیم دی اور برداشت کی تلقین کی۔ حضرت داؤد ؑ کی فراست۔ ذالاید سے مراد علمی اور عملی قوت والا ہے اور صرف قوۃ والے کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے (وَالسَّمَاۗءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ 47) 51۔ الذاریات :47) ، مجاہد فرماتے ہیں مراد اطاعت کی طاقت ہے۔ حضرت داؤد ؑ کو عبادت کی قدرت اور اسلام کی فقہ عطا فرمائی گی تھی۔ یہ مذکور ہے کہ آپ ہر رات تہائی رات تک تہجد میں کھڑے رہتے تھے اور ایک دن بعد ایک دن ہمیشہ روزے سے رہتے تھے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد کی رات کی نماز اور انہی کے روزے تھے۔ آپ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ رات کا پھر سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے ایک دن نہ رکھتے اور دشمنان دین سے جہاد کرنے میں پیٹھ نہ دکھاتے اور اپنے ہر حال میں اللہ کی طرف رغبت و رجوع رکھتے۔ پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کردیا تھا۔ وہ آپ کے ساتھ سورج کے ڈھلنے کے وقت اور دن کے آخری وقت تسبیح بیان کرتے۔ جیسے فرمان ہے (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ ۚ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ 10 ۙ) 34۔ سبأ :10) یعنی اللہ نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح پرندے بھی آپ کی آواز سن کر آپ کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرنے لگ جاتے اڑتے ہوئے پرند پاس سے گذرتے اور آپ توراۃ پڑھتے ہوتے تو آپ کے ساتھ وہ بھی تلاوت میں مشغول ہوجاتے اور اڑنا بھول جاتے بلکہ ٹھہر جاتے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن ضحیٰ کے وقت حضرت ام ہانی کے گھر میں آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ ابن عباس فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقت نماز ہے جیسے فرمان ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18)۔ عبداللہ بن حارث بنی نوفل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحیٰ کی نماز نہیں پڑھتے تھے ایک دن میں انہیں حضرت ام ہانی ؓ کے ہاں لے گیا اور کہا کہ آپ ان سے وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے مجھ سے بیان فرمائی تھی۔ تو مائی صاحبہ نے فرمایا فتح مکہ والے دن میرے گھر میں میرے پاس اللہ کے رسول ﷺ آئے۔ پھر ایک برتن میں پانی بھروایا اور ایک کپڑا تان کر نہانے بیٹھ گئے پھر گھر کے ایک کونے میں پانی چھڑک کر آٹھ رکعت صلوۃ ضحیٰ کی ادا کیں، ان کا قیام رکوع سجدہ اور جلوس سب قریب قریب برابر تھے حضرت ابن عباس جب یہ سن کر وہاں سے نکلے تو فرمانے لگے پورے قرآن کو میں نے پڑھ لیا میں نہیں جانتا کہ ضحیٰ کی نماز کیا ہے آج مجھے معلوم ہوا کہ (يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ) 38۔ ص :18) والی آیت میں بھی اشراق سے مراد یہی ضحیٰ ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کرلیا۔ جب حضرت داؤد اللہ کی پاکیزگی اور بزرگی بیان فرماتے تو پرندے بھی ہواؤں میں رک جاتے تھے اور حضرت داؤد کی ماتحتی میں ان کی تسبیح کا ساتھ دیتے تھے۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کردی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اس قدر فوج تھی کہ ہر رات تینتیس ہزار فوجی پہرے پر چڑھتے تھے لیکن جو آج کی رات آتے پھر سال بھر تک ان کی باری نہ آتی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں میں ایک مقدمہ ہوا۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا حضرت داؤد ؑ نے مدعی سے دلیل طلب کی وہ کوئی گواہ پیش نہ کرسکا آپ نے فرمایا اچھا تمہیں کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ رات کو حضرت داؤد کو خواب میں حکم ہوا کہ دعویدار کو قتل کردو۔ صبح آپ نے دونوں بلوایا اور حکم دیا کہ اس مدعی کو قتل کردیا جائے اس نے کہا اے اللہ کے نبی آپ میرے ہی قتل کا حکم دے رہے ہیں حالانکہ اس نے میری گائے چرالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ میرا حکم نہیں یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور ناممکن ہے کہ یہ ٹل جائے تو تیار ہوجا۔ تب اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں اپنے دعوے میں تو سچا ہوں اس نے میری گائے غصب کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں کیا۔ اس کی وجہ اور ہی ہے اور اسے صرف میں ہی جانتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ آج میں نے اسے فریب سے قتل کردیا ہے جس کا کسی کو علم نہیں۔ پس اس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو قصاص کا حکم دیا ہے۔ چناچہ وہ قتل کردیا گیا۔ اب تو حضرت داؤد کی ہیبت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ہم نے اسے حکمت دی تھی یعنی فہم و عقل، زیرکی اور دانائی، عدل و فراست کتاب اللہ اور اس کی اتباع نبوت و رسالت وغیرہ اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کا صحیح طریقہ۔ یعنی گواہ لینا قسم کھلوانا، مدعی کے ذمہ بار ثبوت ڈالنا مدعی علیہ سے قسم لینا۔ یہی طریقہ فیصلوں کا انبیاء کا اور نیک لوگوں کا رہا اور یہی طریقہ اس امت میں رائج ہے۔ غرض حضرت داؤد معاملے کی تہ کو پہنچ جاتے تھے اور حق و باطل سچ جھوٹ میں صحیح اور کھرے کا امتیاز کرلیتے تھے۔ کلام بھی آپ کا صاف ہوتا تھا اور حکم بھی عدل پر مبنی ہوتا تھا۔ آپ ہی نے اما بعد کا کہنا ایجاد کیا ہے اور فصل الخطاب سے اس کی طرف بھی اشارہ ہے۔
21
View Single
۞وَهَلۡ أَتَىٰكَ نَبَؤُاْ ٱلۡخَصۡمِ إِذۡ تَسَوَّرُواْ ٱلۡمِحۡرَابَ
And did the news of the two disputants reach you? When they scaled over the wall into Dawud’s mosque.
اور کیا آپ کے پاس جھگڑنے والوں کی خبر پہنچی؟ جب وہ دیوار پھاند کر (داؤد علیہ السلام کی) عبادت گاہ میں داخل ہو گئے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِى فِى الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, `he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّـهُ
(And Dawud guessed that We have tried him) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعاً وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet prostrated in Sad, and he said:
«سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا»
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)" This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-`Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, `I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, `Why do you prostrate' He said, `Have you not read:
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his Nuh's progeny Dawud, Sulayman) (6:84)
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance) (6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here."' Abu Dawud recorded that Abu Sa`id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He said:
«إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُم»
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
«الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
22
View Single
إِذۡ دَخَلُواْ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنۡهُمۡۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ خَصۡمَانِ بَغَىٰ بَعۡضُنَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فَٱحۡكُم بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَلَا تُشۡطِطۡ وَٱهۡدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ
When they entered upon David, so he feared them – they said, “Do not fear! We are two disputants, one of whom has wronged the other, therefore judge fairly between us and do not judge unjustly – and show us the right way.”
جب وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس اندر آگئے تو وہ اُن سے گھبرائے، انہوں نے کہا: گھبرائیے نہیں، ہم (ایک) مقدّمہ میں دو فریق ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیں اور حد سے تجاوز نہ کریں اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف رہبری کر دیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِى فِى الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, `he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّـهُ
(And Dawud guessed that We have tried him) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعاً وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet prostrated in Sad, and he said:
«سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا»
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)" This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-`Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, `I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, `Why do you prostrate' He said, `Have you not read:
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his Nuh's progeny Dawud, Sulayman) (6:84)
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance) (6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here."' Abu Dawud recorded that Abu Sa`id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He said:
«إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُم»
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
«الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
23
View Single
إِنَّ هَٰذَآ أَخِي لَهُۥ تِسۡعٞ وَتِسۡعُونَ نَعۡجَةٗ وَلِيَ نَعۡجَةٞ وَٰحِدَةٞ فَقَالَ أَكۡفِلۡنِيهَا وَعَزَّنِي فِي ٱلۡخِطَابِ
“This is my brother; he has ninety nine ewes and I have one ewe; and he now says ‘Give that one also to me’ – and he is very demanding in speech.”
بے شک یہ میرا بھائی ہے، اِس کی ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دُنبی ہے، پھر کہتا ہے یہ (بھی) میرے حوالہ کر دو اور گفتگو میں (بھی) مجھے دبا لیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِى فِى الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, `he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّـهُ
(And Dawud guessed that We have tried him) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعاً وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet prostrated in Sad, and he said:
«سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا»
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)" This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-`Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, `I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, `Why do you prostrate' He said, `Have you not read:
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his Nuh's progeny Dawud, Sulayman) (6:84)
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance) (6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here."' Abu Dawud recorded that Abu Sa`id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He said:
«إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُم»
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
«الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
24
View Single
قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦۖ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡخُلَطَآءِ لَيَبۡغِي بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٞ مَّا هُمۡۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّۤ رَاكِعٗاۤ وَأَنَابَ۩
Said Dawud, “He is indeed being unjust to you in that he demands to add your ewe to his ewes; and indeed most partners wrong one another, except those who believe and do good deeds – and they are very few!” Thereupon Dawud realised that We had tested him, so he sought forgiveness from his Lord, and fell prostrate and inclined (towards his Lord). (Command of Prostration # 10)
داؤد (علیہ السلام) نے کہا: تمہاری دُنبی کو اپنی دُنبیوں سے ملانے کا سوال کر کے اس نے تم سے زیادتی کی ہے اور بیشک اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ہم نے (اس مقدّمہ کے ذریعہ) اُن کی آزمائش کی ہے، سو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور سجدہ میں گر پڑے اور توبہ کی
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِى فِى الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, `he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّـهُ
(And Dawud guessed that We have tried him) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعاً وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet prostrated in Sad, and he said:
«سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا»
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)" This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-`Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, `I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, `Why do you prostrate' He said, `Have you not read:
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his Nuh's progeny Dawud, Sulayman) (6:84)
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance) (6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here."' Abu Dawud recorded that Abu Sa`id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He said:
«إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُم»
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
«الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
25
View Single
فَغَفَرۡنَا لَهُۥ ذَٰلِكَۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
We therefore forgave him this; and indeed for him in Our presence are, surely, proximity and an excellent abode.
تو ہم نے اُن کو معاف فرما دیا، اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں قربِ خاص ہے اور (آخرت میں) اَعلیٰ مقام ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the Two Litigants
In discussing this passage, the scholars of Tafsir mention a story which is mostly based upon Isra'iliyat narrations. Nothing has been reported about this from the Infallible Prophet that we could accept as true. But Ibn Abi Hatim narrated a Hadith whose chain of narration cannot be regarded as Sahih because it is reported by Yazid Ar-Raqashi from Anas, may Allah be pleased with him. Although Yazid was one of the righteous, his Hadiths are regarded as weak by the Imams. So, it is better to speak briefly of this story and refer knowledge of it to Allah, may He be exalted. For the Qur'an is true and what it contains is also true.
فَفَزِعَ مِنْهُمْ
(he was terrified of them.) This was because he was in his Mihrab (private chamber). That was the noblest part of his house, where he commanded that no one should enter upon him that day. So, he did not realize that these two people had climbed the fence surrounding his Mihrab (private chamber) to ask him about their case.
وَعَزَّنِى فِى الْخِطَابِ
(and he overpowered me in speech.) means, `he defeated me.'
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّـهُ
(And Dawud guessed that We have tried him) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said that this means, "We tested him."
وَخَرَّ رَاكِعاً وَأَنَابَ
(and he fell down prostrate and turned (to Allah) in repentance.)
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ
(So, We forgave him that,)
The Sajdah in Surah Sad
The performance of Sajdah in Surah Sad is not one of the obligatory locations; it is a prostration of thanks (Sajdat Shukr). The evidence for it is the report recorded by Imam Ahmad from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, who said; "The prostration in Surah Sad is not one of the obligatory prostrations; I saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating in this Surah." This was also recorded by Al-Bukhari, Abu Dawud, At-Tirmidhi, and An-Nasa'i in his Tafsir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." In his Tafsir of this Ayah, An-Nasa'i also recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Prophet prostrated in Sad, and he said:
«سَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَوْبَةً، وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا»
(Dawud prostrated as an act of repentance and we prostrate as an act of thanks.)" This was recorded only by An-Nasa'i. The men of its chain of narration are all reliable. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Al-`Awwam said that he asked Mujahid about the prostration in Surah Sad. He said, `I asked Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, `Why do you prostrate' He said, `Have you not read:
وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ
(and among his Nuh's progeny Dawud, Sulayman) (6:84)
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
(They are those whom Allah had guided. So follow their guidance) (6:90). Dawud, peace be upon him, was one of those whom your Prophet was commanded to follow. Dawud prostrated here so the Messenger of Allah ﷺ also prostrated here."' Abu Dawud recorded that Abu Sa`id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ recited Sad while he was on the Minbar. When he reached the prostration, he came down from the Minbar and prostrated, and the people prostrated with him. On another occasion when he recited it, he reached the prostration and the people prepared to prostrate. He said:
«إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُم»
(This is repentance for a Prophet, but I see that you are preparing to prostrate.) Then he came down (from the Minbar) and prostrated." This was recorded only by Abu Dawud and its chain of narration meets the conditions of the Two Sahihs.
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(and verily, for him is a near access to Us, and a good place of (final) return.) means, on the Day of Resurrection, he will have good deeds by virtue of which he will be brought close to Allah, and he will have a good place of (final) return, which means the lofty levels of Paradise, because of his repentance and his perfect justice in his kingdom. As it says in the Sahih:
«الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يُقْسِطُونَ فِي أَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Those who are fair and just with their families and those who are under their authority will be on Minbars of light on the right hand of Ar-Rahman, and both His Hands are right Hands.)"
مفسرین نے یہاں پر ایک قصہ بیان کیا ہے لیکن اس کا اکثر حصہ بنو اسرائیل کی روایاتوں سے لیا گیا ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں۔ ابن ابی حاتم میں ایک حدیث ہے لیکن وہ بھی ثابت نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی یزید رقاشی ہے گو وہ نہایت نیک شخص ہے لیکن ہے ضعیف۔ پس اولیٰ یہ ہے کہ قرآن میں جو ہے اور جس پر یہ شامل ہے وہ حق ہے۔ حضرت داؤد کا انہیں دیکھ کر گھبرانا اس وجہ سے تھا کہ وہ اپنے تنہائی کے خاص خلوت خانے میں تھے اور پہرہ داروں کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی آج اندر نہ آئے اور یکایک ان دونوں کو جو دیکھا تو گھبرا گئے۔ عزنی الخ، سے مطلب بات چیت میں غالب آجانا دوسرے پر چھا جانا ہے۔ حضرت داؤد سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے پس وہ رکوع سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف جھک پڑے۔ مذکور ہے کہ چالیس دن تک سجدہ سے سر نہ اٹھایا پس ہم نے اسے بخش دیا۔ یہ یاد رہے کہ جو کام عوام کے لئے نیکیوں کے ہوتے ہیں وہی کام خواص کے لئے بعض مرتبہ بدیوں کے بن جاتے ہیں۔ یہ آیت سجدے کی ہے یا نہیں ؟ اس کی بات امام شافعی کا جدید مذہب تو یہ ہے کہ یہاں سجدہ ضروری نہیں یہ تو سجدہ شکر ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ ص ضروری سجدوں میں سے نہیں ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے (بخاری وغیرہ) نسائی میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہاں سجدہ کر کے فرمایا یہ سجدہ حضرت داؤد کا تو توبہ کے لئے تھا اور ہمارا شکر کے لئے ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں اور نماز میں میں نے سجدے کی آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ وہ یہ دعا مانگ رہا تھا یعنی اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو میرے لئے اپنے پاس اجر اور خزانے کا سبب بنا اور اس سے تو میرا بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد کے سجدے کو قبول فرمایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت کی دعا نقل کی تھی۔ ابن عباس اس آیت کے سجدے پر یہ دلیل وارد کرتے تھے کہ قرآن نے فرمایا ہے اس کی اولاد میں سے داؤد سلیمان ہیں جنہیں ہم نے ہدایت کی تھی پس تو اے نبی ﷺ ان کی ہدایت کی پیروی کر پس حضور ﷺ ان کی اقتداء کے مامور تھے اور یہ صاف ثابت ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے سجدہ کیا اور حضور ﷺ نے بھی یہ سجدہ کیا۔ ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں سورة ص لکھ رہا ہوں جب آیت سجدہ تک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ قلم اور دوات اور میرے آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ سے بیان کیا پھر آپ اس آیت کی تلاوت کے وقت برابر سجدہ کرتے رہے (احمد) ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر سورة ص پڑھی اور سجدے کی آیت تک پہنچ کر منبر سے اتر کر آپ سجدہ تک پہنچے تو لوگوں نے سجدے کی تیاری کی آپ نے فرمایا یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ تھا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہو چناچہ آپ اترے اور سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے اسے بخش دیا۔ قیامت کے دن اس کی بڑی منزلت اور قدر ہوگی نبیوں اور عادلوں کا درجہ وہ پائیں گے۔ حدیث میں ہے عادل لوگ نور کے ممبروں پر رحمٰن کے دائیں جانب ہوں گے۔ اللہ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ عادل وہ ہیں جو اپنی اہل و عیال میں اور جن کے وہ مالک ہوں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ اللہ کے دوست اور سب سے زیادہ اس کے مقرب وہ بادشاہ ہوں گے جو عادل ہوں اور سب سے زیادہ دشمن اور سب سے سخت عذاب والے وہ ہوں گے جو ظالم بادشاہ ہوں۔ (ترمذی وغیرہ) حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں قیامت کے دن حضرت داؤد ؑ کو عرش کے پائے کے پاس کھڑا کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اے داؤد جس پیاری درد ناک میٹھی اور جاذب آواز سے تم میری تعریفیں دنیا میں کرتے تھے اب بھی کرو۔ آپ فرمائیں گے باری تعالیٰ اب وہ آواز کہاں رہی ؟ اللہ فرمائے گا میں نے وہی آواز آج تمہیں پھر عطا فرمائی۔ اب حضرت داؤد ؑ اپنی دلکش اور دلربا آواز نکال کر نہایت وجد کی حالت میں اللہ کی حمد وثناء بیان کریں گے جسے سن کر جنتی اور نعمتوں کو بھی بھول جائیں گے اور یہ سریلی آواز اور نورانی گلا انہیں سب نعمتوں سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کرے گا۔
26
View Single
يَٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلۡنَٰكَ خَلِيفَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱحۡكُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدُۢ بِمَا نَسُواْ يَوۡمَ ٱلۡحِسَابِ
“O Dawud! We have indeed appointed you as a Viceroy in the earth, therefore judge between mankind with the truth, and do not follow desire for it will lead you astray from Allah’s path; indeed for those who stray away from Allah’s path is a severe punishment, because they forgot the Day of Reckoning.”
اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت) کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ (یہ پیروی) تمہیں راہِ خدا سے بھٹکا دے گی، بے شک جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ یومِ حساب کو بھول گئے
Tafsir Ibn Kathir
Advice to Rulers and Leaders
This is advice from Allah, may He be exalted, to those who are in positions of authority. They should rule according to the truth and justice revealed from Him, they should not turn away from it and be led astray from the path of Allah. Allah has issued a stern warning of a severe punishment to those who go astray from His path and forget the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that Ibrahim Abu Zur`ah, who read the Scripture, reported that Al-Walid bin `Abd Al-Malik said to him: "Does anyone have the right to question the Khalifah You have read the first Scripture and the Qur'an, and you have understood them." He replied, "May I speak, O Commander of the faithful" He said, "Speak, for you are under the protection of Allah." I said, "O Commander of the faithful, are you more dear to Allah, or Dawud, peace be upon him For Allah gave him both prophethood and rulership, then He warned him in His Book:
يدَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَـكَ خَلِيفَةً فِى الاٌّرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(O Dawud ! Verily, We have placed you as a successor on the earth; so judge you between men in truth (and justice) and follow not your desire -- for it will mislead you from the path of Allah)." `Ikrimah said:
لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدُ بِمَا نَسُواْ يَوْمَ الْحِسَابِ
((Those shall) have a severe torment, because they forgot the Day of Reckoning.) "They will have a severe punishment on the Day of Reckoning because of what they forgot. " As-Suddi said, "They will have a severe punishment because of what they neglected to do for the sake of the Day of Reckoning." This interpretation is more in accordance with the apparent meaning of the Ayah. And Allah, may He be glorified and exalted, is the Guide to the Truth.
صاحب اختیار لوگوں کے لئے انصاف کا حکم۔ اس آیت میں بادشاہ اور ذی اختیار لوگوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے کریں ورنہ اللہ کی راہ سے بھٹک جائیں گے اور جو بھٹک کر اپنے حساب کے دن کو بھول جائے وہ سخت عذابوں میں مبتلا ہوگا۔ حضرت ابو زرعہ ؒ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ کیا خلیفہ وقت سے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں حساب لیا جائے گا آپ نے فرمایا سچ بتادوں خلیفہ نے کہا ضرور سچ ہی بتاؤ اور آپ کو ہر طرح امن ہے۔ فرمایا اے امیر المومنین اللہ کے نزدیک آپ سے بہت بڑا درجہ حضرت داؤد ؑ کا تھا انہیں خلافت کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی دے رکھی تھی لیکن اس کے باوجود کتاب اللہ ان سے کہتی ہے (يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاس بالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ 26) 38۔ ص :26) عکرمہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے یوم الحساب کو سخت عذاب ہیں اس کے بھول جانے کے باعث سدی کہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے یوم الحساب کے لئے اعمال جمع نہیں کئے۔ آیت کے لفظوں سے اسی قول کو زیادہ مناسبت ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
27
View Single
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَٰطِلٗاۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ ٱلنَّارِ
And We have not created the heaven and the earth and all that is between them without purpose; this is what the disbelievers assume; therefore ruin is for the disbelievers, by the fire.
اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کائنات دونوں کے درمیان ہے اسے بے مقصد و بے مصلحت نہیں بنایا۔ یہ (بے مقصد یعنی اتفاقیہ تخلیق) کافر لوگوں کا خیال و نظریہ ہے۔ سو کافر لوگوں کے لئے آتشِ دوزخ کی ہلاکت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom behind the Creation of This World
Allah tells us that He did not create the creatures in vain; He created them to worship Him Alone, then He will gather them on the Day of Gathering and will reward the obedient and punish the disbelievers. Allah says:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve!) meaning, those who do not think that the resurrection and the place of return will occur, but they think that there is nothing after this world.
فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(Then woe to those who disbelieve from the Fire!) means, woe to them on the Day when they will be resurrected, from the Fire that is prepared for them. Then Allah explains that because of His justice and wisdom, He does not treat the believers and the disbelievers equally. Allah says:
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who do mischief on the earth Or shall We treat Those who have Taqwa as the evildoers) meaning, `We shall not do that.' They are not equal before Allah, and since this is the case, there must inevitably be another realm in which those who obey Allah will be rewarded and the wicked will be punished. This teaching indicates to those of a sound mind and upright nature that there must inevitably be a resurrection and recompense. We see evildoers and criminals are prospering and increasing in wealth, children and luxury, until they die in that state. We see oppressed believers dying of grief and distress, so by the wisdom of the All-Wise, All-Knowing, All-Just who does not do even a speck of dust's weight of injustice, there should be a time when the rights of the oppressed are restored with due justice. If this does not happen in this world, there must be another realm where recompense may be made and consolation may be found. The Qur'an teaches sound aims based on a rational way of thinking, so Allah says:
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.) meaning, those who are possessed of wisdom and reason.
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقینا ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لئے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔
28
View Single
أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ كَٱلۡمُفۡسِدِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلۡمُتَّقِينَ كَٱلۡفُجَّارِ
Shall We make those who believe and do good deeds equal to those who spread turmoil in the earth? Or shall We equate the pious with the disobedient?
کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ بجا لائے اُن لوگوں جیسا کر دیں گے جو زمین میں فساد بپا کرنے والے ہیں یا ہم پرہیزگاروں کو بدکرداروں جیسا بنا دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom behind the Creation of This World
Allah tells us that He did not create the creatures in vain; He created them to worship Him Alone, then He will gather them on the Day of Gathering and will reward the obedient and punish the disbelievers. Allah says:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve!) meaning, those who do not think that the resurrection and the place of return will occur, but they think that there is nothing after this world.
فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(Then woe to those who disbelieve from the Fire!) means, woe to them on the Day when they will be resurrected, from the Fire that is prepared for them. Then Allah explains that because of His justice and wisdom, He does not treat the believers and the disbelievers equally. Allah says:
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who do mischief on the earth Or shall We treat Those who have Taqwa as the evildoers) meaning, `We shall not do that.' They are not equal before Allah, and since this is the case, there must inevitably be another realm in which those who obey Allah will be rewarded and the wicked will be punished. This teaching indicates to those of a sound mind and upright nature that there must inevitably be a resurrection and recompense. We see evildoers and criminals are prospering and increasing in wealth, children and luxury, until they die in that state. We see oppressed believers dying of grief and distress, so by the wisdom of the All-Wise, All-Knowing, All-Just who does not do even a speck of dust's weight of injustice, there should be a time when the rights of the oppressed are restored with due justice. If this does not happen in this world, there must be another realm where recompense may be made and consolation may be found. The Qur'an teaches sound aims based on a rational way of thinking, so Allah says:
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.) meaning, those who are possessed of wisdom and reason.
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقینا ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لئے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔
29
View Single
كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ مُبَٰرَكٞ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
This is a Book which We have sent down upon you, a blessed Book, for them to ponder upon its verses, and for men of intellect to accept advice.
یہ کتاب برکت والی ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانش مند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں
Tafsir Ibn Kathir
The Wisdom behind the Creation of This World
Allah tells us that He did not create the creatures in vain; He created them to worship Him Alone, then He will gather them on the Day of Gathering and will reward the obedient and punish the disbelievers. Allah says:
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve!) meaning, those who do not think that the resurrection and the place of return will occur, but they think that there is nothing after this world.
فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ
(Then woe to those who disbelieve from the Fire!) means, woe to them on the Day when they will be resurrected, from the Fire that is prepared for them. Then Allah explains that because of His justice and wisdom, He does not treat the believers and the disbelievers equally. Allah says:
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who do mischief on the earth Or shall We treat Those who have Taqwa as the evildoers) meaning, `We shall not do that.' They are not equal before Allah, and since this is the case, there must inevitably be another realm in which those who obey Allah will be rewarded and the wicked will be punished. This teaching indicates to those of a sound mind and upright nature that there must inevitably be a resurrection and recompense. We see evildoers and criminals are prospering and increasing in wealth, children and luxury, until they die in that state. We see oppressed believers dying of grief and distress, so by the wisdom of the All-Wise, All-Knowing, All-Just who does not do even a speck of dust's weight of injustice, there should be a time when the rights of the oppressed are restored with due justice. If this does not happen in this world, there must be another realm where recompense may be made and consolation may be found. The Qur'an teaches sound aims based on a rational way of thinking, so Allah says:
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.) meaning, those who are possessed of wisdom and reason.
ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقینا ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لئے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔
30
View Single
وَوَهَبۡنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيۡمَٰنَۚ نِعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
And We bestowed Sulaiman to Dawud; what an excellent bondman! He is indeed most inclined.
اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited Dawud) (27:1). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِىِّ الصَّـفِنَـتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to `A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet said:
«مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟»
(What is this, O `A'ishah) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He said:
«مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟»
(What is this that I see in the midst of them) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟»
(And what is this on it) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
«فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟»
(A horse with two wings) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّى أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِى حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)) More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of `Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet on the day of Khandaq, when he was too busy to pray `Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, `Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, `O Messenger of Allah, I could not pray `Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا»
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed `Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَىَّ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالاٌّعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.) Al-Hasan Al-Basri said, "He said, `No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. " This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses. Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka`bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: `The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
«إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْه»
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)"'
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
31
View Single
إِذۡ عُرِضَ عَلَيۡهِ بِٱلۡعَشِيِّ ٱلصَّـٰفِنَٰتُ ٱلۡجِيَادُ
When fast footed steeds were presented to him at evening.
جب اُن کے سامنے شام کے وقت نہایت سُبک رفتار عمدہ گھوڑے پیش کئے گئے
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited Dawud) (27:1). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِىِّ الصَّـفِنَـتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to `A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet said:
«مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟»
(What is this, O `A'ishah) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He said:
«مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟»
(What is this that I see in the midst of them) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟»
(And what is this on it) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
«فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟»
(A horse with two wings) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّى أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِى حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)) More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of `Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet on the day of Khandaq, when he was too busy to pray `Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, `Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, `O Messenger of Allah, I could not pray `Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا»
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed `Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَىَّ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالاٌّعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.) Al-Hasan Al-Basri said, "He said, `No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. " This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses. Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka`bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: `The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
«إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْه»
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)"'
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
32
View Single
فَقَالَ إِنِّيٓ أَحۡبَبۡتُ حُبَّ ٱلۡخَيۡرِ عَن ذِكۡرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتۡ بِٱلۡحِجَابِ
Therefore Sulaiman said, “I cherish the love of these horses*, out of remembrance of my Lord”; he then ordered them to be raced until they vanished in a curtain out of sight. (To be used in holy war.)
تو انہوں نے (اِنابۃً) کہا: میں مال (یعنی گھوڑوں) کی محبت کو اپنے رب کے ذکر سے بھی (زیادہ) پسند کر بیٹھا ہوں یہاں تک کہ (سورج رات کے) پردے میں چھپ گیا
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited Dawud) (27:1). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِىِّ الصَّـفِنَـتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to `A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet said:
«مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟»
(What is this, O `A'ishah) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He said:
«مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟»
(What is this that I see in the midst of them) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟»
(And what is this on it) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
«فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟»
(A horse with two wings) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّى أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِى حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)) More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of `Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet on the day of Khandaq, when he was too busy to pray `Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, `Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, `O Messenger of Allah, I could not pray `Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا»
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed `Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَىَّ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالاٌّعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.) Al-Hasan Al-Basri said, "He said, `No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. " This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses. Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka`bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: `The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
«إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْه»
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)"'
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
33
View Single
رُدُّوهَا عَلَيَّۖ فَطَفِقَ مَسۡحَۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلۡأَعۡنَاقِ
He then ordered, “Bring them back to me”; and he began caressing their shins and necks.
انہوں نے کہا: اُن (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ، تو انہوں نے (تلوار سے) اُن کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ ڈالیں (یوں اپنی محبت کو اللہ کے تقرّب کے لئے ذبح کر دیا)
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman the Son of Dawud
Allah tells us that he gave Sulayman to Dawud as a Prophet, as He says elsewhere:
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited Dawud) (27:1). meaning, he inherited prophethood from him. Dawud had other sons besides Sulayman, for he had one hundred free wives.
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) This is praise for Sulayman, because he was very much obedient, worshipping Allah much and always turning to Allah in repentance.
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِىِّ الصَّـفِنَـتُ الْجِيَادُ
(When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed.) means, these well trained horses were shown to Sulayman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ came back from the campaign of Tabuk or Khaybar, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to `A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet said:
«مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟»
(What is this, O `A'ishah) She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He said:
«مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟»
(What is this that I see in the midst of them) She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟»
(And what is this on it) She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah ﷺ said,
«فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟»
(A horse with two wings) She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Sulayman, peace be upon him, had a horse that had wings" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah ﷺ smiled so broadly that I could see his molars."
فَقَالَ إِنِّى أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِى حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
(He said: "I did love the good (i.e., horses) instead of remembering my Lord" till the time was over, and (the sun) had hidden in the veil (of night)) More than one of the Salaf and scholars of Tafsir mentioned that he was so busy looking at the horses that he missed the time of `Asr prayer. He did not miss it deliberately, but because of forgetfulness, as happened to the Prophet on the day of Khandaq, when he was too busy to pray `Asr and he prayed it after the sun had set. This was recorded in the Two Sahihs with more than one chain of narration, including the report from Jabir, may Allah be pleased with him, who said, "On the day of Khandaq, `Umar, may Allah be pleased with him, came after the sun had set and started cursing the disbelievers of the Quraysh. He said, `O Messenger of Allah, I could not pray `Asr until the sun had almost set.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَاللهِ مَا صَلَّيْتُهَا»
(By Allah, I did not pray it either.)" He (Jabir) said, "So we got up and went to Buthan. Allah's Prophet performed ablution for the prayer and we too performed ablution. He prayed `Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that."
رُدُّوهَا عَلَىَّ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالاٌّعْنَاقِ
(Then he said: "Bring them (horses) back to me." Then he began to pass his hand over their legs and their necks.) Al-Hasan Al-Basri said, "He said, `No, by Allah, you will not keep me from worshipping my Lord again,' then he ordered that they should be slaughtered." This was also the view of Qatadah. As-Suddi said, "Their necks and hamstrings were struck with swords." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "He began patting the horses' heads and legs out of love for them." This is the view that was favored by Ibn Jarir. He said, "Because he would not punish an animal by cutting its hamstrings or destroy his own wealth for no other reason than that he had been distracted from his prayer by looking at it, and it was not the animals' fault. " This view which Ibn Jarir thought more correct is subject to further review, because such action may have been permissible according to their law, especially since he got angry for the sake of Allah for being distracted by these horses until the time for prayer had lapsed. Then, since he dispensed with them for the sake of Allah, Allah compensated him with something better, the wind which blew gently by his order wherever he willed. Its morning lasted a month's (journey), and its afternoon lasted a month's (journey). This was faster and better than horses. Imam Ahmad recorded that Abu Qatadah and Abu Ad-Dahma', who traveled a lot to the Ka`bah, said, "We met a man from among the bedouins who said to us: `The Messenger of Allah ﷺ took my hand and started teaching me some of that which Allah had taught him. He said,
«إِنَّكَ لَا تَدَعُ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللهِ تَعَالَى إِلَّا أَعْطَاكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْه»
(You do not give up anything for the sake of Allah, but Allah will give you something better than it.)"'
حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔
34
View Single
وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمَٰنَ وَأَلۡقَيۡنَا عَلَىٰ كُرۡسِيِّهِۦ جَسَدٗا ثُمَّ أَنَابَ
And We indeed tested Sulaiman, and placed a dead body on his throne – he therefore inclined towards His Lord.
اور بے شک ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی (بھی) آزمائش کی اور ہم نے اُن کے تخت پر ایک (عجیب الخلقت) جسم ڈال دیا پھر انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
35
View Single
قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ
He said, “My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom, which shall not befit anyone after me; indeed only You are the Great Bestower.”
عرض کیا: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو میسّر نہ ہو، بیشک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
36
View Single
فَسَخَّرۡنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦ رُخَآءً حَيۡثُ أَصَابَ
We therefore gave the wind under his control, moving steadily by his command wherever he wished.
پھر ہم نے اُن کے لئے ہوا کو تابع کر دیا، وہ اُن کے حکم سے نرم نرم چلتی تھی جہاں کہیں (بھی) وہ پہنچنا چاہتے
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
37
View Single
وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٖ وَغَوَّاصٖ
And made the demons subservient to him, all builders and divers.
اور کل جنّات (و شیاطین بھی ان کے تابع کر دیئے) اور ہر معمار اور غوطہ زَن (بھی)
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
38
View Single
وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي ٱلۡأَصۡفَادِ
And other demons bound in chains.
اور دوسرے (جنّات) بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
39
View Single
هَٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمۡنُنۡ أَوۡ أَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٖ
“This is Our bestowal – you may therefore bestow favours or withhold them – you will not be questioned.”
(ارشاد ہوا:) یہ ہماری عطا ہے (خواہ دوسروں پر) احسان کرو یا (اپنے تک) روکے رکھو (دونوں حالتوں میں) کوئی حساب نہیں
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
40
View Single
وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
And indeed for him in Our presence are, surely, proximity and an excellent abode.
اور بے شک اُن کے لئے ہماری بارگاہ میں خصوصی قربت اور آخرت میں عمدہ مقام ہے
Tafsir Ibn Kathir
How Allah tested Sulayman then made Things easy for Him
Allah says,
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَـنَ
(And indeed, We tried Sulayman) meaning, `We tested him.'
وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَداً
(and We placed on his throne Jasad (a body)).
ثُمَّ أَنَابَ
(and he returned.) means, after this test, he turned back to Him and asked for forgiveness and to be given a kingdom such as shall not belong to any other after him.
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(He said: "My Lord! Forgive me, and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me. Verily, You are the Bestower.") Some of them said, "No one after me will have the right to ask Allah for such a kingdom." This is the apparent meaning from the context of the Ayah, and several Hadiths with a similar meaning have been narrated from the Messenger of Allah ﷺ. In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنَ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتْى تُصْبِحُوا،وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:
رَبِّ اغْفِرْ لِى وَهَبْ لِى مُلْكاً لاَّ يَنبَغِى لاًّحَدٍ مِّن بَعْدِى»
(An `Ifrit from among the Jinn came and bothered me last night- or he said something similar -Trying to stop me from praying. Allah enabled me to overpower him, and I wanted to tie him to one of the pillars in the Masjid so that you could see him this morning. Then I remembered what my brother Sulayman said, (My Lord! Forgive me and bestow upon me a kingdom such as shall not belong to any other after me)) Rawh said, "so he let him go, humiliated." ) This was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. In his Sahih, Muslim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ stood up to pray and we heard him say, r
«أَعُوذُ بِاللهِ مِنْك»
(I seek refuge with Allah from you.) Then he said,
«أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ الله»
(I curse you with the curse of Allah.) three times, and he stretched out his hand as if he was reaching out to take something. When he finished his prayer, we said, `O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer which we have never heard you say before, and we saw you stretching out your hand.' He said:
«إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَتَأَخَّرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ،وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا، يَلْعَبُ بِهِ صِبْيَانُ أَهْلِ الْمَدِينَة»
(The enemy of Allah Iblis came with a flame of fire to throw in my face, so I said, "I seek refuge with Allah from you" three times, then I said, "I curse you with the complete curse of Allah," but he did not back off. I said it three times. Then I wanted to seize him. By Allah, if it were not for the words of our brother Sulayman, he would have been chained up and he would have become a plaything for the children of the people of Al-Madinah.)" Allah says:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَآءً حَيْثُ أَصَابَ
(So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed.) Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Sulayman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)."
حَيْثُ أَصَابَ
(wherever he willed.) means, wherever in the world he wanted.
وَالشَّيَـطِينَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَغَوَّاصٍ
(And also the Shayatin, from every kind of builder and diver,) means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else.
وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ
(And also others bound in fetters.) means, tied up in chains. These were the ones who had rebelled and refused to work, or else their work was bad and they were wrongdoers.
هَـذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(Allah said to Sulayman: "This is Our Gift, so spend you or withhold, no account will be asked of you.") means, `this that We have given to you of kingship and perfect power, as you asked for, you may give to whomsoever you wish and deny to whomsoever you wish, and you will not be brought to account. Whatever you do is permissible for you, so however you judge, it will be right.' It was reported in the Two Sahihs that when the Messenger of Allah ﷺ was given the choice between being a servant and a Messenger -- who does what he is commanded to do and distributes things among the people as Allah commands him to do -- or being a Prophet and a king, who can give to whomever he wishes and withhold from whomever he wishes without being held accountable for anything, he chose the former. He consulted with Jibril, peace be upon him, who said, "Be humble." So he chose the former because it has a greater value before Allah and brings a higher status in the Hereafter, even though the second option, prophethood combined with kingship, is also a great thing both in this world and in the Hereafter, when Allah tells us what He gave to Sulayman, peace be upon him, in this world, He tells us that he will have a great share with Allah on the Day of Resurrection. He says:
وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَـَابٍ
(And verily, for him is a near access to Us, and a good (final) return.) meaning, in this world and the Hereafter.
سلیمان ؑ کا تفصیلی تذکرہ۔ہم نے حضرت سلیمان کا امتحان لیا اور ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا، یعنی شیطان پھر وہ اپنے تخت و تاج کی طرف لوٹ آئے اس شیطان کا نام صخر تھا یا آصف تھا یا صرو تھا یا حقیق تھا۔ یہ واقعہ اکثر مفسرین نے ذکر کیا ہے کسی نے تفصیل کے ساتھ، کسی نے اختصار کے ساتھ۔ حضرت قتادہ ؓ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان کو بیت المقدس کی تعمیر کا اس طرح حکم ہوا کہ لوہے کی آواز بھی نہ سنی جائے۔ آپ نے ہرچند تدبیریں کیں، لیکن کارگر نہ ہوئیں۔ پھر آپ نے سنا کہ سمندر میں ایک شطان ہے جس کا نام صخر ہے وہ البتہ ایسی ترکیب بتاسکتا ہے آپ نے حکم دیا کہ اسے کسی طرح لاؤ۔ ایک دریا سمندر میں ملتا تھا ہر ساتویں دن اس میں لبالب پانی آجاتا تھا اور یہی پانی یہ شیطان پیتا تھا۔ اس کا پانی نکال دیا گیا اور بالکل خالی کر کے پانی کو بند کر کے اس کے آنے والے دن اسے شراب سے پر کردیا گیا جب شیطان آیا اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگا یہ تو مزے کی چیز ہے لیکن عقل کی دشمن جہالت کو ترقی دینے والی چیز ہے۔ چناچہ وہ پیاسا ہی چلا گیا۔ جب پیاس کی شدت ہوئی تو مجبوراً یہ سب کچھ کہتے ہوئے پینا ہی پڑا۔ اب عقل جاتی رہی اور اسے حضرت سلیمان کی انگوٹھی دکھائی گئی یا مونڈھوں کے درمیان سے مہر لگا دی گئی۔ یہ بےبس ہوگیا حضرت سلیمان کی حکومت اسی انگوٹھی کی وجہ سے تھی۔ جب یہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے یہ کام سر انجام دینے کا حکم دیا یہ ہدہد کے انڈے لے آیا اور انہیں جمع کر کے ان پر شیشہ رکھ دیا۔ ہدہد آیا اس نے اپنے انڈے دیکھے چاروں طرف گھوما لیکن دیکھا کہ ہاتھ نہیں آسکتے اڑ کر واپس چلا گیا اور الماس لے آیا اور اسے اس شیشے پر رکھ کر شیشے کو کاٹنا شروع کردیا آخر وہ کٹ گیا اور ہدہد اپنے انڈے لے گیا اور اس الماس کو بھی لے لیا گیا اور اسی سے پتھر کاٹ کاٹ کر عمارت شروع ہوئی حضرت سلیمان ؑ جب بیت الخلا میں یا حمام میں جاتے تو انگوٹھی اتار جاتے ایک دن حمام میں جانا تھا اور یہ شیطان آپ کے ساتھ تھا آپ اس وقت فرضی غسل کے لئے جا رہے تھے انگوٹھی اسی کو سونپ دی اور چلے گئے اس نے انگوٹھی سمندر میں پھینک دی اور شیطان پر حضرت سلیمان کی شکل ڈال دی گئی اور آپ سے تخت و تاج چھن گیا۔ سب چیزوں پر شیطان نے قبضہ کرلیا سوائے آپ کی بیویوں کے۔ اب اس سے بہت سی غیر معروف باتیں ظہور میں آنے لگیں اس زمانہ میں ایک صاحب تھے جو ایسے ہی تھے جیسے حضور ﷺ کے زمانہ میں حضرت فاروق ؓ۔ اس نے کہا آزمائش کرنی چاہئے مجھے تو یہ شخص سلیمان معلوم نہیں ہوتا۔ چناچہ ایک روز اس نے کہا کیوں جناب اگر کوئی شخص رات کو جنبی ہوجائے اور موسم ذرا ٹھنڈا ہو اور وہ سورج طلوع ہونے تک غسل نہ کرے تو کوئی حرج تو نہیں ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں۔ چالیس دن تک یہ تخت سلیمان پر رہا پھر آپ کی مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی مل گئی ہاتھ میں ڈالتے ہی پھر تمام چیزیں آپ کی مطیع ہوگئیں۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی ایک سو بیویاں تھیں آپ کو سب سے زیادہ اعتبار ان میں سے ایک بیوی پر تھا جن کا نام جراوہ تھا۔ جب جنبی ہونے یا پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی انہی کو سونپ جاتے۔ ایک مرتبہ آپ پاخانے گئے پیچھے سے ایک شیطان آپ ہی کی صورت بنا کر آیا اور بیوی صاحبہ سے انگوٹھی طلب کی آپ نے دے دی یہ آتے ہی تخت پر بیٹھ گیا جب حضرت سلیمان آئے اور انگوٹھی طلب کی تو بیوی صاحبہ نے فرمایا آپ انگوٹھی تو لے گئے۔ آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی آزمائش ہے نہایت پریشان حال سے محل سے نکل گئے اس شیطان نے چالیس دن تک حکومت کی لیکن احکام کی تبدیلی کو دیکھ کر علماء نے سمجھ لیا کہ یہ سلیمان نہیں۔ چناچہ ان کی جماعت آپ کی بیویوں کے پاس آئی اور ان سے کہا یہ کیا معاملہ ہے ہمیں سلیمان کی ذات میں شک پڑگیا۔ اگر یہ سچ مچ سلیمان ہے تو اس کی عقل جاتی رہی ہے یا یہ کہ یہ سلیمان ہی نہیں۔ ورنہ ایسے خلاف شرع احکام نہ دیتا۔ عورتیں یہ سن کر رونے لگیں۔ یہ یہاں سے واپس آگئے اور تخت کے اردگرد اسے گھیر کر بٹھ گئے اور تورات کھول کر اس کی تلاوت شروع کردی۔ یہ خبیث شیطان کلام اللہ سے بھاگا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی جسے ایک مچھلی نگل گئی۔ حضرت سلیمان یونہی اپنے دن گذارتے تھے ایک مرتبہ سمندر کے کنارے نکل گئے بھوک بہت لگی ہوئی تھی ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑتے ہوئے دیکھ کر ان کے پاس آ کر ان سے ایک مچھلی مانگی اور اپنا نام بھی بتایا، اس پر بعض لوگوں کو بڑا طیش آیا کہ دیکھو بھیک مناگنے والا اپنے تئیں سلیمان بتاتا ہے انہوں نے آپ کو مارنا پیٹنا شروع کیا آپ زخمی ہو کر کنارے جا کر اپنے زخم کا خون دھونے لگے۔ بعض ماہی گیروں کو رحم آگیا کہ ایک سائل کو خواہ مخواہ مارا۔ جاؤ بھئی اسے دو مچھلیاں دے آؤ بھوکا ہے بھون کھائے گا۔ چناچہ و مچھلیاں آپ کو دے آئے بھوک کی وجہ سے آپ اپنے زخم کو اور خون کو تو بھول گئے اور جلدی سے مچھلی کا پیٹ چاک کرنے بیٹھ گئے۔ قدرت اللہ سے اس کے پیٹ سے وہ انگوٹھی نکلی آپ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور انگوٹھی انگلی میں ڈالی اس وقت پرندوں نے آ کر آپ پر سایہ کرلیا اور لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور آپ سے معذرت کرنے لگے آپ نے فرمایا یہ سب امر اللہ تھا اللہ کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ آپ آئے اپنے تخت پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ اس شیطان کو جہاں بھی وہ ہو گرفتار کر لاؤ چناچہ اسے قید کرلیا گیا آپ نے اسے ایک لوہے کے صندوق میں بند کیا اور قفل لگا کر اس پر اپنی مہر لگا دی اور سمندر میں پھنکوا دیا جو قیامت تک وہیں قید رہے گا۔ اس کا نام حقیق تھا۔ آپ کی یہ دعا کہ مجھے ایسا ملک عطا فرمایا جائے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو یہ بھی پوری ہوئی اور آپ کے تابع ہوائیں کردی گئیں۔ مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شیطان سے جس کا نام آصف تھا ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ نے پوچھا کہ تم لوگوں کو کس طرح فتنے میں ڈالتے ہو ؟ اس نے کہا ذرا مجھے انگوٹھی دکھاؤ میں ابھی آپ کو دکھا دیتا ہوں آپ نے انگوٹھی دے دی اس نے اسے سمندر میں پھینک دیا تخت و تاج کا مالک بن بیٹھا اور آپ کے لباس میں لوگوں کو راہ اللہ سے ہٹانے لگا۔ " یاد رہے کہ یہ سب واقعات بنی اسرائیل کے بیان کردہ ہیں " اور ان سب سے زیادہ منکر واقعہ وہ ہے۔ جو ابن ابی حاتم میں ہے جس کا اوپر بیان ہوا۔ جس میں آپ کی بیوی صاحبہ حضرت جراوہ کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آخر نبوت یہاں تک پہنچی تھی کہ لڑکے آپ کو پتھر مارتے تھے۔ آپ کی بیویوں سے جب علماء نے معاملہ کی تفتیش کی تو انہوں نے کہا کہ ہاں ہمیں بھی اس کے سلیمان ہونے سے انکار ہے کیونکہ وہ حالت حیض میں ہمارے پاس آتا ہے۔ شیطان کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ راز کھل گیا ہے تو اس نے جادو اور کفر کی کتابیں لکھوا کر کرسی تلے دفن کردیا اور پھر لوگوں کے سامنے انہیں نکلوا کر ان سے کہا دیکھو ان کتابوں کی بدولت سلیمان تم پر حکومت کر رہا تھا چناچہ لوگوں نے آپ کو کافر کہنا شروع کردیا۔ حضرت سلیمان سمندر کے کنارے مزدوری کرتے تھے ایک مرتبہ ایک شخص نے بہت سی مچھلیاں خریدیں مزدور کو بلایا آپ پہنچے اس نے کہا یہ اٹھالو پوچھا مزدوری کیا دو گے ؟ اس نے کہا اس میں سے ایک مچھلی تمہیں دے دوں گا آپ نے ٹوکرا سر پر رکھا اس کے ہاں پہنچایا اس نے ایک مچھلی دے دی آپ نے اس کا پیٹ چاک کیا پیٹ چاک کرتے ہی وہ انگوٹھی نکل پڑی پہنتے ہی کل شیاطین جن انسان پھر تابع ہوگئے اور جھرمٹ باندھ کر حاضر ہوگئے آپ نے ملک پر قبضہ کیا اور اس شیطان کو سخت سزا دی۔ پس ثم اناب سے مراد شیطان جو مسلط کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے۔ اس کی اسناد حضرت ابن عباس تک ہے۔ ہے تو قوی لیکن یہ ظاہر ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے اہل کتاب سے لیا ہے، یہ بھی اس وقت جبکہ اسے ابن عباس کا قول مان لیں۔ اہل کتاب کی ایک جماعت حضرت سلیمان کو نہیں مانتی تھی تو عجب نہیں کہ یہ بیہودہ قصہ اسی خبیث جماعت کا گھڑا ہوا ہو۔ اس میں تو وہ چیزیں بھی ہیں جو بالکل ہی منکر ہیں خصوصاً اس شیطان کا آپ کی عورتوں کے پاس جانا اور آئمہ نے بھی ایسے ہی قصے بیان تو کئے ہیں لیکن اس بات کا سب نے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ جن ان کے پاس نہیں جاسکا اور نبی کے گھرانے کی عورتوں کی عصمت و شرافت کا تقاضا بھی یہی ہے اور بھی بہت سے لوگوں نے ان واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن سب کی اصل یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے لئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ شیبانی فرماتے ہیں آپ نے اپنی انگوٹھی عسقلان میں پائی تھی اور بیت المقدس تک تواضعاً آپ پیدل چلے تھے۔ امام ابن بی حاتم نے صفت سلیمان میں حضرت کعب احبار سے ایک عجیب خبر روایت کی ہے۔ ابو اسحاق مصری کہتے ہیں کہ جب (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) کے قصے سے حضرت کعب نے فراغت حاصل کی تو حضرت معاویہ نے کہا ابو اسحاق آپ حضرت سلیمان کی کرسی کا ذکر بھی کیجئے فرمایا کہ وہ ہاتھی دانت کی تھی اور یاقوت زبرجد اور لولو سے مرصع تھی اور اس کے چاروں طرف سونے کے کھجور کے درخت بنے ہوئے تھے جن کے خوشے بھی موتیوں کے تھے ان میں سے جو دائیں جانب تھے ان کے سرے پر سونے کے مور تھے اور بائیں طرف والوں پر سونے کے گدھ تھے۔ اس کرسی کے پہلے درجے پر دائیں جانب سونے کے دو درخت صنوبر کے تھے اور بائیں جانب سونے کے دو شیر بن ہوئے تھے۔ ان کے سروں پر زبر جد کے دوستون تھے اور کرسی کے دونوں جانب انگور کی سنہری بیلیں تھیں جو کرسی کو ڈھانپے ہوئے تھیں اس کے خوشے بھی سرخ موتی کے تھے پھر کرسی کے اعلیٰ درجے پر دو شیر بہت بڑے سونے کے بنے ہوئے تھے جن کے اندر خول تھا ان میں مشک و عنبر بھرا رہتا تھا۔ جب حضرت سلیمان کرسی پر آتے تو یہ شیر حرکت کرتے اور ان کے گھومنے سے ان کے اندر سے مشک و عنبر چاروں طرف چھڑک دیا جاتا پھر دو منبر سونے کے بچھا دئے جاتے۔ ایک آپ کے وزیر کا اور ایک اس وقت کے سب سے بڑے عالم کا۔ پھر کرسی کے سامنے ستر منبر سونے کے اور بچھائے جاتے جن پر بنو اسرائیل کے قاضی ان کے علماء اور ان کے سردار بیٹھتے۔ ان کے پیچھے پینتیس منبر سونے کے اور ہوتے تھے جو خالی رہا کرتے تھے۔ حضرت سلیمان جب تشریف لاتے پہلے زینے پر قدم رکھتے ہی کرسی ان تمام چیزوں سمیت گھوم جاتی شیر اپن داہنا قدم آگے بڑھا دیتا اور گدھ اپنا بایاں پر پھیلا دیتا۔ جب دوسرے درجے پر قدم رکھتے تو شیر اپنا بایاں پاؤں پھیلا دیتا اور گدھ اپنا دایاں پر جب آپ تیسرے درجے پر چڑھ جاتے اور کرسی پر بیٹھ جاتے تو ایک بڑا گدھ آپ کا تاج لے کر آپ کے سر پر رکھتا پھر کرسی زور زور سے گھومتی۔ حضرت معاوضہ نے پوچھا آخر اس کی کیا وجہ ؟ فرمایا وہ ایک سونے کی لاٹ پر تھی جسے صخر جن نے بنایا تھا۔ اس کے گھومتے ہی نیچے والے مور گدھ وغیرہ سب اوپر آجاتے اور سر جھکاتے پر پھڑ پھڑاتے جس سے آپ کے جسم پر مشک و عنبر کا چھڑکاؤ ہوجاتا پھر ایک سونے کا کبوتر تورات اٹھا کر آپ کے ہاتھ میں دیتا جسے آپ تلاوت فرماتے۔ لیکن یہ روایت بالکل غریب ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایسا ملک دے کہ مجھ سے کوئی اور چھین نہ سکے جیسے کہ اس جسم کا واقعہ ہوا جو آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا تھا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ دوسروں کے لئے ایسے ملک کے نہ ملنے کی دعا کرتے ہوں۔ لیکن جن بعض لوگوں نے یہ معنی لئے ہیں وہ کچھ ٹھیک نظر نہیں آتے، بلکہ صحیح مطلب یہی ہے کہ آپ کی دعا کا یہی مطلب تھا کہ مجھے ایسا ملک اور سلطنت دی جائے کہ میرے بعد پھر کسی اور شخص کو ایسی سلطنت نہ ملے۔ یہی آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے اور یہی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا ایک سرکش جن نے گزشتہ شب مجھ پر زیادتی کی اور میری نماز بگاڑ دینا چاہی لیکن اللہ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے اس ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھو لیکن اسی وقت مجھے میرے بھائی حضرت سلیمان (علیہ الصلوۃ والسلام) کی دعا یاد آگئی۔ راوی حدیث حضرت روح فرماتے ہیں پھر حضور ﷺ نے اسے ذلیل و خوار کر کے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے تو ہم نے سنا کہ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ منک پھر آپ نے تین بار فرمایا العنک بلعنتہ اللہ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا کہ گویا آپ کسی چیز کو لینا چاہتے ہیں۔ جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ سے ان دونوں باتوں کی وجہ پوچھی آپ نے فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس آگ لے کر میرے منہ میں ڈالنے کے لئے آیا تو میں نے تین مرتبہ اعوذ پڑھی پھر تین مرتبہ اس پر لعنت بھیجی لیکن وہ پھر بھی نہ ہٹا پھر میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں تاکہ مدینے کے لڑکے اس سے کھیلیں اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو میں یہی کرتا۔ حضرت عطا بن یزید لیثی نماز پڑھ رہے تھے جو ابو عبید نے ان کے سامنے سے گذرنا چاہا انہوں نے انہیں اپنے ہاتھ سے روک دیا پھر فرمایا مجھ سے حضرت ابو سعید خدری نے حدیث بیان کی کہ حضور ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے یہ بھی آپ کے پیچھے تھے قرأت آپ پر خلط ملط ہوگئی فارغ ہو کر فرمایا کاش تم دیکھتے کہ میں نے ابلیس کو پکڑ لیا تھا اور اس قدر اس کا گلا گھونٹا کہ اس کے منہ کی جھاگ میری شہادت کی اور بیج کی انگلی پر پڑی اگر میرے بھائی حضرت سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح ہوتے اس مسجد کے ستون سے بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اسے ستاتے تم سے جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھو کہ نماز کی حالت میں تمہارے سامنے سے کوئی گذرنے نہ پائے (مسند احمد) مسند کی اور حدیث میں ہے ربعیہ بن یزید عبداللہ ویلمی کہتے ہیں میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس طائف کے ایک باغ میں گیا جس کا ام ربط تھا آپ اس وقت ایک قریشی کا محاصرہ کئے ہوئے تھے جو زانی اور شرابی تھا۔ میں نے ان سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ جو ایک گھونٹ شراب پئے گا اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہ فرمائے گا اور برا آدمی وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی برا ہوگیا ہے جو شخص صرف نماز ہی کی نیت سے بیت المقدس کی مسجد میں جائے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا۔ وہ شرابی جسے حضرت عبداللہ پکڑے ہوئے تھے وہ شراب کا ذکر سنتے ہی جھٹکا دے کر اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ اب حضرت عبداللہ نے فرمایا کسی کو حلال نہیں کہ میرے ذمے وہ بات کرے جو میں نے نہ کی۔ میں نے حضور ﷺ سے یوں سنا ہے جو شخص شراب کا ایک گھونٹ بھی پی لے اس کی چالیس دن کی نماز نامقبول ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ پھر اگر دوبارہ لوٹے تو پھر چالیس دن تک کی نمازیں نامقبول ہیں پھر اگر توبہ کرلے تو توبہ مقبول ہے مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں فرمایا کہ پھر اگر لوٹے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جہنمیوں کے بدن کا خون، پیپ، پیشاب وغیرہ قیامت کے دن پلائے گا اور حضور ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا جس پر وہ نور اس دن پڑگیا وہ تو ہدایت والا ہوگیا اور جس تک وہ نور نہ پہنچا وہ بھٹک گیا۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے علم کے مطابق قلم چل چکا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی جن میں سے دو تو انہیں مل گئیں اور ہمیں امید ہے کہ تیسری ہمارے لئے ہو (1) مجھے ایسا حکم دے جو تیرے حکم کے موافق ہو (2) مجھے ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لئے لائق نہ ہو۔ تیسری دعا یہ تھی کہ جو شخص اپنے گھر سے اس مسجد کی نماز کے ارادے ہی سے نکلے تو جب وہ لوٹے تو ایسا ہوجائے گویا آج پیدا ہوا پس ہمیں اللہ سے امید ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے دی ہو۔ طبرانی میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ عزوجل نے حضرت داؤد ؑ کو اپنے لئے ایک گھر بنانے کا حکم دیا حضرت داؤد نے پہلے اپنا گھر بنا لیا اس پر وحی آئی کہ تم نے اپنا گھر میرے گھر سے پہلے بنایا آپ نے عرض کیا پروردگار یہی فیصلہ کیا گیا تھا پھر مسجد بنانی شروع کی دیواریں پوری ہوگئیں تو اتفاقاً تہائی حصہ گرگیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جواب ملا کہ تو میرا گھر نہیں بنا سکتا۔ پوچھا کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ تیرے ہاتھوں سے خون بہا ہے۔ عرض کیا اللہ تعالیٰ وہ بھی تیری ہی محبت میں فرمایا ہاں لیکن وہ میرے بندے تھے میں ان پر رحم کرتا ہوں۔ آپ کو یہ کلام سن کر سخت پریشانی ہوئی۔ پھر وحی آئی کہ غمگین نہ ہو میں اسے تیرے لڑکے سلیمان کے ہاتھوں پورا کراؤں گا۔ چناچہ آپ کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان نے اسے بنانا شروع کیا جب پورا کرچکے تو بڑی بڑی قربانیاں کیں اور ذبیحہ ذبح کئے اور بنو اسرائیل کو جمع کر کے خوب کھلایا پلایا اللہ کی وحی آئی کہ تو نے یہ سب کچھ میرے حکم کی تعمیل کی خوشی میں کیا ہے تو مجھ سے مانگ جو مانگے گا پائے گا۔ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ میرے تین سوال ہیں مجھے ایسا فیصلہ سمجھا جو تیرے فیصلے کے مطابق ہو اور ایسا ملک دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو اور جو اس گھر میں آئے صرف نماز کے ارادے سے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا آزاد ہوجائے جیسے آج پیدا ہوا۔ ان میں سے دو چیزیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرما دیں اور مھے امید ہے کہ تیسری بھی دے دی گئی ہو۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ہر دعا کو ان لفظوں سے شروع فرماتے (سبحان اللہ ربی الاعلی العلی الوہاب) (مستند احمد) اور روایت میں ہے کہ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا مجھ سے اپنی حاجت طلب کرو آپ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ مجھے ایسا دل دے جو تجھ سے ڈرتا رہے جیسا کہ میرے والد کا دل تجھ سے خوف کیا کرتا تھا اور میرے دل میں اپنی محبت ڈال دے جیسے کہ میرے والد کے دل میں تیری محبت تھی اس پر اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا کہ میرا بندہ میری عین عطا کے وقت بھی مجھ سے ڈرا اور میری محبت طلب کرتا ہے مجھے اپنی قسم میں اسے اتنی بڑی سلطنت دوں گا جو اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ماتحتی میں ہوائیں کردیں اور جنات کو بھی ان کا ماتحت بنادیا اور اسی قدر ملک و مال پر بھی، انہیں حساب قیامت سے آزاد کردیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے دعا کی کہ باری تعالیٰ سلیمان کے ساتھ بھی اسی لطف و کرم سے پیش آنا جیسا آج لطف و کرم تیرا مجھ پر رہا تو وحی آئی کہ سلیمان سے کہہ دو وہ بھی اسی طرح میرا رہے جس طرح تو میرا تھا، تو میں بھی اس کے ساتھ ہو خوبصورت پیارے وفادار تیز رو گھوڑوں کو کاٹ ڈالا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کے عوض ان سے بہتر عطا فرمائے۔ یعنی ہوا کو ان کے تابع فرمان کردیا جو مہینے بھر کی راہ کو صبح کی ایک گھڑی میں طے کردیتی تھی اور اسی طرح شام کو جہاں کا ارادہ کرتے ذرا سی دیر میں پہنچا دیتی۔ جنات کو بھی حضرت سلیمان ؑ کے تابع کردیا ان میں سے بعض بڑی اونچی لمبی سنگین پختہ عمارت کے بنانے کے کام سر انجام دیتے جو انسانی طاقت سے باہر تھا اور بعض غوطہ خور تھے جو سمندر کی تہ میں سے لولو جواہر اور دیگر قسم قسم کی نفیس و نادر چیزیں لا دیتے تھے۔ پھر اور کچھ تھے جو بھاری بھاری بیڑیوں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ یا تو وہ تھے جو حکومت سے سرتابی کرتے تھے یا کام کاج میں شرارت اور کمی کرتے تھے یا لوگوں کو ستاتے اور ایذاء دیتے تھے۔ یہ ہے ہماری مہربانی اور ہماری بخشش اور ہمارا انعام اور ہمارا عطیہ اب تجھے اختیار ہے جس سے جو چاہے سلوک کر سب بےحساب ہے کسی پر پکڑ نہیں۔ جو تیری زبان سے نکلے گا وہ حق ہوگا۔ صحیح حدیث میں ہے جب رسول اللہ ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں عبد و رسول رہیں یعنی جو حکم کیا جائے بجا لاتے رہیں اللہ کے فرمان کے مطابق تقسیم کرتے رہیں اور اگر چاہیں نبی اور بادشاہ بنا دیئے جائیں جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں اور اس کا کوئی حساب اللہ کے ہاں نہ لیا جائے تو آپ نے حضرت جبرائیل ؑ سے مشورہ لیا اور آپ کے مشورے سے پہلی بات قبول فرمائی کیونکہ فضیلت کے لحاظ سے اولیٰ اور اعلیٰ وہی ہے۔ گو نبوت و سلطنت بھی بڑی چیز ہے۔ اسی لئے حضرت سلیمان کا دنیوی عزو جاہ بیان کرتے ہی فرمایا کہ وہ دار آخرت میں بھی ہمارے پاس بڑے مرتبے اور بہترین بزرگی اور اعلیٰ تر قریب والا ہے۔
41
View Single
وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَآ أَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِنُصۡبٖ وَعَذَابٍ
And remember Our bondman Ayyub (Job); when he cried out* to his Lord, “The devil has struck me with hardship and pain.” (After seven years of patience.)
اور ہمارے بندے ایّوب (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے بڑی اذیّت اور تکلیف پہنچائی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife -- may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.) (21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّى مَسَّنِىَ الشَّيْطَـنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتْى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقَ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتْى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتْى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتْى فَاض»
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنى بِي عَنْ بَرَكَتِك»
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِّنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً فَاضْرِب بِّهِ وَلاَ تَحْنَثْ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَـهُ صَابِراً نِّعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُواْ ذَوَى عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُواْ الشَّهَـدَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاً - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَـلِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْراً
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.) (65:2-3)
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
42
View Single
ٱرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَۖ هَٰذَا مُغۡتَسَلُۢ بَارِدٞ وَشَرَابٞ
We said to him, “Strike the earth with your foot; this cool spring is for bathing and drinking.” (A spring of gushed forth when he struck the earth – this was a miracle.)
(ارشاد ہوا:) تم اپنا پاؤں زمین پر مارو، یہ (پانی کا) ٹھنڈا چشمہ ہے نہانے کے لئے اور پینے کے لئے
Tafsir Ibn Kathir
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife -- may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.) (21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّى مَسَّنِىَ الشَّيْطَـنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتْى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقَ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتْى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتْى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتْى فَاض»
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنى بِي عَنْ بَرَكَتِك»
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِّنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً فَاضْرِب بِّهِ وَلاَ تَحْنَثْ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَـهُ صَابِراً نِّعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُواْ ذَوَى عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُواْ الشَّهَـدَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاً - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَـلِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْراً
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.) (65:2-3)
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
43
View Single
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
And We bestowed his household to him and one more similar to it – as a mercy from Us, and as a remembrance for the people of intellect.
اور ہم نے اُن کو اُن کے اہل و عیال اور اُن کے ساتھ اُن کے برابر (مزید اہل و عیال) عطا کر دیئے، ہماری طرف سے خصوصی رحمت کے طور پر، اور دانش مندوں کے لئے نصیحت کے طور پر
Tafsir Ibn Kathir
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife -- may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.) (21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّى مَسَّنِىَ الشَّيْطَـنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتْى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقَ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتْى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتْى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتْى فَاض»
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنى بِي عَنْ بَرَكَتِك»
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِّنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً فَاضْرِب بِّهِ وَلاَ تَحْنَثْ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَـهُ صَابِراً نِّعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُواْ ذَوَى عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُواْ الشَّهَـدَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاً - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَـلِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْراً
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.) (65:2-3)
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
44
View Single
وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثٗا فَٱضۡرِب بِّهِۦ وَلَا تَحۡنَثۡۗ إِنَّا وَجَدۡنَٰهُ صَابِرٗاۚ نِّعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٞ
And We said, “Take a broom in your hand and strike her with it, and do not break your vow”; We indeed found him patiently enduring; what an excellent bondman! He is indeed most inclined.
(اے ایوب!) تم اپنے ہاتھ میں (سَو) تنکوں کی جھاڑو پکڑ لو اور (اپنی قسم پوری کرنے کے لئے) اس سے (ایک بار اپنی زوجہ کو) مارو اور قسم نہ توڑو، بے شک ہم نے اسے ثابت قدم پایا، (ایّوب علیہ السلام) کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا
Tafsir Ibn Kathir
Ayyub
Here Allah tells us about His servant and Messenger Ayyub (Job) and how He tested him. These tests afflicted his body, his wealth and his children, until there was no part of his body that was healthy except his heart. Then he had nothing left in this world which he could use to help him deal with his sickness or the predicament he was in, besides his wife, who retained her devotion to him because of her faith in Allah and His Messenger. She used to work for people as a paid servant, and she fed and served him (Ayyub) for nearly eighteen years. Before that, he was very rich and had many children, being well off in worldly terms. All of that had been taken away until he ended up being thrown into the city dump where he stayed all this time, shunned by relatives and strangers alike, with the exception of his wife -- may Allah be pleased with her. She did not leave him, morning and evening, except for when she was serving people, then she would come straight back to him. When this had gone on for a long time, and things had gotten very bad, and the time allotted by divine decree had come to an end, Ayyub prayed to the Lord of the worlds, the God of the Messengers, and said:
أَنِّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(Verily, distress has seized me, and You are the Most Merciful of all those who show mercy.) (21:83). And according to this Ayah:
وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّى مَسَّنِىَ الشَّيْطَـنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
(And remember Our servant Ayyub, when he invoked his Lord (saying): "Verily, Shaytan has afflicted me with distress and torment!") It was said that "distress" referred to bodily afflictions and "torment" referred to the loss of his wealth and children. Then the Most Merciful of those who show mercy responded to him, telling him to stand up and strike the ground with his foot. He did this, and Allah caused a spring of water to flow. He commanded him to wash in it, and all the pain and affliction in his body disappeared. Then He commanded him to strike the ground in a different place, and Allah caused another spring to flow, and Ayyub was commanded to drink from it. Then all his internal problems disappeared, and he became healthy again, inside and out. Allah says:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
(Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded that Anas bin Malik, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُهُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ بِهِ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَعْلَمُ وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مُنْذُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ فَيَكْشِفَ مَا بِهِ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتْى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ عَلَى الرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى، فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقَ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ،فَإِذَا قَضَاهَا أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتْى يَبْلُغَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا، فَأَوْحَى اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَن
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَـذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
فَاسْتَبْطَأَتْهُ (فَتَلَقَّتْهُ) تَنْظُرُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى، فَوَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيحًا. قَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ، قَالَ: وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ: أَنْدَرٌ لِلْقَمْحِ وَأَنْدَرٌ لِلشَّعِيرِ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ، أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتْى فَاضَ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى فِي أَنْدَرِ الشَّعِيرِ حَتْى فَاض»
(Allah's Prophet Ayyub, peace be upon him, suffered for eighteen years from his affliction and was shunned by relatives and strangers alike, besides two men who were the closest of his brothers to him. They used to visit him every morning and every evening. One of them said to his companion, "You know, by Allah, that Ayyub committed a great sin which nobody in the world ever committed." His companion said, "Why are you saying that" He said, "For eighteen years he has been suffering and Allah has not had mercy on him and relieve his suffering." When he went to him the next morning, the (second) man could not wait to tell this to Ayyub. Ayyub, peace be upon him, said, "I do not know what you are talking about, but Allah knows if I passed by two men who were arguing and they mentioned the Name of Allah, I would go back home and offer expiation lest they had mentioned the Name of Allah in an improper manner. " Whenever he went out to answer the call of nature, when he finished, his wife would take his hand until he came back home. One day he took a long time, and Allah had revealed to Ayyub, (Strike the ground with your foot. This is (a spring of) water to wash in, cool and a (refreshing) drink.) She thought that he had taken too long, so she turned to look at him, and saw that Allah had taken away the afflictions he had been suffering, and he looked better than he had ever looked. When she saw him, she said, "May Allah bless you! Have you seen Allah's Prophet, the one who is sorely tested By Allah, I have never seen a man who looks more like him than you, if he were healthy." He said, "I am he." He had two threshing floors, one for wheat and one for barley. Allah sent two clouds, and when one of them reached the threshing floor of the wheat, it rained gold until it was full. The other rained gold on the threshing floor of the barley until it was full.) This is the wording of Ibn Jarir, may Allah have mercy on him. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَحْثُو فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنى بِي عَنْ بَرَكَتِك»
(While Ayyub was bathing naked, locusts of gold fell upon him. Ayyub, peace be upon him, began gathering them in his garment. Then his Lord called to him, "O Ayyub, have I not made you so rich that you have no need of what you see" He, peace be upon him, said, "Yes, O Lord! But I cannot do without Your blessing!") This was only recorded by Al-Bukhari.
وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(And We gave him (back) his family, and along with them the like thereof, as a mercy from Us, and a reminder for those who understand.) Al-Hasan and Qatadah said, "Allah brought his family themselves back to life, and added others like them."
رَحْمَةً مِّنَّا
(as a mercy from Us,) means, in return for his patience, steadfastness, repentance, humility and constant turning to Allah.
وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(and a reminder for those who understand.) means, for those who understand that the consequence of patience is a solution and a way out.
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً فَاضْرِب بِّهِ وَلاَ تَحْنَثْ
(And take in your hand a bundle of thin grass and strike therewith (your wife), and break not your oath.) Ayyub, peace be upon him, got angry with his wife and was upset about something she had done, so he swore an oath that if Allah healed him, he would strike her with one hundred blows. When Allah healed him, how could her service, mercy, compassion and kindness be repaid with a beating So Allah showed him a way out, which was to take a bundle of thin grass, with one hundred stems, and hit her with it once. Thus he fulfilled his oath and avoided breaking his vow. This was the solution and way out for one who had Taqwa of Allah and turned to Him in repentance. Allah says:
إِنَّا وَجَدْنَـهُ صَابِراً نِّعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(Truly, We found him patient. How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah praised and commanded him, saying,
نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(How excellent a servant! Verily, he was ever oft-returning in repentance (to Us)!) Allah says:
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُواْ ذَوَى عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُواْ الشَّهَـدَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجاً - وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَـلِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْراً
(And whosoever has Taqwa of Allah, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him. Verily, Allah will accomplish his purpose. Indeed Allah has set a measure for all things.) (65:2-3)
حضرت ایوب ؑ اور ان کا صبر۔ حضرت ایوب ؑ کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے صبر اور امتحان میں پاس ہونے کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ مال برباد ہوگیا اولادیں مرگئیں جسم مریض ہوگیا یہاں تک کہ سوئی کے ناکے کے برابر سارے جسم میں ایسی جگہ نہ تھی جہاں بیماری نہ ہو صرف دل سلامت رہ گیا اور پھر فقیری اور مفلسی کا یہ حال تھا کہ ایک وقت کا کھانا پاس نہ تھا کوئی نہ تھا جو خبر گیر ہوتا سوائے ایک بیوی صاحبہ ؓ کے جن کے دل میں خوف اللہ تھا اور اپنے خاوند اللہ کے رسول ﷺ کی محبت تھی۔ لوگوں کا کام کاج کر کے اپنا اور اپنے میاں کا پیٹ پالتی تھیں آٹھ سال تک یہی حال رہا حالانکہ اس سے پہلے ان سے بڑھ کر مالدار کوئی نہ تھا۔ اولاد بھی بکثرت تھی اور دنیا کی ہر راحت موجود تھی۔ اب ہر چیز چھین لی گئی تھی اور شہر کا کوڑا کرکٹ جہاں ڈالا جاتا تھا وہیں آپ کو لا بٹھایا تھا۔ اسی حال میں ایک دو دن نہیں سال دو سال نہیں آٹھ سال کامل گذارے اپنے اور غیر سب نے منہ پھیرلیا تھا۔ خیریت پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا۔ صرف آپ کی یہی ایک بیوی صاحبہ تھیں جو ہر وقت دن اور رات آپ کی خدمت میں کمر بستہ تھیں۔ ہاں پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کے وقت آپ کے پاس سے چلی جاتی تھیں یہاں تک کہ دن پھرے اور اچھا وقت آگیا تو رب العالمین الہ المرسلین کی طرف تضرع وزاری کی اور کپکپاتے ہوئے کلیجے سے دل سے دعا کی کہ اے میرے پالنہار اللہ مجھے دکھ نے تڑپا دیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے یہاں جو دعا ہے اس میں جسمانی تکلیف اور مال و اولاد کے دکھ درد کا ذکر کیا۔ اسی وقت رحیم و کریم اللہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حکم ہوا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ پاؤں کے لگتے ہی وہاں ایک چشمہ ابلنے لگا حکم ہوا کہ اس پانی سے غسل کرلو۔ غسل کرتے ہی بدن کی تمام بیماری اس طرح جاتی رہی گویا تھی ہی نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ اور جگہ ایڑی لگاؤ وہاں پاؤں مارتے ہی دوسرا چشمہ جاری ہوگیا حکم ہوا کہ اس کا پانی پی لو اس پانی کے پیتے ہی اندرونی بیماریاں بھی جاتی رہیں اور ظاہر و باطن کی عافیت اور کامل تندرستی حاصل ہوگئی۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اٹھارہ سال تک اللہ کے یہ پیغمبر ﷺ دکھ درد میں مبتلا رہے اپنے اور غیر سب نے چھوڑ دیا ہاں آپ کے مخلص دوست صبح شام خیریت خبر کے لئے آ جایا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک نے دوسرے سے کہا میرا خیال یہ ہے کہ ایوب نے اللہ کی کوئی بڑی نافرمانی کی ہے کہ اٹھارہ سال سے اس بلا میں پڑا ہوا ہے اور اللہ اس پر رحم کرے اس دوسرے شخص نے شام کو حضرت ایوب ؑ سے اس کی یہ بات ذکر کردی۔ آپ کو سخت رنج ہوا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے میری یہ حالت تھی کہ جب دو شخصوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھا اور دونوں اللہ کو بیچ میں لاتے تو مجھ سے یہ نہ دیکھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کے عزیز نام کی اس طرح یاد کی جائے کیونکہ دو میں سے ایک تو ضرور مجرم ہوگا اور دونوں اللہ کا نام لے رہے ہیں تو میں اپنے پاس سے دے دلا کر ان کے جھگڑے کو ختم کردیتا کہ نام اللہ کی بےادبی نہ ہو۔ آپ سے اس وقت چلا بھرا بلکہ اٹھا بیٹھا بھی نہیں جاتا تھا پاخانے کے بعد آپ کی بیوی صاحبہ آپ کو اٹھا کر لاتی تھیں۔ ایک مرتبہ وہ نہیں تھیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی اور دعا کی اور اللہ کی طرف سے وحی ہوئی کہ زمین پر لات مار دو۔ بہت دیر کے بعد جب آپ کی بیوی صاحبہ آئیں تو دیکھا کہ مریض تو ہے نہیں کوئی اور شخص تندرست نورانی چہرے والا بیٹھا ہوا ہے پہچان نہ سکیں اور دریافت کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نیک بندے یہاں اللہ کے ایک نبی جو درد دکھ میں مبتلا تھے انہیں دیکھا ہے ؟ واللہ کہ جب وہ تندرست تھے تو قریب قریب تم جیسے ہی تھے، تب آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں۔ راوی کہتا ہے آپ کی دو کوٹھیاں تھیں ایک گیہوں کیلئے اور ایک جو کے لئے۔ اللہ تعالیٰ نے دو ابر بھیجے ایک میں سونا برسا اور ایک کوٹھی اناج کی اس سے بھر گئی دوسرے میں سے بھی سونا برسا اور دوسری کوٹھی اس سے بھر گئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت ایوب ؑ ننگے ہو کر نہا رہے تھے جو آسمان سے سونے کی ٹٹڈیاں برسنے لگیں آپ نے جلدی جلدی انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنی شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے ایوب کیا میں نے تمہیں غنی اور بےپرواہ نہیں کر رکھا ؟ آپ نے جواب دیا ہاں الٰہی بیشک تو نے مجھے بہت کچھ دے رکھا ہے میں سب سے غنی اور بےنیاز ہوں لیکن تیری رحمت سے بےنیاز نہیں ہوں بلکہ اس کا تو پورا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس صابر پیغمبر ﷺ کو نیک بدلہ اور بہتر جزائیں عطا فرمائیں۔ اولاد بھی دی اور اسی کے مثل اور بھی دی بلکہ حضرت حسن اور قتادہ سے منقول ہے کہ مردہ اولاد اللہ نے زندہ کردی اور اتنی ہی اور نئی دی۔ یہ تھا اللہ کا رحم جو ان کے صبر و استقلال رجوع الی اللہ تواضع اور انکساری کے بدلے اللہ نے انہیں دیا اور عقلمندوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے وہ جان لیتے ہیں کہ صبر کا انجام کشادگی ہے اور رحمت و راحت ہے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حضرت ایوب ؑ اپنی بیوی کے کسی کام کی وجہ سے ان پر ناراض ہوگئے تھے بعض کہتے ہیں وہ اپنے بالوں کی ایک لٹ بیچ کر ان کے لئے کھانا لائی تھیں اس پر آپ ناراض ہوئے تھے اور قسم کھائی تھی کہ شفا کے بعد سو کوڑے ماریں گے دوسروں نے وجہ ناراضگی اور بیان کی ہے۔ جبکہ آپ تندرست اور صحیح سالم ہوگئے تو ارادہ کیا کہ اپنی قسم کو پورا کریں لیکن ایسی نیک صفت عورت اس سزا کے لائق نہ تھیں جو حضرت ایوب نے طے کر رکھی تھی جس عورت نے اس وقت خدمت کی جبکہ کوئی ساتھ نہ تھا اسی لئے رب العالمین ارحم الراحمین نے ان پر رحم کیا اور اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ قسم پوری کرنے کے لئے کھجور کا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو سیخیں ہوں اور ایک انہیں مار دو اس صورت میں قسم کا خلاف نہ ہوگا اور ایک ایسی صابرہ شاکرہ نیک بیوی پر سزا بھی نہ ہوگی۔ یہی دستور الٰہی ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں برائیوں اور بدیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ایوب کی ثناء و صفت بیان فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بڑا صابر و ضابط پایا وہ بڑا نیک اور اچھا بندہ ثابت ہوا۔ اس کے دل میں ہماری سچی محبت تھی وہ ہماری ہی طرف جھکتا رہا اور ہمیں سے لو لگائے رہا، اسی لئے فرمان اللہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی صورت نکال دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہ ہو۔ اللہ پر توکل رکھنے والوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنے کام میں پورا اترتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ سمجھدار علماء کرام نے اس آیت سے بہت سے ایمانی مسائل اخذ کئے ہیں واللہ اعلم۔
45
View Single
وَٱذۡكُرۡ عِبَٰدَنَآ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ أُوْلِي ٱلۡأَيۡدِي وَٱلۡأَبۡصَٰرِ
And remember Our bondmen Ibrahim, and Ishaq, and Yaqub – the men of power and knowledge.
اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) کا ذکر کیجئے جو بڑی قوّت والے اور نظر والے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَآ إِبْرَهِيمَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِى الاٌّيْدِى وَالاٌّبْصَـرِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya`qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُوْلِى الاٌّيْدِى
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالاٌّبْصَـرُ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّآ أَخْلَصْنَهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الاٌّخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَـعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنَ الاٌّخْيَارِ
(And remember Isma`il, Al-Yasa`, and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَـذَا ذِكْرُ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
46
View Single
إِنَّآ أَخۡلَصۡنَٰهُم بِخَالِصَةٖ ذِكۡرَى ٱلدَّارِ
We indeed gave them distinction with a genuine affair – the remembrance of the (everlasting) abode.
بے شک ہم نے اُن کو آخرت کے گھر کی یاد کی خاص (خصلت) کی وجہ سے چن لیا تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَآ إِبْرَهِيمَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِى الاٌّيْدِى وَالاٌّبْصَـرِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya`qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُوْلِى الاٌّيْدِى
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالاٌّبْصَـرُ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّآ أَخْلَصْنَهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الاٌّخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَـعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنَ الاٌّخْيَارِ
(And remember Isma`il, Al-Yasa`, and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَـذَا ذِكْرُ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
47
View Single
وَإِنَّهُمۡ عِندَنَا لَمِنَ ٱلۡمُصۡطَفَيۡنَ ٱلۡأَخۡيَارِ
And in Our sight, they are indeed the chosen ones, the beloved.
اور بے شک وہ ہمارے حضور بڑے منتخب و برگزیدہ (اور) پسندیدہ بندوں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَآ إِبْرَهِيمَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِى الاٌّيْدِى وَالاٌّبْصَـرِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya`qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُوْلِى الاٌّيْدِى
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالاٌّبْصَـرُ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّآ أَخْلَصْنَهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الاٌّخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَـعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنَ الاٌّخْيَارِ
(And remember Isma`il, Al-Yasa`, and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَـذَا ذِكْرُ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
48
View Single
وَٱذۡكُرۡ إِسۡمَٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ وَكُلّٞ مِّنَ ٱلۡأَخۡيَارِ
And remember Ismail and Yasa’a (Elisha) and Zul-Kifl; and they are all excellent.
اور آپ اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل (علیھم السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے، اور وہ سارے کے سارے چنے ہوئے لوگوں میں سے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Chosen and the Best among the Prophets
Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets:
وَاذْكُرْ عِبَادَنَآ إِبْرَهِيمَ وَإِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِى الاٌّيْدِى وَالاٌّبْصَـرِ
(And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya`qub, Ulil-Aydi wal-Absar.) meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said:
أُوْلِى الاٌّيْدِى
(Ulil-Aydi) "Of great strength and worship;
وَالاٌّبْصَـرُ
(wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion."
إِنَّآ أَخْلَصْنَهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
(Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode.) Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it."
وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الاٌّخْيَارِ
(And they are with Us, verily, of the chosen and the best!) means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones.
وَاذْكُرْ إِسْمَـعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنَ الاٌّخْيَارِ
(And remember Isma`il, Al-Yasa`, and Dhul-Kifl, all are among the best.) We have already discussed their characteristics and stories in detail in Surat Al-Anbiya', may peace be upon them, and there is no need to repeat it here.
هَـذَا ذِكْرُ
(This is a Reminder) means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an."
اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔
49
View Single
هَٰذَا ذِكۡرٞۚ وَإِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ لَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
This is an advice; and indeed for the pious is an excellent abode.
یہ (وہ) ذکر ہے (جس کا بیان اس سورت کی پہلی آیت میں ہے)، اور بے شک پرہیزگاروں کے لئے عمدہ ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الاٌّبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٌ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.) (56: 18).
وَعِندَهُمْ قَـصِرَتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b and As-Suddi.
هَـذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, `this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَـذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain) (16:96).
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.) (84:25).
أُكُلُهَا دَآئِمٌ وِظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَـفِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
50
View Single
جَنَّـٰتِ عَدۡنٖ مُّفَتَّحَةٗ لَّهُمُ ٱلۡأَبۡوَٰبُ
Everlasting Gardens – all its gates are open for them.
(جو) دائمی اِقامت کے لئے باغاتِ عدن ہیں جن کے دروازے اُن کے لئے کھلے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الاٌّبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٌ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.) (56: 18).
وَعِندَهُمْ قَـصِرَتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b and As-Suddi.
هَـذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, `this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَـذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain) (16:96).
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.) (84:25).
أُكُلُهَا دَآئِمٌ وِظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَـفِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
51
View Single
مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدۡعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ وَشَرَابٖ
Reclining on pillows, in it they ask for fruits and drinks in plenty.
وہ اس میں (مَسندوں پر) تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اس میں (وقفے وقفے سے) بہت سے عمدہ پھل اور میوے اور (لذیذ) شربت طلب کرتے رہیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الاٌّبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٌ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.) (56: 18).
وَعِندَهُمْ قَـصِرَتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b and As-Suddi.
هَـذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, `this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَـذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain) (16:96).
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.) (84:25).
أُكُلُهَا دَآئِمٌ وِظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَـفِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
52
View Single
۞وَعِندَهُمۡ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ أَتۡرَابٌ
And with them are the pure spouses, who do not set gaze upon men except their husbands, of single age.
اور اُن کے پاس نیچی نگاہوں والی (باحیا) ہم عمر (حوریں) ہوں گی
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الاٌّبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٌ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.) (56: 18).
وَعِندَهُمْ قَـصِرَتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b and As-Suddi.
هَـذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, `this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَـذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain) (16:96).
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.) (84:25).
أُكُلُهَا دَآئِمٌ وِظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَـفِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
53
View Single
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ
This is the promise being given to you, for the Day of Reckoning.
یہ وہ نعمتیں ہیں جن کا روزِ حساب کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الاٌّبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٌ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.) (56: 18).
وَعِندَهُمْ قَـصِرَتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b and As-Suddi.
هَـذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, `this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَـذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain) (16:96).
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.) (84:25).
أُكُلُهَا دَآئِمٌ وِظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَـفِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
54
View Single
إِنَّ هَٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ
Indeed this is Our sustenance, which will never end.
بیشک یہ ہماری بخشش ہے اسے کبھی بھی ختم نہیں ہونا
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Blessed
Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn Gardens) meaning, eternal gardens (of Paradise),
مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الاٌّبْوَابُ
(whose doors will be opened for them.) means, when they come to them (these gardens), their gates will open for them.
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا
(Therein they will recline;) It was said that this means that they will sit cross-legged on chairs beneath canopies.
يَدْعُونَ فِيهَا بِفَـكِهَةٍ كَثِيرَةٍ
(therein they will call for fruits in abundance) means, whatever they ask for, they will find it, and it will be prepared just as they wanted it.
وَشَرَابٌ
(and drinks;) means, whatever kind of drink they want, the servants will bring it to them,
بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ
(With cups, and jugs, and a glass of flowing wine.) (56: 18).
وَعِندَهُمْ قَـصِرَتُ الطَّرْفِ
(And beside them will be Qasirat-at-Tarf (chaste females)) means, they restrain their glances from anyone except their husbands, and do not turn to anyone else.
أَتْرَابٌ
((and) of equal ages.) means, they will all be of the same age. This is the understanding of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b and As-Suddi.
هَـذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ
(This it is what you are promised for the Day of Reckoning!) means, `this that We have mentioned of the features of Paradise is what He has prepared for His pious servants who will reach it after they have been resurrected from their graves and been saved from the Fire.' Then Allah tells us that Paradise will never come to an end or disappear or cease to be. He says:
إِنَّ هَـذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ
(Verily, this is Our provision which will never finish.) This is like the Ayat:
مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain) (16:96).
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108)
لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(for them is a reward that will never come to an end.) (84:25).
أُكُلُهَا دَآئِمٌ وِظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَـفِرِينَ النَّارُ
(its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire.)(13:35). And there are many similar Ayat.
صالحین کے لئے اجر۔نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے ؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے (ابن ابی حاتم) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کردیں گے۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ، پاک دامن، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے، قیامت کے دن یہ اس کے وارث ومالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہوگا۔ جیسے فرمایا (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو۔ جیسے ارشاد ہے) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35۔) 13۔ الرعد :35) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
55
View Single
هَٰذَاۚ وَإِنَّ لِلطَّـٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٖ
This is for the virtuous; and indeed for the rebellious is a wretched destination.
یہ (تو مومنوں کے لئے ہے)، اور بے شک سرکشوں کے لئے بہت ہی برا ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
56
View Single
جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا فَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
Hell; which they shall enter; what an evil resting-place!
(وہ) دوزخ ہے، اس میں وہ داخل ہوں گے، سو بہت ہی بُرا بچھونا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
57
View Single
هَٰذَا فَلۡيَذُوقُوهُ حَمِيمٞ وَغَسَّاقٞ
This is for the criminals – so that they may taste it – boiling hot water and pus.
یہ (عذاب ہے) پس انہیں یہ چکھنا چاہئے کھولتا ہوا پانی ہے اور پیپ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
58
View Single
وَءَاخَرُ مِن شَكۡلِهِۦٓ أَزۡوَٰجٌ
And similar other punishments in pairs.
اور اسی شکل میں اور بھی طرح طرح کا (عذاب) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
59
View Single
هَٰذَا فَوۡجٞ مُّقۡتَحِمٞ مَّعَكُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِهِمۡۚ إِنَّهُمۡ صَالُواْ ٱلنَّارِ
“Here is another group that was with you, falling along with you”; they will answer, “Do not give them plenty of open space; they surely have to enter the fire – let them also be confined!”
(دوزخ کے داروغے یا پہلے سے موجود جہنمی کہیں گے:) یہ ایک (اور) فوج ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) گھستی چلی آرہی ہے، انہیں کوئی خوش آمدید نہیں، بیشک وہ (بھی) دوزخ میں داخل ہونے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
60
View Single
قَالُواْ بَلۡ أَنتُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُمۡۖ أَنتُمۡ قَدَّمۡتُمُوهُ لَنَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ
The followers will say, “In fact, for you! May you not get open space! It is you who brought this calamity upon us!” So what a wretched destination.
وہ (آنے والے) کہیں گے: بلکہ تم ہی ہو کہ تمہیں کوئی فراخی نصیب نہ ہو، تم ہی نے یہ (کفر اور عذاب) ہمارے سامنے پیش کیا، سو (یہ) بری قرارگاہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
61
View Single
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدۡهُ عَذَابٗا ضِعۡفٗا فِي ٱلنَّارِ
They say, “Our Lord! Whoever has brought this calamity upon us – double the punishment of the fire for him!”
وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جس نے یہ (کفر یا عذاب) ہمارے لئے پیش کیا تھا تو اسے دوزخ میں دوگنا عذاب بڑھا دے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
62
View Single
وَقَالُواْ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٗا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلۡأَشۡرَارِ
And they say, “What is the matter with us that we do not see the men whom we thought were evil?”
اور وہ کہیں گے: ہمیں کیا ہوگیا ہے ہم (اُن) اشخاص کو (یہاں) نہیں دیکھتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
63
View Single
أَتَّخَذۡنَٰهُمۡ سِخۡرِيًّا أَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ
“Did we mock at them or did our eyes turn away from them?”
کیا ہم ان کا (ناحق) مذاق اڑاتے تھے یا ہماری آنکھیں انہیں (پہچاننے) سے چوک گئی تھیں (یہ عمّار، خباب، صُہیب، بلال اور سلمان رضی اللہ عنھما جیسے فقراء اور درویش تھے)
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
64
View Single
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ
Indeed this is really true – the people of the hell quarrelling among themselves.
بے شک یہ اہلِ جہنم کا آپس میں جھگڑنا یقیناً حق ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Final Return of the Doomed
Having mentioned the final of the blessed, Allah follows that with mention of the final return of the doomed when they are resurrected and brought to account. Allah says:
هَـذَا وَإِنَّ لِلطَّـغِينَ
(This is so! And for the Taghin), which refers to those who disobey Allah, may He be glorified, and oppose the Messengers of Allah, peace be upon them,
لَشَرَّ مَـَابٍ
(will be an evil final return.) means, the worst final return. Then Allah explains it by saying,
جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا
(Hell! Where they will enter) means, they will enter it and it will overwhelm them on all sides.
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ - هَـذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
(and worst (indeed) is that place to rest! This is so! Then let them taste it -- Hamim and Ghassaq.) Hamim is something that has been heated to the ultimate degree, and Ghassaq is the opposite, something that is so intensely cold that it is unbearable. Allah says:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind (oppasite pairs) -- all together!) means, and other things of this kind, a thing and its opposite, serving as punishments. Al-Hasan Al-Basri said, concerning the Ayah:
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَجٌ
(And other of similar kind -- all together!) "Different kinds of punishments." Others said, such as intense cold and intense heat, and drinking Hamim and eating the bitter tree of Az-Zaqqum, and being lifted up and thrown down, and other kinds of paired opposites, all of which are means of punishment.
The Disputes of the People of Hell
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) Here Allah tells us what the people of Hell will say to one another. This is like the Ayah:
كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا
(Every time a new nation enters, it curses its sister nation (that went before)) (7:38), which means, instead of greeting one another, they will curse one another, accuse one another of being liars and reject one another. When a new group arrives, the keepers of Hell will say,
هَـذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لاَ مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُو النَّارِ
(This is a troop entering with you (in Hell), no welcome for them! Verily, they shall enter in the Fire!) meaning, because they are of the people of Hell.
قَالُواْ بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ
(Nay, you (too)! No welcome for you!) means, those who are coming in will say,
بَلْ أَنتُمْ لاَ مَرْحَباً بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا
(Nay, you (too)! No welcome for you! It is you who brought this upon us,) meaning, `you called us to that which led us to this fate.'
فَبِئْسَ الْقَرَارُ
(so evil is this place to stay in!) means, evil is this abode and this destination.
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَـذَا فَزِدْهُ عَذَاباً ضِعْفاً فِى النَّارِ
(They will say: "Our Lord! Whoever brought this upon us, add to him a double torment in the Fire!"). This is like the Ayah,
قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(The last of them will say to the first of them: "Our Lord! These misled us, so give them a double torment of the Fire." He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38), which means that each of them will be punished as he deserves.
وَقَالُواْ مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِ - أَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(And they will say: "What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery, or have (our) eyes failed to perceive them") Here Allah tells us that when they are in Hell, the disbelievers will notice that they do not see people who they thought were misguided, while they thought of themselves as believers. They will say, `why do we not see them with us in the Fire' Mujahid said, "This is what Abu Jahl will say; he will say, `what is the matter with me that I do not see Bilal and `Ammar and Suhayb and so-and-so...' This is an example; all the disbelievers are like this, they think that the believers will go to Hell, so when the disbelievers enter Hell, they will wonder why they do not see them there, and they will say,
مَا لَنَا لاَ نَرَى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الاٌّشْرَارِأَتَّخَذْنَـهُمْ سِخْرِيّاً
(What is the matter with us that we see not men whom we used to count among the bad ones Did we take them as an object of mockery,) means, in this world,
أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الأَبْصَـرُ
(or have (our) eyes failed to perceive them) means, they will try to console themselves with this wishful thinking, so they will say, perhaps they are here in Hell with us, but we have not laid eyes on them. Then they will find out that they (the believers) are in the lofty levels of Paradise, as Allah says:
وَنَادَى أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ أَصْحَـبَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُواْ نَعَمْ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّـلِمِينَ
(And the dwellers of Paradise will call out to the dwellers of the Fire (saying): "We have indeed found true what our Lord had promised us; have you also found true what your Lord promised (warned)" They shall say: "Yes." Then a crier will proclaim between them: "The curse of Allah is on the wrongdoers.") until:
ادْخُلُواْ الْجَنَّةَ لاَ خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
(Enter Paradise, no fear shall be on you, nor shall you grieve.) (7:44-49)
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) means, `this that We have told you, O Muhammad, about the dispute among the people of Hell and their cursing one another, is true and there is no doubt concerning it.'
اہل نار کے احوال۔ اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔ حمیم اس پانی کو کہتے ہیں جس کی حرارت اور گرمی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ اور غساق کہتے ہیں اس ٹھنڈک کو جس کی سردی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ پس ایک طرف آگ کا گرم عذاب دوسری جانب ٹھنڈک سرد عذاب اور اسی طرح قسم قسم کے، جوڑ جوڑ کے عذاب، جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر ایک ڈول غساق کا دنیا میں بہایا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو دار ہوجائیں۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں غساق نامی جہنم میں ایک نہر ہے جس میں سانپ بچھو وغیرہ کا زہر جمع ہوتا ہے پھر وہ گرم ہو کر اونٹنے لگتا ہے اس میں جہنمیوں کو غوطے دیئے جائیں گے جس سے ان کا سارا گوشت پوست جھڑ جائے گا اور پنڈلیوں میں لٹک جائے گا۔ جسے وہ اس طرح گھسیٹتے پھریں گے جیسے کوئی شخص اپنا کپڑا گھسیٹ رہا ہو (ابن ابی حاتم) غرض سردی کا عذاب الگ ہوگا گرمی کا الگ ہوگا حمیم پینے کو زقوم کھانے کو کبھی آگ کے پہاڑوں پر چڑھایا جاتا ہے تو کبھی آگ کے گڑھوں میں دھکیلا جاتا ہے اللہ ہمیں بچائے۔ اب جہنمیوں کا جھگڑا ان کا تنازع اور ایک دوسرے کو برا کہنا بیان ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا 38) 7۔ الاعراف :38) ، ہر گروہ دوسرے پر بجائے سلام کے لعنت بھیجے گا۔ ایک دوسرے کو جھٹلائے گا اور ایک دوسرے پر الزام رکھے گا۔ ایک جماعت جو پہلے جہنم میں جا چکی ہے وہ دوسری جماعت کو داروغہ جہنم کے ساتھ آتی ہوئی دیکھ کر کہے گی کہ یہ گروہ جو تمہارے ساتھ ہے انہیں مرحبا نہ ہو اس لئے کہ یہ بھی جہنمی گروہ ہے۔ وہ آنے والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے مرحبا ہو تم ہی تو تھے کہ ہمیں ان برے کاموں کی طرف بلاتے رہے جن کا انجام یہ ہوا۔ پس بری منزل ہے۔ پھر کہیں گے کہ اے باری تعالیٰ جس نے ہمارے لئے اس کی تقدیم کی تو اسے دوگنا عذاب کر۔ جیسے فرمان ہے (قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ، یعنی پچھلے پہلوں کے لئے کہیں گے کہ پروردگار انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب کر۔ اللہ فرمائے گا ہر ایک کے لئے دگنا ہی ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ یعنی ہر ایک کے لئے ایسا عذاب ہے جس کی انتہا اسی کے لئے ہے۔ چونکہ کفار وہاں مومنوں کو نہ پائیں گے جنہیں اپنے خیال میں بہکا ہوا جانتے تھے تو اس میں ذکر کریں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ ہمیں مسلمان جہنم میں نظر نہیں آتے ؟ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابو جہل کہے گا کہ بلال عمار صھیب وغیرہ وغیرہ کہاں ہیں ؟ وہ تو نظر ہی نہیں آتے غرض ہر کافر یہی کہے گا کہ وہ لوگ جنہیں دنیا میں ہم شریر گنتے تھے وہ آج یہاں نظر نہیں آتے۔ کیا ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں دنیا میں مذاق میں اڑاتے تھے ؟ لیکن نہیں ایسا تو نہ تھا وہ ہوں گے تو جہنم میں ہی لیکن کہیں ادھر ادھر ہوں گے ہماری نگاہ میں نہیں پڑتے۔ اسی وقت جنتیوں کی طرف سے ندا آئے گی کہ اے دوزخیو ! ادھر دیکھو ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو حق پایا تم اپنی کہو کیا اللہ کے وعدے کے سچے نکلے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں بالکل سچ نکلے اسی وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ اسی کا بیان آیات قرآنیہ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44ۙ) 7۔ الاعراف :44) ہے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی ﷺ جو خبر میں تمہیں دے رہا ہوں کہ جہنمی اسی طرح لڑیں جھگڑیں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے یہ بالکل سچی واقع اور ٹھیک خبر ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
65
View Single
قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٞۖ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I am purely a Herald of Warning – and there is no God except Allah, the One, the All Dominant.”
فرما دیجئے: میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا سب پر غالب ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Message of the Messenger is a Great News
Allah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, `something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, `you neglect it.'
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَـَلإِ الاٌّعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. ) meaning, `were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
66
View Single
رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّـٰرُ
“Lord of the heavens and the earth and all that is between them – the Almighty, the Oft Forgiving.”
آسمانوں اور زمین کا اور جو کائنات اِن دونوں کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے بڑی عزت والا، بڑا بخشنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Message of the Messenger is a Great News
Allah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, `something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, `you neglect it.'
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَـَلإِ الاٌّعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. ) meaning, `were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
67
View Single
قُلۡ هُوَ نَبَؤٌاْ عَظِيمٌ
Say, “That is a great tidings.”
فرما دیجئے: وہ (قیامت) بہت بڑی خبر ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Message of the Messenger is a Great News
Allah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, `something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, `you neglect it.'
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَـَلإِ الاٌّعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. ) meaning, `were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
68
View Single
أَنتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُونَ
“You are neglectful of it!”
تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Message of the Messenger is a Great News
Allah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, `something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, `you neglect it.'
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَـَلإِ الاٌّعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. ) meaning, `were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
69
View Single
مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمِۭ بِٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰٓ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ
“What did I know of the heavenly world, when the angels had disputed.”
مجھے تو (اَزخود) عالمِ بالا کی جماعتِ (ملائکہ) کی کوئی خبر نہ تھی جب وہ (تخلیقِ آدم کے بارے میں) بحث و تمحیص کر رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Message of the Messenger is a Great News
Allah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, `something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, `you neglect it.'
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَـَلإِ الاٌّعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. ) meaning, `were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
70
View Single
إِن يُوحَىٰٓ إِلَيَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ
“I receive only the divine revelations, that I am purely a clear Herald of Warning.”
مجھے تو (اللہ کی طرف سے) وحی کی جاتی ہے مگر یہ کہ میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Message of the Messenger is a Great News
Allah tells His Messenger to say to those who disbelieved in Allah, associated others in worship with Him and denied His Messenger: `I am a warner, I am not as you claim.'
وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللَّهُ الْوَحِدُ الْقَهَّارُ
(and there is no God (worthy of worship) except Allah, the One, the Irresistible,) means, He Alone has subjugated and controlled everything.
رَّبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا
(The Lord of the heavens and the earth and all that is between them,) means, He is the Sovereign of all that and is in control of it.
الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
(the Almighty, the Oft-Forgiving.) means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful.
قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ
(Say: "That (this Qur'an) is a great news,") means, `something very important, which is that Allah has sent me to you.
أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ
(From which you turn away!) means, `you neglect it.'
مَا كَانَ لِىَ مِنْ عِلْمٍ بِالْمَـَلإِ الاٌّعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ
(I had no knowledge of the chiefs (angels) on high when they were disputing and discussing. ) meaning, `were it not for the divine revelation, how could I have known about the dispute of the chiefs on high (the angels)' This refers to their dispute concerning Adam, peace be upon him, and how Iblis refused to prostrate to him and argued with his Lord because He preferred him (Adam) over him. This is what Allah says:
نبی ؑ کا خواب۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ میری نسبت تمہارے خیالات محض غلط ہیں میں تو تمہیں ڈر کی خبر پہچانے والا ہوں۔ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی قابل پرستش نہیں وہ اکیلا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے، ہر چیز اس کے ماتحت ہے۔ وہ زمین و آسمان اور ہر چیز کا مالک ہے اور سب تصرفات اسی کے قبضے میں ہیں۔ وہ عزتوں والا ہے اور باوجود اس عظمت و عزت کے بڑا بخشنے والا ہے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے یعنی میرا رسول بن کر تمہاری طرف آنا پھر تم اے غافلو اس سے اعراض کر رہے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بڑی چیز ہے یعنی قرآن کریم۔ حضرت آدم ؑ کے بارے میں فرشتوں میں جو کچھ اختلاف ہوا اگر رب کی وحی میرے پاس نہ آئی ہوتی تو مجھے اس کی بابت کیا علم ہوتا ؟ ابلیس کا آپ کو سجدہ کرنے سے منکر ہونا اور رب کے سامنے اس کی مخالفت کرنا اور اپنی بڑائی جتانا وغیرہ ان سب باتوں کو میں کیا جانوں ؟ مسند احمد میں ہے ایک دن صبح کی نماز میں حضور ﷺ نے بہت دیر لگا دی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کا وقت آگیا پھر بہت جلدی کرتے ہوئے آئے تکبیر کہی گئی اور آپ نے ہلکی نماز پڑھائی۔ پھر ہم سے فرمایا ذرا دیر ٹھہرے رہو پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا رات کو میں تہجد کی نماز پڑھ رہا تھا جو مجھے اونگھ آنے لگی یہاں تک کہ میں جاگا میں نے دیکھا کہ گویا میں اپنے رب کے پاس ہوں میں نے اپنے پروردگار کو بہرتین عمدہ صورت میں دیکھا مجھ سے جناب باری نے دریافت فرمایا جانتے ہو عالم بالا کے فرشتے اس وقت کس امر میں گفتگو اور سوال و جواب کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میرے رب مجھے کیا خبر ؟ تین مرتبہ کے سوال جواب کے بعد میں میں نے دیکھا کہ میرے دونوں مونڈھوں کے درمیان اللہ عزوجل نے اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی اور مجھ پر ہر ایک چیز روشن ہوگئی پھر مجھ سے سوال کیا اب بتاؤ ملاء اعلیٰ میں کیا بات چیت ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا گناہوں کے کفارے کی۔ فرمایا پھر تم بتاؤ کفارے کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نماز با جماعت کے لئے قدم اٹھا کر جانا۔ نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھے رہنا اور دل کے نہ چاہئے پر بھی کامل وضو کرنا۔ پھر مجھ سے میرے اللہ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا۔ نرم کلامی کرنا اور راتوں کو جب لوگ سوئے پڑے ہوں نماز پڑھنا۔ اب مجھ سے میرے رب نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے ؟ میں نے کہا میں نیکیوں کا کرنا برائیوں کا چھوڑنا مسکینوں سے محبت رکھنا اور تیری بخشش، تیرا رحم اور تیرا ارادہ جب کسی قوم کی آزمائش کا فتنے کے ساتھ ہو تو اسے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت، تیری محبت اور تجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت اور ان کاموں کی چاہت جو تیری محبت سے قریب کرنے والے ہوں مانگتا ہوں اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا یہ سراسر حق ہے اسے پڑھو پڑھاؤ سیکھو سکھاؤ۔ یہ حدیث خواب کی ہے اور مشہور بھی یہی ہے بعض نے کہا ہے یہ جاگتے کا واقعہ ہے لیکن یہ غلط ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ قرآن میں فرشتوں کی جس بات کا رد و بدل کرنا اس آیت میں مذکور ہے وہ یہ نہیں جو اس حدیث میں ہے بلکہ یہ سوال تو وہ ہے جس کا ذکر اس کے بعد ہی ہے ملاحظہ ہوں اگلی آیتیں۔
71
View Single
إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ
(Remember) When your Lord said to the angels, “I will create a human from clay.” –
(وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں (گیلی) مٹی سے ایک پیکرِ بشریت پیدا فرمانے والا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
72
View Single
فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
“So when I have perfected him and breathed into him a spirit from Myself, (you all) fall down before him in prostration.”
پھر جب میں اس (کے ظاہر) کو درست کر لوں اور اس (کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس (کی تعظیم) کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
73
View Single
فَسَجَدَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ
So all the angels prostrated, every one, without exception.
پس سب کے سب فرشتوں نے اکٹھے سجدہ کیا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
74
View Single
إِلَّآ إِبۡلِيسَ ٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
Except Iblis; he was proud and was, from the beginning, a disbeliever.
سوائے ابلیس کے، اس نے (شانِ نبوّت کے سامنے) تکبّر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
75
View Single
قَالَ يَـٰٓإِبۡلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ أَسۡتَكۡبَرۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡعَالِينَ
Said Allah, “O Iblis! What prevented you from prostrating before one whom I have created with My hands*? Have you become proud or were you haughty from the beginning?” (Used as a metaphor).
(اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کس نے اس (ہستی) کو سجدہ کرنے سے روکا ہے جسے میں نے خود اپنے دستِ (کرم) سے بنایا ہے، کیا تو نے (اس سے) تکبّر کیا یا تو (بزعمِ خویش) بلند رتبہ (بنا ہوا) تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
76
View Single
قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ
Said Iblis, “I am better than him; You made me from fire, and You have created him from clay!”
اس نے (نبی کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہوئے) کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور تو نے اِسے مٹی سے بنایا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
77
View Single
قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ
He said, “Therefore exit from heaven, for you have been outcast.” (To disrespect the Prophets – peace and blessings be upon them – is blasphemy.)
ارشاد ہوا: سو تو (اِس گستاخئ نبوّت کے جرم میں) یہاں سے نکل جا، بے شک تو مردود ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
78
View Single
وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ
“And indeed My curse is upon you till the Day of Judgement.”
اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت رہے گی
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
79
View Single
قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ
He said, “My Lord! Therefore give me respite till the day when all will be raised.”
اُس نے کہا: اے پروردگار! پس تو مجھے اُس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دے دے جس دن لوگ (دوبارہ) قبروں سے اٹھائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
80
View Single
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ
Said Allah, “You are therefore among those given respite.”
اللہ نے فرمایا: (جا) بے شک تو مہلت یافتہ لوگوں میں سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
81
View Single
إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ
“Until the time of the known day.”
وقتِ مقررہ کے دن (قیامت) تک
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
82
View Single
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ
He said, “Therefore, by oath of Your honour, I will surely mislead all of them.”
اس نے کہا: سو تیری عزّت کی قسم! میں ان سب لوگوں کو ضرور گمراہ کرتا رہوں گا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
83
View Single
إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ
“Except Your chosen bondmen among them.”
سوائے تیرے اُن بندوں کے جو چُنیدہ و برگزیدہ ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
84
View Single
قَالَ فَٱلۡحَقُّ وَٱلۡحَقَّ أَقُولُ
Said Allah, “So this is the truth; and I speak only the truth.” –
ارشاد ہوا: پس حق (یہ) ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
85
View Single
لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ أَجۡمَعِينَ
“That I will fill hell with you and with those among them who follow you, all together.”
کہ میں تجھ سے اور جو لوگ تیری (گستاخانہ سوچ کی) پیروی کریں گے اُن سب سے دوزخ کو بھر دوں گا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Adam and Iblis
Allah mentions this story in Surat Al-Baqarah, at the beginning of Surat Al-A`raf, in Surat Al-Hijr, Al-Isra', Al-Kahf and here. Before creating Adam, peace be upon him, Allah told the angels that He was going to create a human being from sounding clay of altered smooth black mud. He told them that when He finished creating and forming him, they were to prostrate to him as a sign of honor and respect, and out of obedience to the command of Allah, may He be exalted. All of the angels obeyed this command except for Iblis, who was not one of them. He was one of the Jinn, and his nature betrayed him at his time of greatest need. He refused to prostrate to Adam, and he disputed with his Lord about him, claiming that he was better than Adam, because he was created from fire while Adam was created from clay, and fire was better than clay, or so he said. He made a mistake by doing this, and he went against the command of Allah, thus committing the sin of disbelief. So Allah exiled him, humiliated him, and cast him out of His mercy and His sacred Presence, and called him "Iblis" symbolizing that he had Ablasa min Ar-Rahmah (despaired of mercy) -- that there was no hope for him of mercy. He cast him down from the heavens, disgraced and rejected, to the earth. Iblis asked Allah to give him a reprieve until the Day of Resurrection, so the Forbearing One, Who does not hasten to punish those who disobey Him, gave him a reprieve. When he knew that he was safe from destruction until the Day of Resurrection, he rebelled and transgressed.
فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَإِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Iblis said: "By Your might, then I will surely mislead them all, except Your true servants amongst them.") This is like the Ayat:
أَرَءَيْتَكَ هَـذَا الَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ لأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إَلاَّ قَلِيلاً
(Iblis said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite until the Day of Resurrection, I will surely seize and mislead his offspring all but a few!") (17:62). These few are the ones who are excepted in another Ayah, which is:
إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً
(Verily, My servants -- you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian.) (17:65)
قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ
لاّمْلاّنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ
((Allah) said: "The truth is -- and the truth I say that I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together.") Some of them, including Mujahid, read this as meaning, "I am the Truth and the truth I say." According to another report narrated from Mujahid, it means, "The truth is from Me and I speak the truth." Others, such as As-Suddi, interpreted it as being an oath sworn by Allah. This Ayah is like the Ayat:
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) (32:13), and
قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا
((Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) - an ample recompense.) (17:63).
تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے باوجود سجدہ کیوں نہ کیا ؟ یہ تکبر ! اور یہ سرکشی ؟ تو کہنے لگا کہ میں اس سے افضل و اعلیٰ ہوں کہاں آگ اور کہاں مٹی ؟ اس خطا کار نے اس کے سمجھنے میں بھی غلطی کی اور اللہ کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے غارت ہوگیا حکم ہوا کہ میرے سامنے سے منہ ہٹا میرے دربار میں تجھ جیسے نافرمانوں کی رسائی نہیں تو میری رحمت سے دور ہوگیا اور تجھ پر ابدی لعنت نازل ہوئی اور اب تو خیرو خوبی سے مایوس ہوجا۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ قیامت تک مجھے مہلت دی جائے۔ اس حلیم اللہ نے جو اپنی مخلوق کو ان کے گناہوں پر فوراً نہیں پکڑتا اس کی یہ التجا پوری کردی اور قیامت تک کی اسے مہلت دے دی۔ اب کہنے لگا میں تو اس کی تمام اولاد کو بہکا دوں گا صرف مخلص لوگ تو بچ جائیں گے منظور اللہ بھی یہی تھا جیسا کہ قرآن کریم کی اور آیتوں میں بھی ہے مثلا (قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62) 17۔ الإسراء :62) اور (اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ 42) 15۔ الحجر :42) فالحق کو حضرت مجاہد نے پیش سے پڑھا ہے معنی یہ ہیں کہ میں خود حق ہوں اور میری بات بھی حق ہی ہوتی ہے اور ایک روایت میں ان سے یوں مروی ہے کہ حق میری طرف سے ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں اوروں نے دونوں لفظ زبر سے پڑھے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ قسم ہے۔ میں کہتا ہوں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13) 32۔ السجدة :13) یعنی میرا یہ قول اٹل ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو اس قسم کے انسانوں اور جنوں سے پر کر دونگا اور جیسے فرمان ہے (اذھب فمن تبعک) الخ، یہاں سے نکل جا جو شخص بھی تیری مانے گا اس کی اور تیری پوری سزا جہنم ہے۔
86
View Single
قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُتَكَلِّفِينَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “I do not ask any fee from you for the Qur’an, and I am not a fabricator.”
فرما دیجئے: میں تم سے اِس (حق کی تبلیغ) پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں
Tafsir Ibn Kathir
وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(nor am I one of the Mutakallifin.) means, `and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.' Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A`mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to `Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him. He said, `O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, `Allah knows best."' It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet :
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin.") This was reported by Al-Bukhari and Muslim.
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَـلَمِينَ
(It is only a Reminder for all the creatures.) means, the Qur'an is a reminder for all those who are held accountable, men and Jinn. This was the view of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. This Ayah is like the Ayat:
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17).
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ
(And you shall certainly know the truth of it) means, `you will see confirmation that what he says is true.'
بَعْدَ حِينِ
(after a while.) means, soon. Qatadah said, "After death. `Ikrimah said, "It means, on the Day of Resurrection." There is no contradiction between the two views, because whoever dies comes under the rulings of the Day of Resurrection. This is the end of the Tafsir of Surah Sad. All praise and gratitude is due to Allah, and Allah may He be glorified and exalted, knows best.
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کردیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی ﷺ سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آجائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
87
View Single
إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
“It is not but an advice for the entire world.”
یہ (قرآن) تو سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہی ہے
Tafsir Ibn Kathir
وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(nor am I one of the Mutakallifin.) means, `and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.' Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A`mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to `Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him. He said, `O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, `Allah knows best."' It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet :
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin.") This was reported by Al-Bukhari and Muslim.
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَـلَمِينَ
(It is only a Reminder for all the creatures.) means, the Qur'an is a reminder for all those who are held accountable, men and Jinn. This was the view of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. This Ayah is like the Ayat:
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17).
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ
(And you shall certainly know the truth of it) means, `you will see confirmation that what he says is true.'
بَعْدَ حِينِ
(after a while.) means, soon. Qatadah said, "After death. `Ikrimah said, "It means, on the Day of Resurrection." There is no contradiction between the two views, because whoever dies comes under the rulings of the Day of Resurrection. This is the end of the Tafsir of Surah Sad. All praise and gratitude is due to Allah, and Allah may He be glorified and exalted, knows best.
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کردیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی ﷺ سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آجائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
88
View Single
وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَأَهُۥ بَعۡدَ حِينِۭ
“And you will come to know of its tidings, after a while.”
اور تمہیں تھوڑے ہی وقت کے بعد خود اِس کا حال معلوم ہو جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(nor am I one of the Mutakallifin.) means, `and I do not add anything to that which Allah has told me. Whatever I am commanded to do, I do it, and I do not add anything or take anything away. By doing this I am seeking the Face of Allah and the Hereafter.' Sufyan Ath-Thawri, narrated from Al-A`mash and Mansur from Abu Ad-Duha that Masruq said, "We went to `Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him. He said, `O people! Whoever knows a thing should say it, and whoever does not know should say, `Allah knows best."' It is part of knowledge, when one does not know, to say "Allah knows best." For Allah said to your Prophet :
قُلْ مَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَآ أَنَآ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ
(Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin.") This was reported by Al-Bukhari and Muslim.
إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَـلَمِينَ
(It is only a Reminder for all the creatures.) means, the Qur'an is a reminder for all those who are held accountable, men and Jinn. This was the view of Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. This Ayah is like the Ayat:
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17).
وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ
(And you shall certainly know the truth of it) means, `you will see confirmation that what he says is true.'
بَعْدَ حِينِ
(after a while.) means, soon. Qatadah said, "After death. `Ikrimah said, "It means, on the Day of Resurrection." There is no contradiction between the two views, because whoever dies comes under the rulings of the Day of Resurrection. This is the end of the Tafsir of Surah Sad. All praise and gratitude is due to Allah, and Allah may He be glorified and exalted, knows best.
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کردیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی ﷺ سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔ میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آجائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ واللہ اعلم بالصواب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔