لقمان — Luqman
Ayah 15 / 34 • Meccan
1,548
15
Luqman
لقمان • Meccan
وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَاۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ وَٱتَّبِعۡ سَبِيلَ مَنۡ أَنَابَ إِلَيَّۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
And if they force you, that you ascribe a partner to Me a thing concerning which you do not have knowledge – so do not obey them and support them well in the world; and follow the path of one who has inclined towards Me; then towards Me only is your return, and I shall tell you what you used to do.
اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا، اور (عقیدہ و امورِ آخرت میں) اس شخص کی پیروی کرنا جس نے میری طرف توبہ و طاعت کا سلوک اختیار کیا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کرتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Luqman's Advice to His Son
Allah tells us how Luqman advised his son. His full name was Luqman bin `Anqa' bin Sadun, and his son's name was Tharan, according to a saying quoted by As-Suhayli. Allah describes him in the best terms, and states that he granted him wisdom. Luqman advised his son, the closest and most beloved of all people to him, who deserved to be given the best of his knowledge. So, Luqman started by advising him to worship Allah Alone, and not to associate anything with Him. Then he warned him:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) meaning, it is the greatest wrong. Al-Bukhari recorded that `Abdullah said: "When the Ayah
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm)(6:82) was revealed, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were distressed by this, and said, `Who among us does not confuse his belief with Zulm' The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ:
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ»
(That is not what it means. Have you not heard what Luqman said: (O my son! Join not in worship others with Allah. Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed))" It was recorded by Muslim. When Luqman advised his son to worship Allah Alone, he also told him to honor his parents. This is like the Ayah,
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents) (17:23). These two things are often mentioned together in the Qur'an. Allah says here:
وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلَى وَهْنٍ
(And We have enjoined on man (to be dutiful and good) to his parents. His mother bore him in weakness and hardship upon weakness and hardship,) Mujahid said: "The hardship of bearing the child." Qatadah said: "Exhaustion upon exhaustion." `Ata' Al-Khurasani said: "Weakness upon weakness."
وَفِصَالُهُ فِى عَامَيْنِ
(and his weaning is in two years) means, after he is born, he is breastfed and weaned within two years. This is like the Ayah,
وَالْوَلِدَتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَـدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ
(The mothers shall give suck to their children for two whole years, for those who desire to complete the term of suckling)(2:233). On this basis, Ibn `Abbas and other Imams understood that the shortest possible period of pregnancy was six months, because Allah says elsewhere:
وَحَمْلُهُ وَفِصَـلُهُ ثَلاَثُونَ شَهْراً
(and the bearing of him, and the weaning of him is thirty months) (46:15). Allah mentions how the mother brings the child up, and how she gets tired and suffers stress from staying up with the child night and day, to remind the son of her previous kind treatment of him. This is like the Ayah,
وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا
(and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.") (17:24). Allah says here:
أَنِ اشْكُرْ لِى وَلِوَلِدَيْكَ إِلَىَّ الْمَصِيرُ
(give thanks to Me and to your parents. Unto Me is the final destination.) means, `I will reward you most generously for that.'
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) means, if they try hard to make you follow them in their religion, then do not accept that from them, but do not let that stop you from behaving with them in the world kindly, i.e. treating them with respect.
وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ
(and follow the path of him who turns to Me in repentance and in obedience.) means, the believers.
ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Then to Me will be your return, and I shall tell you what you used to do.) At-Tabarani recorded in Al-`Ishrah that Sa`d bin Malik said, "This Ayah,
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) was revealed concerning me. I was a man who honored his mother, but when I became Muslim, she said: `O Sa`d! What is this new thing I see you doing Leave this religion of yours, or I will not eat or drink until I die, and people will say: Shame on you, for what you have done to me, and they will say that you have killed your mother.' I said, `Do not do that, O mother, for I will not give up this religion of mine for anything.' She stayed without eating for one day and one night, and she became exhausted; then she stayed for another day and night without eating, and she became utterly exhausted. When I saw that, I said: `O my mother, by Allah, even if you had one hundred souls and they were to depart one by one, I would not give up this religion of mine for anything, so if you want to, eat, and if you want to, do not eat.' So she ate."
حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت ووصیت حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا کہ انکوحکمت عنایت فرمائی گئی تھی۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بےحیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔ حضرت عبداللہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ 82) 6۔ الانعام :82) اتری تو آصحاب رسول ﷺ پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ؟ اور آیت میں ہے کہ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے۔ اس پہلی وصیت کے بعد حضرت لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی دوزخ اور تاکید کے لحاظ سے واقع ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے۔ یعنی ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا جیسے فرمان جناب باری ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) یعنی تیرا رب یہ فیصلہ فرماچکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک واحسان کرتے رہو۔ عموما قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے وھن کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ02303) 2۔ البقرة :233) یعنی جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لئے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15) 46۔ الأحقاف :15) یعنی مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لئے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کرکے شکر گذاری اطاعت اور احسان کرے جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا 24ۭ) 17۔ الإسراء :24) ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم وکرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضرت معاذ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے امیر بناکر بھیجا آپ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہوگا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہوگا نہ موت آئے گی۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں۔ گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کیساتھ سلوک واحسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ انکے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہوچکے ہیں سن لو تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے حضرت سعد بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گذار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہوجاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤنگی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کردیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوارہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا پر نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کردیا۔
الٓمٓ
Alif-Lam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
الف، لام، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah
When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says:
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
(Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah) (39:23). He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah), he said, "This -- by Allah -- refers to singing."
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, ) Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words
يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ
(purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying:
لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers.
وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً
(and takes it by way of mockery.) Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it."
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(For such there will be a humiliating torment.) Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِى أُذُنَيْهِ وَقْراً
(And when Our Ayat are recited to such a one, he turns away in pride, as if he heard them not -- as if there were deafness in his ear.) means, when these Qur'anic verses are recited to one who is fond of idleness and play, he turns away from them and does not want to hear them. He turns a deaf ear to them as if he can hear nothing, because it annoys him to hear them since he gains no benefit from them and has no interest in them.
فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So announce to him a painful torment.) i.e., on the Day of Resurrection, which will hurt him just as much as listening to the Book of Allah and its verses hurt him.
نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡحَكِيمِ
These are verses of the wise Book.
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah
When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says:
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
(Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah) (39:23). He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah), he said, "This -- by Allah -- refers to singing."
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, ) Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words
يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ
(purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying:
لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers.
وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً
(and takes it by way of mockery.) Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it."
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(For such there will be a humiliating torment.) Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِى أُذُنَيْهِ وَقْراً
(And when Our Ayat are recited to such a one, he turns away in pride, as if he heard them not -- as if there were deafness in his ear.) means, when these Qur'anic verses are recited to one who is fond of idleness and play, he turns away from them and does not want to hear them. He turns a deaf ear to them as if he can hear nothing, because it annoys him to hear them since he gains no benefit from them and has no interest in them.
فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So announce to him a painful torment.) i.e., on the Day of Resurrection, which will hurt him just as much as listening to the Book of Allah and its verses hurt him.
سورة بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کردی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت شفا اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لئے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ رحمی سلوک واحسان سخاوت اور داددہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لئے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین و دنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
هُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّلۡمُحۡسِنِينَ
Guidance and mercy for the righteous.
جو نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah
When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says:
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
(Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah) (39:23). He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah), he said, "This -- by Allah -- refers to singing."
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, ) Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words
يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ
(purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying:
لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers.
وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً
(and takes it by way of mockery.) Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it."
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(For such there will be a humiliating torment.) Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِى أُذُنَيْهِ وَقْراً
(And when Our Ayat are recited to such a one, he turns away in pride, as if he heard them not -- as if there were deafness in his ear.) means, when these Qur'anic verses are recited to one who is fond of idleness and play, he turns away from them and does not want to hear them. He turns a deaf ear to them as if he can hear nothing, because it annoys him to hear them since he gains no benefit from them and has no interest in them.
فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So announce to him a painful torment.) i.e., on the Day of Resurrection, which will hurt him just as much as listening to the Book of Allah and its verses hurt him.
سورة بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کردی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت شفا اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لئے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ رحمی سلوک واحسان سخاوت اور داددہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لئے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین و دنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ
Those who keep the prayer established and pay the charity and accept faith in the Hereafter.
جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ لوگ جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah
When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says:
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
(Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah) (39:23). He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah), he said, "This -- by Allah -- refers to singing."
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, ) Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words
يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ
(purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying:
لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers.
وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً
(and takes it by way of mockery.) Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it."
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(For such there will be a humiliating torment.) Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِى أُذُنَيْهِ وَقْراً
(And when Our Ayat are recited to such a one, he turns away in pride, as if he heard them not -- as if there were deafness in his ear.) means, when these Qur'anic verses are recited to one who is fond of idleness and play, he turns away from them and does not want to hear them. He turns a deaf ear to them as if he can hear nothing, because it annoys him to hear them since he gains no benefit from them and has no interest in them.
فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So announce to him a painful torment.) i.e., on the Day of Resurrection, which will hurt him just as much as listening to the Book of Allah and its verses hurt him.
سورة بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کردی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت شفا اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لئے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ رحمی سلوک واحسان سخاوت اور داددہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لئے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین و دنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
أُوْلَـٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدٗى مِّن رَّبِّهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
It is they who are on guidance from their Lord, and only they are the successful.
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah
When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says:
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
(Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah) (39:23). He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah), he said, "This -- by Allah -- refers to singing."
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, ) Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words
يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ
(purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying:
لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers.
وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً
(and takes it by way of mockery.) Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it."
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(For such there will be a humiliating torment.) Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِى أُذُنَيْهِ وَقْراً
(And when Our Ayat are recited to such a one, he turns away in pride, as if he heard them not -- as if there were deafness in his ear.) means, when these Qur'anic verses are recited to one who is fond of idleness and play, he turns away from them and does not want to hear them. He turns a deaf ear to them as if he can hear nothing, because it annoys him to hear them since he gains no benefit from them and has no interest in them.
فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So announce to him a painful torment.) i.e., on the Day of Resurrection, which will hurt him just as much as listening to the Book of Allah and its verses hurt him.
سورة بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کردی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت شفا اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لئے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ رحمی سلوک واحسان سخاوت اور داددہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لئے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین و دنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ
And some people buy words of play, in order to mislead from Allah’s path, without knowledge; and to make it an article of mockery; for them is a disgraceful punishment.
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ کلام خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوجھ بوجھ کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں اور اس (راہ) کا مذاق اڑائیں، ان ہی لوگوں کے لئے رسوا کن عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah
When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says:
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
(Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah) (39:23). He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah), he said, "This -- by Allah -- refers to singing."
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, ) Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words
يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ
(purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying:
لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers.
وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً
(and takes it by way of mockery.) Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it."
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(For such there will be a humiliating torment.) Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِى أُذُنَيْهِ وَقْراً
(And when Our Ayat are recited to such a one, he turns away in pride, as if he heard them not -- as if there were deafness in his ear.) means, when these Qur'anic verses are recited to one who is fond of idleness and play, he turns away from them and does not want to hear them. He turns a deaf ear to them as if he can hear nothing, because it annoys him to hear them since he gains no benefit from them and has no interest in them.
فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So announce to him a painful torment.) i.e., on the Day of Resurrection, which will hurt him just as much as listening to the Book of Allah and its verses hurt him.
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں چناچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے تین دفعہ قسم کھاکر فرمایا کہ اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔ یہی قول حضرت ابن عباس، جابر، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ کا ہے۔ امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے۔ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے۔ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے چناچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ گانے والیوں کی خریدو فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن زید کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔ ضحاک کا قول ہے کہ مراد اس سے شرک ہے امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ ہر وہ کلام جو اللہ سے اور اتباع شرع سے روکے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ اس سے غرض اس کی اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت ہوتی ہے۔ ایک قرأت میں لیضل ہے تو لام لام عاقبت ہوگا یا لام عیل ہوگا۔ یعنی امرتقدیری ان کی اس کارگزاری سے ہو کر رہے گا۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنالیتے ہیں۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہوگی اور خطرناک عذاب میں ذلیل و رسوا ہونگے۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ یہ نانصیب جو کھیل تماشوں باجوں گاجوں پر راگ راگنیوں پر ریجھا ہوا ہے۔ یہ قرآن کی آیتوں سے بھاگتا ہے کان ان سے بہرے کرلیتا ہے یہ اسے اچھی نہیں معلوم ہوتیں۔ سن بھی لیتا ہے تو بےسنی کردیتا ہے۔ بلکہ انکا سننا اسے ناگوار گذرتا ہے کوئی مزہ نہیں آتا۔ وہ اسے فضول کام قرار دیتا ہے چونکہ اس کی کوئی اہمیت اور عزت اس کے دل میں نہیں اس لئے وہ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتا وہ تو ان سے محض بےپرواہ ہے۔ یہ یہاں اللہ کی آیتوں سے اکتاتا ہے تو قیامت کے دن عذاب بھی وہ ہونگے کہ اکتا اکتا اٹھے۔ یہاں آیات قرانی سن کر اسے دکھ ہوتا ہے وہاں دکھ دینے والے عذاب اسے بھگتنے پڑیں گے۔
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا وَلَّىٰ مُسۡتَكۡبِرٗا كَأَن لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا كَأَنَّ فِيٓ أُذُنَيۡهِ وَقۡرٗاۖ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
And when Our verses are recited to him he haughtily turns away as if he did not hear them – as if there is deafness in his ears; so give him the glad tidings of a painful punishment.
اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ غرور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں (بہرے پن کی) گرانی ہے، سو آپ اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
The Doomed are preoccupied with Idle Talk and They turn away from the Ayat of Allah
When Allah mentions the blessed -- who are those who are guided by the Book of Allah and benefit from hearing it, as He says:
اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ
(Allah has sent down the Best Statement, a Book, its parts resembling each other (and) oft-repeated. The skins of those who fear their Lord shiver from it. Then their skin and their heart soften to the remembrance of Allah) (39:23). He connect that with mention of the doomed, those who turn away from the Qur'an and do not benefit from hearing the Words of Allah. Instead, they turn to listening to flutes and singing accompanied by musical instruments. As Ibn Mas`ud commented about the Ayah:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(And of mankind is he who purchases Lahu Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah), he said, "This -- by Allah -- refers to singing."
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(And of mankind is he who purchases Lahw Al-Hadith to mislead (men) from the path of Allah without knowledge, ) Qatadah said: "By Allah, he may not spend money on it, but his purchasing it means he likes it, and the more misguided he is, the more he likes it and the more he prefers falsehood to the truth and harmful things over beneficial things." It was said that what is meant by the words
يَشْتَرِى لَهْوَ الْحَدِيثِ
(purchases idle talks) is buying singing servant girls. Ibn Jarir said that it means all speech that hinders people from seeing the signs of Allah and following His path. His saying:
لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(to mislead (men) from the path of Allah) means, he does this to oppose Islam and its followers.
وَيَتَّخِذَهَا هُزُواً
(and takes it by way of mockery.) Mujahid said, "This means mocking the path of Allah and making fun of it."
أُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(For such there will be a humiliating torment.) Just as they showed no respect to the signs and path of Allah, so they will be shown no respect on the Day of Resurrection, and they will be subjected to a painful, ongoing torment. Then Allah says:
وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِى أُذُنَيْهِ وَقْراً
(And when Our Ayat are recited to such a one, he turns away in pride, as if he heard them not -- as if there were deafness in his ear.) means, when these Qur'anic verses are recited to one who is fond of idleness and play, he turns away from them and does not want to hear them. He turns a deaf ear to them as if he can hear nothing, because it annoys him to hear them since he gains no benefit from them and has no interest in them.
فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So announce to him a painful torment.) i.e., on the Day of Resurrection, which will hurt him just as much as listening to the Book of Allah and its verses hurt him.
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں چناچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے تین دفعہ قسم کھاکر فرمایا کہ اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔ یہی قول حضرت ابن عباس، جابر، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ کا ہے۔ امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے۔ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے۔ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے چناچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ گانے والیوں کی خریدو فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن زید کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔ ضحاک کا قول ہے کہ مراد اس سے شرک ہے امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ ہر وہ کلام جو اللہ سے اور اتباع شرع سے روکے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ اس سے غرض اس کی اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت ہوتی ہے۔ ایک قرأت میں لیضل ہے تو لام لام عاقبت ہوگا یا لام عیل ہوگا۔ یعنی امرتقدیری ان کی اس کارگزاری سے ہو کر رہے گا۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنالیتے ہیں۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہوگی اور خطرناک عذاب میں ذلیل و رسوا ہونگے۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ یہ نانصیب جو کھیل تماشوں باجوں گاجوں پر راگ راگنیوں پر ریجھا ہوا ہے۔ یہ قرآن کی آیتوں سے بھاگتا ہے کان ان سے بہرے کرلیتا ہے یہ اسے اچھی نہیں معلوم ہوتیں۔ سن بھی لیتا ہے تو بےسنی کردیتا ہے۔ بلکہ انکا سننا اسے ناگوار گذرتا ہے کوئی مزہ نہیں آتا۔ وہ اسے فضول کام قرار دیتا ہے چونکہ اس کی کوئی اہمیت اور عزت اس کے دل میں نہیں اس لئے وہ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کرسکتا وہ تو ان سے محض بےپرواہ ہے۔ یہ یہاں اللہ کی آیتوں سے اکتاتا ہے تو قیامت کے دن عذاب بھی وہ ہونگے کہ اکتا اکتا اٹھے۔ یہاں آیات قرانی سن کر اسے دکھ ہوتا ہے وہاں دکھ دینے والے عذاب اسے بھگتنے پڑیں گے۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلنَّعِيمِ
Indeed those who believed and did good deeds – for them are Gardens of serenity.
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے نعمتوں کی جنتیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Good Destiny of the Believers
Here Allah mentions the destiny of the righteous in the Hereafter, those who believe in Allah and His Messenger and do righteous deeds in accordance with the Laws of Allah.
لَهُمْ جَنَّـتُ النَّعِيمِ
(for them are Gardens of Delight.) means, there they will enjoy all kinds of delights and pleasures, food, drink, clothing, dwelling-places, means of transportation, women, a light of beauty and delightful sounds, which have never crossed the mind of any human being. They will stay there forever, never leaving and never desiring change.
وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا
(It is a promise of Allah in truth.) meaning, this will undoubtedly come to pass, for it is a promise from Allah, and Allah never breaks His promise, because He is the Most Generous Bestower Who does what He wills and is able to do all things.
وَهُوَ الْعَزِيزُ
(And He is the All-Mighty,) Who has subjugated all things and to Whom all things submit,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise.) in what He says and what He does, Who has made this Qur'an a guidance to the believers.
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears, and it is blindness for them) (41:44).
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّـلِمِينَ إَلاَّ خَسَارًا
(And We send down of the Qur'an that which is a healing and a mercy to those who believe, and it increases the wrongdoers nothing but loss.) (17:82)
اللہ تعالیٰ کے وعدے ٹلتے نہیں نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ پر ایمان لائے رسول کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں لذیذ غذائیں بہترین پوشاکیں عمدہ عمدہ سواریاں پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور انکی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں گے نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں۔ یہ حتما اور یقینا ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرماچکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے منان ہے محسن ہے منعم ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے عزیز ہے سب کچھ اس کے قبضے میں ہے حکیم ہے۔ کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لئے کافی اور شافی بنایا ہاں بےایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا 82) 17۔ الإسراء :82) یعنی جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں۔
خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
In which they will abide; it is a true promise of Allah; and only He is the Almighty, the Wise.
(وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا وعدہ سچّا ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Good Destiny of the Believers
Here Allah mentions the destiny of the righteous in the Hereafter, those who believe in Allah and His Messenger and do righteous deeds in accordance with the Laws of Allah.
لَهُمْ جَنَّـتُ النَّعِيمِ
(for them are Gardens of Delight.) means, there they will enjoy all kinds of delights and pleasures, food, drink, clothing, dwelling-places, means of transportation, women, a light of beauty and delightful sounds, which have never crossed the mind of any human being. They will stay there forever, never leaving and never desiring change.
وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا
(It is a promise of Allah in truth.) meaning, this will undoubtedly come to pass, for it is a promise from Allah, and Allah never breaks His promise, because He is the Most Generous Bestower Who does what He wills and is able to do all things.
وَهُوَ الْعَزِيزُ
(And He is the All-Mighty,) Who has subjugated all things and to Whom all things submit,
الْحَكِيمُ
(the All-Wise.) in what He says and what He does, Who has made this Qur'an a guidance to the believers.
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears, and it is blindness for them) (41:44).
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّـلِمِينَ إَلاَّ خَسَارًا
(And We send down of the Qur'an that which is a healing and a mercy to those who believe, and it increases the wrongdoers nothing but loss.) (17:82)
اللہ تعالیٰ کے وعدے ٹلتے نہیں نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ پر ایمان لائے رسول کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں لذیذ غذائیں بہترین پوشاکیں عمدہ عمدہ سواریاں پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور انکی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں گے نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں۔ یہ حتما اور یقینا ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرماچکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے منان ہے محسن ہے منعم ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے عزیز ہے سب کچھ اس کے قبضے میں ہے حکیم ہے۔ کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لئے کافی اور شافی بنایا ہاں بےایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا 82) 17۔ الإسراء :82) یعنی جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں۔
10
View Single
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ
He created the heavens without any supports visible to you, and cast mountains as anchors into the earth so that it may not shake with you, and spread all kinds of beasts in it; and We sent down water from the sky so thereby grew all kinds of refined pairs in it.
اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بنایا (جیسا کہ) تم انہیں دیکھ رہے ہو اور اس نے زمین میں اونچے مضبوط پہاڑ رکھ دیئے تاکہ تمہیں لے کر (دورانِ گردش) نہ کانپے اور اُس نے اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور ہم نے اس میں ہر قسم کی عمدہ و مفید نباتات اگا دیں
Tafsir Ibn Kathir
Proofs of Tawhid
Thus Allah explains His mighty power in creating the heavens and the earth, and everything that is within them and between them. He says:
خَلَقَ السَّمَـوَتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ
(He has created the heavens without any pillars) Al-Hasan and Qatadah said, "It does not have any pillars, visible or invisible."
وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ
(and has set on the earth firm mountains) means, the mountains which stabilize and lend weight to the earth, lest it should shake with its water. Allah says:
أَن تَمِيدَ بِكُمْ
(lest it should shake with you.)
وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ
(And He has scattered therein moving creatures of all kinds) means, He has placed throughout it all kinds of animals, the total number of whose kinds and colors is known to no one except the One Who created them. When Allah tells us that He is the Creator, He also reminds us that He is the Provider, as He says:
وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ
(And We send down water from the sky, and We cause (plants) of every goodly kind to grow therein in pairs,) meaning, every kind of good produce in pairs, i.e., they are beautiful to look at. Ash-Sha`bi said: "People are also produce of the earth, so whoever enters Paradise is goodly and whoever enters Hell is vile."
هَـذَا خَلْقُ اللَّهِ
(This is the creation of Allah.) means, all that Allah has mentioned here of the creation of the heavens and earth and everything in between stems from His power of creation and control alone, and He has no partner or associate in that, Allah says:
فَأَرُونِى مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ
(So, show Me that which those besides Him have created.) those idols and rivals whom you worship and call upon.
بَلِ الظَّـلِمُونَ
(Nay, the wrongdoers) means the idolators who associate others in worship with Allah
فِى ضَلَـلٍ
(in error) means, they are ignorant and blind.
مُّبِينٌ
(plain) means, it is clear and obvious, and not at all hidden.
پہاڑوں کی میخیں اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بےستوں اونچا رکھا ہے۔ واقع ہی میں کوئی ستوں نہیں۔ گو مجاہد کا یہ قول بھی ہے کہ ستوں ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورة رعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لئے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لئے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لئے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کرسکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بےضرر۔ نفع میں بہت بہتر۔ شعبی کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے ؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا بہرا بےعقل بےعلم بےسمجھ بیوقوف اور کون ہوگا ؟
11
View Single
هَٰذَا خَلۡقُ ٱللَّهِ فَأَرُونِي مَاذَا خَلَقَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ بَلِ ٱلظَّـٰلِمُونَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
Allah has created this – therefore show me what has been created by those other than Him; in fact the unjust are in open error.
یہ اللہ کی مخلوق ہے، پس (اے مشرکو!) مجھے دکھاؤ جو کچھ اللہ کے سوا دوسروں نے پیدا کیا ہو۔ بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Proofs of Tawhid
Thus Allah explains His mighty power in creating the heavens and the earth, and everything that is within them and between them. He says:
خَلَقَ السَّمَـوَتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ
(He has created the heavens without any pillars) Al-Hasan and Qatadah said, "It does not have any pillars, visible or invisible."
وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ
(and has set on the earth firm mountains) means, the mountains which stabilize and lend weight to the earth, lest it should shake with its water. Allah says:
أَن تَمِيدَ بِكُمْ
(lest it should shake with you.)
وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ
(And He has scattered therein moving creatures of all kinds) means, He has placed throughout it all kinds of animals, the total number of whose kinds and colors is known to no one except the One Who created them. When Allah tells us that He is the Creator, He also reminds us that He is the Provider, as He says:
وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ
(And We send down water from the sky, and We cause (plants) of every goodly kind to grow therein in pairs,) meaning, every kind of good produce in pairs, i.e., they are beautiful to look at. Ash-Sha`bi said: "People are also produce of the earth, so whoever enters Paradise is goodly and whoever enters Hell is vile."
هَـذَا خَلْقُ اللَّهِ
(This is the creation of Allah.) means, all that Allah has mentioned here of the creation of the heavens and earth and everything in between stems from His power of creation and control alone, and He has no partner or associate in that, Allah says:
فَأَرُونِى مَاذَا خَلَقَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ
(So, show Me that which those besides Him have created.) those idols and rivals whom you worship and call upon.
بَلِ الظَّـلِمُونَ
(Nay, the wrongdoers) means the idolators who associate others in worship with Allah
فِى ضَلَـلٍ
(in error) means, they are ignorant and blind.
مُّبِينٌ
(plain) means, it is clear and obvious, and not at all hidden.
پہاڑوں کی میخیں اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بےستوں اونچا رکھا ہے۔ واقع ہی میں کوئی ستوں نہیں۔ گو مجاہد کا یہ قول بھی ہے کہ ستوں ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورة رعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لئے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لئے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لئے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کرسکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بےضرر۔ نفع میں بہت بہتر۔ شعبی کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے ؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا بہرا بےعقل بےعلم بےسمجھ بیوقوف اور کون ہوگا ؟
12
View Single
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا لُقۡمَٰنَ ٱلۡحِكۡمَةَ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِلَّهِۚ وَمَن يَشۡكُرۡ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٞ
And indeed We bestowed wisdom to Luqman (saying) that, “Be grateful to Allah”; and whoever is grateful, is grateful for his own good; and whoever is ungrateful – then indeed Allah is the Absolute, the Most Praiseworthy.
اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت و دانائی عطا کی، (اور اس سے فرمایا) کہ اللہ کا شکر ادا کرو اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو بیشک اللہ بے نیاز ہے (خود ہی) سزاوارِ حمد ہے
Tafsir Ibn Kathir
Luqman
The Salaf differed over the identity of Luqman; there are two opinions: was he a Prophet or just a righteous servant of Allah without the prophethood The majority favored the latter view, that he was a righteous servant of Allah without being a Prophet. Sufyan Ath-Thawri said, narrating from Al-Ash`ath, from `Ikrimah, from Ibn `Abbas, "Luqman was an Ethiopian slave who was a carpenter. `Abdullah bin Az-Zubayr said, "I said to Jabir bin `Abdullah: `What did you hear about Luqman' He said: `He was short with a flat nose, and came from Nubia."' Yahya bin Sa`id Al-Ansari narrated from Sa`id bin Al-Musayyib that "Luqman was from the black peoples of (southern) Egypt, and had thick lips. Allah gave him wisdom but withheld prophethood from him." Al-`Awza`i said, "`Abdur-Rahman bin Harmalah told me; `A black man came to Sa`id bin Al-Musayyib to ask him a question, and Sa`id bin Al-Musayyib said to him: "Do not be upset because you are black, for among the best of people were three who were black: Bilal, Mahja` the freed slave of `Umar bin Al-Khattab, and Luqman the Wise, who was a black Nubian with thick lips." Ibn Jarir recorded that Khalid Ar-Raba`i said: "Luqman was an Ethiopian slave who was a carpenter. His master said to him, `Slaughter this sheep for us,' so he slaughtered it. His master said: `Bring the best two pieces from it,' so he brought out the tongue and the heart. Then time passed, as much as Allah willed, and his master said: `Slaughter this sheep for us,' so he slaughtered it. His master said, `Bring the worst two morsels from it,' so he brought out the tongue and the heart. His master said to him, `I told you to bring out the best two pieces, and you brought these, then I told you to bring out the worst two pieces, and you brought these!' Luqman said, `There is nothing better than these if they are good, and there is nothing worse than these if they are bad."' Shu`bah narrated from Al-Hakam, from Mujahid, "Luqman was a righteous servant, but he was not a Prophet." Allah's saying:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ
(And indeed We bestowed upon Luqman Al-Hikmah) means, understanding, knowledge and eloquence.
أَنِ اشْكُرْ للَّهِ
(saying: "Give thanks to Allah.") means, `We commanded him to give thanks to Allah for the blessings and favors that Allah had given to him alone among his people and contemporaries.' Then Allah says:
وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ
(And whoever gives thanks, he gives thanks for (the good of) himself.) meaning, the benefit of that will come back to him, and Allah's reward is for those who give thanks, as He says:
وَمَنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلاًّنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ
(and whosoever does righteous good deeds, then such will prepare a good place for themselves. ) (30:44)
وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ
(And whoever is unthankful, then verily, Allah is Rich, Worthy of all praise.) He has no need of His servants and He will not be harmed by that, even if all the people of the earth were to disbelieve, for He has no need of anything or anyone besides Himself. There is no God but He, and we worship none but Him.
حضرت لقمان نبی تھے یا نہیں ؟ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے ؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔ حضرت جابر سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا حضرت لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے نبی تھے۔ سعد بن مسیب فرماتے ہیں آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی آپ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے تئیں حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے۔ حضرت بلال ؓ جو حضور رسالت پناہ کے غلام تھے۔ حضرت مجع جو جناب فاروق اعظم کے غلام تھے اور حضرت لقمان حکیم جو حبشہ کے نوبہ تھے۔ حضرت خالد ربعی کا قول ہے کہ حضرت لقمان جو حبشی غلام بڑھی تھے ان سے ایک روز ان کے مالک نے کہا بکری ذبح کرو اور اس کے دو بہترین اور نفیس ٹکڑے گوشت کے میرے پاس لاؤ۔ وہ دل اور زبان لے گئے کچھ دنوں بعد ان کے مالک نے کہا کہ بکری ذبح کرو اور دو بدترین گوشت کے ٹکڑے میرے پاس لاؤ آپ آج بھی یہی دو چیزیں لے گئے مالک نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ بہترین مانگے تو بھی یہی لائے گئے اور بدترین مانگے گئے تو بھی یہی لائے گئے یہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا جب یہ اچھے رہے تو ان سے بہترین جسم کا کوئی عضو نہیں اور جب یہ برے بن جائے تو پھر سبب سے بدتر بھی یہی ہیں۔ حضرت مجاہد کا قول ہے کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے نیک بندے تھے۔ سیاہ فام غلام تھے موٹے ہونٹوں والے اور بھرے قدموں والے اور بزرگ سے بھی یہ مروی ہے کہ بنی اسرائیل میں قاضی تھے۔ ایک اور قول ہے کہ آپ حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں تھے۔ ایک مرتبہ آپ کسی مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ ایک چروا ہے نے آپ کو دیکھ کر کہا کیا تو وہی نہیں ہے جر میرے ساتھ فلاں فلاں جگہ بکریاں چرایا کرتا تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں وہی ہوں اس نے کہا پھر تجھے یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا ؟ فرمایا سچ بولنے اور بیکار کلام نہ کرنے سے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی بلندی کی وجہ یہ بیان کی کہ اللہ کا فضل اور امانت ادائیگی اور کلام کی سچائی اور بےنفع کاموں کو چھوڑ دینا۔ الغرض ایسے ہی آثار صاف ہیں کہ آپ نبی نہ تھے۔ بعض روایتیں اور بھی ہیں جن میں گو صراحت نہیں کہ آپ نبی نہ تھے لیکن ان میں بھی آپ کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ نبی نہ تھے کیونکہ غلامی نبوت کے منافی ہے۔ انبیاء کرام عالی نسب اور عالی خاندان کے ہوا کرتے تھے۔ اسی لئے جمہور سلف کا قول ہے کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے۔ ہاں حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ آپ نبی تھے لیکن یہ بھی جب کے سند صحیح ثابت ہوجائے لیکن اسکی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔ کہتے ہیں کہ حضرت لقمان حکیم سے ایک شخص نے کہا کیا تو بنی حسح اس کا غلام نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ اس نے کہا تو بکریوں کا چرواہا نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ کہا گیا تو سیاہ رنگ نہیں ؟ آپ نے فرمایا ظاہر ہے میں سیاہ رنگ ہوں تم یہ بتاؤ کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا یہی کہ پھر وہ کیا ہے ؟ کہ تیری مجلس پر رہتی ہے ؟ لوگ تیرے دروازے پر آتے ہیں تری باتیں شوق سے سنتے ہیں۔ آپ نے فرمایا سنو بھائی جو باتیں میں تمہیں کہتا ہوں ان پر عمل کرلو تو تم بھی مجھ جیسے ہوجاؤگے۔ آنکھیں حرام چیزوں سے بند کرلو۔ زبان بیہودہ باتوں سے روک لو۔ مال حلال کھایاکرو۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔ زبان سے سچ بات بولا کرو۔ وعدے کو پورا کیا کرو۔ مہمان کی عزت کرو۔ پڑوسی کا خیال رکھو۔ بےفائدہ کاموں کو چھوڑ دو۔ انہی عادتوں کی وجہ سے میں نے بزرگی پائی ہے۔ ابو داؤد ؓ فرماتے ہیں حضرت لقمان حکیم کسی بڑے گھرانے کے امیر اور بہت زیادہ کنبے قبیلے والے نہ تھے۔ ہاں ان میں بہت سی بھلی عادتیں تھیں۔ وہ خوش اخلاق خاموش غور و فکر کرنے والے گہری نظر والے دن کو نہ سونے والے تھے۔ لوگوں کے سامنے تھوکتے نہ تھے نہ پاخانہ پیشاب اور غسل کرتے تھے لغو کاموں سے دور رہتے ہنستے نہ تھے جو کلام کرتے تھے حکمت سے خالی نہ ہوتا تھا جس دن ان کی اولاد فوت ہوئی یہ بالکل نہیں روئے۔ وہ بادشاہوں امیروں کے پاس اس لئے جاتے تھے کہ غور و فکر اور عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔ حضرت قتادۃ سے ایک عجیب اثر وارد ہے کہ حضرت لقمان کو حکمت ونبوت کے قبول کرنے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے حکمت قبول فرمائی راتوں رات ان پُر حکمت برسادی گئی اور رگ وپے میں حکمت بھر دی گئی۔ صبح کو ان کی سب باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں۔ آپ سے سوال ہوا کہ آپ نے نبوت کے مقابلے میں حکمت کیسے اختیار کی ؟ تو جواب دیا کہ اگر اللہ مجھے نبی بنا دیتا تو اور بات تھی ممکن تھا کہ منصب نبوت کو میں نبھا جاتا۔ لیکن جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نبوت کا بوجھ نہ سہار سکوں۔ اس لئے میں نے حکمت ہی کو پسند کیا۔ اس روایت کے ایک راوی سعید بن بشیر ہیں جن میں ضعف ہے واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مراد حکمت سے اسلام کی سمجھ ہے۔ حضرت لقمان نہ نبی تھے نہ ان پر وحی آئی تھی پس سمجھ علم اور عبرت مراد ہے۔ ہم نے انہیں اپنا شکر بجالانے کا حکم فرمایا تھا کہ میں نے تجھے جو علم وعقل دی ہے اور دوسروں پر جو بزرگی عطا فرمائی ہے۔ اس پر تو میری شکر گزاری کر۔ شکر گذار کچھ مجھ پر احسان نہیں کرتا وہ اپناہی بھلا کرتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُوْنَ 44ۙ) 30۔ الروم :44) نیکی والے اپنے لئے بھی بھلا توشہ تیار کرتے ہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ کو اسکی ناشکری ضرر نہیں پہنچاسکتی وہ اپنے بندوں سے بےپرواہ ہے سب اس کے محتاج ہیں وہ سب سے بےنیاز ہے ساری زمین والے بھی اگر کافر ہوجائیں تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ سب سے غنی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔
13
View Single
وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ
And remember when Luqman said to his son, and he used to advise him, “O my son! Never ascribe anything as a partner to Allah; indeed ascribing partners to Him is a tremendous injustice.”
اور (یاد کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا: اے میرے فرزند! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شِرک بہت بڑا ظلم ہے
Tafsir Ibn Kathir
Luqman's Advice to His Son
Allah tells us how Luqman advised his son. His full name was Luqman bin `Anqa' bin Sadun, and his son's name was Tharan, according to a saying quoted by As-Suhayli. Allah describes him in the best terms, and states that he granted him wisdom. Luqman advised his son, the closest and most beloved of all people to him, who deserved to be given the best of his knowledge. So, Luqman started by advising him to worship Allah Alone, and not to associate anything with Him. Then he warned him:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) meaning, it is the greatest wrong. Al-Bukhari recorded that `Abdullah said: "When the Ayah
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm)(6:82) was revealed, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were distressed by this, and said, `Who among us does not confuse his belief with Zulm' The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ:
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ»
(That is not what it means. Have you not heard what Luqman said: (O my son! Join not in worship others with Allah. Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed))" It was recorded by Muslim. When Luqman advised his son to worship Allah Alone, he also told him to honor his parents. This is like the Ayah,
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents) (17:23). These two things are often mentioned together in the Qur'an. Allah says here:
وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلَى وَهْنٍ
(And We have enjoined on man (to be dutiful and good) to his parents. His mother bore him in weakness and hardship upon weakness and hardship,) Mujahid said: "The hardship of bearing the child." Qatadah said: "Exhaustion upon exhaustion." `Ata' Al-Khurasani said: "Weakness upon weakness."
وَفِصَالُهُ فِى عَامَيْنِ
(and his weaning is in two years) means, after he is born, he is breastfed and weaned within two years. This is like the Ayah,
وَالْوَلِدَتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَـدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ
(The mothers shall give suck to their children for two whole years, for those who desire to complete the term of suckling)(2:233). On this basis, Ibn `Abbas and other Imams understood that the shortest possible period of pregnancy was six months, because Allah says elsewhere:
وَحَمْلُهُ وَفِصَـلُهُ ثَلاَثُونَ شَهْراً
(and the bearing of him, and the weaning of him is thirty months) (46:15). Allah mentions how the mother brings the child up, and how she gets tired and suffers stress from staying up with the child night and day, to remind the son of her previous kind treatment of him. This is like the Ayah,
وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا
(and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.") (17:24). Allah says here:
أَنِ اشْكُرْ لِى وَلِوَلِدَيْكَ إِلَىَّ الْمَصِيرُ
(give thanks to Me and to your parents. Unto Me is the final destination.) means, `I will reward you most generously for that.'
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) means, if they try hard to make you follow them in their religion, then do not accept that from them, but do not let that stop you from behaving with them in the world kindly, i.e. treating them with respect.
وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ
(and follow the path of him who turns to Me in repentance and in obedience.) means, the believers.
ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Then to Me will be your return, and I shall tell you what you used to do.) At-Tabarani recorded in Al-`Ishrah that Sa`d bin Malik said, "This Ayah,
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) was revealed concerning me. I was a man who honored his mother, but when I became Muslim, she said: `O Sa`d! What is this new thing I see you doing Leave this religion of yours, or I will not eat or drink until I die, and people will say: Shame on you, for what you have done to me, and they will say that you have killed your mother.' I said, `Do not do that, O mother, for I will not give up this religion of mine for anything.' She stayed without eating for one day and one night, and she became exhausted; then she stayed for another day and night without eating, and she became utterly exhausted. When I saw that, I said: `O my mother, by Allah, even if you had one hundred souls and they were to depart one by one, I would not give up this religion of mine for anything, so if you want to, eat, and if you want to, do not eat.' So she ate."
حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت ووصیت حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا کہ انکوحکمت عنایت فرمائی گئی تھی۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بےحیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔ حضرت عبداللہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ 82) 6۔ الانعام :82) اتری تو آصحاب رسول ﷺ پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ؟ اور آیت میں ہے کہ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے۔ اس پہلی وصیت کے بعد حضرت لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی دوزخ اور تاکید کے لحاظ سے واقع ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے۔ یعنی ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا جیسے فرمان جناب باری ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) یعنی تیرا رب یہ فیصلہ فرماچکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک واحسان کرتے رہو۔ عموما قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے وھن کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ02303) 2۔ البقرة :233) یعنی جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لئے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15) 46۔ الأحقاف :15) یعنی مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لئے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کرکے شکر گذاری اطاعت اور احسان کرے جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا 24ۭ) 17۔ الإسراء :24) ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم وکرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضرت معاذ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے امیر بناکر بھیجا آپ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہوگا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہوگا نہ موت آئے گی۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں۔ گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کیساتھ سلوک واحسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ انکے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہوچکے ہیں سن لو تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے حضرت سعد بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گذار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہوجاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤنگی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کردیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوارہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا پر نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کردیا۔
14
View Single
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ وَهۡنًا عَلَىٰ وَهۡنٖ وَفِصَٰلُهُۥ فِي عَامَيۡنِ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيۡكَ إِلَيَّ ٱلۡمَصِيرُ
And We ordained upon man concerning his parents; his mother bore him enduring weakness upon weakness, and his suckling is up to two years – therefore be thankful to Me and to your parents; finally towards Me is the return.
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں (نیکی کا) تاکیدی حکم فرمایا، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف کی حالت میں (اپنے پیٹ میں) برداشت کرتی رہی اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے (اسے یہ حکم دیا) کہ تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ (تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Luqman's Advice to His Son
Allah tells us how Luqman advised his son. His full name was Luqman bin `Anqa' bin Sadun, and his son's name was Tharan, according to a saying quoted by As-Suhayli. Allah describes him in the best terms, and states that he granted him wisdom. Luqman advised his son, the closest and most beloved of all people to him, who deserved to be given the best of his knowledge. So, Luqman started by advising him to worship Allah Alone, and not to associate anything with Him. Then he warned him:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) meaning, it is the greatest wrong. Al-Bukhari recorded that `Abdullah said: "When the Ayah
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm)(6:82) was revealed, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were distressed by this, and said, `Who among us does not confuse his belief with Zulm' The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ:
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ»
(That is not what it means. Have you not heard what Luqman said: (O my son! Join not in worship others with Allah. Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed))" It was recorded by Muslim. When Luqman advised his son to worship Allah Alone, he also told him to honor his parents. This is like the Ayah,
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents) (17:23). These two things are often mentioned together in the Qur'an. Allah says here:
وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلَى وَهْنٍ
(And We have enjoined on man (to be dutiful and good) to his parents. His mother bore him in weakness and hardship upon weakness and hardship,) Mujahid said: "The hardship of bearing the child." Qatadah said: "Exhaustion upon exhaustion." `Ata' Al-Khurasani said: "Weakness upon weakness."
وَفِصَالُهُ فِى عَامَيْنِ
(and his weaning is in two years) means, after he is born, he is breastfed and weaned within two years. This is like the Ayah,
وَالْوَلِدَتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَـدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ
(The mothers shall give suck to their children for two whole years, for those who desire to complete the term of suckling)(2:233). On this basis, Ibn `Abbas and other Imams understood that the shortest possible period of pregnancy was six months, because Allah says elsewhere:
وَحَمْلُهُ وَفِصَـلُهُ ثَلاَثُونَ شَهْراً
(and the bearing of him, and the weaning of him is thirty months) (46:15). Allah mentions how the mother brings the child up, and how she gets tired and suffers stress from staying up with the child night and day, to remind the son of her previous kind treatment of him. This is like the Ayah,
وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا
(and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.") (17:24). Allah says here:
أَنِ اشْكُرْ لِى وَلِوَلِدَيْكَ إِلَىَّ الْمَصِيرُ
(give thanks to Me and to your parents. Unto Me is the final destination.) means, `I will reward you most generously for that.'
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) means, if they try hard to make you follow them in their religion, then do not accept that from them, but do not let that stop you from behaving with them in the world kindly, i.e. treating them with respect.
وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ
(and follow the path of him who turns to Me in repentance and in obedience.) means, the believers.
ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Then to Me will be your return, and I shall tell you what you used to do.) At-Tabarani recorded in Al-`Ishrah that Sa`d bin Malik said, "This Ayah,
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) was revealed concerning me. I was a man who honored his mother, but when I became Muslim, she said: `O Sa`d! What is this new thing I see you doing Leave this religion of yours, or I will not eat or drink until I die, and people will say: Shame on you, for what you have done to me, and they will say that you have killed your mother.' I said, `Do not do that, O mother, for I will not give up this religion of mine for anything.' She stayed without eating for one day and one night, and she became exhausted; then she stayed for another day and night without eating, and she became utterly exhausted. When I saw that, I said: `O my mother, by Allah, even if you had one hundred souls and they were to depart one by one, I would not give up this religion of mine for anything, so if you want to, eat, and if you want to, do not eat.' So she ate."
حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت ووصیت حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا کہ انکوحکمت عنایت فرمائی گئی تھی۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بےحیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔ حضرت عبداللہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ 82) 6۔ الانعام :82) اتری تو آصحاب رسول ﷺ پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ؟ اور آیت میں ہے کہ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے۔ اس پہلی وصیت کے بعد حضرت لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی دوزخ اور تاکید کے لحاظ سے واقع ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے۔ یعنی ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا جیسے فرمان جناب باری ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) یعنی تیرا رب یہ فیصلہ فرماچکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک واحسان کرتے رہو۔ عموما قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے وھن کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ02303) 2۔ البقرة :233) یعنی جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لئے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15) 46۔ الأحقاف :15) یعنی مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لئے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کرکے شکر گذاری اطاعت اور احسان کرے جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا 24ۭ) 17۔ الإسراء :24) ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم وکرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضرت معاذ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے امیر بناکر بھیجا آپ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہوگا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہوگا نہ موت آئے گی۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں۔ گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کیساتھ سلوک واحسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ انکے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہوچکے ہیں سن لو تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے حضرت سعد بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گذار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہوجاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤنگی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کردیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوارہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا پر نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کردیا۔
15
View Single
وَإِن جَٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَاۖ وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ وَٱتَّبِعۡ سَبِيلَ مَنۡ أَنَابَ إِلَيَّۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
And if they force you, that you ascribe a partner to Me a thing concerning which you do not have knowledge – so do not obey them and support them well in the world; and follow the path of one who has inclined towards Me; then towards Me only is your return, and I shall tell you what you used to do.
اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کی کوشش کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے کچھ علم نہیں ہے تو ان کی اطاعت نہ کرنا، اور دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھے طریقے سے ساتھ دینا، اور (عقیدہ و امورِ آخرت میں) اس شخص کی پیروی کرنا جس نے میری طرف توبہ و طاعت کا سلوک اختیار کیا۔ پھر میری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے تو میں تمہیں ان کاموں سے باخبر کر دوں گا جو تم کرتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Luqman's Advice to His Son
Allah tells us how Luqman advised his son. His full name was Luqman bin `Anqa' bin Sadun, and his son's name was Tharan, according to a saying quoted by As-Suhayli. Allah describes him in the best terms, and states that he granted him wisdom. Luqman advised his son, the closest and most beloved of all people to him, who deserved to be given the best of his knowledge. So, Luqman started by advising him to worship Allah Alone, and not to associate anything with Him. Then he warned him:
إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) meaning, it is the greatest wrong. Al-Bukhari recorded that `Abdullah said: "When the Ayah
الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ
(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm)(6:82) was revealed, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were distressed by this, and said, `Who among us does not confuse his belief with Zulm' The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ:
يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ»
(That is not what it means. Have you not heard what Luqman said: (O my son! Join not in worship others with Allah. Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed))" It was recorded by Muslim. When Luqman advised his son to worship Allah Alone, he also told him to honor his parents. This is like the Ayah,
وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً
(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents) (17:23). These two things are often mentioned together in the Qur'an. Allah says here:
وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلَى وَهْنٍ
(And We have enjoined on man (to be dutiful and good) to his parents. His mother bore him in weakness and hardship upon weakness and hardship,) Mujahid said: "The hardship of bearing the child." Qatadah said: "Exhaustion upon exhaustion." `Ata' Al-Khurasani said: "Weakness upon weakness."
وَفِصَالُهُ فِى عَامَيْنِ
(and his weaning is in two years) means, after he is born, he is breastfed and weaned within two years. This is like the Ayah,
وَالْوَلِدَتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَـدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ
(The mothers shall give suck to their children for two whole years, for those who desire to complete the term of suckling)(2:233). On this basis, Ibn `Abbas and other Imams understood that the shortest possible period of pregnancy was six months, because Allah says elsewhere:
وَحَمْلُهُ وَفِصَـلُهُ ثَلاَثُونَ شَهْراً
(and the bearing of him, and the weaning of him is thirty months) (46:15). Allah mentions how the mother brings the child up, and how she gets tired and suffers stress from staying up with the child night and day, to remind the son of her previous kind treatment of him. This is like the Ayah,
وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا
(and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.") (17:24). Allah says here:
أَنِ اشْكُرْ لِى وَلِوَلِدَيْكَ إِلَىَّ الْمَصِيرُ
(give thanks to Me and to your parents. Unto Me is the final destination.) means, `I will reward you most generously for that.'
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) means, if they try hard to make you follow them in their religion, then do not accept that from them, but do not let that stop you from behaving with them in the world kindly, i.e. treating them with respect.
وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ
(and follow the path of him who turns to Me in repentance and in obedience.) means, the believers.
ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(Then to Me will be your return, and I shall tell you what you used to do.) At-Tabarani recorded in Al-`Ishrah that Sa`d bin Malik said, "This Ayah,
وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا
(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) was revealed concerning me. I was a man who honored his mother, but when I became Muslim, she said: `O Sa`d! What is this new thing I see you doing Leave this religion of yours, or I will not eat or drink until I die, and people will say: Shame on you, for what you have done to me, and they will say that you have killed your mother.' I said, `Do not do that, O mother, for I will not give up this religion of mine for anything.' She stayed without eating for one day and one night, and she became exhausted; then she stayed for another day and night without eating, and she became utterly exhausted. When I saw that, I said: `O my mother, by Allah, even if you had one hundred souls and they were to depart one by one, I would not give up this religion of mine for anything, so if you want to, eat, and if you want to, do not eat.' So she ate."
حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت ووصیت حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا کہ انکوحکمت عنایت فرمائی گئی تھی۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بےحیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔ حضرت عبداللہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ 82) 6۔ الانعام :82) اتری تو آصحاب رسول ﷺ پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ؟ اور آیت میں ہے کہ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے۔ اس پہلی وصیت کے بعد حضرت لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی دوزخ اور تاکید کے لحاظ سے واقع ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے۔ یعنی ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا جیسے فرمان جناب باری ہے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) یعنی تیرا رب یہ فیصلہ فرماچکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک واحسان کرتے رہو۔ عموما قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے وھن کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ02303) 2۔ البقرة :233) یعنی جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لئے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا 15) 46۔ الأحقاف :15) یعنی مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے۔ اس لئے حضرت ابن عباس اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لئے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کرکے شکر گذاری اطاعت اور احسان کرے جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا 24ۭ) 17۔ الإسراء :24) ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم وکرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضرت معاذ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے امیر بناکر بھیجا آپ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہوگا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہوگا نہ موت آئے گی۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں۔ گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کیساتھ سلوک واحسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ انکے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہوچکے ہیں سن لو تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے حضرت سعد بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گذار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہوجاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤنگی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کردیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوارہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا پر نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کردیا۔
16
View Single
يَٰبُنَيَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٖ مِّنۡ خَرۡدَلٖ فَتَكُن فِي صَخۡرَةٍ أَوۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَوۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَأۡتِ بِهَا ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٞ
“O my son! If the evil deed is equal to the weight of a mustard-seed, and even if it is in a rock, or in the heavens, or wherever in the earth, Allah will bring it forth; indeed Allah knows all the minutest things, the All Aware.”
(لقمان نے کہا:) اے میرے فرزند! اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو، پھر خواہ وہ کسی چٹان میں (چھُپی) ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں (تب بھی) اللہ اسے (روزِ قیامت حساب کے لئے) موجود کر دے گا۔ بیشک اللہ باریک بین (بھی) ہے آگاہ و خبردار (بھی) ہے
Tafsir Ibn Kathir
This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so that people may follow it and take it as"See the full heading "This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so thatpeople may follow it and take it as a good example
He said:
يبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ
(O my son! If it be (anything) equal to the weight of a grain of mustard seed, ) means, if a wrong action or a sin be equal to the size of a grain of mustard seed.
يَأْتِ بِهَا اللَّهُ
(Allah will bring it forth.) means, He will bring it forth on the Day of Resurrection, when it is placed in the Scales of justice and everyone is rewarded or punished for his actions -- if they are good, he will be rewarded and if they are bad he will be punished. This is like the Ayat:
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything) (21:47).
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ - وَمَن يَعْـمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ
(So, whosoever does good equal to the weight of a speck of dust shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of a speck of dust shall see it.) (99:7-8) Even if this tiny thing were to be hidden inside a solid rock or anywhere in the heavens and the earth, Allah will bring it forth, because nothing is hidden from Him, not even the weight of a speck of dust in the heavens or on the earth. Allah says:
إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.) meaning, His knowledge is subtle, for nothing is hidden from Him, no matter how small, subtle and minute.
خَبِيرٌ
(Well-Aware.) even of the footsteps of an ant in the darkest night. Then he (Luqman) said:
يبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلَوةَ
(O my son! Perform the Salah,) meaning, offer the prayer properly at the appointed times.
وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(enjoin the good, and forbid the evil,) meaning, to the best of your ability and strength.
وَاصْبِرْ عَلَى مَآ أَصَابَكَ
(and bear with patience whatever befalls you.) Luqman knew that whoever enjoins what is good and forbids what is evil, will inevitably encounter harm and annoyance from people, so he told him to be patient.
إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الاٍّمُورِ
(Verily, these are some of the important commandments.) means, being patient when people cause harm or annoyance is one of the most important commandments.
وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
(And turn not your face away from men with pride) means, `do not turn your face away from people when you speak to them or they speak to you, looking down on them in an arrogant fashion. Rather be gentle towards them and greet them with a cheerful face,' as it says in the Hadith:
«وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَالْمَخِيلَةُ لَا يُحِبُّهَا الله»
(... even if it is only by greeting your brother with a cheerful countenance. And beware of letting your lower garment trail below your ankles, for this is a kind of boasting, and Allah does not like boasting.)
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا
(nor walk in insolence through the earth.) means, `do not be boastful, arrogant, proud and stubborn. Do not do that, for Allah will hate you.' So he said:
إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(Verily, Allah likes not any arrogant boaster.) meaning, one who shows off and admires himself, feeling that he is better than others. And Allah says:
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الاٌّرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً
(And walk not on the earth with conceit and arrogance. Verily, you can neither rend nor penetrate the earth nor can you attain a stature like the mountains in height.) (17:37). We have already discussed this is detail in the appropriate place.
The Command to be Moderate in Walking
وَاقْصِدْ فِى مَشْيِكَ
(And be moderate in your walking,) means, walk in a moderate manner, neither slow and lazy nor excessively fast, but be moderate, somewhere in between these two extremes.
وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ
(and lower your voice.) means, do not exaggerate in your speaking and do not raise your voice unnecessarily. Allah says:
إِنَّ أَنكَرَ الاٌّصْوَتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
(Verily, the harshest of all voices is the braying of the asses.) Mujahid and others said, "The most ugly of voices is the voice of the donkey, i.e., when a person raises his voice, the resulting noise is like the voice of a donkey in its loudness. Moreover this is hateful to Allah. Likening a loud voice to that of a donkey implies that it is forbidden and extremely blameworthy, because the Messenger of Allah ﷺ said:
«لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِه»
(It is not befitting us to be an evil parable. The person who takes back his gift, he is like a dog that vomits and then goes back to his vomit.)
The Advice of Luqman
This is very useful advice, which the Qur'an tells us about Luqman. Many other proverbs and words of advice were also narrated from him, some examples of which we will quote below, as basic principles: Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ إِذَا اسْتَوْدَعَ شَيْئًا حَفِظَه»
(Luqman the Wise used to say: when something is entrusted to the care of Allah, He protects it.) It was narrated that As-Sari bin Yahya said: "Luqman said to his son: `Wisdom puts the poor in the company of kings."' It was also narrated that `Awn bin `Abdullah said: "Luqman said to his son: `O my son! When you come to a gathering of people, greet them with Salam, then sit at the edge of the group, and do not speak until you see that they have finished speaking. Then if they remember Allah, join them, but if they speak of anything else, then leave them and go to another group'."
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔ اور آیت میں ہے ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں محل میں قلعہ میں پتھر کے سوراخ میں آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لاکر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ انھا میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بنا پر انہوں نے مثقال کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی بنی اسرائیل سے ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ سے مروی تو ہے واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہو لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسو اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم کرے کسی بےسوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کردے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد۔ پھر فرماتے ہیں بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض اسکے واجبات ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کرنا ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں پرایوں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لئے ہر ایک سے کہنا اور چونکہ۔ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموما لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لئے ساتھ ہی فرمایا کہ لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔ پھر فرماتے ہیں اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کر یا اپنے تئیں بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ کبر غرور ہے اور اللہ کو ناپسند ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے شرمائے۔ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردہ میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑی ہوجاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملادیا گیا۔ عرب عموما تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر اکڑ کر اترا کر غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے (وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا 37) 17۔ الإسراء :37) ، یعنی اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گذر چکی ہے۔ حضور کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے اس پر ایک صحابی نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہوجاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے آپ نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں حضرت ثابت کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔ اور میانہ روی کی چال چلاکر نہ بہت آہستہ خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈک بھر بھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بےفائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔ پس یہ بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔ نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رات کو۔ واللہ اعلم۔ یہ وصیتیں حضرت لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ و نصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ ﷺ حضرت لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت و برائی والی چیز ہے آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔ آپ کا فرمان ہے کہ جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لئے جب بیٹھتے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہوگئی تو آپ نے فرمایا بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا چناچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حبشیوں کو رکھاکر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم نجاشی اور بلال موذن۔ تواضع اور فروتنی کا بیان حضرت لقمان نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کردیتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرمادے۔ اور حدیث میں ہے براء بن مالک ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ؓ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت معاذ ؓ کو قبر رسول کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ صاحب قبر ﷺ سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کرکے رورہا ہوں۔ میں نے آپ سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آجائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کر نور حاصل کرلیتے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جو ذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کردے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کرلیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آکر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دے دے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لئے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہوجاتی ہے اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لئے کافی ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت و تاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں نہروں میں نعمتوں میں راحتوں میں مشغول ہونگے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو کم مال والا کم عیال والا غازی عبادت واطاعت گذار پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو اس کی جانب انگلیاں اٹھتی ہوں اور وہ اس پر صابر ہو پھر حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آجاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں۔ فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء جو اپنے دین کو لئے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ؑ کیساتھ جمع ہونگے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا قول ہے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ پر انعام و اکرام نہیں فرمایا ؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں ؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا ؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا ؟ کیا وہ نہیں دیا ؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ وغیرہ تو جہاں تک ہوسکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہوگا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔ ابن محیریز تو دعا کرتے تھے کہ اللہ میری شہرت نہ ہو۔ خلیل بن احمد اپنی دعا میں کہتے تھے اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کردے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یا دنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آکر بہت سے لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے۔ حضرت حسن سے بھی یہی روایت مرسلا مروی ہے جب آپ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ نے فرمایا سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے تئیں اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔ حضرت ابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں کہ شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔ حضرت ایوب کا فرمان ہے جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا ہے۔ محمد بن علا فرماتے ہیں اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔ سماک بن سلمہ کا قول ہے عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔ حضرت ابان بن عثمان فرماتے ہیں اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔ حضرت ابو العالیہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ انکی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ حضرت طلحہ ؓ کھڑے تھے حضرت عمر ؓ نے کوڑا تانا اور فرمایا اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لئے فتنہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہوجائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔ حماد بن زید کہتے ہیں جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گذرتے اور ہمارے ساتھ ایوب ہوتے تو سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائی اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا میں نے دیکھا کہ لوگ انہیں نہیں پہنتے۔ حضرت ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔ ثوری فرماتے ہیں عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔ ابو قلابہ کے پاس ایک شخص بہت سی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مقولہ ہے کہ آپ نے بنی اسرائیل سے فرمایا میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنولباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔ اچھے اخلاق کا بیان حضور ﷺ سب سے بہتر اخلاق والے تھے۔ آپ سے سوال ہوا کہ کونسا مومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا۔ آپ کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کیوجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کے اعلی منازل حاصل کرلیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ہے۔ حضور سے سوال ہو کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کونسی چیز لے جاتی ہے ؟ فرمایا دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ۔ ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے ؟ فرمایا کہ حسن اخلاق۔ فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں۔ فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے۔ ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہوگا جو بد خلق بدگو بدکلام بدزبان ہوگا۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک و محبت سے ملیں جلیں۔ ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا۔ ارشاد ہے کہ دو خصلتیں مومن میں جمع نہیں ہوسکتی بخل اور بداخلاقی۔ فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اس لئے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حضور کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کردیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کردیتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ غلام خرید نے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ امام محمد بن سیریں کا قول ہے کہ اچھا خلق دین کی مدد ہے۔ تکبر کی مذمت کا بیان۔حضور ﷺ فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو۔ اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو۔ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائیں گے۔ ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے۔ امام مالک بن دینار رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک دن حضرت سلیمان بن داؤد ؑ اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے آپ کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعبی کا قول ہے جس نے دو شخصوں کو قتل کردیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (اَتُرِيْدُ اَنْ تَــقْتُلَنِيْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بالْاَمْسِ 19) 28۔ القصص :19) کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے ؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے۔ حضرت حسن کا مقولہ ہے وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ضحاک بن سفیان سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی فرماتے ہیں جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اسکی کم ہوجاتی ہے۔ یونس بن عبید فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کیساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر حضرت طاؤس نے انکے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے ؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔ فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص فخروغرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا۔ فرماتے ہیں اسکی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لئے اکڑتا ہوا جارہار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا۔
17
View Single
يَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
“O my son! Keep the prayer established, and enjoin goodness and forbid from evil, and be patient upon the calamity that befalls you; indeed these are acts of great courage.”
اے میرے فرزند! تو نماز قائم رکھ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں
Tafsir Ibn Kathir
This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so that people may follow it and take it as"See the full heading "This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so thatpeople may follow it and take it as a good example
He said:
يبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ
(O my son! If it be (anything) equal to the weight of a grain of mustard seed, ) means, if a wrong action or a sin be equal to the size of a grain of mustard seed.
يَأْتِ بِهَا اللَّهُ
(Allah will bring it forth.) means, He will bring it forth on the Day of Resurrection, when it is placed in the Scales of justice and everyone is rewarded or punished for his actions -- if they are good, he will be rewarded and if they are bad he will be punished. This is like the Ayat:
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything) (21:47).
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ - وَمَن يَعْـمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ
(So, whosoever does good equal to the weight of a speck of dust shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of a speck of dust shall see it.) (99:7-8) Even if this tiny thing were to be hidden inside a solid rock or anywhere in the heavens and the earth, Allah will bring it forth, because nothing is hidden from Him, not even the weight of a speck of dust in the heavens or on the earth. Allah says:
إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.) meaning, His knowledge is subtle, for nothing is hidden from Him, no matter how small, subtle and minute.
خَبِيرٌ
(Well-Aware.) even of the footsteps of an ant in the darkest night. Then he (Luqman) said:
يبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلَوةَ
(O my son! Perform the Salah,) meaning, offer the prayer properly at the appointed times.
وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(enjoin the good, and forbid the evil,) meaning, to the best of your ability and strength.
وَاصْبِرْ عَلَى مَآ أَصَابَكَ
(and bear with patience whatever befalls you.) Luqman knew that whoever enjoins what is good and forbids what is evil, will inevitably encounter harm and annoyance from people, so he told him to be patient.
إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الاٍّمُورِ
(Verily, these are some of the important commandments.) means, being patient when people cause harm or annoyance is one of the most important commandments.
وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
(And turn not your face away from men with pride) means, `do not turn your face away from people when you speak to them or they speak to you, looking down on them in an arrogant fashion. Rather be gentle towards them and greet them with a cheerful face,' as it says in the Hadith:
«وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَالْمَخِيلَةُ لَا يُحِبُّهَا الله»
(... even if it is only by greeting your brother with a cheerful countenance. And beware of letting your lower garment trail below your ankles, for this is a kind of boasting, and Allah does not like boasting.)
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا
(nor walk in insolence through the earth.) means, `do not be boastful, arrogant, proud and stubborn. Do not do that, for Allah will hate you.' So he said:
إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(Verily, Allah likes not any arrogant boaster.) meaning, one who shows off and admires himself, feeling that he is better than others. And Allah says:
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الاٌّرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً
(And walk not on the earth with conceit and arrogance. Verily, you can neither rend nor penetrate the earth nor can you attain a stature like the mountains in height.) (17:37). We have already discussed this is detail in the appropriate place.
The Command to be Moderate in Walking
وَاقْصِدْ فِى مَشْيِكَ
(And be moderate in your walking,) means, walk in a moderate manner, neither slow and lazy nor excessively fast, but be moderate, somewhere in between these two extremes.
وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ
(and lower your voice.) means, do not exaggerate in your speaking and do not raise your voice unnecessarily. Allah says:
إِنَّ أَنكَرَ الاٌّصْوَتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
(Verily, the harshest of all voices is the braying of the asses.) Mujahid and others said, "The most ugly of voices is the voice of the donkey, i.e., when a person raises his voice, the resulting noise is like the voice of a donkey in its loudness. Moreover this is hateful to Allah. Likening a loud voice to that of a donkey implies that it is forbidden and extremely blameworthy, because the Messenger of Allah ﷺ said:
«لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِه»
(It is not befitting us to be an evil parable. The person who takes back his gift, he is like a dog that vomits and then goes back to his vomit.)
The Advice of Luqman
This is very useful advice, which the Qur'an tells us about Luqman. Many other proverbs and words of advice were also narrated from him, some examples of which we will quote below, as basic principles: Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ إِذَا اسْتَوْدَعَ شَيْئًا حَفِظَه»
(Luqman the Wise used to say: when something is entrusted to the care of Allah, He protects it.) It was narrated that As-Sari bin Yahya said: "Luqman said to his son: `Wisdom puts the poor in the company of kings."' It was also narrated that `Awn bin `Abdullah said: "Luqman said to his son: `O my son! When you come to a gathering of people, greet them with Salam, then sit at the edge of the group, and do not speak until you see that they have finished speaking. Then if they remember Allah, join them, but if they speak of anything else, then leave them and go to another group'."
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔ اور آیت میں ہے ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں محل میں قلعہ میں پتھر کے سوراخ میں آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لاکر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ انھا میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بنا پر انہوں نے مثقال کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی بنی اسرائیل سے ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ سے مروی تو ہے واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہو لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسو اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم کرے کسی بےسوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کردے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد۔ پھر فرماتے ہیں بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض اسکے واجبات ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کرنا ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں پرایوں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لئے ہر ایک سے کہنا اور چونکہ۔ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموما لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لئے ساتھ ہی فرمایا کہ لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔ پھر فرماتے ہیں اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کر یا اپنے تئیں بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ کبر غرور ہے اور اللہ کو ناپسند ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے شرمائے۔ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردہ میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑی ہوجاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملادیا گیا۔ عرب عموما تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر اکڑ کر اترا کر غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے (وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا 37) 17۔ الإسراء :37) ، یعنی اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گذر چکی ہے۔ حضور کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے اس پر ایک صحابی نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہوجاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے آپ نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں حضرت ثابت کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔ اور میانہ روی کی چال چلاکر نہ بہت آہستہ خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈک بھر بھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بےفائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔ پس یہ بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔ نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رات کو۔ واللہ اعلم۔ یہ وصیتیں حضرت لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ و نصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ ﷺ حضرت لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت و برائی والی چیز ہے آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔ آپ کا فرمان ہے کہ جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لئے جب بیٹھتے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہوگئی تو آپ نے فرمایا بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا چناچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حبشیوں کو رکھاکر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم نجاشی اور بلال موذن۔ تواضع اور فروتنی کا بیان حضرت لقمان نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کردیتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرمادے۔ اور حدیث میں ہے براء بن مالک ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ؓ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت معاذ ؓ کو قبر رسول کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ صاحب قبر ﷺ سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کرکے رورہا ہوں۔ میں نے آپ سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آجائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کر نور حاصل کرلیتے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جو ذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کردے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کرلیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آکر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دے دے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لئے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہوجاتی ہے اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لئے کافی ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت و تاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں نہروں میں نعمتوں میں راحتوں میں مشغول ہونگے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو کم مال والا کم عیال والا غازی عبادت واطاعت گذار پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو اس کی جانب انگلیاں اٹھتی ہوں اور وہ اس پر صابر ہو پھر حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آجاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں۔ فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء جو اپنے دین کو لئے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ؑ کیساتھ جمع ہونگے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا قول ہے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ پر انعام و اکرام نہیں فرمایا ؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں ؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا ؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا ؟ کیا وہ نہیں دیا ؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ وغیرہ تو جہاں تک ہوسکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہوگا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔ ابن محیریز تو دعا کرتے تھے کہ اللہ میری شہرت نہ ہو۔ خلیل بن احمد اپنی دعا میں کہتے تھے اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کردے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یا دنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آکر بہت سے لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے۔ حضرت حسن سے بھی یہی روایت مرسلا مروی ہے جب آپ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ نے فرمایا سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے تئیں اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔ حضرت ابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں کہ شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔ حضرت ایوب کا فرمان ہے جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا ہے۔ محمد بن علا فرماتے ہیں اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔ سماک بن سلمہ کا قول ہے عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔ حضرت ابان بن عثمان فرماتے ہیں اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔ حضرت ابو العالیہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ انکی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ حضرت طلحہ ؓ کھڑے تھے حضرت عمر ؓ نے کوڑا تانا اور فرمایا اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لئے فتنہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہوجائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔ حماد بن زید کہتے ہیں جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گذرتے اور ہمارے ساتھ ایوب ہوتے تو سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائی اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا میں نے دیکھا کہ لوگ انہیں نہیں پہنتے۔ حضرت ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔ ثوری فرماتے ہیں عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔ ابو قلابہ کے پاس ایک شخص بہت سی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مقولہ ہے کہ آپ نے بنی اسرائیل سے فرمایا میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنولباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔ اچھے اخلاق کا بیان حضور ﷺ سب سے بہتر اخلاق والے تھے۔ آپ سے سوال ہوا کہ کونسا مومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا۔ آپ کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کیوجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کے اعلی منازل حاصل کرلیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ہے۔ حضور سے سوال ہو کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کونسی چیز لے جاتی ہے ؟ فرمایا دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ۔ ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے ؟ فرمایا کہ حسن اخلاق۔ فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں۔ فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے۔ ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہوگا جو بد خلق بدگو بدکلام بدزبان ہوگا۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک و محبت سے ملیں جلیں۔ ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا۔ ارشاد ہے کہ دو خصلتیں مومن میں جمع نہیں ہوسکتی بخل اور بداخلاقی۔ فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اس لئے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حضور کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کردیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کردیتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ غلام خرید نے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ امام محمد بن سیریں کا قول ہے کہ اچھا خلق دین کی مدد ہے۔ تکبر کی مذمت کا بیان۔حضور ﷺ فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو۔ اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو۔ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائیں گے۔ ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے۔ امام مالک بن دینار رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک دن حضرت سلیمان بن داؤد ؑ اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے آپ کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعبی کا قول ہے جس نے دو شخصوں کو قتل کردیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (اَتُرِيْدُ اَنْ تَــقْتُلَنِيْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بالْاَمْسِ 19) 28۔ القصص :19) کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے ؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے۔ حضرت حسن کا مقولہ ہے وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ضحاک بن سفیان سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی فرماتے ہیں جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اسکی کم ہوجاتی ہے۔ یونس بن عبید فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کیساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر حضرت طاؤس نے انکے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے ؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔ فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص فخروغرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا۔ فرماتے ہیں اسکی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لئے اکڑتا ہوا جارہار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا۔
18
View Single
وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًاۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٖ
“And do not contort your cheek while talking to anyone, nor boastfully walk upon the earth; indeed Allah does not like any boastful, haughty person.”
اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اللہ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so that people may follow it and take it as"See the full heading "This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so thatpeople may follow it and take it as a good example
He said:
يبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ
(O my son! If it be (anything) equal to the weight of a grain of mustard seed, ) means, if a wrong action or a sin be equal to the size of a grain of mustard seed.
يَأْتِ بِهَا اللَّهُ
(Allah will bring it forth.) means, He will bring it forth on the Day of Resurrection, when it is placed in the Scales of justice and everyone is rewarded or punished for his actions -- if they are good, he will be rewarded and if they are bad he will be punished. This is like the Ayat:
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything) (21:47).
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ - وَمَن يَعْـمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ
(So, whosoever does good equal to the weight of a speck of dust shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of a speck of dust shall see it.) (99:7-8) Even if this tiny thing were to be hidden inside a solid rock or anywhere in the heavens and the earth, Allah will bring it forth, because nothing is hidden from Him, not even the weight of a speck of dust in the heavens or on the earth. Allah says:
إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.) meaning, His knowledge is subtle, for nothing is hidden from Him, no matter how small, subtle and minute.
خَبِيرٌ
(Well-Aware.) even of the footsteps of an ant in the darkest night. Then he (Luqman) said:
يبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلَوةَ
(O my son! Perform the Salah,) meaning, offer the prayer properly at the appointed times.
وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(enjoin the good, and forbid the evil,) meaning, to the best of your ability and strength.
وَاصْبِرْ عَلَى مَآ أَصَابَكَ
(and bear with patience whatever befalls you.) Luqman knew that whoever enjoins what is good and forbids what is evil, will inevitably encounter harm and annoyance from people, so he told him to be patient.
إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الاٍّمُورِ
(Verily, these are some of the important commandments.) means, being patient when people cause harm or annoyance is one of the most important commandments.
وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
(And turn not your face away from men with pride) means, `do not turn your face away from people when you speak to them or they speak to you, looking down on them in an arrogant fashion. Rather be gentle towards them and greet them with a cheerful face,' as it says in the Hadith:
«وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَالْمَخِيلَةُ لَا يُحِبُّهَا الله»
(... even if it is only by greeting your brother with a cheerful countenance. And beware of letting your lower garment trail below your ankles, for this is a kind of boasting, and Allah does not like boasting.)
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا
(nor walk in insolence through the earth.) means, `do not be boastful, arrogant, proud and stubborn. Do not do that, for Allah will hate you.' So he said:
إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(Verily, Allah likes not any arrogant boaster.) meaning, one who shows off and admires himself, feeling that he is better than others. And Allah says:
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الاٌّرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً
(And walk not on the earth with conceit and arrogance. Verily, you can neither rend nor penetrate the earth nor can you attain a stature like the mountains in height.) (17:37). We have already discussed this is detail in the appropriate place.
The Command to be Moderate in Walking
وَاقْصِدْ فِى مَشْيِكَ
(And be moderate in your walking,) means, walk in a moderate manner, neither slow and lazy nor excessively fast, but be moderate, somewhere in between these two extremes.
وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ
(and lower your voice.) means, do not exaggerate in your speaking and do not raise your voice unnecessarily. Allah says:
إِنَّ أَنكَرَ الاٌّصْوَتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
(Verily, the harshest of all voices is the braying of the asses.) Mujahid and others said, "The most ugly of voices is the voice of the donkey, i.e., when a person raises his voice, the resulting noise is like the voice of a donkey in its loudness. Moreover this is hateful to Allah. Likening a loud voice to that of a donkey implies that it is forbidden and extremely blameworthy, because the Messenger of Allah ﷺ said:
«لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِه»
(It is not befitting us to be an evil parable. The person who takes back his gift, he is like a dog that vomits and then goes back to his vomit.)
The Advice of Luqman
This is very useful advice, which the Qur'an tells us about Luqman. Many other proverbs and words of advice were also narrated from him, some examples of which we will quote below, as basic principles: Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ إِذَا اسْتَوْدَعَ شَيْئًا حَفِظَه»
(Luqman the Wise used to say: when something is entrusted to the care of Allah, He protects it.) It was narrated that As-Sari bin Yahya said: "Luqman said to his son: `Wisdom puts the poor in the company of kings."' It was also narrated that `Awn bin `Abdullah said: "Luqman said to his son: `O my son! When you come to a gathering of people, greet them with Salam, then sit at the edge of the group, and do not speak until you see that they have finished speaking. Then if they remember Allah, join them, but if they speak of anything else, then leave them and go to another group'."
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔ اور آیت میں ہے ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں محل میں قلعہ میں پتھر کے سوراخ میں آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لاکر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ انھا میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بنا پر انہوں نے مثقال کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی بنی اسرائیل سے ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ سے مروی تو ہے واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہو لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسو اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم کرے کسی بےسوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کردے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد۔ پھر فرماتے ہیں بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض اسکے واجبات ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کرنا ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں پرایوں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لئے ہر ایک سے کہنا اور چونکہ۔ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموما لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لئے ساتھ ہی فرمایا کہ لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔ پھر فرماتے ہیں اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کر یا اپنے تئیں بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ کبر غرور ہے اور اللہ کو ناپسند ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے شرمائے۔ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردہ میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑی ہوجاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملادیا گیا۔ عرب عموما تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر اکڑ کر اترا کر غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے (وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا 37) 17۔ الإسراء :37) ، یعنی اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گذر چکی ہے۔ حضور کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے اس پر ایک صحابی نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہوجاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے آپ نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں حضرت ثابت کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔ اور میانہ روی کی چال چلاکر نہ بہت آہستہ خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈک بھر بھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بےفائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔ پس یہ بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔ نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رات کو۔ واللہ اعلم۔ یہ وصیتیں حضرت لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ و نصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ ﷺ حضرت لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت و برائی والی چیز ہے آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔ آپ کا فرمان ہے کہ جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لئے جب بیٹھتے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہوگئی تو آپ نے فرمایا بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا چناچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حبشیوں کو رکھاکر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم نجاشی اور بلال موذن۔ تواضع اور فروتنی کا بیان حضرت لقمان نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کردیتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرمادے۔ اور حدیث میں ہے براء بن مالک ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ؓ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت معاذ ؓ کو قبر رسول کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ صاحب قبر ﷺ سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کرکے رورہا ہوں۔ میں نے آپ سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آجائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کر نور حاصل کرلیتے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جو ذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کردے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کرلیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آکر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دے دے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لئے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہوجاتی ہے اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لئے کافی ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت و تاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں نہروں میں نعمتوں میں راحتوں میں مشغول ہونگے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو کم مال والا کم عیال والا غازی عبادت واطاعت گذار پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو اس کی جانب انگلیاں اٹھتی ہوں اور وہ اس پر صابر ہو پھر حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آجاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں۔ فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء جو اپنے دین کو لئے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ؑ کیساتھ جمع ہونگے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا قول ہے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ پر انعام و اکرام نہیں فرمایا ؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں ؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا ؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا ؟ کیا وہ نہیں دیا ؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ وغیرہ تو جہاں تک ہوسکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہوگا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔ ابن محیریز تو دعا کرتے تھے کہ اللہ میری شہرت نہ ہو۔ خلیل بن احمد اپنی دعا میں کہتے تھے اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کردے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یا دنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آکر بہت سے لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے۔ حضرت حسن سے بھی یہی روایت مرسلا مروی ہے جب آپ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ نے فرمایا سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے تئیں اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔ حضرت ابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں کہ شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔ حضرت ایوب کا فرمان ہے جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا ہے۔ محمد بن علا فرماتے ہیں اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔ سماک بن سلمہ کا قول ہے عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔ حضرت ابان بن عثمان فرماتے ہیں اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔ حضرت ابو العالیہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ انکی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ حضرت طلحہ ؓ کھڑے تھے حضرت عمر ؓ نے کوڑا تانا اور فرمایا اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لئے فتنہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہوجائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔ حماد بن زید کہتے ہیں جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گذرتے اور ہمارے ساتھ ایوب ہوتے تو سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائی اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا میں نے دیکھا کہ لوگ انہیں نہیں پہنتے۔ حضرت ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔ ثوری فرماتے ہیں عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔ ابو قلابہ کے پاس ایک شخص بہت سی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مقولہ ہے کہ آپ نے بنی اسرائیل سے فرمایا میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنولباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔ اچھے اخلاق کا بیان حضور ﷺ سب سے بہتر اخلاق والے تھے۔ آپ سے سوال ہوا کہ کونسا مومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا۔ آپ کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کیوجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کے اعلی منازل حاصل کرلیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ہے۔ حضور سے سوال ہو کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کونسی چیز لے جاتی ہے ؟ فرمایا دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ۔ ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے ؟ فرمایا کہ حسن اخلاق۔ فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں۔ فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے۔ ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہوگا جو بد خلق بدگو بدکلام بدزبان ہوگا۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک و محبت سے ملیں جلیں۔ ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا۔ ارشاد ہے کہ دو خصلتیں مومن میں جمع نہیں ہوسکتی بخل اور بداخلاقی۔ فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اس لئے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حضور کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کردیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کردیتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ غلام خرید نے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ امام محمد بن سیریں کا قول ہے کہ اچھا خلق دین کی مدد ہے۔ تکبر کی مذمت کا بیان۔حضور ﷺ فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو۔ اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو۔ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائیں گے۔ ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے۔ امام مالک بن دینار رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک دن حضرت سلیمان بن داؤد ؑ اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے آپ کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعبی کا قول ہے جس نے دو شخصوں کو قتل کردیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (اَتُرِيْدُ اَنْ تَــقْتُلَنِيْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بالْاَمْسِ 19) 28۔ القصص :19) کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے ؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے۔ حضرت حسن کا مقولہ ہے وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ضحاک بن سفیان سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی فرماتے ہیں جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اسکی کم ہوجاتی ہے۔ یونس بن عبید فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کیساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر حضرت طاؤس نے انکے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے ؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔ فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص فخروغرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا۔ فرماتے ہیں اسکی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لئے اکڑتا ہوا جارہار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا۔
19
View Single
وَٱقۡصِدۡ فِي مَشۡيِكَ وَٱغۡضُضۡ مِن صَوۡتِكَۚ إِنَّ أَنكَرَ ٱلۡأَصۡوَٰتِ لَصَوۡتُ ٱلۡحَمِيرِ
“And walk moderately and soften your voice; indeed the worst voice is the voice of the donkey.”
اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز کو کچھ پست رکھا کر، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے
Tafsir Ibn Kathir
This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so that people may follow it and take it as"See the full heading "This is useful advice which Allah tells us Luqman gave, so thatpeople may follow it and take it as a good example
He said:
يبُنَىَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ
(O my son! If it be (anything) equal to the weight of a grain of mustard seed, ) means, if a wrong action or a sin be equal to the size of a grain of mustard seed.
يَأْتِ بِهَا اللَّهُ
(Allah will bring it forth.) means, He will bring it forth on the Day of Resurrection, when it is placed in the Scales of justice and everyone is rewarded or punished for his actions -- if they are good, he will be rewarded and if they are bad he will be punished. This is like the Ayat:
وَنَضَعُ الْمَوَزِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَـمَةِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئاً
(And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection, then none will be dealt with unjustly in anything) (21:47).
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ - وَمَن يَعْـمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ
(So, whosoever does good equal to the weight of a speck of dust shall see it. And whosoever does evil equal to the weight of a speck of dust shall see it.) (99:7-8) Even if this tiny thing were to be hidden inside a solid rock or anywhere in the heavens and the earth, Allah will bring it forth, because nothing is hidden from Him, not even the weight of a speck of dust in the heavens or on the earth. Allah says:
إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ
(Verily, Allah is Subtle, Well-Aware.) meaning, His knowledge is subtle, for nothing is hidden from Him, no matter how small, subtle and minute.
خَبِيرٌ
(Well-Aware.) even of the footsteps of an ant in the darkest night. Then he (Luqman) said:
يبُنَىَّ أَقِمِ الصَّلَوةَ
(O my son! Perform the Salah,) meaning, offer the prayer properly at the appointed times.
وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(enjoin the good, and forbid the evil,) meaning, to the best of your ability and strength.
وَاصْبِرْ عَلَى مَآ أَصَابَكَ
(and bear with patience whatever befalls you.) Luqman knew that whoever enjoins what is good and forbids what is evil, will inevitably encounter harm and annoyance from people, so he told him to be patient.
إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الاٍّمُورِ
(Verily, these are some of the important commandments.) means, being patient when people cause harm or annoyance is one of the most important commandments.
وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
(And turn not your face away from men with pride) means, `do not turn your face away from people when you speak to them or they speak to you, looking down on them in an arrogant fashion. Rather be gentle towards them and greet them with a cheerful face,' as it says in the Hadith:
«وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَالْمَخِيلَةُ لَا يُحِبُّهَا الله»
(... even if it is only by greeting your brother with a cheerful countenance. And beware of letting your lower garment trail below your ankles, for this is a kind of boasting, and Allah does not like boasting.)
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا
(nor walk in insolence through the earth.) means, `do not be boastful, arrogant, proud and stubborn. Do not do that, for Allah will hate you.' So he said:
إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
(Verily, Allah likes not any arrogant boaster.) meaning, one who shows off and admires himself, feeling that he is better than others. And Allah says:
وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الاٌّرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً
(And walk not on the earth with conceit and arrogance. Verily, you can neither rend nor penetrate the earth nor can you attain a stature like the mountains in height.) (17:37). We have already discussed this is detail in the appropriate place.
The Command to be Moderate in Walking
وَاقْصِدْ فِى مَشْيِكَ
(And be moderate in your walking,) means, walk in a moderate manner, neither slow and lazy nor excessively fast, but be moderate, somewhere in between these two extremes.
وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ
(and lower your voice.) means, do not exaggerate in your speaking and do not raise your voice unnecessarily. Allah says:
إِنَّ أَنكَرَ الاٌّصْوَتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ
(Verily, the harshest of all voices is the braying of the asses.) Mujahid and others said, "The most ugly of voices is the voice of the donkey, i.e., when a person raises his voice, the resulting noise is like the voice of a donkey in its loudness. Moreover this is hateful to Allah. Likening a loud voice to that of a donkey implies that it is forbidden and extremely blameworthy, because the Messenger of Allah ﷺ said:
«لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِه»
(It is not befitting us to be an evil parable. The person who takes back his gift, he is like a dog that vomits and then goes back to his vomit.)
The Advice of Luqman
This is very useful advice, which the Qur'an tells us about Luqman. Many other proverbs and words of advice were also narrated from him, some examples of which we will quote below, as basic principles: Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ لُقْمَانَ الْحَكِيمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ إِذَا اسْتَوْدَعَ شَيْئًا حَفِظَه»
(Luqman the Wise used to say: when something is entrusted to the care of Allah, He protects it.) It was narrated that As-Sari bin Yahya said: "Luqman said to his son: `Wisdom puts the poor in the company of kings."' It was also narrated that `Awn bin `Abdullah said: "Luqman said to his son: `O my son! When you come to a gathering of people, greet them with Salam, then sit at the edge of the group, and do not speak until you see that they have finished speaking. Then if they remember Allah, join them, but if they speak of anything else, then leave them and go to another group'."
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ برائی خطا ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا جیسے فرمان ہے آیت (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا 47) 21۔ الأنبیاء :47) ، یعنی قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا۔ اور آیت میں ہے ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں محل میں قلعہ میں پتھر کے سوراخ میں آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لاکر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ انھا میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بنا پر انہوں نے مثقال کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ صخرہ سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی بنی اسرائیل سے ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ سے مروی تو ہے واللہ اعلم۔ بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہو لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے رسو اللہ ﷺ فرماتے ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم کرے کسی بےسوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کردے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد۔ پھر فرماتے ہیں بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض اسکے واجبات ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کرنا ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں پرایوں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لئے ہر ایک سے کہنا اور چونکہ۔ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموما لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لئے ساتھ ہی فرمایا کہ لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔ پھر فرماتے ہیں اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کر یا اپنے تئیں بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ کبر غرور ہے اور اللہ کو ناپسند ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے شرمائے۔ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردہ میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑی ہوجاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملادیا گیا۔ عرب عموما تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر اکڑ کر اترا کر غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے (وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا 37) 17۔ الإسراء :37) ، یعنی اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گذر چکی ہے۔ حضور کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے اس پر ایک صحابی نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہوجاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے آپ نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں حضرت ثابت کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔ اور میانہ روی کی چال چلاکر نہ بہت آہستہ خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈک بھر بھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بےفائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔ پس یہ بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔ نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لئے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رات کو۔ واللہ اعلم۔ یہ وصیتیں حضرت لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ و نصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ ﷺ حضرت لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت و برائی والی چیز ہے آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔ آپ کا فرمان ہے کہ جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لئے جب بیٹھتے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہوگئی تو آپ نے فرمایا بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا چناچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حبشیوں کو رکھاکر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم نجاشی اور بلال موذن۔ تواضع اور فروتنی کا بیان حضرت لقمان نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کردیتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرمادے۔ اور حدیث میں ہے براء بن مالک ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ؓ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے حضرت معاذ ؓ کو قبر رسول کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ صاحب قبر ﷺ سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کرکے رورہا ہوں۔ میں نے آپ سے سنا فرماتے تھے تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آجائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کر نور حاصل کرلیتے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جو ذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کردے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کرلیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آکر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دے دے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لئے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ جنت کے بادشاہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہوجاتی ہے اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لئے کافی ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت و تاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں نہروں میں نعمتوں میں راحتوں میں مشغول ہونگے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جناب باری کا ارشاد ہے سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو کم مال والا کم عیال والا غازی عبادت واطاعت گذار پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو اس کی جانب انگلیاں اٹھتی ہوں اور وہ اس پر صابر ہو پھر حضور ﷺ نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا اس کی موت جلدی آجاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں۔ فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء جو اپنے دین کو لئے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ؑ کیساتھ جمع ہونگے۔ حضرت فضیل بن عیاض کا قول ہے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ پر انعام و اکرام نہیں فرمایا ؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں ؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا ؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا ؟ کیا وہ نہیں دیا ؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی ؟ وغیرہ تو جہاں تک ہوسکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہوگا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔ ابن محیریز تو دعا کرتے تھے کہ اللہ میری شہرت نہ ہو۔ خلیل بن احمد اپنی دعا میں کہتے تھے اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کردے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یا دنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آکر بہت سے لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے۔ حضرت حسن سے بھی یہی روایت مرسلا مروی ہے جب آپ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ نے فرمایا سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے تئیں اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔ حضرت ابراہیم بن ادھم فرماتے ہیں کہ شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔ حضرت ایوب کا فرمان ہے جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا ہے۔ محمد بن علا فرماتے ہیں اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔ سماک بن سلمہ کا قول ہے عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔ حضرت ابان بن عثمان فرماتے ہیں اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔ حضرت ابو العالیہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ انکی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ حضرت طلحہ ؓ کھڑے تھے حضرت عمر ؓ نے کوڑا تانا اور فرمایا اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لئے فتنہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہوجائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔ حماد بن زید کہتے ہیں جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گذرتے اور ہمارے ساتھ ایوب ہوتے تو سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائی اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا میں نے دیکھا کہ لوگ انہیں نہیں پہنتے۔ حضرت ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔ ثوری فرماتے ہیں عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔ ابو قلابہ کے پاس ایک شخص بہت سی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا مقولہ ہے کہ آپ نے بنی اسرائیل سے فرمایا میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنولباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔ اچھے اخلاق کا بیان حضور ﷺ سب سے بہتر اخلاق والے تھے۔ آپ سے سوال ہوا کہ کونسا مومن بہتر ہے فرمایا سب سے اچھے اخلاق والا۔ آپ کا فرمان ہے کہ باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کیوجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کے اعلی منازل حاصل کرلیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتے ہیں انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا ہے۔ حضور سے سوال ہو کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کونسی چیز لے جاتی ہے ؟ فرمایا دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ۔ ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے ؟ فرمایا کہ حسن اخلاق۔ فرمایا کہ نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں۔ فرماتے ہیں تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ فرماتے ہیں جس طرح مجاہد کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے۔ ارشاد ہے تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہوگا جو بد خلق بدگو بدکلام بدزبان ہوگا۔ فرماتے ہیں کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک و محبت سے ملیں جلیں۔ ارشاد ہے جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا۔ ارشاد ہے کہ دو خصلتیں مومن میں جمع نہیں ہوسکتی بخل اور بداخلاقی۔ فرماتے ہیں بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اس لئے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حضور کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کردیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کردیتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ غلام خرید نے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ امام محمد بن سیریں کا قول ہے کہ اچھا خلق دین کی مدد ہے۔ تکبر کی مذمت کا بیان۔حضور ﷺ فرماتے ہیں وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو۔ اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو۔ فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائیں گے۔ ارشاد ہے کہ انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے۔ امام مالک بن دینار رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک دن حضرت سلیمان بن داؤد ؑ اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے آپ کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعبی کا قول ہے جس نے دو شخصوں کو قتل کردیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (اَتُرِيْدُ اَنْ تَــقْتُلَنِيْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بالْاَمْسِ 19) 28۔ القصص :19) کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے ؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے۔ حضرت حسن کا مقولہ ہے وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ضحاک بن سفیان سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی فرماتے ہیں جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اسکی کم ہوجاتی ہے۔ یونس بن عبید فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کیساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر حضرت طاؤس نے انکے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے ؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔ فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص فخروغرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی طرف رحمت سے نہ دیکھے گا۔ فرماتے ہیں اسکی طرف اللہ قیامت کے دن نظر نہ ڈالے گا جو اپنا تہبند لٹکائے۔ ایک شخص دو عمدہ چادریں اوڑھے دل میں غرور لئے اکڑتا ہوا جارہار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہوا چلا جائے گا۔
20
View Single
أَلَمۡ تَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَأَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ نِعَمَهُۥ ظَٰهِرَةٗ وَبَاطِنَةٗۗ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ
Did you not see that Allah has made all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, subservient for you and bestowed His favours upon you in full, both visible and hidden? And some men argue regarding Allah, with neither knowledge, nor guidance, nor a clear Book!
(لوگو!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لئے ان تمام چیزوں کو مسخّر فرما دیا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں۔ اور لوگوں میں کچھ ایسے (بھی) ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب (کی دلیل) کے
Tafsir Ibn Kathir
Reminder of Blessings Here
Allah reminds His creation of the blessings He bestows upon them in this world and the Hereafter. In the heavens He has subjugated for them the stars which give them light during the night and during the day, and He has created clouds, rain, snow and hail, and made the heavens a canopy which covers and protects them. On earth He has created for them stability and rivers, trees, crops and fruits; He has completed and perfected His graces upon them, apparent and hidden, by sending Messengers, revealing Books and removing doubts and excuses. Yet despite all this, not all the people believe, and indeed there are those who dispute concerning Allah, that is, His Tawhid, and His sending the Messengers. Their dispute is without knowledge and they have no sound evidence or valid inherited Book. Allah says:
ومِنَ النَّاسِ مَن يُجَـدِلُ فِى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلاَ هُدًى وَلاَ كِتَـبٍ مُّنِيرٍ
(And among men is he who disputes about Allah, without knowledge or guidance, or a Book giving light (from Allah).) (22:8) meaning clear and unambiguous.
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ
(And when it is said to them) means, to these people who dispute about the Oneness of Allah.
اتَّبِعُواْ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ
("Follow that which Allah has sent down,") means, the pure Divine Laws that He has sent down to His Messengers,
قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا
(they say: "Nay, we shall follow that which we found our fathers (following).") means, they have no other proof except the fact that they are following their forefathers. Allah says:
أَوَلَوْ كَانَ ءَابَاؤُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلاَ يَهْتَدُونَ
(Even though their fathers did not understand anything nor were they guided) (2:170) meaning, `what do you think, you who take the forefathers' deeds as proof, that they were misguided and you are following in their footsteps' Allah says:
أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَـنُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ
(Even if Shaytan invites them to the torment of the Fire)
انعام و اکرام کی بارش اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بےحیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بےراہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔
21
View Single
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُواْ بَلۡ نَتَّبِعُ مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَآۚ أَوَلَوۡ كَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ يَدۡعُوهُمۡ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ
And when it is said to them, “Follow what Allah has sent down”, they say, “On the contrary, we shall only follow that upon which we found our forefathers”; even if the devil was calling them to the punishment of hell?
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (کتاب) کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اس (طریقہ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور اگرچہ شیطان انہیں عذابِ دوزخ کی طرف ہی بلاتا ہو
Tafsir Ibn Kathir
Reminder of Blessings Here
Allah reminds His creation of the blessings He bestows upon them in this world and the Hereafter. In the heavens He has subjugated for them the stars which give them light during the night and during the day, and He has created clouds, rain, snow and hail, and made the heavens a canopy which covers and protects them. On earth He has created for them stability and rivers, trees, crops and fruits; He has completed and perfected His graces upon them, apparent and hidden, by sending Messengers, revealing Books and removing doubts and excuses. Yet despite all this, not all the people believe, and indeed there are those who dispute concerning Allah, that is, His Tawhid, and His sending the Messengers. Their dispute is without knowledge and they have no sound evidence or valid inherited Book. Allah says:
ومِنَ النَّاسِ مَن يُجَـدِلُ فِى اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلاَ هُدًى وَلاَ كِتَـبٍ مُّنِيرٍ
(And among men is he who disputes about Allah, without knowledge or guidance, or a Book giving light (from Allah).) (22:8) meaning clear and unambiguous.
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ
(And when it is said to them) means, to these people who dispute about the Oneness of Allah.
اتَّبِعُواْ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ
("Follow that which Allah has sent down,") means, the pure Divine Laws that He has sent down to His Messengers,
قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا
(they say: "Nay, we shall follow that which we found our fathers (following).") means, they have no other proof except the fact that they are following their forefathers. Allah says:
أَوَلَوْ كَانَ ءَابَاؤُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلاَ يَهْتَدُونَ
(Even though their fathers did not understand anything nor were they guided) (2:170) meaning, `what do you think, you who take the forefathers' deeds as proof, that they were misguided and you are following in their footsteps' Allah says:
أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَـنُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ
(Even if Shaytan invites them to the torment of the Fire)
انعام و اکرام کی بارش اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لئے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لئے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں۔ پھر ان ظاہری بیشمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بیشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کا نازل فرمانا شک وشبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔ اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بےحیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بےراہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔
22
View Single
۞وَمَن يُسۡلِمۡ وَجۡهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰۗ وَإِلَى ٱللَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ
Whoever submits his face to Allah and is righteous – so he has indeed grasped the firm knot; and towards Allah only is the culmination of all things.
جو شخص اپنا رخِ اطاعت اللہ کی طرف جھکا دے اور وہ (اپنے عَمل اور حال میں) صاحبِ احسان بھی ہو تو اس نے مضبوط حلقہ کو پختگی سے تھام لیا، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے
Tafsir Ibn Kathir
وَهُوَ مُحْسِنٌ
(while he is a Muhsin) i.e., doing what his Lord has commanded and abstaining from what He has forbidden,
فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى
(then he has grasped the most trustworthy handhold.) means, he has received a firm promise from Allah that He will not punish him.
وَإِلَى اللَّهِ عَـقِبَةُ الاٌّمُورِوَمَن كَفَرَ فَلاَ يَحْزُنكَ كُفْرُهُ
(And to Allah return all matters for decision. And whoever disbelieves, let not his disbelief grieve you.) means, `do not grieve over them, O Muhammad, because they disbelieve in Allah and in the Message you have brought, for their return will be to Allah and He will tell them what they used to do,' i.e., He will punish them for it.
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Verily, Allah is the All-Knower of what is in the breasts.) and nothing whatsoever is hidden from Him. Then Allah says:
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً
(We let them enjoy for a little while,) means, in this world,
ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ
(then in the end We shall oblige them) means, `We shall cause them,'
إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(to (enter) a great torment.) means, a torment that is terrifying and difficult to bear. This is like the Ayah,
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
("Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful." Enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.) (10:69-70)
مضوبوط دستاویز فرماتا ہے کہ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہوجائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آجائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر ﷺ کافروں کے کفر سے آپ غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہوچکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کرلیں پھر تو ان عذابوں کو بےبسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (موت کے بعد) آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔
23
View Single
وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحۡزُنكَ كُفۡرُهُۥٓۚ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
And whoever disbelieves – then do not be aggrieved by his disbelief (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); they have to return to Us, and We will inform them what they were doing; indeed Allah knows what lies within the hearts.
اور جو کفر کرتا ہے (اے حبیبِ مکرّم!) اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کر دے، انہیں (بھی) ہماری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے، ہم انہیں ان اعمال سے آگاہ کر دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں، بیشک اللہ سینوں کی (مخفی) باتوں کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
وَهُوَ مُحْسِنٌ
(while he is a Muhsin) i.e., doing what his Lord has commanded and abstaining from what He has forbidden,
فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى
(then he has grasped the most trustworthy handhold.) means, he has received a firm promise from Allah that He will not punish him.
وَإِلَى اللَّهِ عَـقِبَةُ الاٌّمُورِوَمَن كَفَرَ فَلاَ يَحْزُنكَ كُفْرُهُ
(And to Allah return all matters for decision. And whoever disbelieves, let not his disbelief grieve you.) means, `do not grieve over them, O Muhammad, because they disbelieve in Allah and in the Message you have brought, for their return will be to Allah and He will tell them what they used to do,' i.e., He will punish them for it.
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Verily, Allah is the All-Knower of what is in the breasts.) and nothing whatsoever is hidden from Him. Then Allah says:
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً
(We let them enjoy for a little while,) means, in this world,
ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ
(then in the end We shall oblige them) means, `We shall cause them,'
إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(to (enter) a great torment.) means, a torment that is terrifying and difficult to bear. This is like the Ayah,
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
("Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful." Enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.) (10:69-70)
مضوبوط دستاویز فرماتا ہے کہ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہوجائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آجائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر ﷺ کافروں کے کفر سے آپ غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہوچکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کرلیں پھر تو ان عذابوں کو بےبسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (موت کے بعد) آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔
24
View Single
نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيلٗا ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٖ
We shall give them some usage, then making them helpless take them towards a severe punishment.
ہم انہیں (دنیا میں) تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر ہم انہیں بے بس کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
وَهُوَ مُحْسِنٌ
(while he is a Muhsin) i.e., doing what his Lord has commanded and abstaining from what He has forbidden,
فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى
(then he has grasped the most trustworthy handhold.) means, he has received a firm promise from Allah that He will not punish him.
وَإِلَى اللَّهِ عَـقِبَةُ الاٌّمُورِوَمَن كَفَرَ فَلاَ يَحْزُنكَ كُفْرُهُ
(And to Allah return all matters for decision. And whoever disbelieves, let not his disbelief grieve you.) means, `do not grieve over them, O Muhammad, because they disbelieve in Allah and in the Message you have brought, for their return will be to Allah and He will tell them what they used to do,' i.e., He will punish them for it.
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
(Verily, Allah is the All-Knower of what is in the breasts.) and nothing whatsoever is hidden from Him. Then Allah says:
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً
(We let them enjoy for a little while,) means, in this world,
ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ
(then in the end We shall oblige them) means, `We shall cause them,'
إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(to (enter) a great torment.) means, a torment that is terrifying and difficult to bear. This is like the Ayah,
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
("Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful." Enjoyment in this world! and then unto Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they used to disbelieve.) (10:69-70)
مضوبوط دستاویز فرماتا ہے کہ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہوجائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آجائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر ﷺ کافروں کے کفر سے آپ غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہوچکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کرلیں پھر تو ان عذابوں کو بےبسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے (قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 69) 10۔ یونس :69) اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (موت کے بعد) آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔
25
View Single
وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
And if you ask them, “Who created the heavens and the earth?” – they will surely answer, “Allah”; proclaim, “All Praise is to Allah”; in fact most of them do not know.
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ تو وہ ضرور کہہ دیں گے کہ اللہ نے، آپ فرما دیجئے: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators admitted that Allah is the Creator
Allah tells us that these idolators who associated others with Him admitted that Allah Alone, with no partner or associate, is the Creator of heaven and earth yet they still worshipped others besides Him who they recognized were created by Him and subjugated to Him. Allah says:
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ
(And if you ask them: "Who has created the heavens and the earth," they will certainly say: "Allah." Say: "All the praises and thanks be to Allah!") By their admitting that, proof is established against them,
بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(But most of them know not.) Then Allah says:
للَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(To Allah belongs whatsoever is in the heavens and the earth.) meaning, He created it and has dominion over it.
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ
(Verily, Allah, He is Al-Ghani, Worthy of all praise.) means, He has no need of anyone or anything besides Himself, and everything else is in need of Him. He is Worthy of praise for all that He has created, so praise be to Him in the heavens and on earth for all that He has created and decreed, and He is worthy of praise in all affairs.
حاکم اعلی وہ اللہ ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ انکی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے ؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بےعلم ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔
26
View Single
لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
To Allah only belongs whatsoever is in the heavens and in the earth; indeed Allah only is the Absolute, the Most Praiseworthy.
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے، بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے (اَز خود) سزاوارِ حمد ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators admitted that Allah is the Creator
Allah tells us that these idolators who associated others with Him admitted that Allah Alone, with no partner or associate, is the Creator of heaven and earth yet they still worshipped others besides Him who they recognized were created by Him and subjugated to Him. Allah says:
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ
(And if you ask them: "Who has created the heavens and the earth," they will certainly say: "Allah." Say: "All the praises and thanks be to Allah!") By their admitting that, proof is established against them,
بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(But most of them know not.) Then Allah says:
للَّهِ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(To Allah belongs whatsoever is in the heavens and the earth.) meaning, He created it and has dominion over it.
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَمِيدُ
(Verily, Allah, He is Al-Ghani, Worthy of all praise.) means, He has no need of anyone or anything besides Himself, and everything else is in need of Him. He is Worthy of praise for all that He has created, so praise be to Him in the heavens and on earth for all that He has created and decreed, and He is worthy of praise in all affairs.
حاکم اعلی وہ اللہ ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ انکی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے ؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بےعلم ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔
27
View Single
وَلَوۡ أَنَّمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن شَجَرَةٍ أَقۡلَٰمٞ وَٱلۡبَحۡرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦ سَبۡعَةُ أَبۡحُرٖ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمَٰتُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
And if all the trees in the earth were pens, and the seas were its ink, with seven more seas to back it up – the Words of Allah will not finish; indeed Allah is Almighty, Wise.
اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں (سب) قلم ہوں اور سمندر (روشنائی ہو) اس کے بعد اور سات سمندر اسے بڑھاتے چلے جائیں تو اللہ کے کلمات (تب بھی) ختم نہیں ہوں گے۔ بیشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Words of Allah cannot be counted or exhausted
Allah tells us of His might, pride, majesty, beautiful Names and sublime attributes, and His perfect Words which no one can encompass. No human being knows their essence or nature, or how many they are. As the Leader of Mankind and Seal of the Messengers ﷺ said:
«لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِك»
(I cannot praise You enough; You are as You have praised yourself.) Allah says:
وَلَوْ أَنَّمَا فِى الاٌّرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلاَمٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَـتُ اللَّهِ
(And if all the trees on the earth were pens and the sea, with seven seas behind it to add to its, yet the Words of Allah would not be exhausted.) meaning, even if all the trees on earth were made into pens and the sea was made into ink, and topped up with seven more like it, and they were used to write the Words of Allah showing His might, attributes and majesty, the pens would break and the ink would run dry, even if more were brought. The number seven is used to indicate a large amount, it is not to be taken literally or to be understood as referring to the seven oceans of the world, as was suggested by those who took this idea from Israelite stories, which we neither believe nor reject. As Allah says elsewhere:
قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِّكَلِمَـتِ رَبِّى لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَـتُ رَبِّى وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَداً
(Say: "If the sea were ink for the Words of my Lord, surely, the sea would be exhausted before the Words of my Lord would be finished, even if We brought like it for its aid.") (18:109). The words
بِمِثْلِهِ
(like it) do not mean merely another one, but another like it and another and another and another, etc., because there is no limit to the signs and Words of Allah.
أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(Verily, Allah is All-Mighty, All-Wise.) means, He is All-Mighty and has subjugated all things to His will, so nothing can prevent what He wills, and none can oppose or put back His decision. He is All-Wise in His creation, commands, Words, actions, Laws and all His affairs.
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person.) means, His creation and resurrection of all of mankind on the Day of Resurrection is, in relation to His power, like the creation and resurrection of a single soul; all of this is easy for Him.
إِنَّمَآ أَمْرُهُ إِذَآ أَرَادَ شَيْئاً أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Verily, His command, when He intends a thing, is only that He says to it, "Be!" -- and it is!) (36:82)
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye. ) (54:50). This means He only has to command a thing once, and it will happen. There is no need for Him to repeat it or confirm it.
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَحِدَةٌ - فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ
(But it will be only a single Zajrah. When behold, they find themselves on the surface of the earth alive after their death.)(79:13)
إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.) means, just as He hears all that they say, so He also sees all that they do, as if He is hearing and seeing a single soul. His power over all of them is like His power over a single soul, Allah says:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person.)
حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی بڑائی جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بیشمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کرسکے نہ ان پر کسی کا احاطہ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔ سید البشر ختم الانبیاء ﷺ فرمایا کرتے تھے (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) اے اللہ میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے۔ پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کیساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت وصفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہوجائیں سب سیاہیاں پوری ہوجائیں ختم ہوجائیں لیکن اللہ وحدہ لاشریک لہ کی تعریفیں ختم نہ ہوں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لئے کافی ہوجائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لئے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جاسکتا ہے۔ ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اسکی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا01009) 18۔ الكهف :109) یعنی اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں۔ پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویساہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہوجائیں۔ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہوجائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہورہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کرسکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔ یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ یہ جو آپ قرآن میں پڑھتے ہیں آیت (وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85) 17۔ الإسراء :85) یعنی تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ کی قوم ؟ آپ نے فرمایا ہاں سب۔ انہوں نے کہا پھر آپ کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ نے فرمایا سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے۔ اس پر آیت اتری۔ لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست وعاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جاسکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔ پھر فرماتا ہے تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرمادینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔ ایک فرمان میں قیامت قائم ہوجائے گی ایک ہی آواز کیساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔
28
View Single
مَّا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ إِلَّا كَنَفۡسٖ وَٰحِدَةٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ
Creating you all and raising you from the dead are like that of one soul*; indeed Allah is All Hearing, All Knowing. (He can create you slowly or all at once).
تم سب کو پیدا کرنا اور تم سب کو (مرنے کے بعد) اٹھانا (قدرتِ الٰہیہ کے لئے) صرف ایک شخص (کو پیدا کرنے اور اٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Words of Allah cannot be counted or exhausted
Allah tells us of His might, pride, majesty, beautiful Names and sublime attributes, and His perfect Words which no one can encompass. No human being knows their essence or nature, or how many they are. As the Leader of Mankind and Seal of the Messengers ﷺ said:
«لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِك»
(I cannot praise You enough; You are as You have praised yourself.) Allah says:
وَلَوْ أَنَّمَا فِى الاٌّرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلاَمٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَـتُ اللَّهِ
(And if all the trees on the earth were pens and the sea, with seven seas behind it to add to its, yet the Words of Allah would not be exhausted.) meaning, even if all the trees on earth were made into pens and the sea was made into ink, and topped up with seven more like it, and they were used to write the Words of Allah showing His might, attributes and majesty, the pens would break and the ink would run dry, even if more were brought. The number seven is used to indicate a large amount, it is not to be taken literally or to be understood as referring to the seven oceans of the world, as was suggested by those who took this idea from Israelite stories, which we neither believe nor reject. As Allah says elsewhere:
قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِّكَلِمَـتِ رَبِّى لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَـتُ رَبِّى وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَداً
(Say: "If the sea were ink for the Words of my Lord, surely, the sea would be exhausted before the Words of my Lord would be finished, even if We brought like it for its aid.") (18:109). The words
بِمِثْلِهِ
(like it) do not mean merely another one, but another like it and another and another and another, etc., because there is no limit to the signs and Words of Allah.
أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(Verily, Allah is All-Mighty, All-Wise.) means, He is All-Mighty and has subjugated all things to His will, so nothing can prevent what He wills, and none can oppose or put back His decision. He is All-Wise in His creation, commands, Words, actions, Laws and all His affairs.
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person.) means, His creation and resurrection of all of mankind on the Day of Resurrection is, in relation to His power, like the creation and resurrection of a single soul; all of this is easy for Him.
إِنَّمَآ أَمْرُهُ إِذَآ أَرَادَ شَيْئاً أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
(Verily, His command, when He intends a thing, is only that He says to it, "Be!" -- and it is!) (36:82)
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye. ) (54:50). This means He only has to command a thing once, and it will happen. There is no need for Him to repeat it or confirm it.
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَحِدَةٌ - فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ
(But it will be only a single Zajrah. When behold, they find themselves on the surface of the earth alive after their death.)(79:13)
إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.) means, just as He hears all that they say, so He also sees all that they do, as if He is hearing and seeing a single soul. His power over all of them is like His power over a single soul, Allah says:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person.)
حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی بڑائی جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بیشمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کرسکے نہ ان پر کسی کا احاطہ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔ سید البشر ختم الانبیاء ﷺ فرمایا کرتے تھے (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) اے اللہ میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے۔ پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کیساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت وصفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہوجائیں سب سیاہیاں پوری ہوجائیں ختم ہوجائیں لیکن اللہ وحدہ لاشریک لہ کی تعریفیں ختم نہ ہوں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لئے کافی ہوجائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لئے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جاسکتا ہے۔ ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اسکی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا01009) 18۔ الكهف :109) یعنی اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں۔ پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویساہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوسکتی۔ حسن بصری فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہوجائیں۔ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہوجائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہورہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کرسکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔ یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ یہ جو آپ قرآن میں پڑھتے ہیں آیت (وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا 85) 17۔ الإسراء :85) یعنی تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ کی قوم ؟ آپ نے فرمایا ہاں سب۔ انہوں نے کہا پھر آپ کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ نے فرمایا سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے۔ اس پر آیت اتری۔ لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست وعاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جاسکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔ پھر فرماتا ہے تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کردینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرمادینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔ ایک فرمان میں قیامت قائم ہوجائے گی ایک ہی آواز کیساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔
29
View Single
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
O listener, did you not see that Allah brings the night in a part of the day and brings the day in a part of the night, and that He has subjected the sun and the moon – each one runs for its fixed term – and that Allah is Well Aware of your deeds?
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور (اسی نے) سورج اور چاند کو مسخّر کر رکھا ہے، ہر کوئی ایک مقرّر میعاد تک چل رہا ہے، اور یہ کہ اللہ ان (تمام) کاموں سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Might and Power of Allah Allah tells us that He
يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ
(merges the night into the day,) meaning, He takes from the night and adds to the day, so that the day becomes longer and the night shorter, which is what happens in summer when the days are longest; then the day starts to become shorter and the night longer, which is what happens in winter.
وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(and has subjected the sun and the moon, each running its course for a term appointed;) It was said that this means, each runs within its set limits, or it means until the Day of Resurrection; both meanings are correct. The first view is supported by the Hadith of Abu Dharr, may Allah be pleased with him, in the Two Sahihs, according to which the Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا أَبَا ذَرَ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟»
(O Abu Dharr! Do you know where this sun goes) I (Abu Dharr) said: "Allah and His Messenger know best." He said:
«فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ رَبَّهَا فَيُوشِكُ أَنْ يُقَالَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْت»
(It goes and prostrates beneath the Throne, then it seeks permission from its Lord, and soon it will be said: "Go back from whence you came.") Ibn Abi Hatim recorded that Ibn `Abbas said, "The sun is like flowing water, running in its course in the sky during the day. When it sets, it travels in its course beneath the earth until it rises in the east." He said, "The same is true in the case of the moon." Its chain of narration is Sahih.
وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(and that Allah is All-Aware of what you do.) This is like the Ayah,
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Know you not that Allah knows all that is in the heaven and the earth) (22:70). The meaning is that Allah is the Creator Who knows all things, as He says:
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـوَتٍ وَمِنَ الاٌّرْضِ مِثْلَهُنَّ
(It is Allah Who has created seven heavens and of the earth the like thereof) (65:12).
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَـطِلُ
(That is because Allah, He is the Truth, and that which they invoke besides Him is falsehood;) means, He shows you His Signs so that you may know from them that He is the Truth, i.e., He truly exists and is truly divine, and that all else besides Him is falsehood. He has no need of anything else, but everything else is dependent on Him, because everything in heaven and on earth is created by Him and is enslaved by Him; none of them could move even an atom's weight except with His permission. If all the people of heaven and earth were to come together to create a fly, they would not be able to do so. Allah says:
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَـطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِىُّ الْكَبِيرُ
(That is because Allah, He is the Truth, and that which they invoke besides Him is falsehood; and that Allah, He is the Most High, the Most Great.) meaning, He is the Most High and there is none higher than Him, and He is the Most Great Who is greater than everything. Everything is subjugated and insignificant in comparison to Him.
اس کے سامنے پر چیز حقیر وپست ہے رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ نے فرمایا یہ جاکر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گرپڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے جیسے فرمان ہے کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے جیسے ارشاد ہے اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثال زمینیں بنائیں۔ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لئے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اسکے سوا سب کو باطل مانو۔ وہ سب سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کرلے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آجائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کو کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔
30
View Single
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِ ٱلۡبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ
This is because only Allah is the Truth, and all that they worship besides Him are falsehood, and because only Allah is the Supreme, the Great.
یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور جن کی یہ لوگ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، وہ باطل ہیں اور یہ کہ اللہ ہی بلند و بالا، بڑائی والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Might and Power of Allah Allah tells us that He
يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ
(merges the night into the day,) meaning, He takes from the night and adds to the day, so that the day becomes longer and the night shorter, which is what happens in summer when the days are longest; then the day starts to become shorter and the night longer, which is what happens in winter.
وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(and has subjected the sun and the moon, each running its course for a term appointed;) It was said that this means, each runs within its set limits, or it means until the Day of Resurrection; both meanings are correct. The first view is supported by the Hadith of Abu Dharr, may Allah be pleased with him, in the Two Sahihs, according to which the Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا أَبَا ذَرَ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ الشَّمْسُ؟»
(O Abu Dharr! Do you know where this sun goes) I (Abu Dharr) said: "Allah and His Messenger know best." He said:
«فَإِنَّهَا تَذْهَبُ فَتَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ رَبَّهَا فَيُوشِكُ أَنْ يُقَالَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْت»
(It goes and prostrates beneath the Throne, then it seeks permission from its Lord, and soon it will be said: "Go back from whence you came.") Ibn Abi Hatim recorded that Ibn `Abbas said, "The sun is like flowing water, running in its course in the sky during the day. When it sets, it travels in its course beneath the earth until it rises in the east." He said, "The same is true in the case of the moon." Its chain of narration is Sahih.
وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(and that Allah is All-Aware of what you do.) This is like the Ayah,
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ
(Know you not that Allah knows all that is in the heaven and the earth) (22:70). The meaning is that Allah is the Creator Who knows all things, as He says:
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـوَتٍ وَمِنَ الاٌّرْضِ مِثْلَهُنَّ
(It is Allah Who has created seven heavens and of the earth the like thereof) (65:12).
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَـطِلُ
(That is because Allah, He is the Truth, and that which they invoke besides Him is falsehood;) means, He shows you His Signs so that you may know from them that He is the Truth, i.e., He truly exists and is truly divine, and that all else besides Him is falsehood. He has no need of anything else, but everything else is dependent on Him, because everything in heaven and on earth is created by Him and is enslaved by Him; none of them could move even an atom's weight except with His permission. If all the people of heaven and earth were to come together to create a fly, they would not be able to do so. Allah says:
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَـطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِىُّ الْكَبِيرُ
(That is because Allah, He is the Truth, and that which they invoke besides Him is falsehood; and that Allah, He is the Most High, the Most Great.) meaning, He is the Most High and there is none higher than Him, and He is the Most Great Who is greater than everything. Everything is subjugated and insignificant in comparison to Him.
اس کے سامنے پر چیز حقیر وپست ہے رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں، آپ نے فرمایا یہ جاکر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گرپڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے جیسے فرمان ہے کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے جیسے ارشاد ہے اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثال زمینیں بنائیں۔ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لئے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اسکے سوا سب کو باطل مانو۔ وہ سب سے بےنیاز اور بےپرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کرلے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آجائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کو کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔
31
View Single
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنۡ ءَايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ
Did you not see that the ship sails on the sea by Allah’s grace, so that He may show you some of His signs? Indeed in this are signs for every greatly enduring, grateful person.
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی نعمت سے چلتی ہیں تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھا دے۔ بیشک اس میں ہر بڑے صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us that He is the One Who has subjugated the sea so that ships may sail on it by His com"See the full heading"Allah tells us that He is the One Who has subjugated the sea so thatships may sail on it by His command, i.e. , by His grace and power
For if He did not give the water the strength to carry the ships, they would not sail. So he says:
لِيُرِيَكُمْ مِّنْ ءَايَـتِهِ
(that He may show you of His signs) meaning, by His power.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
(Verily, in this are signs for every patient, grateful.) means, every person who bears difficulty with patience and who gives thanks at times of ease. Then Allah says:
وَإِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ
(And when waves cover them like shades,) meaning, like mountains or clouds,
دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(they invoke Allah, making their invocations for Him only.) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him) (17:67).
فَإِذَا رَكِبُواْ فِى الْفُلْكِ
(And when they embark on a ship...) (29:65) Then Allah says:
فَلَمَّا نَجَّـهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ
(But when He brings them safe to land, there are among them those that stop in between.) Mujahid said, "This refers to the disbelievers -- as if he interpreted the word Muqtasid to mean denier as in the Ayah,
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others) (29:65).
وَمَا يَجْحَدُ بِـَايَـتِنَآ إِلاَّ كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ
(And Our Ayat are not denied except by every Khattar Kafur.) Khattar means one who betrays or stabs in the back. This was the view of Mujahid, Al-Hasan, Qatadah and Malik, narrating from Zayd bin Aslam. This word describes a person who, whenever he makes a promise, breaks his promise, and it refers to the worst form of treachery.
كَفُورٌ
(Kafur) means, one who denies blessings and does not give thanks for them, rather he forgets them and does not remember them.
طوفان میں کون یاد آتا ہے ؟ اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں ؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کرسکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہیں اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ 67) 17۔ الإسراء :67) ، دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو۔ اور آیت میں ہے (فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ 65ۙ) 29۔ العنکبوت :65) ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کردیا تو تھوڑے سے کافر ہوجاتے ہیں۔ مجاہد نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت (اذاھم یشرکون) لفظی معنی یہ ہیں کہ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ابن زید یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ 32ۭ) 35۔ فاطر :32) ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔ ختار کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ ختر کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ کفور کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہوجائے شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔
32
View Single
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوۡجٞ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ فَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدٞۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٖ كَفُورٖ
And if a wave comes upon them like mountains, they pray to Allah believing purely in Him; then when He brings them safely to land, some of them remain upon justice; and none will deny Our signs except an extremely unfaithful, ungrateful person.
اور جب سمندر کی موج (پہاڑوں، بادلوں یا) سائبانوں کی طرح ان پر چھا جاتی ہے تو وہ (کفّار و مشرکین) اللہ کو اسی کے لئے اطاعت کو خالص رکھتے ہوئے پکارنے لگتے ہیں، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو ان میں سے چند ہی اعتدال کی راہ (یعنی راہِ ہدایت) پر چلنے والے ہوتے ہیں، ہماری آیتوں کا کوئی انکار نہیں کرتا سوائے ہر بڑے عہد شکن اور بڑے ناشکرگزار کے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us that He is the One Who has subjugated the sea so that ships may sail on it by His com"See the full heading"Allah tells us that He is the One Who has subjugated the sea so thatships may sail on it by His command, i.e. , by His grace and power
For if He did not give the water the strength to carry the ships, they would not sail. So he says:
لِيُرِيَكُمْ مِّنْ ءَايَـتِهِ
(that He may show you of His signs) meaning, by His power.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
(Verily, in this are signs for every patient, grateful.) means, every person who bears difficulty with patience and who gives thanks at times of ease. Then Allah says:
وَإِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ
(And when waves cover them like shades,) meaning, like mountains or clouds,
دَعَوُاْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(they invoke Allah, making their invocations for Him only.) This is like the Ayah,
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him) (17:67).
فَإِذَا رَكِبُواْ فِى الْفُلْكِ
(And when they embark on a ship...) (29:65) Then Allah says:
فَلَمَّا نَجَّـهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ
(But when He brings them safe to land, there are among them those that stop in between.) Mujahid said, "This refers to the disbelievers -- as if he interpreted the word Muqtasid to mean denier as in the Ayah,
فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
(but when He brings them safely to land, behold, they give a share of their worship to others) (29:65).
وَمَا يَجْحَدُ بِـَايَـتِنَآ إِلاَّ كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ
(And Our Ayat are not denied except by every Khattar Kafur.) Khattar means one who betrays or stabs in the back. This was the view of Mujahid, Al-Hasan, Qatadah and Malik, narrating from Zayd bin Aslam. This word describes a person who, whenever he makes a promise, breaks his promise, and it refers to the worst form of treachery.
كَفُورٌ
(Kafur) means, one who denies blessings and does not give thanks for them, rather he forgets them and does not remember them.
طوفان میں کون یاد آتا ہے ؟ اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں ؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کرسکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہیں اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ 67) 17۔ الإسراء :67) ، دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو۔ اور آیت میں ہے (فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ 65ۙ) 29۔ العنکبوت :65) ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کردیا تو تھوڑے سے کافر ہوجاتے ہیں۔ مجاہد نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت (اذاھم یشرکون) لفظی معنی یہ ہیں کہ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ابن زید یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ 32ۭ) 35۔ فاطر :32) ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔ ختار کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ ختر کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ کفور کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہوجائے شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔
33
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمٗا لَّا يَجۡزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوۡلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ
O mankind! Fear your Lord, and fear the Day in which no father will benefit his child; nor will any good child be of any benefit to the father; indeed Allah’s promise is true; so never may the worldly life deceive you; and never may the great cheat deceive you in respect of Allah’s commands.
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہیں دے سکے گا اور نہ کوئی ایسا فرزند ہوگا جو اپنے والد کی طرف سے کچھ بھی بدلہ دینے والا ہو، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈال دے، اور نہ ہی فریب دینے والا (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ میں ڈال دے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to fear Allah and remember the Day of Resurrection
Here Allah warns people about the Day of Resurrection, and commands them to fear Him and remember the Day of Resurrection when
لاَّ يَجْزِى وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ
(no father can avail aught for his son,) which means, even if he wanted to offer himself as a sacrifice for his son, it would not be accepted from him. The same will apply in the case of a son who wants to sacrifice himself for his father -- it will not be accepted from him. Then Allah reminds them once again with the words:
فَلاَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا
(let not then this present life deceive you,) meaning, do not let your feelings of contentment with this life make you forget about the Hereafter.
وَلاَ يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
(nor let the chief deceiver deceive you about Allah.) refers to the Shaytan. This was the view of Ibn `Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak and Qatadah. The Shaytan makes promises to them and arouses in them false desires, but there is no substance to them, as Allah says:
يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمْ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُوراً
(He makes promises to them, and arouses in them false desires; and Shaytan's promises are nothing but deceptions.) (4:120). Wahb bin Munabbih said: `Uzayr, peace be upon him, said: "When I saw the misfortune of my people, I felt very sad and distressed, and I could not sleep, so I prayed to my Lord and fasted, and I called upon Him weeping. There came to me an angel and I said to him: `Tell me, will the souls of the righteous intercede for the wrongdoers, or the fathers for their sons' He said: `On the Day of Resurrection all matters will be settled, and Allah's dominion will be made manifest and no exceptions will be made. No one will speak on that Day except with the permission of the Most Merciful. No father will answer for his son, or any son for his father, or any man for his brother, or any servant for his master. No one will care about anybody except himself, or feel grief or compassion for anyone except himself. Everyone will be worried only about himself. No one will be asked about anybody else. Each person will be concerned only about himself, weeping for himself and carrying his own burden. No one will carry the burden of another."' This was recorded by Ibn Abi Hatim.
اللہ تعالیٰ کے روبرو کیا ہوگا اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرا رہا ہے اور اپنے تقوے کا حکم فرما رہا ہے۔ ارشاد ہے اس دن باپ اپنے بچے کو یا بچہ اپنے باپ کو کچھ کام نہ آئے گا ایک دوسرے کا فدیہ نہ ہوسکے گا۔ تم دنیا پر اعتماد کرنے والو آخرت کو فراموش نہ کر جاؤ شیطان کے فریب میں نہ آجاؤ وہ تو صرف پردہ کی آڑ میں شکار کھیلنا جانتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عزیر ؑ نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہوگئی تو اپنے رب کی طرف جھکے۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع وزاری کی، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ میرے سامنے ایک فرشتہ آگیا میں نے اس سے پوچھا کیا نیک لوگ بروں کی شفاعت کریں گے ؟ یا باپ بیٹوں کے کام آئیں گے ؟ اس نے فرمایا کہ قیامت کا دن جھگڑوں کے فیصلوں کا دن ہے اس دن اللہ خود سامنے ہوگا کوئی بغیر اس کی اجازت کے لب نہ ہلاسکے گا کسی کو دوسرے کے بدلے نہ پکڑا جائے گا نہ باپ بیٹے کے بدلے نہ بیٹا باپ کے بدلے نہ بھائی بھائی کے بدلے نہ غلام آقا کے بدلے نہ کوئی کسی کا غم ورنج کرے گا نہ کسی کی طرف سے کسی کو خیال ہوگا نہ کسی پر رحم کرے گا نہ کسی کو کسی سے شفقت و محبت ہوگی۔ نہ ایک دوسرے کی طرف پکڑا جائے گا۔ ہر شخص نفسانفسی میں ہوگا ہر ایک اپنی فکر میں ہوگا ہر ایک کو اپنا رونا پڑا ہوگا ہر ایک اپنا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا کسی اور کا نہیں۔
34
View Single
إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡأَرۡحَامِۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗاۖ وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرُۢ
Indeed Allah has the knowledge of the Last Day! And He sends down the rain; and He knows all what is in the mothers’ wombs; and no soul knows what it will earn tomorrow; and no soul knows the place where it will die; indeed Allah is the All Knowing, the Informer. (He may reveal the knowledge to whomever He wills.)
بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے، اور جو کچھ رحموں میں ہے وہ جانتا ہے، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (عمل) کمائے گا، اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کِس سرزمین پر مرے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا ہے، خبر رکھنے والا ہے (یعنی علیم بالذّات ہے اور خبیر للغیر ہے، اَز خود ہر شے کا علم رکھتا ہے اور جسے پسند فرمائے باخبر بھی کر دیتا ہے)
Tafsir Ibn Kathir
لاَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلاَّ هُوَ
(None can reveal its time but He) (7:187). Similarly, no one but Allah knows when rain will fall, but when He issues the commands, the angels who are entrusted with the task of bringing rain know about it, as do those among His creation whom He wills should know. No one but He knows what is in the wombs of what He wants to create, but when He decrees whether it is to be male or female, and whether it is to be blessed or doomed, the angels who are entrusted with that know about it, as do those among His creation whom He wills should know. No one knows what he will earn tomorrow with regard to this world or the Hereafter.
وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ
(and no person knows in what land he will die.) in his own land or elsewhere, in some other land. No one knows this. This Ayah is like the Ayah,
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Unseen, none knows them but He.) (6:59) It was reported in the Sunnah that the above five things are called the Keys of the Unseen. Imam Ahmad recorded that Buraydah said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say:
«خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ »
(There are five things which no one knows except Allah: (Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware.)) The chain of narrators for this Hadith is Sahih, although they did not recorded it.
The Hadith of Ibn `Umar
Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ »
(The Keys of the Unseen are five, which no one knows except Allah: (Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware.)) This was recorded only by Al-Bukhari, which he narrated in the Book of the Rain Prayer in his Sahih. He also recorded it in his Tafsir with a different chain of narrators, stating that `Abdullah bin `Umar said, "The Prophet said:
«مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْس»
(The Keys of the Unseen are five.)" Then he recited:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.) This too was recorded only by Al-Bukhari.
The Hadith of Abu Hurayrah
In his Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari narrated from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ was standing before the people one day when a man came to him and said, `O Messenger of Allah, what is Iman' He said:
«الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِر»
(Iman is to believe in Allah, His Angels, His Books, His Messengers and in the meeting with Him, and to believe in the Resurrection in the Hereafter.) He said: `O Messenger of Allah, what is Islam' He said:
«الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَان»
(Islam is to worship Allah Alone and not associate anything in worship with Him, to establish regular prayer, to pay the obligatory Zakah, and to fast in Ramadan.) He said, `O Messenger of Allah, what is Ihsan' He said:
«الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك»
(Ihsan is to worship Allah as if you see Him, and if you do not see Him, then He sees you.) He said, `O Messenger of Allah, when will the Hour come' He said:
«مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ رُؤُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ:
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(The one who is asked about it does not know more than the one who is asking, but I will tell you of some of its signs: when the servant woman gives birth to her mistress, that is one of its signs; when the barefoot and naked become leaders of the people, that is one of its signs. The timing of the Hour is one of the five things which no one knows except Allah: (Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs....)) Then the man went away, and the Prophet said,
«رُدُّوهُ عَلَي»
(Bring him back to me.) They went to bring him back, but they could not find him. He said:
«هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُم»
(That was Jibril who came to teach the people their religion.) It was also recorded by Al-Bukhari in the Book of Faith, and by Muslim with several chains of narration. We have discussed this at the beginning of our commentary on Al-Bukhari, where we mentioned at length some Hadiths narrated by the Commander of the faithful `Umar bin Al-Khattab. These were recorded only by Muslim.
وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ
(and no person knows in what land he will die.) Qatadah said, "There are some things which Allah has kept to Himself, and they are not known to any angel who is close to Him or any Prophet who was sent by Him.
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, ) no one among mankind knows when the Hour will come, in which year or month, or whether it will come at night or during the day.
وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(He sends down the rain,) and no one knows when rain will come, night or day.
وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(and knows that which is in the wombs.) No one knows what is in the wombs, male or female, red or black, or what it is.
وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً
(No person knows what he will earn tomorrow,) whether it will be good or bad. You do not know, O son of Adam, when you will die. You might die tomorrow, you might be stricken by calamity tomorrow.
وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ
(and no person knows in what land he will die.) means, no person knows where his resting place will be, on the land or in the sea, on a plain or in the mountains. It says in the Hadith:
«إِذَا أَرَادَ اللهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَة»
(If Allah wants to take a person's soul in a particular land, He will give him a reason to go there.) In Al-Mu`jam Al-Kabir, Al-Hafiz Abu Al-Qasim At-Tabarani recorded that Usamah bin Zayd said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«مَا جَعَلَ اللهُ مِيتَةَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ إِلَّا جَعَلَ لَهُ فِيهَا حَاجَة»
(Allah does not will that a person should die in a certain land but He gives him a reason to go there.)" This is the end of the Tafsir of Surah Luqman. Praise be to Allah, the Lord of the worlds. Sufficient for us is Allah and He is the Best Disposer of affairs.
غیب کی پانچ باتیں یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں۔ مگر اس کے بعد کہ اللہ اسے علم عطا فرمائے۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانے نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ نر ہوگا یا مادہ لڑکا ہوگا یا لڑکی نیک ہوگا یا بد ؟ اسی طرح کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا ؟ نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کہاں مرے گا ؟ اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور حدیث میں ہے کہ غیب کی کنجیاں یہاں پانچ چیزیں ہیں جن کا بیان آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 34) 31۔ لقمان :34) میں ہے مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری کی حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ یہ پانچ غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مسند احمد میں حضور ﷺ کا فرمان ہے تجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئی ہیں سوائے پانچ کے پھر یہی آیت آپ نے پڑھی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں حضور ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے اور پوچھنے لگے ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کو فرشتوں کو کتابوں کو رسولوں کو آخرت کو مرنے کے بعد جی اٹھنے کو مان لینا۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے ؟ فرمایا ایک اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا نمازیں پڑھنا زکوٰۃ دینا رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے دریافت کیا احسان کیا ہے ؟ فرمایا تیرا اس طرح اللہ کی عبادت کرنا کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا حضور قیامت کب ہے فرمایا اس کا علم نہ مجھے ہے اور نہ تجھے ہے ہاں اس کی کچھ نشانیاں میں تمہیں بتادیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے میاں کو جنے اور جب ننگے پیروں اور ننگے بدنوں والے لوگوں کے سردار بن جائیں۔ علم قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وہ شخص واپس چلا گیا آپ نے فرمایا جاؤ اسے لوٹا لاؤ لوگ دوڑ پڑے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے (بخاری) ہم نے اس حدیث کا مطلب صحیح بخاری میں خوب بیان کیا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جبرائیل نے اپنی ہتھیلیاں حضور کے گھٹنوں پر رکھ کر یہ سوالات کیے تھے۔ ایک صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں مروی ہے کہ بنو عامر قبیلے کا ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کہنے لگا میں آؤں ؟ آپ نے اپنے خادم کو بھیجا کہ جا کر انہیں ادب سکھاؤ یہ اجازت مانگنا نہیں جانتے۔ ان سے کہو پہلے سلام کرو پھر دریافت کرو کہ میں آسکتا ہوں ؟ انہوں نے سن لیا اور اسی طرح سلام کیا اور اجازت چاہی یہ گئے اور جاکر کہا آپ ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا بھلائی ہی بھلائی۔ سنو تم ایک اللہ کی عبادت کرو لات وعزیٰ کو چھوڑ دو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھاکرو سال بھر میں ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے اپنے فقیروں پر تقسیم کرو۔ انہوں نے دریافت کیا یارسول اللہ ﷺ کیا علم میں سے کچھ ایساباقی ہے جسے آپ نہ جانتے ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں ایساعلم بھی ہے جسے بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ مجاہد فرماتے ہیں گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے آکر حضور ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ میری عورت حمل سے ہے بتلائے کیا بچہ ہوگا ؟ ہمارے شہر میں قحط ہے فرمائیے بارش کب ہوگی ؟ یہ تو میں نہیں جانتا کہ میں کب پیدا ہوا لیکن یہ آپ معلوم کرادیجئیے کہ کب مرونگا ؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ مجھے ان چیزوں کا مطلق علم نہیں۔ مجاہد فرماتے ہیں یہی غیب کی کنجیاں ہیں جن کے بارے میں فرمان باری ہے کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں جو تم سے کہے کہ رسول اللہ ﷺ کل کی بات کا علم جانتے تھے تو سمجھ لینا کہ وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا ؟ قتادۃ فرماتے ہیں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا نہ نبی کو نہ فرشتہ کو اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کس سال کس مہینے کس دن یا کس رات میں وہ آئے گی۔ اسی طرح بارش کا علم بھی اس کے سوا کسی کو نہیں کہ کب آئے ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ نر ہوگا یا مادہ سرخ ہوگا یا سیاہ ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ نیکی کرے گا یا بدی کرے گا ؟ مرے گا یا جئے گا بہت ممکن ہے کل موت یا آفت آجائے۔ نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس زمین میں وہ دبایا جائے گا یا سمندر میں بہایا جائے گا یا جنگل میں مرے گا یا نرم یا سخت زمین میں جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے جب کسی کو موت دوسری زمین میں ہوتی ہے تو اس کا وہیں کا کوئی کام نکل آتا ہے اور وہیں موت آجاتی ہے اور روایت میں ہے کہ یہ فرما کر رسول کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ اعشی ہمدان کے شعر ہیں جن میں اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ یہ ہیں تیری امانتیں جو تو نے مجھے سونپ رکھی تھیں۔ طبرانی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔