غافر — Ghafir
Ayah 1 / 85 • Meccan
2,439
1
Ghafir
غافر • Meccan
حمٓ
Ha-Meem. (Alphabets of the Arabic Language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of the Surahs that begin with Ha Mim
Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Everything has an essence and the essence of the Qur'an is the family of Ha Mim," or he said, "the Ha Mims." Mis`ar bin Kidam said, "They used to be called `the brides'." All of this was recorded by the the Imam, great scholar, Abu `Ubayd Al-Qasim bin Sallam, may Allah have mercy upon him, in his book Fada'il Al-Qur'an. Humayd bin Zanjuyah narrated that `Abdullah, may Allah be pleased with him, said, "The parable of the Qur'an is that of a man who sets out to find a place for his family to stay, and he comes to a place where there is evidence of rainfall. While he is walking about, admiring it, he suddenly comes upon beautiful gardens. He says, `I liked the first traces of rainfall, but this is far better.' It was said to him, `The first place is like the Qur'an, and these beautiful gardens are like the splendor of family of Ha Mim in relation to the rest of the Qur'an'." This was recorded by Al-Baghawi. Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "When I reach the family of Ha Mim, it is like reaching a beautiful garden, so I take my time."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
«إِنْ بُيِّتُّمُ اللَّيْلَةَ فَقُولُوا: حم لَا يُنْصَرُون»
(When you go to bed tonight, recite Ha Mim, La Yunsarun.)" Its chain of narrators is Sahih.
تَنزِيلُ الْكِتَـبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Knower.) means, this book -- the Qur'an -- is from Allah, the Owner of might and knowledge, Who cannot be overtaken and from Whom nothing is hidden, not even an ant concealed beneath many layers.
غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ
(The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance,) means, He forgives sins that have been committed in the past, and He accepts repentance for sins that may be committed in the future, from the one who repents and submits to Him.
شَدِيدُ الْعِقَابِ
(the Severe in punishment,) means, to the one who persists in transgression and prefers the life of this world, who stubbornly turns away from the commands of Allah and commits sin. This is like the Ayah:
نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ
(Declare unto My servants that truly I am the Oft-Forgiving, the Most-Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) (15:49-50). These two attributes (mercy and punishment) are often mentioned together in the Qur'an, so that people will remain in a state of both hope and fear.
ذِى الطَّوْلِ
(the Bestower.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means He is Generous and Rich (Independent of means)." The meaning is that He is Most Generous to His servants, granting ongoing blessings for which they can never sufficiently thank Him.
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا
(And if you would count the favors of Allah, never could you be able to count them...) (16:18).
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none that is equal to Him in all His attributes; there is no God or Lord besides Him.
إِلَيْهِ الْمَصِيرُ
(to Him is the final return.) means, all things will come back to Him and He will reward or punish each person according to his deeds.
وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(and He is Swift at reckoning) (13:41).
سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں یذکرنی حم والرمح شاجر فھلا تلا حم قبل التقدم یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حم کیوں نہ کہہ دیا۔ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو حم لاینصرون کہنا، اس کی سند صحیح ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ نے فرمایا تم کہو حم لاینصروا یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہوگے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کرکے آخرت سے بےرغبت ہوجائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دی نے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49ۙ) 15۔ الحجر :49) یعنی میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے دردناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف وامید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کرسکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ایک شخص آکر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کردیا ہے کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ آپ نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ (ابن ابی حاتم) حضرت عمر کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیرالمومنین نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کردیا ہے۔ حضرت عمر نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعداز سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کردے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو حضرت عمر ؓ کا خط ملا تو اس نے اسے بار بار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رودیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی جب حضرت فاروق اعظم کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ میں حضرت مصعب بن زبیر ؓ کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جاکر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورة مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی الیہ المصیر تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب غافر الذنب پڑھو تو کہو یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی اور جب قابل التوب پڑھو تو کہو یاشدید العقاب لا تعاقبنی حضرت مصعب فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ حضرت الیاس تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں حضرت الیاس کا ذکر نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
حمٓ
Ha-Meem. (Alphabets of the Arabic Language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of the Surahs that begin with Ha Mim
Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Everything has an essence and the essence of the Qur'an is the family of Ha Mim," or he said, "the Ha Mims." Mis`ar bin Kidam said, "They used to be called `the brides'." All of this was recorded by the the Imam, great scholar, Abu `Ubayd Al-Qasim bin Sallam, may Allah have mercy upon him, in his book Fada'il Al-Qur'an. Humayd bin Zanjuyah narrated that `Abdullah, may Allah be pleased with him, said, "The parable of the Qur'an is that of a man who sets out to find a place for his family to stay, and he comes to a place where there is evidence of rainfall. While he is walking about, admiring it, he suddenly comes upon beautiful gardens. He says, `I liked the first traces of rainfall, but this is far better.' It was said to him, `The first place is like the Qur'an, and these beautiful gardens are like the splendor of family of Ha Mim in relation to the rest of the Qur'an'." This was recorded by Al-Baghawi. Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "When I reach the family of Ha Mim, it is like reaching a beautiful garden, so I take my time."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
«إِنْ بُيِّتُّمُ اللَّيْلَةَ فَقُولُوا: حم لَا يُنْصَرُون»
(When you go to bed tonight, recite Ha Mim, La Yunsarun.)" Its chain of narrators is Sahih.
تَنزِيلُ الْكِتَـبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Knower.) means, this book -- the Qur'an -- is from Allah, the Owner of might and knowledge, Who cannot be overtaken and from Whom nothing is hidden, not even an ant concealed beneath many layers.
غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ
(The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance,) means, He forgives sins that have been committed in the past, and He accepts repentance for sins that may be committed in the future, from the one who repents and submits to Him.
شَدِيدُ الْعِقَابِ
(the Severe in punishment,) means, to the one who persists in transgression and prefers the life of this world, who stubbornly turns away from the commands of Allah and commits sin. This is like the Ayah:
نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ
(Declare unto My servants that truly I am the Oft-Forgiving, the Most-Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) (15:49-50). These two attributes (mercy and punishment) are often mentioned together in the Qur'an, so that people will remain in a state of both hope and fear.
ذِى الطَّوْلِ
(the Bestower.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means He is Generous and Rich (Independent of means)." The meaning is that He is Most Generous to His servants, granting ongoing blessings for which they can never sufficiently thank Him.
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا
(And if you would count the favors of Allah, never could you be able to count them...) (16:18).
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none that is equal to Him in all His attributes; there is no God or Lord besides Him.
إِلَيْهِ الْمَصِيرُ
(to Him is the final return.) means, all things will come back to Him and He will reward or punish each person according to his deeds.
وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(and He is Swift at reckoning) (13:41).
سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں یذکرنی حم والرمح شاجر فھلا تلا حم قبل التقدم یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حم کیوں نہ کہہ دیا۔ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو حم لاینصرون کہنا، اس کی سند صحیح ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ نے فرمایا تم کہو حم لاینصروا یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہوگے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کرکے آخرت سے بےرغبت ہوجائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دی نے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49ۙ) 15۔ الحجر :49) یعنی میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے دردناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف وامید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کرسکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ایک شخص آکر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کردیا ہے کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ آپ نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ (ابن ابی حاتم) حضرت عمر کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیرالمومنین نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کردیا ہے۔ حضرت عمر نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعداز سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کردے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو حضرت عمر ؓ کا خط ملا تو اس نے اسے بار بار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رودیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی جب حضرت فاروق اعظم کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ میں حضرت مصعب بن زبیر ؓ کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جاکر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورة مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی الیہ المصیر تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب غافر الذنب پڑھو تو کہو یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی اور جب قابل التوب پڑھو تو کہو یاشدید العقاب لا تعاقبنی حضرت مصعب فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ حضرت الیاس تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں حضرت الیاس کا ذکر نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ
The revelation of the Book is from Allah, the Most Honourable, the All Knowing.
اِس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب ہے، خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of the Surahs that begin with Ha Mim
Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Everything has an essence and the essence of the Qur'an is the family of Ha Mim," or he said, "the Ha Mims." Mis`ar bin Kidam said, "They used to be called `the brides'." All of this was recorded by the the Imam, great scholar, Abu `Ubayd Al-Qasim bin Sallam, may Allah have mercy upon him, in his book Fada'il Al-Qur'an. Humayd bin Zanjuyah narrated that `Abdullah, may Allah be pleased with him, said, "The parable of the Qur'an is that of a man who sets out to find a place for his family to stay, and he comes to a place where there is evidence of rainfall. While he is walking about, admiring it, he suddenly comes upon beautiful gardens. He says, `I liked the first traces of rainfall, but this is far better.' It was said to him, `The first place is like the Qur'an, and these beautiful gardens are like the splendor of family of Ha Mim in relation to the rest of the Qur'an'." This was recorded by Al-Baghawi. Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "When I reach the family of Ha Mim, it is like reaching a beautiful garden, so I take my time."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
«إِنْ بُيِّتُّمُ اللَّيْلَةَ فَقُولُوا: حم لَا يُنْصَرُون»
(When you go to bed tonight, recite Ha Mim, La Yunsarun.)" Its chain of narrators is Sahih.
تَنزِيلُ الْكِتَـبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Knower.) means, this book -- the Qur'an -- is from Allah, the Owner of might and knowledge, Who cannot be overtaken and from Whom nothing is hidden, not even an ant concealed beneath many layers.
غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ
(The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance,) means, He forgives sins that have been committed in the past, and He accepts repentance for sins that may be committed in the future, from the one who repents and submits to Him.
شَدِيدُ الْعِقَابِ
(the Severe in punishment,) means, to the one who persists in transgression and prefers the life of this world, who stubbornly turns away from the commands of Allah and commits sin. This is like the Ayah:
نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ
(Declare unto My servants that truly I am the Oft-Forgiving, the Most-Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) (15:49-50). These two attributes (mercy and punishment) are often mentioned together in the Qur'an, so that people will remain in a state of both hope and fear.
ذِى الطَّوْلِ
(the Bestower.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means He is Generous and Rich (Independent of means)." The meaning is that He is Most Generous to His servants, granting ongoing blessings for which they can never sufficiently thank Him.
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا
(And if you would count the favors of Allah, never could you be able to count them...) (16:18).
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none that is equal to Him in all His attributes; there is no God or Lord besides Him.
إِلَيْهِ الْمَصِيرُ
(to Him is the final return.) means, all things will come back to Him and He will reward or punish each person according to his deeds.
وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(and He is Swift at reckoning) (13:41).
سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں یذکرنی حم والرمح شاجر فھلا تلا حم قبل التقدم یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حم کیوں نہ کہہ دیا۔ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو حم لاینصرون کہنا، اس کی سند صحیح ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ نے فرمایا تم کہو حم لاینصروا یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہوگے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کرکے آخرت سے بےرغبت ہوجائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دی نے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49ۙ) 15۔ الحجر :49) یعنی میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے دردناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف وامید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کرسکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ایک شخص آکر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کردیا ہے کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ آپ نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ (ابن ابی حاتم) حضرت عمر کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیرالمومنین نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کردیا ہے۔ حضرت عمر نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعداز سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کردے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو حضرت عمر ؓ کا خط ملا تو اس نے اسے بار بار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رودیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی جب حضرت فاروق اعظم کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ میں حضرت مصعب بن زبیر ؓ کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جاکر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورة مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی الیہ المصیر تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب غافر الذنب پڑھو تو کہو یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی اور جب قابل التوب پڑھو تو کہو یاشدید العقاب لا تعاقبنی حضرت مصعب فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ حضرت الیاس تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں حضرت الیاس کا ذکر نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
غَافِرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوۡبِ شَدِيدِ ٱلۡعِقَابِ ذِي ٱلطَّوۡلِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ إِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
The Forgiver of sin, and the Most Acceptor of Repentance, the Severe in Punishing, the Greatly Rewarding; there is no God except Him; towards Him only is the return.
گناہ بخشنے والا (ہے) اور توبہ قبول فرمانے والا (ہے)، سخت عذاب دینے والا (ہے)، بڑا صاحبِ کرم ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف (سب کو) لوٹنا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Virtues of the Surahs that begin with Ha Mim
Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Everything has an essence and the essence of the Qur'an is the family of Ha Mim," or he said, "the Ha Mims." Mis`ar bin Kidam said, "They used to be called `the brides'." All of this was recorded by the the Imam, great scholar, Abu `Ubayd Al-Qasim bin Sallam, may Allah have mercy upon him, in his book Fada'il Al-Qur'an. Humayd bin Zanjuyah narrated that `Abdullah, may Allah be pleased with him, said, "The parable of the Qur'an is that of a man who sets out to find a place for his family to stay, and he comes to a place where there is evidence of rainfall. While he is walking about, admiring it, he suddenly comes upon beautiful gardens. He says, `I liked the first traces of rainfall, but this is far better.' It was said to him, `The first place is like the Qur'an, and these beautiful gardens are like the splendor of family of Ha Mim in relation to the rest of the Qur'an'." This was recorded by Al-Baghawi. Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "When I reach the family of Ha Mim, it is like reaching a beautiful garden, so I take my time."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
«إِنْ بُيِّتُّمُ اللَّيْلَةَ فَقُولُوا: حم لَا يُنْصَرُون»
(When you go to bed tonight, recite Ha Mim, La Yunsarun.)" Its chain of narrators is Sahih.
تَنزِيلُ الْكِتَـبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
(The revelation of the Book is from Allah, the Almighty, the All-Knower.) means, this book -- the Qur'an -- is from Allah, the Owner of might and knowledge, Who cannot be overtaken and from Whom nothing is hidden, not even an ant concealed beneath many layers.
غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ
(The Forgiver of sin, the Acceptor of repentance,) means, He forgives sins that have been committed in the past, and He accepts repentance for sins that may be committed in the future, from the one who repents and submits to Him.
شَدِيدُ الْعِقَابِ
(the Severe in punishment,) means, to the one who persists in transgression and prefers the life of this world, who stubbornly turns away from the commands of Allah and commits sin. This is like the Ayah:
نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ
(Declare unto My servants that truly I am the Oft-Forgiving, the Most-Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) (15:49-50). These two attributes (mercy and punishment) are often mentioned together in the Qur'an, so that people will remain in a state of both hope and fear.
ذِى الطَّوْلِ
(the Bestower.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means He is Generous and Rich (Independent of means)." The meaning is that He is Most Generous to His servants, granting ongoing blessings for which they can never sufficiently thank Him.
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا
(And if you would count the favors of Allah, never could you be able to count them...) (16:18).
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none that is equal to Him in all His attributes; there is no God or Lord besides Him.
إِلَيْهِ الْمَصِيرُ
(to Him is the final return.) means, all things will come back to Him and He will reward or punish each person according to his deeds.
وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(and He is Swift at reckoning) (13:41).
سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں یذکرنی حم والرمح شاجر فھلا تلا حم قبل التقدم یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حم کیوں نہ کہہ دیا۔ ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو حم لاینصرون کہنا، اس کی سند صحیح ہے۔ ابو عبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ نے فرمایا تم کہو حم لاینصروا یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہوگے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کرکے آخرت سے بےرغبت ہوجائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دی نے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49ۙ) 15۔ الحجر :49) یعنی میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے دردناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف وامید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کرسکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہوجائے گا۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ایک شخص آکر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کردیا ہے کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ آپ نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ (ابن ابی حاتم) حضرت عمر کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیرالمومنین نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کردیا ہے۔ حضرت عمر نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعداز سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کردے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو حضرت عمر ؓ کا خط ملا تو اس نے اسے بار بار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رودیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی جب حضرت فاروق اعظم کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔ حضرت ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ میں حضرت مصعب بن زبیر ؓ کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جاکر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورة مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی الیہ المصیر تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب غافر الذنب پڑھو تو کہو یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی اور جب قابل التوب پڑھو تو کہو یاشدید العقاب لا تعاقبنی حضرت مصعب فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ حضرت الیاس تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں حضرت الیاس کا ذکر نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
مَا يُجَٰدِلُ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِي ٱلۡبِلَٰدِ
None except the disbelievers dispute the signs of Allah, therefore do not let their free movements in the land deceive you.
اللہ کی آیتوں میں کوئی جھگڑا نہیں کرتا سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا، سو اُن کا شہروں میں (آزادی سے) گھومنا پھرنا تمہیں مغالطہ میں نہ ڈال دے
Tafsir Ibn Kathir
One of the Attributes of the Disbelievers is That they dispute theAyat of Allah -- and The Consequences of that Allah tells us that noone rejects or disputes His signs after clear proof has come,
إِلاَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(but those who disbelieve), i.e., those who reject the signs of Allah and His proof and evidence.
فَلاَ يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلاَدِ
(So let not their ability of going about here and there through the land deceive you!) means, their wealth and luxurious life. This is like the Ayah:
لاَ يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى الْبِلَـدِ - مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(Let not the free disposal (and affluence) of the disbelievers throughout the land deceive you. A brief enjoyment; then, their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.) (3:196-197)
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment.) (31:24). Then Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the rejection of his people. He tells him that he has an example in the Prophets who came before him, may the blessings and peace of Allah be upon them all, for their nations disbelieved them and opposed them, and only a few believed in them.
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ
(The people of Nuh denied before these;) Nuh was the first Messenger whom Allah sent to denounce and forbid idol worship.
وَالاٌّحْزَابُ مِن بَعْدِهِمْ
(and the groups after them) means, from every nation.
وَهَمَّتْ كُـلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ
(and every (disbelieving) nation plotted against their Messenger to seize him,) means, they wanted to kill him by any means possible, and some of them did kill their Messenger.
وَجَـدَلُوا بِالْبَـطِلِ لِيُدْحِضُواْ بِهِ الْحَقَّ
(and disputed by means of falsehood to refute therewith the truth.) means, they came up with specious arguments with which to dispute the truth which was so plain and clear.
فَأَخَذَتْهُمُ
(So I seized them) means, `I destroyed them, because of the sins they committed.'
فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
(and how was My punishment!) means, `how have you heard that My punishment and vengeance was so severe and painful.' Qatadah said, "It was terrible, by Allah."
وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(Thus has the Word of your Lord been justified against those who disbelieved, that they will be the dwellers of the Fire.) means, `just as the Word of punishment was justified against those of the past nations who disbelieved, so too is it justified against these disbelievers who have rejected you and gone against you, O Muhammad, and it is even more justified against them, because if they have disbelieved in you, there is no certainty that they will believe in any other Prophet.' And Allah knows best.
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مال دار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑجانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا ؟ جیسے اور جگہ ہے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بےبس کردیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح ؑ جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑلیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کردیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے ؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ واللہ اعلم۔
كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَٱلۡأَحۡزَابُ مِنۢ بَعۡدِهِمۡۖ وَهَمَّتۡ كُلُّ أُمَّةِۭ بِرَسُولِهِمۡ لِيَأۡخُذُوهُۖ وَجَٰدَلُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّ فَأَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ
Before them, the people of Nooh and the groups after them had denied; and every nation intended to apprehend its Noble Messenger, and they fought along with falsehood to avert the truth, so I seized them; so how did My punishment turn out?
اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور اُن کے بعد (اور) بہت سی امتّوں نے (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا اور ہر امّت نے اپنے رسول کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے پکڑ (کر قتل کر دیں یا قید کر) لیں اور بے بنیاد باتوں کے ذریعے جھگڑا کیا تاکہ اس (جھگڑے) کے ذریعے حق (کا اثر) زائل کر دیں سو میں نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، پس (میرا) عذاب کیسا تھا؟
Tafsir Ibn Kathir
One of the Attributes of the Disbelievers is That they dispute theAyat of Allah -- and The Consequences of that Allah tells us that noone rejects or disputes His signs after clear proof has come,
إِلاَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(but those who disbelieve), i.e., those who reject the signs of Allah and His proof and evidence.
فَلاَ يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلاَدِ
(So let not their ability of going about here and there through the land deceive you!) means, their wealth and luxurious life. This is like the Ayah:
لاَ يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى الْبِلَـدِ - مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(Let not the free disposal (and affluence) of the disbelievers throughout the land deceive you. A brief enjoyment; then, their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.) (3:196-197)
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment.) (31:24). Then Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the rejection of his people. He tells him that he has an example in the Prophets who came before him, may the blessings and peace of Allah be upon them all, for their nations disbelieved them and opposed them, and only a few believed in them.
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ
(The people of Nuh denied before these;) Nuh was the first Messenger whom Allah sent to denounce and forbid idol worship.
وَالاٌّحْزَابُ مِن بَعْدِهِمْ
(and the groups after them) means, from every nation.
وَهَمَّتْ كُـلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ
(and every (disbelieving) nation plotted against their Messenger to seize him,) means, they wanted to kill him by any means possible, and some of them did kill their Messenger.
وَجَـدَلُوا بِالْبَـطِلِ لِيُدْحِضُواْ بِهِ الْحَقَّ
(and disputed by means of falsehood to refute therewith the truth.) means, they came up with specious arguments with which to dispute the truth which was so plain and clear.
فَأَخَذَتْهُمُ
(So I seized them) means, `I destroyed them, because of the sins they committed.'
فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
(and how was My punishment!) means, `how have you heard that My punishment and vengeance was so severe and painful.' Qatadah said, "It was terrible, by Allah."
وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(Thus has the Word of your Lord been justified against those who disbelieved, that they will be the dwellers of the Fire.) means, `just as the Word of punishment was justified against those of the past nations who disbelieved, so too is it justified against these disbelievers who have rejected you and gone against you, O Muhammad, and it is even more justified against them, because if they have disbelieved in you, there is no certainty that they will believe in any other Prophet.' And Allah knows best.
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مال دار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑجانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا ؟ جیسے اور جگہ ہے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بےبس کردیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح ؑ جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑلیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کردیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے ؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ واللہ اعلم۔
وَكَذَٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ
And this is how the Word of your Lord has proved true upon the disbelievers that they are people of the hell.
اور اسی طرح آپ کے رب کا فرمان اُن لوگوں پر پورا ہو کر رہا جنہوں نے کفر کیا تھا بے شک وہ لوگ دوزخ والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
One of the Attributes of the Disbelievers is That they dispute theAyat of Allah -- and The Consequences of that Allah tells us that noone rejects or disputes His signs after clear proof has come,
إِلاَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(but those who disbelieve), i.e., those who reject the signs of Allah and His proof and evidence.
فَلاَ يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى الْبِلاَدِ
(So let not their ability of going about here and there through the land deceive you!) means, their wealth and luxurious life. This is like the Ayah:
لاَ يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى الْبِلَـدِ - مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
(Let not the free disposal (and affluence) of the disbelievers throughout the land deceive you. A brief enjoyment; then, their ultimate abode is Hell; and worst indeed is that place for rest.) (3:196-197)
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment.) (31:24). Then Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the rejection of his people. He tells him that he has an example in the Prophets who came before him, may the blessings and peace of Allah be upon them all, for their nations disbelieved them and opposed them, and only a few believed in them.
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ
(The people of Nuh denied before these;) Nuh was the first Messenger whom Allah sent to denounce and forbid idol worship.
وَالاٌّحْزَابُ مِن بَعْدِهِمْ
(and the groups after them) means, from every nation.
وَهَمَّتْ كُـلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ
(and every (disbelieving) nation plotted against their Messenger to seize him,) means, they wanted to kill him by any means possible, and some of them did kill their Messenger.
وَجَـدَلُوا بِالْبَـطِلِ لِيُدْحِضُواْ بِهِ الْحَقَّ
(and disputed by means of falsehood to refute therewith the truth.) means, they came up with specious arguments with which to dispute the truth which was so plain and clear.
فَأَخَذَتْهُمُ
(So I seized them) means, `I destroyed them, because of the sins they committed.'
فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
(and how was My punishment!) means, `how have you heard that My punishment and vengeance was so severe and painful.' Qatadah said, "It was terrible, by Allah."
وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(Thus has the Word of your Lord been justified against those who disbelieved, that they will be the dwellers of the Fire.) means, `just as the Word of punishment was justified against those of the past nations who disbelieved, so too is it justified against these disbelievers who have rejected you and gone against you, O Muhammad, and it is even more justified against them, because if they have disbelieved in you, there is no certainty that they will believe in any other Prophet.' And Allah knows best.
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مال دار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑجانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا ؟ جیسے اور جگہ ہے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بےبس کردیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح ؑ جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑلیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کردیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے ؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ واللہ اعلم۔
ٱلَّذِينَ يَحۡمِلُونَ ٱلۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيُؤۡمِنُونَ بِهِۦ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْۖ رَبَّنَا وَسِعۡتَ كُلَّ شَيۡءٖ رَّحۡمَةٗ وَعِلۡمٗا فَٱغۡفِرۡ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَٱتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ وَقِهِمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ
Those* who bear the Throne, and those who are around it, say the Purity of their Lord while praising Him, and they believe in Him and seek forgiveness for the believers; “O Our Lord! Your mercy and knowledge encompass all things, therefore forgive those who repented and followed Your path, and save them from the punishment of hell.” (* The angels.)
جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اُس کے اِرد گِرد ہیں وہ (سب) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں (یہ عرض کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! تو (اپنی) رحمت اور علم سے ہر شے کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے، پس اُن لوگوں کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستہ کی پیروی کی اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے
Tafsir Ibn Kathir
The Bearers of the Throne praise Allah and pray for forgiveness for the Believers
Allah tells us that the angels who are close to Him, the bearers of the Throne, and the angels who are around Him -- all glorify the praises of their Lord. They combine glorification (Tasbih) which implies that He is free of any shortcomings, with praise (Tahmid) which is an affirmation of praise.
وَيُؤْمِنُونَ بِهِ
(and believe in Him,) means, they humbly submit themselves before Him.
وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and ask forgiveness for those who believe) means, for those among the people of earth who believe in the Unseen. Allah commanded that His angels who are close to Him should pray for the believers in their absence, so it is a part of the angels' nature that they say Amin when a believer prays for his brother in his absence. In Sahih Muslim it says:
«إِذَا دَعَا الْمُسْلِمُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ قَالَ الْمَلَكُ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلِه»
(When a Muslim prays for his brother in his absence, the angel says, `Amin, and may you have something similar to it'.)" Shahr bin Hawshab said, "The bearers of the Throne are eight; four of them say, `Glory and praise be to You, O Allah, to You be praise for Your forebearance after Your knowledge. ' Four of them say, `Glory and praise be to You, O Allah, to You be praise for Your forgiveness after Your power.' When they pray for forgiveness for those who believe, they say:
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُـلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْماً
(Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,) meaning, `Your mercy encompasses their sins and Your knowledge encompasses all their deeds, words and action.'
فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَاتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ
(so forgive those who repent and follow Your way.)" That is, `forgive the sinners when they repent to You and turn to You and give up their former ways, following Your commands to do good and abstain from evil.'
وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and save them from the torment of the blazing Fire!) means, `snatch them away from the punishment of Hell, which is a painful, agonizing punishment.'
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Gardens which you have promised them -- and to the righteous among their fathers, their wives, and their offspring!) meaning, `bring them together so that they may find delight in one another in neighboring dwellings. ' This is like the Ayah:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَـنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَـهُمْ مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍ
(And those who believe and whose offspring follow them in faith, -- to them shall We join their offspring, and We shall not decrease the reward of their deeds in anything)(52:21). This means, `that all of them will be made equal in status. In this way they may delight in one another's company; the one who is in the higher status will not lose anything. On the contrary We will raise the one whose deeds are of a lower status so that they will become equal, as a favor and a blessing from Us.' Sa`id bin Jubayr said that when the believer enters Paradise, he will ask where his father, son and brother are. It will be said to him, `they did not reach the same level of good deeds as you did'. He will say, `but I did it for my sake and for theirs.' Then they will be brought to join him in that higher degree. Then Sa`id bin Jubayr recited this Ayah:
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Gardens which you have promised them -- and to the righteous among their fathers, their wives, and their offspring! Verily, You are the Almighty, the All-Wise.) Mutarrif bin `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "The most sincere of the servants of Allah towards the believers are the angels." Then he recited this Ayah:
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Paradises which you have promised them) He then said, "The most treacherous of the servants of Allah towards the believers are the Shayatin."
إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ
(You are the Almighty, the All-Wise.) means, `the One Whom none can resist or overwhelm; what You will happens and what You do not will does not happen; You are Wise in all that You say and do, in all that You legislate and decree.'
وَقِهِمُ السَّيِّئَـتِ
(And save them from the sins,) means, the actions and the consequences.
وَمَن تَقِ السَّيِّئَـتِ يَوْمَئِذٍ
(and whomsoever You save from the sins that Day,) means, the Day of Resurrection,
فَقَدْ رَحِمْتَهُ
(him verily, You have taken into mercy.) means, `You have protected him and saved him from punishment.'
وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(And that is the supreme success. )
اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے۔عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایمان دار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کردیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ ﷺ نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے زحل و ثور تحت وجل یمینہ والنسر للاخری و لیث مرصد یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا والشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہوجاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ نے فرمایا سچ ہے۔ اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے (وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحا میں رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں ؟ کہا ہاں ! فرمایا عنان بھی ؟ عرض کیا ہاں ! پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے ؟ صحابہ نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ حضرت شہر بن حوشب کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے (سبحانک اللھم وبحمد لک الحمد علی حملک بعد عملک) یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد وثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے (سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی عفوک بعد قدرتک) یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لئے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہر چیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔ بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔ پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آجائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے دردناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کے جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔ جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) ، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کردیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کردیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مومن جنت میں جاکر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے ؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لئے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت (رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۙ) 40۔ غافر :8) کی تلاوت فرمائی۔ حضرت مطرف بن عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔ تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔
رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّـٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّـٰتِهِمۡۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
“O Our Lord! And admit them into the Gardens of everlasting stay which you have promised them, and those who are virtuous among their forefathers and their wives and their offspring; indeed You only are the Most Honourable, the Wise.”
اے ہمارے رب! اور انہیں (ہمیشہ رہنے کے لئے) جنّاتِ عدن میں داخل فرما، جن کا تُو نے اُن سے وعدہ فرما رکھا ہے اور اُن کے آباء و اجداد سے اور اُن کی بیویوں سے اور اُن کی اولاد و ذرّیت سے جو نیک ہوں (انہیں بھی اُن کے ساتھ داخل فرما)، بے شک تو ہی غالب، بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Bearers of the Throne praise Allah and pray for forgiveness for the Believers
Allah tells us that the angels who are close to Him, the bearers of the Throne, and the angels who are around Him -- all glorify the praises of their Lord. They combine glorification (Tasbih) which implies that He is free of any shortcomings, with praise (Tahmid) which is an affirmation of praise.
وَيُؤْمِنُونَ بِهِ
(and believe in Him,) means, they humbly submit themselves before Him.
وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and ask forgiveness for those who believe) means, for those among the people of earth who believe in the Unseen. Allah commanded that His angels who are close to Him should pray for the believers in their absence, so it is a part of the angels' nature that they say Amin when a believer prays for his brother in his absence. In Sahih Muslim it says:
«إِذَا دَعَا الْمُسْلِمُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ قَالَ الْمَلَكُ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلِه»
(When a Muslim prays for his brother in his absence, the angel says, `Amin, and may you have something similar to it'.)" Shahr bin Hawshab said, "The bearers of the Throne are eight; four of them say, `Glory and praise be to You, O Allah, to You be praise for Your forebearance after Your knowledge. ' Four of them say, `Glory and praise be to You, O Allah, to You be praise for Your forgiveness after Your power.' When they pray for forgiveness for those who believe, they say:
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُـلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْماً
(Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,) meaning, `Your mercy encompasses their sins and Your knowledge encompasses all their deeds, words and action.'
فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَاتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ
(so forgive those who repent and follow Your way.)" That is, `forgive the sinners when they repent to You and turn to You and give up their former ways, following Your commands to do good and abstain from evil.'
وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and save them from the torment of the blazing Fire!) means, `snatch them away from the punishment of Hell, which is a painful, agonizing punishment.'
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Gardens which you have promised them -- and to the righteous among their fathers, their wives, and their offspring!) meaning, `bring them together so that they may find delight in one another in neighboring dwellings. ' This is like the Ayah:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَـنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَـهُمْ مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍ
(And those who believe and whose offspring follow them in faith, -- to them shall We join their offspring, and We shall not decrease the reward of their deeds in anything)(52:21). This means, `that all of them will be made equal in status. In this way they may delight in one another's company; the one who is in the higher status will not lose anything. On the contrary We will raise the one whose deeds are of a lower status so that they will become equal, as a favor and a blessing from Us.' Sa`id bin Jubayr said that when the believer enters Paradise, he will ask where his father, son and brother are. It will be said to him, `they did not reach the same level of good deeds as you did'. He will say, `but I did it for my sake and for theirs.' Then they will be brought to join him in that higher degree. Then Sa`id bin Jubayr recited this Ayah:
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Gardens which you have promised them -- and to the righteous among their fathers, their wives, and their offspring! Verily, You are the Almighty, the All-Wise.) Mutarrif bin `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "The most sincere of the servants of Allah towards the believers are the angels." Then he recited this Ayah:
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Paradises which you have promised them) He then said, "The most treacherous of the servants of Allah towards the believers are the Shayatin."
إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ
(You are the Almighty, the All-Wise.) means, `the One Whom none can resist or overwhelm; what You will happens and what You do not will does not happen; You are Wise in all that You say and do, in all that You legislate and decree.'
وَقِهِمُ السَّيِّئَـتِ
(And save them from the sins,) means, the actions and the consequences.
وَمَن تَقِ السَّيِّئَـتِ يَوْمَئِذٍ
(and whomsoever You save from the sins that Day,) means, the Day of Resurrection,
فَقَدْ رَحِمْتَهُ
(him verily, You have taken into mercy.) means, `You have protected him and saved him from punishment.'
وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(And that is the supreme success. )
اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے۔عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایمان دار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کردیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ ﷺ نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے زحل و ثور تحت وجل یمینہ والنسر للاخری و لیث مرصد یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا والشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہوجاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ نے فرمایا سچ ہے۔ اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے (وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحا میں رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں ؟ کہا ہاں ! فرمایا عنان بھی ؟ عرض کیا ہاں ! پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے ؟ صحابہ نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ حضرت شہر بن حوشب کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے (سبحانک اللھم وبحمد لک الحمد علی حملک بعد عملک) یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد وثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے (سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی عفوک بعد قدرتک) یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لئے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہر چیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔ بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔ پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آجائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے دردناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کے جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔ جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) ، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کردیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کردیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مومن جنت میں جاکر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے ؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لئے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت (رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۙ) 40۔ غافر :8) کی تلاوت فرمائی۔ حضرت مطرف بن عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔ تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔
وَقِهِمُ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ وَمَن تَقِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ يَوۡمَئِذٖ فَقَدۡ رَحِمۡتَهُۥۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
“And save them from the evil consequences of sins; and whomever You save from the evil consequences of sins on that Day – so You have indeed had mercy upon him; and this only is the greatest success.”
اور اُن کو برائیوں (کی سزا) سے بچا لے، اور جسے تو نے اُس دن برائیوں (کی سزا) سے بچا لیا سو بے شک تو نے اُس پر رحم فرمایا، اور یہی تو عظیم کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Bearers of the Throne praise Allah and pray for forgiveness for the Believers
Allah tells us that the angels who are close to Him, the bearers of the Throne, and the angels who are around Him -- all glorify the praises of their Lord. They combine glorification (Tasbih) which implies that He is free of any shortcomings, with praise (Tahmid) which is an affirmation of praise.
وَيُؤْمِنُونَ بِهِ
(and believe in Him,) means, they humbly submit themselves before Him.
وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ
(and ask forgiveness for those who believe) means, for those among the people of earth who believe in the Unseen. Allah commanded that His angels who are close to Him should pray for the believers in their absence, so it is a part of the angels' nature that they say Amin when a believer prays for his brother in his absence. In Sahih Muslim it says:
«إِذَا دَعَا الْمُسْلِمُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ قَالَ الْمَلَكُ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلِه»
(When a Muslim prays for his brother in his absence, the angel says, `Amin, and may you have something similar to it'.)" Shahr bin Hawshab said, "The bearers of the Throne are eight; four of them say, `Glory and praise be to You, O Allah, to You be praise for Your forebearance after Your knowledge. ' Four of them say, `Glory and praise be to You, O Allah, to You be praise for Your forgiveness after Your power.' When they pray for forgiveness for those who believe, they say:
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُـلَّ شَىْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْماً
(Our Lord! You comprehend all things in mercy and knowledge,) meaning, `Your mercy encompasses their sins and Your knowledge encompasses all their deeds, words and action.'
فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُواْ وَاتَّبَعُواْ سَبِيلَكَ
(so forgive those who repent and follow Your way.)" That is, `forgive the sinners when they repent to You and turn to You and give up their former ways, following Your commands to do good and abstain from evil.'
وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
(and save them from the torment of the blazing Fire!) means, `snatch them away from the punishment of Hell, which is a painful, agonizing punishment.'
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Gardens which you have promised them -- and to the righteous among their fathers, their wives, and their offspring!) meaning, `bring them together so that they may find delight in one another in neighboring dwellings. ' This is like the Ayah:
وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَـنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَـهُمْ مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍ
(And those who believe and whose offspring follow them in faith, -- to them shall We join their offspring, and We shall not decrease the reward of their deeds in anything)(52:21). This means, `that all of them will be made equal in status. In this way they may delight in one another's company; the one who is in the higher status will not lose anything. On the contrary We will raise the one whose deeds are of a lower status so that they will become equal, as a favor and a blessing from Us.' Sa`id bin Jubayr said that when the believer enters Paradise, he will ask where his father, son and brother are. It will be said to him, `they did not reach the same level of good deeds as you did'. He will say, `but I did it for my sake and for theirs.' Then they will be brought to join him in that higher degree. Then Sa`id bin Jubayr recited this Ayah:
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ وَمَن صَـلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَجِهِمْ وَذُرِّيَّـتِهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Gardens which you have promised them -- and to the righteous among their fathers, their wives, and their offspring! Verily, You are the Almighty, the All-Wise.) Mutarrif bin `Abdullah bin Ash-Shikhkhir said, "The most sincere of the servants of Allah towards the believers are the angels." Then he recited this Ayah:
رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّـتِ عَدْنٍ الَّتِى وَعَدْتَّهُمْ
(Our Lord! And make them enter the `Adn (Eternal) Paradises which you have promised them) He then said, "The most treacherous of the servants of Allah towards the believers are the Shayatin."
إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ
(You are the Almighty, the All-Wise.) means, `the One Whom none can resist or overwhelm; what You will happens and what You do not will does not happen; You are Wise in all that You say and do, in all that You legislate and decree.'
وَقِهِمُ السَّيِّئَـتِ
(And save them from the sins,) means, the actions and the consequences.
وَمَن تَقِ السَّيِّئَـتِ يَوْمَئِذٍ
(and whomsoever You save from the sins that Day,) means, the Day of Resurrection,
فَقَدْ رَحِمْتَهُ
(him verily, You have taken into mercy.) means, `You have protected him and saved him from punishment.'
وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(And that is the supreme success. )
اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے۔عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایمان دار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب فرشتے ان گناہوں کی معافی طلب کرنے کیلئے مقرر کردیئے جو ان کے بن دیکھے ہر وقت ان کی تقصیروں کی معافی طلب کیا کرتے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے اس کی غیر حاضری میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے اور اس کیلئے دعا کرتا ہے کہ اللہ تجھے بھی یہی دے جو تو اس مسلمان کیلئے اللہ سے مانگ رہا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ امیہ بن صلت کے بعض اشعار کی رسول اللہ ﷺ نے تصدیق کی جیسے یہ شعر ہے زحل و ثور تحت وجل یمینہ والنسر للاخری و لیث مرصد یعنی حاملان عرش چار فرشتے ہیں دو ایک طرف دو دوسری طرف۔ آپ نے فرمایا سچ ہے پھر اس نے کہا والشمس تطلع کل اخر لیلتہ حمراء یصبح لونھا یتورد تابی فما تطلع لنا فی رسلھا الا معذبتہ والا تجلد یعنی سورج سرخ رنگ طلوع ہوتا ہے پھر گلابی ہوجاتا ہے، اپنی ہیئت میں کبھی صاف ظاہر نہیں ہوتا بلکہ روکھا پھیکا ہی رہتا ہے، آپ نے فرمایا سچ ہے۔ اس کی سند بہت پختہ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حاملان عرش چار فرشتے ہیں، ہاں قیامت کے دن عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے (وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) ہاں اس آیت کے مطلب اور اس حدیث کے استدلال میں ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ بطحا میں رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے ایک ابر کو گزرتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا کہ اس کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے کہا سحاب۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور اسے مزن بھی کہتے ہیں ؟ کہا ہاں ! فرمایا عنان بھی ؟ عرض کیا ہاں ! پوچھا جانتے ہو آسمان و زمین میں کس قدر فاصلہ ہے ؟ صحابہ نے کہا نہیں، فرمایا اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کا راستہ پھر اس کے اوپر کا آسمان بھی پہلے آسمان سے اتنے ہی فاصلے پر اسی طرح ساتوں آسمان ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے جس کی اتنی ہی گہرائی ہے پھر اس پر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت کے ہیں جن کے کھر سے گھٹنے کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جس کی اونچائی بھی اسی قدر ہے۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرش اللہ اس وقت آٹھ فرشتوں کے اوپر ہے۔ حضرت شہر بن حوشب کا فرمان ہے کہ حاملان عرش آٹھ ہیں جن میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہے (سبحانک اللھم وبحمد لک الحمد علی حملک بعد عملک) یعنی اے باری تعالیٰ تیری پاک ذات ہی کیلئے ہر طرح کی حمد وثناء ہے کہ تو باوجود علم کے پھر بردباری اور علم کرتا ہے۔ اور دوسرے چار کی تسبیح یہ ہے (سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی عفوک بعد قدرتک) یعنی اے اللہ باوجود قدرت کے تو جو معافی اور درگذر کرتا رہتا ہے اس پر ہم تیری پاکیزگی اور تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لئے مومنوں کے استغفار میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تیری رحمت و علم نے ہر چیز کو اپنی وسعت و کشادگی میں لے لیا ہے۔ بنی آدم کے تمام گناہ ان کی کل خطاؤں پر تیری رحمت چھائے ہوئے ہے، اسی طرح تیرا علم بھی ان کے جملہ اقوال و افعال کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ ان کی کل حرکات و سکنات سے تو بخوبی واقف ہے۔ پس تو ان کے برے لوگوں کو جب وہ توبہ کریں اور تیری طرف جھکیں اور گناہوں سے باز آجائیں اور تیرے احکام کی تعمیل کریں نیکیاں کریں بدیاں چھوڑیں بخش دے، اور انہیں جہنم کے دردناک گھبراہٹ والے عذابوں سے نجات دے۔ انہیں مع ان کے والدین بیویوں اور بچوں کے جنت میں لے جا تاکہ ان کی آنکھیں ہر طرح ٹھنڈی رہیں۔ گو ان کے اعمال ان جتنے نہ ہوں تاہم تو ان کے درجات بڑھا کر اونچے درجے میں پہنچا دے۔ جیسے باری تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) ، یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور ان کے ایمان کی اتباع ان کی اولاد بھی کرے ہم ان کی اولاد کو بھی ان سے ملا دیں گے اور ان کا کوئی عمل کم نہ کریں گے۔ درجے میں سب کو برابری دیں گے۔ تاکہ دونوں جانب کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور پھر یہ نہ کریں گے کہ درجوں میں بڑھے ہوؤں کو نیچا کردیں نہیں بلکہ نیچے والوں کو صرف اپنی رحمت و احسان کے ساتھ اونچا کردیں گے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں مومن جنت میں جاکر پوچھے گا کہ میرا باپ میرے بھائی میری اولاد کہاں ہے ؟ جواب ملے گا کہ ان کی نیکیاں اتنی نہ تھیں کہ وہ اس درجے میں پہنچتے، یہ کہے گا کہ میں نے تو اپنے لئے اور ان سب کیلئے عمل کئے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دے گا۔ پھر آپ نے اسی آیت (رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ۙ) 40۔ غافر :8) کی تلاوت فرمائی۔ حضرت مطرف بن عبداللہ ؓ کا فرمان ہے کہ ایمانداروں کی خیر خواہی فرشتے بھی کرتے ہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور شیاطین ان کی بدخواہی کرتے ہیں۔ تو ایسا غالب ہے جس پر کوئی غالب نہیں اور جسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جو تو چاہتا ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوسکتا۔ تو اپنے اقوال و افعال شریعت و تقدیر میں حکمت والا ہے، تو انہیں برائیوں کے کرنے سے دنیا میں اور ان کے وبال سے دونوں جہان میں محفوظ رکھ، قیامت کے دن رحمت والا وہی شمار ہوسکتا ہے جسے تو اپنی سزا سے اور اپنے عذاب سے بچالے حقیقتاً بڑی کامیابی پوری مقصد دری اور ظفریابی یہی ہے۔
10
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُ مِن مَّقۡتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡ إِذۡ تُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلۡإِيمَٰنِ فَتَكۡفُرُونَ
The disbelievers will indeed be called out to – “Indeed Allah’s disgust with you is greater than your own abhorrence of yourselves, whereas you used to deny when you were called towards the faith!”
بے شک جنہوں نے کفر کیا انہیں پکار کر کہا جائے گا: (آج) تم سے اللہ کی بیزاری، تمہاری جانوں سے تمہاری اپنی بیزاری سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے، جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے مگر تم انکار کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Regret of the Disbelievers after They enter Hell
Allah tells us that the disbelievers will feel regret on the Day of Resurrection, when they enter Hell and sink in the agonizing depth of fire. When they actually experience the unbearable punishment of Allah, they will hate themselves with the utmost hatred, because of the sins they committed in the past, which were the cause of their entering the Fire. At that point the angels will tell them in a loud voice that Allah's hatred towards them in this world, when Faith was offered to them and they rejected it, is greater than their hatred towards themselves in this situation. Qatadah said, concerning the Ayah:
لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُـمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الإِيمَـنِ فَتَكْفُرُونَ
(Indeed, Allah's aversion was greater towards you than your aversion toward yourselves, when you were called to the Faith but you used to refuse.) "Allah's hatred for the people of misguidance -- when Faith is presented to them in this world, and they turn away from it and refuse to accept it -- is greater than their hatred for themselves when they see the punishment of Allah with their own eyes on the Day of Resurrection." This was also the view of Al-Hasan Al-Basri, Mujahid, As-Suddi, Dharr bin `Ubaydullah Al-Hamdani, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and Ibn Jarir At-Tabari, may Allah have mercy on them all.
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(They will say: "Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!...") Ath-Thawri narrated from Abu Ishaq from Abu Al-Ahwas from Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him: "This Ayah is like the Ayah:
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَتًا فَأَحْيَـكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(How can you disbelieve in Allah Seeing that you were dead and He gave you life. Then He will give you death, then again will bring you to life and then unto Him you will return.)"(2:28) This was also the view of Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah and Abu Malik. This is undoubtedly the correct view. What is meant by all of this is that when they are standing before Allah in the arena of Resurrection, the disbelievers will ask to go back, as Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(And if you only could see when the criminals shall hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard, so send us back, that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.") (32:12), However, they will get no response. Then when they see the Fire and they are held over it and they look at the punishments therein, they will ask even more fervently than before to go back, but they will get no response. Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) (6:27-28). When they actually enter Hell and have a taste of its heat, hooked rods of iron and chains, their plea to go back will be at its most desperate and fervent:
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً غَيْرَ الَّذِى كُـنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُواْ فَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
(Therein they will cry: "Our Lord! Bring us out, we shall do righteous good deeds, not that we used do." (Allah will reply): "Did We not give you lives long enough, so that whosoever would receive admonition could receive it And the warner came to you. So taste you. For the wrongdoers there is no helper.") (35:37)
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَـلِمُونَ - قَالَ اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Our Lord! Bring us out of this. If ever we return (to evil), then indeed we shall be wrongdoers." He (Allah) will say: "Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108). According to this Ayah, they will speak more eloquently, and they will introduce their plea with the words:
رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!) meaning, `by Your almighty power, You have brought us to life after we were dead, then You caused us to die after we were alive; You are able to do whatever You will. We confess our sins and admit that we wronged ourselves in the world,'
فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِّن سَبِيلٍ
(then is there any way to get out) means, `will You answer our prayer to send us back to the world, for You are able to do that, so that we might do deeds different from those which we used to do Then if we go back to our former ways, we will indeed be wrongdoers.' The response will be: `There is no way for you to go back to the world.' Then the reason for that will be given: `Your nature will not accept the truth and be governed by it, you would reject it and ignore it.' Allah says:
ذَلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِىَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَـفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُواْ
((It will be said): "This is because, when Allah Alone was invoked (in worship), you disbelieved; but when partners were joined to Him, you believed!") meaning, `if you were to go back, this is how you would be.' This is like the Ayah:
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that when they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28).
فَالْحُكْمُ للَّهِ الْعَلِـىِّ الْكَبِيرِ
(So the judgement is only with Allah, the Most High, the Most Great!) means, He is the Judge of His creation, the Just Who is never unjust. He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills; He has mercy on whomsoever He wills and punishes whomsoever He wills; there is no God except Him.
هُوَ الَّذِى يُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ
(It is He Who shows you His Ayat) means, He demonstrates His power to His servants through the mighty signs which they see in His creation, above and below, which indicate the perfection of its Creator and Originator.
وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقاً
(and sends down provision for you from the sky.) this refers to rain, through which crops and fruits are brought forth, which with their different colors, tastes, fragrances and forms are a sign of the Creator. It is one kind of water, but by His great power He makes all these things different.
وَمَا يَتَذَكَّرُ
(And none remembers) means, no one learns a lesson or is reminded by these things, or takes them as a sign of the might of the Creator,
إِلاَّ مَن يُنِيبُ
(but those who turn in repentance.) which means, those who have insight and turn to Allah, may He be blessed and exalted.
The Believers are commanded to worship Allah Alone no matter what Their Circumstances
فَادْعُواْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(So, call you upon Allah making religion sincerely for Him, however much the disbelievers may hate.) This means, worship Allah and call upon Him alone in all sincerity. Do not be like the idolators in conduct and beliefs. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say: "There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belongs the blessings and the virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that." He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say Tahlil with this after every prayer." Something similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. It was reported in Sahih from Ibn Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ used to say the following after the prescribed (obligatory) prayers:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّــنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; His is the blessing and virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers hate that.)
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔ قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) کے ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کردیئے گئے۔ ابن زید فرماتے ہیں حضرت آدم ؑ کی پیٹھ سے روز میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لئے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے، صحیح قول حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ (یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں) مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے جیسے فرمان ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) ، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے (ولو تری اذوقفوا علی النار) یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان ہوتے، بلکہ ان کے لئے وہ ظاہر ہوگیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہوجائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے (رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ 37) 35۔ فاطر :37) ، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقینا کرسکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہیں گے کہ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقینا ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہوجاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کردی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کردیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کردیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقینا ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقینا تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لئے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آجاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہوجائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔ پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔ وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکر و غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہوجاؤ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر)اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ (مسند احمد) یہ حدیث مسلم ابو داؤد وغیرہ میں بھی ہے ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔
11
View Single
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَيۡنِ وَأَحۡيَيۡتَنَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجٖ مِّن سَبِيلٖ
They will say, “O Our Lord! Twice You have given us death and twice You have given us life* – we now confess to our sins – so is there a way out of the fire?” (From nothingness to life in this world, to death and then Resurrection.)
وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور تو نے ہمیں دو بار (ہی) زندگی بخشی، سو (اب) ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، پس کیا (عذاب سے بچ) نکلنے کی طرف کوئی راستہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Regret of the Disbelievers after They enter Hell
Allah tells us that the disbelievers will feel regret on the Day of Resurrection, when they enter Hell and sink in the agonizing depth of fire. When they actually experience the unbearable punishment of Allah, they will hate themselves with the utmost hatred, because of the sins they committed in the past, which were the cause of their entering the Fire. At that point the angels will tell them in a loud voice that Allah's hatred towards them in this world, when Faith was offered to them and they rejected it, is greater than their hatred towards themselves in this situation. Qatadah said, concerning the Ayah:
لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُـمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الإِيمَـنِ فَتَكْفُرُونَ
(Indeed, Allah's aversion was greater towards you than your aversion toward yourselves, when you were called to the Faith but you used to refuse.) "Allah's hatred for the people of misguidance -- when Faith is presented to them in this world, and they turn away from it and refuse to accept it -- is greater than their hatred for themselves when they see the punishment of Allah with their own eyes on the Day of Resurrection." This was also the view of Al-Hasan Al-Basri, Mujahid, As-Suddi, Dharr bin `Ubaydullah Al-Hamdani, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and Ibn Jarir At-Tabari, may Allah have mercy on them all.
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(They will say: "Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!...") Ath-Thawri narrated from Abu Ishaq from Abu Al-Ahwas from Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him: "This Ayah is like the Ayah:
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَتًا فَأَحْيَـكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(How can you disbelieve in Allah Seeing that you were dead and He gave you life. Then He will give you death, then again will bring you to life and then unto Him you will return.)"(2:28) This was also the view of Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah and Abu Malik. This is undoubtedly the correct view. What is meant by all of this is that when they are standing before Allah in the arena of Resurrection, the disbelievers will ask to go back, as Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(And if you only could see when the criminals shall hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard, so send us back, that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.") (32:12), However, they will get no response. Then when they see the Fire and they are held over it and they look at the punishments therein, they will ask even more fervently than before to go back, but they will get no response. Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) (6:27-28). When they actually enter Hell and have a taste of its heat, hooked rods of iron and chains, their plea to go back will be at its most desperate and fervent:
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً غَيْرَ الَّذِى كُـنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُواْ فَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
(Therein they will cry: "Our Lord! Bring us out, we shall do righteous good deeds, not that we used do." (Allah will reply): "Did We not give you lives long enough, so that whosoever would receive admonition could receive it And the warner came to you. So taste you. For the wrongdoers there is no helper.") (35:37)
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَـلِمُونَ - قَالَ اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Our Lord! Bring us out of this. If ever we return (to evil), then indeed we shall be wrongdoers." He (Allah) will say: "Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108). According to this Ayah, they will speak more eloquently, and they will introduce their plea with the words:
رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!) meaning, `by Your almighty power, You have brought us to life after we were dead, then You caused us to die after we were alive; You are able to do whatever You will. We confess our sins and admit that we wronged ourselves in the world,'
فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِّن سَبِيلٍ
(then is there any way to get out) means, `will You answer our prayer to send us back to the world, for You are able to do that, so that we might do deeds different from those which we used to do Then if we go back to our former ways, we will indeed be wrongdoers.' The response will be: `There is no way for you to go back to the world.' Then the reason for that will be given: `Your nature will not accept the truth and be governed by it, you would reject it and ignore it.' Allah says:
ذَلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِىَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَـفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُواْ
((It will be said): "This is because, when Allah Alone was invoked (in worship), you disbelieved; but when partners were joined to Him, you believed!") meaning, `if you were to go back, this is how you would be.' This is like the Ayah:
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that when they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28).
فَالْحُكْمُ للَّهِ الْعَلِـىِّ الْكَبِيرِ
(So the judgement is only with Allah, the Most High, the Most Great!) means, He is the Judge of His creation, the Just Who is never unjust. He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills; He has mercy on whomsoever He wills and punishes whomsoever He wills; there is no God except Him.
هُوَ الَّذِى يُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ
(It is He Who shows you His Ayat) means, He demonstrates His power to His servants through the mighty signs which they see in His creation, above and below, which indicate the perfection of its Creator and Originator.
وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقاً
(and sends down provision for you from the sky.) this refers to rain, through which crops and fruits are brought forth, which with their different colors, tastes, fragrances and forms are a sign of the Creator. It is one kind of water, but by His great power He makes all these things different.
وَمَا يَتَذَكَّرُ
(And none remembers) means, no one learns a lesson or is reminded by these things, or takes them as a sign of the might of the Creator,
إِلاَّ مَن يُنِيبُ
(but those who turn in repentance.) which means, those who have insight and turn to Allah, may He be blessed and exalted.
The Believers are commanded to worship Allah Alone no matter what Their Circumstances
فَادْعُواْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(So, call you upon Allah making religion sincerely for Him, however much the disbelievers may hate.) This means, worship Allah and call upon Him alone in all sincerity. Do not be like the idolators in conduct and beliefs. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say: "There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belongs the blessings and the virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that." He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say Tahlil with this after every prayer." Something similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. It was reported in Sahih from Ibn Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ used to say the following after the prescribed (obligatory) prayers:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّــنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; His is the blessing and virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers hate that.)
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔ قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) کے ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کردیئے گئے۔ ابن زید فرماتے ہیں حضرت آدم ؑ کی پیٹھ سے روز میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لئے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے، صحیح قول حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ (یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں) مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے جیسے فرمان ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) ، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے (ولو تری اذوقفوا علی النار) یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان ہوتے، بلکہ ان کے لئے وہ ظاہر ہوگیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہوجائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے (رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ 37) 35۔ فاطر :37) ، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقینا کرسکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہیں گے کہ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقینا ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہوجاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کردی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کردیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کردیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقینا ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقینا تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لئے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آجاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہوجائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔ پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔ وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکر و غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہوجاؤ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر)اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ (مسند احمد) یہ حدیث مسلم ابو داؤد وغیرہ میں بھی ہے ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔
12
View Single
ذَٰلِكُم بِأَنَّهُۥٓ إِذَا دُعِيَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُۥ كَفَرۡتُمۡ وَإِن يُشۡرَكۡ بِهِۦ تُؤۡمِنُواْۚ فَٱلۡحُكۡمُ لِلَّهِ ٱلۡعَلِيِّ ٱلۡكَبِيرِ
“This has occurred because when Allah the One was prayed to, you used to disbelieve; and when a partner was ascribed with Him, you used to believe; so the command is only for Allah, the Supreme, the Great.”
(ان سے کہا جائے گا: نہیں) یہ (دائمی عذاب) اس وجہ سے ہے کہ جب اللہ کو تنہا پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان جاتے تھے، پس (اب) اللہ ہی کا حکم ہے جو (سب سے) بلند و بالا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Regret of the Disbelievers after They enter Hell
Allah tells us that the disbelievers will feel regret on the Day of Resurrection, when they enter Hell and sink in the agonizing depth of fire. When they actually experience the unbearable punishment of Allah, they will hate themselves with the utmost hatred, because of the sins they committed in the past, which were the cause of their entering the Fire. At that point the angels will tell them in a loud voice that Allah's hatred towards them in this world, when Faith was offered to them and they rejected it, is greater than their hatred towards themselves in this situation. Qatadah said, concerning the Ayah:
لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُـمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الإِيمَـنِ فَتَكْفُرُونَ
(Indeed, Allah's aversion was greater towards you than your aversion toward yourselves, when you were called to the Faith but you used to refuse.) "Allah's hatred for the people of misguidance -- when Faith is presented to them in this world, and they turn away from it and refuse to accept it -- is greater than their hatred for themselves when they see the punishment of Allah with their own eyes on the Day of Resurrection." This was also the view of Al-Hasan Al-Basri, Mujahid, As-Suddi, Dharr bin `Ubaydullah Al-Hamdani, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and Ibn Jarir At-Tabari, may Allah have mercy on them all.
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(They will say: "Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!...") Ath-Thawri narrated from Abu Ishaq from Abu Al-Ahwas from Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him: "This Ayah is like the Ayah:
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَتًا فَأَحْيَـكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(How can you disbelieve in Allah Seeing that you were dead and He gave you life. Then He will give you death, then again will bring you to life and then unto Him you will return.)"(2:28) This was also the view of Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah and Abu Malik. This is undoubtedly the correct view. What is meant by all of this is that when they are standing before Allah in the arena of Resurrection, the disbelievers will ask to go back, as Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(And if you only could see when the criminals shall hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard, so send us back, that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.") (32:12), However, they will get no response. Then when they see the Fire and they are held over it and they look at the punishments therein, they will ask even more fervently than before to go back, but they will get no response. Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) (6:27-28). When they actually enter Hell and have a taste of its heat, hooked rods of iron and chains, their plea to go back will be at its most desperate and fervent:
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً غَيْرَ الَّذِى كُـنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُواْ فَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
(Therein they will cry: "Our Lord! Bring us out, we shall do righteous good deeds, not that we used do." (Allah will reply): "Did We not give you lives long enough, so that whosoever would receive admonition could receive it And the warner came to you. So taste you. For the wrongdoers there is no helper.") (35:37)
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَـلِمُونَ - قَالَ اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Our Lord! Bring us out of this. If ever we return (to evil), then indeed we shall be wrongdoers." He (Allah) will say: "Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108). According to this Ayah, they will speak more eloquently, and they will introduce their plea with the words:
رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!) meaning, `by Your almighty power, You have brought us to life after we were dead, then You caused us to die after we were alive; You are able to do whatever You will. We confess our sins and admit that we wronged ourselves in the world,'
فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِّن سَبِيلٍ
(then is there any way to get out) means, `will You answer our prayer to send us back to the world, for You are able to do that, so that we might do deeds different from those which we used to do Then if we go back to our former ways, we will indeed be wrongdoers.' The response will be: `There is no way for you to go back to the world.' Then the reason for that will be given: `Your nature will not accept the truth and be governed by it, you would reject it and ignore it.' Allah says:
ذَلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِىَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَـفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُواْ
((It will be said): "This is because, when Allah Alone was invoked (in worship), you disbelieved; but when partners were joined to Him, you believed!") meaning, `if you were to go back, this is how you would be.' This is like the Ayah:
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that when they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28).
فَالْحُكْمُ للَّهِ الْعَلِـىِّ الْكَبِيرِ
(So the judgement is only with Allah, the Most High, the Most Great!) means, He is the Judge of His creation, the Just Who is never unjust. He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills; He has mercy on whomsoever He wills and punishes whomsoever He wills; there is no God except Him.
هُوَ الَّذِى يُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ
(It is He Who shows you His Ayat) means, He demonstrates His power to His servants through the mighty signs which they see in His creation, above and below, which indicate the perfection of its Creator and Originator.
وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقاً
(and sends down provision for you from the sky.) this refers to rain, through which crops and fruits are brought forth, which with their different colors, tastes, fragrances and forms are a sign of the Creator. It is one kind of water, but by His great power He makes all these things different.
وَمَا يَتَذَكَّرُ
(And none remembers) means, no one learns a lesson or is reminded by these things, or takes them as a sign of the might of the Creator,
إِلاَّ مَن يُنِيبُ
(but those who turn in repentance.) which means, those who have insight and turn to Allah, may He be blessed and exalted.
The Believers are commanded to worship Allah Alone no matter what Their Circumstances
فَادْعُواْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(So, call you upon Allah making religion sincerely for Him, however much the disbelievers may hate.) This means, worship Allah and call upon Him alone in all sincerity. Do not be like the idolators in conduct and beliefs. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say: "There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belongs the blessings and the virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that." He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say Tahlil with this after every prayer." Something similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. It was reported in Sahih from Ibn Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ used to say the following after the prescribed (obligatory) prayers:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّــنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; His is the blessing and virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers hate that.)
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔ قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) کے ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کردیئے گئے۔ ابن زید فرماتے ہیں حضرت آدم ؑ کی پیٹھ سے روز میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لئے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے، صحیح قول حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ (یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں) مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے جیسے فرمان ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) ، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے (ولو تری اذوقفوا علی النار) یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان ہوتے، بلکہ ان کے لئے وہ ظاہر ہوگیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہوجائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے (رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ 37) 35۔ فاطر :37) ، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقینا کرسکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہیں گے کہ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقینا ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہوجاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کردی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کردیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کردیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقینا ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقینا تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لئے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آجاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہوجائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔ پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔ وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکر و غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہوجاؤ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر)اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ (مسند احمد) یہ حدیث مسلم ابو داؤد وغیرہ میں بھی ہے ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔
13
View Single
هُوَ ٱلَّذِي يُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ رِزۡقٗاۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ
It is He Who shows you His signs, and sends down sustenance from the sky for you; and none accept guidance except those who incline (towards Him).
وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے، اور نصیحت صرف وہی قبول کرتا ہے جو رجوع (الی اللہ) میں رہتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Regret of the Disbelievers after They enter Hell
Allah tells us that the disbelievers will feel regret on the Day of Resurrection, when they enter Hell and sink in the agonizing depth of fire. When they actually experience the unbearable punishment of Allah, they will hate themselves with the utmost hatred, because of the sins they committed in the past, which were the cause of their entering the Fire. At that point the angels will tell them in a loud voice that Allah's hatred towards them in this world, when Faith was offered to them and they rejected it, is greater than their hatred towards themselves in this situation. Qatadah said, concerning the Ayah:
لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُـمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الإِيمَـنِ فَتَكْفُرُونَ
(Indeed, Allah's aversion was greater towards you than your aversion toward yourselves, when you were called to the Faith but you used to refuse.) "Allah's hatred for the people of misguidance -- when Faith is presented to them in this world, and they turn away from it and refuse to accept it -- is greater than their hatred for themselves when they see the punishment of Allah with their own eyes on the Day of Resurrection." This was also the view of Al-Hasan Al-Basri, Mujahid, As-Suddi, Dharr bin `Ubaydullah Al-Hamdani, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and Ibn Jarir At-Tabari, may Allah have mercy on them all.
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(They will say: "Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!...") Ath-Thawri narrated from Abu Ishaq from Abu Al-Ahwas from Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him: "This Ayah is like the Ayah:
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَتًا فَأَحْيَـكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(How can you disbelieve in Allah Seeing that you were dead and He gave you life. Then He will give you death, then again will bring you to life and then unto Him you will return.)"(2:28) This was also the view of Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah and Abu Malik. This is undoubtedly the correct view. What is meant by all of this is that when they are standing before Allah in the arena of Resurrection, the disbelievers will ask to go back, as Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(And if you only could see when the criminals shall hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard, so send us back, that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.") (32:12), However, they will get no response. Then when they see the Fire and they are held over it and they look at the punishments therein, they will ask even more fervently than before to go back, but they will get no response. Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) (6:27-28). When they actually enter Hell and have a taste of its heat, hooked rods of iron and chains, their plea to go back will be at its most desperate and fervent:
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً غَيْرَ الَّذِى كُـنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُواْ فَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
(Therein they will cry: "Our Lord! Bring us out, we shall do righteous good deeds, not that we used do." (Allah will reply): "Did We not give you lives long enough, so that whosoever would receive admonition could receive it And the warner came to you. So taste you. For the wrongdoers there is no helper.") (35:37)
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَـلِمُونَ - قَالَ اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Our Lord! Bring us out of this. If ever we return (to evil), then indeed we shall be wrongdoers." He (Allah) will say: "Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108). According to this Ayah, they will speak more eloquently, and they will introduce their plea with the words:
رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!) meaning, `by Your almighty power, You have brought us to life after we were dead, then You caused us to die after we were alive; You are able to do whatever You will. We confess our sins and admit that we wronged ourselves in the world,'
فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِّن سَبِيلٍ
(then is there any way to get out) means, `will You answer our prayer to send us back to the world, for You are able to do that, so that we might do deeds different from those which we used to do Then if we go back to our former ways, we will indeed be wrongdoers.' The response will be: `There is no way for you to go back to the world.' Then the reason for that will be given: `Your nature will not accept the truth and be governed by it, you would reject it and ignore it.' Allah says:
ذَلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِىَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَـفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُواْ
((It will be said): "This is because, when Allah Alone was invoked (in worship), you disbelieved; but when partners were joined to Him, you believed!") meaning, `if you were to go back, this is how you would be.' This is like the Ayah:
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that when they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28).
فَالْحُكْمُ للَّهِ الْعَلِـىِّ الْكَبِيرِ
(So the judgement is only with Allah, the Most High, the Most Great!) means, He is the Judge of His creation, the Just Who is never unjust. He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills; He has mercy on whomsoever He wills and punishes whomsoever He wills; there is no God except Him.
هُوَ الَّذِى يُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ
(It is He Who shows you His Ayat) means, He demonstrates His power to His servants through the mighty signs which they see in His creation, above and below, which indicate the perfection of its Creator and Originator.
وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقاً
(and sends down provision for you from the sky.) this refers to rain, through which crops and fruits are brought forth, which with their different colors, tastes, fragrances and forms are a sign of the Creator. It is one kind of water, but by His great power He makes all these things different.
وَمَا يَتَذَكَّرُ
(And none remembers) means, no one learns a lesson or is reminded by these things, or takes them as a sign of the might of the Creator,
إِلاَّ مَن يُنِيبُ
(but those who turn in repentance.) which means, those who have insight and turn to Allah, may He be blessed and exalted.
The Believers are commanded to worship Allah Alone no matter what Their Circumstances
فَادْعُواْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(So, call you upon Allah making religion sincerely for Him, however much the disbelievers may hate.) This means, worship Allah and call upon Him alone in all sincerity. Do not be like the idolators in conduct and beliefs. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say: "There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belongs the blessings and the virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that." He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say Tahlil with this after every prayer." Something similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. It was reported in Sahih from Ibn Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ used to say the following after the prescribed (obligatory) prayers:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّــنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; His is the blessing and virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers hate that.)
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔ قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) کے ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کردیئے گئے۔ ابن زید فرماتے ہیں حضرت آدم ؑ کی پیٹھ سے روز میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لئے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے، صحیح قول حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ (یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں) مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے جیسے فرمان ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) ، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے (ولو تری اذوقفوا علی النار) یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان ہوتے، بلکہ ان کے لئے وہ ظاہر ہوگیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہوجائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے (رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ 37) 35۔ فاطر :37) ، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقینا کرسکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہیں گے کہ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقینا ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہوجاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کردی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کردیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کردیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقینا ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقینا تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لئے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آجاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہوجائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔ پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔ وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکر و غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہوجاؤ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر)اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ (مسند احمد) یہ حدیث مسلم ابو داؤد وغیرہ میں بھی ہے ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔
14
View Single
فَٱدۡعُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
Therefore worship Allah, as His sincere bondmen even if the disbelievers get annoyed.
پس تم اللہ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Regret of the Disbelievers after They enter Hell
Allah tells us that the disbelievers will feel regret on the Day of Resurrection, when they enter Hell and sink in the agonizing depth of fire. When they actually experience the unbearable punishment of Allah, they will hate themselves with the utmost hatred, because of the sins they committed in the past, which were the cause of their entering the Fire. At that point the angels will tell them in a loud voice that Allah's hatred towards them in this world, when Faith was offered to them and they rejected it, is greater than their hatred towards themselves in this situation. Qatadah said, concerning the Ayah:
لَمَقْتُ اللَّهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُـمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الإِيمَـنِ فَتَكْفُرُونَ
(Indeed, Allah's aversion was greater towards you than your aversion toward yourselves, when you were called to the Faith but you used to refuse.) "Allah's hatred for the people of misguidance -- when Faith is presented to them in this world, and they turn away from it and refuse to accept it -- is greater than their hatred for themselves when they see the punishment of Allah with their own eyes on the Day of Resurrection." This was also the view of Al-Hasan Al-Basri, Mujahid, As-Suddi, Dharr bin `Ubaydullah Al-Hamdani, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and Ibn Jarir At-Tabari, may Allah have mercy on them all.
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(They will say: "Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!...") Ath-Thawri narrated from Abu Ishaq from Abu Al-Ahwas from Ibn Mas`ud, may Allah be pleased with him: "This Ayah is like the Ayah:
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَتًا فَأَحْيَـكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(How can you disbelieve in Allah Seeing that you were dead and He gave you life. Then He will give you death, then again will bring you to life and then unto Him you will return.)"(2:28) This was also the view of Ibn `Abbas, Ad-Dahhak, Qatadah and Abu Malik. This is undoubtedly the correct view. What is meant by all of this is that when they are standing before Allah in the arena of Resurrection, the disbelievers will ask to go back, as Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(And if you only could see when the criminals shall hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard, so send us back, that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.") (32:12), However, they will get no response. Then when they see the Fire and they are held over it and they look at the punishments therein, they will ask even more fervently than before to go back, but they will get no response. Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُواْ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back (to the world)! Then we would not deny the Ayat of our Lord, and we would be of the believers!" Nay, it has become manifest to them what they had been concealing before. But if they were returned, they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) (6:27-28). When they actually enter Hell and have a taste of its heat, hooked rods of iron and chains, their plea to go back will be at its most desperate and fervent:
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَـلِحاً غَيْرَ الَّذِى كُـنَّا نَعْمَلُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُواْ فَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ
(Therein they will cry: "Our Lord! Bring us out, we shall do righteous good deeds, not that we used do." (Allah will reply): "Did We not give you lives long enough, so that whosoever would receive admonition could receive it And the warner came to you. So taste you. For the wrongdoers there is no helper.") (35:37)
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَـلِمُونَ - قَالَ اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Our Lord! Bring us out of this. If ever we return (to evil), then indeed we shall be wrongdoers." He (Allah) will say: "Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108). According to this Ayah, they will speak more eloquently, and they will introduce their plea with the words:
رَبَّنَآ أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ
(Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice!) meaning, `by Your almighty power, You have brought us to life after we were dead, then You caused us to die after we were alive; You are able to do whatever You will. We confess our sins and admit that we wronged ourselves in the world,'
فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِّن سَبِيلٍ
(then is there any way to get out) means, `will You answer our prayer to send us back to the world, for You are able to do that, so that we might do deeds different from those which we used to do Then if we go back to our former ways, we will indeed be wrongdoers.' The response will be: `There is no way for you to go back to the world.' Then the reason for that will be given: `Your nature will not accept the truth and be governed by it, you would reject it and ignore it.' Allah says:
ذَلِكُم بِأَنَّهُ إِذَا دُعِىَ اللَّهُ وَحْدَهُ كَـفَرْتُمْ وَإِن يُشْرَكْ بِهِ تُؤْمِنُواْ
((It will be said): "This is because, when Allah Alone was invoked (in worship), you disbelieved; but when partners were joined to Him, you believed!") meaning, `if you were to go back, this is how you would be.' This is like the Ayah:
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that when they were forbidden. And indeed they are liars) (6:28).
فَالْحُكْمُ للَّهِ الْعَلِـىِّ الْكَبِيرِ
(So the judgement is only with Allah, the Most High, the Most Great!) means, He is the Judge of His creation, the Just Who is never unjust. He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills; He has mercy on whomsoever He wills and punishes whomsoever He wills; there is no God except Him.
هُوَ الَّذِى يُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ
(It is He Who shows you His Ayat) means, He demonstrates His power to His servants through the mighty signs which they see in His creation, above and below, which indicate the perfection of its Creator and Originator.
وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقاً
(and sends down provision for you from the sky.) this refers to rain, through which crops and fruits are brought forth, which with their different colors, tastes, fragrances and forms are a sign of the Creator. It is one kind of water, but by His great power He makes all these things different.
وَمَا يَتَذَكَّرُ
(And none remembers) means, no one learns a lesson or is reminded by these things, or takes them as a sign of the might of the Creator,
إِلاَّ مَن يُنِيبُ
(but those who turn in repentance.) which means, those who have insight and turn to Allah, may He be blessed and exalted.
The Believers are commanded to worship Allah Alone no matter what Their Circumstances
فَادْعُواْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(So, call you upon Allah making religion sincerely for Him, however much the disbelievers may hate.) This means, worship Allah and call upon Him alone in all sincerity. Do not be like the idolators in conduct and beliefs. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say: "There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belongs the blessings and the virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that." He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say Tahlil with this after every prayer." Something similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i. It was reported in Sahih from Ibn Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ used to say the following after the prescribed (obligatory) prayers:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّــنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, His is the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; His is the blessing and virtue and good praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers hate that.)
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔ قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) کے ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ دنیا میں مار ڈالے گئے پھر قبروں میں زندہ کئے گئے اور جواب سوال کے بعد مار ڈالے گئے پھر قیامت کے دن زندہ کردیئے گئے۔ ابن زید فرماتے ہیں حضرت آدم ؑ کی پیٹھ سے روز میثاق کو زندہ کئے گئے پھر ماں کے پیٹ میں روح پھونکی گئی پھر موت آئی پھر قیامت کے دن جی اٹھے۔ لیکن یہ دونوں قول ٹھیک نہیں اس لئے کہ اس طرح تین موتیں اور تین حیاتیں لازم آتی ہیں اور آیت میں دو موت اور دو زندگی کا ذکر ہے، صحیح قول حضرت ابن مسعود حضرت ابن عباس اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔ (یعنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کی ایک زندگی اور قیامت کی دوسری زندگی، پیدائش دنیا سے پہلے کی موت اور دنیا سے رخصت ہونے کی موت یہ دو موتیں اور دو زندگیاں مراد ہیں) مقصود یہ ہے کہ اس دن کافر اللہ تعالیٰ سے قیامت کے میدان میں آرزو کریں گے کہ اب انہیں دنیا میں ایک مرتبہ اور بھیج دیا جائے جیسے فرمان ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) ، تو دیکھے گا کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا اب تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو نیکیاں کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کی یہ آرزو قبول نہ فرمائی جائے گی۔ پھر جب عذاب و سزا کو جہنم اور اس کی آگ کو دیکھیں گے اور جہنم کے کنارے پہنچا دئے جائیں گے تو دوبارہ یہی درخواست کریں گے اور پہلی دفعہ سے زیادہ زور دے کر کہیں گے جیسے ارشاد ہے (ولو تری اذوقفوا علی النار) یعنی کاش کے تو دیکھتا جبکہ وہ جہنم کے پاس ٹھہرا دیئے گئے ہوں گے کہیں گے کاش کے ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے اور اپنے رب کی باتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان ہوتے، بلکہ ان کے لئے وہ ظاہر ہوگیا جو اس سے پہلے وہ چھپا رہے تھے اور بالفرض یہ واپس لوٹائے بھی جائیں تو بھی دوبارہ یہ وہی کرنے لگیں گے جس سے منع کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں ہی جھوٹے۔ اس کے بعد جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور عذاب شروع ہوجائیں گے اس وقت اور زیادہ زور دار الفاظ میں یہی آرزو کریں گے وہاں چیختے چلاتے ہوئے کہیں گے (رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ 37) 35۔ فاطر :37) ، اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال دے ہم نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے خلاف جو اب تک کرتے رہے جواب ملے گا کہ کیا ہم نے انہیں اتنی عمر اور مہلت نہ دی تھی کہ اگر یہ نصیحت حاصل کرنے والے ہوتے تو یقینا کرسکتے۔ بلکہ تمہارے پاس ہم نے آگاہ کرنے والے بھی بھیج دیئے تھے اب اپنے کرتوت کا مزہ چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں کہیں گے کہ اللہ ہمیں یہاں سے نکال دے اگر ہم پھر وہی کریں تو یقینا ہم ظالم ٹھہریں گے۔ اللہ فرمائے گا دور ہوجاؤ اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ اس آیت میں ان لوگوں نے اپنے سوال سے پہلے ایک مقدمہ قائم کر کے سوال میں ایک گونہ لطافت کردی ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا کہ باری تعالیٰ ہم مردہ تھے تو نے ہمیں زندہ کردیا پھر مار ڈالا پھر زندہ کردیا۔ پھر تو ہر اس چیز پر جسے تو چاہے قادر ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے یقینا ہم نے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کی اب بچاؤ کی کوئی صورت بنا دے۔ یعنی ہمیں دنیا کی طرف پھر لوٹا دے جو یقینا تیرے بس میں ہے ہم وہاں جا کر اپنے پہلے اعمال کے خلاف اعمال کریں گے اب اگر ہم وہی کام کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔ انہیں جواب دیا جائے گا کہ اب دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر دوبارہ چلے بھی جاؤ گے تو پھر بھی وہی کرو گے جس سے منع کئے گئے۔ تم نے اپنے دل ہی ٹیڑھے کر لئے ہیں تم اب بھی حق کو قبول نہ کرو گے بلکہ اس کے خلاف ہی کرو گے۔ تمہاری تو یہ حالت تھی کہ جہاں اللہ واحد کا ذکر آیا وہیں تمہارے دل میں کفر سمایا۔ ہاں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو تمہیں یقین و ایمان آجاتا تھا۔ یہی حالت پھر تمہاری ہوجائے گی۔ دنیا میں اگر دوبارہ گئے تو پھر بھی یہی کرو گے۔ پس حاکم حقیقی جس کے حکم میں کوئی ظلم نہ ہو سرا سر عدل و انصاف ہی ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے جس پر چاہے رحم کرے جسے چاہے عذاب کرے اس کے حکم وعدل میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ وہ اللہ اپنی قدرتیں لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ زمین و آسمان میں اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ جن سے صاف ظاہر ہے کہ سب کا خالق سب کا مالک سب کا پالنہار اور حفاظت کرنے والا وہی ہے۔ وہ آسمان سے روزی یعنی بارش نازل فرماتا ہے جس سے ہر قسم کے اناج کی کھیتیاں اور طرح طرح کے عجیب عجیب مزے کے مختلف رنگ روپ اور شکل وضع کے میوے اور پھل پھول پیدا ہوتے ہیں حالانکہ پانی ایک زمین ایک۔ لہذا اس سے بھی اس کی شان ظاہر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبرت و نصیحت فکر و غور کی توفیق ان ہی کو ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رغبت و رجوع کرنے والے ہوں، اب تم دعا اور عبادت خلوص کے ساتھ صرف اللہ واحد کی کیا کرو۔ مشرکین کے مذہب و مسلک سے الگ ہوجاؤ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہر فرض کے سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر)اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرتے تھے۔ (مسند احمد) یہ حدیث مسلم ابو داؤد وغیرہ میں بھی ہے ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرو اور قبولیت کا یقین کامل رکھو اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور دوسری طرف کے مشغول دل کی دعا نہیں سنتا۔
15
View Single
رَفِيعُ ٱلدَّرَجَٰتِ ذُو ٱلۡعَرۡشِ يُلۡقِي ٱلرُّوحَ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوۡمَ ٱلتَّلَاقِ
Bestower of High Ranks, Owner of the Throne; it is He Who instils the spirit of faith into the one He wills among His bondmen, in order that he may warn of the Day of Meeting. –
درجات بلند کرنے والا، مالکِ عرش، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے روح (یعنی وحی) اپنے حکم سے القاء فرماتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) اکٹھا ہونے والے دن سے ڈرائے
Tafsir Ibn Kathir
Allah sends the Revelation to warn His Servants of the Day of Mutual Meeting
Allah tells us of His might and pride, and that His Mighty Throne is raised above all of His creation like a roof. This is like the Ayah:
مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ - تَعْرُجُ الْمَلَـئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
(From Allah, the Lord of the ways of ascent. The angels and the Ruh (Jibril) ascend to Him in a Day the measure whereof is fifty thousand years.) (70:3-4). If Allah wills, we will discuss below which is the most correct view the distance between the Throne and the seventh earth according to a group of earlier and later scholars. More than one scholar said that the Throne is made of red rubies. The width between two corners of it is the distance of a fifty thousand year long journey and its height above the seventh earth is the distance of a fifty thousand years long journey.
يُلْقِى الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(He sends the revelation of His command to any of His servants He wills,) This is like the Ayat:
يُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ بِالْرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُواْ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَ أَنَاْ فَاتَّقُونِ
(He sends down the angels with the Ruh (revelation) of His command to whom of His servants He wills (saying): "Warn mankind that none has the right to be worshipped but I, so have Taqwa of Me.") (16:2), and
وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ - نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ - عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
(And truly, this is a revelation from the Lord of all that exits, Which the trustworthy Ruh (Jibril) has brought down Upon your heart that you may be (one) of the warners.) (26:192-194) Allah says:
لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلاَقِ
(that he may warn (men) of the Day of Mutual Meeting.) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "The Day of Mutual Meeting is one of the names of the Day of Resurrection, of which Allah warns His servants." That is the Day when everyone will find out about his deeds, good and bad.
يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ
(The Day when they will come out, nothing of them will be hidden from Allah.) means, they will all appear in the open, with nothing to give them shelter or shade, or cover them. Allah says:
يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ
(The Day when they will come out, nothing of them will be hidden from Allah.) meaning, everything will be equally known to Him.
لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(Whose is the kingdom this Day It is Allah's, the One, the Irresistible!) We have already mentioned the Hadith of Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, that Allah will roll up the heavens and the earth in His Hand and will say,
«أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟»
("I am the King, I am the Compeller, I am the Proud, where are the kings of the earth Where are the tyrants Where are the proud") In the Hadith about the Trumpet, it says that Allah will take the souls of all of His creatures, and there will be none left but Him Alone, with no partner or associate. Then He will say, "Whose is the kingdom today" three times, and He will answer Himself by saying,
لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(It is Allah's, the One, the Irresistible!) meaning, He is the Only One Who has subjugated all things.
الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَـسَبَتْ لاَ ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(This Day shall every person be recompensed for what he earned. This Day no injustice (shall be done to anybody). Truly, Allah is swift in reckoning.) Here Allah tells us of His justice when He judges between His creation; He does not do even a speck of dust's weight of injustice, whether it be for good or for evil. For every good deed He gives a tenfold reward and for every bad deed He gives recompense of one bad deed. Allah says:
لاَ ظُلْمَ الْيَوْمَ
(This Day no injustice (shall be done to anybody).) It was reported in Sahih Muslim from Abu Dharr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah said:
«يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا إلى أن قال يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَه»
("O My servants, I have forbidden injustice for Myself, and made it unlawful for you, so do not commit injustice to one another ...") up to: ("O My servants, these are your deeds, I record them for you then I will recompense you for them. Whoever finds something good, let him give praise to Allah, and whoever finds something other than that, let him blame no one but himself.")
إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(Truly, Allah is swift in reckoning.) means, He will bring all His creation to account as if He is bringing just one person to account. This is like the Ayah:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person) (31: 28).
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) (54:50)
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے (مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۭ) 70۔ المعارج :3) ، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان انشاء اللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے (يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ) 16۔ النحل :2) ، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ01902ۭ) 26۔ الشعراء :192) یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں حضرت آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔ ابن زید فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ قتادہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہوگی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے ؟ کون ہوگا جو جواب تک دے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں ؟ صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کرلے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہر چیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہر چیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منای ندا کرے گا کہ لوگو ! قیامت آگئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لئے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لئے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہوگا بلکہ نیکیاں دس دس گنی کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندوں میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کرلیا ہے اور تم پر بھی حرام کردیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔ پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28) 31۔ لقمان :28) یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کردینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کردینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہوجاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔
16
View Single
يَوۡمَ هُم بَٰرِزُونَۖ لَا يَخۡفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِنۡهُمۡ شَيۡءٞۚ لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَۖ لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ
A day when they will be fully exposed; nothing from their affairs will be hidden from Allah; “For whom is the kingship this day? For Allah, the One, the All Dominant.”
جس دن وہ سب (قبروں سے) نکل پڑیں گے اور ان (کے اعمال) سے کچھ بھی اللہ پر پوشیدہ نہ رہے گا، (ارشاد ہوگا:) آج کس کی بادشاہی ہے؟ (پھر ارشاد ہوگا:) اللہ ہی کی جو یکتا ہے سب پر غالب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah sends the Revelation to warn His Servants of the Day of Mutual Meeting
Allah tells us of His might and pride, and that His Mighty Throne is raised above all of His creation like a roof. This is like the Ayah:
مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ - تَعْرُجُ الْمَلَـئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
(From Allah, the Lord of the ways of ascent. The angels and the Ruh (Jibril) ascend to Him in a Day the measure whereof is fifty thousand years.) (70:3-4). If Allah wills, we will discuss below which is the most correct view the distance between the Throne and the seventh earth according to a group of earlier and later scholars. More than one scholar said that the Throne is made of red rubies. The width between two corners of it is the distance of a fifty thousand year long journey and its height above the seventh earth is the distance of a fifty thousand years long journey.
يُلْقِى الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(He sends the revelation of His command to any of His servants He wills,) This is like the Ayat:
يُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ بِالْرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُواْ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَ أَنَاْ فَاتَّقُونِ
(He sends down the angels with the Ruh (revelation) of His command to whom of His servants He wills (saying): "Warn mankind that none has the right to be worshipped but I, so have Taqwa of Me.") (16:2), and
وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ - نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ - عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
(And truly, this is a revelation from the Lord of all that exits, Which the trustworthy Ruh (Jibril) has brought down Upon your heart that you may be (one) of the warners.) (26:192-194) Allah says:
لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلاَقِ
(that he may warn (men) of the Day of Mutual Meeting.) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "The Day of Mutual Meeting is one of the names of the Day of Resurrection, of which Allah warns His servants." That is the Day when everyone will find out about his deeds, good and bad.
يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ
(The Day when they will come out, nothing of them will be hidden from Allah.) means, they will all appear in the open, with nothing to give them shelter or shade, or cover them. Allah says:
يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ
(The Day when they will come out, nothing of them will be hidden from Allah.) meaning, everything will be equally known to Him.
لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(Whose is the kingdom this Day It is Allah's, the One, the Irresistible!) We have already mentioned the Hadith of Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, that Allah will roll up the heavens and the earth in His Hand and will say,
«أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟»
("I am the King, I am the Compeller, I am the Proud, where are the kings of the earth Where are the tyrants Where are the proud") In the Hadith about the Trumpet, it says that Allah will take the souls of all of His creatures, and there will be none left but Him Alone, with no partner or associate. Then He will say, "Whose is the kingdom today" three times, and He will answer Himself by saying,
لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(It is Allah's, the One, the Irresistible!) meaning, He is the Only One Who has subjugated all things.
الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَـسَبَتْ لاَ ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(This Day shall every person be recompensed for what he earned. This Day no injustice (shall be done to anybody). Truly, Allah is swift in reckoning.) Here Allah tells us of His justice when He judges between His creation; He does not do even a speck of dust's weight of injustice, whether it be for good or for evil. For every good deed He gives a tenfold reward and for every bad deed He gives recompense of one bad deed. Allah says:
لاَ ظُلْمَ الْيَوْمَ
(This Day no injustice (shall be done to anybody).) It was reported in Sahih Muslim from Abu Dharr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah said:
«يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا إلى أن قال يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَه»
("O My servants, I have forbidden injustice for Myself, and made it unlawful for you, so do not commit injustice to one another ...") up to: ("O My servants, these are your deeds, I record them for you then I will recompense you for them. Whoever finds something good, let him give praise to Allah, and whoever finds something other than that, let him blame no one but himself.")
إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(Truly, Allah is swift in reckoning.) means, He will bring all His creation to account as if He is bringing just one person to account. This is like the Ayah:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person) (31: 28).
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) (54:50)
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے (مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۭ) 70۔ المعارج :3) ، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان انشاء اللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے (يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ) 16۔ النحل :2) ، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ01902ۭ) 26۔ الشعراء :192) یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں حضرت آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔ ابن زید فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ قتادہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہوگی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے ؟ کون ہوگا جو جواب تک دے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں ؟ صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کرلے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہر چیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہر چیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منای ندا کرے گا کہ لوگو ! قیامت آگئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لئے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لئے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہوگا بلکہ نیکیاں دس دس گنی کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندوں میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کرلیا ہے اور تم پر بھی حرام کردیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔ پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28) 31۔ لقمان :28) یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کردینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کردینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہوجاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔
17
View Single
ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۚ لَا ظُلۡمَ ٱلۡيَوۡمَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
This day each soul will be repaid for what it has earned; no one will be wronged this day; indeed Allah is Swift At Taking Account.
آج کے دن ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی نا انصافی نہ ہوگی، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah sends the Revelation to warn His Servants of the Day of Mutual Meeting
Allah tells us of His might and pride, and that His Mighty Throne is raised above all of His creation like a roof. This is like the Ayah:
مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ - تَعْرُجُ الْمَلَـئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ
(From Allah, the Lord of the ways of ascent. The angels and the Ruh (Jibril) ascend to Him in a Day the measure whereof is fifty thousand years.) (70:3-4). If Allah wills, we will discuss below which is the most correct view the distance between the Throne and the seventh earth according to a group of earlier and later scholars. More than one scholar said that the Throne is made of red rubies. The width between two corners of it is the distance of a fifty thousand year long journey and its height above the seventh earth is the distance of a fifty thousand years long journey.
يُلْقِى الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(He sends the revelation of His command to any of His servants He wills,) This is like the Ayat:
يُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ بِالْرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُواْ أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَ أَنَاْ فَاتَّقُونِ
(He sends down the angels with the Ruh (revelation) of His command to whom of His servants He wills (saying): "Warn mankind that none has the right to be worshipped but I, so have Taqwa of Me.") (16:2), and
وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ - نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ - عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
(And truly, this is a revelation from the Lord of all that exits, Which the trustworthy Ruh (Jibril) has brought down Upon your heart that you may be (one) of the warners.) (26:192-194) Allah says:
لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلاَقِ
(that he may warn (men) of the Day of Mutual Meeting.) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "The Day of Mutual Meeting is one of the names of the Day of Resurrection, of which Allah warns His servants." That is the Day when everyone will find out about his deeds, good and bad.
يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ
(The Day when they will come out, nothing of them will be hidden from Allah.) means, they will all appear in the open, with nothing to give them shelter or shade, or cover them. Allah says:
يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ
(The Day when they will come out, nothing of them will be hidden from Allah.) meaning, everything will be equally known to Him.
لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(Whose is the kingdom this Day It is Allah's, the One, the Irresistible!) We have already mentioned the Hadith of Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, that Allah will roll up the heavens and the earth in His Hand and will say,
«أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟»
("I am the King, I am the Compeller, I am the Proud, where are the kings of the earth Where are the tyrants Where are the proud") In the Hadith about the Trumpet, it says that Allah will take the souls of all of His creatures, and there will be none left but Him Alone, with no partner or associate. Then He will say, "Whose is the kingdom today" three times, and He will answer Himself by saying,
لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(It is Allah's, the One, the Irresistible!) meaning, He is the Only One Who has subjugated all things.
الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَـسَبَتْ لاَ ظُلْمَ الْيَوْمَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(This Day shall every person be recompensed for what he earned. This Day no injustice (shall be done to anybody). Truly, Allah is swift in reckoning.) Here Allah tells us of His justice when He judges between His creation; He does not do even a speck of dust's weight of injustice, whether it be for good or for evil. For every good deed He gives a tenfold reward and for every bad deed He gives recompense of one bad deed. Allah says:
لاَ ظُلْمَ الْيَوْمَ
(This Day no injustice (shall be done to anybody).) It was reported in Sahih Muslim from Abu Dharr, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah said:
«يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا إلى أن قال يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا عَلَيْكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَه»
("O My servants, I have forbidden injustice for Myself, and made it unlawful for you, so do not commit injustice to one another ...") up to: ("O My servants, these are your deeds, I record them for you then I will recompense you for them. Whoever finds something good, let him give praise to Allah, and whoever finds something other than that, let him blame no one but himself.")
إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(Truly, Allah is swift in reckoning.) means, He will bring all His creation to account as if He is bringing just one person to account. This is like the Ayah:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as a single person) (31: 28).
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) (54:50)
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے (مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۭ) 70۔ المعارج :3) ، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان انشاء اللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے (يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ) 16۔ النحل :2) ، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ01902ۭ) 26۔ الشعراء :192) یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں حضرت آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔ ابن زید فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ قتادہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہوگی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے ؟ کون ہوگا جو جواب تک دے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں ؟ صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کرلے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے ؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہر چیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہر چیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منای ندا کرے گا کہ لوگو ! قیامت آگئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لئے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لئے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہوگا بلکہ نیکیاں دس دس گنی کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندوں میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کرلیا ہے اور تم پر بھی حرام کردیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔ پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28) 31۔ لقمان :28) یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کردینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کردینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہوجاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔
18
View Single
وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡأٓزِفَةِ إِذِ ٱلۡقُلُوبُ لَدَى ٱلۡحَنَاجِرِ كَٰظِمِينَۚ مَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنۡ حَمِيمٖ وَلَا شَفِيعٖ يُطَاعُ
And warn them of the day of impending calamity, when hearts will rise up to the throats filled with grief; and the disbelievers will have neither any friend nor any intercessor who will be obeyed. (Intercession will be accepted only for the Muslims, not for the disbelievers)
اور آپ ان کو قریب آنے والی آفت کے دن سے ڈرائیں جب ضبطِ غم سے کلیجے منہ کو آئیں گے۔ ظالموں کے لئے نہ کوئی مہربان دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے
Tafsir Ibn Kathir
Warning of the Day of Resurrection and Allah's judgement on that Day
`The Day that is drawing near' is one of the names of the Day of Judgement. It is so called because it is close, as Allah says:
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ - لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(The Day of Resurrection draws near. None besides Allah can avert it) (53:57-58)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder) (54:1)
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ
(Draws near for mankind their reckoning) (21:1),
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event (the Hour) ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it) (16:1),
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(But when they will see it approaching, the faces of those who disbelieve will change and turn black with sadness and in grief) (67:27), and
إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَـظِمِينَ
(when the hearts will be at the throats Kazimin. ) Qatadah said, "When the hearts reach the throats because of fear, and they will neither come out nor go back to their places." This was also the view of `Ikrimah, As-Suddi and others.
كَـظِمِينَ
(Kazimin) means silent, for no one will speak without His permission:
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَـئِكَةُ صَفّاً لاَّ يَتَكَلَّمُونَ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـنُ وَقَالَ صَوَاباً
(The Day that Ar-Ruh (Jibril) and the angels will stand forth in rows, they will not speak except him whom the Most Gracious allows, and he will speak what is right.) (78:38). Ibn Jurayj said:
كَـظِمِينَ
(Kazimin) "It means weeping."
مَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلاَ شَفِيعٍ يُطَاعُ
(There will be no friend, nor an intercessor for the wrongdoers, who could be given heed to.) means, those who wronged themselves by associating others in worship with Allah, will have no relative to help them and no intercessor who can plead on their behalf; all means of good will be cut off from them.
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) Allah tells us about His complete knowledge which encompasses all things, great and small, major and minor, so that people will take note that He knows about them and they will have the proper sense of shyness before Allah. They will pay attention to the fact that He can see them, for He knows the fraud of the eyes, even if the eyes look innocent, and He knows what the hearts conceal. Ad-Dahhak said:
خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ
(the fraud of the eyes,) "A wink and a man saying that he has seen something when he has not seen it, or saying that he has not seen it when he did see it." Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Allah knows when the eye looks at something, whether it wants to commit an act of betrayal or not." This was also the view of Mujahid and Qatadah. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, commented on the Ayah:
وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(and all that the breasts conceal.)"He knows, if you were able to, whether you would commit Zina with a woman or not." As-Suddi said:
وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(and all that the breasts conceal.) meaning, of insinuating whispers.
وَاللَّهُ يَقْضِى بِالْحَقِّ
(And Allah judges with truth, ) means, He judges with justice. Al-A`mash narrated from Sa`id bin Jubayr from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, that this Ayah means: "He is able to reward those who do good with good and those who do evil with evil."
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(Certainly, Allah! He is the All-Hearer, the All-Seer.) This is how it was interpreted by Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. This is like the Ayah:
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best) (53:31).
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ
(while those to whom they invoke besides Him,) means, the idols and false gods,
لاَ يَقْضُونَ بِشَىْءٍ
(cannot judge anything.) means, they do not possess anything and they cannot judge anything.
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(Certainly, Allah! He is the All-Hearer, the All-Seer.) means, He hears all that His creatures say and He knows all about them, so He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills. And He judges with perfect justice in all of that.
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے۔ازفہ قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لئے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے (اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ 57ۚ) 53۔ النجم :57) یعنی قریب آنے والی قریب ہوچکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور فرمان ہے (امر اللہ فلا تستعجلوہ) اللہ کا امر آچکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ 27) 67۔ الملک :27) جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام ازفہ ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آجائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہوگا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہوگا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بےاجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہوگا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہوگا جو ان کی شفاعت کے لئے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لئے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ سدی فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا ؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔
19
View Single
يَعۡلَمُ خَآئِنَةَ ٱلۡأَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِي ٱلصُّدُورُ
Allah well knows the covert glance and all what lies hidden in the hearts.
وہ خیانت کرنے والی نگاہوں کو جانتا ہے اور (ان باتوں کو بھی) جو سینے (اپنے اندر) چھپائے رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Warning of the Day of Resurrection and Allah's judgement on that Day
`The Day that is drawing near' is one of the names of the Day of Judgement. It is so called because it is close, as Allah says:
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ - لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(The Day of Resurrection draws near. None besides Allah can avert it) (53:57-58)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder) (54:1)
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ
(Draws near for mankind their reckoning) (21:1),
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event (the Hour) ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it) (16:1),
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(But when they will see it approaching, the faces of those who disbelieve will change and turn black with sadness and in grief) (67:27), and
إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَـظِمِينَ
(when the hearts will be at the throats Kazimin. ) Qatadah said, "When the hearts reach the throats because of fear, and they will neither come out nor go back to their places." This was also the view of `Ikrimah, As-Suddi and others.
كَـظِمِينَ
(Kazimin) means silent, for no one will speak without His permission:
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَـئِكَةُ صَفّاً لاَّ يَتَكَلَّمُونَ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـنُ وَقَالَ صَوَاباً
(The Day that Ar-Ruh (Jibril) and the angels will stand forth in rows, they will not speak except him whom the Most Gracious allows, and he will speak what is right.) (78:38). Ibn Jurayj said:
كَـظِمِينَ
(Kazimin) "It means weeping."
مَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلاَ شَفِيعٍ يُطَاعُ
(There will be no friend, nor an intercessor for the wrongdoers, who could be given heed to.) means, those who wronged themselves by associating others in worship with Allah, will have no relative to help them and no intercessor who can plead on their behalf; all means of good will be cut off from them.
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) Allah tells us about His complete knowledge which encompasses all things, great and small, major and minor, so that people will take note that He knows about them and they will have the proper sense of shyness before Allah. They will pay attention to the fact that He can see them, for He knows the fraud of the eyes, even if the eyes look innocent, and He knows what the hearts conceal. Ad-Dahhak said:
خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ
(the fraud of the eyes,) "A wink and a man saying that he has seen something when he has not seen it, or saying that he has not seen it when he did see it." Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Allah knows when the eye looks at something, whether it wants to commit an act of betrayal or not." This was also the view of Mujahid and Qatadah. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, commented on the Ayah:
وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(and all that the breasts conceal.)"He knows, if you were able to, whether you would commit Zina with a woman or not." As-Suddi said:
وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(and all that the breasts conceal.) meaning, of insinuating whispers.
وَاللَّهُ يَقْضِى بِالْحَقِّ
(And Allah judges with truth, ) means, He judges with justice. Al-A`mash narrated from Sa`id bin Jubayr from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, that this Ayah means: "He is able to reward those who do good with good and those who do evil with evil."
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(Certainly, Allah! He is the All-Hearer, the All-Seer.) This is how it was interpreted by Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. This is like the Ayah:
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best) (53:31).
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ
(while those to whom they invoke besides Him,) means, the idols and false gods,
لاَ يَقْضُونَ بِشَىْءٍ
(cannot judge anything.) means, they do not possess anything and they cannot judge anything.
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(Certainly, Allah! He is the All-Hearer, the All-Seer.) means, He hears all that His creatures say and He knows all about them, so He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills. And He judges with perfect justice in all of that.
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے۔ازفہ قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لئے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے (اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ 57ۚ) 53۔ النجم :57) یعنی قریب آنے والی قریب ہوچکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور فرمان ہے (امر اللہ فلا تستعجلوہ) اللہ کا امر آچکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ 27) 67۔ الملک :27) جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام ازفہ ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آجائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہوگا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہوگا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بےاجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہوگا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہوگا جو ان کی شفاعت کے لئے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لئے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ سدی فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا ؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔
20
View Single
وَٱللَّهُ يَقۡضِي بِٱلۡحَقِّۖ وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَقۡضُونَ بِشَيۡءٍۗ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ
And Allah renders the true judgement; and those whom they worship instead of Him do not judge at all; indeed Allah only, is the All Hearing, the All Seeing.
اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے، اور جن (بتوں) کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کر سکتے، بے شک اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Warning of the Day of Resurrection and Allah's judgement on that Day
`The Day that is drawing near' is one of the names of the Day of Judgement. It is so called because it is close, as Allah says:
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ - لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(The Day of Resurrection draws near. None besides Allah can avert it) (53:57-58)
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder) (54:1)
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ
(Draws near for mankind their reckoning) (21:1),
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event (the Hour) ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it) (16:1),
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ
(But when they will see it approaching, the faces of those who disbelieve will change and turn black with sadness and in grief) (67:27), and
إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَـظِمِينَ
(when the hearts will be at the throats Kazimin. ) Qatadah said, "When the hearts reach the throats because of fear, and they will neither come out nor go back to their places." This was also the view of `Ikrimah, As-Suddi and others.
كَـظِمِينَ
(Kazimin) means silent, for no one will speak without His permission:
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَـئِكَةُ صَفّاً لاَّ يَتَكَلَّمُونَ إِلاَّ مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـنُ وَقَالَ صَوَاباً
(The Day that Ar-Ruh (Jibril) and the angels will stand forth in rows, they will not speak except him whom the Most Gracious allows, and he will speak what is right.) (78:38). Ibn Jurayj said:
كَـظِمِينَ
(Kazimin) "It means weeping."
مَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلاَ شَفِيعٍ يُطَاعُ
(There will be no friend, nor an intercessor for the wrongdoers, who could be given heed to.) means, those who wronged themselves by associating others in worship with Allah, will have no relative to help them and no intercessor who can plead on their behalf; all means of good will be cut off from them.
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.) Allah tells us about His complete knowledge which encompasses all things, great and small, major and minor, so that people will take note that He knows about them and they will have the proper sense of shyness before Allah. They will pay attention to the fact that He can see them, for He knows the fraud of the eyes, even if the eyes look innocent, and He knows what the hearts conceal. Ad-Dahhak said:
خَآئِنَةَ الاٌّعْيُنِ
(the fraud of the eyes,) "A wink and a man saying that he has seen something when he has not seen it, or saying that he has not seen it when he did see it." Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Allah knows when the eye looks at something, whether it wants to commit an act of betrayal or not." This was also the view of Mujahid and Qatadah. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, commented on the Ayah:
وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(and all that the breasts conceal.)"He knows, if you were able to, whether you would commit Zina with a woman or not." As-Suddi said:
وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ
(and all that the breasts conceal.) meaning, of insinuating whispers.
وَاللَّهُ يَقْضِى بِالْحَقِّ
(And Allah judges with truth, ) means, He judges with justice. Al-A`mash narrated from Sa`id bin Jubayr from Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, that this Ayah means: "He is able to reward those who do good with good and those who do evil with evil."
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(Certainly, Allah! He is the All-Hearer, the All-Seer.) This is how it was interpreted by Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. This is like the Ayah:
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best) (53:31).
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ
(while those to whom they invoke besides Him,) means, the idols and false gods,
لاَ يَقْضُونَ بِشَىْءٍ
(cannot judge anything.) means, they do not possess anything and they cannot judge anything.
إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
(Certainly, Allah! He is the All-Hearer, the All-Seer.) means, He hears all that His creatures say and He knows all about them, so He guides whomsoever He wills and sends astray whomsoever He wills. And He judges with perfect justice in all of that.
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے۔ازفہ قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لئے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے (اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ 57ۚ) 53۔ النجم :57) یعنی قریب آنے والی قریب ہوچکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور فرمان ہے (امر اللہ فلا تستعجلوہ) اللہ کا امر آچکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ 27) 67۔ الملک :27) جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام ازفہ ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آجائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہوگا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہوگا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بےاجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔ جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہوگا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہوگا جو ان کی شفاعت کے لئے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لئے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ سدی فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا ؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔
21
View Single
۞أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُواْ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُواْ هُمۡ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗ وَءَاثَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٖ
So did they not travel in the land in order to see what sort of fate befell those before them? Their strength and the signs they left behind in the earth, exceeded them – so Allah seized them on account of their sins, and they had no one to save them from Allah.
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ قوّت میں (بھی) اِن سے بہت زیادہ تھے اور اُن آثار و نشانات میں (بھی) جو زمین میں (چھوڑ گئے) تھے۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا، اور ان کے لئے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہ تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Severe Punishment for the Disbelievers
أَوَلَمْ يَسيرُواْ
(Have they not traveled), `these people who disbelieve in your Message, O Muhammad,'
فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الَّذِينَ كَانُواْ مِن قَبْلِهِمْ
(in the land and seen what was the end of those who were before them) means, the nations of the past who disbelieved in their Prophets (peace be upon them), for which the punishment came upon them even though they were stronger than Quraysh.
وَءَاثَاراً فِى الاٌّرْضِ
(and in the traces in the land.) means, they left behind traces in the earth, such as structures, buildings and dwellings which these people i.e., the Quraysh cannot match. This is like the Ayat:
وَلَقَدْ مَكَّنَـهُمْ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّـكُمْ فِيهِ
(And indeed We had firmly established them with that wherewith We have not established you!) (46:26)
وَأَثَارُواْ الاٌّرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا
(and they tilled the earth and populated it in greater numbers than these have done) (30:9). Yet despite this great strength, Allah punished them for their sin, which was their disbelief in their Messengers.
وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And none had they to protect them from Allah.) means, they had no one who could protect them or ward off the punishment from them. Then Allah mentions the reason why He punished them, and the sins which they committed. Allah says:
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ
(That was because there came to them their Messengers with clear evidences) meaning with clear proof and definitive evidence.
فَكَفَرُواْ
(but they disbelieved.) means, despite all these signs, they disbelieved and rejected the Message.
فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ
(So Allah seized them.) means, He destroyed them utterly, and a similar fate awaits the disbelievers.
إِنَّهُ قَوِىٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ
(Verily, He is All-Strong, Severe in punishment) means, He is possessed of great strength and might.
شَدِيدُ الْعِقَابِ
(Severe in punishment, ) means, His punishment is severe and agonizing; we seek refuge with Allah, may He be blessed and exalted, from that.
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلا کردیا اور کفار کے لئے انہیں باعث عبرت بنادیا۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا، سخت پکڑ والا، شدید عذاب والا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے۔
22
View Single
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانَت تَّأۡتِيهِمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَكَفَرُواْ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ قَوِيّٞ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
This occurred because their Noble Messengers came to them with clear signs, thereupon they used to disbelieve, so Allah seized them; indeed Allah is All Powerful, Severe in Punishment.
یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے پھر انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، بے شک وہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Severe Punishment for the Disbelievers
أَوَلَمْ يَسيرُواْ
(Have they not traveled), `these people who disbelieve in your Message, O Muhammad,'
فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الَّذِينَ كَانُواْ مِن قَبْلِهِمْ
(in the land and seen what was the end of those who were before them) means, the nations of the past who disbelieved in their Prophets (peace be upon them), for which the punishment came upon them even though they were stronger than Quraysh.
وَءَاثَاراً فِى الاٌّرْضِ
(and in the traces in the land.) means, they left behind traces in the earth, such as structures, buildings and dwellings which these people i.e., the Quraysh cannot match. This is like the Ayat:
وَلَقَدْ مَكَّنَـهُمْ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّـكُمْ فِيهِ
(And indeed We had firmly established them with that wherewith We have not established you!) (46:26)
وَأَثَارُواْ الاٌّرْضَ وَعَمَرُوهَآ أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا
(and they tilled the earth and populated it in greater numbers than these have done) (30:9). Yet despite this great strength, Allah punished them for their sin, which was their disbelief in their Messengers.
وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
(And none had they to protect them from Allah.) means, they had no one who could protect them or ward off the punishment from them. Then Allah mentions the reason why He punished them, and the sins which they committed. Allah says:
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَت تَّأْتِيهِمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ
(That was because there came to them their Messengers with clear evidences) meaning with clear proof and definitive evidence.
فَكَفَرُواْ
(but they disbelieved.) means, despite all these signs, they disbelieved and rejected the Message.
فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ
(So Allah seized them.) means, He destroyed them utterly, and a similar fate awaits the disbelievers.
إِنَّهُ قَوِىٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ
(Verily, He is All-Strong, Severe in punishment) means, He is possessed of great strength and might.
شَدِيدُ الْعِقَابِ
(Severe in punishment, ) means, His punishment is severe and agonizing; we seek refuge with Allah, may He be blessed and exalted, from that.
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلا کردیا اور کفار کے لئے انہیں باعث عبرت بنادیا۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا، سخت پکڑ والا، شدید عذاب والا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے۔
23
View Single
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ
And indeed We sent Moosa with Our signs and a clear proof.
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn
Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the disbelief of his people and gives him the glad tidings of good consequences and victory in this world and the Hereafter, as happened to Musa bin `Imran, peace be upon him, whom Allah sent with clear proof and definitive evidence. Allah says:
بِـَايَـتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(with Our Ayat, and a manifest authority). Authority means proof and evidence.
إِلَى فِرْعَوْنَ
(to Fir`awn), who was the king of the Copts of Egypt.
وَهَـمَـنَ
(Haman) who was his adviser.
وَقَـشرُونَ
(and Qarun) who was the richest trader among the people of his time.
فَقَالُواْ سَـحِرٌ كَـذَّابٌ
(but they called (him): "A sorcerer, liar!") means, they rejected him and thought he was a sorcerer, a madman and an illusionist who was telling lies about having been sent by Allah. This is like the Ayah:
كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ - أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ
(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!" Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) (51:52-53)
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا
(Then, when he brought them the Truth from Us,) means, with definite evidence that Allah had sent him to them,
قَالُواْ اقْتُلُواْ أَبْنَآءَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ وَاسْتَحْيُواْ نِسَآءَهُمْ
(they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;) This was a second command from Fir`awn to kill the males of the Children of Israel. The first command had been as a precaution against the emergence of a man like Musa, or an act intended to humiliate this people or reduce their numbers or both. The second command was for the second reason, to humiliate the people so that they would regard Musa as a bad omen. they said:
أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
("We (Children of Israel) had suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act") (7:129). Qatadah said, this was one command after another.
وَمَا كَـيْدُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(but the plots of disbelievers are nothing but in vain!) means, their schemes and intentions -- to reduce the numbers of the Children of Israel lest they prevail over them -- were doomed to failure.
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(Fir`awn said: "Leave me to kill Musa, and let him call his Lord!...") Fir`awn, may Allah curse him, resolved to kill Musa, peace be upon him, i.e., he said to his people, `let me kill him for you.'
وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(and let him call his Lord!) means, `I do not care.' This is the utmost in offensive stubbornness.
إِنِّى أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى الاٌّرْضِ الْفَسَادَ
(I fear that he may change your religion, or that he may cause mischief to appear in the land!) means, Musa; Fir`awn was afraid that Musa would lead his people astray and change their ways and customs. As if Fir`awn would be concerned about what Musa might do to his people! The majority understood this as meaning, `he will change your religion and cause mischief to appear in the land.'
وَقَالَ مُوسَى إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!") means, when he heard that Fir`awn had said,
ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى
(Leave me to kill Musa,) Musa, peace be upon him, said, "I seek refuge and protection with Allah from his evil and the evil of those like him." So he said:
إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ
(Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord) -- those who were being addressed here --
مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ
(from every arrogant) means, from every evildoer,
لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(who believes not in the Day of Reckoning!) It was reported in the Hadith narrated from Abu Musa, may Allah be pleased with him, that when the Messenger of Allah ﷺ was afraid of some people, he would say:
«اللْهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِم»
(O Allah, we seek refuge in You from their evil and we seek Your help in repulsing them.)
فرعون کا بدترین حکم۔اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء (علیہم السلام) کو دیتے ہے۔ جیسے ارشاد ہے (كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52ۚ) 51۔ الذاریات :52) ، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے ؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ ؑ ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کردیا اس رسول پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کردو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو ، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کرچکا تھا۔ اس لئے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ پیدا نہ ہوجائیں یا اس لئے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث حضرت موسیٰ ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہوجائیں بےفائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لئے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لئے عرب میں یہ مثل مشہو رہو گئی صار الرعن مذاکرا یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، حضرت موسیٰ کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ ملعوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو ! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول کریم ﷺ کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ یہ دعا پڑھتے یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔
24
View Single
إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَ وَقَٰرُونَ فَقَالُواْ سَٰحِرٞ كَذَّابٞ
Towards Firaun and Haman and Qaroon – in response they said, “(He is) a magician, a big liar!”
فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادوگر ہے، بڑا جھوٹا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn
Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the disbelief of his people and gives him the glad tidings of good consequences and victory in this world and the Hereafter, as happened to Musa bin `Imran, peace be upon him, whom Allah sent with clear proof and definitive evidence. Allah says:
بِـَايَـتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(with Our Ayat, and a manifest authority). Authority means proof and evidence.
إِلَى فِرْعَوْنَ
(to Fir`awn), who was the king of the Copts of Egypt.
وَهَـمَـنَ
(Haman) who was his adviser.
وَقَـشرُونَ
(and Qarun) who was the richest trader among the people of his time.
فَقَالُواْ سَـحِرٌ كَـذَّابٌ
(but they called (him): "A sorcerer, liar!") means, they rejected him and thought he was a sorcerer, a madman and an illusionist who was telling lies about having been sent by Allah. This is like the Ayah:
كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ - أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ
(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!" Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) (51:52-53)
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا
(Then, when he brought them the Truth from Us,) means, with definite evidence that Allah had sent him to them,
قَالُواْ اقْتُلُواْ أَبْنَآءَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ وَاسْتَحْيُواْ نِسَآءَهُمْ
(they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;) This was a second command from Fir`awn to kill the males of the Children of Israel. The first command had been as a precaution against the emergence of a man like Musa, or an act intended to humiliate this people or reduce their numbers or both. The second command was for the second reason, to humiliate the people so that they would regard Musa as a bad omen. they said:
أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
("We (Children of Israel) had suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act") (7:129). Qatadah said, this was one command after another.
وَمَا كَـيْدُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(but the plots of disbelievers are nothing but in vain!) means, their schemes and intentions -- to reduce the numbers of the Children of Israel lest they prevail over them -- were doomed to failure.
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(Fir`awn said: "Leave me to kill Musa, and let him call his Lord!...") Fir`awn, may Allah curse him, resolved to kill Musa, peace be upon him, i.e., he said to his people, `let me kill him for you.'
وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(and let him call his Lord!) means, `I do not care.' This is the utmost in offensive stubbornness.
إِنِّى أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى الاٌّرْضِ الْفَسَادَ
(I fear that he may change your religion, or that he may cause mischief to appear in the land!) means, Musa; Fir`awn was afraid that Musa would lead his people astray and change their ways and customs. As if Fir`awn would be concerned about what Musa might do to his people! The majority understood this as meaning, `he will change your religion and cause mischief to appear in the land.'
وَقَالَ مُوسَى إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!") means, when he heard that Fir`awn had said,
ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى
(Leave me to kill Musa,) Musa, peace be upon him, said, "I seek refuge and protection with Allah from his evil and the evil of those like him." So he said:
إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ
(Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord) -- those who were being addressed here --
مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ
(from every arrogant) means, from every evildoer,
لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(who believes not in the Day of Reckoning!) It was reported in the Hadith narrated from Abu Musa, may Allah be pleased with him, that when the Messenger of Allah ﷺ was afraid of some people, he would say:
«اللْهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِم»
(O Allah, we seek refuge in You from their evil and we seek Your help in repulsing them.)
فرعون کا بدترین حکم۔اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء (علیہم السلام) کو دیتے ہے۔ جیسے ارشاد ہے (كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52ۚ) 51۔ الذاریات :52) ، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے ؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ ؑ ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کردیا اس رسول پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کردو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو ، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کرچکا تھا۔ اس لئے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ پیدا نہ ہوجائیں یا اس لئے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث حضرت موسیٰ ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہوجائیں بےفائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لئے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لئے عرب میں یہ مثل مشہو رہو گئی صار الرعن مذاکرا یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، حضرت موسیٰ کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ ملعوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو ! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول کریم ﷺ کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ یہ دعا پڑھتے یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔
25
View Single
فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ مِنۡ عِندِنَا قَالُواْ ٱقۡتُلُوٓاْ أَبۡنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ وَٱسۡتَحۡيُواْ نِسَآءَهُمۡۚ وَمَا كَيۡدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ
So when he brought the truth from Our presence to them, they said, “Kill the sons of those who believe in him, and keep their women alive”; and the evil scheme of the disbelievers only keeps wandering astray.
پھر جب وہ ہماری بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ان لوگوں کے لڑکوں کو قتل کر دو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو، اور کافروں کی پر فریب چالیں صرف ہلاکت ہی تھیں (انہوں نے پُر امن لوگوں کی نسل کُشی کی)
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn
Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the disbelief of his people and gives him the glad tidings of good consequences and victory in this world and the Hereafter, as happened to Musa bin `Imran, peace be upon him, whom Allah sent with clear proof and definitive evidence. Allah says:
بِـَايَـتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(with Our Ayat, and a manifest authority). Authority means proof and evidence.
إِلَى فِرْعَوْنَ
(to Fir`awn), who was the king of the Copts of Egypt.
وَهَـمَـنَ
(Haman) who was his adviser.
وَقَـشرُونَ
(and Qarun) who was the richest trader among the people of his time.
فَقَالُواْ سَـحِرٌ كَـذَّابٌ
(but they called (him): "A sorcerer, liar!") means, they rejected him and thought he was a sorcerer, a madman and an illusionist who was telling lies about having been sent by Allah. This is like the Ayah:
كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ - أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ
(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!" Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) (51:52-53)
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا
(Then, when he brought them the Truth from Us,) means, with definite evidence that Allah had sent him to them,
قَالُواْ اقْتُلُواْ أَبْنَآءَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ وَاسْتَحْيُواْ نِسَآءَهُمْ
(they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;) This was a second command from Fir`awn to kill the males of the Children of Israel. The first command had been as a precaution against the emergence of a man like Musa, or an act intended to humiliate this people or reduce their numbers or both. The second command was for the second reason, to humiliate the people so that they would regard Musa as a bad omen. they said:
أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
("We (Children of Israel) had suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act") (7:129). Qatadah said, this was one command after another.
وَمَا كَـيْدُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(but the plots of disbelievers are nothing but in vain!) means, their schemes and intentions -- to reduce the numbers of the Children of Israel lest they prevail over them -- were doomed to failure.
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(Fir`awn said: "Leave me to kill Musa, and let him call his Lord!...") Fir`awn, may Allah curse him, resolved to kill Musa, peace be upon him, i.e., he said to his people, `let me kill him for you.'
وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(and let him call his Lord!) means, `I do not care.' This is the utmost in offensive stubbornness.
إِنِّى أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى الاٌّرْضِ الْفَسَادَ
(I fear that he may change your religion, or that he may cause mischief to appear in the land!) means, Musa; Fir`awn was afraid that Musa would lead his people astray and change their ways and customs. As if Fir`awn would be concerned about what Musa might do to his people! The majority understood this as meaning, `he will change your religion and cause mischief to appear in the land.'
وَقَالَ مُوسَى إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!") means, when he heard that Fir`awn had said,
ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى
(Leave me to kill Musa,) Musa, peace be upon him, said, "I seek refuge and protection with Allah from his evil and the evil of those like him." So he said:
إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ
(Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord) -- those who were being addressed here --
مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ
(from every arrogant) means, from every evildoer,
لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(who believes not in the Day of Reckoning!) It was reported in the Hadith narrated from Abu Musa, may Allah be pleased with him, that when the Messenger of Allah ﷺ was afraid of some people, he would say:
«اللْهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِم»
(O Allah, we seek refuge in You from their evil and we seek Your help in repulsing them.)
فرعون کا بدترین حکم۔اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء (علیہم السلام) کو دیتے ہے۔ جیسے ارشاد ہے (كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52ۚ) 51۔ الذاریات :52) ، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے ؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ ؑ ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کردیا اس رسول پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کردو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو ، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کرچکا تھا۔ اس لئے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ پیدا نہ ہوجائیں یا اس لئے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث حضرت موسیٰ ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہوجائیں بےفائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لئے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لئے عرب میں یہ مثل مشہو رہو گئی صار الرعن مذاکرا یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، حضرت موسیٰ کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ ملعوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو ! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول کریم ﷺ کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ یہ دعا پڑھتے یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔
26
View Single
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُونِيٓ أَقۡتُلۡ مُوسَىٰ وَلۡيَدۡعُ رَبَّهُۥٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمۡ أَوۡ أَن يُظۡهِرَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡفَسَادَ
And said Firaun, “Allow me to kill Moosa and let him pray to his Lord; I fear that he will change your religion or cause chaos in the land!”
اور فرعون بولا: مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو بلا لے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا ملک (مصر) میں فساد پھیلا دے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn
Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the disbelief of his people and gives him the glad tidings of good consequences and victory in this world and the Hereafter, as happened to Musa bin `Imran, peace be upon him, whom Allah sent with clear proof and definitive evidence. Allah says:
بِـَايَـتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(with Our Ayat, and a manifest authority). Authority means proof and evidence.
إِلَى فِرْعَوْنَ
(to Fir`awn), who was the king of the Copts of Egypt.
وَهَـمَـنَ
(Haman) who was his adviser.
وَقَـشرُونَ
(and Qarun) who was the richest trader among the people of his time.
فَقَالُواْ سَـحِرٌ كَـذَّابٌ
(but they called (him): "A sorcerer, liar!") means, they rejected him and thought he was a sorcerer, a madman and an illusionist who was telling lies about having been sent by Allah. This is like the Ayah:
كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ - أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ
(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!" Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) (51:52-53)
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا
(Then, when he brought them the Truth from Us,) means, with definite evidence that Allah had sent him to them,
قَالُواْ اقْتُلُواْ أَبْنَآءَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ وَاسْتَحْيُواْ نِسَآءَهُمْ
(they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;) This was a second command from Fir`awn to kill the males of the Children of Israel. The first command had been as a precaution against the emergence of a man like Musa, or an act intended to humiliate this people or reduce their numbers or both. The second command was for the second reason, to humiliate the people so that they would regard Musa as a bad omen. they said:
أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
("We (Children of Israel) had suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act") (7:129). Qatadah said, this was one command after another.
وَمَا كَـيْدُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(but the plots of disbelievers are nothing but in vain!) means, their schemes and intentions -- to reduce the numbers of the Children of Israel lest they prevail over them -- were doomed to failure.
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(Fir`awn said: "Leave me to kill Musa, and let him call his Lord!...") Fir`awn, may Allah curse him, resolved to kill Musa, peace be upon him, i.e., he said to his people, `let me kill him for you.'
وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(and let him call his Lord!) means, `I do not care.' This is the utmost in offensive stubbornness.
إِنِّى أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى الاٌّرْضِ الْفَسَادَ
(I fear that he may change your religion, or that he may cause mischief to appear in the land!) means, Musa; Fir`awn was afraid that Musa would lead his people astray and change their ways and customs. As if Fir`awn would be concerned about what Musa might do to his people! The majority understood this as meaning, `he will change your religion and cause mischief to appear in the land.'
وَقَالَ مُوسَى إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!") means, when he heard that Fir`awn had said,
ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى
(Leave me to kill Musa,) Musa, peace be upon him, said, "I seek refuge and protection with Allah from his evil and the evil of those like him." So he said:
إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ
(Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord) -- those who were being addressed here --
مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ
(from every arrogant) means, from every evildoer,
لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(who believes not in the Day of Reckoning!) It was reported in the Hadith narrated from Abu Musa, may Allah be pleased with him, that when the Messenger of Allah ﷺ was afraid of some people, he would say:
«اللْهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِم»
(O Allah, we seek refuge in You from their evil and we seek Your help in repulsing them.)
فرعون کا بدترین حکم۔اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء (علیہم السلام) کو دیتے ہے۔ جیسے ارشاد ہے (كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52ۚ) 51۔ الذاریات :52) ، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے ؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ ؑ ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کردیا اس رسول پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کردو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو ، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کرچکا تھا۔ اس لئے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ پیدا نہ ہوجائیں یا اس لئے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث حضرت موسیٰ ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہوجائیں بےفائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لئے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لئے عرب میں یہ مثل مشہو رہو گئی صار الرعن مذاکرا یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، حضرت موسیٰ کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ ملعوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو ! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول کریم ﷺ کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ یہ دعا پڑھتے یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔
27
View Single
وَقَالَ مُوسَىٰٓ إِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُم مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٖ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ
Said Moosa, “I seek the refuge of mine and your Lord, from every haughty person who does not believe in the Day of Reckoning.”
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں، ہر متکبر شخص سے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and Fir`awn
Allah consoles His Prophet Muhammad ﷺ for the disbelief of his people and gives him the glad tidings of good consequences and victory in this world and the Hereafter, as happened to Musa bin `Imran, peace be upon him, whom Allah sent with clear proof and definitive evidence. Allah says:
بِـَايَـتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
(with Our Ayat, and a manifest authority). Authority means proof and evidence.
إِلَى فِرْعَوْنَ
(to Fir`awn), who was the king of the Copts of Egypt.
وَهَـمَـنَ
(Haman) who was his adviser.
وَقَـشرُونَ
(and Qarun) who was the richest trader among the people of his time.
فَقَالُواْ سَـحِرٌ كَـذَّابٌ
(but they called (him): "A sorcerer, liar!") means, they rejected him and thought he was a sorcerer, a madman and an illusionist who was telling lies about having been sent by Allah. This is like the Ayah:
كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ - أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ
(Likewise, no Messenger came to those before them but they said: "A sorcerer or a madman!" Have they transmitted this saying to these Nay, they are themselves a people transgressing beyond bounds!) (51:52-53)
فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِندِنَا
(Then, when he brought them the Truth from Us,) means, with definite evidence that Allah had sent him to them,
قَالُواْ اقْتُلُواْ أَبْنَآءَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ وَاسْتَحْيُواْ نِسَآءَهُمْ
(they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;) This was a second command from Fir`awn to kill the males of the Children of Israel. The first command had been as a precaution against the emergence of a man like Musa, or an act intended to humiliate this people or reduce their numbers or both. The second command was for the second reason, to humiliate the people so that they would regard Musa as a bad omen. they said:
أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا قَالَ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
("We (Children of Israel) had suffered troubles before you came to us, and since you have come to us." He said: "It may be that your Lord will destroy your enemy and make you successors on the earth, so that He may see how you act") (7:129). Qatadah said, this was one command after another.
وَمَا كَـيْدُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(but the plots of disbelievers are nothing but in vain!) means, their schemes and intentions -- to reduce the numbers of the Children of Israel lest they prevail over them -- were doomed to failure.
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(Fir`awn said: "Leave me to kill Musa, and let him call his Lord!...") Fir`awn, may Allah curse him, resolved to kill Musa, peace be upon him, i.e., he said to his people, `let me kill him for you.'
وَلْيَدْعُ رَبَّهُ
(and let him call his Lord!) means, `I do not care.' This is the utmost in offensive stubbornness.
إِنِّى أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُـمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِى الاٌّرْضِ الْفَسَادَ
(I fear that he may change your religion, or that he may cause mischief to appear in the land!) means, Musa; Fir`awn was afraid that Musa would lead his people astray and change their ways and customs. As if Fir`awn would be concerned about what Musa might do to his people! The majority understood this as meaning, `he will change your religion and cause mischief to appear in the land.'
وَقَالَ مُوسَى إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!") means, when he heard that Fir`awn had said,
ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى
(Leave me to kill Musa,) Musa, peace be upon him, said, "I seek refuge and protection with Allah from his evil and the evil of those like him." So he said:
إِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُـمْ
(Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord) -- those who were being addressed here --
مِّن كُلِّ مُتَكَبِّرٍ
(from every arrogant) means, from every evildoer,
لاَّ يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(who believes not in the Day of Reckoning!) It was reported in the Hadith narrated from Abu Musa, may Allah be pleased with him, that when the Messenger of Allah ﷺ was afraid of some people, he would say:
«اللْهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ، وَنَدْرَأُ بِكَ فِي نُحُورِهِم»
(O Allah, we seek refuge in You from their evil and we seek Your help in repulsing them.)
فرعون کا بدترین حکم۔اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا اور ان کی توہین کی اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے۔ یہی جواب سابقہ امتوں کے بھی انبیاء (علیہم السلام) کو دیتے ہے۔ جیسے ارشاد ہے (كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 52ۚ) 51۔ الذاریات :52) ، یعنی اس طرح ان سے پہلے بھی جتنے رسول آئے سب سے ان کی قوم نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ کیا انہوں نے اس پر کوئی متفقہ تجویز کر رکھی ہے ؟ نہیں بلکہ دراصل یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں، جب ہمارے رسول موسیٰ ؑ ان کے پاس حق لائے اور انہوں نے اللہ کے رسول کو ستانا اور دکھ دینا شروع کیا اور فرعون نے حکم جاری کردیا اس رسول پر جو ایمان لائے ہیں ان کے ہاں جو لڑکے ہیں انہیں قتل کردو اور جو لڑکیاں ہوں انہیں زندہ چھوڑ دو ، اس سے پہلے بھی وہ یہی حکم جاری کرچکا تھا۔ اس لئے کہ اسے خوف تھا کہ کہیں موسیٰ پیدا نہ ہوجائیں یا اس لئے کہ بنی اسرائیل کی تعداد کم کر دے اور انہیں کمزور اور بےطاقت بنا دے اور ممکن ہے دونوں مصلحتیں سامنے ہوں اور ان کی گنتی نہ بڑھے اور یہ پست و ذلیل رہیں بلکہ انہیں خیال ہو کہ ہماری اس مصیبت کا باعث حضرت موسیٰ ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہمیں ایذاء دی گئی اور آپ کے تشریف لانے کے بعد بھی ہم ستائے گئے۔ آپ نے جواب دیا تم جلدی نہ کرو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو برباد کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنائے پھر دیکھے۔ کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ فرعون کا یہ حکم دوبارہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کا فریب اور ان کی یہ پالیسی کہ بنی اسرائیل فنا ہوجائیں بےفائدہ اور فضول تھی۔ فرعون کا ایک بدترین قصد بیان ہو رہا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنی قوم سے کہا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں گا وہ اگرچہ اپنے اللہ کو بھی اپنی مدد کے لئے پکارے مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اسے زندہ چھوڑا گیا تو وہ تمہاے دین کو بدل دے گا تمہاری عادت و رسومات کو تم سے چھڑا دے گا اور زمین میں ایک فساد پھیلا دے گا۔ اسی لئے عرب میں یہ مثل مشہو رہو گئی صار الرعن مذاکرا یعنی فرعون بھی واعظ بن گیا۔ بعض قرأتوں میں بجائے ان یطھر کے یطھر ہے، حضرت موسیٰ کو جب فرعون کا یہ بد ارادہ ملعوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں اس کی اور اس جیسے لوگوں کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے مخاطب لوگو ! میں ہر اس شخص کی ایذاء رسانی سے جو حق سے تکبر کرنے والا اور قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے ولا ہو، اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب جناب رسول کریم ﷺ کو کسی قوم سے خوف ہوتا تو آپ یہ دعا پڑھتے یعنی اے اللہ ان کی برائی سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اور ہم تجھ پر ان کے مقابلے میں بھروسہ کرتے ہیں۔
28
View Single
وَقَالَ رَجُلٞ مُّؤۡمِنٞ مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَكۡتُمُ إِيمَٰنَهُۥٓ أَتَقۡتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ ٱللَّهُ وَقَدۡ جَآءَكُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ مِن رَّبِّكُمۡۖ وَإِن يَكُ كَٰذِبٗا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهُۥۖ وَإِن يَكُ صَادِقٗا يُصِبۡكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي يَعِدُكُمۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٞ كَذَّابٞ
And said a Muslim man from the people of Firaun, who used to hide his faith, “What! You want to kill a man just because he says, ‘Allah is my Lord’ whereas he has indeed brought clear signs to you from your Lord? And supposedly if he is speaking wrongly, then the calamity of wrongful speech is upon him; and if he is truthful, then part of what he promises you will reach you; indeed Allah does not guide any transgressor, excessive liar.”
اور ملّتِ فرعون میں سے ایک مردِ مومن نے کہا جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا: کیا تم ایک شخص کو قتل کرتے ہو (صرف) اس لئے کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے، اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا بوجھ اسی پر ہوگا اور اگر وہ سچا ہے تو جس قدر عذاب کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے تمہیں پہنچ کر رہے گا، بے شک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا سراسر جھوٹا ہو
Tafsir Ibn Kathir
Musa was supported by a believing Man from Fir`awn's Family
The well-known view is that this believing man was a Coptic (Egyptian) from the family of Fir`awn. As-Suddi said, he was a cousin son of the paternal uncle of Fir`awn. And it was said that he was the one who was saved along with Musa, peace be upon him. Ibn Jurayj reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said "No one from among the family of Fir`awn believed apart from this man, the wife of Fir`awn, and the one who said,
يمُوسَى إِنَّ الْمَلاّ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ
("O Musa! Verily, the chiefs are taking counsel together about you, to kill you.")" (28:20) This was narrated by Ibn Abi Hatim. This man concealed his Faith from his people, the Egyptians, and did not reveal it except on this day when Fir`awn said,
ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى
(Leave me to kill Musa,) The man was seized with anger for the sake of Allah, and the best of Jihad is to speak a just word before an unjust ruler, as is stated in the Hadith. There is no greater example of this than the words that this man said to Fir`awn:
أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبِّىَ اللَّهُ
(Would you kill a man because he says: `My Lord is Allah,) Al-Bukhari narrated a similar story in his Sahih from `Urwah bin Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, who said: "I said to `Abdullah bin `Amr bin Al-`As, may Allah be pleased with him: `Tell me, what was the worst thing the idolators did to the Messenger of Allah ﷺ ' He said, `While the Messenger of Allah ﷺ was praying in the courtyard of the Ka`bah, `Uqbah bin Abi Mu`it came and grabbed the shoulder of the Messenger of Allah ﷺ and started twisting his garment so that it strangled him. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came and grabbed `Uqbah's shoulder and pushed him away from the Prophet , then he said,
أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبِّىَ اللَّهُ وَقَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنَـتِ مِن رَّبِّكُمْ
(Would you kill a man because he says: `My Lord is Allah,' and he has come to you with clear signs from your Lord)."' This was recorded by Al-Bukhari. Allah's saying;
وَقَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنَـتِ مِن رَّبِّكُمْ
(and he has come to you with clear signs from your Lord) means, "how can you kill a man just because he says, `My Lord is Allah,' and he brings proof that what he is saying is the truth" Then, for the sake of argument, he went along with them and said,
وَإِن يَكُ كَـذِباً فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَـدِقاً يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ
(And if he is a liar, upon him will be (the sin of) his lie; but if he is telling the truth, then some of that (calamity) wherewith he threatens you will befall on you. ) meaning, `if you do not believe in what he is saying, then it is only common sense to leave him alone and not harm him; if he is lying, then Allah will punish him for his lies in this world and in the Hereafter. If he is telling the truth and you harm him, then some of what he is warning about will happen to you too, because he is threatening you with punishment in this world and in the Hereafter if you go against him. It is possible that he is telling the truth in your case, so you should leave him and his people alone, and not harm them.' Allah tells us that Musa asked Fir`awn and his people to leave them in peace, as Allah says:
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ - أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ - وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ - وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(And indeed We tried before them Fir`awn's people, when there came to them a noble Messenger, saying: "Deliver to me the servants of Allah. Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust. And exalt not yourselves against Allah. Truly, I have come to you with a manifest authority. And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me. But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.") (44:17-21). Similarly, the Messenger of Allah ﷺ told the Quraysh to leave him alone and let him call the servants of Allah to Allah; he asked them not to harm him, and to uphold the ties of kinship that existed between him and them, by not harming him. Allah says:
قُل لاَّ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَى
(Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you.") (42:23), meaning, `do not harm me, because of the ties of kinship that exist between me and you; so do not harm me, and let me address my call to the people.' This was the basis of the truce agreed upon on the day of Al-Hudaybiyah, which was a manifest victory.
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ
(Verily, Allah guides not one who is a transgressor, a liar!) means, `if the one who claims to have been sent by Allah is a liar, as you say, this would be obvious to everyone from his words and deeds, for they would be inconsistent and self-contradictory. But we can see that this man is upright and what he says is consistent. If he was a sinner and a liar, Allah would not have guided him and made his words and actions rational and consistent as you see them.' Then this believer warned his people that they would lose the blessings Allah bestowed upon them and that the vengeance of Allah would befall them:
يقَومِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَـهِرِينَ فِى الاٌّرْضِ
(O my people! Yours is the kingdom today, you being dominant in the land.) means, `Allah has blessed you with this kingdom, dominance in the land, power and authority, so take care of this blessing by giving thanks to Allah and believing in his Messenger, and beware of the punishment of Allah if you reject His Messenger.'
فَمَن يَنصُرُنَا مِن بَأْسِ اللَّهِ إِن جَآءَنَا
(But who will save us from the torment of Allah, should it befall us) means, `these soldiers and troops will not avail you anything and will not ward off the punishment of Allah, if He decides to punish us.' Fir`awn said to his people, in response to the advice of this righteous man who was more deserving of kingship than Fir`awn:
مَآ أُرِيكُمْ إِلاَّ مَآ أَرَى
(I show you only that which I see,) meaning, `I only tell you and advise you to do that which I think is good for myself, too.' But Fir`awn lied, because he knew that Musa was telling the truth concerning the Message which he brought.
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـؤُلاءِ إِلاَّ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ بَصَآئِرَ
(Musa said: "Verily, you know that these signs have been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth.") (17:102)
وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً
(And they belied them (those Ayat) wrongfully and arrogantly, though they were themselves convinced thereof) (27:14)
مَآ أُرِيكُمْ إِلاَّ مَآ أَرَى
(I show you only that which I see,) -- Fir`awn uttered a lie and a fabrication; he betrayed Allah and His Messenger, and cheated his people by not advising them sincerely.
وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلاَّ سَبِيلَ الرَّشَادِ
(and I guide you only to the path of right policy!) means, `and I am only calling you to the path of truth, sincerity and guidance.' This was also a lie, but his people obeyed him and followed him. Allah says:
فَاتَّبَعُواْ أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَآ أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ
(they followed the command of Fir`awn, and the command of Fir`awn was no right guide) (11:97).
وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَى
(And Fir`awn led his people astray, and he did not guide them.) (20:79) According to a Hadith:
«مَا مِنْ إِمَام يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَام»
(There is no leader who dies having cheated his people, but he will never smell the fragrance of Paradise, and its fragrance can be detected from a distance of a five-hundred year journey.)" And Allah is the Guide to the straight path.
ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت۔مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے (ؒ تعالیٰ) اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ بلکہ سدی فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ حضرت موسیٰ کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایمان دار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان لائی تھیں۔ تیسرا وہ شخص جس نے حضرت موسیٰ کو خبر دی تھی کہ سرداروں کا مشورہ تمہیں قتل کرنے کا ہو رہا ہے۔ یہ اپنے ایمان کو چھپاتے رہتے تھے لیکن قتل موسیٰ کی سن کر ضبط نہ ہوسکی اور یہی درحقیقت سب سے بہتر اور افضل جہاد ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انسان کلمہ حق کہہ دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، اور فرعون کے سامنے اس سے زیادہ بڑا کلمہ کوئی نہ تھا۔ پس یہ شخص بہت بلند مرتبے کے مجاہد تھے۔ جن کے مقابلے کا کوئی نظر نہیں آتا۔ البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پہنچائی ہے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک روز حضور ﷺ کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپ کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت حضرت صدیق اکبر ؓ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ قریشیوں کا مجمع جمع تھا جب آپ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا کیا تو ہی ہے ؟ جو ہمیں ہمارے باپ دادوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں میں ہی ہوں۔ اس پر وہ سب آپ کو چمٹ گئے اور کپڑے گھسیٹنے لگے۔ حضرت ابوبکر نے آ کر آپ کو چھڑایا اور پوری آیت اتقتلون کی تلاوت کی۔ پس اس مومن نے بھی یہی کہا کہ اس کا قصور تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ اپنا رب اللہ کو بتاتا ہے اور جو کہتا ہے اس پر سند اور دلیل پیش کرتا ہے۔ اچھا مان لو بالفرض یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ستایا دکھ دیا تو یقینا تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہے۔ پس عقلاً لازم ہے کہ تم اسے چھوڑ دو جو اس کی مان رہے ہیں مانیں۔ تم کیوں اس کے درپے آزار ہو رہے ہیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت (وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ 17ۙ) 44۔ الدخان :17) تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کردو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو ، یہی جناب رسول آخر الزمان ﷺ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کردیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی، پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو ! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہئے۔ یاد رکھو اگر تم نے ناشکری کی اور رسول کی طرف بری نظریں ڈالیں۔ تو یقیناً عذاب اللہ تم پر آجائے گا۔ بتاؤ اس وقت کسے لاؤ گے۔ جو تمہاری مدد پر کھڑا ہو اور اللہ کے عذاب کو روکے یا ٹالے ؟ یہ لاؤ لشکر یہ جان و مال کچھ کام نہ آئیں گے۔ فرعون سے اور تو کوئی معقول جواب بن نہ پڑا کھسایانہ بن کر قوم میں اپنی خیر خواہی جتانے لگا کہ میں دھوکا نہیں دے رہا جو میر اخیال ہے اور میرے ذہن میں ہے وہی تم پر ظاہر کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل یہ بھی اس کی خیانت تھی۔ وہ بھی جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جیسے فرمان باری ہے (لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا01002) 17۔ الإسراء :102) یعنی حضرت موسیٰ نے فرمایا اے فرعون تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں۔ جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں اور آیت میں ہے (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14ۧ) 27۔ النمل :14) ، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کردیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوے میں آگئی اور فرعون کی بات مان لی۔ فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب
29
View Single
يَٰقَوۡمِ لَكُمُ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَ ظَٰهِرِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِنۢ بَأۡسِ ٱللَّهِ إِن جَآءَنَاۚ قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَآ أُرِيكُمۡ إِلَّا مَآ أَرَىٰ وَمَآ أَهۡدِيكُمۡ إِلَّا سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ
“O my people! You now rule the earth, dominant; so who will save us from Allah’s punishment if it comes upon us?” Said Firaun, “I only explain to you what I think is correct, and I show you only the right path.”
اے میری قوم! آج کے دن تمہاری حکومت ہے (تم ہی) سرزمینِ (مصر) میں اقتدار پر ہو، پھر کون ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔ فرعون نے کہا: میں تمہیں فقط وہی بات سمجھاتا ہوں جسے میں خود (صحیح) سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کی راہ کے سوا (اور کوئی راستہ) نہیں دکھاتا
Tafsir Ibn Kathir
Musa was supported by a believing Man from Fir`awn's Family
The well-known view is that this believing man was a Coptic (Egyptian) from the family of Fir`awn. As-Suddi said, he was a cousin son of the paternal uncle of Fir`awn. And it was said that he was the one who was saved along with Musa, peace be upon him. Ibn Jurayj reported that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said "No one from among the family of Fir`awn believed apart from this man, the wife of Fir`awn, and the one who said,
يمُوسَى إِنَّ الْمَلاّ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ
("O Musa! Verily, the chiefs are taking counsel together about you, to kill you.")" (28:20) This was narrated by Ibn Abi Hatim. This man concealed his Faith from his people, the Egyptians, and did not reveal it except on this day when Fir`awn said,
ذَرُونِى أَقْتُلْ مُوسَى
(Leave me to kill Musa,) The man was seized with anger for the sake of Allah, and the best of Jihad is to speak a just word before an unjust ruler, as is stated in the Hadith. There is no greater example of this than the words that this man said to Fir`awn:
أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبِّىَ اللَّهُ
(Would you kill a man because he says: `My Lord is Allah,) Al-Bukhari narrated a similar story in his Sahih from `Urwah bin Az-Zubayr, may Allah be pleased with him, who said: "I said to `Abdullah bin `Amr bin Al-`As, may Allah be pleased with him: `Tell me, what was the worst thing the idolators did to the Messenger of Allah ﷺ ' He said, `While the Messenger of Allah ﷺ was praying in the courtyard of the Ka`bah, `Uqbah bin Abi Mu`it came and grabbed the shoulder of the Messenger of Allah ﷺ and started twisting his garment so that it strangled him. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came and grabbed `Uqbah's shoulder and pushed him away from the Prophet , then he said,
أَتَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبِّىَ اللَّهُ وَقَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنَـتِ مِن رَّبِّكُمْ
(Would you kill a man because he says: `My Lord is Allah,' and he has come to you with clear signs from your Lord)."' This was recorded by Al-Bukhari. Allah's saying;
وَقَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنَـتِ مِن رَّبِّكُمْ
(and he has come to you with clear signs from your Lord) means, "how can you kill a man just because he says, `My Lord is Allah,' and he brings proof that what he is saying is the truth" Then, for the sake of argument, he went along with them and said,
وَإِن يَكُ كَـذِباً فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَـدِقاً يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ
(And if he is a liar, upon him will be (the sin of) his lie; but if he is telling the truth, then some of that (calamity) wherewith he threatens you will befall on you. ) meaning, `if you do not believe in what he is saying, then it is only common sense to leave him alone and not harm him; if he is lying, then Allah will punish him for his lies in this world and in the Hereafter. If he is telling the truth and you harm him, then some of what he is warning about will happen to you too, because he is threatening you with punishment in this world and in the Hereafter if you go against him. It is possible that he is telling the truth in your case, so you should leave him and his people alone, and not harm them.' Allah tells us that Musa asked Fir`awn and his people to leave them in peace, as Allah says:
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ - أَنْ أَدُّواْ إِلَىَّ عِبَادَ اللَّهِ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
وَأَن لاَّ تَعْلُواْ عَلَى اللَّهِ إِنِّى ءَاتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ - وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ - وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُواْ لِى فَاعْتَزِلُونِ
(And indeed We tried before them Fir`awn's people, when there came to them a noble Messenger, saying: "Deliver to me the servants of Allah. Verily, I am to you a Messenger worthy of all trust. And exalt not yourselves against Allah. Truly, I have come to you with a manifest authority. And truly, I seek refuge with my Lord and your Lord, lest you should stone me. But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone.") (44:17-21). Similarly, the Messenger of Allah ﷺ told the Quraysh to leave him alone and let him call the servants of Allah to Allah; he asked them not to harm him, and to uphold the ties of kinship that existed between him and them, by not harming him. Allah says:
قُل لاَّ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبَى
(Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you.") (42:23), meaning, `do not harm me, because of the ties of kinship that exist between me and you; so do not harm me, and let me address my call to the people.' This was the basis of the truce agreed upon on the day of Al-Hudaybiyah, which was a manifest victory.
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ
(Verily, Allah guides not one who is a transgressor, a liar!) means, `if the one who claims to have been sent by Allah is a liar, as you say, this would be obvious to everyone from his words and deeds, for they would be inconsistent and self-contradictory. But we can see that this man is upright and what he says is consistent. If he was a sinner and a liar, Allah would not have guided him and made his words and actions rational and consistent as you see them.' Then this believer warned his people that they would lose the blessings Allah bestowed upon them and that the vengeance of Allah would befall them:
يقَومِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَـهِرِينَ فِى الاٌّرْضِ
(O my people! Yours is the kingdom today, you being dominant in the land.) means, `Allah has blessed you with this kingdom, dominance in the land, power and authority, so take care of this blessing by giving thanks to Allah and believing in his Messenger, and beware of the punishment of Allah if you reject His Messenger.'
فَمَن يَنصُرُنَا مِن بَأْسِ اللَّهِ إِن جَآءَنَا
(But who will save us from the torment of Allah, should it befall us) means, `these soldiers and troops will not avail you anything and will not ward off the punishment of Allah, if He decides to punish us.' Fir`awn said to his people, in response to the advice of this righteous man who was more deserving of kingship than Fir`awn:
مَآ أُرِيكُمْ إِلاَّ مَآ أَرَى
(I show you only that which I see,) meaning, `I only tell you and advise you to do that which I think is good for myself, too.' But Fir`awn lied, because he knew that Musa was telling the truth concerning the Message which he brought.
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـؤُلاءِ إِلاَّ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ بَصَآئِرَ
(Musa said: "Verily, you know that these signs have been sent down by none but the Lord of the heavens and the earth.") (17:102)
وَجَحَدُواْ بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْماً وَعُلُوّاً
(And they belied them (those Ayat) wrongfully and arrogantly, though they were themselves convinced thereof) (27:14)
مَآ أُرِيكُمْ إِلاَّ مَآ أَرَى
(I show you only that which I see,) -- Fir`awn uttered a lie and a fabrication; he betrayed Allah and His Messenger, and cheated his people by not advising them sincerely.
وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلاَّ سَبِيلَ الرَّشَادِ
(and I guide you only to the path of right policy!) means, `and I am only calling you to the path of truth, sincerity and guidance.' This was also a lie, but his people obeyed him and followed him. Allah says:
فَاتَّبَعُواْ أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَآ أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ
(they followed the command of Fir`awn, and the command of Fir`awn was no right guide) (11:97).
وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَى
(And Fir`awn led his people astray, and he did not guide them.) (20:79) According to a Hadith:
«مَا مِنْ إِمَام يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَام»
(There is no leader who dies having cheated his people, but he will never smell the fragrance of Paradise, and its fragrance can be detected from a distance of a five-hundred year journey.)" And Allah is the Guide to the straight path.
ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت۔مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے (ؒ تعالیٰ) اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ بلکہ سدی فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ حضرت موسیٰ کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایمان دار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان لائی تھیں۔ تیسرا وہ شخص جس نے حضرت موسیٰ کو خبر دی تھی کہ سرداروں کا مشورہ تمہیں قتل کرنے کا ہو رہا ہے۔ یہ اپنے ایمان کو چھپاتے رہتے تھے لیکن قتل موسیٰ کی سن کر ضبط نہ ہوسکی اور یہی درحقیقت سب سے بہتر اور افضل جہاد ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انسان کلمہ حق کہہ دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، اور فرعون کے سامنے اس سے زیادہ بڑا کلمہ کوئی نہ تھا۔ پس یہ شخص بہت بلند مرتبے کے مجاہد تھے۔ جن کے مقابلے کا کوئی نظر نہیں آتا۔ البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پہنچائی ہے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک روز حضور ﷺ کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپ کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت حضرت صدیق اکبر ؓ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ قریشیوں کا مجمع جمع تھا جب آپ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا کیا تو ہی ہے ؟ جو ہمیں ہمارے باپ دادوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں میں ہی ہوں۔ اس پر وہ سب آپ کو چمٹ گئے اور کپڑے گھسیٹنے لگے۔ حضرت ابوبکر نے آ کر آپ کو چھڑایا اور پوری آیت اتقتلون کی تلاوت کی۔ پس اس مومن نے بھی یہی کہا کہ اس کا قصور تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ اپنا رب اللہ کو بتاتا ہے اور جو کہتا ہے اس پر سند اور دلیل پیش کرتا ہے۔ اچھا مان لو بالفرض یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ستایا دکھ دیا تو یقینا تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہے۔ پس عقلاً لازم ہے کہ تم اسے چھوڑ دو جو اس کی مان رہے ہیں مانیں۔ تم کیوں اس کے درپے آزار ہو رہے ہیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت (وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ 17ۙ) 44۔ الدخان :17) تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کردو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو ، یہی جناب رسول آخر الزمان ﷺ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کردیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی، پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو ! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہئے۔ یاد رکھو اگر تم نے ناشکری کی اور رسول کی طرف بری نظریں ڈالیں۔ تو یقیناً عذاب اللہ تم پر آجائے گا۔ بتاؤ اس وقت کسے لاؤ گے۔ جو تمہاری مدد پر کھڑا ہو اور اللہ کے عذاب کو روکے یا ٹالے ؟ یہ لاؤ لشکر یہ جان و مال کچھ کام نہ آئیں گے۔ فرعون سے اور تو کوئی معقول جواب بن نہ پڑا کھسایانہ بن کر قوم میں اپنی خیر خواہی جتانے لگا کہ میں دھوکا نہیں دے رہا جو میر اخیال ہے اور میرے ذہن میں ہے وہی تم پر ظاہر کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل یہ بھی اس کی خیانت تھی۔ وہ بھی جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جیسے فرمان باری ہے (لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا01002) 17۔ الإسراء :102) یعنی حضرت موسیٰ نے فرمایا اے فرعون تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں۔ جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں اور آیت میں ہے (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14ۧ) 27۔ النمل :14) ، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کردیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوے میں آگئی اور فرعون کی بات مان لی۔ فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب
30
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِيٓ ءَامَنَ يَٰقَوۡمِ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُم مِّثۡلَ يَوۡمِ ٱلۡأَحۡزَابِ
And the believer said, “O my people! I fear for you a day similar to that of the earlier groups!”
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! میں تم پر (بھی اگلی) قوموں کے روزِ بد کی طرح (عذاب) کا خوف رکھتا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
يقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الاٌّحْزَابِ
(O my people! Verily, I fear for you an end like that day (of disaster) of the groups (of old)!) meaning, those of the earlier nations who disbelieved the Messengers of Allah, such as the people of Nuh, `Ad, Thamud and the disbelieving nations who came after them, how the punishment of Allah came upon them and they had no one to protect them or ward off that punishment.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعِبَادِ
(And Allah wills no injustice for (His) servants.) means, Allah destroyed them for their sins and for their disbelief in and rejection of His Messengers; this was His command and His decree concerning them that was fulfilled. Then he said:
وَيقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ
(And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling.) meaning, the Day of Resurrection.
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ
(A Day when you will turn your backs and flee) means, running away.
كَلاَّ لاَ وَزَرَ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.) (75:11-12) Allah says:
مَا لَكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ
(having no protector from Allah.) meaning, `you will have no one to protect you from the punishment and torment of Allah.'
وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.) means, whomever Allah sends astray will have no other guide except Him. Allah's saying:
وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَـتِ
(And indeed Yusuf came to you, in times gone by, with clear signs,) refers to the people of Egypt. Allah sent a Messenger to them before the time of Musa, peace be upon him, in the person of Yusuf, peace be upon him, who attained a high position in the government of the people of Egypt. He was a Messenger who called his people to Allah with justice, but they did not obey him in matters of worshipping Allah, they only obeyed him in worldly matters that pertained to his position in the government. Allah says:
فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُـمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(but you ceased not to doubt in that which he brought to you, till when he died, you said: "No Messenger will Allah send after him.") means, `you despaired, and said by way of wishful thinking,'
لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(No Messenger will Allah send after him.) This was because of their disbelief and rejection (of the Messengers).
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ
(Thus Allah leaves astray him who is a transgressor and a skeptic. ) means, this is the state of the one whom Allah sends astray because of his sinful actions and the doubts in his heart.
الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority that has come to them,) means, those who attempt to refute truth with falsehood and who dispute the proof without evidence or proof from Allah, Allah will hate them with the utmost loathing. Allah says:
كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(it is greatly hateful and disgusting to Allah and to those who believe.) meaning, the believers too will despise those who are like this, and whoever is like this, Allah will put a seal on his heart so that after that he will not acknowledge anything good or denounce anything evil. Allah says:
كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ
(Thus does Allah seal up the heart of every arrogant.) meaning, so that they cannot follow the truth.
جَبَّارٍ
(tyrant.)
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضرت ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) ، یعنی اے انسانو ! اور جنو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حسن اور ضحاک کی قرأت میں یوم التناد دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے ندالبعیر سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے، کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہوگیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہوگیا اور تباہ و برباد ہوگیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں قیامت کو یوم التناد اس لئے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے اسی طرح سورة اعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام یوم التناد ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے واللہ اعلم، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ کی بعثت حضرت موسیٰ سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم بالکل مایوس ہوگئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گذرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بےہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ ابو عمران جونی اور قتادہ کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
31
View Single
مِثۡلَ دَأۡبِ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡۚ وَمَا ٱللَّهُ يُرِيدُ ظُلۡمٗا لِّلۡعِبَادِ
“Like the tradition of the people of Nooh, and Aad, and Thamud and others after them; and Allah does not will injustice upon bondmen.”
قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے (ان) کے دستورِ سزا کی طرح، اور اللہ بندوں پر ہرگز زیادتی نہیں چاہتا
Tafsir Ibn Kathir
يقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الاٌّحْزَابِ
(O my people! Verily, I fear for you an end like that day (of disaster) of the groups (of old)!) meaning, those of the earlier nations who disbelieved the Messengers of Allah, such as the people of Nuh, `Ad, Thamud and the disbelieving nations who came after them, how the punishment of Allah came upon them and they had no one to protect them or ward off that punishment.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعِبَادِ
(And Allah wills no injustice for (His) servants.) means, Allah destroyed them for their sins and for their disbelief in and rejection of His Messengers; this was His command and His decree concerning them that was fulfilled. Then he said:
وَيقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ
(And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling.) meaning, the Day of Resurrection.
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ
(A Day when you will turn your backs and flee) means, running away.
كَلاَّ لاَ وَزَرَ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.) (75:11-12) Allah says:
مَا لَكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ
(having no protector from Allah.) meaning, `you will have no one to protect you from the punishment and torment of Allah.'
وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.) means, whomever Allah sends astray will have no other guide except Him. Allah's saying:
وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَـتِ
(And indeed Yusuf came to you, in times gone by, with clear signs,) refers to the people of Egypt. Allah sent a Messenger to them before the time of Musa, peace be upon him, in the person of Yusuf, peace be upon him, who attained a high position in the government of the people of Egypt. He was a Messenger who called his people to Allah with justice, but they did not obey him in matters of worshipping Allah, they only obeyed him in worldly matters that pertained to his position in the government. Allah says:
فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُـمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(but you ceased not to doubt in that which he brought to you, till when he died, you said: "No Messenger will Allah send after him.") means, `you despaired, and said by way of wishful thinking,'
لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(No Messenger will Allah send after him.) This was because of their disbelief and rejection (of the Messengers).
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ
(Thus Allah leaves astray him who is a transgressor and a skeptic. ) means, this is the state of the one whom Allah sends astray because of his sinful actions and the doubts in his heart.
الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority that has come to them,) means, those who attempt to refute truth with falsehood and who dispute the proof without evidence or proof from Allah, Allah will hate them with the utmost loathing. Allah says:
كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(it is greatly hateful and disgusting to Allah and to those who believe.) meaning, the believers too will despise those who are like this, and whoever is like this, Allah will put a seal on his heart so that after that he will not acknowledge anything good or denounce anything evil. Allah says:
كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ
(Thus does Allah seal up the heart of every arrogant.) meaning, so that they cannot follow the truth.
جَبَّارٍ
(tyrant.)
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضرت ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) ، یعنی اے انسانو ! اور جنو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حسن اور ضحاک کی قرأت میں یوم التناد دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے ندالبعیر سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے، کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہوگیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہوگیا اور تباہ و برباد ہوگیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں قیامت کو یوم التناد اس لئے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے اسی طرح سورة اعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام یوم التناد ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے واللہ اعلم، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ کی بعثت حضرت موسیٰ سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم بالکل مایوس ہوگئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گذرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بےہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ ابو عمران جونی اور قتادہ کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
32
View Single
وَيَٰقَوۡمِ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ يَوۡمَ ٱلتَّنَادِ
“O my people! I fear for you a day on which will be a great outcry!”
اور اے قوم! میں تم پر چیخ و پکار کے دن (یعنی قیامت) سے خوف زدہ ہوں
Tafsir Ibn Kathir
يقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الاٌّحْزَابِ
(O my people! Verily, I fear for you an end like that day (of disaster) of the groups (of old)!) meaning, those of the earlier nations who disbelieved the Messengers of Allah, such as the people of Nuh, `Ad, Thamud and the disbelieving nations who came after them, how the punishment of Allah came upon them and they had no one to protect them or ward off that punishment.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعِبَادِ
(And Allah wills no injustice for (His) servants.) means, Allah destroyed them for their sins and for their disbelief in and rejection of His Messengers; this was His command and His decree concerning them that was fulfilled. Then he said:
وَيقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ
(And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling.) meaning, the Day of Resurrection.
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ
(A Day when you will turn your backs and flee) means, running away.
كَلاَّ لاَ وَزَرَ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.) (75:11-12) Allah says:
مَا لَكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ
(having no protector from Allah.) meaning, `you will have no one to protect you from the punishment and torment of Allah.'
وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.) means, whomever Allah sends astray will have no other guide except Him. Allah's saying:
وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَـتِ
(And indeed Yusuf came to you, in times gone by, with clear signs,) refers to the people of Egypt. Allah sent a Messenger to them before the time of Musa, peace be upon him, in the person of Yusuf, peace be upon him, who attained a high position in the government of the people of Egypt. He was a Messenger who called his people to Allah with justice, but they did not obey him in matters of worshipping Allah, they only obeyed him in worldly matters that pertained to his position in the government. Allah says:
فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُـمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(but you ceased not to doubt in that which he brought to you, till when he died, you said: "No Messenger will Allah send after him.") means, `you despaired, and said by way of wishful thinking,'
لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(No Messenger will Allah send after him.) This was because of their disbelief and rejection (of the Messengers).
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ
(Thus Allah leaves astray him who is a transgressor and a skeptic. ) means, this is the state of the one whom Allah sends astray because of his sinful actions and the doubts in his heart.
الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority that has come to them,) means, those who attempt to refute truth with falsehood and who dispute the proof without evidence or proof from Allah, Allah will hate them with the utmost loathing. Allah says:
كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(it is greatly hateful and disgusting to Allah and to those who believe.) meaning, the believers too will despise those who are like this, and whoever is like this, Allah will put a seal on his heart so that after that he will not acknowledge anything good or denounce anything evil. Allah says:
كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ
(Thus does Allah seal up the heart of every arrogant.) meaning, so that they cannot follow the truth.
جَبَّارٍ
(tyrant.)
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضرت ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) ، یعنی اے انسانو ! اور جنو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حسن اور ضحاک کی قرأت میں یوم التناد دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے ندالبعیر سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے، کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہوگیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہوگیا اور تباہ و برباد ہوگیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں قیامت کو یوم التناد اس لئے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے اسی طرح سورة اعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام یوم التناد ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے واللہ اعلم، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ کی بعثت حضرت موسیٰ سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم بالکل مایوس ہوگئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گذرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بےہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ ابو عمران جونی اور قتادہ کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
33
View Single
يَوۡمَ تُوَلُّونَ مُدۡبِرِينَ مَا لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنۡ عَاصِمٖۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٖ
“A day when you will turn back fleeing; none can save you from Allah; and whomever Allah sends astray, there is no guide for him.”
جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تمہیں اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے کوئی ہادی و رہنما نہیں ہوتا
Tafsir Ibn Kathir
يقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الاٌّحْزَابِ
(O my people! Verily, I fear for you an end like that day (of disaster) of the groups (of old)!) meaning, those of the earlier nations who disbelieved the Messengers of Allah, such as the people of Nuh, `Ad, Thamud and the disbelieving nations who came after them, how the punishment of Allah came upon them and they had no one to protect them or ward off that punishment.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعِبَادِ
(And Allah wills no injustice for (His) servants.) means, Allah destroyed them for their sins and for their disbelief in and rejection of His Messengers; this was His command and His decree concerning them that was fulfilled. Then he said:
وَيقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ
(And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling.) meaning, the Day of Resurrection.
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ
(A Day when you will turn your backs and flee) means, running away.
كَلاَّ لاَ وَزَرَ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.) (75:11-12) Allah says:
مَا لَكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ
(having no protector from Allah.) meaning, `you will have no one to protect you from the punishment and torment of Allah.'
وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.) means, whomever Allah sends astray will have no other guide except Him. Allah's saying:
وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَـتِ
(And indeed Yusuf came to you, in times gone by, with clear signs,) refers to the people of Egypt. Allah sent a Messenger to them before the time of Musa, peace be upon him, in the person of Yusuf, peace be upon him, who attained a high position in the government of the people of Egypt. He was a Messenger who called his people to Allah with justice, but they did not obey him in matters of worshipping Allah, they only obeyed him in worldly matters that pertained to his position in the government. Allah says:
فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُـمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(but you ceased not to doubt in that which he brought to you, till when he died, you said: "No Messenger will Allah send after him.") means, `you despaired, and said by way of wishful thinking,'
لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(No Messenger will Allah send after him.) This was because of their disbelief and rejection (of the Messengers).
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ
(Thus Allah leaves astray him who is a transgressor and a skeptic. ) means, this is the state of the one whom Allah sends astray because of his sinful actions and the doubts in his heart.
الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority that has come to them,) means, those who attempt to refute truth with falsehood and who dispute the proof without evidence or proof from Allah, Allah will hate them with the utmost loathing. Allah says:
كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(it is greatly hateful and disgusting to Allah and to those who believe.) meaning, the believers too will despise those who are like this, and whoever is like this, Allah will put a seal on his heart so that after that he will not acknowledge anything good or denounce anything evil. Allah says:
كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ
(Thus does Allah seal up the heart of every arrogant.) meaning, so that they cannot follow the truth.
جَبَّارٍ
(tyrant.)
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضرت ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) ، یعنی اے انسانو ! اور جنو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حسن اور ضحاک کی قرأت میں یوم التناد دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے ندالبعیر سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے، کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہوگیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہوگیا اور تباہ و برباد ہوگیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں قیامت کو یوم التناد اس لئے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے اسی طرح سورة اعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام یوم التناد ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے واللہ اعلم، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ کی بعثت حضرت موسیٰ سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم بالکل مایوس ہوگئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گذرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بےہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ ابو عمران جونی اور قتادہ کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
34
View Single
وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوسُفُ مِن قَبۡلُ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِي شَكّٖ مِّمَّا جَآءَكُم بِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَن يَبۡعَثَ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِهِۦ رَسُولٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٞ مُّرۡتَابٌ
“And indeed Yusuf came to you with clear signs before this, thereupon you remained doubtful concerning what he had brought; to the extent that when he died, you said, ‘Allah will surely not send any Noble Messenger after him’”; this is how Allah sends astray whoever transgresses, is doubtful. –
اور (اے اہلِ مصر!) بے شک تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) واضح نشانیوں کے ساتھ آچکے اور تم ہمیشہ ان (نشانیوں) کے بارے میں شک میں (پڑے) رہے جو وہ تمہارے پاس لائے تھے، یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم کہنے لگے کہ اب اللہ ان کے بعد ہرگز کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ ٹھہرا دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا شک کرنے والا ہو
Tafsir Ibn Kathir
يقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الاٌّحْزَابِ
(O my people! Verily, I fear for you an end like that day (of disaster) of the groups (of old)!) meaning, those of the earlier nations who disbelieved the Messengers of Allah, such as the people of Nuh, `Ad, Thamud and the disbelieving nations who came after them, how the punishment of Allah came upon them and they had no one to protect them or ward off that punishment.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعِبَادِ
(And Allah wills no injustice for (His) servants.) means, Allah destroyed them for their sins and for their disbelief in and rejection of His Messengers; this was His command and His decree concerning them that was fulfilled. Then he said:
وَيقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ
(And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling.) meaning, the Day of Resurrection.
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ
(A Day when you will turn your backs and flee) means, running away.
كَلاَّ لاَ وَزَرَ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.) (75:11-12) Allah says:
مَا لَكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ
(having no protector from Allah.) meaning, `you will have no one to protect you from the punishment and torment of Allah.'
وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.) means, whomever Allah sends astray will have no other guide except Him. Allah's saying:
وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَـتِ
(And indeed Yusuf came to you, in times gone by, with clear signs,) refers to the people of Egypt. Allah sent a Messenger to them before the time of Musa, peace be upon him, in the person of Yusuf, peace be upon him, who attained a high position in the government of the people of Egypt. He was a Messenger who called his people to Allah with justice, but they did not obey him in matters of worshipping Allah, they only obeyed him in worldly matters that pertained to his position in the government. Allah says:
فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُـمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(but you ceased not to doubt in that which he brought to you, till when he died, you said: "No Messenger will Allah send after him.") means, `you despaired, and said by way of wishful thinking,'
لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(No Messenger will Allah send after him.) This was because of their disbelief and rejection (of the Messengers).
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ
(Thus Allah leaves astray him who is a transgressor and a skeptic. ) means, this is the state of the one whom Allah sends astray because of his sinful actions and the doubts in his heart.
الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority that has come to them,) means, those who attempt to refute truth with falsehood and who dispute the proof without evidence or proof from Allah, Allah will hate them with the utmost loathing. Allah says:
كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(it is greatly hateful and disgusting to Allah and to those who believe.) meaning, the believers too will despise those who are like this, and whoever is like this, Allah will put a seal on his heart so that after that he will not acknowledge anything good or denounce anything evil. Allah says:
كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ
(Thus does Allah seal up the heart of every arrogant.) meaning, so that they cannot follow the truth.
جَبَّارٍ
(tyrant.)
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضرت ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) ، یعنی اے انسانو ! اور جنو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حسن اور ضحاک کی قرأت میں یوم التناد دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے ندالبعیر سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے، کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہوگیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہوگیا اور تباہ و برباد ہوگیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں قیامت کو یوم التناد اس لئے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے اسی طرح سورة اعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام یوم التناد ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے واللہ اعلم، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ کی بعثت حضرت موسیٰ سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم بالکل مایوس ہوگئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گذرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بےہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ ابو عمران جونی اور قتادہ کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
35
View Single
ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ سُلۡطَٰنٍ أَتَىٰهُمۡۖ كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلۡبِ مُتَكَبِّرٖ جَبَّارٖ
Those who dispute regarding the signs of Allah without any proof having come to them; how very disgusting this is, in the sight of Allah and in the sight of the believers! This is how Allah seals the entire heart of every haughty, rebellious person.
جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، (یہ جھگڑا کرنا) اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک سخت بیزاری (کی بات) ہے، اسی طرح اللہ ہر ایک مغرور (اور) سر کش کے دل پر مُہر لگا دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
يقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الاٌّحْزَابِ
(O my people! Verily, I fear for you an end like that day (of disaster) of the groups (of old)!) meaning, those of the earlier nations who disbelieved the Messengers of Allah, such as the people of Nuh, `Ad, Thamud and the disbelieving nations who came after them, how the punishment of Allah came upon them and they had no one to protect them or ward off that punishment.
وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِّلْعِبَادِ
(And Allah wills no injustice for (His) servants.) means, Allah destroyed them for their sins and for their disbelief in and rejection of His Messengers; this was His command and His decree concerning them that was fulfilled. Then he said:
وَيقَوْمِ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ
(And, O my people! Verily, I fear for you the Day when there will be mutual calling.) meaning, the Day of Resurrection.
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ
(A Day when you will turn your backs and flee) means, running away.
كَلاَّ لاَ وَزَرَ - إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ
(No! There is no refuge! Unto your Lord will be the place of rest that Day.) (75:11-12) Allah says:
مَا لَكُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ
(having no protector from Allah.) meaning, `you will have no one to protect you from the punishment and torment of Allah.'
وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
(And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.) means, whomever Allah sends astray will have no other guide except Him. Allah's saying:
وَلَقَدْ جَآءَكُـمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَـتِ
(And indeed Yusuf came to you, in times gone by, with clear signs,) refers to the people of Egypt. Allah sent a Messenger to them before the time of Musa, peace be upon him, in the person of Yusuf, peace be upon him, who attained a high position in the government of the people of Egypt. He was a Messenger who called his people to Allah with justice, but they did not obey him in matters of worshipping Allah, they only obeyed him in worldly matters that pertained to his position in the government. Allah says:
فَمَا زِلْتُمْ فِى شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُـمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(but you ceased not to doubt in that which he brought to you, till when he died, you said: "No Messenger will Allah send after him.") means, `you despaired, and said by way of wishful thinking,'
لَن يَبْعَثَ اللَّهُ مِن بَعْدِهِ رَسُولاً
(No Messenger will Allah send after him.) This was because of their disbelief and rejection (of the Messengers).
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ
(Thus Allah leaves astray him who is a transgressor and a skeptic. ) means, this is the state of the one whom Allah sends astray because of his sinful actions and the doubts in his heart.
الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority that has come to them,) means, those who attempt to refute truth with falsehood and who dispute the proof without evidence or proof from Allah, Allah will hate them with the utmost loathing. Allah says:
كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(it is greatly hateful and disgusting to Allah and to those who believe.) meaning, the believers too will despise those who are like this, and whoever is like this, Allah will put a seal on his heart so that after that he will not acknowledge anything good or denounce anything evil. Allah says:
كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُـلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ
(Thus does Allah seal up the heart of every arrogant.) meaning, so that they cannot follow the truth.
جَبَّارٍ
(tyrant.)
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور پھٹ جائے گی تو لوگ مارے گھبراہٹ کے ادھر ادھر پریشان حواس بھاگنے لگیں گے۔ اور ایک دوسرے کو آواز دیں گے۔ حضرت ضحاک وغیرہ کا قول ہے کہ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب جہنم لائی جائے گی اور لوگ اسے دیکھ کر ڈر کر بھاگیں گے اور فرشتے انہیں میدان محشر کی طرف واپس لائیں گے۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ 17ۭ) 69۔ الحاقة :17) یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ اور فرمان ہے (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33ۚ) 55۔ الرحمن :33) ، یعنی اے انسانو ! اور جنو ! اگر تم زمین و آسمان کے کناروں سے بھاگ نکلنے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل بھاگو لیکن یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ حسن اور ضحاک کی قرأت میں یوم التناد دال کی تشدید کے ساتھ ہے۔ اور یہ ماخوذ ہے ندالبعیر سے، جب اونٹ چلا جائے اور سرکشی کرنے لگے تو یہ لفظ کہا جاتا ہے، کہا گیا ہے کہ جس ترازو میں عمل تولے جائیں گے وہاں ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی وہ با آواز بلند پکار کر کہے گا لوگو فلاں کا لڑکا فلاں سعادت والا ہوگیا اور آج کے بعد سے اس پر شقاوت کبھی نہیں آئے گی اور اس کی نیکیاں گھٹ گئیں تو وہ فرشتہ آواز لگائے گا کہ فلاں بن فلاں بدنصیب ہوگیا اور تباہ و برباد ہوگیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں قیامت کو یوم التناد اس لئے کہا گیا ہے کہ جنتی جنتیوں کو اور جہنمی جہنمیوں کو پکاریں گے اور اعمال کے ساتھ پکاریں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ جنتی دوزخیوں کو پکاریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے سچ پایا۔ تم بتاؤ کہ کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ اسی طرح جہنمی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہمیں تھوڑا سا پانی ہی چھوا دو یا وہ کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے۔ جنتی جواب دیں گے کہ یہاں کے کھانے پینے کو اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے اسی طرح سورة اعراف میں یہ بھی بیان ہے کہ اعراف والے دوزخیوں اور جنتیوں کو پکاریں گے۔ بغوی وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ہیں اور ان سب وجوہ کی بنا پر قیامت کے دن کا نام یوم التناد ہے۔ یہی قول بہت عمدہ ہے واللہ اعلم، اس دن لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ٹھہرنے کی جگہ یہی ہے اس دن کوئی نہ ہوگا جو بچا سکے اور اللہ کے عذاب سے چھڑا سکے بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں وہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، پھر فرماتا ہے کہ اس سے پہلے اہل مصر کے پاس حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر بن کر آئے تھے۔ آپ کی بعثت حضرت موسیٰ سے پہلے ہوئی تھی۔ عزیز مصر بھی آپ ہی تھے اور اپنی امت کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ لیکن قوم نے ان کی اطاعت نہ کی، ہاں بوجہ دنیوی جاہ کے اور وزارت کے تو انہیں ماتحتی کرنی پڑتی تھی۔ پس فرماتا ہے کہ تم ان کی نبوت کی طرف سے بھی شک میں ہی رہے۔ آخر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم بالکل مایوس ہوگئے اور امید کرتے ہوئے کہنے لگے کہا اب تو اللہ تعالیٰ کسی کو نبی بنا کر بھیجے گا ہی نہیں۔ یہ تھا ان کا کفر اور ان کی تکذیب اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کردیتا ہے جو بےجا کام کرنے والا حد سے گذرے جانے والا اور شک شبہ میں مبتلا رہنے والا ہو۔ یعنی جو تمہارا حال ہے یہی حال ان سب کا ہوتا ہے جن کے کام اسراف والے ہوں اور جن کا دل شک شبہ والا ہو، جو لوگ حق کو باطل سے ہٹاتے ہیں اور بغیر دلیل کے دلیلوں کو ٹالتے ہیں اس پر اللہ ان سے ناخوش ہے اور سخت تر ناراض ہے۔ ان کے یہ افعال جہاں اللہ کی ناراضگی کا باعث ہیں وہاں ایمان داروں کی بھی ناخوشی کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں میں ایسی بےہودہ صفتیں ہوتی ہیں ان کے دل پر اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے جس کے بعد انہیں نہ اچھائی اچھی معلوم ہوتی ہے نہ برائی بری لگتی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق سے سرکشی کرنے والا ہو اور تکبر و غرور والا ہو۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں جبار وہ شخص ہے جو دو انسانوں کو قتل کر ڈالے۔ ابو عمران جونی اور قتادہ کا فرمان ہے کہ جو بغیر حق کے کسی کو قتل کرے وہ جبار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
36
View Single
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يَٰهَٰمَٰنُ ٱبۡنِ لِي صَرۡحٗا لَّعَلِّيٓ أَبۡلُغُ ٱلۡأَسۡبَٰبَ
And said Firaun, “O Haman! Build a high palace for me, in order that I may reach the routes.” –
اور فرعون نے کہا: اے ہامان! تو میرے لئے ایک اونچا محل بنا دے تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) راستوں پر جا پہنچوں
Tafsir Ibn Kathir
How Fir`awn mocked the Lord of Musa
Allah tells us of the arrogant and hostile defiance of Fir`awn and his rejection of Musa, when he commanded his minister Haman to build him a tower, i.e., a tall, high, strong fortress. He built it of bricks made from baked clay, as Allah says:
فَأَوْقِدْ لِى يَهَـمَـنُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّى صَرْحاً
(So kindle for me (a fire), O Haman, to bake (bricks out of) clay, and set up for me a lofty tower) (28:38).
لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَأَسْبَـبَ السَّمَـوَتِ
(that I may arrive at the ways -- the ways of the heavens,) Sa`id bin Jubayr and Abu Salih said, "The gates of the heavens." Or it was said, the ways of the heavens.
فَأَطَّلِعَ إِلَى إِلَـهِ مُوسَى وَإِنِّى لاّظُنُّهُ كَـذِباً
(and I may look upon the God of Musa, but verily, I think him to be a liar.) Because of his disbelief and defiance, he did not believe that Allah had sent Musa to him. Allah says:
وَكَـذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ
(Thus it was made fair seeming, in Fir`awn's eyes, the evil of his deeds, and he was hindered from the path;) means, this act of his building the tower, by means of which he wanted to deceive his people and make them think that he could prove that Musa was lying. Allah says:
وَمَا كَـيْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فِى تَبَابٍ
(and the plot of Fir`awn led to nothing but loss and destruction.) Ibn `Abbas and Mujahid said, "Meaning nothing but ruin."
فرعون کی سرکشی اور تکبر۔فرعون کی سرکشی اور تکبر بیان ہو رہا ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لئے ایک بلند وبالا محل تعمیر کرا۔ اینٹوں اور چونے کی پختہ اور بہت اونچی عمارت بنا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ اس نے کہا اے ہامان اینٹیں پکا کر میرے لئے ایک اونچی عمارت بنا۔ حضرت ؒ کا قول ہے کہ قبر کو پختہ بنانا اور اسے چونے گج کرنا سلف صالحین مکروہ جانتے تھے۔ (ابن ابی حاتم) فرعون کہتا ہے کہ یہ محل میں اس لئے بنوا رہا ہوں کہ آسمان کے دروازوں اور آسمان کے راستوں تک میں پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے اللہ کو دیکھ لوں گو میں جانتا ہوں کہ موسیٰ ہے جھوٹا۔ وہ جو کہہ رہا ہے کہ اللہ نے اسے بھیجا ہے یہ بالکل غلط ہے، دراصل فرعون کا یہ ایک مکر تھا اور وہ اپنی رعیت پر یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ دیکھو میں ایسا کام کرتا ہوں جس سے موسیٰ کا جھوٹ بالکل کھل جائے اور میری طرح تمہیں بھی یقین آجائے کہ موسیٰ غلط گو مفتری اور کذاب ہے۔ فرعون راہ اللہ سے روک دیا گیا۔ اسی کی ہر تدبیر الٹی ہی رہی اور جو کام وہ کرتا ہے وہ اس کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے اور وہ خسارے میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
37
View Single
أَسۡبَٰبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ كَٰذِبٗاۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِۚ وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِي تَبَابٖ
“The routes of the heavens, in order to glance at the God of Moosa – and indeed I think he is a liar”; this is how the evil deeds of Firaun were made seeming good to him, and he was stopped from the path; and the evil scheme of Firaun was destined to be ruined.
(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر، پھر میں موسٰی کے خدا کو جھانک کر دیکھ سکوں اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لئے اس کی بد عملی خوش نما کر دی گئی اور وہ (اللہ کی) راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی پُرفریب تدبیر محض ہلاکت ہی میں تھی
Tafsir Ibn Kathir
How Fir`awn mocked the Lord of Musa
Allah tells us of the arrogant and hostile defiance of Fir`awn and his rejection of Musa, when he commanded his minister Haman to build him a tower, i.e., a tall, high, strong fortress. He built it of bricks made from baked clay, as Allah says:
فَأَوْقِدْ لِى يَهَـمَـنُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّى صَرْحاً
(So kindle for me (a fire), O Haman, to bake (bricks out of) clay, and set up for me a lofty tower) (28:38).
لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَأَسْبَـبَ السَّمَـوَتِ
(that I may arrive at the ways -- the ways of the heavens,) Sa`id bin Jubayr and Abu Salih said, "The gates of the heavens." Or it was said, the ways of the heavens.
فَأَطَّلِعَ إِلَى إِلَـهِ مُوسَى وَإِنِّى لاّظُنُّهُ كَـذِباً
(and I may look upon the God of Musa, but verily, I think him to be a liar.) Because of his disbelief and defiance, he did not believe that Allah had sent Musa to him. Allah says:
وَكَـذَلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيلِ
(Thus it was made fair seeming, in Fir`awn's eyes, the evil of his deeds, and he was hindered from the path;) means, this act of his building the tower, by means of which he wanted to deceive his people and make them think that he could prove that Musa was lying. Allah says:
وَمَا كَـيْدُ فِرْعَوْنَ إِلاَّ فِى تَبَابٍ
(and the plot of Fir`awn led to nothing but loss and destruction.) Ibn `Abbas and Mujahid said, "Meaning nothing but ruin."
فرعون کی سرکشی اور تکبر۔فرعون کی سرکشی اور تکبر بیان ہو رہا ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لئے ایک بلند وبالا محل تعمیر کرا۔ اینٹوں اور چونے کی پختہ اور بہت اونچی عمارت بنا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ اس نے کہا اے ہامان اینٹیں پکا کر میرے لئے ایک اونچی عمارت بنا۔ حضرت ؒ کا قول ہے کہ قبر کو پختہ بنانا اور اسے چونے گج کرنا سلف صالحین مکروہ جانتے تھے۔ (ابن ابی حاتم) فرعون کہتا ہے کہ یہ محل میں اس لئے بنوا رہا ہوں کہ آسمان کے دروازوں اور آسمان کے راستوں تک میں پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے اللہ کو دیکھ لوں گو میں جانتا ہوں کہ موسیٰ ہے جھوٹا۔ وہ جو کہہ رہا ہے کہ اللہ نے اسے بھیجا ہے یہ بالکل غلط ہے، دراصل فرعون کا یہ ایک مکر تھا اور وہ اپنی رعیت پر یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ دیکھو میں ایسا کام کرتا ہوں جس سے موسیٰ کا جھوٹ بالکل کھل جائے اور میری طرح تمہیں بھی یقین آجائے کہ موسیٰ غلط گو مفتری اور کذاب ہے۔ فرعون راہ اللہ سے روک دیا گیا۔ اسی کی ہر تدبیر الٹی ہی رہی اور جو کام وہ کرتا ہے وہ اس کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے اور وہ خسارے میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
38
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِيٓ ءَامَنَ يَٰقَوۡمِ ٱتَّبِعُونِ أَهۡدِكُمۡ سَبِيلَ ٱلرَّشَادِ
And the believer said, “O my people! Follow me, I shall show you the way of righteousness.”
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! تم میری پیروی کرو میں تمہیں خیر و ہدایت کی راہ پر لگا دوں گا
Tafsir Ibn Kathir
More of what the Believer from Fir`awn's Family said
This believer said to his people who persisted in their rebellion and transgression, and preferred the life of this world:
يقَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُـمْ سَبِيـلَ الرَّشَـادِ
(O my people! Follow me, I will guide you to the way of right conduct.) This is in contrast to the false claim of Fir`awn:
وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلاَّ سَبِيلَ الرَّشَادِ
(and I guide you only to the path of right policy.) Then he sought to make them shun this world which they preferred to the Hereafter, and which had prevented them from believing in the Messenger of Allah, Musa, peace be upon him. He said:
يقَوْمِ إِنَّمَا هَـذِهِ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا مَتَـعٌ
(O my people! Truly, this life of the world is nothing but an enjoyment,) meaning, it is insignificant and fleeting, and soon it will diminish and pass away.
وَإِنَّ الاٌّخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَـرَارِ
(and verily, the Hereafter that is the home that will remain forever.) means, the abode which will never end and from which there will be no departure, which will be either Paradise or Hell. Allah says:
مَنْ عَمِـلَ سَـيِّئَةً فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا
(Whosoever does an evil deed, will not be requited except the like thereof;) means, one like it.
وَمَنْ عَمِـلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَـرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَـئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ
(and whosoever does a righteous deed, whether male or female and is a true believer, such will enter Paradise, where they will be provided therein without limit.) means, the reward cannot be enumerated, but Allah will give an immense reward without end. And Allah is the Guide to the straight path.
قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت۔ فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بےرعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہوجانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت لبدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا بدلہ تو اس کے برابر ہی دیا جاتا ہے ہاں نیکی کا بدلہ بےحساب دیا جاتا ہے۔ نیکی کرنے والا چاہے مرد ہو۔ چاہے عورت ہو۔ ہاں یہ شرط ہے کہ ہو باایمان۔ اسے اس نیکی کا ثواب اس قدر دیا جائے گا جو بیحد وبے حساب ہوگا۔
39
View Single
يَٰقَوۡمِ إِنَّمَا هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا مَتَٰعٞ وَإِنَّ ٱلۡأٓخِرَةَ هِيَ دَارُ ٱلۡقَرَارِ
“O my people! The life of this world is just a brief usage, and indeed the next abode is one of everlasting stay.”
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی بس (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے
Tafsir Ibn Kathir
More of what the Believer from Fir`awn's Family said
This believer said to his people who persisted in their rebellion and transgression, and preferred the life of this world:
يقَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُـمْ سَبِيـلَ الرَّشَـادِ
(O my people! Follow me, I will guide you to the way of right conduct.) This is in contrast to the false claim of Fir`awn:
وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلاَّ سَبِيلَ الرَّشَادِ
(and I guide you only to the path of right policy.) Then he sought to make them shun this world which they preferred to the Hereafter, and which had prevented them from believing in the Messenger of Allah, Musa, peace be upon him. He said:
يقَوْمِ إِنَّمَا هَـذِهِ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا مَتَـعٌ
(O my people! Truly, this life of the world is nothing but an enjoyment,) meaning, it is insignificant and fleeting, and soon it will diminish and pass away.
وَإِنَّ الاٌّخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَـرَارِ
(and verily, the Hereafter that is the home that will remain forever.) means, the abode which will never end and from which there will be no departure, which will be either Paradise or Hell. Allah says:
مَنْ عَمِـلَ سَـيِّئَةً فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا
(Whosoever does an evil deed, will not be requited except the like thereof;) means, one like it.
وَمَنْ عَمِـلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَـرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَـئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ
(and whosoever does a righteous deed, whether male or female and is a true believer, such will enter Paradise, where they will be provided therein without limit.) means, the reward cannot be enumerated, but Allah will give an immense reward without end. And Allah is the Guide to the straight path.
قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت۔ فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بےرعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہوجانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت لبدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا بدلہ تو اس کے برابر ہی دیا جاتا ہے ہاں نیکی کا بدلہ بےحساب دیا جاتا ہے۔ نیکی کرنے والا چاہے مرد ہو۔ چاہے عورت ہو۔ ہاں یہ شرط ہے کہ ہو باایمان۔ اسے اس نیکی کا ثواب اس قدر دیا جائے گا جو بیحد وبے حساب ہوگا۔
40
View Single
مَنۡ عَمِلَ سَيِّئَةٗ فَلَا يُجۡزَىٰٓ إِلَّا مِثۡلَهَاۖ وَمَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ يُرۡزَقُونَ فِيهَا بِغَيۡرِ حِسَابٖ
“Whoever commits an evil deed will not be repaid except to the same extent; and whoever does good deeds, whether a man or a woman, and is a Muslim, will be admitted into Paradise, in which they will receive sustenance without account.”
جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
More of what the Believer from Fir`awn's Family said
This believer said to his people who persisted in their rebellion and transgression, and preferred the life of this world:
يقَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُـمْ سَبِيـلَ الرَّشَـادِ
(O my people! Follow me, I will guide you to the way of right conduct.) This is in contrast to the false claim of Fir`awn:
وَمَآ أَهْدِيكُمْ إِلاَّ سَبِيلَ الرَّشَادِ
(and I guide you only to the path of right policy.) Then he sought to make them shun this world which they preferred to the Hereafter, and which had prevented them from believing in the Messenger of Allah, Musa, peace be upon him. He said:
يقَوْمِ إِنَّمَا هَـذِهِ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا مَتَـعٌ
(O my people! Truly, this life of the world is nothing but an enjoyment,) meaning, it is insignificant and fleeting, and soon it will diminish and pass away.
وَإِنَّ الاٌّخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَـرَارِ
(and verily, the Hereafter that is the home that will remain forever.) means, the abode which will never end and from which there will be no departure, which will be either Paradise or Hell. Allah says:
مَنْ عَمِـلَ سَـيِّئَةً فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا
(Whosoever does an evil deed, will not be requited except the like thereof;) means, one like it.
وَمَنْ عَمِـلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَـرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَـئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ
(and whosoever does a righteous deed, whether male or female and is a true believer, such will enter Paradise, where they will be provided therein without limit.) means, the reward cannot be enumerated, but Allah will give an immense reward without end. And Allah is the Guide to the straight path.
قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت۔ فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بےرعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہوجانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت لبدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا بدلہ تو اس کے برابر ہی دیا جاتا ہے ہاں نیکی کا بدلہ بےحساب دیا جاتا ہے۔ نیکی کرنے والا چاہے مرد ہو۔ چاہے عورت ہو۔ ہاں یہ شرط ہے کہ ہو باایمان۔ اسے اس نیکی کا ثواب اس قدر دیا جائے گا جو بیحد وبے حساب ہوگا۔
41
View Single
۞وَيَٰقَوۡمِ مَا لِيٓ أَدۡعُوكُمۡ إِلَى ٱلنَّجَوٰةِ وَتَدۡعُونَنِيٓ إِلَى ٱلنَّارِ
“And O my people! What is the matter with me that I call you towards salvation whereas you call me towards hell?”
اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Conclusion of the Believer's Words, and the ultimate Destiny of both Parties
That believer said: `Why do I call you to salvation, which is the worship of Allah alone with no partner or associate, and belief in His Messenger, whom He has sent,'
وَتَدْعُونَنِى إِلَى النَّارِتَدْعُونَنِى لاّكْـفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ
(while you call me to the Fire! You invite me to disbelieve in Allah, and to join partners in worship with Him of which I have no knowledge;) means, on the basis of ignorance, with no proof or evidence.
وَأَنَاْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ
(and I invite you to the Almighty, the Oft-Forgiving!) means, with all His might and pride, He still forgives the sin of the one who repents to Him.
لاَ جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(La Jarama, you call me to one) They say it means, "Truly." As-Suddi and Ibn Jarir said that the meaning of His saying:
لاَ جَرَمَ
(La jarama) means "Truly." Ad-Dahhak said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "No lie." `Ali bin Abi Talhah and Ibn `Abbas said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "Indeed, the one that you call me to of idols and false gods
لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلاَ فِى الاٌّخِرَةِ
(that does not have a claim in this world or in the Hereafter)." Mujahid said, "The idols that do not have anything." Qatadah said, "This means that idols possess no power either to benefit or to harm." As-Suddi said, "They do not respond to those who call upon them, either in this world or in the Hereafter." This is like the Ayah:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ
(And who is more astray than one who calls on besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are unaware of their calls to them And when the people are gathered, they will become their enemies and deny their worship.) (46:5-6)
إِن تَدْعُوهُمْ لاَ يَسْمَعُواْ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُواْ مَا اسْتَجَابُواْ لَكُمْ
(If you invoke them, they hear not your call; and if they were to hear, they could not grant it to you) (35:14).
وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى اللَّهِ
(And our return will be to Allah,) means, in the Hereafter, where He will reward or punish each person according to his deeds. He says:
وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(and the transgressors, they shall be the dwellers of the Fire!) meaning, they will dwell therein forever, because of their great sin, which is associating others in worship with Allah.
فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُـمْ
(And you will remember what I am telling you,) means, `you will come to know the truth of what I enjoined upon `you and forbade you to do, the advice I gave you and what I explained to you. You will come to know, and you will feel regret at the time when regret will be of no avail.'
وَأُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ
(and my affair I leave it to Allah.) means, `I put my trust in Allah and seek His help, and I renounce you utterly.'
إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(Verily, Allah is the All-Seer of (His) servants.) means, He knows all about them, may He be exalted and sanctified, and He guides those who deserve to be guided and sends astray those who deserve to be sent astray; His is the perfect proof, utmost wisdom and mighty power.
فَوقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُواْ
(So Allah saved him from the evils that they plotted,) means, in this world and in the Hereafter; in this world, Allah saved him along with Musa, peace be upon him, and in the Hereafter (He will admit him) to Paradise.
Proof of the Torment of the Grave
وَحَاقَ بِـَالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
(while an evil torment encompassed Fir`awn's people.) this refers to drowning in the sea, then being transferred from there to Hell, for their souls are exposed to the Fire morning and evening until the Hour begins. When the Day of Resurrection comes, their souls and bodies will be reunited in Hell. Allah says:
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Admit Fir`awn's people to the severest torment!") meaning, more intense pain and greater agony. This Ayah contains one of the major proofs used by the Ahlus-Sunnah to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh; it is the phrase:
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(The Fire, they are exposed to it, morning and afternoon). But the question arises: this Ayah was undoubtedly revealed in Makkah, but they use it as evidence to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh. Imam Ahmad recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that a Jewish woman used to serve her, and whenever `A'ishah did her a favor, the Jewish woman would say, "May Allah save you from the torment of the grave. " `A'ishah said, "Then the Messenger of Allah ﷺ came in, and I said, `O Messenger of Allah, will there be any torment in the grave before the Day of Resurrection' He said,
«لَا، مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ؟»
(No, who said that) I said, `This Jewish woman, whenever I do her a favor, she says: May Allah save you from the torment of the grave."' The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللهِ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The Jews are lying, and they tell more lies about Allah. There is no torment except on the Day of Resurrection.) Then as much time passed as Allah willed should pass, then one day he came out at midday, wrapped in his robe with his eyes reddening, calling at the top of his voice:
«الْقَبْرُ كَقِطَع اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِـــــــــيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَق»
(The grave is like patches of dark night! O people, if you knew what I know, you would weep much and laugh little. O people, seek refuge with Allah from the torment of the grave, for the torment of the grave is real.)" This chain of narration is Sahih according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, although they did not record it. It was said, `how can this report be reconciled with the fact that the Ayah was revealed in Makkah and the Ayah indicates that there will be torment during the period of Al-Barzakh' The answer is that the Ayah refers to the souls (of Fir`awn and his people) being exposed to the Fire morning and evening; it does not say that the pain will affect their bodies in the grave. So it may be that this has to do specifically with their souls. With regard to there being any effect on their bodies in Al-Barzakh, and their feeling pain as a result, this is indicated in the Sunnah, in some Hadiths which we will mention below. It was said that this Ayah refers to the punishment of the disbelievers in Al-Barzakh, and that it does not by itself imply that the believer will be punished in the grave for his sins. This is indicated by the Hadith recorded by Imam Ahmad from `A'ishah, may Allah be pleased with her, according to which the Messenger of Allah ﷺ entered upon `A'ishah when a Jewish woman was with her, and she (the Jewish woman) was saying, "I was told that you will be tried in the grave." The Messenger of Allah ﷺ was worried and said:
«إِنَّمَا يُفْتَنُ يَهُود»
(Only the Jews will be tested.) `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Several nights passed, then the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَلَا إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُور»
(Verily you will be tested in the graves.)" `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "After that, the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge with Allah from the torment of the grave." This was also recorded by Muslim. It could be said that this Ayah indicates that the souls will be punished in Al-Barzakh, but this does not necessarily imply that the bodies in their graves will be affected by that. When Allah revealed something about the torment of the grave to His Prophet , he sought refuge with Allah from that. And Allah knows best. The Hadiths which speak of the torment of the grave are very many. Qatadah said, concerning the Ayah,
غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(morning and afternoon.): "(This means) every morning and every evening, for as long as this world remains, it will be said to them by way of rebuke and humiliation, O people of Fir`awn, this is your position." Ibn Zayd said, "They are there today, being exposed to it morning and evening, until the Hour begins.
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir`awn's people to enter the severest torment!") The people of Fir`awn are like foolish camels, stumbling into rocks and trees without thinking." Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هذَا مَقْعَدُكَ حَتْى يَبْعَثَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(When one of you dies, he is shown his place in Paradise or Hell morning and evening; if he is one of the people of Paradise, then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell. It will be said to him, this is your place until Allah resurrects you to go to it on the Day of Resurrection.)" It was also reported in the Two Sahihs.
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے ہیں، یعنی یہ یقینی سچ اور حق ہے کہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو یعنی بتوں اور سوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کی طرف یہ تو وہ ہیں جنہیں دین و دنیا کا کوئی اختیار نہیں۔ جنہیں نفع نقصان پر کوئی قابو نہیں جو اپنے پکارنے والے کی پکار کو سن سکیں تو قبول کرسکیں نہ یہاں نہ وہاں۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) ، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارتا ہے۔ جو اس کی پکار کو قیامت تک سن نہیں سکتے۔ جنہیں مطلق خبر نہیں کہ کون ہمیں پکار رہا ہے ؟ جو قیامت کے دن اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے بالکل انکار کر جائیں گے۔ گو تم انہیں پکارا کرو لیکن وہ نہیں سنتے۔ اور بالفرض اگر سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے۔ مومن آل فرعون کہتا ہے۔ کہ ہم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ وہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا بدلہ بھگتنا ہے۔ وہاں حد سے گزر جانے والے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے ہمیشہ کیلئے جہنم و اصل کردیئے جائیں گے، گو تم اس وقت میری باتوں کی قدر نہ کرو۔ لیکن ابھی ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا میری باتوں کی صداقت و حقانیت تم پر واضح ہوجائے گی۔ اس وقت ندامت حسرت اور افسوس کرو گے لیکن وہ محض بےسود ہوگا۔ میں تو اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ میرا توکل اسی کی ذات پر ہے۔ میں تو اپنے ہر کام میں اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں میں تم سے الگ ہوں اور تمہارے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے دانا بینا ہے۔ مستحق ہدایت جو ہیں ان کی وہ رہنمائی کرے گا اور مستحقین ضلالت اس رہنمائی سے محروم رہیں گے، اس کا ہر کام حکمت والا اور اس کی ہر تدبیر اچھائی والی ہے اس مومن کو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے مکر سے بچا لیا۔ دنیا میں بھی وہ محفوظ رہا یعنی موسیٰ کے ساتھ اس نے نجات پائی اور آخرت کے عذاب سے بھی محفوظ رہا۔ باقی تمام فرعونی بدترین عذاب کا شکار ہوئے۔ سب دریا میں ڈبو دیئے گئے، پھر وہاں سے جہنم واصل کردیئے گئے۔ ہر صبح شام ان کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں، قیامت تک یہ عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن ان کی روحیں جسم سمیت جہنم میں ڈال دی جائیں گی۔ اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ اے آل فرعون سخت درد ناک اور بہت زیادہ تکلیف دہ عذاب میں چلے جاؤ۔ یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے بہت بڑی دلیل ہے، ہاں یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ کہ بعض احادیث میں کچھ ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب برزخ کا علم رسول اللہ ﷺ کو مدینے شریف کی ہجرت کے بعد ہوا اور یہ آیت مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں کی روحیں صبح شام جہنم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ باقی رہی بات کہ یہ عذاب ہر وقت جاری اور باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ بھی کہ آیا یہ عذاب صرف روح کو ہی ہوتا ہے یا جسم کو بھی اس کا علم اللہ کی طرف سے آپ کو مدینے شریف میں کرایا گیا۔ اور آپ نے اسے بیان فرما دیا۔ پس حدیث و قرآن ملا کر مسئلہ یہ ہوا کہ عذاب وثواب قبر، روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے اور یہی حق ہے۔ اب ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت حضرت عائشہ ؓ کی خدمت گزار تھی۔ حضرت عائشہ جب کبھی اس کے ساتھ کچھ سلوک کرتی تو وہ دعا دیتی اور کہتی اللہ تجھے جہنم کے عذاب سے بچائے۔ ایک روز حضرت صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ اور وہ تو اس سے زیادہ جھوٹ اللہ پر باندھا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک مرتبہ ظہر کے وقت کپڑا لپیٹے ہوئے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور باآواز بلند فرما رہے تھے قبر مانند سیاہ رات کی اندھیریوں کے ٹکڑوں کے ہے۔ لوگو اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے، لوگو ! قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو، یقین مانو کہ عذاب قبر حق ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے حضرت عائشہ سے کچھ مانگا جو آپ نے دیا اور اس نے وہ دعا دی اس کے آخر میں ہے کہ کچھ دنوں بعد حضور ﷺ نے فرمایا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہاری آزمائش قبروں میں کی جاتی ہے۔ پس ان احادیث اور آیت میں ایک تطبیق تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آیت یعرضون سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو عالم برزخ میں عذاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مومن کو یہاں کے بعض گناہوں کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ یہ صرف حدیث شریف سے ثابت ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اس وقت ایک یہودیہ عورت مائی صاحبہ کے پاس بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تم لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ؟ اسے سن کر حضور ﷺ کانپ گئے اور فرمایا یہود ہی آزمائے جاتے ہیں۔ پھر چند دنوں بعد آپ نے فرمایا لوگو تم سب قبروں کے فتنہ میں ڈالے جاؤ گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ فتنہ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت سے صرف روح کے عذاب کا ثبوت ملتا تھا۔ اس سے جسم تک اس عذاب کے پہنچنے کا ثبوت نہیں تھا۔ بعد میں بذریعہ وحی حضور ﷺ کو یہ معلوم کرایا گیا کہ عذاب قبر جسم و روح کو ہوتا ہے۔ چناچہ آپ نے پھر اس سے بچاؤ کی دعا شروع کی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ کے پاس ایک یہودیہ عورت آئی اور اس نے کہا عذاب قبر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس پر صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے فرماتی ہے اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس حدیث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اسے سنتے ہی یہودیہ عورت کی تصدیق کی۔ اور اوپر والی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تکذیب کی تھی۔ دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ دو واقعے ہیں پہلے واقعے کے وقت چونکہ وحی سے آپ کو معلوم نہیں ہوا تھا آپ نے انکار فرما دیا۔ پھر معلوم ہوگیا تو آپ نے اقرار کیا، واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔ قبر کے عذاب کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آچکا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں رہتی دنیا تک ہر صبح شام آل فرعون کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ بدکارو تمہاری اصلی جگہ یہی ہے تاکہ ان کے رنج و غم بڑھیں ان کی ذلت و توہین ہو۔ پس آج بھی وہ عذاب میں ہی ہیں۔ اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں وہ جنت میں جہاں کہیں چاہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اور مومنوں کے بچوں کی روحیں چڑیوں کے قالب میں ہیں اور جہاں وہ چاہیں جنت میں چلتی رہتی ہیں۔ اور عرش تلے کی قندیلوں میں آرام حاصل کرتی ہیں۔ اور آل فرعون کی روحیں سیاہ رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ صبح بھی جہنم کے پاس جاتی ہیں۔ اور شام کو بھی یہی ان کا پیش ہونا ہے۔ معراج والی لمبی روایت میں ہے کہ پھر مجھے ایک بہت بڑی مخلوق کی طرف لے چلے جن میں سے ہر ایک کا پیٹ مثل بہت بڑے گھر کے تھا۔ جو آل فرعون کے پاس قید تھے۔ اور آل فرعون صبح شام آگ پر لائے جاتے ہیں۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ان فرعونیوں کو سخت تر عذابوں میں لے جاؤ اور یہ فرعونی لوگ نکیل والے اونٹوں کی طرح منہ نیچے کئے پتھر اور درخت پر چڑھ رہے ہیں اور بالکل بےعقل و شعور ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو احسان کرے خواہ مسلم ہو خواہ کافر اللہ تعالیٰ اسے ضرور بدلہ دیتا ہے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کافر کو کیا بدلہ ملتا ہے ؟ فرمایا اگر اس نے صلہ رحمی کی ہے یا صدقہ دیا ہے اور کوئی اچھا کام کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ اس کے مال میں اس کی اولاد میں اس کی صحت میں اور ایسی ہی اور چیزوں میں عطا فرماتا ہے۔ ہم نے پھر پوچھا اور آخرت میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا بڑے درجے سے کم درجے کا عذاب پھر آپ نے (اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46) 40۔ غافر :46) ، پڑھی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت اوزاعی سے ایک شخص نے پوچھا کہ ذرا ہمیں یہ بتاؤ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مفید پرندوں کا غول کا غول سمندر سے نکلتا ہے اور اس کے مغربی کنارے اڑتا ہوا، صبح کے وقت جاتا ہے۔ اس قدر زیادتی کے ساتھ کہ ان کی تعداد کوئی گن نہیں سکتا۔ شام کے وقت ایسا ہی جھنڈ کا جھنڈ واپس آتا ہے لیکن اس وقت ان کے رنگ بالکل سیاہ ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تم نے اسے خوب معلوم کرلیا۔ ان پرندوں کے قالب میں آل فرعون کی روحیں ہیں۔ جو صبح شام آگ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں پھر اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتی ہیں ان کے پر جل گئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سیاہ ہوجاتے ہیں۔ پھر رات کو وہ اگ جاتے ہیں اور سیاہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہی حالت ان کی دنیا میں ہے اور قیامت کے دن ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس آل فرعون کو سخت عذابوں میں داخل کردو کہتے ہیں کہ ان کی تعداد چھ لاکھ کی ہے جو فرعونی فوج تھی۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جب کبھی کوئی مرتا ہے ہر صبح شام اس کی جگہ اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت۔ اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم اور کہا جاتا ہے کہ تیری اصل جگہ یہ ہے جہاں تجھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھیجے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری مسلم میں بھی ہے۔
42
View Single
تَدۡعُونَنِي لِأَكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَأُشۡرِكَ بِهِۦ مَا لَيۡسَ لِي بِهِۦ عِلۡمٞ وَأَنَا۠ أَدۡعُوكُمۡ إِلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡغَفَّـٰرِ
“You call me to disbelieve in Allah and ascribe such as partners to Him, regarding whom I do not have any knowledge – whereas I call you towards the Most Honourable, the Oft Forgiving!”
تم مجھے (یہ) دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم بھی نہیں اور میں تمہیں خدائے غالب کی طرف بلاتا ہوں جو بڑا بخشنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Conclusion of the Believer's Words, and the ultimate Destiny of both Parties
That believer said: `Why do I call you to salvation, which is the worship of Allah alone with no partner or associate, and belief in His Messenger, whom He has sent,'
وَتَدْعُونَنِى إِلَى النَّارِتَدْعُونَنِى لاّكْـفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ
(while you call me to the Fire! You invite me to disbelieve in Allah, and to join partners in worship with Him of which I have no knowledge;) means, on the basis of ignorance, with no proof or evidence.
وَأَنَاْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ
(and I invite you to the Almighty, the Oft-Forgiving!) means, with all His might and pride, He still forgives the sin of the one who repents to Him.
لاَ جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(La Jarama, you call me to one) They say it means, "Truly." As-Suddi and Ibn Jarir said that the meaning of His saying:
لاَ جَرَمَ
(La jarama) means "Truly." Ad-Dahhak said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "No lie." `Ali bin Abi Talhah and Ibn `Abbas said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "Indeed, the one that you call me to of idols and false gods
لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلاَ فِى الاٌّخِرَةِ
(that does not have a claim in this world or in the Hereafter)." Mujahid said, "The idols that do not have anything." Qatadah said, "This means that idols possess no power either to benefit or to harm." As-Suddi said, "They do not respond to those who call upon them, either in this world or in the Hereafter." This is like the Ayah:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ
(And who is more astray than one who calls on besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are unaware of their calls to them And when the people are gathered, they will become their enemies and deny their worship.) (46:5-6)
إِن تَدْعُوهُمْ لاَ يَسْمَعُواْ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُواْ مَا اسْتَجَابُواْ لَكُمْ
(If you invoke them, they hear not your call; and if they were to hear, they could not grant it to you) (35:14).
وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى اللَّهِ
(And our return will be to Allah,) means, in the Hereafter, where He will reward or punish each person according to his deeds. He says:
وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(and the transgressors, they shall be the dwellers of the Fire!) meaning, they will dwell therein forever, because of their great sin, which is associating others in worship with Allah.
فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُـمْ
(And you will remember what I am telling you,) means, `you will come to know the truth of what I enjoined upon `you and forbade you to do, the advice I gave you and what I explained to you. You will come to know, and you will feel regret at the time when regret will be of no avail.'
وَأُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ
(and my affair I leave it to Allah.) means, `I put my trust in Allah and seek His help, and I renounce you utterly.'
إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(Verily, Allah is the All-Seer of (His) servants.) means, He knows all about them, may He be exalted and sanctified, and He guides those who deserve to be guided and sends astray those who deserve to be sent astray; His is the perfect proof, utmost wisdom and mighty power.
فَوقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُواْ
(So Allah saved him from the evils that they plotted,) means, in this world and in the Hereafter; in this world, Allah saved him along with Musa, peace be upon him, and in the Hereafter (He will admit him) to Paradise.
Proof of the Torment of the Grave
وَحَاقَ بِـَالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
(while an evil torment encompassed Fir`awn's people.) this refers to drowning in the sea, then being transferred from there to Hell, for their souls are exposed to the Fire morning and evening until the Hour begins. When the Day of Resurrection comes, their souls and bodies will be reunited in Hell. Allah says:
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Admit Fir`awn's people to the severest torment!") meaning, more intense pain and greater agony. This Ayah contains one of the major proofs used by the Ahlus-Sunnah to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh; it is the phrase:
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(The Fire, they are exposed to it, morning and afternoon). But the question arises: this Ayah was undoubtedly revealed in Makkah, but they use it as evidence to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh. Imam Ahmad recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that a Jewish woman used to serve her, and whenever `A'ishah did her a favor, the Jewish woman would say, "May Allah save you from the torment of the grave. " `A'ishah said, "Then the Messenger of Allah ﷺ came in, and I said, `O Messenger of Allah, will there be any torment in the grave before the Day of Resurrection' He said,
«لَا، مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ؟»
(No, who said that) I said, `This Jewish woman, whenever I do her a favor, she says: May Allah save you from the torment of the grave."' The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللهِ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The Jews are lying, and they tell more lies about Allah. There is no torment except on the Day of Resurrection.) Then as much time passed as Allah willed should pass, then one day he came out at midday, wrapped in his robe with his eyes reddening, calling at the top of his voice:
«الْقَبْرُ كَقِطَع اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِـــــــــيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَق»
(The grave is like patches of dark night! O people, if you knew what I know, you would weep much and laugh little. O people, seek refuge with Allah from the torment of the grave, for the torment of the grave is real.)" This chain of narration is Sahih according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, although they did not record it. It was said, `how can this report be reconciled with the fact that the Ayah was revealed in Makkah and the Ayah indicates that there will be torment during the period of Al-Barzakh' The answer is that the Ayah refers to the souls (of Fir`awn and his people) being exposed to the Fire morning and evening; it does not say that the pain will affect their bodies in the grave. So it may be that this has to do specifically with their souls. With regard to there being any effect on their bodies in Al-Barzakh, and their feeling pain as a result, this is indicated in the Sunnah, in some Hadiths which we will mention below. It was said that this Ayah refers to the punishment of the disbelievers in Al-Barzakh, and that it does not by itself imply that the believer will be punished in the grave for his sins. This is indicated by the Hadith recorded by Imam Ahmad from `A'ishah, may Allah be pleased with her, according to which the Messenger of Allah ﷺ entered upon `A'ishah when a Jewish woman was with her, and she (the Jewish woman) was saying, "I was told that you will be tried in the grave." The Messenger of Allah ﷺ was worried and said:
«إِنَّمَا يُفْتَنُ يَهُود»
(Only the Jews will be tested.) `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Several nights passed, then the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَلَا إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُور»
(Verily you will be tested in the graves.)" `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "After that, the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge with Allah from the torment of the grave." This was also recorded by Muslim. It could be said that this Ayah indicates that the souls will be punished in Al-Barzakh, but this does not necessarily imply that the bodies in their graves will be affected by that. When Allah revealed something about the torment of the grave to His Prophet , he sought refuge with Allah from that. And Allah knows best. The Hadiths which speak of the torment of the grave are very many. Qatadah said, concerning the Ayah,
غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(morning and afternoon.): "(This means) every morning and every evening, for as long as this world remains, it will be said to them by way of rebuke and humiliation, O people of Fir`awn, this is your position." Ibn Zayd said, "They are there today, being exposed to it morning and evening, until the Hour begins.
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir`awn's people to enter the severest torment!") The people of Fir`awn are like foolish camels, stumbling into rocks and trees without thinking." Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هذَا مَقْعَدُكَ حَتْى يَبْعَثَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(When one of you dies, he is shown his place in Paradise or Hell morning and evening; if he is one of the people of Paradise, then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell. It will be said to him, this is your place until Allah resurrects you to go to it on the Day of Resurrection.)" It was also reported in the Two Sahihs.
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے ہیں، یعنی یہ یقینی سچ اور حق ہے کہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو یعنی بتوں اور سوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کی طرف یہ تو وہ ہیں جنہیں دین و دنیا کا کوئی اختیار نہیں۔ جنہیں نفع نقصان پر کوئی قابو نہیں جو اپنے پکارنے والے کی پکار کو سن سکیں تو قبول کرسکیں نہ یہاں نہ وہاں۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) ، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارتا ہے۔ جو اس کی پکار کو قیامت تک سن نہیں سکتے۔ جنہیں مطلق خبر نہیں کہ کون ہمیں پکار رہا ہے ؟ جو قیامت کے دن اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے بالکل انکار کر جائیں گے۔ گو تم انہیں پکارا کرو لیکن وہ نہیں سنتے۔ اور بالفرض اگر سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے۔ مومن آل فرعون کہتا ہے۔ کہ ہم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ وہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا بدلہ بھگتنا ہے۔ وہاں حد سے گزر جانے والے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے ہمیشہ کیلئے جہنم و اصل کردیئے جائیں گے، گو تم اس وقت میری باتوں کی قدر نہ کرو۔ لیکن ابھی ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا میری باتوں کی صداقت و حقانیت تم پر واضح ہوجائے گی۔ اس وقت ندامت حسرت اور افسوس کرو گے لیکن وہ محض بےسود ہوگا۔ میں تو اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ میرا توکل اسی کی ذات پر ہے۔ میں تو اپنے ہر کام میں اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں میں تم سے الگ ہوں اور تمہارے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے دانا بینا ہے۔ مستحق ہدایت جو ہیں ان کی وہ رہنمائی کرے گا اور مستحقین ضلالت اس رہنمائی سے محروم رہیں گے، اس کا ہر کام حکمت والا اور اس کی ہر تدبیر اچھائی والی ہے اس مومن کو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے مکر سے بچا لیا۔ دنیا میں بھی وہ محفوظ رہا یعنی موسیٰ کے ساتھ اس نے نجات پائی اور آخرت کے عذاب سے بھی محفوظ رہا۔ باقی تمام فرعونی بدترین عذاب کا شکار ہوئے۔ سب دریا میں ڈبو دیئے گئے، پھر وہاں سے جہنم واصل کردیئے گئے۔ ہر صبح شام ان کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں، قیامت تک یہ عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن ان کی روحیں جسم سمیت جہنم میں ڈال دی جائیں گی۔ اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ اے آل فرعون سخت درد ناک اور بہت زیادہ تکلیف دہ عذاب میں چلے جاؤ۔ یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے بہت بڑی دلیل ہے، ہاں یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ کہ بعض احادیث میں کچھ ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب برزخ کا علم رسول اللہ ﷺ کو مدینے شریف کی ہجرت کے بعد ہوا اور یہ آیت مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں کی روحیں صبح شام جہنم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ باقی رہی بات کہ یہ عذاب ہر وقت جاری اور باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ بھی کہ آیا یہ عذاب صرف روح کو ہی ہوتا ہے یا جسم کو بھی اس کا علم اللہ کی طرف سے آپ کو مدینے شریف میں کرایا گیا۔ اور آپ نے اسے بیان فرما دیا۔ پس حدیث و قرآن ملا کر مسئلہ یہ ہوا کہ عذاب وثواب قبر، روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے اور یہی حق ہے۔ اب ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت حضرت عائشہ ؓ کی خدمت گزار تھی۔ حضرت عائشہ جب کبھی اس کے ساتھ کچھ سلوک کرتی تو وہ دعا دیتی اور کہتی اللہ تجھے جہنم کے عذاب سے بچائے۔ ایک روز حضرت صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ اور وہ تو اس سے زیادہ جھوٹ اللہ پر باندھا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک مرتبہ ظہر کے وقت کپڑا لپیٹے ہوئے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور باآواز بلند فرما رہے تھے قبر مانند سیاہ رات کی اندھیریوں کے ٹکڑوں کے ہے۔ لوگو اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے، لوگو ! قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو، یقین مانو کہ عذاب قبر حق ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے حضرت عائشہ سے کچھ مانگا جو آپ نے دیا اور اس نے وہ دعا دی اس کے آخر میں ہے کہ کچھ دنوں بعد حضور ﷺ نے فرمایا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہاری آزمائش قبروں میں کی جاتی ہے۔ پس ان احادیث اور آیت میں ایک تطبیق تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آیت یعرضون سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو عالم برزخ میں عذاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مومن کو یہاں کے بعض گناہوں کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ یہ صرف حدیث شریف سے ثابت ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اس وقت ایک یہودیہ عورت مائی صاحبہ کے پاس بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تم لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ؟ اسے سن کر حضور ﷺ کانپ گئے اور فرمایا یہود ہی آزمائے جاتے ہیں۔ پھر چند دنوں بعد آپ نے فرمایا لوگو تم سب قبروں کے فتنہ میں ڈالے جاؤ گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ فتنہ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت سے صرف روح کے عذاب کا ثبوت ملتا تھا۔ اس سے جسم تک اس عذاب کے پہنچنے کا ثبوت نہیں تھا۔ بعد میں بذریعہ وحی حضور ﷺ کو یہ معلوم کرایا گیا کہ عذاب قبر جسم و روح کو ہوتا ہے۔ چناچہ آپ نے پھر اس سے بچاؤ کی دعا شروع کی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ کے پاس ایک یہودیہ عورت آئی اور اس نے کہا عذاب قبر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس پر صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے فرماتی ہے اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس حدیث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اسے سنتے ہی یہودیہ عورت کی تصدیق کی۔ اور اوپر والی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تکذیب کی تھی۔ دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ دو واقعے ہیں پہلے واقعے کے وقت چونکہ وحی سے آپ کو معلوم نہیں ہوا تھا آپ نے انکار فرما دیا۔ پھر معلوم ہوگیا تو آپ نے اقرار کیا، واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔ قبر کے عذاب کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آچکا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں رہتی دنیا تک ہر صبح شام آل فرعون کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ بدکارو تمہاری اصلی جگہ یہی ہے تاکہ ان کے رنج و غم بڑھیں ان کی ذلت و توہین ہو۔ پس آج بھی وہ عذاب میں ہی ہیں۔ اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں وہ جنت میں جہاں کہیں چاہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اور مومنوں کے بچوں کی روحیں چڑیوں کے قالب میں ہیں اور جہاں وہ چاہیں جنت میں چلتی رہتی ہیں۔ اور عرش تلے کی قندیلوں میں آرام حاصل کرتی ہیں۔ اور آل فرعون کی روحیں سیاہ رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ صبح بھی جہنم کے پاس جاتی ہیں۔ اور شام کو بھی یہی ان کا پیش ہونا ہے۔ معراج والی لمبی روایت میں ہے کہ پھر مجھے ایک بہت بڑی مخلوق کی طرف لے چلے جن میں سے ہر ایک کا پیٹ مثل بہت بڑے گھر کے تھا۔ جو آل فرعون کے پاس قید تھے۔ اور آل فرعون صبح شام آگ پر لائے جاتے ہیں۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ان فرعونیوں کو سخت تر عذابوں میں لے جاؤ اور یہ فرعونی لوگ نکیل والے اونٹوں کی طرح منہ نیچے کئے پتھر اور درخت پر چڑھ رہے ہیں اور بالکل بےعقل و شعور ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو احسان کرے خواہ مسلم ہو خواہ کافر اللہ تعالیٰ اسے ضرور بدلہ دیتا ہے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کافر کو کیا بدلہ ملتا ہے ؟ فرمایا اگر اس نے صلہ رحمی کی ہے یا صدقہ دیا ہے اور کوئی اچھا کام کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ اس کے مال میں اس کی اولاد میں اس کی صحت میں اور ایسی ہی اور چیزوں میں عطا فرماتا ہے۔ ہم نے پھر پوچھا اور آخرت میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا بڑے درجے سے کم درجے کا عذاب پھر آپ نے (اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46) 40۔ غافر :46) ، پڑھی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت اوزاعی سے ایک شخص نے پوچھا کہ ذرا ہمیں یہ بتاؤ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مفید پرندوں کا غول کا غول سمندر سے نکلتا ہے اور اس کے مغربی کنارے اڑتا ہوا، صبح کے وقت جاتا ہے۔ اس قدر زیادتی کے ساتھ کہ ان کی تعداد کوئی گن نہیں سکتا۔ شام کے وقت ایسا ہی جھنڈ کا جھنڈ واپس آتا ہے لیکن اس وقت ان کے رنگ بالکل سیاہ ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تم نے اسے خوب معلوم کرلیا۔ ان پرندوں کے قالب میں آل فرعون کی روحیں ہیں۔ جو صبح شام آگ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں پھر اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتی ہیں ان کے پر جل گئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سیاہ ہوجاتے ہیں۔ پھر رات کو وہ اگ جاتے ہیں اور سیاہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہی حالت ان کی دنیا میں ہے اور قیامت کے دن ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس آل فرعون کو سخت عذابوں میں داخل کردو کہتے ہیں کہ ان کی تعداد چھ لاکھ کی ہے جو فرعونی فوج تھی۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جب کبھی کوئی مرتا ہے ہر صبح شام اس کی جگہ اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت۔ اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم اور کہا جاتا ہے کہ تیری اصل جگہ یہ ہے جہاں تجھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھیجے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری مسلم میں بھی ہے۔
43
View Single
لَا جَرَمَ أَنَّمَا تَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهُۥ دَعۡوَةٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَلَا فِي ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ هُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ
“So it is self evident that what you call me towards has no benefit being prayed to, either in this world or in the Hereafter, and that our return is towards Allah, and that the transgressors only are the people of the fire.”
سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے جس چیز کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ (ہی) آخرت میں اور بے شک ہمارا واپس لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Conclusion of the Believer's Words, and the ultimate Destiny of both Parties
That believer said: `Why do I call you to salvation, which is the worship of Allah alone with no partner or associate, and belief in His Messenger, whom He has sent,'
وَتَدْعُونَنِى إِلَى النَّارِتَدْعُونَنِى لاّكْـفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ
(while you call me to the Fire! You invite me to disbelieve in Allah, and to join partners in worship with Him of which I have no knowledge;) means, on the basis of ignorance, with no proof or evidence.
وَأَنَاْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ
(and I invite you to the Almighty, the Oft-Forgiving!) means, with all His might and pride, He still forgives the sin of the one who repents to Him.
لاَ جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(La Jarama, you call me to one) They say it means, "Truly." As-Suddi and Ibn Jarir said that the meaning of His saying:
لاَ جَرَمَ
(La jarama) means "Truly." Ad-Dahhak said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "No lie." `Ali bin Abi Talhah and Ibn `Abbas said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "Indeed, the one that you call me to of idols and false gods
لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلاَ فِى الاٌّخِرَةِ
(that does not have a claim in this world or in the Hereafter)." Mujahid said, "The idols that do not have anything." Qatadah said, "This means that idols possess no power either to benefit or to harm." As-Suddi said, "They do not respond to those who call upon them, either in this world or in the Hereafter." This is like the Ayah:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ
(And who is more astray than one who calls on besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are unaware of their calls to them And when the people are gathered, they will become their enemies and deny their worship.) (46:5-6)
إِن تَدْعُوهُمْ لاَ يَسْمَعُواْ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُواْ مَا اسْتَجَابُواْ لَكُمْ
(If you invoke them, they hear not your call; and if they were to hear, they could not grant it to you) (35:14).
وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى اللَّهِ
(And our return will be to Allah,) means, in the Hereafter, where He will reward or punish each person according to his deeds. He says:
وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(and the transgressors, they shall be the dwellers of the Fire!) meaning, they will dwell therein forever, because of their great sin, which is associating others in worship with Allah.
فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُـمْ
(And you will remember what I am telling you,) means, `you will come to know the truth of what I enjoined upon `you and forbade you to do, the advice I gave you and what I explained to you. You will come to know, and you will feel regret at the time when regret will be of no avail.'
وَأُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ
(and my affair I leave it to Allah.) means, `I put my trust in Allah and seek His help, and I renounce you utterly.'
إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(Verily, Allah is the All-Seer of (His) servants.) means, He knows all about them, may He be exalted and sanctified, and He guides those who deserve to be guided and sends astray those who deserve to be sent astray; His is the perfect proof, utmost wisdom and mighty power.
فَوقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُواْ
(So Allah saved him from the evils that they plotted,) means, in this world and in the Hereafter; in this world, Allah saved him along with Musa, peace be upon him, and in the Hereafter (He will admit him) to Paradise.
Proof of the Torment of the Grave
وَحَاقَ بِـَالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
(while an evil torment encompassed Fir`awn's people.) this refers to drowning in the sea, then being transferred from there to Hell, for their souls are exposed to the Fire morning and evening until the Hour begins. When the Day of Resurrection comes, their souls and bodies will be reunited in Hell. Allah says:
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Admit Fir`awn's people to the severest torment!") meaning, more intense pain and greater agony. This Ayah contains one of the major proofs used by the Ahlus-Sunnah to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh; it is the phrase:
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(The Fire, they are exposed to it, morning and afternoon). But the question arises: this Ayah was undoubtedly revealed in Makkah, but they use it as evidence to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh. Imam Ahmad recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that a Jewish woman used to serve her, and whenever `A'ishah did her a favor, the Jewish woman would say, "May Allah save you from the torment of the grave. " `A'ishah said, "Then the Messenger of Allah ﷺ came in, and I said, `O Messenger of Allah, will there be any torment in the grave before the Day of Resurrection' He said,
«لَا، مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ؟»
(No, who said that) I said, `This Jewish woman, whenever I do her a favor, she says: May Allah save you from the torment of the grave."' The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللهِ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The Jews are lying, and they tell more lies about Allah. There is no torment except on the Day of Resurrection.) Then as much time passed as Allah willed should pass, then one day he came out at midday, wrapped in his robe with his eyes reddening, calling at the top of his voice:
«الْقَبْرُ كَقِطَع اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِـــــــــيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَق»
(The grave is like patches of dark night! O people, if you knew what I know, you would weep much and laugh little. O people, seek refuge with Allah from the torment of the grave, for the torment of the grave is real.)" This chain of narration is Sahih according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, although they did not record it. It was said, `how can this report be reconciled with the fact that the Ayah was revealed in Makkah and the Ayah indicates that there will be torment during the period of Al-Barzakh' The answer is that the Ayah refers to the souls (of Fir`awn and his people) being exposed to the Fire morning and evening; it does not say that the pain will affect their bodies in the grave. So it may be that this has to do specifically with their souls. With regard to there being any effect on their bodies in Al-Barzakh, and their feeling pain as a result, this is indicated in the Sunnah, in some Hadiths which we will mention below. It was said that this Ayah refers to the punishment of the disbelievers in Al-Barzakh, and that it does not by itself imply that the believer will be punished in the grave for his sins. This is indicated by the Hadith recorded by Imam Ahmad from `A'ishah, may Allah be pleased with her, according to which the Messenger of Allah ﷺ entered upon `A'ishah when a Jewish woman was with her, and she (the Jewish woman) was saying, "I was told that you will be tried in the grave." The Messenger of Allah ﷺ was worried and said:
«إِنَّمَا يُفْتَنُ يَهُود»
(Only the Jews will be tested.) `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Several nights passed, then the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَلَا إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُور»
(Verily you will be tested in the graves.)" `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "After that, the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge with Allah from the torment of the grave." This was also recorded by Muslim. It could be said that this Ayah indicates that the souls will be punished in Al-Barzakh, but this does not necessarily imply that the bodies in their graves will be affected by that. When Allah revealed something about the torment of the grave to His Prophet , he sought refuge with Allah from that. And Allah knows best. The Hadiths which speak of the torment of the grave are very many. Qatadah said, concerning the Ayah,
غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(morning and afternoon.): "(This means) every morning and every evening, for as long as this world remains, it will be said to them by way of rebuke and humiliation, O people of Fir`awn, this is your position." Ibn Zayd said, "They are there today, being exposed to it morning and evening, until the Hour begins.
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir`awn's people to enter the severest torment!") The people of Fir`awn are like foolish camels, stumbling into rocks and trees without thinking." Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هذَا مَقْعَدُكَ حَتْى يَبْعَثَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(When one of you dies, he is shown his place in Paradise or Hell morning and evening; if he is one of the people of Paradise, then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell. It will be said to him, this is your place until Allah resurrects you to go to it on the Day of Resurrection.)" It was also reported in the Two Sahihs.
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے ہیں، یعنی یہ یقینی سچ اور حق ہے کہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو یعنی بتوں اور سوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کی طرف یہ تو وہ ہیں جنہیں دین و دنیا کا کوئی اختیار نہیں۔ جنہیں نفع نقصان پر کوئی قابو نہیں جو اپنے پکارنے والے کی پکار کو سن سکیں تو قبول کرسکیں نہ یہاں نہ وہاں۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) ، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارتا ہے۔ جو اس کی پکار کو قیامت تک سن نہیں سکتے۔ جنہیں مطلق خبر نہیں کہ کون ہمیں پکار رہا ہے ؟ جو قیامت کے دن اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے بالکل انکار کر جائیں گے۔ گو تم انہیں پکارا کرو لیکن وہ نہیں سنتے۔ اور بالفرض اگر سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے۔ مومن آل فرعون کہتا ہے۔ کہ ہم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ وہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا بدلہ بھگتنا ہے۔ وہاں حد سے گزر جانے والے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے ہمیشہ کیلئے جہنم و اصل کردیئے جائیں گے، گو تم اس وقت میری باتوں کی قدر نہ کرو۔ لیکن ابھی ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا میری باتوں کی صداقت و حقانیت تم پر واضح ہوجائے گی۔ اس وقت ندامت حسرت اور افسوس کرو گے لیکن وہ محض بےسود ہوگا۔ میں تو اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ میرا توکل اسی کی ذات پر ہے۔ میں تو اپنے ہر کام میں اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں میں تم سے الگ ہوں اور تمہارے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے دانا بینا ہے۔ مستحق ہدایت جو ہیں ان کی وہ رہنمائی کرے گا اور مستحقین ضلالت اس رہنمائی سے محروم رہیں گے، اس کا ہر کام حکمت والا اور اس کی ہر تدبیر اچھائی والی ہے اس مومن کو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے مکر سے بچا لیا۔ دنیا میں بھی وہ محفوظ رہا یعنی موسیٰ کے ساتھ اس نے نجات پائی اور آخرت کے عذاب سے بھی محفوظ رہا۔ باقی تمام فرعونی بدترین عذاب کا شکار ہوئے۔ سب دریا میں ڈبو دیئے گئے، پھر وہاں سے جہنم واصل کردیئے گئے۔ ہر صبح شام ان کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں، قیامت تک یہ عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن ان کی روحیں جسم سمیت جہنم میں ڈال دی جائیں گی۔ اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ اے آل فرعون سخت درد ناک اور بہت زیادہ تکلیف دہ عذاب میں چلے جاؤ۔ یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے بہت بڑی دلیل ہے، ہاں یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ کہ بعض احادیث میں کچھ ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب برزخ کا علم رسول اللہ ﷺ کو مدینے شریف کی ہجرت کے بعد ہوا اور یہ آیت مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں کی روحیں صبح شام جہنم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ باقی رہی بات کہ یہ عذاب ہر وقت جاری اور باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ بھی کہ آیا یہ عذاب صرف روح کو ہی ہوتا ہے یا جسم کو بھی اس کا علم اللہ کی طرف سے آپ کو مدینے شریف میں کرایا گیا۔ اور آپ نے اسے بیان فرما دیا۔ پس حدیث و قرآن ملا کر مسئلہ یہ ہوا کہ عذاب وثواب قبر، روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے اور یہی حق ہے۔ اب ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت حضرت عائشہ ؓ کی خدمت گزار تھی۔ حضرت عائشہ جب کبھی اس کے ساتھ کچھ سلوک کرتی تو وہ دعا دیتی اور کہتی اللہ تجھے جہنم کے عذاب سے بچائے۔ ایک روز حضرت صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ اور وہ تو اس سے زیادہ جھوٹ اللہ پر باندھا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک مرتبہ ظہر کے وقت کپڑا لپیٹے ہوئے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور باآواز بلند فرما رہے تھے قبر مانند سیاہ رات کی اندھیریوں کے ٹکڑوں کے ہے۔ لوگو اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے، لوگو ! قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو، یقین مانو کہ عذاب قبر حق ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے حضرت عائشہ سے کچھ مانگا جو آپ نے دیا اور اس نے وہ دعا دی اس کے آخر میں ہے کہ کچھ دنوں بعد حضور ﷺ نے فرمایا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہاری آزمائش قبروں میں کی جاتی ہے۔ پس ان احادیث اور آیت میں ایک تطبیق تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آیت یعرضون سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو عالم برزخ میں عذاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مومن کو یہاں کے بعض گناہوں کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ یہ صرف حدیث شریف سے ثابت ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اس وقت ایک یہودیہ عورت مائی صاحبہ کے پاس بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تم لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ؟ اسے سن کر حضور ﷺ کانپ گئے اور فرمایا یہود ہی آزمائے جاتے ہیں۔ پھر چند دنوں بعد آپ نے فرمایا لوگو تم سب قبروں کے فتنہ میں ڈالے جاؤ گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ فتنہ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت سے صرف روح کے عذاب کا ثبوت ملتا تھا۔ اس سے جسم تک اس عذاب کے پہنچنے کا ثبوت نہیں تھا۔ بعد میں بذریعہ وحی حضور ﷺ کو یہ معلوم کرایا گیا کہ عذاب قبر جسم و روح کو ہوتا ہے۔ چناچہ آپ نے پھر اس سے بچاؤ کی دعا شروع کی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ کے پاس ایک یہودیہ عورت آئی اور اس نے کہا عذاب قبر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس پر صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے فرماتی ہے اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس حدیث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اسے سنتے ہی یہودیہ عورت کی تصدیق کی۔ اور اوپر والی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تکذیب کی تھی۔ دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ دو واقعے ہیں پہلے واقعے کے وقت چونکہ وحی سے آپ کو معلوم نہیں ہوا تھا آپ نے انکار فرما دیا۔ پھر معلوم ہوگیا تو آپ نے اقرار کیا، واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔ قبر کے عذاب کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آچکا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں رہتی دنیا تک ہر صبح شام آل فرعون کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ بدکارو تمہاری اصلی جگہ یہی ہے تاکہ ان کے رنج و غم بڑھیں ان کی ذلت و توہین ہو۔ پس آج بھی وہ عذاب میں ہی ہیں۔ اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں وہ جنت میں جہاں کہیں چاہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اور مومنوں کے بچوں کی روحیں چڑیوں کے قالب میں ہیں اور جہاں وہ چاہیں جنت میں چلتی رہتی ہیں۔ اور عرش تلے کی قندیلوں میں آرام حاصل کرتی ہیں۔ اور آل فرعون کی روحیں سیاہ رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ صبح بھی جہنم کے پاس جاتی ہیں۔ اور شام کو بھی یہی ان کا پیش ہونا ہے۔ معراج والی لمبی روایت میں ہے کہ پھر مجھے ایک بہت بڑی مخلوق کی طرف لے چلے جن میں سے ہر ایک کا پیٹ مثل بہت بڑے گھر کے تھا۔ جو آل فرعون کے پاس قید تھے۔ اور آل فرعون صبح شام آگ پر لائے جاتے ہیں۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ان فرعونیوں کو سخت تر عذابوں میں لے جاؤ اور یہ فرعونی لوگ نکیل والے اونٹوں کی طرح منہ نیچے کئے پتھر اور درخت پر چڑھ رہے ہیں اور بالکل بےعقل و شعور ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو احسان کرے خواہ مسلم ہو خواہ کافر اللہ تعالیٰ اسے ضرور بدلہ دیتا ہے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کافر کو کیا بدلہ ملتا ہے ؟ فرمایا اگر اس نے صلہ رحمی کی ہے یا صدقہ دیا ہے اور کوئی اچھا کام کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ اس کے مال میں اس کی اولاد میں اس کی صحت میں اور ایسی ہی اور چیزوں میں عطا فرماتا ہے۔ ہم نے پھر پوچھا اور آخرت میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا بڑے درجے سے کم درجے کا عذاب پھر آپ نے (اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46) 40۔ غافر :46) ، پڑھی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت اوزاعی سے ایک شخص نے پوچھا کہ ذرا ہمیں یہ بتاؤ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مفید پرندوں کا غول کا غول سمندر سے نکلتا ہے اور اس کے مغربی کنارے اڑتا ہوا، صبح کے وقت جاتا ہے۔ اس قدر زیادتی کے ساتھ کہ ان کی تعداد کوئی گن نہیں سکتا۔ شام کے وقت ایسا ہی جھنڈ کا جھنڈ واپس آتا ہے لیکن اس وقت ان کے رنگ بالکل سیاہ ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تم نے اسے خوب معلوم کرلیا۔ ان پرندوں کے قالب میں آل فرعون کی روحیں ہیں۔ جو صبح شام آگ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں پھر اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتی ہیں ان کے پر جل گئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سیاہ ہوجاتے ہیں۔ پھر رات کو وہ اگ جاتے ہیں اور سیاہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہی حالت ان کی دنیا میں ہے اور قیامت کے دن ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس آل فرعون کو سخت عذابوں میں داخل کردو کہتے ہیں کہ ان کی تعداد چھ لاکھ کی ہے جو فرعونی فوج تھی۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جب کبھی کوئی مرتا ہے ہر صبح شام اس کی جگہ اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت۔ اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم اور کہا جاتا ہے کہ تیری اصل جگہ یہ ہے جہاں تجھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھیجے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری مسلم میں بھی ہے۔
44
View Single
فَسَتَذۡكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُمۡۚ وَأُفَوِّضُ أَمۡرِيٓ إِلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ
“And soon the time will come when you will remember what I now say to you; and I entrust my tasks to Allah; indeed Allah sees the bondmen.”
سو تم عنقریب (وہ باتیں) یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Conclusion of the Believer's Words, and the ultimate Destiny of both Parties
That believer said: `Why do I call you to salvation, which is the worship of Allah alone with no partner or associate, and belief in His Messenger, whom He has sent,'
وَتَدْعُونَنِى إِلَى النَّارِتَدْعُونَنِى لاّكْـفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ
(while you call me to the Fire! You invite me to disbelieve in Allah, and to join partners in worship with Him of which I have no knowledge;) means, on the basis of ignorance, with no proof or evidence.
وَأَنَاْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ
(and I invite you to the Almighty, the Oft-Forgiving!) means, with all His might and pride, He still forgives the sin of the one who repents to Him.
لاَ جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(La Jarama, you call me to one) They say it means, "Truly." As-Suddi and Ibn Jarir said that the meaning of His saying:
لاَ جَرَمَ
(La jarama) means "Truly." Ad-Dahhak said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "No lie." `Ali bin Abi Talhah and Ibn `Abbas said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "Indeed, the one that you call me to of idols and false gods
لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلاَ فِى الاٌّخِرَةِ
(that does not have a claim in this world or in the Hereafter)." Mujahid said, "The idols that do not have anything." Qatadah said, "This means that idols possess no power either to benefit or to harm." As-Suddi said, "They do not respond to those who call upon them, either in this world or in the Hereafter." This is like the Ayah:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ
(And who is more astray than one who calls on besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are unaware of their calls to them And when the people are gathered, they will become their enemies and deny their worship.) (46:5-6)
إِن تَدْعُوهُمْ لاَ يَسْمَعُواْ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُواْ مَا اسْتَجَابُواْ لَكُمْ
(If you invoke them, they hear not your call; and if they were to hear, they could not grant it to you) (35:14).
وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى اللَّهِ
(And our return will be to Allah,) means, in the Hereafter, where He will reward or punish each person according to his deeds. He says:
وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(and the transgressors, they shall be the dwellers of the Fire!) meaning, they will dwell therein forever, because of their great sin, which is associating others in worship with Allah.
فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُـمْ
(And you will remember what I am telling you,) means, `you will come to know the truth of what I enjoined upon `you and forbade you to do, the advice I gave you and what I explained to you. You will come to know, and you will feel regret at the time when regret will be of no avail.'
وَأُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ
(and my affair I leave it to Allah.) means, `I put my trust in Allah and seek His help, and I renounce you utterly.'
إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(Verily, Allah is the All-Seer of (His) servants.) means, He knows all about them, may He be exalted and sanctified, and He guides those who deserve to be guided and sends astray those who deserve to be sent astray; His is the perfect proof, utmost wisdom and mighty power.
فَوقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُواْ
(So Allah saved him from the evils that they plotted,) means, in this world and in the Hereafter; in this world, Allah saved him along with Musa, peace be upon him, and in the Hereafter (He will admit him) to Paradise.
Proof of the Torment of the Grave
وَحَاقَ بِـَالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
(while an evil torment encompassed Fir`awn's people.) this refers to drowning in the sea, then being transferred from there to Hell, for their souls are exposed to the Fire morning and evening until the Hour begins. When the Day of Resurrection comes, their souls and bodies will be reunited in Hell. Allah says:
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Admit Fir`awn's people to the severest torment!") meaning, more intense pain and greater agony. This Ayah contains one of the major proofs used by the Ahlus-Sunnah to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh; it is the phrase:
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(The Fire, they are exposed to it, morning and afternoon). But the question arises: this Ayah was undoubtedly revealed in Makkah, but they use it as evidence to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh. Imam Ahmad recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that a Jewish woman used to serve her, and whenever `A'ishah did her a favor, the Jewish woman would say, "May Allah save you from the torment of the grave. " `A'ishah said, "Then the Messenger of Allah ﷺ came in, and I said, `O Messenger of Allah, will there be any torment in the grave before the Day of Resurrection' He said,
«لَا، مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ؟»
(No, who said that) I said, `This Jewish woman, whenever I do her a favor, she says: May Allah save you from the torment of the grave."' The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللهِ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The Jews are lying, and they tell more lies about Allah. There is no torment except on the Day of Resurrection.) Then as much time passed as Allah willed should pass, then one day he came out at midday, wrapped in his robe with his eyes reddening, calling at the top of his voice:
«الْقَبْرُ كَقِطَع اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِـــــــــيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَق»
(The grave is like patches of dark night! O people, if you knew what I know, you would weep much and laugh little. O people, seek refuge with Allah from the torment of the grave, for the torment of the grave is real.)" This chain of narration is Sahih according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, although they did not record it. It was said, `how can this report be reconciled with the fact that the Ayah was revealed in Makkah and the Ayah indicates that there will be torment during the period of Al-Barzakh' The answer is that the Ayah refers to the souls (of Fir`awn and his people) being exposed to the Fire morning and evening; it does not say that the pain will affect their bodies in the grave. So it may be that this has to do specifically with their souls. With regard to there being any effect on their bodies in Al-Barzakh, and their feeling pain as a result, this is indicated in the Sunnah, in some Hadiths which we will mention below. It was said that this Ayah refers to the punishment of the disbelievers in Al-Barzakh, and that it does not by itself imply that the believer will be punished in the grave for his sins. This is indicated by the Hadith recorded by Imam Ahmad from `A'ishah, may Allah be pleased with her, according to which the Messenger of Allah ﷺ entered upon `A'ishah when a Jewish woman was with her, and she (the Jewish woman) was saying, "I was told that you will be tried in the grave." The Messenger of Allah ﷺ was worried and said:
«إِنَّمَا يُفْتَنُ يَهُود»
(Only the Jews will be tested.) `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Several nights passed, then the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَلَا إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُور»
(Verily you will be tested in the graves.)" `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "After that, the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge with Allah from the torment of the grave." This was also recorded by Muslim. It could be said that this Ayah indicates that the souls will be punished in Al-Barzakh, but this does not necessarily imply that the bodies in their graves will be affected by that. When Allah revealed something about the torment of the grave to His Prophet , he sought refuge with Allah from that. And Allah knows best. The Hadiths which speak of the torment of the grave are very many. Qatadah said, concerning the Ayah,
غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(morning and afternoon.): "(This means) every morning and every evening, for as long as this world remains, it will be said to them by way of rebuke and humiliation, O people of Fir`awn, this is your position." Ibn Zayd said, "They are there today, being exposed to it morning and evening, until the Hour begins.
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir`awn's people to enter the severest torment!") The people of Fir`awn are like foolish camels, stumbling into rocks and trees without thinking." Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هذَا مَقْعَدُكَ حَتْى يَبْعَثَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(When one of you dies, he is shown his place in Paradise or Hell morning and evening; if he is one of the people of Paradise, then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell. It will be said to him, this is your place until Allah resurrects you to go to it on the Day of Resurrection.)" It was also reported in the Two Sahihs.
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے ہیں، یعنی یہ یقینی سچ اور حق ہے کہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو یعنی بتوں اور سوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کی طرف یہ تو وہ ہیں جنہیں دین و دنیا کا کوئی اختیار نہیں۔ جنہیں نفع نقصان پر کوئی قابو نہیں جو اپنے پکارنے والے کی پکار کو سن سکیں تو قبول کرسکیں نہ یہاں نہ وہاں۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) ، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارتا ہے۔ جو اس کی پکار کو قیامت تک سن نہیں سکتے۔ جنہیں مطلق خبر نہیں کہ کون ہمیں پکار رہا ہے ؟ جو قیامت کے دن اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے بالکل انکار کر جائیں گے۔ گو تم انہیں پکارا کرو لیکن وہ نہیں سنتے۔ اور بالفرض اگر سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے۔ مومن آل فرعون کہتا ہے۔ کہ ہم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ وہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا بدلہ بھگتنا ہے۔ وہاں حد سے گزر جانے والے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے ہمیشہ کیلئے جہنم و اصل کردیئے جائیں گے، گو تم اس وقت میری باتوں کی قدر نہ کرو۔ لیکن ابھی ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا میری باتوں کی صداقت و حقانیت تم پر واضح ہوجائے گی۔ اس وقت ندامت حسرت اور افسوس کرو گے لیکن وہ محض بےسود ہوگا۔ میں تو اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ میرا توکل اسی کی ذات پر ہے۔ میں تو اپنے ہر کام میں اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں میں تم سے الگ ہوں اور تمہارے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے دانا بینا ہے۔ مستحق ہدایت جو ہیں ان کی وہ رہنمائی کرے گا اور مستحقین ضلالت اس رہنمائی سے محروم رہیں گے، اس کا ہر کام حکمت والا اور اس کی ہر تدبیر اچھائی والی ہے اس مومن کو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے مکر سے بچا لیا۔ دنیا میں بھی وہ محفوظ رہا یعنی موسیٰ کے ساتھ اس نے نجات پائی اور آخرت کے عذاب سے بھی محفوظ رہا۔ باقی تمام فرعونی بدترین عذاب کا شکار ہوئے۔ سب دریا میں ڈبو دیئے گئے، پھر وہاں سے جہنم واصل کردیئے گئے۔ ہر صبح شام ان کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں، قیامت تک یہ عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن ان کی روحیں جسم سمیت جہنم میں ڈال دی جائیں گی۔ اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ اے آل فرعون سخت درد ناک اور بہت زیادہ تکلیف دہ عذاب میں چلے جاؤ۔ یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے بہت بڑی دلیل ہے، ہاں یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ کہ بعض احادیث میں کچھ ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب برزخ کا علم رسول اللہ ﷺ کو مدینے شریف کی ہجرت کے بعد ہوا اور یہ آیت مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں کی روحیں صبح شام جہنم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ باقی رہی بات کہ یہ عذاب ہر وقت جاری اور باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ بھی کہ آیا یہ عذاب صرف روح کو ہی ہوتا ہے یا جسم کو بھی اس کا علم اللہ کی طرف سے آپ کو مدینے شریف میں کرایا گیا۔ اور آپ نے اسے بیان فرما دیا۔ پس حدیث و قرآن ملا کر مسئلہ یہ ہوا کہ عذاب وثواب قبر، روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے اور یہی حق ہے۔ اب ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت حضرت عائشہ ؓ کی خدمت گزار تھی۔ حضرت عائشہ جب کبھی اس کے ساتھ کچھ سلوک کرتی تو وہ دعا دیتی اور کہتی اللہ تجھے جہنم کے عذاب سے بچائے۔ ایک روز حضرت صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ اور وہ تو اس سے زیادہ جھوٹ اللہ پر باندھا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک مرتبہ ظہر کے وقت کپڑا لپیٹے ہوئے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور باآواز بلند فرما رہے تھے قبر مانند سیاہ رات کی اندھیریوں کے ٹکڑوں کے ہے۔ لوگو اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے، لوگو ! قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو، یقین مانو کہ عذاب قبر حق ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے حضرت عائشہ سے کچھ مانگا جو آپ نے دیا اور اس نے وہ دعا دی اس کے آخر میں ہے کہ کچھ دنوں بعد حضور ﷺ نے فرمایا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہاری آزمائش قبروں میں کی جاتی ہے۔ پس ان احادیث اور آیت میں ایک تطبیق تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آیت یعرضون سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو عالم برزخ میں عذاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مومن کو یہاں کے بعض گناہوں کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ یہ صرف حدیث شریف سے ثابت ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اس وقت ایک یہودیہ عورت مائی صاحبہ کے پاس بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تم لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ؟ اسے سن کر حضور ﷺ کانپ گئے اور فرمایا یہود ہی آزمائے جاتے ہیں۔ پھر چند دنوں بعد آپ نے فرمایا لوگو تم سب قبروں کے فتنہ میں ڈالے جاؤ گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ فتنہ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت سے صرف روح کے عذاب کا ثبوت ملتا تھا۔ اس سے جسم تک اس عذاب کے پہنچنے کا ثبوت نہیں تھا۔ بعد میں بذریعہ وحی حضور ﷺ کو یہ معلوم کرایا گیا کہ عذاب قبر جسم و روح کو ہوتا ہے۔ چناچہ آپ نے پھر اس سے بچاؤ کی دعا شروع کی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ کے پاس ایک یہودیہ عورت آئی اور اس نے کہا عذاب قبر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس پر صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے فرماتی ہے اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس حدیث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اسے سنتے ہی یہودیہ عورت کی تصدیق کی۔ اور اوپر والی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تکذیب کی تھی۔ دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ دو واقعے ہیں پہلے واقعے کے وقت چونکہ وحی سے آپ کو معلوم نہیں ہوا تھا آپ نے انکار فرما دیا۔ پھر معلوم ہوگیا تو آپ نے اقرار کیا، واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔ قبر کے عذاب کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آچکا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں رہتی دنیا تک ہر صبح شام آل فرعون کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ بدکارو تمہاری اصلی جگہ یہی ہے تاکہ ان کے رنج و غم بڑھیں ان کی ذلت و توہین ہو۔ پس آج بھی وہ عذاب میں ہی ہیں۔ اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں وہ جنت میں جہاں کہیں چاہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اور مومنوں کے بچوں کی روحیں چڑیوں کے قالب میں ہیں اور جہاں وہ چاہیں جنت میں چلتی رہتی ہیں۔ اور عرش تلے کی قندیلوں میں آرام حاصل کرتی ہیں۔ اور آل فرعون کی روحیں سیاہ رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ صبح بھی جہنم کے پاس جاتی ہیں۔ اور شام کو بھی یہی ان کا پیش ہونا ہے۔ معراج والی لمبی روایت میں ہے کہ پھر مجھے ایک بہت بڑی مخلوق کی طرف لے چلے جن میں سے ہر ایک کا پیٹ مثل بہت بڑے گھر کے تھا۔ جو آل فرعون کے پاس قید تھے۔ اور آل فرعون صبح شام آگ پر لائے جاتے ہیں۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ان فرعونیوں کو سخت تر عذابوں میں لے جاؤ اور یہ فرعونی لوگ نکیل والے اونٹوں کی طرح منہ نیچے کئے پتھر اور درخت پر چڑھ رہے ہیں اور بالکل بےعقل و شعور ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو احسان کرے خواہ مسلم ہو خواہ کافر اللہ تعالیٰ اسے ضرور بدلہ دیتا ہے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کافر کو کیا بدلہ ملتا ہے ؟ فرمایا اگر اس نے صلہ رحمی کی ہے یا صدقہ دیا ہے اور کوئی اچھا کام کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ اس کے مال میں اس کی اولاد میں اس کی صحت میں اور ایسی ہی اور چیزوں میں عطا فرماتا ہے۔ ہم نے پھر پوچھا اور آخرت میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا بڑے درجے سے کم درجے کا عذاب پھر آپ نے (اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46) 40۔ غافر :46) ، پڑھی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت اوزاعی سے ایک شخص نے پوچھا کہ ذرا ہمیں یہ بتاؤ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مفید پرندوں کا غول کا غول سمندر سے نکلتا ہے اور اس کے مغربی کنارے اڑتا ہوا، صبح کے وقت جاتا ہے۔ اس قدر زیادتی کے ساتھ کہ ان کی تعداد کوئی گن نہیں سکتا۔ شام کے وقت ایسا ہی جھنڈ کا جھنڈ واپس آتا ہے لیکن اس وقت ان کے رنگ بالکل سیاہ ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تم نے اسے خوب معلوم کرلیا۔ ان پرندوں کے قالب میں آل فرعون کی روحیں ہیں۔ جو صبح شام آگ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں پھر اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتی ہیں ان کے پر جل گئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سیاہ ہوجاتے ہیں۔ پھر رات کو وہ اگ جاتے ہیں اور سیاہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہی حالت ان کی دنیا میں ہے اور قیامت کے دن ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس آل فرعون کو سخت عذابوں میں داخل کردو کہتے ہیں کہ ان کی تعداد چھ لاکھ کی ہے جو فرعونی فوج تھی۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جب کبھی کوئی مرتا ہے ہر صبح شام اس کی جگہ اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت۔ اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم اور کہا جاتا ہے کہ تیری اصل جگہ یہ ہے جہاں تجھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھیجے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری مسلم میں بھی ہے۔
45
View Single
فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُواْۖ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ
Therefore Allah saved him from the evils of their scheming, and an evil punishment enveloped the people of Firaun. –
پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا
Tafsir Ibn Kathir
The Conclusion of the Believer's Words, and the ultimate Destiny of both Parties
That believer said: `Why do I call you to salvation, which is the worship of Allah alone with no partner or associate, and belief in His Messenger, whom He has sent,'
وَتَدْعُونَنِى إِلَى النَّارِتَدْعُونَنِى لاّكْـفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ
(while you call me to the Fire! You invite me to disbelieve in Allah, and to join partners in worship with Him of which I have no knowledge;) means, on the basis of ignorance, with no proof or evidence.
وَأَنَاْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ
(and I invite you to the Almighty, the Oft-Forgiving!) means, with all His might and pride, He still forgives the sin of the one who repents to Him.
لاَ جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(La Jarama, you call me to one) They say it means, "Truly." As-Suddi and Ibn Jarir said that the meaning of His saying:
لاَ جَرَمَ
(La jarama) means "Truly." Ad-Dahhak said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "No lie." `Ali bin Abi Talhah and Ibn `Abbas said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "Indeed, the one that you call me to of idols and false gods
لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلاَ فِى الاٌّخِرَةِ
(that does not have a claim in this world or in the Hereafter)." Mujahid said, "The idols that do not have anything." Qatadah said, "This means that idols possess no power either to benefit or to harm." As-Suddi said, "They do not respond to those who call upon them, either in this world or in the Hereafter." This is like the Ayah:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ
(And who is more astray than one who calls on besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are unaware of their calls to them And when the people are gathered, they will become their enemies and deny their worship.) (46:5-6)
إِن تَدْعُوهُمْ لاَ يَسْمَعُواْ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُواْ مَا اسْتَجَابُواْ لَكُمْ
(If you invoke them, they hear not your call; and if they were to hear, they could not grant it to you) (35:14).
وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى اللَّهِ
(And our return will be to Allah,) means, in the Hereafter, where He will reward or punish each person according to his deeds. He says:
وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(and the transgressors, they shall be the dwellers of the Fire!) meaning, they will dwell therein forever, because of their great sin, which is associating others in worship with Allah.
فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُـمْ
(And you will remember what I am telling you,) means, `you will come to know the truth of what I enjoined upon `you and forbade you to do, the advice I gave you and what I explained to you. You will come to know, and you will feel regret at the time when regret will be of no avail.'
وَأُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ
(and my affair I leave it to Allah.) means, `I put my trust in Allah and seek His help, and I renounce you utterly.'
إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(Verily, Allah is the All-Seer of (His) servants.) means, He knows all about them, may He be exalted and sanctified, and He guides those who deserve to be guided and sends astray those who deserve to be sent astray; His is the perfect proof, utmost wisdom and mighty power.
فَوقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُواْ
(So Allah saved him from the evils that they plotted,) means, in this world and in the Hereafter; in this world, Allah saved him along with Musa, peace be upon him, and in the Hereafter (He will admit him) to Paradise.
Proof of the Torment of the Grave
وَحَاقَ بِـَالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
(while an evil torment encompassed Fir`awn's people.) this refers to drowning in the sea, then being transferred from there to Hell, for their souls are exposed to the Fire morning and evening until the Hour begins. When the Day of Resurrection comes, their souls and bodies will be reunited in Hell. Allah says:
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Admit Fir`awn's people to the severest torment!") meaning, more intense pain and greater agony. This Ayah contains one of the major proofs used by the Ahlus-Sunnah to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh; it is the phrase:
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(The Fire, they are exposed to it, morning and afternoon). But the question arises: this Ayah was undoubtedly revealed in Makkah, but they use it as evidence to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh. Imam Ahmad recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that a Jewish woman used to serve her, and whenever `A'ishah did her a favor, the Jewish woman would say, "May Allah save you from the torment of the grave. " `A'ishah said, "Then the Messenger of Allah ﷺ came in, and I said, `O Messenger of Allah, will there be any torment in the grave before the Day of Resurrection' He said,
«لَا، مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ؟»
(No, who said that) I said, `This Jewish woman, whenever I do her a favor, she says: May Allah save you from the torment of the grave."' The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللهِ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The Jews are lying, and they tell more lies about Allah. There is no torment except on the Day of Resurrection.) Then as much time passed as Allah willed should pass, then one day he came out at midday, wrapped in his robe with his eyes reddening, calling at the top of his voice:
«الْقَبْرُ كَقِطَع اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِـــــــــيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَق»
(The grave is like patches of dark night! O people, if you knew what I know, you would weep much and laugh little. O people, seek refuge with Allah from the torment of the grave, for the torment of the grave is real.)" This chain of narration is Sahih according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, although they did not record it. It was said, `how can this report be reconciled with the fact that the Ayah was revealed in Makkah and the Ayah indicates that there will be torment during the period of Al-Barzakh' The answer is that the Ayah refers to the souls (of Fir`awn and his people) being exposed to the Fire morning and evening; it does not say that the pain will affect their bodies in the grave. So it may be that this has to do specifically with their souls. With regard to there being any effect on their bodies in Al-Barzakh, and their feeling pain as a result, this is indicated in the Sunnah, in some Hadiths which we will mention below. It was said that this Ayah refers to the punishment of the disbelievers in Al-Barzakh, and that it does not by itself imply that the believer will be punished in the grave for his sins. This is indicated by the Hadith recorded by Imam Ahmad from `A'ishah, may Allah be pleased with her, according to which the Messenger of Allah ﷺ entered upon `A'ishah when a Jewish woman was with her, and she (the Jewish woman) was saying, "I was told that you will be tried in the grave." The Messenger of Allah ﷺ was worried and said:
«إِنَّمَا يُفْتَنُ يَهُود»
(Only the Jews will be tested.) `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Several nights passed, then the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَلَا إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُور»
(Verily you will be tested in the graves.)" `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "After that, the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge with Allah from the torment of the grave." This was also recorded by Muslim. It could be said that this Ayah indicates that the souls will be punished in Al-Barzakh, but this does not necessarily imply that the bodies in their graves will be affected by that. When Allah revealed something about the torment of the grave to His Prophet , he sought refuge with Allah from that. And Allah knows best. The Hadiths which speak of the torment of the grave are very many. Qatadah said, concerning the Ayah,
غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(morning and afternoon.): "(This means) every morning and every evening, for as long as this world remains, it will be said to them by way of rebuke and humiliation, O people of Fir`awn, this is your position." Ibn Zayd said, "They are there today, being exposed to it morning and evening, until the Hour begins.
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir`awn's people to enter the severest torment!") The people of Fir`awn are like foolish camels, stumbling into rocks and trees without thinking." Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هذَا مَقْعَدُكَ حَتْى يَبْعَثَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(When one of you dies, he is shown his place in Paradise or Hell morning and evening; if he is one of the people of Paradise, then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell. It will be said to him, this is your place until Allah resurrects you to go to it on the Day of Resurrection.)" It was also reported in the Two Sahihs.
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے ہیں، یعنی یہ یقینی سچ اور حق ہے کہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو یعنی بتوں اور سوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کی طرف یہ تو وہ ہیں جنہیں دین و دنیا کا کوئی اختیار نہیں۔ جنہیں نفع نقصان پر کوئی قابو نہیں جو اپنے پکارنے والے کی پکار کو سن سکیں تو قبول کرسکیں نہ یہاں نہ وہاں۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) ، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارتا ہے۔ جو اس کی پکار کو قیامت تک سن نہیں سکتے۔ جنہیں مطلق خبر نہیں کہ کون ہمیں پکار رہا ہے ؟ جو قیامت کے دن اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے بالکل انکار کر جائیں گے۔ گو تم انہیں پکارا کرو لیکن وہ نہیں سنتے۔ اور بالفرض اگر سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے۔ مومن آل فرعون کہتا ہے۔ کہ ہم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ وہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا بدلہ بھگتنا ہے۔ وہاں حد سے گزر جانے والے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے ہمیشہ کیلئے جہنم و اصل کردیئے جائیں گے، گو تم اس وقت میری باتوں کی قدر نہ کرو۔ لیکن ابھی ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا میری باتوں کی صداقت و حقانیت تم پر واضح ہوجائے گی۔ اس وقت ندامت حسرت اور افسوس کرو گے لیکن وہ محض بےسود ہوگا۔ میں تو اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ میرا توکل اسی کی ذات پر ہے۔ میں تو اپنے ہر کام میں اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں میں تم سے الگ ہوں اور تمہارے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے دانا بینا ہے۔ مستحق ہدایت جو ہیں ان کی وہ رہنمائی کرے گا اور مستحقین ضلالت اس رہنمائی سے محروم رہیں گے، اس کا ہر کام حکمت والا اور اس کی ہر تدبیر اچھائی والی ہے اس مومن کو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے مکر سے بچا لیا۔ دنیا میں بھی وہ محفوظ رہا یعنی موسیٰ کے ساتھ اس نے نجات پائی اور آخرت کے عذاب سے بھی محفوظ رہا۔ باقی تمام فرعونی بدترین عذاب کا شکار ہوئے۔ سب دریا میں ڈبو دیئے گئے، پھر وہاں سے جہنم واصل کردیئے گئے۔ ہر صبح شام ان کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں، قیامت تک یہ عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن ان کی روحیں جسم سمیت جہنم میں ڈال دی جائیں گی۔ اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ اے آل فرعون سخت درد ناک اور بہت زیادہ تکلیف دہ عذاب میں چلے جاؤ۔ یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے بہت بڑی دلیل ہے، ہاں یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ کہ بعض احادیث میں کچھ ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب برزخ کا علم رسول اللہ ﷺ کو مدینے شریف کی ہجرت کے بعد ہوا اور یہ آیت مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں کی روحیں صبح شام جہنم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ باقی رہی بات کہ یہ عذاب ہر وقت جاری اور باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ بھی کہ آیا یہ عذاب صرف روح کو ہی ہوتا ہے یا جسم کو بھی اس کا علم اللہ کی طرف سے آپ کو مدینے شریف میں کرایا گیا۔ اور آپ نے اسے بیان فرما دیا۔ پس حدیث و قرآن ملا کر مسئلہ یہ ہوا کہ عذاب وثواب قبر، روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے اور یہی حق ہے۔ اب ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت حضرت عائشہ ؓ کی خدمت گزار تھی۔ حضرت عائشہ جب کبھی اس کے ساتھ کچھ سلوک کرتی تو وہ دعا دیتی اور کہتی اللہ تجھے جہنم کے عذاب سے بچائے۔ ایک روز حضرت صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ اور وہ تو اس سے زیادہ جھوٹ اللہ پر باندھا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک مرتبہ ظہر کے وقت کپڑا لپیٹے ہوئے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور باآواز بلند فرما رہے تھے قبر مانند سیاہ رات کی اندھیریوں کے ٹکڑوں کے ہے۔ لوگو اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے، لوگو ! قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو، یقین مانو کہ عذاب قبر حق ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے حضرت عائشہ سے کچھ مانگا جو آپ نے دیا اور اس نے وہ دعا دی اس کے آخر میں ہے کہ کچھ دنوں بعد حضور ﷺ نے فرمایا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہاری آزمائش قبروں میں کی جاتی ہے۔ پس ان احادیث اور آیت میں ایک تطبیق تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آیت یعرضون سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو عالم برزخ میں عذاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مومن کو یہاں کے بعض گناہوں کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ یہ صرف حدیث شریف سے ثابت ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اس وقت ایک یہودیہ عورت مائی صاحبہ کے پاس بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تم لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ؟ اسے سن کر حضور ﷺ کانپ گئے اور فرمایا یہود ہی آزمائے جاتے ہیں۔ پھر چند دنوں بعد آپ نے فرمایا لوگو تم سب قبروں کے فتنہ میں ڈالے جاؤ گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ فتنہ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت سے صرف روح کے عذاب کا ثبوت ملتا تھا۔ اس سے جسم تک اس عذاب کے پہنچنے کا ثبوت نہیں تھا۔ بعد میں بذریعہ وحی حضور ﷺ کو یہ معلوم کرایا گیا کہ عذاب قبر جسم و روح کو ہوتا ہے۔ چناچہ آپ نے پھر اس سے بچاؤ کی دعا شروع کی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ کے پاس ایک یہودیہ عورت آئی اور اس نے کہا عذاب قبر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس پر صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے فرماتی ہے اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس حدیث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اسے سنتے ہی یہودیہ عورت کی تصدیق کی۔ اور اوپر والی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تکذیب کی تھی۔ دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ دو واقعے ہیں پہلے واقعے کے وقت چونکہ وحی سے آپ کو معلوم نہیں ہوا تھا آپ نے انکار فرما دیا۔ پھر معلوم ہوگیا تو آپ نے اقرار کیا، واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔ قبر کے عذاب کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آچکا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں رہتی دنیا تک ہر صبح شام آل فرعون کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ بدکارو تمہاری اصلی جگہ یہی ہے تاکہ ان کے رنج و غم بڑھیں ان کی ذلت و توہین ہو۔ پس آج بھی وہ عذاب میں ہی ہیں۔ اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں وہ جنت میں جہاں کہیں چاہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اور مومنوں کے بچوں کی روحیں چڑیوں کے قالب میں ہیں اور جہاں وہ چاہیں جنت میں چلتی رہتی ہیں۔ اور عرش تلے کی قندیلوں میں آرام حاصل کرتی ہیں۔ اور آل فرعون کی روحیں سیاہ رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ صبح بھی جہنم کے پاس جاتی ہیں۔ اور شام کو بھی یہی ان کا پیش ہونا ہے۔ معراج والی لمبی روایت میں ہے کہ پھر مجھے ایک بہت بڑی مخلوق کی طرف لے چلے جن میں سے ہر ایک کا پیٹ مثل بہت بڑے گھر کے تھا۔ جو آل فرعون کے پاس قید تھے۔ اور آل فرعون صبح شام آگ پر لائے جاتے ہیں۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ان فرعونیوں کو سخت تر عذابوں میں لے جاؤ اور یہ فرعونی لوگ نکیل والے اونٹوں کی طرح منہ نیچے کئے پتھر اور درخت پر چڑھ رہے ہیں اور بالکل بےعقل و شعور ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو احسان کرے خواہ مسلم ہو خواہ کافر اللہ تعالیٰ اسے ضرور بدلہ دیتا ہے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کافر کو کیا بدلہ ملتا ہے ؟ فرمایا اگر اس نے صلہ رحمی کی ہے یا صدقہ دیا ہے اور کوئی اچھا کام کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ اس کے مال میں اس کی اولاد میں اس کی صحت میں اور ایسی ہی اور چیزوں میں عطا فرماتا ہے۔ ہم نے پھر پوچھا اور آخرت میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا بڑے درجے سے کم درجے کا عذاب پھر آپ نے (اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46) 40۔ غافر :46) ، پڑھی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت اوزاعی سے ایک شخص نے پوچھا کہ ذرا ہمیں یہ بتاؤ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مفید پرندوں کا غول کا غول سمندر سے نکلتا ہے اور اس کے مغربی کنارے اڑتا ہوا، صبح کے وقت جاتا ہے۔ اس قدر زیادتی کے ساتھ کہ ان کی تعداد کوئی گن نہیں سکتا۔ شام کے وقت ایسا ہی جھنڈ کا جھنڈ واپس آتا ہے لیکن اس وقت ان کے رنگ بالکل سیاہ ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تم نے اسے خوب معلوم کرلیا۔ ان پرندوں کے قالب میں آل فرعون کی روحیں ہیں۔ جو صبح شام آگ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں پھر اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتی ہیں ان کے پر جل گئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سیاہ ہوجاتے ہیں۔ پھر رات کو وہ اگ جاتے ہیں اور سیاہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہی حالت ان کی دنیا میں ہے اور قیامت کے دن ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس آل فرعون کو سخت عذابوں میں داخل کردو کہتے ہیں کہ ان کی تعداد چھ لاکھ کی ہے جو فرعونی فوج تھی۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جب کبھی کوئی مرتا ہے ہر صبح شام اس کی جگہ اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت۔ اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم اور کہا جاتا ہے کہ تیری اصل جگہ یہ ہے جہاں تجھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھیجے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری مسلم میں بھی ہے۔
46
View Single
ٱلنَّارُ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا غُدُوّٗا وَعَشِيّٗاۚ وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدۡخِلُوٓاْ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ أَشَدَّ ٱلۡعَذَابِ
The fire – upon which they are presented morning and evening; and when the Last Day is established – “Put the people of Firaun into the most severe punishment.” (Punishment in the grave is proven by this verse.)
آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو
Tafsir Ibn Kathir
The Conclusion of the Believer's Words, and the ultimate Destiny of both Parties
That believer said: `Why do I call you to salvation, which is the worship of Allah alone with no partner or associate, and belief in His Messenger, whom He has sent,'
وَتَدْعُونَنِى إِلَى النَّارِتَدْعُونَنِى لاّكْـفُرَ بِاللَّهِ وَأُشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ
(while you call me to the Fire! You invite me to disbelieve in Allah, and to join partners in worship with Him of which I have no knowledge;) means, on the basis of ignorance, with no proof or evidence.
وَأَنَاْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ
(and I invite you to the Almighty, the Oft-Forgiving!) means, with all His might and pride, He still forgives the sin of the one who repents to Him.
لاَ جَرَمَ أَنَّمَا تَدْعُونَنِى إِلَيْهِ
(La Jarama, you call me to one) They say it means, "Truly." As-Suddi and Ibn Jarir said that the meaning of His saying:
لاَ جَرَمَ
(La jarama) means "Truly." Ad-Dahhak said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "No lie." `Ali bin Abi Talhah and Ibn `Abbas said:
لاَ جَرَمَ
(La Jarama) means, "Indeed, the one that you call me to of idols and false gods
لَيْسَ لَهُ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلاَ فِى الاٌّخِرَةِ
(that does not have a claim in this world or in the Hereafter)." Mujahid said, "The idols that do not have anything." Qatadah said, "This means that idols possess no power either to benefit or to harm." As-Suddi said, "They do not respond to those who call upon them, either in this world or in the Hereafter." This is like the Ayah:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ
(And who is more astray than one who calls on besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are unaware of their calls to them And when the people are gathered, they will become their enemies and deny their worship.) (46:5-6)
إِن تَدْعُوهُمْ لاَ يَسْمَعُواْ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُواْ مَا اسْتَجَابُواْ لَكُمْ
(If you invoke them, they hear not your call; and if they were to hear, they could not grant it to you) (35:14).
وَأَنَّ مَرَدَّنَآ إِلَى اللَّهِ
(And our return will be to Allah,) means, in the Hereafter, where He will reward or punish each person according to his deeds. He says:
وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحَـبُ النَّارِ
(and the transgressors, they shall be the dwellers of the Fire!) meaning, they will dwell therein forever, because of their great sin, which is associating others in worship with Allah.
فَسَتَذْكُرُونَ مَآ أَقُولُ لَكُـمْ
(And you will remember what I am telling you,) means, `you will come to know the truth of what I enjoined upon `you and forbade you to do, the advice I gave you and what I explained to you. You will come to know, and you will feel regret at the time when regret will be of no avail.'
وَأُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ
(and my affair I leave it to Allah.) means, `I put my trust in Allah and seek His help, and I renounce you utterly.'
إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ
(Verily, Allah is the All-Seer of (His) servants.) means, He knows all about them, may He be exalted and sanctified, and He guides those who deserve to be guided and sends astray those who deserve to be sent astray; His is the perfect proof, utmost wisdom and mighty power.
فَوقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُواْ
(So Allah saved him from the evils that they plotted,) means, in this world and in the Hereafter; in this world, Allah saved him along with Musa, peace be upon him, and in the Hereafter (He will admit him) to Paradise.
Proof of the Torment of the Grave
وَحَاقَ بِـَالِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ
(while an evil torment encompassed Fir`awn's people.) this refers to drowning in the sea, then being transferred from there to Hell, for their souls are exposed to the Fire morning and evening until the Hour begins. When the Day of Resurrection comes, their souls and bodies will be reunited in Hell. Allah says:
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Admit Fir`awn's people to the severest torment!") meaning, more intense pain and greater agony. This Ayah contains one of the major proofs used by the Ahlus-Sunnah to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh; it is the phrase:
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(The Fire, they are exposed to it, morning and afternoon). But the question arises: this Ayah was undoubtedly revealed in Makkah, but they use it as evidence to prove that there will be torment in the grave during the period of Al-Barzakh. Imam Ahmad recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that a Jewish woman used to serve her, and whenever `A'ishah did her a favor, the Jewish woman would say, "May Allah save you from the torment of the grave. " `A'ishah said, "Then the Messenger of Allah ﷺ came in, and I said, `O Messenger of Allah, will there be any torment in the grave before the Day of Resurrection' He said,
«لَا، مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ؟»
(No, who said that) I said, `This Jewish woman, whenever I do her a favor, she says: May Allah save you from the torment of the grave."' The Messenger of Allah ﷺ said,
«كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللهِ أَكْذَبُ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The Jews are lying, and they tell more lies about Allah. There is no torment except on the Day of Resurrection.) Then as much time passed as Allah willed should pass, then one day he came out at midday, wrapped in his robe with his eyes reddening, calling at the top of his voice:
«الْقَبْرُ كَقِطَع اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَعِـــــــــيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَق»
(The grave is like patches of dark night! O people, if you knew what I know, you would weep much and laugh little. O people, seek refuge with Allah from the torment of the grave, for the torment of the grave is real.)" This chain of narration is Sahih according to the conditions of Al-Bukhari and Muslim, although they did not record it. It was said, `how can this report be reconciled with the fact that the Ayah was revealed in Makkah and the Ayah indicates that there will be torment during the period of Al-Barzakh' The answer is that the Ayah refers to the souls (of Fir`awn and his people) being exposed to the Fire morning and evening; it does not say that the pain will affect their bodies in the grave. So it may be that this has to do specifically with their souls. With regard to there being any effect on their bodies in Al-Barzakh, and their feeling pain as a result, this is indicated in the Sunnah, in some Hadiths which we will mention below. It was said that this Ayah refers to the punishment of the disbelievers in Al-Barzakh, and that it does not by itself imply that the believer will be punished in the grave for his sins. This is indicated by the Hadith recorded by Imam Ahmad from `A'ishah, may Allah be pleased with her, according to which the Messenger of Allah ﷺ entered upon `A'ishah when a Jewish woman was with her, and she (the Jewish woman) was saying, "I was told that you will be tried in the grave." The Messenger of Allah ﷺ was worried and said:
«إِنَّمَا يُفْتَنُ يَهُود»
(Only the Jews will be tested.) `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "Several nights passed, then the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَلَا إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُور»
(Verily you will be tested in the graves.)" `A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "After that, the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge with Allah from the torment of the grave." This was also recorded by Muslim. It could be said that this Ayah indicates that the souls will be punished in Al-Barzakh, but this does not necessarily imply that the bodies in their graves will be affected by that. When Allah revealed something about the torment of the grave to His Prophet , he sought refuge with Allah from that. And Allah knows best. The Hadiths which speak of the torment of the grave are very many. Qatadah said, concerning the Ayah,
غُدُوّاً وَعَشِيّاً
(morning and afternoon.): "(This means) every morning and every evening, for as long as this world remains, it will be said to them by way of rebuke and humiliation, O people of Fir`awn, this is your position." Ibn Zayd said, "They are there today, being exposed to it morning and evening, until the Hour begins.
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir`awn's people to enter the severest torment!") The people of Fir`awn are like foolish camels, stumbling into rocks and trees without thinking." Imam Ahmad recorded that Ibn `Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هذَا مَقْعَدُكَ حَتْى يَبْعَثَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(When one of you dies, he is shown his place in Paradise or Hell morning and evening; if he is one of the people of Paradise, then he is one of the people of Paradise, and if he is one of the people of Hell, then he is one of the people of Hell. It will be said to him, this is your place until Allah resurrects you to go to it on the Day of Resurrection.)" It was also reported in the Two Sahihs.
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے ہیں، یعنی یہ یقینی سچ اور حق ہے کہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو یعنی بتوں اور سوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کی طرف یہ تو وہ ہیں جنہیں دین و دنیا کا کوئی اختیار نہیں۔ جنہیں نفع نقصان پر کوئی قابو نہیں جو اپنے پکارنے والے کی پکار کو سن سکیں تو قبول کرسکیں نہ یہاں نہ وہاں۔ جیسے فرمان اللہ ہے (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) ، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارتا ہے۔ جو اس کی پکار کو قیامت تک سن نہیں سکتے۔ جنہیں مطلق خبر نہیں کہ کون ہمیں پکار رہا ہے ؟ جو قیامت کے دن اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت سے بالکل انکار کر جائیں گے۔ گو تم انہیں پکارا کرو لیکن وہ نہیں سنتے۔ اور بالفرض اگر سن بھی لیں تو قبول نہیں کرسکتے۔ مومن آل فرعون کہتا ہے۔ کہ ہم سب کو لوٹ کر اللہ ہی کے پاس جانا ہے۔ وہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کا بدلہ بھگتنا ہے۔ وہاں حد سے گزر جانے والے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے والے ہمیشہ کیلئے جہنم و اصل کردیئے جائیں گے، گو تم اس وقت میری باتوں کی قدر نہ کرو۔ لیکن ابھی ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا میری باتوں کی صداقت و حقانیت تم پر واضح ہوجائے گی۔ اس وقت ندامت حسرت اور افسوس کرو گے لیکن وہ محض بےسود ہوگا۔ میں تو اپنا کام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ میرا توکل اسی کی ذات پر ہے۔ میں تو اپنے ہر کام میں اسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں میں تم سے الگ ہوں اور تمہارے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ اللہ اپنے بندوں کے تمام حالات سے دانا بینا ہے۔ مستحق ہدایت جو ہیں ان کی وہ رہنمائی کرے گا اور مستحقین ضلالت اس رہنمائی سے محروم رہیں گے، اس کا ہر کام حکمت والا اور اس کی ہر تدبیر اچھائی والی ہے اس مومن کو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے مکر سے بچا لیا۔ دنیا میں بھی وہ محفوظ رہا یعنی موسیٰ کے ساتھ اس نے نجات پائی اور آخرت کے عذاب سے بھی محفوظ رہا۔ باقی تمام فرعونی بدترین عذاب کا شکار ہوئے۔ سب دریا میں ڈبو دیئے گئے، پھر وہاں سے جہنم واصل کردیئے گئے۔ ہر صبح شام ان کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں، قیامت تک یہ عذاب انہیں ہوتا رہے گا۔ اور قیامت کے دن ان کی روحیں جسم سمیت جہنم میں ڈال دی جائیں گی۔ اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ اے آل فرعون سخت درد ناک اور بہت زیادہ تکلیف دہ عذاب میں چلے جاؤ۔ یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے بہت بڑی دلیل ہے، ہاں یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے۔ کہ بعض احادیث میں کچھ ایسے مضامین وارد ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب برزخ کا علم رسول اللہ ﷺ کو مدینے شریف کی ہجرت کے بعد ہوا اور یہ آیت مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں کی روحیں صبح شام جہنم کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ باقی رہی بات کہ یہ عذاب ہر وقت جاری اور باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اور یہ بھی کہ آیا یہ عذاب صرف روح کو ہی ہوتا ہے یا جسم کو بھی اس کا علم اللہ کی طرف سے آپ کو مدینے شریف میں کرایا گیا۔ اور آپ نے اسے بیان فرما دیا۔ پس حدیث و قرآن ملا کر مسئلہ یہ ہوا کہ عذاب وثواب قبر، روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے اور یہی حق ہے۔ اب ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت حضرت عائشہ ؓ کی خدمت گزار تھی۔ حضرت عائشہ جب کبھی اس کے ساتھ کچھ سلوک کرتی تو وہ دعا دیتی اور کہتی اللہ تجھے جہنم کے عذاب سے بچائے۔ ایک روز حضرت صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا قیامت سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے ؟ اور وہ تو اس سے زیادہ جھوٹ اللہ پر باندھا کرتے ہیں۔ قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہیں۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک مرتبہ ظہر کے وقت کپڑا لپیٹے ہوئے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور باآواز بلند فرما رہے تھے قبر مانند سیاہ رات کی اندھیریوں کے ٹکڑوں کے ہے۔ لوگو اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے، لوگو ! قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو، یقین مانو کہ عذاب قبر حق ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے حضرت عائشہ سے کچھ مانگا جو آپ نے دیا اور اس نے وہ دعا دی اس کے آخر میں ہے کہ کچھ دنوں بعد حضور ﷺ نے فرمایا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تمہاری آزمائش قبروں میں کی جاتی ہے۔ پس ان احادیث اور آیت میں ایک تطبیق تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ دوسری تطبیق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آیت یعرضون سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو عالم برزخ میں عذاب ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مومن کو یہاں کے بعض گناہوں کی وجہ سے اس کی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ یہ صرف حدیث شریف سے ثابت ہوا۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اس وقت ایک یہودیہ عورت مائی صاحبہ کے پاس بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تم لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ؟ اسے سن کر حضور ﷺ کانپ گئے اور فرمایا یہود ہی آزمائے جاتے ہیں۔ پھر چند دنوں بعد آپ نے فرمایا لوگو تم سب قبروں کے فتنہ میں ڈالے جاؤ گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ فتنہ قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت سے صرف روح کے عذاب کا ثبوت ملتا تھا۔ اس سے جسم تک اس عذاب کے پہنچنے کا ثبوت نہیں تھا۔ بعد میں بذریعہ وحی حضور ﷺ کو یہ معلوم کرایا گیا کہ عذاب قبر جسم و روح کو ہوتا ہے۔ چناچہ آپ نے پھر اس سے بچاؤ کی دعا شروع کی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ کے پاس ایک یہودیہ عورت آئی اور اس نے کہا عذاب قبر سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس پر صدیقہ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے فرماتی ہے اس کے بعد میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اس حدیث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اسے سنتے ہی یہودیہ عورت کی تصدیق کی۔ اور اوپر والی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تکذیب کی تھی۔ دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ دو واقعے ہیں پہلے واقعے کے وقت چونکہ وحی سے آپ کو معلوم نہیں ہوا تھا آپ نے انکار فرما دیا۔ پھر معلوم ہوگیا تو آپ نے اقرار کیا، واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم۔ قبر کے عذاب کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آچکا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں رہتی دنیا تک ہر صبح شام آل فرعون کی روحیں جہنم کے سامنے لائی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ بدکارو تمہاری اصلی جگہ یہی ہے تاکہ ان کے رنج و غم بڑھیں ان کی ذلت و توہین ہو۔ پس آج بھی وہ عذاب میں ہی ہیں۔ اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں وہ جنت میں جہاں کہیں چاہیں چلتی پھرتی ہیں۔ اور مومنوں کے بچوں کی روحیں چڑیوں کے قالب میں ہیں اور جہاں وہ چاہیں جنت میں چلتی رہتی ہیں۔ اور عرش تلے کی قندیلوں میں آرام حاصل کرتی ہیں۔ اور آل فرعون کی روحیں سیاہ رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں۔ صبح بھی جہنم کے پاس جاتی ہیں۔ اور شام کو بھی یہی ان کا پیش ہونا ہے۔ معراج والی لمبی روایت میں ہے کہ پھر مجھے ایک بہت بڑی مخلوق کی طرف لے چلے جن میں سے ہر ایک کا پیٹ مثل بہت بڑے گھر کے تھا۔ جو آل فرعون کے پاس قید تھے۔ اور آل فرعون صبح شام آگ پر لائے جاتے ہیں۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ان فرعونیوں کو سخت تر عذابوں میں لے جاؤ اور یہ فرعونی لوگ نکیل والے اونٹوں کی طرح منہ نیچے کئے پتھر اور درخت پر چڑھ رہے ہیں اور بالکل بےعقل و شعور ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو احسان کرے خواہ مسلم ہو خواہ کافر اللہ تعالیٰ اسے ضرور بدلہ دیتا ہے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کافر کو کیا بدلہ ملتا ہے ؟ فرمایا اگر اس نے صلہ رحمی کی ہے یا صدقہ دیا ہے اور کوئی اچھا کام کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ اس کے مال میں اس کی اولاد میں اس کی صحت میں اور ایسی ہی اور چیزوں میں عطا فرماتا ہے۔ ہم نے پھر پوچھا اور آخرت میں کیا ملتا ہے ؟ فرمایا بڑے درجے سے کم درجے کا عذاب پھر آپ نے (اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ 46) 40۔ غافر :46) ، پڑھی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت اوزاعی سے ایک شخص نے پوچھا کہ ذرا ہمیں یہ بتاؤ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مفید پرندوں کا غول کا غول سمندر سے نکلتا ہے اور اس کے مغربی کنارے اڑتا ہوا، صبح کے وقت جاتا ہے۔ اس قدر زیادتی کے ساتھ کہ ان کی تعداد کوئی گن نہیں سکتا۔ شام کے وقت ایسا ہی جھنڈ کا جھنڈ واپس آتا ہے لیکن اس وقت ان کے رنگ بالکل سیاہ ہوتے ہیں آپ نے فرمایا تم نے اسے خوب معلوم کرلیا۔ ان پرندوں کے قالب میں آل فرعون کی روحیں ہیں۔ جو صبح شام آگ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں پھر اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتی ہیں ان کے پر جل گئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ سیاہ ہوجاتے ہیں۔ پھر رات کو وہ اگ جاتے ہیں اور سیاہ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہی حالت ان کی دنیا میں ہے اور قیامت کے دن ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس آل فرعون کو سخت عذابوں میں داخل کردو کہتے ہیں کہ ان کی تعداد چھ لاکھ کی ہے جو فرعونی فوج تھی۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جب کبھی کوئی مرتا ہے ہر صبح شام اس کی جگہ اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت۔ اور اگر وہ جہنمی ہے تو جہنم اور کہا جاتا ہے کہ تیری اصل جگہ یہ ہے جہاں تجھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھیجے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری مسلم میں بھی ہے۔
47
View Single
وَإِذۡ يَتَحَآجُّونَ فِي ٱلنَّارِ فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَـٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا نَصِيبٗا مِّنَ ٱلنَّارِ
And when they will quarrel amongst themselves in the fire, those who were weak will say to those who sought greatness, “We were your followers, so will you reduce from us some of the punishment of the fire?”
اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Dispute of the People of Hell
Allah tells us how the people of Hell will dispute and argue with one another, and Fir`awn and his people will be among them. The weak, who were the followers, will say to those who were arrogant, who were the leaders and masters:
إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا
(Verily, we followed you,) meaning, `we obeyed you and heeded your call to disbelief and misguidance in the world, '
فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيباً مِّنَ النَّارِ
(can you then take from us some portion of the Fire) means, `can you carry a part of our burden for us'
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا كُلٌّ فِيهَآ
(Those who were arrogant will say: "We are all (together) in this (Fire)!...") meaning, `we will not bear any part of your burden for you; our own punishment is enough for us to bear.'
إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ
(Verily, Allah has judged (His) servants!) means, `He has shared out the punishment among us according to what each of us deserves'. This is like the Ayah:
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38)
وَقَالَ الَّذِينَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُواْ رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْماً مِّنَ الْعَذَابِ
(And those in the Fire will say to the keepers (angels) of Hell: "Call upon your Lord to lighten for us the torment for a day!") They know that Allah will not answer them and will not listen to their prayer, because He said,
اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108), so they will ask the keepers of Hell, who are like jailers watching over the people of Hell, to pray to Allah to lessen the Fire for them if only for one day. But the keepers of Hell will refuse, saying to them,
أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِالْبَيِّنَـتِ
(Did there not come to you, your Messengers with (clear) evidences) meaning, was not proof established in the world on the lips of the Messengers
قَالُواْ بَلَى قَالُواْ فَادْعُواْ
(They will say: "Yes." They will reply: "Then call (as you like)!...") means, you are on your own. We will not pray for you or listen to you; we do not want you to be saved and we have nothing to do with you. Moreover, we tell you that it is all the same whether you offer supplication or not, because Allah will not respond and He will not lighten the torment for you.' They will say:
وَمَا دُعَآءُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(And the invocation of the disbelievers is nothing but in vain!) meaning, it will not be accepted or responded to.
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب۔جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہوگا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے، اب یہاں آپ ہمیں کچھ تو کام آئے۔ ہمارے عذابوں کا ہی کوئی حصہ اپنے اوپر اٹھا لیجئے، یہ رؤسا اور امرا سادات اور بزرگ جواب دیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جل بھن رہے ہیں۔ ہمیں جو عذاب ہو رہے ہیں وہ کیا کم ہیں جو ہم تمہارے عذاب اٹھائیں ؟ اللہ کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ رب فیصلے صادر فرما چکا ہے۔ ہر ایک کو اس کے بداعمال کے مطابق سزا دے چکا ہے۔ اب اس میں کمی ناممکن ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے ہر ایک کیلئے بڑھا چڑھا عذاب گو تم نہ سمجھو۔ جب اہل دوزخ سمجھ لیں گے کہ اللہ ان کی دعا قبول نہیں فرما رہا بلکہ کان بھی نہیں لگاتا۔ بلکہ انہیں ڈانٹ دیا ہے اور فرما چکا ہے کہ یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو تو وہ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے۔ جو وہاں کے ایسے ہی پاسبان ہیں جیسے دنیا کے جیل خانوں کے نگہبان داروغے اور محافظ سپاہ ہوتے ہیں۔ ان سے کہیں گے کہ تم ہی ذرا اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی وہ ہمارے عذاب ہلکے کر دے، وہ انہیں جواب دیں گے کہ کیا رسولوں کی زبانی احکام ربانی دنیا میں تمہیں پہنچے نہ تھے ؟ یہ کہیں گے ہاں پہنچے تھے۔ تو فرشتے کہیں گے پھر اب تم آپ ہی اللہ سے کہہ سن لو۔ ہم تو تمہاری طرف سے کوئی عرض اس کی جناب میں کر نہیں سکتے۔ بلکہ ہم خود تم سے بیزار اور تمہارے دشمن ہیں سنو ہم تمہیں کہہ دیتے ہیں کہ خواہ تم دعا کرو خواہ تمہارے لئے اور کوئی دعا کرے ناممکن ہے کہ تمہارے عذابوں میں کمی ہو۔ کافروں کی دعا نامقبول اور مردود ہے۔
48
View Single
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُلّٞ فِيهَآ إِنَّ ٱللَّهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ ٱلۡعِبَادِ
Those who were proud will say, “We are all in the fire – indeed Allah has already passed the judgement among the bondmen.”
تکبر کرنے والے کہیں گے: ہم سب ہی اسی (دوزخ) میں پڑے ہیں بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان حتمی فیصلہ فرما دیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Dispute of the People of Hell
Allah tells us how the people of Hell will dispute and argue with one another, and Fir`awn and his people will be among them. The weak, who were the followers, will say to those who were arrogant, who were the leaders and masters:
إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا
(Verily, we followed you,) meaning, `we obeyed you and heeded your call to disbelief and misguidance in the world, '
فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيباً مِّنَ النَّارِ
(can you then take from us some portion of the Fire) means, `can you carry a part of our burden for us'
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا كُلٌّ فِيهَآ
(Those who were arrogant will say: "We are all (together) in this (Fire)!...") meaning, `we will not bear any part of your burden for you; our own punishment is enough for us to bear.'
إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ
(Verily, Allah has judged (His) servants!) means, `He has shared out the punishment among us according to what each of us deserves'. This is like the Ayah:
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38)
وَقَالَ الَّذِينَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُواْ رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْماً مِّنَ الْعَذَابِ
(And those in the Fire will say to the keepers (angels) of Hell: "Call upon your Lord to lighten for us the torment for a day!") They know that Allah will not answer them and will not listen to their prayer, because He said,
اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108), so they will ask the keepers of Hell, who are like jailers watching over the people of Hell, to pray to Allah to lessen the Fire for them if only for one day. But the keepers of Hell will refuse, saying to them,
أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِالْبَيِّنَـتِ
(Did there not come to you, your Messengers with (clear) evidences) meaning, was not proof established in the world on the lips of the Messengers
قَالُواْ بَلَى قَالُواْ فَادْعُواْ
(They will say: "Yes." They will reply: "Then call (as you like)!...") means, you are on your own. We will not pray for you or listen to you; we do not want you to be saved and we have nothing to do with you. Moreover, we tell you that it is all the same whether you offer supplication or not, because Allah will not respond and He will not lighten the torment for you.' They will say:
وَمَا دُعَآءُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(And the invocation of the disbelievers is nothing but in vain!) meaning, it will not be accepted or responded to.
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب۔جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہوگا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے، اب یہاں آپ ہمیں کچھ تو کام آئے۔ ہمارے عذابوں کا ہی کوئی حصہ اپنے اوپر اٹھا لیجئے، یہ رؤسا اور امرا سادات اور بزرگ جواب دیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جل بھن رہے ہیں۔ ہمیں جو عذاب ہو رہے ہیں وہ کیا کم ہیں جو ہم تمہارے عذاب اٹھائیں ؟ اللہ کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ رب فیصلے صادر فرما چکا ہے۔ ہر ایک کو اس کے بداعمال کے مطابق سزا دے چکا ہے۔ اب اس میں کمی ناممکن ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے ہر ایک کیلئے بڑھا چڑھا عذاب گو تم نہ سمجھو۔ جب اہل دوزخ سمجھ لیں گے کہ اللہ ان کی دعا قبول نہیں فرما رہا بلکہ کان بھی نہیں لگاتا۔ بلکہ انہیں ڈانٹ دیا ہے اور فرما چکا ہے کہ یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو تو وہ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے۔ جو وہاں کے ایسے ہی پاسبان ہیں جیسے دنیا کے جیل خانوں کے نگہبان داروغے اور محافظ سپاہ ہوتے ہیں۔ ان سے کہیں گے کہ تم ہی ذرا اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی وہ ہمارے عذاب ہلکے کر دے، وہ انہیں جواب دیں گے کہ کیا رسولوں کی زبانی احکام ربانی دنیا میں تمہیں پہنچے نہ تھے ؟ یہ کہیں گے ہاں پہنچے تھے۔ تو فرشتے کہیں گے پھر اب تم آپ ہی اللہ سے کہہ سن لو۔ ہم تو تمہاری طرف سے کوئی عرض اس کی جناب میں کر نہیں سکتے۔ بلکہ ہم خود تم سے بیزار اور تمہارے دشمن ہیں سنو ہم تمہیں کہہ دیتے ہیں کہ خواہ تم دعا کرو خواہ تمہارے لئے اور کوئی دعا کرے ناممکن ہے کہ تمہارے عذابوں میں کمی ہو۔ کافروں کی دعا نامقبول اور مردود ہے۔
49
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِي ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمٗا مِّنَ ٱلۡعَذَابِ
And those who are in the fire said to its guards, “Pray to your Lord to decrease the punishment upon us for one day.”
اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے
Tafsir Ibn Kathir
The Dispute of the People of Hell
Allah tells us how the people of Hell will dispute and argue with one another, and Fir`awn and his people will be among them. The weak, who were the followers, will say to those who were arrogant, who were the leaders and masters:
إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا
(Verily, we followed you,) meaning, `we obeyed you and heeded your call to disbelief and misguidance in the world, '
فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيباً مِّنَ النَّارِ
(can you then take from us some portion of the Fire) means, `can you carry a part of our burden for us'
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا كُلٌّ فِيهَآ
(Those who were arrogant will say: "We are all (together) in this (Fire)!...") meaning, `we will not bear any part of your burden for you; our own punishment is enough for us to bear.'
إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ
(Verily, Allah has judged (His) servants!) means, `He has shared out the punishment among us according to what each of us deserves'. This is like the Ayah:
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38)
وَقَالَ الَّذِينَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُواْ رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْماً مِّنَ الْعَذَابِ
(And those in the Fire will say to the keepers (angels) of Hell: "Call upon your Lord to lighten for us the torment for a day!") They know that Allah will not answer them and will not listen to their prayer, because He said,
اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108), so they will ask the keepers of Hell, who are like jailers watching over the people of Hell, to pray to Allah to lessen the Fire for them if only for one day. But the keepers of Hell will refuse, saying to them,
أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِالْبَيِّنَـتِ
(Did there not come to you, your Messengers with (clear) evidences) meaning, was not proof established in the world on the lips of the Messengers
قَالُواْ بَلَى قَالُواْ فَادْعُواْ
(They will say: "Yes." They will reply: "Then call (as you like)!...") means, you are on your own. We will not pray for you or listen to you; we do not want you to be saved and we have nothing to do with you. Moreover, we tell you that it is all the same whether you offer supplication or not, because Allah will not respond and He will not lighten the torment for you.' They will say:
وَمَا دُعَآءُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(And the invocation of the disbelievers is nothing but in vain!) meaning, it will not be accepted or responded to.
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب۔جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہوگا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے، اب یہاں آپ ہمیں کچھ تو کام آئے۔ ہمارے عذابوں کا ہی کوئی حصہ اپنے اوپر اٹھا لیجئے، یہ رؤسا اور امرا سادات اور بزرگ جواب دیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جل بھن رہے ہیں۔ ہمیں جو عذاب ہو رہے ہیں وہ کیا کم ہیں جو ہم تمہارے عذاب اٹھائیں ؟ اللہ کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ رب فیصلے صادر فرما چکا ہے۔ ہر ایک کو اس کے بداعمال کے مطابق سزا دے چکا ہے۔ اب اس میں کمی ناممکن ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے ہر ایک کیلئے بڑھا چڑھا عذاب گو تم نہ سمجھو۔ جب اہل دوزخ سمجھ لیں گے کہ اللہ ان کی دعا قبول نہیں فرما رہا بلکہ کان بھی نہیں لگاتا۔ بلکہ انہیں ڈانٹ دیا ہے اور فرما چکا ہے کہ یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو تو وہ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے۔ جو وہاں کے ایسے ہی پاسبان ہیں جیسے دنیا کے جیل خانوں کے نگہبان داروغے اور محافظ سپاہ ہوتے ہیں۔ ان سے کہیں گے کہ تم ہی ذرا اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی وہ ہمارے عذاب ہلکے کر دے، وہ انہیں جواب دیں گے کہ کیا رسولوں کی زبانی احکام ربانی دنیا میں تمہیں پہنچے نہ تھے ؟ یہ کہیں گے ہاں پہنچے تھے۔ تو فرشتے کہیں گے پھر اب تم آپ ہی اللہ سے کہہ سن لو۔ ہم تو تمہاری طرف سے کوئی عرض اس کی جناب میں کر نہیں سکتے۔ بلکہ ہم خود تم سے بیزار اور تمہارے دشمن ہیں سنو ہم تمہیں کہہ دیتے ہیں کہ خواہ تم دعا کرو خواہ تمہارے لئے اور کوئی دعا کرے ناممکن ہے کہ تمہارے عذابوں میں کمی ہو۔ کافروں کی دعا نامقبول اور مردود ہے۔
50
View Single
قَالُوٓاْ أَوَلَمۡ تَكُ تَأۡتِيكُمۡ رُسُلُكُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ قَالُواْ بَلَىٰۚ قَالُواْ فَٱدۡعُواْۗ وَمَا دُعَـٰٓؤُاْ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٍ
They said, “Is it not that your Noble Messengers used to come to you with clear signs?” They said, “Why not, surely yes!” They said, “Then you yourselves pray”; and the prayer of the disbelievers is nothing but astray.
وہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے: کیوں نہیں، (پھر داروغے) کہیں گے: تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (ہمیشہ) رائیگاں ہی ہوگی
Tafsir Ibn Kathir
The Dispute of the People of Hell
Allah tells us how the people of Hell will dispute and argue with one another, and Fir`awn and his people will be among them. The weak, who were the followers, will say to those who were arrogant, who were the leaders and masters:
إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا
(Verily, we followed you,) meaning, `we obeyed you and heeded your call to disbelief and misguidance in the world, '
فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيباً مِّنَ النَّارِ
(can you then take from us some portion of the Fire) means, `can you carry a part of our burden for us'
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا كُلٌّ فِيهَآ
(Those who were arrogant will say: "We are all (together) in this (Fire)!...") meaning, `we will not bear any part of your burden for you; our own punishment is enough for us to bear.'
إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ
(Verily, Allah has judged (His) servants!) means, `He has shared out the punishment among us according to what each of us deserves'. This is like the Ayah:
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(He will say: "For each one there is double (torment), but you know not.") (7:38)
وَقَالَ الَّذِينَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُواْ رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْماً مِّنَ الْعَذَابِ
(And those in the Fire will say to the keepers (angels) of Hell: "Call upon your Lord to lighten for us the torment for a day!") They know that Allah will not answer them and will not listen to their prayer, because He said,
اخْسَئُواْ فِيهَا وَلاَ تُكَلِّمُونِ
(Remain you in it with ignominy! And speak you not to Me!) (23:108), so they will ask the keepers of Hell, who are like jailers watching over the people of Hell, to pray to Allah to lessen the Fire for them if only for one day. But the keepers of Hell will refuse, saying to them,
أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِالْبَيِّنَـتِ
(Did there not come to you, your Messengers with (clear) evidences) meaning, was not proof established in the world on the lips of the Messengers
قَالُواْ بَلَى قَالُواْ فَادْعُواْ
(They will say: "Yes." They will reply: "Then call (as you like)!...") means, you are on your own. We will not pray for you or listen to you; we do not want you to be saved and we have nothing to do with you. Moreover, we tell you that it is all the same whether you offer supplication or not, because Allah will not respond and He will not lighten the torment for you.' They will say:
وَمَا دُعَآءُ الْكَـفِرِينَ إِلاَّ فِى ضَلَـلٍ
(And the invocation of the disbelievers is nothing but in vain!) meaning, it will not be accepted or responded to.
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب۔جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہوگا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے، اب یہاں آپ ہمیں کچھ تو کام آئے۔ ہمارے عذابوں کا ہی کوئی حصہ اپنے اوپر اٹھا لیجئے، یہ رؤسا اور امرا سادات اور بزرگ جواب دیں گے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جل بھن رہے ہیں۔ ہمیں جو عذاب ہو رہے ہیں وہ کیا کم ہیں جو ہم تمہارے عذاب اٹھائیں ؟ اللہ کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ رب فیصلے صادر فرما چکا ہے۔ ہر ایک کو اس کے بداعمال کے مطابق سزا دے چکا ہے۔ اب اس میں کمی ناممکن ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے ہر ایک کیلئے بڑھا چڑھا عذاب گو تم نہ سمجھو۔ جب اہل دوزخ سمجھ لیں گے کہ اللہ ان کی دعا قبول نہیں فرما رہا بلکہ کان بھی نہیں لگاتا۔ بلکہ انہیں ڈانٹ دیا ہے اور فرما چکا ہے کہ یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو تو وہ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے۔ جو وہاں کے ایسے ہی پاسبان ہیں جیسے دنیا کے جیل خانوں کے نگہبان داروغے اور محافظ سپاہ ہوتے ہیں۔ ان سے کہیں گے کہ تم ہی ذرا اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی وہ ہمارے عذاب ہلکے کر دے، وہ انہیں جواب دیں گے کہ کیا رسولوں کی زبانی احکام ربانی دنیا میں تمہیں پہنچے نہ تھے ؟ یہ کہیں گے ہاں پہنچے تھے۔ تو فرشتے کہیں گے پھر اب تم آپ ہی اللہ سے کہہ سن لو۔ ہم تو تمہاری طرف سے کوئی عرض اس کی جناب میں کر نہیں سکتے۔ بلکہ ہم خود تم سے بیزار اور تمہارے دشمن ہیں سنو ہم تمہیں کہہ دیتے ہیں کہ خواہ تم دعا کرو خواہ تمہارے لئے اور کوئی دعا کرے ناممکن ہے کہ تمہارے عذابوں میں کمی ہو۔ کافروں کی دعا نامقبول اور مردود ہے۔
51
View Single
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُومُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ
Indeed We will surely help Our Noble Messengers, and the believers, in the life of this world and on the day when the witnesses will be standing.
بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں (بھی) مدد کرتے ہیں اور اس دن (بھی کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Victory of the Messengers and the Believers
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life). As-Suddi, "Allah never sends a Messenger to a people and they kill him or some of the believers who call them to the truth, then that generation passes away, but He then sends them someone who will support their call and will seek vengeance for their blood from those who did that to them in this world. So the Prophets and believers may be killed in this world, but their call will prevail in this world." Allah granted victory to His Prophet Muhammad ﷺ and his Companions over those who had opposed him, disbelieved in him and shown hostility towards him. He caused His Word and His religion to prevail over all other religions, commanded him to emigrate from his people to Al-Madinah, where He gave him supporters and helpers. Then He caused him to prevail over the idolators on the day of Badr, when He granted him victory over them and he humiliated them, killing their leaders and taking their elite prisoner, driving them before him in chains. Then he did them the favor of accepting ransom from them. Shortly after that, Allah enabled him to conquer Makkah, and he rejoiced in his return to his homeland, the sacred and holy land of Al-Haram. Through him, Allah saved it from its disbelief and Shirk. Then Allah enabled him to conquer the Yemen, and the entire Arabian Peninsula submitted to him, and the people entered the religion of Allah in crowds. Then Allah took him (in death), because of his high status and honor, and He established his Companions as his Khalifahs. They conveyed the religion of Allah from him, called mankind to Allah, they conquered many regions, countries and cities, and opened people's hearts, until the call of Muhammad ﷺ spread throughout the world, east and west. This religion will continue to prevail until the Hour begins. Allah says:
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth) meaning, on the Day of Resurrection the victory will be greater and more complete. Mujahid said, "The witnesses are the angels."
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers.) is referring to the same as;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(...the Day when the witnesses will stand forth.) Others read it with that meaning;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُيَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ
(And the Day the witnesses will stand forth, is a Day when there will be no profit to wrongdoers.) and the wrongdoers are the idolators.
مَعْذِرَتُهُمْ
(their excuses) means, no excuse or ransom will be accepted from them.
وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ
(Theirs will be the curse,) means, they will be cast out far away from the mercy of Allah.
وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(and theirs will be the evil abode.) means, the Hell-fire, as As-Suddi said, a terrible abode and dwellingplace.
Indication that the Messenger and the Believers will prevail just as Musa and the Children of Israel prevailed
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى
(And, indeed We gave Musa the guidance.) means, the guidance and light with which Allah sent him.
وَأَوْرَثْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ
(and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture.) means, `We caused them to prevail in the end and they inherited the land and accumulated wealth of Fir`awn, because of their patience in obeying Allah and following His Messenger Musa.' The Scripture which they inherited, the Tawrah, was
هُدًى وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(A guide and a reminder for men of understanding.) i.e. those of a sound and upright nature.
فَاصْبِرْ
(So be patient) means, `O Muhammad,'
إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
(Verily, the promise of Allah is true,) means, `We have promised that your word will prevail and that the ultimate victory will be for you and those who follow you, and Allah does not break His promises. What We have told you is true and there is no doubt in it whatsoever.'
وَاسْتَغْفِـرْ لِذَنبِكَ
(and ask forgiveness for your fault,) This encourages the Ummah to seek forgiveness.
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ
(and glorify the praises of your Lord in the `Ashi) meaning, at the end of the day and the beginning of the night,
وَالابْكَارِ
(and in the Ibkar.) meaning, at the beginning of the day and the end of the night.
إِنَّ الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Verily, those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority having come to them,) means, they try to refute the truth with falsehood, and to refute sound evidence with dubious arguments, having no proof or evidence from Allah.
إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّـا هُم بِبَـلِغِيهِ
(there is nothing else in their breasts except pride. They will never have it.) means, they are too proud to follow the truth and submit to the one who has brought it. But their attempts to suppress the truth and elevate falsehood will fail; the truth will prevail and their words and aspirations will be defeated.
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(So seek refuge in Allah. ) means, from being like these people,
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ
(Verily, it is He Who is the All-Hearer, the All-Seer.) or seek refuge with Him from being like these people who dispute about the Ayat of Allah without any authority having come to them.
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔ چناچہ حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا ؟ حضرت عیسیٰ کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کردیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول ﷺ آئے یا ایمان دار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بےحرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء اور مومنین یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔ اشرف الانبیاء حبیب اللہ ﷺ کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بےنتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ کے کلمے کو بلند وبالا کیا آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سرداران مشرک یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کردیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول ﷺ سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی ﷺ کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بےادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کردیا گیا۔ بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول ﷺ میں آگیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوگئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا ﷺ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے نیک نہاد صحابہ کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لئے کھڑے ہوگئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کردیا۔ دین محمد نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کو نا اپنے قبضے میں کرلیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین ! الحمد للہ کا اور اس کے رسول کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہوگی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔ گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں یوم بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہوگا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہوگا۔ ان کی عاقبت خراب ہوگی، حضرت موسیٰ کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہوگا انجام کے لحاظ سے آپ والے ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلاشک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہ کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہوگا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہوجائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پر ہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
52
View Single
يَوۡمَ لَا يَنفَعُ ٱلظَّـٰلِمِينَ مَعۡذِرَتُهُمۡۖ وَلَهُمُ ٱللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوٓءُ ٱلدَّارِ
The day on which the unjust will not gain any benefit from their excuses, and for them is the curse, and for them is the wretched home.
جس دن ظالموں کو اُن کی معذرت فائدہ نہیں دے گی اور اُن کے لئے پھٹکار ہوگی اور اُن کے لئے (جہنّم کا) بُرا گھر ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
The Victory of the Messengers and the Believers
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life). As-Suddi, "Allah never sends a Messenger to a people and they kill him or some of the believers who call them to the truth, then that generation passes away, but He then sends them someone who will support their call and will seek vengeance for their blood from those who did that to them in this world. So the Prophets and believers may be killed in this world, but their call will prevail in this world." Allah granted victory to His Prophet Muhammad ﷺ and his Companions over those who had opposed him, disbelieved in him and shown hostility towards him. He caused His Word and His religion to prevail over all other religions, commanded him to emigrate from his people to Al-Madinah, where He gave him supporters and helpers. Then He caused him to prevail over the idolators on the day of Badr, when He granted him victory over them and he humiliated them, killing their leaders and taking their elite prisoner, driving them before him in chains. Then he did them the favor of accepting ransom from them. Shortly after that, Allah enabled him to conquer Makkah, and he rejoiced in his return to his homeland, the sacred and holy land of Al-Haram. Through him, Allah saved it from its disbelief and Shirk. Then Allah enabled him to conquer the Yemen, and the entire Arabian Peninsula submitted to him, and the people entered the religion of Allah in crowds. Then Allah took him (in death), because of his high status and honor, and He established his Companions as his Khalifahs. They conveyed the religion of Allah from him, called mankind to Allah, they conquered many regions, countries and cities, and opened people's hearts, until the call of Muhammad ﷺ spread throughout the world, east and west. This religion will continue to prevail until the Hour begins. Allah says:
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth) meaning, on the Day of Resurrection the victory will be greater and more complete. Mujahid said, "The witnesses are the angels."
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers.) is referring to the same as;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(...the Day when the witnesses will stand forth.) Others read it with that meaning;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُيَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ
(And the Day the witnesses will stand forth, is a Day when there will be no profit to wrongdoers.) and the wrongdoers are the idolators.
مَعْذِرَتُهُمْ
(their excuses) means, no excuse or ransom will be accepted from them.
وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ
(Theirs will be the curse,) means, they will be cast out far away from the mercy of Allah.
وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(and theirs will be the evil abode.) means, the Hell-fire, as As-Suddi said, a terrible abode and dwellingplace.
Indication that the Messenger and the Believers will prevail just as Musa and the Children of Israel prevailed
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى
(And, indeed We gave Musa the guidance.) means, the guidance and light with which Allah sent him.
وَأَوْرَثْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ
(and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture.) means, `We caused them to prevail in the end and they inherited the land and accumulated wealth of Fir`awn, because of their patience in obeying Allah and following His Messenger Musa.' The Scripture which they inherited, the Tawrah, was
هُدًى وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(A guide and a reminder for men of understanding.) i.e. those of a sound and upright nature.
فَاصْبِرْ
(So be patient) means, `O Muhammad,'
إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
(Verily, the promise of Allah is true,) means, `We have promised that your word will prevail and that the ultimate victory will be for you and those who follow you, and Allah does not break His promises. What We have told you is true and there is no doubt in it whatsoever.'
وَاسْتَغْفِـرْ لِذَنبِكَ
(and ask forgiveness for your fault,) This encourages the Ummah to seek forgiveness.
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ
(and glorify the praises of your Lord in the `Ashi) meaning, at the end of the day and the beginning of the night,
وَالابْكَارِ
(and in the Ibkar.) meaning, at the beginning of the day and the end of the night.
إِنَّ الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Verily, those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority having come to them,) means, they try to refute the truth with falsehood, and to refute sound evidence with dubious arguments, having no proof or evidence from Allah.
إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّـا هُم بِبَـلِغِيهِ
(there is nothing else in their breasts except pride. They will never have it.) means, they are too proud to follow the truth and submit to the one who has brought it. But their attempts to suppress the truth and elevate falsehood will fail; the truth will prevail and their words and aspirations will be defeated.
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(So seek refuge in Allah. ) means, from being like these people,
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ
(Verily, it is He Who is the All-Hearer, the All-Seer.) or seek refuge with Him from being like these people who dispute about the Ayat of Allah without any authority having come to them.
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔ چناچہ حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا ؟ حضرت عیسیٰ کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کردیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول ﷺ آئے یا ایمان دار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بےحرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء اور مومنین یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔ اشرف الانبیاء حبیب اللہ ﷺ کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بےنتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ کے کلمے کو بلند وبالا کیا آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سرداران مشرک یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کردیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول ﷺ سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی ﷺ کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بےادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کردیا گیا۔ بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول ﷺ میں آگیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوگئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا ﷺ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے نیک نہاد صحابہ کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لئے کھڑے ہوگئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کردیا۔ دین محمد نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کو نا اپنے قبضے میں کرلیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین ! الحمد للہ کا اور اس کے رسول کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہوگی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔ گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں یوم بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہوگا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہوگا۔ ان کی عاقبت خراب ہوگی، حضرت موسیٰ کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہوگا انجام کے لحاظ سے آپ والے ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلاشک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہ کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہوگا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہوجائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پر ہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
53
View Single
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡهُدَىٰ وَأَوۡرَثۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱلۡكِتَٰبَ
And indeed We gave Moosa the guidance, and bequeathed the Book to the Descendants of Israel.
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (کتاب) ہدایت عطا کی اور ہم نے (اُن کے بعد) بنی اسرائیل کو (اُس) کتاب کا وارث بنایا
Tafsir Ibn Kathir
The Victory of the Messengers and the Believers
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life). As-Suddi, "Allah never sends a Messenger to a people and they kill him or some of the believers who call them to the truth, then that generation passes away, but He then sends them someone who will support their call and will seek vengeance for their blood from those who did that to them in this world. So the Prophets and believers may be killed in this world, but their call will prevail in this world." Allah granted victory to His Prophet Muhammad ﷺ and his Companions over those who had opposed him, disbelieved in him and shown hostility towards him. He caused His Word and His religion to prevail over all other religions, commanded him to emigrate from his people to Al-Madinah, where He gave him supporters and helpers. Then He caused him to prevail over the idolators on the day of Badr, when He granted him victory over them and he humiliated them, killing their leaders and taking their elite prisoner, driving them before him in chains. Then he did them the favor of accepting ransom from them. Shortly after that, Allah enabled him to conquer Makkah, and he rejoiced in his return to his homeland, the sacred and holy land of Al-Haram. Through him, Allah saved it from its disbelief and Shirk. Then Allah enabled him to conquer the Yemen, and the entire Arabian Peninsula submitted to him, and the people entered the religion of Allah in crowds. Then Allah took him (in death), because of his high status and honor, and He established his Companions as his Khalifahs. They conveyed the religion of Allah from him, called mankind to Allah, they conquered many regions, countries and cities, and opened people's hearts, until the call of Muhammad ﷺ spread throughout the world, east and west. This religion will continue to prevail until the Hour begins. Allah says:
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth) meaning, on the Day of Resurrection the victory will be greater and more complete. Mujahid said, "The witnesses are the angels."
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers.) is referring to the same as;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(...the Day when the witnesses will stand forth.) Others read it with that meaning;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُيَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ
(And the Day the witnesses will stand forth, is a Day when there will be no profit to wrongdoers.) and the wrongdoers are the idolators.
مَعْذِرَتُهُمْ
(their excuses) means, no excuse or ransom will be accepted from them.
وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ
(Theirs will be the curse,) means, they will be cast out far away from the mercy of Allah.
وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(and theirs will be the evil abode.) means, the Hell-fire, as As-Suddi said, a terrible abode and dwellingplace.
Indication that the Messenger and the Believers will prevail just as Musa and the Children of Israel prevailed
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى
(And, indeed We gave Musa the guidance.) means, the guidance and light with which Allah sent him.
وَأَوْرَثْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ
(and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture.) means, `We caused them to prevail in the end and they inherited the land and accumulated wealth of Fir`awn, because of their patience in obeying Allah and following His Messenger Musa.' The Scripture which they inherited, the Tawrah, was
هُدًى وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(A guide and a reminder for men of understanding.) i.e. those of a sound and upright nature.
فَاصْبِرْ
(So be patient) means, `O Muhammad,'
إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
(Verily, the promise of Allah is true,) means, `We have promised that your word will prevail and that the ultimate victory will be for you and those who follow you, and Allah does not break His promises. What We have told you is true and there is no doubt in it whatsoever.'
وَاسْتَغْفِـرْ لِذَنبِكَ
(and ask forgiveness for your fault,) This encourages the Ummah to seek forgiveness.
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ
(and glorify the praises of your Lord in the `Ashi) meaning, at the end of the day and the beginning of the night,
وَالابْكَارِ
(and in the Ibkar.) meaning, at the beginning of the day and the end of the night.
إِنَّ الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Verily, those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority having come to them,) means, they try to refute the truth with falsehood, and to refute sound evidence with dubious arguments, having no proof or evidence from Allah.
إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّـا هُم بِبَـلِغِيهِ
(there is nothing else in their breasts except pride. They will never have it.) means, they are too proud to follow the truth and submit to the one who has brought it. But their attempts to suppress the truth and elevate falsehood will fail; the truth will prevail and their words and aspirations will be defeated.
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(So seek refuge in Allah. ) means, from being like these people,
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ
(Verily, it is He Who is the All-Hearer, the All-Seer.) or seek refuge with Him from being like these people who dispute about the Ayat of Allah without any authority having come to them.
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔ چناچہ حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا ؟ حضرت عیسیٰ کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کردیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول ﷺ آئے یا ایمان دار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بےحرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء اور مومنین یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔ اشرف الانبیاء حبیب اللہ ﷺ کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بےنتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ کے کلمے کو بلند وبالا کیا آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سرداران مشرک یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کردیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول ﷺ سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی ﷺ کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بےادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کردیا گیا۔ بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول ﷺ میں آگیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوگئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا ﷺ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے نیک نہاد صحابہ کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لئے کھڑے ہوگئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کردیا۔ دین محمد نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کو نا اپنے قبضے میں کرلیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین ! الحمد للہ کا اور اس کے رسول کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہوگی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔ گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں یوم بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہوگا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہوگا۔ ان کی عاقبت خراب ہوگی، حضرت موسیٰ کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہوگا انجام کے لحاظ سے آپ والے ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلاشک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہ کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہوگا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہوجائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پر ہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
54
View Single
هُدٗى وَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
A guidance and an advice for the people of intellect.
جو ہدایت ہے اور عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Victory of the Messengers and the Believers
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life). As-Suddi, "Allah never sends a Messenger to a people and they kill him or some of the believers who call them to the truth, then that generation passes away, but He then sends them someone who will support their call and will seek vengeance for their blood from those who did that to them in this world. So the Prophets and believers may be killed in this world, but their call will prevail in this world." Allah granted victory to His Prophet Muhammad ﷺ and his Companions over those who had opposed him, disbelieved in him and shown hostility towards him. He caused His Word and His religion to prevail over all other religions, commanded him to emigrate from his people to Al-Madinah, where He gave him supporters and helpers. Then He caused him to prevail over the idolators on the day of Badr, when He granted him victory over them and he humiliated them, killing their leaders and taking their elite prisoner, driving them before him in chains. Then he did them the favor of accepting ransom from them. Shortly after that, Allah enabled him to conquer Makkah, and he rejoiced in his return to his homeland, the sacred and holy land of Al-Haram. Through him, Allah saved it from its disbelief and Shirk. Then Allah enabled him to conquer the Yemen, and the entire Arabian Peninsula submitted to him, and the people entered the religion of Allah in crowds. Then Allah took him (in death), because of his high status and honor, and He established his Companions as his Khalifahs. They conveyed the religion of Allah from him, called mankind to Allah, they conquered many regions, countries and cities, and opened people's hearts, until the call of Muhammad ﷺ spread throughout the world, east and west. This religion will continue to prevail until the Hour begins. Allah says:
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth) meaning, on the Day of Resurrection the victory will be greater and more complete. Mujahid said, "The witnesses are the angels."
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers.) is referring to the same as;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(...the Day when the witnesses will stand forth.) Others read it with that meaning;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُيَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ
(And the Day the witnesses will stand forth, is a Day when there will be no profit to wrongdoers.) and the wrongdoers are the idolators.
مَعْذِرَتُهُمْ
(their excuses) means, no excuse or ransom will be accepted from them.
وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ
(Theirs will be the curse,) means, they will be cast out far away from the mercy of Allah.
وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(and theirs will be the evil abode.) means, the Hell-fire, as As-Suddi said, a terrible abode and dwellingplace.
Indication that the Messenger and the Believers will prevail just as Musa and the Children of Israel prevailed
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى
(And, indeed We gave Musa the guidance.) means, the guidance and light with which Allah sent him.
وَأَوْرَثْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ
(and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture.) means, `We caused them to prevail in the end and they inherited the land and accumulated wealth of Fir`awn, because of their patience in obeying Allah and following His Messenger Musa.' The Scripture which they inherited, the Tawrah, was
هُدًى وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(A guide and a reminder for men of understanding.) i.e. those of a sound and upright nature.
فَاصْبِرْ
(So be patient) means, `O Muhammad,'
إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
(Verily, the promise of Allah is true,) means, `We have promised that your word will prevail and that the ultimate victory will be for you and those who follow you, and Allah does not break His promises. What We have told you is true and there is no doubt in it whatsoever.'
وَاسْتَغْفِـرْ لِذَنبِكَ
(and ask forgiveness for your fault,) This encourages the Ummah to seek forgiveness.
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ
(and glorify the praises of your Lord in the `Ashi) meaning, at the end of the day and the beginning of the night,
وَالابْكَارِ
(and in the Ibkar.) meaning, at the beginning of the day and the end of the night.
إِنَّ الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Verily, those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority having come to them,) means, they try to refute the truth with falsehood, and to refute sound evidence with dubious arguments, having no proof or evidence from Allah.
إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّـا هُم بِبَـلِغِيهِ
(there is nothing else in their breasts except pride. They will never have it.) means, they are too proud to follow the truth and submit to the one who has brought it. But their attempts to suppress the truth and elevate falsehood will fail; the truth will prevail and their words and aspirations will be defeated.
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(So seek refuge in Allah. ) means, from being like these people,
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ
(Verily, it is He Who is the All-Hearer, the All-Seer.) or seek refuge with Him from being like these people who dispute about the Ayat of Allah without any authority having come to them.
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔ چناچہ حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا ؟ حضرت عیسیٰ کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کردیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول ﷺ آئے یا ایمان دار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بےحرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء اور مومنین یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔ اشرف الانبیاء حبیب اللہ ﷺ کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بےنتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ کے کلمے کو بلند وبالا کیا آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سرداران مشرک یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کردیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول ﷺ سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی ﷺ کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بےادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کردیا گیا۔ بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول ﷺ میں آگیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوگئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا ﷺ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے نیک نہاد صحابہ کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لئے کھڑے ہوگئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کردیا۔ دین محمد نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کو نا اپنے قبضے میں کرلیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین ! الحمد للہ کا اور اس کے رسول کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہوگی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔ گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں یوم بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہوگا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہوگا۔ ان کی عاقبت خراب ہوگی، حضرت موسیٰ کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہوگا انجام کے لحاظ سے آپ والے ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلاشک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہ کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہوگا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہوجائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پر ہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
55
View Single
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ
Therefore be patient (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), undoubtedly Allah’s promise is true, and seek forgiveness for the sins of your own people, and praising your Lord, proclaim His Purity morning and evening.
پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنی اُمت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے٭ اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کیجئےo٭ لِذَنبِكَ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے، لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں: 1۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) أی لِذَنبِ أُمتِکَ یعنی اپنی امت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، 4: 359)۔ 2۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: لِذَنبِ أُمتِکَ حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 15: 324)۔ 3۔ وَ قیل: لِذَنبِکَ لِذَنبِ أُمتِکَ فِی حَقِّکَ ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لِذَنبِکَ یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزَد ہونے والی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، 7: 471)۔ 4۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ” کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ ( علامہ شوکانی، فتح القدیر،)
Tafsir Ibn Kathir
The Victory of the Messengers and the Believers
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life). As-Suddi, "Allah never sends a Messenger to a people and they kill him or some of the believers who call them to the truth, then that generation passes away, but He then sends them someone who will support their call and will seek vengeance for their blood from those who did that to them in this world. So the Prophets and believers may be killed in this world, but their call will prevail in this world." Allah granted victory to His Prophet Muhammad ﷺ and his Companions over those who had opposed him, disbelieved in him and shown hostility towards him. He caused His Word and His religion to prevail over all other religions, commanded him to emigrate from his people to Al-Madinah, where He gave him supporters and helpers. Then He caused him to prevail over the idolators on the day of Badr, when He granted him victory over them and he humiliated them, killing their leaders and taking their elite prisoner, driving them before him in chains. Then he did them the favor of accepting ransom from them. Shortly after that, Allah enabled him to conquer Makkah, and he rejoiced in his return to his homeland, the sacred and holy land of Al-Haram. Through him, Allah saved it from its disbelief and Shirk. Then Allah enabled him to conquer the Yemen, and the entire Arabian Peninsula submitted to him, and the people entered the religion of Allah in crowds. Then Allah took him (in death), because of his high status and honor, and He established his Companions as his Khalifahs. They conveyed the religion of Allah from him, called mankind to Allah, they conquered many regions, countries and cities, and opened people's hearts, until the call of Muhammad ﷺ spread throughout the world, east and west. This religion will continue to prevail until the Hour begins. Allah says:
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth) meaning, on the Day of Resurrection the victory will be greater and more complete. Mujahid said, "The witnesses are the angels."
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers.) is referring to the same as;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(...the Day when the witnesses will stand forth.) Others read it with that meaning;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُيَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ
(And the Day the witnesses will stand forth, is a Day when there will be no profit to wrongdoers.) and the wrongdoers are the idolators.
مَعْذِرَتُهُمْ
(their excuses) means, no excuse or ransom will be accepted from them.
وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ
(Theirs will be the curse,) means, they will be cast out far away from the mercy of Allah.
وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(and theirs will be the evil abode.) means, the Hell-fire, as As-Suddi said, a terrible abode and dwellingplace.
Indication that the Messenger and the Believers will prevail just as Musa and the Children of Israel prevailed
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى
(And, indeed We gave Musa the guidance.) means, the guidance and light with which Allah sent him.
وَأَوْرَثْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ
(and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture.) means, `We caused them to prevail in the end and they inherited the land and accumulated wealth of Fir`awn, because of their patience in obeying Allah and following His Messenger Musa.' The Scripture which they inherited, the Tawrah, was
هُدًى وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(A guide and a reminder for men of understanding.) i.e. those of a sound and upright nature.
فَاصْبِرْ
(So be patient) means, `O Muhammad,'
إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
(Verily, the promise of Allah is true,) means, `We have promised that your word will prevail and that the ultimate victory will be for you and those who follow you, and Allah does not break His promises. What We have told you is true and there is no doubt in it whatsoever.'
وَاسْتَغْفِـرْ لِذَنبِكَ
(and ask forgiveness for your fault,) This encourages the Ummah to seek forgiveness.
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ
(and glorify the praises of your Lord in the `Ashi) meaning, at the end of the day and the beginning of the night,
وَالابْكَارِ
(and in the Ibkar.) meaning, at the beginning of the day and the end of the night.
إِنَّ الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Verily, those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority having come to them,) means, they try to refute the truth with falsehood, and to refute sound evidence with dubious arguments, having no proof or evidence from Allah.
إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّـا هُم بِبَـلِغِيهِ
(there is nothing else in their breasts except pride. They will never have it.) means, they are too proud to follow the truth and submit to the one who has brought it. But their attempts to suppress the truth and elevate falsehood will fail; the truth will prevail and their words and aspirations will be defeated.
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(So seek refuge in Allah. ) means, from being like these people,
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ
(Verily, it is He Who is the All-Hearer, the All-Seer.) or seek refuge with Him from being like these people who dispute about the Ayat of Allah without any authority having come to them.
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔ چناچہ حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا ؟ حضرت عیسیٰ کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کردیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول ﷺ آئے یا ایمان دار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بےحرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء اور مومنین یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔ اشرف الانبیاء حبیب اللہ ﷺ کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بےنتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ کے کلمے کو بلند وبالا کیا آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سرداران مشرک یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کردیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول ﷺ سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی ﷺ کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بےادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کردیا گیا۔ بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول ﷺ میں آگیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوگئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا ﷺ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے نیک نہاد صحابہ کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لئے کھڑے ہوگئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کردیا۔ دین محمد نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کو نا اپنے قبضے میں کرلیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین ! الحمد للہ کا اور اس کے رسول کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہوگی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔ گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں یوم بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہوگا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہوگا۔ ان کی عاقبت خراب ہوگی، حضرت موسیٰ کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہوگا انجام کے لحاظ سے آپ والے ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلاشک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہ کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہوگا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہوجائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پر ہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
56
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ سُلۡطَٰنٍ أَتَىٰهُمۡ إِن فِي صُدُورِهِمۡ إِلَّا كِبۡرٞ مَّا هُم بِبَٰلِغِيهِۚ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ
Those who dispute concerning the signs of Allah without any proof having come to them – in their hearts is nothing but a craving for greatness which they shall never achieve; therefore seek the refuge of Allah; indeed He only is the All Hearing, the All Seeing.
بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو اُن کے پاس آئی ہو، ان کے سینوں میں سوائے غرور کے اور کچھ نہیں ہے وہ اُس (حقیقی برتری) تک پہنچنے والے ہی نہیں۔ پس آپ (ان کے شر سے) اللہ کی پناہ مانگتے رہئے، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Victory of the Messengers and the Believers
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life). As-Suddi, "Allah never sends a Messenger to a people and they kill him or some of the believers who call them to the truth, then that generation passes away, but He then sends them someone who will support their call and will seek vengeance for their blood from those who did that to them in this world. So the Prophets and believers may be killed in this world, but their call will prevail in this world." Allah granted victory to His Prophet Muhammad ﷺ and his Companions over those who had opposed him, disbelieved in him and shown hostility towards him. He caused His Word and His religion to prevail over all other religions, commanded him to emigrate from his people to Al-Madinah, where He gave him supporters and helpers. Then He caused him to prevail over the idolators on the day of Badr, when He granted him victory over them and he humiliated them, killing their leaders and taking their elite prisoner, driving them before him in chains. Then he did them the favor of accepting ransom from them. Shortly after that, Allah enabled him to conquer Makkah, and he rejoiced in his return to his homeland, the sacred and holy land of Al-Haram. Through him, Allah saved it from its disbelief and Shirk. Then Allah enabled him to conquer the Yemen, and the entire Arabian Peninsula submitted to him, and the people entered the religion of Allah in crowds. Then Allah took him (in death), because of his high status and honor, and He established his Companions as his Khalifahs. They conveyed the religion of Allah from him, called mankind to Allah, they conquered many regions, countries and cities, and opened people's hearts, until the call of Muhammad ﷺ spread throughout the world, east and west. This religion will continue to prevail until the Hour begins. Allah says:
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth) meaning, on the Day of Resurrection the victory will be greater and more complete. Mujahid said, "The witnesses are the angels."
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers.) is referring to the same as;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ
(...the Day when the witnesses will stand forth.) Others read it with that meaning;
وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُيَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ
(And the Day the witnesses will stand forth, is a Day when there will be no profit to wrongdoers.) and the wrongdoers are the idolators.
مَعْذِرَتُهُمْ
(their excuses) means, no excuse or ransom will be accepted from them.
وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ
(Theirs will be the curse,) means, they will be cast out far away from the mercy of Allah.
وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(and theirs will be the evil abode.) means, the Hell-fire, as As-Suddi said, a terrible abode and dwellingplace.
Indication that the Messenger and the Believers will prevail just as Musa and the Children of Israel prevailed
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى
(And, indeed We gave Musa the guidance.) means, the guidance and light with which Allah sent him.
وَأَوْرَثْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ
(and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture.) means, `We caused them to prevail in the end and they inherited the land and accumulated wealth of Fir`awn, because of their patience in obeying Allah and following His Messenger Musa.' The Scripture which they inherited, the Tawrah, was
هُدًى وَذِكْرَى لاٌّوْلِى الاٌّلْبَـبِ
(A guide and a reminder for men of understanding.) i.e. those of a sound and upright nature.
فَاصْبِرْ
(So be patient) means, `O Muhammad,'
إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
(Verily, the promise of Allah is true,) means, `We have promised that your word will prevail and that the ultimate victory will be for you and those who follow you, and Allah does not break His promises. What We have told you is true and there is no doubt in it whatsoever.'
وَاسْتَغْفِـرْ لِذَنبِكَ
(and ask forgiveness for your fault,) This encourages the Ummah to seek forgiveness.
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ
(and glorify the praises of your Lord in the `Ashi) meaning, at the end of the day and the beginning of the night,
وَالابْكَارِ
(and in the Ibkar.) meaning, at the beginning of the day and the end of the night.
إِنَّ الَّذِينَ يُجَـدِلُونَ فِى ءَايَـتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَـنٍ أَتَـهُمْ
(Verily, those who dispute about the Ayat of Allah, without any authority having come to them,) means, they try to refute the truth with falsehood, and to refute sound evidence with dubious arguments, having no proof or evidence from Allah.
إِن فِى صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّـا هُم بِبَـلِغِيهِ
(there is nothing else in their breasts except pride. They will never have it.) means, they are too proud to follow the truth and submit to the one who has brought it. But their attempts to suppress the truth and elevate falsehood will fail; the truth will prevail and their words and aspirations will be defeated.
فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
(So seek refuge in Allah. ) means, from being like these people,
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ
(Verily, it is He Who is the All-Hearer, the All-Seer.) or seek refuge with Him from being like these people who dispute about the Ayat of Allah without any authority having come to them.
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔ چناچہ حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا ؟ حضرت عیسیٰ کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کردیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول ﷺ آئے یا ایمان دار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بےحرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء اور مومنین یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔ اشرف الانبیاء حبیب اللہ ﷺ کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بےنتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ کے کلمے کو بلند وبالا کیا آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سرداران مشرک یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کردیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول ﷺ سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی ﷺ کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بےادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کردیا گیا۔ بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول ﷺ میں آگیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوگئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا ﷺ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے نیک نہاد صحابہ کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لئے کھڑے ہوگئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کردیا۔ دین محمد نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کو نا اپنے قبضے میں کرلیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین ! الحمد للہ کا اور اس کے رسول کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہوگی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔ گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں یوم بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہوگا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہوگا۔ ان کی عاقبت خراب ہوگی، حضرت موسیٰ کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہوگا انجام کے لحاظ سے آپ والے ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلاشک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہ کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہوگا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہوجائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پر ہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
57
View Single
لَخَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
Certainly the creation of the heavens and the earth is far greater than the creation of men, but most people do not know.
یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے کہیں بڑھ کر ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
Life after Death
Allah tells us that He will bring back His creation on the Day of Resurrection. That is very easy for Him, because He created the heavens and the earth, and creating them is greater than creating mankind, the first time and when He creates them again. The One Who is able to do that is able to do anything that is less than that. As Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْىِ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Do they not see that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation, is able to give life to the dead Yes, He surely is able to do all things.) (46:33) And Allah says here:
لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْـثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind; yet, most of mankind know not.) hence they do not think about or ponder this proof. Similarly, many of the Arabs recognized that Allah had created the heavens and the earth, but they denied and rejected the idea of the resurrection; they acknowledged something which was greater than that which they denied. Then Allah says:
وَمَا يَسْتَوِى الاٌّعْـمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ وَلاَ الْمُسِىءُ قَلِيـلاً مَّا تَتَذَكَّرُونَ
(And not equal are the blind and those who see; nor are those who believe, and do righteous good deeds, and those who do evil. Little do you remember!) The blind man who cannot see anything is not the same as the sighted man who can see everything as far as his eyesight reaches -- there is a huge difference between them. By the same token, the righteous believers and the immoral disbelievers are not equal.
قَلِيـلاً مَّا تَتَذَكَّرُونَ
(Little do you remember!) means, most of the people remember little.
وَإِنَّ السَّاعَةَ لآتِيَةٌ
(Verily, the Hour (Day of Judgement) is surely coming,) means, it will indeed come to pass.
لاَّ رَيْبَ فِيهَا وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَ
(there is no doubt about it, yet most men believe not.) means, they do not believe in it, and in fact they doubt its existence altogether.
انسان کی دوبارہ پیدائش کے دلائل۔اللہ تعالیٰ قادر مطلق فرماتا ہے کہ مخلوق کو وہ قیامت کے دن نئے سرے سے ضرور زندہ کرے گا جبکہ اس نے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کرنا یا اسے بگاڑ کر بنانا اس پر کیا مشکل ہے ؟ اور آیت میں ارشاد ہے کہ کیا ایسی بات اور اتنی واضح حقیقت بھی جھٹلائے جانے کے قابل ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کردیا اور اس اتنی بڑی چیز کی پیدائش سے نہ وہ تھکا نہ عاجز ہوا اس پر مردوں کا جلانا کیا مشکل ہے ؟ ایسی صاف دلیل بھی جس کے سامنے جھٹلانے کی چیز ہو اس کی معلومات یقینا نوحہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی جہالت میں کیا شک ہے ؟ جو ایسی موٹی بات بھی نہ سمجھ سکے ؟ تعجب ہے کہ بڑی بڑی چیز تو تسلیم کی جائے اور اس سے بہت چھوٹی چیز کو محال محض مانا جائے، اندھے اور دیکھنے والے کا فرق ظاہر ہے ٹھیک اسی طرح مسلم و مجرم کا فرق ہے۔ اکثر لوگ کس قدر کم نصیحت قبول کرتے ہیں، یقین مانو کہ قیامت کا آنا حتمی ہے پھر بھی اس کی تکذیب کرنے اور اسے باور نہ کرنے سے بیشتر لوگ باز نہیں آتے۔ ایک یمنی شیخ اپنی سنی ہوئی روایت بیان کرتے ہیں قریب قیامت کے وقت لوگوں پر بلائیں برس پڑیں گی اور سورج کی حرارت سخت تیز ہوجائے گی۔ واللہ اعلم
58
View Single
وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَلَا ٱلۡمُسِيٓءُۚ قَلِيلٗا مَّا تَتَذَكَّرُونَ
And the blind and the sighted are not equal – and neither are the believers who perform good deeds and the wicked equal; how very little do you ponder!
اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے سو (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے (وہ) اور بدکار بھی (برابر) نہیں ہیں۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Life after Death
Allah tells us that He will bring back His creation on the Day of Resurrection. That is very easy for Him, because He created the heavens and the earth, and creating them is greater than creating mankind, the first time and when He creates them again. The One Who is able to do that is able to do anything that is less than that. As Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْىِ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Do they not see that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation, is able to give life to the dead Yes, He surely is able to do all things.) (46:33) And Allah says here:
لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْـثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind; yet, most of mankind know not.) hence they do not think about or ponder this proof. Similarly, many of the Arabs recognized that Allah had created the heavens and the earth, but they denied and rejected the idea of the resurrection; they acknowledged something which was greater than that which they denied. Then Allah says:
وَمَا يَسْتَوِى الاٌّعْـمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ وَلاَ الْمُسِىءُ قَلِيـلاً مَّا تَتَذَكَّرُونَ
(And not equal are the blind and those who see; nor are those who believe, and do righteous good deeds, and those who do evil. Little do you remember!) The blind man who cannot see anything is not the same as the sighted man who can see everything as far as his eyesight reaches -- there is a huge difference between them. By the same token, the righteous believers and the immoral disbelievers are not equal.
قَلِيـلاً مَّا تَتَذَكَّرُونَ
(Little do you remember!) means, most of the people remember little.
وَإِنَّ السَّاعَةَ لآتِيَةٌ
(Verily, the Hour (Day of Judgement) is surely coming,) means, it will indeed come to pass.
لاَّ رَيْبَ فِيهَا وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَ
(there is no doubt about it, yet most men believe not.) means, they do not believe in it, and in fact they doubt its existence altogether.
انسان کی دوبارہ پیدائش کے دلائل۔اللہ تعالیٰ قادر مطلق فرماتا ہے کہ مخلوق کو وہ قیامت کے دن نئے سرے سے ضرور زندہ کرے گا جبکہ اس نے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کرنا یا اسے بگاڑ کر بنانا اس پر کیا مشکل ہے ؟ اور آیت میں ارشاد ہے کہ کیا ایسی بات اور اتنی واضح حقیقت بھی جھٹلائے جانے کے قابل ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کردیا اور اس اتنی بڑی چیز کی پیدائش سے نہ وہ تھکا نہ عاجز ہوا اس پر مردوں کا جلانا کیا مشکل ہے ؟ ایسی صاف دلیل بھی جس کے سامنے جھٹلانے کی چیز ہو اس کی معلومات یقینا نوحہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی جہالت میں کیا شک ہے ؟ جو ایسی موٹی بات بھی نہ سمجھ سکے ؟ تعجب ہے کہ بڑی بڑی چیز تو تسلیم کی جائے اور اس سے بہت چھوٹی چیز کو محال محض مانا جائے، اندھے اور دیکھنے والے کا فرق ظاہر ہے ٹھیک اسی طرح مسلم و مجرم کا فرق ہے۔ اکثر لوگ کس قدر کم نصیحت قبول کرتے ہیں، یقین مانو کہ قیامت کا آنا حتمی ہے پھر بھی اس کی تکذیب کرنے اور اسے باور نہ کرنے سے بیشتر لوگ باز نہیں آتے۔ ایک یمنی شیخ اپنی سنی ہوئی روایت بیان کرتے ہیں قریب قیامت کے وقت لوگوں پر بلائیں برس پڑیں گی اور سورج کی حرارت سخت تیز ہوجائے گی۔ واللہ اعلم
59
View Single
إِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَأٓتِيَةٞ لَّا رَيۡبَ فِيهَا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ
Indeed the Last Day will surely come, there is no doubt in it – but most people do not accept faith.
بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
Life after Death
Allah tells us that He will bring back His creation on the Day of Resurrection. That is very easy for Him, because He created the heavens and the earth, and creating them is greater than creating mankind, the first time and when He creates them again. The One Who is able to do that is able to do anything that is less than that. As Allah says:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْىِ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(Do they not see that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation, is able to give life to the dead Yes, He surely is able to do all things.) (46:33) And Allah says here:
لَخَلْقُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ أَكْـبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْـثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(The creation of the heavens and the earth is indeed greater than the creation of mankind; yet, most of mankind know not.) hence they do not think about or ponder this proof. Similarly, many of the Arabs recognized that Allah had created the heavens and the earth, but they denied and rejected the idea of the resurrection; they acknowledged something which was greater than that which they denied. Then Allah says:
وَمَا يَسْتَوِى الاٌّعْـمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ وَلاَ الْمُسِىءُ قَلِيـلاً مَّا تَتَذَكَّرُونَ
(And not equal are the blind and those who see; nor are those who believe, and do righteous good deeds, and those who do evil. Little do you remember!) The blind man who cannot see anything is not the same as the sighted man who can see everything as far as his eyesight reaches -- there is a huge difference between them. By the same token, the righteous believers and the immoral disbelievers are not equal.
قَلِيـلاً مَّا تَتَذَكَّرُونَ
(Little do you remember!) means, most of the people remember little.
وَإِنَّ السَّاعَةَ لآتِيَةٌ
(Verily, the Hour (Day of Judgement) is surely coming,) means, it will indeed come to pass.
لاَّ رَيْبَ فِيهَا وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَ
(there is no doubt about it, yet most men believe not.) means, they do not believe in it, and in fact they doubt its existence altogether.
انسان کی دوبارہ پیدائش کے دلائل۔اللہ تعالیٰ قادر مطلق فرماتا ہے کہ مخلوق کو وہ قیامت کے دن نئے سرے سے ضرور زندہ کرے گا جبکہ اس نے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کرنا یا اسے بگاڑ کر بنانا اس پر کیا مشکل ہے ؟ اور آیت میں ارشاد ہے کہ کیا ایسی بات اور اتنی واضح حقیقت بھی جھٹلائے جانے کے قابل ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کردیا اور اس اتنی بڑی چیز کی پیدائش سے نہ وہ تھکا نہ عاجز ہوا اس پر مردوں کا جلانا کیا مشکل ہے ؟ ایسی صاف دلیل بھی جس کے سامنے جھٹلانے کی چیز ہو اس کی معلومات یقینا نوحہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی جہالت میں کیا شک ہے ؟ جو ایسی موٹی بات بھی نہ سمجھ سکے ؟ تعجب ہے کہ بڑی بڑی چیز تو تسلیم کی جائے اور اس سے بہت چھوٹی چیز کو محال محض مانا جائے، اندھے اور دیکھنے والے کا فرق ظاہر ہے ٹھیک اسی طرح مسلم و مجرم کا فرق ہے۔ اکثر لوگ کس قدر کم نصیحت قبول کرتے ہیں، یقین مانو کہ قیامت کا آنا حتمی ہے پھر بھی اس کی تکذیب کرنے اور اسے باور نہ کرنے سے بیشتر لوگ باز نہیں آتے۔ ایک یمنی شیخ اپنی سنی ہوئی روایت بیان کرتے ہیں قریب قیامت کے وقت لوگوں پر بلائیں برس پڑیں گی اور سورج کی حرارت سخت تیز ہوجائے گی۔ واللہ اعلم
60
View Single
وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
And your Lord proclaimed, “Pray to Me, I will accept; indeed those who stay conceited towards worshipping Me, will enter hell in disgrace."
اور تمہارے رب نے فرمایا ہے: تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری بندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to call upon Allah By His grace and kindness,
Allah encourages His servants to call upon Him, and He guarantees to respond. Sufyan Ath-Thawri used to say: "O You Who love most those who ask of You, and O You Who hate most those who do not ask of You, and there is no one like that apart from You, O Lord." This was recorded by Ibn Abi Hatim. Similarly; the poet said: "Allah hates not to be asked, and the son of Adam hates to be asked." Qatadah said that Ka`b Al-Ahbar said, "This Ummah has been given three things which were not given to any nation before, only to Prophets. When Allah sent a Prophet, He said to him, `You are a witness over your nation.' But you have been made witnesses over mankind; it was said to the Prophets individually, `Allah has not laid upon you any hardship in religion,' but He said to this entire Ummah:
وَمَا جَعَلَ عَلَيْكمْ فِى الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ
(and Allah has not laid upon you in religion any hardship) (22:78) and it was said to the Prophets individually; `Call upon Me, I will answer you,' but it was said to this Ummah,
ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ
(Call upon Me, I will answer you)." This was recorded by Ibn Abi Hatim. Imam Ahmad recorded that Al-Nu`man bin Bashir, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَة»
l(Indeed the supplication is the worship. )" Then he recited,
ادْعُونِى أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(And your Lord said: "Call upon Me, I will answer you. Verily, those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!"). This was also recorded by the Sunan compilers; At-Tirmdhi, An-Nasa'i, Ibn Majah, and Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." It was also recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi, An-Nasa'i, and Ibn Jarir with a different chain of narration. Allah's saying:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى
(Verily, those who scorn My worship) means, `those who are too proud to call on Me and single Me out,'
سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(they will surely enter Hell in humiliation!) means, in disgrace and insignificance. Imam Ahmad recorded from `Amr bin Shu`ayb from his father, from his grandfather that the Prophet said:
«يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ النَّاسِ، يَعْلُوهُمْ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الصَّغَارِ، حَتْى يَدْخُلُوا سِجْنًا فِي جَهَنَّمَ يُقَالُ لَهُ: بُولَسُ، تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأنْيَارِ، يُسْقَوْنَ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ، عُصَارَةِ أَهْلِ النَّار»
(The proud will be gathered on the Day of Resurrection like ants in the image of people, and everything will be stepping on them, humiliating them, until they enter a prison in Hell called Bulas. They will be fed flames of fire, and given for drink a paste of insanity dripping from the people the Fire.)"
دعا کی ہدایت اور قبولیت کا وعدہ۔اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان پر قربان جائیں کہ وہ ہمیں دعا کی ہدایت کرتا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے۔ امام سفیان ثوری اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے اے وہ اللہ جسے وہ بندہ بہت ہی پیارا لگتا ہے جو بکثرت اس سے دعائیں کیا کرے۔ اور وہ بندہ اسے سخت برا معلوم ہوتا ہے جو اس سے دعا نہ کرے۔ اے میرے رب یہ صفت تو صرف تیری ہی ہے۔ شاعر کہتا ہے اللہ یغضب ان ترکت سوالہ وبنی ادم حین یسال یغضب یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جب تو اس سے نہ مانگے تو وہ ناخوش ہوتا ہے اور انسان کی یہ حالت ہے کہ اس سے مانگو تو وہ روٹھ جاتا ہے۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس امت کو تین چیزیں ایسی دی گئی ہیں کہ ان سے پہلے کی کسی امت کو نہیں دی گئیں بجز نبی کے۔ دیکھو ہر نبی کو اللہ کا فرمان یہ ہوا ہے کہ تو اپنی امت پر گواہ ہے۔ لیکن تمام لوگوں پر گواہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کیا ہے۔ اگلے نبیوں سے کہا جاتا تھا کہ تجھ پر دین میں حرج نہیں۔ لیکن اس امت سے فرمایا گیا کہ تمہارے دین میں تم پر کوئی حرج نہیں ہر نبی سے کہا جاتا تھا کہ مجھے پکار میں تیری پکار قبول کروں گا لیکن اس امت کو فرمایا گیا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار قبول فرماؤں گا۔ (ابن ابی حاتم) ابو یعلی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے فرمایا چار خصلتیں ہیں جن میں سے ایک میرے لئے ہے ایک تیرے لئے ایک تیرے اور میرے درمیان اور ایک تیرے درمیان اور میرے دوسرے بندوں کے درمیان۔ جو خاص میرے لئے ہے وہ تو یہ کہ صرف میری ہی عبادت کر اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر۔ اور جو تیرا حق مجھ پر ہے وہ یہ کہ تیرے ہر عمل خیر کا بھرپور بدلہ میں تجھے دوں گا۔ اور جو تیرے میرے درمیان ہے وہ یہ کہ تو دعا کر اور میں قبول کیا کروں۔ اور چوتھی خصلت جو تیرے اور میرے اور دوسرے بندوں کے درمیان ہے وہ یہ کہ تو ان کیلئے وہ چاہ جو اپنے لئے پسند رکھتا ہے۔ مسند احمد میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دعا عین عبادت ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی یہ حدیث سنن میں بھی ہے امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ ابن حبان اور حاکم بھی اسے اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ مسند میں ہے جو شخص اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کی موت کے بعد ان کی تلوار کے درمیان میں سے ایک پرچہ نکلا جس میں تحریر تھا کہ تم اپنے رب کی رحمتوں کے مواقع کو تلاش کرتے رہو بہت ممکن ہے کہ کسی ایسے وقت تم دعائے خیر کرو کہ اس وقت رب کی رحمت جوش میں ہو اور تمہیں وہ سعادت مل جائے جس کے بعد کبھی بھی حسرت و افسوس نہ کرنا پڑے۔ آیت میں عبادت سے مراد دعا اور توحید ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن متکبر لوگ چونٹیوں کی شکل میں جمع کئے جائیں گے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ان کی اوپر ہوگی انہیں بولس نامی جہنم کے جیل خانے میں ڈالا جائے گا اور بھڑکتی ہوئی سخت آگ ان کے سروں پر شعلے مارے گی۔ انہیں جہنمیوں کا لہو پیپ اور پاخانہ پیشاب پلایا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ایک بزرگ فرماتے ہیں میں ملک روم میں کافروں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوگیا تھا ایک دن میں نے سنا کہ ہاتف غیب ایک پہاڑ کی چوٹی سے بہ آواز بلند کہہ رہا ہے۔ اے اللہ ! اس پر تعجب ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے تیرے سوا دوسرے کی ذات سے امیدیں وابستہ رکھتا ہے۔ اے اللہ ! اس پر بھی تعجب ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے اپنی حاجتیں دوسروں کے پاس لے جاتا ہے۔ پھر ذرا ٹھہر کر ایک پر زور آواز اور لگائی اور کہا پورا تعجب اس شخص پر ہے جو تجھے پہچانتے ہوئے دوسرے کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے وہ کام کرتا ہے جن سے تو ناراض ہوجائے۔ یہ سن کر میں نے بلند آواز سے پوچھا کہ تو کوئی جن ہے یا انسان ؟ جواب آیا کہ انسان ہوں۔ تو ان کاموں سے اپنا دھیان ہٹا لے جو تجھے فائدہ نہ دیں۔ اور ان کاموں میں مشغول ہوجاؤ جو تیرے فائدے کے ہیں۔
61
View Single
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ
It is Allah Who created night for you so that you may gain rest in it, and the day giving sight; indeed Allah is Most Munificent towards mankind, but most people do not give thanks.
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور دن کو دیکھنے کے لئے روشن بنایا۔ بے شک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Signs of the Power and Oneness of Allah
Allah reminds us of His grace towards His creation in that He has given them the night in which they rest and relax from their activities so that they can go back to them for their livelihood during the day. He has given them the day with its light, so that they can undertake their journeys and engage in their business.
إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ
(Truly, Allah is full of bounty to mankind; yet, most of mankind give no thanks.) means, they do not express gratitude for the favors which Allah bestows upon them. Then Allah says:
ذَلِكُـمُ اللَّهُ رَبُّـكُمْ خَـلِقُ كُـلِّ شَىْءٍ لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(That is Allah, your Lord, the Creator of all things, La ilaha illa Huwa.) means, the One Who does all of these things is Allah, the One, the Unique, the Creator of all things, besides Whom there is no other god or lord.
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(How then are you turning away) means, `how can you worship idols which cannot create anything but are themselves hand-made and carved'
كَذَلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِينَ كَانُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(Thus were turned away those who used to deny the Ayat of Allah) means, just as these people Quraysh were led astray by their worship of gods other than Allah, those who came before them also disbelieved and worshipped others, with no proof or evidence, but on the basis of ignorance and desires. They denied the signs and proof of Allah.
اللَّهُ الَّذِى جَعَـلَ لَكُـمُ الاٌّرْضَ قَـرَاراً
(Allah, it is He Who has made for you the earth as a dwelling place) means, `He made it stable and spread it out for you, so that you might live on it and travel about in it; He strengthened it with the mountains so that it does not shake with you.'
وَالسَّمَآءَ بِنَآءً
(and the sky as a canopy,) means, `a roof covering and protecting the world.'
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ
(and has given you shape and made your shapes good) means, `He created you in the best and most perfect form.'
وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ
(and has provided you with good and pure things.) means, of food and drink in this world. Allah states that that He is the Creator of the dwelling place and of the inhabitants and of the provision; He is the Creator and Provider, as He says in Surat Al-Baqarah:
يَـأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَآءَ بِنَآءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَتِ رِزْقاً لَّكُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ للَّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may have Taqwa. Who has made the earth a resting place for you, and the sky as a canopy, and sent down water (rain) from the sky and brought forth therewith fruits as a provision for you. Then do not set up rivals unto Allah while you know.) (2:21-22) And here Allah says, after mentioning the creation of all these things:
ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُـمْ فَتَـبَـرَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(That is Allah, your Lord, so Blessed be Allah, the Lord of all that exists.) meaning, exalted and sanctified and glorified be Allah, the Lord of all the worlds. Then He says:
هُوَ الْحَىُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(He is the Ever Living, La ilaha illa Huwa;) means, He is the Ever Living, from eternity to eternity, Who was, is and shall be, the First and the Last, the Manifest, the Hidden.
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none comparable or equal to Him.
فَـادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(so invoke Him making the religion for Him Alone.) means, affirm His Oneness by testifying that there is no God but He. Praise be to Allah, the Lord of the worlds. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, to Him belongs the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belong blessings and virtue and goodly praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say the Tahlil in this fashion after every prayer." Similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i.
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
62
View Single
ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
Such is Allah, your Lord, the Creator of all things; there is no God except Him; so where are you reverting?
یہی اللہ تمہارا رب ہے جو ہر چیز کا خالق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بھٹکتے پھرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Signs of the Power and Oneness of Allah
Allah reminds us of His grace towards His creation in that He has given them the night in which they rest and relax from their activities so that they can go back to them for their livelihood during the day. He has given them the day with its light, so that they can undertake their journeys and engage in their business.
إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ
(Truly, Allah is full of bounty to mankind; yet, most of mankind give no thanks.) means, they do not express gratitude for the favors which Allah bestows upon them. Then Allah says:
ذَلِكُـمُ اللَّهُ رَبُّـكُمْ خَـلِقُ كُـلِّ شَىْءٍ لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(That is Allah, your Lord, the Creator of all things, La ilaha illa Huwa.) means, the One Who does all of these things is Allah, the One, the Unique, the Creator of all things, besides Whom there is no other god or lord.
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(How then are you turning away) means, `how can you worship idols which cannot create anything but are themselves hand-made and carved'
كَذَلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِينَ كَانُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(Thus were turned away those who used to deny the Ayat of Allah) means, just as these people Quraysh were led astray by their worship of gods other than Allah, those who came before them also disbelieved and worshipped others, with no proof or evidence, but on the basis of ignorance and desires. They denied the signs and proof of Allah.
اللَّهُ الَّذِى جَعَـلَ لَكُـمُ الاٌّرْضَ قَـرَاراً
(Allah, it is He Who has made for you the earth as a dwelling place) means, `He made it stable and spread it out for you, so that you might live on it and travel about in it; He strengthened it with the mountains so that it does not shake with you.'
وَالسَّمَآءَ بِنَآءً
(and the sky as a canopy,) means, `a roof covering and protecting the world.'
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ
(and has given you shape and made your shapes good) means, `He created you in the best and most perfect form.'
وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ
(and has provided you with good and pure things.) means, of food and drink in this world. Allah states that that He is the Creator of the dwelling place and of the inhabitants and of the provision; He is the Creator and Provider, as He says in Surat Al-Baqarah:
يَـأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَآءَ بِنَآءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَتِ رِزْقاً لَّكُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ للَّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may have Taqwa. Who has made the earth a resting place for you, and the sky as a canopy, and sent down water (rain) from the sky and brought forth therewith fruits as a provision for you. Then do not set up rivals unto Allah while you know.) (2:21-22) And here Allah says, after mentioning the creation of all these things:
ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُـمْ فَتَـبَـرَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(That is Allah, your Lord, so Blessed be Allah, the Lord of all that exists.) meaning, exalted and sanctified and glorified be Allah, the Lord of all the worlds. Then He says:
هُوَ الْحَىُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(He is the Ever Living, La ilaha illa Huwa;) means, He is the Ever Living, from eternity to eternity, Who was, is and shall be, the First and the Last, the Manifest, the Hidden.
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none comparable or equal to Him.
فَـادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(so invoke Him making the religion for Him Alone.) means, affirm His Oneness by testifying that there is no God but He. Praise be to Allah, the Lord of the worlds. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, to Him belongs the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belong blessings and virtue and goodly praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say the Tahlil in this fashion after every prayer." Similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i.
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
63
View Single
كَذَٰلِكَ يُؤۡفَكُ ٱلَّذِينَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ
This is how those who deny the signs of Allah go reverting.
اسی طرح وہ لوگ بہکے پھرتے تھے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Signs of the Power and Oneness of Allah
Allah reminds us of His grace towards His creation in that He has given them the night in which they rest and relax from their activities so that they can go back to them for their livelihood during the day. He has given them the day with its light, so that they can undertake their journeys and engage in their business.
إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ
(Truly, Allah is full of bounty to mankind; yet, most of mankind give no thanks.) means, they do not express gratitude for the favors which Allah bestows upon them. Then Allah says:
ذَلِكُـمُ اللَّهُ رَبُّـكُمْ خَـلِقُ كُـلِّ شَىْءٍ لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(That is Allah, your Lord, the Creator of all things, La ilaha illa Huwa.) means, the One Who does all of these things is Allah, the One, the Unique, the Creator of all things, besides Whom there is no other god or lord.
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(How then are you turning away) means, `how can you worship idols which cannot create anything but are themselves hand-made and carved'
كَذَلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِينَ كَانُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(Thus were turned away those who used to deny the Ayat of Allah) means, just as these people Quraysh were led astray by their worship of gods other than Allah, those who came before them also disbelieved and worshipped others, with no proof or evidence, but on the basis of ignorance and desires. They denied the signs and proof of Allah.
اللَّهُ الَّذِى جَعَـلَ لَكُـمُ الاٌّرْضَ قَـرَاراً
(Allah, it is He Who has made for you the earth as a dwelling place) means, `He made it stable and spread it out for you, so that you might live on it and travel about in it; He strengthened it with the mountains so that it does not shake with you.'
وَالسَّمَآءَ بِنَآءً
(and the sky as a canopy,) means, `a roof covering and protecting the world.'
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ
(and has given you shape and made your shapes good) means, `He created you in the best and most perfect form.'
وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ
(and has provided you with good and pure things.) means, of food and drink in this world. Allah states that that He is the Creator of the dwelling place and of the inhabitants and of the provision; He is the Creator and Provider, as He says in Surat Al-Baqarah:
يَـأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَآءَ بِنَآءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَتِ رِزْقاً لَّكُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ للَّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may have Taqwa. Who has made the earth a resting place for you, and the sky as a canopy, and sent down water (rain) from the sky and brought forth therewith fruits as a provision for you. Then do not set up rivals unto Allah while you know.) (2:21-22) And here Allah says, after mentioning the creation of all these things:
ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُـمْ فَتَـبَـرَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(That is Allah, your Lord, so Blessed be Allah, the Lord of all that exists.) meaning, exalted and sanctified and glorified be Allah, the Lord of all the worlds. Then He says:
هُوَ الْحَىُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(He is the Ever Living, La ilaha illa Huwa;) means, He is the Ever Living, from eternity to eternity, Who was, is and shall be, the First and the Last, the Manifest, the Hidden.
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none comparable or equal to Him.
فَـادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(so invoke Him making the religion for Him Alone.) means, affirm His Oneness by testifying that there is no God but He. Praise be to Allah, the Lord of the worlds. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, to Him belongs the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belong blessings and virtue and goodly praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say the Tahlil in this fashion after every prayer." Similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i.
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
64
View Single
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
It is Allah Who made for you the earth your resting place and the sky a canopy, and moulded you so gave you the best shape, and gave you pure things for sustenance; such is Allah, your Lord; so Most Auspicious is Allah, the Lord Of The Creation.
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں شکل و صورت بخشی پھر تمہاری صورتوں کو اچھا کیا اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی بخشی، یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ پس اللہ بڑی برکت والا ہے جو سب جہانوں کا رب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Signs of the Power and Oneness of Allah
Allah reminds us of His grace towards His creation in that He has given them the night in which they rest and relax from their activities so that they can go back to them for their livelihood during the day. He has given them the day with its light, so that they can undertake their journeys and engage in their business.
إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ
(Truly, Allah is full of bounty to mankind; yet, most of mankind give no thanks.) means, they do not express gratitude for the favors which Allah bestows upon them. Then Allah says:
ذَلِكُـمُ اللَّهُ رَبُّـكُمْ خَـلِقُ كُـلِّ شَىْءٍ لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(That is Allah, your Lord, the Creator of all things, La ilaha illa Huwa.) means, the One Who does all of these things is Allah, the One, the Unique, the Creator of all things, besides Whom there is no other god or lord.
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(How then are you turning away) means, `how can you worship idols which cannot create anything but are themselves hand-made and carved'
كَذَلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِينَ كَانُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(Thus were turned away those who used to deny the Ayat of Allah) means, just as these people Quraysh were led astray by their worship of gods other than Allah, those who came before them also disbelieved and worshipped others, with no proof or evidence, but on the basis of ignorance and desires. They denied the signs and proof of Allah.
اللَّهُ الَّذِى جَعَـلَ لَكُـمُ الاٌّرْضَ قَـرَاراً
(Allah, it is He Who has made for you the earth as a dwelling place) means, `He made it stable and spread it out for you, so that you might live on it and travel about in it; He strengthened it with the mountains so that it does not shake with you.'
وَالسَّمَآءَ بِنَآءً
(and the sky as a canopy,) means, `a roof covering and protecting the world.'
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ
(and has given you shape and made your shapes good) means, `He created you in the best and most perfect form.'
وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ
(and has provided you with good and pure things.) means, of food and drink in this world. Allah states that that He is the Creator of the dwelling place and of the inhabitants and of the provision; He is the Creator and Provider, as He says in Surat Al-Baqarah:
يَـأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَآءَ بِنَآءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَتِ رِزْقاً لَّكُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ للَّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may have Taqwa. Who has made the earth a resting place for you, and the sky as a canopy, and sent down water (rain) from the sky and brought forth therewith fruits as a provision for you. Then do not set up rivals unto Allah while you know.) (2:21-22) And here Allah says, after mentioning the creation of all these things:
ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُـمْ فَتَـبَـرَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(That is Allah, your Lord, so Blessed be Allah, the Lord of all that exists.) meaning, exalted and sanctified and glorified be Allah, the Lord of all the worlds. Then He says:
هُوَ الْحَىُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(He is the Ever Living, La ilaha illa Huwa;) means, He is the Ever Living, from eternity to eternity, Who was, is and shall be, the First and the Last, the Manifest, the Hidden.
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none comparable or equal to Him.
فَـادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(so invoke Him making the religion for Him Alone.) means, affirm His Oneness by testifying that there is no God but He. Praise be to Allah, the Lord of the worlds. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, to Him belongs the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belong blessings and virtue and goodly praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say the Tahlil in this fashion after every prayer." Similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i.
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
65
View Single
هُوَ ٱلۡحَيُّ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۗ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
It is He, the Alive – there is no God except Him; therefore worship Him as His sincere bondmen; all praise is to Allah, the Lord Of The Creation.
وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم اس کی عبادت اُس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے
Tafsir Ibn Kathir
Signs of the Power and Oneness of Allah
Allah reminds us of His grace towards His creation in that He has given them the night in which they rest and relax from their activities so that they can go back to them for their livelihood during the day. He has given them the day with its light, so that they can undertake their journeys and engage in their business.
إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ
(Truly, Allah is full of bounty to mankind; yet, most of mankind give no thanks.) means, they do not express gratitude for the favors which Allah bestows upon them. Then Allah says:
ذَلِكُـمُ اللَّهُ رَبُّـكُمْ خَـلِقُ كُـلِّ شَىْءٍ لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(That is Allah, your Lord, the Creator of all things, La ilaha illa Huwa.) means, the One Who does all of these things is Allah, the One, the Unique, the Creator of all things, besides Whom there is no other god or lord.
فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ
(How then are you turning away) means, `how can you worship idols which cannot create anything but are themselves hand-made and carved'
كَذَلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِينَ كَانُواْ بِـَايَـتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(Thus were turned away those who used to deny the Ayat of Allah) means, just as these people Quraysh were led astray by their worship of gods other than Allah, those who came before them also disbelieved and worshipped others, with no proof or evidence, but on the basis of ignorance and desires. They denied the signs and proof of Allah.
اللَّهُ الَّذِى جَعَـلَ لَكُـمُ الاٌّرْضَ قَـرَاراً
(Allah, it is He Who has made for you the earth as a dwelling place) means, `He made it stable and spread it out for you, so that you might live on it and travel about in it; He strengthened it with the mountains so that it does not shake with you.'
وَالسَّمَآءَ بِنَآءً
(and the sky as a canopy,) means, `a roof covering and protecting the world.'
وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ
(and has given you shape and made your shapes good) means, `He created you in the best and most perfect form.'
وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ
(and has provided you with good and pure things.) means, of food and drink in this world. Allah states that that He is the Creator of the dwelling place and of the inhabitants and of the provision; He is the Creator and Provider, as He says in Surat Al-Baqarah:
يَـأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُواْ رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّرْضَ فِرَاشاً وَالسَّمَآءَ بِنَآءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَتِ رِزْقاً لَّكُمْ فَلاَ تَجْعَلُواْ للَّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
(O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may have Taqwa. Who has made the earth a resting place for you, and the sky as a canopy, and sent down water (rain) from the sky and brought forth therewith fruits as a provision for you. Then do not set up rivals unto Allah while you know.) (2:21-22) And here Allah says, after mentioning the creation of all these things:
ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُـمْ فَتَـبَـرَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(That is Allah, your Lord, so Blessed be Allah, the Lord of all that exists.) meaning, exalted and sanctified and glorified be Allah, the Lord of all the worlds. Then He says:
هُوَ الْحَىُّ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(He is the Ever Living, La ilaha illa Huwa;) means, He is the Ever Living, from eternity to eternity, Who was, is and shall be, the First and the Last, the Manifest, the Hidden.
لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(La ilaha illa Huwa) means, there is none comparable or equal to Him.
فَـادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
(so invoke Him making the religion for Him Alone.) means, affirm His Oneness by testifying that there is no God but He. Praise be to Allah, the Lord of the worlds. Imam Ahmad recorded that after ending every prayer, `Abdullah bin Az-Zubayr used to say:
«لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون»
(There is no (true) God except Allah Alone with no partner or associate, to Him belongs the dominion and praise, for He is able to do all things; there is no strength and no power except with Allah; there is no (true) God except Allah and we worship none but Him; to Him belong blessings and virtue and goodly praise; there is no (true) God except Allah, we worship Him in all sincerity even though the disbelievers may hate that.) He said, "The Messenger of Allah ﷺ used to say the Tahlil in this fashion after every prayer." Similar was also recorded by Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i.
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بےدلیل و حجت غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضا سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔ پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا۔۔ الخ، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلو کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ لا الہ الا اللہ پڑھنے والے کو ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین بھی پڑھنا چاہئے تاکہ اس آیت پر عمل ہوجائے۔ ابن عباس سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہی جب تک فادعو اللہ مخلصین لہ الدین پڑھے تو لا الہ الا اللہ کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی الحمد للہ رب العالمین پڑھ لیا کر۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کے سلام کے بعد (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک والہ الحمد وھو علی کل شی قدیر) پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم ابو داؤد، نسائی)
66
View Single
۞قُلۡ إِنِّي نُهِيتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِيَ ٱلۡبَيِّنَٰتُ مِن رَّبِّي وَأُمِرۡتُ أَنۡ أُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I have been forbidden to worship those whom you worship besides Allah whilst clear proofs have come to me from my Lord; and I have been commanded to submit to the Lord Of The Creation.”
فرما دیجئے: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اُن کی پرستش کروں جن بتوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی جانب سے واضح نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری کروں
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Shirk, the Order for Tawhid, and the Evidence
Allah says, `say, O Muhammad, to these idolators, that Allah forbids them to worship anyone, such as these idols and false gods, except Him.' Allah explains that no one apart from Him is deserving of worship, as He says:
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَـبْلُغُواْ أَشُدَّكُـمْ ثُمَّ لِتَكُـونُواْ شُيُوخاً
(It is He, Who has created you from dust, then from a Nutfah then from a clot (a piece of coagulated blood), then brings you forth as an infant, then (makes you grow) to reach the age of full strength, and afterwards to be old.) meaning, He is the One Who Alone, with no partner or associate, causes you to pass through these different stages, and this happens in accordance with His command, will and decree.
وَمِنكُمْ مَّن يُتَوَفَّى مِن قَبْلُ
(though some among you die before) means, before being fully formed and emerging to this world; so his mother miscarries him. And there are some who die in infancy or in their youth, or when they are adults but before they reach old age, as Allah says:
لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِى الاٌّرْحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(that We may make (it) clear to you. And We cause whom We will to remain in the wombs for an appointed term) (22:5).
وَلِتَبْلُغُواْ أَجَلاً مُّسَمًّى وَلَعَلَّـكُمْ تَعْقِلُونَ
(and that you reach an appointed term in order that you may understand. ) Ibn Jurayj said, "In order that you may remember the Resurrection." Then Allah says:
هُوَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ
(It is He Who gives life and causes death.) meaning, He is the Only One Who does that, and none is able to do that except He.
فَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فيَكُونُ
(And when He decides upon a thing He says to it only: "Be!" -- and it is.) means, He cannot be opposed or resisted. Whatever He wills definitely comes to pass.
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے (وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) 22۔ الحج :5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔
67
View Single
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٖ ثُمَّ يُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلٗا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوٓاْ أَشُدَّكُمۡ ثُمَّ لِتَكُونُواْ شُيُوخٗاۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبۡلُۖ وَلِتَبۡلُغُوٓاْ أَجَلٗا مُّسَمّٗى وَلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
It is He Who created you from clay, then from a drop of liquid, then from a clot of blood, and then brings you forth as a child, then keeps you alive for you to reach adulthood and then to become old; and some among you pass away earlier, and for you to reach an appointed term, and so that you may understand.
وہی ہے جس نے تمہاری (کیمیائی حیات کی ابتدائی) پیدائش مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک نطفہ (یعنی ایک خلیہ) سے، پھر رحم مادر میں معلّق وجود سے، پھر (بالآخر) وہی تمہیں بچہ بنا کر نکالتا ہے پھر (تمہیں نشو و نما دیتا ہے) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ۔ پھر (تمہیں عمر کی مہلت دیتا ہے) تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تم میں سے کوئی (بڑھاپے سے) پہلے ہی وفات پا جاتا ہے اور (یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے) تاکہ تم (اپنی اپنی) مقررّہ میعاد تک پہنچ جاؤ اور اِس لئے (بھی) کہ تم سمجھ سکو
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Shirk, the Order for Tawhid, and the Evidence
Allah says, `say, O Muhammad, to these idolators, that Allah forbids them to worship anyone, such as these idols and false gods, except Him.' Allah explains that no one apart from Him is deserving of worship, as He says:
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَـبْلُغُواْ أَشُدَّكُـمْ ثُمَّ لِتَكُـونُواْ شُيُوخاً
(It is He, Who has created you from dust, then from a Nutfah then from a clot (a piece of coagulated blood), then brings you forth as an infant, then (makes you grow) to reach the age of full strength, and afterwards to be old.) meaning, He is the One Who Alone, with no partner or associate, causes you to pass through these different stages, and this happens in accordance with His command, will and decree.
وَمِنكُمْ مَّن يُتَوَفَّى مِن قَبْلُ
(though some among you die before) means, before being fully formed and emerging to this world; so his mother miscarries him. And there are some who die in infancy or in their youth, or when they are adults but before they reach old age, as Allah says:
لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِى الاٌّرْحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(that We may make (it) clear to you. And We cause whom We will to remain in the wombs for an appointed term) (22:5).
وَلِتَبْلُغُواْ أَجَلاً مُّسَمًّى وَلَعَلَّـكُمْ تَعْقِلُونَ
(and that you reach an appointed term in order that you may understand. ) Ibn Jurayj said, "In order that you may remember the Resurrection." Then Allah says:
هُوَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ
(It is He Who gives life and causes death.) meaning, He is the Only One Who does that, and none is able to do that except He.
فَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فيَكُونُ
(And when He decides upon a thing He says to it only: "Be!" -- and it is.) means, He cannot be opposed or resisted. Whatever He wills definitely comes to pass.
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے (وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) 22۔ الحج :5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔
68
View Single
هُوَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
It is He Who gives life and death; so whenever He wills a thing, He only says to it “Be” – it thereupon happens!
وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو صرف اسے فرما دیتا ہے: ہو جا۔ پس وہ ہو جاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Shirk, the Order for Tawhid, and the Evidence
Allah says, `say, O Muhammad, to these idolators, that Allah forbids them to worship anyone, such as these idols and false gods, except Him.' Allah explains that no one apart from Him is deserving of worship, as He says:
هُوَ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثُمَّ لِتَـبْلُغُواْ أَشُدَّكُـمْ ثُمَّ لِتَكُـونُواْ شُيُوخاً
(It is He, Who has created you from dust, then from a Nutfah then from a clot (a piece of coagulated blood), then brings you forth as an infant, then (makes you grow) to reach the age of full strength, and afterwards to be old.) meaning, He is the One Who Alone, with no partner or associate, causes you to pass through these different stages, and this happens in accordance with His command, will and decree.
وَمِنكُمْ مَّن يُتَوَفَّى مِن قَبْلُ
(though some among you die before) means, before being fully formed and emerging to this world; so his mother miscarries him. And there are some who die in infancy or in their youth, or when they are adults but before they reach old age, as Allah says:
لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِى الاٌّرْحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى
(that We may make (it) clear to you. And We cause whom We will to remain in the wombs for an appointed term) (22:5).
وَلِتَبْلُغُواْ أَجَلاً مُّسَمًّى وَلَعَلَّـكُمْ تَعْقِلُونَ
(and that you reach an appointed term in order that you may understand. ) Ibn Jurayj said, "In order that you may remember the Resurrection." Then Allah says:
هُوَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ
(It is He Who gives life and causes death.) meaning, He is the Only One Who does that, and none is able to do that except He.
فَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فيَكُونُ
(And when He decides upon a thing He says to it only: "Be!" -- and it is.) means, He cannot be opposed or resisted. Whatever He wills definitely comes to pass.
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے (وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) 22۔ الحج :5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔
69
View Single
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ أَنَّىٰ يُصۡرَفُونَ
Did you not see those who dispute concerning the signs of Allah? Where are they being diverted?
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں، وہ کہاں بھٹکے جا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
70
View Single
ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِٱلۡكِتَٰبِ وَبِمَآ أَرۡسَلۡنَا بِهِۦ رُسُلَنَاۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ
Those who denied the Book and what We sent with Our Noble Messengers; so they will soon come to know. –
جن لوگوں نے کتاب کو (بھی) جھٹلا دیا اور ان (نشانیوں) کو (بھی) جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا، تو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
71
View Single
إِذِ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَٰقِهِمۡ وَٱلسَّلَٰسِلُ يُسۡحَبُونَ
When around their necks will be shackles and chains; they will be dragged. –
جب اُن کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی، وہ گھسیٹے جا رہے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
72
View Single
فِي ٱلۡحَمِيمِ ثُمَّ فِي ٱلنَّارِ يُسۡجَرُونَ
In boiling water; they will then be ignited* in the fire. (Like fuel – see verse 2:24)
کھولتے ہوئے پانی میں، پھر آگ میں (ایندھن کے طور پر) جھونک دیئے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
73
View Single
ثُمَّ قِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تُشۡرِكُونَ
It will then be said to them, “Where are the partners you used to appoint?” –
پھر اُن سے کہا جائے گا: کہاں ہیں وہ (بُت) جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
74
View Single
مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا بَل لَّمۡ نَكُن نَّدۡعُواْ مِن قَبۡلُ شَيۡـٔٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلۡكَٰفِرِينَ
“As rivals to Allah?”; they will say, “We have lost them – in fact we never used to worship anything before!”; this is how Allah sends the disbelievers astray.
اللہ کے سوا، وہ کہیں گے: وہ ہم سے گم ہو گئے بلکہ ہم تو پہلے کسی بھی چیز کی پرستش نہیں کرتے تھے، اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ ٹھہراتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
75
View Single
ذَٰلِكُم بِمَا كُنتُمۡ تَفۡرَحُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَمۡرَحُونَ
“This is the recompense of your being happy upon falsehood in the earth, and the recompense of your conceit.”
یہ (سزا) اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں ناحق خوشیاں منایا کرتے تھے اور اُس کا بدلہ ہے کہ تم اِترایا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
76
View Single
ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ
“Enter the gates of hell, to remain in it forever”; so what a wretched destination for the haughty!
دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو غرور کرنے والوں کا ٹھکانا کتنا بُرا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The End of Those Who dispute and deny the Signs of Allah
Allah says, `do you not wonder, O Muhammad, at those who deny the signs of Allah and dispute the truth by means of falsehood, how their minds are diverted from the truth and are misguided'
الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِالْكِـتَـبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا
(Those who deny the Book, and that with which We sent Our Messengers) means, guidance and clear proof.
فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
(they will come to know.) This is a stern warning and clear threat from the Lord to these people. This is like the Ayah:
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
(Woe that Day to the deniers!) (77:15)
إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ
(When iron collars will be rounded over their necks, and the chains.) means, the chains will be attached to the iron collars, and the keepers of Hell will drag them along on their faces, sometimes to the boiling water, and sometimes to the Fire. Allah says:
يُسْحَبُونَ فِىالْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ
(they shall be dragged along, in the boiling water, then they will be burned in the Fire. ) This is like the Ayat:
هَـذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ - يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
(This is the Hell which the criminals denied. They will go between it and the fierce boiling water!) (55:43-44). After describing how they will eat Zaqqum (a bitter tree of Hell) and drink Hamim (boiling water), Allah says:
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لإِلَى الْجَحِيمِ
(Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell.) (37:68), And Allah says:
وَأَصْحَـبُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَـبُ الشِّمَالِ - فِى سَمُومٍ وَحَمِيمٍ - وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ - لاَّ بَارِدٍ وَلاَ كَرِيمٍ
h(And those on the Left Hand -- how (unfortunate) will be those on the Left Hand In fierce hot wind and boiling water, and shadow of black smoke, (that shadow) neither cool nor (even) pleasant.) until
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّآلُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - لاّكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ - فَمَالِـُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ - فَشَـرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ - فَشَـرِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ - هَـذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ
(Then moreover, verily, -- you the erring-ones, the deniers (of Resurrection)! You verily, will eat of the trees of Zaqqum. Then you will fill your bellies therewith, and drink boiling water on top of it. And you will drink (that) like thirsty camels! That will be their entertainment on the Day of Recompense!) (56: 41-44, 51-56),
إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ - طَعَامُ الاٌّثِيمِ - كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِى الْبُطُونِ - كَغَلْىِ الْحَمِيمِ - خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ - ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ - إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ
(Verily, the tree of Zaqqum will be the food of the sinners. Like boiling oil, it will boil in the bellies, like the boiling of scalding water. (It will be said:) "Seize him and drag him into the midst of blazing Fire, then pour over his head the torment of boiling water. Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous! Verily, this is that whereof you used to doubt!") (44:43-50) i.e., this will be said to them to rebuke and ridicule them.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
(Then it will be said to them: "Where are (all) those whom you considered partners -- besides Allah") means, it will be said to them, `where are the idols whom you used to worship instead of Allah Can they help you today'
قَـالُواْ ضَـلُّواْ عَنَّا
(They will say: "They have vanished from us...") mean, they have gone away and they cannot do anything for us.'
بَل لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئاً
(Nay, we did not invoke (worship) anything before. ) means, they will deny that they worshipped them. This is like the Ayah:
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(There will then be (left) no Fitnah (excuse) for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah.") (6:23) Allah says:
كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكَـفِرِينَ
(Thus Allah leads astray the disbelievers).
ذَلِكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
(That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.) means, the angels will say to them, `what you are suffering now is your recompense for your exulting in the earth without any right, and for your extravagance.'
ادْخُلُواْ أَبْوَبَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
(Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!) means, what a terrible abode and final destination, filled with humiliation and severe punishment for those who arrogantly ignored the signs of Allah and refused to accept His proof and evidence. And Allah knows best.
کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔ گرم کھولتے ہوئے پانی میں سے گھسیٹے جائیں گے۔ اور آگ جہنم میں جھلسائے جائیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے۔ یہ ہے وہ جہنم جسے گنہگار لوگ جھوٹا جانا کرتے تھے۔ اب یہ اس کے اور آگ جیسے گرم پانی کے درمیان مارے مارے پریشان پھرا کریں۔ اور آیتوں میں ان کا زقوم کھانا اور گرم پانی پینا بیان فرما کر فرمایا (ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68) 37۔ الصافات :68) کہ پھر ان کی بازگشت تو جہنم ہی کطرف ہے۔ سورة واقعہ میں اصحاب شمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بائیں ہاتھ والے کس قدر برے ہیں ؟ وہ آگ میں ہیں اور گرم پانی میں اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں جو نہ ٹھنڈا ہے نہ سود مند، آگے چل کر فرمایا، اے بہکے ہوئے جھٹلانے والو البتہ سینڈ کا درخت کھاؤ گے اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر جلتا پانی پیو گے اور اس طرح جس طرح تونس والا اونٹ پیتا ہے۔ آج انصاف کے دن ان کی مہمانی یہی ہوگی۔ اور جگہ فرمایا ہے (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43ۙ) 44۔ الدخان :43) ، یعنی یقینا گنہگاروں کا کھانا زقوم کا درخت ہے جو مثل پگھلے ہوئے تابنے کے ہے جو پیٹوں میں کھولتا رہتا ہے۔ جیسے تیز گرم پانی۔ اسے پکڑو اور دھکیلتے ہوئے بیچوں بیچ جہنم میں پہنچاؤ پھر اس کے سر پر تیز گرم جلتے جلتے پانی کا عذاب بہاؤ لے چکھ تو بڑا ہی ذی عزت اور بڑی ہی تعظیم تکریر والا شخص تھا۔ جس سے تم شک شبہ میں تھے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک طرف سے تو وہ یہ دکھ سہ رہے ہوں گے جن کا بیان ہوا اور دوسری جانب سے انہیں ذلیل و خوار و رو سیاہ ناہنجار کرنے کیلئے بطور استہزاء اور تمسخر کے بطور ڈانٹ اور ڈپٹ کے بطور حقارت اور ذلت کے ان سے یہ کہا جائے گا جس کا ذکر ہوا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک جانب سے سیاہ ابر اٹھے گا جسے جہنمی دیکھیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ وہ ابر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے انداز پر کہیں گے کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ برسے وہیں اس میں سے طوق اور زنجیریں اور آگ کے انگارے برسنے لگیں گے جس کے شعلے انہیں جلائیں جھلسائیں گے اور وہ طوق و سلاسل ان کے طوق و سلاسل کے ساتھ اضافہ کردیئے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیوں جی دنیا میں اللہ عزوجل کے سوا جن جن کو پوجتے رہے وہ سب آج کہاں ہیں ؟ کیوں وہ تمہاری مدد کو نہیں آئے ؟ کیوں تمہیں یوں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں وہ تو سب آج ناپید ہوگئے وہ تھے ہی بےسود۔ پھر انہیں کچھ خیال آئے گا اور کہیں گے نہیں نہیں ہم نے تو ان کی عبادت کبھی نہیں کی۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جب ان کے بنائے کچھ نہ بنے گی تو صاف انکار کردیں گے اور جھوٹ بول دیں گے کہ (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ 23) 6۔ الانعام :23) اللہ ہمیں تیری قسم ہم مشرک نہ تھے۔ یہ کفار اسی طرح بیکاری میں کھوئے رہتے ہیں، ان سے فرشتے کہیں گے یہ بدلہ ہے اس کا جو دنیا میں بےوجہ گردن اکڑائے اکڑتے پھرتے تھے۔ تکبر و جبر پر چست کمر رہتے تھے لو اب آجاؤ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ اب ہمیشہ یہیں پے رہنا تم جیسے اترانے والوں کی ہی یہ بدمنزل اور بری جائے قرار ہے۔ جس قدر تکبر کئے تھے اتنے ہی ذلیل و خوار آج بنو گے۔ جتنے ہی بلند گئے تھے اتنے ہی گرو گے۔ واللہ اعلم۔
77
View Single
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ
Therefore be patient (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), undoubtedly Allah’s promise is true; and whether We show some of what We promise them, or cause you to pass away before it – in any case they will return to Us.
پس آپ صبر کیجئے بے شک اللہ کا وعدہ سچّا ہے، پھر اگر ہم آپ کو اس (عذاب) کا کچھ حصّہ دکھا دیں جس کا ہم اُن سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو (اس سے قبل) وفات دے دیں تو (دونوں صورتوں میں) وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Patient and Good News of Victory
Here Allah commands His Messenger to patiently bear the rejection of those who rejected him: `Allah will fulfill His promise to you that you will be victorious and will prevail over your people, and you and those who follow you, will be the successful ones in this world and the Hereafter.'
فَـإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِى نَعِدُهُمْ
(and whether We show you some part of what We have promised them,) means, in this world, and this is what happened, for Allah gave them the joy of humiliating the leaders and nobles (of the Quraysh), who were killed on the day of Badr, then Allah granted them victory over Makkah and the entire Arabian Peninsula during the lifetime of the Prophet .
أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ
(or We cause you to die, then still it is to Us they all shall be returned.) means, `and We shall inflict a severe punishment upon them in the Hereafter.' Then Allah says, consoling His Prophet :
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ
(And, indeed We have sent Messengers before you, of some of them We have related to you their story.) as Allah also says in Surat An-Nisa', meaning, `We have revealed the stories of some of them and how their people disbelieved in them, but the Messengers ultimately prevailed.'
وَمِنْهُمْ مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ
(And of some We have not related to you their story, ) and they are many, many more than those whose stories have been told, as has been stated in Surat An-Nisa'. Praise and blessings be to Allah.
وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَايَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّهِ
(and it was not given to any Messenger that he should bring a sign except by the leave of Allah.) means, none of the Prophets was able to bring miracles to his people except when Allah granted him permission to do that as a sign of the truth of the message he brought to them.
فَإِذَا جَـآءَ أَمْرُ اللَّهِ
(But, when comes the commandment of Allah,) means, His punishment and vengeance which will encompass the disbelievers,
قُضِىَ بِالْحَقِّ
(the matter will be decided with truth,) so the believers will be saved and the disbelievers will be destroyed. Allah says:
وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ
(and the followers of falsehood will then be lost.)
اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہوگیا۔ اور آپ کے دشمن آپ کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہوئے اور آپ کی آنکھیں رب نے ٹھنڈی نہ کردیں، یا اگر ہم تجھے فوت ہی کرلیں تو بھی ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے ہم انہیں آخرت کے درد ناک سخت عذاب میں مبتلا کریں گے، پھر مزید تسلی کے طور پر فرما رہا ہے کہ تجھ سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تیرے سامنے بیان کردیئے ہیں۔ اور بعض کے قصے ہم نے بیان بھی نہیں کئے جیسے سورة نساء میں بھی فرمایا گیا ہے۔ پس جن کے قصے مذکورہ ہیں دیکھ لو کہ قوم سے ان کی کیسی کچھ نمٹی۔ اور بعض کے واقعات ہم نے بیان نہیں کئے وہ بہ نسبت ان کے بہت زیادہ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے سورة نساء کی تفسیر کے موقعہ پر بیان کردیا ہے۔ واللہ الحمد والمنہ۔ پھر فرمایا یہ ناممکن ہے کہ کوئی رسول اپنی مرضی سے معجزات اور خوارق عادات دکھائے ہاں اللہ عزوجل کے حکم کے بعد کیونکہ رسول کے قبضے میں کوئی چیز نہیں۔ ہاں جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے پھر تکذیب و تردید کرنے والے کفار بچ نہیں سکتے۔ مومن نجات پالیتے ہیں اور باطل پرست باطل کار تباہ ہوجاتے ہیں۔
78
View Single
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ مِنۡهُم مَّن قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّن لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَۗ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ فَإِذَا جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ قُضِيَ بِٱلۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ
Indeed We sent many Noble Messengers before you, so We have related to you the affairs of some among them, and not related the affairs of some; and no Noble Messenger has the right to bring any sign except with the command of Allah; so the time when the command of Allah comes, the true judgement will be delivered and there will the people of falsehood be ruined.
اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کو بھیجا، ان میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرما دیا اور ان میں سے بعض کا حال ہم نے (ابھی تک) آپ پر بیان نہیں فرمایا، اور کسی بھی رسول کے لئے یہ (ممکن) نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی بھی اللہ کے اِذن کے بغیر لے آئے، پھر جب اللہ کا حکم آپہنچا (اور) حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا تو اس وقت اہلِ باطل خسارے میں رہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Patient and Good News of Victory
Here Allah commands His Messenger to patiently bear the rejection of those who rejected him: `Allah will fulfill His promise to you that you will be victorious and will prevail over your people, and you and those who follow you, will be the successful ones in this world and the Hereafter.'
فَـإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِى نَعِدُهُمْ
(and whether We show you some part of what We have promised them,) means, in this world, and this is what happened, for Allah gave them the joy of humiliating the leaders and nobles (of the Quraysh), who were killed on the day of Badr, then Allah granted them victory over Makkah and the entire Arabian Peninsula during the lifetime of the Prophet .
أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ
(or We cause you to die, then still it is to Us they all shall be returned.) means, `and We shall inflict a severe punishment upon them in the Hereafter.' Then Allah says, consoling His Prophet :
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ
(And, indeed We have sent Messengers before you, of some of them We have related to you their story.) as Allah also says in Surat An-Nisa', meaning, `We have revealed the stories of some of them and how their people disbelieved in them, but the Messengers ultimately prevailed.'
وَمِنْهُمْ مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ
(And of some We have not related to you their story, ) and they are many, many more than those whose stories have been told, as has been stated in Surat An-Nisa'. Praise and blessings be to Allah.
وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَايَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّهِ
(and it was not given to any Messenger that he should bring a sign except by the leave of Allah.) means, none of the Prophets was able to bring miracles to his people except when Allah granted him permission to do that as a sign of the truth of the message he brought to them.
فَإِذَا جَـآءَ أَمْرُ اللَّهِ
(But, when comes the commandment of Allah,) means, His punishment and vengeance which will encompass the disbelievers,
قُضِىَ بِالْحَقِّ
(the matter will be decided with truth,) so the believers will be saved and the disbelievers will be destroyed. Allah says:
وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ
(and the followers of falsehood will then be lost.)
اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہوگیا۔ اور آپ کے دشمن آپ کے سامنے ذلیل و خوار نہ ہوئے اور آپ کی آنکھیں رب نے ٹھنڈی نہ کردیں، یا اگر ہم تجھے فوت ہی کرلیں تو بھی ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے ہم انہیں آخرت کے درد ناک سخت عذاب میں مبتلا کریں گے، پھر مزید تسلی کے طور پر فرما رہا ہے کہ تجھ سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تیرے سامنے بیان کردیئے ہیں۔ اور بعض کے قصے ہم نے بیان بھی نہیں کئے جیسے سورة نساء میں بھی فرمایا گیا ہے۔ پس جن کے قصے مذکورہ ہیں دیکھ لو کہ قوم سے ان کی کیسی کچھ نمٹی۔ اور بعض کے واقعات ہم نے بیان نہیں کئے وہ بہ نسبت ان کے بہت زیادہ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے سورة نساء کی تفسیر کے موقعہ پر بیان کردیا ہے۔ واللہ الحمد والمنہ۔ پھر فرمایا یہ ناممکن ہے کہ کوئی رسول اپنی مرضی سے معجزات اور خوارق عادات دکھائے ہاں اللہ عزوجل کے حکم کے بعد کیونکہ رسول کے قبضے میں کوئی چیز نہیں۔ ہاں جب اللہ کا عذاب آجاتا ہے پھر تکذیب و تردید کرنے والے کفار بچ نہیں سکتے۔ مومن نجات پالیتے ہیں اور باطل پرست باطل کار تباہ ہوجاتے ہیں۔
79
View Single
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمَ لِتَرۡكَبُواْ مِنۡهَا وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ
It is Allah Who created the animals for you, in order for you to ride some of them, and some to eat.
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے بنائے تاکہ تم اُن میں سے بعض پر سواری کرو اور اِن میں سے بعض کو تم کھاتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Cattle are also a Blessing from Allah and a Sign from Him
Allah reminds His servants of His blessing in that He created the cattle Al-An`am for them, which refers to camels, cows and sheep; some of them they ride and some of them they eat. Camels may be ridden or eaten; their milk is drunk and they are used for carrying heavy burdens on journeys to distant lands. Cattle are eaten and their milk is drunk; they are also used for plowing the earth. Sheep are eaten and their milk is also drunk. The hair and wool of all of these animals is used to make tents, clothing and furnishings, as we have already discussed in Surat Al-An`am and Surat An-Nahl, etc. Allah says here:
اللَّهُ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّنْعَـمَ لِتَرْكَـبُواْ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـفِعُ وَلِتَـبْلُغُواْ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ
(Allah, it is He Who has made cattle for you, that you may ride on some of them, and of some you eat. And you have (many other) benefits from them, and that you may reach by their means a desire that is in your breasts, and on them and on ships you are carried.)
وَيُرِيكُمْ آيَـتِهِ
(And He shows you His Ayat.) means, `His proof and evidence, on the horizons and in yourselves.'
فَأَىَّ ءَايَـتِ اللَّهِ تُنكِرُونَ
(Which, then of the Ayat of Allah do you deny) means, you cannot deny any of His signs and proofs, unless you are stubborn and arrogant.
أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُواْ أَكْـثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَءَاثَاراً فِى الاٌّرْضِ فَمَآ أَغْنَى عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَكْسِبُونَ - فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔
80
View Single
وَلَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَلِتَبۡلُغُواْ عَلَيۡهَا حَاجَةٗ فِي صُدُورِكُمۡ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى ٱلۡفُلۡكِ تُحۡمَلُونَ
And in them are numerous benefits for you, and for you to reach your hearts’ desires while riding them – and you ride upon them and upon the ships.
اور تمہارے لئے ان میں اور بھی فوائد ہیں اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر (مزید) اُس ضرورت (کی جگہ) تک پہنچ سکو جو تمہارے سینوں میں (متعین) ہے اور (یہ کہ) تم اُن پر اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Cattle are also a Blessing from Allah and a Sign from Him
Allah reminds His servants of His blessing in that He created the cattle Al-An`am for them, which refers to camels, cows and sheep; some of them they ride and some of them they eat. Camels may be ridden or eaten; their milk is drunk and they are used for carrying heavy burdens on journeys to distant lands. Cattle are eaten and their milk is drunk; they are also used for plowing the earth. Sheep are eaten and their milk is also drunk. The hair and wool of all of these animals is used to make tents, clothing and furnishings, as we have already discussed in Surat Al-An`am and Surat An-Nahl, etc. Allah says here:
اللَّهُ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّنْعَـمَ لِتَرْكَـبُواْ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـفِعُ وَلِتَـبْلُغُواْ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ
(Allah, it is He Who has made cattle for you, that you may ride on some of them, and of some you eat. And you have (many other) benefits from them, and that you may reach by their means a desire that is in your breasts, and on them and on ships you are carried.)
وَيُرِيكُمْ آيَـتِهِ
(And He shows you His Ayat.) means, `His proof and evidence, on the horizons and in yourselves.'
فَأَىَّ ءَايَـتِ اللَّهِ تُنكِرُونَ
(Which, then of the Ayat of Allah do you deny) means, you cannot deny any of His signs and proofs, unless you are stubborn and arrogant.
أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُواْ أَكْـثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَءَاثَاراً فِى الاٌّرْضِ فَمَآ أَغْنَى عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَكْسِبُونَ - فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔
81
View Single
وَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ فَأَيَّ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ تُنكِرُونَ
And He shows you His signs; so which sign of Allah will you deny?
اور وہ تمہیں اپنی (بہت سے) نشانیاں دکھاتا ہے، سو تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے
Tafsir Ibn Kathir
The Cattle are also a Blessing from Allah and a Sign from Him
Allah reminds His servants of His blessing in that He created the cattle Al-An`am for them, which refers to camels, cows and sheep; some of them they ride and some of them they eat. Camels may be ridden or eaten; their milk is drunk and they are used for carrying heavy burdens on journeys to distant lands. Cattle are eaten and their milk is drunk; they are also used for plowing the earth. Sheep are eaten and their milk is also drunk. The hair and wool of all of these animals is used to make tents, clothing and furnishings, as we have already discussed in Surat Al-An`am and Surat An-Nahl, etc. Allah says here:
اللَّهُ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّنْعَـمَ لِتَرْكَـبُواْ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـفِعُ وَلِتَـبْلُغُواْ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ
(Allah, it is He Who has made cattle for you, that you may ride on some of them, and of some you eat. And you have (many other) benefits from them, and that you may reach by their means a desire that is in your breasts, and on them and on ships you are carried.)
وَيُرِيكُمْ آيَـتِهِ
(And He shows you His Ayat.) means, `His proof and evidence, on the horizons and in yourselves.'
فَأَىَّ ءَايَـتِ اللَّهِ تُنكِرُونَ
(Which, then of the Ayat of Allah do you deny) means, you cannot deny any of His signs and proofs, unless you are stubborn and arrogant.
أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُواْ أَكْـثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَءَاثَاراً فِى الاٌّرْضِ فَمَآ أَغْنَى عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَكْسِبُونَ - فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ - فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
ہر مخلوق خالق کائنات پر دلیل ہے۔انعام یعنی اونٹ گائے بکری اللہ تعالیٰ نے انسان کے طرح طرح کے نفع کیلئے پیدا کئے ہیں سواریوں کے کام آتے ہیں کھائے جاتے ہیں۔ اونٹ سواری کا کام بھی دے کھایا بھی جائے، دودھ بھی دے، بوجھ بھی ڈھوئے اور دور دراز کے سفر بہ آسانی سے کرا دیئے۔ گائے کا گوشت کھانے کے کام بھی آئے دودھ بھی دے۔ ہل بھی جتے، بکری کا گوشت بھی کھایا جائے اور دودھ بھی پیا جائے۔ پھر ان کے سب کے بال بیسیوں کاموں میں آئیں۔ جیسے کہ سورة انعام سورة نحل وغیرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یہاں بھی یہ منافع بطور انعام گنوائے جا رہے ہیں، دنیا جہاں میں اور اس کے گوشے گوشے میں اور کائنات کے ذرے ذرے میں اور خود تمہاری جانوں میں اس اللہ کی نشانیاں موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کی ان گنت نشانیوں میں سے ایک کا بھی کوئی شخص صحیح معنی میں انکاری نہیں ہوسکتا یہ اور بات ہے کہ ضد اور اکڑ سے کام لے اور آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لے۔
82
View Single
أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِنۡهُمۡ وَأَشَدَّ قُوَّةٗ وَءَاثَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
Did they not travel in the land to see what sort of fate befell those before them? They were more than these in number, and they exceeded them in strength and the signs they left behind in the earth – so what benefit did they get from what they earned?
سو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ وہ دیکھتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اُن سے پہلے گزر گئے، وہ اِن لوگوں سے (تعداد میں بھی) بہت زیادہ تھے اور طاقت میں (بھی) سخت تر تھے اور نشانات کے لحاظ سے (بھی) جو (وہ) زمین میں چھوڑ گئے ہیں (کہیں بڑھ کر تھے) مگر جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے اُن کے کسی کام نہ آیا
Tafsir Ibn Kathir
The Lesson to be learned from what happened to Those Who Came before
Allah tells us about the nations who rejected their Messengers in ancient times. He mentioned the severe punishment they suffered despite their great strength, He mentioned the traces which they left behind in the earth and the great wealth they amassed. None of that availed them anything and could not prevent the punishment of Allah at all. That is because when the Messengers came to them with clear signs and decisive evidence, they did not pay any attention to them. Instead, they were content with the knowledge with them, or so they claimed, and they said that they did not need what the Messengers brought them. Mujahid said, "They said, we know better than them, we will not be resurrected and we will not be punished." As-Suddi said, "In their ignorance, they rejoiced in what they had of (worldly) knowledge. So Allah sent upon them a punishment which they could not escape or resist."
وَحَاقَ بِهِم
(and surrounded them.) means, encompassed them.
مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(that at which they used to mock,) means, that which they used to disbelieve in and said would never happen,
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا
(So when they saw Our punishment,) means, when they saw with their own eyes the punishment which came upon them, they said,
قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
(We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners. ) means, they affirmed that Allah is One and denied the false gods, but this was at the time when excuses were to no avail. This is like what Fir`awn said as he was drowning:
ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims.) (10:90) But Allah said:
ءَالَنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(Now (you believe) while you refused to believe before and you were one of the the corrupters.) (10:91) meaning, Allah did not accept this from him, because He had answered the prayer of His Prophet Musa, when he said,
وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(And harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment) (10:88). Allah says here:
فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ
(Then their Faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants.) means, this is the ruling of Allah concerning all those who repent only when they actually see the punishment: He does not accept that from them. It says in the Hadith:
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَالَمْ يُغَرْغِر»
(Allah will accept the repentance of His servant so long as the death rattle is not sounding in his throat.) Once the death rattle is sounding and the soul has reached the throat, and the dying person actually sees the angel (of death), then he can no longer repent. Allah says:
وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ
(And there the disbelievers lost utterly.) This is the end of the Tafsir of Surah Ghafir. Praise and thanks be to Allah.
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔
83
View Single
فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
So when their Noble Messengers came to them with clear signs, they remained happy over the worldly knowledge they possessed, and upon them only reverted what they used to mock at!
پھر جب اُن کے پیغمبر اُن کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو اُن کے پاس جو (دنیاوی) علم و فن تھا وہ اس پر اِتراتے رہے اور (اسی حال میں) انہیں اُس (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Lesson to be learned from what happened to Those Who Came before
Allah tells us about the nations who rejected their Messengers in ancient times. He mentioned the severe punishment they suffered despite their great strength, He mentioned the traces which they left behind in the earth and the great wealth they amassed. None of that availed them anything and could not prevent the punishment of Allah at all. That is because when the Messengers came to them with clear signs and decisive evidence, they did not pay any attention to them. Instead, they were content with the knowledge with them, or so they claimed, and they said that they did not need what the Messengers brought them. Mujahid said, "They said, we know better than them, we will not be resurrected and we will not be punished." As-Suddi said, "In their ignorance, they rejoiced in what they had of (worldly) knowledge. So Allah sent upon them a punishment which they could not escape or resist."
وَحَاقَ بِهِم
(and surrounded them.) means, encompassed them.
مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(that at which they used to mock,) means, that which they used to disbelieve in and said would never happen,
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا
(So when they saw Our punishment,) means, when they saw with their own eyes the punishment which came upon them, they said,
قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
(We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners. ) means, they affirmed that Allah is One and denied the false gods, but this was at the time when excuses were to no avail. This is like what Fir`awn said as he was drowning:
ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims.) (10:90) But Allah said:
ءَالَنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(Now (you believe) while you refused to believe before and you were one of the the corrupters.) (10:91) meaning, Allah did not accept this from him, because He had answered the prayer of His Prophet Musa, when he said,
وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(And harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment) (10:88). Allah says here:
فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ
(Then their Faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants.) means, this is the ruling of Allah concerning all those who repent only when they actually see the punishment: He does not accept that from them. It says in the Hadith:
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَالَمْ يُغَرْغِر»
(Allah will accept the repentance of His servant so long as the death rattle is not sounding in his throat.) Once the death rattle is sounding and the soul has reached the throat, and the dying person actually sees the angel (of death), then he can no longer repent. Allah says:
وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ
(And there the disbelievers lost utterly.) This is the end of the Tafsir of Surah Ghafir. Praise and thanks be to Allah.
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔
84
View Single
فَلَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥ وَكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهِۦ مُشۡرِكِينَ
So when they saw Our punishment, they said, “We accept faith in the One Allah, and reject those whom we ascribed with Him.”
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے: ہم اللہ پر ایمان لائے جو یکتا ہے اور ہم نے اُن (سب) کا انکار کر دیا جنہیں ہم اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Lesson to be learned from what happened to Those Who Came before
Allah tells us about the nations who rejected their Messengers in ancient times. He mentioned the severe punishment they suffered despite their great strength, He mentioned the traces which they left behind in the earth and the great wealth they amassed. None of that availed them anything and could not prevent the punishment of Allah at all. That is because when the Messengers came to them with clear signs and decisive evidence, they did not pay any attention to them. Instead, they were content with the knowledge with them, or so they claimed, and they said that they did not need what the Messengers brought them. Mujahid said, "They said, we know better than them, we will not be resurrected and we will not be punished." As-Suddi said, "In their ignorance, they rejoiced in what they had of (worldly) knowledge. So Allah sent upon them a punishment which they could not escape or resist."
وَحَاقَ بِهِم
(and surrounded them.) means, encompassed them.
مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(that at which they used to mock,) means, that which they used to disbelieve in and said would never happen,
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا
(So when they saw Our punishment,) means, when they saw with their own eyes the punishment which came upon them, they said,
قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
(We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners. ) means, they affirmed that Allah is One and denied the false gods, but this was at the time when excuses were to no avail. This is like what Fir`awn said as he was drowning:
ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims.) (10:90) But Allah said:
ءَالَنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(Now (you believe) while you refused to believe before and you were one of the the corrupters.) (10:91) meaning, Allah did not accept this from him, because He had answered the prayer of His Prophet Musa, when he said,
وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(And harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment) (10:88). Allah says here:
فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ
(Then their Faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants.) means, this is the ruling of Allah concerning all those who repent only when they actually see the punishment: He does not accept that from them. It says in the Hadith:
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَالَمْ يُغَرْغِر»
(Allah will accept the repentance of His servant so long as the death rattle is not sounding in his throat.) Once the death rattle is sounding and the soul has reached the throat, and the dying person actually sees the angel (of death), then he can no longer repent. Allah says:
وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ
(And there the disbelievers lost utterly.) This is the end of the Tafsir of Surah Ghafir. Praise and thanks be to Allah.
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔
85
View Single
فَلَمۡ يَكُ يَنفَعُهُمۡ إِيمَٰنُهُمۡ لَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَاۖ سُنَّتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ فِي عِبَادِهِۦۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
So their accepting of faith did not benefit them when they saw Our punishment; the tradition of Allah which has passed among His bondmen; and there were the disbelievers ruined.
پھر اُن کا ایمان لانا اُن کے کچھ کام نہ آیا جبکہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تھا، اللہ کا (یہی) دستور ہے جو اُس کے بندوں میں گزرتا چلا آرہا ہے اور اس مقام پر کافروں نے (ہمیشہ) سخت نقصان اٹھایا
Tafsir Ibn Kathir
The Lesson to be learned from what happened to Those Who Came before
Allah tells us about the nations who rejected their Messengers in ancient times. He mentioned the severe punishment they suffered despite their great strength, He mentioned the traces which they left behind in the earth and the great wealth they amassed. None of that availed them anything and could not prevent the punishment of Allah at all. That is because when the Messengers came to them with clear signs and decisive evidence, they did not pay any attention to them. Instead, they were content with the knowledge with them, or so they claimed, and they said that they did not need what the Messengers brought them. Mujahid said, "They said, we know better than them, we will not be resurrected and we will not be punished." As-Suddi said, "In their ignorance, they rejoiced in what they had of (worldly) knowledge. So Allah sent upon them a punishment which they could not escape or resist."
وَحَاقَ بِهِم
(and surrounded them.) means, encompassed them.
مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(that at which they used to mock,) means, that which they used to disbelieve in and said would never happen,
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا
(So when they saw Our punishment,) means, when they saw with their own eyes the punishment which came upon them, they said,
قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَـفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
(We believe in Allah Alone and reject (all) that we used to associate with Him as (His) partners. ) means, they affirmed that Allah is One and denied the false gods, but this was at the time when excuses were to no avail. This is like what Fir`awn said as he was drowning:
ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ وَأَنَاْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe, and I am one of the Muslims.) (10:90) But Allah said:
ءَالَنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(Now (you believe) while you refused to believe before and you were one of the the corrupters.) (10:91) meaning, Allah did not accept this from him, because He had answered the prayer of His Prophet Musa, when he said,
وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(And harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment) (10:88). Allah says here:
فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَـنُهُمْ لَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ
(Then their Faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants.) means, this is the ruling of Allah concerning all those who repent only when they actually see the punishment: He does not accept that from them. It says in the Hadith:
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَالَمْ يُغَرْغِر»
(Allah will accept the repentance of His servant so long as the death rattle is not sounding in his throat.) Once the death rattle is sounding and the soul has reached the throat, and the dying person actually sees the angel (of death), then he can no longer repent. Allah says:
وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَـفِرُونَ
(And there the disbelievers lost utterly.) This is the end of the Tafsir of Surah Ghafir. Praise and thanks be to Allah.
نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم کی حقارت کرنے لگے، کہنے لگے ہم ہی زیادہ عالم ہیں حساب کتاب، عذاب ثواب کوئی چیز نہیں۔ اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھے۔ پھر تو اللہ کا وہ عذاب آیا کہ ان کے بنائے کچھ نہ بنی اور جسے جھٹلاتے تھے۔ جس پر ناک بھوں چڑھاتے تھے جسے مذاق میں اڑاتے تھے اسی نے انہیں تہس نہس کردیا، پھر کس بل نکال ڈالا، تہ وبالا کردیا، روئی کی طرح دھن دیا اور بھوسی کی طرح اڑا دیا۔ اللہ کے عذابوں کو آتا ہوا بلکہ آیا ہوا دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا اور توحید تسلیم بھی کرلی۔ اور غیر اللہ جل شانہ سے صاف انکار بھی کیا، لیکن اس وقت کی نہ توبہ قبول نہ ایمان قبول نہ اسلام مسلم۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کرچکے ہو۔ حضرت موسیٰ نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بددعا کی تھی کہ اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔ حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ جب دم سینے میں انکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لئے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔