التوبة — At tawba
Ayah 32 / 129 • Medinan
181
32
At tawba
التوبة • Medinan
يُرِيدُونَ أَن يُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَيَأۡبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
They wish to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah will not agree except that He will perfect His light, even if the disbelievers get annoyed.
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ (یہ بات) قبول نہیں فرماتا مگر یہ (چاہتا ہے) کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا دے اگرچہ کفار (اسے) ناپسند ہی کریں
Tafsir Ibn Kathir
People of the Scriptures try to extinguish the Light of Islam
Allah says, the disbelieving idolators and People of the Scriptures want to,
أَن يُطْفِئُواْ نُورَ اللَّهِ
(extinguish the Light of Allah). They try through argument and lies to extinguish the guidance and religion of truth that the Messenger of Allah ﷺ was sent with. Their example is the example of he who wants to extinguish the light of the sun or the moon by blowing at them! Indeed, such a person will never accomplish what he sought. Likewise, the light of what the Messenger was sent with will certainly shine and spread. Allah replied to the idolators' desire and hope,
وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(but Allah will not allow except that His Light should be perfected even though the disbelievers (Kafirun) hate (it)) 9:32. Linguistincally a Kafir is the person who covers something. For instance, night is called Kafiran covering because it covers things with darkness. The farmer is called Kafiran, because he covers seeds in the ground. Allah said in an Ayah,
أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ
(thereof the growth is pleasing to the Kuffar tillers)57:20.
Islam is the Religion That will dominate over all Other Religions
Allah said next,
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ
(It is He Who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth.) `Guidance' refers to the true narrations, beneficial faith and true religion that the Messenger came with. `religion of truth' refers to the righteous, legal deeds that bring about benefit in this life and the Hereafter.
لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ
(to make it (Islam) superior over all religions) It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَسَيَبْلُغُ مُلْكُ أُمَّتِي مَا زُوِيَ لِييِمنْهَا»
(Allah made the eastern and western parts of the earth draw near for me to see, and the rule of my Ummah will extend as far as I saw.) Imam Ahmad recorded from Tamim Ad-Dari that he said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ هَذَا الدِّينَ، يُعِزُّ عَزِيزًا وَيُذِلُّ ذَلِيلًا، عِزًّا يُعِزُّ اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا يُذِلُّ اللهُ بِهِ الْكُفْر»
(This matter (Islam) will keep spreading as far as the night and day reach, until Allah will not leave a house made of mud or hair, but will make this religion enter it, while bringing might to a mighty person (a Muslim) and humiliation to a disgraced person (who rejects Islam). Might with which Allah elevates Islam (and its people) and disgrace with which Allah humiliates disbelief (and its people).) Tamim Ad-Dari who was a Christian before Islam used to say, "I have come to know the meaning of this Hadith in my own people. Those who became Muslims among them acquired goodness, honor and might. Disgrace, humiliation and Jizyah befell those who remained disbelievers."
کفارہ کی دلی مذموم خواہش۔ فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ نور الٰہی بجھا دیں ہدایت ربانی اور دین حق کو مٹا دیں تو خیال کرلو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح یہ لوگ بھی نور رب کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کریں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ ضروری بات ہے اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیم رسول ﷺ کا بول بالا ہوگا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ اس کو بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی۔ تم گو ناخوش رہو لیکن آفتاب ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔ عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لئے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے۔ کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے جیسے فرمان ہے (كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20) 57۔ الحدید :20) اسی اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے حضور ﷺ کی سچی خبروں اور صحیح ایمان اور نفع والے علم پہ مبنی یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں ان کا مجموعہ یہ دین حق ہے۔ یہ تمام اور مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا آنحضرت رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں میرے لئے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔ فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہوگا تمہارے سردار جہنمی ہیں۔ بجز ان کے جو متقی پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہوگی حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اس سے خیر و برکت عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت نفرت و لعنت نصیب ہوئی۔ پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہوگا وہ اسے نہیں مانیں گے لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔ حضرت عدی فرماتے ہیں میرے پاس رسول کریم ﷺ تشریف لائے مجھ سے فرمایا اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے میں نے کہا میں تو ایک دین کو مانتا ہوں آپ نے فرمایا تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے میں نے کہا سچ ؟ آپ نے فرمایا بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے ؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا ؟ میں نے کہا یہ تو سچ ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے دین میں یہ تیرے لئے حلال نہیں پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا آپ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے ؟ سن صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن حیرہ کا تجھے علم ہے ؟ میں نے کہا دیکھا تو نہیں لیکن سنا ضرور ہے۔ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر اکیلے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے گا اور بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا۔ واللہ تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے میں نے کہا کسریٰ بن ہرمز کے ؟ آپ نے فرمایا ہاں کسریٰ بن ہرمز کے تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔ اس حدیث کو بیان کرتے وقت حضرت عدی نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان پورا ہوا۔ یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق کی دوسری پیشنگوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں لئے۔ واللہ مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق ﷺ کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دن رات کا دور ختم نہ ہوگا جب تک پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ (آیت ھو الذی ارسل) کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے آپ نے فرمایا ہاں پوری ہوگئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ پاک کو منظور ہوگا پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہوگی پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔
بَرَآءَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Severance of ties is proclaimed by Allah and on behalf of His Noble Messenger, towards the polytheists with whom you had a treaty.
اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بیزاری (و دست برداری) کا اعلان ہے ان مشرک لوگوں کی طرف جن سے تم نے (صلح و امن کا) معاہدہ کیا تھا (لیکن اُنہوں نے معاہدہ توڑتے ہوئے حالتِ جنگ کو پھر بحال کردیا)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
Why there is no Basmalah in the Beginning of This Surah
This honorable Surah (chapter 9) was one of the last Surahs to be revealed to the Messenger of Allah ﷺ. Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The last Ayah to be revealed was,
يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى الْكَلَـلَةِ
(They ask you for a legal verdict. Say: "Allah directs (thus) about Al-Kalalah.") 4:176, while the last Surah to be revealed was Bara'ah."
The Basmalah was not mentioned in the beginning of this Surah because the Companions did not write it in the complete copy of the Qur'an (Mushaf) they collected, following the Commander of the faithful, `Uthman bin `Affan, may Allah be pleased with him. The first part of this honorable Surah was revealed to the Messenger of Allah ﷺ when he returned from the battle of Tabuk, during the Hajj season, which the Prophet thought about attending. But he remembered that the idolators would still attend that Hajj, as was usual in past years, and that they perform Tawaf around the House while naked. He disliked to associate with them and sent Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, to lead Hajj that year and show the people their rituals, commanding him to inform the idolators that they would not be allowed to participate in Hajj after that season. He commanded him to proclaim,
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(Freedom from (all) obligations (is declared) from Allah and His Messenger ()...), to the people. When Abu Bakr had left, the Messenger ﷺ sent `Ali bin Abu Talib to be the one to deliver this news to the idolators on behalf of the Messenger ﷺ, for he was the Messenger's cousin. We will mention this story later.
Publicizing the Disavowal of the Idolators
Allah said,
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(Freedom from obligations from Allah and His Messenger ()), is a declaration of freedom from all obligations from Allah and His Messenger ,
إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِّنَ الْمُشْرِكِينَفَسِيحُواْ فِى الاٌّرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ
(to those of the Mushrikin, with whom you made a treaty. So travel freely (Mushrikin) for four months (as you will) throughout the land) 9:1-2. This Ayah refers to idolators who had indefinite treaties and those, whose treaties with Muslims ended in less than four months. The terms of these treaties were restricted to four months only. As for those whose term of peace ended at a specific date later (than the four months), then their treaties would end when their terms ended, no matter how long afterwards, for Allah said,
فَأَتِمُّواْ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ
(So fulfill their treaty for them until the end of their term)9:4. So whoever had a coventant with Allah's Messenger ﷺ then it would last until its period expired, this was reported from Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi and others. We will also mention a Hadith on this matter. Abu Ma`shar Al-Madani said that Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi and several others said, "The Messenger of Allah ﷺ sent Abu Bakr to lead the Hajj rituals on the ninth year (of Hijrah). He also sent `Ali bin Abi Talib with thirty or forty Ayat from Bara'ah (At-Tawbah), and he recited them to the people, giving the idolators four months during which they freely move about in the land. He recited these Ayat on the day of `Arafah (ninth of Dhul-Hijjah). The idolators were given twenty more days (till the end) of Dhul-Hijjah, Muharram, Safar, Rabi` Al-Awwal and ten days from Rabi` Ath-Thani. He proclaimed to them in their camping areas, `No Mushrik will be allowed to perform Hajj after this year, nor a naked person to perform Tawaf around the House."' So Allah said,
یہ سورت سب سے آخر رسول ﷺ پر اتری ہے بخاری شریف میں ہے سب سے آخر (آیت یسفتونک الخ،) اتری اور سب سے آخری سورت سورة براۃ اتری ہے۔ اس کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ نے امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اقتدا کر کے اسے قرآن میں لکھا نہیں تھا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے آپ نے سورة انفال کو جو مثانی میں سے ہے اور سورة براۃ کو جو مئین میں سے ہے ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور پہلے کی سات لمبی سورتوں میں انہیں رکھیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ بسا اوقات حضور رسول اللہ ﷺ پر ایک ساتھ کئی سورتیں اترتی تھیں۔ جب آیت اترتی آپ وحی کے لکھنے والوں میں سے کسی کو بلا کر فرما دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں لکھ دو جس میں یہ یہ ذکر ہے۔ سورة انفال مدینہ شریف میں سب سے پہلے نازل ہوئی اور سورة براۃ سب سے آخر میں اتری تھی بیانات دونوں کے ملتے جلتے تھے مجھے ڈر لگا کہ کہیں یہ بھی اسی میں سے نہ ہو حضور صلی اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا اور آپ ﷺ نے ہم سے نہیں فرمایا کہ یہ اس میں سے ہے اس لیے میں نے دونوں سورتیں متصل لکھیں اور انکے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھیں اور سات پہلی لمبی سورتوں میں انہیں رکھا۔ اس سورت کا ابتدائی حصہ اس وقت اترا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ حج کا زمانہ تھا مشرکین اپنی عادت کے مطابق حج میں آکر بیت اللہ شریف کا طواف ننگے ہو کر کیا کرتے تھے۔ آپ نے ان میں خلا ملا ہونا ناپسند فرما کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو حج کا امام بنا کر اس سال مکہ شریف روانہ فرمایا کہ مسلمانوں کو احکام حج سکھائیں اور مشرکوں میں اعلان کردیں کہ وہ آئندہ سال سے حج کو نہ آئیں اور سورة براۃ کا بھی عام لوگوں میں اعلان کردیں۔ آپ کے پیچھے پھر حضرت علی ؓ کو بھیجا کہ آپ کا پیغام بحیثیت آپ کے نزدیکی قرابت داری کے آپ بھی پہنچا دیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان آرہا ہے۔ انشاء اللہ۔ پس فرمان ہے کہ یہ بےتعلق ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بعض تو کہتے ہیں یہ اعلان اس عہد و پیمان کے متعلق پہچان سے کوئی وقت معین نہ تھا یا جن سے عہد چار ماہ سے کم کا تھا لیکن جن کا لمبا عہد تھا وہ بدستور باقی رہا۔ جیسے فرمان ہے کہ (فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ) 9۔ التوبہ :4) ان کی مدت پوری ہونے تک تم ان سے ان کا عہد نبھاؤ۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ آپ نے فرمایا ہم سے جن کا عہد و پیمان ہے ہم اس پر مقررہ وقت تک پابندی سے قائم ہیں گو اس بارے میں اوراقوال بھی ہیں لیکن سب سے اچھا اور سب سے قوی قول یہی ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جن لوگوں سے عہد ہوچکا تھا ان کے لیے چار ماہ کی حد بندی اللہ تعالیٰ نے مقرر کی اور جن سے عہد نہ تھا ان کے لیے حرمت والے مہینوں کے گذر جانے کی عہد بندی مقرر کردی یعنی دس ذی الحجہ سے محرم الحرام تک کے پچاس دن۔ اس مدت کے بعد حضور ﷺ کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلیں۔ اور جن سے عہد ہے وہ دس ذی الحجہ کے اعلان کے دن سے لے کر بیس ربیع الآخر تک اپنی تیاری کرلیں پھر اگر چاہیں مقابلے پر آجائیں یہ واقعہ سنہ009ھ کا ہے۔ آپ نے حضرت ابوبکر کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا تھا اور حضرت علی کو تیس یا چالیس آیتیں قرآن کی اس صورت کی دے کر بھیجا کہ آپ چار ماہ کی مدت کا اعلان کردیں۔ آپ نے ان کے ڈیروں میں گھروں میں منزلوں میں جا جا کر یہ آیتیں انہیں سنا دیں اور ساتھ ہی سرکار نبوت کا یہ حکم بھی سنا دیا کہ اس سال کے بعد حج کے لیے کوئی مشرک نہ آئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی ننگا شخص نہ کرے۔ قبیلہ خزاعہ قبیلہ مدلج اور دوسرے سب قبائل کے لیے بھی یہی اعلان تھا۔ تبوک سے آکر آپ نے حج کا ارادہ کیا تھا لیکن مشرکوں کا وہاں آنا ان کا ننگے ہو کر وہاں کا طواف کرنا آپ ﷺ کو ناپسند تھا اس لیے حج نہ کیا اور اس سال حضرت ابوبکر کو اور حضرت علی کو بھیجا انہوں نے ذی المجاز کے بازاروں میں اور ہر گلی کوچے اور ہر ہر پڑاؤ اور میدان میں اعلان کیا کہ چار مہینے تک کی تو شرک اور مشرک کو مہلت ہے اس کے بعد ہماری اسلامی تلواریں اپنا جو ہر دکھائیں گی بیس دن ذی الحجہ کے محرم پورا صفر پورا اور ربیع الاول پورا اور دس دن ربیع الآخر کے۔ زہری کہتے ہیں شوال محرم تک کی ڈھیل تھی لیکن یہ قول غریب ہے۔ اور سمجھ سے بھی بالا تر ہے کہ حکم پہنچنے سے پہلے ہی مدت شماری کیسے ہوسکتی ہے ؟
فَسِيحُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخۡزِي ٱلۡكَٰفِرِينَ
Travel freely in the land for four months, and bear in mind that you cannot escape from Allah, and that Allah will humiliate the disbelievers.
پس (اے مشرکو!) تم زمین میں چار ماہ (تک) گھوم پھر لو (اس مہلت کے اختتام پر تمہیں جنگ کا سامنا کرنا ہوگا) اور جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اور بیشک اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
Why there is no Basmalah in the Beginning of This Surah
This honorable Surah (chapter 9) was one of the last Surahs to be revealed to the Messenger of Allah ﷺ. Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The last Ayah to be revealed was,
يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِى الْكَلَـلَةِ
(They ask you for a legal verdict. Say: "Allah directs (thus) about Al-Kalalah.") 4:176, while the last Surah to be revealed was Bara'ah."
The Basmalah was not mentioned in the beginning of this Surah because the Companions did not write it in the complete copy of the Qur'an (Mushaf) they collected, following the Commander of the faithful, `Uthman bin `Affan, may Allah be pleased with him. The first part of this honorable Surah was revealed to the Messenger of Allah ﷺ when he returned from the battle of Tabuk, during the Hajj season, which the Prophet thought about attending. But he remembered that the idolators would still attend that Hajj, as was usual in past years, and that they perform Tawaf around the House while naked. He disliked to associate with them and sent Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, to lead Hajj that year and show the people their rituals, commanding him to inform the idolators that they would not be allowed to participate in Hajj after that season. He commanded him to proclaim,
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(Freedom from (all) obligations (is declared) from Allah and His Messenger ()...), to the people. When Abu Bakr had left, the Messenger ﷺ sent `Ali bin Abu Talib to be the one to deliver this news to the idolators on behalf of the Messenger ﷺ, for he was the Messenger's cousin. We will mention this story later.
Publicizing the Disavowal of the Idolators
Allah said,
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(Freedom from obligations from Allah and His Messenger ()), is a declaration of freedom from all obligations from Allah and His Messenger ,
إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِّنَ الْمُشْرِكِينَفَسِيحُواْ فِى الاٌّرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ
(to those of the Mushrikin, with whom you made a treaty. So travel freely (Mushrikin) for four months (as you will) throughout the land) 9:1-2. This Ayah refers to idolators who had indefinite treaties and those, whose treaties with Muslims ended in less than four months. The terms of these treaties were restricted to four months only. As for those whose term of peace ended at a specific date later (than the four months), then their treaties would end when their terms ended, no matter how long afterwards, for Allah said,
فَأَتِمُّواْ إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ
(So fulfill their treaty for them until the end of their term)9:4. So whoever had a coventant with Allah's Messenger ﷺ then it would last until its period expired, this was reported from Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi and others. We will also mention a Hadith on this matter. Abu Ma`shar Al-Madani said that Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi and several others said, "The Messenger of Allah ﷺ sent Abu Bakr to lead the Hajj rituals on the ninth year (of Hijrah). He also sent `Ali bin Abi Talib with thirty or forty Ayat from Bara'ah (At-Tawbah), and he recited them to the people, giving the idolators four months during which they freely move about in the land. He recited these Ayat on the day of `Arafah (ninth of Dhul-Hijjah). The idolators were given twenty more days (till the end) of Dhul-Hijjah, Muharram, Safar, Rabi` Al-Awwal and ten days from Rabi` Ath-Thani. He proclaimed to them in their camping areas, `No Mushrik will be allowed to perform Hajj after this year, nor a naked person to perform Tawaf around the House."' So Allah said,
یہ سورت سب سے آخر رسول ﷺ پر اتری ہے بخاری شریف میں ہے سب سے آخر (آیت یسفتونک الخ،) اتری اور سب سے آخری سورت سورة براۃ اتری ہے۔ اس کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ نے امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اقتدا کر کے اسے قرآن میں لکھا نہیں تھا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے آپ نے سورة انفال کو جو مثانی میں سے ہے اور سورة براۃ کو جو مئین میں سے ہے ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور پہلے کی سات لمبی سورتوں میں انہیں رکھیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ بسا اوقات حضور رسول اللہ ﷺ پر ایک ساتھ کئی سورتیں اترتی تھیں۔ جب آیت اترتی آپ وحی کے لکھنے والوں میں سے کسی کو بلا کر فرما دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں لکھ دو جس میں یہ یہ ذکر ہے۔ سورة انفال مدینہ شریف میں سب سے پہلے نازل ہوئی اور سورة براۃ سب سے آخر میں اتری تھی بیانات دونوں کے ملتے جلتے تھے مجھے ڈر لگا کہ کہیں یہ بھی اسی میں سے نہ ہو حضور صلی اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا اور آپ ﷺ نے ہم سے نہیں فرمایا کہ یہ اس میں سے ہے اس لیے میں نے دونوں سورتیں متصل لکھیں اور انکے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھیں اور سات پہلی لمبی سورتوں میں انہیں رکھا۔ اس سورت کا ابتدائی حصہ اس وقت اترا جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ حج کا زمانہ تھا مشرکین اپنی عادت کے مطابق حج میں آکر بیت اللہ شریف کا طواف ننگے ہو کر کیا کرتے تھے۔ آپ نے ان میں خلا ملا ہونا ناپسند فرما کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو حج کا امام بنا کر اس سال مکہ شریف روانہ فرمایا کہ مسلمانوں کو احکام حج سکھائیں اور مشرکوں میں اعلان کردیں کہ وہ آئندہ سال سے حج کو نہ آئیں اور سورة براۃ کا بھی عام لوگوں میں اعلان کردیں۔ آپ کے پیچھے پھر حضرت علی ؓ کو بھیجا کہ آپ کا پیغام بحیثیت آپ کے نزدیکی قرابت داری کے آپ بھی پہنچا دیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان آرہا ہے۔ انشاء اللہ۔ پس فرمان ہے کہ یہ بےتعلق ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بعض تو کہتے ہیں یہ اعلان اس عہد و پیمان کے متعلق پہچان سے کوئی وقت معین نہ تھا یا جن سے عہد چار ماہ سے کم کا تھا لیکن جن کا لمبا عہد تھا وہ بدستور باقی رہا۔ جیسے فرمان ہے کہ (فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ) 9۔ التوبہ :4) ان کی مدت پوری ہونے تک تم ان سے ان کا عہد نبھاؤ۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ آپ نے فرمایا ہم سے جن کا عہد و پیمان ہے ہم اس پر مقررہ وقت تک پابندی سے قائم ہیں گو اس بارے میں اوراقوال بھی ہیں لیکن سب سے اچھا اور سب سے قوی قول یہی ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جن لوگوں سے عہد ہوچکا تھا ان کے لیے چار ماہ کی حد بندی اللہ تعالیٰ نے مقرر کی اور جن سے عہد نہ تھا ان کے لیے حرمت والے مہینوں کے گذر جانے کی عہد بندی مقرر کردی یعنی دس ذی الحجہ سے محرم الحرام تک کے پچاس دن۔ اس مدت کے بعد حضور ﷺ کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلیں۔ اور جن سے عہد ہے وہ دس ذی الحجہ کے اعلان کے دن سے لے کر بیس ربیع الآخر تک اپنی تیاری کرلیں پھر اگر چاہیں مقابلے پر آجائیں یہ واقعہ سنہ009ھ کا ہے۔ آپ نے حضرت ابوبکر کو امیر حج مقرر کر کے بھیجا تھا اور حضرت علی کو تیس یا چالیس آیتیں قرآن کی اس صورت کی دے کر بھیجا کہ آپ چار ماہ کی مدت کا اعلان کردیں۔ آپ نے ان کے ڈیروں میں گھروں میں منزلوں میں جا جا کر یہ آیتیں انہیں سنا دیں اور ساتھ ہی سرکار نبوت کا یہ حکم بھی سنا دیا کہ اس سال کے بعد حج کے لیے کوئی مشرک نہ آئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی ننگا شخص نہ کرے۔ قبیلہ خزاعہ قبیلہ مدلج اور دوسرے سب قبائل کے لیے بھی یہی اعلان تھا۔ تبوک سے آکر آپ نے حج کا ارادہ کیا تھا لیکن مشرکوں کا وہاں آنا ان کا ننگے ہو کر وہاں کا طواف کرنا آپ ﷺ کو ناپسند تھا اس لیے حج نہ کیا اور اس سال حضرت ابوبکر کو اور حضرت علی کو بھیجا انہوں نے ذی المجاز کے بازاروں میں اور ہر گلی کوچے اور ہر ہر پڑاؤ اور میدان میں اعلان کیا کہ چار مہینے تک کی تو شرک اور مشرک کو مہلت ہے اس کے بعد ہماری اسلامی تلواریں اپنا جو ہر دکھائیں گی بیس دن ذی الحجہ کے محرم پورا صفر پورا اور ربیع الاول پورا اور دس دن ربیع الآخر کے۔ زہری کہتے ہیں شوال محرم تک کی ڈھیل تھی لیکن یہ قول غریب ہے۔ اور سمجھ سے بھی بالا تر ہے کہ حکم پہنچنے سے پہلے ہی مدت شماری کیسے ہوسکتی ہے ؟
وَأَذَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ فَإِن تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
And proclaim from Allah and His Noble Messenger to all men on the day of the Great Pilgrimage (Haj) that Allah is disgusted with the polytheists, and so is His Noble Messenger; so if you repent it is better for you; but if you turn away, then know that you cannot escape from Allah; and give the disbelievers the glad tidings of a painful punishment.
(یہ آیات) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے تمام لوگوں کی طرف حجِ اکبر کے دن اعلانِ (عام) ہے کہ اللہ مشرکوں سے بے زار ہے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (ان سے بری الذمّہ ہے)، پس (اے مشرکو!) اگر تم توبہ کر لو تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم نے روگردانی کی تو جان لو کہ تم ہرگز اللہ کو عاجز نہ کر سکو گے، اور (اے حبیب!) آپ کافروں کو دردناک عذاب کی خبر سنا دیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah says, this is a declaration,
مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
(from Allah and His Messenger), and a preface warning to the people,
يَوْمَ الْحَجِّ الاٌّكْبَرِ
(on the greatest day of Hajj), the day of Sacrifice, the best and most apparent day of the Hajj rituals, during which the largest gathering confers.
أَنَّ اللَّهَ بَرِىءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ
(that Allah is free from (all) obligations to the Mushrikin and so is His Messenger.) also free from all obligations to them. Allah next invites the idolators to repent,
فَإِن تُبْتُمْ
(So if you repent), from the misguidance and Shirk you indulge in,
فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ
(it is better for you, but if you turn away), and persist on your ways,
فَاعْلَمُواْ أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللَّهِ
(then know that you cannot escape Allah) Rather, Allah is capable over you, and you are all in His grasp, under His power and will,
وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And give tidings of a painful torment for those who disbelieve) earning them disgrace and affliction in this life and the torment of chains and barbed iron bars in the Hereafter. Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said, "Abu Bakr sent me during that Hajj with those dispatched on the day of Sacrifice to declare in Mina that no Mushrik will be allowed to attend Hajj after that year, nor will a naked person be allowed to perform Tawaf." Humayd said, "The Prophet then sent `Ali bin Abi Talib and commanded him to announce Bara'ah." Abu Hurayrah said, "Ali publicized Bara'ah with us to the gathering in Mina on the day of Sacrifice, declaring that no Mushrik shall perform Hajj after that year, nor shall a naked person perform Tawaf around the House." Al-Bukhari also collected this Hadith the this narration of which, Abu Hurayrah said, "On the day of Nahr, Abu Bakr sent me along with other announcers to Mina to make a public announcement that `No pagan is allowed to perform Hajj after this year, and no naked person is allowed to perform the Tawaf around the Ka`bah.' Abu Bakr was leading the people in that Hajj season, and in the year of `The Farewell Hajj' when the Prophet performed Hajj, no Mushrik performed Hajj."' This is the narration that Al-Bukhari recorded in the Book on Jihad. Muhammad bin Ishaq reported a narration from Abu Ja`far Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn who said, "When Bara'ah was revealed to Allah's Messenger ﷺ, and he had sent Abu Bakr to oversee the Hajj rites for the people, he was asked, `O Messenger of Allah! Why not send this message to Abu Bakr' So he said,
«لَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي»
(It will not be accepted to have been from me if it is not from a man from my family.) Then he called for `Ali and said to him,
«اخْرُجْ بِهذِهِ الْقِصَّةِ مِنْ صَدْرِ بَرَاءَةَ وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ إِذَا اجْتَمَعُوا بِمِنًى، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ كَافِرٌ، وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلّم عَهْدٌ فَهُوَ لَهُ إِلَى مُدَّتِه»
(Take this section from the beginning of Bara'ah and proclaim to the people on the day of the Sacrifice while they are gathered at Mina that no disbeliever will enter Paradise, no idolator will be permitted to perform Hajj after the year, there will be no Tawaf while naked, and whoever has a covenant with Allah's Messenger ﷺ, then it shall be valid until the time of its expiration.) `Ali rode the camel of Allah's Messenger named Al-`Adba' until he caught up with Abu Bakr in route. When Abu Bakr saw him he said, `Are you here as a commander or a follower.' `Ali replied, `A follower.' They continued on. Abu Bakr lead the people in Hajj while the Arabs were camping in their normal locations from Jahiliyyah. On the day of Sacrifice, `Ali bin Abi Talib stood and proclaimed, `O people! No disbeliever will be admitted into Paradise, no idolator will be permitted to perform Hajj next year, there shall be no Tawaf while naked, and whoever has a covenant with Allah's Messenger ﷺ, then it shall be valid until its time of expiration.' So no idolator performed Hajj after that year, Tawaf around the House while naked ceased. Then they returned to Allah's Messenger ﷺ. So this was the declaration of innocence, whoever among the idolators had no treaty, then he had a treaty of peace for one year, if he had a particular treaty, then it was valid until its date of expiration."
حج اکبر کے دن اعلان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے عام اعلان ہے اور ہے بھی بڑے حج کے دن۔ یعنی عید قرباں کو جو حج کے تمام دنوں سے بڑا اور افضل دن ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ مشرکوں سے بری الذمہ بیزار اور الگ ہے اگر اب بھی تم گمراہی اور شرک و برائی چھوڑ دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے توبہ کرلو نیک بن جاؤ اسلام قبول کرلو، شرک و کفر چھوڑ دو اور اگر تم نے نہ مانا اپنی ضلالت پر قائم رہے تو تم نہ اب اللہ کے قبضے سے باہر ہو نہ آئندہ کسی وقت اللہ کو دبا سکتے ہو وہ تم پر قادر ہے تمہاری چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ کافروں کو دنیا میں بھی سزا کرے گا اور آخرت میں بھی عذاب کرے گا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قربانی والے دن ان لوگوں میں جو اعلان کے لیے بھیجے گئے تھے بھیجا۔ ہم نے منادی کردی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی شخص ننگا ہو کر نہ کرے پھر حضور ﷺ نے حضرت علی کو بھیجا کہ سورة براۃ کا اعلان کردیں پس آپ نے بھی منٰی میں ہمارے ساتھ عید کے دن انہیں احکام کی منادی کی۔ حج اکبر کا دن بقرہ عید کا دن ہے۔ کیونکہ لوگ حج اصغر بولا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اعلان کے بعد حجتہ الوداع میں ایک بھی مشرک حج کو نہیں آیا تھا۔ حنین کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ نے جعرانہ سے عمرے کا احرام باندھا تھا پھر اس سال حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور آپ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو منادی کے لیے روانہ فرمایا پھر حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بھیجا کہ برات کا اعلان کردیں امیر حج حضرت علی ؓ کے آنے کے بعد بھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی رہے ؓ۔ لیکن اس روایت میں غربت ہے عمرہ جعرانہ والے سال امیر حج حضرت عتاب بن اسید تھے حضرت ابو بکرصدیق ؓ تو سنہ009ھ میں امیر حج تھے۔ مسند کی روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں اس سال حضرت علی ؓ کے ساتھ میں تھا ہم نے پکار پکار کر منادی کردی کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے بیت اللہ کا طواف آئندہ سے کوئی شخص عریانی کی حالت میں نہیں کرسکے گا۔ جن کے ساتھ ہمارے عہد و پیمان ہیں ان کی مدت آج سے چار ماہ کی ہے، اس مدت کے گذر جانے کے بعد اللہ اور اس کا رسول ﷺ مشرکوں سے بری الذمہ ہیں اس سال کے بعد کسی کافر کو بیت اللہ کے حج کی اجات نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ یہ منادی کرتے کرتے مرا گلا پڑگیا۔ حضرت علی کی آواز بیٹھ جانے کے بعد میں نے منادی شروع کردی تھی۔ ایک روایت میں ہے جس سے عہد ہے اس کی مدت وہی ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مجھے تو ڈر ہے کہ یہ جملہ کسی راوی کے وہم کی وجہ سے نہ ہو۔ کیونکہ مدت کے بارے میں اس کے خلاف بہت سی روایتیں ہیں۔ مسند میں ہے کہ براۃ کا اعلان کرنے کو آپ ﷺ حضرت ابو بکرصدیق ؓ کو بھیجا وہ ذوالحلیفہ پہنچے ہوں گے جو آپ نے فرمایا کہ یہ اعلان تو یا میں خود کروں گا یا میرے اہل بیت میں سے کوئی شخص کرے گا پھر آپ نے حضرت علی کو بھیجا حضرت علی فرماتے ہیں سورة برات کی دس آیتیں جب اتریں آپ نے حضرت ابوبکر کو بلا کر فرمایا انہیں لے جاؤ اور اہل مکہ کو سناؤ پھر مجھے یاد فرمایا اور ارشاد ہوا کہ تم جاؤ ابوبکر صدیق ؓ سے تم ملو جہاں وہ ملیں ان سے کتاب لے لینا اور مکہ والوں کے پاس جاکر انہیں پڑھ سنانا میں چلا جحفہ میں جا کر ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کتاب لے لی آپ واپس لوٹے اور حضور ﷺ سے پوچھا کہ کیا میرے بارے میں کوئی آیتیں نازل ہوئی ہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور فرمایا کہ یا تو یہ پیغام خود آپ پہنچائیں یا اور کوئی شخص جو آپ میں سے ہو۔ اس سند میں ضعف ہے اور اس سے یہ مراد بھی نہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس وقت لوٹ آئے نہیں بلکہ آپ نے اپنی سرداری میں وہ حج کرایا حج سے فارغ ہو کر پھر واپس آئے جیسے کہ اور روایتوں میں صراحتاً مروی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضرت علی ؓ سے جب حضور ﷺ نے اس پیغام رسانی کا ذکر کیا تو حضرت علی ؓ نے عذر پیش کیا کہ میں عمر کے لحاظ سے اور تقریر کے لحاظ سے اپنے میں کمی پاتا ہوں آپ نے فرمایا لیکن ضرورت اس کی ہے کہ اسے یا تو میں آپ پہنچاؤں یا تو پہنچائے حضرت علی ؓ نے کہا اگر یہی ہے تو لیجئے میں جاتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اللہ تیری زبان کو ثابت رکھے اور تیرے دل کو ہدایت دے۔ پھر اپناہاتھ ان کے منہ پر رکھا۔ لوگوں نے حضرت علی سے پوچھا کہ حج کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ آپ کو رسول اللہ ﷺ نے کیا بات پہنچانے بھیجا تھا ؟ آپ نے وہی اوپر والی چاروں باتیں بیان فرمائیں۔ مسند وغیرہ میں یہ روایت کسی طریق سے آئی ہے اس میں لفظ یہ ہیں کہ جن سے معاہدہ ہے وہ جس مدت تک ہے اسی تک رہے گا اور حدیث میں ہے کہ آپ سے لوگوں نے کہا کہ آپ حج میں حضرت صدیق اکبر ؓ کو بھیج چکے ہیں کاش کہ یہ پیغام بھی انہیں پہنچا دیتے آپ نے تو حج کا انتظام کیا اور عید والے دن حضرت علی ؓ نے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے یہ احکام پہنچائے۔ پھر یہ دونوں آپ کے پاس آئے پس مشرکین میں سے جن سے عام عہد تھا ان کے لیے تو چار ماہ کی مدت ہوگئی۔ باقی جس سے جتنا عہد تھا وہ بدستور رہا۔ اور روایت میں ہے کہ ابوبکر صدیق کو تو رسول اللہ ﷺ نے امیر حج بنا کر بھیجا تھا اور مجھے ان کے پاس چالیس آیتیں سورة برات کی دے کر بھیجا تھا آپ نے عرفات کے میدان میں عرفہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا۔ پھر حضرت علی ؓ سے فرمایا اٹھئے اور سرکار رسالت مآب کا پیغام لوگوں کو سنا دیجئے۔ پس حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر ان چالیس آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ پھر لوٹ کر منٰی میں آکر جمرہ پر کنکریاں پھینکیں اونٹ نحر کیا سر منڈوایا پھر مجھے معلوم ہوا کہ سب حاجی اس خطبے کے وقت موجود تھے اس لیے میں نے ڈیروں میں اور خیموں میں اور پڑاؤ میں جا جا کر منادی شروع کردی میرا خیال ہے کہ شاید اس وجہ سے لوگوں کو یہ گمان ہوگیا یہ دسویں تاریخ کا ذکر ہے حالانکہ اصل پیغام نویں کو عرفہ کے دن پہنچا دیا گیا تھا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے ابو جحیفہ سے پوچھا کہ حج اکبر کا کونسا دن ہے ؟ آپ نے فرمایا عرفے کا دن۔ میں نے کہا یہ آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں یا صحابہ ؓ سے سنا ہوا۔ فرمایا سب کچھ یہی ہے۔ عطاء بھی یہی فرماتے ہیں حضرت عمر ؓ بھی یہی فرما کر فرماتے ہیں پس اس دن کو کوئی روزہ نہ رکھے۔ راوی کہتا ہے میں نے اپنے باپ کے بعد حج کیا مدینے پہنچا اور پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا حضرت سعید بن مسیب ہیں ؓ۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے مدینے والوں سے پوچھا کہ یہاں آج کل سب سے افضل کون ہیں ؟ تو انہوں نے آپ کا نام لیا تو میں آپ کے پاس آیا ہوں یہ فرمائیے کہ عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں تمہیں اپنے سے ایک سو درجے بہترین شخص کو بتاؤں وہ عمرو بن عمر ہیں وہ اس روزے سے منع فرماتے تھے اور اسی دن کو حج اکبر فرماتے تھے۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) اور بھی بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔ کہ حج اکبر سے مراد عرفے کا دن ہے ایک مرسل حدیث میں بھی ہے آپ نے اپنے عرفے کے خطبے میں فرمایا یہی حج اکبر کا دن ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بقرہ عید کا دن۔ حضرت علی یہی فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت علی بقر عید والے دن اپنے سفید خچر پر سوار جا رہے تھے کہ ایک شخص نے ان کی لگام تھام لی اور یہی پوچھا آپ نے فرمایا حج اکبر کا دن آج ہی کا دن ہے لگام چھوڑ دے۔ عبداللہ بن ابی اوفی کا قول بھی یہی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے اپنے عید کے خطبے میں فرمایا آج ہی کا دن یوم الاضحی ہے آج ہی کا دن یوم النحر ہے۔ آج ہی کا دن حج اکبر کا دن ہے۔ ابن عباس سے بھی یہی مروی ہے اور بھی بہت سے لوگ اسی طرف گئے ہیں کہ حج اکبر بقرہ عید کا دن ہے۔ امام ابن جریر کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالے سے پہلے حدیث گذر چکی ہے۔ کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے منادی کرنے والوں کو منٰی میں عید کے دن بھیجا تھا۔ ابن جریر میں ہے رسول اللہ ﷺ حجتہ الوداع میں جمروں کے پاس دسویں تاریخ ذی الحجہ کو ٹھہرے اور فرمایا یہی دن حج اکبر کا دن ہے اور روایت میں ہے کہ آپ کی اونٹنی سرخرنگ کی تھی آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ جانتے بھی ہو ؟ آج کیا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا قربانی کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا سچ ہے یہی دن حج اکبر کا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اونٹنی پر سوار تھے لوگ اس کی نکیل تھامے ہوئے تھے۔ آپ نے صحابہ ؓ سے پوچھا کہ یہ کونسا دن ہے جانتے ہو ؟ ہم اس خیال سے خاموش ہوگئے کہ شاید آپ اس کا کوئی اور ہی نام بتائیں۔ آپ نے فرمایا یہ حج اکبر کا دن نہیں ؟ اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے آپ کے سوال پر جواب دیا کہ یہ حج اکبر کا دن ہے۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ عید کے بعد کا دن ہے۔ مجاہد کہتے ہیں حج کے سب دنوں کا یہی نام ہے۔ سفیان بھی یہی کہتے ہیں کہ جیسے یوم جمل یوم صفین ان لڑائیوں کے تمام دنوں کا نام ہے ایسے ہی یہ بھی ہے۔ حسن بصری سے جب یہ سوال ہوا تو آپ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا حاصل یہ تو اس سال تھا جس سال حج کے امیر حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔ ابن سیرین اسی سوال کے جواب میں فرماتے ہیں یہی وہ دن تھا جس میں رسول اللہ کا اور عام لوگوں کا حج ہوا۔
إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ثُمَّ لَمۡ يَنقُصُوكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَمۡ يُظَٰهِرُواْ عَلَيۡكُمۡ أَحَدٗا فَأَتِمُّوٓاْ إِلَيۡهِمۡ عَهۡدَهُمۡ إِلَىٰ مُدَّتِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
Other than those polytheists with whom you had a treaty, and they have not diminished anything from your treaty nor supported anyone against you – therefore fulfil their treaty up to the appointed term; indeed Allah befriends the pious.
سوائے ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ (اپنے عہد کو پورا کرنے میں) کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ پر کسی کی مدد (یا پشت پناہی) کی سو تم ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک ان کے ساتھ پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Existing Peace Treaties remained valid until the End of Their Term
This is an exception regulating the longest extent of time for those who have a general treaty - with out time mentioned - to four months. They would have four months to travel the lands in search of sanctuary for themselves wherever they wish. Those whose treaty mentioned a specifec limited term, then the longest it would extend was to the point of its agreed upon termination date. Hadiths in this regard preceeded. So anyone who had a treaty with Allah's Messenger ﷺ, it lasted until its specific termination date. However, those in this category were required to refrain from breaking the terms of the agreement with Muslims and from helping non-Muslims against Muslims. This is the type whose peace agreement with Muslims was carried out to its end. Allah encouraged honoring such peace treaties, saying,
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
(Surely, Allah loves those who have Taqwa) 9:4, who keep their promises.
عہد نامہ کی شرط پہلے جو حدیثیں بیان ہوچکی ہیں ان کا اور اس آیت کا مضمون ایک ہی ہے اس سے صاف ہوگیا کہ جن میں مطلقاً عہد و پیمان ہوئے تھے انہیں تو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اس میں وہ اپنا جو چاہیں کرلیں اور جن سے کسی مدت تک عہد پیمان ہوچکے ہیں وہ سب عہد ثابت ہیں بشرطیکہ وہ لوگ معاہدے کی شرائط پر قائم رہیں نہ مسلمان کو خود کوئی ایذاء پہنچائیں نہ ان کے دشمنوں کی کمک اور امداد کریں اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے پورے لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔
فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلۡأَشۡهُرُ ٱلۡحُرُمُ فَٱقۡتُلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡ وَخُذُوهُمۡ وَٱحۡصُرُوهُمۡ وَٱقۡعُدُواْ لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٖۚ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Then when the sacred months have passed, slay the polytheists wherever you find them, and catch them and make them captive, and wait in ambush for them at every place; then if they repent and keep the prayer established and pay the charity, leave their way free; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم (حسب اعلان جن) مشرکوں (نے تمہارے خلاف پہلے ہی سے جنگ شروع کر دی ہے، میدان جنگ میں ان) کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر دو یا اُنہیں گرفتار کر لو اور انہیں قید کر دو اور (انہیں پکڑنے اور گھیرنے کے لیے) ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو، پس اگر وہ (قیدی بنا لیے جانے کے بعد) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو (انہیں قید سے رہائی دیتے ہوئے) ان کا راستہ چھوڑ دو (کیونکہ اس صورت میں بھی معاہدۂ امن کی طرح جنگ کا جواز ختم ہوجائے گا)۔ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
This is the Ayah of the Sword
Mujahid, `Amr bin Shu`ayb, Muhammad bin Ishaq, Qatadah, As-Suddi and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said that the four months mentioned in this Ayah are the four-month grace period mentioned in the earlier Ayah,
فَسِيحُواْ فِى الاٌّرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ
(So travel freely for four months throughout the land.) Allah said next,
فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْهُرُ الْحُرُمُ
(So when the Sacred Months have passed...), meaning, `Upon the end of the four months during which We prohibited you from fighting the idolators, and which is the grace period We gave them, then fight and kill the idolators wherever you may find them.' Allah's statement next,
فَاقْتُلُواْ الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ
(then fight the Mushrikin wherever you find them), means, on the earth in general, except for the Sacred Area, for Allah said,
وَلاَ تُقَـتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَـتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِن قَـتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ
(And fight not with them at Al-Masjid Al-Haram, unless they fight you there. But if they attack you, then fight them. )2:191 Allah said here,
وَخُذُوهُمْ
(and capture them), executing some and keeping some as prisoners,
وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُواْ لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ
(and besiege them, and lie in wait for them in each and every ambush), do not wait until you find them. Rather, seek and besiege them in their areas and forts, gather intelligence about them in the various roads and fairways so that what is made wide looks ever smaller to them. This way, they will have no choice, but to die or embrace Islam,
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلَوةَ وَءاتَوُاْ الزَّكَوةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(But if they repent and perform the Salah, and give the Zakah, then leave their way free. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) Abu Bakr As-Siddiq used this and other honorable Ayat as proof for fighting those who refrained from paying the Zakah. These Ayat allowed fighting people unless, and until, they embrace Islam and implement its rulings and obligations. Allah mentioned the most important aspects of Islam here, including what is less important. Surely, the highest elements of Islam after the Two Testimonials, are the prayer, which is the right of Allah, the Exalted and Ever High, then the Zakah, which benefits the poor and needy. These are the most honorable acts that creatures perform, and this is why Allah often mentions the prayer and Zakah together. In the Two Sahihs, it is recorded that Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاة»
(I have been commanded to fight the people until they testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah, establish the prayer and pay the Zakah.) This honorable Ayah (9:5) was called the Ayah of the Sword, about which Ad-Dahhak bin Muzahim said, "It abrogated every agreement of peace between the Prophet and any idolator, every treaty, and every term." Al-`Awfi said that Ibn `Abbas commented: "No idolator had any more treaty or promise of safety ever since Surah Bara'ah was revealed. The four months, in addition to, all peace treaties conducted before Bara'ah was revealed and announced had ended by the tenth of the month of Rabi` Al-Akhir."
جہاد اور حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں وہ چار مہینے ہیں جن کا ذکر (اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ڏ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ 36) 9۔ التوبہ :36) میں ہے پس ان کے حق میں آخری حرمت والا مہینہ محرم الحرام کا ہے ابن عباس اور ضحاک سے بھی یہی مروی ہے لیکن اس میں ذرا تامل ہے بلکہ مراد اس سے یہاں وہ چار مہینے ہیں جن میں مشرکین کو پناہ ملی تھی کہ ان کے بعد تم سے لڑائی ہے چناچہ خود اسی سورت میں اس کا بیان اور آیت میں آرہا ہے۔ فرماتا ہے ان چار ماہ کے بعد مشرکوں سے جنگ کرو انہیں قتل کرو، انہیں گرفتار کرو، جہاں بھی پاؤ پس یہ عام ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ خاص ہے حرم میں لڑائی نہیں ہوسکتی جیسے فرمان ہے (وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ۭكَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ01901) 2۔ البقرة :191) یعنی مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک کہ وہ اپنی طرف سے لڑائی کی ابتداء نہ کریں۔ اگر یہ وہاں تم سے لڑیں تو پھر تمہیں بھی ان سے لڑائی کرنے کی اجازت ہے۔ چاہو قتل کرو، چاہو قید کرلو، ان کے قلعوں کا محاصرہ کرو ان کے لیے ہر گھاٹی میں بیٹھ کر تاک لگاؤ انہیں زد پر لاکر مارو۔ یعنی یہی نہیں کہ مل جائیں تو جھڑپ ہوجائے خود چڑھ کر جاؤ۔ ان کی راہیں بند کرو اور انہیں مجبور کردو کہ یا تو اسلام لائیں یا لڑیں۔ اس لیے فرمایا کہ اگر وہ توبہ کرلیں پابند نماز ہوجائیں زکوٰۃ دینے کے مانعین سے جہاد کرنے کی اسی جیسی آیتوں سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے دلیل لی تھی کہ لڑائی اس شرط پر حرام ہے کہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور اسلام کے واجبات بجا لائیں۔ اس آیت میں ارکان اسلام کو ترتیب وار بیان فرمایا ہے اعلٰی پھر ادنٰی پس شہادت کے بعد سب سے بڑا رکن اسلام نماز ہے جو اللہ عزوجل کا حق ہے۔ نماز کے بعد زکوٰۃ ہے جس کا نفع فقیروں مسکینوں محتاجوں کو پہنچتا ہے اور مخلوق کا زبردست حق جو انسان کے ذمے ہے ادا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر نماز کے ساتھ ہی زکوٰۃ کا ذکر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم کیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد جاری رکھو، جب تک کہ وہ یہ گواہی نہ دیں کہ کوئی معبود بجز اللہ کے نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ رسول اللہ ہیں اور نمازوں کو قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ تمہیں نمازوں کے قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم کیا گیا ہے جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز بھی نہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن زید بن اسلام فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ہرگز کسی کی نماز قبول نہیں فرماتا جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر ؓ پر رحم فرمائے آپ کی فقہ سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ جو آپ نے زکوٰۃ کے منکروں سے جہاد کیا۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے لوگوں سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جب تک کہ وہ یہ گواہی نہ دیں کہ بجز اللہ تعالیٰ برحق کے اور کوئی لائق عبادت نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ ان دونوں باتوں کا اقرار کرلیں، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرلیں، ہمارا ذبیحہ کھانے لگیں، ہم جیسی نمازیں پڑھنے لگیں تو ہم پر ان کے خون ان کے مال حرام ہیں مگر احکام حق کے ماتحت انہیں وہ حق حاصل ہے جو اور مسلمانوں کا ہے اور ان کے ذمے ہر وہ چیز ہے جو اور مسلمانوں کے ذمے ہے یہ روایت بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے سوائے ابن ماجہ کے۔ ابن جریر میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں جو دنیا سے اس حال میں جائے کہ اللہ تعالیٰ اکیلے کی خالص عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ اس حال میں جائے گا کہ اللہ اس سے خوش ہوگا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں یہی اللہ کا دین ہے اسی کو تمام پیغمبر (علیہم السلام) لائے تھے اور اپنے رب کی طرف سے اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا تھا اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں ادھر ادھر لگ جائیں اس کی سچائی کی شہادت اللہ کی آخری وحی میں موجود ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 11) 9۔ التوبہ :11) پس توبہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد برحق ہے پس توبہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد برحق کے سوا اوروں کی عبادت سے دست بردار ہوجائیں نماز اور زکوٰۃ کے پابند ہوجائیں اور آیت میں ہے کہ ان تینوں کاموں کے بعد وہ تمہارے دینی برادر ہیں ضحاک فرماتے ہیں یہ تلوار کی آیت ہے اس نے ان تمام عہد و پیمان کو چاک کردیا، جو مشرکوں سے تھے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ برات کے نازل ہونے پر چار مہینے گزر جانے کے بعد کوئی عہد و ذمہ باقی نہیں رہا۔ پہلی شرطیں برابری کے ساتھ توڑ دی گئیں۔ اب اسلام اور جہاد باقی رہ گیا، حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو چار تلواروں کے ساتھ بھیجا ایک تو مشرکین عرب میں فرماتا ہے (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 9۔ التوبہ :5) مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ یہ روایت اسی طرح مختصراً ہے۔ میرا خیال ہے کہ دوسری تلوار اہل کتاب میں فرماتا ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ 29) 9۔ التوبہ :29) اللہ تبارک و تعالیٰ پر قیامت کے دن پر ایمان نہ لانے والوں اور اللہ رسول کے حرام کردہ کو حرام نہ ماننے والوں اور اللہ کے سچے دین کو قبول کرنے والوں سے جو اہل کتاب ہیں جہاد کرو تاوقتیکہ وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دینا قبول کرلیں۔ تیری تلوار منافوں میں فرمان ہے (يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۭ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 73) 9۔ التوبہ :73) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ چوتھی تلوار باغیوں میں ارشاد ہے (وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 49۔ الحجرات :9) اگر مسلمانوں کی دو جماعتوں میں لڑائی ہوجائے تو ان میں صلح کرادو پھر بھی اگر کوئی جماعت دوسری کو دباتی چلی جائے تو ان باغیوں سے تم لڑو جب تک کہ وہ پلٹ کر اللہ کے حکم کی ماتحتی میں نہ آجائے۔ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ یہ آیت تلوار (فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ڎ فَاِمَّا مَنًّـۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۗءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَاڃ ذٰ۩لِكَ ړ وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ) 47۔ محمد :4) سے منسوخ ہے یعنی بطور احسان کے یا فدیہ لے کر کافر قیدیوں کو چھوڑ دو۔ قتادہ اس کے برعکس کہتے ہیں پچھلی آیت پہلی سے منسوخ ہے۔
وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), if a polytheist seeks your protection, give him protection so that he may hear the Word of Allah, and then transport him to his place of safety; this is because they are an unwise people.
اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ کا خواست گار ہو تو اسے پناہ دے دیں تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ (حق کا) علم نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
Idolators are granted Safe Passage if They seek It
Allah said to His Prophet, peace be upon him,
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ
(And if anyone of the Mushrikin), whom you were commanded to fight and We allowed you their blood and property,'
اسْتَجَارَكَ
(seeks your protection), asked you for safe passage, then accept his request until he hears the Words of Allah, the Qur'an. Recite the Qur'an to him and mention a good part of the religion with which you establish Allah's proof against him,
ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ
(and then escort him to where he can be secure) and safe, until he goes back to his land, his home, and area of safety,
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَعْلَمُونَ
(that is because they are men who know not.) The Ayah says, `We legislated giving such people safe passage so that they may learn about the religion of Allah, so that Allah's call will spread among His servants. Ibn Abi Najih narrated that Mujahid said that this Ayah, "Refers to someone who comes to you to hear what you say and what was revealed to you (O Muhammad). Therefore, he is safe until he comes to you, hears Allah's Words and then proceeds to the safe area where he came from." The Messenger of Allah ﷺ used to thereafter grant safe passage to those who came to him for guidance or to deliver a message. On the day of Hudaybiyyah, several emissaries from Quraysh came to him, such as `Urwah bin Mas`ud, Mikraz bin Hafs, Suhayl bin `Amr and several others. They came mediating between him and the Quraysh pagans. They witnessed the great respect the Muslims had for the Prophet , which astonished them, for they never before saw such respect for anyone, kings nor czars. They went back to their people and conveyed this news to them; this, among other reasons, was one reason that most of them accepted the guidance. When Musaylimah the Liar sent an emissary to the Messenger of Allah ﷺ, he asked him, "Do you testify that Musaylimah is a messenger from Allah" He said, "Yes." The Messenger of Allah ﷺ said,
«لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ عُنُقَك»
(I would have cut off your head, if it was not that emissaries are not killed.) That man, Ibn An-Nawwahah, was later beheaded when `Abdullah bin Mas`ud was the governor of Al-Kufah. When it became known that he still testified that Musaylimah was a messenger from Allah, Ibn Mas`ud summoned him and said to him, "You are not delivering a message now!" He commanded that Ibn An-Nawwahah be decapitated, may Allah curse him and deprive him of His mercy. In summary, those who come from a land at war with Muslims to the area of Islam, delivering a message, for business transactions, to negotiate a peace treaty, to pay the Jizyah, to offer an end to hostilities, and so forth, and request safe passage from Muslim leaders or their deputies, should be granted safe passage, as long as they remain in Muslim areas, until they go back to their land and sanctuary.
امن مانگنے والوں کو امن دو منافقوں کی گردن ماردو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے اگر کوئی آپ سے امن طلب کرے تو آپ اس کی خواہش پوری کردیں اسے امن دیں یہاں تک کہ وہ قرآن کریم سن لے آپ کی باتیں سن لے دین کی تعلیم معلوم کرلے حجت ربانی پوری ہوجائے۔ پھر اپنے امن میں ہی اسے اس کے وطن پہنچا دو بےخوفی کے ساتھ یہ اپنے امن کی جگہ پہنچ جائے ممکن ہے کہ سوچ سمجھ کر حق کو قبول کرلے۔ یہ اس لئے ہے کہ یہ بےعلم لوگ ہیں انہیں دینی معلومات بہم پہنچاؤ اللہ کی دعوت اس کے بندوں کے کانوں تک پہنچادو۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ جو تیرے پاس دینی باتیں سننے سمجھنے کے لئے آئے خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو وہ امن میں ہے یہاں تک کہ کلام اللہ سنے پھر جہاں سے آیا ہے وہاں باامن پہنچ جائے اسی لئے حضور ﷺ ان لوگوں کو جو دین سمجھنے اور اللہ کی طرف سے لائے ہوئے پیغام کو سننے کے لئے آتے انہیں امن دے دیا کرتے تھے حدیبیہ والے سال بھی قریش کے جتنے قاصد آئے یہاں انہیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ عروہ بن مسعود، مکرزبن حفص، سہیل بن عمرو وغیرہ یکے بعد دیگرے آتے رہے۔ یہاں آکر انہیں وہ شان نظر آئی جو قیصر و کسریٰ کے دربار میں بھی نہ تھی یہی انہوں نے اپنی قوم سے کہا پس یہ رویہ بھی بہت سے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بن گیا۔ مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کا قاصد جب حضور ﷺ کی بارگاہ میں پہنچا آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم مسلیمہ کی رسالت کے قائل ہو ؟ اس نے کہاں ہاں آپ نے فرمایا اگر قاصدوں کا قتل میرے نزدیک ناجائز نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا۔ آخر یہ شخص حضرت ابن مسعود کوفی کی امارت کے زمانے میں قتل کردیا گیا اے ابن النواحہ کہا جاتا تھا آپ کو جب معلوم ہوا کہ یہ مسیلمہ کا ماننے والا ہے تو آپ نے بلوایا اور فرمایا اب تو قاصد نہیں ہے اب تیری گردن مارنے سے کوئی امر مانع نہیں چناچہ اسے قتل کردیا گیا اللہ کی لعنت اس پر ہو۔ الغرض دارالحرب سے جو قاصد آئے یا تاجر آئے یا صلح کا طالب آئے یا آپس میں اصلاح کے ارادے سے آئے یا جزیہ لے کر حاضر ہو امام یا نائب امام نے اسے امن وامان دے دیا ہو تو جب تک وہ دارالاسلام میں رہے یا اپنے وطن نہ پہنچ جائے اسے قتل کرنا حرام ہے۔ علماء کہتے ہیں ایسے شخص کو دارالاسلام میں سال بھر تک نہ رہنے دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک وہ یہاں ٹھہر سکتا ہے پھر چار ماہ سے زیادہ اور سال بھر کے اندر دو قول ہیں امام شافعی وغیرہ علماء کے ہیں رحمہم اللہ تعالیٰ۔
كَيۡفَ يَكُونُ لِلۡمُشۡرِكِينَ عَهۡدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۖ فَمَا ٱسۡتَقَٰمُواْ لَكُمۡ فَٱسۡتَقِيمُواْ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
How can there be a treaty with Allah and with His Noble Messenger for the polytheists, except for those with whom you made a treaty near the Sacred Mosque? So as long as they remain firm on the treaty for you, you too remain firm for them; indeed Allah is pleased with the pious.
(بھلا) مشرکوں کے لئے اللہ کے ہاں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں کوئی عہد کیوں کر ہو سکتا ہے؟ سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس (حدیبیہ میں) معاہدہ کیا ہے سو جب تک وہ تمہارے ساتھ (عہد پر) قائم رہیں تم ان کے ساتھ قائم رہو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Affirming the Disavowel of the Idolators
Allah mentions the wisdom in dissolving all obligations to the idolators and giving them a four month period of safety, after which they will meet the sharp sword wherever they are found,
كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ
(How can there be a covenant for the Mushrikin), a safe resort and refuge, while they persist in Shirk with Allah, and disbelief in Him and His Messenger,
إِلاَّ الَّذِينَ عَـهَدْتُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
(except those with whom you made a covenant near Al-Masjid Al-Haram), on the day of Hudaybiyyah. Allah said in another Ayah concerning the day of Hudaybiyyah,
هُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْىَ مَعْكُوفاً أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ
(They are the ones who disbelieved and hindered you from Al-Masjid Al-Haram and detained the sacrificial animals, from reaching their place of sacrifice.) 48:25 Allah said next,
فَمَا اسْتَقَـمُواْ لَكُمْ فَاسْتَقِيمُواْ لَهُمْ
(So long as they are true to you, stand you true to them.), if they keep the terms of the treaties you conducted with them, including peace between you and them for ten years,
فَاسْتَقِيمُواْ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
(then stand you true to them. Verily, Allah loves those who have Taqwa.) The Messenger of Allah ﷺ and the Muslims preserved the terms of the treaty with the people of Makkah from the month of Dhul-Qa`dah in the sixth year of Hijrah, until the Quraysh broke it and helped their allies, Banu Bakr, against Khuza`ah, the allies of Allah's Messenger ﷺ. Aided by the Quraysh, Banu Bakr killed some of Bani Khuza`ah in the Sacred Area! The Messenger of Allah ﷺ led an invasion army in the month of Ramadan, of the eighth year, and Allah opened the Sacred Area for him to rule over them, all thanks are due to Allah. The Messenger of Allah ﷺ freed the Quraysh who embraced Islam after they were overpowered and defeated. These numbered around two thousands, and they were refered to by the name `Tulaqa' afterwards. Those among them who remained in disbelief and ran away from Allah's Messenger ﷺ were sent promises of safe refuge for four months, during which they were allowed to move about freely. They included Safwan bin Umayyah, `Ikrimah bin Abi Jahl and many others. Allah later on guided them to Islam, and they became excellent believers. Surely, Allah is worthy of all praise for all His actions and decrees.
پابندی عہد کی شرائط اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ سے ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑ نے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے ہی نہیں۔ ہاں صلح حدیبیہ جب تک ان کی طرف سے نہ ٹوٹے تم بھی نہ توڑنا۔ یہ صلح دس سال کے لیے ہوئی تھی۔ ماہ ذی القعدہ سنہ006ہجری سے حضور ﷺ نے اس معاہدہ کو نبھایا یہاں تک کے قریشیوں کی طرف سے معاہدہ توڑا گیا ان کے حلیف بنو بکر نے رسول اللہ ﷺ کے حلیف خزاعہ پر چڑھائی کی بلکہ حرم میں بھی انہیں قتل کیا اس بنا پر رمضان شریف008ہجری میں حضور ﷺ نے ان پر چڑھائی کی۔ رب العالمین نے مکہ آپ کے ہاتھوں فتح کرایا اور انہیں آپ کے بس کردیا۔ وللّٰہ الحمد والمنہ لیکن آپ نے باوجود غلبہ اور قدرت کے ان میں سے جنہوں نے اسلام قبول کیا سب کو آزاد کردیا انہی لوگوں کو طلقاً کہتے ہیں۔ یہ تقریباً دو ہزار تھے جو کفر پر پھر بھی باقی رہے اور ادھر ادھر ہوگئے۔ رحمتہ اللعالمین نے سب کو عام پناہ دے دی اور انہیں مکہ شریف میں آنے اور یہاں اپنے مکانوں میں رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی کہ چارماہ تک وہ جہاں چاہیں آ جاسکتے ہیں انہی میں صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ تھے پھر اللہ نے انکی رہبری کی اور انہیں اسلام نصیب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ہر اندازے کے کرنے میں اور ہر کام کے کرنے میں تعریفوں والا ہی ہے۔
كَيۡفَ وَإِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ لَا يَرۡقُبُواْ فِيكُمۡ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ يُرۡضُونَكُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَتَأۡبَىٰ قُلُوبُهُمۡ وَأَكۡثَرُهُمۡ فَٰسِقُونَ
Therefore how – when they are such that if they gain control over you, they would not have regard for any relations nor for any treaty? They please you with their mouths whereas their hearts contain rejection; and most of them are disobedient.
(بھلا ان سے عہد کی پاس داری کی توقع) کیونکر ہو! ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر تم پر غلبہ پا جائیں تو نہ تمہارے حق میں کسی قرابت (یا سفارتی ضابطے) کا لحاظ کریں اور نہ کسی عہد کا، وہ (خوش کن الفاظ بول کر) تمہیں اپنے مونہہ سے تو راضی رکھتے ہیں جب کہ ان کے دل (ان باتوں سے) انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah encourages the believers to show enmity to the idolators andto dissociate from them, affirming that they do not deserve to enjoy a covenant of peace, because of their Shirk in Allah and disbelief in Allah's Messenger ﷺ.
Allah encourages the believers to show enmity to the idolators and to dissociate from them, affirming that they do not deserve to enjoy a covenant of peace, because of their Shirk in Allah and disbelief in Allah's Messenger ﷺ If these disbelievers have a chance to defeat Muslims, they will cause great mischief, leave nothing unharmed, disregard the ties of kinship and the sanctity of their vows. `Ali bin Abi Talhah, `Ikrimah and Al-`Awfi narrated that Ibn `Abbas said, "Ill means kinship, while, Dhimmah means covenant." Ad-Dahhak and As-Suddi said similarly.
کافروں کی دشمنی اللہ تعالیٰ کافروں کے مکر و فریب اور ان کی دلی عداوت سے مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ ان کی دوستی اپنے دل میں نہ رکھیں نہ ان کے قول وقرار پر مطمئن رہیں ان کا کفر شرک انہیں وعدوں کی پابندی پر رہنے نہیں دیتا۔ یہ تو وقت کے منتظر ہیں ان کا بس چلے تو یہ تو تمہیں کچے چبا ڈالیں نہ قرابت داری کو دیکھیں نہ وعدوں کی پاسداری کریں۔ ان سے جو ہو سکے وہ تکلیف تم پر توڑیں اور خوش ہوں۔ آل کے معنی قرابت داری کے ہیں۔ ابن عباس سے بھی یہی مروی ہے اور حضرت حسان کے شعر میں بھی یہی معنی کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے غلبہ کے وقت اللہ کا بھی لحاظ نہ کریں گے نہ کسی اور کا۔ یہی لفظ ال ایل بن کر جبریل میکائیل اور اسرافیل میں آیا ہے یعنی اس کا معنی اللہ ہے لیکن پہلا قول ہی ظاہر اور مشہور ہے اور اکثر مفسرین کا بھی یہی قول ہے۔ مجاہد کہتے ہیں مراد عہد ہے قتادہ کا قول ہے مراد قسم ہے۔
ٱشۡتَرَوۡاْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
They exchanged the verses of Allah for an abject price, therefore prevented from His way; indeed what they do is extremely evil.
انہوں نے آیاتِ الٰہی کے بدلے (دنیوی مفاد کی) تھوڑی سی قیمت حاصل کر لی پھر اس (کے دین) کی راہ سے (لوگوں کو) روکنے لگے، بیشک بہت ہی برا کام ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
اشْتَرَوْاْ بِـَايَـتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً
(They have purchased with the Ayat of Allah a little gain,) idolators exchanged following the Ayat of Allah with the lower affairs of life that they indulged in,
فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِ
(and they hindered men from His way), trying to prevent the believers from following the truth,
إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَلاَ يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّةً
(evil indeed is that which they used to do. With regard to a believer, they respect not the ties, either of kinship or of covenant!) 9:9-10. We explained these meanings before, as well as, the meaning of,
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلَوةَ
(But if they repent, perform the Salah...)
جہاد ہی راہ اصلاح ہے مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کرلیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ ہے جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ اس سے خوش ہو کر ملے گا یہی اللہ کا وہ دین ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ کی طرف سے وہ کرتے رہے اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکواتی بن جائیں تو تم ان کے رستے چھوڑ دو اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ امام بزار ؒ فرماتے ہیں کہ میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس ؒ کا ہے واللہ اعلم۔
10
View Single
لَا يَرۡقُبُونَ فِي مُؤۡمِنٍ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُعۡتَدُونَ
In respect of the Muslims, they do not keep regard for any relations nor any pacts; it is they who are the rebels.
نہ وہ کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد کا، اور وہی لوگ (سرکشی میں) حد سے بڑھنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
اشْتَرَوْاْ بِـَايَـتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً
(They have purchased with the Ayat of Allah a little gain,) idolators exchanged following the Ayat of Allah with the lower affairs of life that they indulged in,
فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِ
(and they hindered men from His way), trying to prevent the believers from following the truth,
إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَلاَ يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّةً
(evil indeed is that which they used to do. With regard to a believer, they respect not the ties, either of kinship or of covenant!) 9:9-10. We explained these meanings before, as well as, the meaning of,
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلَوةَ
(But if they repent, perform the Salah...)
جہاد ہی راہ اصلاح ہے مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کرلیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ ہے جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ اس سے خوش ہو کر ملے گا یہی اللہ کا وہ دین ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ کی طرف سے وہ کرتے رہے اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکواتی بن جائیں تو تم ان کے رستے چھوڑ دو اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ امام بزار ؒ فرماتے ہیں کہ میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس ؒ کا ہے واللہ اعلم۔
11
View Single
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِۗ وَنُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
Then if they repent and keep the prayer established and pay the charity, they are your brothers in religion; and we explain Our verses in detail for the people of knowledge.
پھر (بھی) اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں (سو تمہیں ایک دوسرے کے درمیان پُر اَمن تعلقات استوار کرنے کے لیے الگ سے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں) اور ہم (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم و دانش رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
اشْتَرَوْاْ بِـَايَـتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً
(They have purchased with the Ayat of Allah a little gain,) idolators exchanged following the Ayat of Allah with the lower affairs of life that they indulged in,
فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِ
(and they hindered men from His way), trying to prevent the believers from following the truth,
إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَلاَ يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلاًّ وَلاَ ذِمَّةً
(evil indeed is that which they used to do. With regard to a believer, they respect not the ties, either of kinship or of covenant!) 9:9-10. We explained these meanings before, as well as, the meaning of,
فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلَوةَ
(But if they repent, perform the Salah...)
جہاد ہی راہ اصلاح ہے مشرکوں کی مذمت کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ترغیب جہاد دی جا رہی ہے کہ ان کافروں نے دنیائے خسیس کو آخرت نفیس کے بدلے پسند کرلیا ہے خود راہ رب سے ہٹ کر مومنوں کو بھی ایمان سے روک رہے ہیں ان کے اعمال بہت ہی بد ہیں یہ تو مومنوں کو نقصان پہنچانے کے ہی درپے ہیں نہ انہیں رشتے داری کا خیال نہ معاہدے کا پاس۔ ہے جو دنیا کو اس حال میں چھوڑے کہ اللہ کی عبادتیں خلوص کے ساتھ کر رہا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو نماز و زکوٰۃ کا پابند ہو تو اللہ اس سے خوش ہو کر ملے گا یہی اللہ کا وہ دین ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) لاتے رہے اور اسی کی تبلیغ اللہ کی طرف سے وہ کرتے رہے اس سے پہلے کہ باتیں پھیل جائیں اور خواہشیں بڑھ جائیں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے کہ اگر وہ توبہ کرلیں یعنی بتوں کو اور بت پرستی کو چھوڑ دیں اور نمازی اور زکواتی بن جائیں تو تم ان کے رستے چھوڑ دو اور آیت میں ہے کہ پھر تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ امام بزار ؒ فرماتے ہیں کہ میرے خیال سے تو مرفوع حدیث وہیں پر ختم ہے کہ اللہ اس سے رضامند ہو کر ملے گا اس کے بعد کا کلام راوی حدیث ربیع بن انس ؒ کا ہے واللہ اعلم۔
12
View Single
وَإِن نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُم مِّنۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمۡ فَقَٰتِلُوٓاْ أَئِمَّةَ ٱلۡكُفۡرِ إِنَّهُمۡ لَآ أَيۡمَٰنَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنتَهُونَ
And if they break their promises after making a treaty and malign your religion, then fight the leaders of disbelief – indeed their promises are nothing – in the hope that they may desist.
اور اگر وہ (تم سے کیے گئے) اپنے معاہدہ کے بعد اپنے عہد توڑ دیں اور (معاہدۂ اَمن سے اِنحراف کر کے قتل عام اور پُر تشدد کارروائیوں کے ذریعے حالتِ جنگ بحال کرنے اور ریاستی اَمن کے لیے سخت خطرات پیدا کرنے کے ساتھ سرِ عام) تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو (اس صورت میں) تم (فتنہ و فساد اور دہشت گردی کا اِمکان ختم کرنے کے لیے) محاربت کے ان سرغنوں سے (پیشگی دفاعی) جنگ کرو، بے شک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں ہے (یہ دفاعی اقدام اس لیے کرو) کہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آ جائیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah says, if the idolators with whom you conducted peace treaties for an appointed term break
أَيْمَـنِهِمْ
(their oaths) meaning, terms of their treaties, and covenants
وَطَعَنُواْ فِى دِينِكُمْ
(and attack your religion...) with disapproval and criticism, it is because of this that one who curses the Messenger, peace be upon him, or attacks the religion of Islam by way of criticism and disapproval, they are to be fought. This is why Allah said afterwards,
فَقَـتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَـنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ
(then fight (you) against the leaders of disbelief -- for surely, their oaths are nothing to them -- so that they may stop.) so that they may refrain from the disbelief, rebellion and the transgression they indulge in. Qatadah and others said that the leaders of disbelief were Abu Jahl, `Utbah and Shaybah, Umayyah bin Khalaf, and he went on to mention several others. Al-A`mash narrated from Zayd bin Wahb from Hudhayfah; "The people of this Ayah were never fought again." A similar statement was reported from `Ali bin Abi Talib, may Allah be pleased with him. However, this Ayah is general, even though the specific reason behind revealing it was the idolators of Quraysh. So this Ayah generally applies to them and others as well, Allah knows best. Al-Walid bin Muslim said that Safwan bin `Amr narrated that `Abdur-Rahman bin Jubayr bin Nufayr said that when Abu Bakr sent an army to Ash-Sham, he advised them, "You will find some people with shaved heads. Therefore, strike the swords upon the parts that contain the devil, for by Allah, it is better to me to kill one of these people than to kill seventy other men. This is because Allah said,
فَقَـتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ
(then fight (you) against the leaders of disbelief.)" Ibn Abi Hatim collected it.
وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر کے سروں کو توڑ مروڑ دو۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ جو حضور ﷺ کو گالیاں دے، دین میں عیب جوئی کرے، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے اسے قتل کردیا جائے۔ ان کی قسمیں محض بےاعتبار ہیں۔ یہی طریقہ ان کے کفر وعناد سے روکنے کا ہے۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ امیہ وغیرہ یہ سب سردارن کفر تھے۔ ایک خارجی نے حضرت سعد بن وقاص کو کہا کہ یہ کفر کے پیشواؤں میں سے ایک ہے آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے میں تو ان میں سے ہوں جنہوں نے کفر کے پیشواؤں کو قتل کیا تھا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں۔ اس آیت والے اس کے بعد قتل نہیں کئے گئے۔ حضرت علی ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آیت عام ہے گو سبب نزول کے اعتبار سے اس سے مراد مشرکین قریش ہیں لیکن حکماً یہ انہیں اور سب کو شامل ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے شام کی طرف لشکر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تمہیں ان میں کچھ لوگ ایسے ملیں گے جن کی چندھیا منڈی ہوئی ہوگی تو تم اس شیطانی بیٹھک کو تلوار سے دو ٹکڑے کردینا واللہ ان میں سے ایک کا قتل دوسرے ستر لوگوں کے قتل سے بھی مجھے زیادہ پسند ہے اسلیے کہ فرمان الٰہی ہے کفر کے اماموں کو قتل کرو (ابن ابی حاتم)
13
View Single
أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوۡمٗا نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ وَهَمُّواْ بِإِخۡرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٍۚ أَتَخۡشَوۡنَهُمۡۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخۡشَوۡهُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
Will you not fight the people who broke their promises, and intended to expel the Noble Messenger whereas they had started it? Do you fear them? So Allah has more right that you should fear Him, if you have faith.
کیا تم ایسی (دغا باز) قوم سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قَسمیں توڑ ڈالیں (یعنی معاہدۂ اَمن توڑ کر حالتِ جنگ بحال کر دی) اور رسول (ﷺ) کو جلا وطن کرنے کا اِرادہ کیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی اور جنگ کی) ابتداء پہلے کی، کیا تم ان سے ڈرتے ہو جب کہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو بشرطیکہ تم (حقیقی) مومن ہو
Tafsir Ibn Kathir
Encouragement to fight the Disbelievers, and some Benefits of fighting Them
These Ayat encourage, direct and recommend fighting against the idolators who break the terms of their covenants, those who tried to expel the Messenger from Makkah. Allah said in other Ayat,
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ
(And (remember) when the disbelievers plotted against you to imprison you, or to kill you, or to expell you; they were plotting and Allah too was plotting; and Allah is the best of those who plot.) 8:30,
يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ
(...and have driven out the Messenger and yourselves (from your homeland) because you believe in Allah your Lord!) 60:1, and,
وَإِن كَادُواْ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الاٌّرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا
(And verily, they were about to frighten you so much as to drive you out from the land.) 17:76 Allah's statement,
وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(while they did attack you first), refers to the battle of Badr when the idolators marched to protect their caravan. When they knew that their caravan escaped safely, they still went ahead with their intent to fight Muslims out of arrogance, as we mentioned before. It was also said that these Ayat refer to the idolators breaking the peace agreement with Muslims and aiding Bani Bakr, their allies, against Khuza`ah, the ally of the Messenger of Allah ﷺ. This is why the Messenger of Allah ﷺ marched to Makkah in the year of the victory, thus conquering it, all thanks and praise is due to Allah. Allah said,
أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤُمِنِينَ
(Do you fear them Allah has more right that you should fear Him if you are believers.) Allah says here, `Do not fear idolators, but fear Me instead, for I am worthy of being feared by the servants due to My might and punishment. In My Hand lies the matter; whatever I will occurs, and whatever I do not will does not occur.' Allah next said, while ordering the believers and explaining the wisdom of ordaining Jihad against them, all the while able to destroy their enemies with a command from Him,
قَـتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
(Fight against them so that Allah will punish them by your hands, and disgrace them and give you victory over them, and heal the breasts of a believing people.) This Ayah includes all believers, even though Mujahid, `Ikrimah and As-Suddi said that it refers to Khuza`ah. Concerning the believers, Allah said;
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ
(and remove the anger of their hearts), then
وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَن يَشَآءُ
(Allah accepts the repentance of whom He wills), from His servants,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ
(Allah is All-Knowing), in what benefits His servants,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in His actions and statements, whether narrative or legislative. Allah does what He wills, decides what He wills, and He is the Just Who never wrongs any. Not even the weight of an atom of good or evil is ever neglected with Him, but rather, He compensates for it in this life and the Hereafter.
ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول ﷺ کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر ﷺ کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہوچکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے کے ارادے سے مسلمانوں سے صف آراء ہوگئے جیسے کہ پورا واقع اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ انہوں نے عہد شکنی کی اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ کے حلیفوں سے جنگ کی۔ بنو بکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی اس خلاف وعدہ کی وجہ سے حضور ﷺ نے ان پر لشکر کشی کی ان کی خوب سرکوبی کی اور مکہ فتح کرلیا فالحمدللہ۔ فرماتا ہے کہ تم ان نجس لوگوں سے خوف کھاتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو تمہارے دل میں بجز اللہ کے کسی کا خوف نہ ہونا چاہیئے وہی اس لائق ہے کہ اس سے ایماندار ڈرتے رہیں دوسری آیت میں ہے ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو میرا غلبہ، میری سلطنت میری سزاء، میری قدرت، میری ملکیت، بیشک اس قابل ہے کہ ہر وقت ہر دل میری ہیبت سے لزرتا رہے تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں جو چاہوں کرسکتا ہوں اور کر گذرتا ہوں۔ میری منشا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا راز بیان ہو رہا ہے کہ اللہ قادر تھا جو عذاب چاہتا ان پر بھیج دیتا لیکن اس کی منشاء یہ ہے کہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے ان کی بربادی تم خود کرو تمہارے دل کی خود بھڑاس نکل جائے اور تمہیں راحت و آرام شادمانی و کامرانی حاصل ہو۔ یہ بات کچھ انہیں کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام مومنوں کے لیے بھی ہے۔ خصوصاً خزاعہ کا قبیلہ جن پر خلاف عہد قریش اپنے حلیفوں میں مل کر چڑھ دوڑے ان کے دل اسی وقت ٹھنڈے ہوں گے ان کے غبار اسی وقت بیٹھیں گے جب مسلمانوں کے ہاتھوں کفار نیچے ہوں ابن عساکر میں ہے کہ جب حضرت عائشہ ؓ غضبناک ہوتیں تو آپ ان کی ناک پکڑ لیتے اور فرماتے اے عویش یہ دعا کرو اللھم رب النبی محمد اغفر ذنبی اذھب غیظ قلبی واجرنی من مضلات الفتن اے اللہ محمد ﷺ کے پروردگار میرے گناہ بخش اور میرے دل کا غصہ دور کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے توبہ قبول فرما لے۔ وہ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے خوب آگاہ ہے۔ اپنے تمام کاموں میں اپنے شرعی احکام میں اپنے تمام حکموں میں حکمت والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے وہ عادل و حاکم ہے ظلم سے پاک ہے ایک ذرے برابر بھلائی برائی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دیتا ہے۔
14
View Single
قَٰتِلُوهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ بِأَيۡدِيكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٖ مُّؤۡمِنِينَ
So fight them – Allah will punish them at your hands, and He will disgrace them and assist you over them, and He will soothe the hearts of the believers.
تم ان سے جنگ کرو (جنہوں نے حدیبیہ کا معاہدۂ اَمن توڑ کر پھر حالتِ جنگ کا آغاز کیا)، اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں (ان کی عہد شکنی اور اَمن دشمنی کے باعث) عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور اُن (سے مقابلہ کرنے) پر تمہاری مدد فرمائے گا اور ایمان والوں کے سینوں کو شفا بخشے گا (جن پر محاربینِ مکہ کے سرغنوں کی طرف سے ظلم و تشدد کیا جاتا رہا)
Tafsir Ibn Kathir
Encouragement to fight the Disbelievers, and some Benefits of fighting Them
These Ayat encourage, direct and recommend fighting against the idolators who break the terms of their covenants, those who tried to expel the Messenger from Makkah. Allah said in other Ayat,
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ
(And (remember) when the disbelievers plotted against you to imprison you, or to kill you, or to expell you; they were plotting and Allah too was plotting; and Allah is the best of those who plot.) 8:30,
يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ
(...and have driven out the Messenger and yourselves (from your homeland) because you believe in Allah your Lord!) 60:1, and,
وَإِن كَادُواْ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الاٌّرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا
(And verily, they were about to frighten you so much as to drive you out from the land.) 17:76 Allah's statement,
وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(while they did attack you first), refers to the battle of Badr when the idolators marched to protect their caravan. When they knew that their caravan escaped safely, they still went ahead with their intent to fight Muslims out of arrogance, as we mentioned before. It was also said that these Ayat refer to the idolators breaking the peace agreement with Muslims and aiding Bani Bakr, their allies, against Khuza`ah, the ally of the Messenger of Allah ﷺ. This is why the Messenger of Allah ﷺ marched to Makkah in the year of the victory, thus conquering it, all thanks and praise is due to Allah. Allah said,
أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤُمِنِينَ
(Do you fear them Allah has more right that you should fear Him if you are believers.) Allah says here, `Do not fear idolators, but fear Me instead, for I am worthy of being feared by the servants due to My might and punishment. In My Hand lies the matter; whatever I will occurs, and whatever I do not will does not occur.' Allah next said, while ordering the believers and explaining the wisdom of ordaining Jihad against them, all the while able to destroy their enemies with a command from Him,
قَـتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
(Fight against them so that Allah will punish them by your hands, and disgrace them and give you victory over them, and heal the breasts of a believing people.) This Ayah includes all believers, even though Mujahid, `Ikrimah and As-Suddi said that it refers to Khuza`ah. Concerning the believers, Allah said;
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ
(and remove the anger of their hearts), then
وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَن يَشَآءُ
(Allah accepts the repentance of whom He wills), from His servants,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ
(Allah is All-Knowing), in what benefits His servants,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in His actions and statements, whether narrative or legislative. Allah does what He wills, decides what He wills, and He is the Just Who never wrongs any. Not even the weight of an atom of good or evil is ever neglected with Him, but rather, He compensates for it in this life and the Hereafter.
ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول ﷺ کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر ﷺ کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہوچکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے کے ارادے سے مسلمانوں سے صف آراء ہوگئے جیسے کہ پورا واقع اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ انہوں نے عہد شکنی کی اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ کے حلیفوں سے جنگ کی۔ بنو بکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی اس خلاف وعدہ کی وجہ سے حضور ﷺ نے ان پر لشکر کشی کی ان کی خوب سرکوبی کی اور مکہ فتح کرلیا فالحمدللہ۔ فرماتا ہے کہ تم ان نجس لوگوں سے خوف کھاتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو تمہارے دل میں بجز اللہ کے کسی کا خوف نہ ہونا چاہیئے وہی اس لائق ہے کہ اس سے ایماندار ڈرتے رہیں دوسری آیت میں ہے ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو میرا غلبہ، میری سلطنت میری سزاء، میری قدرت، میری ملکیت، بیشک اس قابل ہے کہ ہر وقت ہر دل میری ہیبت سے لزرتا رہے تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں جو چاہوں کرسکتا ہوں اور کر گذرتا ہوں۔ میری منشا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا راز بیان ہو رہا ہے کہ اللہ قادر تھا جو عذاب چاہتا ان پر بھیج دیتا لیکن اس کی منشاء یہ ہے کہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے ان کی بربادی تم خود کرو تمہارے دل کی خود بھڑاس نکل جائے اور تمہیں راحت و آرام شادمانی و کامرانی حاصل ہو۔ یہ بات کچھ انہیں کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام مومنوں کے لیے بھی ہے۔ خصوصاً خزاعہ کا قبیلہ جن پر خلاف عہد قریش اپنے حلیفوں میں مل کر چڑھ دوڑے ان کے دل اسی وقت ٹھنڈے ہوں گے ان کے غبار اسی وقت بیٹھیں گے جب مسلمانوں کے ہاتھوں کفار نیچے ہوں ابن عساکر میں ہے کہ جب حضرت عائشہ ؓ غضبناک ہوتیں تو آپ ان کی ناک پکڑ لیتے اور فرماتے اے عویش یہ دعا کرو اللھم رب النبی محمد اغفر ذنبی اذھب غیظ قلبی واجرنی من مضلات الفتن اے اللہ محمد ﷺ کے پروردگار میرے گناہ بخش اور میرے دل کا غصہ دور کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے توبہ قبول فرما لے۔ وہ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے خوب آگاہ ہے۔ اپنے تمام کاموں میں اپنے شرعی احکام میں اپنے تمام حکموں میں حکمت والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے وہ عادل و حاکم ہے ظلم سے پاک ہے ایک ذرے برابر بھلائی برائی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دیتا ہے۔
15
View Single
وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوبِهِمۡۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
And He will remove the anxiety of their hearts; and Allah may accept the repentance of whomever He wills; and Allah is All Knowing, Wise.
اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا، اور اللہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Encouragement to fight the Disbelievers, and some Benefits of fighting Them
These Ayat encourage, direct and recommend fighting against the idolators who break the terms of their covenants, those who tried to expel the Messenger from Makkah. Allah said in other Ayat,
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَـكِرِينَ
(And (remember) when the disbelievers plotted against you to imprison you, or to kill you, or to expell you; they were plotting and Allah too was plotting; and Allah is the best of those who plot.) 8:30,
يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ
(...and have driven out the Messenger and yourselves (from your homeland) because you believe in Allah your Lord!) 60:1, and,
وَإِن كَادُواْ لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الاٌّرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا
(And verily, they were about to frighten you so much as to drive you out from the land.) 17:76 Allah's statement,
وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(while they did attack you first), refers to the battle of Badr when the idolators marched to protect their caravan. When they knew that their caravan escaped safely, they still went ahead with their intent to fight Muslims out of arrogance, as we mentioned before. It was also said that these Ayat refer to the idolators breaking the peace agreement with Muslims and aiding Bani Bakr, their allies, against Khuza`ah, the ally of the Messenger of Allah ﷺ. This is why the Messenger of Allah ﷺ marched to Makkah in the year of the victory, thus conquering it, all thanks and praise is due to Allah. Allah said,
أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤُمِنِينَ
(Do you fear them Allah has more right that you should fear Him if you are believers.) Allah says here, `Do not fear idolators, but fear Me instead, for I am worthy of being feared by the servants due to My might and punishment. In My Hand lies the matter; whatever I will occurs, and whatever I do not will does not occur.' Allah next said, while ordering the believers and explaining the wisdom of ordaining Jihad against them, all the while able to destroy their enemies with a command from Him,
قَـتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
(Fight against them so that Allah will punish them by your hands, and disgrace them and give you victory over them, and heal the breasts of a believing people.) This Ayah includes all believers, even though Mujahid, `Ikrimah and As-Suddi said that it refers to Khuza`ah. Concerning the believers, Allah said;
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ
(and remove the anger of their hearts), then
وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَن يَشَآءُ
(Allah accepts the repentance of whom He wills), from His servants,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ
(Allah is All-Knowing), in what benefits His servants,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in His actions and statements, whether narrative or legislative. Allah does what He wills, decides what He wills, and He is the Just Who never wrongs any. Not even the weight of an atom of good or evil is ever neglected with Him, but rather, He compensates for it in this life and the Hereafter.
ظالموں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچاؤ مسلمانوں کو پوری طرح جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ یہ وعدہ شکن قسمیں توڑنے والے کفار وہی ہیں جنہوں نے رسول ﷺ کو جلا وطن کرنے کی پوری ٹھان لی تھی چاہتے تھے کہ قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا دیس نکالا دے دیں ان کے مکر سے اللہ کا مکر کہیں بہتر تھا۔ صرف ایمان کی بناء پر دشمنی کر کے پیغمبر ﷺ کو اور مومنوں کو وطن سے خارج کرتے رھے بھڑ بھڑا کر اٹھ کھڑے ہوتے تھے تاکہ تجھے مکہ شریف سے نکال دیں۔ برائی کی ابتداء بھی انہیں کی طرف سے ہے بدر کے دن لشکر لے کر نکلے حالانکہ معلوم ہوچکا تھا کہ قافلہ بچ کر نکل گیا ہے لیکن تاہم غرور و فخر سے اللہ کے لشکر کو شکست دینے کے ارادے سے مسلمانوں سے صف آراء ہوگئے جیسے کہ پورا واقع اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ انہوں نے عہد شکنی کی اور اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ کے حلیفوں سے جنگ کی۔ بنو بکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی اس خلاف وعدہ کی وجہ سے حضور ﷺ نے ان پر لشکر کشی کی ان کی خوب سرکوبی کی اور مکہ فتح کرلیا فالحمدللہ۔ فرماتا ہے کہ تم ان نجس لوگوں سے خوف کھاتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو تمہارے دل میں بجز اللہ کے کسی کا خوف نہ ہونا چاہیئے وہی اس لائق ہے کہ اس سے ایماندار ڈرتے رہیں دوسری آیت میں ہے ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو میرا غلبہ، میری سلطنت میری سزاء، میری قدرت، میری ملکیت، بیشک اس قابل ہے کہ ہر وقت ہر دل میری ہیبت سے لزرتا رہے تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں جو چاہوں کرسکتا ہوں اور کر گذرتا ہوں۔ میری منشا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت کا راز بیان ہو رہا ہے کہ اللہ قادر تھا جو عذاب چاہتا ان پر بھیج دیتا لیکن اس کی منشاء یہ ہے کہ تمہارے ہاتھوں انہیں سزا دے ان کی بربادی تم خود کرو تمہارے دل کی خود بھڑاس نکل جائے اور تمہیں راحت و آرام شادمانی و کامرانی حاصل ہو۔ یہ بات کچھ انہیں کے ساتھ مخصوص نہ تھی بلکہ تمام مومنوں کے لیے بھی ہے۔ خصوصاً خزاعہ کا قبیلہ جن پر خلاف عہد قریش اپنے حلیفوں میں مل کر چڑھ دوڑے ان کے دل اسی وقت ٹھنڈے ہوں گے ان کے غبار اسی وقت بیٹھیں گے جب مسلمانوں کے ہاتھوں کفار نیچے ہوں ابن عساکر میں ہے کہ جب حضرت عائشہ ؓ غضبناک ہوتیں تو آپ ان کی ناک پکڑ لیتے اور فرماتے اے عویش یہ دعا کرو اللھم رب النبی محمد اغفر ذنبی اذھب غیظ قلبی واجرنی من مضلات الفتن اے اللہ محمد ﷺ کے پروردگار میرے گناہ بخش اور میرے دل کا غصہ دور کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے بچالے۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے توبہ قبول فرما لے۔ وہ اپنے بندوں کی تمام تر مصلحتوں سے خوب آگاہ ہے۔ اپنے تمام کاموں میں اپنے شرعی احکام میں اپنے تمام حکموں میں حکمت والا ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے وہ عادل و حاکم ہے ظلم سے پاک ہے ایک ذرے برابر بھلائی برائی ضائع نہیں کرتا بلکہ اس کا بدلہ دنیا اور آخرت میں دیتا ہے۔
16
View Single
أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تُتۡرَكُواْ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَلَمۡ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَلِيجَةٗۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
Are you under the illusion that you would be left just like this, whereas Allah has not yet made known those of you who will fight and not confide their secrets with anyone except Allah and His Noble Messenger and the Muslims? And Allah is Well Aware of your deeds.
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم (مصائب و مشکلات سے گزرے بغیر یونہی) چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ (ابھی) اللہ نے ایسے لوگوں کو متمیّز نہیں فرمایا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے اور (جنہوں نے) اللہ کے سوا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا اور اہلِ ایمان کے سوا (کسی کو) محرمِ راز نہیں بنایا، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Among the Wisdom of Jihad is to test the Muslims
Allah said,
أَمْ حَسِبْتُمْ
(Do you think), O believers that We will leave you untested with matters that make apparent those who have pure, good intent from those who have false intent This is why Allah said next,
وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ اللَّهِ وَلاَ رَسُولِهِ وَلاَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً
(while Allah has not yet tested those among you who have striven hard and fought and have not taken Walijah besides Allah and His Messenger, and the believers...), meaning, supporters and confidants. Rather, they are sincere for Allah and His Messenger inwardly and outwardly. Allah also said;
الم - ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ - الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـهُمْ يُنفِقُونَ
(Alif-Lam-Mim. Do people think that they will be left alone because they say: "We believe," and will not be tested. And We indeed tested those who were before them. And Allah will certainly make known those who are true, and will certainly make known those who are liars...) 29:1-3,
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَـهَدُواْ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّـبِرِينَ
(Do you think that you will enter Paradise before Allah tests those of you who fought (in His cause) and (also) tests those who are patient)3: 142, and,
مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ
(Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good)3:179. In summary, since Allah legislated Jihad for His servants, He explained that the wisdom behind doing so includes testing His servants, distinguishing between those who obey Him and those who disobey Him. Allah, the Exalted, is the All-Knower of what occurred, what will occur, and the true essence of what might occur had He decided it. Therefore, Allah knows everything before it occurs and how it will occur, there is no deity worthy of worship except Him, nor a Lord except Him. Truly, there is none who can avert Allah's judgment and decision.
مسلمان بھی آزمائے جائیں گے یہ ناممکن ہے کہ امتحان بغیر مسلمان بھی چھوڑ دیئے جائیں سچے اور جھوٹے مسلمان کو ظاہر دینا ضروری ہے ولیجہ کے معنی بھیدی اور دخل دینے والے کے ہیں۔ پس سچے وہ ہیں جو جہاد میں آگے بڑھ کر حصہ لیں اور ظاہر باطن میں اللہ رسول کی خیر خواہی اور حمایت کریں ایک قسم کا بیان دوسری قسم کو ظاہر کردیتا تھا اس لیے دوسری قسم کے لوگوں کا بیان چھوڑ دیا۔ ایسی عبارتیں شاعروں کے شعروں میں بھی ہیں ایک جگہ قرآن کریم ہے کہ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش ہوگی ہی نہیں حالانکہ اگلے مومنوں کی بھی ہم نے آزمائش کی یاد رکھو اللہ سچے جھوٹوں کو ضرور الگ الگ کر دے گا اور آیت میں اسی مضمون کو (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ) 2۔ البقرة :214) کے لفظوں سے بیان فرمایا ہے۔ اور آیت میں ہے (مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِھٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۠ فَاٰمِنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِھٖ ۚ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِيْمٌ01709) 3۔ آل عمران :179) اللہ ایسا نہیں کہ تم مومنوں کو تمہاری حالت پر ہی چھوڑ دے اور امتحان کر کے یہ نہ معلوم کرلے کہ خبیث کون ہے اور طیب کون ہے ؟ پس جہاد کے مشروع کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ کھرے کھوٹے کی تمیز ہوجاتی ہے گو اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔ جو ہوگا وہ بھی اسے معلوم ہے اور جو نہیں ہوا وہ جب ہوگا، تب کس طرح ہوگا یہ بھی وہ جانتا ہے چیز کے ہونے سے پہلے ہی اسے اس کا علم حاصل ہے اور ہر چیز کی ہر حالت سے وہ واقف ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ دنیا پر بھی کھرا کھوٹا سچا جھوٹا ظاہر کر دے اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے سوا کوئی پروردگار ہے نہ اس کی قضا و قدر اور ارادے کو کوئی بدل سکتا ہے۔
17
View Single
مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ
It does not befit the polytheists to assemble in Allah’s mosques after themselves bearing witness of their disbelief; in fact all their deeds are wasted; and they will remain in the fire forever.
مشرکوں کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں درآنحالیکہ وہ خود اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں، ان لوگوں کے تمام اعمال باطل ہو چکے ہیں اور وہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
It is not for Idolators to maintain the Masjids of Allah
Allah says that it is not fitting that those who associate others with Allah in worship should maintain the Masjids of Allah that were built in His Name alone without partners. Those who read the Ayah, "Masjid Allah", said that it refers to Al-Masjid Al-Haram, the most honored Masjid on the earth, which was built, from the first day, for the purpose of worshipping Allah alone without partners. It was built by Khalil Ar-Rahman (the Prophet Ibrahim) peace be upon him. The idolators do this while they themselves testify to their disbelief with their statements and actions. As-Suddi said, "If you ask a Christian, `What is your religion', He will tell you he is a Christian. If you ask a Jew about his religion, he will say he is a Jew, and the same for a Sabi' and a Mushrik!"'
أُوْلَـئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَـلُهُمْ
(The works of such are in vain), because of their Shirk,
وَفِى النَّارِ هُمْ خَـلِدُونَ
(and in Fire shall they abide.) Allah said in another Ayah,
وَمَا لَهُمْ أَلاَّ يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُواْ أَوْلِيَآءَهُ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(And why should not Allah punish them while they hinder (men) from Al-Masjid Al-Haram, and they are not its guardians None can be its guardians except those with Taqwa, but most of them know not.)8:34.
Believers are the True Maintainers of the Masjids
Allah said,
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَـجِدَ اللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(The Masjids of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day.) Therefore, Allah testifies to the faith of those who maintain the Masjids. `Abdur-Razzaq narrated that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "I met the Companions of the Prophet and they were saying, `The Masjids are the Houses of Allah on the earth. It is a promise from Allah that He is generous to those who visit Him in the Masjids.," Allah said next,
وَأَقَامَ الصَّلَوةَ
(perform the Salah), one of the major acts of worship practiced by the body,
وَءَاتَى الزَّكَوةَ
(and give the Zakah), which is the best act that benefits other people,
وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللَّهَ
(and fear none but Allah), they fear only Allah, the Exalted, and none else,
فَعَسَى أُوْلَـئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ
(It is they who are on true guidance.) `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَـجِدَ اللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(The Masjids of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day;) "He who singles out Allah (in worship), has faith in the Last Day." And he said; "He who believes in what Allah has revealed,
وَأَقَامَ الصَّلَوةَ
(perform the Salah), establishes the five daily prayers,
وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللَّهَ
(and fear none but Allah.), worships Allah alone,
فَعَسَى أُوْلَـئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ
(it may be they who are on true guidance.) Allah says, `It is they who are the successful ones in truth.' Similarly, Allah said to His Prophet ,
عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُودًا
(It may be that your Lord will raise you to Maqam Mahmud)17:79. Allah says here, `Your Lord (O Muhammad) shall grant you a station of praise, that is, the intercession (on the Day of Resurrection).' Every `might' in the Qur'an means `shall'."
مشرکوں کو اللہ کے گھر سے کیا تعلق ؟ یعنی اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں کو اللہ کی مسجدوں (کی تعمیر) کرنے والے بننا لائق ہی نہیں یہ مشرک ہیں بیت اللہ سے انہیں کیا تعلق ؟ مساجد کو مسجد بھی پڑھا گیا ہے پس مراد مسجد حرام ہے جو روئے زمین کی مسجدوں سے اشرف ہے جو اول دن سے صرف اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے جس کی بنیادیں خلیل اللہ نے رکھیں تھیں اور یہ لوگ مشرک ہیں حال و قال دونوں اعتبار سے تم نصرانی سے پوچھو وہ صاف کہے گا میں نصرانی ہوں، یہود سے پوچھو وہ اپنی یہودیت کا اقرار کریں گے، صابی سے پوچھو وہ بھی اپنا صابی ہونا اپنی زبان سے کہے گا، مشرک بھی اپنے مشرک ہونے کے لیے اقراری ہیں ان کے اس شرک کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہوچکے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے ناری ہیں۔ یہ تو مسجد حرام سے اور اللہ کی راہ روکتے ہی ہیں یہ گو کہیں لیکن دراصل یہ اللہ کے اولیاء نہیں اولیاء اللہ تو وہ ہیں جو متقی ہوں لیکن اکثر لوگ علم سے کورے اور خالی ہوتے ہیں۔ ہاں بیت اللہ کی آبادی مومنوں کے ہاتھوں ہوتی ہے پس جس کے ہاتھ سے مسجدوں کی آبادی ہو اس کے ایمان کا قرآن گواہ ہے۔ مسند میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جب تم کسی کو مسجد میں آنے جانے کی عادت والا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہات دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے مسجدوں کے آباد کرنے والے اللہ والے ہیں اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مسجد والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب پوری قوم پر سے ہٹا لیتا ہے۔ اور حدیث میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں زمین والوں کو عذاب کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے گھروں کے آباد کرنے والوں اور اپنی راہ میں آپس میں محبت رکھنے والوں اور صبح سحری کے وقت استغفار کرنے والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب ہٹا لیتا ہوں۔ ابن عساکر میں ہے کہ شیطان انسان کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ الگ تھلگ پڑی ہوئی ادھر ادھر کی بکھری بکری کو پکڑ کرلے جاتا ہے پس تم پھوٹ اور اختلاف سے بچو جماعت کو اور عوام کو اور مسجدوں کو لازم پکڑے رہو۔ اصحاب رسول ﷺ کا بیان ہے کہ مسجدیں اس زمین پر اللہ کا گھر ہیں جو ان میں داخل ہو اللہ کا ان پر حق ہے کہ وہ مساجد کا احترام کریں۔ ابن عباس فرماتے ہیں جو نماز کی اذان سن کر پھر بھی مسجد میں آکر باجماعت نماز نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی وہ اللہ کا نافرمان ہے کہ مسجدوں کی آبادی کرنے والے اللہ کے اور قیامت کے ماننے والے ہی ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا نمازی بدنی عبادت نماز کے پابند ہوتے ہیں اور مالی عبادت زکوٰۃ کے بھی ادا کرنے والے ہوتے ہیں ان کی بھلائی اپنے لیے بھی ہوتی ہے اور پھر عام مخلوق کے لیے بھی ہوتی ہے ان کے دل اللہ کے سوا اور کسی سے ڈرتے نہیں یہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ موحد ایمان دار قرآن و حدیث کے ماتحت پانچوں نمازوں کے پابند صرف اللہ کا خوف کھانے والے اس کے سوا دوسرے کی بندگی نہ کرنے والے ہی راہ یافتہ اور کامیاب اور بامقصد ہیں۔ یہ یاد رہے کہ بقول حضرت ابن عباس قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ عسی وہاں یقین کے معنی میں ہے امید کے معنی میں نہیں مثلاً فرمان ہے (آیت عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا) تو مقام محمود میں پہنچانا یقینی حضور ﷺ کا شافع محشر بننا یقینی چیز ہے جس میں کوئی شک شبہ نہیں۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں " عسی " کلام اللہ میں حق و یقین کے لیے آتا ہے
18
View Single
إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمۡ يَخۡشَ إِلَّا ٱللَّهَۖ فَعَسَىٰٓ أُوْلَـٰٓئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ
Only those enliven the mosques of Allah who believe in Allah and the Last Day and establish prayer and pay the obligatory charity and fear none except Allah – so it is likely that they will be among the people of guidance.
اللہ کی مسجدیں صرف وہی آباد کر سکتا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا (کسی سے) نہ ڈرا۔ سو امید ہے کہ یہی لوگ ہدایت پانے والوں میں ہو جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
It is not for Idolators to maintain the Masjids of Allah
Allah says that it is not fitting that those who associate others with Allah in worship should maintain the Masjids of Allah that were built in His Name alone without partners. Those who read the Ayah, "Masjid Allah", said that it refers to Al-Masjid Al-Haram, the most honored Masjid on the earth, which was built, from the first day, for the purpose of worshipping Allah alone without partners. It was built by Khalil Ar-Rahman (the Prophet Ibrahim) peace be upon him. The idolators do this while they themselves testify to their disbelief with their statements and actions. As-Suddi said, "If you ask a Christian, `What is your religion', He will tell you he is a Christian. If you ask a Jew about his religion, he will say he is a Jew, and the same for a Sabi' and a Mushrik!"'
أُوْلَـئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَـلُهُمْ
(The works of such are in vain), because of their Shirk,
وَفِى النَّارِ هُمْ خَـلِدُونَ
(and in Fire shall they abide.) Allah said in another Ayah,
وَمَا لَهُمْ أَلاَّ يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُواْ أَوْلِيَآءَهُ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(And why should not Allah punish them while they hinder (men) from Al-Masjid Al-Haram, and they are not its guardians None can be its guardians except those with Taqwa, but most of them know not.)8:34.
Believers are the True Maintainers of the Masjids
Allah said,
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَـجِدَ اللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(The Masjids of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day.) Therefore, Allah testifies to the faith of those who maintain the Masjids. `Abdur-Razzaq narrated that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "I met the Companions of the Prophet and they were saying, `The Masjids are the Houses of Allah on the earth. It is a promise from Allah that He is generous to those who visit Him in the Masjids.," Allah said next,
وَأَقَامَ الصَّلَوةَ
(perform the Salah), one of the major acts of worship practiced by the body,
وَءَاتَى الزَّكَوةَ
(and give the Zakah), which is the best act that benefits other people,
وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللَّهَ
(and fear none but Allah), they fear only Allah, the Exalted, and none else,
فَعَسَى أُوْلَـئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ
(It is they who are on true guidance.) `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَـجِدَ اللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(The Masjids of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day;) "He who singles out Allah (in worship), has faith in the Last Day." And he said; "He who believes in what Allah has revealed,
وَأَقَامَ الصَّلَوةَ
(perform the Salah), establishes the five daily prayers,
وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللَّهَ
(and fear none but Allah.), worships Allah alone,
فَعَسَى أُوْلَـئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ
(it may be they who are on true guidance.) Allah says, `It is they who are the successful ones in truth.' Similarly, Allah said to His Prophet ,
عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُودًا
(It may be that your Lord will raise you to Maqam Mahmud)17:79. Allah says here, `Your Lord (O Muhammad) shall grant you a station of praise, that is, the intercession (on the Day of Resurrection).' Every `might' in the Qur'an means `shall'."
مشرکوں کو اللہ کے گھر سے کیا تعلق ؟ یعنی اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں کو اللہ کی مسجدوں (کی تعمیر) کرنے والے بننا لائق ہی نہیں یہ مشرک ہیں بیت اللہ سے انہیں کیا تعلق ؟ مساجد کو مسجد بھی پڑھا گیا ہے پس مراد مسجد حرام ہے جو روئے زمین کی مسجدوں سے اشرف ہے جو اول دن سے صرف اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہے جس کی بنیادیں خلیل اللہ نے رکھیں تھیں اور یہ لوگ مشرک ہیں حال و قال دونوں اعتبار سے تم نصرانی سے پوچھو وہ صاف کہے گا میں نصرانی ہوں، یہود سے پوچھو وہ اپنی یہودیت کا اقرار کریں گے، صابی سے پوچھو وہ بھی اپنا صابی ہونا اپنی زبان سے کہے گا، مشرک بھی اپنے مشرک ہونے کے لیے اقراری ہیں ان کے اس شرک کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہوچکے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے ناری ہیں۔ یہ تو مسجد حرام سے اور اللہ کی راہ روکتے ہی ہیں یہ گو کہیں لیکن دراصل یہ اللہ کے اولیاء نہیں اولیاء اللہ تو وہ ہیں جو متقی ہوں لیکن اکثر لوگ علم سے کورے اور خالی ہوتے ہیں۔ ہاں بیت اللہ کی آبادی مومنوں کے ہاتھوں ہوتی ہے پس جس کے ہاتھ سے مسجدوں کی آبادی ہو اس کے ایمان کا قرآن گواہ ہے۔ مسند میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جب تم کسی کو مسجد میں آنے جانے کی عادت والا دیکھو تو اس کے ایمان کی شہات دو پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور حدیث میں ہے مسجدوں کے آباد کرنے والے اللہ والے ہیں اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مسجد والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب پوری قوم پر سے ہٹا لیتا ہے۔ اور حدیث میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں زمین والوں کو عذاب کرنا چاہتا ہوں لیکن اپنے گھروں کے آباد کرنے والوں اور اپنی راہ میں آپس میں محبت رکھنے والوں اور صبح سحری کے وقت استغفار کرنے والوں پر نظریں ڈال کر اپنے عذاب ہٹا لیتا ہوں۔ ابن عساکر میں ہے کہ شیطان انسان کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ الگ تھلگ پڑی ہوئی ادھر ادھر کی بکھری بکری کو پکڑ کرلے جاتا ہے پس تم پھوٹ اور اختلاف سے بچو جماعت کو اور عوام کو اور مسجدوں کو لازم پکڑے رہو۔ اصحاب رسول ﷺ کا بیان ہے کہ مسجدیں اس زمین پر اللہ کا گھر ہیں جو ان میں داخل ہو اللہ کا ان پر حق ہے کہ وہ مساجد کا احترام کریں۔ ابن عباس فرماتے ہیں جو نماز کی اذان سن کر پھر بھی مسجد میں آکر باجماعت نماز نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی وہ اللہ کا نافرمان ہے کہ مسجدوں کی آبادی کرنے والے اللہ کے اور قیامت کے ماننے والے ہی ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا نمازی بدنی عبادت نماز کے پابند ہوتے ہیں اور مالی عبادت زکوٰۃ کے بھی ادا کرنے والے ہوتے ہیں ان کی بھلائی اپنے لیے بھی ہوتی ہے اور پھر عام مخلوق کے لیے بھی ہوتی ہے ان کے دل اللہ کے سوا اور کسی سے ڈرتے نہیں یہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ موحد ایمان دار قرآن و حدیث کے ماتحت پانچوں نمازوں کے پابند صرف اللہ کا خوف کھانے والے اس کے سوا دوسرے کی بندگی نہ کرنے والے ہی راہ یافتہ اور کامیاب اور بامقصد ہیں۔ یہ یاد رہے کہ بقول حضرت ابن عباس قرآن کریم میں جہاں بھی لفظ عسی وہاں یقین کے معنی میں ہے امید کے معنی میں نہیں مثلاً فرمان ہے (آیت عسی ان یبعثک ربک مقام محمودا) تو مقام محمود میں پہنچانا یقینی حضور ﷺ کا شافع محشر بننا یقینی چیز ہے جس میں کوئی شک شبہ نہیں۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں " عسی " کلام اللہ میں حق و یقین کے لیے آتا ہے
19
View Single
۞أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
So have they taken the quenching of the pilgrims’ thirst and servicing of the Sacred Mosque as equal (in merit) to him who accepted faith in Allah and the Last Day, and fought in Allah’s way? They are not equal before Allah; and Allah does not guide the unjust.
کیا تم نے (محض) حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی آبادی و مرمت کا بندوبست کرنے (کے عمل) کو اس شخص کے (اعمال) کے برابر قرار دے رکھا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لے آیا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہ لوگ اللہ کے حضور برابر نہیں ہو سکتے، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
Providing Pilgrims with Water and maintaining the Sacred Masjid are not equal to Faith and Jihad
In his Tafsir, Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas explained this Ayah: "The idolators said, `Maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims are better than embracing the faith and performing Jihad.' They used to boast and show off among the people because they claimed, they were the people and maintainers of Al-Masjid Al-Haram. Allah mentioned their arrogance and rejection (of the faith), saying to `the people of Al-Haram', who were idolators,
قَدْ كَانَتْ ءَايَـتِى تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ تَنكِصُونَ - مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَـمِراً تَهْجُرُونَ
(Indeed My Ayat used to be recited to you, but you used to turn back on your heels (denying them, and refusing to listen to them with hatred). In pride, talking evil about it (the Qur'an) by night.) 23:66-67. They used to boast about being those who maintained the Sacred Sanctuary,
بِهِ سَـمِراً
(talking about it by night). They used to talk about this by night while shunning the Qur'an and the Prophet . Allah declared that faith and Jihad with the Prophet are better than the idolators' maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims. These actions -- maintaining and serving Allah's House -- will not benefit them with Allah because they associate others with Him. Allah the Exalted said,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(They are not equal before Allah. And Allah guides not those people who are the wrongdoers.) those who claimed they are the maintainers of the House. Allah described them with injustice, on account of their Shirk, and thus, their maintaining the Masjid will not avail them." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "This Ayah was revealed about Al-`Abbas bin `Abdul-Muttalib, for when he was captured in the battle of Badr, he said, `If you rushed before us to embrace Islam, perform Hijrah and Jihad, we were maintaining Al-Masjid Al-Haram, providing water for the pilgrims and setting the indebted free.' Allah, the Exalted and Ever High, said,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims), until,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(and Allah guides not those people who are the wrongdoers). Allah says, `All these actions were performed while committing Shirk, and I do not accept the (good deeds) that are performed while in a state of Shirk."' Ad-Dahhak bin Muzahim said, "Muslims came to Al-`Abbas and his friends who were captured during the battle of Badr and admonished them for their Shirk. Al-`Abbas said, `By Allah! We used to maintain Al-Masjid Al-Haram, release the indebted, serve the House (or cover it, or maintain it) and provide water for pilgrims.' Allah revealed this verse,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims...)"' There is a Hadith from the Prophet about the Tafsir of this Ayah that we should mention. `Abdur-Razzaq recorded that An-Nu`man bin Bashir said that a man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than providing drinking water for pilgrims who visit the Ka`bah at Makkah." Another man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than maintaining Al-Masjid Al-Haram." A third man said, "Jihad in the cause of Allah is more righteous than what you have said." `Umar admonished them, "Do not raise your voices next to the Minbar of the Messenger of Allah ﷺ," and as it was a Friday, he said, "but after we pray the Friday prayer, we will go to the Prophet and ask him." This verse was revealed,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims and the maintenance of Al-Masjid Al-Haram), until,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ
(They are not equal before Allah. )
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا کیڑا کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے تئیں آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ نے ان کا نام ظالم رکھا ان کی اللہ کے گھر کی خدمت بیکار کردی گئی۔ کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ نے جب ان سے پر لے دے شروع کی تو حضرت عباس نے کہا تھا کہ ہم مسجد حرام کے متولی تھے، ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے، ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے، ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے، اس پر یہ آیت اتری، مروی ہے کہ یہ گفتگو حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ میں ہوئی تھی۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبد المطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، عثمان ؓ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔ عباس ؓ نے کہا میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔ علی ؓ نے کہا میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو ؟ میں لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں اور اس پر یہ آیت پوری اتری۔ عباس ؓ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی پلانے کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں دوسرے نے اسی طرح مسجد حرام کی آبادی کو کہا تیسرے نے اسی طرح راہ رب کے جہاد کو کہا حضرت عمر ؓ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ کے پاس آوازیں بلند نہ کرو یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں آپ جا کر حضور ﷺ سے یہ بات دریافت کرلوں گا۔
20
View Single
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ أَعۡظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ
Those who accepted faith, and left their homes and fought with their wealth and their lives in Allah’s way have a greater rank before Allah; and it is they who have succeeded.
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے وہ اللہ کی بارگاہ میں درجہ کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں، اور وہی لوگ ہی مراد کو پہنچے ہوئے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Providing Pilgrims with Water and maintaining the Sacred Masjid are not equal to Faith and Jihad
In his Tafsir, Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas explained this Ayah: "The idolators said, `Maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims are better than embracing the faith and performing Jihad.' They used to boast and show off among the people because they claimed, they were the people and maintainers of Al-Masjid Al-Haram. Allah mentioned their arrogance and rejection (of the faith), saying to `the people of Al-Haram', who were idolators,
قَدْ كَانَتْ ءَايَـتِى تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ تَنكِصُونَ - مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَـمِراً تَهْجُرُونَ
(Indeed My Ayat used to be recited to you, but you used to turn back on your heels (denying them, and refusing to listen to them with hatred). In pride, talking evil about it (the Qur'an) by night.) 23:66-67. They used to boast about being those who maintained the Sacred Sanctuary,
بِهِ سَـمِراً
(talking about it by night). They used to talk about this by night while shunning the Qur'an and the Prophet . Allah declared that faith and Jihad with the Prophet are better than the idolators' maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims. These actions -- maintaining and serving Allah's House -- will not benefit them with Allah because they associate others with Him. Allah the Exalted said,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(They are not equal before Allah. And Allah guides not those people who are the wrongdoers.) those who claimed they are the maintainers of the House. Allah described them with injustice, on account of their Shirk, and thus, their maintaining the Masjid will not avail them." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "This Ayah was revealed about Al-`Abbas bin `Abdul-Muttalib, for when he was captured in the battle of Badr, he said, `If you rushed before us to embrace Islam, perform Hijrah and Jihad, we were maintaining Al-Masjid Al-Haram, providing water for the pilgrims and setting the indebted free.' Allah, the Exalted and Ever High, said,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims), until,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(and Allah guides not those people who are the wrongdoers). Allah says, `All these actions were performed while committing Shirk, and I do not accept the (good deeds) that are performed while in a state of Shirk."' Ad-Dahhak bin Muzahim said, "Muslims came to Al-`Abbas and his friends who were captured during the battle of Badr and admonished them for their Shirk. Al-`Abbas said, `By Allah! We used to maintain Al-Masjid Al-Haram, release the indebted, serve the House (or cover it, or maintain it) and provide water for pilgrims.' Allah revealed this verse,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims...)"' There is a Hadith from the Prophet about the Tafsir of this Ayah that we should mention. `Abdur-Razzaq recorded that An-Nu`man bin Bashir said that a man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than providing drinking water for pilgrims who visit the Ka`bah at Makkah." Another man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than maintaining Al-Masjid Al-Haram." A third man said, "Jihad in the cause of Allah is more righteous than what you have said." `Umar admonished them, "Do not raise your voices next to the Minbar of the Messenger of Allah ﷺ," and as it was a Friday, he said, "but after we pray the Friday prayer, we will go to the Prophet and ask him." This verse was revealed,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims and the maintenance of Al-Masjid Al-Haram), until,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ
(They are not equal before Allah. )
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا کیڑا کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے تئیں آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ نے ان کا نام ظالم رکھا ان کی اللہ کے گھر کی خدمت بیکار کردی گئی۔ کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ نے جب ان سے پر لے دے شروع کی تو حضرت عباس نے کہا تھا کہ ہم مسجد حرام کے متولی تھے، ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے، ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے، ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے، اس پر یہ آیت اتری، مروی ہے کہ یہ گفتگو حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ میں ہوئی تھی۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبد المطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، عثمان ؓ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔ عباس ؓ نے کہا میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔ علی ؓ نے کہا میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو ؟ میں لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں اور اس پر یہ آیت پوری اتری۔ عباس ؓ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی پلانے کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں دوسرے نے اسی طرح مسجد حرام کی آبادی کو کہا تیسرے نے اسی طرح راہ رب کے جہاد کو کہا حضرت عمر ؓ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ کے پاس آوازیں بلند نہ کرو یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں آپ جا کر حضور ﷺ سے یہ بات دریافت کرلوں گا۔
21
View Single
يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُم بِرَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَرِضۡوَٰنٖ وَجَنَّـٰتٖ لَّهُمۡ فِيهَا نَعِيمٞ مُّقِيمٌ
Their Lord gives them the glad tidings of His mercy and His pleasure, and the Gardens in which are everlasting favours for them.
ان کا رب انہیں اپنی جانب سے رحمت کی اور (اپنی) رضا کی اور (ان) جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Providing Pilgrims with Water and maintaining the Sacred Masjid are not equal to Faith and Jihad
In his Tafsir, Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas explained this Ayah: "The idolators said, `Maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims are better than embracing the faith and performing Jihad.' They used to boast and show off among the people because they claimed, they were the people and maintainers of Al-Masjid Al-Haram. Allah mentioned their arrogance and rejection (of the faith), saying to `the people of Al-Haram', who were idolators,
قَدْ كَانَتْ ءَايَـتِى تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ تَنكِصُونَ - مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَـمِراً تَهْجُرُونَ
(Indeed My Ayat used to be recited to you, but you used to turn back on your heels (denying them, and refusing to listen to them with hatred). In pride, talking evil about it (the Qur'an) by night.) 23:66-67. They used to boast about being those who maintained the Sacred Sanctuary,
بِهِ سَـمِراً
(talking about it by night). They used to talk about this by night while shunning the Qur'an and the Prophet . Allah declared that faith and Jihad with the Prophet are better than the idolators' maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims. These actions -- maintaining and serving Allah's House -- will not benefit them with Allah because they associate others with Him. Allah the Exalted said,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(They are not equal before Allah. And Allah guides not those people who are the wrongdoers.) those who claimed they are the maintainers of the House. Allah described them with injustice, on account of their Shirk, and thus, their maintaining the Masjid will not avail them." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "This Ayah was revealed about Al-`Abbas bin `Abdul-Muttalib, for when he was captured in the battle of Badr, he said, `If you rushed before us to embrace Islam, perform Hijrah and Jihad, we were maintaining Al-Masjid Al-Haram, providing water for the pilgrims and setting the indebted free.' Allah, the Exalted and Ever High, said,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims), until,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(and Allah guides not those people who are the wrongdoers). Allah says, `All these actions were performed while committing Shirk, and I do not accept the (good deeds) that are performed while in a state of Shirk."' Ad-Dahhak bin Muzahim said, "Muslims came to Al-`Abbas and his friends who were captured during the battle of Badr and admonished them for their Shirk. Al-`Abbas said, `By Allah! We used to maintain Al-Masjid Al-Haram, release the indebted, serve the House (or cover it, or maintain it) and provide water for pilgrims.' Allah revealed this verse,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims...)"' There is a Hadith from the Prophet about the Tafsir of this Ayah that we should mention. `Abdur-Razzaq recorded that An-Nu`man bin Bashir said that a man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than providing drinking water for pilgrims who visit the Ka`bah at Makkah." Another man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than maintaining Al-Masjid Al-Haram." A third man said, "Jihad in the cause of Allah is more righteous than what you have said." `Umar admonished them, "Do not raise your voices next to the Minbar of the Messenger of Allah ﷺ," and as it was a Friday, he said, "but after we pray the Friday prayer, we will go to the Prophet and ask him." This verse was revealed,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims and the maintenance of Al-Masjid Al-Haram), until,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ
(They are not equal before Allah. )
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا کیڑا کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے تئیں آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ نے ان کا نام ظالم رکھا ان کی اللہ کے گھر کی خدمت بیکار کردی گئی۔ کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ نے جب ان سے پر لے دے شروع کی تو حضرت عباس نے کہا تھا کہ ہم مسجد حرام کے متولی تھے، ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے، ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے، ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے، اس پر یہ آیت اتری، مروی ہے کہ یہ گفتگو حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ میں ہوئی تھی۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبد المطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، عثمان ؓ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔ عباس ؓ نے کہا میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔ علی ؓ نے کہا میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو ؟ میں لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں اور اس پر یہ آیت پوری اتری۔ عباس ؓ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی پلانے کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں دوسرے نے اسی طرح مسجد حرام کی آبادی کو کہا تیسرے نے اسی طرح راہ رب کے جہاد کو کہا حضرت عمر ؓ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ کے پاس آوازیں بلند نہ کرو یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں آپ جا کر حضور ﷺ سے یہ بات دریافت کرلوں گا۔
22
View Single
خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
They will abide in it for ever and ever; indeed with Allah is the great reward.
(وہ) ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Providing Pilgrims with Water and maintaining the Sacred Masjid are not equal to Faith and Jihad
In his Tafsir, Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas explained this Ayah: "The idolators said, `Maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims are better than embracing the faith and performing Jihad.' They used to boast and show off among the people because they claimed, they were the people and maintainers of Al-Masjid Al-Haram. Allah mentioned their arrogance and rejection (of the faith), saying to `the people of Al-Haram', who were idolators,
قَدْ كَانَتْ ءَايَـتِى تُتْلَى عَلَيْكُمْ فَكُنتُمْ عَلَى أَعْقَـبِكُمْ تَنكِصُونَ - مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَـمِراً تَهْجُرُونَ
(Indeed My Ayat used to be recited to you, but you used to turn back on your heels (denying them, and refusing to listen to them with hatred). In pride, talking evil about it (the Qur'an) by night.) 23:66-67. They used to boast about being those who maintained the Sacred Sanctuary,
بِهِ سَـمِراً
(talking about it by night). They used to talk about this by night while shunning the Qur'an and the Prophet . Allah declared that faith and Jihad with the Prophet are better than the idolators' maintaining Al-Masjid Al-Haram and providing water for pilgrims. These actions -- maintaining and serving Allah's House -- will not benefit them with Allah because they associate others with Him. Allah the Exalted said,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(They are not equal before Allah. And Allah guides not those people who are the wrongdoers.) those who claimed they are the maintainers of the House. Allah described them with injustice, on account of their Shirk, and thus, their maintaining the Masjid will not avail them." `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "This Ayah was revealed about Al-`Abbas bin `Abdul-Muttalib, for when he was captured in the battle of Badr, he said, `If you rushed before us to embrace Islam, perform Hijrah and Jihad, we were maintaining Al-Masjid Al-Haram, providing water for the pilgrims and setting the indebted free.' Allah, the Exalted and Ever High, said,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims), until,
وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(and Allah guides not those people who are the wrongdoers). Allah says, `All these actions were performed while committing Shirk, and I do not accept the (good deeds) that are performed while in a state of Shirk."' Ad-Dahhak bin Muzahim said, "Muslims came to Al-`Abbas and his friends who were captured during the battle of Badr and admonished them for their Shirk. Al-`Abbas said, `By Allah! We used to maintain Al-Masjid Al-Haram, release the indebted, serve the House (or cover it, or maintain it) and provide water for pilgrims.' Allah revealed this verse,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims...)"' There is a Hadith from the Prophet about the Tafsir of this Ayah that we should mention. `Abdur-Razzaq recorded that An-Nu`man bin Bashir said that a man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than providing drinking water for pilgrims who visit the Ka`bah at Makkah." Another man said, "I do not care if I do not perform an action after embracing Islam other than maintaining Al-Masjid Al-Haram." A third man said, "Jihad in the cause of Allah is more righteous than what you have said." `Umar admonished them, "Do not raise your voices next to the Minbar of the Messenger of Allah ﷺ," and as it was a Friday, he said, "but after we pray the Friday prayer, we will go to the Prophet and ask him." This verse was revealed,
أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
(Do you consider the providing of drinking water to the pilgrims and the maintenance of Al-Masjid Al-Haram), until,
لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ
(They are not equal before Allah. )
سب سے بری عبادت اللہ کی راہ میں جہاد ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں کا قول تھا کہ بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کے پانی پلانے کی سعادت ایمان وجہاد سے بہتر ہے ہم چونکہ یہ دونوں خدمتیں انجام دے رہے ہیں اس لیے ہم سے بہتر کوئی نہیں۔ اللہ نے ان کے فخر و غرور اور حق سے تکبر اور منہ پھیرنے کو بےنقاب کیا کہ میری آیتوں کی تمہارے سامنے تلاوت ہوتے ہوئے تم ان سے بےپرواہی سے منہ موڑ کر اپنی بات چیت میں مشغول رہتے ہو۔ پس تمہارا گمان بیجا تمہارا غرور غلط، تمہارا فخر نامناسب ہے یوں بھی اللہ کے ساتھ ایمان اور اس کی راہ میں جہاد بہت بڑی چیز ہے لیکن تمہارے مقابلے میں تو وہ اور بھی بڑی چیز ہے کیونکہ تمہاری تو کوئی نیکی ہو بھی تو اسے شرک کا کیڑا کھا جاتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ یہ دونوں گروہ برابر کے بھی نہیں یہ اپنے تئیں آبادی کرنے والا کہتے تھے اللہ نے ان کا نام ظالم رکھا ان کی اللہ کے گھر کی خدمت بیکار کردی گئی۔ کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے اپنی قید کے زمانے میں کہا تھا کہ تم اگر اسلام و جہاد میں تھے تو ہم بھی اللہ کے گھر کی خدمت اور حاجیوں کو آرام پہنچانے میں تھے اس پر یہ آیت اتری کہ شرک کے وقت کی نیکی بیکار ہے۔ صحابہ نے جب ان سے پر لے دے شروع کی تو حضرت عباس نے کہا تھا کہ ہم مسجد حرام کے متولی تھے، ہم غلاموں کو آزاد کرتے تھے، ہم بیت اللہ کو غلاف چڑھاتے تھے، ہم حاجیوں کو پانی پلاتے تھے، اس پر یہ آیت اتری، مروی ہے کہ یہ گفتگو حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ میں ہوئی تھی۔ مروی ہے کہ طلحہ بن شیبہ، عباس بن عبد المطلب، علی بن ابی طالب بیٹھے بیٹھے اپنی اپنی بزرگیاں بیان کرنے لگے، عثمان ؓ نے کہا میں بیت اللہ کا کنجی بردار ہوں میں اگر چاہوں وہاں رات گزار سکتا ہوں۔ عباس ؓ نے کہا میں زمزم کا پانی پلانے والا ہوں اور اس کا نگہبان ہوں اگر چاہوں تو مسجد ساری رات رہ سکتا ہوں۔ علی ؓ نے کہا میں نہیں جانتا کہ تم دونوں صاحب کیا کہہ رہے ہو ؟ میں لوگوں سے چھ ماہ پہلے قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے میں مجاہد ہوں اور اس پر یہ آیت پوری اتری۔ عباس ؓ نے اپنا ڈر ظاہر کیا کہ کہیں میں چاہ زمزم کے پانی پلانے کے عہدے سے نہ ہٹا دیا جاؤں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں تم اپنے اس منصب پر قائم رہو تمہارے لیے اس میں بھلائی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث وارد ہوئی ہے جس کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اسلام کے بعد اگر میں کوئی عمل نہ کروں تو مجھے پرواہ نہیں بجز اس کے کہ میں حاجیوں کو پانی پلاؤں دوسرے نے اسی طرح مسجد حرام کی آبادی کو کہا تیسرے نے اسی طرح راہ رب کے جہاد کو کہا حضرت عمر ؓ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا منبر رسول اللہ کے پاس آوازیں بلند نہ کرو یہ واقعہ جمعہ کے دن کا ہے جمعہ کے بعد ہم سب آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے وعدہ کیا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد میں آپ جا کر حضور ﷺ سے یہ بات دریافت کرلوں گا۔
23
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
O People who Believe! Do not consider your fathers and your brothers as your friends if they prefer disbelief over faith; and whoever among you befriends them – then it is he who is the unjust.
اے ایمان والو! تم اپنے باپ (دادا) اور بھائیوں کو بھی دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو محبوب رکھتے ہوں، اور تم میں سے جو شخص بھی انہیں دوست رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of taking the Idolators as Supporters, even with Relatives
Allah commands shunning the disbelievers, even if they are one's parents or children, and prohibits taking them as supporters if they choose disbelief instead of faith. Allah warns,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَـئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred (people). For such He has written (predetermined) faith in their hearts, and strengthened them with a Ruh (proof, light and true guidance) from Himself. And He will admit them to Gardens (Paradise) under which rivers flow.) 58:22 Al-Hafiz Al-Bayhaqi recorded that `Abdullah bin Shawdhab said, "The father of Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah was repeatedly praising the idols to his son on the day of Badr, and Abu `Ubaydah kept avoiding him. When Al-Jarrah persisted, his son Abu `Ubaydah headed towards him and killed him. Allah revealed this Ayah in his case,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger.")58:22 Allah commanded His Messenger to warn those who prefer their family, relatives or tribe to Allah, His Messenger and Jihad in His cause,
قُلْ إِن كَانَ ءَابَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَنُكُمْ وَأَزْوَجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَلٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا
(Say: If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your kindred, the wealth that you have gained), amassed and collected,
وَتِجَـرَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَـكِنُ تَرْضَوْنَهَآ
(the commerce in which you fear a decline, and the dwellings in which you delight), and prefer and love because they are comfortable and good. If all these things,
أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ
(are dearer to you than Allah and His Messenger, and striving hard and fighting in His cause, then wait...) for what will befall you of Allah's punishment and torment,
حَتَّى يَأْتِىَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَـسِقِينَ
(until Allah brings about His decision. And Allah guides not the people who are rebellious.) Imam Ahmad recorded that Zuhrah bin Ma`bad said that his grandfather said, "We were with the Messenger of Allah ﷺ, while he was holding the hand of `Umar bin Al-Khattab. `Umar said, `By Allah! You, O Messenger of Allah, are dearer to me than everything, except for myself.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِه»
(None among you will attain faith until I become dearer to him than even himself.) `Umar said, `Verily, now, you are dearer to me than myself, by Allah!' The Messenger of Allah ﷺ said,
«الْآنَ يَا عُمَر»
(Now, O `Umar!)" Al-Bukhari also collected this Hadith. Imam Ahmad and Abu Dawud (this is the version of Abu Dawud) recorded that Ibn `Umar said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُم»
(If you transact in `Iynah (a type of Riba), follow the tails of cows (tilling the land), become content with agriculture and abandoned Jihad, Allah will send on you disgrace that He will not remove until, you return to your religion.)"
ترک موالات و مودت کا حکم اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں بہت بھائی ہوں۔ بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر ترجیح دیں اور آیت میں ہے (آیت لا تجد قوما یومنوں باللہ الخ،) اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ رسول کے دشمنوں سے دوستی کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان رکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے حضرت ابو عبیدبن جراح ؓ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہرچند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہوگئی آپ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ اس پر آیت لا تجد نازل ہوئی۔ پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر وہ رشتے دار اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہوجانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ اور رسول سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ کے عذاب کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایسے بدکاروں کو اللہ بھی راستہ نہیں دکھاتا۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ساتھ جا رہے تھے حضرت عمر کا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہوگا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ کی قسم اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ آپ نے فرمایا اے عمر (تو مومن ہوگیا) (بخاری شریف) صحیح حدیث میں آپ کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں مسند احمد اور ابو داؤد میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم عین کی خریدو فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کرے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔
24
View Single
قُلۡ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٞ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَآ أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
Say, “If your fathers, and your sons, and your brothers, and your wives, and your tribe, and your acquired wealth, and the trade in which you fear a loss, and the houses of your liking – if all these are dearer to you than Allah and His Noble Messenger and fighting in His way, then wait until Allah brings about His command; and Allah does not guide the sinful.”
(اے نبی مکرم!) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of taking the Idolators as Supporters, even with Relatives
Allah commands shunning the disbelievers, even if they are one's parents or children, and prohibits taking them as supporters if they choose disbelief instead of faith. Allah warns,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَـئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred (people). For such He has written (predetermined) faith in their hearts, and strengthened them with a Ruh (proof, light and true guidance) from Himself. And He will admit them to Gardens (Paradise) under which rivers flow.) 58:22 Al-Hafiz Al-Bayhaqi recorded that `Abdullah bin Shawdhab said, "The father of Abu `Ubaydah bin Al-Jarrah was repeatedly praising the idols to his son on the day of Badr, and Abu `Ubaydah kept avoiding him. When Al-Jarrah persisted, his son Abu `Ubaydah headed towards him and killed him. Allah revealed this Ayah in his case,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger.")58:22 Allah commanded His Messenger to warn those who prefer their family, relatives or tribe to Allah, His Messenger and Jihad in His cause,
قُلْ إِن كَانَ ءَابَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَنُكُمْ وَأَزْوَجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَلٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا
(Say: If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your kindred, the wealth that you have gained), amassed and collected,
وَتِجَـرَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَـكِنُ تَرْضَوْنَهَآ
(the commerce in which you fear a decline, and the dwellings in which you delight), and prefer and love because they are comfortable and good. If all these things,
أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ
(are dearer to you than Allah and His Messenger, and striving hard and fighting in His cause, then wait...) for what will befall you of Allah's punishment and torment,
حَتَّى يَأْتِىَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَـسِقِينَ
(until Allah brings about His decision. And Allah guides not the people who are rebellious.) Imam Ahmad recorded that Zuhrah bin Ma`bad said that his grandfather said, "We were with the Messenger of Allah ﷺ, while he was holding the hand of `Umar bin Al-Khattab. `Umar said, `By Allah! You, O Messenger of Allah, are dearer to me than everything, except for myself.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِه»
(None among you will attain faith until I become dearer to him than even himself.) `Umar said, `Verily, now, you are dearer to me than myself, by Allah!' The Messenger of Allah ﷺ said,
«الْآنَ يَا عُمَر»
(Now, O `Umar!)" Al-Bukhari also collected this Hadith. Imam Ahmad and Abu Dawud (this is the version of Abu Dawud) recorded that Ibn `Umar said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُم»
(If you transact in `Iynah (a type of Riba), follow the tails of cows (tilling the land), become content with agriculture and abandoned Jihad, Allah will send on you disgrace that He will not remove until, you return to your religion.)"
ترک موالات و مودت کا حکم اللہ تعالیٰ کافروں سے ترک موالات کا حکم دیتا ہے ان کی دوستیوں سے روکتا ہے گوہ وہ ماں باپ ہوں بہت بھائی ہوں۔ بشرطیکہ وہ کفر کو اسلام پر ترجیح دیں اور آیت میں ہے (آیت لا تجد قوما یومنوں باللہ الخ،) اللہ پر اور قیامت پر ایمان لانے والوں کو تو ہرگز اللہ رسول کے دشمنوں سے دوستی کرنے والا نہیں پائے گا گو وہ ان کے باپ ہوں بیٹے یا بھائی ہوں یا رشتے دار ہوں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان رکھ دیا گیا ہے اور اپنی خاص روح سے ان کی تائید فرمائی ہے۔ انہیں نہروں والی جنت میں پہنچائے گا۔ بیہقی میں ہے حضرت ابو عبیدبن جراح ؓ کے باپ نے بدر والے دن ان کے سامنے اپنے بتوں کی تعریفیں شروع کیں آپ نے اسے ہرچند روکنا چاہا لیکن وہ بڑھتا ہی چلا گیا۔ باپ بیٹوں میں جنگ شروع ہوگئی آپ نے اپنے باپ کو قتل کردیا۔ اس پر آیت لا تجد نازل ہوئی۔ پھر ایسا کرنے والوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر وہ رشتے دار اپنے حاصل کئے ہوئے مال اور مندے ہوجانے کی دہشت کی تجارتیں اور پسندیدہ مکانات اگر تمہیں اللہ اور رسول سے اور جہاد سے بھی زیادہ مرغوب ہیں تو تمہیں اللہ کے عذاب کے برداشت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایسے بدکاروں کو اللہ بھی راستہ نہیں دکھاتا۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے ساتھ جا رہے تھے حضرت عمر کا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں بجز میری اپنی جان کے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میرا نفس ہے تم میں سے کوئی مومن نہ ہوگا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ رکھے۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ کی قسم اب آپ کی محبت مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ آپ نے فرمایا اے عمر (تو مومن ہوگیا) (بخاری شریف) صحیح حدیث میں آپ کا فرمان ثابت ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ سے اولاد اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں مسند احمد اور ابو داؤد میں ہے آپ فرماتے ہیں جب تم عین کی خریدو فروخت کرنے لگو گے اور گائے بیل کی دمیں تھام لو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کرے گا وہ اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔
25
View Single
لَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٖ وَيَوۡمَ حُنَيۡنٍ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنكُمۡ شَيۡـٔٗا وَضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّيۡتُم مُّدۡبِرِينَ
Indeed Allah helped you on many occasions – and on the day of Huneyn – when you prided in your multitude, so it did not benefit you at all, and the earth despite being vast became restricted for you – then you turned back and returned.
بیشک اللہ نے بہت سے مقامات میں تمہاری مدد فرمائی اور (خصوصاً) حنین کے دن جب تمہاری (افرادی قوت کی) کثرت نے تمہیں نازاں بنا دیا تھا پھر وہ (کثرت) تمہیں کچھ بھی نفع نہ دے سکی اور زمین باوجود اس کے کہ وہ فراخی رکھتی تھی، تم پر تنگ ہو گئی چنانچہ تم پیٹھ دکھاتے ہوئے پھر گئے
Tafsir Ibn Kathir
The Outcome of Victory by Way of the Unseen Aid
Ibn Jurayj reported from Mujahid that this was the first Ayah of Bara'ah in which Allah, the Exalted, reminds the believers how He favored and blessed them by giving them victory in many battles with His Messenger . Allah mentioned that victory comes from Him, by His aid and decree, not because of their numbers or adequate supplies, whether the triumphs are few or many. On the day of Hunayn, the Muslims were proud because of their large number, which did not avail them in the least; they retreated and fled from battle. Only a few of them remained with the Messenger of Allah ﷺ Allah then sent down His aid and support to His Messenger and the believers who remained with him, so that they were aware that victory is from Allah alone and through His aid, even if the victorious were few. Many a small group overcame a larger opposition by Allah's leave, and Allah is ever with those who are patient. We will explain this subject in detail below, Allah willing.
The Battle of Hunayn
The battle of Hunayn occurred after the victory of Makkah, in the month of Shawwal of the eighth year of Hijrah. After the Prophet conquered Makkah and things settled, most of its people embraced Islam and he set them free. News came to the Messenger of Allah ﷺ that the tribe of Hawazin were gathering their forces to fight him, under the command of Malik bin `Awf An-Nadri, as well as, the entire tribe of Thaqif, the tribes of Banu Jusham, Banu Sa`d bin Bakr, a few people of Awza` from Banu Hilal and some people from Bani `Amr bin `Amir and `Awf bin `Amir. They brought their women, children, sheep and camels along, in addition to their armed forces and adequate supplies. The Messenger of Allah ﷺ marched to meet them with the army that he brought to conquer Makkah, ten thousand from the Muhajirin, the Ansar and various Arab tribes. Along with them came the Tulaqa' numbering two thousand men. The Messenger took them along to meet the enemy. The two armies met in Humayn, a valley between Makkah and At-Ta'if. The battle started in the early part of the morning, when the Huwazin forces, who were lying in ambush, descended on the valley when the Muslims entered. Muslims were suddenly struck by the ambush, the arrows descended on them and the swords struck them. The Huwazin commander ordered them to descend and attack the Muslims as one block, and when they did that, the Muslims retreated in haste, just as Allah described them. The Messenger of Allah ﷺ remained firm in his position while riding his mule, Ash-Shahba'. He was leading his mule towards the enemy, while his uncle Al-`Abbas was holding its right-hand rope and his cousin Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abdul-Muttalib was holding the left rope. They tried to hold the mule back so it would not run faster toward the enemy. Meanwhile, the Messenger of Allah ﷺ was declaring his name aloud and saying,
«إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ إِلَيَ أَنَا رَسُولُ الله»
(O servants of Allah! Come back to me! I am the Messenger of Allah! He repeated these words,
«أَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ. أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب»
(I am the Prophet, not lying! I am the son of Abdul-Muttalib!) There remained between a hundred and eighty Companions with the Prophet . These included Abu Bakr, `Umar, Al-`Abbas, `Ali, Al-Fadl bin `Abbas, Abu Sufyan bin Al-Harith, Ayman the son of Umm Ayman and Usamah bin Zayd. There were many other Companions, may Allah be pleased with them. The Prophet commanded his uncle Al-`Abbas, whose voice was rather loud, to call at the top of his voice, "O Companions of the Samurah tree" referring to the Muhajirin and Ansar who gave their pledge under the tree during the pledge of Ridwan, not to run away and retreat. He also called, "O Companions of Surat Al-Baqarah." Upon hearing that, those heralded started saying, "Here we are! Here we are!" Muslims started returning in the direction of the Messenger of Allah ﷺ. If the camel of one of them did not obey him (as the people were rushing to the other direction in flight) he would wear his shield and descend from his camel and rush to the side of the Messenger of Allah ﷺ on foot. When a large crowd gathered around the Messenger of Allah ﷺ, he commanded them to fight in sincerity and took a handful of sand and threw it in the faces of the disbelievers, after supplicating to Allah,
«أللّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي»
(O Allah! Fulfill Your promise to me!) Then he threw that handful of sand which entered the eyes and mouth of all the disbelievers, thus distracting them from fighting, and they retreated in defeat. The Muslims pursued the enemy, killing and capturing them. The rest of the Muslim army (returning to battle gradually) rejoined their positions and found many captured disbelieving soldiers kept tied before the Messenger of Allah ﷺ. In the Two Sahihs, it is recorded that Shu`bah said that Abu Ishaq said that Al-Bara' bin `Azib said to a man who asked him, "O Abu `Amarah! Did you run away during Hunayn and leave the Messenger of Allah ﷺ " Al-Bara' said, "But the Messenger of Allah ﷺ did not run away. Hawazin was a tribe proficient with their arrows. When we met them we attacked their forces and they ran away in defeat. The Muslims started to worry about collecting the spoils of war and the Hawazin started shooting arrows at us, then the Muslims fled. I saw the Messenger of Allah ﷺ proclaiming, -- while Abu Sufyan was holding the bridle of his white mule,
«أَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب»
(I am the Prophet, not lying, I am the son of `Abdul- Muttalib!) This shows the great courage on behalf of the Prophet in the midst of confusion, when his army ran away and left him behind. Yet, the Messenger remained on his mule, which is a slow animal, not suitable for fast battle moves or even escape. Yet, the Messenger of Allah ﷺ was encouraging his mule to move forward towards the enemy announcing who he was, so that those among them who did not know who he was came to know him. May Allah's peace and blessings be on the Messenger until the Day of Resurrection. This indicates the tremendous trust in Allah and reliance upon Him, as well as, sure knowledge that He will give him victory, complete what He has sent him for and give prominence to his religion above all other religions. Allah said,
ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ
(Then Allah did send down His Sakinah on His Messenger), He sent down tranquillity and reassurance to His Messenger,
وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ
(and on the believers), who remained with him,
وَأَنزَلَ جُنُوداً لَّمْ تَرَوْهَا
(and sent down forces which you saw not, ) this refers to angels. Imam Abu Ja`far bin Jarir At-Tabari said that Al-Qasim narrated to them, that Al-Hasan bin `Arafah said that Al-Mu`tamir bin Sulayman said from `Awf bin Abi Jamilah Al-`Arabi who said that he heard `Abdur-Rahman, the freed slave of Ibn Barthan saying, "A man who participated in Hunayn with the idolators narrated to me, `When we met the Messenger of Allah ﷺ and his Companions on the day of Hunayn, they did not remain in battle more than the time it takes to milk a sheep! When we defeated them, we pursued them until we ended at the rider of the white mule, the Messenger of Allah ﷺ. At that time, men with white handsome faces intercepted us and said: `Disgraced be the faces! Go back. So we ran away, but they followed us. That was the end for us."' Allah said,
ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِن بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Then after that Allah will accept the repentance of whom He wills. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) Allah forgave the rest of Huwazin when they embraced Islam and went to the Prophet , before he arrived at Makkah in the Ji`ranah area. This occurred twenty days after the battle of Hunayn. The Messenger ﷺ gave them the choice between taking those who were prisoner or the war spoils they lost, and they chose the former. The Prophet released six thousand prisoners to them, but divided the war spoils between the victors, such as some of the Tulaqa', so that their hearts would be inclined towards Islam. He gave each of them a hundred camels, and the same to Malik bin `Awf An-Nasri whom he appointed chief of his people (Huwazin) as he was before. Malik bin `Awf said a poem in which he praised the Messenger of Allah ﷺ for his generosity and extraordinary courage.
نصرت الٰہی کا ذکر مجاہد کہتے ہیں براۃ کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کردیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔ یہ صرف تائید ربانی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کرلو حنین والے دن تمہیں ذرا اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہوگیا تو کیا حال ہوا ؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی اللہ کے پیغمبر ﷺ کے ساتھ ٹھہرے اسی وقت اللہ کی مدد نازل ہوئی اس نے دلوں میں تسکین ڈال دی یہ اس لیے کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ مدد اسی اللہ کی طرف سے ہے اس کی مدد سے چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے گروہوں کے منہ پھیر دیئے ہیں۔ اللہ کی امداد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ہم عنقریب تفصیل وار بیان کریں، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند کی حدیث میں ہے بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین چھوٹا لشکر چار سو کا ہے اور بہترین بڑا لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد تو اپنی کمی کے باعث کبھی مغلوب نہیں ہوسکتی۔ یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی ؒ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ یہ روایت سوائے ایک راوی کے باقی سب راویوں نے مرسل بیان کی ہے۔ ابن ماجہ اور بہیقی میں بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ سنہ008ہجری میں فتح مکہ کے بعد ماہ شوال میں جنگ حقین ہوئی تھی۔ جب حضور ﷺ فتح مکہ سے فارغ ہوئے اور ابتدائی امور سب انجام دے چکے اور عموما مکی حضرات مسلمان ہوچکے اور انہیں آپ آزاد بھی کرچکے تو آپ کو خبر ملی کہ قبیلہ ہوازن جمع ہوا ہے اور آپ سے جنگ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا سردار مالک بن عوف نصری ہے۔ ثقیف کا سارا قبیلہ ان کے ساتھ ہے اسی طرح بنو جشم بنو سعد بن بکر بھی ہیں اور بنو ہلال کے کچھ لوگ بھی ہیں اور کچھ لوگ بنو عمرو بن عامر کے اور عون بھی عامر کے بھی ہیں یہ سب لوگ مع اپنی عورتوں اور بچوں اور گھریلو مال کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کے اپنی بکریوں اور اونٹوں کو بھی انہوں نے ساتھ ہی رکھا ہے تو آپ نے اس لشکر کو لے کر جو اب آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار وغیرہ کا تھا ان کے مقابلے کے لیے چلے تقریباً دو ہزار نو مسلم مکی بھی آپ کے ساتھ ہو لیے۔ مکہ اور طائف کے درمیان کی وادی میں دونوں لشکر مل گئے اس جگہ کا نام حنین تھا صبح سویرے منہ اندھیرے قبیلہ ہوازن جو کمین گاہ میں چپھے ہوئے تھے انہوں نے بیخبر ی میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کردیا بےپنا تیر باری کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تلواریں چلانی شروع کردیں یہاں مسلمانوں میں دفعتاً ابتری پھیل گی اور یہ منہ پھر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ ان کی طرف بڑھے آپ اس وقت سفید خچر پر سوار تھے حضرت عباس ؓ آپ کے جانور کی دائیں جانب سے نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بائیں طرف سے نکیل پکڑے ہوئے تھے جانور کی تیزی کو یہ لوگ روک رہے تھے آپ با آواز بلند اپنے تئیں پہنچوا رہے تھے مسلمانوں کو واپسی کا حکم فرما رہے تھے اور ندا کرتے جاتے تھے کہ اللہ کے بندو کہاں چلے، میری طرف آؤ۔ میں اللہ کا سچا رسول ہوں میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں۔ میں اولاد عبد المطلب میں سے ہوں۔ آپ کے ساتھ اس وقت صرف اسی یا سو کے قریب صحابہ ؓ رہ گئے تھے۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ حضرت عمر ؓ ، حضرت عباس ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت فضل بن عباس ؓ ، حضرت ابو سفیان بن حارث ؓ حضرت ایمن بن ام ایمن، حضرت اسامہ بن زید وغیرہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی تھے پھر آپ نے اپنے چچا حضرت عباس کو بہت بلند آواز والے تھے حکم دیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے میرے صحابیوں کو آواز دو کہ وہ نہ بھاگیں پس آپ نے یہ کہہ کر اے ببول کے درخت تلے بیعت کرنے والو اے سورة بقرہ کے حاملو پس یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچنی تھی کہ انہوں نے ہر طرف سے لبیک لبیک کہنا شروع کیا اور آواز کی جانب لپک پڑے اور اسی وقت لوٹ کر آپ کے آس پاس آکر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ اگر کسی کا اونٹ اڑ گیا تو اس نے اپنی زرہ پہن لی اونٹ پر سے کود گیا اور پیدل سرکار نبوت میں حاضر ہوگیا جب کچھ جماعت آپ کے ارد گرد جمع ہوگئی آپ نے اللہ سے دعا مانگنی شروع کی کہ باری الٰہی جو وعدہ تیرا میرے ساتھ ہے اسے پورا فرما پھر آپ نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور اسے کافروں کی طرف پھینکا جس سے ان کی آنکھوں اور ان کا منہ بھر گیا وہ لڑائی کے قابل نہ رہے۔ ادھر مسلمانوں نے ان پر دھاوا بول دیا ان کے قدم اکھڑ گئے بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور مسلمانوں کی باقی فوج حضور ﷺ کے پاس پہنچی اتنی دیر میں تو انہوں نے کفار کو قید کر کے حضور ﷺ کے سامنے ڈھیر کردیا مسند احمد میں ہے حضرت عبد الرحمن فہری جن کا نام یزید بن اسید ہے یا یزید بن انیس ہے اور کرز بھی کہا گیا ہے فرماتے ہیں کہ میں اس معرکے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا دن سخت گرمی والا تھا دوپہر کو ہم درختوں کے سائے تلے ٹھہر گئے سورج ڈھلنے کے بعد میں نے اپنے ہتھیار لگا لیے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے خیمے پہنچا سلام کے بعد میں نے کہا حضور ﷺ ہوائیں ٹھنڈی ہوگئی ہیں آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے بلال اس وقت بلال ایک درخ کے سائے میں تھے حضور کی آواز سنتے ہی پرندے کی طرح گویا اڑ کر لبیک و سعد یک و انا فداوک کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا میری سواری تیار کرو اسی وقت انہوں نے زین نکالی جس کے دونوں پلے کھجور کی رسی کے تھے جس میں کوئی فخر و غرور کی چیز نہ تھی جب کس چکے تو حضور ﷺ سوار ہوئے ہم نے صف بندی کرلی شام اور رات اسی طرح گذری پھر دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوگئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسے قرآن نے فرمایا ہے حضور ﷺ نے آواز دی کہ اے اللہ کے بندو میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اے مہاجرین میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں پھر اپنے گھوڑے سے اتر پڑے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور یہ فرما کر ان کے چہرے بگڑ جائیں کافروں کی طرف پھینک دی اسی سے اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ ان مشرکوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں اور منہ میں یہ مٹی نہ آئی ہو اسی وقت ہمیں ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا زمین و آسمان کے درمیان لوہا کسی لوہے کی کے طشت پر بج رہا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ بھاگے ہوئے مسلمان جب ایک سو آپ کے پاس واپس پہنچ گئے آپ نے اسی وقت حملہ کا حکم دیدیا اول تو منادی انصار کی تھی پھر خزرج ہی پر رہ گئی یہ قبیلہ لڑائی کے وقت بڑا ہی صابر تھا آپ ﷺ نے اپنی سواری پر سے میدان جنگ کا نظارہ دیکھا اور فرمایا اب لڑائی گرما گرمی سے ہو رہی ہے۔ اس میں ہے کہ اللہ نے جس کافر کو چاہا قتل کرا دیا جسے چاہا قید کرا دیا۔ اور ان کے مال اور اولادیں اپنے نبی کو فے میں دلا دیں۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے کسی نے کہا اے ابو عمارہ کیا تم لوگ رسول اللہ علیہ ﷺ کے پاس سے حنین والے دن بھاگ نکلے تھے ؟ آپ نے فرمایا لیکن رسول اللہ ﷺ کا قدم پیچھے نہ ہٹا تھا بات یہ ہے کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر اندازی کے فن کے استاد تھے اللہ کے فضل سے ہم نے انہیں پہلے ہی حملے میں شکست دے دی لیکن جب لوگ مال غنیمت پر جھک پڑے انہوں نے موقع دیکھ کر پھر جو پوری مہارت کے ساتھ تیروں کی بار برسائی تو یہاں بھگڈر مچ گئی۔ سبحان اللہ رسول اللہ ﷺ کی کامل شجاعت اور پوری بہادری کا یہ موقع تھا۔ لشکر بھاگ نکلا ہے اس وقت آپ کسی تیز سواری پر نہیں جو بھاگنے دوڑنے میں کام آئے بلکہ خچر پر سوار ہیں اور مشرکوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اپنے تئیں چھپاتے نہیں بلکہ اپنا نام اپنی زبان سے پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ نہ پہنچاننے والے بھی پہنچا لیں۔ خیال فرمائیے کہ کس قدر ذات واحد پر آپ کا توکل ہے اور کتنا کامل یقین ہے آپ کو اللہ کی مدد پر۔ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امر رسالت کو پورا کر کے ہی رہے گا اور آپ کے دین کو دنیا کے اور دینوں پر غالب کر کے ہی رہے گا فصلوات اللہ وسلامہ علیہ ابد ابدا۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں کے اوپر سکینت نازل فرماتا ہے اور اپنے فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے جنہیں کوئی نہ دیکھتا تھا۔ ایک مشرک کا بیان ہے کہ حنین والے دن جب ہم مسلمانوں سے لڑنے لگے ایک بکری کا دودھ نکالا جائے اتنی دیر بھی ہم نے انہیں اپنے سامنے جمنے نہیں دیا فورا بھاگ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان کا تعاقب شروع کیا یہاں تک کہ ہمیں ایک صاحب سفید خچر پر سوار نظر پڑے ہم نے دیکھا یہ کہ خوبصورت نورانی چہرے والے کچھ لوگ ان کے ارد گرد ہیں ان کی زبان سے نکلا کہ تمہارے چہرے بگڑ جائیں واپس لوٹ جاؤ بس یہ کہنا تھا کہ ہمیں شکست ہوگئی یہاں تک کہ مسلمان ہمارے کندھوں پر سوار ہوگئے حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں بھی اس لشکر میں تھا آپ کے ساتھ صرف اسی مہاجر و انصار رہ گئے تھے ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی ہم پر اللہ نے اطمینان و سکون نازل فرما دیا تھا۔ حضور ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار دشمنوں کی طرف بڑھ رہے تھے جانور نے ٹھوکر کھائی آپ زین پر سے نیچے کی طرف جھک گئے میں نے آواز دی کہ حضور ﷺ اونچے ہوجائیے اللہ آپ کو اونچا ہی رکھے آپ نے فرمایا ایک مٹھی مٹی کی تو بھر دو میں نے بھر دی آپ نے کافروں کی طرف پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں پھر فرمایا مہاجر و انصار کہاں ہیں میں نے کہا یہیں ہیں فرمایا نہیں آواز دو میرا آواز دینا تھا کہ وہ تلواریں سونتے ہوئے لپک لپک کر آگئے اب تو مشرکین کی کچھ نہ چلی اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ بیہیقی کی ایک روایت میں ہے شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ حنین کے دن جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا کہ لشکر شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا ہے اور آپ ﷺ تنہا رہ گئے ہیں تو مجھے بدر والے دن اپنے باپ اور چچا کا مارا جانا یاد آیا کہ وہ حضرت علی ؓ اور حمزہ ؓ کے ہاتھوں مارے گئے ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا کہ ان کے انتقام لینے کا اس سے اچھا موقعہ اور کون سا ملے گا ؟ آؤ پیغمبر کو قتل کر دوں اس ارادے سے میں آپ کی دائیں جانب سے بڑھا لیکن وہاں میں نے عباس بن عبدالمطلب کو پایا سفید چاندی جیسی زرہ پہنے مستعد کھڑے ہیں میں نے سوچا کہ یہ چچا ہیں اپنے بھتیجے کی پوری حمایت کریں گے چلو بائیں جانب سے جا کر اپنا کام کروں اور ادھر سے آیا تو دیکھا ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کھڑے ہیں میں نے کہا ان کے بھی چچا کے لڑکے بھائی ہیں اپنے بھائی کی ضرور حمایت کریں گے پھر میں رکاوٹ کاٹ کر پیھے کی طرف آیا آپ کے قریب پہنچ گیا اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تلوار سونت کر وار کر دوں کہ میں نے دیکھا ایک آگ کا کوڑا بجلی کی طرف چمک کر مجھ پر پڑا چاہتا ہے میں نے آنکھیں بند کرلیں اور پچھلے پاؤں پیچھے کی طرف ہٹا اسی وقت حضور ﷺ نے میری جانب التفات کیا اور فرمایا شیبہ میرے پاس آیا، اللہ اس کے شیطان کو دور کر دے۔ اب میں نے آنکھ کھول کر جو رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا تو واللہ آپ مجھے میرے کانوں اور آنکھوں سے بھی زیادہ محبوب تھے آپ نے فرمایا شیبہ جا کافروں سے لڑ شیبہ کا بیان ہے کہ اس جنگ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھیوں میں میں بھی تھا لیکن میں اسلام کی وجہ سے یا اسلام کی معرفت کی بناء پر نہیں نکلا تھا بلکہ میں نے کہا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ ہوازن قریش پر غالب آجائیں ؟ میں آپ کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا تو میں نے ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ کر کہا یا رسول اللہ میں تو ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ رہا ہوں آپ نے فرمایا شیبہ وہ تو سوا کافروں کے کسی کو نظر نہیں آتے۔ پھر آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر دعا کی یا اللہ شیبہ کو ہدایت کر پھر دوبارہ سہ بارہ یہی کیا اور یہی کہا واللہ آپ کا ہاتھ ہٹنے سے پہلے ہی ساری دنیا سے زیادہ آپ کی محبت میں اپنے دل میں پانے لگا۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ فرماتے ہیں میں اس غزوے میں آپ کے ہم رکاب تھا میں نے دیکھا کہ کوئی چیز آسمان سے اتری رہی ہے چیونٹیوں کی طرح اس نے میدان گھیر لیا اور اسی وقت مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے واللہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ آسمانی مدد تھی۔ یزید بن عامر سوابی اپنے کفر کے زمانے میں جنگ حنین میں کافروں کے ساتھ تھا بعد میں یہ مسلمان ہوگئے تھے ان سے جب دریافت کیا جاتا کہ اس موقعہ پر تمہارے دلوں کا رعب و خوف سے کیا حال تھا ؟ تو وہ طشت میں کنکریاں رکھ کر بجا کر کہتے بس یہی آواز ہمیں ہمارے دل سے آرہی تھی بےطرح کلیجہ اچھل رہا تھا اور دل دہل رہا تھا۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے رعب سے مدد دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں الغرض کفار کو اللہ نے یہ سزا دی اور یہ ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ باقی ہوازن پر اللہ نے مہربانی فرمائی انہیں توبہ نصیب ہوئی مسلمان ہو کر خدمت مخدوم میں حاضر ہوئے اس وقت آپ فتح مندی کے ساتھ لوٹتے ہوئے مکہ شریف جعرانہ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جنگ کو بیس دن کے قریب گذر چکے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اب تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کرلو یا تو قیدی یا مال ؟ انہوں نے قیدیوں کا واپس لینا پسند کیا ان قیدیوں کی چھوٹوں بڑوں کی مرد عورت کی بالغ نابالغ کی تعداد چھ ہزار تھی۔ آپ نے یہ سب انہیں لوٹا دیئے ان کا مال بطور غنیمت کے مسلمانوں میں تقسیم ہوا اور نو مسلم جو مکہ کے آزاد کردہ تھے انہیں بھی آپ نے اس مال میں سے دیا کہ ان کے دل اسلام کی طرف پورے مائل ہوجائیں ان میں سے ایک ایک کو سو سو اونٹ عطا فرمائے۔ مالک بن عوف نصری کو بھی آپ نے سو اونٹ دیئے اور اسی کو اس کی قوم کا سردار بنادیا جیسے کہ وہ تھا اسی کی تعریف میں اسی نے اپنے مشہور قصیدے میں کہا ہے کہ میں نے تو حضرت محمد ﷺ جیسا نہ کسی اور کو دیکھا نہ سنا۔ دینے میں اور بخشش و عطا کرنے میں اور قصوروں سے درگزر کرنے میں دنیا میں آپ کا ثانی نہیں آپ کل قیامت کے دن ہونے والے تمام امور سے مطلع فرماتے رہتے ہیں یہی نہیں شجاعت اور بہادری میں بھی آپ بےمثل ہیں میدان جنگ میں گرجتے ہوئے شیر کی طرح آپ دشمنوں کی طرف بڑھتے ہیں۔
26
View Single
ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ
Then Allah sent down His calm upon His Noble Messenger and upon the Muslims, and sent down armies you did not see, and punished the disbelievers; and such is the reward of the deniers.
پھر اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور ایمان والوں پر اپنی تسکین (رحمت) نازل فرمائی اور اس نے (ملائکہ کے ایسے) لشکر اتارے جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے ان لوگوں کو عذاب دیا جو کفر کر رہے تھے، اور یہی کافروں کی سزا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Outcome of Victory by Way of the Unseen Aid
Ibn Jurayj reported from Mujahid that this was the first Ayah of Bara'ah in which Allah, the Exalted, reminds the believers how He favored and blessed them by giving them victory in many battles with His Messenger . Allah mentioned that victory comes from Him, by His aid and decree, not because of their numbers or adequate supplies, whether the triumphs are few or many. On the day of Hunayn, the Muslims were proud because of their large number, which did not avail them in the least; they retreated and fled from battle. Only a few of them remained with the Messenger of Allah ﷺ Allah then sent down His aid and support to His Messenger and the believers who remained with him, so that they were aware that victory is from Allah alone and through His aid, even if the victorious were few. Many a small group overcame a larger opposition by Allah's leave, and Allah is ever with those who are patient. We will explain this subject in detail below, Allah willing.
The Battle of Hunayn
The battle of Hunayn occurred after the victory of Makkah, in the month of Shawwal of the eighth year of Hijrah. After the Prophet conquered Makkah and things settled, most of its people embraced Islam and he set them free. News came to the Messenger of Allah ﷺ that the tribe of Hawazin were gathering their forces to fight him, under the command of Malik bin `Awf An-Nadri, as well as, the entire tribe of Thaqif, the tribes of Banu Jusham, Banu Sa`d bin Bakr, a few people of Awza` from Banu Hilal and some people from Bani `Amr bin `Amir and `Awf bin `Amir. They brought their women, children, sheep and camels along, in addition to their armed forces and adequate supplies. The Messenger of Allah ﷺ marched to meet them with the army that he brought to conquer Makkah, ten thousand from the Muhajirin, the Ansar and various Arab tribes. Along with them came the Tulaqa' numbering two thousand men. The Messenger took them along to meet the enemy. The two armies met in Humayn, a valley between Makkah and At-Ta'if. The battle started in the early part of the morning, when the Huwazin forces, who were lying in ambush, descended on the valley when the Muslims entered. Muslims were suddenly struck by the ambush, the arrows descended on them and the swords struck them. The Huwazin commander ordered them to descend and attack the Muslims as one block, and when they did that, the Muslims retreated in haste, just as Allah described them. The Messenger of Allah ﷺ remained firm in his position while riding his mule, Ash-Shahba'. He was leading his mule towards the enemy, while his uncle Al-`Abbas was holding its right-hand rope and his cousin Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abdul-Muttalib was holding the left rope. They tried to hold the mule back so it would not run faster toward the enemy. Meanwhile, the Messenger of Allah ﷺ was declaring his name aloud and saying,
«إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ إِلَيَ أَنَا رَسُولُ الله»
(O servants of Allah! Come back to me! I am the Messenger of Allah! He repeated these words,
«أَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ. أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب»
(I am the Prophet, not lying! I am the son of Abdul-Muttalib!) There remained between a hundred and eighty Companions with the Prophet . These included Abu Bakr, `Umar, Al-`Abbas, `Ali, Al-Fadl bin `Abbas, Abu Sufyan bin Al-Harith, Ayman the son of Umm Ayman and Usamah bin Zayd. There were many other Companions, may Allah be pleased with them. The Prophet commanded his uncle Al-`Abbas, whose voice was rather loud, to call at the top of his voice, "O Companions of the Samurah tree" referring to the Muhajirin and Ansar who gave their pledge under the tree during the pledge of Ridwan, not to run away and retreat. He also called, "O Companions of Surat Al-Baqarah." Upon hearing that, those heralded started saying, "Here we are! Here we are!" Muslims started returning in the direction of the Messenger of Allah ﷺ. If the camel of one of them did not obey him (as the people were rushing to the other direction in flight) he would wear his shield and descend from his camel and rush to the side of the Messenger of Allah ﷺ on foot. When a large crowd gathered around the Messenger of Allah ﷺ, he commanded them to fight in sincerity and took a handful of sand and threw it in the faces of the disbelievers, after supplicating to Allah,
«أللّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي»
(O Allah! Fulfill Your promise to me!) Then he threw that handful of sand which entered the eyes and mouth of all the disbelievers, thus distracting them from fighting, and they retreated in defeat. The Muslims pursued the enemy, killing and capturing them. The rest of the Muslim army (returning to battle gradually) rejoined their positions and found many captured disbelieving soldiers kept tied before the Messenger of Allah ﷺ. In the Two Sahihs, it is recorded that Shu`bah said that Abu Ishaq said that Al-Bara' bin `Azib said to a man who asked him, "O Abu `Amarah! Did you run away during Hunayn and leave the Messenger of Allah ﷺ " Al-Bara' said, "But the Messenger of Allah ﷺ did not run away. Hawazin was a tribe proficient with their arrows. When we met them we attacked their forces and they ran away in defeat. The Muslims started to worry about collecting the spoils of war and the Hawazin started shooting arrows at us, then the Muslims fled. I saw the Messenger of Allah ﷺ proclaiming, -- while Abu Sufyan was holding the bridle of his white mule,
«أَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب»
(I am the Prophet, not lying, I am the son of `Abdul- Muttalib!) This shows the great courage on behalf of the Prophet in the midst of confusion, when his army ran away and left him behind. Yet, the Messenger remained on his mule, which is a slow animal, not suitable for fast battle moves or even escape. Yet, the Messenger of Allah ﷺ was encouraging his mule to move forward towards the enemy announcing who he was, so that those among them who did not know who he was came to know him. May Allah's peace and blessings be on the Messenger until the Day of Resurrection. This indicates the tremendous trust in Allah and reliance upon Him, as well as, sure knowledge that He will give him victory, complete what He has sent him for and give prominence to his religion above all other religions. Allah said,
ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ
(Then Allah did send down His Sakinah on His Messenger), He sent down tranquillity and reassurance to His Messenger,
وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ
(and on the believers), who remained with him,
وَأَنزَلَ جُنُوداً لَّمْ تَرَوْهَا
(and sent down forces which you saw not, ) this refers to angels. Imam Abu Ja`far bin Jarir At-Tabari said that Al-Qasim narrated to them, that Al-Hasan bin `Arafah said that Al-Mu`tamir bin Sulayman said from `Awf bin Abi Jamilah Al-`Arabi who said that he heard `Abdur-Rahman, the freed slave of Ibn Barthan saying, "A man who participated in Hunayn with the idolators narrated to me, `When we met the Messenger of Allah ﷺ and his Companions on the day of Hunayn, they did not remain in battle more than the time it takes to milk a sheep! When we defeated them, we pursued them until we ended at the rider of the white mule, the Messenger of Allah ﷺ. At that time, men with white handsome faces intercepted us and said: `Disgraced be the faces! Go back. So we ran away, but they followed us. That was the end for us."' Allah said,
ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِن بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Then after that Allah will accept the repentance of whom He wills. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) Allah forgave the rest of Huwazin when they embraced Islam and went to the Prophet , before he arrived at Makkah in the Ji`ranah area. This occurred twenty days after the battle of Hunayn. The Messenger ﷺ gave them the choice between taking those who were prisoner or the war spoils they lost, and they chose the former. The Prophet released six thousand prisoners to them, but divided the war spoils between the victors, such as some of the Tulaqa', so that their hearts would be inclined towards Islam. He gave each of them a hundred camels, and the same to Malik bin `Awf An-Nasri whom he appointed chief of his people (Huwazin) as he was before. Malik bin `Awf said a poem in which he praised the Messenger of Allah ﷺ for his generosity and extraordinary courage.
نصرت الٰہی کا ذکر مجاہد کہتے ہیں براۃ کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کردیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔ یہ صرف تائید ربانی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کرلو حنین والے دن تمہیں ذرا اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہوگیا تو کیا حال ہوا ؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی اللہ کے پیغمبر ﷺ کے ساتھ ٹھہرے اسی وقت اللہ کی مدد نازل ہوئی اس نے دلوں میں تسکین ڈال دی یہ اس لیے کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ مدد اسی اللہ کی طرف سے ہے اس کی مدد سے چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے گروہوں کے منہ پھیر دیئے ہیں۔ اللہ کی امداد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ہم عنقریب تفصیل وار بیان کریں، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند کی حدیث میں ہے بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین چھوٹا لشکر چار سو کا ہے اور بہترین بڑا لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد تو اپنی کمی کے باعث کبھی مغلوب نہیں ہوسکتی۔ یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی ؒ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ یہ روایت سوائے ایک راوی کے باقی سب راویوں نے مرسل بیان کی ہے۔ ابن ماجہ اور بہیقی میں بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ سنہ008ہجری میں فتح مکہ کے بعد ماہ شوال میں جنگ حقین ہوئی تھی۔ جب حضور ﷺ فتح مکہ سے فارغ ہوئے اور ابتدائی امور سب انجام دے چکے اور عموما مکی حضرات مسلمان ہوچکے اور انہیں آپ آزاد بھی کرچکے تو آپ کو خبر ملی کہ قبیلہ ہوازن جمع ہوا ہے اور آپ سے جنگ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا سردار مالک بن عوف نصری ہے۔ ثقیف کا سارا قبیلہ ان کے ساتھ ہے اسی طرح بنو جشم بنو سعد بن بکر بھی ہیں اور بنو ہلال کے کچھ لوگ بھی ہیں اور کچھ لوگ بنو عمرو بن عامر کے اور عون بھی عامر کے بھی ہیں یہ سب لوگ مع اپنی عورتوں اور بچوں اور گھریلو مال کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کے اپنی بکریوں اور اونٹوں کو بھی انہوں نے ساتھ ہی رکھا ہے تو آپ نے اس لشکر کو لے کر جو اب آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار وغیرہ کا تھا ان کے مقابلے کے لیے چلے تقریباً دو ہزار نو مسلم مکی بھی آپ کے ساتھ ہو لیے۔ مکہ اور طائف کے درمیان کی وادی میں دونوں لشکر مل گئے اس جگہ کا نام حنین تھا صبح سویرے منہ اندھیرے قبیلہ ہوازن جو کمین گاہ میں چپھے ہوئے تھے انہوں نے بیخبر ی میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کردیا بےپنا تیر باری کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تلواریں چلانی شروع کردیں یہاں مسلمانوں میں دفعتاً ابتری پھیل گی اور یہ منہ پھر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ ان کی طرف بڑھے آپ اس وقت سفید خچر پر سوار تھے حضرت عباس ؓ آپ کے جانور کی دائیں جانب سے نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بائیں طرف سے نکیل پکڑے ہوئے تھے جانور کی تیزی کو یہ لوگ روک رہے تھے آپ با آواز بلند اپنے تئیں پہنچوا رہے تھے مسلمانوں کو واپسی کا حکم فرما رہے تھے اور ندا کرتے جاتے تھے کہ اللہ کے بندو کہاں چلے، میری طرف آؤ۔ میں اللہ کا سچا رسول ہوں میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں۔ میں اولاد عبد المطلب میں سے ہوں۔ آپ کے ساتھ اس وقت صرف اسی یا سو کے قریب صحابہ ؓ رہ گئے تھے۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ حضرت عمر ؓ ، حضرت عباس ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت فضل بن عباس ؓ ، حضرت ابو سفیان بن حارث ؓ حضرت ایمن بن ام ایمن، حضرت اسامہ بن زید وغیرہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی تھے پھر آپ نے اپنے چچا حضرت عباس کو بہت بلند آواز والے تھے حکم دیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے میرے صحابیوں کو آواز دو کہ وہ نہ بھاگیں پس آپ نے یہ کہہ کر اے ببول کے درخت تلے بیعت کرنے والو اے سورة بقرہ کے حاملو پس یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچنی تھی کہ انہوں نے ہر طرف سے لبیک لبیک کہنا شروع کیا اور آواز کی جانب لپک پڑے اور اسی وقت لوٹ کر آپ کے آس پاس آکر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ اگر کسی کا اونٹ اڑ گیا تو اس نے اپنی زرہ پہن لی اونٹ پر سے کود گیا اور پیدل سرکار نبوت میں حاضر ہوگیا جب کچھ جماعت آپ کے ارد گرد جمع ہوگئی آپ نے اللہ سے دعا مانگنی شروع کی کہ باری الٰہی جو وعدہ تیرا میرے ساتھ ہے اسے پورا فرما پھر آپ نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور اسے کافروں کی طرف پھینکا جس سے ان کی آنکھوں اور ان کا منہ بھر گیا وہ لڑائی کے قابل نہ رہے۔ ادھر مسلمانوں نے ان پر دھاوا بول دیا ان کے قدم اکھڑ گئے بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور مسلمانوں کی باقی فوج حضور ﷺ کے پاس پہنچی اتنی دیر میں تو انہوں نے کفار کو قید کر کے حضور ﷺ کے سامنے ڈھیر کردیا مسند احمد میں ہے حضرت عبد الرحمن فہری جن کا نام یزید بن اسید ہے یا یزید بن انیس ہے اور کرز بھی کہا گیا ہے فرماتے ہیں کہ میں اس معرکے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا دن سخت گرمی والا تھا دوپہر کو ہم درختوں کے سائے تلے ٹھہر گئے سورج ڈھلنے کے بعد میں نے اپنے ہتھیار لگا لیے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے خیمے پہنچا سلام کے بعد میں نے کہا حضور ﷺ ہوائیں ٹھنڈی ہوگئی ہیں آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے بلال اس وقت بلال ایک درخ کے سائے میں تھے حضور کی آواز سنتے ہی پرندے کی طرح گویا اڑ کر لبیک و سعد یک و انا فداوک کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا میری سواری تیار کرو اسی وقت انہوں نے زین نکالی جس کے دونوں پلے کھجور کی رسی کے تھے جس میں کوئی فخر و غرور کی چیز نہ تھی جب کس چکے تو حضور ﷺ سوار ہوئے ہم نے صف بندی کرلی شام اور رات اسی طرح گذری پھر دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوگئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسے قرآن نے فرمایا ہے حضور ﷺ نے آواز دی کہ اے اللہ کے بندو میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اے مہاجرین میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں پھر اپنے گھوڑے سے اتر پڑے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور یہ فرما کر ان کے چہرے بگڑ جائیں کافروں کی طرف پھینک دی اسی سے اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ ان مشرکوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں اور منہ میں یہ مٹی نہ آئی ہو اسی وقت ہمیں ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا زمین و آسمان کے درمیان لوہا کسی لوہے کی کے طشت پر بج رہا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ بھاگے ہوئے مسلمان جب ایک سو آپ کے پاس واپس پہنچ گئے آپ نے اسی وقت حملہ کا حکم دیدیا اول تو منادی انصار کی تھی پھر خزرج ہی پر رہ گئی یہ قبیلہ لڑائی کے وقت بڑا ہی صابر تھا آپ ﷺ نے اپنی سواری پر سے میدان جنگ کا نظارہ دیکھا اور فرمایا اب لڑائی گرما گرمی سے ہو رہی ہے۔ اس میں ہے کہ اللہ نے جس کافر کو چاہا قتل کرا دیا جسے چاہا قید کرا دیا۔ اور ان کے مال اور اولادیں اپنے نبی کو فے میں دلا دیں۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے کسی نے کہا اے ابو عمارہ کیا تم لوگ رسول اللہ علیہ ﷺ کے پاس سے حنین والے دن بھاگ نکلے تھے ؟ آپ نے فرمایا لیکن رسول اللہ ﷺ کا قدم پیچھے نہ ہٹا تھا بات یہ ہے کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر اندازی کے فن کے استاد تھے اللہ کے فضل سے ہم نے انہیں پہلے ہی حملے میں شکست دے دی لیکن جب لوگ مال غنیمت پر جھک پڑے انہوں نے موقع دیکھ کر پھر جو پوری مہارت کے ساتھ تیروں کی بار برسائی تو یہاں بھگڈر مچ گئی۔ سبحان اللہ رسول اللہ ﷺ کی کامل شجاعت اور پوری بہادری کا یہ موقع تھا۔ لشکر بھاگ نکلا ہے اس وقت آپ کسی تیز سواری پر نہیں جو بھاگنے دوڑنے میں کام آئے بلکہ خچر پر سوار ہیں اور مشرکوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اپنے تئیں چھپاتے نہیں بلکہ اپنا نام اپنی زبان سے پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ نہ پہنچاننے والے بھی پہنچا لیں۔ خیال فرمائیے کہ کس قدر ذات واحد پر آپ کا توکل ہے اور کتنا کامل یقین ہے آپ کو اللہ کی مدد پر۔ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امر رسالت کو پورا کر کے ہی رہے گا اور آپ کے دین کو دنیا کے اور دینوں پر غالب کر کے ہی رہے گا فصلوات اللہ وسلامہ علیہ ابد ابدا۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں کے اوپر سکینت نازل فرماتا ہے اور اپنے فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے جنہیں کوئی نہ دیکھتا تھا۔ ایک مشرک کا بیان ہے کہ حنین والے دن جب ہم مسلمانوں سے لڑنے لگے ایک بکری کا دودھ نکالا جائے اتنی دیر بھی ہم نے انہیں اپنے سامنے جمنے نہیں دیا فورا بھاگ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان کا تعاقب شروع کیا یہاں تک کہ ہمیں ایک صاحب سفید خچر پر سوار نظر پڑے ہم نے دیکھا یہ کہ خوبصورت نورانی چہرے والے کچھ لوگ ان کے ارد گرد ہیں ان کی زبان سے نکلا کہ تمہارے چہرے بگڑ جائیں واپس لوٹ جاؤ بس یہ کہنا تھا کہ ہمیں شکست ہوگئی یہاں تک کہ مسلمان ہمارے کندھوں پر سوار ہوگئے حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں بھی اس لشکر میں تھا آپ کے ساتھ صرف اسی مہاجر و انصار رہ گئے تھے ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی ہم پر اللہ نے اطمینان و سکون نازل فرما دیا تھا۔ حضور ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار دشمنوں کی طرف بڑھ رہے تھے جانور نے ٹھوکر کھائی آپ زین پر سے نیچے کی طرف جھک گئے میں نے آواز دی کہ حضور ﷺ اونچے ہوجائیے اللہ آپ کو اونچا ہی رکھے آپ نے فرمایا ایک مٹھی مٹی کی تو بھر دو میں نے بھر دی آپ نے کافروں کی طرف پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں پھر فرمایا مہاجر و انصار کہاں ہیں میں نے کہا یہیں ہیں فرمایا نہیں آواز دو میرا آواز دینا تھا کہ وہ تلواریں سونتے ہوئے لپک لپک کر آگئے اب تو مشرکین کی کچھ نہ چلی اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ بیہیقی کی ایک روایت میں ہے شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ حنین کے دن جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا کہ لشکر شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا ہے اور آپ ﷺ تنہا رہ گئے ہیں تو مجھے بدر والے دن اپنے باپ اور چچا کا مارا جانا یاد آیا کہ وہ حضرت علی ؓ اور حمزہ ؓ کے ہاتھوں مارے گئے ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا کہ ان کے انتقام لینے کا اس سے اچھا موقعہ اور کون سا ملے گا ؟ آؤ پیغمبر کو قتل کر دوں اس ارادے سے میں آپ کی دائیں جانب سے بڑھا لیکن وہاں میں نے عباس بن عبدالمطلب کو پایا سفید چاندی جیسی زرہ پہنے مستعد کھڑے ہیں میں نے سوچا کہ یہ چچا ہیں اپنے بھتیجے کی پوری حمایت کریں گے چلو بائیں جانب سے جا کر اپنا کام کروں اور ادھر سے آیا تو دیکھا ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کھڑے ہیں میں نے کہا ان کے بھی چچا کے لڑکے بھائی ہیں اپنے بھائی کی ضرور حمایت کریں گے پھر میں رکاوٹ کاٹ کر پیھے کی طرف آیا آپ کے قریب پہنچ گیا اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تلوار سونت کر وار کر دوں کہ میں نے دیکھا ایک آگ کا کوڑا بجلی کی طرف چمک کر مجھ پر پڑا چاہتا ہے میں نے آنکھیں بند کرلیں اور پچھلے پاؤں پیچھے کی طرف ہٹا اسی وقت حضور ﷺ نے میری جانب التفات کیا اور فرمایا شیبہ میرے پاس آیا، اللہ اس کے شیطان کو دور کر دے۔ اب میں نے آنکھ کھول کر جو رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا تو واللہ آپ مجھے میرے کانوں اور آنکھوں سے بھی زیادہ محبوب تھے آپ نے فرمایا شیبہ جا کافروں سے لڑ شیبہ کا بیان ہے کہ اس جنگ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھیوں میں میں بھی تھا لیکن میں اسلام کی وجہ سے یا اسلام کی معرفت کی بناء پر نہیں نکلا تھا بلکہ میں نے کہا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ ہوازن قریش پر غالب آجائیں ؟ میں آپ کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا تو میں نے ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ کر کہا یا رسول اللہ میں تو ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ رہا ہوں آپ نے فرمایا شیبہ وہ تو سوا کافروں کے کسی کو نظر نہیں آتے۔ پھر آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر دعا کی یا اللہ شیبہ کو ہدایت کر پھر دوبارہ سہ بارہ یہی کیا اور یہی کہا واللہ آپ کا ہاتھ ہٹنے سے پہلے ہی ساری دنیا سے زیادہ آپ کی محبت میں اپنے دل میں پانے لگا۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ فرماتے ہیں میں اس غزوے میں آپ کے ہم رکاب تھا میں نے دیکھا کہ کوئی چیز آسمان سے اتری رہی ہے چیونٹیوں کی طرح اس نے میدان گھیر لیا اور اسی وقت مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے واللہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ آسمانی مدد تھی۔ یزید بن عامر سوابی اپنے کفر کے زمانے میں جنگ حنین میں کافروں کے ساتھ تھا بعد میں یہ مسلمان ہوگئے تھے ان سے جب دریافت کیا جاتا کہ اس موقعہ پر تمہارے دلوں کا رعب و خوف سے کیا حال تھا ؟ تو وہ طشت میں کنکریاں رکھ کر بجا کر کہتے بس یہی آواز ہمیں ہمارے دل سے آرہی تھی بےطرح کلیجہ اچھل رہا تھا اور دل دہل رہا تھا۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے رعب سے مدد دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں الغرض کفار کو اللہ نے یہ سزا دی اور یہ ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ باقی ہوازن پر اللہ نے مہربانی فرمائی انہیں توبہ نصیب ہوئی مسلمان ہو کر خدمت مخدوم میں حاضر ہوئے اس وقت آپ فتح مندی کے ساتھ لوٹتے ہوئے مکہ شریف جعرانہ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جنگ کو بیس دن کے قریب گذر چکے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اب تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کرلو یا تو قیدی یا مال ؟ انہوں نے قیدیوں کا واپس لینا پسند کیا ان قیدیوں کی چھوٹوں بڑوں کی مرد عورت کی بالغ نابالغ کی تعداد چھ ہزار تھی۔ آپ نے یہ سب انہیں لوٹا دیئے ان کا مال بطور غنیمت کے مسلمانوں میں تقسیم ہوا اور نو مسلم جو مکہ کے آزاد کردہ تھے انہیں بھی آپ نے اس مال میں سے دیا کہ ان کے دل اسلام کی طرف پورے مائل ہوجائیں ان میں سے ایک ایک کو سو سو اونٹ عطا فرمائے۔ مالک بن عوف نصری کو بھی آپ نے سو اونٹ دیئے اور اسی کو اس کی قوم کا سردار بنادیا جیسے کہ وہ تھا اسی کی تعریف میں اسی نے اپنے مشہور قصیدے میں کہا ہے کہ میں نے تو حضرت محمد ﷺ جیسا نہ کسی اور کو دیکھا نہ سنا۔ دینے میں اور بخشش و عطا کرنے میں اور قصوروں سے درگزر کرنے میں دنیا میں آپ کا ثانی نہیں آپ کل قیامت کے دن ہونے والے تمام امور سے مطلع فرماتے رہتے ہیں یہی نہیں شجاعت اور بہادری میں بھی آپ بےمثل ہیں میدان جنگ میں گرجتے ہوئے شیر کی طرح آپ دشمنوں کی طرف بڑھتے ہیں۔
27
View Single
ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Then afterwards Allah will give repentance to whomever He wills; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
پھر اللہ اس کے بعد بھی جس کی چاہتا ہے توبہ قبول فرماتا ہے (یعنی اسے توفیقِ اسلام اور توجہِ رحمت سے نوازتا ہے)، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Outcome of Victory by Way of the Unseen Aid
Ibn Jurayj reported from Mujahid that this was the first Ayah of Bara'ah in which Allah, the Exalted, reminds the believers how He favored and blessed them by giving them victory in many battles with His Messenger . Allah mentioned that victory comes from Him, by His aid and decree, not because of their numbers or adequate supplies, whether the triumphs are few or many. On the day of Hunayn, the Muslims were proud because of their large number, which did not avail them in the least; they retreated and fled from battle. Only a few of them remained with the Messenger of Allah ﷺ Allah then sent down His aid and support to His Messenger and the believers who remained with him, so that they were aware that victory is from Allah alone and through His aid, even if the victorious were few. Many a small group overcame a larger opposition by Allah's leave, and Allah is ever with those who are patient. We will explain this subject in detail below, Allah willing.
The Battle of Hunayn
The battle of Hunayn occurred after the victory of Makkah, in the month of Shawwal of the eighth year of Hijrah. After the Prophet conquered Makkah and things settled, most of its people embraced Islam and he set them free. News came to the Messenger of Allah ﷺ that the tribe of Hawazin were gathering their forces to fight him, under the command of Malik bin `Awf An-Nadri, as well as, the entire tribe of Thaqif, the tribes of Banu Jusham, Banu Sa`d bin Bakr, a few people of Awza` from Banu Hilal and some people from Bani `Amr bin `Amir and `Awf bin `Amir. They brought their women, children, sheep and camels along, in addition to their armed forces and adequate supplies. The Messenger of Allah ﷺ marched to meet them with the army that he brought to conquer Makkah, ten thousand from the Muhajirin, the Ansar and various Arab tribes. Along with them came the Tulaqa' numbering two thousand men. The Messenger took them along to meet the enemy. The two armies met in Humayn, a valley between Makkah and At-Ta'if. The battle started in the early part of the morning, when the Huwazin forces, who were lying in ambush, descended on the valley when the Muslims entered. Muslims were suddenly struck by the ambush, the arrows descended on them and the swords struck them. The Huwazin commander ordered them to descend and attack the Muslims as one block, and when they did that, the Muslims retreated in haste, just as Allah described them. The Messenger of Allah ﷺ remained firm in his position while riding his mule, Ash-Shahba'. He was leading his mule towards the enemy, while his uncle Al-`Abbas was holding its right-hand rope and his cousin Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abdul-Muttalib was holding the left rope. They tried to hold the mule back so it would not run faster toward the enemy. Meanwhile, the Messenger of Allah ﷺ was declaring his name aloud and saying,
«إِلَيَّ عِبَادَ اللهِ إِلَيَ أَنَا رَسُولُ الله»
(O servants of Allah! Come back to me! I am the Messenger of Allah! He repeated these words,
«أَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ. أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب»
(I am the Prophet, not lying! I am the son of Abdul-Muttalib!) There remained between a hundred and eighty Companions with the Prophet . These included Abu Bakr, `Umar, Al-`Abbas, `Ali, Al-Fadl bin `Abbas, Abu Sufyan bin Al-Harith, Ayman the son of Umm Ayman and Usamah bin Zayd. There were many other Companions, may Allah be pleased with them. The Prophet commanded his uncle Al-`Abbas, whose voice was rather loud, to call at the top of his voice, "O Companions of the Samurah tree" referring to the Muhajirin and Ansar who gave their pledge under the tree during the pledge of Ridwan, not to run away and retreat. He also called, "O Companions of Surat Al-Baqarah." Upon hearing that, those heralded started saying, "Here we are! Here we are!" Muslims started returning in the direction of the Messenger of Allah ﷺ. If the camel of one of them did not obey him (as the people were rushing to the other direction in flight) he would wear his shield and descend from his camel and rush to the side of the Messenger of Allah ﷺ on foot. When a large crowd gathered around the Messenger of Allah ﷺ, he commanded them to fight in sincerity and took a handful of sand and threw it in the faces of the disbelievers, after supplicating to Allah,
«أللّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي»
(O Allah! Fulfill Your promise to me!) Then he threw that handful of sand which entered the eyes and mouth of all the disbelievers, thus distracting them from fighting, and they retreated in defeat. The Muslims pursued the enemy, killing and capturing them. The rest of the Muslim army (returning to battle gradually) rejoined their positions and found many captured disbelieving soldiers kept tied before the Messenger of Allah ﷺ. In the Two Sahihs, it is recorded that Shu`bah said that Abu Ishaq said that Al-Bara' bin `Azib said to a man who asked him, "O Abu `Amarah! Did you run away during Hunayn and leave the Messenger of Allah ﷺ " Al-Bara' said, "But the Messenger of Allah ﷺ did not run away. Hawazin was a tribe proficient with their arrows. When we met them we attacked their forces and they ran away in defeat. The Muslims started to worry about collecting the spoils of war and the Hawazin started shooting arrows at us, then the Muslims fled. I saw the Messenger of Allah ﷺ proclaiming, -- while Abu Sufyan was holding the bridle of his white mule,
«أَنَا النَّبِيُّ لَاكَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب»
(I am the Prophet, not lying, I am the son of `Abdul- Muttalib!) This shows the great courage on behalf of the Prophet in the midst of confusion, when his army ran away and left him behind. Yet, the Messenger remained on his mule, which is a slow animal, not suitable for fast battle moves or even escape. Yet, the Messenger of Allah ﷺ was encouraging his mule to move forward towards the enemy announcing who he was, so that those among them who did not know who he was came to know him. May Allah's peace and blessings be on the Messenger until the Day of Resurrection. This indicates the tremendous trust in Allah and reliance upon Him, as well as, sure knowledge that He will give him victory, complete what He has sent him for and give prominence to his religion above all other religions. Allah said,
ثُمَّ أَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ
(Then Allah did send down His Sakinah on His Messenger), He sent down tranquillity and reassurance to His Messenger,
وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ
(and on the believers), who remained with him,
وَأَنزَلَ جُنُوداً لَّمْ تَرَوْهَا
(and sent down forces which you saw not, ) this refers to angels. Imam Abu Ja`far bin Jarir At-Tabari said that Al-Qasim narrated to them, that Al-Hasan bin `Arafah said that Al-Mu`tamir bin Sulayman said from `Awf bin Abi Jamilah Al-`Arabi who said that he heard `Abdur-Rahman, the freed slave of Ibn Barthan saying, "A man who participated in Hunayn with the idolators narrated to me, `When we met the Messenger of Allah ﷺ and his Companions on the day of Hunayn, they did not remain in battle more than the time it takes to milk a sheep! When we defeated them, we pursued them until we ended at the rider of the white mule, the Messenger of Allah ﷺ. At that time, men with white handsome faces intercepted us and said: `Disgraced be the faces! Go back. So we ran away, but they followed us. That was the end for us."' Allah said,
ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِن بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Then after that Allah will accept the repentance of whom He wills. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) Allah forgave the rest of Huwazin when they embraced Islam and went to the Prophet , before he arrived at Makkah in the Ji`ranah area. This occurred twenty days after the battle of Hunayn. The Messenger ﷺ gave them the choice between taking those who were prisoner or the war spoils they lost, and they chose the former. The Prophet released six thousand prisoners to them, but divided the war spoils between the victors, such as some of the Tulaqa', so that their hearts would be inclined towards Islam. He gave each of them a hundred camels, and the same to Malik bin `Awf An-Nasri whom he appointed chief of his people (Huwazin) as he was before. Malik bin `Awf said a poem in which he praised the Messenger of Allah ﷺ for his generosity and extraordinary courage.
نصرت الٰہی کا ذکر مجاہد کہتے ہیں براۃ کی یہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بہت بڑا احسان مومنوں پر ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے اپنے نبی ﷺ کے ساتھیوں کی آپ امداد فرمائی انہیں دشمنوں پر غالب کردیا اور ایک جگہ نہیں ہر جگہ اس کی مدد شامل حال رہی اسی وجہ سے فتح و ظفر نے کبھی ہم رکابی نہ چھوڑی۔ یہ صرف تائید ربانی تھی نہ کہ مال اسباب اور ہتھیار کی فراوانی اور نہ تعداد کی زیادتی۔ یاد کرلو حنین والے دن تمہیں ذرا اپنی تعداد کی کثرت پر ناز ہوگیا تو کیا حال ہوا ؟ پیٹھ دکھا کر بھاگ نکلے تھے۔ معدودے چند ہی اللہ کے پیغمبر ﷺ کے ساتھ ٹھہرے اسی وقت اللہ کی مدد نازل ہوئی اس نے دلوں میں تسکین ڈال دی یہ اس لیے کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ مدد اسی اللہ کی طرف سے ہے اس کی مدد سے چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے گروہوں کے منہ پھیر دیئے ہیں۔ اللہ کی امداد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ہم عنقریب تفصیل وار بیان کریں، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند کی حدیث میں ہے بہترین ساتھی چار ہیں اور بہترین چھوٹا لشکر چار سو کا ہے اور بہترین بڑا لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد تو اپنی کمی کے باعث کبھی مغلوب نہیں ہوسکتی۔ یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے امام ترمذی ؒ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔ یہ روایت سوائے ایک راوی کے باقی سب راویوں نے مرسل بیان کی ہے۔ ابن ماجہ اور بہیقی میں بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ سنہ008ہجری میں فتح مکہ کے بعد ماہ شوال میں جنگ حقین ہوئی تھی۔ جب حضور ﷺ فتح مکہ سے فارغ ہوئے اور ابتدائی امور سب انجام دے چکے اور عموما مکی حضرات مسلمان ہوچکے اور انہیں آپ آزاد بھی کرچکے تو آپ کو خبر ملی کہ قبیلہ ہوازن جمع ہوا ہے اور آپ سے جنگ کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کا سردار مالک بن عوف نصری ہے۔ ثقیف کا سارا قبیلہ ان کے ساتھ ہے اسی طرح بنو جشم بنو سعد بن بکر بھی ہیں اور بنو ہلال کے کچھ لوگ بھی ہیں اور کچھ لوگ بنو عمرو بن عامر کے اور عون بھی عامر کے بھی ہیں یہ سب لوگ مع اپنی عورتوں اور بچوں اور گھریلو مال کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کے اپنی بکریوں اور اونٹوں کو بھی انہوں نے ساتھ ہی رکھا ہے تو آپ نے اس لشکر کو لے کر جو اب آپ کے ساتھ مہاجرین اور انصار وغیرہ کا تھا ان کے مقابلے کے لیے چلے تقریباً دو ہزار نو مسلم مکی بھی آپ کے ساتھ ہو لیے۔ مکہ اور طائف کے درمیان کی وادی میں دونوں لشکر مل گئے اس جگہ کا نام حنین تھا صبح سویرے منہ اندھیرے قبیلہ ہوازن جو کمین گاہ میں چپھے ہوئے تھے انہوں نے بیخبر ی میں مسلمانوں پر اچانک حملہ کردیا بےپنا تیر باری کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تلواریں چلانی شروع کردیں یہاں مسلمانوں میں دفعتاً ابتری پھیل گی اور یہ منہ پھر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ ان کی طرف بڑھے آپ اس وقت سفید خچر پر سوار تھے حضرت عباس ؓ آپ کے جانور کی دائیں جانب سے نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب بائیں طرف سے نکیل پکڑے ہوئے تھے جانور کی تیزی کو یہ لوگ روک رہے تھے آپ با آواز بلند اپنے تئیں پہنچوا رہے تھے مسلمانوں کو واپسی کا حکم فرما رہے تھے اور ندا کرتے جاتے تھے کہ اللہ کے بندو کہاں چلے، میری طرف آؤ۔ میں اللہ کا سچا رسول ہوں میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں۔ میں اولاد عبد المطلب میں سے ہوں۔ آپ کے ساتھ اس وقت صرف اسی یا سو کے قریب صحابہ ؓ رہ گئے تھے۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ حضرت عمر ؓ ، حضرت عباس ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت فضل بن عباس ؓ ، حضرت ابو سفیان بن حارث ؓ حضرت ایمن بن ام ایمن، حضرت اسامہ بن زید وغیرہ آپ ﷺ کے ساتھ ہی تھے پھر آپ نے اپنے چچا حضرت عباس کو بہت بلند آواز والے تھے حکم دیا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے میرے صحابیوں کو آواز دو کہ وہ نہ بھاگیں پس آپ نے یہ کہہ کر اے ببول کے درخت تلے بیعت کرنے والو اے سورة بقرہ کے حاملو پس یہ آواز ان کے کانوں میں پہنچنی تھی کہ انہوں نے ہر طرف سے لبیک لبیک کہنا شروع کیا اور آواز کی جانب لپک پڑے اور اسی وقت لوٹ کر آپ کے آس پاس آکر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ اگر کسی کا اونٹ اڑ گیا تو اس نے اپنی زرہ پہن لی اونٹ پر سے کود گیا اور پیدل سرکار نبوت میں حاضر ہوگیا جب کچھ جماعت آپ کے ارد گرد جمع ہوگئی آپ نے اللہ سے دعا مانگنی شروع کی کہ باری الٰہی جو وعدہ تیرا میرے ساتھ ہے اسے پورا فرما پھر آپ نے زمین سے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور اسے کافروں کی طرف پھینکا جس سے ان کی آنکھوں اور ان کا منہ بھر گیا وہ لڑائی کے قابل نہ رہے۔ ادھر مسلمانوں نے ان پر دھاوا بول دیا ان کے قدم اکھڑ گئے بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور مسلمانوں کی باقی فوج حضور ﷺ کے پاس پہنچی اتنی دیر میں تو انہوں نے کفار کو قید کر کے حضور ﷺ کے سامنے ڈھیر کردیا مسند احمد میں ہے حضرت عبد الرحمن فہری جن کا نام یزید بن اسید ہے یا یزید بن انیس ہے اور کرز بھی کہا گیا ہے فرماتے ہیں کہ میں اس معرکے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا دن سخت گرمی والا تھا دوپہر کو ہم درختوں کے سائے تلے ٹھہر گئے سورج ڈھلنے کے بعد میں نے اپنے ہتھیار لگا لیے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے خیمے پہنچا سلام کے بعد میں نے کہا حضور ﷺ ہوائیں ٹھنڈی ہوگئی ہیں آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے بلال اس وقت بلال ایک درخ کے سائے میں تھے حضور کی آواز سنتے ہی پرندے کی طرح گویا اڑ کر لبیک و سعد یک و انا فداوک کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا میری سواری تیار کرو اسی وقت انہوں نے زین نکالی جس کے دونوں پلے کھجور کی رسی کے تھے جس میں کوئی فخر و غرور کی چیز نہ تھی جب کس چکے تو حضور ﷺ سوار ہوئے ہم نے صف بندی کرلی شام اور رات اسی طرح گذری پھر دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوگئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسے قرآن نے فرمایا ہے حضور ﷺ نے آواز دی کہ اے اللہ کے بندو میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اے مہاجرین میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں پھر اپنے گھوڑے سے اتر پڑے مٹی کی ایک مٹھی بھرلی اور یہ فرما کر ان کے چہرے بگڑ جائیں کافروں کی طرف پھینک دی اسی سے اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ ان مشرکوں کا بیان ہے کہ ہم میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جس کی آنکھوں اور منہ میں یہ مٹی نہ آئی ہو اسی وقت ہمیں ایسا معلوم ہونے لگا کہ گویا زمین و آسمان کے درمیان لوہا کسی لوہے کی کے طشت پر بج رہا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ بھاگے ہوئے مسلمان جب ایک سو آپ کے پاس واپس پہنچ گئے آپ نے اسی وقت حملہ کا حکم دیدیا اول تو منادی انصار کی تھی پھر خزرج ہی پر رہ گئی یہ قبیلہ لڑائی کے وقت بڑا ہی صابر تھا آپ ﷺ نے اپنی سواری پر سے میدان جنگ کا نظارہ دیکھا اور فرمایا اب لڑائی گرما گرمی سے ہو رہی ہے۔ اس میں ہے کہ اللہ نے جس کافر کو چاہا قتل کرا دیا جسے چاہا قید کرا دیا۔ اور ان کے مال اور اولادیں اپنے نبی کو فے میں دلا دیں۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے کسی نے کہا اے ابو عمارہ کیا تم لوگ رسول اللہ علیہ ﷺ کے پاس سے حنین والے دن بھاگ نکلے تھے ؟ آپ نے فرمایا لیکن رسول اللہ ﷺ کا قدم پیچھے نہ ہٹا تھا بات یہ ہے کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیر اندازی کے فن کے استاد تھے اللہ کے فضل سے ہم نے انہیں پہلے ہی حملے میں شکست دے دی لیکن جب لوگ مال غنیمت پر جھک پڑے انہوں نے موقع دیکھ کر پھر جو پوری مہارت کے ساتھ تیروں کی بار برسائی تو یہاں بھگڈر مچ گئی۔ سبحان اللہ رسول اللہ ﷺ کی کامل شجاعت اور پوری بہادری کا یہ موقع تھا۔ لشکر بھاگ نکلا ہے اس وقت آپ کسی تیز سواری پر نہیں جو بھاگنے دوڑنے میں کام آئے بلکہ خچر پر سوار ہیں اور مشرکوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اپنے تئیں چھپاتے نہیں بلکہ اپنا نام اپنی زبان سے پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ نہ پہنچاننے والے بھی پہنچا لیں۔ خیال فرمائیے کہ کس قدر ذات واحد پر آپ کا توکل ہے اور کتنا کامل یقین ہے آپ کو اللہ کی مدد پر۔ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امر رسالت کو پورا کر کے ہی رہے گا اور آپ کے دین کو دنیا کے اور دینوں پر غالب کر کے ہی رہے گا فصلوات اللہ وسلامہ علیہ ابد ابدا۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اور مسلمانوں کے اوپر سکینت نازل فرماتا ہے اور اپنے فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے جنہیں کوئی نہ دیکھتا تھا۔ ایک مشرک کا بیان ہے کہ حنین والے دن جب ہم مسلمانوں سے لڑنے لگے ایک بکری کا دودھ نکالا جائے اتنی دیر بھی ہم نے انہیں اپنے سامنے جمنے نہیں دیا فورا بھاگ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان کا تعاقب شروع کیا یہاں تک کہ ہمیں ایک صاحب سفید خچر پر سوار نظر پڑے ہم نے دیکھا یہ کہ خوبصورت نورانی چہرے والے کچھ لوگ ان کے ارد گرد ہیں ان کی زبان سے نکلا کہ تمہارے چہرے بگڑ جائیں واپس لوٹ جاؤ بس یہ کہنا تھا کہ ہمیں شکست ہوگئی یہاں تک کہ مسلمان ہمارے کندھوں پر سوار ہوگئے حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں بھی اس لشکر میں تھا آپ کے ساتھ صرف اسی مہاجر و انصار رہ گئے تھے ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی ہم پر اللہ نے اطمینان و سکون نازل فرما دیا تھا۔ حضور ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار دشمنوں کی طرف بڑھ رہے تھے جانور نے ٹھوکر کھائی آپ زین پر سے نیچے کی طرف جھک گئے میں نے آواز دی کہ حضور ﷺ اونچے ہوجائیے اللہ آپ کو اونچا ہی رکھے آپ نے فرمایا ایک مٹھی مٹی کی تو بھر دو میں نے بھر دی آپ نے کافروں کی طرف پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں پھر فرمایا مہاجر و انصار کہاں ہیں میں نے کہا یہیں ہیں فرمایا نہیں آواز دو میرا آواز دینا تھا کہ وہ تلواریں سونتے ہوئے لپک لپک کر آگئے اب تو مشرکین کی کچھ نہ چلی اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ بیہیقی کی ایک روایت میں ہے شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ حنین کے دن جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا کہ لشکر شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوا ہے اور آپ ﷺ تنہا رہ گئے ہیں تو مجھے بدر والے دن اپنے باپ اور چچا کا مارا جانا یاد آیا کہ وہ حضرت علی ؓ اور حمزہ ؓ کے ہاتھوں مارے گئے ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا کہ ان کے انتقام لینے کا اس سے اچھا موقعہ اور کون سا ملے گا ؟ آؤ پیغمبر کو قتل کر دوں اس ارادے سے میں آپ کی دائیں جانب سے بڑھا لیکن وہاں میں نے عباس بن عبدالمطلب کو پایا سفید چاندی جیسی زرہ پہنے مستعد کھڑے ہیں میں نے سوچا کہ یہ چچا ہیں اپنے بھتیجے کی پوری حمایت کریں گے چلو بائیں جانب سے جا کر اپنا کام کروں اور ادھر سے آیا تو دیکھا ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کھڑے ہیں میں نے کہا ان کے بھی چچا کے لڑکے بھائی ہیں اپنے بھائی کی ضرور حمایت کریں گے پھر میں رکاوٹ کاٹ کر پیھے کی طرف آیا آپ کے قریب پہنچ گیا اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تلوار سونت کر وار کر دوں کہ میں نے دیکھا ایک آگ کا کوڑا بجلی کی طرف چمک کر مجھ پر پڑا چاہتا ہے میں نے آنکھیں بند کرلیں اور پچھلے پاؤں پیچھے کی طرف ہٹا اسی وقت حضور ﷺ نے میری جانب التفات کیا اور فرمایا شیبہ میرے پاس آیا، اللہ اس کے شیطان کو دور کر دے۔ اب میں نے آنکھ کھول کر جو رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا تو واللہ آپ مجھے میرے کانوں اور آنکھوں سے بھی زیادہ محبوب تھے آپ نے فرمایا شیبہ جا کافروں سے لڑ شیبہ کا بیان ہے کہ اس جنگ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھیوں میں میں بھی تھا لیکن میں اسلام کی وجہ سے یا اسلام کی معرفت کی بناء پر نہیں نکلا تھا بلکہ میں نے کہا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ کہ ہوازن قریش پر غالب آجائیں ؟ میں آپ کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا تو میں نے ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ کر کہا یا رسول اللہ میں تو ابلق رنگ کے گھوڑے دیکھ رہا ہوں آپ نے فرمایا شیبہ وہ تو سوا کافروں کے کسی کو نظر نہیں آتے۔ پھر آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مار کر دعا کی یا اللہ شیبہ کو ہدایت کر پھر دوبارہ سہ بارہ یہی کیا اور یہی کہا واللہ آپ کا ہاتھ ہٹنے سے پہلے ہی ساری دنیا سے زیادہ آپ کی محبت میں اپنے دل میں پانے لگا۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ فرماتے ہیں میں اس غزوے میں آپ کے ہم رکاب تھا میں نے دیکھا کہ کوئی چیز آسمان سے اتری رہی ہے چیونٹیوں کی طرح اس نے میدان گھیر لیا اور اسی وقت مشرکوں کے قدم اکھڑ گئے واللہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ وہ آسمانی مدد تھی۔ یزید بن عامر سوابی اپنے کفر کے زمانے میں جنگ حنین میں کافروں کے ساتھ تھا بعد میں یہ مسلمان ہوگئے تھے ان سے جب دریافت کیا جاتا کہ اس موقعہ پر تمہارے دلوں کا رعب و خوف سے کیا حال تھا ؟ تو وہ طشت میں کنکریاں رکھ کر بجا کر کہتے بس یہی آواز ہمیں ہمارے دل سے آرہی تھی بےطرح کلیجہ اچھل رہا تھا اور دل دہل رہا تھا۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے رعب سے مدد دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات دیئے گئے ہیں الغرض کفار کو اللہ نے یہ سزا دی اور یہ ان کے کفر کا بدلہ تھا۔ باقی ہوازن پر اللہ نے مہربانی فرمائی انہیں توبہ نصیب ہوئی مسلمان ہو کر خدمت مخدوم میں حاضر ہوئے اس وقت آپ فتح مندی کے ساتھ لوٹتے ہوئے مکہ شریف جعرانہ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جنگ کو بیس دن کے قریب گذر چکے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اب تم دو چیزوں میں سے ایک پسند کرلو یا تو قیدی یا مال ؟ انہوں نے قیدیوں کا واپس لینا پسند کیا ان قیدیوں کی چھوٹوں بڑوں کی مرد عورت کی بالغ نابالغ کی تعداد چھ ہزار تھی۔ آپ نے یہ سب انہیں لوٹا دیئے ان کا مال بطور غنیمت کے مسلمانوں میں تقسیم ہوا اور نو مسلم جو مکہ کے آزاد کردہ تھے انہیں بھی آپ نے اس مال میں سے دیا کہ ان کے دل اسلام کی طرف پورے مائل ہوجائیں ان میں سے ایک ایک کو سو سو اونٹ عطا فرمائے۔ مالک بن عوف نصری کو بھی آپ نے سو اونٹ دیئے اور اسی کو اس کی قوم کا سردار بنادیا جیسے کہ وہ تھا اسی کی تعریف میں اسی نے اپنے مشہور قصیدے میں کہا ہے کہ میں نے تو حضرت محمد ﷺ جیسا نہ کسی اور کو دیکھا نہ سنا۔ دینے میں اور بخشش و عطا کرنے میں اور قصوروں سے درگزر کرنے میں دنیا میں آپ کا ثانی نہیں آپ کل قیامت کے دن ہونے والے تمام امور سے مطلع فرماتے رہتے ہیں یہی نہیں شجاعت اور بہادری میں بھی آپ بےمثل ہیں میدان جنگ میں گرجتے ہوئے شیر کی طرح آپ دشمنوں کی طرف بڑھتے ہیں۔
28
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
O People who Believe! The polytheists are utterly filthy*; so after this year do not let them come near the Sacred Mosque; and if you fear poverty**, then Allah will soon make you wealthy with His grace, if He wills; indeed Allah is All Knowing, Wise. (* Filthy in body and soul. **Due to loss of trade.)
اے ایمان والو! مشرکین تو سراپا نجاست ہیں سو وہ اپنے اس سال کے بعد (یعنی فتحِ مکہ کے بعد 9 ھ سے) مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے پائیں، اور اگر تمہیں (تجارت میں کمی کے باعث) مفلسی کا ڈر ہے تو (گھبراؤ نہیں) عنقریب اللہ اگر چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے مال دار کر دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Idolators are no longer allowed into Al-Masjid Al-Haram
Allah commands His believing servants, who are pure in religion and person, to expel the idolators who are filthy in the religious sense, from Al-Masjid Al-Haram. After the revelation of this Ayah, idolators were no longer allowed to go near the Masjid. This Ayah was revealed in the ninth year of Hijrah. The Messenger of Allah ﷺ sent `Ali in the company of Abu Bakr that year to publicize to the idolators that no Mushrik will be allowed to perform Hajj after that year, nor a naked person allowed to perform Tawaf around the House. Allah completed this decree, made it a legislative ruling, as well as, a fact of reality. `Abdur-Razzaq recorded that Jabir bin `Abdullah commented on the Ayah,
إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا
(O you who believe! Verily, the Mushrikin are impure. So let them not come near Al-Masjid Al-Haram after this year) "Unless it was a servant or one of the people of Dhimmah." Imam Abu `Amr Al-Awza'i said, "Umar bin `Abdul-`Aziz wrote (to his governors) to prevent Jews and Christians from entering the Masjids of Muslims, and he followed his order with Allah's statement,
إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
(Verily, the Mushrikin are impure.) `Ata' said, "All of the Sacred Area the Haram is considered a Masjid, for Allah said,
فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا
(So let them not come near Al-Masjid Al-Haram (at Makkah) after this year.)" This Ayah indicates that idolators are impure and that the believers are pure. In the Sahih is the following,
«الْمُؤْمِنُ لَا يَنْجُس»
(The believer does not become impure.) Allah said,
وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ
(and if you fear poverty, Allah will enrich you, out of His bounty.) Muhammad bin Ishaq commented, "The people said, `Our markets will be closed, our commerce disrupted, and what we earned will vanish.' So Allah revealed this verse,
وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ
(and if you fear poverty, Allah will enrich you, out of His bounty), from other resources,
إِن شَآءَ
(if He wills), until,
وَهُمْ صَـغِرُونَ
(. ..and feel themselves subdued.) This Ayah means, `this will be your compensation for the closed markets that you feared would result.' Therefore, Allah compensated them for the losses they incurred because they severed ties with idolators, by the Jizyah they earned from the People of the Book." Similar statements were reported from Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Ad-Dahhak and others. Allah said,
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ
(Surely, Allah is All-Knowing), in what benefits you,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in His orders and prohibitions, for He is All-Perfect in His actions and statements, All-Just in His creations and decisions, Blessed and Hallowed be He. This is why Allah compensated Muslims for their losses by the amount of Jizyah that they took from the people of Dhimmah.
The Order to fight People of the Scriptures until They give the Jizyah
Allah said,
قَـتِلُواْ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَلاَ يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَـغِرُونَ
(Fight against those who believe not in Allah, nor in the Last Day, nor forbid that which has been forbidden by Allah and His Messenger, and those who acknowledge not the religion of truth among the People of the Scripture, until they pay the Jizyah with willing submission, and feel themselves subdued.) Therefore, when People of the Scriptures disbelieved in Muhammad , they had no beneficial faith in any Messenger or what the Messengers brought. Rather, they followed their religions because this conformed with their ideas, lusts and the ways of their forefathers, not because they are Allah's Law and religion. Had they been true believers in their religions, that faith would have directed them to believe in Muhammad , because all Prophets gave the good news of Muhammad's advent and commanded them to obey and follow him. Yet when he was sent, they disbelieved in him, even though he is the mightiest of all Messengers. Therefore, they do not follow the religion of earlier Prophets because these religions came from Allah, but because these suit their desires and lusts. Therefore, their claimed faith in an earlier Prophet will not benefit them because they disbelieved in the master, the mightiest, the last and most perfect of all Prophets . Hence Allah's statement,
قَـتِلُواْ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَلاَ يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ
(Fight against those who believe not in Allah, nor in the Last Day, nor forbid that which has been forbidden by Allah and His Messenger, and those who acknowledge not the religion of truth among the People of the Scripture,) This honorable Ayah was revealed with the order to fight the People of the Book, after the pagans were defeated, the people entered Allah's religion in large numbers, and the Arabian Peninsula was secured under the Muslims' control. Allah commanded His Messenger to fight the People of the Scriptures, Jews and Christians, on the ninth year of Hijrah, and he prepared his army to fight the Romans and called the people to Jihad announcing his intent and destination. The Messenger ﷺ sent his intent to various Arab areas around Al-Madinah to gather forces, and he collected an army of thirty thousand. Some people from Al-Madinah and some hypocrites, in and around it, lagged behind, for that year was a year of drought and intense heat. The Messenger of Allah ﷺ marched, heading towards Ash-Sham to fight the Romans until he reached Tabuk, where he set camp for about twenty days next to its water resources. He then prayed to Allah for a decision and went back to Al-Madinah because it was a hard year and the people were weak, as we will mention, Allah willing.
Paying Jizyah is a Sign of Kufr and Disgrace
Allah said,
حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ
(until they pay the Jizyah), if they do not choose to embrace Islam,
عَن يَدٍ
(with willing submission), in defeat and subservience,
وَهُمْ صَـغِرُونَ
(and feel themselves subdued.), disgraced, humiliated and belittled. Therefore, Muslims are not allowed to honor the people of Dhimmah or elevate them above Muslims, for they are miserable, disgraced and humiliated. Muslim recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said,
«لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِه»
(Do not initiate the Salam to the Jews and Christians, and if you meet any of them in a road, force them to its narrowest alley.) This is why the Leader of the faithful `Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, demanded his well-known conditions be met by the Christians, these conditions that ensured their continued humiliation, degradation and disgrace. The scholars of Hadith narrated from `Abdur-Rahman bin Ghanm Al-Ash`ari that he said, "I recorded for `Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, the terms of the treaty of peace he conducted with the Christians of Ash-Sham: `In the Name of Allah, Most Gracious, Most Merciful. This is a document to the servant of Allah `Umar, the Leader of the faithful, from the Christians of such and such city. When you (Muslims) came to us we requested safety for ourselves, children, property and followers of our religion. We made a condition on ourselves that we will neither erect in our areas a monastery, church, or a sanctuary for a monk, nor restore any place of worship that needs restoration nor use any of them for the purpose of enmity against Muslims. We will not prevent any Muslim from resting in our churches whether they come by day or night, and we will open the doors of our houses of worship for the wayfarer and passerby. Those Muslims who come as guests, will enjoy boarding and food for three days. We will not allow a spy against Muslims into our churches and homes or hide deceit or betrayal against Muslims. We will not teach our children the Qur'an, publicize practices of Shirk, invite anyone to Shirk or prevent any of our fellows from embracing Islam, if they choose to do so. We will respect Muslims, move from the places we sit in if they choose to sit in them. We will not imitate their clothing, caps, turbans, sandals, hairstyles, speech, nicknames and title names, or ride on saddles, hang swords on the shoulders, collect weapons of any kind or carry these weapons. We will not encrypt our stamps in Arabic, or sell liquor. We will have the front of our hair cut, wear our customary clothes wherever we are, wear belts around our waist, refrain from erecting crosses on the outside of our churches and demonstrating them and our books in public in Muslim fairways and markets. We will not sound the bells in our churches, except discretely, or raise our voices while reciting our holy books inside our churches in the presence of Muslims, nor raise our voices with prayer at our funerals, or light torches in funeral processions in the fairways of Muslims, or their markets. We will not bury our dead next to Muslim dead, or buy servants who were captured by Muslims. We will be guides for Muslims and refrain from breaching their privacy in their homes.' When I gave this document to `Umar, he added to it, `We will not beat any Muslim. These are the conditions that we set against ourselves and followers of our religion in return for safety and protection. If we break any of these promises that we set for your benefit against ourselves, then our Dhimmah (promise of protection) is broken and you are allowed to do with us what you are allowed of people of defiance and rebellion."'
مشرکین کو حدود حرم سے نکال دو اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین اپنے پاک دین والے پاکیزگی اور طہارت والے مسلمان بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ وہ دین کی رو سے نجس مشرکوں کو بیت اللہ شریف کے پاس نہ آنے دیں یہ آیت سنہ 9 ہجری میں نازل ہوئی اسی سال آنحضرت رسول مقبول ﷺ حضرت علی ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کردو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرے اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر وقیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ کے گھر کا طواف کیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ غلام اور ذمی شخص کو مستثنیٰ بناتے ہیں۔ مسند کی حدیث میں فرمان رسول اکرم ﷺ ہے کہ ہماری اس مسجد میں اس کے بعد سوائے معاہدہ والے اور تمہارے غلاموں کے اور کوئی کافر نہ آئے۔ لیکن اس مرفوع سے زیادہ صحیح سند والی موقوف روایت ہے۔ خلیفتہ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمان جاری کردیا تھا کہ یہود و نصرانی کو مسلمانوں کی مسجدوں میں نہ آنے دو ان کا یہ امتناعی حکم اسی آیت کے تحت تھا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حرم سارا اس حکم میں مثل مسجد حرام کے ہے۔ یہ آیت مشرکوں کی نجاست پر بھی دلیل واثق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے مومن نجس نہیں ہوتا۔ باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں ؟ پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔ بعض ظاہریہ کہتے ہیں کہ مشرکوں کے بدن بھی ناپاک ہی۔ حسن فرماتے ہیں جو ان سے مصافحہ کرے وہ ہاتھ دھو ڈالے۔ اس حکم پر بعض لوگوں نے کہا کہ پھر تو ہماری تجارت کا مندا ہوجائے گا۔ ہمارے بازار بےرونق ہوجائیں گے اور بہت سے فائدے جاتے رہیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی وحمید فرماتا ہے کہ تم اس بات سے نہ ڈرو اللہ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا تمہیں اہل کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ رب جانتا ہے اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے۔ یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دیتا۔ ان اہل کتاب سے جو اللہ، اس کے رسول ﷺ ، اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر انہیں اپنے نبی ﷺ پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی پر بھی ضرور ایمان لاتے ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل کے انکاری ہیں پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی دور کا سروکار بھی نہیں اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لئے بےسود ہے کیونکہ یہ سید الانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین سے کفر کرتے ہیں اس لئے ان سے بھی جہاد کرو۔ ان سے جہاد کے حکم کی یہ پہلی آیت ہے اس وقت تک آس پاس کے مشرکین سے جنگ ہوچکی تھی ان میں سے اکثر توحید کے جھنڈے تلے آ چکے تھے جزیرۃ العرب میں اسلام نے جگہ کرلی تھی اب یہود و نصاریٰ کی خبر لینے اور انہیں راہ حق دکھانے کا حکم ہوا۔ سنہ 9 ہجری میں یہ حکم اترا اور آپ نے رومیوں سے جہاد کی تیاری کی لوگوں کو اپنے ارادے سے مطلع کیا مدینہ کے ارد گرد کے عربوں کو آمادہ کیا اور تقریباً تیس ہزار کا لشکر لے کر روم کا رخ کیا۔ بجز منافقین کے یہاں کوئی نہ رکا سوائے بعض کے۔ موسم سخت گرم تھا پھلوں کا وقت تھا روم سے جہاد کیلئے شام کے ملک کا دور دراز کا کٹھن سفر تھا۔ تبوک تک تشریف لے گئے وہاں تقریباً بیس روز قیام فرمایا پھر اللہ سے استخارہ کر کے حالت کی تنگی اور لوگوں کی ضعیفی کی وجہ سے واپس لوٹے۔ جیسے کہ عنقریب اس کا واقعہ انشاء اللہ تعالیٰ بیان ہوگا۔ اسی آیت سے استدلال کر کے بعض نے فرمایا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے اور ان جیسوں سے ہی لیا جائے جیسے مجوس ہیں چناچہ ہجر کے مجسیوں سے آنحضرت ﷺ نے جزیہ لیا تھا۔ امام شافعی کا یہی مذہب ہے اور مشہور مذہب امام احمد کا بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں سب عجمیوں سے لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرک ہوں۔ ہاں عرب میں سے صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ جزیئے کا لینا تمام کفار سے جائز ہے خواہ وہ کتابی ہوں یا مجوسی ہوں یابت پرست وغیرہ ہوں۔ ان مذاہب کے دلائل وغیرہ کی تفصیل کی یہ جگہ نہیں واللہ اعلم۔ پس فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو پس اہل ذمہ کو مسلمانوں پر عزت و توقیر دینی اور انہیں اوج و ترقی دینی جائز نہیں صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یہود و نصاریٰ سے سلام کی ابتداء نہ کرو اور جب ان سے کوئی راستے میں مل جائے تو اسے تنگی سے مجبور کرو۔ یہی وجہ تھی جو حضرت عمر فاروق ؓ نے ان سے ایسی ہی شرطیں کی تھیں عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کہتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے عہد نامہ لکھ کر حضرت عمر ؓ کو دیا تھا کہ اہل شام کو فلاں فلاں شہری لوگوں کی طرف سے یہ معاہدہ ہے امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ سے کہ جب آپ کے لشکر ہم پر آئے ہم نے آپ سے اپنی جان مال اور اہل و عیال کے لئے امن طلب کی ہم ان شرطوں پر وہ امن حاصل کرتے ہیں کہ ہم اپنے ان شہروں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نئی نہیں بنائیں گے۔ مندر اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو مٹ چکے ہیں انہی درست نہیں کریں گے ان میں اگر کوئی مسلمان مسافر اترنا چاہے تو روکیں گے نہیں خواہ دن ہو خواہ رات ہو ہم ان کے دروازے رہ گذر اور مسافروں کے لئے کشادہ رکھیں گے اور جو مسلمان آئے ہم اس کی تین دن تک مہمانداری کریں گے، ہم اپنے ان مکانوں یا رہائشی مکانوں وغیرہ میں کہیں کسی جاسوس کو نہ چھپائیں گے، مسلمانوں سے کوئی دھوکہ فریب نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھائیں گے، شرک کا اظہار نہ کریں گے نہ کسی کو شرک کی طرف بلائیں گے، ہم میں سے کوئی اگر اسلام قبول کرنا چاہے ہم اسے ہرگز نہ روکیں گے، مسلمانوں کی توقیر و عزت کریں گے، ہماری جگہ اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم اٹھ کر انہیں جگہ دے دیں گے، ہم مسلمانوں سے کسی چیز میں برابری نہ کریں گے، نہ لباس میں نہ جوتی میں نہ مانگ نکالنے میں، ہم ان کی زبانیں نہیں بولیں گے، ان کی کنیتیں نہیں رکھیں گے، زین والے گھوڑوں پر سواریاں نہ کریں گے، تلواریں نہ لٹکائیں گے نہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں کرائیں گے، شراب فروشی نہیں کریں گے، اپنے سروں کے اگلے بالوں کو تراشوا دیں گے اور جہاں کہیں ہوں گے زنار ضرورتاً ڈالے رہیں گے، صلیب کا نشان اپنے گرجوں پر ظاہر نہیں کریں گے۔ اپنی مذہبی کتابیں مسلمانوں کی گذر گاہوں اور بازاروں میں ظاہر نہیں کریں گے گرجوں میں ناقوس بلند آواز سے بجائیں گے نہ مسلمانوں کی موجودگی میں با آواز بلند اپنی مذہبی کتابیں پڑھیں گے نہ اپنے مذہبی شعار کو راستوں پر کریں گے نہ اپنے مردوں پر اونچی آواز سے ہائے وائے کریں گے نہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے راستوں میں آگ لے کر جائیں گے مسلمانوں کے حصے میں آئے ہوئے غلام ہم نہ لیں گے مسلمانوں کی خیر خواہی ضرور کرتے رہیں گے ان کے گھروں میں جھانکیں گے نہیں۔ جب یہ عہد نامہ حضرت فاروق اعظم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے ایک شرط اور بھی اس میں بڑھوائی کہ ہم کسی مسلمانوں کو ہرگز ماریں گے نہیں یہ تمام شرطیں ہمیں قبول و منظور ہیں اور ہمارے سب ہم مذہب لوگوں کو بھی۔ انہی شرائط پر ہمیں امن ملا ہے اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی ہم خلاف ورزی کریں تو ہم سے آپ کا ذمہ الگ ہوجائے گا اور جو کچھ آپ اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے کرتے ہیں ان تمام کے مستحق ہم بھی ہوجائیں گے۔
29
View Single
قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعۡطُواْ ٱلۡجِزۡيَةَ عَن يَدٖ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ
Fight against the People given the Book(s) who do not accept faith in Allah and the Last Day, and who do not treat as forbidden what is forbidden by Allah and by His Noble Messenger, and who do not follow the true religion, until they pay the tariff with their own hands with humiliation.
(اے مسلمانو!) تم اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کے ساتھ (بھی جوابی) جنگ کرو (جنہوں نے تمہارے ساتھ مدینہ میں کیے ہوئے معاہدۂ اَمن کو توڑ کر، جلا وطنی کے باوُجود جنگ اَحزاب میں مدینہ پر حملہ آور کفارِ مکہ کی اَفواج کی بھرپور مدد کی اور اب بھی تمہارے خلاف تمام ممکنہ سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں) جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یومِ آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار دیا ہے اور نہ ہی دینِ حق اختیارکرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ (ریاست کے دستور اور نظام کے) تابع ہو کر اپنے ہاتھ سے ریاستی حفاظت کا ٹیکس (جو عسکری خدمات سے اِستثناء کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے) ادا کریں
Tafsir Ibn Kathir
Idolators are no longer allowed into Al-Masjid Al-Haram
Allah commands His believing servants, who are pure in religion and person, to expel the idolators who are filthy in the religious sense, from Al-Masjid Al-Haram. After the revelation of this Ayah, idolators were no longer allowed to go near the Masjid. This Ayah was revealed in the ninth year of Hijrah. The Messenger of Allah ﷺ sent `Ali in the company of Abu Bakr that year to publicize to the idolators that no Mushrik will be allowed to perform Hajj after that year, nor a naked person allowed to perform Tawaf around the House. Allah completed this decree, made it a legislative ruling, as well as, a fact of reality. `Abdur-Razzaq recorded that Jabir bin `Abdullah commented on the Ayah,
إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا
(O you who believe! Verily, the Mushrikin are impure. So let them not come near Al-Masjid Al-Haram after this year) "Unless it was a servant or one of the people of Dhimmah." Imam Abu `Amr Al-Awza'i said, "Umar bin `Abdul-`Aziz wrote (to his governors) to prevent Jews and Christians from entering the Masjids of Muslims, and he followed his order with Allah's statement,
إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ
(Verily, the Mushrikin are impure.) `Ata' said, "All of the Sacred Area the Haram is considered a Masjid, for Allah said,
فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا
(So let them not come near Al-Masjid Al-Haram (at Makkah) after this year.)" This Ayah indicates that idolators are impure and that the believers are pure. In the Sahih is the following,
«الْمُؤْمِنُ لَا يَنْجُس»
(The believer does not become impure.) Allah said,
وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ
(and if you fear poverty, Allah will enrich you, out of His bounty.) Muhammad bin Ishaq commented, "The people said, `Our markets will be closed, our commerce disrupted, and what we earned will vanish.' So Allah revealed this verse,
وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ
(and if you fear poverty, Allah will enrich you, out of His bounty), from other resources,
إِن شَآءَ
(if He wills), until,
وَهُمْ صَـغِرُونَ
(. ..and feel themselves subdued.) This Ayah means, `this will be your compensation for the closed markets that you feared would result.' Therefore, Allah compensated them for the losses they incurred because they severed ties with idolators, by the Jizyah they earned from the People of the Book." Similar statements were reported from Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Ad-Dahhak and others. Allah said,
إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ
(Surely, Allah is All-Knowing), in what benefits you,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in His orders and prohibitions, for He is All-Perfect in His actions and statements, All-Just in His creations and decisions, Blessed and Hallowed be He. This is why Allah compensated Muslims for their losses by the amount of Jizyah that they took from the people of Dhimmah.
The Order to fight People of the Scriptures until They give the Jizyah
Allah said,
قَـتِلُواْ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَلاَ يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَـغِرُونَ
(Fight against those who believe not in Allah, nor in the Last Day, nor forbid that which has been forbidden by Allah and His Messenger, and those who acknowledge not the religion of truth among the People of the Scripture, until they pay the Jizyah with willing submission, and feel themselves subdued.) Therefore, when People of the Scriptures disbelieved in Muhammad , they had no beneficial faith in any Messenger or what the Messengers brought. Rather, they followed their religions because this conformed with their ideas, lusts and the ways of their forefathers, not because they are Allah's Law and religion. Had they been true believers in their religions, that faith would have directed them to believe in Muhammad , because all Prophets gave the good news of Muhammad's advent and commanded them to obey and follow him. Yet when he was sent, they disbelieved in him, even though he is the mightiest of all Messengers. Therefore, they do not follow the religion of earlier Prophets because these religions came from Allah, but because these suit their desires and lusts. Therefore, their claimed faith in an earlier Prophet will not benefit them because they disbelieved in the master, the mightiest, the last and most perfect of all Prophets . Hence Allah's statement,
قَـتِلُواْ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلاَ بِالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَلاَ يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلاَ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ
(Fight against those who believe not in Allah, nor in the Last Day, nor forbid that which has been forbidden by Allah and His Messenger, and those who acknowledge not the religion of truth among the People of the Scripture,) This honorable Ayah was revealed with the order to fight the People of the Book, after the pagans were defeated, the people entered Allah's religion in large numbers, and the Arabian Peninsula was secured under the Muslims' control. Allah commanded His Messenger to fight the People of the Scriptures, Jews and Christians, on the ninth year of Hijrah, and he prepared his army to fight the Romans and called the people to Jihad announcing his intent and destination. The Messenger ﷺ sent his intent to various Arab areas around Al-Madinah to gather forces, and he collected an army of thirty thousand. Some people from Al-Madinah and some hypocrites, in and around it, lagged behind, for that year was a year of drought and intense heat. The Messenger of Allah ﷺ marched, heading towards Ash-Sham to fight the Romans until he reached Tabuk, where he set camp for about twenty days next to its water resources. He then prayed to Allah for a decision and went back to Al-Madinah because it was a hard year and the people were weak, as we will mention, Allah willing.
Paying Jizyah is a Sign of Kufr and Disgrace
Allah said,
حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ
(until they pay the Jizyah), if they do not choose to embrace Islam,
عَن يَدٍ
(with willing submission), in defeat and subservience,
وَهُمْ صَـغِرُونَ
(and feel themselves subdued.), disgraced, humiliated and belittled. Therefore, Muslims are not allowed to honor the people of Dhimmah or elevate them above Muslims, for they are miserable, disgraced and humiliated. Muslim recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said,
«لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِه»
(Do not initiate the Salam to the Jews and Christians, and if you meet any of them in a road, force them to its narrowest alley.) This is why the Leader of the faithful `Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, demanded his well-known conditions be met by the Christians, these conditions that ensured their continued humiliation, degradation and disgrace. The scholars of Hadith narrated from `Abdur-Rahman bin Ghanm Al-Ash`ari that he said, "I recorded for `Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, the terms of the treaty of peace he conducted with the Christians of Ash-Sham: `In the Name of Allah, Most Gracious, Most Merciful. This is a document to the servant of Allah `Umar, the Leader of the faithful, from the Christians of such and such city. When you (Muslims) came to us we requested safety for ourselves, children, property and followers of our religion. We made a condition on ourselves that we will neither erect in our areas a monastery, church, or a sanctuary for a monk, nor restore any place of worship that needs restoration nor use any of them for the purpose of enmity against Muslims. We will not prevent any Muslim from resting in our churches whether they come by day or night, and we will open the doors of our houses of worship for the wayfarer and passerby. Those Muslims who come as guests, will enjoy boarding and food for three days. We will not allow a spy against Muslims into our churches and homes or hide deceit or betrayal against Muslims. We will not teach our children the Qur'an, publicize practices of Shirk, invite anyone to Shirk or prevent any of our fellows from embracing Islam, if they choose to do so. We will respect Muslims, move from the places we sit in if they choose to sit in them. We will not imitate their clothing, caps, turbans, sandals, hairstyles, speech, nicknames and title names, or ride on saddles, hang swords on the shoulders, collect weapons of any kind or carry these weapons. We will not encrypt our stamps in Arabic, or sell liquor. We will have the front of our hair cut, wear our customary clothes wherever we are, wear belts around our waist, refrain from erecting crosses on the outside of our churches and demonstrating them and our books in public in Muslim fairways and markets. We will not sound the bells in our churches, except discretely, or raise our voices while reciting our holy books inside our churches in the presence of Muslims, nor raise our voices with prayer at our funerals, or light torches in funeral processions in the fairways of Muslims, or their markets. We will not bury our dead next to Muslim dead, or buy servants who were captured by Muslims. We will be guides for Muslims and refrain from breaching their privacy in their homes.' When I gave this document to `Umar, he added to it, `We will not beat any Muslim. These are the conditions that we set against ourselves and followers of our religion in return for safety and protection. If we break any of these promises that we set for your benefit against ourselves, then our Dhimmah (promise of protection) is broken and you are allowed to do with us what you are allowed of people of defiance and rebellion."'
مشرکین کو حدود حرم سے نکال دو اللہ تعالیٰ احکم الحاکمین اپنے پاک دین والے پاکیزگی اور طہارت والے مسلمان بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ وہ دین کی رو سے نجس مشرکوں کو بیت اللہ شریف کے پاس نہ آنے دیں یہ آیت سنہ 9 ہجری میں نازل ہوئی اسی سال آنحضرت رسول مقبول ﷺ حضرت علی ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ مجمع حج میں اعلان کردو کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرے اس شرعی حکم کو اللہ تعالیٰ قادر وقیوم نے یوں ہی پورا کیا کہ نہ وہاں مشرکوں کو داخلہ نصیب ہوا نہ کسی نے اس کے بعد عریانی کی حالت میں اللہ کے گھر کا طواف کیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ غلام اور ذمی شخص کو مستثنیٰ بناتے ہیں۔ مسند کی حدیث میں فرمان رسول اکرم ﷺ ہے کہ ہماری اس مسجد میں اس کے بعد سوائے معاہدہ والے اور تمہارے غلاموں کے اور کوئی کافر نہ آئے۔ لیکن اس مرفوع سے زیادہ صحیح سند والی موقوف روایت ہے۔ خلیفتہ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمان جاری کردیا تھا کہ یہود و نصرانی کو مسلمانوں کی مسجدوں میں نہ آنے دو ان کا یہ امتناعی حکم اسی آیت کے تحت تھا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حرم سارا اس حکم میں مثل مسجد حرام کے ہے۔ یہ آیت مشرکوں کی نجاست پر بھی دلیل واثق ہے۔ صحیح حدیث میں ہے مومن نجس نہیں ہوتا۔ باقی رہی یہ بات کہ مشرکوں کا بدن اور ذات بھی نجس ہے یا نہیں ؟ پس جمہور کا قول تو یہ ہے کہ نجس نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال کیا ہے۔ بعض ظاہریہ کہتے ہیں کہ مشرکوں کے بدن بھی ناپاک ہی۔ حسن فرماتے ہیں جو ان سے مصافحہ کرے وہ ہاتھ دھو ڈالے۔ اس حکم پر بعض لوگوں نے کہا کہ پھر تو ہماری تجارت کا مندا ہوجائے گا۔ ہمارے بازار بےرونق ہوجائیں گے اور بہت سے فائدے جاتے رہیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ غنی وحمید فرماتا ہے کہ تم اس بات سے نہ ڈرو اللہ تمہیں اور بہت سی صورتوں سے دلا دے گا تمہیں اہل کتاب سے جزیہ دلائے گا اور تمہیں غنی کر دے گا تمہاری مصلحتوں کو تم سے زیادہ رب جانتا ہے اس کا حکم اس کی ممانعت کسی نہ کسی حکمت سے ہی ہوتی ہے۔ یہ تجارت اتنے فائدے کی نہیں جتنا فائدہ وہ تمہیں جزیئے سے دیتا۔ ان اہل کتاب سے جو اللہ، اس کے رسول ﷺ ، اور قیامت کے منکر ہیں جو کسی نبی کے صحیح معنی میں پورے متبع نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کے اور اپنے بڑوں کی تقلید کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اگر انہیں اپنے نبی ﷺ پر اپنی شریعت پر پورا ایمان ہوتا تو وہ ہمارے اس نبی پر بھی ضرور ایمان لاتے ان کی بشارت تو ہر نبی دیتا رہا ان کی اتباع کا حکم ہر نبی نے دیا لیکن باوجود اس کے وہ اس اشرف الرسل کے انکاری ہیں پس اگلے نبیوں کے شرع سے بھی دراصل انہیں کوئی دور کا سروکار بھی نہیں اسی وجہ سے ان نبیوں کا زبانی اقرار ان کے لئے بےسود ہے کیونکہ یہ سید الانبیاء افضل الرسل خاتم النبین اکمل المرسلین سے کفر کرتے ہیں اس لئے ان سے بھی جہاد کرو۔ ان سے جہاد کے حکم کی یہ پہلی آیت ہے اس وقت تک آس پاس کے مشرکین سے جنگ ہوچکی تھی ان میں سے اکثر توحید کے جھنڈے تلے آ چکے تھے جزیرۃ العرب میں اسلام نے جگہ کرلی تھی اب یہود و نصاریٰ کی خبر لینے اور انہیں راہ حق دکھانے کا حکم ہوا۔ سنہ 9 ہجری میں یہ حکم اترا اور آپ نے رومیوں سے جہاد کی تیاری کی لوگوں کو اپنے ارادے سے مطلع کیا مدینہ کے ارد گرد کے عربوں کو آمادہ کیا اور تقریباً تیس ہزار کا لشکر لے کر روم کا رخ کیا۔ بجز منافقین کے یہاں کوئی نہ رکا سوائے بعض کے۔ موسم سخت گرم تھا پھلوں کا وقت تھا روم سے جہاد کیلئے شام کے ملک کا دور دراز کا کٹھن سفر تھا۔ تبوک تک تشریف لے گئے وہاں تقریباً بیس روز قیام فرمایا پھر اللہ سے استخارہ کر کے حالت کی تنگی اور لوگوں کی ضعیفی کی وجہ سے واپس لوٹے۔ جیسے کہ عنقریب اس کا واقعہ انشاء اللہ تعالیٰ بیان ہوگا۔ اسی آیت سے استدلال کر کے بعض نے فرمایا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے اور ان جیسوں سے ہی لیا جائے جیسے مجوس ہیں چناچہ ہجر کے مجسیوں سے آنحضرت ﷺ نے جزیہ لیا تھا۔ امام شافعی کا یہی مذہب ہے اور مشہور مذہب امام احمد کا بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں سب عجمیوں سے لیا جائے خواہ وہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرک ہوں۔ ہاں عرب میں سے صرف اہل کتاب سے ہی لیا جائے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ جزیئے کا لینا تمام کفار سے جائز ہے خواہ وہ کتابی ہوں یا مجوسی ہوں یابت پرست وغیرہ ہوں۔ ان مذاہب کے دلائل وغیرہ کی تفصیل کی یہ جگہ نہیں واللہ اعلم۔ پس فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو پس اہل ذمہ کو مسلمانوں پر عزت و توقیر دینی اور انہیں اوج و ترقی دینی جائز نہیں صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں یہود و نصاریٰ سے سلام کی ابتداء نہ کرو اور جب ان سے کوئی راستے میں مل جائے تو اسے تنگی سے مجبور کرو۔ یہی وجہ تھی جو حضرت عمر فاروق ؓ نے ان سے ایسی ہی شرطیں کی تھیں عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کہتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے عہد نامہ لکھ کر حضرت عمر ؓ کو دیا تھا کہ اہل شام کو فلاں فلاں شہری لوگوں کی طرف سے یہ معاہدہ ہے امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ سے کہ جب آپ کے لشکر ہم پر آئے ہم نے آپ سے اپنی جان مال اور اہل و عیال کے لئے امن طلب کی ہم ان شرطوں پر وہ امن حاصل کرتے ہیں کہ ہم اپنے ان شہروں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نئی نہیں بنائیں گے۔ مندر اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو مٹ چکے ہیں انہی درست نہیں کریں گے ان میں اگر کوئی مسلمان مسافر اترنا چاہے تو روکیں گے نہیں خواہ دن ہو خواہ رات ہو ہم ان کے دروازے رہ گذر اور مسافروں کے لئے کشادہ رکھیں گے اور جو مسلمان آئے ہم اس کی تین دن تک مہمانداری کریں گے، ہم اپنے ان مکانوں یا رہائشی مکانوں وغیرہ میں کہیں کسی جاسوس کو نہ چھپائیں گے، مسلمانوں سے کوئی دھوکہ فریب نہیں کریں گے، اپنی اولاد کو قرآن نہ سکھائیں گے، شرک کا اظہار نہ کریں گے نہ کسی کو شرک کی طرف بلائیں گے، ہم میں سے کوئی اگر اسلام قبول کرنا چاہے ہم اسے ہرگز نہ روکیں گے، مسلمانوں کی توقیر و عزت کریں گے، ہماری جگہ اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم اٹھ کر انہیں جگہ دے دیں گے، ہم مسلمانوں سے کسی چیز میں برابری نہ کریں گے، نہ لباس میں نہ جوتی میں نہ مانگ نکالنے میں، ہم ان کی زبانیں نہیں بولیں گے، ان کی کنیتیں نہیں رکھیں گے، زین والے گھوڑوں پر سواریاں نہ کریں گے، تلواریں نہ لٹکائیں گے نہ اپنے ساتھ رکھیں گے۔ انگوٹھیوں پر عربی نقش نہیں کرائیں گے، شراب فروشی نہیں کریں گے، اپنے سروں کے اگلے بالوں کو تراشوا دیں گے اور جہاں کہیں ہوں گے زنار ضرورتاً ڈالے رہیں گے، صلیب کا نشان اپنے گرجوں پر ظاہر نہیں کریں گے۔ اپنی مذہبی کتابیں مسلمانوں کی گذر گاہوں اور بازاروں میں ظاہر نہیں کریں گے گرجوں میں ناقوس بلند آواز سے بجائیں گے نہ مسلمانوں کی موجودگی میں با آواز بلند اپنی مذہبی کتابیں پڑھیں گے نہ اپنے مذہبی شعار کو راستوں پر کریں گے نہ اپنے مردوں پر اونچی آواز سے ہائے وائے کریں گے نہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے راستوں میں آگ لے کر جائیں گے مسلمانوں کے حصے میں آئے ہوئے غلام ہم نہ لیں گے مسلمانوں کی خیر خواہی ضرور کرتے رہیں گے ان کے گھروں میں جھانکیں گے نہیں۔ جب یہ عہد نامہ حضرت فاروق اعظم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے ایک شرط اور بھی اس میں بڑھوائی کہ ہم کسی مسلمانوں کو ہرگز ماریں گے نہیں یہ تمام شرطیں ہمیں قبول و منظور ہیں اور ہمارے سب ہم مذہب لوگوں کو بھی۔ انہی شرائط پر ہمیں امن ملا ہے اگر ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی ہم خلاف ورزی کریں تو ہم سے آپ کا ذمہ الگ ہوجائے گا اور جو کچھ آپ اپنے دشمنوں اور مخالفوں سے کرتے ہیں ان تمام کے مستحق ہم بھی ہوجائیں گے۔
30
View Single
وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ
And the Jews said, “Uzair is the son of Allah”, and the Christians said “The Messiah is the son of Allah”; they utter this from their own mouths; they speak like the former disbelievers; may Allah kill them; where are they reverting!
اور یہود نے کہا: عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی نے کہا: مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کا (لغو) قول ہے جو اپنے مونہہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے قول سے مشابہت (اختیار) کرتے ہیں جو (ان سے) پہلے کفر کر چکے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Fighting the Jews and Christians is legislated because They are Idolators and Disbelievers
Allah the Exalted encourages the believers to fight the polytheists, disbelieving Jews and Christians, who uttered this terrible statement and utter lies against Allah, the Exalted. As for the Jews, they claimed that `Uzayr was the son of God, Allah is free of what they attribute to Him. As for the misguidance of Christians over `Isa, it is obvious. This is why Allah declared both groups to be liars,
ذلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَهِهِمْ
(That is their saying with their mouths), but they have no proof that supports their claim, other than lies and fabrications,
يُضَـهِئُونَ
(resembling), imitating,
قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ
(the saying of those who disbelieved aforetime.) They imitate the previous nations who fell into misguidance just as Jews and Christians did,
قَـتَلَهُمُ اللَّهُ
(may Allah fight them), Ibn `Abbas said, "May Allah curse them."
أَنَّى يُؤْفَكُونَ
(how they are deluded away from the truth!) how they deviate from truth, when it is apparent, exchanging it for misguidance. Allah said next,
اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ
(They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah, and the Messiah, son of Maryam) 9:31. Imam Ahmad, At-Tirmidhi and Ibn Jarir At-Tabari recorded a Hadith via several chains of narration, from `Adi bin Hatim, may Allah be pleased with him, who became Christian during the time of Jahiliyyah. When the call of the Messenger of Allah ﷺ reached his area, `Adi ran away to Ash-Sham, and his sister and several of his people were captured. The Messenger of Allah ﷺ freed his sister and gave her gifts. So she went to her brother and encouraged him to become Muslim and to go to the Messenger of Allah ﷺ. `Adi, who was one of the chiefs of his people (the tribe of Tai') and whose father, Hatim At-Ta'i, was known for his generosity, went to Al-Madinah. When the people announced his arrival, `Adi went to the Messenger of Allah ﷺ wearing a silver cross around his neck. The Messenger of Allah ﷺ recited this Ayah;
اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ
(They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah). `Adi commented, "I said, `They did not worship them."' The Prophet said,
«بَلَى إِنَّهُمْ حَرَّمُوا عَلَيْهِمُ الْحَلَالَ وَأَحَلُّوا لَهُمُ الْحَرَامَ فَاتَّبَعُوهُمْ فَذَلِكَ عِبَادَتُهُمْ إِيَّاهُم»
(Yes they did. They (rabbis and monks) prohibited the allowed for them (Christians and Jews) and allowed the prohibited, and they obeyed them. This is how they worshipped them.) The Messenger of Allah ﷺ said to `Adi,
«يَا عَدِيُّ مَا تَقُولُ؟ أَيُفِرُّكَ أَنْ يُقَالَ: اللهُ أَكْبَرَ؟ فَهَلْ تَعْلَمُ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنَ اللهِ؟ مَا يُفِرُّكَ؟ أَيُفِرُّكَ أَنْ يُقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ فَهَلْ تَعْلَمُ مَنْ إِلهٌ إِلَّا اللهُ؟»
(O `Adi what do you say Did you run away (to Ash-Sham) so that 'Allahu Akbar' (Allah is the Great) is not pronounced Do you know of anything greater than Allah What made you run away Did you run away so that `La ilaha illallah' is not pronounced Do you know of any deity worthy of worship except Allah)
The Messenger ﷺ invited `Adi to embrace Islam, and he embraced Islam and pronounced the Testimony of Truth. The face of the Messenger of Allah ﷺ beamed with pleasure and he said to `Adi,
«إِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَالنَّصَارَى ضَالُّون»
(Verily, the Jews have earned the anger (of Allah) and the Christians are misguided.) Hudhayfah bin Al-Yaman, `Abdullah bin `Abbas and several others said about the explanation of,
اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ
(They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah...) that the Christians and Jews obeyed their monks and rabbis in whatever they allowed or prohibited for them. This is why Allah said,
وَمَآ أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهاً وَحِداً
(while they were commanded to worship none but One God), Who, whatever He renders prohibited is the prohibited, whatever He allowed is the allowed, whatever He legislates, is to be the law followed, and whatever He decides is to be adhered to;
لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَـنَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(None has the right to be worshipped but He. Hallowed be He above what they associate (with Him).) Meaning, exalted, sanctified, hallowed above partners, equals, aids, rivals or children, there is no deity or Lord worthy of worship except Him.
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے ان تمام آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں، یہودیوں اور نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں یہود و عزیر کو اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں اللہ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ ان لوگوں کو حضرت عزیر کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آگئے ان کے علماء کو قتل کردیا ان کے رئیسوں کو قید کرلیا۔ عزیر ؑ کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہوجانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے روتے روتے پلکیں بھی جھڑ گئیں ایک دن اسی طرح روتے ہوئے ایک میدان سے گذر ہوا دیکھا کہ ایک عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے ہائے اب میرے کھانے کا کیا ہوگا ؟ میرے کپڑوں کا کیا ہوگا ؟ آپ اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس سے فرمایا اس شخص سے پہلے تجھے کون کھلاتا تھا اور کون پہناتا تھا ؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ۔ آپ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ تو اب بھی زندہ باقی ہے اس پر تو کبھی نہیں موت آئے گی۔ یہ سن کر اس عورت نے کہا اے عزیر پھر تو یہ تو بتا کہ بنی اسرائیل سے پہلے علماء کو کون علم سکھاتا تھا ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس نے کہا آپ یہ رونا دھونا لے کر کیوں بیٹھے ہیں ؟ آپ کو سمجھ میں آگیا کہ یہ جناب باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تنبیہہ ہے پھر آپ سے فرمایا گیا کہ فلاں نہر پر جا کر غسل کرو وہیں دو رکعت نماز ادا کرو وہاں تمہیں ایک شخص ملیں گے وہ جو کچھ کھلائیں وہ کھالو چناچہ آپ وہیں تشریف لے گئے نہا کر نماز ادا کی دیکھا کہ ایک شخص ہیں کہہ رہے ہیں منہ کھولو آپ نے منہ کھول دیا انہوں نے تین مرتبہ کوئی چیز آپ کے منہ میں بڑی ساری ڈالی اسی وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا سینہ کھول دیا اور آپ توراۃ کے سب سے بڑے عالم بن گئے بنی اسرائیل میں گئے ان سے فرمایا کہ میں تمہارے پاس تورات لایا ہوں انہوں نے کہا ہم سب آپ کے نزدیک سچے ہیں آپ نے اپنی انگلی کے ساتھ قلم کو لپیٹ لیا اور اسی انگلی سے یہ یک وقت پوری توراۃ لکھ ڈالی ادھر لوگ لڑائی سے لوٹے ان میں ان کے علماء بھی واپس آئے تو انہیں عزیر ؑ کی اس بات کا علم ہوا یہ گئے اور پہاڑوں اور غاروں میں تورات شریف کے جو نسخے چھپا آئے تھے وہ نکال لائے اور ان نسخوں سے حضرت عزیر ؑ کے لکھے ہوئے نسخے کا مقابلہ کیا تو بالکل صحیح پایا اس پر بعض جاہلوں کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ ڈال دیا کہ آپ اللہ کے بیٹے ہیں۔ حضرت مسیح کو نصرانی اللہ کا بیٹا کہتے تھے ان کا واقعہ تو ظاہر ہے۔ پس ان دونوں گروہوں کی غلط بیانی قرآن بیان فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ ان کی صرف زبانی باتیں ہیں جو محض بےدلیل ہیں جس طرح ان سے پہلے کے لوگ کفر و ضلالت میں تھے یہ بھی انہی کے مرید و مقلد ہیں اللہ انہیں لعنت کرے حق سے کیسے بھٹک گئے ؟ مسند احمد ترمذی اور ابن جریر میں ہے کہ جب عدی بن حاتم کو رسول اللہ ﷺ کا دین پہنچا تو شام کی طرف بھاگ نکلا جاہلیت میں ہی یہ نصرانی بن گیا تھا یہاں اس کی بہن اور اس کی جماعت قید ہوگئی پھر حضور ﷺ نے بطور احسان اس کی بہن کو آزاد کردیا اور رقم بھی دی یہ سیدھی اپنے بھائی کے پاس گئیں اور انہیں اسلام کی رغبت دلائی اور سمجھایا کہ تم رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ التسلیم کے پاس چلے جاؤ چناچہ یہ مدینہ شریف آگئے تھے اپنی قوم طے کے سردار تھے ان کے باپ کی سخاوت دنیا بھر میں مشہور تھی لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچائی آپ خود ان کے پاس آئے اس وقت عدی کی گردن میں چاندی کی صلیب لٹک رہی تھی حضور ﷺ کی زبان مبارک سے اسی (آیت اتخذوا) کی تلاوت ہو رہی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت نہیں کی آپ نے فرمایا ہاں سنو ان کے کئے ہوئے حرام کو حرام سمجھنے لگے اور جسے ان کے علماء اور درویش حلال بتادیں اسے حلال سمجھنے لگے یہی ان کی عبادت تھی پھر آپ نے فرمایا عدی کیا تم اس سے بیخبر ہو کہ اللہ سب سے بڑا ہے ؟ کیا تمہارے خیال میں اللہ سے بڑا اور کوئی ہے ؟ کیا تم اس سے انکار کرتے ہو کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ؟ کیا تمہارے نزدیک اس کے سوا اور کوئی بھی عبادت کے لائق ہے ؟ پھر آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے مان لی اور اللہ کی توحید اور حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی ادا کی آپ کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا یہود پر غضب الٰہی اترا ہے اور نصرانی گمراہ ہوگئے ہیں۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے بھی اس آیت کی تفسیر اسی طرح مروی ہے کہ اس سے مراد حلال و حرام کے مسائل میں علماء اور ائمہ کی محض باتوں کی تقلید ہے۔ سدی فرماتے ہیں انہوں نے بزرگوں کی ماننی شروع کردی اور اللہ کی کتاب کو ایک طرف ہٹا دیا۔ اسی لئے اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں حکم تو صرف یہ تھا کہ اللہ کے سوا اور کی عبادت نہ کریں وہی جسے حرام کر دے حرام ہے اور وہ جسے حلال فرما دے حلال ہے۔ اسی کے فرمان شریعت ہیں، اسی کے احکام بجا لانے کے لائق ہیں، اسی کی ذات عبادت کی مستحق ہے۔ وہ مشرک سے اور شرک سے پاک ہے، اس جیسا اس کا شریک، اس کا نظیر اس کا مددگار اس کی ضد کا کوئی نہیں وہ اولاد سے پاک ہے نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔
31
View Single
ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُوٓاْ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗاۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ سُبۡحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
They have taken their rabbis and their monks as Gods besides Allah and (also) Messiah the son of Maryam; and they were not commanded except to worship only One God – Allah; none is worthy of worship except Him; Purity is to Him from all that they ascribe as partners (to Him).
انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو (بھی) حالانکہ انہیں بجز اس کے (کوئی) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اکیلے ایک (ہی) معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Fighting the Jews and Christians is legislated because They are Idolators and Disbelievers
Allah the Exalted encourages the believers to fight the polytheists, disbelieving Jews and Christians, who uttered this terrible statement and utter lies against Allah, the Exalted. As for the Jews, they claimed that `Uzayr was the son of God, Allah is free of what they attribute to Him. As for the misguidance of Christians over `Isa, it is obvious. This is why Allah declared both groups to be liars,
ذلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَهِهِمْ
(That is their saying with their mouths), but they have no proof that supports their claim, other than lies and fabrications,
يُضَـهِئُونَ
(resembling), imitating,
قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ
(the saying of those who disbelieved aforetime.) They imitate the previous nations who fell into misguidance just as Jews and Christians did,
قَـتَلَهُمُ اللَّهُ
(may Allah fight them), Ibn `Abbas said, "May Allah curse them."
أَنَّى يُؤْفَكُونَ
(how they are deluded away from the truth!) how they deviate from truth, when it is apparent, exchanging it for misguidance. Allah said next,
اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ
(They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah, and the Messiah, son of Maryam) 9:31. Imam Ahmad, At-Tirmidhi and Ibn Jarir At-Tabari recorded a Hadith via several chains of narration, from `Adi bin Hatim, may Allah be pleased with him, who became Christian during the time of Jahiliyyah. When the call of the Messenger of Allah ﷺ reached his area, `Adi ran away to Ash-Sham, and his sister and several of his people were captured. The Messenger of Allah ﷺ freed his sister and gave her gifts. So she went to her brother and encouraged him to become Muslim and to go to the Messenger of Allah ﷺ. `Adi, who was one of the chiefs of his people (the tribe of Tai') and whose father, Hatim At-Ta'i, was known for his generosity, went to Al-Madinah. When the people announced his arrival, `Adi went to the Messenger of Allah ﷺ wearing a silver cross around his neck. The Messenger of Allah ﷺ recited this Ayah;
اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ
(They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah). `Adi commented, "I said, `They did not worship them."' The Prophet said,
«بَلَى إِنَّهُمْ حَرَّمُوا عَلَيْهِمُ الْحَلَالَ وَأَحَلُّوا لَهُمُ الْحَرَامَ فَاتَّبَعُوهُمْ فَذَلِكَ عِبَادَتُهُمْ إِيَّاهُم»
(Yes they did. They (rabbis and monks) prohibited the allowed for them (Christians and Jews) and allowed the prohibited, and they obeyed them. This is how they worshipped them.) The Messenger of Allah ﷺ said to `Adi,
«يَا عَدِيُّ مَا تَقُولُ؟ أَيُفِرُّكَ أَنْ يُقَالَ: اللهُ أَكْبَرَ؟ فَهَلْ تَعْلَمُ شَيْئًا أَكْبَرَ مِنَ اللهِ؟ مَا يُفِرُّكَ؟ أَيُفِرُّكَ أَنْ يُقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ فَهَلْ تَعْلَمُ مَنْ إِلهٌ إِلَّا اللهُ؟»
(O `Adi what do you say Did you run away (to Ash-Sham) so that 'Allahu Akbar' (Allah is the Great) is not pronounced Do you know of anything greater than Allah What made you run away Did you run away so that `La ilaha illallah' is not pronounced Do you know of any deity worthy of worship except Allah)
The Messenger ﷺ invited `Adi to embrace Islam, and he embraced Islam and pronounced the Testimony of Truth. The face of the Messenger of Allah ﷺ beamed with pleasure and he said to `Adi,
«إِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَالنَّصَارَى ضَالُّون»
(Verily, the Jews have earned the anger (of Allah) and the Christians are misguided.) Hudhayfah bin Al-Yaman, `Abdullah bin `Abbas and several others said about the explanation of,
اتَّخَذُواْ أَحْبَـرَهُمْ وَرُهْبَـنَهُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللَّهِ
(They took their rabbis and their monks to be their lords besides Allah...) that the Christians and Jews obeyed their monks and rabbis in whatever they allowed or prohibited for them. This is why Allah said,
وَمَآ أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهاً وَحِداً
(while they were commanded to worship none but One God), Who, whatever He renders prohibited is the prohibited, whatever He allowed is the allowed, whatever He legislates, is to be the law followed, and whatever He decides is to be adhered to;
لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَـنَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(None has the right to be worshipped but He. Hallowed be He above what they associate (with Him).) Meaning, exalted, sanctified, hallowed above partners, equals, aids, rivals or children, there is no deity or Lord worthy of worship except Him.
بزرگ بڑے نہیں اللہ جل شانہ سب سے بڑا ہے ان تمام آیتوں میں بھی جناب باری عزوجل مومنوں کو مشرکوں، کافروں، یہودیوں اور نصرانیوں سے جہاد کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ فرماتا ہے دیکھو وہ اللہ کی شان میں کیسی گستاخیاں کرتے ہیں یہود و عزیر کو اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں اللہ اس سے پاک اور برتر و بلند ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ ان لوگوں کو حضرت عزیر کی نسبت جو یہ وہم ہوا اس کا قصہ یہ ہے کہ جب عمالقہ بنی اسرائیل پر غالب آگئے ان کے علماء کو قتل کردیا ان کے رئیسوں کو قید کرلیا۔ عزیر ؑ کا علم اٹھ جانے اور علماء کے قتل ہوجانے سے اور بنی اسرائیل کی تباہی سے سخت رنجیدہ ہوئے اب جو رونا شروع کیا تو آنکھوں سے آنسو نہ تھمتے تھے روتے روتے پلکیں بھی جھڑ گئیں ایک دن اسی طرح روتے ہوئے ایک میدان سے گذر ہوا دیکھا کہ ایک عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے ہائے اب میرے کھانے کا کیا ہوگا ؟ میرے کپڑوں کا کیا ہوگا ؟ آپ اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس سے فرمایا اس شخص سے پہلے تجھے کون کھلاتا تھا اور کون پہناتا تھا ؟ اس نے کہا اللہ تعالیٰ۔ آپ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ تو اب بھی زندہ باقی ہے اس پر تو کبھی نہیں موت آئے گی۔ یہ سن کر اس عورت نے کہا اے عزیر پھر تو یہ تو بتا کہ بنی اسرائیل سے پہلے علماء کو کون علم سکھاتا تھا ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس نے کہا آپ یہ رونا دھونا لے کر کیوں بیٹھے ہیں ؟ آپ کو سمجھ میں آگیا کہ یہ جناب باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے آپ کو تنبیہہ ہے پھر آپ سے فرمایا گیا کہ فلاں نہر پر جا کر غسل کرو وہیں دو رکعت نماز ادا کرو وہاں تمہیں ایک شخص ملیں گے وہ جو کچھ کھلائیں وہ کھالو چناچہ آپ وہیں تشریف لے گئے نہا کر نماز ادا کی دیکھا کہ ایک شخص ہیں کہہ رہے ہیں منہ کھولو آپ نے منہ کھول دیا انہوں نے تین مرتبہ کوئی چیز آپ کے منہ میں بڑی ساری ڈالی اسی وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا سینہ کھول دیا اور آپ توراۃ کے سب سے بڑے عالم بن گئے بنی اسرائیل میں گئے ان سے فرمایا کہ میں تمہارے پاس تورات لایا ہوں انہوں نے کہا ہم سب آپ کے نزدیک سچے ہیں آپ نے اپنی انگلی کے ساتھ قلم کو لپیٹ لیا اور اسی انگلی سے یہ یک وقت پوری توراۃ لکھ ڈالی ادھر لوگ لڑائی سے لوٹے ان میں ان کے علماء بھی واپس آئے تو انہیں عزیر ؑ کی اس بات کا علم ہوا یہ گئے اور پہاڑوں اور غاروں میں تورات شریف کے جو نسخے چھپا آئے تھے وہ نکال لائے اور ان نسخوں سے حضرت عزیر ؑ کے لکھے ہوئے نسخے کا مقابلہ کیا تو بالکل صحیح پایا اس پر بعض جاہلوں کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ ڈال دیا کہ آپ اللہ کے بیٹے ہیں۔ حضرت مسیح کو نصرانی اللہ کا بیٹا کہتے تھے ان کا واقعہ تو ظاہر ہے۔ پس ان دونوں گروہوں کی غلط بیانی قرآن بیان فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ ان کی صرف زبانی باتیں ہیں جو محض بےدلیل ہیں جس طرح ان سے پہلے کے لوگ کفر و ضلالت میں تھے یہ بھی انہی کے مرید و مقلد ہیں اللہ انہیں لعنت کرے حق سے کیسے بھٹک گئے ؟ مسند احمد ترمذی اور ابن جریر میں ہے کہ جب عدی بن حاتم کو رسول اللہ ﷺ کا دین پہنچا تو شام کی طرف بھاگ نکلا جاہلیت میں ہی یہ نصرانی بن گیا تھا یہاں اس کی بہن اور اس کی جماعت قید ہوگئی پھر حضور ﷺ نے بطور احسان اس کی بہن کو آزاد کردیا اور رقم بھی دی یہ سیدھی اپنے بھائی کے پاس گئیں اور انہیں اسلام کی رغبت دلائی اور سمجھایا کہ تم رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ التسلیم کے پاس چلے جاؤ چناچہ یہ مدینہ شریف آگئے تھے اپنی قوم طے کے سردار تھے ان کے باپ کی سخاوت دنیا بھر میں مشہور تھی لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچائی آپ خود ان کے پاس آئے اس وقت عدی کی گردن میں چاندی کی صلیب لٹک رہی تھی حضور ﷺ کی زبان مبارک سے اسی (آیت اتخذوا) کی تلاوت ہو رہی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور درویشوں کی عبادت نہیں کی آپ نے فرمایا ہاں سنو ان کے کئے ہوئے حرام کو حرام سمجھنے لگے اور جسے ان کے علماء اور درویش حلال بتادیں اسے حلال سمجھنے لگے یہی ان کی عبادت تھی پھر آپ نے فرمایا عدی کیا تم اس سے بیخبر ہو کہ اللہ سب سے بڑا ہے ؟ کیا تمہارے خیال میں اللہ سے بڑا اور کوئی ہے ؟ کیا تم اس سے انکار کرتے ہو کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ؟ کیا تمہارے نزدیک اس کے سوا اور کوئی بھی عبادت کے لائق ہے ؟ پھر آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے مان لی اور اللہ کی توحید اور حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی ادا کی آپ کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا یہود پر غضب الٰہی اترا ہے اور نصرانی گمراہ ہوگئے ہیں۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے بھی اس آیت کی تفسیر اسی طرح مروی ہے کہ اس سے مراد حلال و حرام کے مسائل میں علماء اور ائمہ کی محض باتوں کی تقلید ہے۔ سدی فرماتے ہیں انہوں نے بزرگوں کی ماننی شروع کردی اور اللہ کی کتاب کو ایک طرف ہٹا دیا۔ اسی لئے اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ انہیں حکم تو صرف یہ تھا کہ اللہ کے سوا اور کی عبادت نہ کریں وہی جسے حرام کر دے حرام ہے اور وہ جسے حلال فرما دے حلال ہے۔ اسی کے فرمان شریعت ہیں، اسی کے احکام بجا لانے کے لائق ہیں، اسی کی ذات عبادت کی مستحق ہے۔ وہ مشرک سے اور شرک سے پاک ہے، اس جیسا اس کا شریک، اس کا نظیر اس کا مددگار اس کی ضد کا کوئی نہیں وہ اولاد سے پاک ہے نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔
32
View Single
يُرِيدُونَ أَن يُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَيَأۡبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
They wish to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah will not agree except that He will perfect His light, even if the disbelievers get annoyed.
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ (یہ بات) قبول نہیں فرماتا مگر یہ (چاہتا ہے) کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا دے اگرچہ کفار (اسے) ناپسند ہی کریں
Tafsir Ibn Kathir
People of the Scriptures try to extinguish the Light of Islam
Allah says, the disbelieving idolators and People of the Scriptures want to,
أَن يُطْفِئُواْ نُورَ اللَّهِ
(extinguish the Light of Allah). They try through argument and lies to extinguish the guidance and religion of truth that the Messenger of Allah ﷺ was sent with. Their example is the example of he who wants to extinguish the light of the sun or the moon by blowing at them! Indeed, such a person will never accomplish what he sought. Likewise, the light of what the Messenger was sent with will certainly shine and spread. Allah replied to the idolators' desire and hope,
وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(but Allah will not allow except that His Light should be perfected even though the disbelievers (Kafirun) hate (it)) 9:32. Linguistincally a Kafir is the person who covers something. For instance, night is called Kafiran covering because it covers things with darkness. The farmer is called Kafiran, because he covers seeds in the ground. Allah said in an Ayah,
أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ
(thereof the growth is pleasing to the Kuffar tillers)57:20.
Islam is the Religion That will dominate over all Other Religions
Allah said next,
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ
(It is He Who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth.) `Guidance' refers to the true narrations, beneficial faith and true religion that the Messenger came with. `religion of truth' refers to the righteous, legal deeds that bring about benefit in this life and the Hereafter.
لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ
(to make it (Islam) superior over all religions) It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَسَيَبْلُغُ مُلْكُ أُمَّتِي مَا زُوِيَ لِييِمنْهَا»
(Allah made the eastern and western parts of the earth draw near for me to see, and the rule of my Ummah will extend as far as I saw.) Imam Ahmad recorded from Tamim Ad-Dari that he said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ هَذَا الدِّينَ، يُعِزُّ عَزِيزًا وَيُذِلُّ ذَلِيلًا، عِزًّا يُعِزُّ اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا يُذِلُّ اللهُ بِهِ الْكُفْر»
(This matter (Islam) will keep spreading as far as the night and day reach, until Allah will not leave a house made of mud or hair, but will make this religion enter it, while bringing might to a mighty person (a Muslim) and humiliation to a disgraced person (who rejects Islam). Might with which Allah elevates Islam (and its people) and disgrace with which Allah humiliates disbelief (and its people).) Tamim Ad-Dari who was a Christian before Islam used to say, "I have come to know the meaning of this Hadith in my own people. Those who became Muslims among them acquired goodness, honor and might. Disgrace, humiliation and Jizyah befell those who remained disbelievers."
کفارہ کی دلی مذموم خواہش۔ فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ نور الٰہی بجھا دیں ہدایت ربانی اور دین حق کو مٹا دیں تو خیال کرلو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح یہ لوگ بھی نور رب کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کریں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ ضروری بات ہے اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیم رسول ﷺ کا بول بالا ہوگا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ اس کو بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی۔ تم گو ناخوش رہو لیکن آفتاب ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔ عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لئے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے۔ کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے جیسے فرمان ہے (كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20) 57۔ الحدید :20) اسی اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے حضور ﷺ کی سچی خبروں اور صحیح ایمان اور نفع والے علم پہ مبنی یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں ان کا مجموعہ یہ دین حق ہے۔ یہ تمام اور مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا آنحضرت رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں میرے لئے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔ فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہوگا تمہارے سردار جہنمی ہیں۔ بجز ان کے جو متقی پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہوگی حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اس سے خیر و برکت عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت نفرت و لعنت نصیب ہوئی۔ پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہوگا وہ اسے نہیں مانیں گے لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔ حضرت عدی فرماتے ہیں میرے پاس رسول کریم ﷺ تشریف لائے مجھ سے فرمایا اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے میں نے کہا میں تو ایک دین کو مانتا ہوں آپ نے فرمایا تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے میں نے کہا سچ ؟ آپ نے فرمایا بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے ؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا ؟ میں نے کہا یہ تو سچ ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے دین میں یہ تیرے لئے حلال نہیں پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا آپ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے ؟ سن صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن حیرہ کا تجھے علم ہے ؟ میں نے کہا دیکھا تو نہیں لیکن سنا ضرور ہے۔ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر اکیلے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے گا اور بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا۔ واللہ تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے میں نے کہا کسریٰ بن ہرمز کے ؟ آپ نے فرمایا ہاں کسریٰ بن ہرمز کے تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔ اس حدیث کو بیان کرتے وقت حضرت عدی نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان پورا ہوا۔ یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق کی دوسری پیشنگوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں لئے۔ واللہ مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق ﷺ کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دن رات کا دور ختم نہ ہوگا جب تک پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ (آیت ھو الذی ارسل) کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے آپ نے فرمایا ہاں پوری ہوگئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ پاک کو منظور ہوگا پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہوگی پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔
33
View Single
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ
It is He Who has sent His Noble Messenger with guidance and the true religion, in order to prevail over all other religions – even if the polytheists get annoyed.
وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہر دین (والے) پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو برا لگے
Tafsir Ibn Kathir
People of the Scriptures try to extinguish the Light of Islam
Allah says, the disbelieving idolators and People of the Scriptures want to,
أَن يُطْفِئُواْ نُورَ اللَّهِ
(extinguish the Light of Allah). They try through argument and lies to extinguish the guidance and religion of truth that the Messenger of Allah ﷺ was sent with. Their example is the example of he who wants to extinguish the light of the sun or the moon by blowing at them! Indeed, such a person will never accomplish what he sought. Likewise, the light of what the Messenger was sent with will certainly shine and spread. Allah replied to the idolators' desire and hope,
وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُونَ
(but Allah will not allow except that His Light should be perfected even though the disbelievers (Kafirun) hate (it)) 9:32. Linguistincally a Kafir is the person who covers something. For instance, night is called Kafiran covering because it covers things with darkness. The farmer is called Kafiran, because he covers seeds in the ground. Allah said in an Ayah,
أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ
(thereof the growth is pleasing to the Kuffar tillers)57:20.
Islam is the Religion That will dominate over all Other Religions
Allah said next,
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ
(It is He Who has sent His Messenger with guidance and the religion of truth.) `Guidance' refers to the true narrations, beneficial faith and true religion that the Messenger came with. `religion of truth' refers to the righteous, legal deeds that bring about benefit in this life and the Hereafter.
لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ
(to make it (Islam) superior over all religions) It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَسَيَبْلُغُ مُلْكُ أُمَّتِي مَا زُوِيَ لِييِمنْهَا»
(Allah made the eastern and western parts of the earth draw near for me to see, and the rule of my Ummah will extend as far as I saw.) Imam Ahmad recorded from Tamim Ad-Dari that he said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ هَذَا الدِّينَ، يُعِزُّ عَزِيزًا وَيُذِلُّ ذَلِيلًا، عِزًّا يُعِزُّ اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا يُذِلُّ اللهُ بِهِ الْكُفْر»
(This matter (Islam) will keep spreading as far as the night and day reach, until Allah will not leave a house made of mud or hair, but will make this religion enter it, while bringing might to a mighty person (a Muslim) and humiliation to a disgraced person (who rejects Islam). Might with which Allah elevates Islam (and its people) and disgrace with which Allah humiliates disbelief (and its people).) Tamim Ad-Dari who was a Christian before Islam used to say, "I have come to know the meaning of this Hadith in my own people. Those who became Muslims among them acquired goodness, honor and might. Disgrace, humiliation and Jizyah befell those who remained disbelievers."
کفارہ کی دلی مذموم خواہش۔ فرماتا ہے کہ ہر قسم کے کفار کا ارادہ اور چاہت یہی ہے کہ نور الٰہی بجھا دیں ہدایت ربانی اور دین حق کو مٹا دیں تو خیال کرلو کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ کی پھونک سے آفتاب یا مہتاب کی روشنی بجھانی چاہے تو کیا یہ ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح یہ لوگ بھی نور رب کے بجھانے کی چاہت میں اپنی امکانی کوشش کریں آخر عاجز ہو کر رہ جائیں گے۔ ضروری بات ہے اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ دین حق تعلیم رسول ﷺ کا بول بالا ہوگا۔ تم مٹانا چاہتے ہو اللہ اس کو بلند کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ کی چاہت تمہاری چاہت پر غالب رہے گی۔ تم گو ناخوش رہو لیکن آفتاب ہدایت بیچ آسمان میں پہنچ کر ہی رہے گا۔ عربی لغت میں کافر کہتے ہیں کسی چیز کے چھپا لینے والے کو اسی اعتبار سے رات کو بھی کافر کہتے ہیں اس لئے کہ وہ بھی تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے۔ کسان کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے زمین میں چھپا دیتا ہے جیسے فرمان ہے (كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20) 57۔ الحدید :20) اسی اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے حضور ﷺ کی سچی خبروں اور صحیح ایمان اور نفع والے علم پہ مبنی یہ ہدایت ہے اور عمدہ اعمال جو دنیا آخرت میں نفع دیں ان کا مجموعہ یہ دین حق ہے۔ یہ تمام اور مذاہب عالم پر چھا کر رہے گا آنحضرت رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں میرے لئے مشرق و مغرب کی زمین لپیٹ دی گئی میری امت کا ملک ان تمام جگہوں تک پہنچے گا۔ فرماتے ہیں تمہارے ہاتھوں پر مشرق و مغرب فتح ہوگا تمہارے سردار جہنمی ہیں۔ بجز ان کے جو متقی پرہیزگار اور امانت دار ہوں۔ فرماتے ہیں یہ دین تمام اس جگہ پر پہنچے گا جہاں پر دن رات پہنچیں کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جہاں اللہ عزوجل اسلام کو نہ پہنچائے۔ عزیزوں کو عزیز کرے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا اسلام کو عزت دینے والوں کو عزت ملے گی اور کفر کو ذلت نصیب ہوگی حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں میں نے تو یہ بات خود اپنے گھر میں بھی دیکھ لی جو مسلمان ہوا اس سے خیر و برکت عزت و شرافت ملی اور جو کافر رہا اسے ذلت و نکبت نفرت و لعنت نصیب ہوئی۔ پستی اور حقارت دیکھی اور کمینہ پن کے ساتھ جزیہ دینا پڑا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے وہ عزت والوں کو عزت دے گا اور ذلیلوں کو ذلیل کرے گا جنہیں عزت دینی چاہے گا انہیں اسلام نصیب کرے گا اور جنہیں ذلیل کرنا ہوگا وہ اسے نہیں مانیں گے لیکن اس کی ماتحتی میں انہیں آنا پڑے گا۔ حضرت عدی فرماتے ہیں میرے پاس رسول کریم ﷺ تشریف لائے مجھ سے فرمایا اسلام قبول کر تاکہ سلامتی ملے میں نے کہا میں تو ایک دین کو مانتا ہوں آپ نے فرمایا تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے میں نے کہا سچ ؟ آپ نے فرمایا بالکل سچ۔ کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے ؟ کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا ؟ میں نے کہا یہ تو سچ ہے۔ آپ نے فرمایا تیرے دین میں یہ تیرے لئے حلال نہیں پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا آپ نے فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے ؟ سن صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور ناتواں ہیں تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن حیرہ کا تجھے علم ہے ؟ میں نے کہا دیکھا تو نہیں لیکن سنا ضرور ہے۔ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر اکیلے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے گا اور بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا۔ واللہ تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے میں نے کہا کسریٰ بن ہرمز کے ؟ آپ نے فرمایا ہاں کسریٰ بن ہرمز کے تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔ اس حدیث کو بیان کرتے وقت حضرت عدی نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان پورا ہوا۔ یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں۔ صادق و مصدوق کی دوسری پیشنگوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں لئے۔ واللہ مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق ﷺ کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دن رات کا دور ختم نہ ہوگا جب تک پھر لات و عزیٰ کی عبادت نہ ہونے لگے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ (آیت ھو الذی ارسل) کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے آپ نے فرمایا ہاں پوری ہوگئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ پاک کو منظور ہوگا پھر اللہ تعالیٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہوگی پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے۔
34
View Single
۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗ وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ
O People who Believe! Indeed many of the (Jewish) rabbis and the (Christian) monks unjustly devour people's wealth and prevent from Allah’s way; and those who hoard up gold and silver and do not spend it in Allah’s way – so them give the glad tidings of a painful punishment.
اے ایمان والو! بیشک (اہلِ کتاب کے) اکثر علماء اور درویش، لوگوں کے مال ناحق (طریقے سے) کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (یعنی لوگوں کے مال سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور دینِ حق کی تقویت و اشاعت پر خرچ کئے جانے سے روکتے ہیں)، اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں
Tafsir Ibn Kathir
Warning against Corrupt Scholars and Misguided Worshippers
As-Suddi said that the Ahbar are Jewish rabbis, while the Ruhban are Christian monks. This statement is true, for Ahbar are Jewish rabbis, just as Allah said,
لَوْلاَ يَنْهَـهُمُ الرَّبَّـنِيُّونَ وَالاٌّحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ الإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ
(Why do not the Ahbar (rabbis) and the religious learned men forbid them from uttering sinful words and eating unlawful things.) 5:63 The Ruhban are Christian monks or worshippers, while the `Qissisun' are their scholars. Allah said in another Ayah,
ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَاناً
(This is because among them, there are Qissisin and Ruhban...)5:82. This Ayah warns against corrupt scholars and misguided worshippers. Sufyan bin `Uyaynah said, "Those among our scholars who become corrupt are similar to the Jews, while those among our worshippers who become misguided are like Christians." An authentic Hadith declares,
«لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَذْوَ القُذَّةِ بِالْقُذَّة»
(You will follow the ways of those who were before you, step by step.) They asked, "Jews and Christians" He said,
«فَمَن»
؟ (Who else) In another narration, they asked, "Persia and Rome" He said,
«فَمَنِ النَّاسِ إِلَّا هَؤُلَاءِ؟»
(And who else if it was not them) These texts warn against imitating them in action and statement, for they, as Allah stated,
لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَـطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(devour the wealth of mankind in falsehood, and hinder (them) from the way of Allah.) They sell the religion in return for worldly gains, using their positions and status among people to illegally devour their property. For instance, the Jews were respected by the people of Jahiliyyah and collected gifts, taxes and presents from them. When Allah sent His Messenger , the Jews persisted in their misguidance, disbelief and rebellion, hoping to keep their status and position. However, Allah extinguished all this and took it away from them with the light of Prophethood and instead gave them disgrace and degradation, and they incurred the anger of Allah, the Exalted. Allah said next,
وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(and hinder (them) from the way of Allah.) Therefore, they illegally devour people's property and hinder them from following the truth. They also confuse truth with falsehood and pretend before their ignorant followers that they call to righteousness. The true reality is that they call to the Fire and will not find any helpers on the Day of Resurrection.
Torment of Those Who hoard Gold and Silver
Allah said,
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And those who hoard Kanz gold and silver and spend them not in the way of Allah, announce unto them a painful torment.) 9:34. This is the third category of leaders, for people rely on their scholars, worshippers and the wealthy among them. When these categories of people become corrupt, the society in general becomes corrupt. Ibn Al-Mubarak once said, "What corrupted the religion, except kings and wicked Ahbar and Ruhban." As for Kanz, it refers to the wealth on which Zakah has not been paid, according to Malik, who narrated this from `Abdullah bin Dinar from Ibn `Umar. Al-Bukhari recorded that Az-Zuhri said that Khalid bin Aslam said that `Abdullah bin `Umar said, "This was before Zakah was ordained. When Zakah was ordained, Allah made it a cleanser for wealth." `Umar bin `Abdul-`Aziz and `Irak bin Malik said that this Ayah was abrogated by Allah's statement,
خُذْ مِنْ أَمْوَلِهِمْ صَدَقَةً
(Take Sadaqah (alms) from their wealth) There are many Hadiths that admonish hoarding gold and silver. We will mention here some of these Hadiths. `Abdur-Razzaq recorded a Hadith from `Ali about Allah's statement,
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ
(And those who hoard up gold and silver...) `Ali said that the Prophet said,
« تَبًّا لِلذَّهَبٍ تَبًّا لِلْفِضَّة»
(Woe to gold! Woe to silver.) He repeated this statement thrice, and this Hadith was hard on the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, who said, "What type of wealth should we use" `Umar said, "I will find out for you," and he asked, "O Allah's Messenger! Your statement was hard for your Companions. They asked, `What wealth should we use"' The Prophet answered,
«لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى دِينِه»
(A remembering tongue, an appreciative heart and a wife that helps one of you implement his religion.) Allah's statement,
يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِى نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَـذَا مَا كَنَزْتُمْ لأَنفُسِكُمْ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ
(On the Day when that will be heated in the fire of Hell and with it will be branded their foreheads, their flanks, and their backs, (and it will be said unto them) "This is the treasure which you hoarded for yourselves. Now taste of what you used to hoard.") These words will be said to them as a way of admonishing, criticizing and mocking them. Allah also said;
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Then pour over his head the torment of boiling water. "Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous!") 44:48-49. There is a saying that goes, "He who covets a thing and prefers it to Allah's obedience, will be punished with it." Because hoarding money was better to these people than Allah's pleasure, they were punished with it. For instance, Abu Lahab, may Allah curse him, was especially active in defying the Messenger of Allah ﷺ, and his wife was helping him in this regard. Therefore, on the Day of Resurrection, she will help in punishing him, for there will be a twisted rope of palm fiber on her neck. She will be gathering wood from the Fire and throwing it on him so that his torment is made harder by the hand of someone whom he used to care for in this life. Likewise, money was precious to those who hoarded it in this life. Therefore, money will produce the worst harm for them in the Hereafter, when it will be heated in the Fire of Jahannam, whose heat is quiet sufficient, and their forehead, sides and back will be branded with it. Imam Abu Ja`far Ibn Jarir recorded that Thawban said that the Messenger of Allah ﷺ used to declare,
«مَنْ تَركَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقَرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ وَيَقُولُ: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي تَرَكْتَهُ بَعْدكَ وَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ فَيَقْضِمَهَا ثُمَّ يَتْبَعُهَا سَائِرَ جَسَدِه»
(Whoever leaves a treasure behind (on which he did not pay the Zakah), then on the Day of Resurrection his wealth will be made like a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will follow him, and he will say, `Woe to you! Who are you' The snake will say, `I am your treasure that you left behind,' and will keep following him until the man gives it his hand; the snake will devour it and then devour his whole body.) Ibn Hibban also collected this Hadith in his Sahih. Part of this Hadith was also collected in the Two Sahihs from Abu Hurayrah. In his Sahih, Muslim recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّار»
(Every man who does not pay the Zakah due on his money, then on the Day of Resurrection, his side, forehead and back will be branded with rods made of fire on a Day the length of which is fifty thousand years, until when the servants will be judged; that man will be shown his destination, either to Paradise or the Fire.) aIn the Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Zayd bin Wahb said, "I passed by Abu Dharr in the area of Rabadhah and asked him, `What made you reside in this area' He said, `We were in Ash-Sham when I recited this Ayah,
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And those who hoard up gold and silver and spend them not in the way of Allah, announce unto them a painful torment.) Mu`awiyah said, `This Ayah is not about us, it is only about the People of the Book.' So I (Abu Dharr) said, `Rather, it is about us and them."
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصاریٰ کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 63) 5۔ المآئدہ :63) میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس۔ اس آیت میں کہا گیا (ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 82) 5۔ المآئدہ :82) آیت کا مقصود لوگوں کو بڑے علماء اور گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ ؒ فرماتے ہیں۔ ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے ہیں، جن میں کچھ نہ کچھ شائبہ یہودیت کا ہوتا ہے اور ہم مسلمانوں میں صوفیوں اور عابدوں میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں نصرانیت کا شائبہ ہوتا ہے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ تم یقیناً اپنے سے پہلوں کی روش پر چل پڑو گے۔ ایسی پوری مشابہت ہوگی کہ ذرا بھی فرق نہ رہے گا لوگوں نے پوچھا کیا یہود و نصاریٰ کی روش پر ؟ آپ نے فرمایا ہاں انہی کی روش پر اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کی روش پر ؟ آپ نے فرمایا اور کون لوگ ہیں ؟ پس ان کے اقوال افعال کی مشابہت سے ہر ممکن بچنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ اس وجاہت سے ریاست و منصب حاصل کرنا اور اس وجاہت سے لوگوں کا مال غصب کرنا چاہتے ہیں۔ احبار یہود کو زمانہ جاہلیت میں بڑا ہی رسوخ حاصل تھا۔ ان کے تحفے، ہدیئے، خراج، چراغی مقرر تھی جو بغیر مانگے انہیں پہنچ جاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے بعد اسی طمع نے انہیں قبول اسلام سے روکا۔ لیکن حق کے مقابلے کی وجہ سے اس طرف سے بھی کورے رہے اور آخرت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ ذلت و حقارت ان پر برس پڑی اور غضب الٰہی میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہوگئے۔ یہ حرام خور جماعت خود حق سے رک کر اوروں کے بھی درپے رہتی تھی حق کو باطل سے خلط ملط کر کے لوگوں کو بھی راہ حق سے روک دیتے تھے۔ جاہلوں میں بیٹھ کر گپ ہانکتے کہ ہم لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے ہیں حالانکہ یہ صریح دھوکہ ہے وہ تو جہنم کی طرف بلانے والے ہیں قیامت کے دن یہ بےیارو مددگار چھوڑ دیئے جائیں گے۔ عالموں اور صوفیوں یعنی واعظوں اور عابدوں کا ذکر کرنے کے بعد اب امیروں دولت مندوں اور رئیسوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جس طرح یہ دونوں طبقے اپنے اندر بدترین لوگوں کو بھی رکھتے ہیں ایسے ہی اس تیسرے طبقے میں بھی شریر النفس لوگ ہوتے ہیں عموماً انہی تین طبقے کے لوگوں کا عوام پر اثر ہوتا ہے عوام کی کثیر تعداد ان کے ساتھ بلکہ ان کے پیچھے ہوتی ہیں پس ان کا بگڑنا گویا مذہبی دنیا کا ستیاناس ہونا ہے جیسے کہ حضرت ابن المبارک ؒ کہتے ہیں۔ وھل افسدالدین الا الملوک واحبار سوء ورھبانھا یعنی دین واعظوں، عالموں، صوفیوں اور درویشوں کے ناپاک طبقے سے ہی بگڑتا ہے۔ کنز اصطلاح شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ ادا کی جاتی ہو۔ حضرت ابن عمر سے یہی مروی ہے بلکہ فرماتے ہیں جس مال کی زکوٰۃ دے دی جاتی ہو وہ اگر ساتویں زمین تلے بھی ہو تو وہ کنز نہیں اور جس کی زکوٰۃ نہ دی جاتی ہو وہ گو زمین پر ظاہر پھیلا پڑا ہو کنز ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حضرت جابر ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی موقوفاً اور مرفوعاً یہی مروی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں بغیر زکوٰۃ کے مال سے اس مالدار کو داغا جائے گا۔ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ یہ زکوٰۃ کے اترنے سے پہلے تھا زکوٰۃ کا حکم نازل فرما کر اللہ نے اسے مال کی طہارت بنادیا۔ خلیفہ برحق حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ اور عراک بن مالک نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اسے قول ربانی (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ01003) 9۔ التوبہ :103) نے منسوخ کردیا ہے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ تلواروں کا زیور بھی کنز یعنی خزانہ ہے۔ یاد رکھو میں تمہیں وہی سناتا ہوں جو میں نے جناب پیغمبر حق ﷺ سے سنا ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ چار ہزار اور اس سے کم تو نفقہ ہے اور اس سے زیاہ کنز ہے۔ لیکن یہ قول غریب ہے۔ مال کی کثرت کی مذمت اور کمی کی مدحت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں بطور نمونے کے ہم بھی یہاں ان میں سے چند نقل کرتے ہیں۔ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سونے چاندی والوں کے لئے ہلاکت ہے تین مرتبہ آپ کا یہی فرمان سن کر صحابہ پر شاق گذرا اور انہوں نے سوال کیا کہ پھر ہم کس قسم کا مال رکھیں ؟ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے یہ حالت بیان کر کے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور دین کے کاموں میں مدد دینے والی بیوی۔ مسند احمد میں ہے کہ سونے چاندی کی مذمت کی یہ آیت جب اتری اور صحابہ نے آپس میں چرچا کیا تو حضرت عمر ؓ نے کہا لو میں حضور ﷺ سے دریافت کر آتا ہوں اپنی سواری تیز کر کے رسول ﷺ سے جا ملے اور روایت میں ہے کہ صحابہ ؓ نے کہا پھر ہم اپنی اولادوں کے لئے کیا چھوڑ جائیں ؟ اس میں ہے کہ حضرت عمر کے پیچھے ہی پیچھے حضرت ثوبان بھی تھے۔ آپ نے حضرت عمر ؓ کے سوال پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لئے مقرر فرمائی ہے کہ بعد کا مال پاک ہوجائے۔ میراث کے مقرر کرنے کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں حضرت عمر ؓ یہ سن کر مارے خوشی کے تکبیریں کہنے لگے۔ آپ نے فرمایا لو اور سنو میں تمہیں بہترین خزانہ بتاؤں نیک عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف نظر ڈالے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے فوراً بجا لائے اور جب وہ موجود نہ ہو تو اس کی ناموس کی حفاظت کرے۔ حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ حضرت شداد بن اوس ؓ ایک سفر میں تھے ایک منزل میں اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں مجھے برا معلوم ہو آپ نے افسوس ظاہر کیا اور فرمایا میں نے تو اسلام کے بعد سے اب تک ایسی بےاحتیاطی کی بات کبھی نہیں کی تھی اب تم اسے بھول جاؤ اور ایک حدیث بیان کرتا ہوں اسے یاد رکھو لو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب لوگ سونا چاندی جمع کرنے لگیں تم ان کلمات کو بکثرت کہا کرو۔ اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر والعزیمۃ علی الرشد واسئلک شکر نعمتک واسئلک حسن عبادتک واسئلک قلبا سلیما واسئلک لسانا صادقا واسئلک من خیر ماتعلم واعوذبک من شرماتعلم واستغفرک لما تعلم انک انت علام الغیوب (ترجمہ) یعنی یا اللہ میں تجھ سے کام کی ثابت قدمی اور بھلائیوں کی پختگی اور تیری نعمتوں کا شکر اور تیری عبادتوں کی اچھائی اور سلامتی والا دل اور سچی زبان اور تیرے علم میں جو بھلائی ہے وہ اور تیرے علم میں جو برائی ہے اس کی پناہ اور جن برائیوں کو تو جانتا ہے ان سے استغفار طلب کرتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ تو تمام غیب جاننے والا ہے۔ آیت میں بیان ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ نہ کرنے والے اور اسے بچا بچا کر رکھنے والے درد ناک عذاب دیئے جائیں گے۔ قیامت کے دن اسی مال کو خوب تپا کر گرم آگ جیسا کر کے اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور کمر داغی جائے گی اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ان سے فرمایا جائے گا کہ لو اپنی جمع جتھا کا مزہ چکھو۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ گرم پانی کا تریڑ دوزخیوں کے سروں پر بہاؤ اور ان سے کہو کہ عذاب کا لطف اٹھاؤ تم بڑے ذی عزت اور بزرگ سمجھے جاتے رہے ہو بدلہ اس کا یہ ہے۔ ثابت ہوا کہ جو شخص جس چیز کو محبوب بنا کر اللہ کی اطاعت سے اسے مقدم رکھے گا اسی کے ساتھ اسے عذاب ہوگا۔ ان مالداروں نے مال کی محبت میں اللہ کے فرمان کو بھلا دیا تھا آج اسی مال سے انہیں سزا دی جا رہی ہے جیسے کہ ابو لہب کھلم کھلا حضور ﷺ کی دشمنی کرتا تھا اور اس کی بیوی اس کی مدد کرتی تھی قیامت کے دن آگ کے اور بھڑکانے کے لئے وہ اپنے گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں لا لا کر اسے سلگائے گی اور وہ اس میں جلتا رہے گا۔ یہ مال جو یہاں سے سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں یہی مال قیامت کے دن سب سے زیادہ مضر ثابت ہوں گے۔ اسی کو گرم کر کے اس سے داغ دیئے جائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایسے مالداروں کے جسم اتنے لمبے چوڑے کردیئے جائیں گے کہ ایک ایک دینار و درہم اس پر آجائے پھر کل مال آگ جیسا بنا کر علیحدہ علیحدہ کر کے سارے جسم پر پھیلا دیا جائے گا یہ نہیں ایک کے بعد ایک داغ لگے۔ بلکہ ایک ساتھ سب کے سب۔ مرفوعاً بھی یہ روایت آئی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اس کا مال ایک اژدھا بن کر اس کے پیچھے لگے جو عضو سامنے آجائے گا اسی کو چبا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو اپنے بعد خزانہ چھوڑا جائے اس کا وہ خزانہ قیامت کے دن زہریلا اژدھا بن کر جس کی آنکھوں پر نقطے ہوں گے اس کے پیچھے لگے گا یہ بھاگتا ہوا پوچھے گا کہ تو کون ہے ؟ وہ کہے گا تیرا جمع کردہ اور مرنے کے بعد چھوڑا ہوا خزانہ۔ آخر اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے اس کا مال قیامت کے دن آگ کی تختیوں جیسا بنادیا جائے گا اور اس سے اس کی پیشانی پہلو اور کمر داغی جائے گی۔ پچاس ہزار سال تک لوگوں کے فیصلے ہوجانے تک تو اس کا یہی حال رہے گا پھر اسے اس کی منزل کی راہ دکھا دی جائے گی جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ امام بخاری اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زید بن وہب حضرت ابوذر ؓ سے ربذہ میں ملے اور دریافت کیا کہ تم یہاں کیسے آگئے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہم شام میں تھے وہاں میں نے (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 34ۙ) 9۔ التوبہ :34) کی تلاوت کی تو حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے۔ میں نے کہا ہماری اور ان کے سب کے حق میں ہے۔ اس میں میرا ان کا اختلاف ہوگیا انہوں نے میری شکایت کا خط دربار عثمانی میں لکھا خلافت کا فرمان میرے نام آیا کہ تم یہاں چلے آؤ جب مدینے پہنچا تو چاروں طرف سے مجھے لوگوں نے گھیر لیا۔ اس طرح بھیڑ لگ گئی کہ گویا انہوں نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہی نہ تھا۔ غرض میں مدینے میں ٹھہرا لیکن لوگوں کی آمد و رفت سے تنگ آگیا۔ آخر میں نے حضرت عثمان ؓ سے شکایت کی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ تم مدینے کے قریب ہی کسی صحرا میں چلے جاؤ۔ میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی لیکن یہ کہہ دیا کہ واللہ جو میں کہتا تھا اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ بال بچوں کے کھلانے کے بعد جو بچے اسے جمع کر رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ اسی کا آپ فتویٰ دیتے تھے اور اسی کو لوگوں میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے تھے۔ اسی کا حکم دیتے تھے اور اس کے مخالف لوگوں پر بڑا ہی تشدد کرتے تھے۔ حضرت معاویہ نے آپ کو روکنا چاہا کہ کہیں لوگوں میں عام ضرر نہ پھیل جائے یہ نہ مانے تو آپ نے خلافت سے شکایت کی امیر المومنین نے انہیں بلا کر ربذہ میں تنہا رہنے کا حکم دیا آپ وہیں حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں ہی رحلت فرما گئے۔ حضرت معاویہ ؓ نے بطور امتحان ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ہزار اشرفیاں بھجوائیں آپ نے شام سے قبل سب ادھر ادھر راہ اللہ خرچ کر ڈالیں۔ شام کو وہی صاحب جو انہیں صبح کو ایک ہزار اشرفیاں دے گئے تھے وہ آئے اور کہا مجھ سے غلطی ہوگئی امیر معاویہ ؓ نے وہ اشرفیاں اور صاحب کے لئے بھجوائی تھیں میں نے غلطی سے آپ کو دے دیں وہ واپس کیجئے آپ نے فرمایا تم پر آفرین ہے میرے پاس تو اب ان میں سے ایک پائی بھی نہیں اچھا جب میرا مال آجائے گا تو میں آپ کو آپ کی اشرفیاں واپس کر دوں گا۔ ابن عباس بھی اس آیت کا حکم عام بتاتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ آیت اہل قبلہ کے بارے میں ہے۔ احنف بن قیس فرماتے ہیں میں مدینے میں آیا دیکھا کہ قریشیوں کی ایک جماعت محفل لگائے بیٹھی ہے میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا کہ ایک صاحب تشریف لائے میلے کچیلے موٹے جھوٹے کپڑے پہنے ہوئے بہت خستہ حالت میں اور آتے ہی کھڑے ہو کر فرمانے لگے روپیہ پیسہ جمع کرنے والے اس سے خبردار رہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے انگارے ان کی چھاتی کی بٹنی پر رکھے جائیں گے جو کھوے کی ہڈی کے پار ہوجائیں گے پھر پیچھے کی طرف سے آگے کو سوراخ کرتے اور جلاتے ہوئے نکل جائیں گے سب لوگ سر نیچا کئے بیٹھے رہے کوئی بھی کچھ نہ بولا وہ بھی مڑ کر چل دیئے اور ایک ستون سے لگ کر بیٹھ گئے میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ میرے خیال میں تو ان لوگوں کو آپ کی بات بری لگی آپ نے فرمایا یہ کچھ نہیں جانتے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا کہ میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوتی کہ تین دن گذرنے کے بعد میرے پاس اس میں سے کچھ بھی بچا ہوا رہے ہاں اگر قرض کی ادائیگی کے لئے میں کچھ رکھ لوں تو اور بات ہے۔ غالباً اسی حدیث کی وجہ سے حضرت ابوذر ؓ کا یہ مذہب تھا۔ جو آپ نے اوپر پڑھا واللہ اعلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابوذر ؓ کو ان کا حصہ ملا آپ کی لونڈی نے اسی وقت ضروریات فراہم کرنا شروع کیا۔ سامان کی خرید کے بعد سات درہم بچ رہے حکم دیا کہ اس کے فلوس لے لو تو حضرت عبداللہ بن صامت ؓ نے فرمایا اسے آپ اپنے پاس رہنے دیجئے تاکہ بوقت ضرور کام نکل جائے یا کوئی مہمان آجائے تو کام نہ اٹکے آپ نے فرمایا نہیں مجھ سے میرے خلیل ﷺ نے عہد لیا ہے کہ جو سونا چاندی سربند کر کے رکھی جائے وہ رکھنے والے کے لئے آگ کا انگارا ہے جب تک کہ اسے راہ اللہ نہ دے دے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت ابو سعید ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے فقیر بن کر مل غنی بن کر نہ مل۔ انہوں نے پوچھا یہ کس طرح ؟ فرمایا سائل کو رد نہ کر جو ملے اسے چھپا نہ رکھ انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکے گا آپ نے فرمایا یہی ہے ورنہ آگ ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ اہل صفہ میں ایک صاحب کا انتقال ہوگیا وہ دینار یا دو درہم پس انداز کئے ہوئے نکلے آپ نے فرمایا یہ آگ کے دو داغ ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کے جنازے کی نماز پڑھ لو اور روایت میں ہے کہ ایک اہل صفہ کے انتقال کے بعد ان کی تہبند کی آنٹی میں سے ایک دینار نکلا آپ نے فرمایا ایک داغ آگ کا پھر دوسرے کا انتقال ہوا ان کے پاس سے دو دینار برآمد ہوئے۔ آپ نے فرمایا یہ دو داغ آگ کے ہیں فرماتے ہیں جو لوگ سرخ وسفید یعنی سونا چاندی چھوڑ کر مرے ایک ایک قیراط کے بدلے، ایک ایک تختی آگ کی بنائی جائے گی اور اس کے قدم سے لے کر ٹھوڑی تک اس کے جسم میں اس آگ سے داغ کئے جائیں گے۔ آپ کا فرمان ہے کہ جس نے دینار سے دینار اور درہم سے درہم ملا کر جمع کر کے رکھ چھوڑا اس کی کھال کشادہ کر کے پیشانی اور پہلو اور کمر پر اس سے داغ دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے جسے تم اپنی جانوں کے لئے خزانہ بناتے رہے اب اس کا بدلہ چکھو اس کا راوی ضعیف کذاب و متروک ہے۔
35
View Single
يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ
The day when it will be heated in the fire of hell, and their foreheads and their sides and their backs will be branded with them; “Here is what you hoarded for yourselves; so now taste the joy of your hoarding!”
جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور ان سے کہا جائے گا) کہ یہ وہی (مال) ہے جو تم نے اپنی جانوں (کے مفاد) کے لئے جمع کیا تھا سو تم (اس مال کا) مزہ چکھو جسے تم جمع کرتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Warning against Corrupt Scholars and Misguided Worshippers
As-Suddi said that the Ahbar are Jewish rabbis, while the Ruhban are Christian monks. This statement is true, for Ahbar are Jewish rabbis, just as Allah said,
لَوْلاَ يَنْهَـهُمُ الرَّبَّـنِيُّونَ وَالاٌّحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ الإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ
(Why do not the Ahbar (rabbis) and the religious learned men forbid them from uttering sinful words and eating unlawful things.) 5:63 The Ruhban are Christian monks or worshippers, while the `Qissisun' are their scholars. Allah said in another Ayah,
ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَاناً
(This is because among them, there are Qissisin and Ruhban...)5:82. This Ayah warns against corrupt scholars and misguided worshippers. Sufyan bin `Uyaynah said, "Those among our scholars who become corrupt are similar to the Jews, while those among our worshippers who become misguided are like Christians." An authentic Hadith declares,
«لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَذْوَ القُذَّةِ بِالْقُذَّة»
(You will follow the ways of those who were before you, step by step.) They asked, "Jews and Christians" He said,
«فَمَن»
؟ (Who else) In another narration, they asked, "Persia and Rome" He said,
«فَمَنِ النَّاسِ إِلَّا هَؤُلَاءِ؟»
(And who else if it was not them) These texts warn against imitating them in action and statement, for they, as Allah stated,
لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَـطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(devour the wealth of mankind in falsehood, and hinder (them) from the way of Allah.) They sell the religion in return for worldly gains, using their positions and status among people to illegally devour their property. For instance, the Jews were respected by the people of Jahiliyyah and collected gifts, taxes and presents from them. When Allah sent His Messenger , the Jews persisted in their misguidance, disbelief and rebellion, hoping to keep their status and position. However, Allah extinguished all this and took it away from them with the light of Prophethood and instead gave them disgrace and degradation, and they incurred the anger of Allah, the Exalted. Allah said next,
وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(and hinder (them) from the way of Allah.) Therefore, they illegally devour people's property and hinder them from following the truth. They also confuse truth with falsehood and pretend before their ignorant followers that they call to righteousness. The true reality is that they call to the Fire and will not find any helpers on the Day of Resurrection.
Torment of Those Who hoard Gold and Silver
Allah said,
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And those who hoard Kanz gold and silver and spend them not in the way of Allah, announce unto them a painful torment.) 9:34. This is the third category of leaders, for people rely on their scholars, worshippers and the wealthy among them. When these categories of people become corrupt, the society in general becomes corrupt. Ibn Al-Mubarak once said, "What corrupted the religion, except kings and wicked Ahbar and Ruhban." As for Kanz, it refers to the wealth on which Zakah has not been paid, according to Malik, who narrated this from `Abdullah bin Dinar from Ibn `Umar. Al-Bukhari recorded that Az-Zuhri said that Khalid bin Aslam said that `Abdullah bin `Umar said, "This was before Zakah was ordained. When Zakah was ordained, Allah made it a cleanser for wealth." `Umar bin `Abdul-`Aziz and `Irak bin Malik said that this Ayah was abrogated by Allah's statement,
خُذْ مِنْ أَمْوَلِهِمْ صَدَقَةً
(Take Sadaqah (alms) from their wealth) There are many Hadiths that admonish hoarding gold and silver. We will mention here some of these Hadiths. `Abdur-Razzaq recorded a Hadith from `Ali about Allah's statement,
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ
(And those who hoard up gold and silver...) `Ali said that the Prophet said,
« تَبًّا لِلذَّهَبٍ تَبًّا لِلْفِضَّة»
(Woe to gold! Woe to silver.) He repeated this statement thrice, and this Hadith was hard on the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, who said, "What type of wealth should we use" `Umar said, "I will find out for you," and he asked, "O Allah's Messenger! Your statement was hard for your Companions. They asked, `What wealth should we use"' The Prophet answered,
«لِسَانًا ذَاكِرًا وَقَلْبًا شَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى دِينِه»
(A remembering tongue, an appreciative heart and a wife that helps one of you implement his religion.) Allah's statement,
يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِى نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَـذَا مَا كَنَزْتُمْ لأَنفُسِكُمْ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ
(On the Day when that will be heated in the fire of Hell and with it will be branded their foreheads, their flanks, and their backs, (and it will be said unto them) "This is the treasure which you hoarded for yourselves. Now taste of what you used to hoard.") These words will be said to them as a way of admonishing, criticizing and mocking them. Allah also said;
ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ - ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ
(Then pour over his head the torment of boiling water. "Taste you (this)! Verily, you were (pretending to be) the mighty, the generous!") 44:48-49. There is a saying that goes, "He who covets a thing and prefers it to Allah's obedience, will be punished with it." Because hoarding money was better to these people than Allah's pleasure, they were punished with it. For instance, Abu Lahab, may Allah curse him, was especially active in defying the Messenger of Allah ﷺ, and his wife was helping him in this regard. Therefore, on the Day of Resurrection, she will help in punishing him, for there will be a twisted rope of palm fiber on her neck. She will be gathering wood from the Fire and throwing it on him so that his torment is made harder by the hand of someone whom he used to care for in this life. Likewise, money was precious to those who hoarded it in this life. Therefore, money will produce the worst harm for them in the Hereafter, when it will be heated in the Fire of Jahannam, whose heat is quiet sufficient, and their forehead, sides and back will be branded with it. Imam Abu Ja`far Ibn Jarir recorded that Thawban said that the Messenger of Allah ﷺ used to declare,
«مَنْ تَركَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقَرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ وَيَقُولُ: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي تَرَكْتَهُ بَعْدكَ وَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ فَيَقْضِمَهَا ثُمَّ يَتْبَعُهَا سَائِرَ جَسَدِه»
(Whoever leaves a treasure behind (on which he did not pay the Zakah), then on the Day of Resurrection his wealth will be made like a bald-headed poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will follow him, and he will say, `Woe to you! Who are you' The snake will say, `I am your treasure that you left behind,' and will keep following him until the man gives it his hand; the snake will devour it and then devour his whole body.) Ibn Hibban also collected this Hadith in his Sahih. Part of this Hadith was also collected in the Two Sahihs from Abu Hurayrah. In his Sahih, Muslim recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّار»
(Every man who does not pay the Zakah due on his money, then on the Day of Resurrection, his side, forehead and back will be branded with rods made of fire on a Day the length of which is fifty thousand years, until when the servants will be judged; that man will be shown his destination, either to Paradise or the Fire.) aIn the Tafsir of this Ayah, Al-Bukhari recorded that Zayd bin Wahb said, "I passed by Abu Dharr in the area of Rabadhah and asked him, `What made you reside in this area' He said, `We were in Ash-Sham when I recited this Ayah,
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(And those who hoard up gold and silver and spend them not in the way of Allah, announce unto them a painful torment.) Mu`awiyah said, `This Ayah is not about us, it is only about the People of the Book.' So I (Abu Dharr) said, `Rather, it is about us and them."
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصاریٰ کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 63) 5۔ المآئدہ :63) میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس۔ اس آیت میں کہا گیا (ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 82) 5۔ المآئدہ :82) آیت کا مقصود لوگوں کو بڑے علماء اور گمراہ صوفیوں اور عابدوں سے ہوشیار کرانا اور ڈرانا ہے۔ حضرت سفیان بن عینیہ ؒ فرماتے ہیں۔ ہمارے علماء میں سے وہی بگڑتے ہیں، جن میں کچھ نہ کچھ شائبہ یہودیت کا ہوتا ہے اور ہم مسلمانوں میں صوفیوں اور عابدوں میں سے وہی بگڑتے ہیں جن میں نصرانیت کا شائبہ ہوتا ہے۔ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ تم یقیناً اپنے سے پہلوں کی روش پر چل پڑو گے۔ ایسی پوری مشابہت ہوگی کہ ذرا بھی فرق نہ رہے گا لوگوں نے پوچھا کیا یہود و نصاریٰ کی روش پر ؟ آپ نے فرمایا ہاں انہی کی روش پر اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کی روش پر ؟ آپ نے فرمایا اور کون لوگ ہیں ؟ پس ان کے اقوال افعال کی مشابہت سے ہر ممکن بچنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ اس وجاہت سے ریاست و منصب حاصل کرنا اور اس وجاہت سے لوگوں کا مال غصب کرنا چاہتے ہیں۔ احبار یہود کو زمانہ جاہلیت میں بڑا ہی رسوخ حاصل تھا۔ ان کے تحفے، ہدیئے، خراج، چراغی مقرر تھی جو بغیر مانگے انہیں پہنچ جاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے بعد اسی طمع نے انہیں قبول اسلام سے روکا۔ لیکن حق کے مقابلے کی وجہ سے اس طرف سے بھی کورے رہے اور آخرت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ ذلت و حقارت ان پر برس پڑی اور غضب الٰہی میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہوگئے۔ یہ حرام خور جماعت خود حق سے رک کر اوروں کے بھی درپے رہتی تھی حق کو باطل سے خلط ملط کر کے لوگوں کو بھی راہ حق سے روک دیتے تھے۔ جاہلوں میں بیٹھ کر گپ ہانکتے کہ ہم لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے ہیں حالانکہ یہ صریح دھوکہ ہے وہ تو جہنم کی طرف بلانے والے ہیں قیامت کے دن یہ بےیارو مددگار چھوڑ دیئے جائیں گے۔ عالموں اور صوفیوں یعنی واعظوں اور عابدوں کا ذکر کرنے کے بعد اب امیروں دولت مندوں اور رئیسوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جس طرح یہ دونوں طبقے اپنے اندر بدترین لوگوں کو بھی رکھتے ہیں ایسے ہی اس تیسرے طبقے میں بھی شریر النفس لوگ ہوتے ہیں عموماً انہی تین طبقے کے لوگوں کا عوام پر اثر ہوتا ہے عوام کی کثیر تعداد ان کے ساتھ بلکہ ان کے پیچھے ہوتی ہیں پس ان کا بگڑنا گویا مذہبی دنیا کا ستیاناس ہونا ہے جیسے کہ حضرت ابن المبارک ؒ کہتے ہیں۔ وھل افسدالدین الا الملوک واحبار سوء ورھبانھا یعنی دین واعظوں، عالموں، صوفیوں اور درویشوں کے ناپاک طبقے سے ہی بگڑتا ہے۔ کنز اصطلاح شرع میں اس مال کو کہتے ہیں جس کی زکوٰۃ ادا کی جاتی ہو۔ حضرت ابن عمر سے یہی مروی ہے بلکہ فرماتے ہیں جس مال کی زکوٰۃ دے دی جاتی ہو وہ اگر ساتویں زمین تلے بھی ہو تو وہ کنز نہیں اور جس کی زکوٰۃ نہ دی جاتی ہو وہ گو زمین پر ظاہر پھیلا پڑا ہو کنز ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حضرت جابر ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی موقوفاً اور مرفوعاً یہی مروی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں بغیر زکوٰۃ کے مال سے اس مالدار کو داغا جائے گا۔ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ یہ زکوٰۃ کے اترنے سے پہلے تھا زکوٰۃ کا حکم نازل فرما کر اللہ نے اسے مال کی طہارت بنادیا۔ خلیفہ برحق حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ اور عراک بن مالک نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اسے قول ربانی (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ01003) 9۔ التوبہ :103) نے منسوخ کردیا ہے۔ حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ تلواروں کا زیور بھی کنز یعنی خزانہ ہے۔ یاد رکھو میں تمہیں وہی سناتا ہوں جو میں نے جناب پیغمبر حق ﷺ سے سنا ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ چار ہزار اور اس سے کم تو نفقہ ہے اور اس سے زیاہ کنز ہے۔ لیکن یہ قول غریب ہے۔ مال کی کثرت کی مذمت اور کمی کی مدحت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں بطور نمونے کے ہم بھی یہاں ان میں سے چند نقل کرتے ہیں۔ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سونے چاندی والوں کے لئے ہلاکت ہے تین مرتبہ آپ کا یہی فرمان سن کر صحابہ پر شاق گذرا اور انہوں نے سوال کیا کہ پھر ہم کس قسم کا مال رکھیں ؟ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے یہ حالت بیان کر کے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ذکر کرنے والی زبان شکر کرنے والا دل اور دین کے کاموں میں مدد دینے والی بیوی۔ مسند احمد میں ہے کہ سونے چاندی کی مذمت کی یہ آیت جب اتری اور صحابہ نے آپس میں چرچا کیا تو حضرت عمر ؓ نے کہا لو میں حضور ﷺ سے دریافت کر آتا ہوں اپنی سواری تیز کر کے رسول ﷺ سے جا ملے اور روایت میں ہے کہ صحابہ ؓ نے کہا پھر ہم اپنی اولادوں کے لئے کیا چھوڑ جائیں ؟ اس میں ہے کہ حضرت عمر کے پیچھے ہی پیچھے حضرت ثوبان بھی تھے۔ آپ نے حضرت عمر ؓ کے سوال پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لئے مقرر فرمائی ہے کہ بعد کا مال پاک ہوجائے۔ میراث کے مقرر کرنے کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں حضرت عمر ؓ یہ سن کر مارے خوشی کے تکبیریں کہنے لگے۔ آپ نے فرمایا لو اور سنو میں تمہیں بہترین خزانہ بتاؤں نیک عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف نظر ڈالے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے فوراً بجا لائے اور جب وہ موجود نہ ہو تو اس کی ناموس کی حفاظت کرے۔ حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ حضرت شداد بن اوس ؓ ایک سفر میں تھے ایک منزل میں اترے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ چھری لاؤ کھیلیں مجھے برا معلوم ہو آپ نے افسوس ظاہر کیا اور فرمایا میں نے تو اسلام کے بعد سے اب تک ایسی بےاحتیاطی کی بات کبھی نہیں کی تھی اب تم اسے بھول جاؤ اور ایک حدیث بیان کرتا ہوں اسے یاد رکھو لو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب لوگ سونا چاندی جمع کرنے لگیں تم ان کلمات کو بکثرت کہا کرو۔ اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر والعزیمۃ علی الرشد واسئلک شکر نعمتک واسئلک حسن عبادتک واسئلک قلبا سلیما واسئلک لسانا صادقا واسئلک من خیر ماتعلم واعوذبک من شرماتعلم واستغفرک لما تعلم انک انت علام الغیوب (ترجمہ) یعنی یا اللہ میں تجھ سے کام کی ثابت قدمی اور بھلائیوں کی پختگی اور تیری نعمتوں کا شکر اور تیری عبادتوں کی اچھائی اور سلامتی والا دل اور سچی زبان اور تیرے علم میں جو بھلائی ہے وہ اور تیرے علم میں جو برائی ہے اس کی پناہ اور جن برائیوں کو تو جانتا ہے ان سے استغفار طلب کرتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ تو تمام غیب جاننے والا ہے۔ آیت میں بیان ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ نہ کرنے والے اور اسے بچا بچا کر رکھنے والے درد ناک عذاب دیئے جائیں گے۔ قیامت کے دن اسی مال کو خوب تپا کر گرم آگ جیسا کر کے اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور کمر داغی جائے گی اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ان سے فرمایا جائے گا کہ لو اپنی جمع جتھا کا مزہ چکھو۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ گرم پانی کا تریڑ دوزخیوں کے سروں پر بہاؤ اور ان سے کہو کہ عذاب کا لطف اٹھاؤ تم بڑے ذی عزت اور بزرگ سمجھے جاتے رہے ہو بدلہ اس کا یہ ہے۔ ثابت ہوا کہ جو شخص جس چیز کو محبوب بنا کر اللہ کی اطاعت سے اسے مقدم رکھے گا اسی کے ساتھ اسے عذاب ہوگا۔ ان مالداروں نے مال کی محبت میں اللہ کے فرمان کو بھلا دیا تھا آج اسی مال سے انہیں سزا دی جا رہی ہے جیسے کہ ابو لہب کھلم کھلا حضور ﷺ کی دشمنی کرتا تھا اور اس کی بیوی اس کی مدد کرتی تھی قیامت کے دن آگ کے اور بھڑکانے کے لئے وہ اپنے گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں لا لا کر اسے سلگائے گی اور وہ اس میں جلتا رہے گا۔ یہ مال جو یہاں سے سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں یہی مال قیامت کے دن سب سے زیادہ مضر ثابت ہوں گے۔ اسی کو گرم کر کے اس سے داغ دیئے جائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ایسے مالداروں کے جسم اتنے لمبے چوڑے کردیئے جائیں گے کہ ایک ایک دینار و درہم اس پر آجائے پھر کل مال آگ جیسا بنا کر علیحدہ علیحدہ کر کے سارے جسم پر پھیلا دیا جائے گا یہ نہیں ایک کے بعد ایک داغ لگے۔ بلکہ ایک ساتھ سب کے سب۔ مرفوعاً بھی یہ روایت آئی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اس کا مال ایک اژدھا بن کر اس کے پیچھے لگے جو عضو سامنے آجائے گا اسی کو چبا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو اپنے بعد خزانہ چھوڑا جائے اس کا وہ خزانہ قیامت کے دن زہریلا اژدھا بن کر جس کی آنکھوں پر نقطے ہوں گے اس کے پیچھے لگے گا یہ بھاگتا ہوا پوچھے گا کہ تو کون ہے ؟ وہ کہے گا تیرا جمع کردہ اور مرنے کے بعد چھوڑا ہوا خزانہ۔ آخر اسے پکڑ لے گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے گا پھر باقی جسم بھی۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے اس کا مال قیامت کے دن آگ کی تختیوں جیسا بنادیا جائے گا اور اس سے اس کی پیشانی پہلو اور کمر داغی جائے گی۔ پچاس ہزار سال تک لوگوں کے فیصلے ہوجانے تک تو اس کا یہی حال رہے گا پھر اسے اس کی منزل کی راہ دکھا دی جائے گی جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ امام بخاری اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زید بن وہب حضرت ابوذر ؓ سے ربذہ میں ملے اور دریافت کیا کہ تم یہاں کیسے آگئے ہو ؟ آپ نے فرمایا ہم شام میں تھے وہاں میں نے (وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 34ۙ) 9۔ التوبہ :34) کی تلاوت کی تو حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے۔ میں نے کہا ہماری اور ان کے سب کے حق میں ہے۔ اس میں میرا ان کا اختلاف ہوگیا انہوں نے میری شکایت کا خط دربار عثمانی میں لکھا خلافت کا فرمان میرے نام آیا کہ تم یہاں چلے آؤ جب مدینے پہنچا تو چاروں طرف سے مجھے لوگوں نے گھیر لیا۔ اس طرح بھیڑ لگ گئی کہ گویا انہوں نے اس سے پہلے مجھے دیکھا ہی نہ تھا۔ غرض میں مدینے میں ٹھہرا لیکن لوگوں کی آمد و رفت سے تنگ آگیا۔ آخر میں نے حضرت عثمان ؓ سے شکایت کی تو آپ نے مجھے فرمایا کہ تم مدینے کے قریب ہی کسی صحرا میں چلے جاؤ۔ میں نے اس حکم کی بھی تعمیل کی لیکن یہ کہہ دیا کہ واللہ جو میں کہتا تھا اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ بال بچوں کے کھلانے کے بعد جو بچے اسے جمع کر رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ اسی کا آپ فتویٰ دیتے تھے اور اسی کو لوگوں میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو بھی اس پر آمادہ کرتے تھے۔ اسی کا حکم دیتے تھے اور اس کے مخالف لوگوں پر بڑا ہی تشدد کرتے تھے۔ حضرت معاویہ نے آپ کو روکنا چاہا کہ کہیں لوگوں میں عام ضرر نہ پھیل جائے یہ نہ مانے تو آپ نے خلافت سے شکایت کی امیر المومنین نے انہیں بلا کر ربذہ میں تنہا رہنے کا حکم دیا آپ وہیں حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں ہی رحلت فرما گئے۔ حضرت معاویہ ؓ نے بطور امتحان ایک مرتبہ ان کے پاس ایک ہزار اشرفیاں بھجوائیں آپ نے شام سے قبل سب ادھر ادھر راہ اللہ خرچ کر ڈالیں۔ شام کو وہی صاحب جو انہیں صبح کو ایک ہزار اشرفیاں دے گئے تھے وہ آئے اور کہا مجھ سے غلطی ہوگئی امیر معاویہ ؓ نے وہ اشرفیاں اور صاحب کے لئے بھجوائی تھیں میں نے غلطی سے آپ کو دے دیں وہ واپس کیجئے آپ نے فرمایا تم پر آفرین ہے میرے پاس تو اب ان میں سے ایک پائی بھی نہیں اچھا جب میرا مال آجائے گا تو میں آپ کو آپ کی اشرفیاں واپس کر دوں گا۔ ابن عباس بھی اس آیت کا حکم عام بتاتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ آیت اہل قبلہ کے بارے میں ہے۔ احنف بن قیس فرماتے ہیں میں مدینے میں آیا دیکھا کہ قریشیوں کی ایک جماعت محفل لگائے بیٹھی ہے میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا کہ ایک صاحب تشریف لائے میلے کچیلے موٹے جھوٹے کپڑے پہنے ہوئے بہت خستہ حالت میں اور آتے ہی کھڑے ہو کر فرمانے لگے روپیہ پیسہ جمع کرنے والے اس سے خبردار رہیں کہ قیامت کے دن جہنم کے انگارے ان کی چھاتی کی بٹنی پر رکھے جائیں گے جو کھوے کی ہڈی کے پار ہوجائیں گے پھر پیچھے کی طرف سے آگے کو سوراخ کرتے اور جلاتے ہوئے نکل جائیں گے سب لوگ سر نیچا کئے بیٹھے رہے کوئی بھی کچھ نہ بولا وہ بھی مڑ کر چل دیئے اور ایک ستون سے لگ کر بیٹھ گئے میں ان کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ میرے خیال میں تو ان لوگوں کو آپ کی بات بری لگی آپ نے فرمایا یہ کچھ نہیں جانتے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا کہ میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوتی کہ تین دن گذرنے کے بعد میرے پاس اس میں سے کچھ بھی بچا ہوا رہے ہاں اگر قرض کی ادائیگی کے لئے میں کچھ رکھ لوں تو اور بات ہے۔ غالباً اسی حدیث کی وجہ سے حضرت ابوذر ؓ کا یہ مذہب تھا۔ جو آپ نے اوپر پڑھا واللہ اعلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابوذر ؓ کو ان کا حصہ ملا آپ کی لونڈی نے اسی وقت ضروریات فراہم کرنا شروع کیا۔ سامان کی خرید کے بعد سات درہم بچ رہے حکم دیا کہ اس کے فلوس لے لو تو حضرت عبداللہ بن صامت ؓ نے فرمایا اسے آپ اپنے پاس رہنے دیجئے تاکہ بوقت ضرور کام نکل جائے یا کوئی مہمان آجائے تو کام نہ اٹکے آپ نے فرمایا نہیں مجھ سے میرے خلیل ﷺ نے عہد لیا ہے کہ جو سونا چاندی سربند کر کے رکھی جائے وہ رکھنے والے کے لئے آگ کا انگارا ہے جب تک کہ اسے راہ اللہ نہ دے دے۔ ابن عساکر میں ہے حضرت ابو سعید ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے فقیر بن کر مل غنی بن کر نہ مل۔ انہوں نے پوچھا یہ کس طرح ؟ فرمایا سائل کو رد نہ کر جو ملے اسے چھپا نہ رکھ انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکے گا آپ نے فرمایا یہی ہے ورنہ آگ ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ اہل صفہ میں ایک صاحب کا انتقال ہوگیا وہ دینار یا دو درہم پس انداز کئے ہوئے نکلے آپ نے فرمایا یہ آگ کے دو داغ ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کے جنازے کی نماز پڑھ لو اور روایت میں ہے کہ ایک اہل صفہ کے انتقال کے بعد ان کی تہبند کی آنٹی میں سے ایک دینار نکلا آپ نے فرمایا ایک داغ آگ کا پھر دوسرے کا انتقال ہوا ان کے پاس سے دو دینار برآمد ہوئے۔ آپ نے فرمایا یہ دو داغ آگ کے ہیں فرماتے ہیں جو لوگ سرخ وسفید یعنی سونا چاندی چھوڑ کر مرے ایک ایک قیراط کے بدلے، ایک ایک تختی آگ کی بنائی جائے گی اور اس کے قدم سے لے کر ٹھوڑی تک اس کے جسم میں اس آگ سے داغ کئے جائیں گے۔ آپ کا فرمان ہے کہ جس نے دینار سے دینار اور درہم سے درہم ملا کر جمع کر کے رکھ چھوڑا اس کی کھال کشادہ کر کے پیشانی اور پہلو اور کمر پر اس سے داغ دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا یہ ہے جسے تم اپنی جانوں کے لئے خزانہ بناتے رہے اب اس کا بدلہ چکھو اس کا راوی ضعیف کذاب و متروک ہے۔
36
View Single
إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرٗا فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٞۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَٰتِلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ كَآفَّةٗ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ كَآفَّةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ
Indeed the number of months before Allah is twelve – in the Book of Allah – since the day He created the heavens and the earth, of which four are sacred; this the straight religion; so do not wrong yourselves in those months; and constantly fight against the polytheists as they constantly fight against you; and know well that Allah is with the pious.
بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتۂ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا۔ ان میں سے چار مہینے (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا حساب ہے۔ سو تم ان مہینوں میں (اَز خود جنگ و قتال میں ملوث ہو کر) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا اور تم (بھی) تمام (محارِب) مشرکین سے اسی طرح (جوابی) جنگ کیا کرو جس طرح وہ سب (اکٹھے ہو کر) تم سب پر جنگ مسلط کرتے ہیں، اور جان لو کہ بے شک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Year consists of Twelve Months
Imam Ahmad recorded that Abu Bakrah said that the Prophet said in a speech during his Hajj,
«أَلَا إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعُةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَان»
ثم قال:
«أَيُّ يَوْمٍ هَذَا»
قلنا: الله ورسوله أعلم، فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه قال:
«أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ»
قلنا: بلى ثم قال:
«أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟»
قلنا: الله ورسوله أعلم، فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه قال:
«أَلَيْسَ ذَا الحِجَّةِ؟»
قلنا: بلى، ثم قال:
«أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟»
قلنا: الله ورسوله أعلم فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه قال:
«أَلَيْسَتِ الْبَلْدَةَ؟»
قلنا: بلى»
(The division of time has turned to its original form which was current when Allah created the heavens and the earth. The year is of twelve months, out of which four months are sacred: Three are in succession Dhul-Qa`dah, Dhul-Hijjah and Muharram, and (the fourth is) Rajab of (the tribe of) Mudar which comes between Jumada (Ath-Thaniyah) and Sha`ban." The Prophet then asked, (What is the day today') We said, "Allah and His Messenger know better. He kept quiet until we thought that he might give that day another name. He said (Isn't it the day of Nahr) We replied, "Yes." He further asked, (Which month is this) We again said, "Allah and His Messenger know better," and he kept quiet and made us think that he might give it another name. Then he said,(Isn't it the month of Dhul-Hijjah) We replied, "Yes." He asked, (What town is this) We said, "Allah and His Messenger know better," and he kept quiet until we thought that he might change its name. He asked, (Isn't this the (Sacred) Town) We said, "Yes." He said,
«فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا. وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ مَنْ يُبَلِّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَه»
(Verily! Your blood, property and honor are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this month of yours and in this city of yours. Verily, you will meet your Lord and He will question you about your actions. Behold! Do not revert to misguidance after me by striking the necks of one another. Have I conveyed It is incumbent upon those who are present to inform those who are absent, because those who are absent might comprehend (what I have said) better than some who are present.) Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. In a small book collected by Shaykh `Alam ad-Din As-Sakhawi, entitled, Al-Mashhur fi Asma' Al-Ayam wash-Shuhur, he mentioned that Muharram is so named because it is a sacred month. To me, it was so named to emphasize its sacredness. This is because the Arabs would switch it around. One year they would say it was a sacred month, the following year they would say that it was not. The author said, "...and Safar is so named because they used to leave their homes during that month for fighting and traveling. When saying `Safir' a place, it means to leave it... Rabi` Al-Awwal is called that because they used to do Irtiba` in it, that is to maintain one's property... and Rabi` Al-Akhir, was so named for the same reasons. Jumada is called that because the water would dry up (Jamud) then....They say Jumada Al-Uwla and Al-Awwal, or Jumada Al-Akhar or Al-Akhirah. Rajab comes from Tarjib, meaning to honor. Sha`ban because the tribes would separate and return to their homes. Ramadan was so named because of the severity of the Ramda' - that is - the heat, and they say that the branch Ramadat when it is thirsty...And the saying that it is a Name of Allah is a mistake, for there is no proof or support for that..."
The Sacred Months
Allah said,
مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ
(of them four are sacred). The Arabs used to consider these months sacred during the time of Jahiliyyah, except for a group of them called Al-Basl, who held eight months of the year to be sacred as way of exaggeration in religion. The Prophet said,
«ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَان»
(Three are in succession; Dhul-Qa`dah, Dhul-Hijjah and Muharram, and (the fourth is) Rajab of (the tribe of) Mudar which comes between Jumada (Ath-Thani) and Sha`ban). The Prophet said "Rajab of Mudar" to attest to the custom of Mudar, in saying that Rajab is the month that is between Jumada and Sha`ban, not as the tribe of Rabi`ah thought, that it is between Sha`ban and Shawwal, which is Ramadan in the present calendar. The four Sacred Months were made four, three in succession and one alone, so that the Hajj and `Umrah are performed with ease. Dhul-Qa`dah, the month before the Hajj month, was made sacred because they refrained from fighting during that month. Dhul-Hijjah, the next month, was made sacred because it is the month of Hajj, during which they performed Hajj rituals. Muharram, which comes next, was made sacred so that they are able to go back to their areas in safety after performing Hajj. Rajab, in the middle of the lunar year, was made sacred so that those coming from the farthest areas of Arabia are able to perform `Umrah and visit the House and then go back to their areas safely. Allah said next,
ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
(That is the right religion), that is the Straight Law, requiring implementing Allah's order concerning the months that He made sacred and their true count as it was originally written by Allah. Allah said,
فَلاَ تَظْلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ
(so wrong not yourselves therein) during these Sacred Months, for sin in them is worse than sin in other months. Likewise, sins in the Sacred City are written multiplied,
وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
(...and whoever inclines to evil actions therein (in Makkah) or to do wrong, him We shall cause to taste from a painful torment) 22:25. Similarly, sin in general is worse during the Sacred Months `Ali bin Abi Talhah narrated that Ibn `Abbas said, Allah's statement,
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ
(Verily, the number of months with Allah...), is connected to
فَلاَ تَظْلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ
(so wrong not yourselves therein), "In all (twelve) months. Allah then chose four out of these months and made them sacred, emphasizing their sanctity, making sinning in them greater, in addition to, multiplying rewards of righteous deeds during them." Qatadah said about Allah's statement,
فَلاَ تَظْلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ
(so wrong not yourselves therein), "Injustice during the Sacred Months is worse and graver than injustice in other months. Verily, injustice is always wrong, but Allah makes things graver than others as He will." He also said, "Allah has chosen some of His creation above others. He chose Messengers from angels and from men. He also chose His Speech above all speech, the Masajid above other areas of the earth, Ramadan and the Sacred Months above all months, Friday above the other days and Laylatul-Qadr (The Night of Decree) above all nights. Therefore, sanctify what Allah has sanctified, for doing so is the practice of people of understanding and comprehension."
Fighting in the Sacred Months
Allah said,
وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً
(and fight against the idolators collectively), all of you,
كَمَا يُقَـتِلُونَكُمْ كَآفَّةً
(as they fight against you collectively.), all of them,
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
(But know that Allah is with those who have Taqwa), and know that initiating battle during the Sacred Months is forbidden. Allah said in other Ayat,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللَّهِ وَلاَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ
(O you who believe! Violate not the sanctity of the symbols of Allah, nor of the sacred month.) 5:2,
الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَـتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ
(The Sacred Month is for the Sacred Month, and for the prohibited things, there is the law of equality (Qisas). Then whoever transgresses the prohibition against you, you transgress likewise against him) 2:194, and,
فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُواْ الْمُشْرِكِينَ
(Then when the Sacred Months have passed, kill the idolators...) 9:5. As for Allah's statement,
وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَـتِلُونَكُمْ كَآفَّةً
(And fight against the idolators collectively as they fight against you collectively), it includes permission for the believers to fight the idolators in the Sacred Month, if the idolators initiate hostilities therein. Allah said in other Ayat,
الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَـتُ قِصَاصٌ
(The Sacred Month is for the Sacred Month, and for the prohibited things, there is the law of equality (Qisas)) 2:194, and,
وَلاَ تُقَـتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَـتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِن قَـتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ
(And fight not with them at Al-Masjid Al-Haram, unless they (first) fight you there. But if they attack you, then kill them.) 2:191. As for the Messenger of Allah laying siege to At-Ta'if until the Sacred Month started, it was a continuation of the battle against Hawazin and their allies from Thaqif. They started the fighting and gathered their men for the purpose of conducting war. The Messenger of Allah marched to meet them and when they took refuge in At-Ta'if, the Prophet laid siege to them so that they descend from their forts, but they inflicted casualties on Muslims. The siege continued for about forty days, during which a Sacred Month began, and the siege continued for several days in that month. The Messenger broke the siege and went back (to Makkah). So fighting that carries over into it the Sacred Month is not the same as initiating warfare during it, Allah knows best.
احترام آدمیت کا منشور مسند احمد میں ہے کہ رسول مقبول صادق و مصدوق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج کے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ زمانہ گھوم پھر کر اپنی اصلیت پر آگیا ہے سال کے بارہ مہینے ہوا کرتے ہیں جن میں سے چار حرمت و ادب والے ہیں۔ تین پے درپے ذوالقعدہ ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب جو مضر کے ہاں ہے جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے پھر پوچھا یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے۔ آپ نے سکوت فرمایا ہم سمجھے کہ شاید آپ اس دن کا کوئی اور ہی نام رکھیں گے پھر پوچھا کیا یہ یوم النحر یعنی قربانی کا دن نہیں ؟ ہم نے کہا ہاں پھر پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ جانے اور اس کا رسول آپ نے پھر سکوت فرمایا یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ شاہد آپ اس مہینے کا نام کوئی اور رکھیں گے آپ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے کہا ہاں۔ پھر آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول ﷺ خوب جاننے والے ہیں ؟ آپ پھر خاموش ہو رہے اور ہمیں پھر خیال آنے لگا کہ شاید آپ کو اس کا کوئی اور ہی نام رکھنا ہے پھر فرمایا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے ؟ ہم نے کہا بیشک۔ آپ نے فرمایا یاد رکھو تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم میں آپس میں ایسی ہی حرمت والی ہیں جیسی حرمت و عزت تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں، تم ابھی ابھی اپنے رب سے ملاقات کرو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب لے گا سنو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن زدنی کرنے لگو بتاؤ کیا میں نے تبلیغ کردی ؟ سنو تم میں سے جو موجود ہیں انہیں چاہئے کہ جو موجود نہیں ان تک پہنچا دیں۔ بہت ممکن ہے کہ جسے وہ پہنچائے وہ ان بعض سے بھی زیادہ نگہداشت رکھنے والا ہو اور روایت میں ہے کہ وسط ایام تشریق میں منیٰ میں حجتہ الوداع کے خطبے کے موقعہ کا یہ ذکر ہے۔ ابو حرہ رقاشی کے چچا جو صحابی ہیں کہتے ہیں کہ اس خطبے کے وقت حضور ﷺ کی ناقہ کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور لوگوں کی بھیڑ کو روکے ہوئے تھا۔ آپ کے پہلے جملے کا یہ مطلب ہے کہ جو کمی بیشی تقدیم تاخیر مہینوں کی جاہلیت کے زمانے کے مشرک کرتے تھے وہ الٹ پلٹ کر اس وقت ٹھیک ہوگئی ہے جو مہینہ آج ہے وہی درحقیقت بھی ہے۔ جیسے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ یہ شہر ابتداء مخلوق سے باحرمت و باعزت ہے وہ آج بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک حرمت والا ہی رہے گا پس عربوں میں جو رواج پڑگیا تھا کہ ان کے اکثر حج ذی الحجہ کے مہینے میں نہیں ہوتے تھے اب کی مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے حج کے موقعہ پر یہ بات نہ تھی بلکہ حج اپنے ٹھیک مہینے پر تھا۔ بعض لوگ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ صدیق اکبر ؓ کا حج ذوالقعدہ میں ہوا لیکن یہ غور طلب قول ہے جیسے کہ ہم مع ثبوت بیان کریں گے (اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــــُٔــوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَيُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ ۭ زُيِّنَ لَهُمْ سُوْۗءُ اَعْمَالِهِمْ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 37) 9۔ التوبہ :37) کی تقسیر میں اس قول سے بھی زیادہ غرابت والا ایک قول بعض سلف کا یہ بھی ہے کہ اس سال یہود و نصاریٰ مسلمان سب کے حج کا دن اتفاق سے ایک ہی تھا یعنی عید الاضحیٰ کا دن۔ ٭ فصل ٭ شیخ علم الدین سخاوی نے اپنی کتاب المشہور فی اسماء الایام و المشہور میں لکھا ہے کہ محرم کے مہینے کو محرم اس کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس نام کی وجہ سے اس کی حرمت کی تاکید ہے اس لئے کہ عرب جاہلیت میں اسے بدل ڈالتے تھے کبھی حلال کر ڈالتے کبھی حرام کر ڈالتے۔ اس کی جمع محرمات حارم محاریم۔ صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں عموماً ان کے گھر خالی رہتے تھے کیونکہ یہ لڑائی بھڑائی اور سفر میں چل دیتے تھے۔ جب مکان خالی ہوجائے تو عرب کہتے ہیں صفر المکان اس کی جمع اصفار ہے جیسے جمل کی جمع اجمال ہے۔ ربیع الاول کے نام کا سبب یہ ہے کہ اس مہینہ میں ان کی اقامت ہوجاتی ہے ارتباع کہتے ہیں اقامت کو اس کی جمع اربعا ہے جیسے نصیب کی جمع انصبا اور جمع اس کی اربعہ ہے جیسے رغیف کی جمع ارغفہ ہے۔ ربیع الاخر کے مہینے کا نام رکھنا بھی اسی وجہ سے ہے۔ گویا یہ اقامت کا دوسرا مہینہ ہے۔ جمادی الاولی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں پانی جمع جاتا تھا ان کے حساب میں مہینے گردش نہیں کرتے یعنی ٹھیک ہر موسم پر ہی ہر مہینہ آتا تھا لیکن یہ بات کچھ جچتی نہیں اسلئے کہ جب ان مہینوں کا حساب چاند پر ہے تو ظاہر ہے کہ موسمی حالت ہر ماہ میں ہر سال یکساں نہیں رہے گی ہاں یہ ممکن ہے کہ اس مہینہ کا نام جس سال رکھا گیا ہو اس سال یہ مہینہ کڑکڑاتے ہوئے جاڑے میں آیا ہو اور پانی میں جمود ہوگیا ہو۔ چناچہ ایک شاعر نے یہی کہا ہے کہ جمادی کی سخت اندھیری راتیں جن میں کتا بھی بمشکل ایک آدھ مرتبہ ہی بھونک لیتا ہے اس کی جمع جمادیات ہے۔ جیسے حباری حباریات۔ یہ مذکر مونث دونوں طرح مستعمل ہے۔ جمادی الاول اور جمادی الاخر بھی کہا جاتا ہے۔ جمادی الاخری کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے گویا یہ پانی کے جم جانے کا دوسرا مہینہ ہے۔ رجب یہ ماخوذ ہے ترجیب سے، ترجیب کہتے ہیں تعظیم کو چونکہ یہ مہینہ عظمت و عزت والا ہے اس لئے اسے رجب کہتے ہیں اس کی جمع ارجاب رجاب اور رجبات ہے۔ شعبان کا نام شعبان اس لئے ہے کہ اس میں عرب لوگ لوٹ مار کے لئے ادھر ادھر متفرق ہوجاتے تھے۔ شعب کے معنی ہیں جدا جدا ہونا پس اس مہینے کا بھی یہی نام رکھ دیا گیا اس کی جمع شعابین شعبانات آتی ہے۔ رمضان کو رمضان اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اونٹینوں کے پاؤں بوجہ شدت گرما کے جلنے لگتے ہیں رمضت الفصال اس وقت کہتے ہیں جب اونٹنیوں کے بچے سخت پیاسے ہوں اس کی جمع رمضانات اور رماضین اور رامضہ آتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے یہ محض غلط اور ناقابل التفات قول ہے۔ میں کہتا ہوں اس بارے میں ایک حدیث بھی وارد ہوئی ہے لیکن وہ ضعیف ہے۔ میں نے کتاب الصیام کے شروع میں اس کا بیان کردیا ہے۔ شوال ماخوذ ہے شالت الابل سے یہ مہینہ اونٹوں کے مستیوں کا مہینہ تھا یہ دمیں اٹھا دیا کرتے تھے اس لئے اس مہینہ کا یہی نام ہوگیا اس کی جمع شواویل شواول شوالات آتی ہے۔ ذوالقعدہ یا ذوالقعدہ کا نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس ماہ میں عرب لوگ بیٹھ جایا کرتے تھے نہ لڑائی کے لئے نکلتے نہ کسی اور سفر کے لئے۔ اس کی جمع ذوات القعدہ ہے۔ ذوالحجہ کو ذوالحجہ بھی کہہ سکتے ہیں چونکہ اسی ماہ میں حج ہوتا تھا اس لئے اس کا یہ نام مقرر ہوگیا ہے۔ اس کی جمع ذوات الحجہ آتی ہے۔ یہ تو ان مہینوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ تھی۔ اب ہفتے کے سات دنوں کے نام اور ان ناموں کی جمع سنئے۔ اتوار کے دن کو یوم الاحد کہتے ہیں اس کی جمع احاد اوحاد اور وحود آتی ہے۔ پیر کے دن کو اثنین کہتے ہیں اس کی جمع اثانین آتی ہے۔ منگل کو ثلاثا کہتے ہیں یہ مذکر بھی بولا جاتا ہے اور مونث بھی اس کی جمع ثلاثات اور اثالث آتی ہے۔ بدھ کے دن کو اربعاء کہتے ہیں جمع اربعاوات اور ارابیع آتی ہے۔ جمعرات کو خمیس کہتے ہیں جمع اخمسہ اخامس آتی ہے۔ جمعہ کو جمعہ اور جمعہ اور جمعہ کہتے ہیں اس کی جمع جمع اور جماعات آتی ہے۔ سنیچر یعنی ہفتے کے دن کو سبت کہتے ہیں سبت کے معنی ہیں قطع کے چونکہ ہفتے کی دنوں کی گنتی یہیں پر ختم ہوجاتی ہے اس لئے اسے سبت کہتے ہیں۔ قدیم عربوں میں ہفتے کے دن کے نام یہ تھے اول، رھون، جبار، دبار، مونت، عروبہ، شبار۔ قدیم خالص عربوں کے اشعار کے عربوں میں دنوں کے نام پائے جاتے ہیں قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان بارہ ماہ میں چار حرمت والے ہیں۔ جاہلیت کے عرب بھی انہیں حرمت والے مانتے تھے لیکن بسل نامی ایک گروہ اپنے تشدد کی بنا پر آٹھ مہینوں کو حرمت والا خیال کرتے تھے۔ حضور ﷺ کے فرمان میں رجب کو قبیلہ مضر کی طرف اضافت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس مہینے کو وہ رجب مہینہ شمار کرتے تھے دراصل وہی رجب کا مہینہ عند اللہ بھی تھا۔ جو جمادی الاخر اور شعبان کے درمیان میں ہے۔ قبیلہ ربیعہ کے نزدیک رجب شعبان اور شوال کے درمیان کے مہینے کا یعنی رمضان کا نام تھا پس حضور ﷺ نے کھول دیا کہ حرمت والا رجب مضر کا ہے نہ کہ ربیعہ کا۔ ان چار ذی حرمت مہینوں میں سے تین پے درپے اس مصلحت سے ہیں کہ حاجی ذوالقعدہ کے مہینے میں نکلے تو اس وقت لڑائیاں مار پیٹ جنگ وجدال قتل و قتال بند ہو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوں پھر ذی الحجہ میں احکام حج کی ادائیگی امن وامان عمدگی اور شان سے ہوجائے پھر وہ ماہ محرم کی حرمت میں واپس گھر پہنچ جائے درمیانہ سال میں رجب کو حرمت والا بنانے کی غرض یہ ہے کہ زائرین اپنے طواف بیت اللہ کے شوق کو عمرے کی صورت میں ادا کرلیں گو دور دراز علاقوں والے ہوں وہ بھی مہینہ بھر میں آ مد و رفت کریں یہی اللہ کا سیدھا اور سچا دین ہے۔ پس اللہ کے فرمان کے مطابق تم ان پاک مہینوں کی حرمت کرو۔ ان میں خصوصیت کے ساتھ گناہوں سے بچو۔ اس لئے کہا اس میں گناہوں کی برائی اور بڑھ جاتی ہے جیسے کہ حرم شریف کا گناہ اور جگہ کے گناہ سے بڑھ جاتا ہے۔ فرمان ربانی ہے کہ جو حرم میں الحاد کا ارادہ کرے ہم اسے درد ناک عذاب دیں گے اسی طرح سے ان محترم مہینوں میں کیا ہوا گناہ اور دنوں میں کئے ہوئے گناہوں سے بڑھ جاتا ہے۔ اسی لئے حضرت امام شافعی اور علماء کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک ان مہینوں کے قتل کی دیت بھی سخت ہے اسی طرح حرم کے اندر قتل کی اور ذی محرم رشتے دار کے قتل کی بھی دیت سخت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں فیھن سے مراد سال بھر کے کل مہینے ہیں۔ پس ان کل مہینوں میں گناہوں سے بچو خصوصاً ان چار مہینوں میں کہ یہ حرمت والے ہیں ان کی بڑی عزت ہے ان میں گناہ سزا کے اعتبار سے اور نیکیاں اجر وثواب کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے کہ ان حرمت والے مہینوں کی سزا اور بوجھ بڑھ جاتا ہے گو ظلم ہر حال میں بری چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے جس امر کو چاہے بڑھا دے دیکھئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بھی پسند فرما لیا فرشتوں میں انسانوں میں اپنے رسول چن لئے اسیطرح کلام میں سے اپنے ذکر کو پسند فرما لیا اور زمین میں سے مسجدوں کو پسند فرما لیا اور مہینوں میں سے رمضان شریف کو اور ان چاروں مہینوں کو پسند فرما لیا اور دنوں میں سے جمعہ کے دن اور راتوں میں لیلتہ القدر کو پس تمہیں ان چیزوں کی عظمت کا لحاظ رکھنا چاہئے جنہیں اللہ نے عظمت دی ہے۔ امور کی تعظیم عقل مند اور فہیم لوگوں کے نزدیک اتنی ضروری ہے جتنی ان کی تعظیم اللہ تعالیٰ سبحانہ نے بتائی ہے۔ ان کی حرمت کا ادب نہ کرنا حرام ہے ان میں جو کام حرام ہیں انہیں حلال نہ کرلو جو حلال ہیں انہیں حرام نہ بنا لو جیسے کہ اہل شرک کرتے تھے یہ ان کے کفر میں زیادتی کی بات تھی۔ پھر فرمایا کہ تم سب کے سب کافروں سے جہاد کرتے رہو جیسے کہ وہ سب کے سب تم میں سے برسر جنگ ہیں۔ حرمت والے ان چار مہینوں میں جنگ کی ابتداء کرنا منسوخ یا محکم ہونے کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں پہلا تو یہ کہ یہ منسوخ ہے یہ قول زیادہ مشہور ہے اس آیت کے الفاظ پر غور کیجئے کہ پہلے تو فرمان ہوا کہ ان مہینوں میں ظلم نہ کرو پھر مشرکوں سے جنگ کرنے کا ذکر فرمایا۔ ظاہری الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم عام ہے حرمت کے مہینے بھی اس میں آگئے اگر یہ مہینے اس سے الگ ہوتے تو ان کے گذر جانے کی قید ساتھ ہی بیان ہوتی رسول اللہ ﷺ نے طائف کا محاصرہ ماہ ذوالقعدہ میں کیا تھا جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جیسے کہ بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ ہوازن قبیلے کی طرف ماہ شوال میں چلے جب ان کو ہزیمت ہوئی اور ان میں سے بچے ہوئے افراد بھاگ کر طائف میں پناہ گزین ہوئے تو آپ وہاں گئے اور چالیس دن تک محاصرہ رکھا پھر بغیر فتح کئے ہوئے وہاں سے واپس لوٹ آئے پس ثابت ہے کہ آپ نے حرمت والے مہینے میں محاصرہ کیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتداء کرنا حرام ہے اور ان مہینوں کی حرمت کا حکم منسوخ نہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ شعائر الہیہ کو اور حرمت والے مہینوں کو حلال نہ کیا کرو اور فرمان ہے حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں قصاص ہیں پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی ان سے ویسی ہی زیادتی کا بدلہ لو اور فرمان ہے (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 9۔ التوبہ :5) حرمت والے مہینوں کے گذر جانے کے بعد مشرکوں سے جہاد کرو۔ یہ پہلے بیان گذر چکا ہے کہ یہ ہر سال میں چار مہینے ہیں۔ نہ کہ تیسرے مہینے جو کہ دو قولوں میں سے ایک قول ہے۔ پھر فرمایا کہ تم سب مسلمان ان سے اسی طرح لڑو جیسے کہ وہ تم سے سب کے سب لڑتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اپنے پہلے سے جداگانہ ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ حکم بالکل نیا اور الگ ہو مسلمانوں کو رغبت دلانے اور انہیں جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے تو فرماتا ہے کہ جیسے تم سے جنگ کرنے کے لئے وہ مڈ بھیڑ آپس میں مل کر چاروں طرف سے ٹوٹ پڑتے ہیں تم بھی اپنے سب کلمہ گو اشخاص کو لے کر ان سے مقابلہ کرو یہ بھی ممکن ہے کہ اس جملے میں مسلمانوں کو حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کی رخصت دی ہو جبکہ حملہ ان کی طرف سے ہو۔ جیسے (اَلشَّهْرُ الْحَرَام بالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ۭ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ01904) 2۔ البقرة :194) میں ہے اور جیسے) وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ۭكَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ01901) 2۔ البقرة :191) میں بیان ہے کہ ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہاں لڑائی نہ کریں ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔ یہی جواب حرمت والے مہینے میں حضور ﷺ کے طائف کے محاصرے کا ہے کہ دراصل ہوازن اور ثقیف کے ساتھ جنگ کا یہ لڑائی تتمہ تھی انہوں نے ہی جنگ کی ابتداء کی تھی ادھر ادھر سے آپ کے مخالفین کو جمع کر کے لڑائی کی دعوت دی تھی پس حضور ﷺ نے ان کی طرف پیش قدمی کی یہ پیش قدمی بھی حرمت والے مہینے میں نہ تھی یہاں شکست کھا کر یہ لوگ طائف میں جا چھپے اور وہاں قلعہ بند ہوگئے آپ اس مرکز کو خالی کرانے کے لئے اور آگے بڑھے انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا یا مسلمانوں کی ایک جماعت کو قتل کر ڈالا ادھر محاصرہ جاری رہا منجنیق وغیرہ سے چالیس دن تک ان کو گھیرے رہے الغرض اس جنگ کی ابتداء حرمت والے مہینے میں نہیں ہوئی تھی لیکن جنگ نے طول کھینچا حرمت والا مہینہ بھی آگیا جب چند دن گذر گئے آپ نے محاصرہ ہٹا لیا پس جنگ کا جاری رکھنا اور چیز ہے اور جنگ کی ابتدء اور چیز ہے اس کی بہت سی نظیریں ہیں واللہ اعلم۔ اب اس میں جو حدیثیں ہیں ہم انہیں وارد کرتے ہیں ہم انہیں سیرت میں بھی بیان کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم۔
37
View Single
إِنَّمَا ٱلنَّسِيٓءُ زِيَادَةٞ فِي ٱلۡكُفۡرِۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُحِلُّونَهُۥ عَامٗا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامٗا لِّيُوَاطِـُٔواْ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّواْ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُۚ زُيِّنَ لَهُمۡ سُوٓءُ أَعۡمَٰلِهِمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
Their postponing of the months is nothing but furtherance in disbelief – the disbelievers are misled by it – they decree it lawful in one year and regard it forbidden in another year, in order to equate to the number of the months which Allah has made sacred, and to make lawful what Allah has forbidden; their evil deeds seem good in their sight; and Allah does not guide the disbelievers.
(حرمت والے مہینوں کو) آگے پیچھے ہٹا دینا محض کفر میں زیادتی ہے اس سے وہ کافر لوگ بہکائے جاتے ہیں جو اسے ایک سال حلال گردانتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام ٹھہرا لیتے ہیں تاکہ ان (مہینوں) کا شمار پورا کر دیں جنہیں اللہ نے حرمت بخشی ہے اور اس (مہینے) کو حلال (بھی) کر دیں جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ ان کے لئے ان کے برے اعمال خوش نما بنا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافروں کے گروہ کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
Admonishing the Preference of Opinion in a Religious Matter
Allah admonishes the idolators for choosing their wicked opinions over Allah's Law. They changed Allah's legislation based upon their vain desires, allowing what Allah prohibited and prohibiting what Allah allowed. They thought that three consecutive sacred months were rather long for them to remain without fighting, for they were full of anger and rage. This is why before Islam they innovated a change in the Sacred Month of Muharram, delaying it to the month of Safar! Therefore, they allowed fighting in the Sacred Month and made the non-sacred month sacred, to make the Sacred Months in a year four, as Allah decided! `Ali bin Abi Talhah said that Ibn `Abbas commented on Allah's statement,
إِنَّمَا النَّسِىءُ زِيَادَةٌ فِى الْكُفْرِ
(The postponing (of a Sacred Month) is indeed an addition to disbelief), "Junadah bin `Awf bin Umayyah Al-Kinani, known as Abu Thumamah, used to attend the Hajj season every year and declare, `Abu Thumamah is never rejected nor refuted!,' and he used to treat Safar as sacred for people one year and un-sanctify Muharram and treat Muharram as sacred another year and un-sanctify Safar in that year. This is why Allah said,
إِنَّمَا النَّسِىءُ زِيَادَةٌ فِى الْكُفْرِ
(The postponing (of a Sacred Month) is indeed an addition to disbelief. ) nAllah says, `They allow Muharram one year and make it sacred another year."' Al-`Awfi narrated a similar statement from Ibn `Abbas. Layth bin Abi Sulaym narrated that Mujahid said, "There was a man from Bani Kinanah who would attend the Hajj season every year riding his donkey. He would proclaim, `O people! I am never rejected, denied or refuted in what I say. We made this coming Muharram sacred, and Safar not!' The following year he would come again and declare the same words then say, `We made this coming Safar sacred and delayed Muharram (revoked its sanctity).' This is the meaning of Allah's statement,
لِّيُوَاطِئُواْ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ
(in order to adjust the number of months forbidden by Allah), to four months. Allah says, `They allow what Allah disallowed by delaying the Sacred Month."' The idolators used to allow Muharram one year and sanctify Safar in its place. They would continue the months of the year according to their normal count and names. The next year they would sanctify Muharram and continue the year, Safar, Rabi`, until the end of the year.
يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِّيُوَاطِئُواْ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّواْ مَا حَرَّمَ اللَّهُ
(They make it lawful one year and forbid it another year in order to adjust the number of months forbidden by Allah, and make such forbidden ones lawful.) Therefore, they would still sanctify four months every year, but would one year sanctify the third from the three consecutive Sacred Months, Muharram, and postpone and delay it another year to Safar. In his book of Sirah, Imam Muhammad bin Ishaq presented a very useful beneficial discussion on this matter. He said; "The first to start the practice of overlooking the sanctity of months for the Arabs, thus allowing what Allah sanctified of them and sanctifying what Allah allowed of them, was "Al-Qalammas". He was Hudhayfah bin `Abd Fuqaym bin `Adi bin `Amr bin Tha`labah bin Al-Harith bin Malik bin Kinanah bin Khuzaymah bin Mudrikah bin Ilyas bin Mudar bin Nizar bin Ma`dd bin `Adnan. His son `Abbad maintained this practice, then after him his son Qala` bin `Abbad did the same, Then his son Umayyah bin Qala`, then his son `Awf bin Umayyah, then his son Abu Thumamah Junadah bin `Awf. He was the last one of his sons (to continue this practice) before Islam. The Arabs used to gather around him when Hajj finished, and he would stand and give them a speech in which he sanctifies Rajab, Dhul-Qa`dah and Dhul-Hijjah. He would defer the sanctity of Muharram to Safar one year and uphold its sanctity another year, so as to appear upholding the number (of Sacred Months) Allah made sacred. Therefore, he would allow what Allah prohibited and prohibit what Allah allowed." Allah knows best.
احکامات دین میں رد و بدل انتہائی مذموم سوچ ہے مشرکوں کے کفر کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کس طرح اپنی فاسد رائے کو اور اپنی ناپاک خواہش کو شریعت ربانی میں داخل کر کے اللہ کے دین کے احکام میں رد و بدل کردیتے تھے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنا لیتے تھے۔ تین مہینے کی حرمت کو تو ٹھیک رکھا پھر چوتھے مہینے محرم کی حرمت کو اس طرح بدل دیا کہ محرم کو صفر کے مہینے میں کردیا اور محرم کی حرمت نہ کی۔ تاکہ بظاہر سال کے چار مہینے کی حرمت بھی پوری ہوجائے اور اصلی حرمت کے مہینے محرم میں لوٹ مار قتل و غارت بھی ہوجائے اور اس پر اپنے قصیدوں میں مبالغہ کرتے تھے اور فخریہ اپنا یہ فعل اچھالتے تھے۔ ان کا ایک سردار تھا جنادہ بن عمرو بن امیہ کنانی یہ ہر سال حج کو آتا اس کی کنیت ابو ثمامہ تھی یہ منادی کردیتا کہ نہ تو ابو ثمامہ کے مقابلے میں کوئی آواز اٹھا سکتا ہے نہ اس کی بات میں کوئی عیب جوئی کرسکتا ہے سنو پہلے سال کا صفر مہینہ حلال ہے اور دوسرے سال کا حرام۔ پس ایک سال کے محرم کی حرمت نہ رکھتے دوسرے سال کے محرم کی حرمت منا لیتے۔ ان کی اسی زیادتی کفر کا بیان اس آیت میں ہے۔ یہ شخص اپنے گدھے پر سوار آتا اور جس سال یہ محرم کو حرمت والا بنا دیتا لوگ اس کی حرمت کرتے اور جس سال وہ کہہ دیتا کہ محرم کو ہم نے ہٹا کر صفر میں اور صفر کو آگے بڑھا کر محرم میں کردیا ہے اس سال عرب میں اس ماہ محرم کی حرمت کوئی نہ کرتا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بنی کنانہ کے اس شخص کو علمس کہا جاتا تھا یہ منادی کردیتا کہ اس سال محرم کی حرمت نہ منائی جائے اگلے سال محرم اور صفر دونوں کی حرمت رہے گی پس اس کے قول پر جاہلیت کے زمانے میں عمل کرلیا جاتا اور اب حرمت کے اصلی مہینے میں جس میں ایک انسان اپنے باپ کے قاتل کو پا کر بھی اس کی طرف نگاہ بھر کر نہیں دیکھتا تھا اب آزادی سے آپس میں خانہ جنگیاں اور لوٹ مار ہوتی۔ لیکن یہ قول کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا کیونکہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ گنتی میں وہ موافقت کرتے تھے اور اس صورت میں گنتی کی موافقت بھی نہیں ہوتی بلکہ ایک سال میں تین مہینے رہ جاتے ہیں اور دوسرے سال میں پانچ ماہ ہوجاتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کی طرف سے تو حج فرض تھا ذی الحجہ کے مہینے میں لیکن مشرک ذی الحجہ کا نام محرم رکھ لیتے پھر برابر گنتی گنتے جاتے اور اس حساب سے جو ذی الحجہ آتا اس میں حج ادا کرتے پھر محرم کے نام سے خاموشی برت لیتے اس کا ذکر ہی نہ کرتے پھر لوٹ کر صفر نام رکھ دیتے پھر رجب کو جمادی الاخر پھر شعبان کو رمضان اور رمضان کو شوال پھر ذوالقعدہ کو شوال ذی الحجہ کو ذی القعدہ اور محرم کو ذی الحجہ کہتے اور اس میں حج کرتے۔ پھر اس کا اعادہ کرتے اور دو سال تک ہر ایک مہینے میں برابر حج کرتے۔ جس سال حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حج کیا اس سال مشرکوں کی اس گنتی کے مطابق دوسرے برس کا ذوالقعدہ کا مہینہ تھا۔ آنحضور ﷺ نے حج کے موقعہ پر ٹھیک ذوالحجہ کا مہینہ تھا اور اسی کی طرف آپ نے اپنے خطبے میں اشارہ فرمایا اور ارشاد ہوا کہ زمانہ گھوم پھر کر اسی ہئیت پر آگیا ہے جس ہئیت پر اس وقت تھا جب زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے بنائے لیکن یہ قول بھی درست نہیں معلوم ہوتا۔ اس وجہ سے کہ اگر ذی القعدہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا حج ہوا تو یہ حج کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت واذان من اللہ و رسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر الخ،) یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے آج کے حج اکبر کے دن مشرکوں سے علیحدگی اور بیزاری کا اعلان ہے۔ اس کی منادی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حج میں ہی کی گئی پس اگر یہ حج ذی الحجہ کے مہینے میں نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو حج کا دن نہ فرماتا اور صرف مہینوں کی تقدیم و تاخیر کو جس کا بیان اس آیت میں ہے ثابت کرنے کے لئے اس تکلف کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ تو اس کے بغیر بھی ممکن ہے۔ کیونکہ مشرکین ایک سال تو محرم الحرام کے مہینے کو حلال کرلیتے اور اس کے عوض ماہ صفر کو حرمت والا کرلیتے سال کے باقی مہینے اپنی جگہ رہتے۔ پھر دوسرے محرم کو حرام سمجھتے اور اس کی حرمت و عزت باقی رکھتے تاکہ سال کے چار حرمت والے مہینے جو اللہ کی طرف سے مقرر تھے ان کی گنتی میں موافقت کرلیں پس کبھی تو حرمت والے تینوں مہینے جو پے درپے ہیں ان میں سے آخری ماہ محرم کی حرمت رکھتے کبھی اسے صفر کی طرف موخر کردیتے۔ رہا حضور ﷺ کا فرمان کہ زمانہ گھوم پھر کر اپنی اصلی حالت پر آگیا ہے یعنی اس وقت جو مہینہ ان کے نزدیک ہے وہی مہینہ صحیح گنتی میں بھی ہے اس کا پورا بیان ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں واللہ اعلم۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ عقبہ میں رسول اللہ ﷺ ٹھہرے مسلمان آپ کے پاس جمع ہوگئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی پوری حمد وثناء بیان فرما کر فرمایا کہ مہینوں کی تاخیر شیطان کی طرف سے کفر کی زیادتی تھی کہ کافر بہکیں۔ وہ ایک سال محرم کو حرمت والا کرتے اور صفر کو حلت والا پھر محرم کو حلت والا کرلیتے یہی ان کی وہ تقدیم تاخیر ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔ امام محمد بن اسحاق ؒ نے اپنی کتاب السیرت میں اس پر بہت اچھا کلام کیا ہے جو بیحد مفید اور عمدہ ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اس کام کو سب سے پہلے کرنے والا علمس حذیفہ بن عبید تھا۔ پھر قیم بن عدی بن عامر بن ثعلبہ بن حارث بن مالک بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔ پھر اس کا لڑکا عباد پھر اس کا لڑکا قلع پھر اس کا لڑکا امیہ پھر اس کا لڑکا عوف پھر اس کا لڑکا ابو ثمامہ جنادہ اسی کے زمانہ میں اشاعت اسلام ہوئی۔ عرب لوگ حج سے فارغ ہو کر اس کے پاس جمع ہوتے یہ کھڑا ہو کر انہیں لیکچر دیتا اور رجب ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کی حرمت بیان کرتا اور ایک سال تو محرم کو حلال کردیتا اور محرم صفر کو بنا دیتا اور ایک سال محرم کو ہی حرمت والا کہہ دیتا کہ اللہ کی حرمت کے مہینوں کی گنتی موافق ہوجائے اور اللہ کا حرام حلال بھی ہوجائے۔
38
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَا لَكُمۡ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلۡتُمۡ إِلَى ٱلۡأَرۡضِۚ أَرَضِيتُم بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا مِنَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ فَمَا مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
O People who Believe! What is the matter with you, that when it is said to you, “Migrate in Allah's cause”, you sit on the ground with heaviness? Have you preferred this worldly life over the Hereafter? And the wealth of the life of this world, in comparison with the Hereafter, is but only a little.
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین (کی مادی و سفلی دنیا) کی طرف جھک جاتے ہو، کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سے راضی ہو گئے ہو؟ سو آخرت (کے مقابلہ) میں دنیوی زندگی کا ساز و سامان کچھ بھی نہیں مگر بہت ہی کم (حیثیت رکھتا ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Admonishing clinging to Life rather than rushing to perform Jihad
Allah admonishes those who lagged behind the Messenger of Allah ﷺ in the battle of Tabuk, at a time when fruits were ripe and shades tempting in the intense and terrible heat,
يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ
(O you who believe! What is the matter with you, that when you are asked to march forth in the cause of Allah), if you are called to perform Jihad in the cause of Allah,
اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الاٌّرْضِ
(you cling heavily to the earth), reclining to remain in peace, shade and ripe fruits.
أَرَضِيتُم بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا مِنَ الاٌّخِرَةِ
(Are you pleased with the life of this world rather than the Hereafter), why do you do this, is it because you prefer this life instead of the Hereafter Allah next diminishes the eagerness for this worldly life and increases it for the Hereafter,
فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِى الاٌّخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ
(But little is the enjoyment of the life of this world compared to the Hereafter.) Imam Ahmad recorded that Al-Mustawrid, a member of Bani Fihr, said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ،فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ؟»
(The life of this world, compared to the Hereafter, is just like when one of you dips his finger in the sea, let him contemplate how much of it his finger would carry.) The Prophet pointed with his index finger. Muslim collected this Hadith. Ath-Thawri narrated that Al-A`mash said about the Ayah,
فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِى الاٌّخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ
(But little is the enjoyment of the life of this world compared to the Hereafter.) "What compares to the provision a traveler takes." `Abdul-`Aziz bin Abi Hazim narrated that his father said, "When `Abdul-`Aziz bin Marwan was dying he said, `Bring the shroud I will be covered with so that I inspect it.' When it was placed before him, he looked at it and said, `Is this what I will end up with from this life' He then turned his back and cried, while saying, `Woe to you, O life! Your abundance is truly little, your little is short lived, we were deceived by you."' Allah warns those who do not join Jihad,
إِلاَّ تَنفِرُواْ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
(If you march not forth, He will punish you with a painful torment) Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger ﷺ called some Arabs to mobilize, but they lagged behind and Allah witheld rain from coming down on them, and this was their torment." Allah said,
وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ
(and will replace you by another people), who will give aid to His Prophet and establish his religion. Allah said in another Ayah,
الْفُقَرَآءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ
(And if you turn away (from the obedience to Allah), He will exchange you for some other people and they will not be your likes.) 47:38
وَلاَ تَضُرُّوهُ شَيْئًا
(and you cannot harm Him at all), you can never harm Allah when you lag behind and stay away from joining Jihad,
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(and Allah is able to do all things.) He is able to destroy the enemies without your help.
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے۔ ایسے وقت رسول اللہ ﷺ ایک دور دراز کے سفر کے لئے تیار ہوگئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کے لئے سب سے فرما دیا کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں جو تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ کی راہ کے جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو۔ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں کی ہوس میں آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو ؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ حضور ﷺ نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت سے ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے کسی نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثبوات دیتا ہے آپ نے فرمایا بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے پھر آپ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ دنیا جو گذر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا زیادہ بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔ پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو حضور ﷺ نے جہاد کے لئے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں اترانا مت کہ ہم رسول ﷺ کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کا دوسرے لوگوں کو مددگار کر دے گا۔ جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کرسکتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41) 9۔ التوبہ :41) اور (مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ01200ۙ) 9۔ التوبہ :120) یہ سب آیتیں (وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ01202) 9۔ التوبہ :122) سے منسوخ ہیں لیکن امام ابن جریر ؒ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ ﷺ جہاد کے لئے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوجائیں فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
39
View Single
إِلَّا تَنفِرُواْ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا وَيَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيۡـٔٗاۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
If you do not migrate, He will afflict you with a painful punishment and bring other people in your stead and you will not be able to harm Him in the least; and Allah is Able to do all things.
اگر تم (جہاد کے لئے) نہ نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور تمہاری جگہ (کسی) اور قوم کو لے آئے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Admonishing clinging to Life rather than rushing to perform Jihad
Allah admonishes those who lagged behind the Messenger of Allah ﷺ in the battle of Tabuk, at a time when fruits were ripe and shades tempting in the intense and terrible heat,
يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ
(O you who believe! What is the matter with you, that when you are asked to march forth in the cause of Allah), if you are called to perform Jihad in the cause of Allah,
اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الاٌّرْضِ
(you cling heavily to the earth), reclining to remain in peace, shade and ripe fruits.
أَرَضِيتُم بِالْحَيَوةِ الدُّنْيَا مِنَ الاٌّخِرَةِ
(Are you pleased with the life of this world rather than the Hereafter), why do you do this, is it because you prefer this life instead of the Hereafter Allah next diminishes the eagerness for this worldly life and increases it for the Hereafter,
فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِى الاٌّخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ
(But little is the enjoyment of the life of this world compared to the Hereafter.) Imam Ahmad recorded that Al-Mustawrid, a member of Bani Fihr, said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ،فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ؟»
(The life of this world, compared to the Hereafter, is just like when one of you dips his finger in the sea, let him contemplate how much of it his finger would carry.) The Prophet pointed with his index finger. Muslim collected this Hadith. Ath-Thawri narrated that Al-A`mash said about the Ayah,
فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِى الاٌّخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ
(But little is the enjoyment of the life of this world compared to the Hereafter.) "What compares to the provision a traveler takes." `Abdul-`Aziz bin Abi Hazim narrated that his father said, "When `Abdul-`Aziz bin Marwan was dying he said, `Bring the shroud I will be covered with so that I inspect it.' When it was placed before him, he looked at it and said, `Is this what I will end up with from this life' He then turned his back and cried, while saying, `Woe to you, O life! Your abundance is truly little, your little is short lived, we were deceived by you."' Allah warns those who do not join Jihad,
إِلاَّ تَنفِرُواْ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
(If you march not forth, He will punish you with a painful torment) Ibn `Abbas said, "Allah's Messenger ﷺ called some Arabs to mobilize, but they lagged behind and Allah witheld rain from coming down on them, and this was their torment." Allah said,
وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ
(and will replace you by another people), who will give aid to His Prophet and establish his religion. Allah said in another Ayah,
الْفُقَرَآءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ
(And if you turn away (from the obedience to Allah), He will exchange you for some other people and they will not be your likes.) 47:38
وَلاَ تَضُرُّوهُ شَيْئًا
(and you cannot harm Him at all), you can never harm Allah when you lag behind and stay away from joining Jihad,
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(and Allah is able to do all things.) He is able to destroy the enemies without your help.
غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے۔ ایسے وقت رسول اللہ ﷺ ایک دور دراز کے سفر کے لئے تیار ہوگئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کے لئے سب سے فرما دیا کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں جو تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ کی راہ کے جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو۔ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں کی ہوس میں آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو ؟ سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ حضور ﷺ نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت سے ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے کسی نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثبوات دیتا ہے آپ نے فرمایا بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے پھر آپ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ دنیا جو گذر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا زیادہ بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔ پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو حضور ﷺ نے جہاد کے لئے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں اترانا مت کہ ہم رسول ﷺ کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کا دوسرے لوگوں کو مددگار کر دے گا۔ جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کرسکتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41) 9۔ التوبہ :41) اور (مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ01200ۙ) 9۔ التوبہ :120) یہ سب آیتیں (وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ01202) 9۔ التوبہ :122) سے منسوخ ہیں لیکن امام ابن جریر ؒ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ ﷺ جہاد کے لئے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوجائیں فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
40
View Single
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذۡ أَخۡرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ ٱثۡنَيۡنِ إِذۡ هُمَا فِي ٱلۡغَارِ إِذۡ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَاۖ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَيۡهِ وَأَيَّدَهُۥ بِجُنُودٖ لَّمۡ تَرَوۡهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلسُّفۡلَىٰۗ وَكَلِمَةُ ٱللَّهِ هِيَ ٱلۡعُلۡيَاۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
If you do not help him (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), Allah has helped him – when he had to go forth due to the mischief of the disbelievers, just as two men* – when they were in the cave, when he was saying to his companion “Do not grieve; indeed Allah is with us”; then Allah caused His calm to descend upon him and helped him with armies you did not see, and disgraced the word of the disbelievers; and Allah’s Word is supreme; and Allah is the Almighty, the Wise. (* The Holy Prophet migrated only with S. Abu Bakr (who later became the first caliph) as his sole companion.)
اگر تم ان کی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلبۂ اسلام کی جد و جہد میں) مدد نہ کرو گے (تو کیا ہوا) سو بیشک اللہ نے ان کو (اس وقت بھی) مدد سے نوازا تھا جب کافروں نے انہیں (وطنِ مکہ سے) نکال دیا تھا درآنحالیکہ وہ دو (ہجرت کرنے والوں) میں سے دوسرے تھے جبکہ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) غارِ (ثور) میں تھے جب وہ اپنے ساتھی (ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے فرما رہے تھے: غمزدہ نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس اللہ نے ان پر اپنی تسکین نازل فرما دی اور انہیں (فرشتوں کے) ایسے لشکروں کے ذریعہ قوت بخشی جنہیں تم نہ دیکھ سکے اور اس نے کافروں کی بات کو پست و فروتر کر دیا، اور اللہ کا فرمان تو (ہمیشہ) بلند و بالا ہی ہے، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah supports His Prophet
Allah said,
إِلاَّ تَنصُرُوهُ
(If you help him not), if you do not support His Prophet , then it does not matter, for Allah will help, support, suffice and protect him, just as He did,
إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ
(when the disbelievers drove him out, the second of the two;) During the year of the Hijrah, the idolators tried to kill, imprison or expel the Prophet , who escaped with his friend and Companion, Abu Bakr bin Abi Quhafah, to the cave of Thawr. They remained in the cave for three days so that the pagans who were sent in their pursuit, returned (to Makkah), and they proceed to Al-Madinah. While in the cave, Abu Bakr was afraid the pagans might discover them for fear that some harm might touch the Messenger ﷺ. The Prophet kept reassuring him and strengthening his resolve, saying,
«يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُكَ بِاثْنَينِ اللهُ ثَالِثُهُمَا»
(O Abu Bakr! What do you think about two, with Allah as their third) Imam Ahmad recorded from Anas that Abu Bakr said to him, "I said to the Prophet when we were in the cave, `If any of them looks down at his feet, he will see us.' He said,
«يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُكَ بِاثْنَينِ اللهُ ثَالِثُهُمَا»
(O Abu Bakr! What do you think about two with Allah as their third)" This is recorded in the Two Sahihs. This is why Allah said,
فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ
(Then Allah sent down His Sakinah upon him) sent His aid and triumph to His Messenger , or they say it refers to Abu Bakr,
وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا
(and strengthened him with forces which you saw not), the angels,
وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِىَ الْعُلْيَا
(and made the word of those who disbelieved the lowermost, while the Word of Allah that became the uppermost;) Ibn `Abbas commented, "'The word of those who disbelieved', is Shirk, while, `The Word of Allah' is `La ilaha illallah." It is recorded in the Two Sahihs that Abu Musa Al-Ash`ari said, "The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who fights because of courage, or out of rage for his honor, or to show off. Whom among them is in the cause of Allah' The Prophet said,
«مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ الله»
(He who fights so that Allah's Word is superior, then he fights in Allah's cause.)" Allah said next,
وَاللَّهُ عَزِيزٌ
(and Allah is All-Mighty), in His revenge and taking retribution, He is the Most Formidable and those who seek refuge with Him and take shelter by adhering to what He instructs are never made to suffer injustice,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in His statements and actions.
آغاز ہجرت تم اگر میرے رسول ﷺ کی امداد و تائید چھوڑ دو تو میں کسی کا محتاج نہیں ہوں۔ میں آپ اس کا ناصر موید کافی اور حافظ ہوں۔ یاد رکھو ہجرت والے سال جبکہ کافروں نے آپ کے قتل، قید یا دیس نکالا دینے کی سازش کی تھی اور آپ اپنے سچے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ تن تنہا مکہ شریف سے بحکم الٰہی تیز رفتاری سے نکلے تھے تو کون ان کا مددگار تھا ؟ تین دن غار میں گذارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ شریف کا راستہ لیں۔ صدیق اکبر ؓ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کو کوئی ایذاء پہنچائے۔ حضور ﷺ ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ابوبکر صدیق ؓ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابوبکر بن ابو قحافہ نے آنحضرت ﷺ سے غار میں کہا کہ اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا آپ نے فرمایا ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ ہے۔ الغرض اس موقعہ پر جناب باری سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی۔ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسکین نازل فرمائی۔ ابن عباس ؓ وغیرہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تو مطمئن اور سکون و تسکین والے تھے ہی لیکن اس خاص حال میں تسکین کا از سر نو بھیجنا کچھ اس کے خلاف نہیں۔ اسلئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا۔ شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا۔ حضور ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لئے۔ دوسرا حمیت قومی کے لئے، تیسرا لوگوں کو خشو کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو کلمہ حق کو بلند وبالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ راہ حق کا مجاہد ہے اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی روک سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے۔ کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے۔ اس کے سب اقوال افعال حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ۔
41
View Single
ٱنفِرُواْ خِفَافٗا وَثِقَالٗا وَجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
Migrate – whether willingly or with a heavy heart and fight in Allah's cause with your wealth and your lives; this is better for you, if you realise.
تم ہلکے اور گراں بار (ہر حال میں) نکل کھڑے ہو اور اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم (حقیقت) آشنا ہو
Tafsir Ibn Kathir
Jihad is required in all Conditions
Sufyan Ath-Thawri narrated from his father from Abu Ad-Duha, Muslim bin Subayh, who said, "This Ayah,
انْفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالاً
(March forth, whether you are light or heavy) was the first part to be revealed from Surah Bara'ah." Mu`tamir bin Sulayman narrated that his father said, "Hadrami claimed that he was told that some people used to declare that they will not gain sin (if they lag behind the forces of Jihad) because they are ill or old. This Ayah was revealed,
انْفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالاً
(March forth, whether you are light or heavy.)" Allah commanded mass mobilization together with the Messenger of Allah ﷺ for the battle of Tabuk, to fight the disbelieving, People of the Book, the Romans, Allah's enemies. Allah ordained that the believers all march forth with the Messenger ﷺ regardless whether they felt active, lazy, at ease or had difficult circumstances,
انْفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالاً
(March forth, whether you are light or heavy) `Ali bin Zayd narrated that Anas said that Abu Talhah commented (on this Ayah), "Whether you are old or young, Allah did not leave an excuse for anyone." Abu Talhah marched to Ash-Sham and fought until he was killed. In another narration, Abu Talhah recited Surah Bara'ah until he reached this Ayah,
انْفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالاً وَجَـهِدُواْ بِأَمْوَلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ
(March forth, whether you are light or heavy, and strive hard with your wealth and your lives in the cause of Allah.) He then said, "I see that Allah had called us to mobilize whether we are old or young. O my children! Prepare my supplies." His children said, `May Allah grant you His mercy! You conducted Jihad along with the Messenger of Allah ﷺ until he died, then with Abu Bakr until he died, then with `Umar until he died. Let us perform Jihad in your place." Abu Talhah refused and he went to the sea under the command of Mu`awiyah where he died. They could not find an island to bury him on until nine days later, during which his body did not deteriorate or change and they buried him on the island. As-Suddi said,
انْفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالاً
(March forth, whether you are light or heavy), whether you are rich, poor, strong, or weak. A man came forward, and he was fat, complained, and asked for permission to stay behind from Jihad, but the Prophet refused. Then this Ayah,
انْفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالاً
(March forth, whether you are light or heavy) was revealed, and it became hard on the people. So Allah abrogated it with this Ayah,
لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَلاَ عَلَى الْمَرْضَى وَلاَ عَلَى الَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ
r(There is no blame on those who are weak or ill or who find no resources to spend, if they are sincere and true (in duty) to Allah and His Messenger) 9:91." Ibn Jarir said that Hibban bin Zayd Ash-Shar`abi narrated to him, "We mobilized our forces with Safwan bin `Amr, who was the governor of Hims towards the city of Ephsos appointed to the Jerajima Christian expatriates (in Syria). I saw among the army an old, yet active man, whose eyebrows had sunk over his eyes (from old age), from the residents of Damascus, riding on his animal. I said to him, `O uncle! Allah has given you an excuse (to lag behind).' He said, `O my nephew! Allah has mobilized us whether we are light or heavy. Verily, those whom Allah loves, He tests them. Then to Allah is their return and eternal dwelling. Allah tests from His servants whoever thanks (Him) and observes patience and remembrance of Him, all the while worshipping Allah, the Exalted and Most Honored, and worshipping none else."' Next, Allah encourages spending in His cause and striving with one's life in His pleasure and the pleasure of His Messenger ,
وَجَـهِدُواْ بِأَمْوَلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(and strive hard with your wealth and your lives in the cause of Allah. This is better for you, if you but knew.) Allah says, this is better for you in this life and the Hereafter. You might spend small amounts, but Allah will reward you the property of your enemy in this life, as well as, the honor that He will keep for you in the Hereafter. The Prophet said,
«تَكَفَّلَ اللهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ إِنْ تَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَة»
(Allah promised the Mujahid in His cause that if He brings death to him, He will enter him into Paradise. Or, He will return him to his house with whatever reward and war spoils he earns.) So Allah said;
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(Jihad is ordained for you (Muslims) though you dislike it, and it may be that you dislike a thing which is good for you and that you like a thing which is bad for you. Allah knows but you do not know.)2:216 Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said to a man,
«أَسْلِم»
(Embrace Islam,) but the man said, "I dislike doing so." The Messenger ﷺ said,
«أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا»
(Embrace Islam even if you dislike it)."
جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے۔ کہتے ہیں کہ سورة براۃ میں یہی آیت پہلے اتری ہے اس میں ہے کہ غزوہ تبوک کے لئے تمام مسلمانوں کو ہادی امم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکل کھڑے ہونا چاہئے اہل کتاب رومیوں سے جہاد کے لئے تمام مومنوں کو چلنا چاہئے خواہ دل مانے یا نہ مانے خواہ آسانی نظر آئے یا طبیعت پر گراں گزرے۔ ذکر ہو رہا تھا کہ کوئی بڑھاپے کا کوئی بیمار کا عذر کر دے گا تو یہ آیت اتری۔ بوڑھے جوان سب کو پیغمبر کا ساتھ دینے کا عام حکم ہوا کسی کا کوئی عذر نہ چلا حضرت ابو طلحہ نے اس آیت کی یہی تفسیر کی اور اس حکم کی تعمیل میں سر زمین شام میں چلے گئے اور نصرانیوں سے جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ جان بخشنے والے اللہ کو اپنی جان سپرد کردی۔ ؓ وارضاء اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر آئے تو فرمانے لگے ہمارے رب نے تو میرے خیال سے بوڑھے جوان سب کو جہد کے لئے چلنے کی دعوت دی ہے میرے پیارے بچو میرا سامان تیار کرو۔ میں ملک شام کے جہاد میں شرکت کے لئے ضرور جاؤں گا بچوں نے کہا ابا جی حضور ﷺ کی حیات تک آپ نے حضور کی ماتحتی میں جہاد کیا۔ خلافت صدیقی میں آپ مجاہدین کے ساتھ رہے۔ خلافت فاروقی کے آپ مجاہد مشہور ہیں۔ اب آپ کی عمر جہاد کی نہیں رہی آپ گھر پر آرام کیجئے ہم لوگ آپ کی طرف سے میدان جہاد میں نکلتے ہیں اور اپنی تلوار کے جوہر دکھاتے ہیں لیکن آپ نہ مانے اور اسی وقت گھر سے روانہ ہوگئے سمندر پار جانے کے لئے کشتی لی اور چلے ہنوز منزل مقصود سے کئی دن کی راہ پر تھے جو سمندر کے عین درمیان روح پروردگار کو سونپ دی۔ نو دن تک کشتی چلتی رہی لیکن کوئی جزیرہ یا ٹاپو نظر نہ آیا کہ وہاں آپ کو دفنایا جاتا۔ نو دن کے بعد خشکی پر اترے اور آپ کو سپرد لحد کیا اب تک نعش مبارک جوں کی توں تھی ؓ وارضاہ اور بھی بہت سے بزرگوں سے خفافاً و ثقالاً کی تفسیر جوان اور بوڑھے مروی ہے۔ الغرض جوان ہوں، بوڑھے ہوں، امیر ہوں، فقیر ہوں، فارغ ہوں، مشغول ہوں، خوش حال ہوں یا تنگ دل ہوں، بھاری ہوں یا ہلکے ہوں، حاجت مند ہوں، کاری گر ہوں، آسانی والے ہوں سختی والے ہوں پیشہ ور ہوں یا تجارتی ہوں، قوی ہوں یا کمزور جس حالت میں بھی ہوں بلاعذر کھڑے ہوجائیں اور راہ حق کے جہاد کے لئے چل پڑیں۔ اس مسئلہ کی تفصیل کے طور پر ابو عمرو اوزاعی کا قول ہے کہ جب اندرون روم حملہ ہوا ہو تو مسلمان ہلکے پھلکے اور سوار چلیں۔ اور جب ان بندرگاہوں کے کناروں پر حملہ ہو تو ہلکے بوجھل سوار پیدل ہر طرح نکل کھڑے ہوجائیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ (فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ01202) 9۔ التوبہ :122) سے یہ حکم منسوخ ہے۔ اس پر ہم پوری روشنی ڈالیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ مروی ہے کہ ایک بھاری بدن کے بڑے شخص نے آپ سے اپنا حال ظاہر کر کے اجازت چاہی لیکن آپ نے انکار کردیا اور یہ آیت اتری۔ لیکن یہ حکم صحابہ پر سخت گذرا پھر جناب باری نے اسے (لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 91 ۙ) 9۔ التوبہ :91) سے منسوخ کردیا یعنی ضعیفوں بیماروں تنگ دست فقیروں پر جبکہ ان کے پاس خرچ تک نہ ہو اگر وہ اللہ کے دین اور شرع مصطفیٰ کے حامی اور طرف دار اور خیر خواہ ہوں تو میدان جنگ میں نہ جانے پر کوئی حرج نہیں۔ حضرت ایوب ؓ اول غزوے سے لے کر پوری عمر تک سوائے ایک سال کے ہر غزوے میں موجود رہے اور فرماتے رہے کہ خفیف وثقیل دونوں کو نکلنے کا حکم ہے اور انسان کی حالت ان دو حالتوں سے سوا نہیں ہوتی۔ حضرت ابو راشد حرانی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود سوار سرکار رسالت مآب کو حمص میں دیکھا کہ ہڈی اتر گئی ہے پھر بھی ہودج میں سوار ہو کر جہاد کو جا رہے ہیں تو میں نے کہا اب تو شریعت آپ کو معذور سمجھتی ہے آپ یہ تکلیف کیوں اٹھا رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا سنو سورة البعوث یعنی سورة برات ہمارے سامنے اتری ہے جس میں حکم ہے کہ ہلکے بھاری سب جہاد کو جاؤ۔ حضرت حیان بن زید شرعی کہتے ہیں کہ صفوان بن عمرو والی حمص کے ساتھ جراجمہ کی جانب جہاد کے لئے چلے، میں نے دمشق کے ایک عمر رسیدہ بزرگ کو دیکھا کہ حملہ کرنے والوں کے ساتھ اپنے اونٹ پر سوار وہ بھی آ رہے ہیں ان کی بھوئیں ان کی آنکھوں پر پڑ رہی ہیں شیخ فانی ہوچکے ہیں میں نے پاس جا کر کہا چچا صاحب آپ تو اب اللہ کے نزدیک بھی معذور ہیں یہ سن کر آپ نے اپنی آنکھوں پر سے بھوئیں ہٹائیں اور فرمایا بھتیجے سنو اللہ تعالیٰ نے ہلکے اور بھاری ہونے کی دونوں صورتوں میں ہم سے جہاد میں نکلنے کی طلب کی ہے۔ سنو جہاں اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے وہاں اس کی آزمائش بھی ہوتی ہے پھر اس پر بعد از ثابت قدمی اللہ کی رحمت برستی ہے۔ سنو اللہ کی آزمائش شکر و صبر و ذکر اللہ اور توحید خالص سے ہوتی ہے۔ جہاد کے حکم کے بعد مالک زمین و زماں اپنی راہ میں اپنے رسول کی مرضی میں مال و جان کے خرچ کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے۔ دنیوی نفع تو یہ ہے کہ تھوڑا سا خرچ ہوگا اور بہت سی غنیمت ملے گی آخرت کے نفع سے بڑھ کر کوئی نفع نہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے دو باتوں میں سے ایک ضروری ہے وہ مجاہد کو یا تو شہید کر کے جنت کا مالک بنا دیتا ہے یا اسے سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاتا ہے خود الہ العالمین کا فرمان عالی شان ہے کہ تم پر جہاد فرض کردیا گیا ہے باوجود یہ کہ تم اس سے کترا کھا رہے ہو۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ تمہاری نہ چاہی ہوئی چیز ہی دراصل تمہارے لئے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ تمہاری چاہت کی چیز فی الواقع تمہارے حق میں بیحد مضر ہو سنو تم تو بالکل نادان ہو اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دانا بینا ہے۔ حضور نے ایک شخص سے فرمایا مسلمان ہوجا اس نے کہا جی تو چاہتا نہیں آپ نے فرمایا گو نہ چاہے (مسند احمد)
42
View Single
لَوۡ كَانَ عَرَضٗا قَرِيبٗا وَسَفَرٗا قَاصِدٗا لَّٱتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنۢ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلشُّقَّةُۚ وَسَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَوِ ٱسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَكُمۡ يُهۡلِكُونَ أَنفُسَهُمۡ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
Had there been some wealth near at hand or a short journey, they would have certainly accompanied you, but the difficult path became very distant for them; and they will now swear by Allah that “Had we been able, we would have surely accompanied you”; they destroy their own souls; and Allah knows that undoubtedly, they are indeed liars.
اگر مالِ (غنیمت) قریب الحصول ہوتا اور (جہاد کا) سفر متوسط و آسان تو وہ (منافقین) یقیناً آپ کے پیچھے چل پڑتے لیکن (وہ) پُرمشقّت مسافت انہیں بہت دور دکھائی دی، اور (اب) وہ عنقریب اللہ کی قَسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے، وہ (ان جھوٹی باتوں سے) اپنے آپ کو (مزید) ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ واقعی جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Why Hypocrites would not join in Jihad
Allah admonishes those who lagged behind and did not join the Prophet for the battle of Tabuk, those who asked the Prophet for permission to remain behind, falsely pretending to have legitimate reasons to do so,
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا
(Had it been a near gain), booty right in front of them, according to Ibn `Abbas,
وَسَفَرًا قَاصِدًا
(and an easy journey), travel for only a short distance,
لاَّتَّبَعُوكَ
(they would have followed you.) But,
وَلَـكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ
(the distance was long for them), to Ash-Sham,
وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ
(and they would swear by Allah), when you return to them,
لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ
(If we only could, we would certainly have come forth with you), had not there been a valid excuse, we would have gone out with you,
يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(They destroy themselves, and Allah knows that they are liars.)
عیار لوگوں کو بےنقاب کردو جو لوگ غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے اور اس کے بعد حضور ﷺ کے پاس آ کر اپنے جھوٹے اور بناوٹی عذر پیش کرنے لگے تھے۔ انہیں اس آیت میں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دراصل انہیں کوئی معذوری نہ تھی اگر کوئی انسان غنیمت اور قریب کا سفر ہوتا تو یہ ساتھ ہو لیتے لیکن شام تک کے لمبے سفر نے ان کے گھٹنے توڑ دیئے اور مشقت کے خیال نے ان کے ایمان کمزور کردیئے۔ اب یہ آ کر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اللہ کے رسول ﷺ کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ اگر کوئی عذر نہ ہوتا تو بھلا ہم شرف ہم رکابی چھوڑنے والے تھے ؟ ہم تو جان و دل سے آپ کے قدموں میں حاضر ہوجاتے اللہ فرماتا ہے ان کے جھوٹ کا مجھے علم ہے انہوں نے تو اپنے آپ کو غارت کردیا۔
43
View Single
عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَتَعۡلَمَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
May Allah forgive you*; why did you permit them** until the truthful ones had been manifested to you and the liars been exposed? (* This is an expression of love for the Holy Prophet – peace and blessings be upon him. ** The hypocrites had been permitted to stay back from the holy war.)
اللہ آپ کو سلامت (اور باعزت و عافیت) رکھے، آپ نے انہیں رخصت (ہی) کیوں دی (کہ وہ شریکِ جنگ نہ ہوں) یہاں تک کہ وہ لوگ (بھی) آپ کے لئے ظاہر ہو جاتے جو سچ بول رہے تھے اور آپ جھوٹ بولنے والوں کو (بھی) معلوم فرما لیتے
Tafsir Ibn Kathir
Moderately criticizing the Prophet for allowing the Hypocrites to stay behind
Ibn Abi Hatim recorded that `Awn said, "Have you heard criticism softer than this, starting with forgiveness before criticism,
عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ
(May Allah forgive you. Why did you grant them leave...)" Muwarriq Al-`Ijli and others said similarly. Qatadah said, "Allah criticized him as you read here, then later revealed to him the permission to allow them to lag behind if he wants, in Surat An-Nur,
فَإِذَا اسْتَـْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ
(So if they ask your permission for some affairs of theirs, give permission to whom you will of them) 24:62." `Ata' Al-Khurasani said similarly. Mujahid said, "This Ayah was revealed about some people who said, `Ask permission from the Messenger of Allah ﷺ to stay behind, and whether he agrees, or disagrees, remain behind!"' Allah said,
حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُواْ
(...until those who told the truth were manifest to you), in reference to valid excuses,
وَتَعْلَمَ الْكَـذِبِينَ
(and you had known the liars) Allah says, `Why did you not refuse to give them permission to remain behind when they asked you, so that you know those who truly obey you and the liars, who were intent on remaining behind even if you do not give them permission to do so, Allah asserts that none who believe in Allah and His Messenger seek his permission to remain behind from fighting,
لاَ يَسْتَأْذِنُكَ
(would not ask your leave), to stay behind from Jihad,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ أَن يُجَـهِدُواْ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ
(Those who believe in Allah and the Last Day, to be exempted from fighting with their properties and their lives.) because they consider Jihad an act of worship. This is why when Allah called them to perform Jihad, they obeyed and hasten to act in His obedience,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَإِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ
(and Allah is the All-Knower of those who have Taqwa. Those who ask your leave), to remain behind, without a valid excuse,
الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(those who believe not in Allah and the Last Day), they do not hope for Allah's reward in the Hereafter for their good actions,
وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ
(and whose hearts are in doubt), about the validity of what you brought them,
فَهُمْ فِى رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ
(so in their doubts they waver.) They waver in doubt, taking one step forward and one step back. They do not have a firm stance in anything, for they are unsure and destroyed, neither belonging to these nor to those. Verily, those whom Allah misguides, will never find a way for themselves to guidance.
نہ ادھر کے نہ ادھر کے سبحان اللہ، اللہ کی اپنے محبوب سے کیسی باتیں ہو رہی ہیں ؟ سخت بات کے سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جاتا ہے اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورة نور میں کیا جاتا ہے اور ارشاد عالی ہوتا ہے (فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 62) 24۔ النور :62) یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ حضور ﷺ سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہوجائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تو بھی ہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے۔ نیک و بد میں ظاہری تمیز ہوجاتی۔ اطاعت گذار تو حاضر ہوجاتے۔ نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے۔ کیونکہ انہوں نے تو طے کرلیا تھا حضور ﷺ ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔ اسی لئے جناب باری نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ حق کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں وہ تو جہاد کو موجب قربت الہیہ مان کر اپنی جان و املاک کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بےایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت کے بارے میں شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوار نے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
44
View Single
لَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُتَّقِينَ
And those who believe in Allah and the Last Day will not seek exemption from you for not fighting with their wealth and their lives; and Allah well knows the pious.
وہ لوگ جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ سے (اس بات کی) رخصت طلب نہیں کریں گے کہ وہ اپنے مال و جان سے جہاد (نہ) کریں، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Moderately criticizing the Prophet for allowing the Hypocrites to stay behind
Ibn Abi Hatim recorded that `Awn said, "Have you heard criticism softer than this, starting with forgiveness before criticism,
عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ
(May Allah forgive you. Why did you grant them leave...)" Muwarriq Al-`Ijli and others said similarly. Qatadah said, "Allah criticized him as you read here, then later revealed to him the permission to allow them to lag behind if he wants, in Surat An-Nur,
فَإِذَا اسْتَـْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ
(So if they ask your permission for some affairs of theirs, give permission to whom you will of them) 24:62." `Ata' Al-Khurasani said similarly. Mujahid said, "This Ayah was revealed about some people who said, `Ask permission from the Messenger of Allah ﷺ to stay behind, and whether he agrees, or disagrees, remain behind!"' Allah said,
حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُواْ
(...until those who told the truth were manifest to you), in reference to valid excuses,
وَتَعْلَمَ الْكَـذِبِينَ
(and you had known the liars) Allah says, `Why did you not refuse to give them permission to remain behind when they asked you, so that you know those who truly obey you and the liars, who were intent on remaining behind even if you do not give them permission to do so, Allah asserts that none who believe in Allah and His Messenger seek his permission to remain behind from fighting,
لاَ يَسْتَأْذِنُكَ
(would not ask your leave), to stay behind from Jihad,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ أَن يُجَـهِدُواْ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ
(Those who believe in Allah and the Last Day, to be exempted from fighting with their properties and their lives.) because they consider Jihad an act of worship. This is why when Allah called them to perform Jihad, they obeyed and hasten to act in His obedience,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَإِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ
(and Allah is the All-Knower of those who have Taqwa. Those who ask your leave), to remain behind, without a valid excuse,
الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(those who believe not in Allah and the Last Day), they do not hope for Allah's reward in the Hereafter for their good actions,
وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ
(and whose hearts are in doubt), about the validity of what you brought them,
فَهُمْ فِى رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ
(so in their doubts they waver.) They waver in doubt, taking one step forward and one step back. They do not have a firm stance in anything, for they are unsure and destroyed, neither belonging to these nor to those. Verily, those whom Allah misguides, will never find a way for themselves to guidance.
نہ ادھر کے نہ ادھر کے سبحان اللہ، اللہ کی اپنے محبوب سے کیسی باتیں ہو رہی ہیں ؟ سخت بات کے سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جاتا ہے اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورة نور میں کیا جاتا ہے اور ارشاد عالی ہوتا ہے (فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 62) 24۔ النور :62) یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ حضور ﷺ سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہوجائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تو بھی ہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے۔ نیک و بد میں ظاہری تمیز ہوجاتی۔ اطاعت گذار تو حاضر ہوجاتے۔ نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے۔ کیونکہ انہوں نے تو طے کرلیا تھا حضور ﷺ ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔ اسی لئے جناب باری نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ حق کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں وہ تو جہاد کو موجب قربت الہیہ مان کر اپنی جان و املاک کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بےایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت کے بارے میں شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوار نے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
45
View Single
إِنَّمَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱرۡتَابَتۡ قُلُوبُهُمۡ فَهُمۡ فِي رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُونَ
Only those ask for such an exemption from you who do not believe in Allah and the Last Day, and whose hearts are in doubt – so they waver in their doubts.
آپ سے (جہاد میں شریک نہ ہونے کی) رخصت صرف وہی لوگ چاہیں گے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ اپنے شک میں حیران و سرگرداں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Moderately criticizing the Prophet for allowing the Hypocrites to stay behind
Ibn Abi Hatim recorded that `Awn said, "Have you heard criticism softer than this, starting with forgiveness before criticism,
عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ
(May Allah forgive you. Why did you grant them leave...)" Muwarriq Al-`Ijli and others said similarly. Qatadah said, "Allah criticized him as you read here, then later revealed to him the permission to allow them to lag behind if he wants, in Surat An-Nur,
فَإِذَا اسْتَـْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ
(So if they ask your permission for some affairs of theirs, give permission to whom you will of them) 24:62." `Ata' Al-Khurasani said similarly. Mujahid said, "This Ayah was revealed about some people who said, `Ask permission from the Messenger of Allah ﷺ to stay behind, and whether he agrees, or disagrees, remain behind!"' Allah said,
حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُواْ
(...until those who told the truth were manifest to you), in reference to valid excuses,
وَتَعْلَمَ الْكَـذِبِينَ
(and you had known the liars) Allah says, `Why did you not refuse to give them permission to remain behind when they asked you, so that you know those who truly obey you and the liars, who were intent on remaining behind even if you do not give them permission to do so, Allah asserts that none who believe in Allah and His Messenger seek his permission to remain behind from fighting,
لاَ يَسْتَأْذِنُكَ
(would not ask your leave), to stay behind from Jihad,
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ أَن يُجَـهِدُواْ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ
(Those who believe in Allah and the Last Day, to be exempted from fighting with their properties and their lives.) because they consider Jihad an act of worship. This is why when Allah called them to perform Jihad, they obeyed and hasten to act in His obedience,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَإِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ
(and Allah is the All-Knower of those who have Taqwa. Those who ask your leave), to remain behind, without a valid excuse,
الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(those who believe not in Allah and the Last Day), they do not hope for Allah's reward in the Hereafter for their good actions,
وَارْتَابَتْ قُلُوبُهُمْ
(and whose hearts are in doubt), about the validity of what you brought them,
فَهُمْ فِى رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ
(so in their doubts they waver.) They waver in doubt, taking one step forward and one step back. They do not have a firm stance in anything, for they are unsure and destroyed, neither belonging to these nor to those. Verily, those whom Allah misguides, will never find a way for themselves to guidance.
نہ ادھر کے نہ ادھر کے سبحان اللہ، اللہ کی اپنے محبوب سے کیسی باتیں ہو رہی ہیں ؟ سخت بات کے سنانے سے پہلے ہی معافی کا اعلان سنایا جاتا ہے اس کے بعد رخصت دینے کا عہد بھی سورة نور میں کیا جاتا ہے اور ارشاد عالی ہوتا ہے (فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 62) 24۔ النور :62) یعنی ان میں سے کوئی اگر آپ سے اپنے کسی کام اور شغل کی وجہ سے اجازت چاہے تو آپ جسے چاہیں اجازت دے سکتے ہیں۔ یہ آیت ان کے بارے میں اتری ہے جن لوگوں نے آپس میں طے کرلیا تھا کہ حضور ﷺ سے اجازت طلبی تو کریں اگر اجازت ہوجائے تو اور اچھا اور اگر اجازت نہ بھی دیں تو بھی ہم اس غزوے میں جائیں گے تو نہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہ ملتی تو اتنا فائدہ ضرور ہوتا کہ سچے عذر والے اور جھوٹے بہانے بنانے والے کھل جاتے۔ نیک و بد میں ظاہری تمیز ہوجاتی۔ اطاعت گذار تو حاضر ہوجاتے۔ نافرمان باوجود اجازت نہ ملنے کے بھی نہ نکلتے۔ کیونکہ انہوں نے تو طے کرلیا تھا حضور ﷺ ہاں کہیں یا نہ کہیں ہم تو جہاد میں جانے کے نہیں۔ اسی لئے جناب باری نے اس کے بعد کی آیت میں فرمایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سچے ایماندار لوگ راہ حق کے جہاد سے رکنے کی اجازت تجھ سے طلب کریں وہ تو جہاد کو موجب قربت الہیہ مان کر اپنی جان و املاک کے فدا کرنے کے آرزو مند رہتے ہیں اللہ بھی اس متقی جماعت سے بخوبی آگاہ ہے۔ بلا عذر شرعی بہانے بنا کر جہاد سے رک جانے کی اجازت طلب کرنے والے تو بےایمان لوگ ہیں جنہیں دار آخرت کی جزا کی کوئی امید ہی نہیں ان کے دل آج تک تیری شریعت کے بارے میں شک شبہ میں ہی ہیں یہ حیران و پریشان ہیں ایک قدم ان کا آگے بڑھتا ہے تو دوسرا پیچھے ہٹتا ہے انہیں ثابت قدمی اور استقلال نہیں یہ ہلاک ہونے والے ہیں یہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے یہ اللہ کے گمراہ کئے ہوئے ہیں تو ان کے سنوار نے کا کوئی رستہ نہ پائے گا۔
46
View Single
۞وَلَوۡ أَرَادُواْ ٱلۡخُرُوجَ لَأَعَدُّواْ لَهُۥ عُدَّةٗ وَلَٰكِن كَرِهَ ٱللَّهُ ٱنۢبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيلَ ٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
And if going forth were acceptable to them, they would have made preparations for it, but Allah Himself disliked their getting up (to fight) so He filled them with laze and it was said “Continue sitting with those who remain seated.”
اگر انہوں نے (واقعی جہاد کے لئے) نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو وہ اس کے لئے (کچھ نہ کچھ) سامان تو ضرور مہیا کر لیتے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ ان کے کذب و منافقت کے باعث) اللہ نے ان کا (جہاد کے لئے) کھڑے ہونا (ہی) ناپسند فرمایا سو اس نے انہیں (وہیں) روک دیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم (جہاد سے جی چرا کر) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
Tafsir Ibn Kathir
Exposing Hypocrites
Allah said,
وَلَوْ أَرَادُواْ الْخُرُوجَ
(And if they had intended to march out,), with you to participate in Jihad
لأَعَدُّواْ لَهُ عُدَّةً
(certainly, they would have made some preparation for it) they would have prepared for such task,
وَلَـكِن كَرِهَ اللَّهُ انبِعَاثَهُمْ
(but Allah was averse to their being sent forth) Allah hated that they should go with you,
فَثَبَّطَهُمْ
(so He made them lag behind, and stay away from Jihad,
وَقِيلَ اقْعُدُواْ مَعَ الْقَـعِدِينَ
(and it was said (to them): "Sit you among those who sit (at home)") as a part of what was decreed for them not that He legislated that they stay behind. Allah then explained why He disliked that they march with the believers, saying,
لَوْ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلاَّ خَبَالاً
(Had they marched out with you, they would have added to you nothing except disorder), because they are cowards and failures,
ولاّوْضَعُواْ خِلَـلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ
(and they would have hurried about in your midst sowing sedition among you) They would have rushed to spread false stories, hatred and discord among you,
وَفِيكُمْ سَمَّـعُونَ لَهُمْ
(and there are some among you who would have listened to them.) who would have obeyed them, given preference to their speech and words and asked them for advice, unaware of the true reality of these hypocrites. This might have caused corruption and great evil between the believers. Muhammad bin Ishaq said, "Those who sought permission (from the Messenger to lag behind) included some of the chiefs, such as `Abdullah bin Ubayy bin Salul and Al-Jadd bin Qays, who were masters of their people. Allah also made them lag behind because He knew that if they went along with the Messenger ﷺ they would sow sedition in his army." There were some in the Prophet's army who liked these chiefs and were ready to obey them, because they considered them honorable,
وَفِيكُمْ سَمَّـعُونَ لَهُمْ
(and there are some among you who would have listened to them) 9:47. Allah next reminds of His perfect knowledge, saying,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّـلِمينَ
(And Allah is the All-Knower of the wrongdoers.) Allah says that He knows what occurred, what will occur and if anything would have occurred, how it would occur, such as,
لَوْ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلاَّ خَبَالاً
(Had they marched out with you, they would have added to you nothing except disorder,) indicating what they would have done had they marched, even though they did not. Allah said in similar Ayat,
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) 6:28,
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعْرِضُونَ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen; and even if He had made them listen, they would but have turned away with aversion (to the truth)) 8:23, and,
وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُواْ مِن دِيَـرِكُمْ مَّا فَعَلُوهُ إِلاَّ قَلِيلٌ مِّنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتاً - وَإِذاً لاّتَيْنَـهُمْ مِّن لَّدُنَّـآ أَجْراً عَظِيماً - وَلَهَدَيْنَـهُمْ صِرَطاً مُّسْتَقِيماً
(And if We had ordered them (saying), "Kill yourselves (the innocent ones kill the guilty ones) or leave your homes," very few of them would have done it; but if they had done what they were told, it would have been better for them, and would have strengthened their conviction. And indeed We would then have bestowed upon them a great reward from Ourselves. And indeed We would have guided them to the straight way) 4:66-68.
غلط گو غلط کار کفار و منافق عذر کرنے والوں کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کرلیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گذرنے کے باوجود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا دراصل اللہ کو ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں پیچھے ہٹا دیا اور قدرتی طور پر ان سے کہہ دیا گیا کہ تم تو بیٹھنے والوں کا ہی ساتھ دو۔ ان کے ساتھ کو ناپسند رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورے نامراد اعلیٰ درجے کے بزدل بڑے ہی ڈرپوک ہیں اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو پتہ کھڑکا اور بندہ سرکا کی مثل کو اصل کردکھاتے اور ان کے ساتھ ہی تم میں بھی فساد برپا ہوجاتا۔ یہ ادھر کی ادھر ادھر کی ادھر لگا بکر بجھا کر بات کا بتنگڑ بنا کر آپس میں پھوٹ اور عداوت ڈلوا دیتے اور کوئی نیا فتنہ کھڑا کر کے تمہیں آپس میں ہی الجھا دیتے۔ ان کے ماننے والے ان کے ہم خیال ان کی پالیسی کو اچھی نظر سے دیکھنے والے خود تم میں بھی موجود ہیں وہ اپنے بھولے پن سے ان کی شرر انگیزیوں سے بیخبر رہتے ہیں جس کا نتیجہ مومنوں کے حق میں نہایت برا نکلتا ہے آپس میں شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ مجاہد وغیرہ کا قول ہے کہ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کے حامی اور ہمدرد ہیں یہ لوگ تمہاری جاسوسی کرتے رہتے ہیں اور تمہاری پل پل کی خبریں انہیں پہنچاتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ معنی کرنے سے وہ لطافت باقی نہیں رہتی جو شروع آیت سے ہے یعنی ان لوگوں کا تمہارے ساتھ نہ نکلنا اللہ کو اس لئے بھی ناپسند رہا کہ تم میں بعضے وہ بھی ہیں جو ان کی مان لیا کرتے ہیں یہ تو بہت درست ہے لیکن ان کے نہ نکلنے کی وجہ کے لئے جاسوسی کی کوئی خصوصیت نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے قتادہ وغیرہ مفسرین کا یہی قول ہے۔ امام محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور جد بن قیس بھی تھا اور یہی بڑے بڑے رؤسا اور ذی اثر منافق تھے اللہ نے انہیں دور ڈال دیا اگر یہ ساتھ ہوتے تو ان کے سامنے ان کی بات مان لینے والے وقت پر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کے نقصان کا باعث بن جاتے محمدی لشکر میں ابتری پھیل جاتی کیونکہ یہ لوگ وجاہت والے تھے اور کچھ مسلمان ان کے حال سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے ظاہری اسلام اور چرب کلامی پر مفتوں تھے اور اب تک ان کے دلوں میں ان کی محبت تھی۔ یہ ان کی لاعلمی کی وجہ سے تھی سچ ہے پورا علم اللہ ہی کو ہے غائب حاضر جو ہوچکا ہو اور ہونے والا ہو سب اس پر روشن ہے۔ اسی اپنے علم غیب کی بنا پر وہ فرماتا ہے کہ تم مسلمانو ! ان کا نہ نکلنا ہی غنیمت سمجھو یہ ہوتے تو اور فساد و فتنہ برپا کرتے نہ خود جہاد کرتے نہ کرنے دیتے۔ اسی لئے فرمان ہے کہ اگر کفار دوبارہ بھی دنیا میں لوٹائے جائیں تو نئے سرے سے پھر وہی کریں جس سے منع کئے جائیں اور یہ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہیں۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر علم اللہ میں ان کے دلوں میں کوئی بھی خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ عزوجل انہیں ضرور سنا دیتا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ سنیں بھی تو منہ موڑ کر لوٹ جائیں اور جگہ ہے کہ اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم آپس میں ہی موت کا کھیل کھیلو یا جلاوطن ہوجاؤ تو سوائے بہت کم لوگوں کے یہ ہرگز اسے نہ کرتے۔ حالانکہ ان کے حق میں بہتر اور اچھا یہی تھا کہ جو نصیحت انہیں کی جائے یہ اسے بجا لائیں تاکہ اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے اجر عظیم دیں اور راہ مستقیم دکھائیں۔ ایسی آیتیں اور بھی بہت ساری ہیں۔
47
View Single
لَوۡ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمۡ إِلَّا خَبَالٗا وَلَأَوۡضَعُواْ خِلَٰلَكُمۡ يَبۡغُونَكُمُ ٱلۡفِتۡنَةَ وَفِيكُمۡ سَمَّـٰعُونَ لَهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ
If they had gone forth among you, you would then not gain any increase from them except trouble, and seeking to cause turmoil they would run rumours among you; and their spies are among you; and Allah well knows the unjust.
اگر وہ تم میں (شامل ہو کر) نکل کھڑے ہوتے تو تمہارے لئے محض شر و فساد ہی بڑھاتے اور تمہارے درمیان (بگاڑ پیدا کرنے کے لئے) دوڑ دھوپ کرتے وہ تمہارے اندر فتنہ بپا کرنا چاہتے ہیں اور تم میں (اب بھی) ان کے (بعض) جاسوس موجود ہیں، اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے
Tafsir Ibn Kathir
Exposing Hypocrites
Allah said,
وَلَوْ أَرَادُواْ الْخُرُوجَ
(And if they had intended to march out,), with you to participate in Jihad
لأَعَدُّواْ لَهُ عُدَّةً
(certainly, they would have made some preparation for it) they would have prepared for such task,
وَلَـكِن كَرِهَ اللَّهُ انبِعَاثَهُمْ
(but Allah was averse to their being sent forth) Allah hated that they should go with you,
فَثَبَّطَهُمْ
(so He made them lag behind, and stay away from Jihad,
وَقِيلَ اقْعُدُواْ مَعَ الْقَـعِدِينَ
(and it was said (to them): "Sit you among those who sit (at home)") as a part of what was decreed for them not that He legislated that they stay behind. Allah then explained why He disliked that they march with the believers, saying,
لَوْ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلاَّ خَبَالاً
(Had they marched out with you, they would have added to you nothing except disorder), because they are cowards and failures,
ولاّوْضَعُواْ خِلَـلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ
(and they would have hurried about in your midst sowing sedition among you) They would have rushed to spread false stories, hatred and discord among you,
وَفِيكُمْ سَمَّـعُونَ لَهُمْ
(and there are some among you who would have listened to them.) who would have obeyed them, given preference to their speech and words and asked them for advice, unaware of the true reality of these hypocrites. This might have caused corruption and great evil between the believers. Muhammad bin Ishaq said, "Those who sought permission (from the Messenger to lag behind) included some of the chiefs, such as `Abdullah bin Ubayy bin Salul and Al-Jadd bin Qays, who were masters of their people. Allah also made them lag behind because He knew that if they went along with the Messenger ﷺ they would sow sedition in his army." There were some in the Prophet's army who liked these chiefs and were ready to obey them, because they considered them honorable,
وَفِيكُمْ سَمَّـعُونَ لَهُمْ
(and there are some among you who would have listened to them) 9:47. Allah next reminds of His perfect knowledge, saying,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّـلِمينَ
(And Allah is the All-Knower of the wrongdoers.) Allah says that He knows what occurred, what will occur and if anything would have occurred, how it would occur, such as,
لَوْ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلاَّ خَبَالاً
(Had they marched out with you, they would have added to you nothing except disorder,) indicating what they would have done had they marched, even though they did not. Allah said in similar Ayat,
وَلَوْ رُدُّواْ لَعَـدُواْ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.) 6:28,
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعْرِضُونَ
(Had Allah known of any good in them, He would indeed have made them listen; and even if He had made them listen, they would but have turned away with aversion (to the truth)) 8:23, and,
وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُواْ مِن دِيَـرِكُمْ مَّا فَعَلُوهُ إِلاَّ قَلِيلٌ مِّنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتاً - وَإِذاً لاّتَيْنَـهُمْ مِّن لَّدُنَّـآ أَجْراً عَظِيماً - وَلَهَدَيْنَـهُمْ صِرَطاً مُّسْتَقِيماً
(And if We had ordered them (saying), "Kill yourselves (the innocent ones kill the guilty ones) or leave your homes," very few of them would have done it; but if they had done what they were told, it would have been better for them, and would have strengthened their conviction. And indeed We would then have bestowed upon them a great reward from Ourselves. And indeed We would have guided them to the straight way) 4:66-68.
غلط گو غلط کار کفار و منافق عذر کرنے والوں کے غلط ہونے کی ایک ظاہری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ان کا ارادہ ہوتا تو کم از کم سامان سفر تو تیار کرلیتے لیکن یہ تو اعلان اور حکم کے بعد بھی کئی دن گذرنے کے باوجود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہ کیا دراصل اللہ کو ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں پیچھے ہٹا دیا اور قدرتی طور پر ان سے کہہ دیا گیا کہ تم تو بیٹھنے والوں کا ہی ساتھ دو۔ ان کے ساتھ کو ناپسند رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورے نامراد اعلیٰ درجے کے بزدل بڑے ہی ڈرپوک ہیں اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتے تو پتہ کھڑکا اور بندہ سرکا کی مثل کو اصل کردکھاتے اور ان کے ساتھ ہی تم میں بھی فساد برپا ہوجاتا۔ یہ ادھر کی ادھر ادھر کی ادھر لگا بکر بجھا کر بات کا بتنگڑ بنا کر آپس میں پھوٹ اور عداوت ڈلوا دیتے اور کوئی نیا فتنہ کھڑا کر کے تمہیں آپس میں ہی الجھا دیتے۔ ان کے ماننے والے ان کے ہم خیال ان کی پالیسی کو اچھی نظر سے دیکھنے والے خود تم میں بھی موجود ہیں وہ اپنے بھولے پن سے ان کی شرر انگیزیوں سے بیخبر رہتے ہیں جس کا نتیجہ مومنوں کے حق میں نہایت برا نکلتا ہے آپس میں شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ مجاہد وغیرہ کا قول ہے کہ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کے حامی اور ہمدرد ہیں یہ لوگ تمہاری جاسوسی کرتے رہتے ہیں اور تمہاری پل پل کی خبریں انہیں پہنچاتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ معنی کرنے سے وہ لطافت باقی نہیں رہتی جو شروع آیت سے ہے یعنی ان لوگوں کا تمہارے ساتھ نہ نکلنا اللہ کو اس لئے بھی ناپسند رہا کہ تم میں بعضے وہ بھی ہیں جو ان کی مان لیا کرتے ہیں یہ تو بہت درست ہے لیکن ان کے نہ نکلنے کی وجہ کے لئے جاسوسی کی کوئی خصوصیت نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے قتادہ وغیرہ مفسرین کا یہی قول ہے۔ امام محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ اجازت طلب کرنے والوں میں عبداللہ بن ابی بن سلول اور جد بن قیس بھی تھا اور یہی بڑے بڑے رؤسا اور ذی اثر منافق تھے اللہ نے انہیں دور ڈال دیا اگر یہ ساتھ ہوتے تو ان کے سامنے ان کی بات مان لینے والے وقت پر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کے نقصان کا باعث بن جاتے محمدی لشکر میں ابتری پھیل جاتی کیونکہ یہ لوگ وجاہت والے تھے اور کچھ مسلمان ان کے حال سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے ظاہری اسلام اور چرب کلامی پر مفتوں تھے اور اب تک ان کے دلوں میں ان کی محبت تھی۔ یہ ان کی لاعلمی کی وجہ سے تھی سچ ہے پورا علم اللہ ہی کو ہے غائب حاضر جو ہوچکا ہو اور ہونے والا ہو سب اس پر روشن ہے۔ اسی اپنے علم غیب کی بنا پر وہ فرماتا ہے کہ تم مسلمانو ! ان کا نہ نکلنا ہی غنیمت سمجھو یہ ہوتے تو اور فساد و فتنہ برپا کرتے نہ خود جہاد کرتے نہ کرنے دیتے۔ اسی لئے فرمان ہے کہ اگر کفار دوبارہ بھی دنیا میں لوٹائے جائیں تو نئے سرے سے پھر وہی کریں جس سے منع کئے جائیں اور یہ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہیں۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر علم اللہ میں ان کے دلوں میں کوئی بھی خیر ہوتی تو اللہ تعالیٰ عزوجل انہیں ضرور سنا دیتا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ سنیں بھی تو منہ موڑ کر لوٹ جائیں اور جگہ ہے کہ اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم آپس میں ہی موت کا کھیل کھیلو یا جلاوطن ہوجاؤ تو سوائے بہت کم لوگوں کے یہ ہرگز اسے نہ کرتے۔ حالانکہ ان کے حق میں بہتر اور اچھا یہی تھا کہ جو نصیحت انہیں کی جائے یہ اسے بجا لائیں تاکہ اس صورت میں ہم انہیں اپنے پاس سے اجر عظیم دیں اور راہ مستقیم دکھائیں۔ ایسی آیتیں اور بھی بہت ساری ہیں۔
48
View Single
لَقَدِ ٱبۡتَغَوُاْ ٱلۡفِتۡنَةَ مِن قَبۡلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ ٱلۡأُمُورَ حَتَّىٰ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَظَهَرَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَهُمۡ كَٰرِهُونَ
Indeed they had sought to cause turmoil at the outset, and O dear Prophet the scheme turned otherwise* for you, so much so that the truth came and the command of Allah appeared, and they disliked it. (* In your favour.)
درحقیقت وہ پہلے بھی فتنہ پردازی میں کوشاں رہے ہیں اور آپ کے کام الٹ پلٹ کرنے کی تدبیریں کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہو گیا اور وہ (اسے) ناپسند ہی کرتے رہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah encourages His Prophet against hypocrites,
لَقَدِ ابْتَغَوُاْ الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ الأُمُورَ
(Verily, they had plotted sedition before, and had upset matters for you,) `For a long time,' Allah says, hypocrites thought and plotted against you and your Companions, as well as, failing and attempting to extinguish your religion.' This occurred soon after the Prophet migrated to Al-Madinah, when pagan Arabs joined force and the Jews and hypocrites of Al-Madinah waged war against the Messenger ﷺ. When Allah gave victory to the Prophet in Badr and raised high his word, `Abdullah bin Ubayy and his fellows said, "This (Islam) is a matter that has prevailed." They embraced Islam outwardly, and whenever Allah elevated Islam and its people in might, hypocrites increased in rage and disappointment,
حَتَّى جَآءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَـرِهُونَ
(until the truth (victory) came and the decree of Allah became manifest though they hated it.)
فتنہ و فساد کی آگ منافق اللہ تعالیٰ منافقین سے نفرت دلانے کے لئے فرما رہا ہے کہ کیا بھول گئے مدتوں تو یہ فتنہ و فساد کی آگ سلگاتے رہے ہیں اور تیرے کام کے الٹ دینے کی بیسیوں تدبیریں کرچکے ہیں مدینے میں آپ کا قدم آتے ہی تمام عرب نے ایک ہو کر مصیبتوں کی بارش آپ پر برسا دی۔ باہر سے وہ چڑھ دوڑے اندر سے یہود مدینہ اور منافقین مدینہ نے بغاوت کردی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ہی دن میں سب کی کمانیں توڑ دیں ان کے جوڑ ڈھیلے کردیئے ان کے جوش ٹھنڈے کردیئے بدر کے معرکے نے ان کے ہوش حواس بھلا دیئے اور ان کے ارمان ذبح کردیئے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے صاف کہہ دیا کہ بس اب یہ لوگ ہمارے بس کے نہیں رہے اب تو سوا اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ظاہر میں اسلام کی موافقت کی جائے دل میں جو ہے سو ہے وقت آنے دو دیکھا جائے گا اور دکھا دیا جائے گا۔ جیسے جیسے حق کی بلندی اور توحید کا بول بالا ہوتا گیا یہ لوگ حسد کی آگ میں جلتے گئے آخر حق نے قدم جمائے، اللہ کا کلمہ غالب آگیا اور یہ یونہی سینہ پیٹتے اور ڈنڈے بجاتے رہے۔
49
View Single
وَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ ٱئۡذَن لِّي وَلَا تَفۡتِنِّيٓۚ أَلَا فِي ٱلۡفِتۡنَةِ سَقَطُواْۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةُۢ بِٱلۡكَٰفِرِينَ
And among them is one who requests you that, “Grant me exemption (from fighting) and do not put me to test”; pay heed! They have indeed fallen into trial; and indeed hell surrounds the disbelievers.
اور ان میں سے وہ شخص (بھی) ہے جو کہتا ہے کہ آپ مجھے اجازت دے دیجئے (کہ میں جہاد پر جانے کی بجائے گھر ٹھہرا رہوں) اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالئے، سن لو! کہ وہ فتنہ میں (تو خود ہی) گر پڑے ہیں، اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے
Tafsir Ibn Kathir
ائْذَن لِّي
(Grant me leave), to stay behind,
وَلاَ تَفْتِنِّى
(and put me not into trial.), if I go with you and see the women of the Romans. Allah, the Exalted, replied,
أَلا فِى الْفِتْنَةِ سَقَطُواْ
(Surely, they have fallen into trial) because of the statement they uttered. Muhammad bin Ishaq reported from Az-Zuhri, Yazid bin Ruwman, `Abdullah bin Abi Bakr, `Asim bin Qatadah and several others that they said, "The Messenger of Allah ﷺ said to Al-Jadd bin Qays from Bani Salimah,
«هَلْ لَكَ يَا جَدُّ الْعَامَ فِي جَلَادِ بَنِي الْأَصْفَرِ؟»
(`Would you like to fight the yellow ones (Romans) this year) He said, `O Allah's Messenger! Give me permission (to remain behind) and do not cause Fitnah for me. By Allah! My people know that there is not a man who is more fond of women than I. I fear that if I see the women of the yellow ones, I would not be patient.' The Messenger of Allah ﷺ turned away from him and said,
«قَدْ أَذِنْتُ لَك»
(I give you permission.) In Al-Jadd's case, this Ayah was revealed,
وَمِنْهُمْ مَّن يَقُولُ ائْذَن لِّي وَلاَ تَفْتِنِّى
(And among them is he who says: "Grant me leave and put me not into trial.") Therefore, Allah says that the Fitnah that he fell into because of not joining the Messenger of Allah ﷺ (in Jihad) and preferring his safety to the safety of the Messenger ﷺ is worse than the Fitnah that he falsely claimed to fear." It was reported from Ibn `Abbas, Mujahid and several others that this Ayah was revealed in the case of Al-Jadd bin Qays, who was among the chiefs of Bani Salimah. It is also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ asked,
«مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلَمَةَ؟»
(Who is your chief, O Bani Salamah) They said, "Al-Jadd bin Qays, although we consider him a miser." The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ وَلَكِنْ سَيِّدُكُمْ الْفَتَى الْجَعْدُ الْأَبْيَضُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُور»
(There is not a disease worse than stinginess! Therefore, your chief is the white young man with curly hair, Bishr bin Al-Bara' bin Ma'rur.) Allah said next,
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(And verily, Hell is surrounding the disbelievers.) and they will never be able to avoid, avert, or escape from it.
جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر جد بن قیس سے حضور ﷺ نے فرمایا اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا ؟ تو اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدنائی ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا۔ آپ نے اس سے منہ موڑ لیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کہ کیا کم فتنہ ہے ؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا۔ حضور ﷺ نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے۔ آپ نے فرمایا بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے ؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت حضرت بشر بن برا بن معرور ہیں۔ جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پاسکیں۔
50
View Single
إِن تُصِبۡكَ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡۖ وَإِن تُصِبۡكَ مُصِيبَةٞ يَقُولُواْ قَدۡ أَخَذۡنَآ أَمۡرَنَا مِن قَبۡلُ وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمۡ فَرِحُونَ
If good befalls you they dislike it; and were some calamity to befall you, they would say, “We had resolved our matters in advance”, and would turn away rejoicing.
اگر آپ کو کوئی بھلائی (یا آسائش) پہنچتی ہے (تو) وہ انہیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو مصیبت (یا تکلیف) پہنچتی ہے (تو) کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے کام (میں احتیاط) کو اختیار کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے ہوئے پلٹتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah emphasizes the enmity that the hypocrites have for the Prophet
If a blessing, such as victory and triumph over the enemies, is given to the Prophet , thus pleasing him and his Companions, it grieves the hypocrites,
وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُواْ قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ
(but if a calamity overtakes you, they say: "We took our precaution beforehand,"), they say, we took precautions when we did not join him,
وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمْ فَرِحُونَ
(and they turn away rejoicing.) Allah directed His Prophet to reply to the perfect enmity they have towards him,
قُلْ
(Say), to them,
لَّن يُصِيبَنَآ إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا
(Nothing shall ever happen to us except what Allah has ordained for us.) for we are under His control and decree,
هُوَ مَوْلَـنَا
(He is our Mawla.), Master and protector,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah let the believers put their trust) 9:51, and we trust in Him. Verily, He is sufficient for us and what an excellent guardian.
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ان بدباطن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اللہ نہ کرے یہاں اس کے خلاف ہوا تو بڑے شور و غل مچاتے ہیں گاگا کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کر رنج راحت اور ہم خود اللہ کی تقدیر اور اس کی منشا کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
51
View Single
قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوۡلَىٰنَاۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
Say, O dear Prophet “Nothing shall befall us except what Allah has destined for us; He is our Master; and the Muslims must rely only on Allah.”
(اے حبیب!) آپ فرما دیجئے کہ ہمیں ہرگز (کچھ) نہیں پہنچے گا مگر وہی کچھ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے، وہی ہمارا کارساز ہے اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے
Tafsir Ibn Kathir
Allah emphasizes the enmity that the hypocrites have for the Prophet
If a blessing, such as victory and triumph over the enemies, is given to the Prophet , thus pleasing him and his Companions, it grieves the hypocrites,
وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُواْ قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ
(but if a calamity overtakes you, they say: "We took our precaution beforehand,"), they say, we took precautions when we did not join him,
وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمْ فَرِحُونَ
(and they turn away rejoicing.) Allah directed His Prophet to reply to the perfect enmity they have towards him,
قُلْ
(Say), to them,
لَّن يُصِيبَنَآ إِلاَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا
(Nothing shall ever happen to us except what Allah has ordained for us.) for we are under His control and decree,
هُوَ مَوْلَـنَا
(He is our Mawla.), Master and protector,
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(And in Allah let the believers put their trust) 9:51, and we trust in Him. Verily, He is sufficient for us and what an excellent guardian.
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ان بدباطن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اللہ نہ کرے یہاں اس کے خلاف ہوا تو بڑے شور و غل مچاتے ہیں گاگا کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کر رنج راحت اور ہم خود اللہ کی تقدیر اور اس کی منشا کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔
52
View Single
قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُونَ بِنَآ إِلَّآ إِحۡدَى ٱلۡحُسۡنَيَيۡنِۖ وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ أَن يُصِيبَكُمُ ٱللَّهُ بِعَذَابٖ مِّنۡ عِندِهِۦٓ أَوۡ بِأَيۡدِينَاۖ فَتَرَبَّصُوٓاْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ
Say, “What do you wait for to happen to us, except one of the two good things?* And for you, we look forward to Allah afflicting you with a punishment from Himself or by our hands; so wait – we too await with you.” (*Death in Allah’s way or victory.)
آپ فرما دیں: کیا تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں (یعنی فتح اور شہادت) میں سے ایک ہی کا انتظار کر رہے ہو (کہ ہم شہید ہوتے ہیں یا غازی بن کر لوٹتے ہیں)؟ اور ہم تمہارے حق میں (تمہاری منافقت کے باعث) اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ اپنی بارگاہ سے تمہیں (خصوصی) عذاب پہنچاتا ہے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو تم (بھی) انتظار کرو ہم (بھی) تمہارے ساتھ منتظر ہیں (کہ کس کا انتظار نتیجہ خیز ہے)
Tafsir Ibn Kathir
قُلْ
(Say), O Muhammad to them,
هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَآ
(Do you wait for us), anything,
إِلاَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ
(except one of the two best things), martyrdom or victory over you, according to the meaning given by Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, and others.
وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ
(while we await for you), that this will touch you,
أَن يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا
(either that Allah will afflict you with a punishment from Himself or at our hands), either capture or killing,
فَتَرَبَّصُواْ إِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُونَ
(So wait, we too are waiting with you.) Allah said next,
قُلْ أَنفِقُواْ طَوْعاً أَوْ كَرْهاً
(Say: Spend willingly or unwillingly), for whatever you spend either way,
لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(it will not be accepted from you. Verily, you are ever a people who are rebellious.) Allah mentions the reason behind not accepting their charity from them,
إِلاَ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ
(except that they disbelieved in Allah and in His Messenger. ) and the deeds are accepted if they are preceded with faith,
وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلَوةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى
(and that they came not to the Salah except in a lazy state.) Therefore, they neither have good intention nor eagerness to perform the acts of faith,
وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَـتُهُمْ إِلاَ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلَوةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلاَ يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَـرِهُونَ
(And nothing prevents their contributions from being accepted from them except that they disbelieved in Allah and in His Messenger, and that they came not to the Salah (the prayer) except in a lazy state, and that they offer not contributions but unwillingly.) The Truthful, to whom the Truth was revealed, Muhammad, peace be upon him, said that Allah does not stop giving rewards until you (believers) stop performing good deeds, and that Allah is Tayyib Good and Pure and only accepts what is Tayyib. This is why Allah does not accept charity or good deeds from the people described in these Ayat, because He only accepts it from those who have Taqwa.
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک کا ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ اللہ کا عذاب براہ راست تم پر آجائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر اللہ کی مار پڑے کہ قتل و قید ہوجاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے ؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو، اور ناراضگی سے دو تو، وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لئے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث تمہارا کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں۔ نماز کو آتے ہو تو بھی بجھے دل سے، گرتے پڑتے مرتے پڑتے سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاؤ اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
53
View Single
قُلۡ أَنفِقُواْ طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمۡ إِنَّكُمۡ كُنتُمۡ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
Say, “Spend willingly or with a heavy heart, it will never be accepted from you; indeed you are a disobedient people.”
فرما دیجئے: تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز وہ (مال) قبول نہیں کیا جائے گا، بیشک تم نافرمان لوگ ہو
Tafsir Ibn Kathir
قُلْ
(Say), O Muhammad to them,
هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَآ
(Do you wait for us), anything,
إِلاَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ
(except one of the two best things), martyrdom or victory over you, according to the meaning given by Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, and others.
وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ
(while we await for you), that this will touch you,
أَن يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا
(either that Allah will afflict you with a punishment from Himself or at our hands), either capture or killing,
فَتَرَبَّصُواْ إِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُونَ
(So wait, we too are waiting with you.) Allah said next,
قُلْ أَنفِقُواْ طَوْعاً أَوْ كَرْهاً
(Say: Spend willingly or unwillingly), for whatever you spend either way,
لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(it will not be accepted from you. Verily, you are ever a people who are rebellious.) Allah mentions the reason behind not accepting their charity from them,
إِلاَ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ
(except that they disbelieved in Allah and in His Messenger. ) and the deeds are accepted if they are preceded with faith,
وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلَوةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى
(and that they came not to the Salah except in a lazy state.) Therefore, they neither have good intention nor eagerness to perform the acts of faith,
وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَـتُهُمْ إِلاَ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلَوةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلاَ يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَـرِهُونَ
(And nothing prevents their contributions from being accepted from them except that they disbelieved in Allah and in His Messenger, and that they came not to the Salah (the prayer) except in a lazy state, and that they offer not contributions but unwillingly.) The Truthful, to whom the Truth was revealed, Muhammad, peace be upon him, said that Allah does not stop giving rewards until you (believers) stop performing good deeds, and that Allah is Tayyib Good and Pure and only accepts what is Tayyib. This is why Allah does not accept charity or good deeds from the people described in these Ayat, because He only accepts it from those who have Taqwa.
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک کا ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ اللہ کا عذاب براہ راست تم پر آجائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر اللہ کی مار پڑے کہ قتل و قید ہوجاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے ؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو، اور ناراضگی سے دو تو، وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لئے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث تمہارا کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں۔ نماز کو آتے ہو تو بھی بجھے دل سے، گرتے پڑتے مرتے پڑتے سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاؤ اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
54
View Single
وَمَا مَنَعَهُمۡ أَن تُقۡبَلَ مِنۡهُمۡ نَفَقَٰتُهُمۡ إِلَّآ أَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمۡ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمۡ كَٰرِهُونَ
And their spending was not stopped being accepted, except because they disbelieved in Allah and His Noble Messenger, and they come to prayer with heavy hearts, and they do not spend except unwillingly.
اور ان سے ان کے نفقات (یعنی صدقات) کے قبول کئے جانے میں کوئی (اور) چیز انہیں مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منکر ہیں اور وہ نماز کی ادائیگی کے لئے نہیں آتے مگر کاہلی و بے رغبتی کے ساتھ اور وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ (بھی) نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناخوش ہوتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
قُلْ
(Say), O Muhammad to them,
هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَآ
(Do you wait for us), anything,
إِلاَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ
(except one of the two best things), martyrdom or victory over you, according to the meaning given by Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, and others.
وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ
(while we await for you), that this will touch you,
أَن يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا
(either that Allah will afflict you with a punishment from Himself or at our hands), either capture or killing,
فَتَرَبَّصُواْ إِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُونَ
(So wait, we too are waiting with you.) Allah said next,
قُلْ أَنفِقُواْ طَوْعاً أَوْ كَرْهاً
(Say: Spend willingly or unwillingly), for whatever you spend either way,
لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(it will not be accepted from you. Verily, you are ever a people who are rebellious.) Allah mentions the reason behind not accepting their charity from them,
إِلاَ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ
(except that they disbelieved in Allah and in His Messenger. ) and the deeds are accepted if they are preceded with faith,
وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلَوةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى
(and that they came not to the Salah except in a lazy state.) Therefore, they neither have good intention nor eagerness to perform the acts of faith,
وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَـتُهُمْ إِلاَ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلَوةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلاَ يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَـرِهُونَ
(And nothing prevents their contributions from being accepted from them except that they disbelieved in Allah and in His Messenger, and that they came not to the Salah (the prayer) except in a lazy state, and that they offer not contributions but unwillingly.) The Truthful, to whom the Truth was revealed, Muhammad, peace be upon him, said that Allah does not stop giving rewards until you (believers) stop performing good deeds, and that Allah is Tayyib Good and Pure and only accepts what is Tayyib. This is why Allah does not accept charity or good deeds from the people described in these Ayat, because He only accepts it from those who have Taqwa.
شہادت ملی تو جنت، بچ گئے تو غازی مسلمانوں کے جہاد میں دو ہی انجام ہوتے ہیں اور دونوں ہر طرح اچھے ہیں اگر شہادت ملی تو جنت اپنی ہے اور اگر فتح ملی تو غنیمت و اجر ہے۔ پس اے منافقو تم جو ہماری بابت انتظار کر رہے ہو وہ انہی دو اچھائیوں میں سے ایک کا ہے اور ہم جس بات کا انتظار تمہارے بارے میں کر رہے ہیں وہ دو برائیوں میں سے ایک کا ہے یعنی یا تو یہ کہ اللہ کا عذاب براہ راست تم پر آجائے یا ہمارے ہاتھوں سے تم پر اللہ کی مار پڑے کہ قتل و قید ہوجاؤ۔ اچھا اب تم اپنی جگہ اور ہم اپنی جگہ منتظر رہیں دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے ؟ تمہارے خرچ کرنے کا اللہ بھوکا نہیں تم خوشی سے دو تو، اور ناراضگی سے دو تو، وہ تو قبول فرمانے کا نہیں اس لئے کہ تم فاسق لوگ ہو۔ تمہارے خرچ کی عدم قبولیت کا باعث تمہارا کفر ہے اور اعمال کی قبولیت کی شرط کفر کا نہ ہونا بلکہ ایمان کا ہونا ہے ساتھ ہی کسی عمل میں تمہارا نیک قصد اور سچی ہمت نہیں۔ نماز کو آتے ہو تو بھی بجھے دل سے، گرتے پڑتے مرتے پڑتے سست اور کاہل ہو کر۔ دیکھا دیکھی مجمع میں دو چار دے بھی دیتے ہو تو مرے جی سے دل کی تنگی سے۔ صادق و مصدوق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ نہیں تھکتا لیکن تم تھک جاؤ اللہ پاک ہے وہ پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے متقیوں کی اعمال قبول ہوتے ہیں تم فاسق ہو تمہارے اعمال قبولیت سے گرے ہوئے ہیں۔
55
View Single
فَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
So let not their riches or their children surprise you; Allah only intends to punish them in the life of this world with these things and that they die only as disbelievers.
سو آپ کو نہ (تو) ان کے اموال تعجب میں ڈالیں اور نہ ہی ان کی اولاد۔ بس اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں انہی (چیزوں) کی وجہ سے دنیوی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں
Tafsir Ibn Kathir
فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلَـدُهُمْ
(So let not their wealth nor their children amaze you...) In similar Ayat, Allah said,
وَلاَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَجاً مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(And strain not your eyes in longing for the things We have given for enjoyment to various groups of them, the splendor of the life of this world, that We may test them thereby. But the provision (good reward in the Hereafter) of your Lord is better and more lasting) 20:131, and,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that in wealth and children with which We enlarge them. We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) 23:55-56. Allah said next,
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(in reality Allah's plan is to punish them with these things in the life of this world,) by taking the Zakah due on their money from them and spending it in Allah's cause, according to the meaning given by Al-Hasan Al-Basri. Allah's statement,
وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ
(and that their souls shall depart while they are disbelievers) means, so that when Allah brings death to them, they will still be disbelievers, to make matters worse for them and the torment more severe. We seek refuge from such an end, which includes being led astray gradually by these things which they have.
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ۔ ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لئے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔ قتادہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم موخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے پہلا قول حضرت حسن بصری کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ یوں ہی بتدریج پکڑ لئے جائیں گے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے گا یہی حشمت وجاہت مال و دولت جہنم کی آگ بن جائے گا۔
56
View Single
وَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمۡ لَمِنكُمۡ وَمَا هُم مِّنكُمۡ وَلَٰكِنَّهُمۡ قَوۡمٞ يَفۡرَقُونَ
And they (the hypocrites) swear by Allah that they are from among you (Muslims); and they are not from among you – however those people are afraid.
اور وہ (اس قدر بزدل ہیں کہ) اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنے نفاق کے ظاہر ہونے اور اس کے انجام سے) ڈرتے ہیں (اس لئے وہ بصورتِ تقیہ اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Exposing Hypocrites' Fright and Fear
Allah describes to His Prophet the fright, fear, anxiety and nervousness of the hypocrites,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِإِنَّهُمْ لَمِنكُمْ
(They swear by Allah that they are truly of you), swearing a sure oath,
وَمَا هُم مِّنكُمْ
(while they are not of you), in reality,
وَلَـكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ
(but they are a people who are afraid), and this is what made them swear.
لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَئاً
(Should they find a refuge), such as a fort in which they hide and fortify themselves,
أَوْ مَغَـرَاتٍ
(or caves), in some mountains,
أَوْ مُدَّخَلاً
(or a place of concealment), a tunnel or a hole in the ground, according to the explanation given by Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah,
لَّوَلَّوْاْ إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ
(they would turn straightway thereto with a swift rush) away from you because they associate with you unwillingly, not because they are fond of you. They prefer that they do not have to mix with you, but necessity has its rules! It is because of this that they feel grief, sadness and sorrow, seeing Islam and its people enjoying ever more might, triumph and glory. Therefore, whatever pleases Muslims brings them grief, and this is why they prefer to disassociate themselves from the believers. Hence Allah's statement,
لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَئاً أَوْ مَغَـرَاتٍ أَوْ مُدَّخَلاً لَّوَلَّوْاْ إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ
(Should they find a refuge, or caves, or a place of concealment, they would turn straightway thereto with a swift rush.)
وَمِنْهُمْ مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَـتِ فَإِنْ أُعْطُواْ مِنْهَا رَضُواْ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْاْ مِنهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ۔ ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لئے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔ قتادہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم موخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے پہلا قول حضرت حسن بصری کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ یوں ہی بتدریج پکڑ لئے جائیں گے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے گا یہی حشمت وجاہت مال و دولت جہنم کی آگ بن جائے گا۔
57
View Single
لَوۡ يَجِدُونَ مَلۡجَـًٔا أَوۡ مَغَٰرَٰتٍ أَوۡ مُدَّخَلٗا لَّوَلَّوۡاْ إِلَيۡهِ وَهُمۡ يَجۡمَحُونَ
If they find some refuge, or caves, or a place to hide, they will break the bonds and return there.
(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) اگر وہ کوئی پناہ گاہ یا غار یا سرنگ پا لیں تو انتہائی تیزی سے بھاگتے ہوئے اس کی طرف پلٹ جائیں (اور آپ کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہ رہیں مگر اس وقت وہ مجبور ہیں اس لئے جھوٹی وفاداری جتلاتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Exposing Hypocrites' Fright and Fear
Allah describes to His Prophet the fright, fear, anxiety and nervousness of the hypocrites,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِإِنَّهُمْ لَمِنكُمْ
(They swear by Allah that they are truly of you), swearing a sure oath,
وَمَا هُم مِّنكُمْ
(while they are not of you), in reality,
وَلَـكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ
(but they are a people who are afraid), and this is what made them swear.
لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَئاً
(Should they find a refuge), such as a fort in which they hide and fortify themselves,
أَوْ مَغَـرَاتٍ
(or caves), in some mountains,
أَوْ مُدَّخَلاً
(or a place of concealment), a tunnel or a hole in the ground, according to the explanation given by Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah,
لَّوَلَّوْاْ إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ
(they would turn straightway thereto with a swift rush) away from you because they associate with you unwillingly, not because they are fond of you. They prefer that they do not have to mix with you, but necessity has its rules! It is because of this that they feel grief, sadness and sorrow, seeing Islam and its people enjoying ever more might, triumph and glory. Therefore, whatever pleases Muslims brings them grief, and this is why they prefer to disassociate themselves from the believers. Hence Allah's statement,
لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَئاً أَوْ مَغَـرَاتٍ أَوْ مُدَّخَلاً لَّوَلَّوْاْ إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ
(Should they find a refuge, or caves, or a place of concealment, they would turn straightway thereto with a swift rush.)
وَمِنْهُمْ مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَـتِ فَإِنْ أُعْطُواْ مِنْهَا رَضُواْ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْاْ مِنهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ۔ ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لئے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو۔ قتادہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم موخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے پہلا قول حضرت حسن بصری کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ یوں ہی بتدریج پکڑ لئے جائیں گے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے گا یہی حشمت وجاہت مال و دولت جہنم کی آگ بن جائے گا۔
58
View Single
وَمِنۡهُم مَّن يَلۡمِزُكَ فِي ٱلصَّدَقَٰتِ فَإِنۡ أُعۡطُواْ مِنۡهَا رَضُواْ وَإِن لَّمۡ يُعۡطَوۡاْ مِنۡهَآ إِذَا هُمۡ يَسۡخَطُونَ
And among them is one who slanders you regarding the distribution of charity; so if they receive some of it they would be happy – and if not, thereupon they get displeased!
اور ان ہی میں سے بعض ایسے ہیں جو صدقات (کی تقسیم) میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں، پھر اگر انہیں ان (صدقات) میں سے کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جائیں اور اگر انہیں اس میں سے کچھ نہ دیا جائے تو وہ فوراً خفا ہو جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites question the Integrity of the Messenger when distributing Alms
Allah said next,
وَمِنْهُمُ
(And of them), among the hypocrites,
مَّن يَلْمِزُكَ
(who accuse you) or question your integrity,
فِى
(concerning), division of,
الصَّدَقَـتِ
(the alms), when you divide them. They question your fairness, even though it is they who deserve that their integrity be questioned. The hypocrites do not do this in defense of the religion, but to gain more for themselves. This is why,
أُعْطُواْ مِنْهَا
(If they are given) meaning, from the Zakah,
رَضُواْ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْاْ مِنهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ
(They are pleased, but if they are not given thereof, behold! They are enraged!) 9:58, angry for themselves. Qatadah commented on Allah's statement,
وَمِنْهُمْ مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَـتِ
(And of them are some who accuse you concerning the alms. ) "Allah says, `Some of them question your integrity in the matter of distribution of the alms.' We were told that a bedouin man, who had recently embraced Islam, came to the Prophet , when he was dividing some gold and silver, and said to him, `O Muhammad! Even though Allah commanded you to divide in fairness, you have not done so.' The Prophet of Allah said,
«وَيْلَكَ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَعْدِلُ عَلَيْكَ بَعْدِي؟»
(Woe to you! Who would be fair to you after me then) The Prophet of Allah said next,
«احْذَرُوا هَذَا وَأَشْبَاهَهُ فَإِنَّ فِي أُمَّتِي أَشْبَاهُ هَذَا يَقْرَءُونَ الْقُرآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ فَإِذَا خَرَجُوا فَاْقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُم»
(Beware of this man and his likes! There are similar persons in my Ummah who recite the Qur'an, but the Qur'an will not go beyond their throat. If they rise (against Muslims rulers) then kill them, if they rise, kill them, then if they rise kill them.) We were also told that the Prophet of Allah used to say,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُعْطِيكُمْ شَيْئًا وَلَا أَمْنَعُكُمُوهُ إِنَّمَا أَنَا خَازِن»
(By He in Whose Hand is my life! I do not give or withhold anything; I am only a keeper.)" This statement from Qatadah is similar to the Hadith that the Two Shaykhs narrated from Abu Sa`id about the story of Dhul-Khuwaysirah, whose name was Hurqus. Hurqus protested against the Prophet's division of the war spoils of Hunayn, saying, "Be fair, for you have not been fair!" The Prophet said,
«لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِل»
(I would have become a loser and a failure if I was not fair!) The Messenger ﷺ said after that man left,
«إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِىءِ هَذَا قَوْمٌ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ؛ فَإِنَّهْم شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاء»
(Among the offspring of this man will be some with whose prayer, when one of you sees it, would belittle his prayer, and his fast as compared to their fast. They will be renegades from the religion, just like an arrow goes through the game's body. Wherever you find them, kill them, for verily, they are the worst dead people under the cover of the sky.) Allah said next, while directing such people to what is more beneficial for them than their behavior,
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّآ إِلَى اللَّهِ رَغِبُونَ
(Would that they were content with what Allah and His Messenger gave them and had said: "Allah is sufficient for us. Allah will give us of His bounty, and so will His Messenger (from alms). We implore Allah (to enrich us).") This honorable Ayah contains a gracious type of conduct and an honorable secret. Allah listed; contentment with what He and His Messenger give, trusting in Allah alone -- by saying;
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ
(and they had said: Allah is sufficient for us), and hoping in Allah alone, and He made these the indications of obedience to the Messenger ﷺ, adhering to his commands, avoiding his prohibitions, believing his narrations and following his footsteps.
مال ودولت کے حریص منافق بعض منافق آنحضرت ﷺ پر تہمت لگاتے کہ آپ مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ۔ اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے جاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کردیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ عدل نہیں اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی حضور ﷺ کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ گر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہوگا ؟ پھر آپ نے فرمایا اس سے اور اس جیسوں سے بچو میری امت میں ان جیسے لوگ ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ جب نکلیں انہیں قتل کر ڈالو۔ پھر نکلیں تو مار ڈالو پھر جب ظاہر ہوں پھر گردنیں مارو۔ آپ فرماتے ہیں اللہ کی قسم نہ میں تمہیں دوں نہ تم سے روکوں میں تو ایک خازن ہوں۔ جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ ہر قوص نامی ایک شخص نے حضور ﷺ پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا تو عدل نہیں کرتا انصاف سے کام کر آپ نے فرمایا اگر میں بھی عدل نہ کروں تو تو پھر تیری بربادی کہیں نہیں جاسکتی۔ جب اس نے پیٹھ پھیری تو آپ نے فرمایا اس کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جن کی نمازوں کے مقابلے میں تمہاری نمازیں تمہیں حقیر معلوم ہونگی اور ان کے روزوں کے مقابلے میں تم میں سے ایک اور کو اپنے روزے حقیر معلوم ہوں گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے تمہیں جہاں بھی مل جائیں ان کے قتل میں کمی نہ کرو آسمان تلے ان مقتولوں سے بدتر مقتول اور کوئی نہیں۔ پھر ارشاد ہے کہ انہیں رسول کے ہاتھوں جو کچھ بھی اللہ نے دلوادیا تھا اگر یہ اس پر قناعت کرتے صبر و شکر کرتے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے وہ اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں ہمیں اور بھی دلوائے گا۔ ہماری امیدیں ذات الہٰی سے ہی وابستہ ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ پس ان میں اللہ کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہئے۔ توکل ذات واحد پر رکھے، اسی کو کافی وافی سمجھے، رغبت اور توجہ، لالچ اور امید اور توقع اس کی ذات پاک سے رکھے۔ رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی اطاعت میں سرمو فرق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرے کہ جو احکام ہوں انہیں بجالانے اور جو منع کام ہوں انہیں چھوڑ دینے اور جو خبریں ہوں انہیں مان لینے اور صحیح اطاعت کرنے میں وہ رہبری فرمائے۔
59
View Single
وَلَوۡ أَنَّهُمۡ رَضُواْ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ سَيُؤۡتِينَا ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَرَسُولُهُۥٓ إِنَّآ إِلَى ٱللَّهِ رَٰغِبُونَ
How excellent it would be, if they were pleased with what Allah and His Noble Messenger had given them and said, “Allah suffices us; Allah will now give us by His munificence, and (so will) Allah’s Noble Messenger – and towards Allah only are we inclined.”
اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا)
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites question the Integrity of the Messenger when distributing Alms
Allah said next,
وَمِنْهُمُ
(And of them), among the hypocrites,
مَّن يَلْمِزُكَ
(who accuse you) or question your integrity,
فِى
(concerning), division of,
الصَّدَقَـتِ
(the alms), when you divide them. They question your fairness, even though it is they who deserve that their integrity be questioned. The hypocrites do not do this in defense of the religion, but to gain more for themselves. This is why,
أُعْطُواْ مِنْهَا
(If they are given) meaning, from the Zakah,
رَضُواْ وَإِن لَّمْ يُعْطَوْاْ مِنهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ
(They are pleased, but if they are not given thereof, behold! They are enraged!) 9:58, angry for themselves. Qatadah commented on Allah's statement,
وَمِنْهُمْ مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَـتِ
(And of them are some who accuse you concerning the alms. ) "Allah says, `Some of them question your integrity in the matter of distribution of the alms.' We were told that a bedouin man, who had recently embraced Islam, came to the Prophet , when he was dividing some gold and silver, and said to him, `O Muhammad! Even though Allah commanded you to divide in fairness, you have not done so.' The Prophet of Allah said,
«وَيْلَكَ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَعْدِلُ عَلَيْكَ بَعْدِي؟»
(Woe to you! Who would be fair to you after me then) The Prophet of Allah said next,
«احْذَرُوا هَذَا وَأَشْبَاهَهُ فَإِنَّ فِي أُمَّتِي أَشْبَاهُ هَذَا يَقْرَءُونَ الْقُرآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ فَإِذَا خَرَجُوا فَاْقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُم»
(Beware of this man and his likes! There are similar persons in my Ummah who recite the Qur'an, but the Qur'an will not go beyond their throat. If they rise (against Muslims rulers) then kill them, if they rise, kill them, then if they rise kill them.) We were also told that the Prophet of Allah used to say,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُعْطِيكُمْ شَيْئًا وَلَا أَمْنَعُكُمُوهُ إِنَّمَا أَنَا خَازِن»
(By He in Whose Hand is my life! I do not give or withhold anything; I am only a keeper.)" This statement from Qatadah is similar to the Hadith that the Two Shaykhs narrated from Abu Sa`id about the story of Dhul-Khuwaysirah, whose name was Hurqus. Hurqus protested against the Prophet's division of the war spoils of Hunayn, saying, "Be fair, for you have not been fair!" The Prophet said,
«لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِل»
(I would have become a loser and a failure if I was not fair!) The Messenger ﷺ said after that man left,
«إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِىءِ هَذَا قَوْمٌ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ؛ فَإِنَّهْم شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاء»
(Among the offspring of this man will be some with whose prayer, when one of you sees it, would belittle his prayer, and his fast as compared to their fast. They will be renegades from the religion, just like an arrow goes through the game's body. Wherever you find them, kill them, for verily, they are the worst dead people under the cover of the sky.) Allah said next, while directing such people to what is more beneficial for them than their behavior,
وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوْاْ مَآ ءَاتَـهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّآ إِلَى اللَّهِ رَغِبُونَ
(Would that they were content with what Allah and His Messenger gave them and had said: "Allah is sufficient for us. Allah will give us of His bounty, and so will His Messenger (from alms). We implore Allah (to enrich us).") This honorable Ayah contains a gracious type of conduct and an honorable secret. Allah listed; contentment with what He and His Messenger give, trusting in Allah alone -- by saying;
وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللَّهُ
(and they had said: Allah is sufficient for us), and hoping in Allah alone, and He made these the indications of obedience to the Messenger ﷺ, adhering to his commands, avoiding his prohibitions, believing his narrations and following his footsteps.
مال ودولت کے حریص منافق بعض منافق آنحضرت ﷺ پر تہمت لگاتے کہ آپ مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ۔ اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے جاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کردیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ عدل نہیں اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی حضور ﷺ کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ گر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہوگا ؟ پھر آپ نے فرمایا اس سے اور اس جیسوں سے بچو میری امت میں ان جیسے لوگ ہوں گے قرآن پڑھیں گے لیکن حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ جب نکلیں انہیں قتل کر ڈالو۔ پھر نکلیں تو مار ڈالو پھر جب ظاہر ہوں پھر گردنیں مارو۔ آپ فرماتے ہیں اللہ کی قسم نہ میں تمہیں دوں نہ تم سے روکوں میں تو ایک خازن ہوں۔ جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ذوالخویصرہ ہر قوص نامی ایک شخص نے حضور ﷺ پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا تو عدل نہیں کرتا انصاف سے کام کر آپ نے فرمایا اگر میں بھی عدل نہ کروں تو تو پھر تیری بربادی کہیں نہیں جاسکتی۔ جب اس نے پیٹھ پھیری تو آپ نے فرمایا اس کی نسل سے ایک قوم نکلے گی جن کی نمازوں کے مقابلے میں تمہاری نمازیں تمہیں حقیر معلوم ہونگی اور ان کے روزوں کے مقابلے میں تم میں سے ایک اور کو اپنے روزے حقیر معلوم ہوں گے لیکن وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے تمہیں جہاں بھی مل جائیں ان کے قتل میں کمی نہ کرو آسمان تلے ان مقتولوں سے بدتر مقتول اور کوئی نہیں۔ پھر ارشاد ہے کہ انہیں رسول کے ہاتھوں جو کچھ بھی اللہ نے دلوادیا تھا اگر یہ اس پر قناعت کرتے صبر و شکر کرتے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے وہ اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں ہمیں اور بھی دلوائے گا۔ ہماری امیدیں ذات الہٰی سے ہی وابستہ ہیں تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔ پس ان میں اللہ کی تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو دے اس پر انسان کو صبر و شکر کرنا چاہئے۔ توکل ذات واحد پر رکھے، اسی کو کافی وافی سمجھے، رغبت اور توجہ، لالچ اور امید اور توقع اس کی ذات پاک سے رکھے۔ رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی اطاعت میں سرمو فرق نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرے کہ جو احکام ہوں انہیں بجالانے اور جو منع کام ہوں انہیں چھوڑ دینے اور جو خبریں ہوں انہیں مان لینے اور صحیح اطاعت کرنے میں وہ رہبری فرمائے۔
60
View Single
۞إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
The obligatory charity* is only for the destitute and the really needy, and those who collect it, and for those in whose hearts the love of Islam needs to be instilled**, and to free slaves, and to debtors, and in Allah's cause***, and to the traveller; this is decreed by Allah; and Allah is All Knowing, Wise. (* This applies only to Zakat. ** The new convert to Islam. *** To the fighter having no provisions for holy war.)
بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Expenditures of Zakah (Alms)
After Allah mentioned the protest that the ignorant hypocrites mentioned to the Prophet about the distribution of alms. He stated that it is He who divided the alms, explained its rulings and decided in its division; He did not delegate this decision to anyone else. Allah mentioned the expenditures of Zakah in this Ayah, starting with the Fuqara' (the poor) because they have more need than the other categories, since their need is pressing and precarious. It was reported that Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan Al-Basri, Ibn Zayd and several others said that the Faqir is a graceful person who does not ask anyone for anything, while the Miskin is the one who follows after people, begging. Qatadah said, "The Faqir is the ill person, while the Miskin is physically fit." We will now mention the Hadiths about each of these eight categories
The Fuqara' (Poor)
Ibn `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(The alms should not be given to the wealthy and the physically fit.) Ahmad, Abu Dawud and At-Tirmidhi collected this Hadith.
The Masakin (Needy)
Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَان»
قالوا: فمن المسكين يا رسول الله؟ قال:
«الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا»
(The needy person is not the one who goes round the people and asks them for a mouthful or two (of meals) or a date or two). They asked, "Then who is the needy person, O Allah's Messenger!" He said, (The one who does not have enough to satisfy his needs and whose condition is not known to others, that others may give him something in charity, and who does not beg of people.) The Two Shaykhs collected this Hadith
Those employed to collect Alms
Those employed to collect alms deserve a part of the alms, unless they are relatives of the Messenger of Allah ﷺ, who are not allowed to accept any Sadaqah. Muslim recorded that `Abdul-Muttalib bin Rabi`ah bin Al-Harith and Al-Fadl bin Al-`Abbas went to the Messenger of Allah ﷺ asking him to employ them to collect the alms. The Messenger ﷺ replied,
«إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاس»
(Verily, the alms are not allowed for Muhammad nor the relatives of Muhammad, for it is only the dirt that the people discard.) Al-Mu'allafatu Qulubuhum There are several types of Al-Mu'allafatu Qulubuhum. There are those who are given alms to embrace Islam. For instance, the Prophet of Allah gave something to Safwan bin Umayyah from the war spoils of Hunayn, even though he attended it while a Mushrik. Safwan said, "He kept giving me until he became the dearest person to me after he had been the most hated person to me." Imam Ahmad recorded that Safwan bin Umayyah said, "The Messenger of Allah ﷺ gave me (from the spoils of) Hunayn while he was the most hateful person to me. He kept giving me until he became the most beloved person to me." Muslim and At-Tirmidhi collected this Hadith, as well. Some of Al-Mu'allafatu Qulubuhum are given from alms so that they become better in Islam and their heart firmer in faith. For instance, the Prophet gave some of the chiefs of the Tulaqa' a hundred camels each after the battle of Hunayn, saying,
«إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكِبَّهُ اللهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّم»
(I give a man (from the alms) while another man is dearer to me than him, for fear that Allah might throw him on his face in the fire of Jahannam.) It is recorded in the Two Sahihs that Abu Sa`id said that `Ali sent the Messenger of Allah a gold nugget still in its dirt from Yemen. The Prophet divided it between four men: Al-Aqra` bin Habis, `Uyaynah bin Badr, `Alqamah bin `Ulathah and Zayd Al-Khayr, saying,
«أَتَأَلَّفُهُم»
(To draw their hearts closer.) Some people are given because some of his peers might embrace Islam, while others are given to collect alms from surrounding areas, or to defend Muslim outposts. Allah knows best.
The Riqab
Al-Hasan Al-Basri, Muqatil bin Hayyan, `Umar bin `Abdul-`Aziz, Sa`id bin Jubayr, An-Nakha`i, Az-Zuhri and Ibn Zayd said Riqab means those slaves who make an agreement with the master to pay a certain ransom for their freedom." Similar was reported from Abu Musa Al-Ash`ari. Ibn `Abbas and Al-Hasan said, "It is allowed to use Zakah funds to buy the freedom of slaves," indicating that `Riqab' has more general meanings than merely giving money to slaves to buy their freedom or one's buying a slave and freeing him on an individual basis. A Hadith states that for every limb of the servant freed, Allah frees a limb of the one who freed him from slavery, even a sexual organ for a sexual organ, for the reward is equitable to the deed,
وَمَا تُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And you will be requited nothing except for what you used to do.) 37:39
Virtue of freeing Slaves
In the Musnad, there is a Hadith from Al-Bara' bin `Azib that a man asked, "O Allah's Messenger! Direct me to an action that draws me closer to Paradise and away from the Fire." The Messenger of Allah ﷺ said,
«أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ الرَّقَبَة»
(Emancipate the person and free the neck (slave).) The man asked, "O Allah's Messenger! Are they not one and the same" He said,
«لَا، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تُفْرِدَ بِعِتْقِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا»
(No, you emancipate a person by freeing him on your own, but you untie a neck (slave) by helping in its price.)
Al-Gharimun (the Indebted)
There are several types of indebted persons. They include those who incur expenses in solving disputes between people, those who guarantee a loan that became due, causing financial strain to them, and those whose funds do not sufficiently cover their debts. It also includes those who indulged in a sin and repented from it. These types have a right to a part of alms designated for Al-Gharimun. Qabisah bin Mukhariq Al-Hilali said, "I carried a debt resolving a dispute between people and went to the Messenger of Allah ﷺ asking him to help pay it. The Messenger ﷺ said,
«أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا»
(Be patient until some alms are brought to us so that we give it to you.) He then said,
«يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَرَابَةِ قَوْمِهِ فَيَقُولُونَ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا»
(O Qabisah! Begging is only allowed for three: a man who incurred debts solving disputes, so he is allowed to beg until he collects its amount and then stops. A man who was inflicted by a disaster that consumed his wealth, he is allowed to beg until he collects what suffices for his livelihood. And a man who was overcome by poverty, that three wise relatives of his stand up and proclaim, `So-and-so was overcome by poverty.' This man is allowed to beg until he collects what sustains his livelihood. Other than these cases, begging is an unlawful amount that one illegally devours.) Muslim collected this Hadith. Abu Sa`id said, "During the time of the Messenger of Allah ﷺ , a man was struck by disaster because of fruits that he bought, causing him extensive debts. The Prophet said,
«تَصَدَّقُوا عَلَيْه»
(Give him charity.) The people did that but the amount collected did not cover his debts. The Prophet said to the man's debtors,
«خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِك»
(Take what was collected, you will have nothing beyond that.)" Muslim collected this Hadith.
In the Cause of Allah
In the cause of Allah is exclusive for the benefit of the fighters in Jihad, who do not receive compensation from the Muslim Treasury.
Ibn As-Sabil (Wayfarer)
Ibn As-Sabil is a term used for the needy traveler in a land, where he does not have what helps him continue his trip. This type has a share in the Zakah for what suffices him to reach his destination, even if he had money there. The same is true for whoever intends to travel from his area but does not have enough money. This type also has a share in the Zakah money to suffice for his trip and back. This is proven in the Ayah as well as the following Hadith. Imams Abu Dawud and Ibn Majah recorded that Ma`mar said that Zayd bin Aslam said that `Ata' bin Yasar said that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى لِغَنِي»
(Sadaqah is not rightful for a wealthy person except in five cases: those employed to collect it, one who bought a charity item with his money, a Gharim (debtor), a fighter in the cause of Allah, or a poor man who gets a part of the Zakah so he gives it as a gift to a rich man.) Allah's statement,
فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ
(a duty imposed by Allah), means, a decision, decree and division ordained by Allah,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(And Allah is All-Knower, All-Wise), knowledgeable of all things outwardly and inwardly and what benefits His servants,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in all what he declares, does, legislates and decides, there is no true deity or lord except Him.
زکوۃ اور صدقات کا مصرف نبی ﷺ نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت ہے ؟ اوپر کی آیت میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذات رسول ﷺ پر تقسیم صدقات میں اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ اب یہاں اس آیت میں بیان فرما دیا کہ تقسیم زکوٰۃ پیغمبر کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ ہمارے بتائے ہوئے مصارف میں ہی لگتی ہے۔ ہم نے خود اس کی تقسیم کردی ہے کسی اور کے سپرد نہیں کی ابو داؤد میں ہے زیاد بن حارث صدائی ؓ فرماتے ہیں میں نے سرکار نبوت میں حاضر ہو کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ایک شخص نے آن کر آپ سے سوال کیا کہ مجھے صدقے میں سے کچھ دلوائیے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نبی غیر نبی کسی کے حکم پر تقسیم زکوٰۃ کے بارے میں راضی نہیں ہوا یہاں تک کہ خود اس نے تقسیم کردی ہے آٹھ مصرف مقرر کردیئے ہیں اگر تو ان میں سے کسی میں ہے تو میں تجھے دے سکتا ہوں۔ امام شافعی وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مال کی تقسیم ان آٹھوں قسم کے تمام لوگوں پر کرنی واجب ہے اور امام مالک وغیرہ کا قول ہے کہ واجب نہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک کو ہی دے دینا کافی ہے گو اور قسم کے لوگ بھی ہوں۔ عام اہل علم کا قول بھی یہی ہے آیت میں بیان مصرف ہے نہ کہ ان سب کو دینے کا وجوب کا ذکر۔ ان اقوال کی دلیلوں اور مناظروں کی جگہ یہ کتاب نہیں واللہ اعلم۔ فقیروں کو سب سے پہلے اس لئے بیان فرمایا کہ ان کی حاجت بہت سخت ہے۔ گو امام ابوحنیفہ کے نزدیک مسکین فقیر سے بھی برے حال والا ہے حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس کے ہاتھ تلے مال نہ ہو اسی کو فقیر نہیں کہتے بلکہ فقیر وہ بھی ہے جو محتاج ہو گرا پڑا ہو گو کچھ کھاتا کماتا بھی ہو۔ ابن علیہ کہتے ہیں اس روایت میں اخلق کا لفظ ہے اخلق کہتے ہیں ہمارے نزدیک تجارت کو لیکن جمہور اس کے برخلاف ہیں۔ اور بہت سے حضرات فرماتے ہیں فقیر وہ ہے جو سوال سے بچنے والا ہو اور مسکین وہ ہے جو سائل ہو لوگوں کے پیچھے لگنے والا اور گھروں اور گلیوں میں گھومنے والا۔ قتادہ کہتے ہیں فقیر وہ ہے جو بیماری والا ہو اور مسکین وہ ہے جو صحیح سالم جسم والا ہو۔ ابراہیم کہتے ہیں مراد اس سے مہاجر فقراء ہیں سفیان ثوری کہتے ہیں یعنی دیہاتیوں کو اس میں سے کچھ نہ ملے۔ عکرمہ کہتے ہیں مسلمانوں فقراء کو مساکین نہ کہو۔ مسکین تو صرف اہل کتاب کے لوگ ہیں۔ اب وہ حدیثیں سنئے جو ان آٹھوں قسموں کے متعلق ہیں۔ فقراء۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مال دار اور تندرست توانا پر حلال نہیں۔ کچھ شخصوں نے حضور ﷺ سے صدقے کا مال مانگا آپ نے بغور نیچے سے اوپر تک انہیں ہٹا کٹا قوی تندرست دیکھ کر فرمایا گر تم چاہو تو تمہیں دے دوں مگر امیر شخص کا اور قوی طاقت اور کماؤ شخص کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ مساکین، حضور ﷺ فرماتے ہیں مسکین یہی گھوم گھوم کر ایک لقمہ دو لقمے ایک کھجور دو کھجور لے کر ٹل جانے والے ہی نہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر مساکین کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو بےپرواہی کے برابر نہ پائے نہ اپنی ایسی حالت رکھے کہ کوئی دیکھ کر پہچان لے اور کچھ دے دے نہ کسی سے خود کوئی سوال کرے۔ صدقہ وصول کرنے والے یہ تحصیل دار ہیں انہیں اجرت اسی مال سے ملے گی۔ آنحضرت ﷺ کے قرابت دار جن پر صدقہ حرام ہے اس عہدے پر نہیں آسکتے۔ عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث اور فضل بن عباس رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ درخواست لے کر گئے کہ ہمیں صدقہ وصولی کا عامل بنا دیجئے۔ آپ نے جواب دیا کہ محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر صدقہ حرام ہے یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے۔ جنکے دل بہلائے جاتے ہیں۔ ان کی کئی قسمیں ہیں بعض کو تو اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ اسلام قبول کرلیں جیسے کہ حضور ﷺ نے صفوان بن امیہ کو غنیمت حنین کا مال دیا تھا حالانکہ وہ اس وقت کفر کی حالت میں حضور ﷺ کے ساتھ نکلا تھا اس کا اپنا بیان ہے کہ آپ کی اس داد و دہش نے میرے دل میں آپ کی سب سے زیادہ محبت پیدا کردی حالانکہ پہلے سب سے بڑا دشمن آپ کا میں ہی تھا۔ بعض کو اس لئے دیا جاتا ہے کہ ان کا اسلام مضبوط ہوجائے اور ان کا دل اسلام پر لگ جائے۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے حنین والے دن مکہ کے آزاد کردہ لوگوں کے سرداروں کو سو سو اونٹ عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ میں ایک کو دیتا ہوں دوسرے کو جو اس سے زیادہ میرا محبوب ہے نہیں دیتا اس لئے کہ ایسا نہ ہو کہ یہ اوندھے منہ جہنم میں گرپڑے۔ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے یمن سے کچا سونا مٹی سمیت آپ کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے صرف چار شخصوں میں ہی تقسیم فرمایا۔ اقرع بن حابس، عینیہ بن بدر، عقلمہ بن علاچہ اور زید خیر اور فرمایا میں ان کی دلجوئی کے لئے انہیں دے رہا ہوں۔ بعض کو اس لئے بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آس پاس والوں سے صدقہ پہنچائے یا آس پاس کے دشمنوں کی نگہداشت رکھے اور انہیں اسلامیوں پر حملہ کرنے کا موقعہ نہ دے ان سب کی تفصیل کی جگہ احکام و فروع کی کتابیں ہیں نہ کہ تفسیر واللہ اعلم۔ حضرت عمر رضٰ اللہ عنہ اور عمار شعبی اور ایک جماعت کا قول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد اب یہ مصرف باقی نہیں رہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دے دی ہے مسلمان ملکوں کے مالک بن گئے ہیں اور بہت سے بندگان اللہ ان کے ماتحت ہیں۔ لیکن اور بزرگوں کا قول ہے کہ اب بھی مولفتہ القلوب کو زکوٰۃ دینی جائز ہے۔ فتح مکہ اور فتح ہوازن کے بعد بھی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم نے ان لوگوں کو مال دیا۔ دوسرے یہ کہ اب بھی ایسی ضرورتیں پیش آ جایا کرتی ہیں۔ آزادگی گردن کے بارے میں بہت سے بزرگ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے وہ غلام ہیں جنہوں نے رقم مقرر کر کے اپنے مالکوں سے اپنی آزادگی کی شرط کرلی ہے انہیں مال زکوٰۃ سے رقم دی جائے کہ وہ ادا کر کے آزاد ہوجائیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ وہ غلام جس نے یہ شرط نہ لکھوائی ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے خرید کر آزاد کرنے میں کوئی ڈر خوف نہیں۔ غرض مکاتب غلام اور محض غلام دونوں کی آزادگی زکوٰۃ کا ایک مصرف ہے احادیث میں بھی اس کی بہت کچھ فضیلت وارد ہوئی ہے یہاں تک کہ فرمایا ہے کہ آزاد کردہ غلام کے ہر ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کا ہر ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے یہاں تک کہ شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ بھی۔ اس لئے کہ ہر نیکی کی جزا اسی جیسی ہوتی ہے قرآن فرماتا ہے تمہیں وہی جزا دی جائے گی وہ تم نے کیا ہوگا۔ حدیث میں ہے تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ کے ذمے حق ہے وہ غازی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو وہ مکاتب غلام اور قرض دار جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہو وہ نکاح کرنے والا جس کا ارادہ بدکاری سے محفوظ رہنے کا ہو کسی نے حضور ﷺ سے کہا مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے آپ نے فرمایا نسمہ آزاد کر اور گردن خلاصی کر۔ اس نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں نسمہ کی آزادگی یہ ہے کہ تو اکیلا ہی کسی غلام کو آزاد کر دے۔ اور گردن خلاصی یہ ہے کہ تو بھی اس میں جو تجھ سے ہو سکے مدد کرے۔ قرض دار کی بھی کئی قسمیں ہیں ایک شخص دوسرے کا بوجھ اپنے اوپر لے لے کسی کے قرض کا اپنا ضامن بن جائے پھر اس کا مال ختم ہوجائے یا وہ خود قرض دار بن جائے یا کسی نے برائی پر قرض اٹھایا ہو اور اب وہ توبہ کرلے پس انہیں بھی مال زکوٰۃ دیا جائے گا کہ یہ قرض ادا کردیں۔ اس مسئلے کی اصل قبیصہ بن مخارق ہلالی کی یہ روایت ہے کہ میں نے دوسرے کا حوالہ اپنی طرف لیا تھا پھر میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا تم ٹھہرو ہمارے پاس مال صدقہ آئے گا ہم اس میں سے تمہیں دیں گے پھر فرمایا قبیصہ سن تین قسم کے لوگوں کو ہی سوال حلال ہے ایک تو وہ جو ضامن پڑے پس اس رقم کے پورا ہونے تک اسے سوال جائز ہے پھر سوال نہ کرے۔ دوسرا وہ جس کا مال کسی آفت ناگہانی سے ضائع ہوجائے اسے بھی سوال کرنا درست ہے یہاں تک کہ ضرورت پوری ہوجائے۔ تیسرا وہ شخص جس پر فاقہ گذرنے لگے اور اس کی قسم کے تین ذی ہوش لوگ اس کی شہادت کے لئے کھڑے ہوجائیں کہ ہاں بیشک فلاں شخص پر فاقے گذرنے لگے ہیں اسے بھی مانگ لینا جائز ہے تاوقتیکہ اس کا سہارا ہوجائے اور سامان زندگی مہیا ہوجائے۔ اس کے سوا اوروں کو سوال کرنا حرام ہے اگر وہ مانگ کر کچھ لے کر کھائیں گے تو حرام کھائیں گے (مسلم شریف) ایک شخص نے زمانہ نبوی میں ایک باغ خریدا قدرت الہٰی سے آسمانی آفت سے باغ کا پھل مارا گیا اس سے وہ بہت قرض دار ہوگیا حضور ﷺ نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا کہ تمہیں جو ملے لے لو اس کے سوا تمہارے لئے اور کچھ نہیں۔ (مسلم) آپ فرماتے ہیں کہ ایک قرض دار کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بلا کر اپنے سامنے کھڑا کر کے پوچھے گا کہ تو نے قرض کیوں لیا اور کیوں رقم ضائع کردی ؟ جس سے لوگوں کے حقوق برباد ہوئے وہ جواب دے گا کہ اللہ تجھے خوب علم ہے میں نے نہ اس کی رقم کھائی نہ پی نہ اڑائی بلکہ میرے ہاں مثلاً چوری ہوگئی یا آگ لگ گئی یا کوئی اور آفت آگئی اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرا بندہ سچا ہے آج تیرے قرض کے ادا کرنے کا سب سے زیادہ مستحق میں ہی ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دے گا جس سے نیکیاں برائیوں سے بڑھ جائیں گی اور اللہ تبارک و تعالیٰ اسے اپنے فضل و رحمت سے جنت میں لے جائے گا (مسند احمد)۔ راہ الہٰی میں وہ مجاہدین غازی داخل ہیں جن کا دفتر میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ حج بھی راہ الٰہی میں داخل ہے۔ مسافر جو سفر میں بےسروسامان رہ گیا ہو اسے بھی مال زکوٰۃ سے اپنی رقم دی جائے جس سے وہ اپنے شہر سے سفر کو جانے کا قصد رکھتے ہوں لیکن مال نہ ہو تو اسے بھی سفر خرچ مال زکوٰۃ سے دینا جائز ہے جو اسے آمد و رفت کے لئے کافی ہو۔ آیت کے اس لفظ کی دلیل کے علاوہ ابو داؤد وغیرہ کی یہ حدیث بھی اس کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مالدار پر زکوٰۃ حرام ہے بجز پانچ قسم کے مالداروں کے ایک تو وہ جو زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہو دوسرا وہ جو مال زکوٰۃ کی کسی چیز کو اپنے مال سے خرید لے تیسرا قرض دار چوتھا راہ الٰہی کا غازی مجاہد، پانچواں وہ جسے کوئی مسکین بطور تحفے کے اپنی کوئی چیز جو زکوٰۃ میں اسے ملی ہو دے اور روایت ہے کہ زکوٰۃ مالدار کے لئے حلال نہیں مگر فی سبیل اللہ جو ہو یا سفر میں ہو اور جسے اس کا کوئی مسکین پڑوسی بطور تحفے ہدیئے کے دے یا اپنے ہاں بلا لے۔ زکوٰۃ کے ان آٹھوں مصارف کو بیان فرما کر پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے یعنی مقدر ہے اللہ کی تقدیر اس کی تقسیم اور اس کا فرض کرنا۔ اللہ تعالیٰ ظاہر باطن کا عالم ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ وہ اپنے قول فعل شریعت اور حکم میں حکمت والا ہے بجز اس کے کوئی بھی لائق عبادت نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کا پالنے والا ہے۔
61
View Single
وَمِنۡهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلنَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٞۚ قُلۡ أُذُنُ خَيۡرٖ لَّكُمۡ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِينَ وَرَحۡمَةٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡۚ وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
And among them (the hypocrites) are those who trouble* the Herald of the Hidden (the Prophet) and say, “He is only ears**”; say “He is a listener for your good, he believes in Allah and believes in what the Muslims say, and is a mercy for the Muslims among you”; and for those who trouble the Noble Messenger of Allah, is a painful punishment. (*To disrespect / trouble the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is blasphemy. **He believes whatever he is told.)
اور ان (منافقوں) میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں: وہ تو کان (کے کچے) ہیں۔ فرما دیجئے: تمہارے لئے بھلائی کے کان ہیں۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان (کی باتوں) پر یقین کرتے ہیں اور تم میں سے جو ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے رحمت ہیں، اور جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (اپنی بدعقیدگی، بدگمانی اور بدزبانی کے ذریعے) اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites annoy the Prophet
Allah says, some hypocrites bother the Messenger of Allah ﷺ by questioning his character, saying,
هُوَ أُذُنٌ
(he is (lending his) ear), to those who say anything about us; he believes whoever talks to him. Therefore, if we went to him and swore, he would believe us. Similar was reported from Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah. Allah said,
قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ
(Say: "He listens to what is best for you"), he knows who's saying the truth and who is lying,
يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ
(he believes in Allah; has faith in the believers), he believes the believers,
وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ
(and is a mercy to those of you who believe"), and a proof against the disbelievers,
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(But those who annoy Allah's Messenger, will have a painful torment.)
نکتہ چین منافقوں کا مقصد منافقوں کی ایک جماعت بڑی موذی ہے اپنے باتوں سے اللہ کے رسول ﷺ کو دکھ پہنچاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ نبی تو کانوں کا بڑا ہی کچا ہے جس سے جو سنا مان لیا جب ہم اس کے پاس جائیں گے اور قسمیں کھائیں گے وہ ہماری بات کا یقین کرلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بہتر کانوں والا بہترین سننے والا ہے وہ صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے وہ اللہ کی باتیں مانتا ہے، اور باایمان لوگوں کی سچائی بھی جانتا ہے وہ مومنوں کے لئے رحمت ہے اور بےایمانوں کے لئے اللہ کی حجت ہے رسول کے ستانے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
62
View Single
يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوكُمۡ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرۡضُوهُ إِن كَانُواْ مُؤۡمِنِينَ
They swear by Allah in your presence in order to please you; whereas Allah – and His Noble Messenger – had more right that they should have pleased Him if they had faith.
مسلمانو! (یہ منافقین) تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی رکھیں حالانکہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ حقدار ہے کہ وہ اسے راضی کریں اگر یہ لوگ ایمان والے ہوتے (تو یہ حقیقت جان لیتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو راضی کرتے، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے سے ہی اللہ راضی ہو جاتا ہے کیونکہ دونوں کی رضا ایک ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites revert to Lies to please People
Qatadah said about Allah's statement,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ
(They swear by Allah to you (Muslims) in order to please you) "A hypocrite man said, `By Allah! They (hypocrites) are our chiefs and masters. If what Muhammad says is true, they are worse than donkeys.' A Muslim man heard him and declared, `By Allah! What Muhammad says is true and you are worse than a donkey!' The Muslim man conveyed what happened to the Prophet who summoned the hypocrite and asked him,
«مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي قُلْتَ؟»
(What made you say what you said) That man invoked curses on himself and swore by Allah that he never said that. Meanwhile, the Muslim man said, `O Allah! Assert the truth of the truthful and expose the lies of the liar.' Allah revealed this Verse."' Allah's statement,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّهُ مَن يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(Know they not that whoever opposes and shows hostility to Allah and His Messenger,) means, have they not come to know and realize that those who defy, oppose, wage war and reject Allah, thus becoming on one side while Allah and His Messenger on another side,
فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِداً فِيهَا
(certainly for him will be the fire of Hell to abide therein), in a humiliating torment,
ذَلِكَ الْخِزْىُ الْعَظِيمُ
(That is the extreme disgrace)9:63, that is the greatest disgrace and the tremendous misery.
نادان اور کوڑ مغز کون ؟ واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقل مند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد ﷺ کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے ؟ یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی نے سن لی اور اس نے کہا واللہ حضور ﷺ کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کوڑ مغز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جب یہ صحابی دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا کہ آپ نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے اس صحابی نے دعا کی کہ پروردگار تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ اور رسول کے مخالف ابدی اور جہنمی ہیں۔ ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھکر شقاوت اور کیا ہوگی ؟
63
View Single
أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدٗا فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡخِزۡيُ ٱلۡعَظِيمُ
Do they not know that for one who opposes Allah and His Noble Messenger, is the fire of hell, to remain in it forever? This is the greatest humiliation.
کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتا ہے تو اس کے لئے دوزخ کی آگ (مقرر) ہے جس میں وہ ہمیشہ رہنے والا ہے، یہ زبردست رسوائی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites revert to Lies to please People
Qatadah said about Allah's statement,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ
(They swear by Allah to you (Muslims) in order to please you) "A hypocrite man said, `By Allah! They (hypocrites) are our chiefs and masters. If what Muhammad says is true, they are worse than donkeys.' A Muslim man heard him and declared, `By Allah! What Muhammad says is true and you are worse than a donkey!' The Muslim man conveyed what happened to the Prophet who summoned the hypocrite and asked him,
«مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي قُلْتَ؟»
(What made you say what you said) That man invoked curses on himself and swore by Allah that he never said that. Meanwhile, the Muslim man said, `O Allah! Assert the truth of the truthful and expose the lies of the liar.' Allah revealed this Verse."' Allah's statement,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّهُ مَن يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(Know they not that whoever opposes and shows hostility to Allah and His Messenger,) means, have they not come to know and realize that those who defy, oppose, wage war and reject Allah, thus becoming on one side while Allah and His Messenger on another side,
فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِداً فِيهَا
(certainly for him will be the fire of Hell to abide therein), in a humiliating torment,
ذَلِكَ الْخِزْىُ الْعَظِيمُ
(That is the extreme disgrace)9:63, that is the greatest disgrace and the tremendous misery.
نادان اور کوڑ مغز کون ؟ واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقل مند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد ﷺ کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے ؟ یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی نے سن لی اور اس نے کہا واللہ حضور ﷺ کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کوڑ مغز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جب یہ صحابی دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا کہ آپ نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے اس صحابی نے دعا کی کہ پروردگار تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ اور رسول کے مخالف ابدی اور جہنمی ہیں۔ ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھکر شقاوت اور کیا ہوگی ؟
64
View Single
يَحۡذَرُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُورَةٞ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلِ ٱسۡتَهۡزِءُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ مُخۡرِجٞ مَّا تَحۡذَرُونَ
The hypocrites fear for a chapter being revealed regarding them, which may disclose what is hidden in their hearts; say, “Keep mocking; Allah will certainly disclose what you fear.”
منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل کر دی جائے جو انہیں ان باتوں سے خبردار کر دے جو ان (منافقوں) کے دلوں میں (مخفی) ہیں۔ فرما دیجئے: تم مذاق کرتے رہو، بیشک اللہ وہ (بات) ظاہر فرمانے والا ہے جس سے تم ڈر رہے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Hypocrites fear Public Exposure of Their Secrets
Mujahid said, "The hypocrites would say something to each other then declare, `We wish that Allah does not expose this secret of ours," There is a similar Ayah to this one, that is, Allah's statement,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِى أَنفُسِهِمْ لَوْلاَ يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not, and say within themselves: "Why should Allah punish us not for what we say" Hell will be sufficient for them; they will burn therein. And worst indeed is that destination!) 58:8. Allah said in this Ayah,
قُلِ اسْتَهْزِءُواْ إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ
(Say: "(Go ahead and) mock! But certainly Allah will bring to light all that you fear."), He will expose and explain your reality to His Messenger through revelation. Allah said in other Ayat,
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَـنَهُمْ
(Or do those in whose hearts is a disease (of hypocrisy), think that Allah will not bring to light all their hidden ill-wills) 47:29, until,
وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِى لَحْنِ الْقَوْلِ
(but surely, you will know them by the tone of their speech!)47:30. This is why, according to Qatadah, this Surah is called `Al-Fadihah' (the Exposing), because it exposed the hypocrites.
نبی اکرم ﷺ سے گھبراتے بھی ہیں آپس میں بیٹھ کر باتیں تو گانٹھ لیتے لیکن پھر خوف زدہ رہتے کہ کہیں اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو بذریعہ وحی الٰہی خبر نہ ہوجائے اور آیت میں ہے تیرے سامنے آ کر وہ دعائیں دیتے ہیں جو اللہ نے نہیں دیں پھر اپنے جی میں اکڑتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ ہمیں کوئی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم کی کافی سزا موجود ہے جو بدترین جگہ ہے۔ یہاں فرماتا ہے دینی باتوں اور مسلمانوں کی حالت پر دل کھول کر مذاق اڑالو۔ اللہ بھی وہ راز افشاء کر دے گا جو تمہارے دلوں میں ہے۔ یاد رکھو ایک دن رسوا اور ذلیل ہو کر رہو گے۔ چناچہ فرمان ہے کہ یہ بیمار دل لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے دلوں کی بدیاں ظاہر ہی نہ ہوں گی۔ ہم تو انہیں اس قدر فضیحت کریں گے اور ایسی نشانیاں تیرے سامنے رکھ دیں گے کہ تو ان کے لب و لہجے سے ہی انہیں پہچان لے گا۔ اس سورت کا نام ہی سورة الفاضحہ ہے اس لئے کہ اس نے منافقوں کی قلعی کھول دی۔
65
View Single
وَلَئِن سَأَلۡتَهُمۡ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلۡعَبُۚ قُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ
And if you ask them, they will say, “We were just having fun and pastime”; say, “What! You mock at Allah and His verses and His Noble Messenger?”
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ ہم تو صرف (سفر کاٹنے کے لئے) بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ فرما دیجئے: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کر رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Hypocrites rely on False, Misguided Excuses
`Abdullah bin `Umar said, "During the battle of Tabuk, a man was sitting in a gathering and said, `I have never seen like these reciters of ours! They have the hungriest stomachs, the most lying tongues and are the most cowardice in battle.' A man in the Masjid said, `You lie. You are a hypocrite, and I will surely inform the Messenger of Allah ﷺ. ' This statement was conveyed to the Messenger of Allah ﷺ and also a part of the Qur'an was revealed about it."' `Abdullah bin `Umar said, "I have seen that man afterwards holding onto the shoulders of the Messenger's camel while stones were falling on him, declaring, `O Allah's Messenger! We were only engaged in idle talk and jesting,' while the Messenger of Allah ﷺ was reciting,
أَبِاللَّهِ وَءَايَـتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ
("Was it at Allah, and His Ayat and His Messenger that you were mocking") 9:65."' Allah said,
لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(Make no excuse; you disbelieved after you had believed.) on account of your statement and mocking,
إِن نَّعْفُ عَن طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةً
(If We pardon some of you, We will punish others among you) for not all of you will be forgiven, some will have to taste the torment,
بِأَنَّهُمْ كَانُواْ مُجْرِمِينَ
(because they were criminals), they were criminals because of this terrible, sinful statement.
مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے شکم دار شیخی باز اور بڑے فضول اور بزدل ہیں۔ حضور ﷺ کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ ہم تو یونہی وقت گزاری کے لئے ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا ہاں تمہارے ہنسی کے لئے اللہ رسول اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو اگر کسی کو ہم معاف کردیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی دیں گے۔ اس وقت حضور ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا معذرت کرتا ساتھ ساتھ جا رہا تھا آپ اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے حضور ﷺ کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور فحش بن حمیر وغیرہ تھے یہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی کو عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔ ان پر ان کے دوسرے سردار فحش نے کہا بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے۔ آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمار سے فرمایا جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے ؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ باتیں کر رہے تھے۔ حضرت عمار نے جا کر ان سے یہ کہا یہ حضور ﷺ کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے کہ حضور ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی، ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن فحش بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔ پس اس سے جناب باری نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل لیا عبدالرحمن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرنا کہ یہ دھبہ دھل جائے چناچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہد کردیئے گئے اور ان کی نعش بھی نہ ملی ؓ ورضاء۔ ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دوربینی کو تو دیکھئے جب حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کردیا تو یہ صاف منکر ہوگئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہوگا یہ کہا کرتا تھا کہ یا اللہ میں تیرے کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے۔ پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن انکی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔ جناب باری کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہوگئے یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ رسول اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہونے کا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس کافرانہ گفتگو کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنا پڑے گی۔
66
View Single
لَا تَعۡتَذِرُواْ قَدۡ كَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡۚ إِن نَّعۡفُ عَن طَآئِفَةٖ مِّنكُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَةَۢ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ
“Do not feign excuses, you have turned disbelievers after becoming Muslims”; if We forgive some of you*, We shall punish others because they were guilty. (* One who kept quiet and later repented.)
(اب) تم معذرت مت کرو، بیشک تم اپنے ایمان (کے اظہار) کے بعد کافر ہو گئے ہو، اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں (تب بھی) دوسرے گروہ کو عذاب دیں گے اس وجہ سے کہ وہ مجرم تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Hypocrites rely on False, Misguided Excuses
`Abdullah bin `Umar said, "During the battle of Tabuk, a man was sitting in a gathering and said, `I have never seen like these reciters of ours! They have the hungriest stomachs, the most lying tongues and are the most cowardice in battle.' A man in the Masjid said, `You lie. You are a hypocrite, and I will surely inform the Messenger of Allah ﷺ. ' This statement was conveyed to the Messenger of Allah ﷺ and also a part of the Qur'an was revealed about it."' `Abdullah bin `Umar said, "I have seen that man afterwards holding onto the shoulders of the Messenger's camel while stones were falling on him, declaring, `O Allah's Messenger! We were only engaged in idle talk and jesting,' while the Messenger of Allah ﷺ was reciting,
أَبِاللَّهِ وَءَايَـتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ
("Was it at Allah, and His Ayat and His Messenger that you were mocking") 9:65."' Allah said,
لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَـنِكُمْ
(Make no excuse; you disbelieved after you had believed.) on account of your statement and mocking,
إِن نَّعْفُ عَن طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةً
(If We pardon some of you, We will punish others among you) for not all of you will be forgiven, some will have to taste the torment,
بِأَنَّهُمْ كَانُواْ مُجْرِمِينَ
(because they were criminals), they were criminals because of this terrible, sinful statement.
مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے شکم دار شیخی باز اور بڑے فضول اور بزدل ہیں۔ حضور ﷺ کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ ہم تو یونہی وقت گزاری کے لئے ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا ہاں تمہارے ہنسی کے لئے اللہ رسول اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو اگر کسی کو ہم معاف کردیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی دیں گے۔ اس وقت حضور ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا معذرت کرتا ساتھ ساتھ جا رہا تھا آپ اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے حضور ﷺ کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور فحش بن حمیر وغیرہ تھے یہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی کو عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔ ان پر ان کے دوسرے سردار فحش نے کہا بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے۔ آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمار سے فرمایا جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے ؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ باتیں کر رہے تھے۔ حضرت عمار نے جا کر ان سے یہ کہا یہ حضور ﷺ کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے کہ حضور ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی، ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن فحش بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔ پس اس سے جناب باری نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل لیا عبدالرحمن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرنا کہ یہ دھبہ دھل جائے چناچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہد کردیئے گئے اور ان کی نعش بھی نہ ملی ؓ ورضاء۔ ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دوربینی کو تو دیکھئے جب حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کردیا تو یہ صاف منکر ہوگئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہوگا یہ کہا کرتا تھا کہ یا اللہ میں تیرے کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے۔ پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن انکی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔ جناب باری کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہوگئے یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ رسول اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہونے کا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس کافرانہ گفتگو کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنا پڑے گی۔
67
View Single
ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ بَعۡضُهُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمُنكَرِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَقۡبِضُونَ أَيۡدِيَهُمۡۚ نَسُواْ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمۡۚ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
The hypocrite men and women are all the same; enjoining wrong and forbidding right, and being tight-fisted*; they have forgotten Allah, so Allah has forsaken them; indeed the hypocrites – it is they who are really disobedient. (* Not spending in Allah's cause)
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے (کی جنس) سے ہیں۔ یہ لوگ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور اچھی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے) بند رکھتے ہیں، انہوں نے اللہ کو فراموش کر دیا تو اللہ نے انہیں فراموش کر دیا، بیشک منافقین ہی نافرمان ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Other Characteristics of Hypocrites
Allah admonishes the hypocrites who, unlike the believers, who enjoin righteousness and forbid evil,
يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ
(they enjoin evil, and forbid the good, and they close their hands), from spending in Allah's cause,
نَسُواْ اللَّهَ
(They have forgotten Allah), they have forgotten the remembrance of Allah,
فَنَسِيَهُمْ
(so He has forgotten them.), by treating them as if He has forgotten them. Allah also,
وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا
(And it will be said: "This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours) 45:34. Allah said,
إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ هُمُ الْفَـسِقُونَ
(Verily, the hypocrites are the rebellious) the rebellious from the way of truth who embrace the wicked way,
وَعَدَ الله الْمُنَـفِقِينَ وَالْمُنَـفِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ
(Allah has promised the hypocrites -- men and women -- and the disbelievers, the fire of Hell), on account of their evildoing mentioned here,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(therein shall they abide.), for eternity, they and the disbelievers,
هِىَ حَسْبُهُمْ
(It will suffice them.), as a torment,
وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ
(Allah has cursed them), He expelled and banished them from His mercy,
وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ
(and for them is the lasting torment.)
ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں۔ مومن سخی ہوتے ہیں منافق بخیل ہوتے ہیں۔ مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں۔ منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔ اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ تم ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہوگئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں۔ ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لئے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ وہاں کا عذاب انہیں بس ہوگا۔ انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کرچکا ہے اور ان کے لئے اس نے دائمی اور مستقل عذاب رکھے ہیں۔
68
View Single
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ هِيَ حَسۡبُهُمۡۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّقِيمٞ
Allah has promised the hypocrite men and hypocrite women and the disbelievers, the fire of hell in which they will remain forever; that is sufficient for them; and Allah’s curse is upon them; and for them is a never ending punishment.
اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتشِ دوزخ کا وعدہ فرما رکھا ہے (وہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ (آگ) انہیں کافی ہے، اور اللہ نے ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ برقرار رہنے والا عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Other Characteristics of Hypocrites
Allah admonishes the hypocrites who, unlike the believers, who enjoin righteousness and forbid evil,
يَأْمُرُونَ بِالْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ
(they enjoin evil, and forbid the good, and they close their hands), from spending in Allah's cause,
نَسُواْ اللَّهَ
(They have forgotten Allah), they have forgotten the remembrance of Allah,
فَنَسِيَهُمْ
(so He has forgotten them.), by treating them as if He has forgotten them. Allah also,
وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا
(And it will be said: "This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours) 45:34. Allah said,
إِنَّ الْمُنَـفِقِينَ هُمُ الْفَـسِقُونَ
(Verily, the hypocrites are the rebellious) the rebellious from the way of truth who embrace the wicked way,
وَعَدَ الله الْمُنَـفِقِينَ وَالْمُنَـفِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ
(Allah has promised the hypocrites -- men and women -- and the disbelievers, the fire of Hell), on account of their evildoing mentioned here,
خَـلِدِينَ فِيهَآ
(therein shall they abide.), for eternity, they and the disbelievers,
هِىَ حَسْبُهُمْ
(It will suffice them.), as a torment,
وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ
(Allah has cursed them), He expelled and banished them from His mercy,
وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ
(and for them is the lasting torment.)
ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں۔ مومن سخی ہوتے ہیں منافق بخیل ہوتے ہیں۔ مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں۔ منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔ اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ تم ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہوگئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں۔ ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لئے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ وہاں کا عذاب انہیں بس ہوگا۔ انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کرچکا ہے اور ان کے لئے اس نے دائمی اور مستقل عذاب رکھے ہیں۔
69
View Single
كَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنكُمۡ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرَ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا فَٱسۡتَمۡتَعُواْ بِخَلَٰقِهِمۡ فَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِخَلَٰقِكُمۡ كَمَا ٱسۡتَمۡتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُم بِخَلَٰقِهِمۡ وَخُضۡتُمۡ كَٱلَّذِي خَاضُوٓاْۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
Like those who were before you – they were mightier than you in strength, and had more wealth and children than you; so they spent their portion – you spent your portion just as those before you spent their portion and you fell into shame (sin) like they had fallen into shame; their deeds have been wasted in the world and in the Hereafter; it is they who are the losers.
(اے منافقو! تم) ان لوگوں کی مثل ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ پس وہ اپنے (دنیوی) حصے سے فائدہ اٹھا چکے سو تم (بھی) اپنے حصے سے (اسی طرح) فائدہ اٹھا رہے ہو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے (لذّتِ دنیا کے) اپنے مقررہ حصے سے فائدہ اٹھایا تھا نیز تم (بھی اسی طرح) باطل میں داخل اور غلطاں ہو جیسے وہ باطل میں داخل اور غلطاں تھے۔ ان لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے اور وہی لوگ خسارے میں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
بِخَلَـقِهِمْ
(their portion), means, they mocked their religion, according to Al-Hasan Al-Basri. Allah's statement,
وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُواْ
(and you indulged in play and pastime as they indulged in play and pastime), indulged in lies and falsehood,
أُوْلَـئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَـلُهُمْ
(Such are they whose deeds are in vain), their deeds are annulled; they will not acquire any rewards for them because they are invalid,
فِي الدنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْخَـسِرُونَ
(in this world and in the Hereafter. Such are they who are the losers.) because they will not acquire any rewards for their actions. Ibn `Abbas commented, "How similar is this night to the last night,
كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ
(Like those before you...) These are the Children of Israel, with whom we were compared. The Prophet said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَتَّبِعُنَّهُمْ حَتَّى لَوْ دَخَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ جُحْرَ ضَبَ لَدَخَلْتُمُوه»
(By He in Whose Hand is my life! You will imitate them, and even if a man of them entered the den of a lizard, you will enter it likewise!)" Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَبَاعًا بِبَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبَ لَدَخَلْتُمُوه»
قالوا: ومن هم يا رسول الله، أهل الكتاب؟ قال:
«فَمَنْ؟»
(By He in Whose Hand is my soul! You will follow the traditions of those who were before you a hand span for a hand-span and forearm's length for forearm's length, and an arm's length for an arm's length. And even if they enter the den of a lizard, you will also enter it.) They asked, "Who, O Allah's Messenger, the People of the Book" He said, (Who else)" This Hadith is similar to another Hadith collected in the Sahih.
ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے۔ خلاق سے مراد یہاں دین ہے۔ جیسے اگلے لوگ جھوٹ اور باطل میں کودتے پھاندتے رہے۔ ایسے ہی ان لوگوں نے بھی کیا۔ انکے یہ فاسد اعمال اکارت ہوگئے۔ نہ دنیا میں سود مند ہوئے نہ آخرت میں ثواب دلانے والے ہیں۔ یہی صریح نقصان ہے کہ عمل کیا اور ثواب نہ ملا۔ ابن عباس فرماتے ہیں جیسے آج کی رات کل کی رات سے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح اس امت میں بھی یہودیوں کی مشابہت آگئی میرا تو خیال ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم ان کی پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ جانور کے سوراخ میں داخل ہوا ہے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اپنے سے پہلے کے لوگوں کے طریقوں کی تابعداری کرو گے بالکل بالشت بہ بالشت اور ذراع بہ ذراع اور ہاتھ بہ ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی کے بل میں گھسے ہیں تو یقیناً تم بھی گھسو گے لوگوں نے پوچھا اس سے مراد آپ کی کون لوگ ہیں ؟ کیا اہل کتاب ؟ آپ نے فرمایا اور کون ؟ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو قرآن کے ان لفظوں کو پڑھ لو (كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً) 9۔ التوبہ :69) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں خلاق سے مراد دین ہے۔ اور تم نے بھی اسی طرح کا خوض کیا جس طرح کا انہوں نے۔ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کیطرح ؟ آپ نے فرمایا اور لوگ ہی ہیں کون ؟ اس حدیث کے مفہوم پر شاہد صحیح احادیث میں بھی ہیں۔
70
View Single
أَلَمۡ يَأۡتِهِمۡ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَقَوۡمِ إِبۡرَٰهِيمَ وَأَصۡحَٰبِ مَدۡيَنَ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَٰتِۚ أَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
Did not the news of those before them reach them – the people of Nooh, and the A’ad, and the Thamud – the people of Ibrahim, the people of Madyan and the dwellings that were overturned? Their Noble Messengers had brought clear proofs to them; so it did not befit Allah’s Majesty to oppress them, but in fact they wronged themselves.
کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے، قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور قومِ ابراہیم اور باشندگانِ مدین اور ان بستیوں کے مکین جو الٹ دی گئیں، ان کے پاس (بھی) ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تھے (مگر انہوں نے نافرمانی کی) پس اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ (انکارِ حق کے باعث) اپنے اوپر خود ہی ظلم کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Advising the Hypocrites to learn a Lesson from Those before Them
Allah advises the hypocrites who reject the Messengers,
أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(Has not the story reached them of those before them) have you (hypocrites) not learned the end of the nations before you who rejected the Messengers,
قَوْمُ نُوحٍ
(The people of Nuh), and the flood that drowned the entire population of the earth, except those who believed in Allah's servant and Messenger Nuh, peace be upon him,
وَعَادٌ
(and `Ad), who perished with the barren wind when they rejected Hud, peace be upon him,
وَثَمُودُ
(and Thamud), who were overtaken by the Sayhah (awful cry) when they denied Salih, peace be upon him, and killed the camel,
وَقَوْمِ إِبْرَهِيمَ
(and the people of Ibrahim), over whom He gave Ibrahim victory and the aid of clear miracles. Allah destroyed their king Nimrod, son of Canaan, son of Koch from Canaan, may Allah curse him,
وِأَصْحَـبِ مَدْيَنَ
(and the dwellers of Madyan), the people of Shu`ayb, peace be upon him, who were destroyed by the earthquake and the torment of the day of the Shade,
وَالْمُؤْتَفِكَـتِ
(and the overturned cities), the people of Lut who used to live in Madyan. Allah said in another Ayah,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overturned cities) 53:53, meaning the people of the overturned cities in reference to Sadum Sodom, their major city. Allah destroyed them all because they rejected Allah's Prophet Lut, peace be upon him, and because they committed the sin that none before them had committed homosexuality.
أَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَـتِ
(to them came their Messengers with clear proofs.), and unequivocal evidence,
فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ
(So it was not Allah Who wronged them), when He destroyed them, for He established the proofs against them by sending the Messengers and dissipating the doubts,
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they used to wrong themselves), on account of their denying the Messengers and defying the Truth; this is why they earned the end, torment and punishment, that they did.
بدکاروں کے ماضی سے عبرت حاصل کرو ان بدکردار منافقوں کو وعظ سنایا جا رہا ہے کہ اپنے سے پہلے کے اپنے جیسوں کے حالات پر عبرت کی نظر ڈالو۔ دیکھو کہ نبیوں کی تکذیب کیا پھل لائی ؟ قوم نوح کا غرق ہونا اور سوا مسلمانوں کے کسی کا نہ بچنا یاد کرو۔ عادیوں کا ہود ؑ کے نہ ماننے کی وجہ سے ہوا کے جھونکوں سے تباہ ہونا یاد کرو، ثمودیوں کا حضرت صالح ؑ کے جھٹلانے اور اللہ کی نشانی اونٹنی کے کاٹ ڈالنے سے ایک جگر دوز کڑاکے کی آواز سے تباہ و بربار ہونا یاد کرو۔ ابراہیم ؑ کا دشمنوں کے ہاتھوں سے بچ جانا اور ان کے دشمنوں کا غارت ہونا، نمرود بن کنعان بن کوش جیسے بادشاہ کا مع اپنے لاؤ لشکر کے تباہ ہونا نہ بھولو۔ وہ سب لعنت کے مارے بےنشان کردیئے گئے، قوم شعیب انہی بدکرداریوں اور کفر کے بدلے زلزلے اور سائبان والے دن کے عذاب سے تہ وبالا کردی گئی۔ جو مدین کی رہنے والی تھی۔ قوم لوط جن کی بستیاں الٹی پڑی ہیں مدین اور سدوم وغیرہ اللہ نے انہیں بھی اپنے نبی لوط کے ماننے اور اپنی بدفعلی نہ چھوڑنے کے باعث ایک ایک کو پیوند زمین کردیا۔ ان کے پاس ہمارے رسول ہماری کتاب اور کھلے معجزے اور صاف دلیلیں لے کر پہنچے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی۔ بالآخر اپنے ظلم سے آپ برباد ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے تو حق واضح کردیا کتاب اتار دی رسول بھیج دیئے حجت ختم کردی لیکن یہ رسولوں کے مقابلے پر آمادہ ہوئے کتاب اللہ کی تعمیل سے بھاگے حق کی مخالفت کی پس لعنت رب اتری اور انہیں خاک سیاہ کرگئی۔
71
View Single
وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
And the Muslim men and Muslim women are the friends of one another; enjoining right and forbidding wrong, and keeping the prayer established and paying the obligatory charity, obeying Allah and His Noble Messenger; these are upon whom Allah will soon have mercy; indeed Allah is the Almighty, the Wise.
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Qualities of Faithful Believers
After Allah mentioned the evil characteristics of the hypocrites, He then mentioned the good qualities of the believers,
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَـتِ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ
(The believers, men and women, are supporters of one another;) they help and aid each other. Surely, an authentic Hadith states,
«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»
(The believer to the believer is just like a building, its parts support each other.) and the Prophet crossed his fingers together. In the Sahih it is recorded,
«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَر»
(The example of the believers in the compassion and mercy they have for each other, is the example of one body: if a part of it falls ill, the rest of the body suffers with fever and sleeplessness.) Allah's statement,
يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(...they enjoin good, and forbid evil), this is similar to,
وَلْتَكُن مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(Let there arise out of you a group of people inviting to all that is good, enjoining Al-Ma`ruf and forbidding the Munkar...) 3:104. Allah said next,
وَيُقِيمُونَ الصَّلَوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ
(they perform the Salah, and give the Zakah), they obey Allah and are kind to His creation,
وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(and obey Allah and His Messenger), concerning what he commands and refraining from what he prohibits,
أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ
(Allah will have mercy on them.) Therefore, Allah will give mercy to those who have these qualities,
أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ
(Surely, Allah is All-Mighty), He grants glory to those who obey Him, for indeed, might and glory is from Allah Who gives it to His Messenger and the believers,
حَكِيمٌ
(All-Wise), in granting these qualities to the believers, while giving evil characteristics to hypocrites. Surely, Allah's wisdom is perfect in all His actions; praise and glory be to Him.
مسلمان ایک دوسرے کے دست وبازو ہیں منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ایک دوسرے کا دست وبازو بنے رہتے ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لئے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے آپ نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستی اور سلوک میں مثل ایک جسم کی مانند ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بیداری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے۔ سب کو بھلائیاں دکھاتے ہیں اچھی باتیں بتاتے ہیں برے کاموں سے بری باتوں سے امکان بھر روکتے ہیں۔ حکم الٰہی بھی یہی ہے۔ فرماتا ہے تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہئے جو بھلائیوں کا حکم کرے برائیوں سے منع کرے۔ یہ نمازی ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی زکوٰۃ بھی دیتے ہیں تاکہ ایک طرف اللہ کی عبات ہو دوسری جانب مخلوق کی دلجوئی ہو۔ اللہ رسول کی اطاعت ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے جو حکم ملا بجا لائے جس سے روکا رک گئے۔ یہی لوگ ہیں جو رحم الٰہی کے مستحق ہیں۔ یہی صفتیں ہیں جن سے اللہ کی رحمت انکی طرف لپکتی ہے۔ اللہ عزیز ہے وہ اپنے فرماں برداروں کی خود بھی عزت کرتا ہے اور انہیں ذی عزت بنا دیتا ہے۔ دراصل عزت اللہ ہی کے لئے ہے اور اس نے اپنے رسولوں اور اپنے ایماندار غلاموں کو بھی عزت دے رکھی ہے اس کی حکمت ہے کہ ان میں یہ صفتیں رکھیں اور منافقوں میں وہ خصلتیں رکھیں، اس کی حکمت کی تہہ کو کون پہنچ سکتا ہے ؟ جو چاہے کرے وہ برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔
72
View Single
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّـٰتِ عَدۡنٖۚ وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
Allah has promised the Muslim men and Muslim women, Gardens beneath which rivers flow – they will abide in it forever – and pure dwellings in Gardens of everlasting stay; and the greatest (reward) is Allah’s pleasure; this is the supreme success.
اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرما لیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانات کا بھی (وعدہ فرمایا ہے) جوجنت کے خاص مقام پر سدا بہار باغات میں ہیں، اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہوگی)، یہی زبردست کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Good News for the Believers of Eternal Delight
Allah describes the joys and eternal delight He has prepared for the believers, men and women in,
جَنَّـتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا
(Gardens under which rivers flow to dwell therein forever) for eternity,
وَمَسَـكِنَ طَيِّبَةً
(and beautiful mansions), built beautifully in good surroundings. In the Two Sahihs, it is recorded that Abu Musa, `Abdullah bin Qays Al-Ash`ari said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«جَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْن»
(Two gardens, their pots and whatever is in them are made of gold, and two gardens, their pots and whatever is in them are made of silver. Only the Veil of Pride of Allah's Face separates the people from gazing at Him, in the garden of Eden.) He also narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ، طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي السَّمَاءِ لِلْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ لَا يَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا»
(For the believer in Paradise there is a tent like a hollow pearl which is sixty miles high in the sky, and in the tent the believer will have (so large) a family that he visits them all and some of them would not be able to see the others. ) The Two Sahihs collected this Hadith. It is recorded in the Two Sahihs that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَوْ (جَلَسَ) فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا»
قالوا: يا رسول الله أفلا نخبر الناس؟ قال:
«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَن»
(Whoever believes in Allah and His Messenger, offers prayer perfectly and fasts the month of Ramadan, will rightfully be granted Paradise by Allah, no matter whether he emigrates in Allah's cause, or remains in the land where he is born.) The people said, "O Allah's Messenger! Shall we acquaint the people with this good news" He said, (Paradise has one-hundred grades which Allah has prepared for the Mujahidin who fight in His cause, the distance between each two grades is like the distance between the heaven and the earth. So, when you ask Allah, ask Him for Al-Firdaws which is the best and highest part of Paradise, from it gush forth the rivers of Paradise and above it is the `Arsh (Throne) of the Beneficent.) Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَسَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَة»
قيل يا رسول الله وما الوسيلة؟قال:
«أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُو»
(If you invoke Allah for Salah (blessings) on me, then also invoke Him to grant me Al-Wasilah.) He was asked, "What is Al-Wasilah, O Allah's Messenger" He said, (The highest grade in Paradise, it will be for only one man, and I hope I am that man.) The Musnad contains a Hadith from Sa`d bin Mujahid At-Ta'i, that Abu Al-Mudillah said, that Abu Hurayrah said, "We said, `O Allah's Messenger! Talk to us about Paradise, what is it built of' He said,
«لِبَنَةُ ذَهَبٍ وَلِبَنَةُ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ. مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ لَايَمُوتُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُه»
(A brick of gold and a brick of silver. Its mortar is from musk, its gravel is pearls and rubies. Its sand is saffron. Whoever enters it will enjoy the delights, will never be hopeless, and will live forever and will not die. His clothes will never decay nor will his youth ever end.)" Allah said next,
وَرِضْوَنٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ
(But the greatest bliss is the good pleasure of Allah)9:72, meaning, Allah's pleasure is more grand, greater and better than the delight the believers will be enjoying in Paradise. Imam Malik narrated, that Zayd bin Aslam said that `Ata' bin Yasar said that Abu Sa`id Al-Khudri said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ. فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا»
(Allah, the Exalted and Ever High, will say to the people of Paradise, `O residents of Paradise!' They will say, `Labbayka (here we are!), our Lord, and Sa`dayk (we are happy at your service!) and all the good is in Your Hand.' He will ask them, `Are you pleased' They will say, `Why would not we be pleased, O Lord, while You have given us what You have not given any other of your creation' He will say, `Should I give you what is better than all this' They will say, `O Lord! What is better than all this' He will say, `I will grant you My pleasure and will never afterwards be angry with you.') The Two Sahihs collected the Hadith of Malik.
مومنوں کو نیکی کے انعامات مومنو کی ان نیکیوں پر جو اجر وثواب انہیں ملے گا ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ابدی نعمتیں ہمیشگی کی راحتیں باقی رہنے والی جنتیں جہاں قدم قدم پر خوشگوار پانی کے چشمے ابل رہے ہیں جہاں بلند وبالا خوبصورت مزین صاف ستھرے آرائش و زیبائش والے محلات اور مکانات ہیں۔حضور ﷺ فرماتے ہیں دو جنتیں تو صرف سونے کی ہیں ان کے برتن اور جو کچھ بھی وہاں ہے سب سونے ہی سونے کا ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں برتن بھی اور کل چیزیں بھی ان میں اور دیدارالٰہی میں کوئی حجاب بجز اس کبریائی کی چادر کے نہیں جو اللہ جل وعلا کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے جنت میں ایک خیمہ ہوگا ایک ہی موتی کا بنا ہوا اس کا طول ساٹھ میل کا ہوگا مومن کی بیویاں وہیں ہوں گی جن کے پاس یہ آتا جاتا رہے گا لیکن ایک دوسرے کو دکھائی نہ دیں گی۔ آپ کا فرمان ہے کہ جو اللہ رسول ﷺ پر ایمان لائے نماز قائم رکھے رمضان کے روزے رکھے اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے اس نے ہجرت کی ہو یا اپنے وطن میں ہی رہا ہو لوگوں نے کہا پھر ہم اوروں سے بھی یہ حدیث بیان کردیں ؟ آپ نے فرمایا جنت میں ایک سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ کے مجاہدوں کے لئے بنائے ہیں ہر دو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ پس جب بھی تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے بہتر جنت ہے جنتوں کی سب نہریں وہیں سے نکلتی ہیں اس کی چھت رحمن کا عرش ہے فرماتے ہیں۔ اہل جنت جنتی بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے چمکتے دھمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ یہ بھی معلوم رہے کہ تمام جنتوں میں خالص ایک اعلیٰ مقام ہے جس کا نام وسیلہ ہے کیونکہ وہ عرش سے بالکل ہی قریب ہے یہ جگہ ہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی۔ آپ فرماتے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو اللہ سے میرے لئے وسیلہ طلب کیا کرو۔ پوچھا گیا وسیلہ کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا وہ اعلیٰ درجہ جو ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے اللہ کی ذات سے قوی امید ہے وہ شخص میں ہی ہوں۔ آپ فرماتے ہیں موذن کی اذان کا جواب دو جیسے کلمات وہ کہتا ہے تم بھی کہو پھر مجھ پر درود پڑھو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر میرے لئے وسیلہ طلب کرو اور جنت کی ایک منزل ہے جو تمام مخلوق الہیہ میں سے ایک ہی شخص کو ملے گی مجھے امید ہے کہ وہ مجھے ہی عنایت ہوگی جو شخص میرے لئے اللہ سے اس وسیلے کی طلب کرے اس کیلئے میری شفاعت روز قیامت حلال ہوگئی۔ فرماتے ہیں میرے لئے اللہ سے وسیلہ طلب کرو دنیا میں یہ جو بھی میرے لئے وسیلے کی دعا کرے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور سفارشی بنوں گا۔ صحابہ نے ایک دن آپ سے پوچھا کہ یارسول اللہ ہمیں جنت کی باتیں سنائیے انکی بنا کس چیز کی ہے ؟ فرمایا سونے چاندی کی اینٹوں کی، اس کا گارا خالص مشک ہے، اس کے کنکر لولو اور یاقوت ہے اس کی مٹی زعفران ہے اس میں جو جائے گا وہ نعمتوں میں ہوگا جو کبھی خالی نہ ہوں وہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا جس کے بعد موت کا کھٹکا بھی نہیں نہ اس کے کپڑے خراب ہوں نہ اس کی جوانی ڈھلے۔ فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جنکا اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور باہر کا حصہ اندر سے۔ ایک اعرابی نے پوچھا حضور ﷺ یہ بالا خانے کن کے لئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو اچھا کلام کرے کھانا کھلائے روزے رکھے اور راتوں کو لوگوں کے سونے کے وقت تہجد کی نماز ادا کرے۔ فرماتے ہیں کوئی ہے جو جنت کا شائق اور اس کے لئے محنت کرنے والا ہو ؟ واللہ جنت کی کوئی چار دیواری محدود کرنے والا نہیں وہ تو ایک چمکتا ہوا بقعہ نور ہے اور مہکتا ہوا گلستان ہے اور بلند وبالا پاکیزہ محلات ہیں اور جاری وساری نہریں ہیں اور گدرائے ہوئے اور پکے میوؤں کے خوشے ہیں اور جوش جمال لدھے پھندے، سبزہ ہے پھیلا ہوا، کشادگی اور راحت ہے، امن اور چین ہے، نعمت اور رحمت ہے، عالیشان خوش منظر کو شک اور حویلیاں ہیں۔ یہ سنکر لوگ بول اٹھے کہ حضور ہم سب اس جنت کے مشتاق اور اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ آپ نے فرمایا انشاء اللہ کہو پس لوگوں نے انشاء اللہ کہا۔ پھر فرماتا ہے ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالا نعمت اللہ کی رضامندی ہے۔ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ عزوجل جنتیوں کو پکارے گا کہ اے اہل جنت ! وہ کہیں گے لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک۔ پوچھے گا کہو تم خوش ہوگئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ خوش کیوں نہ ہوتے تو نے تو اے پروردگار ہمیں وہ دیا جو مخلوق میں سے کسی کو نہ ملا ہوگا اللہ تعالیٰ فرمائے گا لو میں تمہیں اس سے بہت ہی افضل و اعلیٰ چیز عطا فرماتا ہوں وہ کہیں گے یا اللہ اس سے بہتر چیز اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا سنو میں نے اپنی رضامندی تمہیں عطا فرمائی آج کے بعد میں کبھی بھی تم سے ناخوش نہ ہوؤں گا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اللہ عزوجل فرمائے گا کچھ اور چاہیے تو دوں وہ کہیں گے یا اللہ جو تو نے ہمیں عطا فرما رکھا ہے اس سے بہتر تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ اللہ فرمائے گا وہ میری رضامندی ہے جو سب سے بہتر ہے۔ امام حافظ ضیاء مقدسی نے صفت جنت میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں اس حدیث کو شرط صحیح پر بتایا ہے۔ واللہ اعلم۔
73
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
O Herald of the Hidden! Fight against the disbelievers and the hypocrites, and be stern with them; and their destination hell; and what an evil place to return!
اے نبی (معظم!) آپ (اِسلام دشمنی پر کار فرما) کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور (اَمن دشمنی، فساد انگیزی اور جارحیت کے اِرتکاب کی وجہ سے) ان پر سختی کریں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Order for Jihad against the Disbelievers and Hypocrites
Allah commanded His Messenger to strive hard against the disbelievers and the hypocrites and to be harsh against them. Allah also commanded him to be merciful with the believers who followed him, informing him that the destination of the disbelievers and hypocrites is the Fire in the Hereafter. Ibn Mas`ud commented on Allah's statement,
جَـهِدِ الْكُفَّـرَ وَالْمُنَـفِقِينَ
(Strive hard against the disbelievers and the hypocrites) "With the hand, or at least have a stern face with them." Ibn `Abbas said, "Allah commanded the Prophet to fight the disbelievers with the sword, to strive against the hypocrites with the tongue and annulled lenient treatment of them." Ad-Dahhak commented, "Perform Jihad against the disbelievers with the sword and be harsh with the hypocrites with words, and this is the Jihad performed against them." Similar was said by Muqatil and Ar-Rabi`. Al-Hasan and Qatadah said, "Striving against them includes establishing the (Islamic Penal) Law of equality against them." In combining these statements, we could say that Allah causes punishment of the disbelievers and hypocrites with all of these methods in various conditions and situations, and Allah knows best.
Reason behind revealing Ayah 9:74
Al-Amawi said in his Book on Battles, "Muhammad bin Ishaq narrated that Az-Zuhri said that `Abdur-Rahman bin `Abdullah bin Ka`b bin Malik narrated from his father, from his grandfather that he said, `Among the hypocrites who lagged behind from battle and concerning whom the Qur'an was revealed, was Al-Julas bin Suwayd bin As-Samit, who was married to the mother of `Umayr bin Sa`d. `Umayr was under the care of Al-Julas. When the Qur'an was revealed about the hypocrites, exposing their practices, Al-Julas said, `By Allah! If this man (Muhammad) is saying the truth, then we are worse than donkeys.' `Umayr bin Sa`d heard him and said, `By Allah, O Julas! You are the dearest person to me, has the most favor on me and I would hate that harm should touch you, more than I do concerning anyone else! You have uttered a statement that if I exposed, will expose you, but if I hide, it will destroy me. One of them is a lesser evil than the other.' So `Umayr went to the Messenger of Allah ﷺ and told him what Al-Julas said. On realizing this, Al-Julas went to the Prophet and swore by Allah that he did not say what `Umayr bin Sa`d conveyed he said. `He lied on me,' Al-Julas said. Allah sent in his case this verse,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدْ قَالُواْ كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُواْ بَعْدَ إِسْلَـمِهِمْ
(They swear by Allah that they said nothing (bad), but really they said the word of disbelief, and they disbelieved after accepting Islam) until the end of Ayah. The Messenger of Allah ﷺ conveyed this Ayah to Al-Julas, who, they claim, repented and his repentance was sincere, prompting him to refrain from hypocrisy."' Imam Abu Ja`far Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ was sitting under the shade of a tree when he said,
«إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ فَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيِ الشَّيْطَانِ فَإِذَا جَاءَ فَلَا تُكَلِّمُوه»
(A man will now come and will look to you through the eyes of a devil. When he comes, do not talk to him.)' A man who looked as if he was blue (so dark) came and the Messenger of Allah ﷺ summoned him and said,
«عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُك»
(Why do you curse me, you and your companions) That man went and brought his friends and they swore by Allah that they did nothing of the sort, and the Prophet pardoned them. Allah, the Exalted and Most Honored revealed this verse,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُواْ
(They swear by Allah that they said nothing (bad)...)
Hypocrites try to kill the Prophet
Allah said next,
وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ
(and they resolved that which they were unable to carry out) It was said that this Ayah was revealed about Al-Julas bin Suwayd, who tried to kill his wife's son when he said he would inform the Messenger of Allah ﷺ about Al-Julas' statement we mentioned earlier. It was also said that it was revealed in the case of `Abdullah bin Ubayy who plotted to kill the Messenger of Allah ﷺ. As-Suddi said, "This verse was revealed about some men who wanted to crown `Abdullah bin Ubayy even if the Messenger of Allah ﷺ did not agree. ,It was reported that some hypocrites plotted to kill the Prophet , while he was at the battle of Tabuk, riding one night. They were a group of more than ten men. Ad-Dahhak said, "This Ayah was revealed about them." In his book, Dala'il An-Nubuwah, Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said, "I was holding the bridle of the Messenger's ﷺ camel while `Ammar was leading it, or vise versa. When we reached Al-`Aqabah, twelve riders intercepted the Prophet . When I alerted the Messenger ﷺ, he shouted at them and they all ran away. The Messenger of Allah ﷺ asked us,
«هَلْ عَرَفْتُمُ الْقَوْمَ؟»
(Did you know who they were) We said, `No, O Allah's Messenger! They had masks However, we know their horses.' He said,
«هؤُلَاءِ الْمُنَافِقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادُوا؟»
(They are the hypocrites until the Day of Resurrection. Do you know what they intended) We said, `No.' He said,
«أَرَادُوا أَنْ يُزَاحِمُوا رَسُولَ اِلله فِي الْعَقَبَةِ فَيَلْقُوهُ مِنْهَا»
(They wanted to mingle with the Messenger of Allah and throw him from the `Aqabah (to the valley).) We said, `O Allah's Messenger! Should you ask their tribes to send the head of each one of them to you' He said,
«لَا. أَكْرَهُ أَنْ تَتَحَدَّثَ الْعَرَبُ بَيْنَهَا أَنَّ مُحَمَّدًا قَاتَلَ بِقَومٍ حَتَّى إِذَا أَظْهَرَهُ اللهُ بِهِمْ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِقَتْلِهِمْ ثُمَّ قَالَ اللّهُمَّ ارْمِهِمْ بِالدُّبَيْلَة»
(No, for I hate that the Arabs should say that Muhammad used some people in fighting and when Allah gave him victory with their help, he commanded that they be killed.) He then said, (O Allah! Throw the Dubaylah at them.) We asked, `What is the Dubaylah, O Allah's Messenger' He said,
«شِهَابٌ مِنْ نَارٍ يَقَعُ عَلَى نِيَاطِ قَلْبِ أَحَدِهِمْ فَيَهْلِك»
(A missile of fire that falls on the heart of one of them and brings about his demise.)" Abu At-Tufayl said, "Once, there was a dispute between Hudhayfah and another man, who asked him, `I ask you by Allah, how many were the Companions of Al-`Aqabah' The people said to Hudhayfah, `Tell him, for he asked you.' Hudhayfah said, `We were told that they were fourteen men, unless you were one of them, then the number is fifteen! I testify by Allah that twelve of them are at war with Allah and His Messenger in this life and when the witness comes forth for witness. Three of them were pardoned, for they said, `We did not hear the person whom the Messenger ﷺ sent to announce something, and we did not know what the people had plotted,' for the Prophet had been walking when he said,
«إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَد»
(Water is scarce, so none among you should reach it before me.) When he found that some people had reached it before him, he cursed them."' `Ammar bin Yasir narrated in a Hadith collected by Muslim, that Hudhayfah said to him that the Prophet said,
«فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ: ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ بَيْنَ أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ فِي صُدُورِهِم»
(Among my Companions are twelve hypocrites who will never enter Paradise or find its scent, until the camel enters the thread of the needle. Eight of them will be struck by the Dubaylah, which is a missile made of fire that appears between their shoulders and pierces their chest.) This is why Hudhayfah was called the holder of the secret, for he knew who these hypocrites were, since the Messenger of Allah ﷺ gave their names to him and none else. Allah said next,
وَمَا نَقَمُواْ إِلاَ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ
(and they could not find any cause to do so except that Allah and His Messenger had enriched them of His bounty.) This Ayah means, the Messenger ﷺ did not commit an error against them, other than that Allah has enriched them on account of the Prophet's blessed and honorable mission! And had Allah guided them to what the Prophet came with, they would have experienced its delight completely. The Prophet once said to the Ansar,
«أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي»
(Have I not found you misguided and Allah guided you through me, divided and Allah united you through me, and poor and Allah enriched you through me) Whenever the Messenger asked them a question, they replied, "Allah and His Messenger have granted the favor." This type of statement,
وَمَا نَقَمُواْ مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ
(And they had no fault except that they believed in Allah...), is uttered when there is no wrong committed. Allah called the hypocrites to repent,
فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيْراً لَّهُمْ وَإِن يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِى الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ
(If then they repent, it will be better for them, but if they turn away; Allah will punish them with a painful torment in this worldly life and in the Hereafter.) The Ayah says, if they persist on their ways, Allah will inflict a painful torment on them in this life, by killing, sadness and depression, and in the Hereafter with torment, punishment, disgrace and humiliation,
وَمَا لَهُمْ فِى الاٌّرْضِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ
(And there is none for them on earth as a protector or a helper.) who will bring happiness to them, aid them, bring about benefit or fend off harm.
چار تلواریں ؟ کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا۔ مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا۔ کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں فرماتا ہے (آیت فاذا انسلح الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین) حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو۔ دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں فرماتا ہے (قاتلوا الذین لایومنون الح،) جو اللہ پر قیامت کے دن ایمان نہیں لاتے اللہ رسول کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے۔ دین حق کو قبول نہیں کرتے ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا منظور نہ کرلیں۔ تیسری تلوار منافقین ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (آیت جاھد الکفار والمنافقین) کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ چوتھی تلوار باغیوں میں فرمان ہے (آیت فقاتلو اللتی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ) باغیوں سے لڑو جب تک کہ پلٹ کر وہ اللہ کے احکام کی حکم برداری کی طرف نہ آجائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافق جب اپنا نفاق ظاہر کرنے لگیں تو ان سے تلوار سے جہاد کرنا چاہئے۔ امام ابن جریر کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہاتھ سے نہ ہو سکے تو ان کے منہ پر ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ابن عباس فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں کے ساتھ زبانی جہاد کو فرمایا ہے اور یہ کہ ان پر نرمی نہ کی جائے۔ مجاہد کا بھی تقریبا یہی قول ہے۔ ان پر حد شرعی کا جاری کرنا بھی ان سے جہاد کرنا ہے مقصود یہ ہے کہ کبھی تلوار بھی ان کے خلاف اٹھانی پڑے گی ورنہ جب تک کام چلے زبان کافی ہے جیسا موقعہ ہو کرلے۔ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالی۔ حالانکہ درحقیقت کفر کا بول بول چکے ہیں اور اپنے ظاہری اسلام کے بعد کھلا کفر کرچکے ہیں۔ یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے ایک جہنی اور ایک انصاری میں لڑائی ہوگئی۔ جہنی شخص انصاری پر چھا گیا تو اس منافق نے انصار کو اس کی مدد پر ابھارا اور کہنے لگا واللہ ہماری اور اس محمد ﷺ کی تو وہی مثال ہے کہ " اپنے کتے کو موٹا تازہ کر کہ وہ تجھے ہی کاٹے " واللہ اگر ہم اب کی مرتبہ مدینے واپس گئے تو ہم ذی عزت لوگ ان تمام کمینے لوگوں کو وہاں سے نکال کر باہر کریں گے۔ ایک مسلمان نے جا کر حضور ﷺ سے یہ گفتگو دہرادی۔ آپ نے اسے بلوا کر اس سے سوال کیا تو یہ قسم کھا کر انکار کر گیا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ حرہ کی جنگ میں کام آئے ان پر مجھے بڑی ہی رنج و صدمہ ہو رہا تھا اس کی خبر حضرت زید بن ارقم کی پہنچی تو اس نے مجھے خط میں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا ہے آپ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ انصار کو اور انصار کے لڑکوں کو بخش دے۔ نیچے کے راوی ابن الفضل کو اس میں شک ہے کہ آپ نے اپنی اس دعا میں ان کے پوتوں کا نام بھی لیا یا نہیں ؟ پس حضرت انس ؓ نے موجود لوگوں میں سے کسی سے حضرت زید کی نسبت سوال کیا تو اس نے کہا یہی وہ زید ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ واقعہ یہ ہے کہ حضور ﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک منافق نے کہا اگر یہ سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ احمق ہیں حضرت زید نے کہا واللہ آنحضرت ﷺ بالکل سچے ہیں اور بیشک تو اپنی حماقت میں گدھے سے بڑھا ہوا ہے۔ پھر آپ نے یہ بات حضور ﷺ کے گوش گذار کی لیکن وہ منافق پلٹ گیا اور صاف انکار کر گیا اور کہا کہ زید نے جھوٹ بولا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور حضرت زید کی سچائی بیان فرمائی۔ لیکن مشہور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المطلق کا ہے ممکن ہے راوی کو اس آیت کے ذکر میں وہم ہوگیا ہو اور دوسری آیت کے بدلے اسے بیان کردیا ہو۔ یہی حدیث بخاری شریف میں ہے لیکن اس جملے تک کہ زندہ وہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ ممکن ہے کہ بعد کا حصہ موسیٰ بن عقبہ راوی کا اپنا قول ہو۔ اسی کی ایک روایت میں یہ پچھلا حصہ ابن شہاب کے قول سے مروی ہے واللہ اعلم۔ مغازی اموی میں حضرت کعب بن مالک ؓ کے بیان کردہ تبوک کے واقعہ کے بعد ہے کہ جو منافق موخر چھوڑ دیئے گئے تھے اور جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا انمیں سے بعض آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی تھے۔ ان میں جلاس بن عوید بن صامت بھی تھا ان کے گھر میں عمیر بن سعد کی والدہ تھیں جو اپنے ساتھ حضرت عمیر کو بھی لے گئی تھیں جب ان منافقوں کے بارے میں قرآنی آیتیں نازل ہوئیں تو جلاس کہنے لگا کہ واللہ اگر یہ شخص اپنے قول میں سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بدتر ہیں حضرت عمیر بن سعد ؓ یہ سن کر فرمانے لگے کہ یوں تو آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ کی تکلیف مجھ پر میری تکلیف سے بھی زیادہ شاق ہے لیکن آپ نے اسوقت تو ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر میں اسے پہنچاؤں تو رسوائی ہے اور نہ پہنچاؤں تو ہلاکت ہے، رسوائی یقینا ہلاکت سے ہلکی چیز ہے۔ یہ کہہ کر یہ بزرگ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور ساری بات آپ کو کہہ سنائی۔ جلاس کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے سرکار نبوت میں حاضر ہو کر قسمیں کھا کھا کر کہا کہ عمیر جھوٹا ہے میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ اس کے بعد جلاس نے توبہ کرلی اور درست ہوگئے یہ توبہ کی بات بہت ممکن ہے کہ امام محمد بن اسحاق کی اپنی کہی ہوئی ہو، حضرت کعب کی یہ باتیں نہیں واللہ اعلم۔ اور روایت میں ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت اپنے سوتیلے بیٹے حضرت مصعب ؓ کے ساتھ قبا سے آ رہے تھے دونوں گدھوں پر سوار تھے اس وقت جلاس نے یہ کہا تھا اس پر ان کے صاحبزادے نے فرمایا کہ اے دشمن رب میں تیری اس بات کی رسول اللہ ﷺ کو خبر کروں گا فرماتے ہیں کہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نہ نازل ہو یا مجھ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آجائے یا اس گناہ میں میں بھی اپنے باپ کا شریک نہ کردیا جاؤں چناچہ میں سیدھا حاضر ہوا اور تمام بات حضور ﷺ کو مع اپنے ڈر کے سنا دی۔ ابن جریر میں ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک سائے دار درخت تلے بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا اور تمہیں شیطان دیکھے گا خبردار تم اس سے کلام نہ کرنا اسی وقت ایک انسان کیری آنکھوں والا آیا آپ نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو ؟ وہ اسی وقت گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا سب نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم نے کوئی ایسالفظ نہیں کہا یہاں تک کہ حضور ﷺ نے ان سے درگذر فرما لیا پھر یہ آیت اتری۔ اس میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہ قصد کیا جو پورا نہ ہوا مراد اس سے جلاس کا یہ ارادہ ہے کہ اپنے سوتیلے لڑکے کو جس نے حضور ﷺ کی خدمت میں بات کہہ دی تھی قتل کر دے۔ ایک قول ہے کہ عبداللہ بن ابی نے خود حضور ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ یہ قول بھی ہے کہ بعض لوگوں نے ارادہ کرلیا تھا کہ اسے سرداربنا دیں گو رسول اللہ ﷺ راضی نہ ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ دس سے اوپر اوپر آدمیوں نے غزوہ تبوک میں راستے میں حضور ﷺ کو دھوکہ دے کر قتل کرنا چاہا تھا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں میں اور حضرت عمار آنحضرت ﷺ کی اونٹنی کے آگے پیچھے تھے ایک چلتا تھا دوسرا نکیل تھامتا تھا ہم عقبہ میں تھے کہ بارہ شخص منہ پر نقاب ڈالے آئے اور اونٹنی کو گھیر لیا حضور ﷺ نے انہیں للکارا اور وہ دم دباکر بھاگ کھڑے ہوئے آپ نے ہم سے فرمایا کیا تم نے انہیں پہچانا ؟ ہم نے کہا نہیں لیکن انکی سواریاں ہماری نگاہوں میں ہیں آپ نے فرمایا یہ منافق تھے اور قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ جانتے ہو کہ کس ارادے سے آئے تھے ؟ ہم نے کہا نہیں فرمایا اللہ کے رسول کو عقبہ میں پریشان کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لئے۔ ہم نے کہا حضور ﷺ انکی قوم کے لوگوں سے کہلوا دیجئے کہ ہر قوم والے اپنے دشمنوں سے لڑے ان پر فتح حاصل کرکے پھر اپنے ان ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ آپ نے ان کے لئے بددعا کی کہ یا اللہ ان کے دلوں پر آتشیں پھوڑے پیدا کر دے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں حضور ﷺ نے اعلان کرا دیا کہ میں عقبہ کے راستے میں جاؤں گا۔ اسکی راہ کوئی نہ آئے حضرت حذیفہ ؓ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت عمار ؓ پیچھے سے چلا رہے تھے کہ ایک جماعت اپنی اونٹنیوں پر سوار آگئی حضرت عمار ؓ نے ان کی سواریوں کو مارنا شروع کیا اور حضرت حذیفہ ؓ نے حضور ﷺ کے فرمان سے آپ کی سواری کو نیچے کی طرف چلانا شروع کردیا جب نیچے میدان آگیا آپ سواری سے اتر آئے اتنے میں عمار ؓ بھی واپس پہنچ گئے۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ کون تھے پہچان بھی ؟ حضرت عمار ؓ نے کہا منہ تو چھپے ہوئے تھے لیکن سواریاں معلوم ہیں پوچھا انکا ارادہ کیا تھا جانتے ہو ؟ جواب دیا کہ نہیں آپ نے فرمایا انہوں نے چاہا تھا کہ شور کر کے ہماری اونٹنی کو بھڑکا دیں اور ہمیں گرا دیں۔ ایک شخص سے حضرت عمار ؓ نے انکی تعداد دریافت کی تو اسنے کہا چودہ۔ آپ نے فرمایا اگر تو بھی ان میں تھا تو پندرہ۔ حضور ﷺ نے ان میں سے تین شخصوں کے نام گنوائے انہوں نے کہا واللہ ہم نے تو منادی کی ندا سنی اور نہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے کسی بد ارادے کا علم تھا۔ حضرت عمار ؓ فرماتے ہیں کہ باقی کے بارہ لوگ اللہ رسول سے لڑائی کرنے والے ہیں دنیا میں اور آخرت میں بھی۔ امام محمد بن اسحاق نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام بھی گنوائے ہیں واللہ اعلم۔ صحیح مسلم میں ہے کہ اہل عقبہ میں سے ایک شخص کے ساتھ حضرت عمار ؓ کا کچھ تعلق تھا تو اس کو آپ نے قسم دے کر اصحاب عقبہ کی گنتی دریافت کی لوگوں نے بھی اس سے کہا کہ ہاں بتادو اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ چودہ تھے اگر مجھے بھی شامل کیا جائے تو پندرہ ہوئے۔ ان میں سے بارہ تو دشمن اللہ اور رسول ﷺ ہی تھے اور تین شخصوں کی قسم پر کہ نہ ہم نے منادی کی نہ ندا سنی نہ ہمیں جانے والوں کے ارادے کا علم تھا اس لئے معذور رکھا گیا۔ گرمی کا موسم تھا پانی بہت کم تھا آپ نے فرما دیا تھا کہ مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے لیکن اس پر بھی کچھ لوگ پہنچ گئے تھے آپ نے ان پر لعنت کی آپ کا فرمان ہے کہ میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے آٹھ کے کندھوں پر تو آتشی پھوڑا ہوگا جو سینے تک پہنچے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔ اسی باعث حضرت حذیفہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ کا راز دار کہا جاتا تھا آپ نے صرف انہی کو ان منافقوں کے نام بتائے تھے واللہ اعلم۔ طبرانی میں ان کے نام یہ ہیں معتب بن قشیر ودیعہ بن ثابت جدین بن عبداللہ بن نبیل بن حارث جو عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا اور حارث بن یزید، طائی اوس بن قیطی، حارث بن سوید، سفیہ بن دراہ، قیس بن فہر، سوید، داعن قبیلہ بنو جعلی کے، قیس بن عمرو بن سہل، زید بن لصیت اور سلالہ بن ہمام یہ دونوں قبیلہ بنو قینقاع کے ہیں یہ سب بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔ اس آیت میں اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں مالدار بنایا۔ اگر ان پر اللہ کا پورا فضل ہوجاتا تو انہیں ہدایت بھی نصیب ہوجاتی جیسے کہ حضور ﷺ نے انصار سے فرمایا کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ نے میری وجہ سے تمہاری رہبری کی تم متفرق تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں الفت ڈال دی۔ تم فقیر بےنوا تھے اللہ نے میرے سبب سے تمہیں غنی اور مالدار کردیا۔ ہر سوال کے جواب میں انصار ؓ فرماتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا اس سے زیادہ احسان ہے۔ الغرض بیان یہ ہے کہ بےقصور ہونے کے بدلے یہ لوگ دشمنی اور بےایمانی پر اتر آئے۔ جیسے سورة بروج میں ہے کہ ان مسلمانوں میں سے ایک کافروں کا انتقام صرف ان کے ایمان کے باعث تھا۔ حدیث میں ہے کہ ابن جمیل صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اسے غنی کردیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اپنے اسی طریقہ پر کاربند رہے تو انہیں دنیا میں بھی سخت سزا ہوگی قتل، صدمہ و غم اور دوزخ کے ذلیل و پست کرنے والے ناقابل برداشت عذاب کی سزا بھی۔ دنیا میں کوئی نہ ہوگا جو ان کی طرف داری کرے ان کی مدد کرے ان کے کام آئے ان سے برائی ہٹائے یا انہیں نفع پہنچائے یہ بےیارو مددگار رہ جائیں گے۔
74
View Single
يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدۡ قَالُواْ كَلِمَةَ ٱلۡكُفۡرِ وَكَفَرُواْ بَعۡدَ إِسۡلَٰمِهِمۡ وَهَمُّواْ بِمَا لَمۡ يَنَالُواْۚ وَمَا نَقَمُوٓاْ إِلَّآ أَنۡ أَغۡنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضۡلِهِۦۚ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيۡرٗا لَّهُمۡۖ وَإِن يَتَوَلَّوۡاْ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَا لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
And they swear by Allah that they did not say it; whereas indeed they had certainly uttered the words of disbelief, and after having entered Islam turned disbelievers and had wished for what they did not get; and what annoyed them except that Allah, and His Noble Messenger, made them prosperous with His grace? So if they repent, it is better for them; and if they turn away, Allah will afflict them with a painful punishment – in this world and the Hereafter; and they will have neither a protector nor any supporter in the entire earth.
(یہ منافقین) اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے یقیناً کلمہ کفر کہا اور وہ اپنے اسلام (کو ظاہر کرنے) کے بعد کافر ہو گئے اور انہوں نے (کئی اذیت رساں باتوں کا) ارادہ (بھی) کیا تھا جنہیں وہ نہ پا سکے اور وہ (اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں سے) اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے غنی کر دیا تھا، سو اگر یہ (اب بھی) توبہ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر (اسی طرح) روگرداں رہیں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت (دونوں زندگیوں) میں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور ان کے لئے زمین میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار
Tafsir Ibn Kathir
The Order for Jihad against the Disbelievers and Hypocrites
Allah commanded His Messenger to strive hard against the disbelievers and the hypocrites and to be harsh against them. Allah also commanded him to be merciful with the believers who followed him, informing him that the destination of the disbelievers and hypocrites is the Fire in the Hereafter. Ibn Mas`ud commented on Allah's statement,
جَـهِدِ الْكُفَّـرَ وَالْمُنَـفِقِينَ
(Strive hard against the disbelievers and the hypocrites) "With the hand, or at least have a stern face with them." Ibn `Abbas said, "Allah commanded the Prophet to fight the disbelievers with the sword, to strive against the hypocrites with the tongue and annulled lenient treatment of them." Ad-Dahhak commented, "Perform Jihad against the disbelievers with the sword and be harsh with the hypocrites with words, and this is the Jihad performed against them." Similar was said by Muqatil and Ar-Rabi`. Al-Hasan and Qatadah said, "Striving against them includes establishing the (Islamic Penal) Law of equality against them." In combining these statements, we could say that Allah causes punishment of the disbelievers and hypocrites with all of these methods in various conditions and situations, and Allah knows best.
Reason behind revealing Ayah 9:74
Al-Amawi said in his Book on Battles, "Muhammad bin Ishaq narrated that Az-Zuhri said that `Abdur-Rahman bin `Abdullah bin Ka`b bin Malik narrated from his father, from his grandfather that he said, `Among the hypocrites who lagged behind from battle and concerning whom the Qur'an was revealed, was Al-Julas bin Suwayd bin As-Samit, who was married to the mother of `Umayr bin Sa`d. `Umayr was under the care of Al-Julas. When the Qur'an was revealed about the hypocrites, exposing their practices, Al-Julas said, `By Allah! If this man (Muhammad) is saying the truth, then we are worse than donkeys.' `Umayr bin Sa`d heard him and said, `By Allah, O Julas! You are the dearest person to me, has the most favor on me and I would hate that harm should touch you, more than I do concerning anyone else! You have uttered a statement that if I exposed, will expose you, but if I hide, it will destroy me. One of them is a lesser evil than the other.' So `Umayr went to the Messenger of Allah ﷺ and told him what Al-Julas said. On realizing this, Al-Julas went to the Prophet and swore by Allah that he did not say what `Umayr bin Sa`d conveyed he said. `He lied on me,' Al-Julas said. Allah sent in his case this verse,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدْ قَالُواْ كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُواْ بَعْدَ إِسْلَـمِهِمْ
(They swear by Allah that they said nothing (bad), but really they said the word of disbelief, and they disbelieved after accepting Islam) until the end of Ayah. The Messenger of Allah ﷺ conveyed this Ayah to Al-Julas, who, they claim, repented and his repentance was sincere, prompting him to refrain from hypocrisy."' Imam Abu Ja`far Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ was sitting under the shade of a tree when he said,
«إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ فَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيِ الشَّيْطَانِ فَإِذَا جَاءَ فَلَا تُكَلِّمُوه»
(A man will now come and will look to you through the eyes of a devil. When he comes, do not talk to him.)' A man who looked as if he was blue (so dark) came and the Messenger of Allah ﷺ summoned him and said,
«عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُك»
(Why do you curse me, you and your companions) That man went and brought his friends and they swore by Allah that they did nothing of the sort, and the Prophet pardoned them. Allah, the Exalted and Most Honored revealed this verse,
يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُواْ
(They swear by Allah that they said nothing (bad)...)
Hypocrites try to kill the Prophet
Allah said next,
وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ
(and they resolved that which they were unable to carry out) It was said that this Ayah was revealed about Al-Julas bin Suwayd, who tried to kill his wife's son when he said he would inform the Messenger of Allah ﷺ about Al-Julas' statement we mentioned earlier. It was also said that it was revealed in the case of `Abdullah bin Ubayy who plotted to kill the Messenger of Allah ﷺ. As-Suddi said, "This verse was revealed about some men who wanted to crown `Abdullah bin Ubayy even if the Messenger of Allah ﷺ did not agree. ,It was reported that some hypocrites plotted to kill the Prophet , while he was at the battle of Tabuk, riding one night. They were a group of more than ten men. Ad-Dahhak said, "This Ayah was revealed about them." In his book, Dala'il An-Nubuwah, Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bayhaqi recorded that Hudhayfah bin Al-Yaman said, "I was holding the bridle of the Messenger's ﷺ camel while `Ammar was leading it, or vise versa. When we reached Al-`Aqabah, twelve riders intercepted the Prophet . When I alerted the Messenger ﷺ, he shouted at them and they all ran away. The Messenger of Allah ﷺ asked us,
«هَلْ عَرَفْتُمُ الْقَوْمَ؟»
(Did you know who they were) We said, `No, O Allah's Messenger! They had masks However, we know their horses.' He said,
«هؤُلَاءِ الْمُنَافِقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادُوا؟»
(They are the hypocrites until the Day of Resurrection. Do you know what they intended) We said, `No.' He said,
«أَرَادُوا أَنْ يُزَاحِمُوا رَسُولَ اِلله فِي الْعَقَبَةِ فَيَلْقُوهُ مِنْهَا»
(They wanted to mingle with the Messenger of Allah and throw him from the `Aqabah (to the valley).) We said, `O Allah's Messenger! Should you ask their tribes to send the head of each one of them to you' He said,
«لَا. أَكْرَهُ أَنْ تَتَحَدَّثَ الْعَرَبُ بَيْنَهَا أَنَّ مُحَمَّدًا قَاتَلَ بِقَومٍ حَتَّى إِذَا أَظْهَرَهُ اللهُ بِهِمْ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِقَتْلِهِمْ ثُمَّ قَالَ اللّهُمَّ ارْمِهِمْ بِالدُّبَيْلَة»
(No, for I hate that the Arabs should say that Muhammad used some people in fighting and when Allah gave him victory with their help, he commanded that they be killed.) He then said, (O Allah! Throw the Dubaylah at them.) We asked, `What is the Dubaylah, O Allah's Messenger' He said,
«شِهَابٌ مِنْ نَارٍ يَقَعُ عَلَى نِيَاطِ قَلْبِ أَحَدِهِمْ فَيَهْلِك»
(A missile of fire that falls on the heart of one of them and brings about his demise.)" Abu At-Tufayl said, "Once, there was a dispute between Hudhayfah and another man, who asked him, `I ask you by Allah, how many were the Companions of Al-`Aqabah' The people said to Hudhayfah, `Tell him, for he asked you.' Hudhayfah said, `We were told that they were fourteen men, unless you were one of them, then the number is fifteen! I testify by Allah that twelve of them are at war with Allah and His Messenger in this life and when the witness comes forth for witness. Three of them were pardoned, for they said, `We did not hear the person whom the Messenger ﷺ sent to announce something, and we did not know what the people had plotted,' for the Prophet had been walking when he said,
«إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَد»
(Water is scarce, so none among you should reach it before me.) When he found that some people had reached it before him, he cursed them."' `Ammar bin Yasir narrated in a Hadith collected by Muslim, that Hudhayfah said to him that the Prophet said,
«فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ: ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ بَيْنَ أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ فِي صُدُورِهِم»
(Among my Companions are twelve hypocrites who will never enter Paradise or find its scent, until the camel enters the thread of the needle. Eight of them will be struck by the Dubaylah, which is a missile made of fire that appears between their shoulders and pierces their chest.) This is why Hudhayfah was called the holder of the secret, for he knew who these hypocrites were, since the Messenger of Allah ﷺ gave their names to him and none else. Allah said next,
وَمَا نَقَمُواْ إِلاَ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِن فَضْلِهِ
(and they could not find any cause to do so except that Allah and His Messenger had enriched them of His bounty.) This Ayah means, the Messenger ﷺ did not commit an error against them, other than that Allah has enriched them on account of the Prophet's blessed and honorable mission! And had Allah guided them to what the Prophet came with, they would have experienced its delight completely. The Prophet once said to the Ansar,
«أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي»
(Have I not found you misguided and Allah guided you through me, divided and Allah united you through me, and poor and Allah enriched you through me) Whenever the Messenger asked them a question, they replied, "Allah and His Messenger have granted the favor." This type of statement,
وَمَا نَقَمُواْ مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ
(And they had no fault except that they believed in Allah...), is uttered when there is no wrong committed. Allah called the hypocrites to repent,
فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيْراً لَّهُمْ وَإِن يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِى الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ
(If then they repent, it will be better for them, but if they turn away; Allah will punish them with a painful torment in this worldly life and in the Hereafter.) The Ayah says, if they persist on their ways, Allah will inflict a painful torment on them in this life, by killing, sadness and depression, and in the Hereafter with torment, punishment, disgrace and humiliation,
وَمَا لَهُمْ فِى الاٌّرْضِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ
(And there is none for them on earth as a protector or a helper.) who will bring happiness to them, aid them, bring about benefit or fend off harm.
چار تلواریں ؟ کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا۔ مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا۔ کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں فرماتا ہے (آیت فاذا انسلح الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین) حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو۔ دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں فرماتا ہے (قاتلوا الذین لایومنون الح،) جو اللہ پر قیامت کے دن ایمان نہیں لاتے اللہ رسول کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے۔ دین حق کو قبول نہیں کرتے ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا منظور نہ کرلیں۔ تیسری تلوار منافقین ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (آیت جاھد الکفار والمنافقین) کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ چوتھی تلوار باغیوں میں فرمان ہے (آیت فقاتلو اللتی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ) باغیوں سے لڑو جب تک کہ پلٹ کر وہ اللہ کے احکام کی حکم برداری کی طرف نہ آجائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافق جب اپنا نفاق ظاہر کرنے لگیں تو ان سے تلوار سے جہاد کرنا چاہئے۔ امام ابن جریر کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہاتھ سے نہ ہو سکے تو ان کے منہ پر ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ابن عباس فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں کے ساتھ زبانی جہاد کو فرمایا ہے اور یہ کہ ان پر نرمی نہ کی جائے۔ مجاہد کا بھی تقریبا یہی قول ہے۔ ان پر حد شرعی کا جاری کرنا بھی ان سے جہاد کرنا ہے مقصود یہ ہے کہ کبھی تلوار بھی ان کے خلاف اٹھانی پڑے گی ورنہ جب تک کام چلے زبان کافی ہے جیسا موقعہ ہو کرلے۔ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالی۔ حالانکہ درحقیقت کفر کا بول بول چکے ہیں اور اپنے ظاہری اسلام کے بعد کھلا کفر کرچکے ہیں۔ یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے ایک جہنی اور ایک انصاری میں لڑائی ہوگئی۔ جہنی شخص انصاری پر چھا گیا تو اس منافق نے انصار کو اس کی مدد پر ابھارا اور کہنے لگا واللہ ہماری اور اس محمد ﷺ کی تو وہی مثال ہے کہ " اپنے کتے کو موٹا تازہ کر کہ وہ تجھے ہی کاٹے " واللہ اگر ہم اب کی مرتبہ مدینے واپس گئے تو ہم ذی عزت لوگ ان تمام کمینے لوگوں کو وہاں سے نکال کر باہر کریں گے۔ ایک مسلمان نے جا کر حضور ﷺ سے یہ گفتگو دہرادی۔ آپ نے اسے بلوا کر اس سے سوال کیا تو یہ قسم کھا کر انکار کر گیا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ حرہ کی جنگ میں کام آئے ان پر مجھے بڑی ہی رنج و صدمہ ہو رہا تھا اس کی خبر حضرت زید بن ارقم کی پہنچی تو اس نے مجھے خط میں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا ہے آپ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ انصار کو اور انصار کے لڑکوں کو بخش دے۔ نیچے کے راوی ابن الفضل کو اس میں شک ہے کہ آپ نے اپنی اس دعا میں ان کے پوتوں کا نام بھی لیا یا نہیں ؟ پس حضرت انس ؓ نے موجود لوگوں میں سے کسی سے حضرت زید کی نسبت سوال کیا تو اس نے کہا یہی وہ زید ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ واقعہ یہ ہے کہ حضور ﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک منافق نے کہا اگر یہ سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ احمق ہیں حضرت زید نے کہا واللہ آنحضرت ﷺ بالکل سچے ہیں اور بیشک تو اپنی حماقت میں گدھے سے بڑھا ہوا ہے۔ پھر آپ نے یہ بات حضور ﷺ کے گوش گذار کی لیکن وہ منافق پلٹ گیا اور صاف انکار کر گیا اور کہا کہ زید نے جھوٹ بولا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور حضرت زید کی سچائی بیان فرمائی۔ لیکن مشہور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المطلق کا ہے ممکن ہے راوی کو اس آیت کے ذکر میں وہم ہوگیا ہو اور دوسری آیت کے بدلے اسے بیان کردیا ہو۔ یہی حدیث بخاری شریف میں ہے لیکن اس جملے تک کہ زندہ وہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ ممکن ہے کہ بعد کا حصہ موسیٰ بن عقبہ راوی کا اپنا قول ہو۔ اسی کی ایک روایت میں یہ پچھلا حصہ ابن شہاب کے قول سے مروی ہے واللہ اعلم۔ مغازی اموی میں حضرت کعب بن مالک ؓ کے بیان کردہ تبوک کے واقعہ کے بعد ہے کہ جو منافق موخر چھوڑ دیئے گئے تھے اور جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا انمیں سے بعض آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی تھے۔ ان میں جلاس بن عوید بن صامت بھی تھا ان کے گھر میں عمیر بن سعد کی والدہ تھیں جو اپنے ساتھ حضرت عمیر کو بھی لے گئی تھیں جب ان منافقوں کے بارے میں قرآنی آیتیں نازل ہوئیں تو جلاس کہنے لگا کہ واللہ اگر یہ شخص اپنے قول میں سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بدتر ہیں حضرت عمیر بن سعد ؓ یہ سن کر فرمانے لگے کہ یوں تو آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ کی تکلیف مجھ پر میری تکلیف سے بھی زیادہ شاق ہے لیکن آپ نے اسوقت تو ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر میں اسے پہنچاؤں تو رسوائی ہے اور نہ پہنچاؤں تو ہلاکت ہے، رسوائی یقینا ہلاکت سے ہلکی چیز ہے۔ یہ کہہ کر یہ بزرگ حاضر حضور ﷺ ہوئے اور ساری بات آپ کو کہہ سنائی۔ جلاس کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے سرکار نبوت میں حاضر ہو کر قسمیں کھا کھا کر کہا کہ عمیر جھوٹا ہے میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ اس کے بعد جلاس نے توبہ کرلی اور درست ہوگئے یہ توبہ کی بات بہت ممکن ہے کہ امام محمد بن اسحاق کی اپنی کہی ہوئی ہو، حضرت کعب کی یہ باتیں نہیں واللہ اعلم۔ اور روایت میں ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت اپنے سوتیلے بیٹے حضرت مصعب ؓ کے ساتھ قبا سے آ رہے تھے دونوں گدھوں پر سوار تھے اس وقت جلاس نے یہ کہا تھا اس پر ان کے صاحبزادے نے فرمایا کہ اے دشمن رب میں تیری اس بات کی رسول اللہ ﷺ کو خبر کروں گا فرماتے ہیں کہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نہ نازل ہو یا مجھ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آجائے یا اس گناہ میں میں بھی اپنے باپ کا شریک نہ کردیا جاؤں چناچہ میں سیدھا حاضر ہوا اور تمام بات حضور ﷺ کو مع اپنے ڈر کے سنا دی۔ ابن جریر میں ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک سائے دار درخت تلے بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا اور تمہیں شیطان دیکھے گا خبردار تم اس سے کلام نہ کرنا اسی وقت ایک انسان کیری آنکھوں والا آیا آپ نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو ؟ وہ اسی وقت گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا سب نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم نے کوئی ایسالفظ نہیں کہا یہاں تک کہ حضور ﷺ نے ان سے درگذر فرما لیا پھر یہ آیت اتری۔ اس میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہ قصد کیا جو پورا نہ ہوا مراد اس سے جلاس کا یہ ارادہ ہے کہ اپنے سوتیلے لڑکے کو جس نے حضور ﷺ کی خدمت میں بات کہہ دی تھی قتل کر دے۔ ایک قول ہے کہ عبداللہ بن ابی نے خود حضور ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ یہ قول بھی ہے کہ بعض لوگوں نے ارادہ کرلیا تھا کہ اسے سرداربنا دیں گو رسول اللہ ﷺ راضی نہ ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ دس سے اوپر اوپر آدمیوں نے غزوہ تبوک میں راستے میں حضور ﷺ کو دھوکہ دے کر قتل کرنا چاہا تھا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں میں اور حضرت عمار آنحضرت ﷺ کی اونٹنی کے آگے پیچھے تھے ایک چلتا تھا دوسرا نکیل تھامتا تھا ہم عقبہ میں تھے کہ بارہ شخص منہ پر نقاب ڈالے آئے اور اونٹنی کو گھیر لیا حضور ﷺ نے انہیں للکارا اور وہ دم دباکر بھاگ کھڑے ہوئے آپ نے ہم سے فرمایا کیا تم نے انہیں پہچانا ؟ ہم نے کہا نہیں لیکن انکی سواریاں ہماری نگاہوں میں ہیں آپ نے فرمایا یہ منافق تھے اور قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ جانتے ہو کہ کس ارادے سے آئے تھے ؟ ہم نے کہا نہیں فرمایا اللہ کے رسول کو عقبہ میں پریشان کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لئے۔ ہم نے کہا حضور ﷺ انکی قوم کے لوگوں سے کہلوا دیجئے کہ ہر قوم والے اپنے دشمنوں سے لڑے ان پر فتح حاصل کرکے پھر اپنے ان ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ آپ نے ان کے لئے بددعا کی کہ یا اللہ ان کے دلوں پر آتشیں پھوڑے پیدا کر دے۔ اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں حضور ﷺ نے اعلان کرا دیا کہ میں عقبہ کے راستے میں جاؤں گا۔ اسکی راہ کوئی نہ آئے حضرت حذیفہ ؓ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت عمار ؓ پیچھے سے چلا رہے تھے کہ ایک جماعت اپنی اونٹنیوں پر سوار آگئی حضرت عمار ؓ نے ان کی سواریوں کو مارنا شروع کیا اور حضرت حذیفہ ؓ نے حضور ﷺ کے فرمان سے آپ کی سواری کو نیچے کی طرف چلانا شروع کردیا جب نیچے میدان آگیا آپ سواری سے اتر آئے اتنے میں عمار ؓ بھی واپس پہنچ گئے۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ کون تھے پہچان بھی ؟ حضرت عمار ؓ نے کہا منہ تو چھپے ہوئے تھے لیکن سواریاں معلوم ہیں پوچھا انکا ارادہ کیا تھا جانتے ہو ؟ جواب دیا کہ نہیں آپ نے فرمایا انہوں نے چاہا تھا کہ شور کر کے ہماری اونٹنی کو بھڑکا دیں اور ہمیں گرا دیں۔ ایک شخص سے حضرت عمار ؓ نے انکی تعداد دریافت کی تو اسنے کہا چودہ۔ آپ نے فرمایا اگر تو بھی ان میں تھا تو پندرہ۔ حضور ﷺ نے ان میں سے تین شخصوں کے نام گنوائے انہوں نے کہا واللہ ہم نے تو منادی کی ندا سنی اور نہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے کسی بد ارادے کا علم تھا۔ حضرت عمار ؓ فرماتے ہیں کہ باقی کے بارہ لوگ اللہ رسول سے لڑائی کرنے والے ہیں دنیا میں اور آخرت میں بھی۔ امام محمد بن اسحاق نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام بھی گنوائے ہیں واللہ اعلم۔ صحیح مسلم میں ہے کہ اہل عقبہ میں سے ایک شخص کے ساتھ حضرت عمار ؓ کا کچھ تعلق تھا تو اس کو آپ نے قسم دے کر اصحاب عقبہ کی گنتی دریافت کی لوگوں نے بھی اس سے کہا کہ ہاں بتادو اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ چودہ تھے اگر مجھے بھی شامل کیا جائے تو پندرہ ہوئے۔ ان میں سے بارہ تو دشمن اللہ اور رسول ﷺ ہی تھے اور تین شخصوں کی قسم پر کہ نہ ہم نے منادی کی نہ ندا سنی نہ ہمیں جانے والوں کے ارادے کا علم تھا اس لئے معذور رکھا گیا۔ گرمی کا موسم تھا پانی بہت کم تھا آپ نے فرما دیا تھا کہ مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے لیکن اس پر بھی کچھ لوگ پہنچ گئے تھے آپ نے ان پر لعنت کی آپ کا فرمان ہے کہ میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے آٹھ کے کندھوں پر تو آتشی پھوڑا ہوگا جو سینے تک پہنچے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔ اسی باعث حضرت حذیفہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ کا راز دار کہا جاتا تھا آپ نے صرف انہی کو ان منافقوں کے نام بتائے تھے واللہ اعلم۔ طبرانی میں ان کے نام یہ ہیں معتب بن قشیر ودیعہ بن ثابت جدین بن عبداللہ بن نبیل بن حارث جو عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا اور حارث بن یزید، طائی اوس بن قیطی، حارث بن سوید، سفیہ بن دراہ، قیس بن فہر، سوید، داعن قبیلہ بنو جعلی کے، قیس بن عمرو بن سہل، زید بن لصیت اور سلالہ بن ہمام یہ دونوں قبیلہ بنو قینقاع کے ہیں یہ سب بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔ اس آیت میں اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول کے ہاتھوں مالدار بنایا۔ اگر ان پر اللہ کا پورا فضل ہوجاتا تو انہیں ہدایت بھی نصیب ہوجاتی جیسے کہ حضور ﷺ نے انصار سے فرمایا کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ نے میری وجہ سے تمہاری رہبری کی تم متفرق تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں الفت ڈال دی۔ تم فقیر بےنوا تھے اللہ نے میرے سبب سے تمہیں غنی اور مالدار کردیا۔ ہر سوال کے جواب میں انصار ؓ فرماتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ کا اور اس کے رسول ﷺ کا اس سے زیادہ احسان ہے۔ الغرض بیان یہ ہے کہ بےقصور ہونے کے بدلے یہ لوگ دشمنی اور بےایمانی پر اتر آئے۔ جیسے سورة بروج میں ہے کہ ان مسلمانوں میں سے ایک کافروں کا انتقام صرف ان کے ایمان کے باعث تھا۔ حدیث میں ہے کہ ابن جمیل صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اسے غنی کردیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اپنے اسی طریقہ پر کاربند رہے تو انہیں دنیا میں بھی سخت سزا ہوگی قتل، صدمہ و غم اور دوزخ کے ذلیل و پست کرنے والے ناقابل برداشت عذاب کی سزا بھی۔ دنیا میں کوئی نہ ہوگا جو ان کی طرف داری کرے ان کی مدد کرے ان کے کام آئے ان سے برائی ہٹائے یا انہیں نفع پہنچائے یہ بےیارو مددگار رہ جائیں گے۔
75
View Single
۞وَمِنۡهُم مَّنۡ عَٰهَدَ ٱللَّهَ لَئِنۡ ءَاتَىٰنَا مِن فَضۡلِهِۦ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
And among them are those who made a covenant with Allah that, “If He gives us by His munificence, we will surely give charity and surely become righteous.”
اور ان (منافقوں) میں (بعض) وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے (دولت) عطا فرمائی تو ہم ضرور (اس کی ر اہ میں) خیرات کریں گے اور ہم ضرور نیکو کاروں میں سے ہو جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites seek Wealth but are Stingy with Alms
Allah says, some hypocrites give Allah their strongest oaths that if He enriches them from His bounty, they will give away alms and be among the righteous. However, they did not fulfill their vows or say the truth with their words. The consequence of this action is that hypocrisy was placed in their hearts until the Day they meet Allah the Exalted, on the Day of Resurrection. We seek refuge with Allah from such an end. Allah said,
بِمَآ أَخْلَفُواْ اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ
(...because they broke that (covenant) with Allah which they had promised to Him) He placed hypocrisy in their hearts because they broke their promise and lied. In the Two Sahihs, it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَان»
(There are three signs for a hypocrite: if he speaks, he lies; if he promises, he breaks the promise; and if he is entrusted, he betrays the trust.) Allah said,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ
(Know they not that Allah knows their secret ideas, and their Najwa,) Allah states that He knows the secret and what is more hidden than the secret. He has full knowledge of what is in their hearts, even when they pretend that they will give away alms, if they acquire wealth, and will be grateful to Allah for it. Truly, Allah knows them better than they know themselves, for He is the All-Knower of all unseen and apparent things, every secret, every session of counsel, and all that is seen and hidden.
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں لیکن جب اللہ نے اسے امیر اور خوشحال بنادیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لئے نفاق ڈال دیا۔ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے مالداری کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا تھوڑا مال جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے پھر دوبارہ بھی درخواست کی تو آپ نے پھر سمجھایا کہ تو اپنا حال اللہ کے نبی جیسا رکھنا پسند کرتا ؟ واللہ اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔ اس نے کہا حضور واللہ میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کردے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔ آپ نے فرمایا اسکے لئے مال میں برکت کی دعا کی اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں یہاں تک کہ مدینہ شریف اس کے جانوروں کے لئے تنگ ہوگیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں۔ مال بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لئے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا ؟ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے اس کا حال دریافت کیا لوگوں نے سب کچھ بیان کردیا آپ ﷺ نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔ دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب اس نے کہا میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔ بالآخر انہوں نے لے لئے اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے اس نے کہا ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔ پڑھ کر کہنے لگا بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔ یہ واپس چلے گئے انہیں دیکھتے ہیں حضور ﷺ نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لئے برکت کی دعا کی اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلا نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی یہ حضرت ﷺ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا آپ نے فرمایا یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا حضور ﷺ نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقہ میں آیا اور کہنے لگا میری جو عزت حضور ﷺ کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون ؟ غرض آپ نے بھی انکار کردیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہوگیا اور امیرالمومنین حضرت عمر ؓ مسلمانوں کے ولی ہوئے یہ پھر آیا اور کہا کہ امیرالمومنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب حضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟ چناچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت حضرت عثمان ؓ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود حضور ﷺ نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کرلوں ؟ چناچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہوگیا۔ الغرض پہلے تو سخاوت کے وعدے کئے تھے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر۔ پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کرلی۔ اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہوگیا جو اس وقت سے اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ دل کے ظاہر اور پوشیدہ ارادوں اور سینے کے رازوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا تھا کہ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہوجائیں تو یوں خیراتیں کریں یوں شکر گذاری کریں یوں نیکیاں کریں۔ لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ مال مست ہوجائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے، وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے، ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے۔
76
View Single
فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُم مِّن فَضۡلِهِۦ بَخِلُواْ بِهِۦ وَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ
Therefore when Allah gave them by His munificence, they hoarded it and turning their faces, went back.* (* Reneged on their promise).
پس جب اس نے انہیں اپنے فضل سے (دولت) بخشی (تو) وہ اس میں بخل کرنے لگے اور وہ (اپنے عہد سے) روگردانی کرتے ہوئے پھر گئے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites seek Wealth but are Stingy with Alms
Allah says, some hypocrites give Allah their strongest oaths that if He enriches them from His bounty, they will give away alms and be among the righteous. However, they did not fulfill their vows or say the truth with their words. The consequence of this action is that hypocrisy was placed in their hearts until the Day they meet Allah the Exalted, on the Day of Resurrection. We seek refuge with Allah from such an end. Allah said,
بِمَآ أَخْلَفُواْ اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ
(...because they broke that (covenant) with Allah which they had promised to Him) He placed hypocrisy in their hearts because they broke their promise and lied. In the Two Sahihs, it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَان»
(There are three signs for a hypocrite: if he speaks, he lies; if he promises, he breaks the promise; and if he is entrusted, he betrays the trust.) Allah said,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ
(Know they not that Allah knows their secret ideas, and their Najwa,) Allah states that He knows the secret and what is more hidden than the secret. He has full knowledge of what is in their hearts, even when they pretend that they will give away alms, if they acquire wealth, and will be grateful to Allah for it. Truly, Allah knows them better than they know themselves, for He is the All-Knower of all unseen and apparent things, every secret, every session of counsel, and all that is seen and hidden.
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں لیکن جب اللہ نے اسے امیر اور خوشحال بنادیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لئے نفاق ڈال دیا۔ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے مالداری کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا تھوڑا مال جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے پھر دوبارہ بھی درخواست کی تو آپ نے پھر سمجھایا کہ تو اپنا حال اللہ کے نبی جیسا رکھنا پسند کرتا ؟ واللہ اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔ اس نے کہا حضور واللہ میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کردے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔ آپ نے فرمایا اسکے لئے مال میں برکت کی دعا کی اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں یہاں تک کہ مدینہ شریف اس کے جانوروں کے لئے تنگ ہوگیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں۔ مال بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لئے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا ؟ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے اس کا حال دریافت کیا لوگوں نے سب کچھ بیان کردیا آپ ﷺ نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔ دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب اس نے کہا میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔ بالآخر انہوں نے لے لئے اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے اس نے کہا ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔ پڑھ کر کہنے لگا بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔ یہ واپس چلے گئے انہیں دیکھتے ہیں حضور ﷺ نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لئے برکت کی دعا کی اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلا نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی یہ حضرت ﷺ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا آپ نے فرمایا یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا حضور ﷺ نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقہ میں آیا اور کہنے لگا میری جو عزت حضور ﷺ کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون ؟ غرض آپ نے بھی انکار کردیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہوگیا اور امیرالمومنین حضرت عمر ؓ مسلمانوں کے ولی ہوئے یہ پھر آیا اور کہا کہ امیرالمومنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب حضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟ چناچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت حضرت عثمان ؓ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود حضور ﷺ نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کرلوں ؟ چناچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہوگیا۔ الغرض پہلے تو سخاوت کے وعدے کئے تھے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر۔ پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کرلی۔ اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہوگیا جو اس وقت سے اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ دل کے ظاہر اور پوشیدہ ارادوں اور سینے کے رازوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا تھا کہ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہوجائیں تو یوں خیراتیں کریں یوں شکر گذاری کریں یوں نیکیاں کریں۔ لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ مال مست ہوجائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے، وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے، ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے۔
77
View Single
فَأَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقٗا فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهُۥ بِمَآ أَخۡلَفُواْ ٱللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُواْ يَكۡذِبُونَ
So following this, Allah put hypocrisy in their hearts until the day when they will meet Him – the result of their breaching the promise made to Allah, and because they lied.
پس اس نے ان کے دلوں میں نفاق کو (ان کے اپنے بخل کا) انجام بنا دیا اس دن تک کہ جب وہ اس سے ملیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے اپنے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کی اور اس وجہ سے (بھی) کہ وہ کذب بیانی کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites seek Wealth but are Stingy with Alms
Allah says, some hypocrites give Allah their strongest oaths that if He enriches them from His bounty, they will give away alms and be among the righteous. However, they did not fulfill their vows or say the truth with their words. The consequence of this action is that hypocrisy was placed in their hearts until the Day they meet Allah the Exalted, on the Day of Resurrection. We seek refuge with Allah from such an end. Allah said,
بِمَآ أَخْلَفُواْ اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ
(...because they broke that (covenant) with Allah which they had promised to Him) He placed hypocrisy in their hearts because they broke their promise and lied. In the Two Sahihs, it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَان»
(There are three signs for a hypocrite: if he speaks, he lies; if he promises, he breaks the promise; and if he is entrusted, he betrays the trust.) Allah said,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ
(Know they not that Allah knows their secret ideas, and their Najwa,) Allah states that He knows the secret and what is more hidden than the secret. He has full knowledge of what is in their hearts, even when they pretend that they will give away alms, if they acquire wealth, and will be grateful to Allah for it. Truly, Allah knows them better than they know themselves, for He is the All-Knower of all unseen and apparent things, every secret, every session of counsel, and all that is seen and hidden.
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں لیکن جب اللہ نے اسے امیر اور خوشحال بنادیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لئے نفاق ڈال دیا۔ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے مالداری کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا تھوڑا مال جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے پھر دوبارہ بھی درخواست کی تو آپ نے پھر سمجھایا کہ تو اپنا حال اللہ کے نبی جیسا رکھنا پسند کرتا ؟ واللہ اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔ اس نے کہا حضور واللہ میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کردے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔ آپ نے فرمایا اسکے لئے مال میں برکت کی دعا کی اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں یہاں تک کہ مدینہ شریف اس کے جانوروں کے لئے تنگ ہوگیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں۔ مال بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لئے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا ؟ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے اس کا حال دریافت کیا لوگوں نے سب کچھ بیان کردیا آپ ﷺ نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔ دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب اس نے کہا میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔ بالآخر انہوں نے لے لئے اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے اس نے کہا ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔ پڑھ کر کہنے لگا بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔ یہ واپس چلے گئے انہیں دیکھتے ہیں حضور ﷺ نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لئے برکت کی دعا کی اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلا نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی یہ حضرت ﷺ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا آپ نے فرمایا یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا حضور ﷺ نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقہ میں آیا اور کہنے لگا میری جو عزت حضور ﷺ کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون ؟ غرض آپ نے بھی انکار کردیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہوگیا اور امیرالمومنین حضرت عمر ؓ مسلمانوں کے ولی ہوئے یہ پھر آیا اور کہا کہ امیرالمومنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب حضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟ چناچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت حضرت عثمان ؓ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود حضور ﷺ نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کرلوں ؟ چناچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہوگیا۔ الغرض پہلے تو سخاوت کے وعدے کئے تھے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر۔ پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کرلی۔ اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہوگیا جو اس وقت سے اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ دل کے ظاہر اور پوشیدہ ارادوں اور سینے کے رازوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا تھا کہ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہوجائیں تو یوں خیراتیں کریں یوں شکر گذاری کریں یوں نیکیاں کریں۔ لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ مال مست ہوجائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے، وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے، ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے۔
78
View Single
أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوَىٰهُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
Do they not know that Allah knows their secrets and the schemes they whisper, and that Allah is the All Knowing of all the hidden?
کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ان کے بھید اور ان کی سرگوشیاں جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیب کی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites seek Wealth but are Stingy with Alms
Allah says, some hypocrites give Allah their strongest oaths that if He enriches them from His bounty, they will give away alms and be among the righteous. However, they did not fulfill their vows or say the truth with their words. The consequence of this action is that hypocrisy was placed in their hearts until the Day they meet Allah the Exalted, on the Day of Resurrection. We seek refuge with Allah from such an end. Allah said,
بِمَآ أَخْلَفُواْ اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ
(...because they broke that (covenant) with Allah which they had promised to Him) He placed hypocrisy in their hearts because they broke their promise and lied. In the Two Sahihs, it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ said,
«آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَان»
(There are three signs for a hypocrite: if he speaks, he lies; if he promises, he breaks the promise; and if he is entrusted, he betrays the trust.) Allah said,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ
(Know they not that Allah knows their secret ideas, and their Najwa,) Allah states that He knows the secret and what is more hidden than the secret. He has full knowledge of what is in their hearts, even when they pretend that they will give away alms, if they acquire wealth, and will be grateful to Allah for it. Truly, Allah knows them better than they know themselves, for He is the All-Knower of all unseen and apparent things, every secret, every session of counsel, and all that is seen and hidden.
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں لیکن جب اللہ نے اسے امیر اور خوشحال بنادیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لئے نفاق ڈال دیا۔ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے مالداری کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا تھوڑا مال جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے پھر دوبارہ بھی درخواست کی تو آپ نے پھر سمجھایا کہ تو اپنا حال اللہ کے نبی جیسا رکھنا پسند کرتا ؟ واللہ اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔ اس نے کہا حضور واللہ میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کردے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔ آپ نے فرمایا اسکے لئے مال میں برکت کی دعا کی اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں یہاں تک کہ مدینہ شریف اس کے جانوروں کے لئے تنگ ہوگیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں۔ مال بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لئے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا ؟ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے اس کا حال دریافت کیا لوگوں نے سب کچھ بیان کردیا آپ ﷺ نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔ دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب اس نے کہا میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔ بالآخر انہوں نے لے لئے اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے اس نے کہا ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔ پڑھ کر کہنے لگا بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔ یہ واپس چلے گئے انہیں دیکھتے ہیں حضور ﷺ نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لئے برکت کی دعا کی اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلا نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی یہ حضرت ﷺ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا آپ نے فرمایا یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔ یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا حضور ﷺ نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقہ میں آیا اور کہنے لگا میری جو عزت حضور ﷺ کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون ؟ غرض آپ نے بھی انکار کردیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہوگیا اور امیرالمومنین حضرت عمر ؓ مسلمانوں کے ولی ہوئے یہ پھر آیا اور کہا کہ امیرالمومنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے آپ نے جواب دیا کہ جب حضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟ چناچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت حضرت عثمان ؓ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود حضور ﷺ نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کرلوں ؟ چناچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہوگیا۔ الغرض پہلے تو سخاوت کے وعدے کئے تھے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر۔ پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کرلی۔ اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہوگیا جو اس وقت سے اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ دل کے ظاہر اور پوشیدہ ارادوں اور سینے کے رازوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا تھا کہ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہوجائیں تو یوں خیراتیں کریں یوں شکر گذاری کریں یوں نیکیاں کریں۔ لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ مال مست ہوجائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے، وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے، ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے۔
79
View Single
ٱلَّذِينَ يَلۡمِزُونَ ٱلۡمُطَّوِّعِينَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فِي ٱلصَّدَقَٰتِ وَٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهۡدَهُمۡ فَيَسۡخَرُونَ مِنۡهُمۡ سَخِرَ ٱللَّهُ مِنۡهُمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Those who find fault in the Muslims who give the charity wholeheartedly and in those who gain nothing except from their own toil – so they mock at them; Allah will punish them for their mocking; and for them is a painful punishment.
جو لوگ برضا و رغبت خیرات دینے والے مومنوں پر (ان کے) صدقات میں (ریاکاری و مجبوری کا) الزام لگاتے ہیں اور ان (نادار مسلمانوں) پر بھی (عیب لگاتے ہیں) جو اپنی محنت و مشقت کے سوا (کچھ زیادہ مقدور) نہیں پاتے سو یہ (ان کے جذبۂ اِنفاق کا بھی) مذاق اڑاتے ہیں، اللہ انہیں ان کے تمسخر کی سزا دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites defame Believers Who give the Little Charity They can afford
Among the traits of the hypocrites is that they will not leave anyone without defaming and ridiculing him in all circumstances even those who give away charity. If, for instance, someone gives away a large amount, the hypocrites say that he is showing off. If someone gives away a small amount they say that Allah stands not in need of this man's charity. Al-Bukhari recorded that `Ubaydullah bin Sa`id said that Abu An-Nu`man Al-Basri said that Shu`bah narrated that Sulayman said that Abu Wa'il said that Abu Mas`ud said, "When the verses of charity were revealed, we used to work as porters. A man came and distributed objects of charity in abundance and they (hypocrites) said, `He is showing off.' Another man came and gave a Sa` (a small measure of food grains); they said, `Allah is not in need of this small amount of charity.' Then the Ayah was revealed;
الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ
(Those who defame the volunteers...)" Muslim collected this Hadith in the Sahih. Al-`Awfi narrated that Ibn `Abbas said, "One day, the Messenger of Allah ﷺ went out to the people and called them to bring forth their charity, and they started bringing their charity. Among the last to come forth was a man who brought a Sa` of dates, saying, `O Allah's Messenger! This is a Sa` of dates. I spent the night bringing water and earned two Sa` of dates for my work. I kept one Sa` and brought you the other Sa`. ' The Messenger of Allah ﷺ ordered him to add it to the charity. Some men mocked that man, saying, `Allah and His Messenger are not in need of this charity. What benefit would this Sa` of yours bring' `Abdur-Rahman bin `Awf asked Allah's Messenger ﷺ, `Are there any more people who give charity' The Messenger of Allah ﷺ said,
«لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ غَيْرُك»
(None besides you!) `Abdur-Rahman bin `Awf said, `I will give a hundred Uqiyah of gold as a charity.' `Umar bin Al-Khattab said to him, `Are you crazy' `Abdur-Rahman said, `I am not crazy.' `Umar said, `Have you given what you said would give' `Abdur-Rahman said, `Yes. I have eight thousand (Dirhams), four thousand I give as a loan to my Lord and four thousand I keep for myself.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيمَا أَمْسَكْتَ وَفِيمَا أَعْطَيْت»
(May Allah bless you for what you kept and what you gave away). However, the hypocrites defamed him, `By Allah! `Abdur-Rahman gave what he gave just to show off.' They lied, for `Abdur-Rahman willingly gave that money, and Allah revealed about his innocence and the innocence of the fellow who was poor and brought only a Sa` of dates. Allah said in His Book,
الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَـتِ
(Those who defame such of the believers who give charity voluntarily) 9:79."' A similar story was narrated from Mujahid and several others. Ibn Ishaq said, "Among the believers who gave away charity were `Abdur-Rahman bin `Awf who gave four thousand Dirhams and `Asim bin `Adi from Bani `Ajlan. This occurred after the Messenger of Allah ﷺ encouraged and called for paying charity. `Abdur-Rahman bin `Awf stood and gave away four thousand Dirhams. `Asim bin `Adi also stood and gave a hundred Wasaq of dates, but some people defamed them, saying, `They are showing off.' As for the person who gave the little that he could afford, he was Abu `Aqil, from Bani Anif Al-Arashi, who was an ally of Bani `Amr bin `Awf. He brought a Sa` of dates and added it to the charity. They laughed at him, saying, `Allah does not need the Sa` of Abu `Aqil."' Allah said,
فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ
(so they mock at them (believers); Allah will throw back their mockery on them) rebuking them for their evil actions and defaming the believers. Truly, the reward, or punishment, is equitable to the action. Allah treated them the way mocked people are treated, to aid the believers in this life. Allah has prepared a painful torment in the Hereafter for the hypocrites, for the recompense is similar to the deed.
منافقوں کا مومنوں کی حوصلہ شکنی کا ایک انداز منافقوں کی ایک بدخصلت یہ بھی ہے کہ ان کی زبانوں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا نہ سخی نہ بخیل۔ یہ عیب جو بدگو لوگ بہت برے ہیں اگر کوئی شخص بڑی رقم اللہ کی راہ میں دے تو یہ اسے ریاکار کہنے لگتے ہیں اور اگر کوئی مسکین اپنی مالی کمزوری کی بنا پر تھوڑا بہت دے تو یہ ناک بھوں چڑھا کر کہتے ہیں لو ان کی اس حقیر چیز کا بھی اللہ بھوکا تھا۔ چناچہ جب صدقات دینے کی آیت اتری ہے تو صحابہ ؓ اپنے اپنے صدقات لئے ہوئے حاضر ہوتے ہیں ایک صاحب نے دل کھول کر بہت بڑی رقم دی تو اسے ان منافقوں نے ریاکار کا خطاب دیا بیچارے ایک صاحب مسکین آدمی تھی صرف ایک صاع اناج لائے تھے انہیں کہا کہ اس کے اس صدقے کی اللہ کو کیا ضرورت پڑی تھی ؟ اس کا بیان اس آیت میں ہے ایک مرتبہ آپ نے بقیع میں فرمایا کہ جو صدقہ دے گا میں اس کی بابت قیامت کے دن اللہ کے سامنے گواہی دوں گا اس وقت ایک صحابی نے اپنے عمامے میں سے کچھ دینا چاہا لیکن پھر لپیٹ لیا اتنے میں ایک صاحب جو سیاہ رنگ اور چھوٹے قد کے تھے ایک اونٹنی لے کر آگے بڑھے جن سے زیادہ اچھی اونٹنی بقیع بھر میں نہ تھی کہنے لگے یا رسول اللہ یہ اللہ کے نام پر خیرات ہے آپ نے فرمایا بہت اچھا اس نے کہا لیجئے سنبھالیجئے اس پر کسی نے کہا اس سے تو اونٹنی ہی اچھی ہے۔ آپ نے سن لیا اور فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تجھ سے اور اس سے تین گنا اچھا ہے افسوس سینکڑوں اونٹ رکھنے والے تجھ جیسوں پر افسوس، تین مرتبہ یہی فرمایا پھر فرمایا مگر وہ جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح کرے اور ہاتھ بھر بھر کر آپ نے اپنے ہاتھوں سے دائیں بائیں اشارہ کیا۔ یعنی راہ اللہ ہر نیک کام میں خرچ کرے۔ پھر فرمایا انہوں نے فلاح پالی جو کم مال والے اور زیادہ عبادت والے ہوں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف چالیس اوقیہ چاندی لائے اور ایک غریب انصاری ایک صاع اناج لائے منافقوں نے ایک کو ریاکار بتایا دوسرے کے صدقے کو حقیر کہہ دیا ایک مرتبہ آپ کے حکم سے لوگوں نے مال خیرات دینا اور جمع کرنا شروع کیا۔ ایک صاحب ایک صائع کھجوریں لے آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میرے پاس کھجوروں کے دو صاع تھے ایک میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لئے روک لیا اور ایک لے آیا آپ نے اسے بھی جمع شدہ مال میں ڈال دینے کو فرمایا اس پر منافق بکواس کرنے لگے کہ اللہ و رسول ﷺ تو اس سے بےنیاز ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہا میرے پاس ایک سو اوقیہ سونا ہے میں یہ سب صدقہ کرتا ہوں حضرت عمر نے فرمایا ہوش میں بھی ہے ؟ آپ نے جواب دیا ہاں ہوش میں ہوں فرمایا پھر کیا کر رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا سنو میرے پاس آٹھ ہزار ہیں جن میں سے چار ہزار تو میں اللہ کو قرض دے رہا ہوں اور چار ہزار اپنے لئے رکھ لیتا ہوں حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے جو تو نے رکھ لیا ہے اور جو تو نے خرچ کردیا ہے۔ منافق ان پر باتیں بنانے لگے کہ لوگوں کو اپنے سخاوت دکھانے کے لئے اتنی بڑی رقم دے دی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر بڑی رقم اور چھوٹی رقم والوں کی سچائی اور ان منافقوں کا موذی پن ظاہر کردیا۔ بنو عجلان کے عاصم بن عدی ؓ نے بھی اس وقت بڑی رقم خیرات میں دی تھی جو ایک سو وسق پر مشتمل تھی۔ منافقوں نے اسے ریاکاری پر محمول کیا تھا۔ اپنی محنت مزدوری کی تھوڑی سی خیرات دینے والے ابو عقیل تھے۔ یہ قبیلہ بنو انیف کے شخص تھے ان کے ایک صاع خیرات پر منافقوں نے ہنسی اور ہجو کی تھی اور روایت میں ہے کہ یہ چندہ حضور ﷺ نے مجاہدین کی ایک جماعت کو جہاد پر روانہ کرنے کے لئے کیا تھا۔ اس روایت میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن نے دو ہزار رکھے تھے۔ دوسرے بزرگ نے رات بھر کی محنت میں دو صائع کھجوریں حاصل کر کے ایک صائع رکھ لیں اور ایک صائع دے دیں۔ یہ حضرت ابو عقیل ؓ تھے رات بھر اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتے رہے تھے۔ ان کا نام حباب تھا۔ اور قول ہے کہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن ثعلبہ تھا۔ پس منافقوں کے اس تمسخر کی سزا میں اللہ نے ہی ان سے یہی بدلہ لیا۔ ان منافقوں کے لئے آخرت میں المناک عذاب ہیں۔ اور ان کے اعمال کا ان عملوں جیسا ہی برا بدلہ ہے۔
80
View Single
ٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ أَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ إِن تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِينَ مَرَّةٗ فَلَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
Whether you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) ask forgiveness for them* or not ask forgiveness for them; even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them; that is because they disbelieved in Allah and His Noble Messenger, and Allah does not guide the sinful. (* for the hypocrites.)
آپ خواہ ان (بدبخت، گستاخ اور آپ کی شان میں طعنہ زنی کرنے والے منافقوں) کے لئے بخشش طلب کریں یا ان کے لئے بخشش طلب نہ کریں، اگر آپ (اپنی طبعی شفقت اور عفو و درگزر کی عادتِ کریمانہ کے پیشِ نظر) ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش طلب کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of asking for Forgiveness for Hypocrites
Allah says to His Prophet that hypocrites are not worthy of seeking forgiveness for them and that if he asks Allah to forgive them seventy times, Allah will not forgive them. The number seventy here was mentioned to close the door on this subject, for Arabs use this number when they exaggerate, not that they actually mean seventy or more than seventy. Ash-Sha`bi said that when `Abdullah bin Ubayy was dying, his son went to the Prophet and said to him, "My father has died, I wish you could attend him and pray the funeral prayer for him." The Prophet said,
«مَا اسْمُك»
("What is you name) He said, "Al-Hubab bin `Abdullah." The Prophet said,
«بَلْ أَنْتَ عَبْدُاللهِ بْنُ عَبْدِاللهِ إِنَّ الْحُبَابَ اسْمَ شَيْطَان»
(Rather, you are `Abdullah bin `Abdullah, for Al-Hubab is a devil's name.) The Prophet went along with him, attended his father's funeral, gave him his shirt as a shroud and prayed the funeral prayer for him. He was asked, "Would you pray on him, when he is a hypocrite" He said,
«إِنَّ اللهَ قَالَ:
إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً
وَلَأسْتَغْفِرَنَّ لَهُمْ سَبْعِينَ وَسَبْعِينَ وَسَبْعِين»
(Allah said,(...(and even) if you ask seventy times for their forgiveness...) Verily, I will ask Allah to forgive them seventy times and seventy more and seventy more.)" Similar narrations were collected from `Urwah bin Az-Zubayr, Mujahid, Qatadah bin Di`amah and Ibn Jarir.
منافق کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے فرماتا ہے کہ یہ منافق اس قابل نہیں کہ اے نبی تو ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب کرے ایک بار نہیں اگر تو ستر مرتبہ بھی بخشش ان کے لئے چاہے تو اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ جو ستر کا ذکر ہے اس سے مراد صرف زیادتی ہے وہ ستر سے کم ہو یا بہت زیادہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے ستر کا ہی عدد ہے۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تو ان کے لئے ستر بار سے بھی زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ انہیں بخش دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمادیا کہ ان کے لئے تیرا استغفار کرنا نہ کرنے کے برابر ہے۔ عبداللہ بن ابی منافق کا بیٹا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ میرا باپ نزع کی حالت میں ہے میری خواہش ہے کہ آپ اس کے پاس تشریف لے چلیں، اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھیں۔ آپ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا حباب۔ آپ نے فرمایا تیرا نام عبداللہ ہے، حباب تو شیطان کا نام ہے۔ اب آپ ان کے ساتھ ہوئے ان کے باپ کو اپنا کرتہ اپنے پسینے والا پہنایا اس کی جنازے کی نماز پڑھائی۔ آپ سے کہا بھی گیا کہ آپ اس کے جنازے پر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ستر مرتبہ کے استغفار سے بھی نہ بخشنے کو فرمایا ہے تو میں ستر بار پھر ستر بار پھر ستر بار پھر استغفار کروں گا۔
81
View Single
فَرِحَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلَٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓاْ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُواْ لَا تَنفِرُواْ فِي ٱلۡحَرِّۗ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرّٗاۚ لَّوۡ كَانُواْ يَفۡقَهُونَ
Those who were left behind rejoiced that behind the Noble Messenger of Allah they had remained seated, and they were unwilling to fight in Allah's cause with their lives or their wealth, and said “Do not venture out in the heat”; say, “The fire of hell is the hottest”; if only they understood!
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کے باعث (دفاعِ مدینہ کے لیے جہاد سے) پیچھے رہ جانے والے (یہ منافق) اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہو رہے ہیں وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور کہتے تھے کہ اس گرمی میں نہ نکلو۔ فرما دیجیے: دوزخ کی آگ سب سے زیادہ گرم ہے، اگر وہ سمجھتے ہوتے (تو کیا ہی اچھا ہوتا)
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites rejoice because They remained behind from Tabuk!
Allah admonishes the hypocrites who lagged behind from the battle of Tabuk with the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, rejoicing that they remained behind after the Messenger ﷺ departed for the battle,
وَكَرِهُواْ أَن يُجَـهِدُواْ
(they hated to strive and fight), along with the Messenger ,
بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُواْ
(with their properties and their lives in the cause of Allah, and they said), to each other,
لاَ تَنفِرُواْ فِى الْحَرِّ
("March not forth in the heat.") Tabuk occurred at a time when the heat was intense and the fruits and shades became delightful. This is why they said,
لاَ تَنفِرُواْ فِى الْحَرِّ
("March not forth in the heat") Allah said to His Messenger ,
قُلْ
(Say) to them,
نَارُ جَهَنَّمَ
("The fire of Hell...), which will be your destination because of your disobedience,
أَشَدُّ حَرًّا
(". ..is more intense in heat;"), than the heat that you sought to avoid; it is even more intense than fire. Imam Malik narrated that Abu Az-Zinad said that Al-A`raj narrated that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said,
«نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي تُوقِدُونَهَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّم»
(The fire that the son of Adam kindles is but one part of seventy parts of the Fire of Jahannam.) They said, "O Allah's Messenger! This fire alone is enough." He said,
«فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا»
((Hellfire) was favored by sixty-nine parts.) The Two Sahihs collected this Hadith. Al-A`mash narrated that Abu Ishaq said that An-Nu`man bin Bashir said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِمَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ، لَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَشَدُّ عَذَابًا مِنْهُ وَإِنَّهُ أَهْوَنُهُمْ عَذَابًا»
(On the Day of Resurrection, the person who will receive the least punishment among the people of the Fire, wears two slippers made from the Fire of Jahannam causing his brain to boil, just as a pot boils. He thinks that none in the Fire is receiving a more severe torment than he, when in fact he is receiving the least torment.) The Two Sahihs collected this Hadith. There are many other Ayat and Prophetic Hadiths on this subject. Allah said in His Glorious Book,
كَلاَّ إِنَّهَا لَظَى - نَزَّاعَةً لِّلشَّوَى
(By no means! Verily, it will be the Fire of Hell. Taking away (burning completely) the scalp!) 70:15-16,
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ - وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ - كُلَّمَآ أَرَادُواْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا وَذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ
(Al-Hamim (boiling water) will be poured down over their heads. With it will melt (or vanish away) what is within their bellies, as well as (their) skins. And for them are hooked rods of iron (to punish them). Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein, and (it will be said to them): "Taste the torment of burning!") 22:19-22, and,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَاراً كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَـهُمْ جُلُوداً غَيْرَهَا لِيَذُوقُواْ الْعَذَابَ
(Surely, those who disbelieved in Our Ayat, We shall burn them in Fire. As often as their skins are roasted through, We shall change them for other skins that they may taste the punishment.)4:56 Allah said here,
قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ
(Say: "The fire of Hell is more intense in heat;" if only they could understand!) meaning, if they have any comprehension or understanding, they would have marched with the Messenger of Allah ﷺ during the heat, so as to save themselves from the Fire of Jahannam, which is much more severe. Allah, the Exalted, then warns the hypocrites against their conduct,
فَلْيَضْحَكُواْ قَلِيلاً
(So let them laugh a little...) Ibn Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "Life is short, so let them laugh as much as they like in it. But when life ends and they are returned to Allah, the Exalted and Most Honored, they will start crying forever without end."
جہنم کی آگ کالی ہے جو لوگ غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے۔ جنہیں راہ اللہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے ؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے۔ یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے پھر بھی یہ سمندر کے پانی میں دو دفعہ بجھائی ہوئی ہے ورنہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک ہزار سال تک آتش دوزخ دھونکی گئی تو سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکی گئی تو سیاہ ہوگئی پس وہ اندھیری رات جیسی سخت سیاہ ہے۔ ایک بار آپ نے (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ) 66۔ التحریم :6) کی تلاوت کی اور فرمایا ایک ہزار سال تک جلائے جانے سے وہ سفید پڑگئی پھر ایک ہزار سال تک بھڑکانے سے سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکے جانے سے سیاہ ہوگئی پس وہ سیاہ رات جیسی ہے اس کے شعلوں میں بھی چمک نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری مشرق میں تو اس کی حرارت مغرب تک پہنچ جائے۔ ابو یعلی کی ایک غریب روایت میں ہے کہ اگر اس مسجد میں ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں اور کوئی جہنمی یہاں آ کر سانس لے تو اس کی گرمی سے مسجد اور مسجد والے سب جل جائیں۔ اور حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا دوزخ میں وہ ہوگا جس کے دونوں پاؤں میں دو جوتیاں آگ کی تسمے سمیت ہوں گی جس کی گرمی سے اس کی کھوپڑی ابل رہی ہوگی اور وہ سمجھ رہا ہوگا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے حالانکہ دراصل سب سے ہلکا عذاب اسی کا ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال اتار دیتی ہے۔ اور کئی آیتوں میں ہے ان کے سروں پر کھولتا ہوا گرم پانی بہایا جائے گا۔ جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کے کھالیں جھلس جائیں گی پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کے سر کچلے جائیں گے۔ وہ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انہیں ہم بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں گے ان کی کھالیں جھلستی جائیں گی اور ہم ان کھالوں کے بدلے اور کھالیں بدلتے جائیں گے کہ وہ خوب عذاب چکھیں۔ اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ اگر انہیں سمجھ ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جہنم کی آگ کی گرمی اور تیزی بہت زیادہ ہے۔ تو یقینا یہ باوجود موسمی گرمی کے رسول اللہ کے ساتھ جہاد میں خوشی خوشی نکلتے اور اپنے جان و مال کو راہ اللہ میں فدا کرنے پر تل جاتے۔ عرب کا شاعر کہتا ہے کہ تو نے اپنی عمر سردی گرمی سے بچنے کی کوشش میں گذار دی حالانکہ تجھے لائق تھا کہ اللہ کی نافرمانیوں سے بچتا کہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ اب اللہ تبارک و تعالیٰ ان بدباطن منافقوں کو ڈرا رہا ہے کہ تھوڑی سی زندگی میں یہاں تو جتنا چاہیں ہنس لیں۔ لیکن اس آنے والی زندگی میں ان کے لئے رونا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ لوگو روؤ اور رونا نہ آئے تو زبردستی روؤ جہنمی روئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر نہر جیسے گڑھے پڑجائیں گے آخر آنسو ختم ہوجائیں گے اب آنکھیں خون برسانے لگیں گی ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو اور خون بہا ہوگا کہ اگر کوئی اس میں کشتی چلانی چاہے تو چلا سکتا ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ جہنمی جہنم میں روئیں گے اور خوب روتے ہیں رہیں گے، آنسو ختم ہونے کے بعد پیپ نکلنا شروع ہوگا۔ اس وقت دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے اے بدبخت رحم کی جگہ تو تم کبھی ہو نہ روئے اب یہاں کا رونا دھونا لاحاصل ہے۔ اب یہ اونچی آوازوں سے چلا چلا کر جنتیوں سے فریاد کریں گے کہ تم لوگ ہمارے ہو رشتے کنبے کے ہو سنو ہم قبروں سے پیاسے اٹھے تھے پھر میدان حشر میں بھی پیاسے ہی رہے اور آج تک یہاں بھی پیاسے ہی ہیں، ہم پر رحم کرو کچھ پانی ہمارے حلق میں چھو دو یا جو روزی اللہ نے تمہیں دی ہے اس میں سے ہی تھوڑا بہت ہمیں دے دو۔ چالیس سال تک کتوں کی طرح چیختے رہیں گے چالیس سال کے بعد انہیں جواب ملے گا کہ تم یونہی دھتکارے ہوئے بھوکے پیاسے ہی ان سڑیل اور اٹل سخت عذابوں میں پڑے رہو اب یہ تمام بھلائیوں سے مایوس ہوجائیں گے۔
82
View Single
فَلۡيَضۡحَكُواْ قَلِيلٗا وَلۡيَبۡكُواْ كَثِيرٗا جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
So they should laugh a little and weep much; the reward of what they used to earn.
پس انہیں چاہیئے کہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں (کیونکہ آخرت میں انہیں زیادہ رونا ہے) یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کماتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites rejoice because They remained behind from Tabuk!
Allah admonishes the hypocrites who lagged behind from the battle of Tabuk with the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, rejoicing that they remained behind after the Messenger ﷺ departed for the battle,
وَكَرِهُواْ أَن يُجَـهِدُواْ
(they hated to strive and fight), along with the Messenger ,
بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُواْ
(with their properties and their lives in the cause of Allah, and they said), to each other,
لاَ تَنفِرُواْ فِى الْحَرِّ
("March not forth in the heat.") Tabuk occurred at a time when the heat was intense and the fruits and shades became delightful. This is why they said,
لاَ تَنفِرُواْ فِى الْحَرِّ
("March not forth in the heat") Allah said to His Messenger ,
قُلْ
(Say) to them,
نَارُ جَهَنَّمَ
("The fire of Hell...), which will be your destination because of your disobedience,
أَشَدُّ حَرًّا
(". ..is more intense in heat;"), than the heat that you sought to avoid; it is even more intense than fire. Imam Malik narrated that Abu Az-Zinad said that Al-A`raj narrated that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said,
«نَارُ بَنِي آدَمَ الَّتِي تُوقِدُونَهَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّم»
(The fire that the son of Adam kindles is but one part of seventy parts of the Fire of Jahannam.) They said, "O Allah's Messenger! This fire alone is enough." He said,
«فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا»
((Hellfire) was favored by sixty-nine parts.) The Two Sahihs collected this Hadith. Al-A`mash narrated that Abu Ishaq said that An-Nu`man bin Bashir said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِمَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ، لَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَشَدُّ عَذَابًا مِنْهُ وَإِنَّهُ أَهْوَنُهُمْ عَذَابًا»
(On the Day of Resurrection, the person who will receive the least punishment among the people of the Fire, wears two slippers made from the Fire of Jahannam causing his brain to boil, just as a pot boils. He thinks that none in the Fire is receiving a more severe torment than he, when in fact he is receiving the least torment.) The Two Sahihs collected this Hadith. There are many other Ayat and Prophetic Hadiths on this subject. Allah said in His Glorious Book,
كَلاَّ إِنَّهَا لَظَى - نَزَّاعَةً لِّلشَّوَى
(By no means! Verily, it will be the Fire of Hell. Taking away (burning completely) the scalp!) 70:15-16,
هَـذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُواْ فِى رَبِّهِمْ فَالَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارِ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ - يُصْهَرُ بِهِ مَا فِى بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ - وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ - كُلَّمَآ أَرَادُواْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا وَذُوقُواْ عَذَابَ الْحَرِيقِ
(Al-Hamim (boiling water) will be poured down over their heads. With it will melt (or vanish away) what is within their bellies, as well as (their) skins. And for them are hooked rods of iron (to punish them). Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein, and (it will be said to them): "Taste the torment of burning!") 22:19-22, and,
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَايَـتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَاراً كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَـهُمْ جُلُوداً غَيْرَهَا لِيَذُوقُواْ الْعَذَابَ
(Surely, those who disbelieved in Our Ayat, We shall burn them in Fire. As often as their skins are roasted through, We shall change them for other skins that they may taste the punishment.)4:56 Allah said here,
قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ
(Say: "The fire of Hell is more intense in heat;" if only they could understand!) meaning, if they have any comprehension or understanding, they would have marched with the Messenger of Allah ﷺ during the heat, so as to save themselves from the Fire of Jahannam, which is much more severe. Allah, the Exalted, then warns the hypocrites against their conduct,
فَلْيَضْحَكُواْ قَلِيلاً
(So let them laugh a little...) Ibn Abi Talhah reported that Ibn `Abbas commented, "Life is short, so let them laugh as much as they like in it. But when life ends and they are returned to Allah, the Exalted and Most Honored, they will start crying forever without end."
جہنم کی آگ کالی ہے جو لوگ غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے۔ جنہیں راہ اللہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے ؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے۔ یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے پھر بھی یہ سمندر کے پانی میں دو دفعہ بجھائی ہوئی ہے ورنہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ایک ہزار سال تک آتش دوزخ دھونکی گئی تو سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکی گئی تو سیاہ ہوگئی پس وہ اندھیری رات جیسی سخت سیاہ ہے۔ ایک بار آپ نے (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ) 66۔ التحریم :6) کی تلاوت کی اور فرمایا ایک ہزار سال تک جلائے جانے سے وہ سفید پڑگئی پھر ایک ہزار سال تک بھڑکانے سے سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکے جانے سے سیاہ ہوگئی پس وہ سیاہ رات جیسی ہے اس کے شعلوں میں بھی چمک نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری مشرق میں تو اس کی حرارت مغرب تک پہنچ جائے۔ ابو یعلی کی ایک غریب روایت میں ہے کہ اگر اس مسجد میں ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں اور کوئی جہنمی یہاں آ کر سانس لے تو اس کی گرمی سے مسجد اور مسجد والے سب جل جائیں۔ اور حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا دوزخ میں وہ ہوگا جس کے دونوں پاؤں میں دو جوتیاں آگ کی تسمے سمیت ہوں گی جس کی گرمی سے اس کی کھوپڑی ابل رہی ہوگی اور وہ سمجھ رہا ہوگا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے حالانکہ دراصل سب سے ہلکا عذاب اسی کا ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال اتار دیتی ہے۔ اور کئی آیتوں میں ہے ان کے سروں پر کھولتا ہوا گرم پانی بہایا جائے گا۔ جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کے کھالیں جھلس جائیں گی پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کے سر کچلے جائیں گے۔ وہ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انہیں ہم بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں گے ان کی کھالیں جھلستی جائیں گی اور ہم ان کھالوں کے بدلے اور کھالیں بدلتے جائیں گے کہ وہ خوب عذاب چکھیں۔ اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ اگر انہیں سمجھ ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جہنم کی آگ کی گرمی اور تیزی بہت زیادہ ہے۔ تو یقینا یہ باوجود موسمی گرمی کے رسول اللہ کے ساتھ جہاد میں خوشی خوشی نکلتے اور اپنے جان و مال کو راہ اللہ میں فدا کرنے پر تل جاتے۔ عرب کا شاعر کہتا ہے کہ تو نے اپنی عمر سردی گرمی سے بچنے کی کوشش میں گذار دی حالانکہ تجھے لائق تھا کہ اللہ کی نافرمانیوں سے بچتا کہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ اب اللہ تبارک و تعالیٰ ان بدباطن منافقوں کو ڈرا رہا ہے کہ تھوڑی سی زندگی میں یہاں تو جتنا چاہیں ہنس لیں۔ لیکن اس آنے والی زندگی میں ان کے لئے رونا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ لوگو روؤ اور رونا نہ آئے تو زبردستی روؤ جہنمی روئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر نہر جیسے گڑھے پڑجائیں گے آخر آنسو ختم ہوجائیں گے اب آنکھیں خون برسانے لگیں گی ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو اور خون بہا ہوگا کہ اگر کوئی اس میں کشتی چلانی چاہے تو چلا سکتا ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ جہنمی جہنم میں روئیں گے اور خوب روتے ہیں رہیں گے، آنسو ختم ہونے کے بعد پیپ نکلنا شروع ہوگا۔ اس وقت دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے اے بدبخت رحم کی جگہ تو تم کبھی ہو نہ روئے اب یہاں کا رونا دھونا لاحاصل ہے۔ اب یہ اونچی آوازوں سے چلا چلا کر جنتیوں سے فریاد کریں گے کہ تم لوگ ہمارے ہو رشتے کنبے کے ہو سنو ہم قبروں سے پیاسے اٹھے تھے پھر میدان حشر میں بھی پیاسے ہی رہے اور آج تک یہاں بھی پیاسے ہی ہیں، ہم پر رحم کرو کچھ پانی ہمارے حلق میں چھو دو یا جو روزی اللہ نے تمہیں دی ہے اس میں سے ہی تھوڑا بہت ہمیں دے دو۔ چالیس سال تک کتوں کی طرح چیختے رہیں گے چالیس سال کے بعد انہیں جواب ملے گا کہ تم یونہی دھتکارے ہوئے بھوکے پیاسے ہی ان سڑیل اور اٹل سخت عذابوں میں پڑے رہو اب یہ تمام بھلائیوں سے مایوس ہوجائیں گے۔
83
View Single
فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٖ مِّنۡهُمۡ فَٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِلۡخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخۡرُجُواْ مَعِيَ أَبَدٗا وَلَن تُقَٰتِلُواْ مَعِيَ عَدُوًّاۖ إِنَّكُمۡ رَضِيتُم بِٱلۡقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٖ فَٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡخَٰلِفِينَ
Then if Allah takes you back to a group of them and they seek permission from you to go out to fight, say to them, “You shall never go out with me nor ever fight with me against any enemy; you were happy to remain seated for the first time, therefore remain seated with those who stay behind.”
پس (اے حبیب!) اگر اللہ آپ کو (غزوۂ تبوک سے فارغ ہونے کے بعد) ان (منافقین) میں سے کسی گروہ کی طرف دوبارہ واپس لے جائے اور وہ آپ سے (آئندہ کسی اور غزوہ کے موقع پر جہاد کے لئے) نکلنے کی اجازت چاہیں تو ان سے فرما دیجئے گا کہ (اب) تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلنا اور تم میرے ساتھ ہو کر کبھی بھی ہرگز دشمن سے جنگ نہ کرنا (کیونکہ) تم پہلی مرتبہ (جہاد چھوڑ کر) پیچھے بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے تھے سو (اب بھی) پیچھے بیٹھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites are barred from participating in Jihad
Allah commands His Messenger, peace be upon him,
فَإِن رَّجَعَكَ اللَّهُ
(If Allah brings you back), from this battle,
إِلَى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ
(to a party of them) in reference to the twelve (hypocrite) men, according to Qatadah,
فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ
(and they ask your permission to go out), with you to another battle,
فَقُلْ لَّن تَخْرُجُواْ مَعِىَ أَبَدًا وَلَن تُقَـتِلُواْ مَعِىَ عَدُوًّا
(say: "Never shall you go out with me nor fight an enemy with me...") as an admonishment and punishment for them. Allah mentioned the reason for this decision,
إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
("You were pleased to sit (inactive) on the first occasion...") Allah said in a similar Ayah,
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away (from guidance), as they refused to believe therein for the first time. ) 6:110 The recompense of an evil deed includes being directed to follow it with another evil deed, while the reward of a good deed includes being directed to another good deed after it. For instance, Allah said concerning the `Umrah of Hudaybiyyah,
سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَى مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا
(Those who lagged behind will say, when you set forth to take the spoils.)48:15 Allah said next,
فَاقْعُدُواْ مَعَ الْخَـلِفِينَ
("...then you sit (now) with those who lag behind.") in reference to the men who lagged behind from Tabuk battle, according to Ibn `Abbas.
مکاروں کی سزا فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی کے ساتھ اس غزوے سے واپس مدینے پہنچا دے اور ان میں سے کوئی جماعت تجھ سے کسی اور غزوے میں تیرے ساتھ چلنے کی درخواست کرے تو بطور ان کو سزا دینے کے تو صاف کہہ دینا کہ نہ تو تم میرے ساتھ والوں میں میرے ساتھ چل سکتے ہو نہ تم میری ہمراہی میں دشمنوں سے جنگ کرسکتے ہو۔ تم جب موقعہ پر دغا دے گئے اور پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہے تو اب تیاری کے کیا معنی ؟ پس یہ آیت مثل (وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01100) 6۔ الانعام :110) کے ہے بدی کا برا بدلہ بدی کے بعد ملتا ہے جیسے کہ نیکی کی جزاء بھی نیکی کے بعد ملتی ہے۔ عمرہ حدیبیہ کے وقت قرآنی نے فرمایا تھا (سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْــطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُم 15) 48۔ الفتح :15) یعنی جب تم غنیمتیں لینے چلو گے یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ تم سے کہیں گے کہ ہمیں اجازت دو ہم بھی تمہارے ساتھ ہو لیں۔ یہاں فرمایا کہ ان سے کہہ دینا کہ بیٹھ رہنے والوں میں ہی تم بھی رہو۔ جو عورتوں کی طرح گھروں میں گھسے رہتے ہیں۔
84
View Single
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ إِنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُواْ وَهُمۡ فَٰسِقُونَ
And never offer funeral prayers for any of them* who dies, nor stand by his grave**; indeed they disbelieved in Allah and His Noble Messenger, and they died as sinners. (* It is forbidden to offer funeral prayers for the hypocrites. ** To ask forgiveness for them).
اور آپ کبھی بھی ان (منافقوں) میں سے جو کوئی مر جائے اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر کھڑے ہوں (کیونکہ آپ کا کسی جگہ قدم رکھنا بھی رحمت و برکت کا باعث ہوتا ہے اور یہ آپ کی رحمت و برکت کے حق دار نہیں ہیں)۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں ہی مر گئے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Prayer for the Funeral of Hypocrites
Allah commands His Messenger to disown the hypocrites, to abstain from praying the funeral prayer when any of them dies, from standing next to his grave to seek Allah's forgiveness for him, or to invoke Allah for his benefit. This is because hypocrites disbelieved in Allah and His Messenger and died as such. This ruling applies to all those who are known to be hypocrites, even though it was revealed about the specific case of `Abdullah bin Ubayy bin Salul, the chief hypocrite. Al-Bukhari recorded that Ibn `Umar said, "When `Abdullah bin Ubayy died, his son, `Abdullah bin `Abdullah, came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him to give him his shirt to shroud his father in, and the Messenger did that. He also asked that the Prophet offer his father's funeral prayer, and Allah's Messenger ﷺ stood up to offer the funeral prayer. `Umar took hold of the Prophet's robe and said, `O Allah's Messenger! Are you going to offer his funeral prayer even though your Lord has forbidden you to do so' Allah's Messenger ﷺ said,
«إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ:
(I have been given the choice, for Allah says:
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ
(Whether you ask forgiveness for them (hypocrites), or do not ask for forgiveness for them. Even though you ask for their forgiveness seventy times, Allah will not forgive them.)
وَسَأَزِيدُهُ عَلَى السَّبْعِين»
(Verily, I will ask for forgiveness for him more than seventy times).' `Umar said, `He is a hypocrite!' So Allah's Messenger offered the funeral prayer and on that Allah revealed this Verse,
وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ
(And never (O Muhammad) pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.)" `Umar bin Al-Khattab narrated a similar narration. In this narration, `Umar said, "The Prophet offered his funeral prayer, walked with the funeral procession and stood on his grave until he was buried. I was amazed at my daring to talk like this to the Messenger of Allah ﷺ, while Allah and His Messenger have better knowledge. By Allah, soon afterwards, these two Ayat were revealed,
وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَداً
(And never (O Muhammad ) pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies.) Ever since this revelation came, the Prophet never offered the funeral prayer for any hypocrite nor stood on his grave until Allah, the Exalted and Most Honored, brought death to him." At-Tirmidhi collected this Hadith in his Tafsir section of his Sunan and said, "Hasan Sahih". Al-Bukhari also recorded it.
منافقوں کا جنازہ حکم ہوتا ہے کہ اے نبی تم منافقوں سے بالکل بےتعلق ہوجاؤ۔ ان میں سے کوئی مرجائے تو تم نہ اس کے جنازے کی نماز پڑھو نہ اس کی قبر پر جا کر اسکے لئے دعائے استغفار کرو۔ اس لئے کہ یہ کفر و فسق پر زندہ رہے اور اس پر مرے۔ یہ حکم تو عام ہے گو اس کا شان نزول خاص عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں ہے جو منافقوں کا رئیس اور امام تھا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر اس کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ میرے باپ کے کفن کے لئے آپ خاص اپنا پہنا ہوا کرتا عنایت فرمائیے۔ آپ نے دے دیا۔ پھر کہا کہ آپ خود اس کے جنازے کی نماز پڑھائیے۔ آپ نے یہ درخواست بھی منظور فرمالی اور نماز پڑھانے کے ارادے سے اٹھے لیکن حضرت عمر ؓ نے آپ کا دامن تھام لیا اور عرض کی کہ حضور ﷺ آپ اس کے جنازے کی نماز پڑھائیں گے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے آپ نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ تو ان کے لئے استغفار کرے یا نہ کرے اگر تو ان کے لئے ستر مرتبہ بھی استغفار کرے گا تو بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا۔ تو میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ حضرت عمر ؓ فرمانے لگے یا رسول اللہ یہ منافق تھا لیکن تاہم حضور ﷺ نے اس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس نماز میں صحابہ بھی آپ کی اقتدا میں تھے۔ ایک روایت میں ہے حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ اس کی نماز کے لئے کھڑے ہوگئے تو میں صف میں سے نکل کر آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ کیا آپ اس دشمن رب عبداللہ بن ابی کے جنازے کی نمازیں پڑھائیں گے ؟ حالانکہ فلاں دن اس نے یوں کہا اور فلاں دن یوں کہا۔ اسکی وہ تمام باتیں دہرائیں۔ حضور ﷺ مسکراتے ہوئے سب سنتے رہے آخر میں فرمایا عمر مجھے چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ نے استغفار کا مجھے اختیار دیا ہے اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار ان کے گناہ معاف کرا سکتا ہے تو میں یقینا ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا۔ چناچہ آپ نے نماز بھی پڑھائی جنازے کے ساتھ بھی چلے دفن کے وقت بھی موجود رہے۔ اس کے بعد مجھے اپنی اس گستاخی پر بہت ہی افسوس ہونے لگا کہ اللہ اور رسول اللہ خوب علم والے ہیں میں نے ایسی اور اس قدر جرات کیوں کی ؟ کچھ ہی دیر ہوگی جو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ اس کے بعد آخر دم تک نہ حضور ﷺ نے کسی منافق کے جنازے کی نماز پڑھی نہ اسکی قبر پر آ کر دعا کی۔ اور روایت میں ہے کہ اس کے صاحبزادے ؓ نے آپ سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر آپ تشریف نہ لائے تو ہمیشہ کیلئے یہ بات ہم پر رہ جائے گی۔ جب آپ تشریف لائے تو اسے قبر میں اتار دیا گیا تھا آپ نے فرمایا اس سے پہلے مجھے کیوں نہ لائے ؟ چناچہ وہ قبر سے نکالا گیا۔ آپ نے اس کے سارے جسم پر تھتکار کر دم کیا اور اسے اپنا کرتہ پہنایا اور روایت میں ہے کہ وہ خود یہ وصیت کرکے مرا تھا کہ اس کے جنازے کی نماز خود رسول اللہ ﷺ پڑھائیں۔ اس کے لڑکے نے آکر حضور ﷺ کو اس کی آرزو اور اس کی آخری وصیت کی بھی خبر کی۔ اور یہ بھی کہا کہ اس کی وصیت یہ بھی ہے کہ اسے آپ کے پیراہن میں کفنایا جائے۔ آپ اس کے جنازے کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ حضرت جبرائیل یہ آیتیں لے کر اترے۔ اور روایت میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کا دامن تان کر نماز کے ارادے کے وقت یہ آیت سنائی لیکن یہ روایت ضعیف ہے اور روایت میں ہے اس نے اپنی بیماری کے زمانے میں حضور کو بلایا آپ تشریف لے گئے اور جا کر فرمایا کہ یہودیوں کی محبت نے تجھے تباہ کردیا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ وقت ڈانٹ ڈپٹ کا نہیں بلکہ میری خواہش ہے کہ آپ میرے لئے دعا استغفار کریں میں مرجاؤں تو مجھے اپنے پیرہن میں کفنائیں۔ بعض سلف سے مروی ہے کہ کرتا دینے کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت عباس ؓ آئے تو ان کے جسم پر کسی کا کپڑا ٹھیک نہیں آیا آخر اس کا کرتا لیا وہ ٹھیک آگیا یہ بھی لمبا چوڑا چوڑی چکلی ہڈی کا آدمی تھا۔ پس اس کے بدلے میں آپ نے اسے اس کے کفن کے لئے اپنا کرتا عطا فرمایا۔ اس آیت کے اترنے کے بعد نہ تو کسی منافق کے جنازے کی نماز آپ نے پڑھی نہ کسی کے لئے استغفار کیا۔ مسند احمد میں ہے کہ جب آپ کو کسی جنازے کی طرف بلایا جاتا تو آپ پوچھ لیتے اگر لوگوں سے بھلائیاں معلوم ہوتیں تو آپ جا کر اس کے جنازے کی نماز پڑھاتے اور اگر کوئی ایسی ویسی بات کان میں پڑتی تو صاف انکار کردیتے۔ حضرت عمر ؓ کا طریقہ آپ کے بعد یہ رہا کہ جس کے جنازے کی نماز حضرت حذیفہ ؓ پڑھتے اس کے جنازے کی نماز آپ بھی پڑھتے جس کی حضرت حذیفہ نہ پڑھتے آپ بھی نہ پڑھتے اس لئے کہ حضرت حذیفہ ؓ نہ پڑھتے آپ بھی نہ پڑھتے اس لئے کہ حضرت حذیفہ ؓ کو حضور ﷺ نے منافقوں کے نام گنوا دیئے تھے اور صرف انہی کو یہ نام معلوم تھے اسی بناء پر انہیں راز دار رسول کہا جاتا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ حضرت عمر ؓ ایک شخص کے جنازے کی نماز کے لئے کھڑا ہونے لگے تو حضرت حذیفہ ؓ نے چٹکی لے کر انہیں روک دیا۔ جنازے کی نماز اور استغفار ان دونوں چیزوں سے منافقوں کے بارے میں مسلمانوں کو روک دینا۔ یہ دلیل ہے اس امر کی کہ مسلمانوں کے بارے میں ان دونوں چیزوں کی پوری تاکید ہے۔ ان میں مردوں کے لئے پورا نفع اور زندوں کے لئے کامل اجر وثواب ہے۔ چناچہ حدیث شریف ہے آپ فرماتے ہیں جو جنازے میں جائے اور نماز پڑھے جانے تک ساتھ رہے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہے اسے دو قیراط ملتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ قیراط کیا ہے ؟ فرمایا سب سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی حضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ میت کے دفن سے فارغ ہو کر وہیں اس کی قبر کے پاس ٹھہر کر حکم فرماتے کہ اپنے ساتھی کے لئے استغفار کرو اس کے لئے ثابت قدمی کی دعا کرو اس سے اس وقت سوال جواب ہو رہا ہے۔
85
View Single
وَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَأَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
And do not be surprised at their wealth or their children; Allah only wills to torment them with it in this world, and that they pass away upon disbelief.
اور ان کے مال اور ان کی اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ فقط یہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے ذریعے انہیں دنیا میں (بھی) عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر (ہی) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of Prayer for the Funeral of Hypocrites
Allah commands His Messenger to disown the hypocrites, to abstain from praying the funeral prayer when any of them dies, from standing next to his grave to seek Allah's forgiveness for him, or to invoke Allah for his benefit. This is because hypocrites disbelieved in Allah and His Messenger and died as such. This ruling applies to all those who are known to be hypocrites, even though it was revealed about the specific case of `Abdullah bin Ubayy bin Salul, the chief hypocrite. Al-Bukhari recorded that Ibn `Umar said, "When `Abdullah bin Ubayy died, his son, `Abdullah bin `Abdullah, came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him to give him his shirt to shroud his father in, and the Messenger did that. He also asked that the Prophet offer his father's funeral prayer, and Allah's Messenger ﷺ stood up to offer the funeral prayer. `Umar took hold of the Prophet's robe and said, `O Allah's Messenger! Are you going to offer his funeral prayer even though your Lord has forbidden you to do so' Allah's Messenger ﷺ said,
«إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ:
(I have been given the choice, for Allah says:
اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ
(Whether you ask forgiveness for them (hypocrites), or do not ask for forgiveness for them. Even though you ask for their forgiveness seventy times, Allah will not forgive them.)
وَسَأَزِيدُهُ عَلَى السَّبْعِين»
(Verily, I will ask for forgiveness for him more than seventy times).' `Umar said, `He is a hypocrite!' So Allah's Messenger offered the funeral prayer and on that Allah revealed this Verse,
وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَداً وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ
(And never (O Muhammad) pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.)" `Umar bin Al-Khattab narrated a similar narration. In this narration, `Umar said, "The Prophet offered his funeral prayer, walked with the funeral procession and stood on his grave until he was buried. I was amazed at my daring to talk like this to the Messenger of Allah ﷺ, while Allah and His Messenger have better knowledge. By Allah, soon afterwards, these two Ayat were revealed,
وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَداً
(And never (O Muhammad ) pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies.) Ever since this revelation came, the Prophet never offered the funeral prayer for any hypocrite nor stood on his grave until Allah, the Exalted and Most Honored, brought death to him." At-Tirmidhi collected this Hadith in his Tafsir section of his Sunan and said, "Hasan Sahih". Al-Bukhari also recorded it.
اسی مضمون کی آیت کریمہ گذر چکی ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ لکھ دی گئی ہے جس کے دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
86
View Single
وَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٌ أَنۡ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَجَٰهِدُواْ مَعَ رَسُولِهِ ٱسۡتَـٔۡذَنَكَ أُوْلُواْ ٱلطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ وَقَالُواْ ذَرۡنَا نَكُن مَّعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
And when a chapter is sent down that “Accept faith in Allah and fight along with His Noble Messenger”, the men of means among them seek exemption from you and say, “Leave us, for us to be with those who sit.”
اور جب کوئی (ایسی) سورت نازل کی جاتی ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں جہاد کرو تو ان میں سے دولت اور طاقت والے لوگ آپ سے رخصت چاہتے ہیں اور کہتے ہیں: آپ ہمیں چھوڑ دیں ہم (پیچھے) بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ ہو جائیں
Tafsir Ibn Kathir
Admonishing Those Who did not join the Jihad
Allah chastises and admonishes those who stayed away from Jihad and refrained from performing it, even though they had the supplies, means and ability to join it. They asked the Messenger for permission to stay behind, saying,
ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقَـعِدِينَ
("Leave us (behind), we would be with those who sit (at home)") thus accepting for themselves the shame of lagging behind with women, after the army had left. If war starts, such people are the most cowardice, but when it is safe, they are the most boastful among men. Allah described them in another Ayah,
فَإِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِى يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ
(Then when fear comes, you will see them looking to you, their eyes revolving like (those of) one over whom hovers death; but when the fear departs, they will smite you with sharp tongues.)33:19 their tongues direct their harsh words against you, when it is safe to do so. In battle, however, they are the most cowardice among men. Allah said in another Ayah,
وَيَقُولُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوْلاَ نُزِّلَتْ سُورَةٌ فَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِىِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَأَوْلَى لَهُمْ - طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ فَإِذَا عَزَمَ الاٌّمْرُ فَلَوْ صَدَقُواْ اللَّهَ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ
(Those who believe say: "Why is not a Surah sent down (for us) But when a decisive Surah (explaining and ordering things) is sent down, and fighting is mentioned therein, you will see those in whose hearts is a disease looking at you with a look of one fainting to death. But it was better for them. Obedience (to Allah) and good words (were better for them). And when the matter is resolved on, then if they had been true to Allah, it would have been better for them.) 47:20-21 sAllah said next,
وَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ
(Their hearts are sealed up) because of their staying away from Jihad and from accompanying the Messenger in Allah's cause,
فَهُمْ لاَ يَفْقَهُونَ
(so they understand not.) they neither understand what benefits them so that they perform it nor what hurts them so that they avoid it.
لَـكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ جَـهَدُواْ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَأُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت طاقت قوت ہونے کے باوجود جہاد کے لئے نہیں نکلتے جی چراجاتے ہیں اور حکم ربانی سن کر پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ ان کی بےحمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہوگئے ہیں لشکر چلے گئے، یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے، بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے۔ یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چناچہ اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے، باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں، بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے تئیں چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایمان دار تو سورت اترنے اور اللہ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے منافق جہاں سورت اتری اور جہاد کا حکم سنا آنکھیں بند کرلیں دیدے پھیر لئے ان پر افسوس ہے اور ان کے لئے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گذار ہوتے تو ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔
87
View Single
رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ ٱلۡخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُونَ
They preferred to be with the women who stay behind, and their hearts have been sealed, so they do not understand.
انہوں نے یہ پسند کیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں، بچوں اور معذوروں کے ساتھ ہو جائیں اور ان کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی ہے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے
Tafsir Ibn Kathir
Admonishing Those Who did not join the Jihad
Allah chastises and admonishes those who stayed away from Jihad and refrained from performing it, even though they had the supplies, means and ability to join it. They asked the Messenger for permission to stay behind, saying,
ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقَـعِدِينَ
("Leave us (behind), we would be with those who sit (at home)") thus accepting for themselves the shame of lagging behind with women, after the army had left. If war starts, such people are the most cowardice, but when it is safe, they are the most boastful among men. Allah described them in another Ayah,
فَإِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِى يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ
(Then when fear comes, you will see them looking to you, their eyes revolving like (those of) one over whom hovers death; but when the fear departs, they will smite you with sharp tongues.)33:19 their tongues direct their harsh words against you, when it is safe to do so. In battle, however, they are the most cowardice among men. Allah said in another Ayah,
وَيَقُولُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوْلاَ نُزِّلَتْ سُورَةٌ فَإِذَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِىِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَأَوْلَى لَهُمْ - طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ فَإِذَا عَزَمَ الاٌّمْرُ فَلَوْ صَدَقُواْ اللَّهَ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ
(Those who believe say: "Why is not a Surah sent down (for us) But when a decisive Surah (explaining and ordering things) is sent down, and fighting is mentioned therein, you will see those in whose hearts is a disease looking at you with a look of one fainting to death. But it was better for them. Obedience (to Allah) and good words (were better for them). And when the matter is resolved on, then if they had been true to Allah, it would have been better for them.) 47:20-21 sAllah said next,
وَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ
(Their hearts are sealed up) because of their staying away from Jihad and from accompanying the Messenger in Allah's cause,
فَهُمْ لاَ يَفْقَهُونَ
(so they understand not.) they neither understand what benefits them so that they perform it nor what hurts them so that they avoid it.
لَـكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ جَـهَدُواْ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَأُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت طاقت قوت ہونے کے باوجود جہاد کے لئے نہیں نکلتے جی چراجاتے ہیں اور حکم ربانی سن کر پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ ان کی بےحمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہوگئے ہیں لشکر چلے گئے، یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے، بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے۔ یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چناچہ اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے، باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں، بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے تئیں چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایمان دار تو سورت اترنے اور اللہ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے منافق جہاں سورت اتری اور جہاد کا حکم سنا آنکھیں بند کرلیں دیدے پھیر لئے ان پر افسوس ہے اور ان کے لئے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گذار ہوتے تو ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔
88
View Single
لَٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ جَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡخَيۡرَٰتُۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
But the Noble Messenger and those who accepted faith with him, fought with their wealth and lives; and for them only are the virtues (rewards); and it is they who have achieved the goal.
لیکن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور انہی لوگوں کے لئے سب بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
After Allah mentioned the sins of the hypocrites, He praised the faithful believers and described their reward in the Hereafter,
لَـكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ جَـهَدُواْ
(But the Messenger and those who believed with him strove hard and fought) until the end of these two Ayat 9:88-89. This describes the qualities, as well as, the reward of faithful believers. Allah said,
وَأُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ
(Such are they for whom are the good things), in the Hereafter, in the gardens of Al-Firdaws and the high grades.
منافق کی آخرت خراب منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی خستہ حالت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لئے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لئے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
89
View Single
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
Allah has kept ready for them Gardens beneath which rivers flow, abiding in it forever; this is the greatest success.
اللہ نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
After Allah mentioned the sins of the hypocrites, He praised the faithful believers and described their reward in the Hereafter,
لَـكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ جَـهَدُواْ
(But the Messenger and those who believed with him strove hard and fought) until the end of these two Ayat 9:88-89. This describes the qualities, as well as, the reward of faithful believers. Allah said,
وَأُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ
(Such are they for whom are the good things), in the Hereafter, in the gardens of Al-Firdaws and the high grades.
منافق کی آخرت خراب منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی خستہ حالت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لئے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لئے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
90
View Single
وَجَآءَ ٱلۡمُعَذِّرُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ وَقَعَدَ ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
And came the ignorant* who make excuses seeking exemption, and those who lied to Allah and His Noble Messenger remained seated; a painful punishment will soon reach the disbelievers among them. (* of faith)
اور صحرا نشینوں میں سے کچھ بہانہ ساز (معذرت کرنے کے لئے دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) آئے تاکہ انہیں (بھی) رخصت دے دی جائے، اور وہ لوگ جنہوں نے (اپنے دعویٰ ایمان میں) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھوٹ بولا تھا (جہاد چھوڑ کر پیچھے) بیٹھے رہے، عنقریب ان میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا دردناک عذاب پہنچے گا
Tafsir Ibn Kathir
وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
(and those who had lied to Allah and His Messenger sat at home), and did not ask for permission for it; and Allah warned them of painful punishment,
سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(a painful torment will seize those of them who disbelieve.)
جہاد اور معذور لوگ یہ بیان ان لوگوں کا ہے جو حقیقتاً کسی شرعی عذر کے باعث جہاد میں شامل نہ ہوسکتے تھے۔ مدینہ کے ارد گرد کے یہ لوگ آ کر اپنی کمزوری و ضعیفی بےطاقتی بیان کر کے اللہ کے رسول ﷺ سے اجازت لیتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ انہیں واقعی معذور سمجھیں تو اجازت دے دیں۔ یہ بنو غفار کے قبیلے کے لوگ تھے۔ ابن عباس کی قرأت میں (وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 90) 9۔ التوبہ :90) ہے یعنی اہل عذر لوگ۔ یہی معنی مطلب زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اسی جملے کے بعد ان لوگوں کا بیان ہے جو جھوٹے تھے۔ یہ نہ آئے نہ اپنا رک جانے کا سبب پیش کیا نہ حضور ﷺ سے رک رہنے کی اجازت چاہی۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ عذر پیش کرنے والے بھی دراصل عذر والے نہ تھے۔ اسی لئے ان کے عذر مقبول نہ ہوئے لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے وہی زیادہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی دوسری وجہ یہ ہے کہ عذاب کا حکم بھی ان کے لئے ہوگا جو بیٹھے رہی رہے۔
91
View Single
لَّيۡسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرۡضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡسِنِينَ مِن سَبِيلٖۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
There is no reproach upon the old nor upon the sick nor upon those who do not have the means to spend, provided they remain faithful to Allah and His Noble Messenger; and there is no way of reproach against the virtuous; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ضعیفوں (کمزوروں) پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ (ہی) ایسے لوگوں پر ہے جو اس قدر (وسعت بھی) نہیں پاتے جسے خرچ کریں جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے خالص و مخلص ہو چکے ہوں، نیکوکاروں (یعنی صاحبانِ احسان) پر الزام کی کوئی راہ نہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Legitimate Excuses for staying away from Jihad
Allah mentions here the valid excuses that permit one to stay away from fighting. He first mentions the excuses that remain with a person, the weakness in the body that disallows one from Jihad, such as blindness, limping, and so forth. He then mentions the excuses that are not permanent, such as an illness that would prevent one from fighting in the cause of Allah, or poverty that prevents preparing for Jihad. There is no sin in these cases if they remain behind, providing that when they remain behind, they do not spread malice or try to discourage Muslims from fighting, but all the while observing good behavior in this state, just as Allah said,
مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(No means (of complaint) can there be against the doers of good. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) Al-Awza`i said, "The people went out for the Istisqa' (rain) prayer. Bilal bin Sa`d stood up, praised Allah and thanked Him then said, `O those who are present! Do you concur that wrong has been done' They said, `Yes, by Allah!' He said, `O Allah! We hear your statement,
مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ
(No means (of complaint) can there be against the doers of good.) O Allah! We admit our errors, so forgive us and give us mercy and rain.' He then raised his hands and the people also raised their hands, and rain was sent down on them." Mujahid said about Allah's statement,
وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ
(Nor (is there blame) on those who came to you to be provided with mounts) Mujahid said; "It was revealed about Bani Muqarrin from the tribe of Muzaynah. " Ibn Abi Hatim recorded that Al-Hasan said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا نِلْتُمْ مِنْ عَدُوَ نَيْلًا إِلَّا وَقَدْ شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْر»
(Some people have remained behind you in Al-Madinah; and you never spent anything, crossed a valley, or afflicted hardship on an enemy, but they were sharing the reward with you.) He then recited the Ayah,
وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ
(Nor (is there blame) on those who came to you to be provided with mounts, when you said: "I can find no mounts for you.") This Hadith has a basis in the Two Sahihs from Anas, the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سِرْتُمْ سَيْرًا إِلَّا وَهُمْ مَعَكُم»
(Some people have remained behind in Al-Madinah and you never crossed a valley or marched forth, but they were with you.) They said, "While they are still at Al-Madinah" He said,
«نَعَمْ حَبَسَهُمُ الْعُذْر»
(Yes, as they have been held back by a (legal) excuse.) Then, Allah criticized those who seek permission to remain behind while they are rich, admonishing them for wanting to stay behind with women who remained in their homes,
وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(and Allah has sealed up their hearts, so that they know not (what they are losing).)
عدم جہاد کے شرعی عذر اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن کوئی لولا لنگڑا یا اپاہج بیمار یا بالکل ہی ناطاقت ہو۔ دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب میں مثلاً کوئی بیمار ہوگیا ہے یا بالکل فقیر ہوگیا ہے، سامان سفر سامان جہاد مہیا نہیں کرسکتے وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کرسکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہئے۔ مسلمانوں کے، اللہ کے دین کے خیر خواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں۔ بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے حواریوں نے عیسیٰ نبی اللہ سے پوچھا کہ ہمیں بتائیے اللہ کا خیر خواہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اللہ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آجائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے ان میں حضرت بلال بن سعد بھی تھے آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا اے حاضرین کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو ؟ سب نے اقرار کیا۔ اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا پڑھا ہے کہ نیک بندوں پر کوئی مشکل نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کا اقرار کرتے ہیں پس تو ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے بھی ہاتھ اٹھائے رحمت الٰہی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔ حضرت زید بن ثابت ؓ کا بیان ہے کہ میں حضور ﷺ کا منشی تھا سورة برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں حضور ﷺ منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے ؟ اتنے میں ایک نابینا صحابی آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لاسکتا ہوں ؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ پھر ان کا ذکر ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لئے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ ﷺ کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں حضرت عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی وغیرہ تھے انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کردیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے اور آپ کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔ آپ نے جواب دیا کہ واللہ میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔ یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گذارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے پس جناب باری نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کردی۔ یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عوف، بنی واقف کے حرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمن بن کعب، بنی معلی کے فضل اللہ، بنی سلمہ کے عمرو بن عثمہ اور عبداللہ بن عمرو مزنی اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ کے رسول، رسولوں کے سرتاج ﷺ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم کا فرمان ہے کہ اے میرے مجاہد ساتھیو تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ نے کہا وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس لئے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الوقت کوئی عذر نہیں مالدار ہٹے کٹے ہیں۔ لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے۔ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں، زمین پکڑ لیتے ہیں۔ فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ کی مہر لگ چکی ہے۔ اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہوگئے ہیں۔
92
View Single
وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ قُلۡتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ تَوَلَّواْ وَّأَعۡيُنُهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُواْ مَا يُنفِقُونَ
Nor against those who humbly present themselves before you in order that you provide them a mount, and receive an answer from you that “I do not have any beast to carry you” – and so they turn back with eyes overflowing with tears, due to the sorrow that they could not find the means to spend.
اور نہ ایسے لوگوں پر (طعنہ و الزام کی راہ ہے) جبکہ وہ آپ کی خدمت میں (اس لئے) حاضر ہوئے کہ آپ انہیں (جہاد کے لئے) سوار کریں (کیونکہ ان کے پاس اپنی کوئی سواری نہ تھی تو) آپ نے فرمایا: میں (بھی) کوئی (زائد سواری) نہیں پاتا ہوں جس پر تمہیں سوار کر سکوں، (تو) وہ (آپ کے اذن سے) اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں (جہاد سے محرومی کے) غم میں اشکبار تھیں کہ (افسوس) وہ (اس قدر) زادِ راہ نہیں پاتے جسے وہ خرچ کر سکیں (اور شریک جہاد ہو سکیں)
Tafsir Ibn Kathir
Legitimate Excuses for staying away from Jihad
Allah mentions here the valid excuses that permit one to stay away from fighting. He first mentions the excuses that remain with a person, the weakness in the body that disallows one from Jihad, such as blindness, limping, and so forth. He then mentions the excuses that are not permanent, such as an illness that would prevent one from fighting in the cause of Allah, or poverty that prevents preparing for Jihad. There is no sin in these cases if they remain behind, providing that when they remain behind, they do not spread malice or try to discourage Muslims from fighting, but all the while observing good behavior in this state, just as Allah said,
مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(No means (of complaint) can there be against the doers of good. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) Al-Awza`i said, "The people went out for the Istisqa' (rain) prayer. Bilal bin Sa`d stood up, praised Allah and thanked Him then said, `O those who are present! Do you concur that wrong has been done' They said, `Yes, by Allah!' He said, `O Allah! We hear your statement,
مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ
(No means (of complaint) can there be against the doers of good.) O Allah! We admit our errors, so forgive us and give us mercy and rain.' He then raised his hands and the people also raised their hands, and rain was sent down on them." Mujahid said about Allah's statement,
وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ
(Nor (is there blame) on those who came to you to be provided with mounts) Mujahid said; "It was revealed about Bani Muqarrin from the tribe of Muzaynah. " Ibn Abi Hatim recorded that Al-Hasan said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا نِلْتُمْ مِنْ عَدُوَ نَيْلًا إِلَّا وَقَدْ شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْر»
(Some people have remained behind you in Al-Madinah; and you never spent anything, crossed a valley, or afflicted hardship on an enemy, but they were sharing the reward with you.) He then recited the Ayah,
وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ
(Nor (is there blame) on those who came to you to be provided with mounts, when you said: "I can find no mounts for you.") This Hadith has a basis in the Two Sahihs from Anas, the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سِرْتُمْ سَيْرًا إِلَّا وَهُمْ مَعَكُم»
(Some people have remained behind in Al-Madinah and you never crossed a valley or marched forth, but they were with you.) They said, "While they are still at Al-Madinah" He said,
«نَعَمْ حَبَسَهُمُ الْعُذْر»
(Yes, as they have been held back by a (legal) excuse.) Then, Allah criticized those who seek permission to remain behind while they are rich, admonishing them for wanting to stay behind with women who remained in their homes,
وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(and Allah has sealed up their hearts, so that they know not (what they are losing).)
عدم جہاد کے شرعی عذر اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن کوئی لولا لنگڑا یا اپاہج بیمار یا بالکل ہی ناطاقت ہو۔ دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب میں مثلاً کوئی بیمار ہوگیا ہے یا بالکل فقیر ہوگیا ہے، سامان سفر سامان جہاد مہیا نہیں کرسکتے وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کرسکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہئے۔ مسلمانوں کے، اللہ کے دین کے خیر خواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں۔ بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے حواریوں نے عیسیٰ نبی اللہ سے پوچھا کہ ہمیں بتائیے اللہ کا خیر خواہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اللہ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آجائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے ان میں حضرت بلال بن سعد بھی تھے آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا اے حاضرین کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو ؟ سب نے اقرار کیا۔ اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا پڑھا ہے کہ نیک بندوں پر کوئی مشکل نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کا اقرار کرتے ہیں پس تو ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے بھی ہاتھ اٹھائے رحمت الٰہی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔ حضرت زید بن ثابت ؓ کا بیان ہے کہ میں حضور ﷺ کا منشی تھا سورة برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں حضور ﷺ منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے ؟ اتنے میں ایک نابینا صحابی آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لاسکتا ہوں ؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ پھر ان کا ذکر ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لئے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ ﷺ کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں حضرت عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی وغیرہ تھے انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کردیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے اور آپ کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔ آپ نے جواب دیا کہ واللہ میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔ یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گذارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے پس جناب باری نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کردی۔ یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عوف، بنی واقف کے حرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمن بن کعب، بنی معلی کے فضل اللہ، بنی سلمہ کے عمرو بن عثمہ اور عبداللہ بن عمرو مزنی اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ کے رسول، رسولوں کے سرتاج ﷺ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم کا فرمان ہے کہ اے میرے مجاہد ساتھیو تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ نے کہا وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس لئے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الوقت کوئی عذر نہیں مالدار ہٹے کٹے ہیں۔ لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے۔ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں، زمین پکڑ لیتے ہیں۔ فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ کی مہر لگ چکی ہے۔ اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہوگئے ہیں۔
93
View Single
۞إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَسۡتَـٔۡذِنُونَكَ وَهُمۡ أَغۡنِيَآءُۚ رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ ٱلۡخَوَالِفِ وَطَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
The way (of reproach) is only against those who seek exemption from you although they are rich; they preferred to be with the women who stay behind – and Allah has sealed their hearts, so they do not know anything.
(الزام کی) راہ تو فقط ان لوگوں پر ہے جو آپ سے رخصت طلب کرتے ہیں حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ اس بات سے خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، سو وہ جانتے ہی نہیں (کہ حقیقی سود و زیاں کیا ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Legitimate Excuses for staying away from Jihad
Allah mentions here the valid excuses that permit one to stay away from fighting. He first mentions the excuses that remain with a person, the weakness in the body that disallows one from Jihad, such as blindness, limping, and so forth. He then mentions the excuses that are not permanent, such as an illness that would prevent one from fighting in the cause of Allah, or poverty that prevents preparing for Jihad. There is no sin in these cases if they remain behind, providing that when they remain behind, they do not spread malice or try to discourage Muslims from fighting, but all the while observing good behavior in this state, just as Allah said,
مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(No means (of complaint) can there be against the doers of good. And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) Al-Awza`i said, "The people went out for the Istisqa' (rain) prayer. Bilal bin Sa`d stood up, praised Allah and thanked Him then said, `O those who are present! Do you concur that wrong has been done' They said, `Yes, by Allah!' He said, `O Allah! We hear your statement,
مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ
(No means (of complaint) can there be against the doers of good.) O Allah! We admit our errors, so forgive us and give us mercy and rain.' He then raised his hands and the people also raised their hands, and rain was sent down on them." Mujahid said about Allah's statement,
وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ
(Nor (is there blame) on those who came to you to be provided with mounts) Mujahid said; "It was revealed about Bani Muqarrin from the tribe of Muzaynah. " Ibn Abi Hatim recorded that Al-Hasan said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا نِلْتُمْ مِنْ عَدُوَ نَيْلًا إِلَّا وَقَدْ شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْر»
(Some people have remained behind you in Al-Madinah; and you never spent anything, crossed a valley, or afflicted hardship on an enemy, but they were sharing the reward with you.) He then recited the Ayah,
وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ
(Nor (is there blame) on those who came to you to be provided with mounts, when you said: "I can find no mounts for you.") This Hadith has a basis in the Two Sahihs from Anas, the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سِرْتُمْ سَيْرًا إِلَّا وَهُمْ مَعَكُم»
(Some people have remained behind in Al-Madinah and you never crossed a valley or marched forth, but they were with you.) They said, "While they are still at Al-Madinah" He said,
«نَعَمْ حَبَسَهُمُ الْعُذْر»
(Yes, as they have been held back by a (legal) excuse.) Then, Allah criticized those who seek permission to remain behind while they are rich, admonishing them for wanting to stay behind with women who remained in their homes,
وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(and Allah has sealed up their hearts, so that they know not (what they are losing).)
عدم جہاد کے شرعی عذر اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن کوئی لولا لنگڑا یا اپاہج بیمار یا بالکل ہی ناطاقت ہو۔ دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب میں مثلاً کوئی بیمار ہوگیا ہے یا بالکل فقیر ہوگیا ہے، سامان سفر سامان جہاد مہیا نہیں کرسکتے وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کرسکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہئے۔ مسلمانوں کے، اللہ کے دین کے خیر خواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں۔ بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں۔ ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے حواریوں نے عیسیٰ نبی اللہ سے پوچھا کہ ہمیں بتائیے اللہ کا خیر خواہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اللہ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آجائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔ ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے ان میں حضرت بلال بن سعد بھی تھے آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا اے حاضرین کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو ؟ سب نے اقرار کیا۔ اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا پڑھا ہے کہ نیک بندوں پر کوئی مشکل نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کا اقرار کرتے ہیں پس تو ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے بھی ہاتھ اٹھائے رحمت الٰہی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔ حضرت زید بن ثابت ؓ کا بیان ہے کہ میں حضور ﷺ کا منشی تھا سورة برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں حضور ﷺ منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے ؟ اتنے میں ایک نابینا صحابی آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لاسکتا ہوں ؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ پھر ان کا ذکر ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لئے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ ﷺ کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں حضرت عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی وغیرہ تھے انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کردیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے اور آپ کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔ آپ نے جواب دیا کہ واللہ میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔ یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گذارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے پس جناب باری نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کردی۔ یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عوف، بنی واقف کے حرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمن بن کعب، بنی معلی کے فضل اللہ، بنی سلمہ کے عمرو بن عثمہ اور عبداللہ بن عمرو مزنی اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ کے رسول، رسولوں کے سرتاج ﷺ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم کا فرمان ہے کہ اے میرے مجاہد ساتھیو تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ نے کہا وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس لئے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الوقت کوئی عذر نہیں مالدار ہٹے کٹے ہیں۔ لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے۔ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں، زمین پکڑ لیتے ہیں۔ فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ کی مہر لگ چکی ہے۔ اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہوگئے ہیں۔
94
View Single
يَعۡتَذِرُونَ إِلَيۡكُمۡ إِذَا رَجَعۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡۚ قُل لَّا تَعۡتَذِرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ قَدۡ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنۡ أَخۡبَارِكُمۡۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
They will make excuses to you when you return to them; say, “Do not make excuses – we shall never believe you – Allah has given us your tidings; and Allah and His Noble Messenger will now see your deeds, and then you will return to Him Who knows everything, the hidden and the visible – He will inform you of all what you used to do.”
(اے مسلمانو!) وہ تم سے عذر خواہی کریں گے جب تم ان کی طرف (اس سفرِ تبوک سے) پلٹ کر جاؤ گے، (اے حبیب!) آپ فرما دیجئے: بہانے مت بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات پر یقین نہیں کریں گے، ہمیں اللہ نے تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے، اور اب (آئندہ) تمہارا عمل (دنیا میں بھی) اللہ دیکھے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی (دیکھے گا) پھر تم (آخرت میں بھی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں ان تمام (اعمال) سے خبردار فرما دے گا جو تم کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Exposing the Deceitful Ways of Hypocrites
Allah said that when the believers go back to Al-Madinah, the hypocrites will begin apologizing to them.
قُل لاَّ تَعْتَذِرُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ
(Say "Present no excuses, we shall not believe you."), we shall not believe what you say,
قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ
(Allah has already informed us of the news concerning you.) Allah has exposed your news to us,
وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ
(Allah and His Messenger will observe your deeds.) your actions will be made public to people in this life,
ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(In the end you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen, then He (Allah) will inform you of what you used to do.) Allah will inform you of your deeds, whether they were good or evil, and will recompense you for them. Allah said that the hypocrites will swear to the believers in apology, so that the believers turn away from them without admonishing them. Therefore, Allah ordered disgracing them by turning away from them, for they are,
رِجْسٌ
(Rijs) meaning, impure inwardly and in their creed. Their destination in the end will be Jahannam,
جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ
(a recompense for that which they used to earn.) of sins and evil deeds. Allah said that if the believers forgive the hypocrites when they swear to them,
فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَـسِقِينَ
(certainly Allah is not pleased with the people who are Fasiqin.) who rebel against the obedience of Allah and His Messenger . `Fisq', means, `deviation'.
فاسق اور چوہے کی مماثلت اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میدان جہاد سے واپس مدینے پہنچو گے تو سبھی منافق عذر و معذرت کرنے لگیں گے۔ تم ان سے صاف کہہ دینا کہ ہم تمہاری ان باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیتوں سے ہمیں خبردار کردیا ہے۔ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سب لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ پھر آخرت میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہی ہے وہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے۔ تمہارے ایک ایک کام کا بدلہ دے گا خیر و شر کی جزا، سزا سب بھگتنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لے اپنی معذوری اور مجبوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے قسمیں تک کھائیں گے۔ تم انہیں منہ بھی نہ لگانا۔ ان کے اعتقاد نجس ہیں ان کا باطن باطل ہے۔ آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے۔ سن ان کی خواہش صرف تمہیں رضامند کرنا ہے اور بالفرض تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ۔ تو بھی اللہ تعالیٰ ان بدکاروں سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ یہ اللہ و رسول کی اطاعت سے باہر ہیں۔ شریعت سے خارج ہے۔ چوہا چونکہ بل سے بگاڑ کرنے کے لئے نکلتا ہے اس لئے عرب اسے فویسقہ کہتے ہیں۔ اسی طرح خوشے سے جب تری ظاہر ہوتی ہے تو کہتے ہیں فسقت الرطبۃ پس یہ چونکہ اللہ و رسول کی اطاعت سے نکل جاتے ہیں اس لئے انہیں فاسق کہتے ہیں۔
95
View Single
سَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمۡ إِذَا ٱنقَلَبۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُواْ عَنۡهُمۡۖ فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمۡۖ إِنَّهُمۡ رِجۡسٞۖ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
They will now swear by Allah before you, when you return to them, in order that you do not pay attention to them; so do not bother about them; they are indeed filthy; and their destination is hell; the reward of what they used to earn.
اب وہ تمہارے لئے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان کی طرف التفات ہی نہ کرو بیشک وہ پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کمایا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Exposing the Deceitful Ways of Hypocrites
Allah said that when the believers go back to Al-Madinah, the hypocrites will begin apologizing to them.
قُل لاَّ تَعْتَذِرُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ
(Say "Present no excuses, we shall not believe you."), we shall not believe what you say,
قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ
(Allah has already informed us of the news concerning you.) Allah has exposed your news to us,
وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ
(Allah and His Messenger will observe your deeds.) your actions will be made public to people in this life,
ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(In the end you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen, then He (Allah) will inform you of what you used to do.) Allah will inform you of your deeds, whether they were good or evil, and will recompense you for them. Allah said that the hypocrites will swear to the believers in apology, so that the believers turn away from them without admonishing them. Therefore, Allah ordered disgracing them by turning away from them, for they are,
رِجْسٌ
(Rijs) meaning, impure inwardly and in their creed. Their destination in the end will be Jahannam,
جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ
(a recompense for that which they used to earn.) of sins and evil deeds. Allah said that if the believers forgive the hypocrites when they swear to them,
فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَـسِقِينَ
(certainly Allah is not pleased with the people who are Fasiqin.) who rebel against the obedience of Allah and His Messenger . `Fisq', means, `deviation'.
فاسق اور چوہے کی مماثلت اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میدان جہاد سے واپس مدینے پہنچو گے تو سبھی منافق عذر و معذرت کرنے لگیں گے۔ تم ان سے صاف کہہ دینا کہ ہم تمہاری ان باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیتوں سے ہمیں خبردار کردیا ہے۔ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سب لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ پھر آخرت میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہی ہے وہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے۔ تمہارے ایک ایک کام کا بدلہ دے گا خیر و شر کی جزا، سزا سب بھگتنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لے اپنی معذوری اور مجبوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے قسمیں تک کھائیں گے۔ تم انہیں منہ بھی نہ لگانا۔ ان کے اعتقاد نجس ہیں ان کا باطن باطل ہے۔ آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے۔ سن ان کی خواہش صرف تمہیں رضامند کرنا ہے اور بالفرض تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ۔ تو بھی اللہ تعالیٰ ان بدکاروں سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ یہ اللہ و رسول کی اطاعت سے باہر ہیں۔ شریعت سے خارج ہے۔ چوہا چونکہ بل سے بگاڑ کرنے کے لئے نکلتا ہے اس لئے عرب اسے فویسقہ کہتے ہیں۔ اسی طرح خوشے سے جب تری ظاہر ہوتی ہے تو کہتے ہیں فسقت الرطبۃ پس یہ چونکہ اللہ و رسول کی اطاعت سے نکل جاتے ہیں اس لئے انہیں فاسق کہتے ہیں۔
96
View Single
يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ لِتَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡۖ فَإِن تَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرۡضَىٰ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ
They swear before you that you may be pleased with them; so if you become pleased with them, then indeed Allah will never be pleased with the sinful.
یہ تمہارے لئے قَسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، سو (اے مسلمانو!) اگرتم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو (بھی) اللہ نافرمان قو م سے راضی نہیں ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
Exposing the Deceitful Ways of Hypocrites
Allah said that when the believers go back to Al-Madinah, the hypocrites will begin apologizing to them.
قُل لاَّ تَعْتَذِرُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ
(Say "Present no excuses, we shall not believe you."), we shall not believe what you say,
قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ
(Allah has already informed us of the news concerning you.) Allah has exposed your news to us,
وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ
(Allah and His Messenger will observe your deeds.) your actions will be made public to people in this life,
ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(In the end you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen, then He (Allah) will inform you of what you used to do.) Allah will inform you of your deeds, whether they were good or evil, and will recompense you for them. Allah said that the hypocrites will swear to the believers in apology, so that the believers turn away from them without admonishing them. Therefore, Allah ordered disgracing them by turning away from them, for they are,
رِجْسٌ
(Rijs) meaning, impure inwardly and in their creed. Their destination in the end will be Jahannam,
جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ
(a recompense for that which they used to earn.) of sins and evil deeds. Allah said that if the believers forgive the hypocrites when they swear to them,
فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَـسِقِينَ
(certainly Allah is not pleased with the people who are Fasiqin.) who rebel against the obedience of Allah and His Messenger . `Fisq', means, `deviation'.
فاسق اور چوہے کی مماثلت اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میدان جہاد سے واپس مدینے پہنچو گے تو سبھی منافق عذر و معذرت کرنے لگیں گے۔ تم ان سے صاف کہہ دینا کہ ہم تمہاری ان باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیتوں سے ہمیں خبردار کردیا ہے۔ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سب لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ پھر آخرت میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہی ہے وہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے۔ تمہارے ایک ایک کام کا بدلہ دے گا خیر و شر کی جزا، سزا سب بھگتنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لے اپنی معذوری اور مجبوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے قسمیں تک کھائیں گے۔ تم انہیں منہ بھی نہ لگانا۔ ان کے اعتقاد نجس ہیں ان کا باطن باطل ہے۔ آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے۔ سن ان کی خواہش صرف تمہیں رضامند کرنا ہے اور بالفرض تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ۔ تو بھی اللہ تعالیٰ ان بدکاروں سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ یہ اللہ و رسول کی اطاعت سے باہر ہیں۔ شریعت سے خارج ہے۔ چوہا چونکہ بل سے بگاڑ کرنے کے لئے نکلتا ہے اس لئے عرب اسے فویسقہ کہتے ہیں۔ اسی طرح خوشے سے جب تری ظاہر ہوتی ہے تو کہتے ہیں فسقت الرطبۃ پس یہ چونکہ اللہ و رسول کی اطاعت سے نکل جاتے ہیں اس لئے انہیں فاسق کہتے ہیں۔
97
View Single
ٱلۡأَعۡرَابُ أَشَدُّ كُفۡرٗا وَنِفَاقٗا وَأَجۡدَرُ أَلَّا يَعۡلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
The ignorant are more severe in disbelief and hypocrisy, and deserve to remain ignorant of the commands which Allah has revealed to His Noble Messenger; and Allah is All Knowing, Wise.
(یہ) دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور (اپنے کفر و نفاق کی شدت کے باعث) اسی قابل ہیں کہ وہ ان حدود و احکام سے جاہل رہیں جو اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائے ہیں، اور اللہ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Bedouins are the Worst in Disbelief and Hypocrisy
Allah states that there are disbelievers, hypocrites and believers among the bedouins. He also states that the disbelief and hypocrisy of the bedouins is worse and deeper than the disbelief and hypocrisy of others. They are the most likely of being ignorant of the commandments that Allah has revealed to His Messenger . Al-A`mash narrated that Ibrahim said, "A bedouin man sat next to Zayd bin Sawhan while he was speaking to his friends. Zayd had lost his hand during the battle of Nahawand. The bedouin man said, `By Allah! I like your speech. However, your hand causes me suspicion.' Zayd said, `Why are you suspicious because of my hand, it is the left hand that is cut' The bedouin man said, `By Allah! I do not know which hand they cut off (for committing theft), is it the right or the left' Zayd bin Sawhan said, `Allah has said the truth,
الاٌّعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلاَّ يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ
(The bedouins are the worst in disbelief and hypocrisy, and more likely to not know the limits which Allah has revealed to His Messenger.)" Imam Ahmad narrated that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِن»
(He who lives in the desert becomes hard-hearted, he who follows the game becomes heedless, and he who associates with the rulers falls into Fitnah.) Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith. At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." The Prophet once had to give a bedouin man many gifts because of what he gave him as a gift, until the bedouin became satisfied. The Prophet said,
«لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيَ أَوْ ثَقَفِيَ أَوْ أَنْصَارِيَ أَوْ دَوْسِي»
(I almost decided not to accept a gift except from someone from Quraysh, Thaqafi, the Ansar or Daws.) This is because these people lived in cities, Makkah, At- Ta'if, Al-Madinah and Yemen, and therefore, their conduct and manners are nicer than that of the hard-hearted bedouins. Allah said next,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(And Allah is All-Knower, All-Wise.) Allah knows those who deserve to be taught faith and knowledge, He wisely distributes knowledge or ignorance, faith or disbelief and hypocrisy between His servants. He is never questioned as to what He does, for He is the All-Knower, All-Wise. Allah also said that among bedouins are those,
مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ
(who look upon what they spend), in the cause of Allah,
مَغْرَمًا
(as a fine), as a loss and a burden,
وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ
(and watch for calamities for you), awaiting afflictions and disasters to strike you,
عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ
(on them be the calamity of evil), evil will touch them instead,
وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Hearer, All-Knower.) Allah hears the invocation of His servants and knows who deserves victory, who deserve failure. Allah's said;
وَمِنَ الاٌّعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَـتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَوَتِ الرَّسُولِ
(And of the bedouins there are some who believe in Allah and the Last Day, and look upon what they spend (in Allah's cause) as means of nearness to Allah, and a cause of receiving the Messenger's invocations.) This is the type of praiseworthy bedouins. They give charity in Allah's cause as way of achieving nearness to Allah and seeking the Messenger's invocation for their benefit,
أَلا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ
(Indeed these are a means of nearness for them.) they will attain what they sought,
سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِى رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Allah will admit them to His mercy. Certainly Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار و منافق بھی ہیں اور مومن مسلمان بھی ہیں۔ لیکن کافروں اور منافقوں کا کفر و نفاق نہایت سخت ہے۔ ان میں اس بات کی مطلقاً اہلیت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدوں کا علم حاصل کریں جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ چناچہ ایک اعرابی حضرت زید بن صوحان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت یہ اس مجلس میں لوگوں کو کچھ بیان فرما رہے تھے۔ نہاوند والے دن انکا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی بول اٹھا کہ آپ کی باتوں سے تو آپ کی محبت میرے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ لیکن آپ کا یہ کٹا ہوا ہاتھ مجھے اور ہی شبہ میں ڈالتا ہے۔ آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کیا شک ہوا یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔ تو اعرابی نے کہا واللہ مجھے نہیں معلوم کہ دایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا بایاں ؟ انہوں نے فرمایا اللہ عزوجل نے سچ فرمایا کہ اعراب بڑے ہی سخت کفر ونفاق والے اور اللہ کی حدوں کے بالکل ہی نہ جاننے والے ہیں۔ مسند احمد میں ہے " جو بادیہ نشین ہوا اس نے غلط و جفا کی۔ اور جو شکار کے پیچھے پڑگیا اس نے غفلت کی۔ اور جو بادشاہ کے پاس پہنچا وہ فتنے میں پڑا "۔ ابو داؤد ترمذی اور نسانی میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں چونکہ صحرا نشینوں میں عموماً سختی اور بدخلقی ہوتی ہے، اللہ عزوجل نے ان میں سے کسی کو اپنی رسالت کے ساتھ ممتاز نہیں فرمایا بلکہ رسول ہمیشہ شہری لوگ ہوتے رہے۔ جیسے فرمان اللہ ہے۔ (آیت وما ارسلنا من قبلک الا رجلا نوحی الیھم من اھل القری) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب انسان مرد تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے تھے وہ سب متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو کچھ ہدیہ پیش کیا، آپ ﷺ نے اس کے ہدیہ سے کئی گناہ زیادہ انعام دیا جب جا کر بمشکل تمام راضی ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب سے میں نے قصد کیا ہے کہ سوائے قریشی، ثقفی، انصاری یا دوسی کے کسی کا تحفہ قبول نہ کروں گا۔ یہ اس لئے کہ یہ چاروں شہروں کے رہنے والے تھے۔ مکہ، طائف، مدینہ اور یمن کے لوگ تھے، پس یہ فطرتاً ان بادیہ نشینوں کی نسبت نرم اخلاق اور دور اندیش لوگ تھے، ان میں اعراب جیسی سختی اور کھردرا پن نہ تھا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ ایمان و علم عطا فرمائے جانے کا اہل کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں میں ایمان و کفر، علم وجہل، نفاق و اسلام کی تقسیم میں باحکمت ہے۔ اس کے زبردست علم کی وجہ سے اس کے کاموں کی بازپرس اس سے کوئی نہیں کرسکتا۔ اور اس حکمت کی وجہ سے اس کا کوئی کام بےجا نہیں ہوتا۔ ان بادیہ نشینوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ کے خرچ کو ناحق اور تاوان اور اپنا صریح نقصان جانتے ہیں اور ہر وقت اسی کے منتظر رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر کب بلا و مصیبت آئے، کب تم حوادث و آفات میں گھر جاؤ لیکن ان کی یہ بد خواہی انہی کے آگے آئے گی، انہی پر برائی کا زوال آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اور خوب جانتا ہے کہ مستحق امداد کون ہے اور ذلت کے لائق کون ہے۔ دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں اعراب کی اس قوم کو بیان فرما کر اب ان میں سے بھلے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں آخرت کو مانتے ہیں۔ راہ حق میں خرچ کر کے اللہ کی قربت تلاش کرتے ہیں، ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لیتے ہیں۔ بیشک ان کو اللہ کی قربت حاصل ہے۔ اللہ انہیں اپنی رحمتیں عطا کر دے گا۔ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔
98
View Single
وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمٗا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
And some of the ignorant are those who when spending in Allah's cause consider it a ransom, and await the coming of the cycles (of misfortunes) upon you; upon them only is the evil cycle of misfortune; and Allah is All Hearing, All Knowing.
اور ان دیہاتی گنواروں میں سے وہ شخص (بھی) ہے جو اس (مال) کو تاوان قرار دیتا ہے جسے وہ (راہِ خدا میں) خرچ کرتا ہے اور تم پر زمانہ کی گردشوں (یعنی مصائب و آلام) کا انتظار کرتا رہتا ہے، (بَلا و مصیبت کی) بری گردش انہی پر ہے، اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Bedouins are the Worst in Disbelief and Hypocrisy
Allah states that there are disbelievers, hypocrites and believers among the bedouins. He also states that the disbelief and hypocrisy of the bedouins is worse and deeper than the disbelief and hypocrisy of others. They are the most likely of being ignorant of the commandments that Allah has revealed to His Messenger . Al-A`mash narrated that Ibrahim said, "A bedouin man sat next to Zayd bin Sawhan while he was speaking to his friends. Zayd had lost his hand during the battle of Nahawand. The bedouin man said, `By Allah! I like your speech. However, your hand causes me suspicion.' Zayd said, `Why are you suspicious because of my hand, it is the left hand that is cut' The bedouin man said, `By Allah! I do not know which hand they cut off (for committing theft), is it the right or the left' Zayd bin Sawhan said, `Allah has said the truth,
الاٌّعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلاَّ يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ
(The bedouins are the worst in disbelief and hypocrisy, and more likely to not know the limits which Allah has revealed to His Messenger.)" Imam Ahmad narrated that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِن»
(He who lives in the desert becomes hard-hearted, he who follows the game becomes heedless, and he who associates with the rulers falls into Fitnah.) Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith. At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." The Prophet once had to give a bedouin man many gifts because of what he gave him as a gift, until the bedouin became satisfied. The Prophet said,
«لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيَ أَوْ ثَقَفِيَ أَوْ أَنْصَارِيَ أَوْ دَوْسِي»
(I almost decided not to accept a gift except from someone from Quraysh, Thaqafi, the Ansar or Daws.) This is because these people lived in cities, Makkah, At- Ta'if, Al-Madinah and Yemen, and therefore, their conduct and manners are nicer than that of the hard-hearted bedouins. Allah said next,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(And Allah is All-Knower, All-Wise.) Allah knows those who deserve to be taught faith and knowledge, He wisely distributes knowledge or ignorance, faith or disbelief and hypocrisy between His servants. He is never questioned as to what He does, for He is the All-Knower, All-Wise. Allah also said that among bedouins are those,
مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ
(who look upon what they spend), in the cause of Allah,
مَغْرَمًا
(as a fine), as a loss and a burden,
وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ
(and watch for calamities for you), awaiting afflictions and disasters to strike you,
عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ
(on them be the calamity of evil), evil will touch them instead,
وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Hearer, All-Knower.) Allah hears the invocation of His servants and knows who deserves victory, who deserve failure. Allah's said;
وَمِنَ الاٌّعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَـتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَوَتِ الرَّسُولِ
(And of the bedouins there are some who believe in Allah and the Last Day, and look upon what they spend (in Allah's cause) as means of nearness to Allah, and a cause of receiving the Messenger's invocations.) This is the type of praiseworthy bedouins. They give charity in Allah's cause as way of achieving nearness to Allah and seeking the Messenger's invocation for their benefit,
أَلا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ
(Indeed these are a means of nearness for them.) they will attain what they sought,
سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِى رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Allah will admit them to His mercy. Certainly Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار و منافق بھی ہیں اور مومن مسلمان بھی ہیں۔ لیکن کافروں اور منافقوں کا کفر و نفاق نہایت سخت ہے۔ ان میں اس بات کی مطلقاً اہلیت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدوں کا علم حاصل کریں جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ چناچہ ایک اعرابی حضرت زید بن صوحان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت یہ اس مجلس میں لوگوں کو کچھ بیان فرما رہے تھے۔ نہاوند والے دن انکا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی بول اٹھا کہ آپ کی باتوں سے تو آپ کی محبت میرے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ لیکن آپ کا یہ کٹا ہوا ہاتھ مجھے اور ہی شبہ میں ڈالتا ہے۔ آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کیا شک ہوا یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔ تو اعرابی نے کہا واللہ مجھے نہیں معلوم کہ دایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا بایاں ؟ انہوں نے فرمایا اللہ عزوجل نے سچ فرمایا کہ اعراب بڑے ہی سخت کفر ونفاق والے اور اللہ کی حدوں کے بالکل ہی نہ جاننے والے ہیں۔ مسند احمد میں ہے " جو بادیہ نشین ہوا اس نے غلط و جفا کی۔ اور جو شکار کے پیچھے پڑگیا اس نے غفلت کی۔ اور جو بادشاہ کے پاس پہنچا وہ فتنے میں پڑا "۔ ابو داؤد ترمذی اور نسانی میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں چونکہ صحرا نشینوں میں عموماً سختی اور بدخلقی ہوتی ہے، اللہ عزوجل نے ان میں سے کسی کو اپنی رسالت کے ساتھ ممتاز نہیں فرمایا بلکہ رسول ہمیشہ شہری لوگ ہوتے رہے۔ جیسے فرمان اللہ ہے۔ (آیت وما ارسلنا من قبلک الا رجلا نوحی الیھم من اھل القری) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب انسان مرد تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے تھے وہ سب متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو کچھ ہدیہ پیش کیا، آپ ﷺ نے اس کے ہدیہ سے کئی گناہ زیادہ انعام دیا جب جا کر بمشکل تمام راضی ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب سے میں نے قصد کیا ہے کہ سوائے قریشی، ثقفی، انصاری یا دوسی کے کسی کا تحفہ قبول نہ کروں گا۔ یہ اس لئے کہ یہ چاروں شہروں کے رہنے والے تھے۔ مکہ، طائف، مدینہ اور یمن کے لوگ تھے، پس یہ فطرتاً ان بادیہ نشینوں کی نسبت نرم اخلاق اور دور اندیش لوگ تھے، ان میں اعراب جیسی سختی اور کھردرا پن نہ تھا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ ایمان و علم عطا فرمائے جانے کا اہل کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں میں ایمان و کفر، علم وجہل، نفاق و اسلام کی تقسیم میں باحکمت ہے۔ اس کے زبردست علم کی وجہ سے اس کے کاموں کی بازپرس اس سے کوئی نہیں کرسکتا۔ اور اس حکمت کی وجہ سے اس کا کوئی کام بےجا نہیں ہوتا۔ ان بادیہ نشینوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ کے خرچ کو ناحق اور تاوان اور اپنا صریح نقصان جانتے ہیں اور ہر وقت اسی کے منتظر رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر کب بلا و مصیبت آئے، کب تم حوادث و آفات میں گھر جاؤ لیکن ان کی یہ بد خواہی انہی کے آگے آئے گی، انہی پر برائی کا زوال آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اور خوب جانتا ہے کہ مستحق امداد کون ہے اور ذلت کے لائق کون ہے۔ دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں اعراب کی اس قوم کو بیان فرما کر اب ان میں سے بھلے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں آخرت کو مانتے ہیں۔ راہ حق میں خرچ کر کے اللہ کی قربت تلاش کرتے ہیں، ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لیتے ہیں۔ بیشک ان کو اللہ کی قربت حاصل ہے۔ اللہ انہیں اپنی رحمتیں عطا کر دے گا۔ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔
99
View Single
وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرۡبَةٞ لَّهُمۡۚ سَيُدۡخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
And some villagers are those who believe in Allah and the Last Day, and consider the spending as the means of obtaining proximity to Allah and obtaining the prayers of the Noble Messenger; pay heed! Yes indeed it is the means of proximity for them; Allah will soon admit them into His mercy; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
اور بادیہ نشینوں میں (ہی) وہ شخص (بھی) ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ (راہِ خدا میں) خرچ کرتاہے اسے اللہ کے حضور تقرب اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (رحمت بھری) دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتا ہے، سن لو! بیشک وہ ان کے لئے باعثِ قربِ الٰہی ہے، جلد ہی اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرما دے گا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Bedouins are the Worst in Disbelief and Hypocrisy
Allah states that there are disbelievers, hypocrites and believers among the bedouins. He also states that the disbelief and hypocrisy of the bedouins is worse and deeper than the disbelief and hypocrisy of others. They are the most likely of being ignorant of the commandments that Allah has revealed to His Messenger . Al-A`mash narrated that Ibrahim said, "A bedouin man sat next to Zayd bin Sawhan while he was speaking to his friends. Zayd had lost his hand during the battle of Nahawand. The bedouin man said, `By Allah! I like your speech. However, your hand causes me suspicion.' Zayd said, `Why are you suspicious because of my hand, it is the left hand that is cut' The bedouin man said, `By Allah! I do not know which hand they cut off (for committing theft), is it the right or the left' Zayd bin Sawhan said, `Allah has said the truth,
الاٌّعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلاَّ يَعْلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ
(The bedouins are the worst in disbelief and hypocrisy, and more likely to not know the limits which Allah has revealed to His Messenger.)" Imam Ahmad narrated that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِن»
(He who lives in the desert becomes hard-hearted, he who follows the game becomes heedless, and he who associates with the rulers falls into Fitnah.) Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i collected this Hadith. At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." The Prophet once had to give a bedouin man many gifts because of what he gave him as a gift, until the bedouin became satisfied. The Prophet said,
«لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيَ أَوْ ثَقَفِيَ أَوْ أَنْصَارِيَ أَوْ دَوْسِي»
(I almost decided not to accept a gift except from someone from Quraysh, Thaqafi, the Ansar or Daws.) This is because these people lived in cities, Makkah, At- Ta'if, Al-Madinah and Yemen, and therefore, their conduct and manners are nicer than that of the hard-hearted bedouins. Allah said next,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(And Allah is All-Knower, All-Wise.) Allah knows those who deserve to be taught faith and knowledge, He wisely distributes knowledge or ignorance, faith or disbelief and hypocrisy between His servants. He is never questioned as to what He does, for He is the All-Knower, All-Wise. Allah also said that among bedouins are those,
مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ
(who look upon what they spend), in the cause of Allah,
مَغْرَمًا
(as a fine), as a loss and a burden,
وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ
(and watch for calamities for you), awaiting afflictions and disasters to strike you,
عَلَيْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ
(on them be the calamity of evil), evil will touch them instead,
وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Hearer, All-Knower.) Allah hears the invocation of His servants and knows who deserves victory, who deserve failure. Allah's said;
وَمِنَ الاٌّعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَـتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَوَتِ الرَّسُولِ
(And of the bedouins there are some who believe in Allah and the Last Day, and look upon what they spend (in Allah's cause) as means of nearness to Allah, and a cause of receiving the Messenger's invocations.) This is the type of praiseworthy bedouins. They give charity in Allah's cause as way of achieving nearness to Allah and seeking the Messenger's invocation for their benefit,
أَلا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ
(Indeed these are a means of nearness for them.) they will attain what they sought,
سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِى رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Allah will admit them to His mercy. Certainly Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.)
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار و منافق بھی ہیں اور مومن مسلمان بھی ہیں۔ لیکن کافروں اور منافقوں کا کفر و نفاق نہایت سخت ہے۔ ان میں اس بات کی مطلقاً اہلیت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدوں کا علم حاصل کریں جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ چناچہ ایک اعرابی حضرت زید بن صوحان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت یہ اس مجلس میں لوگوں کو کچھ بیان فرما رہے تھے۔ نہاوند والے دن انکا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی بول اٹھا کہ آپ کی باتوں سے تو آپ کی محبت میرے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ لیکن آپ کا یہ کٹا ہوا ہاتھ مجھے اور ہی شبہ میں ڈالتا ہے۔ آپ نے فرمایا اس سے تمہیں کیا شک ہوا یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔ تو اعرابی نے کہا واللہ مجھے نہیں معلوم کہ دایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا بایاں ؟ انہوں نے فرمایا اللہ عزوجل نے سچ فرمایا کہ اعراب بڑے ہی سخت کفر ونفاق والے اور اللہ کی حدوں کے بالکل ہی نہ جاننے والے ہیں۔ مسند احمد میں ہے " جو بادیہ نشین ہوا اس نے غلط و جفا کی۔ اور جو شکار کے پیچھے پڑگیا اس نے غفلت کی۔ اور جو بادشاہ کے پاس پہنچا وہ فتنے میں پڑا "۔ ابو داؤد ترمذی اور نسانی میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں چونکہ صحرا نشینوں میں عموماً سختی اور بدخلقی ہوتی ہے، اللہ عزوجل نے ان میں سے کسی کو اپنی رسالت کے ساتھ ممتاز نہیں فرمایا بلکہ رسول ہمیشہ شہری لوگ ہوتے رہے۔ جیسے فرمان اللہ ہے۔ (آیت وما ارسلنا من قبلک الا رجلا نوحی الیھم من اھل القری) ہم نے تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب انسان مرد تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے تھے وہ سب متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کو کچھ ہدیہ پیش کیا، آپ ﷺ نے اس کے ہدیہ سے کئی گناہ زیادہ انعام دیا جب جا کر بمشکل تمام راضی ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب سے میں نے قصد کیا ہے کہ سوائے قریشی، ثقفی، انصاری یا دوسی کے کسی کا تحفہ قبول نہ کروں گا۔ یہ اس لئے کہ یہ چاروں شہروں کے رہنے والے تھے۔ مکہ، طائف، مدینہ اور یمن کے لوگ تھے، پس یہ فطرتاً ان بادیہ نشینوں کی نسبت نرم اخلاق اور دور اندیش لوگ تھے، ان میں اعراب جیسی سختی اور کھردرا پن نہ تھا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ ایمان و علم عطا فرمائے جانے کا اہل کون ہے ؟ وہ اپنے بندوں میں ایمان و کفر، علم وجہل، نفاق و اسلام کی تقسیم میں باحکمت ہے۔ اس کے زبردست علم کی وجہ سے اس کے کاموں کی بازپرس اس سے کوئی نہیں کرسکتا۔ اور اس حکمت کی وجہ سے اس کا کوئی کام بےجا نہیں ہوتا۔ ان بادیہ نشینوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کی راہ کے خرچ کو ناحق اور تاوان اور اپنا صریح نقصان جانتے ہیں اور ہر وقت اسی کے منتظر رہتے ہیں کہ تم مسلمانوں پر کب بلا و مصیبت آئے، کب تم حوادث و آفات میں گھر جاؤ لیکن ان کی یہ بد خواہی انہی کے آگے آئے گی، انہی پر برائی کا زوال آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اور خوب جانتا ہے کہ مستحق امداد کون ہے اور ذلت کے لائق کون ہے۔ دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں اعراب کی اس قوم کو بیان فرما کر اب ان میں سے بھلے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں آخرت کو مانتے ہیں۔ راہ حق میں خرچ کر کے اللہ کی قربت تلاش کرتے ہیں، ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لیتے ہیں۔ بیشک ان کو اللہ کی قربت حاصل ہے۔ اللہ انہیں اپنی رحمتیں عطا کر دے گا۔ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔
100
View Single
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
And leading everyone, the first are the Muhajirs* and the Ansar**, and those who followed them with virtue – Allah is pleased with them and they are pleased with Him, and He has kept ready for them Gardens beneath which rivers flow, to abide in it for ever and ever; this is the greatest success. (* The immigrants. **Those who helped the immigrants.)
اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Virtues of the Muhajirin, Ansar and Those Who followed Them in Faith
Allah mentions that He is pleased foremost with the Muhajirin, Ansar and those who followed them in faith, and that they are well-pleased with Him, for He has prepared for them the gardens of delight and eternal joy. Ash-Sha`bi said that,
وَالسَّـبِقُونَ الاٌّوَّلُونَ مِنَ الْمُهَـجِرِينَ وَالأَنْصَـرِ
(The foremost Muhajirin and Ansar) are those who conducted the pledge of Ar-Ridwan in the year of Hudaybiyyah. Abu Musa Al-Ash`ari, Sa`id bin Al-Musayyib, Muhammad bin Sirin, Al-Hasan and Qatadah said that they are those who performed the prayer towards the two Qiblahs with the Messenger of Allah ﷺ first toward Jerusalem and later toward the Ka`bah. Allah, the Most Great, stated that He is pleased foremost with the Muhajirin, the Ansar and those who followed their lead with excellence. Therefore, woe to those who dislike or curse them, or dislike or curse any of them, especially their master after the Messenger ﷺ, the best and most righteous among them, the Siddiq (the great truthful one) and the grand Khalifah, Abu Bakr bin Abi Quhafah, may Allah be pleased with him. The failure group, the Rafidah (a sect of Shiites), are the enemies of the best Companions, they hate and curse them, we seek refuge with Allah from such evil. This indicates that the minds of these people are twisted and their hearts turned upside down, for where are they in relation to believing in the Qur'an They curse those whom Allah stated He is pleased with! As for the followers of the Sunnah, they are pleased with those whom Allah is pleased with, curse whomever Allah and His Messenger curse, and give their loyalty to Allah's friends and show enmity to the enemies of Allah. They are followers not innovators, imitating the Sunnah they do not initiate it on their own. They are indeed the party of Allah, the successful, and Allah's faithful servants.
سابقوں کو بشارت اس مبارک آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ ان مہاجرین و انصار سے جو سبقت لے جانے والوں میں اولین تھے اور ان کی تابعداری کرنے کی وجہ سے انہیں اپنی رضامندی کا اظہار فرما رہا ہے کہ انہیں نعمتوں والی ابدی جنتیں اور ہمیشہ کی نعمتیں ملیں گی۔ شعبی کہتے ہیں " ان سے مراد وہ مہاجر و انصار ہیں جو حدیبیہ والے سال بیعت الرضوان میں شریک تھے "۔ لیکن حضرت موسیٰ اشعری وغیرہ سے مروی ہے کہ " جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی "۔ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر اس کا ہاتھ پکڑ کر دریافت فرمایا کہ تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے ؟ اس نے کہا حضرت ابی بن کعب ؓ نے۔ آپ نے فرمایا تم میرے ساتھ ان کے پاس چلو۔ جب ان کے پاس پہنچے تو آپ نے پوچھا تم نے اسے یہ آیت اسی طرح پڑھائی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں آپ نے پوچھا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے اسے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں۔ آپ نے فرمایا میرا تو خیال تھا کہ جس بلند درجے پر ہم پہنچے ہیں اس پر ہمارے بعد کوئی نہ پہنچے گا۔ حضرت ابی ؓ نے فرمایا اس آیت کی تصدیق سورة جمعہ کی (آیت واخرین منھم الخ،) سے اور سورة حشر کی (وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 10ۧ) 59۔ الحشر :10) سے اور سورة انفال کی (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ 74) 8۔ الانفال :74) سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت حسن والانصار پڑھتے تھے اور مذکوره آيت یعنی والسابقون۔ الخ پر عطف ڈال کر پڑھتے۔ اللہ تعالیٰ عظیم و کبیر خبردیتا ہے کہ وہ سابقین اولین مہاجر و انصار سے خوش ہے اور ان سے بھی خوش جو احسان کے ساتھ ان کے متبع ہیں۔ افسوس ان پر ہے، خانہ خراب وہ ہیں جو ان سے دشمنی رکھیں، انہیں برا کہیں یا ان میں سے کسی ایک کو بھی برا کہیں یا اس سے دشمنی رکھیں۔ خصوصاً صحابہ انصار و مہاجرین کے سردار سب سے بہتر و افضل صدیق اکبر خلیفہ عظیم حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ ؓ سے جو بھی بغض رکھے یا ان کی شان میں کوئی گستاخی کا کلمہ بولے اللہ اس سے ناراض ہے۔ رسوائے مخلوق رافضیوں کا بدترین گروہ افضل صحابہ کو برا کہتا ہے، ان سے دشمنی رکھتا ہے۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ یہی بات دلیل ہے اس پر کہ ان کی عقلیں الٹی ہیں اور ان کے دل اوندھے ہیں۔ انہیں قرآن پر ایمان کہاں ہے ؟ جب کہ یہ ان پر تبرا بھیجتے ہیں جن کی بابت قرآن میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا اظہار کھلے لفظوں میں بیان کرتا ہے۔ ؓ اجمعین ہاں اہلسنت ان سے خوش ہیں جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہے اور ان کو برا کہتے ہی جنہیں اللہ تعالیٰ نے برا کہا ہے۔ اللہ کے دوستوں سے وہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ کے دشمنوں کے وہ بھی دشمن ہیں۔ وہ متبع ہیں مبتدع نہیں۔ وہ پیروی اوراقتدا کرتے ہیں۔ نافرمانی اور خلاف نہیں کرتے۔ یہی جماعت اللہ تعالیٰ سے کامیابی حاصل کرنے والی ہے اور یہی اللہ کے سچے بندے ہیں کثرھم اللہ
101
View Single
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡۖ نَحۡنُ نَعۡلَمُهُمۡۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٖ
And some of the illiterates around you are hypocrites; and some of the people of Medinah; hypocrisy has become ingrained in them; you do not know them*; We know them; We shall soon punish them twice** – they will then be consigned towards the terrible punishment.*** (*Until now or as well as We do. ** In life and in the grave *** of hell.)
اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں (بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جملہ منافقین کا علم اور معرفت عطا کر دی گئی)۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ (دنیا ہی میں) عذاب دیں گے٭ پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گےo٭ ایک بار جب ان کی پہچان کرا دی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ جمعہ کے دوران ان منافقین کو نام لے لے کر مسجد سے نکال دیا، یہ پہلا عذاب بصورتِ ذلت و رسوائی تھا؛ اور دوسرا عذاب بصورتِ ہلاکت و مُقاتلہ ہوا جس کا حکم بعد میں آیا
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites among the Bedouins and Residents of Al-Madinah
Allah informs His Messenger, peace be upon him, that among the bedouins around Al-Madinah there are hypocrites and in Al-Madinah itself, those,
مَرَدُواْ عَلَى النَّفَاقِ
(who persist in hypocrisy;) meaning they insisted on hypocrisy and continued in it Allah's statement,
لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ
(you know them not, We know them), does not contradict His other statement,
وَلَوْ نَشَآءُ لأَرَيْنَـكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِيمَـهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِى لَحْنِ الْقَوْلِ
(Had We willed, We could have shown them to you, and you should have known them by their marks; but surely, you will know them by the tone of their speech!)47:30, because the latter Ayah describes them by their characteristics, not that the Messenger ﷺ knows all those who have doubts and hypocrisy. The Messenger ﷺ knew that some of those who associated with him from the people of Al-Madinah were hypocrites, and he used to see them day and night but did not know who they were exactly. We mentioned before in the explanation of,
وَهَمُّواْ بِمَا لَمْ يَنَالُواْ
(...and they resolved that (plot) which they were unable to carry out...)9:74 that the Prophet informed Hudhayfah of the names of fourteen or fifteen hypocrites. This knowledge is specific in this case, not that the Messenger of Allah ﷺ was informed of all their names, and Allah knows best. `Abdur-Razzaq narrated that Ma`mar said that Qatadah commented on this Ayah 9:101, "What is the matter with some people who claim to have knowledge about other people, saying, `So-and-so is in Paradise and so-and-so is in the Fire.' If you ask any of these people about himself, he would say, `I do not know (if I will end up in Paradise or the Fire)!' Verily, you have more knowledge of yourself than other people. You have assumed a job that even the Prophets before you refrained from assuming. Allah's Prophet Nuh said,
وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(And what knowledge have I of what they used to do)26:112 Allah's Prophet Shu`ayb said,
بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَآ أَنَاْ عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ
(That which is left by Allah for you (after giving the rights of the people) is better for you, if you are believers. And I am not a guardian over you)11:86, while Allah said to His Prophet ,
لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ
(you know them not, We know them.)" Mujahid said about Allah's statement,
سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ
(We shall punish them twice), "By killing and capture." In another narration he said, "By hunger and torment in the grave,
ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ
(and thereafter they shall be brought back to a great (horrible) torment.)" `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "The torment in this life strikes their wealth and offspring," and he recited this Ayah,
فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(So let not their wealth nor their children amaze you; Allah only wants to punish them with these things in the life of this world.) 9:55 These afflictions torment them, but will bring reward for the believers. As for the torment in the Hereafter, it is in the Fire,
ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ
(and thereafter they shall be brought back to a great (horrible) torment.)
منافقت کے خوگر شہری اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو بتلاتا ہے کہ " مدینے کے اردگرد رہنے والے گنواروں میں اور خود اہل مدینہ میں بہت سے منافق ہیں۔ جو برابر اپنے نفاق کے خوگر ہوچکے ہیں "۔ تمرد فلان علی اللہ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی اور نافرمانی کرے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم تو انہیں جانتے نہیں ہم جانتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ـ" اگر ہم چاہیں تو تجھے اور ان کو دکھا دیں اور تو ان کی علامات اور چہروں سے انہیں پہچان لے۔ یقینا تو انہیں انکی باتوں کے لب و لہجے سے جان لے گا۔ " غرض ان دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہ سمجھنا چاہیے۔ نشانیوں سے پہچان لینا اور بات ہے اور اللہ کی طرف کا قطعی علم کہ فلاں فلاں منافق ہے اور چیز ہے پس بعض منافق لوگوں کی منافقت حضرت محمد ﷺ پر کھل گئی تھی مگر آپ ﷺ کا تمام منافقوں کو جاننا ممکن نہیں تھا۔ آپ ﷺ تو صرف انتا جانتے تھے کہ مدینے میں بعض منافق ہیں۔ صبح وشام وہ دربار رسالت میں حاضر رہا کرتے تھے اور آپ ﷺ کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ اس قول کی صحت مسند احمد کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے ایک مرتبہ آپ ﷺ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مکہ کا ہمارا کوئی اجر نہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے پاس تمہارے اجر آہی جائیں گے گو تم لومڑی کے بھٹ میں ہو۔ پھر آپ نے ان کے کان سے اپنا منہ لگا کر فرمایا کہ میرے ان ساتھیوں میں بھی منافق ہیں۔ پس مطلب یہ ہوا کہ بعض منافق غلط سلط باتیں بک دیا کرتے ہیں، یہ بھی ایسی ہی بات ہے۔ (وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا ۚ وَمَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِي الْاَرْضِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ 74) 9۔ التوبہ :74) کی تفسیر میں ہم کہہ آئے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ ؓ کو بارہ یا پندرہ منافقوں کے نام بتائے تھے۔ پس اس سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک ایک کر کے تمام منافقوں کا آپ ﷺ کو علم تھا۔ نہیں بلکہ چند مخصوص لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم کرا دیا تھا واللہ اعلم۔ ابن عساکر میں ہے کہ " حرملہ نامی ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا ایمان تو یہاں ہے اور اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔ اور نفاق یہاں ہے اور ہاتھ سے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا اور نہیں ذکر کیا اللہ کا مگر تھوڑا۔ پس رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اے اللہ اسے ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل دے اور اسے میری اور مجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت عنایت فرما اور اس کے کام کا انجام بخیر کر۔ اب تو وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے ساتھی اور بھی ہیں جن کا میں سردار تھا، وہ سب بھی منافق ہیں اگر اجازت ہو تو انہیں بھی لے آؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو جو ہمارے پاس آئے گا ہم اسکے لئے استغفار کریں گے اور جو اپنے دین (نفاق) پر اڑا رہے گا اللہ ہی اس کے ساتھ اولیٰ ہے۔ تم کسی کی پردہ دری نہ کروـ"۔ حضرت قتادہ ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ تکلف سے اوروں کا حال بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ فلاں جنتی ہے اور فلاں دوزخی ہے۔ اس سے خود اس کی حالت پوچھو تو یہی کہے گا کہ میں نہیں جانتا۔ حالانکہ انسان اپنی حالت سے بہ نسبت اوروں کی حالت کے زیادہ عالم ہوتا ہے۔ یہ لوگ وہ تکلف کرتے ہیں جو نکلف انبیاء (علیہم السلام) نے بھی نہیں کیا۔ نبی اللہ حضرت نوح ؑ کا قول ہے وما علمی بماکانا یعملون ان کے اعمال کا مجھے علم نہیں۔ نبی اللہ حضرت شعیب ؑ فرماتے ہیں (وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ01004) 6۔ الانعام :104) میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے (لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ01001ۚ) 9۔ التوبہ :101) تو انہیں نہیں جانتا ہم ہی جانتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے فلاں تو نکل جا تو منافق ہے اور اے فلاں تو بھی یہاں سے چلا جا تو منافق ہے۔ پس بہت سے لوگوں کو آپ ﷺ نے مسجد سے چلے جانے کا حکم فرمایا۔ ان کا نفاق مسلمانوں پر کھل گیا یہ پورے رسوا ہوئے۔ یہ تو مسجد سے نکل کر جا رہے تھے اور حضرت عمر بن خطاب ؓ آ رہے تھے۔ آپ ان سے ذرا کترا گئے یہ سمجھ کر کہ شاید نماز ہوچکی اور یہ لوگ فارغ ہو کر جا رہے ہیں اور میں غیر حاضر رہ گیا۔ اور وہ لوگ بھی آپ سے شرمائے یہ سمجھ کر کہ ان پر بھی ہمارا حال کھل گیا ہوگا۔ اب مسجد میں آکر دیکھا کہ ابھی نماز تو ہوئی نہیں۔ تو ایک شخص نے آپ کو کہا لیجئے خوش ہوجائیے۔ آج اللہ نے منافقوں کو خوب شرمندہ و رسوا کیا۔ یہ تو تھا پہلا عذاب جبکہ حضور ﷺ نے انہیں مسجد سے نکلوا دیا۔ اور دوسرا عذاب عذاب قبر ہے۔ دو مرتبہ کے عذاب سے مجاہد کی نزدیک مراد قتل و قید ہے۔ اور روایت میں بھوک اور قبر کا عذاب ہے۔ ابن جریج فرماتے ہیں عذاب دنیا اور عذاب قبر مراد ہے۔ عبدالرحمن بن زید فرماتے ہیں دنیا کا عذاب تو مال واولاد ہے۔ جیسے قرآن میں ہے (فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 55) 9۔ التوبہ :55) یعنی تجھے انکامال اور انکی اولادیں اچھی نہ لگنی چاہیں اللہ کا ارادہ تو ان کی وجہ سے انہیں دنیا میں عذاب دینا ہے "۔ پس یہ مصیبتیں ان کے لئے عذاب ہیں ہاں مومنوں کے لئے اجر وثواب ہیں۔ اور دوسرا عذاب جہنم کا آخرت کے دن ہے۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں " پہلا عذاب تو یہ کہ اسلام کے احکام بظاہر ماننے پڑے، اسکے مطابق عمل کرنا پڑا جو دلی منشا کے خلاف ہے۔ دوسرا عذاب قبر کا۔ پھر ان دونوں کے سوا دائمی جہنم کا عذاب۔ قتادہ کہتے ہیں کہ عذاب دنیا اور عذاب قبر پر عذاب عظیم کی طرف لوٹایا جانا ہے۔ " مذکور ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے پوشیدہ طور پر بارہ منافقوں کے نام بتائے تھے۔ اور فرمایا تھا کہ ان میں سے چھ کو دبیلہ کافی ہوگا جو جہنم کی آگ کا انگارا ہوگا۔ جو ان کے شانے پر ظاہر ہوگا اور سینے تک پہنچ جائے گا۔ اور چھ بری موت مریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ جناب عمر فاروق ؓ جب دیکھتے کہ کوئی ایسا ویسا داغدار شخص مرا ہے تو انتظار کرتے کہ اس کے جنازے کی نماز حضرت حذیفہ ؓ پڑھتے ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ پڑھتے تو آپ بھی پڑھتے ورنہ نہ پڑھتے۔ مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت حذیفہ ؓ سے دریافت کیا کہ کیا میں بھی ان میں ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں آپ ان منافقوں میں نہیں۔ اور آپ کے بعد مجھے اس سے کسی پر بےخوفی نہیں۔
102
View Single
وَءَاخَرُونَ ٱعۡتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمۡ خَلَطُواْ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
And there are others who have acknowledged their sins and mixed a good deed with another that was bad; it is likely that Allah will accept their repentance; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
اور دوسرے وہ لو گ کہ (جنہوں نے) اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے انہوں نے کچھ نیک عمل اور دوسرے برے کاموں کو (غلطی سے) ملا جلا دیا ہے، قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرمالے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Believers stayed away from Battle because They were Lazy
After Allah explained the characteristics of the hypocrites who stayed away from battle because they sought to avoid it out of denial and doubt, He then mentioned the disobedient who stayed away from Jihad due to laziness and preferring comfort, even though they truely believed,
وَءَاخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ
(And others who have acknowledged their sins,) These people admitted their error to themselves and their Lord. They had performed good deeds before, as well as, this evil deed that they committed. For them there was forgiveness and pardon of Allah. This Ayah is general, covering all sinners who combine good and evil deeds, thus becoming partly impure, even though it was revealed about some people in specific. Ibn `Abbas said that,
وَءَاخَرُونَ
(And (there are) others), refers to Abu Lubabah and some of his friends who stayed away from the battle of Tabuk and the Messenger of Allah ﷺ. When the Messenger of Allah ﷺ returned from that battle, this group, Abu Lubabah and five, seven or nine with him, tied themselves to the pillars of the Masjid and refused to let anyone untie them except the Messenger of Allah . When this Ayah was revealed,
وَءَاخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ
(And (there are) others who have acknowledged their sins,) the Messenger of Allah ﷺ untied them and pardoned them. " Al-Bukhari recorded that Samurah bin Jundub said that the Messenger of Allah ﷺ said to us,
«أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ فَابْتَعَثَانِي، فَانْتَهَيَا بِي إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ فَتَلَقَّانَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، قَالَا لَهُمْ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهْرِ فَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَا لِي: هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ وَهَذَا مَنْزِلُكَ، قَالَا: وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ، فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللهُ عَنْهُم»
(Last Night, two (angels) came to me (in a vision) and took me to a city, built with bricks made of gold and silver. We met some men who, part of their bodies were as handsome as you ever saw and the part as ugly as you ever saw. The two (angels) ordered these men to go to a river and submerge themselves in it; they did that and came back to us, and the ugliness went away from them, thus becoming the most beautiful form. The two said to me, `This is the garden of Eden, and this is your residence in it.' The two said, `As for the men who had part of their body handsome and part ugly, they have mixed a deed that was righteous with another that was evil. Allah has pardoned them.') Al-Bukhari recorded this Hadith in a short form upon the explanation of this Ayah.
تساہل اور سستی سے بچو منافقوں کا حال اوپر کی آیتوں میں بیان فرمایا جو اللہ کی راہ میں جہاد سے بےایمانی، شک اور جھٹلانے کے طور پر جی چراتے ہیں اور شامل نہیں ہوتے۔ اس آیت میں ان کا بیان ہو رہا ہے جو ہیں تو ایمان دار اور سچے پکے مسلمان۔ لیکن سستی اور طلب راحت کی وجہ سے جہاد میں شامل نہ ہوئے۔ انہیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے، اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی نیکیاں بھی ہیں۔ پس یہ نیکی بدی والے لوگ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہیں اس کی معافی اور درگذر کے ماتحت ہیں۔ یہ آیت گو معین لوگوں کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے، ہر مسلمان جو نیکی کے ساتھ بدی میں بھی ملوث ہو وہ اللہ کے سپرد ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ ؓ کے بارے میں یہ آیت اتری ہے جب کہ انہوں نے بنو قریظہ سے کہا تھا کہ ذبح ہے اور اپنے ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ " ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یہ لوگ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ حضرت ابو لبابہ کے ساتھ اور بھی پانچ یا سات یا نو آدمی تھے۔ جب آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے تو ان بزرگوں نے اپنے تئیں مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ دیا تھا کہ جب تک خود رسول اللہ ﷺ اپنے دست مبارک سے نہ کھولیں گے ہم اس قید سے آزاد نہ ہوں گے جب یہ آیت اتری حضور ﷺ نے خودان کے بندھن کھولے اور ان سے درگذر فرما لیا۔ بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " میرے پاس آج رات کو دو آنے والے آئے جو مجھے اٹھا کرلے چلے۔ ہم ایک شہر میں پہنچے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا۔ وہاں ہمیں چند ایسے لوگ ملے جنکا آدھا دھڑ تو بہت ہی سڈول، نہایت خوشنما اور خوبصورت تھا اور آدھا نہایت ہی برا اور بدصورت۔ ان دونوں نے ان سے کہا جاؤ اس اس نہر میں غوطہ لگاؤ۔ وہ گئے اور غوطہ لگا کر واپس آئے وہ برائی ان سے دور ہوگئی تھی اور وہ نہایت خوبصورت اور اچھے ہوگئے تھے۔ پھر ان دونوں نے مجھ سے فرمایا کہ یہ جنت عدن ہے۔ یہی آپ ﷺ کی منزل ہے۔ اور جنہیں آپ ﷺ نے ابھی دیکھا یہ وہ لوگ ہیں جو نیکیوں کے ساتھ بدیاں بھی ملائے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگذر فرما لیا اور انہیں معاف فرمایا۔ " امام بخاری ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں اس حدیث کو اسی طرح مختصراً ہی روایت کیا ہے۔
103
View Single
خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) take the obligatory charity from their wealth, by which you may cleanse them and make them pure, and pray in their favour; indeed your prayer is the contentment of their hearts; and Allah is All Hearing, All Knowing.
آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجئے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں اور انہیں (ایمان و مال کی پاکیزگی سے) برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے (باعثِ) تسکین ہے، اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to collect the Zakah and Its Benefits
Allah commanded His Messenger to take Sadaqah from the Muslims' money to purify and sanctify them with it. This Ayah is general, even though some said that it refers specifically to those who mixed good and evil deeds, who admitted to their errors. Some bedouin later thought that paying Zakah to the Leader was not legislated except to the Messenger ﷺ himself, using this Ayah as evidence,
خُذْ مِنْ أَمْوَلِهِمْ صَدَقَةً
(Take Sadaqah from their wealth.) Abu Bakr As-Siddiq and other Companions refuted this ill comprehension and fought against them until they paid the Zakah to the Khalifah, just as they used to pay it to the Messenger of Allah ﷺ. As-Siddiq said, "By Allah! If they abstain from paying a bridle that they used to pay to the Messenger of Allah ﷺ, I will fight them for refraining from paying it." Allah's statement,
وَصَلِّ عَلَيْهِمْ
(and Salli for them), means, supplicate for them, and ask Allah to forgive them. In the Sahih, Muslim recorded that `Abdullah bin Abi Awfa said, "Whenever the Prophet was brought charity, he used to invoke Allah for those who brought it. My father also brought his charity and the Prophet said,
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى»
(O Allah! I invoke You for the family of Abu Awfa.)" Allah's statement,
إِنَّ صَلَوَتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ
(Verily, your Salat are a Sakan for them), means, a mercy for them, according to Ibn `Abbas. Allah said next,
وَاللَّهُ سَمِيعٌ
(and Allah is All-Hearer,) of your invocation (O Muhammad),
عَلِيمٌ
(All-Knower.) in those who deserve your invocation on their behalf, who are worthy of it. Allah said,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَـتِ
(Know they not that Allah accepts repentance from His servants and accepts the Sadaqat) This Ayah encourages reverting to repentance and giving charity, for each of these actions erases, deletes and eradicate sins. Allah states that He accepts the repentance of those who repent to Him, as well as charity from pure resources, for Allah accepts it with His Right Hand and raises it for its giver until even a date becomes as large as Mount Uhud. Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ أُحُد»
(Verily, Allah accepts charity, receives it in His Right Hand and develops it for its giver, just as one of you raises his pony, until the bite of food becomes as large as Uhud.) wThe Book of Allah, the Exalted and Most Honored, testifies to this Hadith,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَـتِ
(Know they not that Allah accepts repentance from His servants and accepts the Sadaqat), and,
يَمْحَقُ اللَّهُ الْرِّبَواْ وَيُرْبِى الصَّدَقَـتِ
(Allah will destroy Riba and will give increase for Sadaqat.) 2:276 `Abdullah bin Mas`ud said, "Charity falls in Allah's Hand before it falls in the needy's hand," he then recited this Ayah,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَـتِ
(Know they not that Allah accepts repentance from His servants and accepts the Sadaqat).
صدقہ مال کا تزکیہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ " آپ ان کے مالوں کا صدقہ لیا کریں۔ تاکہ اس وجہ سے انہیں پاکی اور ستھرائی حاصل ہو۔ " اس کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی نیکیوں کے ساتھ کچھ برائیاں بھی کرلیں تھیں۔ لیکن حکم اس کا عام ہے۔ عرب کے بعض قبیلوں کو اسی سے دھوکا ہوا تھا کہ یہ حکم آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے خلیفہ برحق حضرت ابوبکر صدیق کو (زکوۃ کو فرض مان کر) زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ جس پر آپ نے مع باقی صحابہ کے ان سے لڑائی کی کہ وہ زکوٰۃ خلیفۃ الرسول کو اسی طرح ادا کریں جسطرح رسول اللہ ﷺ کو ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر وہ ایک بچہ اونٹنی کا یا ایک رسی بھی نہ دینگے تو بھی میں ان سے لڑائی جاری رکھوں گا۔ حکم ہوتا ہے کہ ان سے زکوتیں لے اور انکے لئے دعائیں کر۔ چناچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کے والد آپ ﷺ کے پاس اپنا صدقہ لے کر آئے تو حسب عادت آپ نے دعا کی کہ اے اللہ آل ابی اوفی پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ اسی طرح جب آپ کے پاس کسی قسم کا صدقہ آتا تو آپ ان کے لئے دعا فرماتے۔ ایک عورت نے آپ سے آ کر درخواست کی کہ یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا صلی اللہ علیک وعلی زوجک صلواتک کی اور قرأات صلواتک ہے۔ پہلی قرأت مفرد کی ہے دوسری جمع کی ہے۔ فرماتا ہے کہ تیری دعا ان کے لئے اللہ کی رحمت کا باعث ہے۔ اور ان کے وقار وعزت کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ تیری دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اور اسے بھی وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون ان دعاؤں کا مستحق ہے اور کون اس کا اہل ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کے لئے دعا کرتے تو اسے اور اسکی اولاد کو اور اس کی اولاد کی اولاد کو پہنچتی تھی۔ پھر فرمایا۔ کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمانے والا ہے ؟ اور وہی ان کے صدقات لیتا ہے ؟ اس نے بندوں کو توبہ اور صدقے کی طرف بہت زیادہ رغبت دلائی ہے۔ یہ دونوں چیزیں گناہوں کو دور کردینے والی، انہیں معاف کرانے والی اور انکو مٹا دینے والی ہیں۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ اللہ عزوجل قبول فرماتا ہے اور حلال کمائی سے صدقہ دینے والوں کا صدقہ اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر صدقہ کرنے والے کے لئے اسے پالتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کو احد کے پہاڑ کے برابر کردیتا ہے۔ چناچہ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ صدقہ قبول فرماتا ہے اپنے دائیں ہاتھ سے اسے لیتا ہے اور جس طرح تم اپنے کو پالتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور احد پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔ اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ عزوجل کی کتاب میں بھی موجود ہے پھر اسی آیت کا یہی جملہ آپ نے تلاوت فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی۔ (یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات) یعنی سود کو اللہ تعالیٰ گھٹاتا ہے اور صدقے کو بڑھاتا ہے۔ صدقہ اللہ عزوجل کے ہاتھ میں جاتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ سائل کے ہاتھ میں جائے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت معاویہ ؓ کے زمانے میں مسلمانوں نے جہاد کیا جس میں ان پر حضرت عبدالرحمن بن خالد امام تھے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے مال غنیمت میں سے ایک سو رومی دینار چرا لئے جب لشکر وہاں سے لوٹ کر واپس آگیا تو اسے سخت ندامت ہوئی وہ ان دیناروں کو لے کر امام کے پاس آیا لیکن انہوں نے ان سے لینے سے انکار کردیا کہ میں اب لے کر کیا کروں ؟ لشکر تو متفرق ہوگیا کیسے بانٹ سکتا ہوں ؟ اب تو تو اسے اپنے پاس ہی رہنے دے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس ہی لانا۔ اس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے پوچھنا شروع کیا لیکن ہر ایک یہی جواب دیتا رہا۔ یہ مسکین ان دیناروں کو حضرت معاویہ ؓ کے پاس لایا اور ہرچند کہا کہ آپ انہیں لے لیجئے لیکن آپ نے بھی نہ لئے۔ اب تو یہ روتا پیٹتا وہاں سے نکلا۔ راستے میں اسے حضرت عبداللہ بن شاعر سکسکی ؒ ملے۔ یہ مشہور دمشقی ہیں اور اصل میں حمص کے ہیں۔ یہ بہت بڑے فقیہ تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیوں رو رہے ہو ؟ اس شخص نے اپنا تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا جو میں کہوں گا وہ کرو گے بھی ؟ اس نے کہا یقینا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اور خمس تو حضرت معاویہ ؓ کو دے آؤ۔ یعنی بیس دینار۔ اور باقی کے اسی دینار اللہ کی راہ میں اس پورے لشکر کی طرف سے خیرات کردو۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے نام اور مکان جانتا ہے اور وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس شخص نے یہی کیا۔ حضرت معاویہ ؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا واللہ مجھے اگر یہ مسئلہ سوجھ جاتا اور میں اسے یہ فتویٰ دے دیتا تو مجھے اس ساری سلطنت اور ملکیت سے زیادہ محبوب تھا۔ اس نے نہایت اچھا فتویٰ دیا۔
104
View Single
أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَأۡخُذُ ٱلصَّدَقَٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
Do they not know that Allah only accepts repentance of His bondmen and He takes the charity* and that Allah only is the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful? (* into His control.)
کیا وہ نہیں جانتے کہ بیشک اللہ ہی تو اپنے بندوں سے (ان کی) توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات اپنے دستِ قدرت سے) وصول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان ہے؟
Tafsir Ibn Kathir
The Command to collect the Zakah and Its Benefits
Allah commanded His Messenger to take Sadaqah from the Muslims' money to purify and sanctify them with it. This Ayah is general, even though some said that it refers specifically to those who mixed good and evil deeds, who admitted to their errors. Some bedouin later thought that paying Zakah to the Leader was not legislated except to the Messenger ﷺ himself, using this Ayah as evidence,
خُذْ مِنْ أَمْوَلِهِمْ صَدَقَةً
(Take Sadaqah from their wealth.) Abu Bakr As-Siddiq and other Companions refuted this ill comprehension and fought against them until they paid the Zakah to the Khalifah, just as they used to pay it to the Messenger of Allah ﷺ. As-Siddiq said, "By Allah! If they abstain from paying a bridle that they used to pay to the Messenger of Allah ﷺ, I will fight them for refraining from paying it." Allah's statement,
وَصَلِّ عَلَيْهِمْ
(and Salli for them), means, supplicate for them, and ask Allah to forgive them. In the Sahih, Muslim recorded that `Abdullah bin Abi Awfa said, "Whenever the Prophet was brought charity, he used to invoke Allah for those who brought it. My father also brought his charity and the Prophet said,
«اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى»
(O Allah! I invoke You for the family of Abu Awfa.)" Allah's statement,
إِنَّ صَلَوَتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ
(Verily, your Salat are a Sakan for them), means, a mercy for them, according to Ibn `Abbas. Allah said next,
وَاللَّهُ سَمِيعٌ
(and Allah is All-Hearer,) of your invocation (O Muhammad),
عَلِيمٌ
(All-Knower.) in those who deserve your invocation on their behalf, who are worthy of it. Allah said,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَـتِ
(Know they not that Allah accepts repentance from His servants and accepts the Sadaqat) This Ayah encourages reverting to repentance and giving charity, for each of these actions erases, deletes and eradicate sins. Allah states that He accepts the repentance of those who repent to Him, as well as charity from pure resources, for Allah accepts it with His Right Hand and raises it for its giver until even a date becomes as large as Mount Uhud. Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ أُحُد»
(Verily, Allah accepts charity, receives it in His Right Hand and develops it for its giver, just as one of you raises his pony, until the bite of food becomes as large as Uhud.) wThe Book of Allah, the Exalted and Most Honored, testifies to this Hadith,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَـتِ
(Know they not that Allah accepts repentance from His servants and accepts the Sadaqat), and,
يَمْحَقُ اللَّهُ الْرِّبَواْ وَيُرْبِى الصَّدَقَـتِ
(Allah will destroy Riba and will give increase for Sadaqat.) 2:276 `Abdullah bin Mas`ud said, "Charity falls in Allah's Hand before it falls in the needy's hand," he then recited this Ayah,
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَـتِ
(Know they not that Allah accepts repentance from His servants and accepts the Sadaqat).
صدقہ مال کا تزکیہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ " آپ ان کے مالوں کا صدقہ لیا کریں۔ تاکہ اس وجہ سے انہیں پاکی اور ستھرائی حاصل ہو۔ " اس کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی نیکیوں کے ساتھ کچھ برائیاں بھی کرلیں تھیں۔ لیکن حکم اس کا عام ہے۔ عرب کے بعض قبیلوں کو اسی سے دھوکا ہوا تھا کہ یہ حکم آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے خلیفہ برحق حضرت ابوبکر صدیق کو (زکوۃ کو فرض مان کر) زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ جس پر آپ نے مع باقی صحابہ کے ان سے لڑائی کی کہ وہ زکوٰۃ خلیفۃ الرسول کو اسی طرح ادا کریں جسطرح رسول اللہ ﷺ کو ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر وہ ایک بچہ اونٹنی کا یا ایک رسی بھی نہ دینگے تو بھی میں ان سے لڑائی جاری رکھوں گا۔ حکم ہوتا ہے کہ ان سے زکوتیں لے اور انکے لئے دعائیں کر۔ چناچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کے والد آپ ﷺ کے پاس اپنا صدقہ لے کر آئے تو حسب عادت آپ نے دعا کی کہ اے اللہ آل ابی اوفی پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ اسی طرح جب آپ کے پاس کسی قسم کا صدقہ آتا تو آپ ان کے لئے دعا فرماتے۔ ایک عورت نے آپ سے آ کر درخواست کی کہ یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے دعا کیجئے۔ آپ نے فرمایا صلی اللہ علیک وعلی زوجک صلواتک کی اور قرأات صلواتک ہے۔ پہلی قرأت مفرد کی ہے دوسری جمع کی ہے۔ فرماتا ہے کہ تیری دعا ان کے لئے اللہ کی رحمت کا باعث ہے۔ اور ان کے وقار وعزت کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ تیری دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اور اسے بھی وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون ان دعاؤں کا مستحق ہے اور کون اس کا اہل ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کے لئے دعا کرتے تو اسے اور اسکی اولاد کو اور اس کی اولاد کی اولاد کو پہنچتی تھی۔ پھر فرمایا۔ کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمانے والا ہے ؟ اور وہی ان کے صدقات لیتا ہے ؟ اس نے بندوں کو توبہ اور صدقے کی طرف بہت زیادہ رغبت دلائی ہے۔ یہ دونوں چیزیں گناہوں کو دور کردینے والی، انہیں معاف کرانے والی اور انکو مٹا دینے والی ہیں۔ توبہ کرنے والوں کی توبہ اللہ عزوجل قبول فرماتا ہے اور حلال کمائی سے صدقہ دینے والوں کا صدقہ اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر صدقہ کرنے والے کے لئے اسے پالتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کو احد کے پہاڑ کے برابر کردیتا ہے۔ چناچہ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ صدقہ قبول فرماتا ہے اپنے دائیں ہاتھ سے اسے لیتا ہے اور جس طرح تم اپنے کو پالتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور احد پہاڑ کے برابر ہوجاتی ہے۔ اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ عزوجل کی کتاب میں بھی موجود ہے پھر اسی آیت کا یہی جملہ آپ نے تلاوت فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی۔ (یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات) یعنی سود کو اللہ تعالیٰ گھٹاتا ہے اور صدقے کو بڑھاتا ہے۔ صدقہ اللہ عزوجل کے ہاتھ میں جاتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ سائل کے ہاتھ میں جائے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت معاویہ ؓ کے زمانے میں مسلمانوں نے جہاد کیا جس میں ان پر حضرت عبدالرحمن بن خالد امام تھے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے مال غنیمت میں سے ایک سو رومی دینار چرا لئے جب لشکر وہاں سے لوٹ کر واپس آگیا تو اسے سخت ندامت ہوئی وہ ان دیناروں کو لے کر امام کے پاس آیا لیکن انہوں نے ان سے لینے سے انکار کردیا کہ میں اب لے کر کیا کروں ؟ لشکر تو متفرق ہوگیا کیسے بانٹ سکتا ہوں ؟ اب تو تو اسے اپنے پاس ہی رہنے دے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس ہی لانا۔ اس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے پوچھنا شروع کیا لیکن ہر ایک یہی جواب دیتا رہا۔ یہ مسکین ان دیناروں کو حضرت معاویہ ؓ کے پاس لایا اور ہرچند کہا کہ آپ انہیں لے لیجئے لیکن آپ نے بھی نہ لئے۔ اب تو یہ روتا پیٹتا وہاں سے نکلا۔ راستے میں اسے حضرت عبداللہ بن شاعر سکسکی ؒ ملے۔ یہ مشہور دمشقی ہیں اور اصل میں حمص کے ہیں۔ یہ بہت بڑے فقیہ تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیوں رو رہے ہو ؟ اس شخص نے اپنا تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا جو میں کہوں گا وہ کرو گے بھی ؟ اس نے کہا یقینا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اور خمس تو حضرت معاویہ ؓ کو دے آؤ۔ یعنی بیس دینار۔ اور باقی کے اسی دینار اللہ کی راہ میں اس پورے لشکر کی طرف سے خیرات کردو۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے نام اور مکان جانتا ہے اور وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس شخص نے یہی کیا۔ حضرت معاویہ ؓ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا واللہ مجھے اگر یہ مسئلہ سوجھ جاتا اور میں اسے یہ فتویٰ دے دیتا تو مجھے اس ساری سلطنت اور ملکیت سے زیادہ محبوب تھا۔ اس نے نہایت اچھا فتویٰ دیا۔
105
View Single
وَقُلِ ٱعۡمَلُواْ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
And say “Keep on with your works – Allah will now see your deeds, and so will His Noble Messenger and the Muslims; and soon you will return to the One Who knows everything – the hidden and the visible – so He will inform you of what you used to do.”
اور فرما دیجئے: تم عمل کرو، سو عنقریب تمہارے عمل کو اللہ (بھی) دیکھ لے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اور اہلِ ایمان (بھی)، اور تم عنقریب ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے، سو وہ تمہیں ان اعمال سے خبردار فرما دے گا جو تم کرتے رہتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Warning the Disobedient
Mujahid said that this Ayah carries a warning from Allah to those who defy His orders. Their deeds will be shown to Allah, Blessed and Most Honored, and to the Messenger and the believers. This will certainly occur on the Day of Resurrection, just as Allah said,
يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ
(That Day shall you be brought to Judgement, not a secret of you will be hidden.) 69:18,
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ
(The Day when all the secrets will be examined.)86:9, and,
وَحُصِّلَ مَا فِى الصُّدُورِ
(And that which is in the breasts (of men) shall be made known.)100:10 Allah might also expose some deeds to the people in this life. Al-Bukhari said that `Aishah said, "If the good deeds of a Muslim person please you, then say,
اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ
(Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers.)" There is a Hadith that carries a similar meaning. Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تُعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَ يُخْتَمُ لَهُ،فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ أَوْ بَــرهَةً مِنْ دَهْرِهِ . بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا سَيِّئًا، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّءٍ، لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدِهِ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِه»
(Do not be pleased with someone's deeds until you see what his deeds in the end will be like. Verily, one might work for some time of his life with good deeds, so that if he dies while doing it, he will enter Paradise. However, he changes and commits evil deeds. one might commit evil deeds for some time in his life, so that if he dies while doing them he will enter the Fire. However, he changes and performs good deeds. If Allah wants the good of a servant He employs him before he dies.) He was asked, "How would Allah employ him, O Allah's Messenger" He said,
«يُوَفِّقُهُ لِعَمِلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْه»
(He directs him to perform good deeds and takes his life in that condition.) Only Imam Ahmad collected this Hadith.
اپنے اعمال سے ہوشیار رہو۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ان کے اعمال اللہ کے سامنے ہیں۔ اور اس کے رسول اور تمام مسلمانوں کے سامنے قیامت کے دن کھلنے والے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا اور پوشیدہ سے پوشیدہ عمل بھی اس دن سب پر ظاہر ہوجائے گا۔ تمام اسرار کھل جائیں گے دلوں کے بھید ظاہر ہوجائیں گے۔ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں پر بھی ان کے اعمال دنیا میں ہی ظاہر کردیتا ہے۔ چناچہ مسند احمد میں ہے " رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے کوئی کسی ٹھوس پتھر میں گھس کر جس کا نہ دروازہ ہو، نہ اس میں کوئی سوراخ ہو، کوئی عمل کرے اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر دے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو۔ " ابو داؤد طیالسی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ " زندوں کے اعمال ان کے قبیلوں اور برادریوں پر پیش کئے جاتے ہیں اگر وہ اچھے ہوتے ہیں تو وہ لوگ اپنی قبروں میں خوش ہوتے ہیں اور اگر وہ برے ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یا اللہ انہیں توفیق دے کہ یہ تیرے فرمان پر عامل بن جائیں "۔ مسند احمد میں بھی یہی فرمان رسول ﷺ ہے کہ " تمہارے اعمال تمہارے خویش و اقارب مردوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اگر وہ نیک ہوتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور اگر اسکے سوا ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یا اللہ انہیں موت نہ آئے جب تک کہ تو انہیں ہدایت عطا نہ فرما جیسے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی " (لیکن ان روایتوں کی سندیں قابل غور ہیں) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب تجھے کسی شخص کے نیک اعمال بہت اچھے لگیں تو تو کہہ دے کہ اچھا ہے عمل کئے چلے جاؤ اللہ اور اس کا رسول اور مومن تمہارے اعمال عنقریب دیکھ لیں گے۔ ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کی آئی ہے اس میں ہے کسی کے اعمال پر خوش نہ ہوجاؤ جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس پر ہوتا ہے ؟ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک زمانہ دراز تک نیک عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر وہ اس وقت مرتا تو قطعاً جنتی ہوجاتا۔ لیکن پھر اس کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ بداعمالیوں میں پھنس جاتا ہے۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک لمبی مدت تک برائیاں کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی حالت میں مرے تو جہنم میں ہی جائے لیکن پھر اس کا حال بدل جاتا ہے اور نیک عمل شروع کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ بھلا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے عامل بنا دیتا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم اس کا مطلب نہیں سمجھے آپ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اسے توفیق خیر عطا فرماتا ہے اور اس پر اسے موت آتی ہے۔
106
View Single
وَءَاخَرُونَ مُرۡجَوۡنَ لِأَمۡرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمۡ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيۡهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
And some are kept waiting for Allah’s command – He may punish them or accept their repentance; and Allah is All Knowing, Wise.
اور کچھ دوسرے (بھی) ہیں جو اللہ کے (آئندہ) حکم کے لئے مؤخر رکھے گئے ہیں وہ یا تو انہیں عذاب دے گا یا ان کی توبہ قبول فرمالے گا، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Delaying the Decision about the Three Companions Who stayed away from the Battle of Tabuk
Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Ad-Dahhak and several others said that those mentioned in the Ayah are the three who were made to wait to know if their repentance was accepted; Mararah bin Ar-Rabi`, Ka`b bin Malik and Hilal bin Umayyah. Some Companions stayed behind from the battle of Tabuk due to laziness, preferring comfort, ease, ripe fruits and shade. They did not lag behind because of hypocrisy or doubts. Some of them tied themselves to the pillars (of the Masjid) like Abu Lubabah and several of his friends did. Some of them did not do that, and they are the three mentioned here. Those who tied themselves received their pardon before these three men whose pardon was delayed, until this Ayah was revealed,
لَقَدْ تَابَ الله عَلَى النَّبِىِّ وَالْمُهَـجِرِينَ وَالاٌّنصَـرِ
(Allah has forgiven the Prophet, the Muhajirin and the Ansar...)
وَعَلَى الثَّلَـثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ
(And the three who stayed behind, until for them the earth, vast as it is, was straitened...) We will mention the Hadith about this story from Ka`b bin Malik. Allah said,
إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ
(whether He will punish them or will forgive them. ) meaning, they are at Allah's mercy, if He wills, He pardons them or punishes them. However, Allah's mercy comes before His anger,
وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(And Allah is All-Knowing, All-Wise.) 9:106 Allah knows those who deserve the punishment and those who deserve the pardon. He is All-Wise in His actions and statements, there is no deity worthy of worship nor Lord besides Him.
اس سے مراد وہ تین بزرگ صحابہ ہیں جن کی توبہ ڈھیل میں پڑگئی تھی۔ حضرت مرارہ بن ربیع، حضرت کعب بن مالک، حضرت ہلال بن امیہ ؓ۔ یہ جنگ تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ شک اور نفاق کے طور پر نہیں بلکہ سستی، راحت طلبی، پھلوں کی پختگی سائے کے حصول وغیرہ کے لئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو اپنے تئیں مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا تھا جیسے حضرت ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھی۔ اور کچھ لوگوں نے ایسا نہیں کیا تھا ان میں یہ تینوں بزرگ تھے۔ پس اوروں کی تو توبہ قبول ہوگئی اور ان تینوں کا کام پیچھے ڈال دیا گیا یہاں تک کہ (لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ01107ۙ) 9۔ التوبہ :117) نازل ہوئی جو اس کے بعد آرہی ہے۔ اور اس کا پورا بیان بھی حضرت کعب بن مالک ؓ کی روایت میں آ رہا ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ وہ اللہ کے ارادے پر ہیں اگر چاہیں سزا دے اگر چاہیں معافی دے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ سزا کے لائق کون ہے۔ اور مستحق معافی کون ہے ؟ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔ اس کے سوا نہ تو کوئی معبود نہ اس کے سوا کوئی مربی۔
107
View Single
وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مَسۡجِدٗا ضِرَارٗا وَكُفۡرٗا وَتَفۡرِيقَۢا بَيۡنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَإِرۡصَادٗا لِّمَنۡ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبۡلُۚ وَلَيَحۡلِفُنَّ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
And those (hypocrites) who built a mosque to cause harm, and due to disbelief, and in order to cause divisions among the Muslims, and to await the one who is at the outset an opponent of Allah and His Noble Messenger; and they will surely swear that “We wished only good”; and Allah is witness that they are indeed liars.
اور (منافقین میں سے وہ بھی ہیں) جنہوں نے ایک مسجد تیار کی ہے (مسلمانوں کو) نقصان پہنچانے اور کفر (کو تقویت دینے) اور اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے اور اس شخص کی گھات کی جگہ بنانے کی غرض سے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ہی سے جنگ کر رہا ہے، اور وہ ضرور قَسمیں کھائیں گے کہ ہم نے (اس مسجد کے بنانے سے) سوائے بھلائی کے اور کوئی ارادہ نہیں کیا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Masjid Ad-Dirar and Masjid At-Taqwa
The reason behind revealing these honorable Ayat is that before the Messenger of Allah ﷺ migrated to Al-Madinah, there was a man from Al-Khazraj called "Abu `Amir Ar-Rahib (the Monk)." This man embraced Christianity before Islam and read the Scriptures. During the time of Jahiliyyah, Abu `Amir was known for being a worshipper and being a notable person among Al-Khazraj. When the Messenger of Allah ﷺ arrived at Al-Madinah after the Hijrah, the Muslims gathered around him and the word of Islam was triumphant on the day of Badr, causing Abu `Amir, the cursed one, to choke on his own saliva and announce his enmity to Islam. He fled from Al-Madinah to the idolators of Quraysh in Makkah to support them in the war against the Messenger of Allah ﷺ. The Quraysh united their forces and the bedouins who joined them for the battle of Uhud, during which Allah tested the Muslims, but the good end is always for the pious and righteous people. The rebellious Abu `Amir dug many holes in the ground between the two camps, into one of which the Messenger fell, injuring his face and breaking one of his right lower teeth. He also sustained a head injury. Before the fighting started, Abu `Amir approached his people among the Ansar and tried to convince them to support and agree with him. When they recognized him, they said, "May Allah never burden an eye by seeing you, O Fasiq one, O enemy of Allah!" They cursed him and he went back declaring, "By Allah! Evil has touched my people after I left." The Messenger of Allah ﷺ called Abu `Amir to Allah and recited the Qur'an to him before his flight to Makkah, but he refused to embrace Islam and rebelled. The Messenger ﷺ invoked Allah that Abu `Amir die as an outcast in an alien land, and his invocation came true. After the battle of Uhud was finished, Abu `Amir realized that the Messenger's ﷺ call was still rising and gaining momentum, so he went to Heraclius, the emperor of Rome, asking for his aid against the Prophet . Heraclius gave him promises and Abu `Amir remained with him. He also wrote to several of his people in Al-Madinah, who embraced hypocrisy, promising and insinuating to them that he will lead an army to fight the Messenger of Allah ﷺ to defeat him and his call. He ordered them to establish a stronghold where he could send his emissaries and to serve as an outpost when he joins them later on. These hypocrites built a Masjid next to the Masjid in Quba', and they finished building it before the Messenger ﷺ went to Tabuk. They went to the Messenger ﷺ inviting him to pray in their Masjid so that it would be a proof that the Messenger ﷺ approved of their Masjid. They told him that they built the Masjid for the weak and ill persons on rainy nights. However, Allah prevented His Messenger from praying in that Masjid. He said to them,
«إِنَّا عَلَى سَفَرٍ وَلَكِنْ إِذَا رَجَعْنَا إِنْ شَاءَ الله»
(If we come back from our travel, Allah willing.)" When the Messenger of Allah ﷺ came back from Tabuk and was approximately one or two days away from Al-Madinah, Jibril came down to him with the news about Masjid Ad-Dirar and the disbelief and division between the believers, who were in Masjid Quba' (which was built on piety from the first day), that Masjid Ad-Dirar was meant to achieve. Therefore, the Messenger of Allah ﷺ sent some people to Masjid Ad-Dirar to bring it down before he reached Al-Madinah. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said about this Ayah (9:107), "They are some people of the Ansar to whom Abu `Amir said, `Build a Masjid and prepare whatever you can of power and weapons, for I am headed towards Caesar, emperor of Rome, to bring Roman soldiers with whom I will expel Muhammad and his companions.' When they built their Masjid, they went to the Prophet and said to him, "We finished building our Masjid and we would like you pray in it and invoke Allah for us for His blessings."Allah revealed this verse,
لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا
(Never stand you therein), until,
الْظَّـلِمِينَ
(...wrongdoers) " Allah said next,
وَلَيَحْلِفَنَّ
(they will indeed swear), those who built it,
إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَى
(that their intention is nothing but good.) by building this Masjid we sought the good and the comfort of the people. Allah replied,
وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(Allah bears witness that they are certainly liars) for they only built it to harm Masjid Quba', and out of disbelief in Allah, and to divide the believers. They made it an outpost for those who warred against Allah and His Messenger , such as Abu `Amir the Fasiq who used to be called Ar-Rahib, may Allah curse him! Allah said,
لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا
(Never stand you therein), prohibiting His Prophet and his Ummah from ever standing in it in prayer.
Virtues of Masjid Quba
Allah encouraged His Prophet to pray in Masjid Quba' which, from the first day, was built on Taqwa, obedience to Allah and His Messenger , for gathering the word of the believers and as an outpost and a fort for Islam and its people. This is why Allah the Exalted said,
لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ
(Verily, the Masjid whose foundation was laid from the first day on Taqwa is more worthy that you stand therein (to pray).) in reference to the Masjid of Quba'. An authentic Hadith records that the Messenger of Allah ﷺ said,
«صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ كَعُمْرَة»
(One prayer in Masjid Quba' is just like an `Umrah.) It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ used to visit Masjid Quba' while riding and walking. Imam Ahmad recorded that `Uwaym bin Sa`idah Al-Ansari said that the Prophet went to Masjid Quba' and asked,
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟»
(In the story about your Masjid, Allah the Exalted has praised you concerning the purification that you perform. What is the purification that you perform) They said, "By Allah, O Allah's Messenger! We do not know except that we had neighbors from the Jews who used to use water to wash with after answering the call of nature, and we washed as they washed." Ibn Khuzaymah collected this Hadith in his Sahih. Allah's statement,
لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ
(Verily, the Masjid whose foundation was laid from the first day on Taqwa is more worthy that you stand therein (to pray). In it are men who love to clean and purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure.) This encourages praying in old Masjids that were built for the purpose of worshipping Allah alone, without partners. It is also recommended to join the prayer with the believing group and worshippers who implement their faith, those who perform Wudu' perfectly and preserve themselves from impure things. Imam Ahmad recorded that one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ said that the Messenger of Allah ﷺ led them in a Dawn (Subh) prayer in which he recited Surat Ar-Rum (chapter 30) and made mistakes in the recitation. When he finished the prayer, he said,
«إِنَّهُ يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أَنَّ أَقْوَامًا مِنْكُمْ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوء»
(We sometimes make mistakes in reciting the Qur'an, there are people among you who attend the prayer with us, but do not perform Wudu' perfectly. Therefore, whoever attends the prayer with us let him make perfect Wudu'.) This Hadith indicates that complete purification helps in the performance of acts of worship and aids in preserving and completing them.
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار۔ ان پاک آیتوں کا سبب نزول سنئے ! رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کر کے مدینے پہنچے۔ اس سے پہلے مدینے میں ایک شخص تھا جس کا نام ابو عامر راہب تھا۔ یہ خزرج کے قبیلے میں سے تھا۔ جاہلیت کے زمانے میں نصرانی بن گیا تھا، اہل کتاب کا علم بھی پڑھا تھا۔ عابد بھی تھا اور قبیلہ خزرج اس کی بزرگی کا قائل تھا۔ جب حضور ﷺ یہاں آئے، مسلمانوں کا اجتماع آپ ﷺ کے پاس ہونے لگا۔ یہ قوت پکڑنے لگے یہاں تک کہ بدر کی لڑائی ہوئی اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں غالب رکھا تو یہ جل بھن گیا۔ کھلم کھلا مخالفت و عداوت کرنے لگا اور یہاں سے بھاگ کر کفار مکہ سے مل گیا۔ اور انہیں مسلمانوں سے لڑائی کرنے پر آمادہ کرنے لگا۔ یہ تو عداوت اسلام میں پاگل ہو رہے تھے، تیار ہوگئے اور اپنے ساتھ عرب کے اور بھی بہت سے قبائل کو ملا کر جنگ کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اور میدان احد میں جم کر لڑے۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کا جو حال ہوا وہ ظاہر ہے۔ انکا پورا امتحان ہوگیا۔ گو انجام کار مسلمانوں کا ہی بھلا ہوا اور عاقبت اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہی ہے۔ اسی فاسق نے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان بہت سے گڑھے کھود رکھے تھے، جن میں سے ایک میں اللہ کے رسول محترم ﷺ گرپڑے، چہرے پر زخم آئے۔ سامنے سے نیچے کی طرف کے چار دانت ٹوٹ گئے۔ سر بھی زخمی ہوا۔ صلوات اللہ وسلم ہ علیہ۔ شروع لڑائی کے وقت ہی ابو عامر فاسق اپنے قوم کے پاس گیا اور بہت ہی خوشامد اور چاپلوسی کی کہ تم میری مدد اور موافقت کرو۔ لیکن انہوں نے بالاتفاق جواب دیا کہ اللہ تیری آنکھیں ٹھنڈی نہ کرے تو نامراد ہے۔ اے بدکار اے اللہ کے دشمن تو ہمیں راہ حق سے بہکانے کو آیا ہے، الغرض برا بھلا کہہ کر ناامید کردیا گیا۔ یہ لوٹا اور یہ کہتا ہوا کہ میری قوم تو میرے بعد بہت ہی شریر ہوگئی ہے۔ مدینے میں اس ناہنجار کو رسول اللہ ﷺ نے بہت سمجھایا تھا قرآن پڑھ پڑھ کر نصیحت کی تھی اور اسلام کی رغبت دلائی تھی لیکن اس نے نہ مانا تھا۔ تو حضور ﷺ نے اسکے لئے بد دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے کہیں دور دراز ذلت و حقارت کے ساتھ موت دے۔ جب اس نے دیکھا کہ احد میں بھی اس کی چاہت پوری نہ ہوئی اور اسلام کا کلمہ بلندی پر ہی ہے تو یہ یہاں سے شاہ روم ہرقل کے پاس پہنچا اور اسے رسول اللہ ﷺ سے لڑائی کے لئے آمادہ کیا۔ اس نے بھی اس سے وعدہ کرلیا اور تمنائیں دلائیں۔ اس وقت اس نے اپنے ہم خیال لوگوں کو جو منافقانہ رنگ میں مدینے شریف میں رہتے سہتے تھے اور جن کے دل اب تک شک و شبہ میں تھے لکھا کہ اب میں مسلمانوں کی جڑیں کاٹ دونگا، میں نے ہرقل کو آمادہ کردیا ہے وہ لشکر جرار لے کر چڑھائی کرنے والا ہے۔ مسلمانوں کو ناک چنے جبوا دے گا اور ان کا بیج بھی باقی نہ رکھے گا۔ تم ایک مکان مسجد کے نام سے تعمیر کرو تاکہ میرے قاصد جو آئیں وہ وہیں ٹھہریں، وہیں مشورے ہوں اور ہمارے لئے وہ پناہ کی اور گھاٹ لگانے کی محفوظ جگہ بن جائے۔ انہوں نے مسجد قبا کے پاس ہی ایک اور مسجد کی تعمیر شروع کردی اور تبوک کی لڑائی کے لئے آنحضرت ﷺ کی روانگی سے پہلے ہی اسے خوب مضبوط اور پختہ بنا لیا اور آ کر آنحضرت ﷺ سے کہنے لگے کہ آپ ﷺ ہماری مسجد میں تشریف لائیے اور نماز ادا کیجئے تاکہ ہمارے لئے یہ بات حجت ہوجائے اور ہم وہاں نماز شروع کردیں۔ ضعیف اور کمزور لوگوں کو دور جانے میں بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ خصوصاً جاڑے کی راتوں میں کمزور، بیمار اور معذور لوگ دور دراز کی مسجد میں بڑی دقت سے پہنچتے ہیں اس لئے ہم نے قریب ہی یہ مسجد بنا لی ہے۔ آپ نے فرمایا اس وقت تو سفر درپیش ہے پا بہ رکاب ہوں انشاء اللہ واپسی میں سہی۔ اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کفر کے مورچے سے بچا لیا۔ جب میدان تبوک سے آپ سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے، ابھی مدینے شریف سے ایک دن یا کچھ کم کے فاصلے پر تھے کہ اللہ کی وحی نازل ہوئی اور اس مسجد ضرار کی حقیقت آپ پر ظاہر کردی گئی۔ اور اس کے بانیوں کی نیت کا بھی علم آپ کو کرا دیا گیا۔ اور وہاں کی نماز سے روک کر مسجد قبا میں جس کی بنیاد اللہ کے خوف پر رکھی گئی تھی، نماز پڑھنے کا حکم صادر ہوا۔ پس آپ نے وہیں سے مسلمانوں کو بھیج دیا کہ جاؤ میرے پہنچنے سے پہلے اس مسجد کو توڑ دو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں " ابو عامر خبیث ان انصاریوں سے کہہ گیا تھا کہ تم مسجد کے نام سے عمارت بنا لو اور جو تم سے ہو سکے تیاری رکھو، ہتھیار وغیرہ مہیا کرلو، میں شاہ روم قیصر کے پاس جا رہا ہوں اور اس سے مدد لے کر محمد اور اس کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال دوں گا۔ پس یہ لوگ جب یہ مسجد تیار کرچکے حضور ﷺ سے کہا کہ ہماری چاہت ہے کہ آپ ہماری اس مسجد میں تشریف لائیں، وہاں نماز پڑھیں اور ہمارے لئے برکت کی دعا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ اس مسجد میں ہرگز کھڑے بھی نہ ہونا۔ اور روایت میں ہے کہ جب آپ ذی اور اوان میں اترے اور مسجد کی اطلاع ملی آپ نے مالک بن و خشم ؓ اور معن بن یزید ؓ کو بلایا، ان کے بھائی عمر بن عدی کو بلوایا اور حکم دیا کہ ان ظالموں کی مسجد میں جاؤ اور اسے گرا دو بلکہ جلا دو۔ یہ دونوں بزرگ تابڑ توڑ جلدی جلدی چلے۔ سالم بن عوف کے محلے میں جا کر حضرت مالک نے حضرت معن سے فرمایا آپ یہیں ٹھہرئیے، یہ میرے قبیلے کے لوگوں کے مکان ہیں یہاں سے آگ لاتا ہوں۔ چناچہ گئے اور ایک کھجور کا سلگتا ہوا تنا لے آئے اور سیدھے اس مسجد ضرار میں پہنچ کر اس میں آگ لگا دی اور کدال چلانی شروع کردی۔ وہاں جو لوگ تھے ادھر ادھر بھاگ گئے اور ان بزرگوں نے اس عمارت کو جڑ سے کھود ڈالا۔ پس اس بارے میں یہ آیتیں اتری ہیں۔ اس کے بانی بارہ شخص تھے۔ خدام بن خالد بنو عبد بن زید میں سے جو بنی عمرو بن عوف میں سے ہیں اسی کے گھر میں سے مسجد شقاق نکلی تھی۔ اور ثعلبہ بن حاطب جو بنی عبید میں سے تھا اور بنو امیہ کے موالی جو ابو لبابہ بن عبدالمنذر کے قبیلے میں سے تھے۔ قرآن فرماتا ہے کہ یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہماری نیت نیک تھی۔ لوگوں کے آرام کی غرض سے ہم نے اسے بنایا ہے۔ لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ بلکہ انہوں نے مسجد قبا کو ضرر پہنچانے اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور مومنوں میں جدائی ڈالنے اور اللہ و رسول کے دشمنوں کو پناہ دینے کے لئے اسے بنایا ہے۔ یہ کمین گاہ ہے ابو عامر فاسق کی جو لوگوں میں راہب مشہور ہے۔ اللہ کی لعنتیں اس پر نازل ہوں۔ فرمان ہے کہ " تو ہرگز اس مسجد میں نہ کھڑا ہونا۔ " اس فرمان میں آپ کی امت بھی داخل ہے۔ انہیں بھی اس مسجد میں نماز پڑھنی حرام قرار دی گئی۔ پھر رغبت دلائی جاتی ہے کہ مسجد قبا میں نماز ادا کرو۔ جس کی بنیاد اللہ کے ڈر پر اور رسول کی اطاعت پر رکھی گئی ہے اور مسلمانوں کے اتفاق پر اور ان کی خیر خواہی پر بنائی گئی ہے۔ اسی مسجد میں تمہارا نمازیں پڑھنا درست اور حق بجانب ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سوار اور پیدل اس مسجد میں آیا کرتے تھے۔ " اور حدیث میں ہے کہ جب آپ ہجرت کر کے مدینے شریف پہنچے اور بنی عمر بن عوف میں ٹھہرے اور اس پاک مسجد کی بنیاد رکھی اس وقت خود حضرت جبرائیل ؑ نے قبلہ کی جہت معین کی تھی۔ واللہ اعلم۔ ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں (آیت فیہ رجال) مسجد قبا والوں کے بارے میں اتری ہے، وہ پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔ یہ مسجد ضعیف ہے۔ امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ طبرانی میں ہے " اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے عویم بن ساعدہ کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا کہ آخر یہ کون سے طہارت ہے جس کی ثناء اللہ رب العزت بیان فرما رہا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سے جو مرد عورت پاخانے سے نکلتا ہے وہ پانی سے استنجاء کیا کرتا ہے۔ اس نے فرمایا بس یہی وہ طہارت ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کے پاس مسجد قبا میں تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کے بیان میں تمہاری طہارت کی آج تعریف کی ہے تو بتلاؤ کہ تمہاری وہ طہارت کیسے ہے ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں اور تو کچھ معلوم نہیں ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ہم نے اپنے پڑوسی یہودیوں کی نسبت جب سے یہ معلوم کیا کہ وہ پاخانے سے نکل کر پانی سے پاکی کرتے ہیں، ہم نے اس وقت سے اپنا یہی وطیرہ بنا لیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یہ سوال حضرت عویم بن عدی ؓ سے کیا تھا۔ حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ کا فرمان ہے کہ پانی سے طہارت کرنا ہی وہ پاکیزگی تھی جس کی تعریف اللہ عزوجل نے کی۔ اور روایت میں ان کے جواب میں ہے کہ ہم توراۃ کے حکم کی رو سے پانی سے استنجاء کرنا لازمی سمجھتے ہیں۔ الغرض جس مسجد کا اس آیت میں ذکر ہے وہ مسجد قبا ہے۔ اس کی تصریح بہت سے سلف صالحین نے کی ہے۔ لیکن ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ تقوے پر بننے والی مسجد مسجد نبوی ہے جو مدینے شریف کے درمیان ہے۔ غرض ان دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں جب کہ مسجد قبا شروع دن سے تقوے کی بنیادوں پر ہے تو مسجد نبوی اس وصف کی اس سے بھی زیادہ مستحق ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جو مسجد اللہ کے ڈر پر بنائی گئی ہے وہ یہ میری مسجد ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ دو شخصوں میں اس بارے میں اختلاف ہوا کہ اس آیت میں کونسی مسجد مراد ہے، حضور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ میری یہ مسجد ہے۔ ان دونوں میں سے ایک کا قول تھا کہ یہ مسجد مسجد قبا ہے اور دوسرے کا قول تھا کہ یہ مسجد مسجد نبوی ہے۔ یہ حدیث ترمذی نسائی وغیرہ میں ہے۔ ان دونوں شخصوں میں سے ایک تو بنو خدرہ قبیلے کا تھا اور دوسرا بنو عمرو بن عوف میں سے تھا۔ خدری کا دعویٰ تھا کہ یہ مسجد نبوی ہے اور عمری کہتا تھا مسجد قبا ہے۔ حضرت ابو سعید ؓ رسول اکرم ﷺ کے گھر جا کر دریافت فرماتے ہیں کہ وہ مسجد کہاں ہے جس کی بنیادیں شروع سے ہی پرہیزگاری پر ہیں ؟ آپ نے کچھ کنکر اٹھا کر انہیں زمین پر پھینک کر فرمایا وہ تمہاری یہی مسجد ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ سلف کی اور خلف کی ایک جماعت کا قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ دونوں مسجدیں ہیں، واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہوا کہ جن اگلی مسجدوں کی پہلے دن سے بنیاد اللہ کے تقوے پر رکھی گئی ہو وہاں نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور جہاں اللہ کے نیک بندوں کی جماعت ہو جو دین کے حامل ہوں، وضو اچھی طرح کرنے والے ہوں، کامل طہارت کے ساتھ رہنے والے ہوں، گندگیوں سے دور ہوں ان کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو صبح کی نماز پڑھائی جس میں سورة روم پڑھی۔ اس میں آپ کو کچھ وہم سا ہوگیا نماز سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا قرآن کریم کی قرأت میں خلط ملط ہوجانے کا باعث تم میں سے وہ لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے ہمارے ساتھ کے نمازیوں کو وضو نہایت عمدہ کرنا چاہئے۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ طہارت کا کمال اللہ کی عبادتوں کے بجا لانے انہیں پوری کرنے اور کامل کر کے اور شرعی حیثیت سے بجا لانے میں سہولت پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاک رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ پانی سے استنجا کرنا بیشک طہارت ہے۔ لیکن اعلیٰ طہارت گناہوں سے بجنا ہے۔ حضرت اعمش فرماتے ہیں گناہوں سے توبہ کرنا اور شرک سے بچنا پوری پاکیزگی ہے۔ اوپر حدیث گزر چکی کہ جب اہل قبا سے ان کی اس اللہ کی پسندیدہ طہارت کی نسبت رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا تو انہوں نے اپنے جواب میں پانی سے استنجا کرنا بیان کیا۔ پس یہ آیت ان کے حق میں اتری ہے۔ بزار ٰمیں ہے کہ انہوں نے کہا ہم پتھروں سے صفائی کر کے پھر پانی سے دھوتے ہیں۔ لیکن اس روایت میں محمد بن عبدالعزیز کا زہری سے تفرد ہے اور ان سے بھی ان کے بیٹے کے سوا اور کوئی راوی نہیں۔ اس حدیث کو ان لفظوں سے میں نے یہاں صرف اس لئے وارد کیا ہے کہ فقہاء میں یہ مشہور ہے لیکن محدثین کل کے کل اسے معروف نہیں بتاتے خصوصاً متاخرین لوگ واللہ اعلم۔
108
View Single
لَا تَقُمۡ فِيهِ أَبَدٗاۚ لَّمَسۡجِدٌ أُسِّسَ عَلَى ٱلتَّقۡوَىٰ مِنۡ أَوَّلِ يَوۡمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِۚ فِيهِ رِجَالٞ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُطَّهِّرِينَ
Never stand (for worship) in that mosque*; indeed the mosque** that has been founded on piety from the very first day deserves that you should stand in it; in it are the people who wish to thoroughly cleanse themselves; and Allah loves the clean. (*The mosque built by the hypocrites. ** The mosque at Quba, built by the Holy Prophet and his companions. The merit of praying 2 Raka’ Nawafil in it is equal to the reward of an Umrah.)
(اے حبیب!) آپ اس (مسجد کے نام پر بنائی گئی عمارت) میں کبھی بھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ وہ مسجد، جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے، حق دار ہے کہ آپ اس میں قیام فرما ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو (ظاہراً و باطناً) پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Masjid Ad-Dirar and Masjid At-Taqwa
The reason behind revealing these honorable Ayat is that before the Messenger of Allah ﷺ migrated to Al-Madinah, there was a man from Al-Khazraj called "Abu `Amir Ar-Rahib (the Monk)." This man embraced Christianity before Islam and read the Scriptures. During the time of Jahiliyyah, Abu `Amir was known for being a worshipper and being a notable person among Al-Khazraj. When the Messenger of Allah ﷺ arrived at Al-Madinah after the Hijrah, the Muslims gathered around him and the word of Islam was triumphant on the day of Badr, causing Abu `Amir, the cursed one, to choke on his own saliva and announce his enmity to Islam. He fled from Al-Madinah to the idolators of Quraysh in Makkah to support them in the war against the Messenger of Allah ﷺ. The Quraysh united their forces and the bedouins who joined them for the battle of Uhud, during which Allah tested the Muslims, but the good end is always for the pious and righteous people. The rebellious Abu `Amir dug many holes in the ground between the two camps, into one of which the Messenger fell, injuring his face and breaking one of his right lower teeth. He also sustained a head injury. Before the fighting started, Abu `Amir approached his people among the Ansar and tried to convince them to support and agree with him. When they recognized him, they said, "May Allah never burden an eye by seeing you, O Fasiq one, O enemy of Allah!" They cursed him and he went back declaring, "By Allah! Evil has touched my people after I left." The Messenger of Allah ﷺ called Abu `Amir to Allah and recited the Qur'an to him before his flight to Makkah, but he refused to embrace Islam and rebelled. The Messenger ﷺ invoked Allah that Abu `Amir die as an outcast in an alien land, and his invocation came true. After the battle of Uhud was finished, Abu `Amir realized that the Messenger's ﷺ call was still rising and gaining momentum, so he went to Heraclius, the emperor of Rome, asking for his aid against the Prophet . Heraclius gave him promises and Abu `Amir remained with him. He also wrote to several of his people in Al-Madinah, who embraced hypocrisy, promising and insinuating to them that he will lead an army to fight the Messenger of Allah ﷺ to defeat him and his call. He ordered them to establish a stronghold where he could send his emissaries and to serve as an outpost when he joins them later on. These hypocrites built a Masjid next to the Masjid in Quba', and they finished building it before the Messenger ﷺ went to Tabuk. They went to the Messenger ﷺ inviting him to pray in their Masjid so that it would be a proof that the Messenger ﷺ approved of their Masjid. They told him that they built the Masjid for the weak and ill persons on rainy nights. However, Allah prevented His Messenger from praying in that Masjid. He said to them,
«إِنَّا عَلَى سَفَرٍ وَلَكِنْ إِذَا رَجَعْنَا إِنْ شَاءَ الله»
(If we come back from our travel, Allah willing.)" When the Messenger of Allah ﷺ came back from Tabuk and was approximately one or two days away from Al-Madinah, Jibril came down to him with the news about Masjid Ad-Dirar and the disbelief and division between the believers, who were in Masjid Quba' (which was built on piety from the first day), that Masjid Ad-Dirar was meant to achieve. Therefore, the Messenger of Allah ﷺ sent some people to Masjid Ad-Dirar to bring it down before he reached Al-Madinah. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said about this Ayah (9:107), "They are some people of the Ansar to whom Abu `Amir said, `Build a Masjid and prepare whatever you can of power and weapons, for I am headed towards Caesar, emperor of Rome, to bring Roman soldiers with whom I will expel Muhammad and his companions.' When they built their Masjid, they went to the Prophet and said to him, "We finished building our Masjid and we would like you pray in it and invoke Allah for us for His blessings."Allah revealed this verse,
لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا
(Never stand you therein), until,
الْظَّـلِمِينَ
(...wrongdoers) " Allah said next,
وَلَيَحْلِفَنَّ
(they will indeed swear), those who built it,
إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ الْحُسْنَى
(that their intention is nothing but good.) by building this Masjid we sought the good and the comfort of the people. Allah replied,
وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ
(Allah bears witness that they are certainly liars) for they only built it to harm Masjid Quba', and out of disbelief in Allah, and to divide the believers. They made it an outpost for those who warred against Allah and His Messenger , such as Abu `Amir the Fasiq who used to be called Ar-Rahib, may Allah curse him! Allah said,
لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا
(Never stand you therein), prohibiting His Prophet and his Ummah from ever standing in it in prayer.
Virtues of Masjid Quba
Allah encouraged His Prophet to pray in Masjid Quba' which, from the first day, was built on Taqwa, obedience to Allah and His Messenger , for gathering the word of the believers and as an outpost and a fort for Islam and its people. This is why Allah the Exalted said,
لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ
(Verily, the Masjid whose foundation was laid from the first day on Taqwa is more worthy that you stand therein (to pray).) in reference to the Masjid of Quba'. An authentic Hadith records that the Messenger of Allah ﷺ said,
«صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ كَعُمْرَة»
(One prayer in Masjid Quba' is just like an `Umrah.) It is recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ used to visit Masjid Quba' while riding and walking. Imam Ahmad recorded that `Uwaym bin Sa`idah Al-Ansari said that the Prophet went to Masjid Quba' and asked,
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ فِي قِصَّةِ مَسْجِدِكُمْ، فَمَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي تَطَهَّرُونَ بِهِ؟»
(In the story about your Masjid, Allah the Exalted has praised you concerning the purification that you perform. What is the purification that you perform) They said, "By Allah, O Allah's Messenger! We do not know except that we had neighbors from the Jews who used to use water to wash with after answering the call of nature, and we washed as they washed." Ibn Khuzaymah collected this Hadith in his Sahih. Allah's statement,
لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ
(Verily, the Masjid whose foundation was laid from the first day on Taqwa is more worthy that you stand therein (to pray). In it are men who love to clean and purify themselves. And Allah loves those who make themselves clean and pure.) This encourages praying in old Masjids that were built for the purpose of worshipping Allah alone, without partners. It is also recommended to join the prayer with the believing group and worshippers who implement their faith, those who perform Wudu' perfectly and preserve themselves from impure things. Imam Ahmad recorded that one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ said that the Messenger of Allah ﷺ led them in a Dawn (Subh) prayer in which he recited Surat Ar-Rum (chapter 30) and made mistakes in the recitation. When he finished the prayer, he said,
«إِنَّهُ يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أَنَّ أَقْوَامًا مِنْكُمْ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنِ الْوُضُوء»
(We sometimes make mistakes in reciting the Qur'an, there are people among you who attend the prayer with us, but do not perform Wudu' perfectly. Therefore, whoever attends the prayer with us let him make perfect Wudu'.) This Hadith indicates that complete purification helps in the performance of acts of worship and aids in preserving and completing them.
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار۔ ان پاک آیتوں کا سبب نزول سنئے ! رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کر کے مدینے پہنچے۔ اس سے پہلے مدینے میں ایک شخص تھا جس کا نام ابو عامر راہب تھا۔ یہ خزرج کے قبیلے میں سے تھا۔ جاہلیت کے زمانے میں نصرانی بن گیا تھا، اہل کتاب کا علم بھی پڑھا تھا۔ عابد بھی تھا اور قبیلہ خزرج اس کی بزرگی کا قائل تھا۔ جب حضور ﷺ یہاں آئے، مسلمانوں کا اجتماع آپ ﷺ کے پاس ہونے لگا۔ یہ قوت پکڑنے لگے یہاں تک کہ بدر کی لڑائی ہوئی اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں غالب رکھا تو یہ جل بھن گیا۔ کھلم کھلا مخالفت و عداوت کرنے لگا اور یہاں سے بھاگ کر کفار مکہ سے مل گیا۔ اور انہیں مسلمانوں سے لڑائی کرنے پر آمادہ کرنے لگا۔ یہ تو عداوت اسلام میں پاگل ہو رہے تھے، تیار ہوگئے اور اپنے ساتھ عرب کے اور بھی بہت سے قبائل کو ملا کر جنگ کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اور میدان احد میں جم کر لڑے۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کا جو حال ہوا وہ ظاہر ہے۔ انکا پورا امتحان ہوگیا۔ گو انجام کار مسلمانوں کا ہی بھلا ہوا اور عاقبت اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہی ہے۔ اسی فاسق نے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان بہت سے گڑھے کھود رکھے تھے، جن میں سے ایک میں اللہ کے رسول محترم ﷺ گرپڑے، چہرے پر زخم آئے۔ سامنے سے نیچے کی طرف کے چار دانت ٹوٹ گئے۔ سر بھی زخمی ہوا۔ صلوات اللہ وسلم ہ علیہ۔ شروع لڑائی کے وقت ہی ابو عامر فاسق اپنے قوم کے پاس گیا اور بہت ہی خوشامد اور چاپلوسی کی کہ تم میری مدد اور موافقت کرو۔ لیکن انہوں نے بالاتفاق جواب دیا کہ اللہ تیری آنکھیں ٹھنڈی نہ کرے تو نامراد ہے۔ اے بدکار اے اللہ کے دشمن تو ہمیں راہ حق سے بہکانے کو آیا ہے، الغرض برا بھلا کہہ کر ناامید کردیا گیا۔ یہ لوٹا اور یہ کہتا ہوا کہ میری قوم تو میرے بعد بہت ہی شریر ہوگئی ہے۔ مدینے میں اس ناہنجار کو رسول اللہ ﷺ نے بہت سمجھایا تھا قرآن پڑھ پڑھ کر نصیحت کی تھی اور اسلام کی رغبت دلائی تھی لیکن اس نے نہ مانا تھا۔ تو حضور ﷺ نے اسکے لئے بد دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے کہیں دور دراز ذلت و حقارت کے ساتھ موت دے۔ جب اس نے دیکھا کہ احد میں بھی اس کی چاہت پوری نہ ہوئی اور اسلام کا کلمہ بلندی پر ہی ہے تو یہ یہاں سے شاہ روم ہرقل کے پاس پہنچا اور اسے رسول اللہ ﷺ سے لڑائی کے لئے آمادہ کیا۔ اس نے بھی اس سے وعدہ کرلیا اور تمنائیں دلائیں۔ اس وقت اس نے اپنے ہم خیال لوگوں کو جو منافقانہ رنگ میں مدینے شریف میں رہتے سہتے تھے اور جن کے دل اب تک شک و شبہ میں تھے لکھا کہ اب میں مسلمانوں کی جڑیں کاٹ دونگا، میں نے ہرقل کو آمادہ کردیا ہے وہ لشکر جرار لے کر چڑھائی کرنے والا ہے۔ مسلمانوں کو ناک چنے جبوا دے گا اور ان کا بیج بھی باقی نہ رکھے گا۔ تم ایک مکان مسجد کے نام سے تعمیر کرو تاکہ میرے قاصد جو آئیں وہ وہیں ٹھہریں، وہیں مشورے ہوں اور ہمارے لئے وہ پناہ کی اور گھاٹ لگانے کی محفوظ جگہ بن جائے۔ انہوں نے مسجد قبا کے پاس ہی ایک اور مسجد کی تعمیر شروع کردی اور تبوک کی لڑائی کے لئے آنحضرت ﷺ کی روانگی سے پہلے ہی اسے خوب مضبوط اور پختہ بنا لیا اور آ کر آنحضرت ﷺ سے کہنے لگے کہ آپ ﷺ ہماری مسجد میں تشریف لائیے اور نماز ادا کیجئے تاکہ ہمارے لئے یہ بات حجت ہوجائے اور ہم وہاں نماز شروع کردیں۔ ضعیف اور کمزور لوگوں کو دور جانے میں بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ خصوصاً جاڑے کی راتوں میں کمزور، بیمار اور معذور لوگ دور دراز کی مسجد میں بڑی دقت سے پہنچتے ہیں اس لئے ہم نے قریب ہی یہ مسجد بنا لی ہے۔ آپ نے فرمایا اس وقت تو سفر درپیش ہے پا بہ رکاب ہوں انشاء اللہ واپسی میں سہی۔ اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کفر کے مورچے سے بچا لیا۔ جب میدان تبوک سے آپ سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے، ابھی مدینے شریف سے ایک دن یا کچھ کم کے فاصلے پر تھے کہ اللہ کی وحی نازل ہوئی اور اس مسجد ضرار کی حقیقت آپ پر ظاہر کردی گئی۔ اور اس کے بانیوں کی نیت کا بھی علم آپ کو کرا دیا گیا۔ اور وہاں کی نماز سے روک کر مسجد قبا میں جس کی بنیاد اللہ کے خوف پر رکھی گئی تھی، نماز پڑھنے کا حکم صادر ہوا۔ پس آپ نے وہیں سے مسلمانوں کو بھیج دیا کہ جاؤ میرے پہنچنے سے پہلے اس مسجد کو توڑ دو۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں " ابو عامر خبیث ان انصاریوں سے کہہ گیا تھا کہ تم مسجد کے نام سے عمارت بنا لو اور جو تم سے ہو سکے تیاری رکھو، ہتھیار وغیرہ مہیا کرلو، میں شاہ روم قیصر کے پاس جا رہا ہوں اور اس سے مدد لے کر محمد اور اس کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال دوں گا۔ پس یہ لوگ جب یہ مسجد تیار کرچکے حضور ﷺ سے کہا کہ ہماری چاہت ہے کہ آپ ہماری اس مسجد میں تشریف لائیں، وہاں نماز پڑھیں اور ہمارے لئے برکت کی دعا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ اس مسجد میں ہرگز کھڑے بھی نہ ہونا۔ اور روایت میں ہے کہ جب آپ ذی اور اوان میں اترے اور مسجد کی اطلاع ملی آپ نے مالک بن و خشم ؓ اور معن بن یزید ؓ کو بلایا، ان کے بھائی عمر بن عدی کو بلوایا اور حکم دیا کہ ان ظالموں کی مسجد میں جاؤ اور اسے گرا دو بلکہ جلا دو۔ یہ دونوں بزرگ تابڑ توڑ جلدی جلدی چلے۔ سالم بن عوف کے محلے میں جا کر حضرت مالک نے حضرت معن سے فرمایا آپ یہیں ٹھہرئیے، یہ میرے قبیلے کے لوگوں کے مکان ہیں یہاں سے آگ لاتا ہوں۔ چناچہ گئے اور ایک کھجور کا سلگتا ہوا تنا لے آئے اور سیدھے اس مسجد ضرار میں پہنچ کر اس میں آگ لگا دی اور کدال چلانی شروع کردی۔ وہاں جو لوگ تھے ادھر ادھر بھاگ گئے اور ان بزرگوں نے اس عمارت کو جڑ سے کھود ڈالا۔ پس اس بارے میں یہ آیتیں اتری ہیں۔ اس کے بانی بارہ شخص تھے۔ خدام بن خالد بنو عبد بن زید میں سے جو بنی عمرو بن عوف میں سے ہیں اسی کے گھر میں سے مسجد شقاق نکلی تھی۔ اور ثعلبہ بن حاطب جو بنی عبید میں سے تھا اور بنو امیہ کے موالی جو ابو لبابہ بن عبدالمنذر کے قبیلے میں سے تھے۔ قرآن فرماتا ہے کہ یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہماری نیت نیک تھی۔ لوگوں کے آرام کی غرض سے ہم نے اسے بنایا ہے۔ لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ بلکہ انہوں نے مسجد قبا کو ضرر پہنچانے اور اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور مومنوں میں جدائی ڈالنے اور اللہ و رسول کے دشمنوں کو پناہ دینے کے لئے اسے بنایا ہے۔ یہ کمین گاہ ہے ابو عامر فاسق کی جو لوگوں میں راہب مشہور ہے۔ اللہ کی لعنتیں اس پر نازل ہوں۔ فرمان ہے کہ " تو ہرگز اس مسجد میں نہ کھڑا ہونا۔ " اس فرمان میں آپ کی امت بھی داخل ہے۔ انہیں بھی اس مسجد میں نماز پڑھنی حرام قرار دی گئی۔ پھر رغبت دلائی جاتی ہے کہ مسجد قبا میں نماز ادا کرو۔ جس کی بنیاد اللہ کے ڈر پر اور رسول کی اطاعت پر رکھی گئی ہے اور مسلمانوں کے اتفاق پر اور ان کی خیر خواہی پر بنائی گئی ہے۔ اسی مسجد میں تمہارا نمازیں پڑھنا درست اور حق بجانب ہے چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سوار اور پیدل اس مسجد میں آیا کرتے تھے۔ " اور حدیث میں ہے کہ جب آپ ہجرت کر کے مدینے شریف پہنچے اور بنی عمر بن عوف میں ٹھہرے اور اس پاک مسجد کی بنیاد رکھی اس وقت خود حضرت جبرائیل ؑ نے قبلہ کی جہت معین کی تھی۔ واللہ اعلم۔ ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں (آیت فیہ رجال) مسجد قبا والوں کے بارے میں اتری ہے، وہ پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔ یہ مسجد ضعیف ہے۔ امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں۔ طبرانی میں ہے " اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے عویم بن ساعدہ کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا کہ آخر یہ کون سے طہارت ہے جس کی ثناء اللہ رب العزت بیان فرما رہا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سے جو مرد عورت پاخانے سے نکلتا ہے وہ پانی سے استنجاء کیا کرتا ہے۔ اس نے فرمایا بس یہی وہ طہارت ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ ان کے پاس مسجد قبا میں تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کے بیان میں تمہاری طہارت کی آج تعریف کی ہے تو بتلاؤ کہ تمہاری وہ طہارت کیسے ہے ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں اور تو کچھ معلوم نہیں ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ہم نے اپنے پڑوسی یہودیوں کی نسبت جب سے یہ معلوم کیا کہ وہ پاخانے سے نکل کر پانی سے پاکی کرتے ہیں، ہم نے اس وقت سے اپنا یہی وطیرہ بنا لیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے یہ سوال حضرت عویم بن عدی ؓ سے کیا تھا۔ حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ کا فرمان ہے کہ پانی سے طہارت کرنا ہی وہ پاکیزگی تھی جس کی تعریف اللہ عزوجل نے کی۔ اور روایت میں ان کے جواب میں ہے کہ ہم توراۃ کے حکم کی رو سے پانی سے استنجاء کرنا لازمی سمجھتے ہیں۔ الغرض جس مسجد کا اس آیت میں ذکر ہے وہ مسجد قبا ہے۔ اس کی تصریح بہت سے سلف صالحین نے کی ہے۔ لیکن ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ تقوے پر بننے والی مسجد مسجد نبوی ہے جو مدینے شریف کے درمیان ہے۔ غرض ان دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں جب کہ مسجد قبا شروع دن سے تقوے کی بنیادوں پر ہے تو مسجد نبوی اس وصف کی اس سے بھی زیادہ مستحق ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جو مسجد اللہ کے ڈر پر بنائی گئی ہے وہ یہ میری مسجد ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ دو شخصوں میں اس بارے میں اختلاف ہوا کہ اس آیت میں کونسی مسجد مراد ہے، حضور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ میری یہ مسجد ہے۔ ان دونوں میں سے ایک کا قول تھا کہ یہ مسجد مسجد قبا ہے اور دوسرے کا قول تھا کہ یہ مسجد مسجد نبوی ہے۔ یہ حدیث ترمذی نسائی وغیرہ میں ہے۔ ان دونوں شخصوں میں سے ایک تو بنو خدرہ قبیلے کا تھا اور دوسرا بنو عمرو بن عوف میں سے تھا۔ خدری کا دعویٰ تھا کہ یہ مسجد نبوی ہے اور عمری کہتا تھا مسجد قبا ہے۔ حضرت ابو سعید ؓ رسول اکرم ﷺ کے گھر جا کر دریافت فرماتے ہیں کہ وہ مسجد کہاں ہے جس کی بنیادیں شروع سے ہی پرہیزگاری پر ہیں ؟ آپ نے کچھ کنکر اٹھا کر انہیں زمین پر پھینک کر فرمایا وہ تمہاری یہی مسجد ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ سلف کی اور خلف کی ایک جماعت کا قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ دونوں مسجدیں ہیں، واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہوا کہ جن اگلی مسجدوں کی پہلے دن سے بنیاد اللہ کے تقوے پر رکھی گئی ہو وہاں نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور جہاں اللہ کے نیک بندوں کی جماعت ہو جو دین کے حامل ہوں، وضو اچھی طرح کرنے والے ہوں، کامل طہارت کے ساتھ رہنے والے ہوں، گندگیوں سے دور ہوں ان کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو صبح کی نماز پڑھائی جس میں سورة روم پڑھی۔ اس میں آپ کو کچھ وہم سا ہوگیا نماز سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا قرآن کریم کی قرأت میں خلط ملط ہوجانے کا باعث تم میں سے وہ لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے ہمارے ساتھ کے نمازیوں کو وضو نہایت عمدہ کرنا چاہئے۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ طہارت کا کمال اللہ کی عبادتوں کے بجا لانے انہیں پوری کرنے اور کامل کر کے اور شرعی حیثیت سے بجا لانے میں سہولت پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاک رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ پانی سے استنجا کرنا بیشک طہارت ہے۔ لیکن اعلیٰ طہارت گناہوں سے بجنا ہے۔ حضرت اعمش فرماتے ہیں گناہوں سے توبہ کرنا اور شرک سے بچنا پوری پاکیزگی ہے۔ اوپر حدیث گزر چکی کہ جب اہل قبا سے ان کی اس اللہ کی پسندیدہ طہارت کی نسبت رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا تو انہوں نے اپنے جواب میں پانی سے استنجا کرنا بیان کیا۔ پس یہ آیت ان کے حق میں اتری ہے۔ بزار ٰمیں ہے کہ انہوں نے کہا ہم پتھروں سے صفائی کر کے پھر پانی سے دھوتے ہیں۔ لیکن اس روایت میں محمد بن عبدالعزیز کا زہری سے تفرد ہے اور ان سے بھی ان کے بیٹے کے سوا اور کوئی راوی نہیں۔ اس حدیث کو ان لفظوں سے میں نے یہاں صرف اس لئے وارد کیا ہے کہ فقہاء میں یہ مشہور ہے لیکن محدثین کل کے کل اسے معروف نہیں بتاتے خصوصاً متاخرین لوگ واللہ اعلم۔
109
View Single
أَفَمَنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقۡوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٍ خَيۡرٌ أَم مَّنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٖ فَٱنۡهَارَ بِهِۦ فِي نَارِ جَهَنَّمَۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
So is one who established his foundation upon the fear of Allah and upon His pleasure better, or the one who laid his foundation upon the brink of a falling precipice, so it fell along with him into the fire of hell? And Allah does not guide the unjust.
بھلا وہ شخص جس نے اپنی عمارت (یعنی مسجد) کی بنیاد اللہ سے ڈرنے او ر (اس کی) رضا و خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسے گڑھے کے کنارے پر رکھی جو گرنے والا ہے۔ سو وہ (عمارت) اس معمار کے ساتھ ہی آتشِ دوزخ میں گر پڑی، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
The Difference between Masjid At-Taqwa and Masjid Ad-Dirar
Allah the Exalted says that the Masjid that has been built on the basis of Taqwa of Allah and His pleasure is not the same as a Masjid that was been built based on causing harm, disbelief and causing division among the believers, and as an outpost for those who warred against Allah and His Messenger . The latter built their Masjid on the edge of a steep hole,
فِى نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(into the fire of Hell. And Allah guides not the people who are the wrongdoers.), Allah does not bring aright the works of those who commit mischief. Jabir bin `Abdullah said, "I saw the Masjid that was built to cause harm with smoke rising up from it, during the time of the Messenger of Allah ﷺ." Allah's statement,
لاَ يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِى بَنَوْاْ رِيبَةً فِى قُلُوبِهِمْ
(The building which they built will never cease to be a cause of doubt in their hearts) and hypocrisy. Because of this awful action that they committed, they inherited hypocrisy in their hearts, just as those who worshipped the calf were inclined to adoring it. Allah said next,
إِلاَّ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ
(unless their hearts are cut to pieces.) until they die, according to Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, Zayd bin Aslam, As-Suddi, Habib bin Abi Thabit, Ad-Dahhak, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and several other scholars of the Salaf.
وَاللَّهُ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Knowing,) of the actions of His creation,
حَكِيمٌ
(All-Wise.) in compensating them for their good or evil actions.
وہ کہ جس نے اللہ کے ڈر اور اللہ کی رضا کی طلب کے لئے بنیاد رکھی اور جس نے مسلمانوں کو ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈلوانے اور مخالفین اللہ و رسول کو پناہ دینے کے لئے بنیاد رکھی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ دوسرے قسم کے لوگ تو اپنی بنیاد اس خندق کے کنارے پر رکھتے ہیں۔ جس میں آگ بھری ہوئی ہو اور ہو بھی وہ بنیاد ایسی کمزور کہ آگ میں جھک رہی ہو ظاہر ہے کہ ایک دن وہ آگ میں گرپڑے گی۔ ظالموں اور فسادیوں کا کام بھی نیک نتیجہ نہیں ہوتے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔ امام ابن جریر ؒ کا قول ہے کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اس مسجد کو توڑا اور اس کی بنیادیں اکھیڑ پھینکیں انہوں نے اس کے نیچے سے دھواں اٹھتا پایا۔ خلف بن بامعین کہتے ہیں میں نے منافقوں کی اس مسجد ضرار کو جس کا ذکر ان آیتوں میں دیکھا ہے کہ اس کے ایک پتھر سے دھواں نکل رہا تھا اب وہ کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے ایک بد کرتوت کی وجہ سے ان کے دل میں نفاق جگہ پکڑ گیا ہے جو کبھی بھی ٹلنے والا نہیں یہ شک شبہ میں ہی رہیں گے جیسے کہ بنی اسرائیل کے وہ لوگ جنہوں نے بچھڑا پوجا تھا ان کے دلوں میں بھی اس کی محبت گھر کرگئی تھی۔ ہاں جب ان کے دل پاش پاش ہوجائیں یعنی وہ خود مرجائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال سے خبردار ہے۔ اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں باحکمت ہے۔
110
View Single
لَا يَزَالُ بُنۡيَٰنُهُمُ ٱلَّذِي بَنَوۡاْ رِيبَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
The building which they erected will constantly keep disturbing their hearts unless their hearts are torn to pieces; and Allah is All Knowing, Wise.
ان کی عمارت جسے انہوں نے (مسجد کے نام پر) بنا رکھا ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (شک اور نفاق کے باعث) کھٹکتی رہے گی سوائے اس کے کہ ان کے دل (مسلسل خراش کی وجہ سے) پارہ پارہ ہو جائیں، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Difference between Masjid At-Taqwa and Masjid Ad-Dirar
Allah the Exalted says that the Masjid that has been built on the basis of Taqwa of Allah and His pleasure is not the same as a Masjid that was been built based on causing harm, disbelief and causing division among the believers, and as an outpost for those who warred against Allah and His Messenger . The latter built their Masjid on the edge of a steep hole,
فِى نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ
(into the fire of Hell. And Allah guides not the people who are the wrongdoers.), Allah does not bring aright the works of those who commit mischief. Jabir bin `Abdullah said, "I saw the Masjid that was built to cause harm with smoke rising up from it, during the time of the Messenger of Allah ﷺ." Allah's statement,
لاَ يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِى بَنَوْاْ رِيبَةً فِى قُلُوبِهِمْ
(The building which they built will never cease to be a cause of doubt in their hearts) and hypocrisy. Because of this awful action that they committed, they inherited hypocrisy in their hearts, just as those who worshipped the calf were inclined to adoring it. Allah said next,
إِلاَّ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ
(unless their hearts are cut to pieces.) until they die, according to Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, Zayd bin Aslam, As-Suddi, Habib bin Abi Thabit, Ad-Dahhak, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and several other scholars of the Salaf.
وَاللَّهُ عَلِيمٌ
(And Allah is All-Knowing,) of the actions of His creation,
حَكِيمٌ
(All-Wise.) in compensating them for their good or evil actions.
وہ کہ جس نے اللہ کے ڈر اور اللہ کی رضا کی طلب کے لئے بنیاد رکھی اور جس نے مسلمانوں کو ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈلوانے اور مخالفین اللہ و رسول کو پناہ دینے کے لئے بنیاد رکھی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ دوسرے قسم کے لوگ تو اپنی بنیاد اس خندق کے کنارے پر رکھتے ہیں۔ جس میں آگ بھری ہوئی ہو اور ہو بھی وہ بنیاد ایسی کمزور کہ آگ میں جھک رہی ہو ظاہر ہے کہ ایک دن وہ آگ میں گرپڑے گی۔ ظالموں اور فسادیوں کا کام بھی نیک نتیجہ نہیں ہوتے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔ امام ابن جریر ؒ کا قول ہے کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اس مسجد کو توڑا اور اس کی بنیادیں اکھیڑ پھینکیں انہوں نے اس کے نیچے سے دھواں اٹھتا پایا۔ خلف بن بامعین کہتے ہیں میں نے منافقوں کی اس مسجد ضرار کو جس کا ذکر ان آیتوں میں دیکھا ہے کہ اس کے ایک پتھر سے دھواں نکل رہا تھا اب وہ کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے ایک بد کرتوت کی وجہ سے ان کے دل میں نفاق جگہ پکڑ گیا ہے جو کبھی بھی ٹلنے والا نہیں یہ شک شبہ میں ہی رہیں گے جیسے کہ بنی اسرائیل کے وہ لوگ جنہوں نے بچھڑا پوجا تھا ان کے دلوں میں بھی اس کی محبت گھر کرگئی تھی۔ ہاں جب ان کے دل پاش پاش ہوجائیں یعنی وہ خود مرجائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال سے خبردار ہے۔ اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں باحکمت ہے۔
111
View Single
۞إِنَّ ٱللَّهَ ٱشۡتَرَىٰ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَنفُسَهُمۡ وَأَمۡوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلۡجَنَّةَۚ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقۡتُلُونَ وَيُقۡتَلُونَۖ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقّٗا فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ وَٱلۡقُرۡءَانِۚ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِۚ فَٱسۡتَبۡشِرُواْ بِبَيۡعِكُمُ ٱلَّذِي بَايَعۡتُم بِهِۦۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
Indeed Allah has purchased from the Muslims their lives and their wealth in exchange of Paradise for them; fighting in Allah's cause, slaying and being slain; a true promise incumbent upon His mercy, (mentioned) in the Taurat and the Injeel and the Qur’an; who fulfils His promise better than Allah? Therefore rejoice upon your deal that you have made with Him; and this is the great success.
بے شک اللہ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لیے (وعدۂ) جنّت کے عوض خرید لیے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں (اِنسانی حرمت کے تحفظ اور معاشرے میں قیامِ اَمن کے اعلیٰ تر مقاصد کے لیے) جنگ کرتے ہیں، سو وہ (دورانِ جنگ) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کیے جاتے ہیں۔ (اللہ نے) اپنے ذمۂ کرم پر پختہ وعدہ (لیا) ہے، تَورات میں (بھی) انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی)، اور کون اپنے وعدہ کو اللہ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے سودے پر خوشیاں مناؤ جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے، اور یہی تو زبردست کامیابی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah has purchased the Souls and Wealth of the Mujahidin in Return for Paradise
Allah states that He has compensated His believing servants for their lives and wealth -- if they give them up in His cause -- with Paradise. This demonstrates Allah's favor, generosity and bounty, for He has accepted the good that He already owns and bestowed, as a price from His faithful servants. Al-Hasan Al-Basri and Qatadah commented, "By Allah! Allah has purchased them and raised their worth." Shimr bin `Atiyyah said, "There is not a Muslim but has on his neck a sale that he must conduct with Allah; he either fulfills its terms or dies without doing that." He then recited this Ayah. This is why those who fight in the cause of Allah are said to have conducted the sale with Allah, meaning, accepted and fulfilled his covenant. Allah's statement,
يُقَـتِلُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ
(They fight in Allah's cause, so they kill and are killed.) indicates that whether they were killed or they kill the enemy, or both, then Paradise will be theirs. The Two Sahihs recorded the Hadith,
«وَتَكَفَّلَ اللهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي بِأَنْ تَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَنْزِلِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَة»
(Allah has made a promise to the person who goes out (to fight) in His cause; `And nothing compels him to do so except Jihad = in My Cause and belief in My Messengers. ' He will either be admitted to Paradise if he dies, or compensated by Allah, either with a reward or booty if He returns him to the home which he departed from.) Allah's statement,
وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ وَالْقُرْءانِ
(It is a promise in truth which is binding on Him in the Tawrah and the Injil and the Qur'an.) affirms this promise and informs us that Allah has decreed this for His Most Honorable Self, and revealed it to His Messengers in His Glorious Books, the Tawrah that He sent down to Musa, the Injil that He sent down to `Isa, and the Qur'an that was sent down to Muhammad ﷺ, may Allah's peace and blessings be on them all. Allah said next,
وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ
(And who is truer to his covenant than Allah) affirming that He never breaks a promise. Allah said in similar statements,
وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثاً
(And who is truer in statement than Allah)4:87, and,
وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلاً
(And whose words can be truer than those of Allah)4:122. Allah said next,
فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(Then rejoice in the bargain which you have concluded. That is the supreme success.), meaning, let those who fulfill the terms of this contract and uphold this covenant receive the good news of great success and everlasting delight.
مجاہدین کے لئے استثنائی انعامات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے۔ دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کرچکا ہے۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے۔ اسی لئے مجاہدین جب جہاد کے لئے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اسنے اللہ تعالیٰ سے بیوپار کیا۔ یعنی وہ خریدو فروخت جسے وہ پہلے سے کرچکا تھا اس نے پوری کی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے لیلۃ العقبہ میں بیعت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو چاہیں شرط منوالیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لئے تم سے یہ شرط قبول کراتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا۔ اور اپنے لئے تم سے اس بات کی پابندی کراتا ہوں کہ جس طرح اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرنا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے پوچھا جب ہم یونہی کریں تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت ! یہ سنتے ہی خوشی سے کہنے لگا واللہ اس سودے میں تو ہم بہت ہی نفع میں رہیں گے۔ بس اب پختہ بات ہے نہ ہم اسے توڑیں گے نہ توڑنے کی درخواست کریں گے پس یہ آیت نازل ہوئی یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، نہ اس کی پرواہ ہوتی ہے کہ ہم مارے جائیں گے نہ اللہ کے دشمنوں پر وار کرنے میں انہیں تامل ہوتا ہے، مرتے ہیں اور مارتے ہیں۔ ایسوں کے لئے یقینا جنت واجب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکل کھڑا ہو جہاد کے لئے، رسولوں کی سچائی مان کر، اسے یا تو فوت کر کے بہشت بریں میں اللہ تبارک و تعالیٰ لے جاتا ہے یا پورے پورے اجر اور بہترین غنیمت کے ساتھ واپس اسے لوٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے ضروری کرلی ہے اور اپنے رسولوں پر اپنی بہترین کتابوں میں نازل بھی فرمائی ہے۔ حضرت موسیٰ پر اتری ہوئی تورات میں، حضرت عیسیٰ پر اتری ہوئی انجیل میں اور حضرت محمد ﷺ پر اترے ہوئے قرآن میں اللہ کا یہ وعدہ موجود ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اللہ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ نہ اس سے زیادہ سچائی کسی کی باتوں میں ہوتی ہے۔ جس نے اس خریدو فروخت کو پورا کیا اس کے لئے خوشی ہے اور مبارکباد ہے، وہ کامیاب ہے اور جنتوں کی ابدی نعمتوں کا مالک ہے۔
112
View Single
ٱلتَّـٰٓئِبُونَ ٱلۡعَٰبِدُونَ ٱلۡحَٰمِدُونَ ٱلسَّـٰٓئِحُونَ ٱلرَّـٰكِعُونَ ٱلسَّـٰجِدُونَ ٱلۡأٓمِرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡحَٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
Those who repent, those who worship, those who praise, those who fast, those who bow, those who prostrate, those who show right and forbid wrong and those who keep the limits of Allah in sight; and give glad tidings to the Muslims.
(یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے
Tafsir Ibn Kathir
This is the description of the believers from whom Allah has purchased their souls and wealth, who have these beautiful andhonorable qualities,
This is the description of the believers from whom Allah has purchased their souls and wealth, who have these beautiful and honorable qualities,
التَّـئِبُونَ
(who repent) from all sins and shun all evils,
الْعَـبِدُونَ
(who worship), their Lord and preserve the acts of worship that include statements and actions. Praising Allah is among the best statements. This is why Allah said next,
الْحَـمِدُونَ
(who praise (Him)). Fasting is among the best actions, involving abstaining from the delights of food, drink and sexual intercourse, this is the meaning hereby,
السَّـئِحُونَ
(As-Sa'ihun (who fast)) 9: 112. Allah also described the Prophet's wives that they are,
سَـئِحَـتٍ
(Sa'ihat) 66:5, meaning, they fast. As for prostrating and bowing down, they are acts of the prayer,
الرَكِعُونَ السَّـجِدونَ
(who bow down, who prostrate themselves,) These believers also benefit Allah's creation and direct them to His obedience by ordaining righteousness and forbidding evil. They have knowledge about what should be performed and what should be shunned. This includes abiding by Allah's limits in knowledge and action, meaning, what He allowed and what He prohibited. Therefore, they worship the True Lord and advise creation. This is why Allah said next,
وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
(And give glad tidings to the believers.) since faith includes all of this, and the supreme success is for those who have faith.
مومنین کی صفات جن مومنوں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان کی پاک اور بہترین صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ تمام گناہوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں، برائیوں کو چھوڑتے جاتے ہیں، اپنے رب کی عبادت پر جمے رہتے ہیں، ہر قسم کی عبادتوں میں خاص طور پر قابل ذکر چیز اللہ کی حمد و ثنا ہے اس لئے وہ اس کی حمد بکثرت ادا کرتے ہیں اور فعلی عبادتوں میں خصوصیت کے ساتھ افضل عبادت روزہ ہے اس لیے وہ اسے بھی اچھائی سے رکھتے ہیں۔ کھانے پینے کو، جماع کو ترک کردیتے ہیں۔ یہی مراد لفظ سائحون سے یہاں ہے۔ یہی وصف آنحضرت ﷺ کی بیویوں کا قرآن نے بیان فرمایا ہے اور یہی لفظ سائحات وہاں بھی ہے۔ رکوع سجود کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نماز کے پابند ہیں۔ اللہ کی ان عبادتوں کے ساتھ ہی ساتھ مخلوق کے نفع سے بھی غافل نہیں۔ اللہ کی اطاعت کا ہر ایک کو حکم کرتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے رہتے ہیں۔ خود علم حاصل کر کے بھلائی برائی میں تمیز کر کے اللہ کے احکام کے حفاظت کر کے پھر اوروں کو بھی اس کی رغبت دیتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی عبادت اور اس کی مخلوق کی حفاظت دونوں زیر نظر رکھتے ہیں۔ یہی باتیں ایمان کی ہیں اور یہی اوصاف مومنوں کے ہیں۔ انہیں خو شخبریاں ہوں۔ حضرت ابن مسعود ؓ سیاحت سے مراد روزہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ابن عباس ؓ بھی بلکہ آپ سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے وہاں یہی مطلب ہے۔ ضحاک بھی یہی کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں۔ کہ اس امت کی سیاحت روزہ ہے۔ مجاہد، سعید، عطاء، عبدالرحمن، ضحاک سفیان وغیرہ کہتے ہیں کہ مراد سائحون سے صائمون ہے۔ یعنی جو روزے رمضان کے رکھیں۔ ابو عمرو کہتے ہیں روزہ پر دوام کرنے والے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ مراد سائحون سے روزے دار ہیں لیکن اس حدیث کا موقف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس لفظ کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے یہ فرمایا۔ تمام اقوال سے زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور تو یہی قول ہے۔ اور ایسی دلیلیں بھی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مراد سیاحت سے اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ ابو داؤد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ مجھے سیاحت کی اجازت دیجئے۔ آپ نے فرمایا میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں سیاحت کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے اپنی راہ کا جہاد اور ہر اونچائی پر اللہ اکبر کہنا عطا فرمایا ہے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں اور مراد اس سے علم دین کے طالب علم ہیں۔ عبدالرحمن فرماتے ہیں اللہ کی راہ کے مہاجر ہیں۔ بعض لوگ صوفیہ طبقہ کے جو اس سے مراد لیتے ہیں کہ زمین کی سیر کرنا، سفر میں رہنا، ادھر ادھر جانا آنا، پہاڑوں، دوروں، جنگلوں اور بندوں میں پھرنا اس کا نام سیاحت ہے، یہ محض غلط فہمی ہے، یہ سیاحت مشروع نہیں۔ ہاں اللہ نہ کرے اگر بستی میں رہنے سے دین میں کوئی فتنہ پڑنے کا اندیشہ ہو تو اور بات ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قریب ہے کہ مومن کا سب سے بہتر مال بکریاں بن جائیں جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں میں پڑا رہے، اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگتا اور بچتا رہے۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے یعنی بقول ابن عباس اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہنے والے بقول حسن بصری فرائض کی پابندی کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بجا لانے والے۔
113
View Single
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ وَلَوۡ كَانُوٓاْ أُوْلِي قُرۡبَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
It does not befit the Prophet and those who believe, to pray for the forgiveness of polytheists even if they may be their relatives, after it has become clear to them that they are the people of hell.
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ایمان والوں کی شان کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں اس کے بعد کہ ان کے لئے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) اہلِ جہنم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of supplicating for Polytheists
Imam Ahmad recorded that Ibn Al-Musayyib said that his father Al-Musayyib said, "When Abu Talib was dying, the Prophet went to him and found Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umayyah present. The Prophet said,
«أَيْ عَمِّ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلِّا اللهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَل»
(O uncle! Say, `La ilaha illa-llah,' a word concerning which I will plea for you with Allah, the Exalted and Most Honored.) Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umayyah said, `O Abu Talib! Would you leave the religion of Abdul-Muttalib' Abu Talib said, `Rather, I will remain on the religion of Abdul-Muttalib.' The Prophet said,
«لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْك»
(I will invoke Allah for forgiveness for you, as long as I am not prohibited from doing so.) This verse was revealed,
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِى قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَـبُ الْجَحِيمِ
(It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allah's forgiveness for the Mushrikin, even though they be of kin, after it has become clear to them that they are the dwellers of the Fire.) Concerning Abu Talib, this Ayah was revealed,
إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills) 28:56." This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Ibn Jarir recorded that Sulayman bin Buraydah said that his father said, "When the Prophet came to Makkah, he went to a grave, sat next to it, started talking and then stood up with tears in his eyes. We said, `O Allah's Messenger! We saw what you did.' He said,
«إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي فَأَذِنَ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الْاسْتِغْفَارِ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي»
(I asked my Lord for permission to visit the grave of my mother and He gave me permission. I asked for His permission to invoke Him for forgiveness for her, but He did not give me permission.) We never saw him more tearful than on that day."' Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas about Allah's statement,
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ
(It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allah's forgiveness for the Mushrikin) "The Prophet wanted to invoke Allah for forgiveness for his mother, but Allah did not allow him. The Prophet said,
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللهِ صلى الله عليه وسلّم قَدِ اسْتَغْفَرَ لِأَبِيه»
(Ibrahim, Allah's Khalil, invoked Allah for his father.) Allah revealed,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only because of a promise he Ibrahim had made to him (his father)). " `Ali bin Abi Talhah narrated that Ibn `Abbas commented on this Ayah, "They used to invoke Allah for them (pagans) until this Ayah was revealed. They then refrained from invoking Allah to forgive the dead among them, but were not stopped from invoking Allah for the living among them until they die. Allah sent this Ayah,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ
(And Ibrahim's invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only...) 9:114." Allah said next,
فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ
(But when it became clear to him Ibrahim that he (his father) is an enemy of Allah, he dissociated himself from him) 9:114. Ibn `Abbas commented, "Ibrahim kept asking Allah to forgive his father until he died, when he realized that he died as an enemy to Allah, he disassociated himself from him." In another narration, he said, "When his father died he realized that he died as an enemy of Allah." Similar was said by Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah and several others. `Ubayd bin `Umayr and Sa`id bin Jubayr said, "Ibrahim will disown his father on the Day of Resurrection, but he will meet his father and see dust and fatigue on his face. He will say, `O Ibrahim! I disobeyed you, but today, I will not disobey you.' Ibrahim will say, `O Lord! You promised me that You will not disgrace me on the Day they are resurrected. What more disgrace than witnessing my father being disgraced' He will be told, `Look behind you,' where he will see a bloody hyena -- for his father will have been transformed into that -- and it will be dragged from its feet and thrown in the Fire."' Allah's statement,
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing.) means, he invoked Allah always, according to `Abdullah bin Mas`ud. Several narrations report this from Ibn Mas`ud. It was also said that, `Awwah', means, `who invokes Allah with humility', `merciful', `who believes with certainty', `who praises (Allah)', and so forth.
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم ﷺ کو ممانعت مسند احمد میں ہے کہ ابو طالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا لا الہ الا للہ کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عز وجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کرسکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابو طالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھرجائے گا ؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کردیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن (اوپر والی آیت) اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔ ان پر تو یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ اسی بارے میں (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56) 28۔ القصص :56) بھی اتری ہے۔ یعنی تو جسے محبت کرے اسے راہ نہیں دکھا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ دکھاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک شخص کی زبانی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے استغفار سن کر اس سے کہا کہ تو مشرکوں کے لیے استغفار کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ کیا حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا ؟ فرماتے ہیں میں نے جاکر یہ ذکر نبی ﷺ سے کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ کہا جب کہ وہ مرگیا پھر میں نہیں جانتا یہ قول مجاہد کا ہے۔ مسند احمد میں ہے ہم تقریبا ایک ہزار آدمی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ منزل پر اترے، دو رکعت نماز ادا کی پھر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ حضرت عمر ؓ یہ دیکھ کر تاب نہ لاسکے، اٹھ کر عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی۔ اس پر میری آنکھیں بھر آئیں کہ میری ماں ہے اور جہنم کی آگ ہے۔ اچھا اور سنو ! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت ہٹ گئی ہے۔ زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم کرو کیونکہ اس سے تمہیں بھلائی یاد آئے گی۔ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو روکنے سے منع فرمایا تھا اب تم کھاؤ اور جس طرح چاہو روک رکھو۔ اور میں نے تمہیں بعض خاص برتنوں میں پینے کو منع فرمایا تھا لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہیں لیکن خبردار نشے والی چیز ہرگز نہ پینا۔ ابن جریر میں ہے کہ مکہ شریف آتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ایک نشان قبر کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خطاب کر کے آپ کھڑے ہوئے ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی ؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اپنی ماں کی قبر کے دیکھنے کی اجازت مانگی وہ تو مل گئی لیکن اس کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو نہ ملی۔ اب جو آپ نے رونا شروع کیا تو ہم نے تو آپ کو کبھی ایسا اتنا روتے نہیں دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ قبرستان کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ وہاں آپ ایک قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک مناجات میں مشغول رہے، پھر رونے لگے۔ ہم بھی خوب روئے پھر کھڑے ہوئے تو ہم سب بھی کھڑے ہوگئے آپ نے حضرت عمر ؓ کو اور ہمیں بلا کر فرمایا کہ تم کیسے روئے ؟ ہم نے کہا آپ کو روتا دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ قبر میری ماں آمنہ کی تھی میں نے اسے دیکھنے کی اجازت چاہی تھی جو مجھے ملی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ دعا کی اجازت نہ ملی اور (آیت ماکان الخ،) اتری پس جو ماں کی محبت میں صدمہ ہونا چاہیے مجھے ہوا۔ دیکھو میں نے زیارت قبر کی تمہیں ممانعت کی تھی۔ لیکن اب میں رخصت دیتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ تبوک کی واپسی میں عمرے کے وقت ثنیہ عسفان سے اترتے ہوئے آپ نے صحابہ سے فرمایا تم عقبہ میں ٹھہرو، میں ابھی آیا۔ وہاں سے اتر کر آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دیر تک مناجات کرتے رہے۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا آپ کے رونے سے سب لوگ رونے لگے اور یہ سمجھے کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی بات پیدا ہوئی جس سے آپ اس قدر رو رہے ہیں۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا آپ کو روتا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسا نیا حکم اترا جو طاقت سے باہر ہے۔ آپ نے فرمایا سنو بات یہ ہے کہ یہاں میری ماں کی قبر ہے۔ میں نے اپنے پروردگار سے قیامت کے دن اپنی ماں کی شفاعت کی اجازت طلب کی لیکن اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائی تو میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ جبرائیل آئے اور مجھ سے فرمایا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف ایک وعدے سے تھا جس کا وعدہ ہوچکا تھا لیکن جب اس پر کھل گیا تو کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے توہ وہ فوراً بیزار ہوگیا پس آپ بھی اپنی ماں سے اسی طرح بیزار ہوجائیے جس طرح حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے بیزار ہوگئے۔ پس مجھے اپنی ماں پر رحم اور ترس آیا۔ پھر میں نے دعا کی کہ میری امت پر سے چاروں سختیاں دور کردی جائیں اللہ تعالیٰ نے دو تو دور فرما دیں لیکن دو کے دور فرمانے سے انکار فرما دیا۔ ا۔ آسمان سے پتھر برسا کر ان کی ہلاکت002 زمین انہیں دھنسا کر ان کی ہلاکت۔003 ان میں پھوٹ اور اختلاف کا پڑنا۔004 ان میں ایک کو ایک سے ایذائیں پہنچنا۔ ان چاروں چیزوں سے بچاؤ کی میری دعا تھی دو پہلی چیزیں تو مجھے عنایت ہوگئیں میری امت آسمانی پتھراؤ سے اور زمین میں دھنسائے جانے سے تو بچا دی گئی۔ ہاں آپس کا اختلاف آپس کی سر پھٹول یہ نہیں اٹھی۔ آپ کی والدہ کی قبر ایک ٹیلے تلے تھی اس لیے آپ راستے سے گھوم کر وہاں گئے تھے۔ یہ روایت غریب ہے اور سیاق عجیب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ غریب اور منکر وہ روایت ہے جو امام خطیب بغدادی نے اپنی کتاب بنام سابق لاحق میں مجہول سند سے وارد کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو زندہ کردیا اور ایمان لائیں پھر مرگئیں۔ اس طرح کی سہیلی کی ایک روایت ہے جس میں ایک نہیں کئی ایک راوی مجہول ہیں۔ اس میں ہے کہ آپ کے ماں باپ دونوں دوبارہ زندہ ہوئے پھر ایمان لائے ابن دحیہ نے اسی روایت پر نظریں جما کر کہا ہے کہ یہ نئی زندگی اسی طرح کی ہے جس طرح مروی ہے کہ سورج ڈوب جانے کے بعد واپس لوٹا اور حضرت علی نے نماز عصر ادا کی۔ طحاوی تو کہتے ہیں کہ سورج والی یہ روایت ثابت ہے۔ قرطبی کہتے ہیں ان کی دو بار کی زندگی شرعاً یا عقلاً ممتنع نہیں۔ کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے چچا ابو طالب کو بھی اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور آپ پر ایمان لایا۔ میں کہتا ہوں اگر صیح روایت سے یہ روایتیں ثابت ہوں تو بیشک مانع کوئی نہیں (لیکن تینوں روایتیں محض گپ ہیں) واللہ اعلم۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کریں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ تو آپ نے حضرت ابراہیم کے استغفار کو پیش کیا۔ اس کا جواب (آیت ماکان استغفار الخ،) میں مل گیا۔ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا جاتا تھا۔ اب ممنوع ہوگیا۔ ہاں زندوں کے لیے جائز رہا۔ لوگوں نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ ہمارے بڑوں میں ایسے بھی تھے جو پڑوس کا اکرام کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے، ذمہ داری کا خیال رکھتے تھے۔ تو کیا ہم ان کے لیے استغفار نہ کریں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، میں بھی اپنے والد کے لیے استغفار کرتا ہوں جیسے کہ حضرت ابراہیم اپنے والد کے لیے کرتے تھے۔ اس پر (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ :113) تک نازل ہوئی۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ کا عذر بیان ہوا اور فرمایا (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ01104) 9۔ التوبہ :114) مذکور ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چند باتیں وحی کی ہیں جو میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرے دل میں جگہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے حکم فرمایا گیا کہ میں کسی اس شخص کے لیے استغفار نہ کروں جو شرک پر مرا ہو۔ اور یہ کہ جو شخص اپنا فالتو مال دے دے اس کے لیے یہی افضل ہے اور جو روک رکھے اسکے لیے برائی ہے۔ ہاں برابر سرابر حسب ضرورت پر اللہ کے ہاں ملامت نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک یہودی مرگیا جس کا ایک لڑکا تھا لیکن وہ مسلمان تھا اس لیے اپنے باپ کے جنازے میں وہ شریک نہ ہوا۔ جب حضرت عبداللہ بن عباس کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمانے لگے اسے جنازے میں جانا چاہیے تھا اور دفن میں بھی موجود رہنا چاہیے تھا اور باپ کی زندگی تک اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے تھی۔ ہاں موت کے بعد اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ01104) 9۔ التوبہ :114) تلاوت فرمائی کہ حضرت ابراہیم نے یہ طریقہ نہیں چھوڑا۔ اس کی صحت کی گواہ ابو داؤد وغیرہ کہ یہ روایت بھی ہوسکتی ہے کہ ابو طالب کی موت پر حضرت علی ؓ آکر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے بوڑھے چچا گمراہ مرگئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ انہیں دفنا کر سیدھے میرے پاس آؤ الخ۔ مروی ہے کہ جب ابو طالب کا جنازہ حضور ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا میں تجھ سے صلہ رحمی کا رشتہ نبھا چکا۔ حضرت عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں میں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے والوں میں سے کسی کے جنازے کی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گو وہ کوئی حبشن زنا سے حاملہ ہی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ہی نماز و دعا حرام کی ہے اور فرمایا ہے (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ :113) حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک شخص نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو ابوہریرہ اور اس کی ماں کے لیے استغفار کرے۔ تو اس نے کہا باپ کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ میرا باپ شرک پر مرا ہے۔ آیت میں فرمان الٰہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم پر اپنے باپ کا اللہ کا دشمن ہونا کھل گیا۔ یعنی وہ کفر ہی پر مرگیا۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن جب حضرت ابراہیم سے ان کا باپ ملے گا۔ نہایت سرا سیمگی پریشانی کی حالت میں چہرہ غبار آلود اور کالا پڑا ہوا ہوگا کہے گا کہ ابراہیم آج میں تیری نافرمانی نہ کروں گا۔ حضرت ابراہیم جناب باری میں عرض کریں گے کہ میرے رب تو نے مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اور میرا باپ تیری رحمت سے دور ہو کر عذاب میں مبتلا ہو یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس پر فرمایا جائے گا کہ اپنی پیٹھ پیچھے دیکھو۔ دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا کھڑا ہے۔ یعنی آپ کے والد کی صورت مسخ ہوگئی ہوگی اور اس کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ ابراہیم بڑا ہی دعا کرنے والا تھا۔ حضور ﷺ سے اواہ کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا رونے دھونے والا، اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ وزاری کرنے والا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں بہت ہی رحم کرنے والا، مخلوق رب کے ساتھ نرمی اور سلوک اور مہربانی کرنے والا۔ ابن عباس کا قول ہے پورے یقین والا۔ سچے ایمان والا، توبہ کرنے والا، حبشی زبان میں اواہ مومن اور موقن یقین و ایمان والے کو کہتے ہیں۔ ذوالنجادین نامی ایک صحابی کو اس بنا پر کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تو وہ اسی وقت دعا کے ساتھ آواز اٹھاتے تھے رسول اللہ ﷺ نے اواہ فرمایا۔ (مسند احمد) اواہ سے مراد تسبیح پڑھنے والا۔ ضحٰی کی نماز پڑھنے والا۔ اپنے گناہوں کی یاد آنے پر استغفار کرنے والا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والا۔ رب سے ڈرنے والا۔ پوشیدہ اگر کوئی گناہ ہوجائے تو توبہ کرنے والا بھی مروی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ اواہ ہے۔ (ابن جریر) اسی ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک میت کو دفن کر کے فرمایا یقینا تو اواہ یعنی بکثرت تلاوت کلام اللہ شریف کرنے والا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے اپنی دوا میں اوہ اوہ کر رہا تھا۔ اس کے انتقال کے بعد حضور ﷺ اس کے دفن میں شامل تھے چونکہ رات کا وقت تھا اس لیے آپ کے ساتھ چراغ بھی تھا۔ (ابن جریر) یہ روایت غریب ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تھا تو آپ اس سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اواہ یعنی فقیہ " امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ سب سے بہتر قول ان تمام اقوال میں یہ ہے کہ مراد اس لفظ سے بکثرت دعا کرنے والا ہے۔ الفاظ کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر یہ فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور تھے بھی بکثرت دعا مانگنے والے۔ بردبار بھی تھے، جو آپ پر ظلم کرے، آپ سے برا پیش آئے آپ تحمل کر جایا کرتے تھے۔ باپ نے آپ کو ایذاء دی صاف کہہ دیا تھا کہ تو میرے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے تو اگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالوں گا۔ وغیرہ لیکن پھر بھی آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے کا وعدہ کرلیا، پس اللہ فرماتا ہے کہ ابراہیم اواہ اور حلیم تھے۔
114
View Single
وَمَا كَانَ ٱسۡتِغۡفَارُ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوۡعِدَةٖ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوّٞ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنۡهُۚ إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَأَوَّـٰهٌ حَلِيمٞ
And the seeking of forgiveness for his father (paternal uncle) by Ibrahim was only because of a promise he had made to him; then when it became clear to him that he was an enemy of Allah, Ibrahim broke off ties with him; indeed Ibrahim is surely very soft-hearted, most forbearing.
اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ (یعنی چچا آزر، جس نے آپ کو پالا تھا) کے لئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وعدہ کی غرض سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے زار ہوگئے (اس سے لاتعلق ہوگئے اور پھر کبھی اس کے حق میں دعا نہ کی)۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے دردمند (گریہ و زاری کرنے والے اور) نہایت بردبار تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Prohibition of supplicating for Polytheists
Imam Ahmad recorded that Ibn Al-Musayyib said that his father Al-Musayyib said, "When Abu Talib was dying, the Prophet went to him and found Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umayyah present. The Prophet said,
«أَيْ عَمِّ، قُلْ لَا إِلَهَ إِلِّا اللهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَل»
(O uncle! Say, `La ilaha illa-llah,' a word concerning which I will plea for you with Allah, the Exalted and Most Honored.) Abu Jahl and `Abdullah bin Abi Umayyah said, `O Abu Talib! Would you leave the religion of Abdul-Muttalib' Abu Talib said, `Rather, I will remain on the religion of Abdul-Muttalib.' The Prophet said,
«لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْك»
(I will invoke Allah for forgiveness for you, as long as I am not prohibited from doing so.) This verse was revealed,
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِى قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَـبُ الْجَحِيمِ
(It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allah's forgiveness for the Mushrikin, even though they be of kin, after it has become clear to them that they are the dwellers of the Fire.) Concerning Abu Talib, this Ayah was revealed,
إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills) 28:56." This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Ibn Jarir recorded that Sulayman bin Buraydah said that his father said, "When the Prophet came to Makkah, he went to a grave, sat next to it, started talking and then stood up with tears in his eyes. We said, `O Allah's Messenger! We saw what you did.' He said,
«إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي فَأَذِنَ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الْاسْتِغْفَارِ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي»
(I asked my Lord for permission to visit the grave of my mother and He gave me permission. I asked for His permission to invoke Him for forgiveness for her, but He did not give me permission.) We never saw him more tearful than on that day."' Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas about Allah's statement,
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ
(It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allah's forgiveness for the Mushrikin) "The Prophet wanted to invoke Allah for forgiveness for his mother, but Allah did not allow him. The Prophet said,
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللهِ صلى الله عليه وسلّم قَدِ اسْتَغْفَرَ لِأَبِيه»
(Ibrahim, Allah's Khalil, invoked Allah for his father.) Allah revealed,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only because of a promise he Ibrahim had made to him (his father)). " `Ali bin Abi Talhah narrated that Ibn `Abbas commented on this Ayah, "They used to invoke Allah for them (pagans) until this Ayah was revealed. They then refrained from invoking Allah to forgive the dead among them, but were not stopped from invoking Allah for the living among them until they die. Allah sent this Ayah,
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ
(And Ibrahim's invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only...) 9:114." Allah said next,
فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ
(But when it became clear to him Ibrahim that he (his father) is an enemy of Allah, he dissociated himself from him) 9:114. Ibn `Abbas commented, "Ibrahim kept asking Allah to forgive his father until he died, when he realized that he died as an enemy to Allah, he disassociated himself from him." In another narration, he said, "When his father died he realized that he died as an enemy of Allah." Similar was said by Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah and several others. `Ubayd bin `Umayr and Sa`id bin Jubayr said, "Ibrahim will disown his father on the Day of Resurrection, but he will meet his father and see dust and fatigue on his face. He will say, `O Ibrahim! I disobeyed you, but today, I will not disobey you.' Ibrahim will say, `O Lord! You promised me that You will not disgrace me on the Day they are resurrected. What more disgrace than witnessing my father being disgraced' He will be told, `Look behind you,' where he will see a bloody hyena -- for his father will have been transformed into that -- and it will be dragged from its feet and thrown in the Fire."' Allah's statement,
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing.) means, he invoked Allah always, according to `Abdullah bin Mas`ud. Several narrations report this from Ibn Mas`ud. It was also said that, `Awwah', means, `who invokes Allah with humility', `merciful', `who believes with certainty', `who praises (Allah)', and so forth.
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم ﷺ کو ممانعت مسند احمد میں ہے کہ ابو طالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا لا الہ الا للہ کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عز وجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کرسکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابو طالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھرجائے گا ؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کردیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن (اوپر والی آیت) اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔ ان پر تو یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ اسی بارے میں (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56) 28۔ القصص :56) بھی اتری ہے۔ یعنی تو جسے محبت کرے اسے راہ نہیں دکھا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ دکھاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک شخص کی زبانی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے استغفار سن کر اس سے کہا کہ تو مشرکوں کے لیے استغفار کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ کیا حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا ؟ فرماتے ہیں میں نے جاکر یہ ذکر نبی ﷺ سے کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ کہا جب کہ وہ مرگیا پھر میں نہیں جانتا یہ قول مجاہد کا ہے۔ مسند احمد میں ہے ہم تقریبا ایک ہزار آدمی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ منزل پر اترے، دو رکعت نماز ادا کی پھر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے۔ اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ حضرت عمر ؓ یہ دیکھ کر تاب نہ لاسکے، اٹھ کر عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی۔ اس پر میری آنکھیں بھر آئیں کہ میری ماں ہے اور جہنم کی آگ ہے۔ اچھا اور سنو ! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت ہٹ گئی ہے۔ زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم کرو کیونکہ اس سے تمہیں بھلائی یاد آئے گی۔ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو روکنے سے منع فرمایا تھا اب تم کھاؤ اور جس طرح چاہو روک رکھو۔ اور میں نے تمہیں بعض خاص برتنوں میں پینے کو منع فرمایا تھا لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہیں لیکن خبردار نشے والی چیز ہرگز نہ پینا۔ ابن جریر میں ہے کہ مکہ شریف آتے ہوئے رسول اللہ ﷺ ایک نشان قبر کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خطاب کر کے آپ کھڑے ہوئے ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی ؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اپنی ماں کی قبر کے دیکھنے کی اجازت مانگی وہ تو مل گئی لیکن اس کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو نہ ملی۔ اب جو آپ نے رونا شروع کیا تو ہم نے تو آپ کو کبھی ایسا اتنا روتے نہیں دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ قبرستان کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ وہاں آپ ایک قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک مناجات میں مشغول رہے، پھر رونے لگے۔ ہم بھی خوب روئے پھر کھڑے ہوئے تو ہم سب بھی کھڑے ہوگئے آپ نے حضرت عمر ؓ کو اور ہمیں بلا کر فرمایا کہ تم کیسے روئے ؟ ہم نے کہا آپ کو روتا دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ قبر میری ماں آمنہ کی تھی میں نے اسے دیکھنے کی اجازت چاہی تھی جو مجھے ملی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ دعا کی اجازت نہ ملی اور (آیت ماکان الخ،) اتری پس جو ماں کی محبت میں صدمہ ہونا چاہیے مجھے ہوا۔ دیکھو میں نے زیارت قبر کی تمہیں ممانعت کی تھی۔ لیکن اب میں رخصت دیتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ تبوک کی واپسی میں عمرے کے وقت ثنیہ عسفان سے اترتے ہوئے آپ نے صحابہ سے فرمایا تم عقبہ میں ٹھہرو، میں ابھی آیا۔ وہاں سے اتر کر آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دیر تک مناجات کرتے رہے۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا آپ کے رونے سے سب لوگ رونے لگے اور یہ سمجھے کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی بات پیدا ہوئی جس سے آپ اس قدر رو رہے ہیں۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا آپ کو روتا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسا نیا حکم اترا جو طاقت سے باہر ہے۔ آپ نے فرمایا سنو بات یہ ہے کہ یہاں میری ماں کی قبر ہے۔ میں نے اپنے پروردگار سے قیامت کے دن اپنی ماں کی شفاعت کی اجازت طلب کی لیکن اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائی تو میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ جبرائیل آئے اور مجھ سے فرمایا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف ایک وعدے سے تھا جس کا وعدہ ہوچکا تھا لیکن جب اس پر کھل گیا تو کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے توہ وہ فوراً بیزار ہوگیا پس آپ بھی اپنی ماں سے اسی طرح بیزار ہوجائیے جس طرح حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے بیزار ہوگئے۔ پس مجھے اپنی ماں پر رحم اور ترس آیا۔ پھر میں نے دعا کی کہ میری امت پر سے چاروں سختیاں دور کردی جائیں اللہ تعالیٰ نے دو تو دور فرما دیں لیکن دو کے دور فرمانے سے انکار فرما دیا۔ ا۔ آسمان سے پتھر برسا کر ان کی ہلاکت002 زمین انہیں دھنسا کر ان کی ہلاکت۔003 ان میں پھوٹ اور اختلاف کا پڑنا۔004 ان میں ایک کو ایک سے ایذائیں پہنچنا۔ ان چاروں چیزوں سے بچاؤ کی میری دعا تھی دو پہلی چیزیں تو مجھے عنایت ہوگئیں میری امت آسمانی پتھراؤ سے اور زمین میں دھنسائے جانے سے تو بچا دی گئی۔ ہاں آپس کا اختلاف آپس کی سر پھٹول یہ نہیں اٹھی۔ آپ کی والدہ کی قبر ایک ٹیلے تلے تھی اس لیے آپ راستے سے گھوم کر وہاں گئے تھے۔ یہ روایت غریب ہے اور سیاق عجیب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ غریب اور منکر وہ روایت ہے جو امام خطیب بغدادی نے اپنی کتاب بنام سابق لاحق میں مجہول سند سے وارد کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو زندہ کردیا اور ایمان لائیں پھر مرگئیں۔ اس طرح کی سہیلی کی ایک روایت ہے جس میں ایک نہیں کئی ایک راوی مجہول ہیں۔ اس میں ہے کہ آپ کے ماں باپ دونوں دوبارہ زندہ ہوئے پھر ایمان لائے ابن دحیہ نے اسی روایت پر نظریں جما کر کہا ہے کہ یہ نئی زندگی اسی طرح کی ہے جس طرح مروی ہے کہ سورج ڈوب جانے کے بعد واپس لوٹا اور حضرت علی نے نماز عصر ادا کی۔ طحاوی تو کہتے ہیں کہ سورج والی یہ روایت ثابت ہے۔ قرطبی کہتے ہیں ان کی دو بار کی زندگی شرعاً یا عقلاً ممتنع نہیں۔ کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے چچا ابو طالب کو بھی اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور آپ پر ایمان لایا۔ میں کہتا ہوں اگر صیح روایت سے یہ روایتیں ثابت ہوں تو بیشک مانع کوئی نہیں (لیکن تینوں روایتیں محض گپ ہیں) واللہ اعلم۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کریں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ تو آپ نے حضرت ابراہیم کے استغفار کو پیش کیا۔ اس کا جواب (آیت ماکان استغفار الخ،) میں مل گیا۔ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا جاتا تھا۔ اب ممنوع ہوگیا۔ ہاں زندوں کے لیے جائز رہا۔ لوگوں نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ ہمارے بڑوں میں ایسے بھی تھے جو پڑوس کا اکرام کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے، ذمہ داری کا خیال رکھتے تھے۔ تو کیا ہم ان کے لیے استغفار نہ کریں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، میں بھی اپنے والد کے لیے استغفار کرتا ہوں جیسے کہ حضرت ابراہیم اپنے والد کے لیے کرتے تھے۔ اس پر (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ :113) تک نازل ہوئی۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ کا عذر بیان ہوا اور فرمایا (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ01104) 9۔ التوبہ :114) مذکور ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چند باتیں وحی کی ہیں جو میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرے دل میں جگہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے حکم فرمایا گیا کہ میں کسی اس شخص کے لیے استغفار نہ کروں جو شرک پر مرا ہو۔ اور یہ کہ جو شخص اپنا فالتو مال دے دے اس کے لیے یہی افضل ہے اور جو روک رکھے اسکے لیے برائی ہے۔ ہاں برابر سرابر حسب ضرورت پر اللہ کے ہاں ملامت نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک یہودی مرگیا جس کا ایک لڑکا تھا لیکن وہ مسلمان تھا اس لیے اپنے باپ کے جنازے میں وہ شریک نہ ہوا۔ جب حضرت عبداللہ بن عباس کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمانے لگے اسے جنازے میں جانا چاہیے تھا اور دفن میں بھی موجود رہنا چاہیے تھا اور باپ کی زندگی تک اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے تھی۔ ہاں موت کے بعد اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ01104) 9۔ التوبہ :114) تلاوت فرمائی کہ حضرت ابراہیم نے یہ طریقہ نہیں چھوڑا۔ اس کی صحت کی گواہ ابو داؤد وغیرہ کہ یہ روایت بھی ہوسکتی ہے کہ ابو طالب کی موت پر حضرت علی ؓ آکر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے بوڑھے چچا گمراہ مرگئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ انہیں دفنا کر سیدھے میرے پاس آؤ الخ۔ مروی ہے کہ جب ابو طالب کا جنازہ حضور ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا میں تجھ سے صلہ رحمی کا رشتہ نبھا چکا۔ حضرت عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں میں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے والوں میں سے کسی کے جنازے کی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گو وہ کوئی حبشن زنا سے حاملہ ہی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ہی نماز و دعا حرام کی ہے اور فرمایا ہے (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) 9۔ التوبہ :113) حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک شخص نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو ابوہریرہ اور اس کی ماں کے لیے استغفار کرے۔ تو اس نے کہا باپ کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ میرا باپ شرک پر مرا ہے۔ آیت میں فرمان الٰہی ہے کہ جب حضرت ابراہیم پر اپنے باپ کا اللہ کا دشمن ہونا کھل گیا۔ یعنی وہ کفر ہی پر مرگیا۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن جب حضرت ابراہیم سے ان کا باپ ملے گا۔ نہایت سرا سیمگی پریشانی کی حالت میں چہرہ غبار آلود اور کالا پڑا ہوا ہوگا کہے گا کہ ابراہیم آج میں تیری نافرمانی نہ کروں گا۔ حضرت ابراہیم جناب باری میں عرض کریں گے کہ میرے رب تو نے مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اور میرا باپ تیری رحمت سے دور ہو کر عذاب میں مبتلا ہو یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس پر فرمایا جائے گا کہ اپنی پیٹھ پیچھے دیکھو۔ دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا کھڑا ہے۔ یعنی آپ کے والد کی صورت مسخ ہوگئی ہوگی اور اس کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ ابراہیم بڑا ہی دعا کرنے والا تھا۔ حضور ﷺ سے اواہ کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا رونے دھونے والا، اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ وزاری کرنے والا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں بہت ہی رحم کرنے والا، مخلوق رب کے ساتھ نرمی اور سلوک اور مہربانی کرنے والا۔ ابن عباس کا قول ہے پورے یقین والا۔ سچے ایمان والا، توبہ کرنے والا، حبشی زبان میں اواہ مومن اور موقن یقین و ایمان والے کو کہتے ہیں۔ ذوالنجادین نامی ایک صحابی کو اس بنا پر کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تو وہ اسی وقت دعا کے ساتھ آواز اٹھاتے تھے رسول اللہ ﷺ نے اواہ فرمایا۔ (مسند احمد) اواہ سے مراد تسبیح پڑھنے والا۔ ضحٰی کی نماز پڑھنے والا۔ اپنے گناہوں کی یاد آنے پر استغفار کرنے والا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والا۔ رب سے ڈرنے والا۔ پوشیدہ اگر کوئی گناہ ہوجائے تو توبہ کرنے والا بھی مروی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ اواہ ہے۔ (ابن جریر) اسی ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک میت کو دفن کر کے فرمایا یقینا تو اواہ یعنی بکثرت تلاوت کلام اللہ شریف کرنے والا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے اپنی دوا میں اوہ اوہ کر رہا تھا۔ اس کے انتقال کے بعد حضور ﷺ اس کے دفن میں شامل تھے چونکہ رات کا وقت تھا اس لیے آپ کے ساتھ چراغ بھی تھا۔ (ابن جریر) یہ روایت غریب ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تھا تو آپ اس سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اواہ یعنی فقیہ " امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ سب سے بہتر قول ان تمام اقوال میں یہ ہے کہ مراد اس لفظ سے بکثرت دعا کرنے والا ہے۔ الفاظ کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر یہ فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور تھے بھی بکثرت دعا مانگنے والے۔ بردبار بھی تھے، جو آپ پر ظلم کرے، آپ سے برا پیش آئے آپ تحمل کر جایا کرتے تھے۔ باپ نے آپ کو ایذاء دی صاف کہہ دیا تھا کہ تو میرے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے تو اگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالوں گا۔ وغیرہ لیکن پھر بھی آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے کا وعدہ کرلیا، پس اللہ فرماتا ہے کہ ابراہیم اواہ اور حلیم تھے۔
115
View Single
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوۡمَۢا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰهُمۡ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
And it does not befit Allah’s Majesty to send a nation astray after He has guided them until He has made clear to them what they should avoid; indeed Allah knows everything.
اور اللہ کی شان نہیں کہ وہ کسی قوم کو گمراہ کر دے اس کے بعد کہ اس نے انہیں ہدایت سے نواز دیا ہو، یہاں تک کہ وہ ان کے لئے وہ چیزیں واضح فرما دے جن سے انہیں پرہیزکرنا چاہئے، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Recompense comes after Proof is established
Allah describes His Honorable Self and just judgment in that He does not lead a people astray but after the Message comes to them, so that the proof is established against them. For instance, Allah said,
وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ
(And as for Thamud, We showed and made clear to them the path of truth ...) 41:17. Mujahid commented on Allah's saying;
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ
(And Allah will never lead a people astray after He has guided them) "Allah the Mighty and Sublime is clarifying to the believers about not seeking forgiveness for the idolators in particular, and in general, it is an exhortation to beware of disobeying Him, and encouragement to obey Him. So either do or suffer." Ibn Jarir commented, "Allah says that He would not direct you to misguidance, so that you invoke Him for forgiveness for your dead idolators, after He gave you guidance and directed you to believe in Him and in His Messenger ! First, He will inform you of what you should avoid, so that you avoid it. Before He informs you that this action is not allowed, you would not have disobeyed Him and fallen into what He prohibited for you if you indulge in this action. Therefore, in this case, He will not allow you to be misguided. Verily, guidance or misguidance occurs after commands and prohibitions are established. As for those who were neither commanded nor prohibited, they can neither be obedient nor disobedient in doing what they were neither ordered nor prohibited from doing." Allah said,
إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يُحْىِ وَيُمِيتُ وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلاَ نَصِيرٍ
(Indeed to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, He gives life and He causes death. And besides Allah you have neither any protector nor any helper.) Ibn Jarir commented, "This is an encouragement from Allah for His believing servants to fight the idolators and chiefs of disbelief. It is also a command for them to trust in Allah's aid, for He is the Owner of the heavens and earth, and not to fear His enemies. Verily, they have no protector besides Allah, nor a supporter other than Him."
معصیت کا تسلسل گمراہی کا بیج ہے۔ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہوجاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔ وہ پورا باخبر اور سب سے بڑھ کر علم والا ہے۔ پھر مومنین کو مشرکین سے اور ان کے ذی اختیار بادشاہوں سے جہاد کی رغبت دلاتا ہے۔ اور انہیں اپنی مدد پر بھروسہ کرنے کو فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کا ملک میں ہی ہوں۔ تم میرے دشمنوں سے مرعوب مت ہونا۔ کون ہے جو ان کا حمایتی بن سکے ؟ اور کون ہے جو ان کی مدد پر میرے مقابلے میں آسکتا ہے ؟ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اپنے اصحاب کے مجمع میں بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کیا جو میں سنتا ہوں تم بھی سن رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ہمارے کان میں کوئی آواز نہیں آرہی۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کا چرچرانا سن رہا ہوں درحقیقت میں ان کا چرچرانا ٹھیک بھی ہے۔ ان میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں اور قیام میں نہ ہو۔ کعب احبار فرماتے ہیں ساری زمین میں سوئی کے ناکے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو یہاں کا علم اللہ کی طرف نہ پہنچاتا ہو۔ آسمان کے فرشتوں کی گنتی زمین کے سنگریزوں سے بڑی ہے۔ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان کا فاصلہ ایک سو سال کا ہے۔
116
View Single
إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
Indeed for Allah only is the kingship of the heavens and the earth; He gives life and He gives death; and other than Allah, you have neither a Protector nor any Supporter.
بیشک اللہ ہی کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساری بادشاہی ہے، (وہی) جِلاتا اور مارتا ہے، اور تمہارے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار (جو اَمرِ الہٰی کے خلاف تمہاری حمایت کر سکے)
Tafsir Ibn Kathir
Recompense comes after Proof is established
Allah describes His Honorable Self and just judgment in that He does not lead a people astray but after the Message comes to them, so that the proof is established against them. For instance, Allah said,
وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـهُمْ
(And as for Thamud, We showed and made clear to them the path of truth ...) 41:17. Mujahid commented on Allah's saying;
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ
(And Allah will never lead a people astray after He has guided them) "Allah the Mighty and Sublime is clarifying to the believers about not seeking forgiveness for the idolators in particular, and in general, it is an exhortation to beware of disobeying Him, and encouragement to obey Him. So either do or suffer." Ibn Jarir commented, "Allah says that He would not direct you to misguidance, so that you invoke Him for forgiveness for your dead idolators, after He gave you guidance and directed you to believe in Him and in His Messenger ! First, He will inform you of what you should avoid, so that you avoid it. Before He informs you that this action is not allowed, you would not have disobeyed Him and fallen into what He prohibited for you if you indulge in this action. Therefore, in this case, He will not allow you to be misguided. Verily, guidance or misguidance occurs after commands and prohibitions are established. As for those who were neither commanded nor prohibited, they can neither be obedient nor disobedient in doing what they were neither ordered nor prohibited from doing." Allah said,
إِنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يُحْىِ وَيُمِيتُ وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلاَ نَصِيرٍ
(Indeed to Allah belongs the dominion of the heavens and the earth, He gives life and He causes death. And besides Allah you have neither any protector nor any helper.) Ibn Jarir commented, "This is an encouragement from Allah for His believing servants to fight the idolators and chiefs of disbelief. It is also a command for them to trust in Allah's aid, for He is the Owner of the heavens and earth, and not to fear His enemies. Verily, they have no protector besides Allah, nor a supporter other than Him."
معصیت کا تسلسل گمراہی کا بیج ہے۔ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہوجاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔ وہ پورا باخبر اور سب سے بڑھ کر علم والا ہے۔ پھر مومنین کو مشرکین سے اور ان کے ذی اختیار بادشاہوں سے جہاد کی رغبت دلاتا ہے۔ اور انہیں اپنی مدد پر بھروسہ کرنے کو فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کا ملک میں ہی ہوں۔ تم میرے دشمنوں سے مرعوب مت ہونا۔ کون ہے جو ان کا حمایتی بن سکے ؟ اور کون ہے جو ان کی مدد پر میرے مقابلے میں آسکتا ہے ؟ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اپنے اصحاب کے مجمع میں بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کیا جو میں سنتا ہوں تم بھی سن رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ہمارے کان میں کوئی آواز نہیں آرہی۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کا چرچرانا سن رہا ہوں درحقیقت میں ان کا چرچرانا ٹھیک بھی ہے۔ ان میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں اور قیام میں نہ ہو۔ کعب احبار فرماتے ہیں ساری زمین میں سوئی کے ناکے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو یہاں کا علم اللہ کی طرف نہ پہنچاتا ہو۔ آسمان کے فرشتوں کی گنتی زمین کے سنگریزوں سے بڑی ہے۔ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان کا فاصلہ ایک سو سال کا ہے۔
117
View Single
لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِيِّ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ ٱلۡعُسۡرَةِ مِنۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٖ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّهُۥ بِهِمۡ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ
Indeed Allah’s mercy inclined towards the Herald of the Hidden, and the Muhajirs and the Ansar who stood by him in the time of hardship, after it was likely that the hearts of a group among them would turn away – He then inclined towards them with mercy; indeed He is Most Compassionate, Most Merciful upon them.
یقیناً اللہ نے نبی (معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت سے توجہ فرمائی اور ان مہاجرین اور انصار پر (بھی) جنہوں نے (غزوۂ تبوک کی) مشکل گھڑی میں (بھی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کی اس (صورتِ حال) کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل پھر جاتے، پھر وہ ان پر لطف و رحمت سے متوجہ ہوا، بیشک وہ ان پر نہایت شفیق، نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Battle of Tabuk
Mujahid and several others said, "This Ayah was revealed concerning the battle of Tabuk. They left for that battle during a period of distress. It was a year with little rain, intense heat and scarcity of supplies and water." Qatadah said, "They went to Ash-Sham during the year of the battle of Tabuk at a time when the heat was intense. Allah knew how hard things were, and they suffered great hardship. We were told that two men used to divide a date between themselves. Some of them would take turns in sucking on a date and drinking water, then give it to another man to suck on. Allah forgave them and allowed them to come back from that battle." Ibn Jarir reported that `Abdullah bin `Abbas said that `Umar bin Al-Khattab was reminded of the battle of distress (Tabuk) and `Umar said, "We went with the Messenger of Allah ﷺ in the intense heat for Tabuk. We camped at a place in which we were stricken so hard by thirst that we thought that our necks would be severed. One of us used to go out in search of water and did not return until he feared that his neck would be severed. One would slaughter his camel, squeeze its intestines and drink its content, placing whatever was left on his kidney. Abu Bakr As-Siddiq said, `O Allah's Messenger! Allah, the Exalted and Most Honored, has always accepted your invocation, so invoke Allah for us.' The Prophet said,
«تُحِبُّ ذَلِكَ؟»
(Would you like me to do that) Abu Bakr said, `Yes.' The Prophet raised his hands and did not put them down until rain fell from the sky in abundance. It rained and then stopped raining for a while, then rained again, so they filled their containers. We went out to see where the rain reached and found that it did not rain beyond our camp."' Ibn Jarir said about Allah's statement,
لَقَدْ تَابَ الله عَلَى النَّبِىِّ وَالْمُهَـجِرِينَ وَالاٌّنصَـرِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ الْعُسْرَةِ
(Allah has forgiven the Prophet, the Muhajirin and the Ansar who followed him in the time of distress,) meaning "With regards to expenditures, transportation, supplies and water,
مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ
(after the hearts of a party of them had nearly deviated,) away from the truth, thus falling prey to doubting the Messenger's religion because of the distress and hardships they suffered during their travel and battle,
ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ
(but He accepted their repentance.) He directed them to repent to their Lord and renew their firmness on His religion,
إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(Certainly, He is unto them full of kindness, Most Merciful.)"
تپتے صحرا، شدت کی پاس اور مجاہدین سرگرم سفر مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا، گرمیوں کا موسم تھا، کھانے پینے کی کمی تھی، راستوں میں پانی نہ تھا۔ شام کے ملک تک کا دور دراز کا سفر تھا۔ سامان رسد کی اتنی کمی کہ دو دو آدمیوں میں ایک ایک کھجور بٹتی تھی۔ پھر تو یہ ہوگیا تھا کہ ایک کھجور ایک جماعت کو ملتی یہ چوس کر اسے دیتا وہ اور کو اور ایک ایک چوس کر پانی پی لیتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت ان پر لازم کردی اور انہیں واپس لایا۔ حضرت عمر ؓ سے جب اس سختی کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا۔ سخت گرمیوں کے زمانے میں ہم نگلنے کو تھے، ایک منزل میں تو پیاس کے مارے ہماری گردنیں ٹوٹنے لگیں یہاں تک کہ لوگ اپنے اونٹوں کو ذبح کر کے اس کی اوجھڑی نچوڑ کر اس پانی کو پیتے اور پھر اسے اپنے کلیجے سے لگا لیتے اس وقت حضرت صدیق اکبر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو ہمیشہ ہی قبول فرمایا ہے۔ اب بھی دعا کیجئے کہ اللہ قبول فرمائے آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی اس وقت آسمان پر ابر چھا گیا اور برسنے لگا اور خوب برسا جس کے پاس جتنے برتن تھے سب بھر لیے پھر بارش رک گئی اب جو ہم دیکھتے ہیں تو ہمارے لشکر کے احاطے سے باہر ایک قطرہ بھی کہیں نہیں برسا تھا۔ پس اس جہاد میں جنہوں نے روپے پیسے سے، سواری سے، خوراک سے، سامان رسد اور ہتھیار سے پانی وغیرہ سے غرض کسی طرح بھی مومنوں کی مدد کی تھی، ان کی فضیلت و برتری بیان ہو رہی ہے۔ یہی وہ وقت تھا کہ بعض کے دل پھرجانے کے قریب ہوگئے تھے۔ مشقت شدت اور بھوک پیاس نے دلوں کو ہلا دیا تھا، مسلمان جھنجھوڑ دیئے گئے تھے لیکن رب نے انہیں سنبھال لیا اور اپنی طرف جھکا لیا اور ثابت قدمی عطا فرما کر خود بھی ان پر مہربان ہوگیا، اللہ تعالیٰ جیسی رافعت و رحمت اور کس کی ہے ؟ وہ ان پر خوب ہی رحمت و کرم رکھتا ہے۔
118
View Single
وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ أَنفُسُهُمۡ وَظَنُّوٓاْ أَن لَّا مَلۡجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيۡهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ لِيَتُوبُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
And also upon the three who were kept in waiting; when the earth, vast as it is, was restricted for them, and they became weary of their own lives and became certain that there is no refuge from Allah except with Him; He then accepted their repentance in order that they remain repentant; indeed Allah is the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful.
اور ان تینوں شخصوں پر (بھی نظرِ رحمت فرما دی) جن (کے فیصلہ) کو مؤخر کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی اور (خود) ان کی جانیں (بھی) ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ (کے عذاب) سے پناہ کا کوئی ٹھکانا نہیں بجز اس کی طرف (رجوع کے)، تب اللہ ان پر لطف وکرم سے مائل ہوا تاکہ وہ (بھی) توبہ و رجوع پر قائم رہیں، بیشک اللہ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا، نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Three, Whose Decision was deferred by the Messenger of Allah ﷺ
Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Ka`b bin Malik, who used to guide Ka`b after he became blind, said that he heard Ka`b bin Malik narrate his story when he did not join the battle of Tabuk with the Messenger of Allah ﷺ. Ka`b bin Malik said, "I did not remain behind Allah's Messenger ﷺ in any battle that he fought except the battle of Tabuk. I failed to take part in the battle of Badr, but Allah did not admonish anyone who did not participate in it, for in fact, Allah's Messenger ﷺ had gone out in search of the caravan of Quraysh, until Allah made the Muslims and their enemies meet without any appointment. I witnessed the night of Al-`Aqabah pledge with Allah's Messenger ﷺ when we pledged for Islam, and I would not exchange it for the Badr Battle, even though the Badr Battle is more popular among the people than the `Aqabah pledge. As for my news of this battle of Tabuk, I was never stronger or wealthier than I was when I remained behind Allah's Messenger ﷺ in that battle. By Allah, never had I two she-camels before, but I did at the time of that battle. Whenever Allah's Messenger ﷺ wanted to go to a battle, he used to hide his intention by referring to different battles, until it was the time of that battle (of Tabuk) which Allah's Messenger ﷺ fought in intense heat, facing a long journey, the desert, and the great number of enemy soldiers. So the Prophet clearly announced the destination to the Muslims, so that they could prepare for their battle, and he told them about his intent. Allah's Messenger ﷺ was accompanied by such a large number of Muslims that they could not be listed in a book by name, nor registered." Ka`b added, "Any man who intended not to attend the battle would think that the matter would remain hidden, unless Allah revealed it through divine revelation. Allah's Messenger ﷺ fought that battle at a time when the fruits had ripened and the shade was pleasant, and I found myself inclined towards that. Allah's Messenger ﷺ and his Companions prepared for the battle and I started to go out in order to get myself ready along with them, but I returned without doing anything. I would say to myself, `I can do that if I want.' So I kept on delaying it every now and then until the people were prepared, and Allah's Messenger ﷺ, and the Muslims along with him, departed. But I had not prepared anything for my departure. I said, `I will prepare myself (for departure) one or two days after him, and then join them.' In the morning following their departure, I went out to get myself ready but returned having done nothing. Then again, the next morning, I went out to get ready but returned without doing anything. Such was the case with me until they hurried away and I missed the battle. Even then I intended to depart to catch up to them. I wish I had done so! But such was not the case. So, after the departure of Allah's Messenger ﷺ, whenever I went out and walked among the people (who remained behind), it grieved me that I could see none around me, but one accused of hypocrisy or one of those weak men whom Allah had excused. Allah's Messenger ﷺ did not remember me until he reached Tabuk. So while he was sitting among the people in Tabuk, he said,
«مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ؟»
(What did Ka`b bin Malik do) A man from Banu Salimah said, `O Allah's Messenger! He has been stopped by his two Burdah (garments) and looking at his own flanks with pride.' Mu`adh bin Jabal said, `What a bad thing you have said! By Allah! O Allah's Messenger! We know nothing about him but that which is good.' Allah's Messenger ﷺ kept silent."' Ka`b bin Malik added, "When I heard that Allah's Messenger ﷺ was on his way back to Al-Madinah, I was overcome by concern and began to think of false excuses. I said to myself, `How can I escape from his anger tomorrow' I started looking for advice from wise members of my family in this matter. When it was said that Allah's Messenger ﷺ had approached (Al-Madinah) all evil and false excuses abandoned my mind and I knew well that I could never come out of this problem by forging a false statement. Then I decided firmly to speak the truth. Allah's Messenger ﷺ arrived in the morning, and whenever he returned from a journey, he used to visit the Masjid first, and offer a two Rak`ah prayer, then sit for the people. So when he had done all that (this time), those who failed to join the battle came and started offering (false) excuses and taking oaths before him. They were over eighty men. Allah's Messenger ﷺ accepted the excuses they expressed outwardly, asked for Allah's forgiveness for them and left the secrets of their hearts for Allah to judge. Then I came to him, and when I greeted him, he smiled a smile of an angry person and then said,
«تَعَال»
(Come) So I came walking until I sat before him. He said to me,
«مَاخَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدْ اشْتَرَيْتَ ظَهْرًا»
(What stopped you from joining us Had you not purchased an animal for carrying you) I answered, `Yes, O Allah's Messenger! By Allah, if I were sitting before any person from among the people of the world other than you, I would have escaped from his anger with an excuse. By Allah, I have been bestowed with the power of speaking fluently and eloquently, but by Allah, I knew well that if I tell you a lie today to seek your favor, Allah would surely make you angry with me in the near future. But if I tell you the truth, though you will get angry because of it, I hope for Allah's forgiveness. By Allah, I had never been stronger or wealthier than I was when I remained behind you. ' Allah's Messenger ﷺ said,
«أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِي اللهُ فِيك»
(As regards to this man, he has surely told the truth. So get up until Allah decides your case.) I got up, and many men of Banu Salimah followed me and said to me, `By Allah, we never witnessed you commit any sin before this! Surely, you failed to offer an excuse to Allah's Messenger ﷺ like the others who did not join him. The invocation of Allah's Messenger ﷺ to Allah to forgive you would have been sufficient for your sin.' By Allah, they continued blaming me so much that I intended to return (to the Prophet ) and accuse myself of having told a lie, but I said to them, `Is there anybody else who has met the same end as I have' They replied, `Yes, there are two men who have said the same thing as you have, and to both of them was given the same order as given to you.' I said, `Who are they' They replied, `Murarah bin Ar-Rabi` Al-`Amiri and Hilal bin Umayyah Al-Waqifi.' They mentioned to me two pious men who had attended the battle of Badr and in whom there was an example for me. So I did not change my mind when they mentioned them to me. Allah's Messenger ﷺ forbade all the Muslims from talking to us, the three aforesaid persons, out of all those who remained behind for that battle. So we kept away from the people and they changed their attitude towards us until the very land (where I lived) appeared strange to me as if I did not know it. We remained in that condition for fifty nights. As for my two companions, they remained in their houses and kept on weeping, but I was the youngest and the firmest of them. So I would go out and attend the prayer along with the Muslims and roam the markets, but none would talk to me. I would come to Allah's Messenger ﷺ and greet him while he was sitting in his gathering after the prayer, and I would wonder whether he even moved his lips in return of my greeting or not. Then I would offer my prayer near him and look at him carefully.
When I was busy with my prayer, he would turn his face towards me, but when I turned my face to him, he would turn his face away from me. When this harsh attitude and boycott of the people continued for a long time, I walked until I scaled the wall of the garden of Abu Qatadah who was my cousin and the dearest person to me. I offered my greeting to him. By Allah, he did not return my greetings. I said, `O Abu Qatadah! I beseech you by Allah! Do you know that I love Allah and His Messenger' He kept quiet. I asked him again, beseeching him by Allah, but he remained silent. I asked him again in the Name of Allah and he said, `Allah and His Messenger know better.' Thereupon my eyes flowed with tears and I returned and jumped over the wall. tWhile I was walking in the market of Al-Madinah, suddenly I saw that a Nabatean from Ash-Sham came to sell his grains in Al-Madinah, saying, `Who will lead me to Ka`b bin Malik' The people began to point (me) out for him, until he came to me and handed me a letter from the king of Ghassan (who ruled Syria for Caesar), for I knew how to read and write. In that letter, the following was written: `To proceed, I have been informed that your friend (the Prophet) has treated you harshly. Anyhow, Allah does not make you live in a place where you feel inferior and your right is lost. So, join us, and we will console you.' When I read it, I said to myself, `This is also a sort of test.' I took the letter to the oven and made a fire burning it. When forty out of the fifty nights elapsed, behold! There came to me a messenger of Allah's Messenger ﷺ saying `Allah's Messenger ﷺ orders you to keep away from your wife.' I said, `Should I divorce her; or else what should I do' He said, `No, only keep aloof from her and do not mingle with her.' The Prophet sent the same message to my two fellows. I said to my wife, `Go to your parents and remain with them until Allah gives His verdict in this matter."' Ka`b added, "The wife of Hilal bin Umayyah came to Allah's Messenger ﷺ and said, `O Allah's Messenger! Hilal bin Umayyah is a helpless old man who has no servant to attend on him. Do you dislike that I should serve him' He said,
«لَا وَلَكِنْ (لَا يَقْرَبَكَ)»
(`No (you can serve him), but he should not come near you sexually).' She said, `By Allah! He has no desire for anything. By Allah, he has never ceased weeping since his case began until this day of his.' On that, some of my family members said to me, `Will you also ask Allah's Messenger ﷺ to permit your wife (to serve you) as he has permitted the wife of Hilal bin Umayyah to serve him' I said, `By Allah, I will not ask permission of Allah's Messenger ﷺ regarding her, for I do not know what Allah's Messenger ﷺ would say if I asked him to permit her (to serve me) while I am a young man.' We remained in that state for ten more nights, until the period of fifty nights was completed, starting from the time when Allah's Messenger ﷺ prohibited the people from talking to us. When I had finished the Fajr prayer on the fiftieth morning on the roof of one of our houses, while sitting in the condition in which Allah described (in the Qur'an): my very soul seemed straitened to me and even the earth seemed narrow to me for all its spaciousness. There I heard the voice of a man who had ascended the mountain of Sal` calling with his loudest voice, `O Ka`b bin Malik! Be happy (by receiving good tidings).' I fell down in prostration before Allah, realizing that relief has come with His forgiveness for us. Allah's Messenger ﷺ announced the acceptance of our repentance by Allah after Fajr prayer. The people went out to congratulate us. Some bearers of good news went to my two companions, a horseman came to me in haste, while a man from Banu Aslam came running and ascended the mountain and his voice was swifter than the horse. When the man whose voice I had heard, came to me conveying the good news, I took off my garments and dressed him with them; and by Allah, I owned no other than them on that day. Then I borrowed two garments, wore them and went to Allah's Messenger ﷺ. The people started receiving me in batches, congratulating me on Allah's acceptance of my repentance, saying, `We congratulate you on Allah's acceptance of your repentance."' Ka`b further said, "When I entered the Masjid, I saw Allah's Messenger ﷺ sitting in the Masjid with the people around him. Talhah bin `Ubaydullah swiftly came to me, shook my hands and congratulated me. By Allah, none of the Muhajirun got up for me except Talhah; I will never forget Talhah for this." Ka`b added, "When I greeted Allah's Messenger ﷺ, his face was bright with joy. He said,
«أَبْشِرْ بَخَيْرِ يَومٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّك»
(`Be happy with the best day you have ever seen since your mother gave birth to you.) I said to the Prophet, `Is this forgiveness from you or from Allah' He said,
«لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ الله»
(No, it is from Allah). Whenever Allah's Messenger ﷺ became happy, his face would shine as if it was a piece of the moon, and we all knew that characteristic of him. When I sat before him, I said, `O Allah's Messenger! Because of the acceptance of my repentance I will give up all my wealth as alms for the sake of Allah and His Messenger.' Allah's Messenger ﷺ said,
«أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهْوَ خَيْرٌ لَك»
(Keep some of your wealth, as it will be better for you). I said, `So I will keep my share from Khaybar with me.' I added, `O Allah's Messenger! Allah has saved me for telling the truth; so it is part of my repentance not to tell but the truth as long as I am alive.' By Allah, I do not know of any Muslim, whom Allah has helped to tell the truth more than I. Ever since I have mentioned the truth to Allah's Messenger ﷺ, I have never intended to tell a lie, until today. I hope that Allah will also save me (from telling lies) the rest of my life. So Allah revealed the Ayah,
لَقَدْ تَابَ الله عَلَى النَّبِىِّ وَالْمُهَـجِرِينَ وَالاٌّنصَـرِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ - وَعَلَى الثَّلَـثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّواْ أَن لاَّ مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلاَّ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُواْ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ - يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّـدِقِينَ
(Allah has forgiven the Prophet, the Muhajirin and the Ansar who followed him in the time of distress, after the hearts of a party of them had nearly deviated, but He accepted their repentance. Certainly, He is unto them full of kindness, Most Merciful. And the three who stayed behind, until for them the earth, vast as it is, was straitened and their souls were straitened to them, and they perceived that there is no fleeing from Allah, and no refuge but with Him. Then, He forgave them, that they might beg for His pardon. Verily, Allah is the One Who forgives and accepts repentance, Most Merciful. O you who believe! Have Taqwa of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).) Ka`b said; "By Allah! Allah has never bestowed upon me, apart from His guiding me to Islam, a greater blessing than the fact that I did not tell a lie to Allah's Messenger ﷺ which would have caused me to perish, just as those who had told a lie have perished. Allah described those who told lies with the worst descriptions He ever attributed to anyone. Allah said,
سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُواْ عَنْهُمْ فَأَعْرِضُواْ عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ - يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَـسِقِينَ
(They will swear by Allah to you when you return to them, that you may turn away from them. So turn away from them. Surely, they are Rijs (impure), and Hell is their dwelling place -- a recompense for that which they used to earn. They swear to you that you may be pleased with them, but if you are pleased with them, certainly Allah is not pleased with the people who are rebellious.) Ka`b added, "We, the three persons, differed altogether from those whose excuses Allah's Messenger ﷺ accepted when they swore to him. He took their pledge and asked Allah to forgive them, but Allah's Messenger ﷺ left our case pending until Allah gave us His judgement about it. As for that Allah said,
وَعَلَى الثَّلَـثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ
(And (He did forgive also) the three who stayed behind...) What Allah said does not discuss our failure to take part in the battle, but to the deferment of making a decision by the Prophet about our case, in contrast to the case of those who had taken an oath before him, and he excused them by accepting their excuses." This is an authentic Hadith collected in the Two Sahihs (Al-Bukhari and Muslim) and as such, its authenticity is agreed upon. This Hadith contains the explanation of this honorable Ayah in the best, most comprehensive way. Similar explanation was given by several among the Salaf. For instance, Al-A`mash narrated from Abu Sufyan, from Jabir bin `Abdullah about Allah's statement,
وَعَلَى الثَّلَـثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ
(And (He did forgive also) the three who stayed behind...) "They are Ka`b bin Malik, Hilal bin Umayyah and Murarah bin Ar-Rabi`, all of them from the Ansar."
The Order to speak the Truth
Allah sent His relief from the distress and grief that struck these three men, because Muslims ignored them for fifty days and nights, until they themselves, and the earth -- vast as it is -- were straitened for them. As vast as the earth is, its ways and paths were closed for them, and they did not know what action to take. They were patient for Allah's sake and awaited humbly for His decree. They remained firm, until Allah sent His relief to them since they told the Messenger of Allah ﷺ the truth about why they remained behind, declaring that they did not have an excuse for doing so. They were requited for this period, then Allah forgave them. Therefore, the consequence of being truthful was better for them, for they gained forgiveness. Hence Allah's statement next,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّـدِقِينَ
(O you who believe! Have Taqwa of Allah, and be with those who are true.) The Ayah says, adhere to and always say the truth so that you become among its people and be saved from destruction. Allah will make a way for you out of your concerns and a refuge. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِن الصَّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا»
(Hold on to truth, for being truthful leads to righteousness, and righteousness leads to Paradise. Verily, a man will keep saying the truth and striving for truth, until he is written before Allah as very truthful (Siddiq). Beware of lying, for lying leads to sin, and sin leads to the Fire. Verily, the man will keep lying and striving for falsehood until he is written before Allah as a great liar.) This Hadith is recorded in the Two Sahihs.
جنگ تبوک میں عدم شمولیت سے پشیمان حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے حضرت عبید اللہ جو آپ کے نابینا ہوجانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کرلے جایا لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھیر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبر ی میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہوسکا اس کے بجائے الحمد اللہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو دو اونٹنیاں تھیں۔ حضور ﷺ جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کردیا کہ وہ پوری پوری تیاری کرلیں۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آسکے۔ پس کوئی باز پرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور آنحضرت ﷺ پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔ ہاں اللہ کی وحی آجائے یہ تو بات ہی اور ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ اور خود حضور تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کرلوں لیکن ادھر ادھر شام ہوجاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کرلوں گا۔ یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آگیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے میں نے کہا خیر دور ہوگئے اور کئی دن ہوگئے تو کیا میں تیز چل کر جا ملوں گا لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہوسکا ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ ﷺ نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔ یہ سن کر حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا آپ یہ درست نہیں فرما رہے یارسول اللہ ﷺ ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔ حضور ﷺ خاموش ہو رہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر حضور ﷺ کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔ یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مدینے شریف کے قریب آگئے تو میں دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہوگیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔ پس میں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ جھوٹ بالکل نہیں بولوں گا۔ صاف صاف سچ سچ بات کہہ دونگا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسب عادت پہلے مسجد میں آئے دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے۔ اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والے آنے لگے اور عذر معذرت حیلے بہانے کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی سے کچھ اوپر اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد اللہ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لیے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ ﷺ نے غصے کے ساتھ تبسم فرمایا اور مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم کیسے رک گئے ؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ آج اگر جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہوگیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج میرے سچ کی بناء پر اگر آپ مجھے سے بگڑے تو ہوسکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔ حضور ﷺ سچ تو یہ ہے کہ واللہ مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرست تھی اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تو سچا ہے۔ اچھا تم جاؤ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہوگا۔ میں کھڑا ہوگیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن عجب ہے کہ تم نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر آنحضرت ﷺ تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور حضور ﷺ کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کردوں۔ پھر میں نے پوچھا کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔ میں نے کہا وہ کون کون ہیں انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہوگیا اور گھر چلا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہوگئے کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔ وہ دو بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکان میں بیٹھ رہے باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبیعت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ ہاں مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ حضور ﷺ لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب آپ ﷺ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کنکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کردیا۔ ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا کہ میں اللہ رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوں ؟ اس نے خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت غمگین ہو کر پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔ میں بازار میں جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینے میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے کہ کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتادے لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتادیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔ میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ ہم ہر طرح کی خدمت گذاریوں کے لیے تیار ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گذر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آرہا ہے اس نے آکر آپ ﷺ کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کردے ہاں حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کردیا کروں۔ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔ انہوں نے کہا واللہ ان میں تو حرکت کی سکت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔ مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کرلو جتنی حضرت ہلال کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں حضور ﷺ سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں ؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔ دس دن اس بات پر بھی گزر گئے اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک خوش ہوجا۔ واللہ میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آگئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول کریم ﷺ نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔ ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آرہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آگئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر حضور ﷺ تھے۔ مجھے دیکھتے ہی حضرت طلحہ بن عبداللہ ؓ کھڑے ہوگئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ حضرت کعب حضرت طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول ﷺ اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ حضور ﷺ کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے (آیت لقد تاب اللہ) سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہوجاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا (آیت سیحلفون باللہ لکم الخ،) یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کرلو۔ اچھا تم چشم پوشی کرلو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہوگا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہوجاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کرلی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔ اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑگیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ (آیت وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا) ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ موخر کردینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمد اللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے ؓ اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع ؓ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو حضرت کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہوجاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔ مسند احمد میں ہے رسول للہ ﷺ فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کرلو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو ؟ بقول حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سچوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بےرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔
119
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
O People who Believe! Fear Allah, and be with the truthful.
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہو
Tafsir Ibn Kathir
The Three, Whose Decision was deferred by the Messenger of Allah ﷺ
Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Ka`b bin Malik, who used to guide Ka`b after he became blind, said that he heard Ka`b bin Malik narrate his story when he did not join the battle of Tabuk with the Messenger of Allah ﷺ. Ka`b bin Malik said, "I did not remain behind Allah's Messenger ﷺ in any battle that he fought except the battle of Tabuk. I failed to take part in the battle of Badr, but Allah did not admonish anyone who did not participate in it, for in fact, Allah's Messenger ﷺ had gone out in search of the caravan of Quraysh, until Allah made the Muslims and their enemies meet without any appointment. I witnessed the night of Al-`Aqabah pledge with Allah's Messenger ﷺ when we pledged for Islam, and I would not exchange it for the Badr Battle, even though the Badr Battle is more popular among the people than the `Aqabah pledge. As for my news of this battle of Tabuk, I was never stronger or wealthier than I was when I remained behind Allah's Messenger ﷺ in that battle. By Allah, never had I two she-camels before, but I did at the time of that battle. Whenever Allah's Messenger ﷺ wanted to go to a battle, he used to hide his intention by referring to different battles, until it was the time of that battle (of Tabuk) which Allah's Messenger ﷺ fought in intense heat, facing a long journey, the desert, and the great number of enemy soldiers. So the Prophet clearly announced the destination to the Muslims, so that they could prepare for their battle, and he told them about his intent. Allah's Messenger ﷺ was accompanied by such a large number of Muslims that they could not be listed in a book by name, nor registered." Ka`b added, "Any man who intended not to attend the battle would think that the matter would remain hidden, unless Allah revealed it through divine revelation. Allah's Messenger ﷺ fought that battle at a time when the fruits had ripened and the shade was pleasant, and I found myself inclined towards that. Allah's Messenger ﷺ and his Companions prepared for the battle and I started to go out in order to get myself ready along with them, but I returned without doing anything. I would say to myself, `I can do that if I want.' So I kept on delaying it every now and then until the people were prepared, and Allah's Messenger ﷺ, and the Muslims along with him, departed. But I had not prepared anything for my departure. I said, `I will prepare myself (for departure) one or two days after him, and then join them.' In the morning following their departure, I went out to get myself ready but returned having done nothing. Then again, the next morning, I went out to get ready but returned without doing anything. Such was the case with me until they hurried away and I missed the battle. Even then I intended to depart to catch up to them. I wish I had done so! But such was not the case. So, after the departure of Allah's Messenger ﷺ, whenever I went out and walked among the people (who remained behind), it grieved me that I could see none around me, but one accused of hypocrisy or one of those weak men whom Allah had excused. Allah's Messenger ﷺ did not remember me until he reached Tabuk. So while he was sitting among the people in Tabuk, he said,
«مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ؟»
(What did Ka`b bin Malik do) A man from Banu Salimah said, `O Allah's Messenger! He has been stopped by his two Burdah (garments) and looking at his own flanks with pride.' Mu`adh bin Jabal said, `What a bad thing you have said! By Allah! O Allah's Messenger! We know nothing about him but that which is good.' Allah's Messenger ﷺ kept silent."' Ka`b bin Malik added, "When I heard that Allah's Messenger ﷺ was on his way back to Al-Madinah, I was overcome by concern and began to think of false excuses. I said to myself, `How can I escape from his anger tomorrow' I started looking for advice from wise members of my family in this matter. When it was said that Allah's Messenger ﷺ had approached (Al-Madinah) all evil and false excuses abandoned my mind and I knew well that I could never come out of this problem by forging a false statement. Then I decided firmly to speak the truth. Allah's Messenger ﷺ arrived in the morning, and whenever he returned from a journey, he used to visit the Masjid first, and offer a two Rak`ah prayer, then sit for the people. So when he had done all that (this time), those who failed to join the battle came and started offering (false) excuses and taking oaths before him. They were over eighty men. Allah's Messenger ﷺ accepted the excuses they expressed outwardly, asked for Allah's forgiveness for them and left the secrets of their hearts for Allah to judge. Then I came to him, and when I greeted him, he smiled a smile of an angry person and then said,
«تَعَال»
(Come) So I came walking until I sat before him. He said to me,
«مَاخَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدْ اشْتَرَيْتَ ظَهْرًا»
(What stopped you from joining us Had you not purchased an animal for carrying you) I answered, `Yes, O Allah's Messenger! By Allah, if I were sitting before any person from among the people of the world other than you, I would have escaped from his anger with an excuse. By Allah, I have been bestowed with the power of speaking fluently and eloquently, but by Allah, I knew well that if I tell you a lie today to seek your favor, Allah would surely make you angry with me in the near future. But if I tell you the truth, though you will get angry because of it, I hope for Allah's forgiveness. By Allah, I had never been stronger or wealthier than I was when I remained behind you. ' Allah's Messenger ﷺ said,
«أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِي اللهُ فِيك»
(As regards to this man, he has surely told the truth. So get up until Allah decides your case.) I got up, and many men of Banu Salimah followed me and said to me, `By Allah, we never witnessed you commit any sin before this! Surely, you failed to offer an excuse to Allah's Messenger ﷺ like the others who did not join him. The invocation of Allah's Messenger ﷺ to Allah to forgive you would have been sufficient for your sin.' By Allah, they continued blaming me so much that I intended to return (to the Prophet ) and accuse myself of having told a lie, but I said to them, `Is there anybody else who has met the same end as I have' They replied, `Yes, there are two men who have said the same thing as you have, and to both of them was given the same order as given to you.' I said, `Who are they' They replied, `Murarah bin Ar-Rabi` Al-`Amiri and Hilal bin Umayyah Al-Waqifi.' They mentioned to me two pious men who had attended the battle of Badr and in whom there was an example for me. So I did not change my mind when they mentioned them to me. Allah's Messenger ﷺ forbade all the Muslims from talking to us, the three aforesaid persons, out of all those who remained behind for that battle. So we kept away from the people and they changed their attitude towards us until the very land (where I lived) appeared strange to me as if I did not know it. We remained in that condition for fifty nights. As for my two companions, they remained in their houses and kept on weeping, but I was the youngest and the firmest of them. So I would go out and attend the prayer along with the Muslims and roam the markets, but none would talk to me. I would come to Allah's Messenger ﷺ and greet him while he was sitting in his gathering after the prayer, and I would wonder whether he even moved his lips in return of my greeting or not. Then I would offer my prayer near him and look at him carefully.
When I was busy with my prayer, he would turn his face towards me, but when I turned my face to him, he would turn his face away from me. When this harsh attitude and boycott of the people continued for a long time, I walked until I scaled the wall of the garden of Abu Qatadah who was my cousin and the dearest person to me. I offered my greeting to him. By Allah, he did not return my greetings. I said, `O Abu Qatadah! I beseech you by Allah! Do you know that I love Allah and His Messenger' He kept quiet. I asked him again, beseeching him by Allah, but he remained silent. I asked him again in the Name of Allah and he said, `Allah and His Messenger know better.' Thereupon my eyes flowed with tears and I returned and jumped over the wall. tWhile I was walking in the market of Al-Madinah, suddenly I saw that a Nabatean from Ash-Sham came to sell his grains in Al-Madinah, saying, `Who will lead me to Ka`b bin Malik' The people began to point (me) out for him, until he came to me and handed me a letter from the king of Ghassan (who ruled Syria for Caesar), for I knew how to read and write. In that letter, the following was written: `To proceed, I have been informed that your friend (the Prophet) has treated you harshly. Anyhow, Allah does not make you live in a place where you feel inferior and your right is lost. So, join us, and we will console you.' When I read it, I said to myself, `This is also a sort of test.' I took the letter to the oven and made a fire burning it. When forty out of the fifty nights elapsed, behold! There came to me a messenger of Allah's Messenger ﷺ saying `Allah's Messenger ﷺ orders you to keep away from your wife.' I said, `Should I divorce her; or else what should I do' He said, `No, only keep aloof from her and do not mingle with her.' The Prophet sent the same message to my two fellows. I said to my wife, `Go to your parents and remain with them until Allah gives His verdict in this matter."' Ka`b added, "The wife of Hilal bin Umayyah came to Allah's Messenger ﷺ and said, `O Allah's Messenger! Hilal bin Umayyah is a helpless old man who has no servant to attend on him. Do you dislike that I should serve him' He said,
«لَا وَلَكِنْ (لَا يَقْرَبَكَ)»
(`No (you can serve him), but he should not come near you sexually).' She said, `By Allah! He has no desire for anything. By Allah, he has never ceased weeping since his case began until this day of his.' On that, some of my family members said to me, `Will you also ask Allah's Messenger ﷺ to permit your wife (to serve you) as he has permitted the wife of Hilal bin Umayyah to serve him' I said, `By Allah, I will not ask permission of Allah's Messenger ﷺ regarding her, for I do not know what Allah's Messenger ﷺ would say if I asked him to permit her (to serve me) while I am a young man.' We remained in that state for ten more nights, until the period of fifty nights was completed, starting from the time when Allah's Messenger ﷺ prohibited the people from talking to us. When I had finished the Fajr prayer on the fiftieth morning on the roof of one of our houses, while sitting in the condition in which Allah described (in the Qur'an): my very soul seemed straitened to me and even the earth seemed narrow to me for all its spaciousness. There I heard the voice of a man who had ascended the mountain of Sal` calling with his loudest voice, `O Ka`b bin Malik! Be happy (by receiving good tidings).' I fell down in prostration before Allah, realizing that relief has come with His forgiveness for us. Allah's Messenger ﷺ announced the acceptance of our repentance by Allah after Fajr prayer. The people went out to congratulate us. Some bearers of good news went to my two companions, a horseman came to me in haste, while a man from Banu Aslam came running and ascended the mountain and his voice was swifter than the horse. When the man whose voice I had heard, came to me conveying the good news, I took off my garments and dressed him with them; and by Allah, I owned no other than them on that day. Then I borrowed two garments, wore them and went to Allah's Messenger ﷺ. The people started receiving me in batches, congratulating me on Allah's acceptance of my repentance, saying, `We congratulate you on Allah's acceptance of your repentance."' Ka`b further said, "When I entered the Masjid, I saw Allah's Messenger ﷺ sitting in the Masjid with the people around him. Talhah bin `Ubaydullah swiftly came to me, shook my hands and congratulated me. By Allah, none of the Muhajirun got up for me except Talhah; I will never forget Talhah for this." Ka`b added, "When I greeted Allah's Messenger ﷺ, his face was bright with joy. He said,
«أَبْشِرْ بَخَيْرِ يَومٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّك»
(`Be happy with the best day you have ever seen since your mother gave birth to you.) I said to the Prophet, `Is this forgiveness from you or from Allah' He said,
«لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ الله»
(No, it is from Allah). Whenever Allah's Messenger ﷺ became happy, his face would shine as if it was a piece of the moon, and we all knew that characteristic of him. When I sat before him, I said, `O Allah's Messenger! Because of the acceptance of my repentance I will give up all my wealth as alms for the sake of Allah and His Messenger.' Allah's Messenger ﷺ said,
«أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهْوَ خَيْرٌ لَك»
(Keep some of your wealth, as it will be better for you). I said, `So I will keep my share from Khaybar with me.' I added, `O Allah's Messenger! Allah has saved me for telling the truth; so it is part of my repentance not to tell but the truth as long as I am alive.' By Allah, I do not know of any Muslim, whom Allah has helped to tell the truth more than I. Ever since I have mentioned the truth to Allah's Messenger ﷺ, I have never intended to tell a lie, until today. I hope that Allah will also save me (from telling lies) the rest of my life. So Allah revealed the Ayah,
لَقَدْ تَابَ الله عَلَى النَّبِىِّ وَالْمُهَـجِرِينَ وَالاٌّنصَـرِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ - وَعَلَى الثَّلَـثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّواْ أَن لاَّ مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلاَّ إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُواْ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ - يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّـدِقِينَ
(Allah has forgiven the Prophet, the Muhajirin and the Ansar who followed him in the time of distress, after the hearts of a party of them had nearly deviated, but He accepted their repentance. Certainly, He is unto them full of kindness, Most Merciful. And the three who stayed behind, until for them the earth, vast as it is, was straitened and their souls were straitened to them, and they perceived that there is no fleeing from Allah, and no refuge but with Him. Then, He forgave them, that they might beg for His pardon. Verily, Allah is the One Who forgives and accepts repentance, Most Merciful. O you who believe! Have Taqwa of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).) Ka`b said; "By Allah! Allah has never bestowed upon me, apart from His guiding me to Islam, a greater blessing than the fact that I did not tell a lie to Allah's Messenger ﷺ which would have caused me to perish, just as those who had told a lie have perished. Allah described those who told lies with the worst descriptions He ever attributed to anyone. Allah said,
سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُواْ عَنْهُمْ فَأَعْرِضُواْ عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ - يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْاْ عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَـسِقِينَ
(They will swear by Allah to you when you return to them, that you may turn away from them. So turn away from them. Surely, they are Rijs (impure), and Hell is their dwelling place -- a recompense for that which they used to earn. They swear to you that you may be pleased with them, but if you are pleased with them, certainly Allah is not pleased with the people who are rebellious.) Ka`b added, "We, the three persons, differed altogether from those whose excuses Allah's Messenger ﷺ accepted when they swore to him. He took their pledge and asked Allah to forgive them, but Allah's Messenger ﷺ left our case pending until Allah gave us His judgement about it. As for that Allah said,
وَعَلَى الثَّلَـثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ
(And (He did forgive also) the three who stayed behind...) What Allah said does not discuss our failure to take part in the battle, but to the deferment of making a decision by the Prophet about our case, in contrast to the case of those who had taken an oath before him, and he excused them by accepting their excuses." This is an authentic Hadith collected in the Two Sahihs (Al-Bukhari and Muslim) and as such, its authenticity is agreed upon. This Hadith contains the explanation of this honorable Ayah in the best, most comprehensive way. Similar explanation was given by several among the Salaf. For instance, Al-A`mash narrated from Abu Sufyan, from Jabir bin `Abdullah about Allah's statement,
وَعَلَى الثَّلَـثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُواْ
(And (He did forgive also) the three who stayed behind...) "They are Ka`b bin Malik, Hilal bin Umayyah and Murarah bin Ar-Rabi`, all of them from the Ansar."
The Order to speak the Truth
Allah sent His relief from the distress and grief that struck these three men, because Muslims ignored them for fifty days and nights, until they themselves, and the earth -- vast as it is -- were straitened for them. As vast as the earth is, its ways and paths were closed for them, and they did not know what action to take. They were patient for Allah's sake and awaited humbly for His decree. They remained firm, until Allah sent His relief to them since they told the Messenger of Allah ﷺ the truth about why they remained behind, declaring that they did not have an excuse for doing so. They were requited for this period, then Allah forgave them. Therefore, the consequence of being truthful was better for them, for they gained forgiveness. Hence Allah's statement next,
يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّـدِقِينَ
(O you who believe! Have Taqwa of Allah, and be with those who are true.) The Ayah says, adhere to and always say the truth so that you become among its people and be saved from destruction. Allah will make a way for you out of your concerns and a refuge. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِن الصَّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا»
(Hold on to truth, for being truthful leads to righteousness, and righteousness leads to Paradise. Verily, a man will keep saying the truth and striving for truth, until he is written before Allah as very truthful (Siddiq). Beware of lying, for lying leads to sin, and sin leads to the Fire. Verily, the man will keep lying and striving for falsehood until he is written before Allah as a great liar.) This Hadith is recorded in the Two Sahihs.
جنگ تبوک میں عدم شمولیت سے پشیمان حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے حضرت عبید اللہ جو آپ کے نابینا ہوجانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کرلے جایا لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھیر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبر ی میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہوسکا اس کے بجائے الحمد اللہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو دو اونٹنیاں تھیں۔ حضور ﷺ جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کردیا کہ وہ پوری پوری تیاری کرلیں۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آسکے۔ پس کوئی باز پرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور آنحضرت ﷺ پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔ ہاں اللہ کی وحی آجائے یہ تو بات ہی اور ہے۔ اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ اور خود حضور تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کرلوں لیکن ادھر ادھر شام ہوجاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کرلوں گا۔ یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آگیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے میں نے کہا خیر دور ہوگئے اور کئی دن ہوگئے تو کیا میں تیز چل کر جا ملوں گا لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہوسکا ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ ﷺ نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔ یہ سن کر حضرت معاذ بن جبل نے فرمایا آپ یہ درست نہیں فرما رہے یارسول اللہ ﷺ ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔ حضور ﷺ خاموش ہو رہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر حضور ﷺ کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔ یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مدینے شریف کے قریب آگئے تو میں دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہوگیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔ پس میں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ جھوٹ بالکل نہیں بولوں گا۔ صاف صاف سچ سچ بات کہہ دونگا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسب عادت پہلے مسجد میں آئے دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے۔ اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والے آنے لگے اور عذر معذرت حیلے بہانے کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی سے کچھ اوپر اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد اللہ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لیے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ ﷺ نے غصے کے ساتھ تبسم فرمایا اور مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم کیسے رک گئے ؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ آج اگر جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہوگیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج میرے سچ کی بناء پر اگر آپ مجھے سے بگڑے تو ہوسکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔ حضور ﷺ سچ تو یہ ہے کہ واللہ مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرست تھی اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تو سچا ہے۔ اچھا تم جاؤ اللہ تعالیٰ ہی تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہوگا۔ میں کھڑا ہوگیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن عجب ہے کہ تم نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر آنحضرت ﷺ تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور حضور ﷺ کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کردوں۔ پھر میں نے پوچھا کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔ میں نے کہا وہ کون کون ہیں انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہوگیا اور گھر چلا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہوگئے کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔ وہ دو بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکان میں بیٹھ رہے باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبیعت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ ہاں مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ حضور ﷺ لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب آپ ﷺ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کنکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کردیا۔ ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا کہ میں اللہ رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوں ؟ اس نے خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت غمگین ہو کر پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔ میں بازار میں جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینے میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے کہ کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتادے لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتادیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔ میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ ہم ہر طرح کی خدمت گذاریوں کے لیے تیار ہیں۔ میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گذر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا قاصد میرے پاس آرہا ہے اس نے آکر آپ ﷺ کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کردے ہاں حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کردیا کروں۔ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔ انہوں نے کہا واللہ ان میں تو حرکت کی سکت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔ مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کرلو جتنی حضرت ہلال کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں حضور ﷺ سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں ؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔ دس دن اس بات پر بھی گزر گئے اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک خوش ہوجا۔ واللہ میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آگئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول کریم ﷺ نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔ ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آرہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آگئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر حضور ﷺ تھے۔ مجھے دیکھتے ہی حضرت طلحہ بن عبداللہ ؓ کھڑے ہوگئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ حضرت کعب حضرت طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ ﷺ سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول ﷺ اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ حضور ﷺ کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے (آیت لقد تاب اللہ) سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہوجاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا (آیت سیحلفون باللہ لکم الخ،) یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کرلو۔ اچھا تم چشم پوشی کرلو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہوگا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہوجاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کرلی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔ اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑگیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ (آیت وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا) ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ موخر کردینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمد اللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے ؓ اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع ؓ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو حضرت کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہوجاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔ مسند احمد میں ہے رسول للہ ﷺ فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کرلو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو ؟ بقول حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سچوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بےرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔
120
View Single
مَا كَانَ لِأَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرۡغَبُواْ بِأَنفُسِهِمۡ عَن نَّفۡسِهِۦۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ لَا يُصِيبُهُمۡ ظَمَأٞ وَلَا نَصَبٞ وَلَا مَخۡمَصَةٞ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوۡطِئٗا يَغِيظُ ٱلۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنۡ عَدُوّٖ نَّيۡلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٞ صَٰلِحٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
It did not befit the people of Medinah and the people of the villages around them, to stay behind the Noble Messenger of Allah, nor to consider their own lives dearer than his life; that is because the thirst or the pain or the hunger that afflicts them in Allah's cause, and the step they tread on a place that angers the disbelievers, and whatever harm they cause the enemy – a good deed is recorded for them in lieu of all of these; indeed Allah does not waste the wages of the virtuous.
اہلِ مدینہ اور ان کے گرد و نواح کے (رہنے والے) دیہاتی لوگوں کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الگ ہو کر) پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ ان کی جانِ (مبارک) سے زیادہ اپنی جانوں سے رغبت رکھیں، یہ (حکم) اس لئے ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں جو پیاس (بھی) لگتی ہے اور جو مشقت (بھی) پہنچتی ہے اور جو بھوک (بھی) لگتی ہے اور جو کسی ایسی جگہ پر چلتے ہیں جہاں کاچلنا کافروں کو غضبناک کرتا ہے اور دشمن سے جو کچھ بھی پاتے ہیں (خواہ قتل اور زخم ہو یا مالِ غنیمت وغیرہ) مگر یہ کہ ہر ایک بات کے بدلہ میں ان کے لئے ایک نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اَجر ضائع نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
Rewards of Jihad
Allah, the Exalted and Most Honored, criticizes the people of Al-Madinah and the bedouins around it, who did not participate in the battle of Tabuk with the Messenger of Allah ﷺ. They sought to preserve themselves rather than comfort the Messenger ﷺ during the hardship that he suffered in that battle. They incurred a loss in their share of the reward, since,
لاَ يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ
(they suffer neither Zama'), thirst,
وَلاَ نَصَبٌ
(nor Nasab), fatigue,
وَلاَ مَخْمَصَةٌ
(nor Makhmasah), hunger,
وَلاَ يَطَأُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ
(nor they take any step to raise the anger of disbelievers), by strategies of war that would terrify their enemy,
وَلاَ يَنَالُونَ
(nor inflict), a defeat on the enemy,
إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ
(but is written to their credit) as compensation for these steps that are not under their control, but a consequence of performing good deeds that earn them tremendous rewards,
إِنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
(Surely, Allah wastes not the reward of the doers of good.) Allah said in a similar Ayah,
إِنَّا لاَ نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلاً
(Certainly We shall not make the reward of anyone who does his (righteous) deeds in the most perfect manner to be lost)
غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے والوں کو تنبیہہ ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اللہ تعالیٰ ڈانٹ رہا ہے کہ مدینے والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو مجاہدین کے برابر ثواب والا نہیں سمجھنا چاہیے وہ اس اجر وثواب سے محروم رہ گئے جو ان مجاہدین فی سبیل اللہ کو ملا۔ مجاہدین کو ان کی پیاس پر تکلیف پر بھوک پر، ٹھہرنے اور چلنے پر، ظفر اور غلبے پر، غرض ہر ہر حرکت و سکون پر اللہ کی طرف سے اجر عظیم ملتا رہتا ہے۔ رب کی ذات اس سے پاک ہے کہ کسی نیکی کرنے والے کی محنت برباد کر دے۔
121
View Single
وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةٗ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةٗ وَلَا يَقۡطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحۡسَنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
And whatever they spend, small or great, or any valley they cross – it is all recorded for them, so that Allah may reward them for their best deeds.
اور نہ یہ کہ وہ (مجاہدین) تھوڑا خرچہ کرتے ہیں اور نہ بڑا اور نہ (ہی) کسی میدان کو (راہِ خدا میں) طے کرتے ہیں مگر ان کے لئے (یہ سب صرف و سفر) لکھ دیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں (ہر اس عمل کی) بہتر جزا دے جو وہ کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
وَلاَ يُنفِقُونَ
(Neithr do they spend), in reference to the fighters in Allah's cause,
نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً
(any contribution -- small or great --), with regards to its amount,
وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِيًا
(nor cross a valley), while marching towards the enemy,
إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ
(but is written to their credit), for these actions that they take and which are under their control,
لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(that Allah may recompense them with the best of what they used to do.) Certainly, the Leader of the faithful, `Uthman bin `Affan, may Allah be pleased with him, acquired a tremendous share of the virtues mentioned in this honorable Ayah. He spent large amounts and tremendous wealth on this battle (Tabuk). Abdullah, the son of Imam Ahmad recorded that `Abdur-Rahman bin Khabbab As-Sulami said; "The Messenger of Allah ﷺ gave a speech in which he encouraged spending on the army of distress (for Tabuk). I`Uthman bin `Affan, may Allah be pleased with him said; `I will give one hundred camels with their saddles and supplies.' Then he exhorted them some more. So `Uthman said; `I will give one hundred more camels with their saddles and supplies.' Then he descended one step of the Minbar and exhorted them some more. So `Uthman bin `Affan said; `I will give one hundred more camels with their saddles and supplies.' Then I saw Allah's Messenger ﷺ with his hand moving like this - and `Abdus-Samad's one of the narrators hand went out like one in amazement - he said,
«مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا»
(It does not matter what `Uthman does after. ) It is also recorded in the Musnad that `Abdur-Rahman bin Samurah said, "`Uthman brought a thousand Dinars in his garment so that the Prophet could prepare supplies for the army of distress. `Uthman poured the money on the Prophet's lap, and the Prophet started turning it around with his hand and declaring repeatedly,
«مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانٍ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْم»
(The son of `Affan (i.e., `Uthman) will never be harmed by anything he does after today.)" Qatadah commented on Allah's statement,
وَلاَ يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلاَّ كُتِبَ لَهُمْ
(nor cross a valley, but is written to their credit), "The farther any people march forth away from their families in the cause of Allah, the nearer they will be to Allah."
مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کرکے اجر کے بیان میں لفظ " بہ " لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیاری افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر حضرت عثمان ؓ نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ نے دل کھول کر مال خرچ کیا۔ چناچہ مسند احمد میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کے امداد کا ذکر فرما کر اس کی رغبت دلائی تو حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ ایک سو اونٹ مع اپنے کجاوے پالان رسیوں وغیرہ کے میں دونگا۔ آپ نے پھر اسی کو بیان فرمایا تو پھر سے حضرت عثمان ؓ نے فرمایا ایک سو اور بھی دونگا۔ آپ ایک زینہ منبر کا اترے پھر رغبت دلائی تو حضرت عثمان ؓ نے پھر فرمایا ایک سو اور بھی آپ نے خوشی خوشی اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا بس عثمان ! آج کے بعد کوئی عمل نہ بھی کرے تو بھی یہی کافی ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر حضرت عثمان نے آپ کے پلے میں ڈال دی۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے آج کے بعد یہ جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔ بار بار یہی فرماتے رہے اس آیت کی تفسیر میں حضرت قتادہ فرماتے ہیں جس قدر انسان اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں دور نکلتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قرب میں بڑھتا ہے۔
122
View Single
۞وَمَا كَانَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةٗۚ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرۡقَةٖ مِّنۡهُمۡ طَآئِفَةٞ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوۡمَهُمۡ إِذَا رَجَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُونَ
And it is not possible for the Muslims that all of them go out; so it should be that a party from each group goes forth in order to gain knowledge in religion, and upon returning they warn their people in the hope that they may avoid.
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں، تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah the Exalted here explains His order to Muslims to march forth with the Messenger of Allah ﷺ for the battle of Tabuk.
We should first mention that a group of the Salaf said that marching along with the Messenger ﷺ, when he went to battle, was at first obliged on all Muslims, because, as they say, Allah said,
انْفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالاً
(March forth, whether you are light or heavy) 9:41, and,
مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الاٌّعْرَابِ
(It was not becoming of the people of Al-Madinah and the bedouins of the neighborhood...) 9:120. However, they said, Allah abrogated this ruling (9:41 and 9:120) when He revealed this Ayah, 9:122. However, we could say that this Ayah explains Allah's order to participate in battle on all Arab neighborhoods, that at least a group of every tribe should march for Jihad. Those who went with the Messenger ﷺ would gain instructions and studies in the revelation that came down to him, and warn their people about that battle when they returned to them. This way, the group that went with the Prophet will achieve both goals Jihad and learning the revelation from the Prophet . After the Prophet , a group of every tribe or neighborhood should seek religious knowledge or perform Jihad, for in this case, Jihad is required from at least a part of each Muslim community. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas about the Ayah,
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً
(And it is not (proper) for the believers to go out (to fight - Jihad) all together. ) "The believers should not all go to battle and leave the Prophet alone,
فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ
(Of every troop of them, a party only should go forth) in the expeditions that the Prophet sent. When these armies returned to the Prophet, who in the meantime received revealed parts of the Qur'an from Allah, the group who remained with the Prophet would have learned that revelation from him. They would say, `Allah has revealed some parts of the Qur'an to your Prophet and we learned it.' So they learned from them what Allah revealed to His Prophet in their absence, while the Prophet sent some other men into military expeditions. Hence Allah's statement,
لِّيَتَفَقَّهُواْ فِى الدِّينِ
(that they may get instructions in religion,) so that they learn what Allah has revealed to their Prophet and teach the armies when they return,
لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
(so that they may beware.)" Mujahid said, "This Ayah was revealed about some of the Companions of the Prophet who went to the desert and were helped by its residents, had a good rainy year and called whomever they met to guidance. The people said to them, `We see that you left your companions and came to us.' They felt bad in themselves because of this and they all came back from the desert to the Prophet . Allah said,
فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ
(Of every troop of them, a party only should go forth,) those who seek righteousness such as to spread the call of Islam, while others remain behind,
لِّيَتَفَقَّهُواْ فِى الدِّينِ
(that they may get instructions in (Islamic) religion,) and learn what Allah has revealed,
وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ
(and that they may warn their people), when those who went forth returned to them,
لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
(so that they may beware (of evil).)" Qatadah said about this Ayah, "It is about when the Messenger of Allah ﷺ sent an army; Allah commanded them to go into battle, while another group remained with the Messenger of Allah ﷺ to gain instructions in the religion. Another group returns to its own people to call them (to Allah) and warn them against Allah's punishment of those who were before them." It was also said that this verse,
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً
(And it is not (proper) for the believers to go out all together.) is not about joining Jihad. They say that the Messenger of Allah ﷺ invoked Allah against Mudar to try them with years of famine, and their lands were struck by famine. The various tribes among them started to come, entire tribes at a time, to Al-Madinah, because of the hardship they faced and they would falsely claim that they are Muslims. This caused hardship for the Companions of the Messenger ﷺ and Allah revealed to him that they are not believers. The Messenger of Allah ﷺ sent them back to their tribes and warned their people not to repeat what they did. Hence Allah's statement,
وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَيْهِمْ
(and that they may warn their people when they return to them,)
نبی اکرم ﷺ کو تنہا نہ چھوڑو اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ چلنے کے متعلق تھا۔ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جب خود رسول اللہ ﷺ جہاد میں نکلیں تو آپ کا ساتھ دینا ہر ملسمان پر واجب ہے جیسے فرمایا (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41) 9۔ التوبہ :41) اور فرمایا ہے (آیت ماکان لا ھل المدینہ) یعنی ہلکے بھاری نکل کھڑے ہوجاؤ۔ مدینے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ کے پیچھے رہ جائیں۔ پس یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہوگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ قبیلوں کے نکلنے کا بیان ہے اور ہر قبیلے کی ایک جماعت کے نکلنے کا اگر وہ سب نہ جائیں تاکہ آپ کے ساتھ جانے والے آپ پر اتری ہوئی وحی کو سمجھیں اور واپس آکر اپنی قوم کو دشمن کے حالات سے باخبر کریں۔ پس انہیں دونوں باتیں اس کوچ میں حاصل ہوجائیں گی۔ اور آپ کے بعد قبیلوں میں سے جانے والی جماعت یا تو دینی سمجھ کے لیے ہوگی یا جہاد کے لیے۔ کیونکہ یہ فرض کفایہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے یہ معنی بھی مروی ہیں کہ مسلمانوں کو یہ چاہیے کہ سب کے سب چلے جائیں اور اللہ کے نبی ﷺ کو تنہا چھوڑ دیں۔ ہر جماعت میں سے چند لوگ جائیں اور آپ کی جازت سے جائیں جو باقی ہیں وہ ان کے بعد جو قرآن اترے، جو احکام بیان ہوں، انہیں سیکھیں، سمجھیں۔ جب یہ آجائیں تو انہیں سکھائیں پڑھائیں۔ اس وقت اور لوگ جائیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ مجاہد فرماتے ہیں۔ یہ ان صحابیوں کے بارے میں اتری ہے جو بادیہ نشینوں میں گئے وہاں انہیں فوائد بھی پہنچے اور نفع کی چیزیں بھی ملیں۔ اور لوگوں کو انہوں نے ہدایات بھی کیں۔ لیکن بعض لوگوں نے انہیں طعنہ دیا کہ تم لوگ اپنے ساتھیوں کے پیچھے رہ جانے والے ہو۔ وہ میدان جہاد میں گئے اور تم آرام سے یہاں ہم میں ہو۔ ان کے بھی دل میں یہ بات بیٹھ گئی وہاں سے واپس آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آئے۔ پس یہ آیت اتر اور انہیں معذور سمجھا گیا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ لشکروں کو بھیجیں تو کچھ لوگوں کو آپ کی خدمت میں ہی رہنا چاہیے کہ وہ دین سیکھیں اور کچھ لوگ جائیں اپنی قوم کو دعوت حق دیں اور انہیں اگلے واقعات سے عبرت دلائیں ضحاک فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نفس نفیس جہاد کے لیے نکلیں اس وقت سوائے معذوروں، اندھوں وغیرہ کے کسی کو حلال نہیں کہ آپ کے ساتھ نہ جائے اور جب آپ لشکروں کو روانہ فرمائیں تو کسی کو حلال نہیں کہ آپ کی اجازت بغیر جائے۔ یہ لوگ جو حضور ﷺ کے پاس رہتے تھے، اپنے ساتھیوں کو جب کہ وہ واپس لوٹتے ان کے بعد کا اترا ہوا قرآن اور بیان شدہ احکام سنا دیتے پس آپ کی موجودگی میں سب کو نہ جانا چاہیے۔ مروی ہے کہ یہ آیت جہاد کے بارے میں نہیں بلکہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبیلے مضر پر قحط سالی کی بد دعا کی اور ان کے ہاں قحط پڑا تو ان کے پورے قبیلے کے قبیلے مدینے شریف میں چلے آئے۔ یہاں جھوٹ موٹ اسلام ظاہر کر کے صحابہ پر اپنا بار ڈال دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو متنبہ کیا کہ دراصل یہ مومن نہیں۔ آپ نے انہیں ان کی جماعتوں کی طرف واپس کیا اور ان کی قوم کو ایسا کرنے سے ڈرایا۔ کہتے ہیں کہ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں آتے، دین اسلام سیکھتے واپس جا کر اپنی قوم کو اللہ رسول کی اطاعت کا حکم کرتے، نماز زکوٰۃ کے مسائل سمجھاتے، ان سے صاف فرما دیتے کہ جو اسلام قبول کرلے گا وہ ہمارا ہے ورنہ نہیں۔ یہاں تک کہ ماں باپ کو بھی چھوڑ دیتے۔ آنحضرت ﷺ انہیں مسئلے مسائل سے آگاہ کردیتے، حکم احکام سکھا پڑھا دیتے وہ اسلام کے مبلغ بن کر جاتے ماننے والوں کو خوش خبریاں دیتے، نہ ماننے والوں کو ڈراتے، عکرمہ فرماتے ہیں جب (اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ڏ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَـيْــــًٔـا ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 39) 9۔ التوبہ :39) اور آیت (مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ01200ۙ) 9۔ التوبہ :120) اتریں تو منافقوں نے کہا پھر تو بادیہ نشین لوگ ہلاک ہوگئے کہ وہ حضرت ﷺ کے ساتھ نہیں جاتے۔ بعض صحابہ بھی ان میں تعلیم و تبلیغ کے لیے گئے ہوئے تھے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور (وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِيْبَ لَهٗ حُجَّــتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ 16) 42۔ الشوری:16) بھی اتری۔ حسن بصری فرماتے ہیں کہ جو لوگ آپ ﷺ کے ساتھ گئے ہیں وہ مشرکوں پر غلبہ و نصرت دیکھ کر واپس آن کر اپنی قوم کو ڈرا دیں۔
123
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُواْ فِيكُمۡ غِلۡظَةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ
O People who Believe – fight the disbelievers who are near to you, and let them find severity in you, and know well that Allah is with the pious.
اے ایمان والو! تم کافروں میں سے ایسے لوگوں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں (یعنی جو جنگ میں تمہارے مدِ مقابل ہیں اور تمہارے خلاف براہِ راست جارحیت میں ملوث ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ تم سے دور اپنے گھروں میں ہیں یا اپنے کام کاج میں مصروف ہیں انہیں چھوڑ دو، انہیں قتل کرنے کی اِجازت نہیں ہے)، اور (جہاد ایسا اور اس وقت ہو کہ) وہ تمہارے اندر (طاقت و شجاعت اور دفاعی صلاحیت کی) سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Order for Jihad against the Disbelievers, the Closest, then the Farthest Areas
Allah commands the believers to fight the disbelievers, the closest in area to the Islamic state, then the farthest. This is why the Messenger of Allah ﷺ started fighting the idolators in the Arabian Peninsula. When he finished with them and Allah gave him control over Makkah, Al-Madinah, At-Ta'if, Yemen, Yamamah, Hajr, Khaybar, Hadramawt and other Arab provinces, and the various Arab tribes entered Islam in large crowds, he then started fighting the People of the Scriptures. He began preparations to fight the Romans who were the closest in area to the Arabian Peninsula, and as such, had the most right to be called to Islam, especially since they were from the People of the Scriptures. The Prophet marched until he reached Tabuk and went back because of the extreme hardship, little rain and little supplies. This battle occurred on the ninth year after his Hijrah. In the tenth year, the Messenger of Allah ﷺ was busy with the Farewell Hajj. The Messenger ﷺ died eighty-one days after he returned from that Hajj, Allah chose him for what He had prepared for him in Paradise. After his death, his executor, friend, and Khalifah, Abu Bakr As-Siddiq, may Allah be pleased with him, became the leader. At that time, the religion came under attack and would have been defeated, if it had not been for the fact that Allah gave the religion firmness through Abu Bakr, who established its basis and made its foundations firm. He brought those who strayed from the religion back to it, and made those who reverted from Islam return. He took the Zakah from the evil people who did not want to pay it, and explained the truth to those who were unaware of it. On behalf of the Prophet , Abu Bakr delivered what he was entrusted with. Then, he started preparing the Islamic armies to fight the Roman cross worshippers, and the Persian fire worshippers. By the blessing of his mission, Allah opened the lands for him and brought down Caesar and Kisra and those who obeyed them among the servants. Abu Bakr spent their treasures in the cause of Allah, just as the Messenger of Allah ﷺ had foretold would happen. This mission continued after Abu Bakr at the hands of he whom Abu Bakr chose to be his successor, Al-Faruq, the Martyr of the Mihrab, Abu Hafs, `Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him. With `Umar, Allah humiliated the disbelievers, suppressed the tyrants and hypocrites, and opened the eastern and western parts of the world. The treasures of various countries were brought to `Umar from near and far provinces, and he divided them according to the legitimate and accepted method. `Umar then died as a martyr after he lived a praise worthy life. Then, the Companions among the Muhajirin and Ansar agreed to chose after `Umar, `Uthman bin `Affan, Leader of the faithful and Martyr of the House, may Allah be pleased with him. During `Uthman's reign, Islam wore its widest garment and Allah's unequivocal proof was established in various parts of the world over the necks of the servants. Islam appeared in the eastern and western parts of the world and Allah's Word was elevated and His religion apparent. The pure religion reached its deepest aims against Allah's enemies, and whenever Muslims overcame an Ummah, they moved to the next one, and then the next one, crushing the tyranical evil doers. They did this in reverence to Allah's statement,
يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَاتِلُواْ الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ
(O you who believe! Fight those of the disbelievers who are close to you,) Allah said next,
وَلِيَجِدُواْ فِيكُمْ غِلْظَةً
(and let them find harshness in you), meaning, let the disbelievers find harshness in you against them in battle. The complete believer is he who is kind to his believing brother, and harsh with his disbelieving enemy. Allah said in other Ayah,
فَسَوْفَ يَأْتِى اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَـفِرِينَ
(Allah will bring a people whom He will love and they will love Him; humble towards the believers, stern towards the disbelievers...)5:54,
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ
(Muhammad is the Messenger of Allah. And those who are with him are severe against the disbelievers, and merciful among themselves.)48:29, and,
يَأَيُّهَا النَّبِىُّ جَـهِدِ الْكُفَّـرَ وَالْمُنَـفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ
(O Prophet! Strive hard against the disbelievers and the hypocrites, and be harsh against them.)9:73 Allah said,
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
(And know that Allah is with those who have Taqwa), meaning, fight the disbelievers and trust in Allah knowing that Allah is with you if you fear and obey Him. This was the case in the first three blessed generations of Islam, the best members of this Ummah. Since they were firm on the religion and reached an unsurpassed level of obedience to Allah, they consistently prevailed over their enemies. During that era, victories were abundant, and enemies were ever more in a state of utter loss and degradation. However, after the turmoil began, desires and divisions became prevalent between various Muslim kings, the enemies were eager to attack the outposts of Islam and marched into its territory without much opposition. Then, the Muslim kings were too busy with their enmity for each other. The disbelievers then marched to the capital cities of the Islamic states, after gaining control over many of its areas, in addition to entire Islamic lands. Verily, ownership of all affairs is with Allah in the beginning and in the end. Whenever a just Muslim king stood up and obeyed Allah's orders, all the while trusting in Allah, Allah helped him regain control over some Muslim lands and took back from the enemy what was compatible to his obedience and support to Allah. We ask Allah to help the Muslims gain control over the forelocks of His disbeliever enemies and to raise high the word of Muslims over all lands. Verily, Allah is Most Generous, Most Giving.
اسلامی مرکز کا استحکام اولین اصول ہے اسلامی مرکز کے متصل جو کفار ہیں، پہلے تو مسلمانوں کو ان سے نمٹنا چاہیے اسی حکم کے بموجب رسول اللہ ﷺ نے پہلے جزیرۃ العرب کو صاف کیا، یہاں غلبہ پاکر مکہ، مدینہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضرموت وغیرہ کل علاقہ فتح کر کے یہاں کے لوگوں کو اسلامی جھنڈے تلے کھڑا کر کے غزوہ روم کی تیاری کی۔ جو اول تو جزیرہ العرب سے ملحق تھا دوسرے وہاں کے رہنے والے اہل کتاب تھے۔ تبوک تک پہنچ کر حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے آگے کا عزم ترک کیا۔ یہ واقعہ009ھ کا ہے۔ دسویں سال حجۃ الوداع میں مشغول رہے۔ اور حج کے صرف اکاسی دن بعد آپ ﷺ اللہ کو پیارے ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کے نائب، دوست اور خلیفہ حضرت صدیق اکبر ؓ آئے اس وقت دین اسلام کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں کہ آپ نے انہیں مضبوط کردیا اور مسلمانوں کی ابتری کو برتری سے بدل دیا۔ دین سے بھاگنے والوں کو واپس اسلام میں لے آئے۔ مرتدوں سے دنیا خالی کی۔ ان سرکشوں نے جو زکوٰۃ روک لی تھی ان سے وصول کی جاہلوں پر حق واضح کیا۔ امانت رسول ادا کی۔ اور ان ابتدائی ضروری کاموں سے فارغ ہوتے ہی اسلامی لشرکوں کو سر زمین روم کی طرف دوڑا دیا کہ صلیب پرستوں کو ہدایت کریں۔ اور ایسے ہی جرار لشکر فارس کی طرف بھیجے کہ وہاں کے آتش کدے ٹھنڈے کریں۔ پس آپ کی سفارت کی برکت سے رب العالمین نے ہر طرف فتح عطا فرمائی۔ کسری اور قیصر خاک میں مل گئے۔ ان کے پرستار بھی غارت و برباد ہوئے، ان کے خزانے راہ اللہ میں کام آئے۔ اور جو خبر اللہ کے رسول سلام اللہ علیہ دے گئے تھے وہ پوری ہوئی۔ جو کسر رہ گئی تھی آپ کے وصی اور ولی شہید محراب حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ہاتھوں پوری ہوئی۔ کافروں اور منافقوں کی رگ ہمیشہ کے لیے کچل دی گئی۔ ان کے زور ڈھا دیئے گئے۔ اور مشرق و مغرب تک فاروقی سلطنت پھیل گئی۔ قریب و بعید سے بھر پور خزانے دربار فاروق میں آنے لگے اور شرعی طور پر حکم الٰہی کے ماتحت مسلمانوں میں مجاہدین میں تقسیم ہونے لگے۔ اس پاک نفس، پاک روح شہید کی شہادت کے بعد مہاجرین و انصار کے اجماع سے امر خلافت امیر المومنین شہید الدار حضرت عثمان بن عفان ؓ کے سپرد ہوا۔ اس وقت اسلام اپنی اصلی شان سے ظہور پذیر تھا۔ اسلام کے لمبے اور زور آور ہاتھوں نے روئے زمین پر قبضہ جما لیا تھا۔ بندوں کی گردنیں اللہ کے سامنے خم ہو چکیں تھیں۔ حجت ربانی ظاہر تھی، کلمہ الٰہی غالب تھا۔ شان عثمان اپنا کام کرتی جاتی تھی۔ آج اس کو حلقہ بگوش کیا تو کل اس کو یکے بعد دیگرے کئی ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں زیر نگیں خلافت ہوئے۔ یہی تھا اس آیت کے پہلے جملے پر عمل کہ نزدیک کے کافروں سے جہاد کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ لڑائی میں انہیں تمہارا زور بازو معلوم ہوجائے۔ کامل مومن وہ ہے جو اپنے مومن بھائی سے تو نرمی برتے لیکن اپنے دشمن کافر پر سخت ہو۔ جیسے فرمان ہے (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۡ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 54) 5۔ المآئدہ :54) یعنی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائے گا جو اس کے محبوب ہوں اور وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہوں۔ مومنوں کے سامنے تو نرم ہوں اور کافروں پر ذی عزت ہوں۔ اس طرح اور آیت میں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھ والے آپس میں نرم دل ہیں۔ کافروں پر سخت ہیں۔ ارشاد ہے (يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۭ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 73) 9۔ التوبہ :73) یعنی اے نبی ﷺ کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ حدیث میں ہے کہ میں ضحوک ہوں یعنی اپنوں میں نرمی کرنے والا اور قتال ہوں یعنی دشمنان رب سے جہاد کرنے والا۔ پھر فرماتا ہے کہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔ یعنی کافروں سے لڑو، بھروسہ اللہ پر رکھ، اور یقین مانو کہ جب تم اس سے ڈرتے رہو گے، اس کی فرماں برداری کرتے رہوگے، تو اس کی مدد و نصرت بھی تمہارے ساتھ رہے گی۔ دیکھ لو خیر کے تینوں زمانوں تک ملسمانوں کی یہی حالت رہی۔ دشمن تباہ حال اور مغلوب رہے۔ لیکن جب ان میں تقویٰ اور اطاعت کم ہوگئی۔ فتنے فساد پڑگئے، اختلاف اور خواہش پسندی شروع ہوگئی۔ تو وہ بات نہ رہی، دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں ان کی طرف اٹھیں۔ وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کھڑے ہوئے، ادھر کا رخ کیا لیکن پھر بھی مسلمان سلاطین آپس میں الجھے رہے وہ ادھرادھر سے نوالے لینے لگے۔ آخر دشمن اور بڑھے، سلطنتیں کچلنی شروع کیں، ملک فتح کرنے شروع کئے۔ آہ ! اکثر حصہ اسلامی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہی حکم اس سے پہلے تھا اور اس کے بعد بھی ہے کہ وہ پھر سے مسلمانوں کو غلبہ دے اور کافروں کی چوٹیاں ان کے ہاتھ میں دے دے۔ دنیا جہاں میں ان کا بول بالا ہو۔ اور پھر سے مشرق سے لے کر مغرب تک پرچم اسلام لہرانے لگے۔ وہ اللہ کریم وجواد ہے۔
124
View Single
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ فَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنٗاۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَزَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ
And whenever a chapter is sent down, some of them say, “Whose faith among you has this promoted?” So it has promoted the faith of the believers and they are rejoicing!
اور جب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان (منافقوں) میں سے بعض (شرارتاً) یہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کون ہے جسے اس (سورت) نے ایمان میں زیادتی بخشی ہے، پس جو لوگ ایمان لے آئے ہیں سو اس (سورت) نے ان کے ایمان کو زیادہ کردیا اور وہ (اس کیفیتِ ایمانی پر) خوشیاں مناتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Faith of the Believers increases, while Hypocrites increase in Doubts and Suspicion
Allah said,
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ
(And whenever there comes down a Surah), then among the hypocrites are,
مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـذِهِ إِيمَـناً
(some who say: "Which of you has had his faith increased by it") They say to each other, who among you had his faith increased by this Surah from the Qur'an Allah the Exalted said,
فَأَمَّا الَّذِينَ ءامَنُواْ فَزَادَتْهُمْ إِيمَـناً وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
(As for those who believe, it has increased their faith, and they rejoice.) This Ayah is one of the mightiest evidences that faith increases and decreases, as is the belief of most of the Salaf and later generations of scholars and Imams. Many scholars said that there is a consensus on this ruling. We explained this subject in detail in the beginning of the explanation of Sahih Al-Bukhari, may Allah grant him His mercy. rAllah said next,
وَأَمَّا الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ
(But as for those in whose hearts is a disease, it will add Rijs to their Rijs.) the Surah increases them in doubt, and brings more suspicion on top of the doubts and suspicion that they had before. Allah said in another Ayah,
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ
(And We send down in the Qur'an that which is a healing) 17:82, and,
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُوْلَـئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears, and it (the Qur'an) is blindness for them. They are those who are called from a place far away (so they neither listen nor understand)".)41:44 This indicates the misery of the hypocrites and disbelievers, since, what should bring guidance to their hearts is instead a cause of misguidance and destruction for them. Similarly, those who get upset by a type of food, for instance, will be upset and anxious even more if they are fed that food!
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کردیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کرلیا کرتے ہیں۔ یہ ایمانداروں کے لئے ہدایت و شفا ہے بےایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بد مزاج کو موافق نہیں آتی۔
125
View Single
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا إِلَىٰ رِجۡسِهِمۡ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
And for those in whose hearts is a disease, it has added filth to their filth, and they died as disbelievers.
اور جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے تو اس (سورت) نے ان کی خباثتِ (کفر و نفاق) پر مزید پلیدی (اور خباثت) بڑھا دی اور وہ اس حالت میں مرے کہ کافر ہی تھے
Tafsir Ibn Kathir
Faith of the Believers increases, while Hypocrites increase in Doubts and Suspicion
Allah said,
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ
(And whenever there comes down a Surah), then among the hypocrites are,
مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـذِهِ إِيمَـناً
(some who say: "Which of you has had his faith increased by it") They say to each other, who among you had his faith increased by this Surah from the Qur'an Allah the Exalted said,
فَأَمَّا الَّذِينَ ءامَنُواْ فَزَادَتْهُمْ إِيمَـناً وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
(As for those who believe, it has increased their faith, and they rejoice.) This Ayah is one of the mightiest evidences that faith increases and decreases, as is the belief of most of the Salaf and later generations of scholars and Imams. Many scholars said that there is a consensus on this ruling. We explained this subject in detail in the beginning of the explanation of Sahih Al-Bukhari, may Allah grant him His mercy. rAllah said next,
وَأَمَّا الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ
(But as for those in whose hearts is a disease, it will add Rijs to their Rijs.) the Surah increases them in doubt, and brings more suspicion on top of the doubts and suspicion that they had before. Allah said in another Ayah,
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ
(And We send down in the Qur'an that which is a healing) 17:82, and,
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُوْلَـئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears, and it (the Qur'an) is blindness for them. They are those who are called from a place far away (so they neither listen nor understand)".)41:44 This indicates the misery of the hypocrites and disbelievers, since, what should bring guidance to their hearts is instead a cause of misguidance and destruction for them. Similarly, those who get upset by a type of food, for instance, will be upset and anxious even more if they are fed that food!
فرمان الہٰی میں شک و شبہ کفر کا مرض ہے قرآن کی کوئی سورت اتری اور منافقوں نے آپس میں کانا پھوسی شروع کی کہ بتاؤ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کردیا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمانداروں کے ایمان تو اللہ کی آیتیں بڑھا دیتی ہیں۔ یہ آیت بہت بڑی دلیل ہے اس پر کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ اکثر ائمہ اور علماء کا یہی مذہب ہے، سلف کا بھی اور خلف کا بھی۔ بلکہ بہت سے بزرگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو خوب تفصیل سے شرح بخاری کے شروع میں بیان کر آئے ہیں۔ ہاں جن کے دل پہلے ہی سے شک و شبہ کی بیماری میں ہیں ان کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے لیکن کافر تو اس سے اور بھی اپنا نقصان کرلیا کرتے ہیں۔ یہ ایمانداروں کے لئے ہدایت و شفا ہے بےایمانوں کے تو کانوں میں بوجھ ہے۔ ان کی آنکھوں پر اندھاپا ہے وہ تو بہت ہی فاصلے سے پکارے جا رہے ہیں۔ یہ بھی کتنی بڑی بدبختی ہے کہ دلوں کی ہدایت کی چیز بھی ان کی ضلالت و ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے عمدہ غذا بھی بد مزاج کو موافق نہیں آتی۔
126
View Single
أَوَلَا يَرَوۡنَ أَنَّهُمۡ يُفۡتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٖ مَّرَّةً أَوۡ مَرَّتَيۡنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمۡ يَذَّكَّرُونَ
Do they not observe that they are tested once or twice every year? Yet they do not repent, nor do they heed advice!
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال میں ایک بار یا دو بار مصیبت میں مبتلا کئے جاتے ہیں پھر (بھی) وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites suffer Afflictions
Allah says, do not these hypocrites see,
أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ
(that they are put in trial), being tested,
فِى كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَتُوبُونَ وَلاَ هُمْ يَذَّكَّرُونَ
(once or twice every year Yet, they turn not in repentance, nor do they learn a lesson.) They neither repent from their previous sins nor learn a lesson for the future. Mujahid said that hypocrites are tested with drought and hunger. Allah said;
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُواْ صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُون
(And whenever there comes down a Surah, they look at one another (saying): "Does any one see you" Then they turn away. Allah has turned their hearts because they are a people that understand not.) This describes the hypocrites that when a Surah is revealed to the Messenger of Allah ﷺ,
نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ
(they look at one another), they turn their heads, right and left, saying,
هَلْ يَرَاكُمْ مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُواْ
("Does any one see you" Then they turn away. ..) turning away from, and shunning the truth. This is the description of hypocrites in this life, for they do not remain where the truth is being declared, neither accepting nor understanding it, just as Allah said in other Ayat,
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ - كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ - فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ
(Then what is wrong with them that they turn away from admonition As if they were wild donkeys. Fleeing from a lion.)74:49-51, and,
فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُواْ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ - عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ
(So what is the matter with those who disbelieve that they hasten to hear from you. (Sitting) in groups on the right and on the left.)70:36-37. This Ayah also means, what is the matter with these people who turn away from you to the right and to the left, to escape from truth and revert to falsehood Allah's statement,
ثُمَّ انصَرَفُواْ صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُم
(Then they turn away. Allah has turned their hearts (from Truth)) is similar to,
فَلَمَّا زَاغُواْ أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
(So when they turned away, Allah turned their hearts away.) 61:5. Allah said next,
بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونَ
(because they are a people that understand not. ) They neither understand Allah's Word nor attempt to comprehend it nor want it. Rather, they are too busy, turning away from it. This is why they ended up in this condition.
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضروری وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گذشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بےچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول ﷺ ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے۔ ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آرہا ہے۔ جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نے مانیں وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کردیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپروا ہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا
127
View Single
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ هَلۡ يَرَىٰكُم مِّنۡ أَحَدٖ ثُمَّ ٱنصَرَفُواْۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَفۡقَهُونَ
And whenever a chapter is sent down, one of them looks at the other; “Is there someone watching you?” – and then they turn away; Allah has inverted their hearts because they are a people who do not understand.
اورجب بھی کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں، (اور اشاروں سے پوچھتے ہیں) کہ کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر وہ پلٹ جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
Hypocrites suffer Afflictions
Allah says, do not these hypocrites see,
أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ
(that they are put in trial), being tested,
فِى كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لاَ يَتُوبُونَ وَلاَ هُمْ يَذَّكَّرُونَ
(once or twice every year Yet, they turn not in repentance, nor do they learn a lesson.) They neither repent from their previous sins nor learn a lesson for the future. Mujahid said that hypocrites are tested with drought and hunger. Allah said;
وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُواْ صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُون
(And whenever there comes down a Surah, they look at one another (saying): "Does any one see you" Then they turn away. Allah has turned their hearts because they are a people that understand not.) This describes the hypocrites that when a Surah is revealed to the Messenger of Allah ﷺ,
نَّظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ
(they look at one another), they turn their heads, right and left, saying,
هَلْ يَرَاكُمْ مِّنْ أَحَدٍ ثُمَّ انصَرَفُواْ
("Does any one see you" Then they turn away. ..) turning away from, and shunning the truth. This is the description of hypocrites in this life, for they do not remain where the truth is being declared, neither accepting nor understanding it, just as Allah said in other Ayat,
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ - كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ - فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ
(Then what is wrong with them that they turn away from admonition As if they were wild donkeys. Fleeing from a lion.)74:49-51, and,
فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُواْ قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ - عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ
(So what is the matter with those who disbelieve that they hasten to hear from you. (Sitting) in groups on the right and on the left.)70:36-37. This Ayah also means, what is the matter with these people who turn away from you to the right and to the left, to escape from truth and revert to falsehood Allah's statement,
ثُمَّ انصَرَفُواْ صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُم
(Then they turn away. Allah has turned their hearts (from Truth)) is similar to,
فَلَمَّا زَاغُواْ أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
(So when they turned away, Allah turned their hearts away.) 61:5. Allah said next,
بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَفْقَهُونَ
(because they are a people that understand not. ) They neither understand Allah's Word nor attempt to comprehend it nor want it. Rather, they are too busy, turning away from it. This is why they ended up in this condition.
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضروری وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گذشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بےچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول ﷺ ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے۔ ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آرہا ہے۔ جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نے مانیں وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔ حق کو سنا اور دائیں بائیں کھسک گئے۔ ان کی اس بےایمانی کا بدلہ یہی ہے کہ اللہ نے ان کے دل بھی حق سے پھیر دیئے۔ ان کی کجی نے ان کے دل بھی ٹیرھے کردیئے۔ یہ بدلہ ہے اللہ کے خطاب کو بےپروا ہی کر کے نہ سمجھنے کا اس سے بھاگنے اور منہ موڑ لینے کا
128
View Single
لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُم بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ
Indeed there has come to you a Noble Messenger from among you – your falling into hardship aggrieves him, most concerned for your well being, for the Muslims most compassionate, most merciful.
بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لئے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
«بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَة»
(I was sent with the easy Hanifiyah monotheism way.) An authenic Hadith mentions,
«إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْر»
(Verily, this religion is easy) and its Law is all easy, lenient and perfect. It is easy for those whom Allah the Exalted makes it easy.)
حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ
(He is eager for you), that you gain guidance and acquire benefits in this life and the Hereafter. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ، أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ أَوِ الذُّبَاب»
(Verily, every matter that Allah has prohibited, He knows that some among you will breach it; but I am indeed holding you by the waist so that you do not fall in the Fire, just like butterflies and flies.) Allah's statement next,
بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful.) 9:128, is similar to His other statement,
وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ - وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And be kind and humble to the believers who follow you. Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do." And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful) 26:215-217. Allah the Exalted commanded His Messenger in this honorable Ayah,
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(But if they turn away), from the glorious, pure, perfect and encompassing Law that you -- O Muhammad -- brought them,
فَقُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(then say: "Allah is sufficient for me. There is no God but He,) Allah is sufficient for me, there is no deity worthy of worship except Him, and in Him I put my trust. Similarly, Allah said,
رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً
((He alone is) the Lord of the east and the west; there is no God but He. So take Him alone as a guardian.) 73:9. Allah said next,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves ...) 9:128" until the end of the Surah It is recorded in the Sahih that Zayd bin Thabit said, "I found the last Ayah in Surah Bara'ah with Khuzaymah bin Thabit." This is the end of Surah Bara'ah, all praise is due to Allah.
وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(and He is the Lord of the Mighty Throne) 9:129. He is the King and Creator of all things, and He is the Lord of the Mighty Throne (`Arsh), which is above all creation; all that is in and between the heavens and earths is under the Throne (`Arsh) and subservient to Allah's power. His knowledge encompasses all things, and His decision will certainly come to pass over all matters. He is the guardian of all things. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that Ubayy bin Ka`b said, "The last Ayah revealed from the Qur'an was this Ayah,
لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ
(Verily, there has come unto you a Messenger f rom among yourselves . . . )until the endof the Surah It is recorded in the Sahih that Zayd bin Thabit said, "I found the last Ayah in Surah Bara'ah with Khuzaymah bin Thabit . " This is the end of Surah Bara'ah, all praise is due to Allah.
رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہیں مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ حضرت خلیل اللہ نے یہی دعا کی تھی۔ اسی کا بیان (آیت لقد من اللّٰہ الخ) میں ہے۔ یہی حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں اور یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہمیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔ خود آپ کا فرمان ہے کہ حضرت آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی جاہلیت کی زنا کاری وغیرہ نہیں پہنچی، میں صحیح النسب ہوں۔ پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسان نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں۔ جو بہت آسان ہے۔ سہل ہے، کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے۔ وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں، وہ دنیاوی اخروی نفع تمہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے اس حال میں چھوڑا کہ جو پرند اڑ کر نکلتا اس کا علم بھی آپ ہمیں کردیتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی تمام چیزیں میں تم سے بیان کرچکا ہوں۔ آپ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کچھ حرام کیا ہے وہ عنقریب تم پر ظاہر کردینے والا ہے اور اس کی باز پرس قطعاً ہونے والی ہے۔ جس طرح پتنگے اور پروانے آگ پر گرتے ہوں اس طرح تم بھی گر رہے ہو اور میں تمہاری کو لیاں بھر بھر کر تمہیں اس سے روک رہا ہوں۔ حضور ﷺ سوئے ہوئے ہیں جو دو فرشتے آتے ہیں ایک پاؤں کی طرف بیٹھتا ہے دوسرا سرہانے۔ پھر پاؤں والا سرہانے والے سے کہتا ہے۔ اس کی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو اس نے فرمایا یہ مثال سمجھو کہ ایک قوم سفر میں ہے، ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے جہان ان کا سامان خوراک ختم ہوجاتا ہے اب نہ تو آگے بڑھنے کی قوت، نہ پیچھے ہٹنے کی سکت۔ ایسے وقت ایک بھلا آدمی اچھے لباس والا ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس بیابان سے چھٹکارا دلا کر ایسی جگہ پہنچا سکتا ہوں جہاں تمہیں نتھرے ہوئے پانی کے لبالب حوض اور میووں کے لدے ہوئے درخت اور ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں ملیں بشرطیکہ تم میرے پیچھے ہو لو۔ انہوں نے اس کی بات کو مان لیا اور وہ انہیں ایسی ہی جگہ لے گیا وہاں انہوں نے کھایا پیا اور خوب پھلے پھولے۔ اب اس نے کہا۔ دیکھو میں نے تمہیں اس بھوک پیاس سے نجات دلائی اور یہاں امن چین میں لایا۔ اب ایک اور بات تم سے کہتا ہوں وہ بھی مانو۔ اس سے آگے اس سے بھی بہتر جگہ ہے وہاں کے حوض، وہاں کے میوے وہاں کے کھیت، اس سے بہت ہی اعلیٰ ہیں۔ ایک جماعت نے تو اسے سچا مانا اور ہاں کرلی۔ لیکن دوسرے گروہ نے اسی پر بس کرلیا اور اسکی تابعداری سے ہٹ گئے (مسند احمد) اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجے۔ آؤ ایک واقعہ آپ کی کمال شفقت کا سنو ! ایک اعرابی رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور خون بہا ادا کرنے کے لیے آپ سے امداد طلب کی۔ آپ نے اسے بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کیوں صاحب میں نے تم سے سلوک کیا ؟ اس نے کہاں کچھ بھی نہیں اس سے کیا ہوگا ؟ صحابہ بہت بگڑے۔ قریب تھا کہ اسے لپٹ جائیں کہ اتنا لینے پر بھی یہ ناشکری کرتا ہے ؟ اور حضور ﷺ کے سوال کا ایسا غلط اور گستاخانہ جواب دیتا ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں روک دیا، گھر پر تشریف لے گئے۔ وہیں اسے بلوا لیا۔ سارا واقعہ کہہ سنایا پھر اسے اور بھی بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کہو اب تو خوش ہو ؟ اس نے کہاں ہاں اب دل سے راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اہل و عیال میں ہم سب کی طرف سے نیک بدلہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو ! تم آئے۔ تم نے مجھ سے مانگا، میں نے دیا پھر میں نے تم سے پوچھا کہ خوش ہو ؟ تو تم نے الٹا پلٹا جواب دیا جس سے میرے صحابی تم سے نالاں ہیں۔ اب میں نے پھر دے دلا کر تمہیں راضی کرلیا۔ اب تم ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنی رضامندی ظاہر کرنا جیسے اب تم نے میرے سامنے کی ہے تاکہ ان کا رنج بھی دور ہوجائے۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ چناچہ جب وہ صحابہ کے مجمع میں آپ کے پاس آیا آپ نے فرمایا دیکھو یہ شخص آیا تھا اس نے مجھ سے مانگا تھا، میں نے ایسے دیا تھا، پھر اس سے پوچھا تھا، تو اس نے ایسا جواب دیا تھا جو تمہیں ناگوار گزرا۔ میں نے اسے پھر اپنے گھر بلوایا اور زیادہ دیا تو یہ خوش ہوگیا۔ کیوں بھئی اعرابی یہی بات ہے ؟ اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے اہل و عیال اور قبیلے کی طرف سے بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مجھ سے بہت اچھا سلوک کیا۔ جزاک اللہ اس وقت آپ نے فرمایا میری اور اس اعرابی کی مثال سنو ! جیسے وہ شخص جس کی اونٹنی بھاگ گئی لوگ اس کے پکڑنے کو دوڑے وہ ان سے بدک کر اور بھاگنے لگی۔ آخر اوٹنی والے نے کہا لوگو تم ایک طرف ہٹ جاؤ مجھے اور میری اوٹنی کو چھوڑ دو ، اس کی خو خصلت سے میں واقف ہوں اور یہ میری ہی ہے۔ چناچہ اس نے نرمی سے اسے بلانا شروع کیا۔ زمین سے گھانس پھونس توڑ کر اپنی مٹھی میں لے کر اسے دکھایا اور اپنی طرف بلایا، وہ آگئی۔ اس نے اس کی نکیل تھام لی اور پالان و کجاوہ ڈال دیا۔ سنو ! اس کے پہلی دفعہ کے بگڑنے پر اگر میں بھی تمہارا ساتھ دیتا تو یہ جہنمی بن جاتا۔ ابراہیم بن حکم بن ابان کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اے نبی مومنوں کے سامنے اپنا بازو پست رکھو۔ لوگ میری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بری ہوں۔ تو ہمیشہ اپنا بھروسہ رب عزیز و رحیم پر رکھ۔ منحریفین شریعت سے آپ بےنیاز ہو جائیں یہاں بھی فرماتا ہے اگر یہ لوگ تیری شریعت سے منہ پھیر لیں تو تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ جیسے فرمان ہے مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز ٹھہرا۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ یعنی ہر چیز کا مالک و خالق وہی ہے۔ عرش عظیم تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ آسمان و زمین اور کل کائنات بقدرت رب عرش تلے ہے۔ اس اللہ کا علم ہر چیز پر شامل ہے اور ہر چیز کو اپنے احاطے میں کئے ہوئے ہے۔ اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے وہ ہر ایک کا کارساز ہے۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔ مروی ہے کہ جب خلافت صدیقی میں قرآن کو جمع کیا تو کاتبوں کو حضرت ابی بن کعب لکھواتے تھے، جب اس سے پہلے کی (آیت لایفقھون) تک پہنچے تو کہنے لگے کہ یہی آخری آیت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو آیتیں اور پڑھوائیں ہیں۔ پھر آپ نے ان دونوں آیتوں کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قرآن کی آخری آیتیں یہ ہیں۔ پس ختم بھی اسی پر ہوا جس پر شروع ہوا تھا یعنی لا الہ الا اللہ پر۔ یہی وحی تمام نبیوں پر آتی رہی ہے کہ میرے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ تم سب میری ہی عبادت کرو۔ یہ روایت بھی غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت حارث بن خزیمہ ؓ ان دونوں آیتوں کو لے کر آئے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہیں اور مجھے خوب اچھی طرح حفظ ہیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے گواہی دی کہ میں نے بھی انہیں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ یہ گواہی سن کر آپ نے فرمایا اگر ان کے ساتھ تیسری آیت بھی ہوتی تو میں اسے علیحدہ سورت بنا لیتا تم انہیں قرآن کی کسی سورت کے ساتھ لکھ لو۔ چناچہ سورة براۃ کے آخر میں یہ لکھ لی گئیں۔ پہلے یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ہی قرآن کے جمع کرنے کا مشورہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دیا تھا اور بحکم خلیفہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے اسے جمع کرنا شروع کیا۔ اس جماعت میں حضرت عمر ؓ بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے حضرت زید فرماتے ہیں۔ سورة برات کا آخری حصہ میں نے خزیمہ بن ثابت یا ابو خزیمہ کے پاس پایا۔ یہ بھی ہم لکھ آئے ہیں کہ ایک جماعت صحابہ نے اس کا مذاکرہ رسول اللہ ﷺ کے روبرو کیا جیسے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت نے کہا تھا۔ جب کہ ان کے سامنے اس کی ابتدائی بات کہی تھی۔ واللہ اعلم۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص صبح شام (آیت حسبی اللہ لا الہ الا ہو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم) کو سات سات مرتبہ پڑھ لے اللہ تعالیٰ اسے اس کی تمام پریشانیوں سے نجات دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ خواہ صداقت سے پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو لیکن یہ زیادتی غریب ہے۔ ایک مرفوع روایت بھی اسی قسم کی ہے لیکن وہ بہت منکر ہے واللہ اعلم۔
129
View Single
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُلۡ حَسۡبِيَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ
Then if they turn away, say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Allah suffices me; there is no worship except for Him; only Him have I trusted, and He is the Lord Of The Great Throne.”
اگر (ان بے پناہ کرم نوازیوں کے باوجود) پھر (بھی) وہ روگردانی کریں تو فرما دیجئے: مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اسی پر بھروسہ کئے ہوئے ہوں اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے
Tafsir Ibn Kathir
«بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَة»
(I was sent with the easy Hanifiyah monotheism way.) An authenic Hadith mentions,
«إِنَّ هَذَا الدِّينَ يُسْر»
(Verily, this religion is easy) and its Law is all easy, lenient and perfect. It is easy for those whom Allah the Exalted makes it easy.)
حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ
(He is eager for you), that you gain guidance and acquire benefits in this life and the Hereafter. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ، أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ أَوِ الذُّبَاب»
(Verily, every matter that Allah has prohibited, He knows that some among you will breach it; but I am indeed holding you by the waist so that you do not fall in the Fire, just like butterflies and flies.) Allah's statement next,
بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
(for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful.) 9:128, is similar to His other statement,
وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ - وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And be kind and humble to the believers who follow you. Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do." And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful) 26:215-217. Allah the Exalted commanded His Messenger in this honorable Ayah,
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(But if they turn away), from the glorious, pure, perfect and encompassing Law that you -- O Muhammad -- brought them,
فَقُلْ حَسْبِىَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(then say: "Allah is sufficient for me. There is no God but He,) Allah is sufficient for me, there is no deity worthy of worship except Him, and in Him I put my trust. Similarly, Allah said,
رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً
((He alone is) the Lord of the east and the west; there is no God but He. So take Him alone as a guardian.) 73:9. Allah said next,
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ
(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves ...) 9:128" until the end of the Surah It is recorded in the Sahih that Zayd bin Thabit said, "I found the last Ayah in Surah Bara'ah with Khuzaymah bin Thabit." This is the end of Surah Bara'ah, all praise is due to Allah.
وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(and He is the Lord of the Mighty Throne) 9:129. He is the King and Creator of all things, and He is the Lord of the Mighty Throne (`Arsh), which is above all creation; all that is in and between the heavens and earths is under the Throne (`Arsh) and subservient to Allah's power. His knowledge encompasses all things, and His decision will certainly come to pass over all matters. He is the guardian of all things. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said that Ubayy bin Ka`b said, "The last Ayah revealed from the Qur'an was this Ayah,
لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ
(Verily, there has come unto you a Messenger f rom among yourselves . . . )until the endof the Surah It is recorded in the Sahih that Zayd bin Thabit said, "I found the last Ayah in Surah Bara'ah with Khuzaymah bin Thabit . " This is the end of Surah Bara'ah, all praise is due to Allah.
رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہیں مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ حضرت خلیل اللہ نے یہی دعا کی تھی۔ اسی کا بیان (آیت لقد من اللّٰہ الخ) میں ہے۔ یہی حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں اور یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہمیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔ خود آپ کا فرمان ہے کہ حضرت آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی جاہلیت کی زنا کاری وغیرہ نہیں پہنچی، میں صحیح النسب ہوں۔ پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسان نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں۔ جو بہت آسان ہے۔ سہل ہے، کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے۔ وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں، وہ دنیاوی اخروی نفع تمہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے اس حال میں چھوڑا کہ جو پرند اڑ کر نکلتا اس کا علم بھی آپ ہمیں کردیتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ جنت سے قریب کرنے والی اور جہنم سے دور کرنے والی تمام چیزیں میں تم سے بیان کرچکا ہوں۔ آپ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جو کچھ حرام کیا ہے وہ عنقریب تم پر ظاہر کردینے والا ہے اور اس کی باز پرس قطعاً ہونے والی ہے۔ جس طرح پتنگے اور پروانے آگ پر گرتے ہوں اس طرح تم بھی گر رہے ہو اور میں تمہاری کو لیاں بھر بھر کر تمہیں اس سے روک رہا ہوں۔ حضور ﷺ سوئے ہوئے ہیں جو دو فرشتے آتے ہیں ایک پاؤں کی طرف بیٹھتا ہے دوسرا سرہانے۔ پھر پاؤں والا سرہانے والے سے کہتا ہے۔ اس کی اور اس کی امت کی مثال بیان کرو اس نے فرمایا یہ مثال سمجھو کہ ایک قوم سفر میں ہے، ایک چٹیل میدان میں پہنچتی ہے جہان ان کا سامان خوراک ختم ہوجاتا ہے اب نہ تو آگے بڑھنے کی قوت، نہ پیچھے ہٹنے کی سکت۔ ایسے وقت ایک بھلا آدمی اچھے لباس والا ان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس بیابان سے چھٹکارا دلا کر ایسی جگہ پہنچا سکتا ہوں جہاں تمہیں نتھرے ہوئے پانی کے لبالب حوض اور میووں کے لدے ہوئے درخت اور ہری بھری لہلہاتی کھیتیاں ملیں بشرطیکہ تم میرے پیچھے ہو لو۔ انہوں نے اس کی بات کو مان لیا اور وہ انہیں ایسی ہی جگہ لے گیا وہاں انہوں نے کھایا پیا اور خوب پھلے پھولے۔ اب اس نے کہا۔ دیکھو میں نے تمہیں اس بھوک پیاس سے نجات دلائی اور یہاں امن چین میں لایا۔ اب ایک اور بات تم سے کہتا ہوں وہ بھی مانو۔ اس سے آگے اس سے بھی بہتر جگہ ہے وہاں کے حوض، وہاں کے میوے وہاں کے کھیت، اس سے بہت ہی اعلیٰ ہیں۔ ایک جماعت نے تو اسے سچا مانا اور ہاں کرلی۔ لیکن دوسرے گروہ نے اسی پر بس کرلیا اور اسکی تابعداری سے ہٹ گئے (مسند احمد) اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجے۔ آؤ ایک واقعہ آپ کی کمال شفقت کا سنو ! ایک اعرابی رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور خون بہا ادا کرنے کے لیے آپ سے امداد طلب کی۔ آپ نے اسے بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کیوں صاحب میں نے تم سے سلوک کیا ؟ اس نے کہاں کچھ بھی نہیں اس سے کیا ہوگا ؟ صحابہ بہت بگڑے۔ قریب تھا کہ اسے لپٹ جائیں کہ اتنا لینے پر بھی یہ ناشکری کرتا ہے ؟ اور حضور ﷺ کے سوال کا ایسا غلط اور گستاخانہ جواب دیتا ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں روک دیا، گھر پر تشریف لے گئے۔ وہیں اسے بلوا لیا۔ سارا واقعہ کہہ سنایا پھر اسے اور بھی بہت کچھ دیا۔ پھر پوچھا کہو اب تو خوش ہو ؟ اس نے کہاں ہاں اب دل سے راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اہل و عیال میں ہم سب کی طرف سے نیک بدلہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو ! تم آئے۔ تم نے مجھ سے مانگا، میں نے دیا پھر میں نے تم سے پوچھا کہ خوش ہو ؟ تو تم نے الٹا پلٹا جواب دیا جس سے میرے صحابی تم سے نالاں ہیں۔ اب میں نے پھر دے دلا کر تمہیں راضی کرلیا۔ اب تم ان کے سامنے بھی اسی طرح اپنی رضامندی ظاہر کرنا جیسے اب تم نے میرے سامنے کی ہے تاکہ ان کا رنج بھی دور ہوجائے۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ چناچہ جب وہ صحابہ کے مجمع میں آپ کے پاس آیا آپ نے فرمایا دیکھو یہ شخص آیا تھا اس نے مجھ سے مانگا تھا، میں نے ایسے دیا تھا، پھر اس سے پوچھا تھا، تو اس نے ایسا جواب دیا تھا جو تمہیں ناگوار گزرا۔ میں نے اسے پھر اپنے گھر بلوایا اور زیادہ دیا تو یہ خوش ہوگیا۔ کیوں بھئی اعرابی یہی بات ہے ؟ اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے اہل و عیال اور قبیلے کی طرف سے بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آپ نے مجھ سے بہت اچھا سلوک کیا۔ جزاک اللہ اس وقت آپ نے فرمایا میری اور اس اعرابی کی مثال سنو ! جیسے وہ شخص جس کی اونٹنی بھاگ گئی لوگ اس کے پکڑنے کو دوڑے وہ ان سے بدک کر اور بھاگنے لگی۔ آخر اوٹنی والے نے کہا لوگو تم ایک طرف ہٹ جاؤ مجھے اور میری اوٹنی کو چھوڑ دو ، اس کی خو خصلت سے میں واقف ہوں اور یہ میری ہی ہے۔ چناچہ اس نے نرمی سے اسے بلانا شروع کیا۔ زمین سے گھانس پھونس توڑ کر اپنی مٹھی میں لے کر اسے دکھایا اور اپنی طرف بلایا، وہ آگئی۔ اس نے اس کی نکیل تھام لی اور پالان و کجاوہ ڈال دیا۔ سنو ! اس کے پہلی دفعہ کے بگڑنے پر اگر میں بھی تمہارا ساتھ دیتا تو یہ جہنمی بن جاتا۔ ابراہیم بن حکم بن ابان کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اے نبی مومنوں کے سامنے اپنا بازو پست رکھو۔ لوگ میری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بری ہوں۔ تو ہمیشہ اپنا بھروسہ رب عزیز و رحیم پر رکھ۔ منحریفین شریعت سے آپ بےنیاز ہو جائیں یہاں بھی فرماتا ہے اگر یہ لوگ تیری شریعت سے منہ پھیر لیں تو تو کہہ دے کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرا توکل اسی کی پاک ذات پر ہے۔ جیسے فرمان ہے مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز ٹھہرا۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ یعنی ہر چیز کا مالک و خالق وہی ہے۔ عرش عظیم تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ آسمان و زمین اور کل کائنات بقدرت رب عرش تلے ہے۔ اس اللہ کا علم ہر چیز پر شامل ہے اور ہر چیز کو اپنے احاطے میں کئے ہوئے ہے۔ اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے وہ ہر ایک کا کارساز ہے۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں سب سے آخری آیت قرآن کی یہی ہے۔ مروی ہے کہ جب خلافت صدیقی میں قرآن کو جمع کیا تو کاتبوں کو حضرت ابی بن کعب لکھواتے تھے، جب اس سے پہلے کی (آیت لایفقھون) تک پہنچے تو کہنے لگے کہ یہی آخری آیت ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو آیتیں اور پڑھوائیں ہیں۔ پھر آپ نے ان دونوں آیتوں کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ قرآن کی آخری آیتیں یہ ہیں۔ پس ختم بھی اسی پر ہوا جس پر شروع ہوا تھا یعنی لا الہ الا اللہ پر۔ یہی وحی تمام نبیوں پر آتی رہی ہے کہ میرے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ تم سب میری ہی عبادت کرو۔ یہ روایت بھی غریب ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت حارث بن خزیمہ ؓ ان دونوں آیتوں کو لے کر آئے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہیں اور مجھے خوب اچھی طرح حفظ ہیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے گواہی دی کہ میں نے بھی انہیں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ یہ گواہی سن کر آپ نے فرمایا اگر ان کے ساتھ تیسری آیت بھی ہوتی تو میں اسے علیحدہ سورت بنا لیتا تم انہیں قرآن کی کسی سورت کے ساتھ لکھ لو۔ چناچہ سورة براۃ کے آخر میں یہ لکھ لی گئیں۔ پہلے یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ہی قرآن کے جمع کرنے کا مشورہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دیا تھا اور بحکم خلیفہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے اسے جمع کرنا شروع کیا۔ اس جماعت میں حضرت عمر ؓ بھی آمد و رفت رکھتے تھے۔ صحیح حدیث میں ہے حضرت زید فرماتے ہیں۔ سورة برات کا آخری حصہ میں نے خزیمہ بن ثابت یا ابو خزیمہ کے پاس پایا۔ یہ بھی ہم لکھ آئے ہیں کہ ایک جماعت صحابہ نے اس کا مذاکرہ رسول اللہ ﷺ کے روبرو کیا جیسے کہ حضرت خزیمہ بن ثابت نے کہا تھا۔ جب کہ ان کے سامنے اس کی ابتدائی بات کہی تھی۔ واللہ اعلم۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص صبح شام (آیت حسبی اللہ لا الہ الا ہو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم) کو سات سات مرتبہ پڑھ لے اللہ تعالیٰ اسے اس کی تمام پریشانیوں سے نجات دے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ خواہ صداقت سے پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو لیکن یہ زیادتی غریب ہے۔ ایک مرفوع روایت بھی اسی قسم کی ہے لیکن وہ بہت منکر ہے واللہ اعلم۔
Jump to Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129