الشعراء — Ash shuara
Ayah 61 / 227 • Meccan
1,149
61
Ash shuara
الشعراء • Meccan
فَلَمَّا تَرَـٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَكُونَ
And when the two groups saw each other, those with Moosa said, “They have caught us.”
پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
طسٓمٓ
Ta-Seen-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)
طا، سین، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ
These are verses of the clear Book.
یہ (حق کو) واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
لَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ أَلَّا يَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ
Possibly you may risk your life (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) by grieving, because they did not believe.
(اے حبیبِ مکرّم!) شاید آپ (اس غم میں) اپنی جانِ (عزیز) ہی دے بیٹھیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
إِن نَّشَأۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ءَايَةٗ فَظَلَّتۡ أَعۡنَٰقُهُمۡ لَهَا خَٰضِعِينَ
If We will, We can send down on them a sign from the sky so that their leaders would remain bowed before it.
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے (ایسی) نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی رہ جائیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ مُحۡدَثٍ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهُ مُعۡرِضِينَ
And never does a new advice come to them from the Most Gracious, but they turn away from it.
اور ان کے پاس (خدائے) رحمان کی جانب سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگرداں ہو جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
فَقَدۡ كَذَّبُواْ فَسَيَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَـٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
Indeed they have denied, so now soon coming upon them are the tidings of what they used to scoff at.
سو بیشک وہ (حق کو) جھٹلا چکے پس عنقریب انہیں اس امر کی خبریں پہنچ جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَمۡ أَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجٖ كَرِيمٍ
Have they not seen the earth, that how many honourable pairs We have created in it?
اور کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزیں اگائی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
Indeed in this is a sign; and most of them will not accept faith.
بیشک اس میں ضرور (قدرتِ الٰہیہ کی) نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord – indeed only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور یقیناً آپ کا رب ہی تو غالب، مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an and the Disbelievers turning away;
They could be compelled to believe if Allah so willed At the beginning of the explanation of Surat Al-Baqarah we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. Allah's saying:
تِلْكَ ءايَاتُ الْكِتَـبِ الْمُبِينِ
(These are the Ayat of the Book Mubin.) means, these are the verses of the Clear Qur'an, i.e. the clear and unambiguous Book which distinguishes between truth and falsehood, misguidance and guidance.
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, destroy yourself -- because of your keenness that they should be guided and your grief for them.
أَلاَّ يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(that they do not become believers.) Here Allah is consoling His Messenger for the lack of faith of those among the disbelievers who do not believe in him. This is like the Ayat:
فَلاَ تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَتٍ
(So destroy not yourself in sorrow for them) (35:8).
فَلَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى ءَاثَـرِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُواْ بِهَـذَا الْحَدِيثِ أَسَفاً
(Perhaps, you would Bakhi` yourself, over their footsteps, because they believe not in this narration) (18:6). Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, `Atiyyah, Ad-Dahhak, Al-Hasan and others said that:
لَعَلَّكَ بَـخِعٌ نَّفْسَكَ
(It may be that you are going Bakhi` yourself,) means, `kill yourself.' Then Allah says:
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ ءَايَةً فَظَلَّتْ أَعْنَـقُهُمْ لَهَا خَـضِعِينَ
(If We will, We could send down to them from the heaven a sign, to which they would bend their necks in humility.) meaning, `if We so willed, We could send down a sign that would force them to believe, but We will not do that because We do not want anyone to believe except by choice.' Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُواْ مُؤْمِنِينَ
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together. So, will you then compel mankind, until they become believers.) (10:99)
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made mankind one Ummah...) (11:118) But Allah's will has acted, His decree has come to pass, and His proof has been conveyed to mankind by mission of Messengers and the revelation of Books to them. Then Allah says:
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ إِلاَّ كَانُواْ عَنْهُ مُعْرِضِينَ
(And never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious, but they turn away therefrom.) meaning, every time a Scripture comes from heaven to them, most of the people turn away from it. As Allah says:
وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)
يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(Alas for mankind! There never came a Messenger to them but they used to mock at him.) (36:30)
ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ
(Then We sent Our Messengers in succession. Every time there came to a nation their Messenger, they denied him...) (23:44). Allah says here:
فَقَدْ كَذَّبُواْ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَـؤُا مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(So, they have indeed denied, then the news of what they mocked at will come to them.) meaning, they denied the truth that came to them, so they will come to know the news of the consequences of this denial after a while.
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned) (26:227). Then Allah tells those who dared to oppose His Messenger and disbelieve in His Book, that He is the Subduer, the Almighty, the All-Powerful, Who created the earth and caused every good kind of crop, fruit and animal to grow therein. Sufyan Ath-Thawri narrated from a man from Ash-Sha`bi that people are a product of the earth. So whoever enters Paradise is good and noble, and whoever enters Hell is base and vile.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is an Ayah,) meaning an evidence of the power of the Creator of all things. He spread out the earth and raised the canopy of the heavens, yet despite that the majority of people do not believe, rather they deny Him, His Messengers, and His Books, and they go against His commands doing the things He had prohibited. His saying:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ
(And verily your Lord, He is truly the All-Mighty,) means, the One Who has power over all things, to subdue and control them,
الرَّحِيمِ
(the Most Merciful. ) means, towards His creation, for He does not hasten to punish the one who sins, but He gives him time to repent, and if he does not, then He seizes him with a mighty punishment. Abu Al-`Aliyah, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Ishaq said: "He is Almighty in His punishment of those who went against His commands and worshipped others besides Him." Sa`id bin Jubayr said: "He is Most Merciful towards those who repent to Him and turn to Him."
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 99) 10۔ یونس :99) اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہوجائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا ؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہوجائیں۔ اور آیت میں ہے اگر تیر رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ یہ اختلاف دین و مذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اسکی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کردی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کردیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بےایمان ہی رہیں گے۔ سورة یاسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے انکے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ اور آیت میں ہے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی۔ یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ نبی آخرالزمان کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں ؟ پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بےجان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ شعبی رحمۃ اللہ علی فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔ اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کردیا۔ باوجود اسکے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اسکے نبیوں کو جھوٹاکہتے ہیں اسکی کتابوں کو نہیں مانتے اسکے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہر چیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آجائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اسکی طرف جھکے اور اسکا فرمانبردار ہوجائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم وکرم کرتا ہے۔
10
View Single
وَإِذۡ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱئۡتِ ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
And (remember) when your Lord said to Moosa, “Go to the unjust people.”
اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی (علیہ السلام) کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤ
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
11
View Single
قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَۚ أَلَا يَتَّقُونَ
“The nation of Firaun; will they not fear?”
(یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
12
View Single
قَالَ رَبِّ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ
He said, “My Lord, I fear that they will deny me.”
موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
13
View Single
وَيَضِيقُ صَدۡرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرۡسِلۡ إِلَىٰ هَٰرُونَ
“I feel hesitant, and my tongue does not speak fast, therefore make Haroon also a Noble Messenger.”
اور (ایسے ناسازگار ماحول میں) میرا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور میری زبان (روانی سے) نہیں چلتی سو ہارون (علیہ السلام) کی طرف (بھی جبرائیل علیہ السلام کو وحی کے ساتھ) بھیج دے (تاکہ وہ میرا معاون بن جائے)
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
14
View Single
وَلَهُمۡ عَلَيَّ ذَنۢبٞ فَأَخَافُ أَن يَقۡتُلُونِ
“And they have an accusation against me, so I fear that they may kill me.”
اور ان کا میرے اوپر (قبطی کو مار ڈالنے کا) ایک الزام بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
15
View Single
قَالَ كَلَّاۖ فَٱذۡهَبَا بِـَٔايَٰتِنَآۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسۡتَمِعُونَ
He said, “Not like this (any more); both of you go with Our signs, We are with you, All Hearing.”
ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
16
View Single
فَأۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“Therefore approach Firaun then proclaim, ‘We both are Noble Messengers of the Lord Of The Creation.’
پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
17
View Single
أَنۡ أَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
‘That you let the Descendants of Israel go with us.’”
(ہمارا مدعا یہ ہے) کہ تو بنی اسرائیل کو (آزادی دے کر) ہمارے ساتھ بھیج دے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
18
View Single
قَالَ أَلَمۡ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدٗا وَلَبِثۡتَ فِينَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِينَ
Said Firaun, “Did we do not raise you amongst us, as a child? And you spent many years of your life among us!”
(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
19
View Single
وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ ٱلَّتِي فَعَلۡتَ وَأَنتَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
“And you committed the deed of yours that you committed, and you were ungrateful.”
اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
20
View Single
قَالَ فَعَلۡتُهَآ إِذٗا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ
Said Moosa, “I did that at a time when I was unaware of the consequences.” (In anger – See verse 28:15)
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: جب میں نے وہ کام کیا میں بے خبر تھا (کہ کیا ایک گھونسے سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
21
View Single
فَفَرَرۡتُ مِنكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكۡمٗا وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
“I therefore went away from you as I feared you – so my Lord commanded me and appointed me as one of the Noble Messengers.”
پھر میں (اس وقت) تمہارے (دائرہ اختیار) سے نکل گیا جب میں تمہارے (ارادوں) سے خوفزدہ ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکمِ (نبوت) بخشا اور (بالآخر) مجھے رسولوں میں شامل فرما دیا
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
22
View Single
وَتِلۡكَ نِعۡمَةٞ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنۡ عَبَّدتَّ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
“And is this some great reward for which you express favour upon me – that you have enslaved the Descendants of Israel?”
اور کیا وہ (کوئی) بھلائی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (اس کا سبب بھی یہ تھا) کہ تو نے (میری پوری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa and Fir`awn
Allah tells us what He commanded His servant, son of `Imran and Messenger Musa, peace be upon him, who spoke with Him, to do, when He called him from the right side of the mountain, and conversed with him, and chose him, sent him, and commanded him to go to Fir`awn and his people. Allah says:
وَإِذْ نَادَى رَبُّكَ مُوسَى أَنِ ائْتَ الْقَوْمَ الظَّـلِمِينَ - قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلا يَتَّقُونَ - قَالَ رَبِّ إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ - وَيَضِيقُ صَدْرِى وَلاَ يَنطَلِقُ لِسَانِى فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ - وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And when your Lord called Musa: "Go to the people who are wrongdoers. The people of Fir`awn. Will they not have Taqwa" He said: "My Lord! Verily, I fear that they will deny me, And my breast straitens, and my tongue expresses not well. So send for Harun. And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.") So, Musa asked Allah to remove these difficulties for him, as he said in Surah Ta Ha:
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِى - وَيَسِّرْ لِى أَمْرِى
(Musa said: "O my Lord! Open for me my chest. And ease my task for me.") (20:25-26) until:
قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى
(You are granted your request, O Musa!) (20:36)
وَلَهُمْ عَلَىَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ
(And they have a charge of crime against me, and I fear they will kill me.) because he had killed that Egyptian, which was the reason that he left the land of Egypt.
قَالَ كَلاَّ
((Allah) said: "Nay!...") Allah told him: do not be afraid of anything like that. This is like the Ayah,
سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَـناً
(Allah said: "We will strengthen your arm through your brother, and give you both power) meaning, proof;
فَلاَ يَصِلُونَ إِلَيْكُمَا بِـْايَـتِنَآ أَنتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغَـلِبُونَ
(so they shall not be able to harm you, with Our signs, you two as well as those who follow you will be the victors) (28:35),
فَاذْهَبَا بِـَايَـتِنَآ إِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُونَ
(Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening.) This is like the Ayah,
إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(I am with you both, hearing and seeing) (20:46). Meaning, `I will be with you by My protection, care, support and help.'
فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And go both of you to Fir`awn, and say: `We are the Messengers of the Lord of the all that exists.') This is like the Ayah,
إِنَّا رَسُولاَ رَبِّكَ
(Verily, we are both Messengers of your Lord) (20:47). which means, `both of us have been sent to you,'
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(So allow the Children of Israel to go with us.) Meaning, `let them go, free them from your captivity, subjugation and torture, for they are the believing servants of Allah, devoted to Him, and with you they are in a position of humiliating torture.' When Musa said that to him, Fir`awn turned away and ignored him completely, regarding him with scorn and thinking little of him. Saying:
أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيداً
(Did we not bring you up among us as a child) meaning, we brought you up among us, in our home and on our bed, we nourished you and did favors for you for many years, and after all that you responded to our kindness in this manner: you killed one of our men and denied our favors to you.' So he said to him:
وَأَنتَ مِنَ الْكَـفِرِينَ
(While you were one of the ingrates.) meaning, one of those who deny favors. This was the view of Ibn `Abbas and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and was the view favored by Ibn Jarir.
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذاً
((Musa) said: "I did it then...") meaning, at that time,
وَأَنَاْ مِنَ الضَّآلِّينَ
(when I was in error.) meaning, `before revelation was sent to me and before Allah made me a Prophet and sent me with this Message.'
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْماً وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(So, I fled from you when I feared you. But my Lord has granted me Hukm, and made me one of the Messengers.) means, `the first situation came to an end and another took its place. Now Allah has sent me to you, and if you obey Him, you will be safe, but if you oppose Him, you will be destroyed.' Then Musa said:
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(And this is the past favor with which you reproach me, -- that you have enslaved the Children of Israel.) meaning, `whatever favors you did in bringing me up are offset by the evil you did by enslaving the Children of Israel and using them to do your hard labor. Is there any comparison between your favors to one man among them and the evil you have done to all of them What you have mentioned about me is nothing compared to what you have done to them.'
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنادیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنادیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا۔ جیسے فرمان ہے میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت و تائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو۔ جسیے دوسری آیت میں ہے کہ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے۔ فرعون سے کہا کہ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھا ہے اب انہیں آزاد کردے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا ؟ مدتوں تک تیری خبر گیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں حضرت کلیم اللہ ؑ نے فرمایا یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بیخبر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرائت میں بجائے من الضالین کے من الجاھلین ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ساتھ ہی فرمایا کہ پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہوگا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور انکے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بد سلوکی برابر برابر ہوجائیگی ؟
23
View Single
قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
Said Firaun, “And what is the Lord Of The Creation?
فرعون نے کہا: سارے جہانوں کا پروردگار کیا چیز ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us about the disbelief, rebellion, oppression and denial of Fir`awn, as He says:
وَمَا رَبُّ الْعَـلَمِينَ
((Fir`awn said:) "And what is the Lord of the `Alamin") This is because he used to say to his people:
مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى
(I know not that you have a god other than me.) (28:28)
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he fooled his people, and they obeyed him.) (43:54) They used to deny the Creator, may He be glorified, and they believed that they had no other lord than Fir`awn. When Musa said to them: "I am the Messenger of the Lord of the worlds," Fir`awn said to him, "Who is this who you are claiming is the Lord of Al-`Alamin other than me" This is how it was interpreted by the scholars of the Salaf and the Imams of later generations. As-Suddi said, "This Ayah is like the Ayah,
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يمُوسَى - قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى
((Fir`awn) said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two" He said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright.") (20:49-50) Those among the philosophers and others who claimed that this was a question about the nature or substance of Allah are mistaken. Fir`awn did not believe in the Creator in the first place, so he was in no position to ask about the nature of the Creator; he denied that the Creator existed at all, as is apparent from the meaning, even though proof and evidence had been established against him. When Fir`awn asked him about the Lord of Al-`Alamin, Musa said:
قَالَ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ
((Musa) said: "The Lord of the heavens and the earth, and all that is between them...") meaning, the Creator, Sovereign and Controller of all that, their God Who has no partner or associate. He is the One Who has created all things. He knows the higher realms and the heavenly bodies that are in them, both those that are stationary and those that move and shine brightly. He knows the lower realms and what is in them; the oceans, continents, mountains, trees, animals, plants and fruits. He knows what is in between the two realms; the winds, birds, and whatever is in the air. All of them are servants to Him, submitting and humbling themselves before Him.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you seek to be convinced with certainty. ) means, if you have believing hearts and clear insight. At this, Fir`awn turned to the chiefs and leaders of his state around him, and said to them -- mockingly expressing his disbelief in Musa:
أَلاَ تَسْتَمِعُونَ
("Do you not hear") meaning, `are you not amazed by what this man is claiming -- that you have another god other than me' Musa said to them:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) meaning, the One Who created you and your forefathers, those who came before Fir`awn and his time.
قَالَ
(He said) that is, Fir`awn said:
إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
(Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman!) meaning, there is no sense in his claim that there is any god other than me!'
قَالَ
((Musa) said) -- to those in whose hearts Fir`awn had planted doubts:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Lord of the east and the west, and all that is between them, if you did but understand!) `He is the One Who made the east the place where the heavenly bodies rise, and made the west the place where they set; this is the system to which He has subjugated all the heavenly bodies, stationary and moving. If what Fir`awn claims is true, that he is your lord and your god, then let him turn things around so that the heavenly bodies set in the east and rise in the west.' This is similar to the Ayah,
الَّذِى حَآجَّ إِبْرَهِيمَ فِى رِبِّهِ أَنْ آتَـهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ رَبِّيَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْىِ وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِى بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ
(who disputed with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him the kingdom When Ibrahim said: "My Lord is He Who gives life and causes death." He said, "I give life and cause death." Ibrahim said, "Verily, Allah brings the sun from the east. So cause it to rise from the west.") (2:258) So when Fir`awn was defeated in debate, he resorted to the use of his force and power, believing that this would be effective in dealing with Musa, peace be upon him, so he said, as Allah tells us:
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لئے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھیں۔ پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت کلیم اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اسکی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لئے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے انکی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے ؟ تعجب کی بات ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اسکی اس بےالتفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کردیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا ؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا ؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بےتعلق ہو کر فرمانے لگے کہ سنو میرا اللہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کرکے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے یہ بات خلیل ؑ نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ وہ جلاتا مارتا ہے لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کیساتھ مختص ہونے سے انکار کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں آپ نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال اب تو اسکے حواس گم ہوگئے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہوگئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا ؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کرجائیں گی اس لئے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔
24
View Single
قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
Said Moosa, “Lord of the heavens and the earth and all that is between them; if you believe.”
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us about the disbelief, rebellion, oppression and denial of Fir`awn, as He says:
وَمَا رَبُّ الْعَـلَمِينَ
((Fir`awn said:) "And what is the Lord of the `Alamin") This is because he used to say to his people:
مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى
(I know not that you have a god other than me.) (28:28)
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he fooled his people, and they obeyed him.) (43:54) They used to deny the Creator, may He be glorified, and they believed that they had no other lord than Fir`awn. When Musa said to them: "I am the Messenger of the Lord of the worlds," Fir`awn said to him, "Who is this who you are claiming is the Lord of Al-`Alamin other than me" This is how it was interpreted by the scholars of the Salaf and the Imams of later generations. As-Suddi said, "This Ayah is like the Ayah,
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يمُوسَى - قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى
((Fir`awn) said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two" He said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright.") (20:49-50) Those among the philosophers and others who claimed that this was a question about the nature or substance of Allah are mistaken. Fir`awn did not believe in the Creator in the first place, so he was in no position to ask about the nature of the Creator; he denied that the Creator existed at all, as is apparent from the meaning, even though proof and evidence had been established against him. When Fir`awn asked him about the Lord of Al-`Alamin, Musa said:
قَالَ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ
((Musa) said: "The Lord of the heavens and the earth, and all that is between them...") meaning, the Creator, Sovereign and Controller of all that, their God Who has no partner or associate. He is the One Who has created all things. He knows the higher realms and the heavenly bodies that are in them, both those that are stationary and those that move and shine brightly. He knows the lower realms and what is in them; the oceans, continents, mountains, trees, animals, plants and fruits. He knows what is in between the two realms; the winds, birds, and whatever is in the air. All of them are servants to Him, submitting and humbling themselves before Him.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you seek to be convinced with certainty. ) means, if you have believing hearts and clear insight. At this, Fir`awn turned to the chiefs and leaders of his state around him, and said to them -- mockingly expressing his disbelief in Musa:
أَلاَ تَسْتَمِعُونَ
("Do you not hear") meaning, `are you not amazed by what this man is claiming -- that you have another god other than me' Musa said to them:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) meaning, the One Who created you and your forefathers, those who came before Fir`awn and his time.
قَالَ
(He said) that is, Fir`awn said:
إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
(Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman!) meaning, there is no sense in his claim that there is any god other than me!'
قَالَ
((Musa) said) -- to those in whose hearts Fir`awn had planted doubts:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Lord of the east and the west, and all that is between them, if you did but understand!) `He is the One Who made the east the place where the heavenly bodies rise, and made the west the place where they set; this is the system to which He has subjugated all the heavenly bodies, stationary and moving. If what Fir`awn claims is true, that he is your lord and your god, then let him turn things around so that the heavenly bodies set in the east and rise in the west.' This is similar to the Ayah,
الَّذِى حَآجَّ إِبْرَهِيمَ فِى رِبِّهِ أَنْ آتَـهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ رَبِّيَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْىِ وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِى بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ
(who disputed with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him the kingdom When Ibrahim said: "My Lord is He Who gives life and causes death." He said, "I give life and cause death." Ibrahim said, "Verily, Allah brings the sun from the east. So cause it to rise from the west.") (2:258) So when Fir`awn was defeated in debate, he resorted to the use of his force and power, believing that this would be effective in dealing with Musa, peace be upon him, so he said, as Allah tells us:
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لئے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھیں۔ پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت کلیم اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اسکی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لئے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے انکی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے ؟ تعجب کی بات ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اسکی اس بےالتفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کردیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا ؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا ؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بےتعلق ہو کر فرمانے لگے کہ سنو میرا اللہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کرکے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے یہ بات خلیل ؑ نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ وہ جلاتا مارتا ہے لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کیساتھ مختص ہونے سے انکار کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں آپ نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال اب تو اسکے حواس گم ہوگئے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہوگئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا ؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کرجائیں گی اس لئے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔
25
View Single
قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَهُۥٓ أَلَا تَسۡتَمِعُونَ
Said Firaun to those around him, “Are you not listening with attention?”
اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us about the disbelief, rebellion, oppression and denial of Fir`awn, as He says:
وَمَا رَبُّ الْعَـلَمِينَ
((Fir`awn said:) "And what is the Lord of the `Alamin") This is because he used to say to his people:
مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى
(I know not that you have a god other than me.) (28:28)
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he fooled his people, and they obeyed him.) (43:54) They used to deny the Creator, may He be glorified, and they believed that they had no other lord than Fir`awn. When Musa said to them: "I am the Messenger of the Lord of the worlds," Fir`awn said to him, "Who is this who you are claiming is the Lord of Al-`Alamin other than me" This is how it was interpreted by the scholars of the Salaf and the Imams of later generations. As-Suddi said, "This Ayah is like the Ayah,
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يمُوسَى - قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى
((Fir`awn) said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two" He said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright.") (20:49-50) Those among the philosophers and others who claimed that this was a question about the nature or substance of Allah are mistaken. Fir`awn did not believe in the Creator in the first place, so he was in no position to ask about the nature of the Creator; he denied that the Creator existed at all, as is apparent from the meaning, even though proof and evidence had been established against him. When Fir`awn asked him about the Lord of Al-`Alamin, Musa said:
قَالَ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ
((Musa) said: "The Lord of the heavens and the earth, and all that is between them...") meaning, the Creator, Sovereign and Controller of all that, their God Who has no partner or associate. He is the One Who has created all things. He knows the higher realms and the heavenly bodies that are in them, both those that are stationary and those that move and shine brightly. He knows the lower realms and what is in them; the oceans, continents, mountains, trees, animals, plants and fruits. He knows what is in between the two realms; the winds, birds, and whatever is in the air. All of them are servants to Him, submitting and humbling themselves before Him.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you seek to be convinced with certainty. ) means, if you have believing hearts and clear insight. At this, Fir`awn turned to the chiefs and leaders of his state around him, and said to them -- mockingly expressing his disbelief in Musa:
أَلاَ تَسْتَمِعُونَ
("Do you not hear") meaning, `are you not amazed by what this man is claiming -- that you have another god other than me' Musa said to them:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) meaning, the One Who created you and your forefathers, those who came before Fir`awn and his time.
قَالَ
(He said) that is, Fir`awn said:
إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
(Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman!) meaning, there is no sense in his claim that there is any god other than me!'
قَالَ
((Musa) said) -- to those in whose hearts Fir`awn had planted doubts:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Lord of the east and the west, and all that is between them, if you did but understand!) `He is the One Who made the east the place where the heavenly bodies rise, and made the west the place where they set; this is the system to which He has subjugated all the heavenly bodies, stationary and moving. If what Fir`awn claims is true, that he is your lord and your god, then let him turn things around so that the heavenly bodies set in the east and rise in the west.' This is similar to the Ayah,
الَّذِى حَآجَّ إِبْرَهِيمَ فِى رِبِّهِ أَنْ آتَـهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ رَبِّيَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْىِ وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِى بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ
(who disputed with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him the kingdom When Ibrahim said: "My Lord is He Who gives life and causes death." He said, "I give life and cause death." Ibrahim said, "Verily, Allah brings the sun from the east. So cause it to rise from the west.") (2:258) So when Fir`awn was defeated in debate, he resorted to the use of his force and power, believing that this would be effective in dealing with Musa, peace be upon him, so he said, as Allah tells us:
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لئے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھیں۔ پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت کلیم اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اسکی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لئے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے انکی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے ؟ تعجب کی بات ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اسکی اس بےالتفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کردیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا ؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا ؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بےتعلق ہو کر فرمانے لگے کہ سنو میرا اللہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کرکے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے یہ بات خلیل ؑ نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ وہ جلاتا مارتا ہے لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کیساتھ مختص ہونے سے انکار کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں آپ نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال اب تو اسکے حواس گم ہوگئے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہوگئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا ؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کرجائیں گی اس لئے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔
26
View Single
قَالَ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ
Said Moosa, “Your Lord and the Lord of your forefathers preceding you.”
(موسٰی علیہ السلام نے مزید) کہا کہ (وہی) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us about the disbelief, rebellion, oppression and denial of Fir`awn, as He says:
وَمَا رَبُّ الْعَـلَمِينَ
((Fir`awn said:) "And what is the Lord of the `Alamin") This is because he used to say to his people:
مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى
(I know not that you have a god other than me.) (28:28)
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he fooled his people, and they obeyed him.) (43:54) They used to deny the Creator, may He be glorified, and they believed that they had no other lord than Fir`awn. When Musa said to them: "I am the Messenger of the Lord of the worlds," Fir`awn said to him, "Who is this who you are claiming is the Lord of Al-`Alamin other than me" This is how it was interpreted by the scholars of the Salaf and the Imams of later generations. As-Suddi said, "This Ayah is like the Ayah,
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يمُوسَى - قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى
((Fir`awn) said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two" He said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright.") (20:49-50) Those among the philosophers and others who claimed that this was a question about the nature or substance of Allah are mistaken. Fir`awn did not believe in the Creator in the first place, so he was in no position to ask about the nature of the Creator; he denied that the Creator existed at all, as is apparent from the meaning, even though proof and evidence had been established against him. When Fir`awn asked him about the Lord of Al-`Alamin, Musa said:
قَالَ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ
((Musa) said: "The Lord of the heavens and the earth, and all that is between them...") meaning, the Creator, Sovereign and Controller of all that, their God Who has no partner or associate. He is the One Who has created all things. He knows the higher realms and the heavenly bodies that are in them, both those that are stationary and those that move and shine brightly. He knows the lower realms and what is in them; the oceans, continents, mountains, trees, animals, plants and fruits. He knows what is in between the two realms; the winds, birds, and whatever is in the air. All of them are servants to Him, submitting and humbling themselves before Him.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you seek to be convinced with certainty. ) means, if you have believing hearts and clear insight. At this, Fir`awn turned to the chiefs and leaders of his state around him, and said to them -- mockingly expressing his disbelief in Musa:
أَلاَ تَسْتَمِعُونَ
("Do you not hear") meaning, `are you not amazed by what this man is claiming -- that you have another god other than me' Musa said to them:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) meaning, the One Who created you and your forefathers, those who came before Fir`awn and his time.
قَالَ
(He said) that is, Fir`awn said:
إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
(Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman!) meaning, there is no sense in his claim that there is any god other than me!'
قَالَ
((Musa) said) -- to those in whose hearts Fir`awn had planted doubts:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Lord of the east and the west, and all that is between them, if you did but understand!) `He is the One Who made the east the place where the heavenly bodies rise, and made the west the place where they set; this is the system to which He has subjugated all the heavenly bodies, stationary and moving. If what Fir`awn claims is true, that he is your lord and your god, then let him turn things around so that the heavenly bodies set in the east and rise in the west.' This is similar to the Ayah,
الَّذِى حَآجَّ إِبْرَهِيمَ فِى رِبِّهِ أَنْ آتَـهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ رَبِّيَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْىِ وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِى بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ
(who disputed with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him the kingdom When Ibrahim said: "My Lord is He Who gives life and causes death." He said, "I give life and cause death." Ibrahim said, "Verily, Allah brings the sun from the east. So cause it to rise from the west.") (2:258) So when Fir`awn was defeated in debate, he resorted to the use of his force and power, believing that this would be effective in dealing with Musa, peace be upon him, so he said, as Allah tells us:
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لئے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھیں۔ پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت کلیم اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اسکی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لئے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے انکی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے ؟ تعجب کی بات ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اسکی اس بےالتفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کردیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا ؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا ؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بےتعلق ہو کر فرمانے لگے کہ سنو میرا اللہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کرکے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے یہ بات خلیل ؑ نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ وہ جلاتا مارتا ہے لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کیساتھ مختص ہونے سے انکار کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں آپ نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال اب تو اسکے حواس گم ہوگئے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہوگئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا ؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کرجائیں گی اس لئے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔
27
View Single
قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِيٓ أُرۡسِلَ إِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُونٞ
Said Firaun, “This (Noble) Messenger of yours, who has been sent towards you, has no intelligence!”
(فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us about the disbelief, rebellion, oppression and denial of Fir`awn, as He says:
وَمَا رَبُّ الْعَـلَمِينَ
((Fir`awn said:) "And what is the Lord of the `Alamin") This is because he used to say to his people:
مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى
(I know not that you have a god other than me.) (28:28)
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he fooled his people, and they obeyed him.) (43:54) They used to deny the Creator, may He be glorified, and they believed that they had no other lord than Fir`awn. When Musa said to them: "I am the Messenger of the Lord of the worlds," Fir`awn said to him, "Who is this who you are claiming is the Lord of Al-`Alamin other than me" This is how it was interpreted by the scholars of the Salaf and the Imams of later generations. As-Suddi said, "This Ayah is like the Ayah,
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يمُوسَى - قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى
((Fir`awn) said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two" He said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright.") (20:49-50) Those among the philosophers and others who claimed that this was a question about the nature or substance of Allah are mistaken. Fir`awn did not believe in the Creator in the first place, so he was in no position to ask about the nature of the Creator; he denied that the Creator existed at all, as is apparent from the meaning, even though proof and evidence had been established against him. When Fir`awn asked him about the Lord of Al-`Alamin, Musa said:
قَالَ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ
((Musa) said: "The Lord of the heavens and the earth, and all that is between them...") meaning, the Creator, Sovereign and Controller of all that, their God Who has no partner or associate. He is the One Who has created all things. He knows the higher realms and the heavenly bodies that are in them, both those that are stationary and those that move and shine brightly. He knows the lower realms and what is in them; the oceans, continents, mountains, trees, animals, plants and fruits. He knows what is in between the two realms; the winds, birds, and whatever is in the air. All of them are servants to Him, submitting and humbling themselves before Him.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you seek to be convinced with certainty. ) means, if you have believing hearts and clear insight. At this, Fir`awn turned to the chiefs and leaders of his state around him, and said to them -- mockingly expressing his disbelief in Musa:
أَلاَ تَسْتَمِعُونَ
("Do you not hear") meaning, `are you not amazed by what this man is claiming -- that you have another god other than me' Musa said to them:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) meaning, the One Who created you and your forefathers, those who came before Fir`awn and his time.
قَالَ
(He said) that is, Fir`awn said:
إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
(Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman!) meaning, there is no sense in his claim that there is any god other than me!'
قَالَ
((Musa) said) -- to those in whose hearts Fir`awn had planted doubts:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Lord of the east and the west, and all that is between them, if you did but understand!) `He is the One Who made the east the place where the heavenly bodies rise, and made the west the place where they set; this is the system to which He has subjugated all the heavenly bodies, stationary and moving. If what Fir`awn claims is true, that he is your lord and your god, then let him turn things around so that the heavenly bodies set in the east and rise in the west.' This is similar to the Ayah,
الَّذِى حَآجَّ إِبْرَهِيمَ فِى رِبِّهِ أَنْ آتَـهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ رَبِّيَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْىِ وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِى بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ
(who disputed with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him the kingdom When Ibrahim said: "My Lord is He Who gives life and causes death." He said, "I give life and cause death." Ibrahim said, "Verily, Allah brings the sun from the east. So cause it to rise from the west.") (2:258) So when Fir`awn was defeated in debate, he resorted to the use of his force and power, believing that this would be effective in dealing with Musa, peace be upon him, so he said, as Allah tells us:
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لئے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھیں۔ پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت کلیم اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اسکی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لئے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے انکی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے ؟ تعجب کی بات ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اسکی اس بےالتفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کردیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا ؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا ؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بےتعلق ہو کر فرمانے لگے کہ سنو میرا اللہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کرکے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے یہ بات خلیل ؑ نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ وہ جلاتا مارتا ہے لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کیساتھ مختص ہونے سے انکار کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں آپ نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال اب تو اسکے حواس گم ہوگئے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہوگئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا ؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کرجائیں گی اس لئے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔
28
View Single
قَالَ رَبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ
He said, “The Lord of the East and the West and all that is between them; if you have sense.”
(موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah tells us about the disbelief, rebellion, oppression and denial of Fir`awn, as He says:
وَمَا رَبُّ الْعَـلَمِينَ
((Fir`awn said:) "And what is the Lord of the `Alamin") This is because he used to say to his people:
مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى
(I know not that you have a god other than me.) (28:28)
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ
(Thus he fooled his people, and they obeyed him.) (43:54) They used to deny the Creator, may He be glorified, and they believed that they had no other lord than Fir`awn. When Musa said to them: "I am the Messenger of the Lord of the worlds," Fir`awn said to him, "Who is this who you are claiming is the Lord of Al-`Alamin other than me" This is how it was interpreted by the scholars of the Salaf and the Imams of later generations. As-Suddi said, "This Ayah is like the Ayah,
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يمُوسَى - قَالَ رَبُّنَا الَّذِى أَعْطَى كُلَّ شَىءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى
((Fir`awn) said: "Who then, O Musa, is the Lord of you two" He said: "Our Lord is He Who gave to each thing its form and nature, then guided it aright.") (20:49-50) Those among the philosophers and others who claimed that this was a question about the nature or substance of Allah are mistaken. Fir`awn did not believe in the Creator in the first place, so he was in no position to ask about the nature of the Creator; he denied that the Creator existed at all, as is apparent from the meaning, even though proof and evidence had been established against him. When Fir`awn asked him about the Lord of Al-`Alamin, Musa said:
قَالَ رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ
((Musa) said: "The Lord of the heavens and the earth, and all that is between them...") meaning, the Creator, Sovereign and Controller of all that, their God Who has no partner or associate. He is the One Who has created all things. He knows the higher realms and the heavenly bodies that are in them, both those that are stationary and those that move and shine brightly. He knows the lower realms and what is in them; the oceans, continents, mountains, trees, animals, plants and fruits. He knows what is in between the two realms; the winds, birds, and whatever is in the air. All of them are servants to Him, submitting and humbling themselves before Him.
إِن كُنتُمْ مُّوقِنِينَ
(if you seek to be convinced with certainty. ) means, if you have believing hearts and clear insight. At this, Fir`awn turned to the chiefs and leaders of his state around him, and said to them -- mockingly expressing his disbelief in Musa:
أَلاَ تَسْتَمِعُونَ
("Do you not hear") meaning, `are you not amazed by what this man is claiming -- that you have another god other than me' Musa said to them:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) meaning, the One Who created you and your forefathers, those who came before Fir`awn and his time.
قَالَ
(He said) that is, Fir`awn said:
إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
(Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman!) meaning, there is no sense in his claim that there is any god other than me!'
قَالَ
((Musa) said) -- to those in whose hearts Fir`awn had planted doubts:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
(Lord of the east and the west, and all that is between them, if you did but understand!) `He is the One Who made the east the place where the heavenly bodies rise, and made the west the place where they set; this is the system to which He has subjugated all the heavenly bodies, stationary and moving. If what Fir`awn claims is true, that he is your lord and your god, then let him turn things around so that the heavenly bodies set in the east and rise in the west.' This is similar to the Ayah,
الَّذِى حَآجَّ إِبْرَهِيمَ فِى رِبِّهِ أَنْ آتَـهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ رَبِّيَ الَّذِى يُحْىِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْىِ وَأُمِيتُ قَالَ إِبْرَهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِى بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ
(who disputed with Ibrahim about his Lord, because Allah had given him the kingdom When Ibrahim said: "My Lord is He Who gives life and causes death." He said, "I give life and cause death." Ibrahim said, "Verily, Allah brings the sun from the east. So cause it to rise from the west.") (2:258) So when Fir`awn was defeated in debate, he resorted to the use of his force and power, believing that this would be effective in dealing with Musa, peace be upon him, so he said, as Allah tells us:
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لئے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھیں۔ پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت کلیم اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اسکی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لئے کافی ہیں۔ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لئے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے انکی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے ؟ تعجب کی بات ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ اسکی اس بےالتفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کردیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا ؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا ؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بےتعلق ہو کر فرمانے لگے کہ سنو میرا اللہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کرکے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے یہ بات خلیل ؑ نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ وہ جلاتا مارتا ہے لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کیساتھ مختص ہونے سے انکار کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں آپ نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال اب تو اسکے حواس گم ہوگئے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہوگئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا ؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کرجائیں گی اس لئے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور حضرت موسیٰ ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔
29
View Single
قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذۡتَ إِلَٰهًا غَيۡرِي لَأَجۡعَلَنَّكَ مِنَ ٱلۡمَسۡجُونِينَ
Said Firaun, “If you ascribe any one else as a God other than me, I will surely imprison you.”
(فرعون نے) کہا: (اے موسٰی!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور (گرفتار کر کے) قیدیوں میں شامل کر دوں گا
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
30
View Single
قَالَ أَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَيۡءٖ مُّبِينٖ
Said Moosa, “Even if I bring to you something clear?”
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز (بطور معجزہ بھی) لے آؤں
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
31
View Single
قَالَ فَأۡتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
Said Firaun, “Then bring it, if you are of the truthful.”
(فرعون نے) کہا: تم اسے لے آؤ اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
32
View Single
فَأَلۡقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٞ مُّبِينٞ
So Moosa put down his staff and it became a visible serpent.
پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا وہ اُسی وقت واضح (طور پر) اژدہا بن گیا
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
33
View Single
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ
And he drew forth his hand, thereupon it shone bright before the beholders.
اور (موسٰی علیہ السلام نے) اپنا ہاتھ (بغل میں ڈال کر) باہر نکالا تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کے لئے (چمک دار) سفید ہوگیا
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
34
View Single
قَالَ لِلۡمَلَإِ حَوۡلَهُۥٓ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٞ
Said Firaun to the court members around him, “He is indeed an expert magician.”
(فرعون نے) اپنے ارد گرد (بیٹھے ہوئے) سرداروں سے کہا: بلاشبہ یہ بڑا دانا جادوگر ہے
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
35
View Single
يُرِيدُ أَن يُخۡرِجَكُم مِّنۡ أَرۡضِكُم بِسِحۡرِهِۦ فَمَاذَا تَأۡمُرُونَ
“He wishes to expel you out of your land by his magic; so what is your advice?”
یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے باہر نکال دے پس تم (اب اس کے بارے میں) کیا رائے دیتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
36
View Single
قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَٱبۡعَثۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
They said, “Stop him and his brother, and send gatherers to the cities.”
وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دے
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
37
View Single
يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٖ
“To bring to you every expert great magician.”
وہ تیرے پاس ہر بڑے ماہرِ فن جادوگر کو لے آئیں
Tafsir Ibn Kathir
After the Rational Proof, Fir`awn resorts to Force
When proof had been established against Fir`awn, clearly and rationally, he resorted to using force against Musa, thinking that after this there would no further room for discussion. So he said:
لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَـهَاً غَيْرِى لأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ
(If you choose a god other than me, I will certainly put you among the prisoners.) To this, Musa responded:
أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىءٍ مُّبِينٍ
(Even if I bring you something manifest) meaning, clear and definitive proof.
قَالَ فَأْتِ بِهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - فَأَلْقَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
(Fir`awn said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!" So he threw his stick, and behold, it was a serpent, manifest.) meanig, it was very clear and obvious, with a huge body and a big mouth, terrifying in appearance.
وَنَزَعَ يَدَهُ
(And he drew out his hand,) meaning, from his sleeve,
فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـظِرِينَ
(and behold, it was white to all beholders!) It was shining like a piece of the moon. Since Fir`awn was already doomed, he hastened to stubborn denial, and said to the chiefs around him:
إِنَّ هَـذَا لَسَـحِرٌ عَلِيمٌ
(Verily, this is indeed a well-versed sorcerer.) One who knows a great deal of magic or witchcraft. Fir`awn was trying to convince them that this was sorcery, not a miracle. Then he provoked them against Musa, trying to make them oppose him and disbelieve in him, and said:
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ
(He wants to drive you out of your land by his sorcery...) meaning, `he wants to capture the people's hearts and win them over by doing this, so that they will support him, and help him and follow him, and he will defeat you in your own land and take the land from you. So advise me, what should I do with him'
قَالُواْ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِى الْمَدَآئِنِ حَـشِرِينَ - يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
(They said: "Put him off and his brother, and send callers to the cities; to bring up to you every well-versed sorcerer.") meaning, `delay him and his brother until you gather together all the sorcerers from every city and region of your kingdom so that they may confront him and produce something like he produces, then you will defeat him and have the victory.' So Fir`awn did as they suggested, which is what Allah decreed would happen to them, so that all the people would gather in one place and the signs and proof of Allah would be made manifest before them all in one day.
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژد ہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بیشک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں حضرت موسیٰ ؑ کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لئے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہوجائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کردے گا پھر تمہیں مغلوب کرکے اس ملک میں قبضہ کرلے گا تو اس کے استحاصل کی کوشش ابھی سے کرنی چاہئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے ؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے حضرت موسیٰ ؑ کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہوجائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لئے بلوانا۔
38
View Single
فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٰتِ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ
So the magicians were gathered at a set time on a day appointed.
پس سارے جادوگر مقررہ دن کے معینہ وقت پر جمع کر لئے گئے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
39
View Single
وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلۡ أَنتُم مُّجۡتَمِعُونَ
And it was said to the people, “Have you (also) gathered?”
اور (فرعون کی طرف سے) لوگوں کو کہا گیا کہ تم (اس موقع پر) جمع ہونے والے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
40
View Single
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ ٱلسَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
The people said, “Perhaps we may follow the magicians if they are victorious.”
تاکہ ہم جادوگروں (کے دین) کی پیروی کر سکیں اگر وہ (موسٰی اور ہارون پر) غالب آگئے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
41
View Single
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرۡعَوۡنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
So when the magicians came, they said to Firaun, “Will we get some reward if we are victorious?”
پھر جب وہ جادوگر آگئے (تو) انہوں نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی اُجرت (بھی مقرر) ہے اگر ہم (مقابلہ میں) غالب ہو جائیں
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
42
View Single
قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ
He said, “Yes, and you will then become close to me.”
(فرعون نے) کہا: ہاں بیشک تم اسی وقت (اجرت والوں کی بجائے میرے) قربت والوں میں شامل ہو جاؤ گے (اور قربت کا درجہ اُجرت سے کہیں بلند ہے)
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
43
View Single
قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَ
Moosa said to them, “Cast whatever you intend to cast.”
موسٰی (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں سے) فرمایا: تم وہ (جادو کی) چیزیں ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
44
View Single
فَأَلۡقَوۡاْ حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
So they threw down their ropes and their staves and exclaimed, “By the honour of Firaun, indeed victory is ours!”
تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
45
View Single
فَأَلۡقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ
Therefore Moosa put forth his staff – so it immediately began swallowing all their fabrications.
پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اپنا ڈنڈا ڈال دیا تو وہ (اژدھا بن کر) فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے (اپنی اصل حقیقت سے) پھیر رکھی تھیں
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
46
View Single
فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
The magicians therefore fell down prostrate.
پس سارے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
47
View Single
قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
They said, “We have accepted faith in the Lord Of The Creation.”
وہ کہنے لگے: ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
48
View Single
رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
“The Lord of Moosa and Haroon.”
(جو) موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Between Musa, peace be upon him, and the Sorcerers Allah describes the actual encounter between Musa, peace be upon him,and the Egyptians in Surat Al-A` raf, Surah Ta Ha, and in this Surah
The Egyptians wanted to extinguish the Light of Allah with their words, but Allah insisted that His Light should prevail even though the disbelievers disliked that. This is the issue of disbelief and faith; they never confront one another but faith always prevails:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَـطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
(Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.) (21:18)
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَـطِلُ
(And say: "Truth has come and falsehood has vanished.") (17:81) The sorcerers of Egypt were the most skilled in the art of illusion, but when a huge group of them gathered from all corners of the land, and the people came together on that day whose exact numbers are known to Allah Alone, one of them said:
لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِن كَانُواْ هُمُ الْغَـلِبِينَ
(That we may follow the sorcerers if they are the winners.) They did not say: `we will follow the truth, whether it rests with the sorcerers or with Musa;' the people were followers of the religion of their king.
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ
(So, when the sorcerers arrived,) means, when they reached the court of Fir`awn, and a pavilion had been erected for him. There he gathered his servants, followers, administrators, and provincial leaders, and the soldiers of his kingdom. The sorcerers stood before Fir`awn, asking him to treat them well and bring them closer to him if they prevailed in this matter which he had brought them together for. They said:
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرْعَوْنَ أَإِنَّ لَنَا لاّجْراً إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَـلِبِينَ - قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذاً لَّمِنَ الْمُقَرَّبِينَ
("Will there surely be a reward for us if we are the winners" He said: "Yes, and you shall then verily be of those brought near.") meaning, `and you will be given more than what you are asking for; I will make you among those who are close to me, those who sit with me.' So they went back to their places:
قَالُواْ يمُوسَى إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُواْ
(They said: "O Musa! Either you throw first or we be the first to throw" (Musa) said: "Nay, throw you (first)!") (20:65-66). Here the incident is described more briefly. Musa said to them:
أَلْقُواْ مَآ أَنتُمْ مُّلْقُونَفَأَلْقَوْاْ حِبَـلَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُواْ بِعِزَّةِ فِرْعَونَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَـلِبُونَ
("Throw what you are going to throw!" So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!") This is what the ignorant masses say when they do something: `this is by the virtue of So-and-so!' In Surat Al-A`raf Allah mentioned that they:
سَحَرُواْ أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍ
(They bewitched the eyes of the people, and struck terror into them, and they displayed a great magic) (7:116). And in Surah Ta Ha He said:
فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى
(Then behold! their ropes and their sticks, by their magic, appeared to him as though they moved fast.) until Allah saying:
وَلاَ يُفْلِحُ السَّـحِرُ حَيْثُ أَتَى
(and the magician will never be successful, whatever the amount (of skill) he may attain) (20:69). And here Allah says:
فَأَلْقَى مُوسَى عَصَـهُ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
(Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!) by snatching up and catching them from every corner and swallowing them up, and it did not leave any of them untouched. Allah says:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Thus truth was confirmed, and all that they did was made of no effect.) until
رَبِّ مُوسَى وَهَـرُونَ
(The Lord of Musa and Harun.) (7:118-122) This was a very serious matter, furnishing decisive proof leaving no room for any excuse. Fir`awn's supporters, who sought and hoped that they would prevail over Musa, were themselves defeated. At that moment they believed in Musa and prostrated to Allah, the Lord of Al-`Alamin Who sent Musa and Harun with the truth and an obvious miracle. Fir`awn was defeated in a manner the likes of which the world had never seen, but he remained arrogant and stubborn despite the clear evidence, may the curse of Allah and the angels and all of mankind be upon him. He resorted to arrogance and stubbornness and propagating falsehood. He began to issue threats against them, saying:
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Verily, he is your chief who has taught you magic) (20:71).
إِنَّ هَـذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِى الْمَدِينَةِ
(Surely, this is a plot which you have plotted in the city) (7:123).
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم وبیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہوگئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہوگا ہم اسی طرف ہوجائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء ورؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لئے کہا کہ جب ہم غالب آجائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے ؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کروگے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہوگی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جاکر موسیٰ ؑ سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو ؟ یا ہم دکھائیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔ جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورة اعراف میں ہے جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا۔ سورة طہ میں ہے کہ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کرلیا۔ پس حق ظاہر ہوگیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہوگیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقینا ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاچکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لئے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہوگیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لئے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔
49
View Single
قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ
Said Firaun, “You accepted faith in him before I permitted you! He is indeed your leader who taught you magic; so now you will come to know; I swear, I will certainly cut off your hands and your feet from alternate sides, and crucify all of you.”
(فرعون نے) کہا: تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا، بیشک یہ (موسٰی علیہ السلام) ہی تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، تم جلد ہی (اپنا انجام) معلوم کر لو گے، میں ضرور ہی تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں الٹی طرف سے کاٹ ڈالوں گا اور تم سب کو یقیناً سولی پر چڑھا دوں گا
Tafsir Ibn Kathir
Between Fir`awn and the Sorcerers
His threats against them resulted only in an increase in their faith and submission to Allah, for the veil of disbelief had been lifted from their hearts and the truth became clear to them because they knew something that their people did not: that what Musa had done could not have been done by any human being unless Allah helped him, making it proof and an evidence of the truth of what he had brought from his Lord. Then Fir`awn said to them:
ءَامَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ
(You have believed in him before I give you leave.) meaning, `you should have asked my permission for what you did, and you did not consult with me; if I had given you permission you could have done it, and if I did not allow you, you should not have done it, for I am the ruler and the one to be obeyed.'
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Surely, he indeed is your chief, who has taught you magic!) This is stubborn talk, and anyone can see that it is nonsense, for they had never met Musa before that day, so how could he have been their chief who taught them how to do magic No rational person would say this. Then Fir`awn threatened to cut off their hands and feet, and crucify them. They said:
لاَ ضَيْرَ
(No harm!) meaning, `no problem, that will not harm us and we do not care.'
إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
(Surely, to our Lord we are to return.) means, `the return of us all is to Allah, may He be glorified, and He will never allow the reward of anyone who has done good to be lost. What you have done to us is not hidden from Him, and He will reward us in full for that.' So they said:
إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَـيَـنَآ
(Verily, we really hope that our Lord will forgive us our sins,) `the sins we have committed and the magic you forced us to do.'
أَن كُنَّآ أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ
(as we are the first of the believers,) means, because we are the first of our people, the Egyptians, to believe. So he killed them all.
جرات وہمت والے کامل ایمان لوگ سبحان اللہ کیسے کامل الایمان لوگ تھے حالانکہ ابھی ہی ایمان میں آئے تھے لیکن ان کی صبر وثبات کا کیا کہنا ؟ فرعون جیسا ظالم وجابر حاکم پاس کھڑا ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ نڈر بےخوف ہو کر اس کی منشا کے خلاف جواب دے رہے ہیں۔ حجاب کفر دل سے دور ہوگئے ہیں اس وجہ سے سینہ ٹھونک کر مقابلہ پر آگئے ہیں اور مادی طاقتوں سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے کسب کیا ہوا جادو نہیں۔ اسی وقت حق کو قبول کیا۔ فرعون آگ بگولہ ہوگیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہوگئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور موسیٰ ؑ کی مان لی ؟ یہ کہہ کر پھر اس خیال سے کہ کہیں حاضرین مجلس پر ان کے ھار جانے بلکہ پھر مسلمان ہوجانے کا اثر نہ پڑے اس نے انہیں ذلیل سمجھا۔ ایک بات بنائی اور کہنے لگا کہ ہاں تم سب اس کے شاگرد ہو اور یہ تمہارا استاد ہے تم سب خورد ہو اور یہ تمہار برزگ ہے۔ تم سب کو اسی نے جادو سکھایا ہے اس مکابرہ کو دیکھو یہ صرف فرعون کی بےایمانی اور دغابازی تھی ورنہ اس سے پہلے نہ تو جادوگروں نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو دیکھا تھا اور نہ ہی اللہ کے رسول ان کی صورت سے آشنا تھے۔ رسول اللہ تو جادو جانتے ہی نہ تھے کسی کو کیا سکھاتے ؟ عقلمندی کے خلاف یہ بات کہہ کر پھر دھمکانا شروع کردیا اور اپنی ظالمانہ روش پر اتر آیاکہنے لگا میں تمہارے سب کے ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹ دوں گا اور تمہیں ٹنڈے منڈے بنا کر پھر سولی دونگا کسی اور ایک کو بھی اس سزا سے نہ چھوڑونگا سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ راجا جی اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ جو تم سے ہوسکے کر گزرو۔ ہمیں مطلق پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ہمیں اسی سے صلہ لینا ہے جتنی تکلیف تو ہمیں دے گا اتنا اجر وثواب ہمارا رب ہمیں عطا فرمائے گا۔ حق پر مصیبت سہنا بالکل معمولی بات ہے جس کا ہمیں مطلق خوف نہیں۔ ہماری تو اب یہی ایک آرزو ہے کہ ہمارا رب ہمارے اگلے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کرے جو مقابلہ تو نے ہم سے کروایا ہے۔ اس کا وبال ہم پر سے ہٹ جائے اور اسکے لئے ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی وسیلہ نہیں کہ ہم سب سے پہلے اللہ والے بن جائیں ایمان میں سبقت کریں اس جواب پر وہ اور بھی بگڑا اور ان سب کو اس نے قتل کرادایا۔ ؓ اجمعین۔
50
View Single
قَالُواْ لَا ضَيۡرَۖ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
They said, “No harm (in it), we will return to our Lord.”
انہوں نے کہا: (اس میں) کوئی نقصان نہیں، بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Between Fir`awn and the Sorcerers
His threats against them resulted only in an increase in their faith and submission to Allah, for the veil of disbelief had been lifted from their hearts and the truth became clear to them because they knew something that their people did not: that what Musa had done could not have been done by any human being unless Allah helped him, making it proof and an evidence of the truth of what he had brought from his Lord. Then Fir`awn said to them:
ءَامَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ
(You have believed in him before I give you leave.) meaning, `you should have asked my permission for what you did, and you did not consult with me; if I had given you permission you could have done it, and if I did not allow you, you should not have done it, for I am the ruler and the one to be obeyed.'
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Surely, he indeed is your chief, who has taught you magic!) This is stubborn talk, and anyone can see that it is nonsense, for they had never met Musa before that day, so how could he have been their chief who taught them how to do magic No rational person would say this. Then Fir`awn threatened to cut off their hands and feet, and crucify them. They said:
لاَ ضَيْرَ
(No harm!) meaning, `no problem, that will not harm us and we do not care.'
إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
(Surely, to our Lord we are to return.) means, `the return of us all is to Allah, may He be glorified, and He will never allow the reward of anyone who has done good to be lost. What you have done to us is not hidden from Him, and He will reward us in full for that.' So they said:
إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَـيَـنَآ
(Verily, we really hope that our Lord will forgive us our sins,) `the sins we have committed and the magic you forced us to do.'
أَن كُنَّآ أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ
(as we are the first of the believers,) means, because we are the first of our people, the Egyptians, to believe. So he killed them all.
جرات وہمت والے کامل ایمان لوگ سبحان اللہ کیسے کامل الایمان لوگ تھے حالانکہ ابھی ہی ایمان میں آئے تھے لیکن ان کی صبر وثبات کا کیا کہنا ؟ فرعون جیسا ظالم وجابر حاکم پاس کھڑا ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ نڈر بےخوف ہو کر اس کی منشا کے خلاف جواب دے رہے ہیں۔ حجاب کفر دل سے دور ہوگئے ہیں اس وجہ سے سینہ ٹھونک کر مقابلہ پر آگئے ہیں اور مادی طاقتوں سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے کسب کیا ہوا جادو نہیں۔ اسی وقت حق کو قبول کیا۔ فرعون آگ بگولہ ہوگیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہوگئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور موسیٰ ؑ کی مان لی ؟ یہ کہہ کر پھر اس خیال سے کہ کہیں حاضرین مجلس پر ان کے ھار جانے بلکہ پھر مسلمان ہوجانے کا اثر نہ پڑے اس نے انہیں ذلیل سمجھا۔ ایک بات بنائی اور کہنے لگا کہ ہاں تم سب اس کے شاگرد ہو اور یہ تمہارا استاد ہے تم سب خورد ہو اور یہ تمہار برزگ ہے۔ تم سب کو اسی نے جادو سکھایا ہے اس مکابرہ کو دیکھو یہ صرف فرعون کی بےایمانی اور دغابازی تھی ورنہ اس سے پہلے نہ تو جادوگروں نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو دیکھا تھا اور نہ ہی اللہ کے رسول ان کی صورت سے آشنا تھے۔ رسول اللہ تو جادو جانتے ہی نہ تھے کسی کو کیا سکھاتے ؟ عقلمندی کے خلاف یہ بات کہہ کر پھر دھمکانا شروع کردیا اور اپنی ظالمانہ روش پر اتر آیاکہنے لگا میں تمہارے سب کے ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹ دوں گا اور تمہیں ٹنڈے منڈے بنا کر پھر سولی دونگا کسی اور ایک کو بھی اس سزا سے نہ چھوڑونگا سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ راجا جی اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ جو تم سے ہوسکے کر گزرو۔ ہمیں مطلق پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ہمیں اسی سے صلہ لینا ہے جتنی تکلیف تو ہمیں دے گا اتنا اجر وثواب ہمارا رب ہمیں عطا فرمائے گا۔ حق پر مصیبت سہنا بالکل معمولی بات ہے جس کا ہمیں مطلق خوف نہیں۔ ہماری تو اب یہی ایک آرزو ہے کہ ہمارا رب ہمارے اگلے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کرے جو مقابلہ تو نے ہم سے کروایا ہے۔ اس کا وبال ہم پر سے ہٹ جائے اور اسکے لئے ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی وسیلہ نہیں کہ ہم سب سے پہلے اللہ والے بن جائیں ایمان میں سبقت کریں اس جواب پر وہ اور بھی بگڑا اور ان سب کو اس نے قتل کرادایا۔ ؓ اجمعین۔
51
View Single
إِنَّا نَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَٰيَٰنَآ أَن كُنَّآ أَوَّلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
“We hope that our Lord will forgive us our mistakes, as we are the first to believe.”
ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرما دے گا، اس وجہ سے کہ (اب) ہم ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Between Fir`awn and the Sorcerers
His threats against them resulted only in an increase in their faith and submission to Allah, for the veil of disbelief had been lifted from their hearts and the truth became clear to them because they knew something that their people did not: that what Musa had done could not have been done by any human being unless Allah helped him, making it proof and an evidence of the truth of what he had brought from his Lord. Then Fir`awn said to them:
ءَامَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ
(You have believed in him before I give you leave.) meaning, `you should have asked my permission for what you did, and you did not consult with me; if I had given you permission you could have done it, and if I did not allow you, you should not have done it, for I am the ruler and the one to be obeyed.'
إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِى عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ
(Surely, he indeed is your chief, who has taught you magic!) This is stubborn talk, and anyone can see that it is nonsense, for they had never met Musa before that day, so how could he have been their chief who taught them how to do magic No rational person would say this. Then Fir`awn threatened to cut off their hands and feet, and crucify them. They said:
لاَ ضَيْرَ
(No harm!) meaning, `no problem, that will not harm us and we do not care.'
إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
(Surely, to our Lord we are to return.) means, `the return of us all is to Allah, may He be glorified, and He will never allow the reward of anyone who has done good to be lost. What you have done to us is not hidden from Him, and He will reward us in full for that.' So they said:
إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَـيَـنَآ
(Verily, we really hope that our Lord will forgive us our sins,) `the sins we have committed and the magic you forced us to do.'
أَن كُنَّآ أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ
(as we are the first of the believers,) means, because we are the first of our people, the Egyptians, to believe. So he killed them all.
جرات وہمت والے کامل ایمان لوگ سبحان اللہ کیسے کامل الایمان لوگ تھے حالانکہ ابھی ہی ایمان میں آئے تھے لیکن ان کی صبر وثبات کا کیا کہنا ؟ فرعون جیسا ظالم وجابر حاکم پاس کھڑا ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ نڈر بےخوف ہو کر اس کی منشا کے خلاف جواب دے رہے ہیں۔ حجاب کفر دل سے دور ہوگئے ہیں اس وجہ سے سینہ ٹھونک کر مقابلہ پر آگئے ہیں اور مادی طاقتوں سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ ؑ کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے کسب کیا ہوا جادو نہیں۔ اسی وقت حق کو قبول کیا۔ فرعون آگ بگولہ ہوگیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہوگئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور موسیٰ ؑ کی مان لی ؟ یہ کہہ کر پھر اس خیال سے کہ کہیں حاضرین مجلس پر ان کے ھار جانے بلکہ پھر مسلمان ہوجانے کا اثر نہ پڑے اس نے انہیں ذلیل سمجھا۔ ایک بات بنائی اور کہنے لگا کہ ہاں تم سب اس کے شاگرد ہو اور یہ تمہارا استاد ہے تم سب خورد ہو اور یہ تمہار برزگ ہے۔ تم سب کو اسی نے جادو سکھایا ہے اس مکابرہ کو دیکھو یہ صرف فرعون کی بےایمانی اور دغابازی تھی ورنہ اس سے پہلے نہ تو جادوگروں نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو دیکھا تھا اور نہ ہی اللہ کے رسول ان کی صورت سے آشنا تھے۔ رسول اللہ تو جادو جانتے ہی نہ تھے کسی کو کیا سکھاتے ؟ عقلمندی کے خلاف یہ بات کہہ کر پھر دھمکانا شروع کردیا اور اپنی ظالمانہ روش پر اتر آیاکہنے لگا میں تمہارے سب کے ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹ دوں گا اور تمہیں ٹنڈے منڈے بنا کر پھر سولی دونگا کسی اور ایک کو بھی اس سزا سے نہ چھوڑونگا سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ راجا جی اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ جو تم سے ہوسکے کر گزرو۔ ہمیں مطلق پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ہمیں اسی سے صلہ لینا ہے جتنی تکلیف تو ہمیں دے گا اتنا اجر وثواب ہمارا رب ہمیں عطا فرمائے گا۔ حق پر مصیبت سہنا بالکل معمولی بات ہے جس کا ہمیں مطلق خوف نہیں۔ ہماری تو اب یہی ایک آرزو ہے کہ ہمارا رب ہمارے اگلے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کرے جو مقابلہ تو نے ہم سے کروایا ہے۔ اس کا وبال ہم پر سے ہٹ جائے اور اسکے لئے ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی وسیلہ نہیں کہ ہم سب سے پہلے اللہ والے بن جائیں ایمان میں سبقت کریں اس جواب پر وہ اور بھی بگڑا اور ان سب کو اس نے قتل کرادایا۔ ؓ اجمعین۔
52
View Single
۞وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِيٓ إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
And We sent the divine revelation to Moosa that, “Journey along with My bondmen within the night, for you will be pursued.”
اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تم میرے بندوں کو راتوں رات (یہاں سے) لے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
53
View Single
فَأَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
So Firaun sent gatherers into the cities.
پھر فرعون نے شہروں میں ہرکارے بھیج دئیے
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
54
View Single
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٞ قَلِيلُونَ
They announced “These people are a small group.”
(اور کہا:) بیشک یہ (بنی اسرائیل) تھوڑی سی جماعت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
55
View Single
وَإِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآئِظُونَ
“And indeed they have angered all of us.”
اور بلاشبہ وہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
56
View Single
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَٰذِرُونَ
“And indeed we are an alert army.”
اور یقیناً ہم سب (بھی) مستعد اور چوکس ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
57
View Single
فَأَخۡرَجۡنَٰهُم مِّن جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
We therefore got them out from the gardens and water springs.
پس ہم نے ان (فرعونیوں) کو باغوں اور چشموں سے نکال باہر کیا
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
58
View Single
وَكُنُوزٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ
And from treasures and nice houses.
اور خزانوں اور نفیس قیام گاہوں سے (بھی نکال دیا)
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
59
View Single
كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
So it was; and We made the Descendants of Israel its inheritors.
(ہم نے) اسی طرح (کیا) اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان (سب چیزوں) کا وارث بنا دیا
Tafsir Ibn Kathir
The Exodus of the Children of Israel from Egypt
After Musa stayed in Egypt for a long time, and the proof of Allah was established against Fir`awn and his chiefs, yet they were still arrogant and stubborn, then there was nothing left for them but punishment and vengeance. So Allah commanded Musa, peace be upon him, to take the Children of Israel out of Egypt by night, and take them wherever he would be commanded. So Musa, peace be upon him, did as he was commanded by his Lord, may He be glorified, and he led them forth after they had borrowed an abundance of jewelry from the people of Fir`awn. As more than one of the scholars of Tafsir have said, they left when the moon was rising, and Mujahid, may Allah have mercy on him, said that the moon was eclipsed that night. And Allah knows best. Musa asked about the grave of Yusuf (Prophet Joseph), peace be upon him, and an old woman from among the Children of Israel showed him where it was, so he took the remains with them, and it was said that they were among the things that were carried by Musa himself, may peace be upon them both. It was also said that Yusuf, peace be upon him, had left instructions in his will that if the Children of Israel ever left Egypt, they should take his remains with them. The following morning, when there was nobody to be found in the Israelite quarters, Fir`awn became angry and his anger intensified since Allah had decreed that he was to be destroyed. So he quickly sent his callers to all his cities, i.e., to mobilize his troops and bring them together, and he called out to them:
إِنَّ هَـؤُلآءِ
(Verily, these) meaning, the Children of Israel,
لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ
(indeed are but a small band. ) meaning, a small group.
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُونَ
(And verily, they have done what has enraged us.) means, `every time we have heard anything about them, it has upset us and made us angry.'
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَـذِرُونَ
(But we are a host all assembled, amply forewarned.) means, `we are constantly taking precautions lest they betray us.' Some of the Salaf read this with the meaning, "we are constantly forewarned and forearmed. And I want to destroy them to the last man, and destroy all their lands and property." So he and his troops were punished with the very things he sought to inflict upon the Children of Israel. Allah says:
فَأَخْرَجْنَـهُمْ مِّن جَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
(So, We expelled them from gardens and springs, treasures, and every kind of honorable place.) meaning, they were thrown out of those blessings and into Hell, and they left behind the honorable places, gardens and rivers, wealth, provision, position and power in this world:
كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَـهَا بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Thus and We caused the Children of Israel to inherit them.) This is like the Ayat:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُواْ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـرِقَ الاٌّرْضِ وَمَغَـرِبَهَا الَّتِى بَارَكْنَا فِيهَا
(And We made the people who were considered weak to inherit the eastern parts of the land and the western parts thereof which We have blessed) (7: 137).
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فِى الاٌّرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
(And We wished to do a favor to those who were weak in the land, and to make them rulers and to make them the inheritors) The two Ayat thereafter: 28:5-6.
فرعونیوں کا انجام موسیٰ ؑ نے اپنی نبوت کا بہت سارا زمانہ ان میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ان پر واضح کردیں لیکن ان کا سر نیچا نہ ہوا ان کا تکبر نہ ٹوٹا ان کی بد دماغی میں کوئی فرق نہ آیا۔ تو اب سوا اس کے کے کوئی چیز باقی نہ رہی کہ ان پر عذاب الہٰی آجائے اور یہ غارت ہوں۔ موسیٰ ؑ کو اللہ کی وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیلیوں کو لے کر میرے حکم کے مطابق چل دو۔ بنو اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیور بطور عاریت کے لئے اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دئیے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس رات چاند گہن تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف ؑ کی قبر کہاں ہے ؟ بنو اسرائیل کی ایک بڑھیا نے قبر بتلادی۔ آپ نے تابوت یوسف اپنے ساتھ اٹھالیا۔ کہا گیا کہ خود آپ نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف ؑ کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ کا تابوت اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کسی اعرابی کے ہاں مہمان ہوئے اس نے آپ کی بڑی خاطر تواضع کی واپسی میں آپ نے فرمایا کبھی ہم سے مدینے میں بھی مل لینا کچھ دنوں بعد اعرابی آپ کے پاس آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کچھ چاہئے ؟ اس نے کہاں ہاں ایک تو اونٹنی دیجئے مع ہودج کے اور ایک بکری دیئجے جو دودھ دیتی ہو آپ نے فرمایا افسوس تو نے بنی اسرائیل کی بڑھیا جیسا سوال نہ کیا۔ صحابہ ؓ نے پوچھا۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جب حضرت کلیم اللہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے ہزار کوشش کی لیکن راہ نہیں ملتی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کرکے پوچھایہ کیا اندھیر ہے ؟ تو علمائے بنی اسرائیل نے کہا بات یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے آخری وقت ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے چلیں تو آپ کے تابوت کو بھی یہاں سے اپنے ساتھ لیتے جائیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کون جانتا ہے کہ یوسف ؑ کی تربت کہاں ہے ؟ سب نے انکار کردیا ہم نہیں جانتے ہم میں سوائے ایک بڑھیا کے اور کوئی بھی آپ کی قبر سے واقف نہیں آپ نے اس بڑھیا کے پاس آدمی بھیج کر اس سے کہلوایا کہ مجھے حضرت یوسف ؑ کی قبر دکھا۔ بڑھیا نے کہا ہاں دکھاؤں گی لیکن پہلے اپنے حق لے لوں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تو کیا چاہتی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ جنت میں آپ کا ساتھ مجھے میسر ہو۔ آپ پر اس کا یہ سوال بھاری پڑا اسی وقت وحی آئی کہ اس کی بات مان لو اور اسکی شرط منظور کرلو اب وہ آپ کو ایک جھیل کے پاس لے گئی جس کے پانی کا رنگ بھی متغیر ہوگیا تھا کہا کہ اس کا پانی نکال ڈالو جب پانی نکال ڈالا اور زمین نظر آنے لگی تو کہا اب یہاں کھودو۔ کھودنا شروع ہوا تو قبر ظاہر ہوگئی اسے ساتھ رکھ لیا اب جو چلنے لگے تو راستہ صاف نظر آنے لگا اور سیدھی راہ لگ گئے۔ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے بلکہ زیادہ قریب تو یہ ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں۔ واللہ اعلم۔ یہ لوگ تو اپنے راستے لگ گئے ادھر فرعون اور فرعونیوں کی صبح کے وقت جو آنکھ کھلتی ہے تو چوکیدار غلام وغیرہ کوئی نہیں۔ سخت پیچ وتاب کھانے لگے اور مارے غصے کے سرخ ہوگئے جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کو سب کے سب فرار ہوگئے ہیں تو اور بھی سناٹا چھا گیا۔ اسی وقت اپنے لشکر جمع کرنے لگا۔ سب کو جمع کرکے ان سے کہنے لگا۔ کہ یہ بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا گروہ ہے محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی حاذرون کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے حذرون بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں میں ارادہ کرچکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست ونابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند وبالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت وتاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل ونادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہوچکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا۔
60
View Single
فَأَتۡبَعُوهُم مُّشۡرِقِينَ
So the Firaun’s people followed them at sunrise.
پھر سورج نکلتے وقت ان (فرعونیوں) نے ان کا تعاقب کیا
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
61
View Single
فَلَمَّا تَرَـٰٓءَا ٱلۡجَمۡعَانِ قَالَ أَصۡحَٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدۡرَكُونَ
And when the two groups saw each other, those with Moosa said, “They have caught us.”
پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
62
View Single
قَالَ كَلَّآۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهۡدِينِ
Said Moosa, “Never! Indeed my Lord is with me, He will now show me the way.”
(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گا
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
63
View Single
فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ
So We sent the divine revelation to Moosa that, “Strike the sea with your staff”; thereupon the sea parted; so each part was like a huge mountain.
پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، پس دریا (بارہ حصوں میں) پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا زبردست پہاڑ کی مانند ہو گیا
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
64
View Single
وَأَزۡلَفۡنَا ثَمَّ ٱلۡأٓخَرِينَ
And We brought the others close to that place.
اور ہم نے دوسروں (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں) کو اس جگہ کے قریب کر دیا
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
65
View Single
وَأَنجَيۡنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ
And We saved Moosa and all those with him.
اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (بھی) نجات بخشی اور ان سب لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
66
View Single
ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ
Then drowned the others.
پھر ہم نے دوسروں (یعنی فرعونیوں) کو غرق کر دیا
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
67
View Single
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
Indeed in this is surely a sign, and most of them were not Muslims.
بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ) کی بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
68
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord – only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Fir`awn's Pursuit and Expulsion of the Children of Israel, and how He and His People were drowned
More than one of the scholars of Tafsir said that Fir`awn set out with a huge group, a group containing the leaders and entire government of Egypt at that time, i.e., the decision-makers and influential figures, princes, ministers, nobles, leaders and soldiers.
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ
(So, they pursued them at sunrise.) means, they caught up with the Children of Israel at sunrise.
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ
(And when the two hosts saw each other,) means, each group saw the other. At that point,
قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ
(the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken.") This was because Fir`awn and his people caught up with them on the shores of the Red Sea, so the sea was ahead of them and Fir`awn and his troops were behind them. Hence they said:
فَلَمَّا تَرَآءَا الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـبُ مُوسَى إِنَّا لَمُدْرَكُونَ - قَالَ كَلاَّ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
("We are sure to be overtaken." (Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me.") meaning, `nothing of what you fear will happen to you, for Allah is the One Who commanded me to bring you here, and He does not go back on His promise.' Harun, peace be upon him, was in the front, with Yusha` bin Nun and a believer from the family of Fir`awn, and Musa, peace be upon him, was in the rear. More than one of the scholars of Tafsir said that they stood there not knowing what to do, and Yusha` bin Nun or the believer from the family of Fir`awn said to Musa, peace be upon him, "O Prophet of Allah, is it here that your Lord commanded you to bring us" He said: "Yes." Then Fir`awn and his troops drew near and were very close indeed. At that point Allah commanded his Prophet Musa, peace be upon him, to strike the sea with his staff, so he struck it, and it parted, by the will of Allah. Allah says:
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
(And it parted, and each separate part became like huge mountain.) meaning, like mighty mountains. This was the view of Ibn Mas`ud, Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Ad-Dahhak, Qatadah and others. `Ata' Al-Khurasani said, "It refers to a pass between two mountains." Ibn `Abbas said, "The sea divided into twelve paths, one for each of the tribes." As-Suddi added, "And in it there were windows through which they could see one another, and the water was erected like walls." Allah sent the wind to the sea bed to make it solid like the land. Allah says:
فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِى الْبَحْرِ يَبَساً لاَّ تَخَافُ دَرَكاً وَلاَ تَخْشَى
(and strike a dry path for them in the sea, fearing neither to be overtaken nor being afraid) (20:77). And here He says:
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الاٌّخَرِينَ
(Then We brought near the others to that place.) Ibn `Abbas, `Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said:
وَأَزْلَفْنَا
(Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea."
وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا الاٌّخَرِينَ
(And We saved Musa and all those with him. Then We drowned the others.) meaning: `We saved Musa and the Children of Israel and whoever followed their religion, and none of them were destroyed, but Fir`awn and his troops were drowned and not one of them remained alive, but was destroyed.' Then Allah says:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً
(Verily, in this is indeed a sign,) meaning, this story with its wonders and tales of aid to the believing servants of Allah is definitive proof and evidence of Allah's wisdom.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful. ) The explanation of this phrase has already been discussed above.
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کا ٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا حضرت موسیٰ ؑ نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے ان کے اگلے حصے پر حضرت ہارون ؑ تھے انہی کے ساتھ حضرت یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور حضرت موسیٰ ؑ لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آپہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ اے نبی ! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو، آپ نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت حضرت موسیٰ ؑ نے جو دعامانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے۔ دعا (یا من کان قبل کل شئی المکون لکل شئی والکائن بعد کل شئی اجعل لنا مخرجا) یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم حضرت ؑ کب اور کدھر سے آجائیں اور مجھے لکڑی ماردیں ایسانہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ کے ساتھی حضرت یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا ــ یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ چناچہ آپ نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دے دے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہوگیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہوگیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کرکے راستے صاف کردیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بےکھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کردیا پھر موسیٰ اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ فرعون کو جب بنو اسرائیل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہوجانا چاہئے۔ ادھر موسیٰ ؑ بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دے دے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کررہے ہو ؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں ؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا ؟ آپ کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ جھوٹے ہیں نہ آپ سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ سمندر پر اپنی لکڑی مار۔ اب آپ کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہوگئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ حضرت موسیٰ ؑ تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آگئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہوگیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آگیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہوگیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کرکے ڈبودیئے گئے۔ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے۔
69
View Single
وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ إِبۡرَٰهِيمَ
And recite to them the news of Ibrahim.
اور آپ ان پر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ (بھی) پڑھ کر سنا دیں
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
70
View Single
إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا تَعۡبُدُونَ
When he said to his father and his people, “What do you worship?”
جب انہوں نے اپنے باپ ٭ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم کس چیز کو پوجتے ہوo٭ (یہ حقیقی باپ نہ تھا، چچا تھا۔ اسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کی تھی جس کی وجہ سے اسے باپ کہا کرتے تھے۔ اس کا نام آزر ہے جبکہ آپ کے حقیقی والد کا نام تارخ ہے۔)
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
71
View Single
قَالُواْ نَعۡبُدُ أَصۡنَامٗا فَنَظَلُّ لَهَا عَٰكِفِينَ
They said, “We worship idols, and we keep squatting in seclusion before them.”
انہوں نے کہا: ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت و خدمت) کے لئے جمے رہنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
72
View Single
قَالَ هَلۡ يَسۡمَعُونَكُمۡ إِذۡ تَدۡعُونَ
He said, “Do they hear you when you call?”
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا وہ تمہیں سنتے ہیں جب تم (ان کو) پکارتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
73
View Single
أَوۡ يَنفَعُونَكُمۡ أَوۡ يَضُرُّونَ
“Or do they benefit you or harm you?”
یا وہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
74
View Single
قَالُواْ بَلۡ وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ
They said, “In fact we found our forefathers doing likewise.”
وہ بولے: (یہ تو معلوم نہیں) لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا تھا
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
75
View Single
قَالَ أَفَرَءَيۡتُم مَّا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ
He said, “Do you see these – (the idols) whom you worship?”
(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
76
View Single
أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُمُ ٱلۡأَقۡدَمُونَ
“You and your forefathers preceding you.”
تم اور تمہارے اگلے آباء و اجداد (الغرض کسی نے بھی سوچا)
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
77
View Single
فَإِنَّهُمۡ عَدُوّٞ لِّيٓ إِلَّا رَبَّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“They are all my enemies, except the Lord Of The Creation.”
پس وہ (سب بُت) میرے دشمن ہیں سوائے تمام جہانوں کے رب کے (وہی میرا معبود ہے)
Tafsir Ibn Kathir
How the Close Friend of Allah, Ibrahim spoke out against Shirk
Here Allah tells us about His servant, Messenger and Close Friend, Ibrahim, upon him be peace, the leader of the pure monotheists. Allah commanded His Messenger Muhammad ﷺ to recite this story to his Ummah so that they could follow this example of sincerity towards Allah, putting one's trust in Him, worshipping Him Alone with no partner or associate, and renouncing Shirk and its people. Allah granted guidance to Ibrahim before, i.e., from a very early age he had denounced his people's practice of worshipping idols with Allah, may He be exalted.
إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
(When he said to his father and his people: "What do you worship") meaning: what are these statues to which you are so devoted
قَالُواْ نَعْبُدُ أَصْنَاماً فَنَظَلُّ لَهَا عَـكِفِينَ
(They said: "We worship idols, and to them we are ever devoted.") meaning: we are devoted to worshipping them and praying to them.
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ - أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ - قَالُواْ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ
(He said: "Do they hear you when you call Or do they benefit you or do they cause harm" They said: "(Nay) but we found our fathers doing so.") They knew that their idols could not do anything, but they had seen their fathers doing this, so they made haste to follow in their footsteps. So Ibrahim said to them:
قَالَ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ - أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُمُ الاٌّقْدَمُونَ - فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلاَّ رَبَّ الْعَـلَمِينَ
(Do you observe that which you have been worshipping --you and your ancient fathers Verily, they are enemies to me, save the Lord of Al-`Alamin.) meaning, `if these idols mean anything and have any influence, then let them do me any kind of harm, for I am an enemy to them and I do not care about them or think anything of them.' This is akin to the way Allah described Nuh:
فَأَجْمِعُواْ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ
(So devise your plot, you and your partners) (10:71). And Hud, upon him be peace, said:
إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ - مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ - إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَآ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
("I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path) (11:54-56). rSimilarly, Ibrahim denounced their gods and idols and said:
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ
(And how should I fear those whom you associate in worship with Allah, while you fear not that you have joined in worship with Allah) (6:81). And Allah said:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim) until His saying;
حَتَّى تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(until you believe in Allah Alone) (60:4).
وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لاًّبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِى بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ - إِلاَّ الَّذِى فَطَرَنِى فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ - وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَـقِيَةً فِى عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(And (remember) when Ibrahim said to his father and his people: "Verily, I am innocent of what you worship, except Him Who created me; and verily, He will guide me." And he made it a Word lasting among his offspring, that they may turn back) (43:26-28). meaning: "La Ilaha Illallah."
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے لئے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لئے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں ؟ یا اگر تم انکی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ انکے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کرسکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برات اور بیزاری کا اعلان کردیا۔ صاف فرمادیا کہ تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت نوح نبی ؑ نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔ حضرت ہود ؑ نے بھی فرمایا تھا میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اسکے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہئے۔ جو سچا ہے آپ نے اعلان کردیا تھا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی لا الہ الا اللہ کو انہوں نے کلمہ بنالیا۔
78
View Single
ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ
“The One Who created me, so He will guide me.”
وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim mentions Allah's Kindness towards Him
Ibrahim said, "I will not worship any but the One Who does these things:
الَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ
(Who has created me, and it is He Who guides me.) He is the Creator Who has decreed certain things to which He guides His creation, so each person follows the path which is decreed for him. Allah is the One Who guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills.
وَالَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ
(And it is He Who feeds me and gives me to drink.) He is my Creator Who provides for me from that which He has made available in the heavens and on earth. He drives the clouds and causes water to fall with which He revives the earth and brings forth its fruits as provision for mankind. He sends down the water fresh and sweet so that many of those whom He has created, animals and men alike, may drink from it.
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) Here he attributed sickness to himself, even though it is Allah Who decrees it, out of respect towards Allah. By the same token, Allah commands us to say in the prayer,
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
(Guide us to the straight way) (1:6) to the end of the Surah. Grace and guidance are attributed to Allah, may He be exalted, but the subject of the verb with reference to anger is omitted, and going astray is attributed to the people. This is like when the Jinn said:
وَأَنَّا لاَ نَدْرِى أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى الاٌّرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(And we know not whether evil is intended for those on earth, or whether their Lord intends for them a right path) (72:10) Similarly, Ibrahim said:
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) meaning, `when I fall sick, no one is able to heal me but Him, Who heals me with the means that may lead to recovery'.
وَالَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ
(And Who will cause me to die, and then will bring me to life.) He is the One Who gives life and causes death, and no one besides Him is able to do that, for He is the One Who originates and repeats.
وَالَّذِى أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيئَتِى يَوْمَ الدِّينِ
(And Who, I hope, will forgive me my faults on the Day of Recompense.) means, no one is able to forgive sins in this world or the Hereafter except Him. Who can forgive sins except Allah For He is the One Who does whatever He wills.
خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے لیکن خلیل اللہ ؑ کا کمال ادب دیکھئے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضا وقدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورة فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام و ہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کردیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کردی ہے۔ سورة جن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفا پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت وحیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتدا اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔
79
View Single
وَٱلَّذِي هُوَ يُطۡعِمُنِي وَيَسۡقِينِ
“And the One Who feeds me and gives me to drink.”
اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim mentions Allah's Kindness towards Him
Ibrahim said, "I will not worship any but the One Who does these things:
الَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ
(Who has created me, and it is He Who guides me.) He is the Creator Who has decreed certain things to which He guides His creation, so each person follows the path which is decreed for him. Allah is the One Who guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills.
وَالَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ
(And it is He Who feeds me and gives me to drink.) He is my Creator Who provides for me from that which He has made available in the heavens and on earth. He drives the clouds and causes water to fall with which He revives the earth and brings forth its fruits as provision for mankind. He sends down the water fresh and sweet so that many of those whom He has created, animals and men alike, may drink from it.
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) Here he attributed sickness to himself, even though it is Allah Who decrees it, out of respect towards Allah. By the same token, Allah commands us to say in the prayer,
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
(Guide us to the straight way) (1:6) to the end of the Surah. Grace and guidance are attributed to Allah, may He be exalted, but the subject of the verb with reference to anger is omitted, and going astray is attributed to the people. This is like when the Jinn said:
وَأَنَّا لاَ نَدْرِى أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى الاٌّرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(And we know not whether evil is intended for those on earth, or whether their Lord intends for them a right path) (72:10) Similarly, Ibrahim said:
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) meaning, `when I fall sick, no one is able to heal me but Him, Who heals me with the means that may lead to recovery'.
وَالَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ
(And Who will cause me to die, and then will bring me to life.) He is the One Who gives life and causes death, and no one besides Him is able to do that, for He is the One Who originates and repeats.
وَالَّذِى أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيئَتِى يَوْمَ الدِّينِ
(And Who, I hope, will forgive me my faults on the Day of Recompense.) means, no one is able to forgive sins in this world or the Hereafter except Him. Who can forgive sins except Allah For He is the One Who does whatever He wills.
خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے لیکن خلیل اللہ ؑ کا کمال ادب دیکھئے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضا وقدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورة فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام و ہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کردیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کردی ہے۔ سورة جن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفا پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت وحیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتدا اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔
80
View Single
وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ
“And when I fall ill, so it is He Who heals me.”
اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim mentions Allah's Kindness towards Him
Ibrahim said, "I will not worship any but the One Who does these things:
الَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ
(Who has created me, and it is He Who guides me.) He is the Creator Who has decreed certain things to which He guides His creation, so each person follows the path which is decreed for him. Allah is the One Who guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills.
وَالَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ
(And it is He Who feeds me and gives me to drink.) He is my Creator Who provides for me from that which He has made available in the heavens and on earth. He drives the clouds and causes water to fall with which He revives the earth and brings forth its fruits as provision for mankind. He sends down the water fresh and sweet so that many of those whom He has created, animals and men alike, may drink from it.
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) Here he attributed sickness to himself, even though it is Allah Who decrees it, out of respect towards Allah. By the same token, Allah commands us to say in the prayer,
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
(Guide us to the straight way) (1:6) to the end of the Surah. Grace and guidance are attributed to Allah, may He be exalted, but the subject of the verb with reference to anger is omitted, and going astray is attributed to the people. This is like when the Jinn said:
وَأَنَّا لاَ نَدْرِى أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى الاٌّرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(And we know not whether evil is intended for those on earth, or whether their Lord intends for them a right path) (72:10) Similarly, Ibrahim said:
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) meaning, `when I fall sick, no one is able to heal me but Him, Who heals me with the means that may lead to recovery'.
وَالَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ
(And Who will cause me to die, and then will bring me to life.) He is the One Who gives life and causes death, and no one besides Him is able to do that, for He is the One Who originates and repeats.
وَالَّذِى أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيئَتِى يَوْمَ الدِّينِ
(And Who, I hope, will forgive me my faults on the Day of Recompense.) means, no one is able to forgive sins in this world or the Hereafter except Him. Who can forgive sins except Allah For He is the One Who does whatever He wills.
خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے لیکن خلیل اللہ ؑ کا کمال ادب دیکھئے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضا وقدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورة فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام و ہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کردیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کردی ہے۔ سورة جن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفا پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت وحیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتدا اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔
81
View Single
وَٱلَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحۡيِينِ
“And He will give me death, then resurrect me.”
اور وہی مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے (دوبارہ) زندہ فرمائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim mentions Allah's Kindness towards Him
Ibrahim said, "I will not worship any but the One Who does these things:
الَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ
(Who has created me, and it is He Who guides me.) He is the Creator Who has decreed certain things to which He guides His creation, so each person follows the path which is decreed for him. Allah is the One Who guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills.
وَالَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ
(And it is He Who feeds me and gives me to drink.) He is my Creator Who provides for me from that which He has made available in the heavens and on earth. He drives the clouds and causes water to fall with which He revives the earth and brings forth its fruits as provision for mankind. He sends down the water fresh and sweet so that many of those whom He has created, animals and men alike, may drink from it.
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) Here he attributed sickness to himself, even though it is Allah Who decrees it, out of respect towards Allah. By the same token, Allah commands us to say in the prayer,
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
(Guide us to the straight way) (1:6) to the end of the Surah. Grace and guidance are attributed to Allah, may He be exalted, but the subject of the verb with reference to anger is omitted, and going astray is attributed to the people. This is like when the Jinn said:
وَأَنَّا لاَ نَدْرِى أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى الاٌّرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(And we know not whether evil is intended for those on earth, or whether their Lord intends for them a right path) (72:10) Similarly, Ibrahim said:
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) meaning, `when I fall sick, no one is able to heal me but Him, Who heals me with the means that may lead to recovery'.
وَالَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ
(And Who will cause me to die, and then will bring me to life.) He is the One Who gives life and causes death, and no one besides Him is able to do that, for He is the One Who originates and repeats.
وَالَّذِى أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيئَتِى يَوْمَ الدِّينِ
(And Who, I hope, will forgive me my faults on the Day of Recompense.) means, no one is able to forgive sins in this world or the Hereafter except Him. Who can forgive sins except Allah For He is the One Who does whatever He wills.
خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے لیکن خلیل اللہ ؑ کا کمال ادب دیکھئے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضا وقدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورة فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام و ہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کردیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کردی ہے۔ سورة جن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفا پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت وحیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتدا اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔
82
View Single
وَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ
“And the One Who, upon Whom I pin my hopes, will forgive me my mistakes on the Day of Judgement.”
اور اسی سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ قیامت وہ میری خطائیں معاف فرما دے گا
Tafsir Ibn Kathir
Ibrahim mentions Allah's Kindness towards Him
Ibrahim said, "I will not worship any but the One Who does these things:
الَّذِى خَلَقَنِى فَهُوَ يَهْدِينِ
(Who has created me, and it is He Who guides me.) He is the Creator Who has decreed certain things to which He guides His creation, so each person follows the path which is decreed for him. Allah is the One Who guides whomsoever He wills and leaves astray whomsoever He wills.
وَالَّذِى هُوَ يُطْعِمُنِى وَيَسْقِينِ
(And it is He Who feeds me and gives me to drink.) He is my Creator Who provides for me from that which He has made available in the heavens and on earth. He drives the clouds and causes water to fall with which He revives the earth and brings forth its fruits as provision for mankind. He sends down the water fresh and sweet so that many of those whom He has created, animals and men alike, may drink from it.
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) Here he attributed sickness to himself, even though it is Allah Who decrees it, out of respect towards Allah. By the same token, Allah commands us to say in the prayer,
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
(Guide us to the straight way) (1:6) to the end of the Surah. Grace and guidance are attributed to Allah, may He be exalted, but the subject of the verb with reference to anger is omitted, and going astray is attributed to the people. This is like when the Jinn said:
وَأَنَّا لاَ نَدْرِى أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى الاٌّرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(And we know not whether evil is intended for those on earth, or whether their Lord intends for them a right path) (72:10) Similarly, Ibrahim said:
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
(And when I am ill, it is He Who cures me.) meaning, `when I fall sick, no one is able to heal me but Him, Who heals me with the means that may lead to recovery'.
وَالَّذِى يُمِيتُنِى ثُمَّ يُحْيِينِ
(And Who will cause me to die, and then will bring me to life.) He is the One Who gives life and causes death, and no one besides Him is able to do that, for He is the One Who originates and repeats.
وَالَّذِى أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيئَتِى يَوْمَ الدِّينِ
(And Who, I hope, will forgive me my faults on the Day of Recompense.) means, no one is able to forgive sins in this world or the Hereafter except Him. Who can forgive sins except Allah For He is the One Who does whatever He wills.
خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے لیکن خلیل اللہ ؑ کا کمال ادب دیکھئے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضا وقدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورة فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام و ہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کردیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کردی ہے۔ سورة جن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفا پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت وحیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتدا اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔
83
View Single
رَبِّ هَبۡ لِي حُكۡمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
“My Lord, bestow me the command and join me with those who deserve your proximity.”
اے میرے رب! مجھے علم و عمل میں کمال عطا فرما اور مجھے اپنے قربِ خاص کے سزاواروں میں شامل فرما لے
Tafsir Ibn Kathir
The Prayer of Ibrahim for Himself and for His Father
Here Ibrahim, upon him be peace, asks his Lord to give him Hukm. Ibn `Abbas said, "This is knowledge."
وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(and join me with the righteous.) means, `make me one of the righteous in this world and the Hereafter.' This is like the words the Prophet said three times when he was dying:
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
(O Allah, with the Exalted Companion (of Paradise)).
وَاجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى الاٌّخِرِينَ
(And grant me an honorable mention in later generations.) meaning, `cause me to be remembered in a good manner after my death, so that I will be spoken of and taken as a good example.' This is like the Ayah,
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الاٌّخِرِينَ سَلَـمٌ عَلَى إِبْرَهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(And We left for him (a goodly remembrance) among the later generations: "Salam (peace) be upon Ibrahim. Thus indeed do we reward the good doers.) (37:108-110)
وَاجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
(And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight.) meaning, `bless me in this world with honorable mention after I am gone, and in the Hereafter by making me one of the inheritors of the Paradise of Delight.'
وَاغْفِرْ لاًّبِى
(And forgive my father,) This is like the Ayah,
رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ
(My Lord! Forgive me, and my parents) (71:28). But this is something which Ibrahim, peace be upon him, later stopped doing, as Allah says:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's supplication for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him) (9:114) until:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing) (9:114). Allah stopped Ibrahim from asking for forgiveness for his father, as He says:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim and those with him), until His saying:
وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(but I have no power to do anything for you before Allah. ) (60:4),
وَلاَ تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ
(And disgrace me not on the Day when they will be resurrected.) means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة»
(Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness.) According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لَا تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين»
(Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers.") He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِينِي، فَيَقُولُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ، فَيَنْظُرَ،فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار»
(Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire.) This was also recorded by Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra.
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail,) means, a man's wealth will not protect him from the punishment of Allah, even if he were to pay a ransom equivalent to an earthful of gold.
وَلاَ بَنُونَ
(nor sons) means, `or if you were to pay a ransom of all the people on earth.' On that Day nothing will be of any avail except faith in Allah and sincere devotion to Him, and renunciation of Shirk and its people. Allah says:
إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(Except him who brings to Allah a clean heart. ) meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says:
فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ
(In their hearts is a disease) (2:10). Abu `Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."
حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتدا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ کی تعریف و توصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموما ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ ؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ لیکن اپنے کافر باپ کے لئے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ کے دل سے اس کی عزت و محبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کردیا۔ ابراہیم ؑ بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ اس بات میں انکی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گرد و غبار سے آلودہ ہو رہا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا سن لے جنت تو کافر پر قطعا حرام ہے اور روایت میں ہے کہ ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل ؑ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے پھر فرمائے گا ابراہیم دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا حقیقتا یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کردئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیابھر کے خزانے دے دے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک وکفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان و اخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔
84
View Single
وَٱجۡعَل لِّي لِسَانَ صِدۡقٖ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ
“And give me proper fame among the succeeding generations.”
اور میرے لئے بعد میں آنے والوں میں (بھی) ذکرِ خیر اور قبولیت جاری فرما
Tafsir Ibn Kathir
The Prayer of Ibrahim for Himself and for His Father
Here Ibrahim, upon him be peace, asks his Lord to give him Hukm. Ibn `Abbas said, "This is knowledge."
وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(and join me with the righteous.) means, `make me one of the righteous in this world and the Hereafter.' This is like the words the Prophet said three times when he was dying:
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
(O Allah, with the Exalted Companion (of Paradise)).
وَاجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى الاٌّخِرِينَ
(And grant me an honorable mention in later generations.) meaning, `cause me to be remembered in a good manner after my death, so that I will be spoken of and taken as a good example.' This is like the Ayah,
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الاٌّخِرِينَ سَلَـمٌ عَلَى إِبْرَهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(And We left for him (a goodly remembrance) among the later generations: "Salam (peace) be upon Ibrahim. Thus indeed do we reward the good doers.) (37:108-110)
وَاجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
(And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight.) meaning, `bless me in this world with honorable mention after I am gone, and in the Hereafter by making me one of the inheritors of the Paradise of Delight.'
وَاغْفِرْ لاًّبِى
(And forgive my father,) This is like the Ayah,
رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ
(My Lord! Forgive me, and my parents) (71:28). But this is something which Ibrahim, peace be upon him, later stopped doing, as Allah says:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's supplication for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him) (9:114) until:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing) (9:114). Allah stopped Ibrahim from asking for forgiveness for his father, as He says:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim and those with him), until His saying:
وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(but I have no power to do anything for you before Allah. ) (60:4),
وَلاَ تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ
(And disgrace me not on the Day when they will be resurrected.) means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة»
(Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness.) According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لَا تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين»
(Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers.") He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِينِي، فَيَقُولُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ، فَيَنْظُرَ،فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار»
(Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire.) This was also recorded by Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra.
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail,) means, a man's wealth will not protect him from the punishment of Allah, even if he were to pay a ransom equivalent to an earthful of gold.
وَلاَ بَنُونَ
(nor sons) means, `or if you were to pay a ransom of all the people on earth.' On that Day nothing will be of any avail except faith in Allah and sincere devotion to Him, and renunciation of Shirk and its people. Allah says:
إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(Except him who brings to Allah a clean heart. ) meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says:
فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ
(In their hearts is a disease) (2:10). Abu `Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."
حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتدا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ کی تعریف و توصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموما ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ ؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ لیکن اپنے کافر باپ کے لئے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ کے دل سے اس کی عزت و محبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کردیا۔ ابراہیم ؑ بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ اس بات میں انکی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گرد و غبار سے آلودہ ہو رہا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا سن لے جنت تو کافر پر قطعا حرام ہے اور روایت میں ہے کہ ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل ؑ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے پھر فرمائے گا ابراہیم دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا حقیقتا یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کردئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیابھر کے خزانے دے دے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک وکفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان و اخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔
85
View Single
وَٱجۡعَلۡنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ ٱلنَّعِيمِ
“And make me among the inheritors of the Gardens of serenity.”
اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے
Tafsir Ibn Kathir
The Prayer of Ibrahim for Himself and for His Father
Here Ibrahim, upon him be peace, asks his Lord to give him Hukm. Ibn `Abbas said, "This is knowledge."
وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(and join me with the righteous.) means, `make me one of the righteous in this world and the Hereafter.' This is like the words the Prophet said three times when he was dying:
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
(O Allah, with the Exalted Companion (of Paradise)).
وَاجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى الاٌّخِرِينَ
(And grant me an honorable mention in later generations.) meaning, `cause me to be remembered in a good manner after my death, so that I will be spoken of and taken as a good example.' This is like the Ayah,
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الاٌّخِرِينَ سَلَـمٌ عَلَى إِبْرَهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(And We left for him (a goodly remembrance) among the later generations: "Salam (peace) be upon Ibrahim. Thus indeed do we reward the good doers.) (37:108-110)
وَاجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
(And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight.) meaning, `bless me in this world with honorable mention after I am gone, and in the Hereafter by making me one of the inheritors of the Paradise of Delight.'
وَاغْفِرْ لاًّبِى
(And forgive my father,) This is like the Ayah,
رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ
(My Lord! Forgive me, and my parents) (71:28). But this is something which Ibrahim, peace be upon him, later stopped doing, as Allah says:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's supplication for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him) (9:114) until:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing) (9:114). Allah stopped Ibrahim from asking for forgiveness for his father, as He says:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim and those with him), until His saying:
وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(but I have no power to do anything for you before Allah. ) (60:4),
وَلاَ تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ
(And disgrace me not on the Day when they will be resurrected.) means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة»
(Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness.) According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لَا تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين»
(Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers.") He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِينِي، فَيَقُولُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ، فَيَنْظُرَ،فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار»
(Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire.) This was also recorded by Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra.
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail,) means, a man's wealth will not protect him from the punishment of Allah, even if he were to pay a ransom equivalent to an earthful of gold.
وَلاَ بَنُونَ
(nor sons) means, `or if you were to pay a ransom of all the people on earth.' On that Day nothing will be of any avail except faith in Allah and sincere devotion to Him, and renunciation of Shirk and its people. Allah says:
إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(Except him who brings to Allah a clean heart. ) meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says:
فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ
(In their hearts is a disease) (2:10). Abu `Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."
حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتدا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ کی تعریف و توصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموما ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ ؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ لیکن اپنے کافر باپ کے لئے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ کے دل سے اس کی عزت و محبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کردیا۔ ابراہیم ؑ بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ اس بات میں انکی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گرد و غبار سے آلودہ ہو رہا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا سن لے جنت تو کافر پر قطعا حرام ہے اور روایت میں ہے کہ ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل ؑ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے پھر فرمائے گا ابراہیم دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا حقیقتا یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کردئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیابھر کے خزانے دے دے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک وکفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان و اخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔
86
View Single
وَٱغۡفِرۡ لِأَبِيٓ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ
“And forgive my father* – he is indeed astray.” (His paternal uncle)
اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Prayer of Ibrahim for Himself and for His Father
Here Ibrahim, upon him be peace, asks his Lord to give him Hukm. Ibn `Abbas said, "This is knowledge."
وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(and join me with the righteous.) means, `make me one of the righteous in this world and the Hereafter.' This is like the words the Prophet said three times when he was dying:
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
(O Allah, with the Exalted Companion (of Paradise)).
وَاجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى الاٌّخِرِينَ
(And grant me an honorable mention in later generations.) meaning, `cause me to be remembered in a good manner after my death, so that I will be spoken of and taken as a good example.' This is like the Ayah,
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الاٌّخِرِينَ سَلَـمٌ عَلَى إِبْرَهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(And We left for him (a goodly remembrance) among the later generations: "Salam (peace) be upon Ibrahim. Thus indeed do we reward the good doers.) (37:108-110)
وَاجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
(And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight.) meaning, `bless me in this world with honorable mention after I am gone, and in the Hereafter by making me one of the inheritors of the Paradise of Delight.'
وَاغْفِرْ لاًّبِى
(And forgive my father,) This is like the Ayah,
رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ
(My Lord! Forgive me, and my parents) (71:28). But this is something which Ibrahim, peace be upon him, later stopped doing, as Allah says:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's supplication for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him) (9:114) until:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing) (9:114). Allah stopped Ibrahim from asking for forgiveness for his father, as He says:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim and those with him), until His saying:
وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(but I have no power to do anything for you before Allah. ) (60:4),
وَلاَ تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ
(And disgrace me not on the Day when they will be resurrected.) means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة»
(Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness.) According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لَا تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين»
(Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers.") He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِينِي، فَيَقُولُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ، فَيَنْظُرَ،فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار»
(Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire.) This was also recorded by Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra.
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail,) means, a man's wealth will not protect him from the punishment of Allah, even if he were to pay a ransom equivalent to an earthful of gold.
وَلاَ بَنُونَ
(nor sons) means, `or if you were to pay a ransom of all the people on earth.' On that Day nothing will be of any avail except faith in Allah and sincere devotion to Him, and renunciation of Shirk and its people. Allah says:
إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(Except him who brings to Allah a clean heart. ) meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says:
فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ
(In their hearts is a disease) (2:10). Abu `Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."
حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتدا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ کی تعریف و توصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموما ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ ؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ لیکن اپنے کافر باپ کے لئے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ کے دل سے اس کی عزت و محبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کردیا۔ ابراہیم ؑ بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ اس بات میں انکی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گرد و غبار سے آلودہ ہو رہا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا سن لے جنت تو کافر پر قطعا حرام ہے اور روایت میں ہے کہ ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل ؑ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے پھر فرمائے گا ابراہیم دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا حقیقتا یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کردئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیابھر کے خزانے دے دے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک وکفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان و اخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔
87
View Single
وَلَا تُخۡزِنِي يَوۡمَ يُبۡعَثُونَ
“And do not disgrace me on the day when everyone will be raised.”
اور مجھے (اُس دن) رسوا نہ کرنا جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Prayer of Ibrahim for Himself and for His Father
Here Ibrahim, upon him be peace, asks his Lord to give him Hukm. Ibn `Abbas said, "This is knowledge."
وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(and join me with the righteous.) means, `make me one of the righteous in this world and the Hereafter.' This is like the words the Prophet said three times when he was dying:
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
(O Allah, with the Exalted Companion (of Paradise)).
وَاجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى الاٌّخِرِينَ
(And grant me an honorable mention in later generations.) meaning, `cause me to be remembered in a good manner after my death, so that I will be spoken of and taken as a good example.' This is like the Ayah,
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الاٌّخِرِينَ سَلَـمٌ عَلَى إِبْرَهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(And We left for him (a goodly remembrance) among the later generations: "Salam (peace) be upon Ibrahim. Thus indeed do we reward the good doers.) (37:108-110)
وَاجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
(And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight.) meaning, `bless me in this world with honorable mention after I am gone, and in the Hereafter by making me one of the inheritors of the Paradise of Delight.'
وَاغْفِرْ لاًّبِى
(And forgive my father,) This is like the Ayah,
رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ
(My Lord! Forgive me, and my parents) (71:28). But this is something which Ibrahim, peace be upon him, later stopped doing, as Allah says:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's supplication for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him) (9:114) until:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing) (9:114). Allah stopped Ibrahim from asking for forgiveness for his father, as He says:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim and those with him), until His saying:
وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(but I have no power to do anything for you before Allah. ) (60:4),
وَلاَ تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ
(And disgrace me not on the Day when they will be resurrected.) means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة»
(Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness.) According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لَا تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين»
(Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers.") He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِينِي، فَيَقُولُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ، فَيَنْظُرَ،فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار»
(Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire.) This was also recorded by Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra.
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail,) means, a man's wealth will not protect him from the punishment of Allah, even if he were to pay a ransom equivalent to an earthful of gold.
وَلاَ بَنُونَ
(nor sons) means, `or if you were to pay a ransom of all the people on earth.' On that Day nothing will be of any avail except faith in Allah and sincere devotion to Him, and renunciation of Shirk and its people. Allah says:
إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(Except him who brings to Allah a clean heart. ) meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says:
فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ
(In their hearts is a disease) (2:10). Abu `Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."
حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتدا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ کی تعریف و توصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموما ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ ؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ لیکن اپنے کافر باپ کے لئے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ کے دل سے اس کی عزت و محبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کردیا۔ ابراہیم ؑ بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ اس بات میں انکی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گرد و غبار سے آلودہ ہو رہا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا سن لے جنت تو کافر پر قطعا حرام ہے اور روایت میں ہے کہ ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل ؑ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے پھر فرمائے گا ابراہیم دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا حقیقتا یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کردئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیابھر کے خزانے دے دے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک وکفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان و اخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔
88
View Single
يَوۡمَ لَا يَنفَعُ مَالٞ وَلَا بَنُونَ
“The day when neither wealth will benefit nor will sons.”
جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ اولاد
Tafsir Ibn Kathir
The Prayer of Ibrahim for Himself and for His Father
Here Ibrahim, upon him be peace, asks his Lord to give him Hukm. Ibn `Abbas said, "This is knowledge."
وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(and join me with the righteous.) means, `make me one of the righteous in this world and the Hereafter.' This is like the words the Prophet said three times when he was dying:
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
(O Allah, with the Exalted Companion (of Paradise)).
وَاجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى الاٌّخِرِينَ
(And grant me an honorable mention in later generations.) meaning, `cause me to be remembered in a good manner after my death, so that I will be spoken of and taken as a good example.' This is like the Ayah,
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الاٌّخِرِينَ سَلَـمٌ عَلَى إِبْرَهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(And We left for him (a goodly remembrance) among the later generations: "Salam (peace) be upon Ibrahim. Thus indeed do we reward the good doers.) (37:108-110)
وَاجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
(And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight.) meaning, `bless me in this world with honorable mention after I am gone, and in the Hereafter by making me one of the inheritors of the Paradise of Delight.'
وَاغْفِرْ لاًّبِى
(And forgive my father,) This is like the Ayah,
رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ
(My Lord! Forgive me, and my parents) (71:28). But this is something which Ibrahim, peace be upon him, later stopped doing, as Allah says:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's supplication for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him) (9:114) until:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing) (9:114). Allah stopped Ibrahim from asking for forgiveness for his father, as He says:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim and those with him), until His saying:
وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(but I have no power to do anything for you before Allah. ) (60:4),
وَلاَ تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ
(And disgrace me not on the Day when they will be resurrected.) means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة»
(Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness.) According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لَا تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين»
(Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers.") He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِينِي، فَيَقُولُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ، فَيَنْظُرَ،فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار»
(Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire.) This was also recorded by Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra.
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail,) means, a man's wealth will not protect him from the punishment of Allah, even if he were to pay a ransom equivalent to an earthful of gold.
وَلاَ بَنُونَ
(nor sons) means, `or if you were to pay a ransom of all the people on earth.' On that Day nothing will be of any avail except faith in Allah and sincere devotion to Him, and renunciation of Shirk and its people. Allah says:
إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(Except him who brings to Allah a clean heart. ) meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says:
فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ
(In their hearts is a disease) (2:10). Abu `Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."
حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتدا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ کی تعریف و توصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموما ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ ؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ لیکن اپنے کافر باپ کے لئے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ کے دل سے اس کی عزت و محبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کردیا۔ ابراہیم ؑ بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ اس بات میں انکی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گرد و غبار سے آلودہ ہو رہا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا سن لے جنت تو کافر پر قطعا حرام ہے اور روایت میں ہے کہ ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل ؑ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے پھر فرمائے گا ابراہیم دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا حقیقتا یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کردئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیابھر کے خزانے دے دے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک وکفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان و اخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔
89
View Single
إِلَّا مَنۡ أَتَى ٱللَّهَ بِقَلۡبٖ سَلِيمٖ
“Except he who presented himself before Allah, with a sound* heart.” (Intact or unblemished.)
مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہوا
Tafsir Ibn Kathir
The Prayer of Ibrahim for Himself and for His Father
Here Ibrahim, upon him be peace, asks his Lord to give him Hukm. Ibn `Abbas said, "This is knowledge."
وَأَلْحِقْنِى بِالصَّـلِحِينَ
(and join me with the righteous.) means, `make me one of the righteous in this world and the Hereafter.' This is like the words the Prophet said three times when he was dying:
«اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى»
(O Allah, with the Exalted Companion (of Paradise)).
وَاجْعَل لِّى لِسَانَ صِدْقٍ فِى الاٌّخِرِينَ
(And grant me an honorable mention in later generations.) meaning, `cause me to be remembered in a good manner after my death, so that I will be spoken of and taken as a good example.' This is like the Ayah,
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى الاٌّخِرِينَ سَلَـمٌ عَلَى إِبْرَهِيمَ كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ
(And We left for him (a goodly remembrance) among the later generations: "Salam (peace) be upon Ibrahim. Thus indeed do we reward the good doers.) (37:108-110)
وَاجْعَلْنِى مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
(And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight.) meaning, `bless me in this world with honorable mention after I am gone, and in the Hereafter by making me one of the inheritors of the Paradise of Delight.'
وَاغْفِرْ لاًّبِى
(And forgive my father,) This is like the Ayah,
رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ
(My Lord! Forgive me, and my parents) (71:28). But this is something which Ibrahim, peace be upon him, later stopped doing, as Allah says:
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ
(And Ibrahim's supplication for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him) (9:114) until:
إِنَّ إِبْرَهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
(Verily, Ibrahim was Awwah and was forbearing) (9:114). Allah stopped Ibrahim from asking for forgiveness for his father, as He says:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِى إِبْرَهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ
(Indeed there has been an excellent example for you in Ibrahim and those with him), until His saying:
وَمَآ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَىْءٍ
(but I have no power to do anything for you before Allah. ) (60:4),
وَلاَ تُخْزِنِى يَوْمَ يُبْعَثُونَ
(And disgrace me not on the Day when they will be resurrected.) means, `protect me from shame on the Day of Resurrection and the Day when all creatures, the first and the last, will be raised.' Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:
«إِنَّ إِبْرَاهِيمَ رَأَى أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ الْغَبَرَةُ وَالْقَتَرَة»
(Ibrahim will see his father on the Day of Resurrection, covered with dust and darkness.) According to another narration, also from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, the Prophet said:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنَّكَ لَا تُخْزِينِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرين»
(Ibrahim will meet his father and will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when all creatures are resurrected." And Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers.") He also recorded this in the Hadiths about the Prophets, upon them be peace, where the wording is:
«يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِينِي، فَيَقُولُ أَبُوهُ: فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا إِبْرَاهِيمُ انْظُرْ تَحْتَ رِجْلِكَ، فَيَنْظُرَ،فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُتَلَطِّخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّار»
(Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection, and there will be dust and darkness on Azar's face. Ibrahim will say to him, "Did I not tell you not to disobey me" His father will say to him: "Today I will not disobey you." Ibrahim will say: "O Lord, You promised me that You would not disgrace me on the Day when they are resurrected, but what disgrace can be greater than seeing my father in this state" Allah will say to him: "I have forbidden Paradise to the disbelievers." Then it will be said: "O Ibrahim! Look beneath your feet." So he will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the Fire.) This was also recorded by Abu `Abdur-Rahman An-Nasa'i in the Tafsir of his Sunan Al-Kubra.
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ مَالٌ وَلاَ بَنُونَ
(The Day whereon neither wealth nor sons will avail,) means, a man's wealth will not protect him from the punishment of Allah, even if he were to pay a ransom equivalent to an earthful of gold.
وَلاَ بَنُونَ
(nor sons) means, `or if you were to pay a ransom of all the people on earth.' On that Day nothing will be of any avail except faith in Allah and sincere devotion to Him, and renunciation of Shirk and its people. Allah says:
إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
(Except him who brings to Allah a clean heart. ) meaning, free from any impurity or Shirk. Ibn Sirin said, "The clean heart knows that Allah is true, that the Hour will undoubtedly come and that Allah will resurrect those who are in the graves." Sa`id bin Al-Musayyib said, "The clean heart is the sound heart." This is the heart of the believer, for the heart of the disbeliever and the hypocrite is sick. Allah says:
فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ
(In their hearts is a disease) (2:10). Abu `Uthman An-Nisaburi said, "It is the heart that is free from innovation and is content with the Sunnah."
حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتدا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ کی تعریف و توصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموما ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ ؑ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔ لیکن اپنے کافر باپ کے لئے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ کے دل سے اس کی عزت و محبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کردیا۔ ابراہیم ؑ بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ اس بات میں انکی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گرد و غبار سے آلودہ ہو رہا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس وقت آپ جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا سن لے جنت تو کافر پر قطعا حرام ہے اور روایت میں ہے کہ ابراہیم ؑ اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل ؑ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے پھر فرمائے گا ابراہیم دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ؟ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا حقیقتا یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کردئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیابھر کے خزانے دے دے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک وکفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان و اخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔
90
View Single
وَأُزۡلِفَتِ ٱلۡجَنَّةُ لِلۡمُتَّقِينَ
And Paradise will be brought close for the pious.
اور (اس دن) جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
91
View Single
وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِلۡغَاوِينَ
And hell will be revealed for the astray.
اور دوزخ گمراہوں کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
92
View Single
وَقِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡبُدُونَ
And it will be said to them, “Where are those whom you used to worship?”
اور ان سے کہا جائے گا: وہ (بت) کہاں ہیں جنہیں تم پوجتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
93
View Single
مِن دُونِ ٱللَّهِ هَلۡ يَنصُرُونَكُمۡ أَوۡ يَنتَصِرُونَ
“Instead of Allah? Will they help you or retaliate?”
اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ (کہ اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیں)
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
94
View Single
فَكُبۡكِبُواْ فِيهَا هُمۡ وَٱلۡغَاوُۥنَ
So they and all the astray were flung into hell.
سو وہ (بت بھی) اس (دوزخ) میں اوندھے منہ گرا دیئے جائیں گے اور گمراہ لوگ (بھی)
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
95
View Single
وَجُنُودُ إِبۡلِيسَ أَجۡمَعُونَ
And all the armies of Iblis. (Satan)
اور ابلیس کی ساری فوجیں (بھی واصل جہنم ہوں گی)
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
96
View Single
قَالُواْ وَهُمۡ فِيهَا يَخۡتَصِمُونَ
And they will say, and they will be quarrelling in it:
وہ (گمراہ لوگ) اس (دوزخ) میں باہم جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
97
View Single
تَٱللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ
“By oath of Allah, we were indeed in open error.”
اللہ کی قسم! ہم کھلی گمراہی میں تھے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
98
View Single
إِذۡ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“When we considered you equal to the Lord Of The Creation.”
جب ہم تمہیں سب جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
99
View Single
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلَّا ٱلۡمُجۡرِمُونَ
“And none misled us but the guilty.”
اور ہم کو (ان) مجرموں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیا
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
100
View Single
فَمَا لَنَا مِن شَٰفِعِينَ
“So now we do not have any intercessors.” (The believers shall have intercessors, the disbelievers none).
سو (آج) نہ کوئی ہماری سفارش کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
101
View Single
وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٖ
“Nor a caring friend.”
اور نہ کوئی گرم جوش دوست ہے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
102
View Single
فَلَوۡ أَنَّ لَنَا كَرَّةٗ فَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
“So if only were we to go back, in order to become Muslims!”
سو کاش ہمیں ایک بار (دنیا میں) پلٹنا (نصیب) ہو جاتا تو ہم مومن ہوجاتے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
103
View Single
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
Indeed in this is a sign; and most of them were not believers.
بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
104
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord – only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Those Who have Taqwa and the Astray on the Day of Resurrection, and the Arguments and Sorrow of the Erring
وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ
(And Paradise will be brought near) means, it will be brought close to its people, adorned and decorated for them to behold it. Its people are the pious who preferred it to whatever was in this world, and strove for it in this world.
وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ
(And the (Hell) Fire will be placed in full view of the astray.) meaning, it will be shown to them and a neck will stretch forth from it, moaning and sighing, and their hearts will reach their throats. It will be said to its people by way of reproach and rebuke:
وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ - مِن دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Where are those that you used to worship instead of Allah Can they help you or help themselves) meaning, `the gods and idols whom you used to worship instead of Allah cannot help you today, and they cannot even protect themselves. You and they are fuel for Hell today, which you will surely enter.'
فَكُبْكِبُواْ فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ
(Then they will be thrown on their faces into it (the Fire), they and the astray.) Mujahid said, "This means, they will be hurled into it." Others said: "They will be thrown on top of one another, the disbelievers and their leaders who called them to Shirk. "
وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ
(And all of the hosts of Iblis together.) they will all be thrown into it.
قَالُواْ وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ - تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(They will say while contending therein, "By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.") The weak ones among them will say to their arrogant leaders: `Verily, we were following you; can you avail us anything from the Fire' Then they will realize that themselves are to blame and will say: a
تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَـلَمِينَ
(By Allah, we were truly in a manifest error, when we held you as equals with the Lord of all that exists.) meaning, `we obeyed your commands as we should have obeyed the commands of the Lord of the all that exits, and we worshipped you along with the Lord of all that exits.'
وَمَآ أَضَلَّنَآ إِلاَّ الْمُجْرِمُونَ
(And none has brought us into error except the criminals.) meaning, `nobody called us to do that except the evildoers.'
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ
(Now we have no intercessors.) This is like the Ayah which tells us that they will say:
فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُواْ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ
(...now are there any intercessors for us that they might intercede on our behalf Or could we be sent back so that we might do deeds other than those deeds which we used to do) (7:53). Similarly, in this Surah, Allah tells us that they will say:
فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ - وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ
(Now we have no intercessors, nor a close friend.)
فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
((Alas!) If we only had a chance to return, we shall truly be among the believers!) They will wish that they could come back to this world so that they could do deeds of obedience to their Lord -- as they claim -- but Allah knows that if they were to come back to this world, they would only go back to doing forbidden things, and He knows that they are liars. Allah tells us in Surah Sad about how the people of Hell will argue with one another, as He says:
إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ
(Verily, that is the very truth -- the mutual dispute of the people of the Fire!) (38:64) Then He says:
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.) meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah.
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly the All-Mighty, the Most Merciful.)
نیک لوگ اور جنت جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب وزینت کے ساتھ موجود ہوگی۔ اور سرکشوں کے لئے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپت کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں نہیں بلکہ عابد و معبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہوگئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے ؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جاکر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں ؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی وغم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لئے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کرلیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کردیں۔ سورة ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا یہ جھگڑا یقینا ہوگا۔ ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقینا اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔
105
View Single
كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوحٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
The people of Nooh denied the Noble Messengers.
نوح (علیہ السلام) کی قوم نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
Nuh's preaching to His People, and Their Response
Here Allah tells us about His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, who was the first Messenger sent by Allah to the people of earth after they started to worship idols. Allah sent him to forbid that and to warn people of the consequences of idol worship. But his people belied him and continued their evil practice of worshipping idols besides Allah. Allah revealed that their disbelieving in him was akin to disbelieving in all the Messengers, So Allah said:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلاَ تَتَّقُونَ
(The people of Nuh belied the Messengers. When their brother Nuh said to them: "Will you not have Taqwa") meaning, `do you not fear Allah when you worship others instead of Him'
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(I am a trustworthy Messenger to you.) means, `I am the Messenger of Allah to you, faithfully fulfilling the mission with which Allah has sent me. I convey the Messages of my Lord to you, and I do not add anything to them or take anything away from them.,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(So have Taqwa of Allah, and obey me. No reward do I ask of you for it;) means, `I do not want any payment for the advice I give you; I will save my reward for it with Allah. '
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So have Taqwa of Allah, and obey me.) `It is clear to you that I am telling the truth and that I am faithfully fulfilling the mission with which Allah has entrusted me.'
بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں ؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔
106
View Single
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
When their fellowman Nooh said to them, “Do you not fear?”
جب ان سے ان کے (قومی) بھائی نوح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو
Tafsir Ibn Kathir
Nuh's preaching to His People, and Their Response
Here Allah tells us about His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, who was the first Messenger sent by Allah to the people of earth after they started to worship idols. Allah sent him to forbid that and to warn people of the consequences of idol worship. But his people belied him and continued their evil practice of worshipping idols besides Allah. Allah revealed that their disbelieving in him was akin to disbelieving in all the Messengers, So Allah said:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلاَ تَتَّقُونَ
(The people of Nuh belied the Messengers. When their brother Nuh said to them: "Will you not have Taqwa") meaning, `do you not fear Allah when you worship others instead of Him'
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(I am a trustworthy Messenger to you.) means, `I am the Messenger of Allah to you, faithfully fulfilling the mission with which Allah has sent me. I convey the Messages of my Lord to you, and I do not add anything to them or take anything away from them.,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(So have Taqwa of Allah, and obey me. No reward do I ask of you for it;) means, `I do not want any payment for the advice I give you; I will save my reward for it with Allah. '
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So have Taqwa of Allah, and obey me.) `It is clear to you that I am telling the truth and that I am faithfully fulfilling the mission with which Allah has entrusted me.'
بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں ؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔
107
View Single
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
“I am indeed a trustworthy Noble Messenger of Allah to you.”
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Nuh's preaching to His People, and Their Response
Here Allah tells us about His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, who was the first Messenger sent by Allah to the people of earth after they started to worship idols. Allah sent him to forbid that and to warn people of the consequences of idol worship. But his people belied him and continued their evil practice of worshipping idols besides Allah. Allah revealed that their disbelieving in him was akin to disbelieving in all the Messengers, So Allah said:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلاَ تَتَّقُونَ
(The people of Nuh belied the Messengers. When their brother Nuh said to them: "Will you not have Taqwa") meaning, `do you not fear Allah when you worship others instead of Him'
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(I am a trustworthy Messenger to you.) means, `I am the Messenger of Allah to you, faithfully fulfilling the mission with which Allah has sent me. I convey the Messages of my Lord to you, and I do not add anything to them or take anything away from them.,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(So have Taqwa of Allah, and obey me. No reward do I ask of you for it;) means, `I do not want any payment for the advice I give you; I will save my reward for it with Allah. '
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So have Taqwa of Allah, and obey me.) `It is clear to you that I am telling the truth and that I am faithfully fulfilling the mission with which Allah has entrusted me.'
بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں ؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔
108
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah, and obey me.”
سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Tafsir Ibn Kathir
Nuh's preaching to His People, and Their Response
Here Allah tells us about His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, who was the first Messenger sent by Allah to the people of earth after they started to worship idols. Allah sent him to forbid that and to warn people of the consequences of idol worship. But his people belied him and continued their evil practice of worshipping idols besides Allah. Allah revealed that their disbelieving in him was akin to disbelieving in all the Messengers, So Allah said:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلاَ تَتَّقُونَ
(The people of Nuh belied the Messengers. When their brother Nuh said to them: "Will you not have Taqwa") meaning, `do you not fear Allah when you worship others instead of Him'
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(I am a trustworthy Messenger to you.) means, `I am the Messenger of Allah to you, faithfully fulfilling the mission with which Allah has sent me. I convey the Messages of my Lord to you, and I do not add anything to them or take anything away from them.,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(So have Taqwa of Allah, and obey me. No reward do I ask of you for it;) means, `I do not want any payment for the advice I give you; I will save my reward for it with Allah. '
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So have Taqwa of Allah, and obey me.) `It is clear to you that I am telling the truth and that I am faithfully fulfilling the mission with which Allah has entrusted me.'
بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں ؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔
109
View Single
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“And I do not ask from you any fee for it; my reward is only upon the Lord Of The Creation.”
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف سب جہانوں کے رب کے ذمہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Nuh's preaching to His People, and Their Response
Here Allah tells us about His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, who was the first Messenger sent by Allah to the people of earth after they started to worship idols. Allah sent him to forbid that and to warn people of the consequences of idol worship. But his people belied him and continued their evil practice of worshipping idols besides Allah. Allah revealed that their disbelieving in him was akin to disbelieving in all the Messengers, So Allah said:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلاَ تَتَّقُونَ
(The people of Nuh belied the Messengers. When their brother Nuh said to them: "Will you not have Taqwa") meaning, `do you not fear Allah when you worship others instead of Him'
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(I am a trustworthy Messenger to you.) means, `I am the Messenger of Allah to you, faithfully fulfilling the mission with which Allah has sent me. I convey the Messages of my Lord to you, and I do not add anything to them or take anything away from them.,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(So have Taqwa of Allah, and obey me. No reward do I ask of you for it;) means, `I do not want any payment for the advice I give you; I will save my reward for it with Allah. '
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So have Taqwa of Allah, and obey me.) `It is clear to you that I am telling the truth and that I am faithfully fulfilling the mission with which Allah has entrusted me.'
بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں ؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔
110
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah, and obey me.”
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو
Tafsir Ibn Kathir
Nuh's preaching to His People, and Their Response
Here Allah tells us about His servant and Messenger Nuh, peace be upon him, who was the first Messenger sent by Allah to the people of earth after they started to worship idols. Allah sent him to forbid that and to warn people of the consequences of idol worship. But his people belied him and continued their evil practice of worshipping idols besides Allah. Allah revealed that their disbelieving in him was akin to disbelieving in all the Messengers, So Allah said:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلاَ تَتَّقُونَ
(The people of Nuh belied the Messengers. When their brother Nuh said to them: "Will you not have Taqwa") meaning, `do you not fear Allah when you worship others instead of Him'
إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
(I am a trustworthy Messenger to you.) means, `I am the Messenger of Allah to you, faithfully fulfilling the mission with which Allah has sent me. I convey the Messages of my Lord to you, and I do not add anything to them or take anything away from them.,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسْـَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ
(So have Taqwa of Allah, and obey me. No reward do I ask of you for it;) means, `I do not want any payment for the advice I give you; I will save my reward for it with Allah. '
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So have Taqwa of Allah, and obey me.) `It is clear to you that I am telling the truth and that I am faithfully fulfilling the mission with which Allah has entrusted me.'
بت پرستی کا اغاز زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو حضرت نوح ؑ سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسکی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ حضرت نوح ؑ کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہوگئے حضرت نوح ؑ کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لئے آیت میں فرمایا گیا کہ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا۔ حضرت نوح ؑ نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں ؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔
111
View Single
۞قَالُوٓاْ أَنُؤۡمِنُ لَكَ وَٱتَّبَعَكَ ٱلۡأَرۡذَلُونَ
They said, “Shall we believe in you, whereas the abject people are with you?”
وہ بولے: کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں حالانکہ تمہاری پیروی (معاشرے کے) انتہائی نچلے اور حقیر (طبقات کے) لوگ کر رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Demand of the People of Nuh and His Response
They said: "We do not believe in you, and we will not follow you and become equal to the meanest of the people, who follow you and believe in you, and they are the lowest among us."
قَالُواْ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ - قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(They said: "Shall we believe in you, when the inferior follow you" He said: "And what knowledge have I of what they used to do") meaning, `what does it have to do with me if they follow me No matter what they used to do before, I do not have to check on them and examine their background; all I have to do is accept it if they believe in me; whatever is in their hearts is for Allah to know.'
إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ - وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ
(Their account is only with my Lord, if you could (but) know. And I am not going to drive away the believers.) It seems that they asked him to drive these people away, then they would follow him, but he refused to do that, and said:
وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ - إِنْ أَنَا إِلاَّ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(And I am not going to drive away the believers. I am only a plain warner.) meaning, `I have been sent as a warner, and whoever obeys me and follows me and believes in me, then he belongs to me and I to him, whether he is noble or common, upper-class or lower-class.'
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کردینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔
112
View Single
قَالَ وَمَا عِلۡمِي بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
He said, “What do I know what their deeds are?”
(نوح علیہ السلام نے) فرمایا: میرے علم کو ان کے (پیشہ وارانہ) کاموں سے کیا سروکار
Tafsir Ibn Kathir
The Demand of the People of Nuh and His Response
They said: "We do not believe in you, and we will not follow you and become equal to the meanest of the people, who follow you and believe in you, and they are the lowest among us."
قَالُواْ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ - قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(They said: "Shall we believe in you, when the inferior follow you" He said: "And what knowledge have I of what they used to do") meaning, `what does it have to do with me if they follow me No matter what they used to do before, I do not have to check on them and examine their background; all I have to do is accept it if they believe in me; whatever is in their hearts is for Allah to know.'
إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ - وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ
(Their account is only with my Lord, if you could (but) know. And I am not going to drive away the believers.) It seems that they asked him to drive these people away, then they would follow him, but he refused to do that, and said:
وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ - إِنْ أَنَا إِلاَّ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(And I am not going to drive away the believers. I am only a plain warner.) meaning, `I have been sent as a warner, and whoever obeys me and follows me and believes in me, then he belongs to me and I to him, whether he is noble or common, upper-class or lower-class.'
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کردینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔
113
View Single
إِنۡ حِسَابُهُمۡ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّيۖ لَوۡ تَشۡعُرُونَ
“Indeed their account is only upon my Lord, if you perceive.”
ان کا حساب تو صرف میرے رب ہی کے ذمہ ہے۔ کاش! تم سمجھتے (کہ حقیقی عزت و ذلت کیا ہے)
Tafsir Ibn Kathir
The Demand of the People of Nuh and His Response
They said: "We do not believe in you, and we will not follow you and become equal to the meanest of the people, who follow you and believe in you, and they are the lowest among us."
قَالُواْ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ - قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(They said: "Shall we believe in you, when the inferior follow you" He said: "And what knowledge have I of what they used to do") meaning, `what does it have to do with me if they follow me No matter what they used to do before, I do not have to check on them and examine their background; all I have to do is accept it if they believe in me; whatever is in their hearts is for Allah to know.'
إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ - وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ
(Their account is only with my Lord, if you could (but) know. And I am not going to drive away the believers.) It seems that they asked him to drive these people away, then they would follow him, but he refused to do that, and said:
وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ - إِنْ أَنَا إِلاَّ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(And I am not going to drive away the believers. I am only a plain warner.) meaning, `I have been sent as a warner, and whoever obeys me and follows me and believes in me, then he belongs to me and I to him, whether he is noble or common, upper-class or lower-class.'
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کردینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔
114
View Single
وَمَآ أَنَا۠ بِطَارِدِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
“And I will not repel the Muslims.”
اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Demand of the People of Nuh and His Response
They said: "We do not believe in you, and we will not follow you and become equal to the meanest of the people, who follow you and believe in you, and they are the lowest among us."
قَالُواْ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ - قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(They said: "Shall we believe in you, when the inferior follow you" He said: "And what knowledge have I of what they used to do") meaning, `what does it have to do with me if they follow me No matter what they used to do before, I do not have to check on them and examine their background; all I have to do is accept it if they believe in me; whatever is in their hearts is for Allah to know.'
إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ - وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ
(Their account is only with my Lord, if you could (but) know. And I am not going to drive away the believers.) It seems that they asked him to drive these people away, then they would follow him, but he refused to do that, and said:
وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ - إِنْ أَنَا إِلاَّ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(And I am not going to drive away the believers. I am only a plain warner.) meaning, `I have been sent as a warner, and whoever obeys me and follows me and believes in me, then he belongs to me and I to him, whether he is noble or common, upper-class or lower-class.'
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کردینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔
115
View Single
إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٞ
“I am not but clearly a Herald of Warning.”
میں تو فقط کھلا ڈر سنانے والا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Demand of the People of Nuh and His Response
They said: "We do not believe in you, and we will not follow you and become equal to the meanest of the people, who follow you and believe in you, and they are the lowest among us."
قَالُواْ أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ - قَالَ وَمَا عِلْمِى بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(They said: "Shall we believe in you, when the inferior follow you" He said: "And what knowledge have I of what they used to do") meaning, `what does it have to do with me if they follow me No matter what they used to do before, I do not have to check on them and examine their background; all I have to do is accept it if they believe in me; whatever is in their hearts is for Allah to know.'
إِنْ حِسَابُهُمْ إِلاَّ عَلَى رَبِّى لَوْ تَشْعُرُونَ - وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ
(Their account is only with my Lord, if you could (but) know. And I am not going to drive away the believers.) It seems that they asked him to drive these people away, then they would follow him, but he refused to do that, and said:
وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ - إِنْ أَنَا إِلاَّ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
(And I am not going to drive away the believers. I am only a plain warner.) meaning, `I have been sent as a warner, and whoever obeys me and follows me and believes in me, then he belongs to me and I to him, whether he is noble or common, upper-class or lower-class.'
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کردینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔
116
View Single
قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰنُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمَرۡجُومِينَ
They said, “O Nooh, if you do not desist you will surely be stoned.”
وہ بولے: اے نوح! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
His People's Threat, Nuh's Prayer against Them, and Their Destruction
Nuh stayed among his people for a long time, calling them to Allah night and day, in secret and openly. The more he repeated his call to them, the more determined were they to cling to their extreme disbelief and resist his call. In the end, they said:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(If you cease not, O Nuh you will surely be among those stoned.) meaning, `if you do not stop calling us to your religion,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(you will surely be among those stoned.) meaning, `we will stone you.' At that point, he prayed against them, and Allah responded to his prayer. Nuh said:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِفَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(My Lord! Verily, my people have denied me. Therefore judge You between me and them.) This is like the Ayah:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10) And Allah says here:
فَأَنجَيْنَـهُ وَمَن مَّعَهُ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَـقِينَ
(And We saved him and those with him in the laden ship. Then We drowned the rest thereafter.) The "laden ship" is one that is filled with cargo and the couples, one pair from every species, that were carried in it. This Ayah means: `We saved Nuh and all of those who followed him, and We drowned those who disbelieved in him and went against his commands, all of them.'
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلاَ تَتَّقُونَ - إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
-
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
-
وَمَآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَـلَمِينَ
-
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔
117
View Single
قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوۡمِي كَذَّبُونِ
He said, “My Lord, my people have denied me.”
(نوح علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا
Tafsir Ibn Kathir
His People's Threat, Nuh's Prayer against Them, and Their Destruction
Nuh stayed among his people for a long time, calling them to Allah night and day, in secret and openly. The more he repeated his call to them, the more determined were they to cling to their extreme disbelief and resist his call. In the end, they said:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(If you cease not, O Nuh you will surely be among those stoned.) meaning, `if you do not stop calling us to your religion,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(you will surely be among those stoned.) meaning, `we will stone you.' At that point, he prayed against them, and Allah responded to his prayer. Nuh said:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِفَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(My Lord! Verily, my people have denied me. Therefore judge You between me and them.) This is like the Ayah:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10) And Allah says here:
فَأَنجَيْنَـهُ وَمَن مَّعَهُ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَـقِينَ
(And We saved him and those with him in the laden ship. Then We drowned the rest thereafter.) The "laden ship" is one that is filled with cargo and the couples, one pair from every species, that were carried in it. This Ayah means: `We saved Nuh and all of those who followed him, and We drowned those who disbelieved in him and went against his commands, all of them.'
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلاَ تَتَّقُونَ - إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
-
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
-
وَمَآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَـلَمِينَ
-
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔
118
View Single
فَٱفۡتَحۡ بَيۡنِي وَبَيۡنَهُمۡ فَتۡحٗا وَنَجِّنِي وَمَن مَّعِيَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
“Therefore make a decisive judgement between me and them, and rescue me and the believers along with me.”
پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے اور مجھے اور ان مومنوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دے دے
Tafsir Ibn Kathir
His People's Threat, Nuh's Prayer against Them, and Their Destruction
Nuh stayed among his people for a long time, calling them to Allah night and day, in secret and openly. The more he repeated his call to them, the more determined were they to cling to their extreme disbelief and resist his call. In the end, they said:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(If you cease not, O Nuh you will surely be among those stoned.) meaning, `if you do not stop calling us to your religion,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(you will surely be among those stoned.) meaning, `we will stone you.' At that point, he prayed against them, and Allah responded to his prayer. Nuh said:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِفَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(My Lord! Verily, my people have denied me. Therefore judge You between me and them.) This is like the Ayah:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10) And Allah says here:
فَأَنجَيْنَـهُ وَمَن مَّعَهُ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَـقِينَ
(And We saved him and those with him in the laden ship. Then We drowned the rest thereafter.) The "laden ship" is one that is filled with cargo and the couples, one pair from every species, that were carried in it. This Ayah means: `We saved Nuh and all of those who followed him, and We drowned those who disbelieved in him and went against his commands, all of them.'
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلاَ تَتَّقُونَ - إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
-
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
-
وَمَآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَـلَمِينَ
-
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔
119
View Single
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ
So We saved him and those with him in a laden ship.
پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں (سوار) تھے نجات دے دی
Tafsir Ibn Kathir
His People's Threat, Nuh's Prayer against Them, and Their Destruction
Nuh stayed among his people for a long time, calling them to Allah night and day, in secret and openly. The more he repeated his call to them, the more determined were they to cling to their extreme disbelief and resist his call. In the end, they said:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(If you cease not, O Nuh you will surely be among those stoned.) meaning, `if you do not stop calling us to your religion,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(you will surely be among those stoned.) meaning, `we will stone you.' At that point, he prayed against them, and Allah responded to his prayer. Nuh said:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِفَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(My Lord! Verily, my people have denied me. Therefore judge You between me and them.) This is like the Ayah:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10) And Allah says here:
فَأَنجَيْنَـهُ وَمَن مَّعَهُ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَـقِينَ
(And We saved him and those with him in the laden ship. Then We drowned the rest thereafter.) The "laden ship" is one that is filled with cargo and the couples, one pair from every species, that were carried in it. This Ayah means: `We saved Nuh and all of those who followed him, and We drowned those who disbelieved in him and went against his commands, all of them.'
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلاَ تَتَّقُونَ - إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
-
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
-
وَمَآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَـلَمِينَ
-
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔
120
View Single
ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا بَعۡدُ ٱلۡبَاقِينَ
Then after it, We drowned the rest.
پھر اس کے بعد ہم نے باقی ماندہ لوگوں کو غرق کر دیا
Tafsir Ibn Kathir
His People's Threat, Nuh's Prayer against Them, and Their Destruction
Nuh stayed among his people for a long time, calling them to Allah night and day, in secret and openly. The more he repeated his call to them, the more determined were they to cling to their extreme disbelief and resist his call. In the end, they said:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(If you cease not, O Nuh you will surely be among those stoned.) meaning, `if you do not stop calling us to your religion,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(you will surely be among those stoned.) meaning, `we will stone you.' At that point, he prayed against them, and Allah responded to his prayer. Nuh said:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِفَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(My Lord! Verily, my people have denied me. Therefore judge You between me and them.) This is like the Ayah:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10) And Allah says here:
فَأَنجَيْنَـهُ وَمَن مَّعَهُ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَـقِينَ
(And We saved him and those with him in the laden ship. Then We drowned the rest thereafter.) The "laden ship" is one that is filled with cargo and the couples, one pair from every species, that were carried in it. This Ayah means: `We saved Nuh and all of those who followed him, and We drowned those who disbelieved in him and went against his commands, all of them.'
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلاَ تَتَّقُونَ - إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
-
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
-
وَمَآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَـلَمِينَ
-
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔
121
View Single
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
Indeed in this is a sign; and most of them were not believers.
بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
His People's Threat, Nuh's Prayer against Them, and Their Destruction
Nuh stayed among his people for a long time, calling them to Allah night and day, in secret and openly. The more he repeated his call to them, the more determined were they to cling to their extreme disbelief and resist his call. In the end, they said:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(If you cease not, O Nuh you will surely be among those stoned.) meaning, `if you do not stop calling us to your religion,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(you will surely be among those stoned.) meaning, `we will stone you.' At that point, he prayed against them, and Allah responded to his prayer. Nuh said:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِفَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(My Lord! Verily, my people have denied me. Therefore judge You between me and them.) This is like the Ayah:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10) And Allah says here:
فَأَنجَيْنَـهُ وَمَن مَّعَهُ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَـقِينَ
(And We saved him and those with him in the laden ship. Then We drowned the rest thereafter.) The "laden ship" is one that is filled with cargo and the couples, one pair from every species, that were carried in it. This Ayah means: `We saved Nuh and all of those who followed him, and We drowned those who disbelieved in him and went against his commands, all of them.'
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلاَ تَتَّقُونَ - إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
-
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
-
وَمَآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَـلَمِينَ
-
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔
122
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord, only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
His People's Threat, Nuh's Prayer against Them, and Their Destruction
Nuh stayed among his people for a long time, calling them to Allah night and day, in secret and openly. The more he repeated his call to them, the more determined were they to cling to their extreme disbelief and resist his call. In the end, they said:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(If you cease not, O Nuh you will surely be among those stoned.) meaning, `if you do not stop calling us to your religion,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
(you will surely be among those stoned.) meaning, `we will stone you.' At that point, he prayed against them, and Allah responded to his prayer. Nuh said:
رَبِّ إِنَّ قَوْمِى كَذَّبُونِفَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(My Lord! Verily, my people have denied me. Therefore judge You between me and them.) This is like the Ayah:
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!")(54:10) And Allah says here:
فَأَنجَيْنَـهُ وَمَن مَّعَهُ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَـقِينَ
(And We saved him and those with him in the laden ship. Then We drowned the rest thereafter.) The "laden ship" is one that is filled with cargo and the couples, one pair from every species, that were carried in it. This Ayah means: `We saved Nuh and all of those who followed him, and We drowned those who disbelieved in him and went against his commands, all of them.'
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلاَ تَتَّقُونَ - إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
-
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
-
وَمَآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِىَ إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَـلَمِينَ
-
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
تذکرہ نوح ؑ لمبی مدت تک جناب نوح ؑ ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ ؑ اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔ آپ کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ اے اللہ ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔ پس جناب باری عزوجل نے آپ کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوجانے کا حکم دے دیا۔ یقینا یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے۔
123
View Single
كَذَّبَتۡ عَادٌ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
(The tribe of) A’ad denied the Noble Messengers.
(قومِ) عاد نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
124
View Single
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ
When their fellowman Hud said to them, “Do you not fear?”
جب اُن سے اُن کے (قومی) بھائی ھود (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
125
View Single
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
“I am indeed a trustworthy Noble Messenger of Allah to you.”
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
126
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah and obey me.”
سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
127
View Single
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“And I do not ask from you any fee for it; my reward is only upon the Lord Of The Creation.”
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ، میرا اجر تو فقط تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
128
View Single
أَتَبۡنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةٗ تَعۡبَثُونَ
“What! You build a structure on every height, to laugh at the passers-by?”
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار تعمیر کرتے ہو (محض) تفاخر اور فضول مشغلوں کے لئے
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
129
View Single
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمۡ تَخۡلُدُونَ
“And prefer strong palaces, that perhaps you may live for ever?”
اور تم (تالابوں والے) مضبوط محلات بناتے ہو اس امید پر کہ تم (دنیا میں) ہمیشہ رہو گے
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
130
View Single
وَإِذَا بَطَشۡتُم بَطَشۡتُمۡ جَبَّارِينَ
“And when you apprehend someone, you seize him mercilessly?”
اور جب تم کسی کی گرفت کرتے ہو تو سخت ظالم و جابر بن کر گرفت کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
131
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah, and obey me.”
سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
132
View Single
وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِيٓ أَمَدَّكُم بِمَا تَعۡلَمُونَ
“Fear Him Who has aided you with the things you know.”
اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جو تم جانتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
133
View Single
أَمَدَّكُم بِأَنۡعَٰمٖ وَبَنِينَ
“He aided you with cattle and sons.”
اس نے تمہاری چوپایہ جانوروں اور اولاد سے مدد فرمائی
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
134
View Single
وَجَنَّـٰتٖ وَعُيُونٍ
“And with gardens and water-springs.”
اور باغات اور چشموں سے (بھی)
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
135
View Single
إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
“Indeed I fear upon you the punishment of a Great Day.”
بیشک میں تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Hud's preaching to His People `Ad
Here Allah tells us about His servant and Messenger Hud, when he called his people `Ad. His people used to live in the Ahqaf, curved sand-hills near Hadramawt, on the borders of Yemen. They lived after the time of Nuh, as Allah says in Surat Al-A`raf:
وَاذكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِى الْخَلْقِ بَسْطَةً
(And remember that He made you successors after the people of Nuh and increased you amply in stature) (7:69). This refers to the fact that they were physically strong and well-built, and very violent, and very tall; they had also been given a great deal of provisions, wealth, gardens, rivers, sons, crops and fruits. Yet despite all of that, they worshipped others besides Allah. So Allah sent Hud, one of their own, as a Messenger bringing them good news and delivering warnings. He called them to worship Allah alone, and he warned them of Allah's wrath and punishment if they were to go against him and treating him harshly. He said to them, as Nuh had said to his people:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً تَعْبَثُونَ
(Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement) The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةً
(Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark,
تَعْبَثُونَ
(for your amusement) meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said:
وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(And do you get for yourselves Masani` as if you will live therein forever) Mujahid said, "This means fortresses built up strong and high and structures that are built to last."
لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ
(as if you will live therein forever) means, `so that you may stay there forever, but that is not going to happen, because they will eventually cease to be, just as happened in the case of those who came before you.'
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
(And when you seize (somebody), seize you (him) as tyrants) They are described as being strong, violent and tyrannical.
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) `Worship your Lord and obey your Messenger.' Then Hud began reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them. He said:
وَاتَّقُواْ الَّذِى أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ - أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَـمٍ وَبَنِينَ - وَجَنَّـتٍ وَعُيُونٍ - إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And have Taqwa of Him, Who has aided you with all that you know. He has aided you with cattle and children, and gardens and springs. Verily, I fear for you the torment of a Great Day.) meaning, `if you disbelieve and oppose (your Prophet).' So he called them to Allah with words of encouragement and words of warning, but it was to no avail.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ - إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
ہود ؑ اور ان کی قوم حضرت ہود ؑ کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضرموت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح ؑ کے بعد کا ہے۔ سورة اعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جابجادئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح ؑ نے دی تھی۔ اپنا بےلاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر وریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لئے بلند وبالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی حضرت ہود ؑ نے روکا کیونکہ اس میں بیکار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی نے نصیحت کی کہ کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہوگے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔ ایک قرأت میں کانکم خالدون ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کردی تو حضرت ابو درداء ؓ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو ! لوگ سب جمع ہوگئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا کہ تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کردیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کردئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کردیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہوگئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں ؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے انکے مال ومکانات کا بیان فرما کر ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔
136
View Single
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَوَعَظۡتَ أَمۡ لَمۡ تَكُن مِّنَ ٱلۡوَٰعِظِينَ
They said, “It is the same for us, whether you advise us or not be of the preachers.”
وہ بولے: ہمارے حق میں برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں نہ بنو (ہم نہیں مانیں گے)
Tafsir Ibn Kathir
The Response of the People of Hud, and Their Punishment
Allah tells us how the people of Hud responded to him after he had warned them, encouraged them, and clearly explained the truth to them.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ
(They said: "It is the same to us whether you preach or be not of those who preach.") meaning, `we will not give up our ways.'
وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
(And we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you) (11:53). This is how it was, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you warn them or do not warn them, they will not believe) (2:6).
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe) (10:96-97). And they said:
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients.) Some scholars read this: "Khalq". According to Ibn Mas`ud and according to `Abdullah bin `Abbas -- as reported from Al-`Awfi -- and `Alqamah and Mujahid, they meant, "What you have brought to us is nothing but the tales (Akhlaq) of the ancients." This is like what the idolators of Quraysh said:
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) And Allah said:
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ ءَاخَرُونَ فَقَدْ جَآءُوا ظُلْماً وَزُوراً وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(Those who disbelieve say: "This is nothing but a lie that he has invented, and others have helped him in it. In fact, they have produced an injustice and a lie." And they say: "Tales of the ancients...") (25:4-5)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(And when it is said to them: "What is it that your Lord has sent down" They say: "Tales of the ancient!") (16:24). Some other scholars recited it,
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients,) "as Khuluq," meaning their religion. What they were following was the religion of the ancients, their fathers and grandfathers, as if they were saying: "We are following them, we will live as they lived and die as they died, and there will be no resurrection and no judgement." Hence they said:
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(And we are not going to be punished.) Allah's saying;
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.) meaning, they continued to disbelieve and stubbornly oppose Allah's Prophet Hud, so Allah destroyed them. The means of their destruction has been described in more than one place in the Qur'an: Allah sent against them a strong and furious wind, i.e., a fiercely blowing wind that was intensely cold. Thus the means of their destruction was suited to their nature, for they were the strongest and fiercest of people, so Allah overpowered them with something that was even stronger and fiercer than them, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with `Ad of Iram Possesors of the pillars) (89:6-7). This refers to the former `Ad, as Allah says:
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) (53:50). They were descendents of Iram bin Sam bin Nuh,
ذَاتِ الْعِمَادِ
(Possesors of the pillars) They used to live among pillars. Those who claim that Iram was a city take this idea from Isra'iliyyat narrations, from the words of Ka`b and Wahb, but there is no real basis for that. Allah says:
الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(The like of which were not created in the land) (89:8). meaning, nothing like this tribe was created in terms of might, power and tyranny. If what was meant was a city, it would have said, "The like of which was not built in the land." And Allah says:
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُواْ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُواْ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for `Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!) (41:15) And Allah says:
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُواْ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ
(And as for `Ad, they were destroyed by a furious violent wind!) until His saying:
حُسُوماً
(in succession) (69:6-7) meaning, consecutively (i.e., seven nights and eight days).
فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms!) (69:7) means, they were left as headless bodies, because the wind would come and carry one of them, then drop him on his head, so that his brains were spilled out, his head was broken and he was thrown aside, as if they were uprooted stems of date-palms. They used to build fortresses in the mountains and caves, and they dug ditches half as deep as a man is tall, but that did not help them against the command of Allah at all.
إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَآءَ لاَ يُؤَخَّرُ
(Verily, the term given by Allah, when it comes, cannot be delayed) (71:4). Allah says here:
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.)
موثر بیانات بھی بےاثر حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کردیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا۔ خُلُقُ الاولین کی دوسری قرأت خَلق الاولین بھی ہے یعنی جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں جیسے قریشیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قراء کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جئیں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولی تھے جنہیں آیت (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح ؑ کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم حضرت نوح ؑ کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اسکی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔ اسی لئے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت (لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ۽) 89۔ الفجر :8)۔ ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت (فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41۔ فصلت :15) عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے ؟ کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام ونشان مٹادیا جہاں سے گزر گئی صفایا کردیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہوگئے اور دھڑ الگ ہوگئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔ زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے ؟ وہ ایک منٹ کے لئے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے ؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنادیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بےایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔
137
View Single
إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلۡأَوَّلِينَ
“This is nothing but the tradition of former people.”
یہ (اور) کچھ نہیں مگر صرف پہلے لوگوں کی عادات (و اطوار) ہیں (جنہیں ہم چھوڑ نہیں سکتے)
Tafsir Ibn Kathir
The Response of the People of Hud, and Their Punishment
Allah tells us how the people of Hud responded to him after he had warned them, encouraged them, and clearly explained the truth to them.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ
(They said: "It is the same to us whether you preach or be not of those who preach.") meaning, `we will not give up our ways.'
وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
(And we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you) (11:53). This is how it was, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you warn them or do not warn them, they will not believe) (2:6).
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe) (10:96-97). And they said:
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients.) Some scholars read this: "Khalq". According to Ibn Mas`ud and according to `Abdullah bin `Abbas -- as reported from Al-`Awfi -- and `Alqamah and Mujahid, they meant, "What you have brought to us is nothing but the tales (Akhlaq) of the ancients." This is like what the idolators of Quraysh said:
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) And Allah said:
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ ءَاخَرُونَ فَقَدْ جَآءُوا ظُلْماً وَزُوراً وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(Those who disbelieve say: "This is nothing but a lie that he has invented, and others have helped him in it. In fact, they have produced an injustice and a lie." And they say: "Tales of the ancients...") (25:4-5)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(And when it is said to them: "What is it that your Lord has sent down" They say: "Tales of the ancient!") (16:24). Some other scholars recited it,
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients,) "as Khuluq," meaning their religion. What they were following was the religion of the ancients, their fathers and grandfathers, as if they were saying: "We are following them, we will live as they lived and die as they died, and there will be no resurrection and no judgement." Hence they said:
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(And we are not going to be punished.) Allah's saying;
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.) meaning, they continued to disbelieve and stubbornly oppose Allah's Prophet Hud, so Allah destroyed them. The means of their destruction has been described in more than one place in the Qur'an: Allah sent against them a strong and furious wind, i.e., a fiercely blowing wind that was intensely cold. Thus the means of their destruction was suited to their nature, for they were the strongest and fiercest of people, so Allah overpowered them with something that was even stronger and fiercer than them, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with `Ad of Iram Possesors of the pillars) (89:6-7). This refers to the former `Ad, as Allah says:
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) (53:50). They were descendents of Iram bin Sam bin Nuh,
ذَاتِ الْعِمَادِ
(Possesors of the pillars) They used to live among pillars. Those who claim that Iram was a city take this idea from Isra'iliyyat narrations, from the words of Ka`b and Wahb, but there is no real basis for that. Allah says:
الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(The like of which were not created in the land) (89:8). meaning, nothing like this tribe was created in terms of might, power and tyranny. If what was meant was a city, it would have said, "The like of which was not built in the land." And Allah says:
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُواْ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُواْ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for `Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!) (41:15) And Allah says:
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُواْ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ
(And as for `Ad, they were destroyed by a furious violent wind!) until His saying:
حُسُوماً
(in succession) (69:6-7) meaning, consecutively (i.e., seven nights and eight days).
فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms!) (69:7) means, they were left as headless bodies, because the wind would come and carry one of them, then drop him on his head, so that his brains were spilled out, his head was broken and he was thrown aside, as if they were uprooted stems of date-palms. They used to build fortresses in the mountains and caves, and they dug ditches half as deep as a man is tall, but that did not help them against the command of Allah at all.
إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَآءَ لاَ يُؤَخَّرُ
(Verily, the term given by Allah, when it comes, cannot be delayed) (71:4). Allah says here:
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.)
موثر بیانات بھی بےاثر حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کردیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا۔ خُلُقُ الاولین کی دوسری قرأت خَلق الاولین بھی ہے یعنی جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں جیسے قریشیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قراء کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جئیں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولی تھے جنہیں آیت (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح ؑ کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم حضرت نوح ؑ کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اسکی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔ اسی لئے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت (لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ۽) 89۔ الفجر :8)۔ ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت (فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41۔ فصلت :15) عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے ؟ کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام ونشان مٹادیا جہاں سے گزر گئی صفایا کردیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہوگئے اور دھڑ الگ ہوگئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔ زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے ؟ وہ ایک منٹ کے لئے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے ؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنادیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بےایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔
138
View Single
وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ
“And we will not be punished.”
اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Response of the People of Hud, and Their Punishment
Allah tells us how the people of Hud responded to him after he had warned them, encouraged them, and clearly explained the truth to them.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ
(They said: "It is the same to us whether you preach or be not of those who preach.") meaning, `we will not give up our ways.'
وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
(And we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you) (11:53). This is how it was, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you warn them or do not warn them, they will not believe) (2:6).
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe) (10:96-97). And they said:
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients.) Some scholars read this: "Khalq". According to Ibn Mas`ud and according to `Abdullah bin `Abbas -- as reported from Al-`Awfi -- and `Alqamah and Mujahid, they meant, "What you have brought to us is nothing but the tales (Akhlaq) of the ancients." This is like what the idolators of Quraysh said:
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) And Allah said:
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ ءَاخَرُونَ فَقَدْ جَآءُوا ظُلْماً وَزُوراً وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(Those who disbelieve say: "This is nothing but a lie that he has invented, and others have helped him in it. In fact, they have produced an injustice and a lie." And they say: "Tales of the ancients...") (25:4-5)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(And when it is said to them: "What is it that your Lord has sent down" They say: "Tales of the ancient!") (16:24). Some other scholars recited it,
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients,) "as Khuluq," meaning their religion. What they were following was the religion of the ancients, their fathers and grandfathers, as if they were saying: "We are following them, we will live as they lived and die as they died, and there will be no resurrection and no judgement." Hence they said:
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(And we are not going to be punished.) Allah's saying;
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.) meaning, they continued to disbelieve and stubbornly oppose Allah's Prophet Hud, so Allah destroyed them. The means of their destruction has been described in more than one place in the Qur'an: Allah sent against them a strong and furious wind, i.e., a fiercely blowing wind that was intensely cold. Thus the means of their destruction was suited to their nature, for they were the strongest and fiercest of people, so Allah overpowered them with something that was even stronger and fiercer than them, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with `Ad of Iram Possesors of the pillars) (89:6-7). This refers to the former `Ad, as Allah says:
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) (53:50). They were descendents of Iram bin Sam bin Nuh,
ذَاتِ الْعِمَادِ
(Possesors of the pillars) They used to live among pillars. Those who claim that Iram was a city take this idea from Isra'iliyyat narrations, from the words of Ka`b and Wahb, but there is no real basis for that. Allah says:
الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(The like of which were not created in the land) (89:8). meaning, nothing like this tribe was created in terms of might, power and tyranny. If what was meant was a city, it would have said, "The like of which was not built in the land." And Allah says:
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُواْ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُواْ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for `Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!) (41:15) And Allah says:
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُواْ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ
(And as for `Ad, they were destroyed by a furious violent wind!) until His saying:
حُسُوماً
(in succession) (69:6-7) meaning, consecutively (i.e., seven nights and eight days).
فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms!) (69:7) means, they were left as headless bodies, because the wind would come and carry one of them, then drop him on his head, so that his brains were spilled out, his head was broken and he was thrown aside, as if they were uprooted stems of date-palms. They used to build fortresses in the mountains and caves, and they dug ditches half as deep as a man is tall, but that did not help them against the command of Allah at all.
إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَآءَ لاَ يُؤَخَّرُ
(Verily, the term given by Allah, when it comes, cannot be delayed) (71:4). Allah says here:
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.)
موثر بیانات بھی بےاثر حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کردیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا۔ خُلُقُ الاولین کی دوسری قرأت خَلق الاولین بھی ہے یعنی جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں جیسے قریشیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قراء کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جئیں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولی تھے جنہیں آیت (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح ؑ کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم حضرت نوح ؑ کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اسکی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔ اسی لئے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت (لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ۽) 89۔ الفجر :8)۔ ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت (فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41۔ فصلت :15) عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے ؟ کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام ونشان مٹادیا جہاں سے گزر گئی صفایا کردیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہوگئے اور دھڑ الگ ہوگئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔ زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے ؟ وہ ایک منٹ کے لئے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے ؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنادیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بےایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔
139
View Single
فَكَذَّبُوهُ فَأَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
In response they denied him – We therefore destroyed them; indeed in this is a sign; and most of them were not believers.
سو انہوں نے اس کو (یعنی ھود علیہ السلام کو) جھٹلا دیا پس ہم نے انہیں ہلاک کر ڈالا، بیشک اس (قصہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Response of the People of Hud, and Their Punishment
Allah tells us how the people of Hud responded to him after he had warned them, encouraged them, and clearly explained the truth to them.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ
(They said: "It is the same to us whether you preach or be not of those who preach.") meaning, `we will not give up our ways.'
وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
(And we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you) (11:53). This is how it was, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you warn them or do not warn them, they will not believe) (2:6).
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe) (10:96-97). And they said:
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients.) Some scholars read this: "Khalq". According to Ibn Mas`ud and according to `Abdullah bin `Abbas -- as reported from Al-`Awfi -- and `Alqamah and Mujahid, they meant, "What you have brought to us is nothing but the tales (Akhlaq) of the ancients." This is like what the idolators of Quraysh said:
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) And Allah said:
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ ءَاخَرُونَ فَقَدْ جَآءُوا ظُلْماً وَزُوراً وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(Those who disbelieve say: "This is nothing but a lie that he has invented, and others have helped him in it. In fact, they have produced an injustice and a lie." And they say: "Tales of the ancients...") (25:4-5)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(And when it is said to them: "What is it that your Lord has sent down" They say: "Tales of the ancient!") (16:24). Some other scholars recited it,
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients,) "as Khuluq," meaning their religion. What they were following was the religion of the ancients, their fathers and grandfathers, as if they were saying: "We are following them, we will live as they lived and die as they died, and there will be no resurrection and no judgement." Hence they said:
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(And we are not going to be punished.) Allah's saying;
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.) meaning, they continued to disbelieve and stubbornly oppose Allah's Prophet Hud, so Allah destroyed them. The means of their destruction has been described in more than one place in the Qur'an: Allah sent against them a strong and furious wind, i.e., a fiercely blowing wind that was intensely cold. Thus the means of their destruction was suited to their nature, for they were the strongest and fiercest of people, so Allah overpowered them with something that was even stronger and fiercer than them, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with `Ad of Iram Possesors of the pillars) (89:6-7). This refers to the former `Ad, as Allah says:
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) (53:50). They were descendents of Iram bin Sam bin Nuh,
ذَاتِ الْعِمَادِ
(Possesors of the pillars) They used to live among pillars. Those who claim that Iram was a city take this idea from Isra'iliyyat narrations, from the words of Ka`b and Wahb, but there is no real basis for that. Allah says:
الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(The like of which were not created in the land) (89:8). meaning, nothing like this tribe was created in terms of might, power and tyranny. If what was meant was a city, it would have said, "The like of which was not built in the land." And Allah says:
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُواْ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُواْ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for `Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!) (41:15) And Allah says:
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُواْ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ
(And as for `Ad, they were destroyed by a furious violent wind!) until His saying:
حُسُوماً
(in succession) (69:6-7) meaning, consecutively (i.e., seven nights and eight days).
فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms!) (69:7) means, they were left as headless bodies, because the wind would come and carry one of them, then drop him on his head, so that his brains were spilled out, his head was broken and he was thrown aside, as if they were uprooted stems of date-palms. They used to build fortresses in the mountains and caves, and they dug ditches half as deep as a man is tall, but that did not help them against the command of Allah at all.
إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَآءَ لاَ يُؤَخَّرُ
(Verily, the term given by Allah, when it comes, cannot be delayed) (71:4). Allah says here:
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.)
موثر بیانات بھی بےاثر حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کردیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا۔ خُلُقُ الاولین کی دوسری قرأت خَلق الاولین بھی ہے یعنی جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں جیسے قریشیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قراء کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جئیں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولی تھے جنہیں آیت (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح ؑ کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم حضرت نوح ؑ کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اسکی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔ اسی لئے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت (لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ۽) 89۔ الفجر :8)۔ ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت (فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41۔ فصلت :15) عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے ؟ کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام ونشان مٹادیا جہاں سے گزر گئی صفایا کردیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہوگئے اور دھڑ الگ ہوگئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔ زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے ؟ وہ ایک منٹ کے لئے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے ؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنادیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بےایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔
140
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord – only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Response of the People of Hud, and Their Punishment
Allah tells us how the people of Hud responded to him after he had warned them, encouraged them, and clearly explained the truth to them.
قَالُواْ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَعِظِينَ
(They said: "It is the same to us whether you preach or be not of those who preach.") meaning, `we will not give up our ways.'
وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِى ءالِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
(And we shall not leave our gods for your (mere) saying! And we are not believers in you) (11:53). This is how it was, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you warn them or do not warn them, they will not believe) (2:6).
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe) (10:96-97). And they said:
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients.) Some scholars read this: "Khalq". According to Ibn Mas`ud and according to `Abdullah bin `Abbas -- as reported from Al-`Awfi -- and `Alqamah and Mujahid, they meant, "What you have brought to us is nothing but the tales (Akhlaq) of the ancients." This is like what the idolators of Quraysh said:
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) And Allah said:
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَـذَا إِلاَّ إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ ءَاخَرُونَ فَقَدْ جَآءُوا ظُلْماً وَزُوراً وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(Those who disbelieve say: "This is nothing but a lie that he has invented, and others have helped him in it. In fact, they have produced an injustice and a lie." And they say: "Tales of the ancients...") (25:4-5)
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(And when it is said to them: "What is it that your Lord has sent down" They say: "Tales of the ancient!") (16:24). Some other scholars recited it,
إِنْ هَـذَا إِلاَّ خُلُقُ الاٌّوَّلِينَ
(This is no other than Khuluq of the ancients,) "as Khuluq," meaning their religion. What they were following was the religion of the ancients, their fathers and grandfathers, as if they were saying: "We are following them, we will live as they lived and die as they died, and there will be no resurrection and no judgement." Hence they said:
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
(And we are not going to be punished.) Allah's saying;
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.) meaning, they continued to disbelieve and stubbornly oppose Allah's Prophet Hud, so Allah destroyed them. The means of their destruction has been described in more than one place in the Qur'an: Allah sent against them a strong and furious wind, i.e., a fiercely blowing wind that was intensely cold. Thus the means of their destruction was suited to their nature, for they were the strongest and fiercest of people, so Allah overpowered them with something that was even stronger and fiercer than them, as Allah says:
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ
(Have you not seen how your Lord dealt with `Ad of Iram Possesors of the pillars) (89:6-7). This refers to the former `Ad, as Allah says:
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) (53:50). They were descendents of Iram bin Sam bin Nuh,
ذَاتِ الْعِمَادِ
(Possesors of the pillars) They used to live among pillars. Those who claim that Iram was a city take this idea from Isra'iliyyat narrations, from the words of Ka`b and Wahb, but there is no real basis for that. Allah says:
الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(The like of which were not created in the land) (89:8). meaning, nothing like this tribe was created in terms of might, power and tyranny. If what was meant was a city, it would have said, "The like of which was not built in the land." And Allah says:
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُواْ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُواْ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يَجْحَدُونَ
(As for `Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat!) (41:15) And Allah says:
وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُواْ بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ
(And as for `Ad, they were destroyed by a furious violent wind!) until His saying:
حُسُوماً
(in succession) (69:6-7) meaning, consecutively (i.e., seven nights and eight days).
فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ
(so that you could see men lying overthrown (destroyed), as if they were hollow trunks of date palms!) (69:7) means, they were left as headless bodies, because the wind would come and carry one of them, then drop him on his head, so that his brains were spilled out, his head was broken and he was thrown aside, as if they were uprooted stems of date-palms. They used to build fortresses in the mountains and caves, and they dug ditches half as deep as a man is tall, but that did not help them against the command of Allah at all.
إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَآءَ لاَ يُؤَخَّرُ
(Verily, the term given by Allah, when it comes, cannot be delayed) (71:4). Allah says here:
فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَـهُمْ
(So they denied him, and We destroyed them.)
موثر بیانات بھی بےاثر حضرت ہود ؑ کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہوجائیں یہ یقینا محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہوجائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کردینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے۔ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کردیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا۔ خُلُقُ الاولین کی دوسری قرأت خَلق الاولین بھی ہے یعنی جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں جیسے قریشیوں نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔ یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قراء کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جئیں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کردیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولی تھے جنہیں آیت (اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۽) 89۔ الفجر :7) بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح ؑ کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم حضرت نوح ؑ کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اسکی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔ اسی لئے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت (لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ۽) 89۔ الفجر :8)۔ ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت (فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15) 41۔ فصلت :15) عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے ؟ کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام ونشان مٹادیا جہاں سے گزر گئی صفایا کردیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہوگئے اور دھڑ الگ ہوگئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔ زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے ؟ وہ ایک منٹ کے لئے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے ؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لئے نشان عبرت بنادیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بےایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔
141
View Single
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
The Thamud tribe denied the Noble Messengers.
(قومِ) ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
Salih and the People of Thamud
Here Allah tells us about His servant and Messenger Salih, whom He sent to his people Thamud. They were Arabs living in the city of Al-Hijr -- which is between Wadi Al-Qura and Greater Syria. Their location is well known. In our explanation of Surat Al-A`raf, we mentioned the Hadiths which tell how the Messenger of Allah ﷺ passed by their dwelling place when he wanted to launch a raid on Syria. He went as far as Tabuk, then he went back to Al-Madinah to prepare himself for the campaign. Thamud came after `Ad and before Ibrahim, peace be upon him. Their Prophet Salih called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey whatever commands were conveyed to them, but they refused, rejecting him and opposing him. He told them that he did not seek any reward from them for his call to them, but that he would seek the reward for that with Allah. Then he reminded them of the blessings of Allah.
صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔
142
View Single
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ صَٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ
When their fellowman Saleh said to them, “Do you not fear?”
جب ان سے ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو
Tafsir Ibn Kathir
Salih and the People of Thamud
Here Allah tells us about His servant and Messenger Salih, whom He sent to his people Thamud. They were Arabs living in the city of Al-Hijr -- which is between Wadi Al-Qura and Greater Syria. Their location is well known. In our explanation of Surat Al-A`raf, we mentioned the Hadiths which tell how the Messenger of Allah ﷺ passed by their dwelling place when he wanted to launch a raid on Syria. He went as far as Tabuk, then he went back to Al-Madinah to prepare himself for the campaign. Thamud came after `Ad and before Ibrahim, peace be upon him. Their Prophet Salih called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey whatever commands were conveyed to them, but they refused, rejecting him and opposing him. He told them that he did not seek any reward from them for his call to them, but that he would seek the reward for that with Allah. Then he reminded them of the blessings of Allah.
صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔
143
View Single
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
“I am indeed a trustworthy Noble Messenger of Allah to you.”
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Salih and the People of Thamud
Here Allah tells us about His servant and Messenger Salih, whom He sent to his people Thamud. They were Arabs living in the city of Al-Hijr -- which is between Wadi Al-Qura and Greater Syria. Their location is well known. In our explanation of Surat Al-A`raf, we mentioned the Hadiths which tell how the Messenger of Allah ﷺ passed by their dwelling place when he wanted to launch a raid on Syria. He went as far as Tabuk, then he went back to Al-Madinah to prepare himself for the campaign. Thamud came after `Ad and before Ibrahim, peace be upon him. Their Prophet Salih called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey whatever commands were conveyed to them, but they refused, rejecting him and opposing him. He told them that he did not seek any reward from them for his call to them, but that he would seek the reward for that with Allah. Then he reminded them of the blessings of Allah.
صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔
144
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah and obey me.”
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Tafsir Ibn Kathir
Salih and the People of Thamud
Here Allah tells us about His servant and Messenger Salih, whom He sent to his people Thamud. They were Arabs living in the city of Al-Hijr -- which is between Wadi Al-Qura and Greater Syria. Their location is well known. In our explanation of Surat Al-A`raf, we mentioned the Hadiths which tell how the Messenger of Allah ﷺ passed by their dwelling place when he wanted to launch a raid on Syria. He went as far as Tabuk, then he went back to Al-Madinah to prepare himself for the campaign. Thamud came after `Ad and before Ibrahim, peace be upon him. Their Prophet Salih called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey whatever commands were conveyed to them, but they refused, rejecting him and opposing him. He told them that he did not seek any reward from them for his call to them, but that he would seek the reward for that with Allah. Then he reminded them of the blessings of Allah.
صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔
145
View Single
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“And I do not ask from you any fee for it; my reward is only upon the Lord Of The Creation.”
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف سارے جہانوں کے پروردگار کے ذمہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Salih and the People of Thamud
Here Allah tells us about His servant and Messenger Salih, whom He sent to his people Thamud. They were Arabs living in the city of Al-Hijr -- which is between Wadi Al-Qura and Greater Syria. Their location is well known. In our explanation of Surat Al-A`raf, we mentioned the Hadiths which tell how the Messenger of Allah ﷺ passed by their dwelling place when he wanted to launch a raid on Syria. He went as far as Tabuk, then he went back to Al-Madinah to prepare himself for the campaign. Thamud came after `Ad and before Ibrahim, peace be upon him. Their Prophet Salih called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey whatever commands were conveyed to them, but they refused, rejecting him and opposing him. He told them that he did not seek any reward from them for his call to them, but that he would seek the reward for that with Allah. Then he reminded them of the blessings of Allah.
صالح ؑ اور قوم ثمود اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورة اعراف کی تفسیر میں پہلے گزرچکا ہے۔ انہیں ان کے نبی نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور حضرت صالح ؑ کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔
146
View Single
أَتُتۡرَكُونَ فِي مَا هَٰهُنَآ ءَامِنِينَ
“Will you be left peacefully in these favours over here?”
کیا تم ان (نعمتوں) میں جو یہاں (تمہیں میسر) ہیں (ہمیشہ کے لئے) امن و اطمینان سے چھوڑ دیئے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder to Them of their Circumstances and the Blessings
They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits.
وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
(and date palms with soft clusters.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Ripe and rich." `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas that this meant growing luxuriantly. Isma`il bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn `Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih."
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتاً فَـرِهِينَ
(And you hew out in the mountains, houses with great skill.) Ibn `Abbas and others said, "With great skill." According to another report from him: "They were greedy and extravagant." This was the view of Mujahid and another group. There is no contradiction between the two views, because they built the houses which they carved in the mountains as a form of extravagant play, with no need for them as dwelling places. They were highly skilled in the arts of masonry and stone-carving, as is well known to anyone who has seen their structures. So, Salih said to them:
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) Pay attention to that which could benefit you in this world and the Hereafter; worshipping your Lord Who created you, who granted you provisions so that you could worship Him alone and glorify Him morning and evening.
وَلاَ تُطِيعُواْ أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ - الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And follow not the command of the extravagant, who make mischief in the land, and reform not.) meaning, their chiefs and leaders, who called them to Shirk, disbelief and opposition to the truth.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ - مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ - وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ - فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ - فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔
147
View Single
فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٖ
“In gardens and water springs?”
(یعنی یہاں کے) باغوں اور چشموں میں
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder to Them of their Circumstances and the Blessings
They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits.
وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
(and date palms with soft clusters.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Ripe and rich." `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas that this meant growing luxuriantly. Isma`il bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn `Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih."
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتاً فَـرِهِينَ
(And you hew out in the mountains, houses with great skill.) Ibn `Abbas and others said, "With great skill." According to another report from him: "They were greedy and extravagant." This was the view of Mujahid and another group. There is no contradiction between the two views, because they built the houses which they carved in the mountains as a form of extravagant play, with no need for them as dwelling places. They were highly skilled in the arts of masonry and stone-carving, as is well known to anyone who has seen their structures. So, Salih said to them:
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) Pay attention to that which could benefit you in this world and the Hereafter; worshipping your Lord Who created you, who granted you provisions so that you could worship Him alone and glorify Him morning and evening.
وَلاَ تُطِيعُواْ أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ - الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And follow not the command of the extravagant, who make mischief in the land, and reform not.) meaning, their chiefs and leaders, who called them to Shirk, disbelief and opposition to the truth.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ - مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ - وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ - فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ - فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔
148
View Single
وَزُرُوعٖ وَنَخۡلٖ طَلۡعُهَا هَضِيمٞ
“And fields and palm-trees, with delicate tendrils?”
اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے خوشے نرم و نازک ہوتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder to Them of their Circumstances and the Blessings
They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits.
وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
(and date palms with soft clusters.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Ripe and rich." `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas that this meant growing luxuriantly. Isma`il bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn `Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih."
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتاً فَـرِهِينَ
(And you hew out in the mountains, houses with great skill.) Ibn `Abbas and others said, "With great skill." According to another report from him: "They were greedy and extravagant." This was the view of Mujahid and another group. There is no contradiction between the two views, because they built the houses which they carved in the mountains as a form of extravagant play, with no need for them as dwelling places. They were highly skilled in the arts of masonry and stone-carving, as is well known to anyone who has seen their structures. So, Salih said to them:
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) Pay attention to that which could benefit you in this world and the Hereafter; worshipping your Lord Who created you, who granted you provisions so that you could worship Him alone and glorify Him morning and evening.
وَلاَ تُطِيعُواْ أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ - الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And follow not the command of the extravagant, who make mischief in the land, and reform not.) meaning, their chiefs and leaders, who called them to Shirk, disbelief and opposition to the truth.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ - مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ - وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ - فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ - فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔
149
View Single
وَتَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا فَٰرِهِينَ
“And you carve out dwellings in the mountains, with skill?”
اور تم (سنگ تراشی کی) مہارت کے ساتھ پہاڑوں میں تراش (تراش) کر مکانات بناتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder to Them of their Circumstances and the Blessings
They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits.
وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
(and date palms with soft clusters.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Ripe and rich." `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas that this meant growing luxuriantly. Isma`il bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn `Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih."
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتاً فَـرِهِينَ
(And you hew out in the mountains, houses with great skill.) Ibn `Abbas and others said, "With great skill." According to another report from him: "They were greedy and extravagant." This was the view of Mujahid and another group. There is no contradiction between the two views, because they built the houses which they carved in the mountains as a form of extravagant play, with no need for them as dwelling places. They were highly skilled in the arts of masonry and stone-carving, as is well known to anyone who has seen their structures. So, Salih said to them:
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) Pay attention to that which could benefit you in this world and the Hereafter; worshipping your Lord Who created you, who granted you provisions so that you could worship Him alone and glorify Him morning and evening.
وَلاَ تُطِيعُواْ أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ - الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And follow not the command of the extravagant, who make mischief in the land, and reform not.) meaning, their chiefs and leaders, who called them to Shirk, disbelief and opposition to the truth.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ - مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ - وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ - فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ - فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔
150
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah and obey me.”
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder to Them of their Circumstances and the Blessings
They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits.
وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
(and date palms with soft clusters.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Ripe and rich." `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas that this meant growing luxuriantly. Isma`il bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn `Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih."
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتاً فَـرِهِينَ
(And you hew out in the mountains, houses with great skill.) Ibn `Abbas and others said, "With great skill." According to another report from him: "They were greedy and extravagant." This was the view of Mujahid and another group. There is no contradiction between the two views, because they built the houses which they carved in the mountains as a form of extravagant play, with no need for them as dwelling places. They were highly skilled in the arts of masonry and stone-carving, as is well known to anyone who has seen their structures. So, Salih said to them:
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) Pay attention to that which could benefit you in this world and the Hereafter; worshipping your Lord Who created you, who granted you provisions so that you could worship Him alone and glorify Him morning and evening.
وَلاَ تُطِيعُواْ أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ - الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And follow not the command of the extravagant, who make mischief in the land, and reform not.) meaning, their chiefs and leaders, who called them to Shirk, disbelief and opposition to the truth.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ - مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ - وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ - فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ - فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔
151
View Single
وَلَا تُطِيعُوٓاْ أَمۡرَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
“And do not follow those who exceed the limits.”
اور حد سے تجاوز کرنے والوں کا کہنا نہ مانو
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder to Them of their Circumstances and the Blessings
They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits.
وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
(and date palms with soft clusters.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Ripe and rich." `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas that this meant growing luxuriantly. Isma`il bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn `Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih."
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتاً فَـرِهِينَ
(And you hew out in the mountains, houses with great skill.) Ibn `Abbas and others said, "With great skill." According to another report from him: "They were greedy and extravagant." This was the view of Mujahid and another group. There is no contradiction between the two views, because they built the houses which they carved in the mountains as a form of extravagant play, with no need for them as dwelling places. They were highly skilled in the arts of masonry and stone-carving, as is well known to anyone who has seen their structures. So, Salih said to them:
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) Pay attention to that which could benefit you in this world and the Hereafter; worshipping your Lord Who created you, who granted you provisions so that you could worship Him alone and glorify Him morning and evening.
وَلاَ تُطِيعُواْ أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ - الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And follow not the command of the extravagant, who make mischief in the land, and reform not.) meaning, their chiefs and leaders, who called them to Shirk, disbelief and opposition to the truth.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ - مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ - وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ - فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ - فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔
152
View Single
ٱلَّذِينَ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ
“Those who spread turmoil in the earth, and do no reform.”
جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور (معاشرہ کی) اصلاح نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
A Reminder to Them of their Circumstances and the Blessings
They enjoyed Salih preached to them, warning them that the punishment of Allah could overtake them and reminding them of the blessings that Allah had bestowed upon them, by giving them ample provision and making them safe from all kinds of dangers, giving them gardens and flowing springs, and bringing forth for them crops and fruits.
وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ
(and date palms with soft clusters.) Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Ripe and rich." `Ali bin Abi Talhah narrated from Ibn `Abbas that this meant growing luxuriantly. Isma`il bin Abi Khalid narrated from `Amr bin Abi `Amr -- who met the Companions -- from Ibn `Abbas that this means, "When it becomes ripe and soft." This was narrated by Ibn Abi Hatim, then he said: "And something similar was narrated from Abu Salih."
وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتاً فَـرِهِينَ
(And you hew out in the mountains, houses with great skill.) Ibn `Abbas and others said, "With great skill." According to another report from him: "They were greedy and extravagant." This was the view of Mujahid and another group. There is no contradiction between the two views, because they built the houses which they carved in the mountains as a form of extravagant play, with no need for them as dwelling places. They were highly skilled in the arts of masonry and stone-carving, as is well known to anyone who has seen their structures. So, Salih said to them:
فَاتَّقُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُونِ
(So, have Taqwa of Allah, and obey me.) Pay attention to that which could benefit you in this world and the Hereafter; worshipping your Lord Who created you, who granted you provisions so that you could worship Him alone and glorify Him morning and evening.
وَلاَ تُطِيعُواْ أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ - الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And follow not the command of the extravagant, who make mischief in the land, and reform not.) meaning, their chiefs and leaders, who called them to Shirk, disbelief and opposition to the truth.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ - مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ - قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ - وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ - فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ - فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔
153
View Single
قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ
They said, “You are under a magic spell.”
وہ بولے کہ تم تو فقط جادو زدہ لوگوں میں سے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Thamud, Their Demand for a Sign, and Their Punishment
Allah tells us how Thamud responded to their Prophet Salih, upon him be peace, when he called them to worship their Lord, may He be glorified.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(They said: "You are only of those bewitched!") Mujahid said, "They meant he was one affected by witchcraft." Then they said:
مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
(You are but a human being like us.) meaning, `how can you receive Revelation when we do not' This is like the Ayah where they are described as saying:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26-27) Then they asked him for a sign to prove that what he brought to them from their Lord was the truth. A crowd of them gathered and demanded that he immediately bring forth from the rock a she-camel that was ten months pregnant, and they pointed to a certain rock in their midst. Allah's Prophet Salih made them promise that if he responded to their request, they would believe in him and follow him. So they agreed to that. The Prophet of Allah Salih, peace be upon him, stood and prayed, then he prayed to Allah to grant them their request. Then the rock to which they had pointed split open, revealing a she-camel that was ten months pregnant, excactly as they had requested. So some of them believed, but most of them disbelieved.
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known.) meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.'
وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you.) He warned them of the punishment of Allah if they should do her any harm. The she-camel stayed among them for a while, drinking the water, eating leaves and grazing, and they benefitted from her milk which they took in sufficient quantities for every one to drink his fill. After this had gone on for a long time, and the time for their destruction drew near, they conspired to kill her:
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ
(But they killed her, and then they became regretful. So, the torment overtook them.) Their land was shaken by a strong earthquake, and there came to them an overwhelming Sayhah (shout) which took their hearts from their places. They were overtaken by events which they were not expecting, so they were left (dead), lying prostrate in their homes.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔ آپ نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا ؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔ آپ نے اسی وقت نماز شروع کردی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہوگئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہوجاتے۔ لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آگھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہوگئے چناچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آدبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کردئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہوگئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تاآخر سب غارت ہوگئے اور دنیا جہاں کے لئے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔
154
View Single
مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا فَأۡتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
“You are just a human like us; therefore bring some sign if you are truthful.”
تم تو محض ہمارے جیسے بشر ہو، پس تم کوئی نشانی لے آؤ اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Thamud, Their Demand for a Sign, and Their Punishment
Allah tells us how Thamud responded to their Prophet Salih, upon him be peace, when he called them to worship their Lord, may He be glorified.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(They said: "You are only of those bewitched!") Mujahid said, "They meant he was one affected by witchcraft." Then they said:
مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
(You are but a human being like us.) meaning, `how can you receive Revelation when we do not' This is like the Ayah where they are described as saying:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26-27) Then they asked him for a sign to prove that what he brought to them from their Lord was the truth. A crowd of them gathered and demanded that he immediately bring forth from the rock a she-camel that was ten months pregnant, and they pointed to a certain rock in their midst. Allah's Prophet Salih made them promise that if he responded to their request, they would believe in him and follow him. So they agreed to that. The Prophet of Allah Salih, peace be upon him, stood and prayed, then he prayed to Allah to grant them their request. Then the rock to which they had pointed split open, revealing a she-camel that was ten months pregnant, excactly as they had requested. So some of them believed, but most of them disbelieved.
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known.) meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.'
وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you.) He warned them of the punishment of Allah if they should do her any harm. The she-camel stayed among them for a while, drinking the water, eating leaves and grazing, and they benefitted from her milk which they took in sufficient quantities for every one to drink his fill. After this had gone on for a long time, and the time for their destruction drew near, they conspired to kill her:
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ
(But they killed her, and then they became regretful. So, the torment overtook them.) Their land was shaken by a strong earthquake, and there came to them an overwhelming Sayhah (shout) which took their hearts from their places. They were overtaken by events which they were not expecting, so they were left (dead), lying prostrate in their homes.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔ آپ نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا ؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔ آپ نے اسی وقت نماز شروع کردی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہوگئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہوجاتے۔ لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آگھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہوگئے چناچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آدبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کردئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہوگئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تاآخر سب غارت ہوگئے اور دنیا جہاں کے لئے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔
155
View Single
قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٞ لَّهَا شِرۡبٞ وَلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ
He said, “This is the she-camel – one day shall be her turn to drink, and on the other appointed day, shall be your turn.”
(صالح علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ نشانی) یہ اونٹنی ہے پانی کا ایک وقت اس کے لئے (مقرر) ہے اور ایک مقررہ دن تمہارے پانی کی باری ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Thamud, Their Demand for a Sign, and Their Punishment
Allah tells us how Thamud responded to their Prophet Salih, upon him be peace, when he called them to worship their Lord, may He be glorified.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(They said: "You are only of those bewitched!") Mujahid said, "They meant he was one affected by witchcraft." Then they said:
مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
(You are but a human being like us.) meaning, `how can you receive Revelation when we do not' This is like the Ayah where they are described as saying:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26-27) Then they asked him for a sign to prove that what he brought to them from their Lord was the truth. A crowd of them gathered and demanded that he immediately bring forth from the rock a she-camel that was ten months pregnant, and they pointed to a certain rock in their midst. Allah's Prophet Salih made them promise that if he responded to their request, they would believe in him and follow him. So they agreed to that. The Prophet of Allah Salih, peace be upon him, stood and prayed, then he prayed to Allah to grant them their request. Then the rock to which they had pointed split open, revealing a she-camel that was ten months pregnant, excactly as they had requested. So some of them believed, but most of them disbelieved.
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known.) meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.'
وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you.) He warned them of the punishment of Allah if they should do her any harm. The she-camel stayed among them for a while, drinking the water, eating leaves and grazing, and they benefitted from her milk which they took in sufficient quantities for every one to drink his fill. After this had gone on for a long time, and the time for their destruction drew near, they conspired to kill her:
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ
(But they killed her, and then they became regretful. So, the torment overtook them.) Their land was shaken by a strong earthquake, and there came to them an overwhelming Sayhah (shout) which took their hearts from their places. They were overtaken by events which they were not expecting, so they were left (dead), lying prostrate in their homes.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔ آپ نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا ؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔ آپ نے اسی وقت نماز شروع کردی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہوگئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہوجاتے۔ لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آگھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہوگئے چناچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آدبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کردئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہوگئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تاآخر سب غارت ہوگئے اور دنیا جہاں کے لئے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔
156
View Single
وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
“And do not touch her with evil intentions for the punishment of the Great Day will seize you.”
اور اِسے برائی (کے ارادہ) سے ہاتھ مت لگانا ورنہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Thamud, Their Demand for a Sign, and Their Punishment
Allah tells us how Thamud responded to their Prophet Salih, upon him be peace, when he called them to worship their Lord, may He be glorified.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(They said: "You are only of those bewitched!") Mujahid said, "They meant he was one affected by witchcraft." Then they said:
مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
(You are but a human being like us.) meaning, `how can you receive Revelation when we do not' This is like the Ayah where they are described as saying:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26-27) Then they asked him for a sign to prove that what he brought to them from their Lord was the truth. A crowd of them gathered and demanded that he immediately bring forth from the rock a she-camel that was ten months pregnant, and they pointed to a certain rock in their midst. Allah's Prophet Salih made them promise that if he responded to their request, they would believe in him and follow him. So they agreed to that. The Prophet of Allah Salih, peace be upon him, stood and prayed, then he prayed to Allah to grant them their request. Then the rock to which they had pointed split open, revealing a she-camel that was ten months pregnant, excactly as they had requested. So some of them believed, but most of them disbelieved.
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known.) meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.'
وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you.) He warned them of the punishment of Allah if they should do her any harm. The she-camel stayed among them for a while, drinking the water, eating leaves and grazing, and they benefitted from her milk which they took in sufficient quantities for every one to drink his fill. After this had gone on for a long time, and the time for their destruction drew near, they conspired to kill her:
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ
(But they killed her, and then they became regretful. So, the torment overtook them.) Their land was shaken by a strong earthquake, and there came to them an overwhelming Sayhah (shout) which took their hearts from their places. They were overtaken by events which they were not expecting, so they were left (dead), lying prostrate in their homes.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔ آپ نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا ؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔ آپ نے اسی وقت نماز شروع کردی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہوگئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہوجاتے۔ لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آگھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہوگئے چناچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آدبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کردئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہوگئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تاآخر سب غارت ہوگئے اور دنیا جہاں کے لئے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔
157
View Single
فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ
So they hamstrung her, and in the morning could only regret.
پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (سو اسے ہلاک کر دیا) پھر وہ (اپنے کئے پر) پشیمان ہو گئے
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Thamud, Their Demand for a Sign, and Their Punishment
Allah tells us how Thamud responded to their Prophet Salih, upon him be peace, when he called them to worship their Lord, may He be glorified.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(They said: "You are only of those bewitched!") Mujahid said, "They meant he was one affected by witchcraft." Then they said:
مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
(You are but a human being like us.) meaning, `how can you receive Revelation when we do not' This is like the Ayah where they are described as saying:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26-27) Then they asked him for a sign to prove that what he brought to them from their Lord was the truth. A crowd of them gathered and demanded that he immediately bring forth from the rock a she-camel that was ten months pregnant, and they pointed to a certain rock in their midst. Allah's Prophet Salih made them promise that if he responded to their request, they would believe in him and follow him. So they agreed to that. The Prophet of Allah Salih, peace be upon him, stood and prayed, then he prayed to Allah to grant them their request. Then the rock to which they had pointed split open, revealing a she-camel that was ten months pregnant, excactly as they had requested. So some of them believed, but most of them disbelieved.
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known.) meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.'
وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you.) He warned them of the punishment of Allah if they should do her any harm. The she-camel stayed among them for a while, drinking the water, eating leaves and grazing, and they benefitted from her milk which they took in sufficient quantities for every one to drink his fill. After this had gone on for a long time, and the time for their destruction drew near, they conspired to kill her:
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ
(But they killed her, and then they became regretful. So, the torment overtook them.) Their land was shaken by a strong earthquake, and there came to them an overwhelming Sayhah (shout) which took their hearts from their places. They were overtaken by events which they were not expecting, so they were left (dead), lying prostrate in their homes.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔ آپ نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا ؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔ آپ نے اسی وقت نماز شروع کردی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہوگئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہوجاتے۔ لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آگھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہوگئے چناچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آدبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کردئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہوگئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تاآخر سب غارت ہوگئے اور دنیا جہاں کے لئے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔
158
View Single
فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
The punishment therefore seized them; indeed in this is a sign; and most of them were not believers.
سو انہیں عذاب نے آپکڑا، بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Thamud, Their Demand for a Sign, and Their Punishment
Allah tells us how Thamud responded to their Prophet Salih, upon him be peace, when he called them to worship their Lord, may He be glorified.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(They said: "You are only of those bewitched!") Mujahid said, "They meant he was one affected by witchcraft." Then they said:
مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
(You are but a human being like us.) meaning, `how can you receive Revelation when we do not' This is like the Ayah where they are described as saying:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26-27) Then they asked him for a sign to prove that what he brought to them from their Lord was the truth. A crowd of them gathered and demanded that he immediately bring forth from the rock a she-camel that was ten months pregnant, and they pointed to a certain rock in their midst. Allah's Prophet Salih made them promise that if he responded to their request, they would believe in him and follow him. So they agreed to that. The Prophet of Allah Salih, peace be upon him, stood and prayed, then he prayed to Allah to grant them their request. Then the rock to which they had pointed split open, revealing a she-camel that was ten months pregnant, excactly as they had requested. So some of them believed, but most of them disbelieved.
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known.) meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.'
وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you.) He warned them of the punishment of Allah if they should do her any harm. The she-camel stayed among them for a while, drinking the water, eating leaves and grazing, and they benefitted from her milk which they took in sufficient quantities for every one to drink his fill. After this had gone on for a long time, and the time for their destruction drew near, they conspired to kill her:
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ
(But they killed her, and then they became regretful. So, the torment overtook them.) Their land was shaken by a strong earthquake, and there came to them an overwhelming Sayhah (shout) which took their hearts from their places. They were overtaken by events which they were not expecting, so they were left (dead), lying prostrate in their homes.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔ آپ نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا ؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔ آپ نے اسی وقت نماز شروع کردی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہوگئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہوجاتے۔ لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آگھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہوگئے چناچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آدبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کردئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہوگئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تاآخر سب غارت ہوگئے اور دنیا جہاں کے لئے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔
159
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord – only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Thamud, Their Demand for a Sign, and Their Punishment
Allah tells us how Thamud responded to their Prophet Salih, upon him be peace, when he called them to worship their Lord, may He be glorified.
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(They said: "You are only of those bewitched!") Mujahid said, "They meant he was one affected by witchcraft." Then they said:
مَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا
(You are but a human being like us.) meaning, `how can you receive Revelation when we do not' This is like the Ayah where they are described as saying:
أَءُلْقِىَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ - سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
("Is it that the Reminder is sent to him alone from among us Nay, he is an insolent liar!" Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26-27) Then they asked him for a sign to prove that what he brought to them from their Lord was the truth. A crowd of them gathered and demanded that he immediately bring forth from the rock a she-camel that was ten months pregnant, and they pointed to a certain rock in their midst. Allah's Prophet Salih made them promise that if he responded to their request, they would believe in him and follow him. So they agreed to that. The Prophet of Allah Salih, peace be upon him, stood and prayed, then he prayed to Allah to grant them their request. Then the rock to which they had pointed split open, revealing a she-camel that was ten months pregnant, excactly as they had requested. So some of them believed, but most of them disbelieved.
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known.) meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.'
وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(And touch her not with harm, lest the torment of a Great Day should seize you.) He warned them of the punishment of Allah if they should do her any harm. The she-camel stayed among them for a while, drinking the water, eating leaves and grazing, and they benefitted from her milk which they took in sufficient quantities for every one to drink his fill. After this had gone on for a long time, and the time for their destruction drew near, they conspired to kill her:
فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُواْ نَـدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ
(But they killed her, and then they became regretful. So, the torment overtook them.) Their land was shaken by a strong earthquake, and there came to them an overwhelming Sayhah (shout) which took their hearts from their places. They were overtaken by events which they were not expecting, so they were left (dead), lying prostrate in their homes.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. And verily your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful.)
نبی کا اپنے آپ سے تقابل ثمودیوں نے اپنے نبی کو جواب دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے گو ایک معنی یہ بھی کئے گئے کہ تو مخلوق میں سے ہے اور اسکی دلیل میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا جاتا ہے لیکن ظاہر معنی پہلے ہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تو تو ہم جیسا ایک انسان ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم میں سے تو کسی پر وحی نہ آئے اور تجھ پر آجائے کچھ نہیں یہ صرف بناوٹ ہے ایک خود ساختہ ڈرامہ ہے محض جھوٹ اور صاف طوفان ہے اچھا ہم کہتے ہیں اگر تو واقعی سچا نبی ہے تو کوئی معجزہ دکھا اس وقت ان کے چھوٹے بڑے سب جمع تھے اور یک زبان ہو کر سب نے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ نے پوچھا تم کیا معجزہ دیکھانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا یہ سامنے جو پتھر کی بڑی ساری چٹان ہے یہ ہمارے دیکھتے ہوئے پھٹے اور اس میں سے ایک گابھن اونٹنی اس اس رنگ کی اور ایسی ایسی نکلے۔ آپ نے فرمایا اچھا اگر میں رب سے دعا کروں اور وہ یہی معجزہ میرے ہاتھوں تمہیں دکھا دے پھر تو تمہیں میری نبوت کے ماننے میں کوئی عذر نہ ہوگا ؟ سب نے پختہ وعدہ کیا قول قرار کیا کہ ہم سب ایمان لائیں گے اور آپ کی نبوت مان لیں گے۔ آپ بہت جلد یہ معجزہ دکھائیں۔ آپ نے اسی وقت نماز شروع کردی پھر اللہ عزوجل سے دعا کی اسی وقت وہ پتھر پھٹا اور اسی طرح کی ایک اونٹنی ان کے دیکھتے ہوئے اس میں سے نکلی۔ کچھ لوگ تو حسب اقرار مومن ہوگئے لیکن اکثر لوگ پھر بھی کافر کے کافر رہے۔ آپ نے کہا سنو ایک دن یہ پانی پئے گی اور ایک دن پانی کی باری تمہاری مقرر رہے گی۔ اب تم میں سے کوئی اسے برائی نہ پہنچائے ورنہ بدترین عذاب تم پر اتر پڑے گا۔ ایک عرصے تک تو وہ رکے رہے۔ اونٹنی ان میں رہی چارہ چگتی اور اپنی باری والے دن پانی پیتی۔ اس دن یہ لوگ اس کے دودھ سے سیر ہوجاتے۔ لیکن ایک مدت کے بعد ان کی بدبختی نے انہیں آگھیرا۔ ان میں سے ایک ملعون نے اونٹنی کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور کل اہل شہر اس کے موافق ہوگئے چناچہ اس کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا۔ جس کے نتیجے میں انہیں سخت ندامت اور پیشمانی اٹھانی پڑی اللہ کے عذاب نے انہیں اچانک آدبوچا۔ ان کی زمین ہلا دی گئیں اور ایک چیخ سے سب کے سب ہلاک کردئیے گئے۔ دل اڑ گئے کلیجے پاش پاش ہوگئے اور وہم گمان بھی جس چیز کا نہ تھا وہ آن پڑا۔ اور تاآخر سب غارت ہوگئے اور دنیا جہاں کے لئے یہ خوفناک واقعہ عبرت افزا ہوگیا۔ اتنی بڑی نشانی اپنی آنکھوں دیکھ کر بھی ان میں سے اکثر لوگوں کو ایمان لانا نصیب نہ ہوا اسمیں کچھ شک نہیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم بھی ہے۔
160
View Single
كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
The people of Lut denied the Noble Messengers.
قومِ لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His Call
Here Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him. He was Lut bin Haran bin Azar, the nephew of Ibrahim Al-Khalil, upon him be peace. Allah sent him to a mighty nation during the lifetime of Ibrahim, peace be upon them both. They lived in Sadum (Sodom) and its environs, where Allah destroyed them and turned the area into a putrid, stinking lake, which is well-known in the land of Al-Ghur the Jordan Valley, bordering the mountains of Jerusalem, between the mountains and the land of Al-Karak and Ash-Shawbak. He called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey the Messenger whom Allah sent to them. He forbade from disobeying Allah and committing the sin that they had invented which was unknown on earth before their time; intercourse with males instead of with females. Allah said:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ - قَالُواْ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ - قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
لوط ؑ اور انکی قوم اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے ان لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی۔ آپ نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔ اپنا رسول ہو کر آنا ظاہر کیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اللہ کی باتیں مان لینے کو فرمایا۔ اعلان کردیا کہ میں تمہارے پیسے ٹکے کا محتاج نہیں۔ میں صرف اللہ کے واسطے تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں، تم اپنے اس خبیث فعل سے باز آؤ یعنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے حاجت روائی کرنے سے رک جاؤ لیکن انہیں نے اللہ کے رسول ؑ کی نہ مانی بلکہ ایذائیں پہنچانے لگے۔
161
View Single
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ أَخُوهُمۡ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ
When their fellowman Lut said to them, “Do you not fear?”
جب ان سے ان کے (قومی) بھائی لوط (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His Call
Here Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him. He was Lut bin Haran bin Azar, the nephew of Ibrahim Al-Khalil, upon him be peace. Allah sent him to a mighty nation during the lifetime of Ibrahim, peace be upon them both. They lived in Sadum (Sodom) and its environs, where Allah destroyed them and turned the area into a putrid, stinking lake, which is well-known in the land of Al-Ghur the Jordan Valley, bordering the mountains of Jerusalem, between the mountains and the land of Al-Karak and Ash-Shawbak. He called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey the Messenger whom Allah sent to them. He forbade from disobeying Allah and committing the sin that they had invented which was unknown on earth before their time; intercourse with males instead of with females. Allah said:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ - قَالُواْ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ - قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
لوط ؑ اور انکی قوم اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے ان لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی۔ آپ نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔ اپنا رسول ہو کر آنا ظاہر کیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اللہ کی باتیں مان لینے کو فرمایا۔ اعلان کردیا کہ میں تمہارے پیسے ٹکے کا محتاج نہیں۔ میں صرف اللہ کے واسطے تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں، تم اپنے اس خبیث فعل سے باز آؤ یعنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے حاجت روائی کرنے سے رک جاؤ لیکن انہیں نے اللہ کے رسول ؑ کی نہ مانی بلکہ ایذائیں پہنچانے لگے۔
162
View Single
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
“I am indeed a trustworthy Noble Messenger of Allah to you.”
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His Call
Here Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him. He was Lut bin Haran bin Azar, the nephew of Ibrahim Al-Khalil, upon him be peace. Allah sent him to a mighty nation during the lifetime of Ibrahim, peace be upon them both. They lived in Sadum (Sodom) and its environs, where Allah destroyed them and turned the area into a putrid, stinking lake, which is well-known in the land of Al-Ghur the Jordan Valley, bordering the mountains of Jerusalem, between the mountains and the land of Al-Karak and Ash-Shawbak. He called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey the Messenger whom Allah sent to them. He forbade from disobeying Allah and committing the sin that they had invented which was unknown on earth before their time; intercourse with males instead of with females. Allah said:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ - قَالُواْ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ - قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
لوط ؑ اور انکی قوم اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے ان لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی۔ آپ نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔ اپنا رسول ہو کر آنا ظاہر کیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اللہ کی باتیں مان لینے کو فرمایا۔ اعلان کردیا کہ میں تمہارے پیسے ٹکے کا محتاج نہیں۔ میں صرف اللہ کے واسطے تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں، تم اپنے اس خبیث فعل سے باز آؤ یعنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے حاجت روائی کرنے سے رک جاؤ لیکن انہیں نے اللہ کے رسول ؑ کی نہ مانی بلکہ ایذائیں پہنچانے لگے۔
163
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah and obey me.”
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کرو
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His Call
Here Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him. He was Lut bin Haran bin Azar, the nephew of Ibrahim Al-Khalil, upon him be peace. Allah sent him to a mighty nation during the lifetime of Ibrahim, peace be upon them both. They lived in Sadum (Sodom) and its environs, where Allah destroyed them and turned the area into a putrid, stinking lake, which is well-known in the land of Al-Ghur the Jordan Valley, bordering the mountains of Jerusalem, between the mountains and the land of Al-Karak and Ash-Shawbak. He called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey the Messenger whom Allah sent to them. He forbade from disobeying Allah and committing the sin that they had invented which was unknown on earth before their time; intercourse with males instead of with females. Allah said:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ - قَالُواْ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ - قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
لوط ؑ اور انکی قوم اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے ان لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی۔ آپ نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔ اپنا رسول ہو کر آنا ظاہر کیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اللہ کی باتیں مان لینے کو فرمایا۔ اعلان کردیا کہ میں تمہارے پیسے ٹکے کا محتاج نہیں۔ میں صرف اللہ کے واسطے تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں، تم اپنے اس خبیث فعل سے باز آؤ یعنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے حاجت روائی کرنے سے رک جاؤ لیکن انہیں نے اللہ کے رسول ؑ کی نہ مانی بلکہ ایذائیں پہنچانے لگے۔
164
View Single
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“And I do not ask from you any fee for it; my reward is only upon the Lord Of The Creation.”
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His Call
Here Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him. He was Lut bin Haran bin Azar, the nephew of Ibrahim Al-Khalil, upon him be peace. Allah sent him to a mighty nation during the lifetime of Ibrahim, peace be upon them both. They lived in Sadum (Sodom) and its environs, where Allah destroyed them and turned the area into a putrid, stinking lake, which is well-known in the land of Al-Ghur the Jordan Valley, bordering the mountains of Jerusalem, between the mountains and the land of Al-Karak and Ash-Shawbak. He called them to Allah, to worship Him alone with no partner or associate, and to obey the Messenger whom Allah sent to them. He forbade from disobeying Allah and committing the sin that they had invented which was unknown on earth before their time; intercourse with males instead of with females. Allah said:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ - قَالُواْ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ - قَالَ إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
لوط ؑ اور انکی قوم اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے ان لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی۔ آپ نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔ اپنا رسول ہو کر آنا ظاہر کیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اللہ کی باتیں مان لینے کو فرمایا۔ اعلان کردیا کہ میں تمہارے پیسے ٹکے کا محتاج نہیں۔ میں صرف اللہ کے واسطے تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں، تم اپنے اس خبیث فعل سے باز آؤ یعنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے حاجت روائی کرنے سے رک جاؤ لیکن انہیں نے اللہ کے رسول ؑ کی نہ مانی بلکہ ایذائیں پہنچانے لگے۔
165
View Single
أَتَأۡتُونَ ٱلذُّكۡرَانَ مِنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“What! Among all the creatures, you commit the immoral acts with men?”
کیا تم سارے جہان والوں میں سے صرف مَردوں ہی کے پاس (اپنی شہوانی خواہشات پوری کرنے کے لئے) آتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
166
View Single
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ عَادُونَ
“And leave the wives your Lord has created for you? In fact you are people who exceed the limits.”
اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، بلکہ تم (سرکشی میں) حد سے نکل جانے والے لوگ ہو
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
167
View Single
قَالُواْ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ يَٰلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُخۡرَجِينَ
They said, “O Lut, if you do not desist, you will be expelled.”
وہ بولے: اے لوط! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تم ضرور شہر بدر کئے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
168
View Single
قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلۡقَالِينَ
He said, “I am disgusted with your works.”
(لوط علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک میں تمہارے عمل سے بیزار ہونے والوں میں سے ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
169
View Single
رَبِّ نَجِّنِي وَأَهۡلِي مِمَّا يَعۡمَلُونَ
“My Lord, rescue me and my family from their deeds.”
اے رب! تو مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کام کے وبال) سے نجات عطا فرما جو یہ کر رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
170
View Single
فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ
We therefore rescued him and his entire family.
پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرما دی
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
171
View Single
إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ
Except one old woman, who stayed behind.
سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
172
View Single
ثُمَّ دَمَّرۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ
We then destroyed the others.
پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
173
View Single
وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ
And We showered a rain upon them; so what a wretched rain for those who were warned!
اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی سو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بارش کتنی تباہ کن تھی
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
174
View Single
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
Indeed in this is a sign; and most of them were not Muslims.
بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
175
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord – only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Lut's Denunciation of His People's Deeds, Their Response and Their Punishment
The Prophet of Allah forbade them from committing evil deeds and intercourse with males, and he taught them that they should have intercourse with their wives whom Allah had created for them. Their response was only to say:
لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يلُوطُ
(If you cease not, O Lut,) meaning, `if you do not give up what you have brought,'
لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ
(verily, you will be one of those who are driven out!) meaning, `we will expel you from among us.' This is like the Ayah,
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") (27:56). When he saw that they would not give up their ways, and that they were persisting in their misguidance, he declared his innocence of them, saying:
إِنِّى لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَـلِينَ
(I am, indeed, of those who disapprove with severe anger and fury) `Of those who are outraged, I do not like it and I do not accept it, and I have nothing to do with you. ' Then he prayed to Allah against them and said:
رَبِّ نَّجِنِى وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ
(My Lord! Save me and my family from what they do.) Allah says:
فَنَجَّيْنَـهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ - إِلاَّ عَجُوزاً فِى الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, all. Except an old woman among those who remained behind.) This was his wife, who was a bad old woman. She stayed behind and was destroyed with whoever else was left. This is similar to what Allah says about them in Surat Al-A`raf and Surah Hud, and in Surat Al-Hijr, where Allah commanded him to take his family at night, except for his wife, and not to turn around when they heard the Sayhah as it came upon his people. So they patiently obeyed the command of Allah and persevered, and Allah sent upon the people a punishment which struck them all, and rained upon them stones of baked clay, piled up. Allah says:
ثُمَّ دَمَّرْنَا الاٌّخَرِينَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(Then afterward We destroyed the others. And We rained on them a rain) until Allah's saying;
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(And verily, your Lord, He is indeed the All-Mighty, the Most Merciful. )
كَذَّبَ أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ - إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلاَ تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ
ہم جنسی پرستی کا شکار لوط نبی ؑ نے اپنی قوم کو انکی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لئے جوڑا بنادیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب و احترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط ؑ اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کردیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کردو۔ یہ دیکھ کر آپ نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا کہ میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ پھر اللہ سے ان کی لئے بددعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورة اعراف، سورة ہود اور سورة حجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کردئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بےایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔
176
View Single
كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ لۡـَٔيۡكَةِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
The People of the Woods denied the Noble Messengers.
باشندگانِ ایکہ (یعنی جنگل کے رہنے والوں) نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
Shu`ayb and His Preaching to the Dwellers of Al-Aykah
The companions of Al-Aykah were the people of Madyan, according to the most correct view. The Prophet of Allah Shu`ayb was one of them, but it does not say here, their brother Shu`ayb, because they called themselves by a name denoting their deification of Al-Aykah, which was a tree which they used to worship; it was said that it was a group of trees which were tangled, like trees in a thicket. For this reason, when Allah said that the companions of Al-Aykah denied the Messengers, He did not say, "When their brother Shu`ayb said to them." Rather, He said:
إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ
(When Shu`ayb said to them) He is not described as belonging to them because of the meaning that was inherent in the name given to them even though he was their brother by blood. Some people did not notice this point, so they thought that the dwellers of Al-Aykah were different from the people of Madyan, and claimed that Shu`ayb was sent to two nations; some said that he was sent to three.
أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ
(The companions of Al-Aykah) were the people of Shu`ayb. This was the view of Ishaq bin Bishr. Someone besides Juwaybir said, "The dwellers of Al-Aykah and the people of Madyan are one and the same." And Allah knows best. Although there is another opinion that they were different nations with two identities, the correct view is that they were one nation, but they are described differently in different places. Shu`ayb preached to them and commanded them to be fair in their weights and measures, the same as is mentioned in the story of Madyan, which also indicates that they were the same nation.
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ - وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَآءهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاْرْضِ مُفْسِدِينَ-
شیعب ؑ یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی آپ کی بعثت ہوئی تھی۔ چناچہ حضرت عکرمہ ؒ سے مروی ہے کہ کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ نہیں بھیجا سوائے حضرت شعیب ؑ کے کہ ایک مرتبہ انہیں مدین والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ سے انہیں ایک چنگھاڑ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ اور دوبارہ انہیں ایکہ والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ ان پر سائے والے دن کا عذاب آیا اور وہ برباد ہوئے۔ لیکن یاد رہے کہ اس کے راویوں میں ایک راوی اسحاق بن بشر کاہلی ہے جو ضعیف ہے۔ قتادۃ ؒ کا قول ہے کہ اصحاب رس اور اصحاب ایکہ قوم شعیب ہے اور ایک بزرگ فرماتے ہیں اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین ایک ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن عساکر میں ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ دو قومیں ہیں ان دونوں نے امتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت شعیب ؑ کو بھیجا تھا لیکن یہ حدیث غریب ہے اور اسکے مرفوع ہونے میں کلام ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف ہی ہو۔ صحیح امر یہی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی امت ہے۔ دونوں جگہ ان کے وصف الگ الگ بیان ہوئے ہیں مگر وہ ایک ہی ہے۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ دونوں قصوں میں حضرت شعیب ؑ کا وعظ ایک ہی ہے دونوں کو ناپ تول صحیح کرنے کا حکم دیا ہے۔
177
View Single
إِذۡ قَالَ لَهُمۡ شُعَيۡبٌ أَلَا تَتَّقُونَ
When Shuaib said to all of them, “Do you not fear?”
جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو
Tafsir Ibn Kathir
Shu`ayb and His Preaching to the Dwellers of Al-Aykah
The companions of Al-Aykah were the people of Madyan, according to the most correct view. The Prophet of Allah Shu`ayb was one of them, but it does not say here, their brother Shu`ayb, because they called themselves by a name denoting their deification of Al-Aykah, which was a tree which they used to worship; it was said that it was a group of trees which were tangled, like trees in a thicket. For this reason, when Allah said that the companions of Al-Aykah denied the Messengers, He did not say, "When their brother Shu`ayb said to them." Rather, He said:
إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ
(When Shu`ayb said to them) He is not described as belonging to them because of the meaning that was inherent in the name given to them even though he was their brother by blood. Some people did not notice this point, so they thought that the dwellers of Al-Aykah were different from the people of Madyan, and claimed that Shu`ayb was sent to two nations; some said that he was sent to three.
أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ
(The companions of Al-Aykah) were the people of Shu`ayb. This was the view of Ishaq bin Bishr. Someone besides Juwaybir said, "The dwellers of Al-Aykah and the people of Madyan are one and the same." And Allah knows best. Although there is another opinion that they were different nations with two identities, the correct view is that they were one nation, but they are described differently in different places. Shu`ayb preached to them and commanded them to be fair in their weights and measures, the same as is mentioned in the story of Madyan, which also indicates that they were the same nation.
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ - وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَآءهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاْرْضِ مُفْسِدِينَ-
شیعب ؑ یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی آپ کی بعثت ہوئی تھی۔ چناچہ حضرت عکرمہ ؒ سے مروی ہے کہ کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ نہیں بھیجا سوائے حضرت شعیب ؑ کے کہ ایک مرتبہ انہیں مدین والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ سے انہیں ایک چنگھاڑ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ اور دوبارہ انہیں ایکہ والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ ان پر سائے والے دن کا عذاب آیا اور وہ برباد ہوئے۔ لیکن یاد رہے کہ اس کے راویوں میں ایک راوی اسحاق بن بشر کاہلی ہے جو ضعیف ہے۔ قتادۃ ؒ کا قول ہے کہ اصحاب رس اور اصحاب ایکہ قوم شعیب ہے اور ایک بزرگ فرماتے ہیں اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین ایک ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن عساکر میں ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ دو قومیں ہیں ان دونوں نے امتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت شعیب ؑ کو بھیجا تھا لیکن یہ حدیث غریب ہے اور اسکے مرفوع ہونے میں کلام ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف ہی ہو۔ صحیح امر یہی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی امت ہے۔ دونوں جگہ ان کے وصف الگ الگ بیان ہوئے ہیں مگر وہ ایک ہی ہے۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ دونوں قصوں میں حضرت شعیب ؑ کا وعظ ایک ہی ہے دونوں کو ناپ تول صحیح کرنے کا حکم دیا ہے۔
178
View Single
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ
“I am indeed a trustworthy Noble Messenger of Allah to you.”
بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Shu`ayb and His Preaching to the Dwellers of Al-Aykah
The companions of Al-Aykah were the people of Madyan, according to the most correct view. The Prophet of Allah Shu`ayb was one of them, but it does not say here, their brother Shu`ayb, because they called themselves by a name denoting their deification of Al-Aykah, which was a tree which they used to worship; it was said that it was a group of trees which were tangled, like trees in a thicket. For this reason, when Allah said that the companions of Al-Aykah denied the Messengers, He did not say, "When their brother Shu`ayb said to them." Rather, He said:
إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ
(When Shu`ayb said to them) He is not described as belonging to them because of the meaning that was inherent in the name given to them even though he was their brother by blood. Some people did not notice this point, so they thought that the dwellers of Al-Aykah were different from the people of Madyan, and claimed that Shu`ayb was sent to two nations; some said that he was sent to three.
أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ
(The companions of Al-Aykah) were the people of Shu`ayb. This was the view of Ishaq bin Bishr. Someone besides Juwaybir said, "The dwellers of Al-Aykah and the people of Madyan are one and the same." And Allah knows best. Although there is another opinion that they were different nations with two identities, the correct view is that they were one nation, but they are described differently in different places. Shu`ayb preached to them and commanded them to be fair in their weights and measures, the same as is mentioned in the story of Madyan, which also indicates that they were the same nation.
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ - وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَآءهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاْرْضِ مُفْسِدِينَ-
شیعب ؑ یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی آپ کی بعثت ہوئی تھی۔ چناچہ حضرت عکرمہ ؒ سے مروی ہے کہ کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ نہیں بھیجا سوائے حضرت شعیب ؑ کے کہ ایک مرتبہ انہیں مدین والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ سے انہیں ایک چنگھاڑ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ اور دوبارہ انہیں ایکہ والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ ان پر سائے والے دن کا عذاب آیا اور وہ برباد ہوئے۔ لیکن یاد رہے کہ اس کے راویوں میں ایک راوی اسحاق بن بشر کاہلی ہے جو ضعیف ہے۔ قتادۃ ؒ کا قول ہے کہ اصحاب رس اور اصحاب ایکہ قوم شعیب ہے اور ایک بزرگ فرماتے ہیں اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین ایک ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن عساکر میں ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ دو قومیں ہیں ان دونوں نے امتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت شعیب ؑ کو بھیجا تھا لیکن یہ حدیث غریب ہے اور اسکے مرفوع ہونے میں کلام ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف ہی ہو۔ صحیح امر یہی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی امت ہے۔ دونوں جگہ ان کے وصف الگ الگ بیان ہوئے ہیں مگر وہ ایک ہی ہے۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ دونوں قصوں میں حضرت شعیب ؑ کا وعظ ایک ہی ہے دونوں کو ناپ تول صحیح کرنے کا حکم دیا ہے۔
179
View Single
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ
“Therefore fear Allah and obey me.”
پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو
Tafsir Ibn Kathir
Shu`ayb and His Preaching to the Dwellers of Al-Aykah
The companions of Al-Aykah were the people of Madyan, according to the most correct view. The Prophet of Allah Shu`ayb was one of them, but it does not say here, their brother Shu`ayb, because they called themselves by a name denoting their deification of Al-Aykah, which was a tree which they used to worship; it was said that it was a group of trees which were tangled, like trees in a thicket. For this reason, when Allah said that the companions of Al-Aykah denied the Messengers, He did not say, "When their brother Shu`ayb said to them." Rather, He said:
إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ
(When Shu`ayb said to them) He is not described as belonging to them because of the meaning that was inherent in the name given to them even though he was their brother by blood. Some people did not notice this point, so they thought that the dwellers of Al-Aykah were different from the people of Madyan, and claimed that Shu`ayb was sent to two nations; some said that he was sent to three.
أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ
(The companions of Al-Aykah) were the people of Shu`ayb. This was the view of Ishaq bin Bishr. Someone besides Juwaybir said, "The dwellers of Al-Aykah and the people of Madyan are one and the same." And Allah knows best. Although there is another opinion that they were different nations with two identities, the correct view is that they were one nation, but they are described differently in different places. Shu`ayb preached to them and commanded them to be fair in their weights and measures, the same as is mentioned in the story of Madyan, which also indicates that they were the same nation.
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ - وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَآءهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاْرْضِ مُفْسِدِينَ-
شیعب ؑ یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی آپ کی بعثت ہوئی تھی۔ چناچہ حضرت عکرمہ ؒ سے مروی ہے کہ کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ نہیں بھیجا سوائے حضرت شعیب ؑ کے کہ ایک مرتبہ انہیں مدین والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ سے انہیں ایک چنگھاڑ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ اور دوبارہ انہیں ایکہ والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ ان پر سائے والے دن کا عذاب آیا اور وہ برباد ہوئے۔ لیکن یاد رہے کہ اس کے راویوں میں ایک راوی اسحاق بن بشر کاہلی ہے جو ضعیف ہے۔ قتادۃ ؒ کا قول ہے کہ اصحاب رس اور اصحاب ایکہ قوم شعیب ہے اور ایک بزرگ فرماتے ہیں اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین ایک ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن عساکر میں ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ دو قومیں ہیں ان دونوں نے امتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت شعیب ؑ کو بھیجا تھا لیکن یہ حدیث غریب ہے اور اسکے مرفوع ہونے میں کلام ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف ہی ہو۔ صحیح امر یہی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی امت ہے۔ دونوں جگہ ان کے وصف الگ الگ بیان ہوئے ہیں مگر وہ ایک ہی ہے۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ دونوں قصوں میں حضرت شعیب ؑ کا وعظ ایک ہی ہے دونوں کو ناپ تول صحیح کرنے کا حکم دیا ہے۔
180
View Single
وَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
“And I do not ask from you any fee for it; my reward is only upon the Lord Of The Creation.”
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Shu`ayb and His Preaching to the Dwellers of Al-Aykah
The companions of Al-Aykah were the people of Madyan, according to the most correct view. The Prophet of Allah Shu`ayb was one of them, but it does not say here, their brother Shu`ayb, because they called themselves by a name denoting their deification of Al-Aykah, which was a tree which they used to worship; it was said that it was a group of trees which were tangled, like trees in a thicket. For this reason, when Allah said that the companions of Al-Aykah denied the Messengers, He did not say, "When their brother Shu`ayb said to them." Rather, He said:
إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ
(When Shu`ayb said to them) He is not described as belonging to them because of the meaning that was inherent in the name given to them even though he was their brother by blood. Some people did not notice this point, so they thought that the dwellers of Al-Aykah were different from the people of Madyan, and claimed that Shu`ayb was sent to two nations; some said that he was sent to three.
أَصْحَـبُ لْـَيْكَةِ
(The companions of Al-Aykah) were the people of Shu`ayb. This was the view of Ishaq bin Bishr. Someone besides Juwaybir said, "The dwellers of Al-Aykah and the people of Madyan are one and the same." And Allah knows best. Although there is another opinion that they were different nations with two identities, the correct view is that they were one nation, but they are described differently in different places. Shu`ayb preached to them and commanded them to be fair in their weights and measures, the same as is mentioned in the story of Madyan, which also indicates that they were the same nation.
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ - وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَآءهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاْرْضِ مُفْسِدِينَ-
شیعب ؑ یہ لوگ مدین کے رہنے والے تھے۔ حضرت شعیب ؑ بھی ان ہی میں تھے آپ کو ان کا بھائی صرف اس لئے نہیں کہا گیا کہ اس آیت میں ان لوگوں کی نسبت ایکہ کی طرف کی ہے۔ جسے یہ لوگ پوجتے تھے۔ ایکہ ایک درخت تھا یہی وجہ ہے کہ جیسے اور نبیوں کی ان کی امتوں کا بھائی فرمایا گیا انہیں ان کا بھائی نہیں کہا گیا ورنہ یہ لوگ بھی انہی کی قوم میں سے تھے۔ بعض لوگ جن کے ذہن کی رسائی اس نکتے تک نہیں ہوئی وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کی قوم میں سے نہ تھے۔ اس لئے حضرت شعیب ؑ کو انکا بھائی فرمایا گیا یہ اور ہی قوم تھی۔ شعیب ؑ اپنی قوم کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور ان لوگوں کی طرف بھی۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک تیسری امت کی طرف بھی آپ کی بعثت ہوئی تھی۔ چناچہ حضرت عکرمہ ؒ سے مروی ہے کہ کسی نبی کو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ نہیں بھیجا سوائے حضرت شعیب ؑ کے کہ ایک مرتبہ انہیں مدین والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ سے انہیں ایک چنگھاڑ کے ساتھ ہلاک کردیا۔ اور دوبارہ انہیں ایکہ والوں کی طرف بھیجا اور ان کی تکذیب کی وجہ ان پر سائے والے دن کا عذاب آیا اور وہ برباد ہوئے۔ لیکن یاد رہے کہ اس کے راویوں میں ایک راوی اسحاق بن بشر کاہلی ہے جو ضعیف ہے۔ قتادۃ ؒ کا قول ہے کہ اصحاب رس اور اصحاب ایکہ قوم شعیب ہے اور ایک بزرگ فرماتے ہیں اصحاب ایکہ اور اصحاب مدین ایک ہی ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن عساکر میں ہے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ دو قومیں ہیں ان دونوں نے امتوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت شعیب ؑ کو بھیجا تھا لیکن یہ حدیث غریب ہے اور اسکے مرفوع ہونے میں کلام ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف ہی ہو۔ صحیح امر یہی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی امت ہے۔ دونوں جگہ ان کے وصف الگ الگ بیان ہوئے ہیں مگر وہ ایک ہی ہے۔ اس کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ دونوں قصوں میں حضرت شعیب ؑ کا وعظ ایک ہی ہے دونوں کو ناپ تول صحیح کرنے کا حکم دیا ہے۔
181
View Single
۞أَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُخۡسِرِينَ
“Measure in full, and do not be of those who reduce.”
تم پیمانہ پورا بھرا کرو اور (لوگوں کے حقوق کو) نقصان پہنچانے والے نہ بنو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to give Full Measure
Allah commanded them to give full measure, and forbade them to give short measure. He said:
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ
(Give full measure, and cause no loss.) meaning, `when you give to people, give them full measure, and do not cause loss to them by giving them short measure, while taking full measure when you are the ones who are taking. Give as you take, and take as you give.'
وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
(And weigh with the true and straight balance.) The balance is the scales.
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
(And defraud not people by reducing their things,) means, do not shortchange them.
وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاٌّرْضِ مُفْسِدِينَ
(nor do evil, making corruption and mischief in the land.) means, by engaging in banditry. This is like the Ayah,
وَلاَ تَقْعُدُواْ بِكُلِّ صِرَطٍ تُوعِدُونَ
(And sit not on every road, threatening) (7:86).
وَاتَّقُواْ الَّذِى خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(And have Taqwa of Him Who created you and the generations of the men of old. ) Here he is frightening them with the punishment of Allah Who created them and created their forefathers. This is like when Musa, peace be upon him, said:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) (26:26). Ibn `Abbas, Mujahid, As-Suddi, Sufyan bin `Uyaynah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said:
وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(the generations of the men of old.) means, He created the early generations. And Ibn Zayd recited:
وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلاًّ كَثِيراً
(And indeed he (Shaytan) did lead astray a great multitude of you) (36:62).
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ-
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مّنَ السَّمَآء إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ-
قَالَ رَبّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ-
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ-
ڈنڈی مار قوم حضرت شعیب ؑ اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کردو تو پورا پیمانہ بھر کردو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اسکی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کرکے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے یہی لفظ آیت (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ 62) 36۔ يس :62) میں بھی اسی معنی میں ہے۔
182
View Single
وَزِنُواْ بِٱلۡقِسۡطَاسِ ٱلۡمُسۡتَقِيمِ
“And weigh with a proper balance.”
اور سیدھی ترازو سے تولا کرو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to give Full Measure
Allah commanded them to give full measure, and forbade them to give short measure. He said:
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ
(Give full measure, and cause no loss.) meaning, `when you give to people, give them full measure, and do not cause loss to them by giving them short measure, while taking full measure when you are the ones who are taking. Give as you take, and take as you give.'
وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
(And weigh with the true and straight balance.) The balance is the scales.
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
(And defraud not people by reducing their things,) means, do not shortchange them.
وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاٌّرْضِ مُفْسِدِينَ
(nor do evil, making corruption and mischief in the land.) means, by engaging in banditry. This is like the Ayah,
وَلاَ تَقْعُدُواْ بِكُلِّ صِرَطٍ تُوعِدُونَ
(And sit not on every road, threatening) (7:86).
وَاتَّقُواْ الَّذِى خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(And have Taqwa of Him Who created you and the generations of the men of old. ) Here he is frightening them with the punishment of Allah Who created them and created their forefathers. This is like when Musa, peace be upon him, said:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) (26:26). Ibn `Abbas, Mujahid, As-Suddi, Sufyan bin `Uyaynah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said:
وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(the generations of the men of old.) means, He created the early generations. And Ibn Zayd recited:
وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلاًّ كَثِيراً
(And indeed he (Shaytan) did lead astray a great multitude of you) (36:62).
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ-
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مّنَ السَّمَآء إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ-
قَالَ رَبّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ-
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ-
ڈنڈی مار قوم حضرت شعیب ؑ اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کردو تو پورا پیمانہ بھر کردو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اسکی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کرکے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے یہی لفظ آیت (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ 62) 36۔ يس :62) میں بھی اسی معنی میں ہے۔
183
View Single
وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
“And do not give the people their goods diminished, and do not roam the earth causing turmoil.”
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم (تول کے ساتھ) مت دیا کرو اور ملک میں (ایسی اخلاقی، مالی اور سماجی خیانتوں کے ذریعے) فساد انگیزی مت کرتے پھرو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to give Full Measure
Allah commanded them to give full measure, and forbade them to give short measure. He said:
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ
(Give full measure, and cause no loss.) meaning, `when you give to people, give them full measure, and do not cause loss to them by giving them short measure, while taking full measure when you are the ones who are taking. Give as you take, and take as you give.'
وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
(And weigh with the true and straight balance.) The balance is the scales.
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
(And defraud not people by reducing their things,) means, do not shortchange them.
وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاٌّرْضِ مُفْسِدِينَ
(nor do evil, making corruption and mischief in the land.) means, by engaging in banditry. This is like the Ayah,
وَلاَ تَقْعُدُواْ بِكُلِّ صِرَطٍ تُوعِدُونَ
(And sit not on every road, threatening) (7:86).
وَاتَّقُواْ الَّذِى خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(And have Taqwa of Him Who created you and the generations of the men of old. ) Here he is frightening them with the punishment of Allah Who created them and created their forefathers. This is like when Musa, peace be upon him, said:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) (26:26). Ibn `Abbas, Mujahid, As-Suddi, Sufyan bin `Uyaynah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said:
وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(the generations of the men of old.) means, He created the early generations. And Ibn Zayd recited:
وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلاًّ كَثِيراً
(And indeed he (Shaytan) did lead astray a great multitude of you) (36:62).
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ-
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مّنَ السَّمَآء إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ-
قَالَ رَبّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ-
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ-
ڈنڈی مار قوم حضرت شعیب ؑ اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کردو تو پورا پیمانہ بھر کردو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اسکی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کرکے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے یہی لفظ آیت (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ 62) 36۔ يس :62) میں بھی اسی معنی میں ہے۔
184
View Single
وَٱتَّقُواْ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ وَٱلۡجِبِلَّةَ ٱلۡأَوَّلِينَ
“And fear Him Who created you and the earlier creations.”
اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی امتوں کو پیدا فرمایا
Tafsir Ibn Kathir
The Command to give Full Measure
Allah commanded them to give full measure, and forbade them to give short measure. He said:
أَوْفُواْ الْكَيْلَ وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُخْسِرِينَ
(Give full measure, and cause no loss.) meaning, `when you give to people, give them full measure, and do not cause loss to them by giving them short measure, while taking full measure when you are the ones who are taking. Give as you take, and take as you give.'
وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ
(And weigh with the true and straight balance.) The balance is the scales.
وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
(And defraud not people by reducing their things,) means, do not shortchange them.
وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاٌّرْضِ مُفْسِدِينَ
(nor do evil, making corruption and mischief in the land.) means, by engaging in banditry. This is like the Ayah,
وَلاَ تَقْعُدُواْ بِكُلِّ صِرَطٍ تُوعِدُونَ
(And sit not on every road, threatening) (7:86).
وَاتَّقُواْ الَّذِى خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(And have Taqwa of Him Who created you and the generations of the men of old. ) Here he is frightening them with the punishment of Allah Who created them and created their forefathers. This is like when Musa, peace be upon him, said:
رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ الاٌّوَّلِينَ
(Your Lord and the Lord of your ancient fathers!) (26:26). Ibn `Abbas, Mujahid, As-Suddi, Sufyan bin `Uyaynah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said:
وَالْجِبِلَّةَ الاٌّوَّلِينَ
(the generations of the men of old.) means, He created the early generations. And Ibn Zayd recited:
وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلاًّ كَثِيراً
(And indeed he (Shaytan) did lead astray a great multitude of you) (36:62).
قَالُواْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ-
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مّنَ السَّمَآء إِن كُنتَ مِنَ الصَّـدِقِينَ-
قَالَ رَبّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ-
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ-
ڈنڈی مار قوم حضرت شعیب ؑ اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کسی کو کوئی شے ناپ کردو تو پورا پیمانہ بھر کردو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو ؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اسکی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کرکے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے یہی لفظ آیت (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ 62) 36۔ يس :62) میں بھی اسی معنی میں ہے۔
185
View Single
قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلۡمُسَحَّرِينَ
They said, “You are under a magic spell.”
وہ کہنے لگے: (اے شعیب!) تم تو محض جادو زدہ لوگوں میں سے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Shu`ayb's People, Their Disbelief in Him and the coming of the Punishment upon Them
Allah tells us how his people responded, and how it was like the response of Thamud to their Messenger -- for they were of like mind -- when they said:
إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(You are only one of those bewitched!) meaning, `you are one of those who are affected by witchcraft.'
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ
(You are but a human being like us and verily, we think that you are one of the liars!) means, `we think you are deliberately lying to us in what you say, and Allah has not sent you to us.'
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So cause a piece of the heaven to fall on us,) Ad-Dahhak said: "One side of the heavens." Qatadah said: "A piece of the heaven." As-Suddi said: "A punishment from heaven." This is like what the Quraysh said, as Allah tells us:
وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
(And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us) until:
أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(Or you cause the heaven to fall upon us in pieces, as you have pretended, or you bring Allah and the angels before (us) face to face.") (17:90-92)
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky....") (8:32). Similarly, these ignorant disbelievers said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!)
قَالَ رَبِّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
(He said: "My Lord is the Best Knower of what you do.") means, `Allah knows best about you, and if you deserve that, He will punish you therewith, and He will not treat you unjustly.' So this is what happened to them -- as they asked for -- an exact recompense. Allah says:
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they denied him, so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) This is what they asked for, when they asked for a part of the heaven to fall upon them. Allah made their punishment in the form of intense heat which overwhelmed them for seven days, and nothing could protect them from it. Then He sent a cloud to shade them, so they ran towards it to seek its shade from the heat. When all of them had gathered underneath it, Allah sent sparks of fire and flames and intense heat upon them, and caused the earth to convulse beneath them, and He sent against them a mighty Sayhah which destroyed their souls. Allah says:
إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(Indeed that was the torment of a Great Day.) Allah has mentioned how they were destroyed in three places in the Qur'an, in each of which it is described in a manner which fits the context. In Surat Al-A`raf He says that the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes. This was because they said:
لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا
("We shall certainly drive you out, O Shu`ayb, and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion.") (7:88). They had sought to scare the Prophet of Allah and those who followed him, so they were seized by the earthquake. In Surah Hud, Allah says:
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Sayhah seized the wrongdoers) (11:94). This was because they mocked the Allah's Prophet when they said:
أَصَلَوَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءابَاؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِى أَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا إِنَّكَ لاّنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
("Does your Salah command that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!") (11:87). They had said this in a mocking, sarcastic tone, so it was befitting that the Sayhah should come and silence them, as Allah says:
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
(So As-Saihah overtook them) (15:73).
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Saihah seized the wrongdoers) (11:94). And here, they said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us,) in a stubborn and obstinate manner. So, it was fitting that something they never thought would happen should befall them:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) Muhammad bin Jarir narrated from Yazid Al-Bahili: "I asked Ibn `Abbas about this Ayah:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. ) He said: `Allah sent upon them thunder and intense heat, and it terrified them so they entered their houses and it pursued them to the innermost parts of their houses and terrified them further, and they ran fleeing from their houses into the fields. Then Allah sent upon them clouds which shaded them from the sun, and they found it cool and pleasant, so they called out to one another until they had all gathered beneath the cloud, then Allah sent fire upon them.' Ibn `Abbas said, `That was the torment of the Day of Shadow, indeed that was the torment of a Great Day."'
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly, the All-Mighty, the Most Merciful.) (26:8-9) meaning, He is All-Mighty in His punishment of the disbelievers, and Most Merciful towards His believing servants.
مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کردے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آجائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بیگناہوں کو سزادے۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بےقرار ہوگئے سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آرہا ہے وہ آکر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہوگئے تھے اسکے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بیک آن تباہ ویران ہوگئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ سورة اعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہوگئے۔ سورة ہود میں بیان ہوا ہے کہ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی اور یہاں بیان ہوا کہ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کرلیا تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کرکے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئیں تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کردیں گے۔ چونکہ وہاں نبی کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لئے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔ سورة ہود میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔ یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہوگئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنادیا۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آگئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بےکلی شروع ہوگئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرکے سب کو آواز دی کہ یہاں آجاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بےچینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لئے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام ونشان مٹادیا۔ یقینا یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بےایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
186
View Single
وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
“You are just a human like us, and indeed we consider you a liar.”
اور تم فقط ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور ہم تمہیں یقیناً جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Shu`ayb's People, Their Disbelief in Him and the coming of the Punishment upon Them
Allah tells us how his people responded, and how it was like the response of Thamud to their Messenger -- for they were of like mind -- when they said:
إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(You are only one of those bewitched!) meaning, `you are one of those who are affected by witchcraft.'
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ
(You are but a human being like us and verily, we think that you are one of the liars!) means, `we think you are deliberately lying to us in what you say, and Allah has not sent you to us.'
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So cause a piece of the heaven to fall on us,) Ad-Dahhak said: "One side of the heavens." Qatadah said: "A piece of the heaven." As-Suddi said: "A punishment from heaven." This is like what the Quraysh said, as Allah tells us:
وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
(And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us) until:
أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(Or you cause the heaven to fall upon us in pieces, as you have pretended, or you bring Allah and the angels before (us) face to face.") (17:90-92)
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky....") (8:32). Similarly, these ignorant disbelievers said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!)
قَالَ رَبِّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
(He said: "My Lord is the Best Knower of what you do.") means, `Allah knows best about you, and if you deserve that, He will punish you therewith, and He will not treat you unjustly.' So this is what happened to them -- as they asked for -- an exact recompense. Allah says:
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they denied him, so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) This is what they asked for, when they asked for a part of the heaven to fall upon them. Allah made their punishment in the form of intense heat which overwhelmed them for seven days, and nothing could protect them from it. Then He sent a cloud to shade them, so they ran towards it to seek its shade from the heat. When all of them had gathered underneath it, Allah sent sparks of fire and flames and intense heat upon them, and caused the earth to convulse beneath them, and He sent against them a mighty Sayhah which destroyed their souls. Allah says:
إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(Indeed that was the torment of a Great Day.) Allah has mentioned how they were destroyed in three places in the Qur'an, in each of which it is described in a manner which fits the context. In Surat Al-A`raf He says that the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes. This was because they said:
لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا
("We shall certainly drive you out, O Shu`ayb, and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion.") (7:88). They had sought to scare the Prophet of Allah and those who followed him, so they were seized by the earthquake. In Surah Hud, Allah says:
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Sayhah seized the wrongdoers) (11:94). This was because they mocked the Allah's Prophet when they said:
أَصَلَوَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءابَاؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِى أَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا إِنَّكَ لاّنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
("Does your Salah command that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!") (11:87). They had said this in a mocking, sarcastic tone, so it was befitting that the Sayhah should come and silence them, as Allah says:
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
(So As-Saihah overtook them) (15:73).
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Saihah seized the wrongdoers) (11:94). And here, they said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us,) in a stubborn and obstinate manner. So, it was fitting that something they never thought would happen should befall them:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) Muhammad bin Jarir narrated from Yazid Al-Bahili: "I asked Ibn `Abbas about this Ayah:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. ) He said: `Allah sent upon them thunder and intense heat, and it terrified them so they entered their houses and it pursued them to the innermost parts of their houses and terrified them further, and they ran fleeing from their houses into the fields. Then Allah sent upon them clouds which shaded them from the sun, and they found it cool and pleasant, so they called out to one another until they had all gathered beneath the cloud, then Allah sent fire upon them.' Ibn `Abbas said, `That was the torment of the Day of Shadow, indeed that was the torment of a Great Day."'
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly, the All-Mighty, the Most Merciful.) (26:8-9) meaning, He is All-Mighty in His punishment of the disbelievers, and Most Merciful towards His believing servants.
مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کردے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آجائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بیگناہوں کو سزادے۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بےقرار ہوگئے سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آرہا ہے وہ آکر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہوگئے تھے اسکے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بیک آن تباہ ویران ہوگئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ سورة اعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہوگئے۔ سورة ہود میں بیان ہوا ہے کہ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی اور یہاں بیان ہوا کہ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کرلیا تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کرکے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئیں تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کردیں گے۔ چونکہ وہاں نبی کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لئے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔ سورة ہود میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔ یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہوگئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنادیا۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آگئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بےکلی شروع ہوگئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرکے سب کو آواز دی کہ یہاں آجاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بےچینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لئے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام ونشان مٹادیا۔ یقینا یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بےایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
187
View Single
فَأَسۡقِطۡ عَلَيۡنَا كِسَفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
“Therefore cause a part of the sky to fall upon us, if you are of the truthful.”
پس تم ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Shu`ayb's People, Their Disbelief in Him and the coming of the Punishment upon Them
Allah tells us how his people responded, and how it was like the response of Thamud to their Messenger -- for they were of like mind -- when they said:
إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(You are only one of those bewitched!) meaning, `you are one of those who are affected by witchcraft.'
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ
(You are but a human being like us and verily, we think that you are one of the liars!) means, `we think you are deliberately lying to us in what you say, and Allah has not sent you to us.'
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So cause a piece of the heaven to fall on us,) Ad-Dahhak said: "One side of the heavens." Qatadah said: "A piece of the heaven." As-Suddi said: "A punishment from heaven." This is like what the Quraysh said, as Allah tells us:
وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
(And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us) until:
أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(Or you cause the heaven to fall upon us in pieces, as you have pretended, or you bring Allah and the angels before (us) face to face.") (17:90-92)
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky....") (8:32). Similarly, these ignorant disbelievers said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!)
قَالَ رَبِّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
(He said: "My Lord is the Best Knower of what you do.") means, `Allah knows best about you, and if you deserve that, He will punish you therewith, and He will not treat you unjustly.' So this is what happened to them -- as they asked for -- an exact recompense. Allah says:
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they denied him, so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) This is what they asked for, when they asked for a part of the heaven to fall upon them. Allah made their punishment in the form of intense heat which overwhelmed them for seven days, and nothing could protect them from it. Then He sent a cloud to shade them, so they ran towards it to seek its shade from the heat. When all of them had gathered underneath it, Allah sent sparks of fire and flames and intense heat upon them, and caused the earth to convulse beneath them, and He sent against them a mighty Sayhah which destroyed their souls. Allah says:
إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(Indeed that was the torment of a Great Day.) Allah has mentioned how they were destroyed in three places in the Qur'an, in each of which it is described in a manner which fits the context. In Surat Al-A`raf He says that the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes. This was because they said:
لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا
("We shall certainly drive you out, O Shu`ayb, and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion.") (7:88). They had sought to scare the Prophet of Allah and those who followed him, so they were seized by the earthquake. In Surah Hud, Allah says:
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Sayhah seized the wrongdoers) (11:94). This was because they mocked the Allah's Prophet when they said:
أَصَلَوَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءابَاؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِى أَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا إِنَّكَ لاّنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
("Does your Salah command that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!") (11:87). They had said this in a mocking, sarcastic tone, so it was befitting that the Sayhah should come and silence them, as Allah says:
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
(So As-Saihah overtook them) (15:73).
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Saihah seized the wrongdoers) (11:94). And here, they said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us,) in a stubborn and obstinate manner. So, it was fitting that something they never thought would happen should befall them:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) Muhammad bin Jarir narrated from Yazid Al-Bahili: "I asked Ibn `Abbas about this Ayah:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. ) He said: `Allah sent upon them thunder and intense heat, and it terrified them so they entered their houses and it pursued them to the innermost parts of their houses and terrified them further, and they ran fleeing from their houses into the fields. Then Allah sent upon them clouds which shaded them from the sun, and they found it cool and pleasant, so they called out to one another until they had all gathered beneath the cloud, then Allah sent fire upon them.' Ibn `Abbas said, `That was the torment of the Day of Shadow, indeed that was the torment of a Great Day."'
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly, the All-Mighty, the Most Merciful.) (26:8-9) meaning, He is All-Mighty in His punishment of the disbelievers, and Most Merciful towards His believing servants.
مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کردے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آجائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بیگناہوں کو سزادے۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بےقرار ہوگئے سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آرہا ہے وہ آکر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہوگئے تھے اسکے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بیک آن تباہ ویران ہوگئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ سورة اعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہوگئے۔ سورة ہود میں بیان ہوا ہے کہ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی اور یہاں بیان ہوا کہ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کرلیا تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کرکے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئیں تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کردیں گے۔ چونکہ وہاں نبی کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لئے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔ سورة ہود میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔ یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہوگئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنادیا۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آگئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بےکلی شروع ہوگئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرکے سب کو آواز دی کہ یہاں آجاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بےچینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لئے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام ونشان مٹادیا۔ یقینا یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بےایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
188
View Single
قَالَ رَبِّيٓ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ
He said, “My Lord is Well Aware of what you do.”
(شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Shu`ayb's People, Their Disbelief in Him and the coming of the Punishment upon Them
Allah tells us how his people responded, and how it was like the response of Thamud to their Messenger -- for they were of like mind -- when they said:
إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(You are only one of those bewitched!) meaning, `you are one of those who are affected by witchcraft.'
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ
(You are but a human being like us and verily, we think that you are one of the liars!) means, `we think you are deliberately lying to us in what you say, and Allah has not sent you to us.'
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So cause a piece of the heaven to fall on us,) Ad-Dahhak said: "One side of the heavens." Qatadah said: "A piece of the heaven." As-Suddi said: "A punishment from heaven." This is like what the Quraysh said, as Allah tells us:
وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
(And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us) until:
أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(Or you cause the heaven to fall upon us in pieces, as you have pretended, or you bring Allah and the angels before (us) face to face.") (17:90-92)
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky....") (8:32). Similarly, these ignorant disbelievers said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!)
قَالَ رَبِّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
(He said: "My Lord is the Best Knower of what you do.") means, `Allah knows best about you, and if you deserve that, He will punish you therewith, and He will not treat you unjustly.' So this is what happened to them -- as they asked for -- an exact recompense. Allah says:
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they denied him, so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) This is what they asked for, when they asked for a part of the heaven to fall upon them. Allah made their punishment in the form of intense heat which overwhelmed them for seven days, and nothing could protect them from it. Then He sent a cloud to shade them, so they ran towards it to seek its shade from the heat. When all of them had gathered underneath it, Allah sent sparks of fire and flames and intense heat upon them, and caused the earth to convulse beneath them, and He sent against them a mighty Sayhah which destroyed their souls. Allah says:
إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(Indeed that was the torment of a Great Day.) Allah has mentioned how they were destroyed in three places in the Qur'an, in each of which it is described in a manner which fits the context. In Surat Al-A`raf He says that the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes. This was because they said:
لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا
("We shall certainly drive you out, O Shu`ayb, and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion.") (7:88). They had sought to scare the Prophet of Allah and those who followed him, so they were seized by the earthquake. In Surah Hud, Allah says:
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Sayhah seized the wrongdoers) (11:94). This was because they mocked the Allah's Prophet when they said:
أَصَلَوَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءابَاؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِى أَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا إِنَّكَ لاّنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
("Does your Salah command that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!") (11:87). They had said this in a mocking, sarcastic tone, so it was befitting that the Sayhah should come and silence them, as Allah says:
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
(So As-Saihah overtook them) (15:73).
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Saihah seized the wrongdoers) (11:94). And here, they said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us,) in a stubborn and obstinate manner. So, it was fitting that something they never thought would happen should befall them:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) Muhammad bin Jarir narrated from Yazid Al-Bahili: "I asked Ibn `Abbas about this Ayah:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. ) He said: `Allah sent upon them thunder and intense heat, and it terrified them so they entered their houses and it pursued them to the innermost parts of their houses and terrified them further, and they ran fleeing from their houses into the fields. Then Allah sent upon them clouds which shaded them from the sun, and they found it cool and pleasant, so they called out to one another until they had all gathered beneath the cloud, then Allah sent fire upon them.' Ibn `Abbas said, `That was the torment of the Day of Shadow, indeed that was the torment of a Great Day."'
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly, the All-Mighty, the Most Merciful.) (26:8-9) meaning, He is All-Mighty in His punishment of the disbelievers, and Most Merciful towards His believing servants.
مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کردے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آجائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بیگناہوں کو سزادے۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بےقرار ہوگئے سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آرہا ہے وہ آکر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہوگئے تھے اسکے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بیک آن تباہ ویران ہوگئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ سورة اعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہوگئے۔ سورة ہود میں بیان ہوا ہے کہ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی اور یہاں بیان ہوا کہ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کرلیا تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کرکے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئیں تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کردیں گے۔ چونکہ وہاں نبی کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لئے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔ سورة ہود میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔ یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہوگئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنادیا۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آگئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بےکلی شروع ہوگئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرکے سب کو آواز دی کہ یہاں آجاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بےچینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لئے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام ونشان مٹادیا۔ یقینا یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بےایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
189
View Single
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمِ ٱلظُّلَّةِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٍ
In response they denied him – therefore the punishment of the day of the tent* seized them; that was indeed a punishment of a Great Day. (The clouds formed a tent and rained fire upon them).
سو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Shu`ayb's People, Their Disbelief in Him and the coming of the Punishment upon Them
Allah tells us how his people responded, and how it was like the response of Thamud to their Messenger -- for they were of like mind -- when they said:
إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(You are only one of those bewitched!) meaning, `you are one of those who are affected by witchcraft.'
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ
(You are but a human being like us and verily, we think that you are one of the liars!) means, `we think you are deliberately lying to us in what you say, and Allah has not sent you to us.'
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So cause a piece of the heaven to fall on us,) Ad-Dahhak said: "One side of the heavens." Qatadah said: "A piece of the heaven." As-Suddi said: "A punishment from heaven." This is like what the Quraysh said, as Allah tells us:
وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
(And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us) until:
أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(Or you cause the heaven to fall upon us in pieces, as you have pretended, or you bring Allah and the angels before (us) face to face.") (17:90-92)
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky....") (8:32). Similarly, these ignorant disbelievers said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!)
قَالَ رَبِّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
(He said: "My Lord is the Best Knower of what you do.") means, `Allah knows best about you, and if you deserve that, He will punish you therewith, and He will not treat you unjustly.' So this is what happened to them -- as they asked for -- an exact recompense. Allah says:
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they denied him, so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) This is what they asked for, when they asked for a part of the heaven to fall upon them. Allah made their punishment in the form of intense heat which overwhelmed them for seven days, and nothing could protect them from it. Then He sent a cloud to shade them, so they ran towards it to seek its shade from the heat. When all of them had gathered underneath it, Allah sent sparks of fire and flames and intense heat upon them, and caused the earth to convulse beneath them, and He sent against them a mighty Sayhah which destroyed their souls. Allah says:
إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(Indeed that was the torment of a Great Day.) Allah has mentioned how they were destroyed in three places in the Qur'an, in each of which it is described in a manner which fits the context. In Surat Al-A`raf He says that the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes. This was because they said:
لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا
("We shall certainly drive you out, O Shu`ayb, and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion.") (7:88). They had sought to scare the Prophet of Allah and those who followed him, so they were seized by the earthquake. In Surah Hud, Allah says:
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Sayhah seized the wrongdoers) (11:94). This was because they mocked the Allah's Prophet when they said:
أَصَلَوَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءابَاؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِى أَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا إِنَّكَ لاّنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
("Does your Salah command that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!") (11:87). They had said this in a mocking, sarcastic tone, so it was befitting that the Sayhah should come and silence them, as Allah says:
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
(So As-Saihah overtook them) (15:73).
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Saihah seized the wrongdoers) (11:94). And here, they said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us,) in a stubborn and obstinate manner. So, it was fitting that something they never thought would happen should befall them:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) Muhammad bin Jarir narrated from Yazid Al-Bahili: "I asked Ibn `Abbas about this Ayah:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. ) He said: `Allah sent upon them thunder and intense heat, and it terrified them so they entered their houses and it pursued them to the innermost parts of their houses and terrified them further, and they ran fleeing from their houses into the fields. Then Allah sent upon them clouds which shaded them from the sun, and they found it cool and pleasant, so they called out to one another until they had all gathered beneath the cloud, then Allah sent fire upon them.' Ibn `Abbas said, `That was the torment of the Day of Shadow, indeed that was the torment of a Great Day."'
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly, the All-Mighty, the Most Merciful.) (26:8-9) meaning, He is All-Mighty in His punishment of the disbelievers, and Most Merciful towards His believing servants.
مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کردے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آجائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بیگناہوں کو سزادے۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بےقرار ہوگئے سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آرہا ہے وہ آکر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہوگئے تھے اسکے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بیک آن تباہ ویران ہوگئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ سورة اعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہوگئے۔ سورة ہود میں بیان ہوا ہے کہ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی اور یہاں بیان ہوا کہ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کرلیا تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کرکے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئیں تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کردیں گے۔ چونکہ وہاں نبی کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لئے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔ سورة ہود میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔ یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہوگئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنادیا۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آگئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بےکلی شروع ہوگئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرکے سب کو آواز دی کہ یہاں آجاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بےچینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لئے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام ونشان مٹادیا۔ یقینا یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بےایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
190
View Single
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ
Indeed in this is a sign; and most of them were not Muslims.
بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Shu`ayb's People, Their Disbelief in Him and the coming of the Punishment upon Them
Allah tells us how his people responded, and how it was like the response of Thamud to their Messenger -- for they were of like mind -- when they said:
إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(You are only one of those bewitched!) meaning, `you are one of those who are affected by witchcraft.'
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ
(You are but a human being like us and verily, we think that you are one of the liars!) means, `we think you are deliberately lying to us in what you say, and Allah has not sent you to us.'
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So cause a piece of the heaven to fall on us,) Ad-Dahhak said: "One side of the heavens." Qatadah said: "A piece of the heaven." As-Suddi said: "A punishment from heaven." This is like what the Quraysh said, as Allah tells us:
وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
(And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us) until:
أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(Or you cause the heaven to fall upon us in pieces, as you have pretended, or you bring Allah and the angels before (us) face to face.") (17:90-92)
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky....") (8:32). Similarly, these ignorant disbelievers said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!)
قَالَ رَبِّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
(He said: "My Lord is the Best Knower of what you do.") means, `Allah knows best about you, and if you deserve that, He will punish you therewith, and He will not treat you unjustly.' So this is what happened to them -- as they asked for -- an exact recompense. Allah says:
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they denied him, so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) This is what they asked for, when they asked for a part of the heaven to fall upon them. Allah made their punishment in the form of intense heat which overwhelmed them for seven days, and nothing could protect them from it. Then He sent a cloud to shade them, so they ran towards it to seek its shade from the heat. When all of them had gathered underneath it, Allah sent sparks of fire and flames and intense heat upon them, and caused the earth to convulse beneath them, and He sent against them a mighty Sayhah which destroyed their souls. Allah says:
إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(Indeed that was the torment of a Great Day.) Allah has mentioned how they were destroyed in three places in the Qur'an, in each of which it is described in a manner which fits the context. In Surat Al-A`raf He says that the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes. This was because they said:
لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا
("We shall certainly drive you out, O Shu`ayb, and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion.") (7:88). They had sought to scare the Prophet of Allah and those who followed him, so they were seized by the earthquake. In Surah Hud, Allah says:
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Sayhah seized the wrongdoers) (11:94). This was because they mocked the Allah's Prophet when they said:
أَصَلَوَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءابَاؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِى أَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا إِنَّكَ لاّنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
("Does your Salah command that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!") (11:87). They had said this in a mocking, sarcastic tone, so it was befitting that the Sayhah should come and silence them, as Allah says:
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
(So As-Saihah overtook them) (15:73).
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Saihah seized the wrongdoers) (11:94). And here, they said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us,) in a stubborn and obstinate manner. So, it was fitting that something they never thought would happen should befall them:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) Muhammad bin Jarir narrated from Yazid Al-Bahili: "I asked Ibn `Abbas about this Ayah:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. ) He said: `Allah sent upon them thunder and intense heat, and it terrified them so they entered their houses and it pursued them to the innermost parts of their houses and terrified them further, and they ran fleeing from their houses into the fields. Then Allah sent upon them clouds which shaded them from the sun, and they found it cool and pleasant, so they called out to one another until they had all gathered beneath the cloud, then Allah sent fire upon them.' Ibn `Abbas said, `That was the torment of the Day of Shadow, indeed that was the torment of a Great Day."'
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly, the All-Mighty, the Most Merciful.) (26:8-9) meaning, He is All-Mighty in His punishment of the disbelievers, and Most Merciful towards His believing servants.
مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کردے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آجائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بیگناہوں کو سزادے۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بےقرار ہوگئے سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آرہا ہے وہ آکر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہوگئے تھے اسکے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بیک آن تباہ ویران ہوگئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ سورة اعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہوگئے۔ سورة ہود میں بیان ہوا ہے کہ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی اور یہاں بیان ہوا کہ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کرلیا تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کرکے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئیں تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کردیں گے۔ چونکہ وہاں نبی کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لئے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔ سورة ہود میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔ یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہوگئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنادیا۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آگئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بےکلی شروع ہوگئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرکے سب کو آواز دی کہ یہاں آجاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بےچینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لئے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام ونشان مٹادیا۔ یقینا یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بےایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
191
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
And indeed your Lord – only He is the Almighty, the Most Merciful.
اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Response of Shu`ayb's People, Their Disbelief in Him and the coming of the Punishment upon Them
Allah tells us how his people responded, and how it was like the response of Thamud to their Messenger -- for they were of like mind -- when they said:
إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ
(You are only one of those bewitched!) meaning, `you are one of those who are affected by witchcraft.'
وَمَآ أَنتَ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَـذِبِينَ
(You are but a human being like us and verily, we think that you are one of the liars!) means, `we think you are deliberately lying to us in what you say, and Allah has not sent you to us.'
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So cause a piece of the heaven to fall on us,) Ad-Dahhak said: "One side of the heavens." Qatadah said: "A piece of the heaven." As-Suddi said: "A punishment from heaven." This is like what the Quraysh said, as Allah tells us:
وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
(And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us) until:
أَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـئِكَةِ قَبِيلاً
(Or you cause the heaven to fall upon us in pieces, as you have pretended, or you bring Allah and the angels before (us) face to face.") (17:90-92)
وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ
(And (remember) when they said: "O Allah! If this is indeed the truth from You, then rain down stones on us from the sky....") (8:32). Similarly, these ignorant disbelievers said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us, if you are of the truthful!)
قَالَ رَبِّى أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ
(He said: "My Lord is the Best Knower of what you do.") means, `Allah knows best about you, and if you deserve that, He will punish you therewith, and He will not treat you unjustly.' So this is what happened to them -- as they asked for -- an exact recompense. Allah says:
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(But they denied him, so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) This is what they asked for, when they asked for a part of the heaven to fall upon them. Allah made their punishment in the form of intense heat which overwhelmed them for seven days, and nothing could protect them from it. Then He sent a cloud to shade them, so they ran towards it to seek its shade from the heat. When all of them had gathered underneath it, Allah sent sparks of fire and flames and intense heat upon them, and caused the earth to convulse beneath them, and He sent against them a mighty Sayhah which destroyed their souls. Allah says:
إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(Indeed that was the torment of a Great Day.) Allah has mentioned how they were destroyed in three places in the Qur'an, in each of which it is described in a manner which fits the context. In Surat Al-A`raf He says that the earthquake seized them, and they lay (dead), prostrate in their homes. This was because they said:
لَنُخْرِجَنَّكَ يـشُعَيْبُ وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا
("We shall certainly drive you out, O Shu`ayb, and those who have believed with you from our town, or else you (all) shall return to our religion.") (7:88). They had sought to scare the Prophet of Allah and those who followed him, so they were seized by the earthquake. In Surah Hud, Allah says:
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Sayhah seized the wrongdoers) (11:94). This was because they mocked the Allah's Prophet when they said:
أَصَلَوَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ ءابَاؤُنَآ أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِى أَمْوَالِنَا مَا نَشَؤُا إِنَّكَ لاّنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ
("Does your Salah command that we give up what our fathers used to worship, or that we give up doing what we like with our property Verily, you are the forbearer, right-minded!") (11:87). They had said this in a mocking, sarcastic tone, so it was befitting that the Sayhah should come and silence them, as Allah says:
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ
(So As-Saihah overtook them) (15:73).
وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ
(And As-Saihah seized the wrongdoers) (11:94). And here, they said:
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفاً مِّنَ السَّمَآءِ
(So, cause a piece of the heaven to fall on us,) in a stubborn and obstinate manner. So, it was fitting that something they never thought would happen should befall them:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. Indeed that was the torment of a Great Day.) Muhammad bin Jarir narrated from Yazid Al-Bahili: "I asked Ibn `Abbas about this Ayah:
فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ
(so the torment of the Day of Shadow seized them. ) He said: `Allah sent upon them thunder and intense heat, and it terrified them so they entered their houses and it pursued them to the innermost parts of their houses and terrified them further, and they ran fleeing from their houses into the fields. Then Allah sent upon them clouds which shaded them from the sun, and they found it cool and pleasant, so they called out to one another until they had all gathered beneath the cloud, then Allah sent fire upon them.' Ibn `Abbas said, `That was the torment of the Day of Shadow, indeed that was the torment of a Great Day."'
إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ - وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ
(Verily, in this is an Ayah, yet most of them are not believers. And verily, your Lord, He is truly, the All-Mighty, the Most Merciful.) (26:8-9) meaning, He is All-Mighty in His punishment of the disbelievers, and Most Merciful towards His believing servants.
مشرکین کی وہی حماقتیں ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کردیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ جیسے قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔ اور آیت میں ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کردے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آجائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بیگناہوں کو سزادے۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بےقرار ہوگئے سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آرہا ہے وہ آکر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہوگئے تھے اسکے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بیک آن تباہ ویران ہوگئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ سورة اعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہوگئے۔ سورة ہود میں بیان ہوا ہے کہ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی اور یہاں بیان ہوا کہ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کرلیا تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کرکے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔ سورة اعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ انہوں نے حضرت شعیب ؑ کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئیں تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کردیں گے۔ چونکہ وہاں نبی کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لئے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔ سورة ہود میں ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔ یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ حضرت عمر ؓ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہوگئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنادیا۔ محمد بن کعب قرظی ؒ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آگئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بےکلی شروع ہوگئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کرکے سب کو آواز دی کہ یہاں آجاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہوگئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بےچینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہوگئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لئے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام ونشان مٹادیا۔ یقینا یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بےایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کرسکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
192
View Single
وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
And indeed this Qur’an has been sent down by the Lord Of The Creation.
اور بیشک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was revealed by Allah
Here Allah tells us about the Book which He revealed to His servant and Messenger Muhammad ﷺ.
وَأَنَّهُ
(And truly, this) refers to the Qur'an, which at the beginning of the Surah was described as
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ
(and never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious...) (26:5).
لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(is a revelation from the Lord of Al-`Alamin.) means, Allah has sent it down to you and revealed it to you.
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ
(Which the trustworthy Ruh has brought down.) This refers to Jibril, peace be upon him. This was the view of more than one of the Salaf: Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Qatadah, `Atiyyah Al-`Awfi, As-Suddi, Ad-Dahhak, Az-Zuhri and Ibn Jurayj. This is an issue concerning which there is no dispute. Az-Zuhri said, "This is like the Ayah:
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Say: "Whoever is an enemy to Jibril -- for indeed he has brought it down to your heart by Allah's permission, confirming what came before it...") (2:97).
عَلَى قَلْبِكَ
(Upon your heart) `O Muhammad, free from any contamination, with nothing added or taken away.'
لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
(that you may be of the warners,) means, `so that you may warn people with it of the punishment of Allah for those who go against it and disbelieve in it, and so that you may give glad tidings with it to the believers who follow it.'
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ
(In the plain Arabic language.) meaning, `this Qur'an which We have revealed to you, We have revealed in perfect and eloquent Arabic, so that it may be quite clear, leaving no room for excuses and establishing clear proof, showing the straight path.'
وَإِنَّهُ لَفِى زُبُرِ الاٌّوَّلِينَ أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَوَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کرسکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچاسکے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ کہہ اٹھے یا رسول اللہ ﷺ آپ تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہوگی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے فرمان ہے آیت (بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ01905ۭ) 26۔ الشعراء :195) امام سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لئے ان کی زبان میں ترجمہ کردیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی (ابن ابی حاتم)
193
View Single
نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلۡأَمِينُ
The Trustworthy Spirit brought it down. (Angel Jibreel – peace be upon him.)
اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was revealed by Allah
Here Allah tells us about the Book which He revealed to His servant and Messenger Muhammad ﷺ.
وَأَنَّهُ
(And truly, this) refers to the Qur'an, which at the beginning of the Surah was described as
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ
(and never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious...) (26:5).
لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(is a revelation from the Lord of Al-`Alamin.) means, Allah has sent it down to you and revealed it to you.
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ
(Which the trustworthy Ruh has brought down.) This refers to Jibril, peace be upon him. This was the view of more than one of the Salaf: Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Qatadah, `Atiyyah Al-`Awfi, As-Suddi, Ad-Dahhak, Az-Zuhri and Ibn Jurayj. This is an issue concerning which there is no dispute. Az-Zuhri said, "This is like the Ayah:
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Say: "Whoever is an enemy to Jibril -- for indeed he has brought it down to your heart by Allah's permission, confirming what came before it...") (2:97).
عَلَى قَلْبِكَ
(Upon your heart) `O Muhammad, free from any contamination, with nothing added or taken away.'
لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
(that you may be of the warners,) means, `so that you may warn people with it of the punishment of Allah for those who go against it and disbelieve in it, and so that you may give glad tidings with it to the believers who follow it.'
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ
(In the plain Arabic language.) meaning, `this Qur'an which We have revealed to you, We have revealed in perfect and eloquent Arabic, so that it may be quite clear, leaving no room for excuses and establishing clear proof, showing the straight path.'
وَإِنَّهُ لَفِى زُبُرِ الاٌّوَّلِينَ أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَوَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کرسکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچاسکے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ کہہ اٹھے یا رسول اللہ ﷺ آپ تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہوگی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے فرمان ہے آیت (بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ01905ۭ) 26۔ الشعراء :195) امام سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لئے ان کی زبان میں ترجمہ کردیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی (ابن ابی حاتم)
194
View Single
عَلَىٰ قَلۡبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ
Upon your heart, for you to convey warning.
آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was revealed by Allah
Here Allah tells us about the Book which He revealed to His servant and Messenger Muhammad ﷺ.
وَأَنَّهُ
(And truly, this) refers to the Qur'an, which at the beginning of the Surah was described as
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ
(and never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious...) (26:5).
لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(is a revelation from the Lord of Al-`Alamin.) means, Allah has sent it down to you and revealed it to you.
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ
(Which the trustworthy Ruh has brought down.) This refers to Jibril, peace be upon him. This was the view of more than one of the Salaf: Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Qatadah, `Atiyyah Al-`Awfi, As-Suddi, Ad-Dahhak, Az-Zuhri and Ibn Jurayj. This is an issue concerning which there is no dispute. Az-Zuhri said, "This is like the Ayah:
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Say: "Whoever is an enemy to Jibril -- for indeed he has brought it down to your heart by Allah's permission, confirming what came before it...") (2:97).
عَلَى قَلْبِكَ
(Upon your heart) `O Muhammad, free from any contamination, with nothing added or taken away.'
لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
(that you may be of the warners,) means, `so that you may warn people with it of the punishment of Allah for those who go against it and disbelieve in it, and so that you may give glad tidings with it to the believers who follow it.'
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ
(In the plain Arabic language.) meaning, `this Qur'an which We have revealed to you, We have revealed in perfect and eloquent Arabic, so that it may be quite clear, leaving no room for excuses and establishing clear proof, showing the straight path.'
وَإِنَّهُ لَفِى زُبُرِ الاٌّوَّلِينَ أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَوَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کرسکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچاسکے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ کہہ اٹھے یا رسول اللہ ﷺ آپ تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہوگی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے فرمان ہے آیت (بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ01905ۭ) 26۔ الشعراء :195) امام سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لئے ان کی زبان میں ترجمہ کردیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی (ابن ابی حاتم)
195
View Single
بِلِسَانٍ عَرَبِيّٖ مُّبِينٖ
In plain Arabic language.
(اس کا نزول) فصیح عربی زبان میں (ہوا) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was revealed by Allah
Here Allah tells us about the Book which He revealed to His servant and Messenger Muhammad ﷺ.
وَأَنَّهُ
(And truly, this) refers to the Qur'an, which at the beginning of the Surah was described as
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمَـنِ مُحْدَثٍ
(and never comes there unto them a Reminder as a recent revelation from the Most Gracious...) (26:5).
لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(is a revelation from the Lord of Al-`Alamin.) means, Allah has sent it down to you and revealed it to you.
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ
(Which the trustworthy Ruh has brought down.) This refers to Jibril, peace be upon him. This was the view of more than one of the Salaf: Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Qatadah, `Atiyyah Al-`Awfi, As-Suddi, Ad-Dahhak, Az-Zuhri and Ibn Jurayj. This is an issue concerning which there is no dispute. Az-Zuhri said, "This is like the Ayah:
قُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ
(Say: "Whoever is an enemy to Jibril -- for indeed he has brought it down to your heart by Allah's permission, confirming what came before it...") (2:97).
عَلَى قَلْبِكَ
(Upon your heart) `O Muhammad, free from any contamination, with nothing added or taken away.'
لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ
(that you may be of the warners,) means, `so that you may warn people with it of the punishment of Allah for those who go against it and disbelieve in it, and so that you may give glad tidings with it to the believers who follow it.'
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ
(In the plain Arabic language.) meaning, `this Qur'an which We have revealed to you, We have revealed in perfect and eloquent Arabic, so that it may be quite clear, leaving no room for excuses and establishing clear proof, showing the straight path.'
وَإِنَّهُ لَفِى زُبُرِ الاٌّوَّلِينَ أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَوَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
مبارک کتاب سورت کی ابتدا میں قرآن کریم کا ذکر آیا تھا وہی ذکر پھر تفصیلاً بیان ہو رہا ہے کہ یہ مبارک کتاب قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ روح الامین سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں جن کے واسطے سے یہ وحی سرور رسل ؑ پر اتری ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ 97) 2۔ البقرة :97) یعنی اس قرآن کو بحکم الٰہی حضرت جبرائیل ؑ نے تیرے دل پر نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن اگلی تمام الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ یہ فرشتہ ہمارے ہاں ایسا مکرم ہے کہ اس کا دشمن ہمارا دشمن ہے حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں جس سے روح الامین بولے اسے زمین نہیں کھاتی۔ اس بزرگ بامرتبہ فرشتے نے جو فرشتوں کا سردار ہے تیرے دل پر اس پاک اور بہتر کلام اللہ کو نازل فرمایا ہے جو ہر طرح کے میل کچیل سے کمی زیادتی سے نقصان اور کجی سے پاک ہے۔ تاکہ تو اللہ کے مخالفین کو گہنگاروں کو اللہ کی سزا سے بچاؤ کرنے کی رہبری کرسکے۔ اور تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی مغفرت ورضوان کی خوشخبری پہنچاسکے۔ یہ کھلی فصیح عربی زبان میں ہے۔ تاکہ ہر شخص سمجھ سکے پڑھ سکے۔ کسی کا عذر باقی نہ رہے اور ہر ایک پر قرآن کریم اللہ کی حجت بن جائے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کے سامنے نہایت فصاحت سے ابر کے اوصاف بیان کئے جسے سن کر صحابہ کہہ اٹھے یا رسول اللہ ﷺ آپ تو کمال درجے کے فصیح وبلیغ زبان بولتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بھلا میری زبان ایسی پاکیزہ کیوں نہ ہوگی، قرآن بھی تو میری زبان میں اترا ہے فرمان ہے آیت (بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ01905ۭ) 26۔ الشعراء :195) امام سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں وحی عربی میں اتری ہے یہ اور بات ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے لئے ان کی زبان میں ترجمہ کردیا۔ قیامت کے دن سریانی زبان ہوگی ہاں جنتیوں کی زبان عربی ہوگی (ابن ابی حاتم)
196
View Single
وَإِنَّهُۥ لَفِي زُبُرِ ٱلۡأَوَّلِينَ
And indeed it is mentioned in the earlier Books.
اور بیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was mentioned in the Previous Scriptures
Allah says: this Qur'an was mentioned and referred to in the previous Scriptures that were left behind by their Prophets who foretold it in ancient times and more recently. Allah took a covenant from them that they would follow it, and the last of them stood and addressed his people with the good news of Ahmad:
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يبَنِى إِسْرَءِيلَ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِى مِن بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ
(And (remember) when `Isa, son of Maryam, said: "O Children of Israel! I am the Messenger of Allah unto you, confirming the Tawrah before me, and giving glad tidings of a Messenger to come after me, whose name shall be Ahmad.) (61:6) Zubur here refers to Books; Zubur is the plural of Az-Zabur, which is also the name used to refer to the Book given to Dawud. Allah says:
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in the Az-Zubur.) (54:52), meaning, it is recorded against them in the books of the angels. Then Allah says:
أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it) meaning, is it not sufficient witness to the truth for them that the scholars of the Children of Israel found this Qur'an mentioned in the Scriptures which they study The meaning is: the fair-minded among them admitted that the attributes of Muhammad ﷺ and his mission and his Ummah were mentioned in their Books, as was stated by those among them who believed, such as `Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others who met the Prophet . Allah said:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ
(Those who follow the Messenger, the Prophet who can neither read nor write ...) (7:157)
The Intense Disbelief of Quraysh
Then Allah tells us how intense the disbelief of Quraysh was, and how stubbornly they resisted the Qur'an. If this Book with all its eloquence had been revealed to a non-Arab who did not know one word of Arabic, they still would not have believed in him. Allah says:
وَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ-
(And if We had revealed it unto any of the non-Arabs, And he had recited it unto them, they would not have believed in it.) And Allah says:
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to keep on ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been dazzled...") (15:14-15)
وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى
(And even if We had sent down unto them angels, and the dead had spoken unto them...) (6:111)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe.) (10:96)
كَذَلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ - لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ - فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - فَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ - أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ - أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ - وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
بشارت و تصدیق یافتہ کتاب فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52) 54۔ القمر :52) جو کچھ یہ کررہے ہیں سب کتابوں میں تحریر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ سمجھیں اور ضد اور تعصب نہ کریں تو قرآن کی حقانیت پر یہی دلیل کیا کم ہے کہ خود بنی اسرائیل کے علماء اسے مانتے ہیں۔ ان میں سے جو حق گو اور بےتعصب ہیں وہ توراۃ کی ان آیتوں کا لوگوں پر کھلے عام ذکر کر رہے ہیں جن میں حضور ﷺ کی بعثت قرآن کا ذکر اور آپ کی حقانیت کی خبر ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان جیسے حق گو حضرات نے دنیا کے سامنے توراۃ و انجیل کی وہ آیتیں رکھ دیں جو حضور ﷺ کی شان والا شان کو ظاہر کرنے والی تھیں۔ اس کے بعد کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس فصیح وبلیغ جامع بالغ حق کلام کو ہم کسی عجمی پر نازل فرماتے پھر بھی کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ مگر مشرکین قریش اپنے کفر اور اپنی سرکشی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس وقت بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر آسمان کا دروازہ بھی ان کے لئے کھول دیا جاتا اور یہ خود چڑھ کر جاتے تب بھی یہی کہتے ہمیں نشہ پلادیا گیا ہے۔ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے اگر ان کے پاس فرشتے آجاتے اور مردے بول اٹھتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوچکا، عذاب ان کا مقدر ہوچکا اور ہدایت کی راہ مسدود کردی گئی۔
197
View Single
أَوَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَـٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
And was this not a sign for them, that the scholars of the Descendants of Israel may recognise this Prophet?
اور کیا ان کے لئے (صداقتِ قرآن اور صداقتِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) یہ دلیل (کافی) نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء (بھی) جانتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was mentioned in the Previous Scriptures
Allah says: this Qur'an was mentioned and referred to in the previous Scriptures that were left behind by their Prophets who foretold it in ancient times and more recently. Allah took a covenant from them that they would follow it, and the last of them stood and addressed his people with the good news of Ahmad:
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يبَنِى إِسْرَءِيلَ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِى مِن بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ
(And (remember) when `Isa, son of Maryam, said: "O Children of Israel! I am the Messenger of Allah unto you, confirming the Tawrah before me, and giving glad tidings of a Messenger to come after me, whose name shall be Ahmad.) (61:6) Zubur here refers to Books; Zubur is the plural of Az-Zabur, which is also the name used to refer to the Book given to Dawud. Allah says:
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in the Az-Zubur.) (54:52), meaning, it is recorded against them in the books of the angels. Then Allah says:
أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it) meaning, is it not sufficient witness to the truth for them that the scholars of the Children of Israel found this Qur'an mentioned in the Scriptures which they study The meaning is: the fair-minded among them admitted that the attributes of Muhammad ﷺ and his mission and his Ummah were mentioned in their Books, as was stated by those among them who believed, such as `Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others who met the Prophet . Allah said:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ
(Those who follow the Messenger, the Prophet who can neither read nor write ...) (7:157)
The Intense Disbelief of Quraysh
Then Allah tells us how intense the disbelief of Quraysh was, and how stubbornly they resisted the Qur'an. If this Book with all its eloquence had been revealed to a non-Arab who did not know one word of Arabic, they still would not have believed in him. Allah says:
وَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ-
(And if We had revealed it unto any of the non-Arabs, And he had recited it unto them, they would not have believed in it.) And Allah says:
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to keep on ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been dazzled...") (15:14-15)
وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى
(And even if We had sent down unto them angels, and the dead had spoken unto them...) (6:111)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe.) (10:96)
كَذَلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ - لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ - فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - فَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ - أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ - أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ - وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
بشارت و تصدیق یافتہ کتاب فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52) 54۔ القمر :52) جو کچھ یہ کررہے ہیں سب کتابوں میں تحریر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ سمجھیں اور ضد اور تعصب نہ کریں تو قرآن کی حقانیت پر یہی دلیل کیا کم ہے کہ خود بنی اسرائیل کے علماء اسے مانتے ہیں۔ ان میں سے جو حق گو اور بےتعصب ہیں وہ توراۃ کی ان آیتوں کا لوگوں پر کھلے عام ذکر کر رہے ہیں جن میں حضور ﷺ کی بعثت قرآن کا ذکر اور آپ کی حقانیت کی خبر ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان جیسے حق گو حضرات نے دنیا کے سامنے توراۃ و انجیل کی وہ آیتیں رکھ دیں جو حضور ﷺ کی شان والا شان کو ظاہر کرنے والی تھیں۔ اس کے بعد کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس فصیح وبلیغ جامع بالغ حق کلام کو ہم کسی عجمی پر نازل فرماتے پھر بھی کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ مگر مشرکین قریش اپنے کفر اور اپنی سرکشی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس وقت بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر آسمان کا دروازہ بھی ان کے لئے کھول دیا جاتا اور یہ خود چڑھ کر جاتے تب بھی یہی کہتے ہمیں نشہ پلادیا گیا ہے۔ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے اگر ان کے پاس فرشتے آجاتے اور مردے بول اٹھتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوچکا، عذاب ان کا مقدر ہوچکا اور ہدایت کی راہ مسدود کردی گئی۔
198
View Single
وَلَوۡ نَزَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ بَعۡضِ ٱلۡأَعۡجَمِينَ
And had We sent it down upon a person other than an Arab,
اور اگر ہم اسے غیر عربی لوگوں (یعنی عجمیوں) میں سے کسی پر نازل کرتے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was mentioned in the Previous Scriptures
Allah says: this Qur'an was mentioned and referred to in the previous Scriptures that were left behind by their Prophets who foretold it in ancient times and more recently. Allah took a covenant from them that they would follow it, and the last of them stood and addressed his people with the good news of Ahmad:
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يبَنِى إِسْرَءِيلَ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِى مِن بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ
(And (remember) when `Isa, son of Maryam, said: "O Children of Israel! I am the Messenger of Allah unto you, confirming the Tawrah before me, and giving glad tidings of a Messenger to come after me, whose name shall be Ahmad.) (61:6) Zubur here refers to Books; Zubur is the plural of Az-Zabur, which is also the name used to refer to the Book given to Dawud. Allah says:
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in the Az-Zubur.) (54:52), meaning, it is recorded against them in the books of the angels. Then Allah says:
أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it) meaning, is it not sufficient witness to the truth for them that the scholars of the Children of Israel found this Qur'an mentioned in the Scriptures which they study The meaning is: the fair-minded among them admitted that the attributes of Muhammad ﷺ and his mission and his Ummah were mentioned in their Books, as was stated by those among them who believed, such as `Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others who met the Prophet . Allah said:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ
(Those who follow the Messenger, the Prophet who can neither read nor write ...) (7:157)
The Intense Disbelief of Quraysh
Then Allah tells us how intense the disbelief of Quraysh was, and how stubbornly they resisted the Qur'an. If this Book with all its eloquence had been revealed to a non-Arab who did not know one word of Arabic, they still would not have believed in him. Allah says:
وَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ-
(And if We had revealed it unto any of the non-Arabs, And he had recited it unto them, they would not have believed in it.) And Allah says:
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to keep on ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been dazzled...") (15:14-15)
وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى
(And even if We had sent down unto them angels, and the dead had spoken unto them...) (6:111)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe.) (10:96)
كَذَلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ - لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ - فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - فَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ - أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ - أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ - وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
بشارت و تصدیق یافتہ کتاب فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52) 54۔ القمر :52) جو کچھ یہ کررہے ہیں سب کتابوں میں تحریر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ سمجھیں اور ضد اور تعصب نہ کریں تو قرآن کی حقانیت پر یہی دلیل کیا کم ہے کہ خود بنی اسرائیل کے علماء اسے مانتے ہیں۔ ان میں سے جو حق گو اور بےتعصب ہیں وہ توراۃ کی ان آیتوں کا لوگوں پر کھلے عام ذکر کر رہے ہیں جن میں حضور ﷺ کی بعثت قرآن کا ذکر اور آپ کی حقانیت کی خبر ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان جیسے حق گو حضرات نے دنیا کے سامنے توراۃ و انجیل کی وہ آیتیں رکھ دیں جو حضور ﷺ کی شان والا شان کو ظاہر کرنے والی تھیں۔ اس کے بعد کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس فصیح وبلیغ جامع بالغ حق کلام کو ہم کسی عجمی پر نازل فرماتے پھر بھی کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ مگر مشرکین قریش اپنے کفر اور اپنی سرکشی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس وقت بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر آسمان کا دروازہ بھی ان کے لئے کھول دیا جاتا اور یہ خود چڑھ کر جاتے تب بھی یہی کہتے ہمیں نشہ پلادیا گیا ہے۔ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے اگر ان کے پاس فرشتے آجاتے اور مردے بول اٹھتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوچکا، عذاب ان کا مقدر ہوچکا اور ہدایت کی راہ مسدود کردی گئی۔
199
View Single
فَقَرَأَهُۥ عَلَيۡهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ مُؤۡمِنِينَ
In order that he read it to them, even then they would not have believed in it.
سو وہ اس کو ان لوگوں پر پڑھتا تو (بھی) یہ لوگ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was mentioned in the Previous Scriptures
Allah says: this Qur'an was mentioned and referred to in the previous Scriptures that were left behind by their Prophets who foretold it in ancient times and more recently. Allah took a covenant from them that they would follow it, and the last of them stood and addressed his people with the good news of Ahmad:
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يبَنِى إِسْرَءِيلَ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِى مِن بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ
(And (remember) when `Isa, son of Maryam, said: "O Children of Israel! I am the Messenger of Allah unto you, confirming the Tawrah before me, and giving glad tidings of a Messenger to come after me, whose name shall be Ahmad.) (61:6) Zubur here refers to Books; Zubur is the plural of Az-Zabur, which is also the name used to refer to the Book given to Dawud. Allah says:
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in the Az-Zubur.) (54:52), meaning, it is recorded against them in the books of the angels. Then Allah says:
أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ
(Is it not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it) meaning, is it not sufficient witness to the truth for them that the scholars of the Children of Israel found this Qur'an mentioned in the Scriptures which they study The meaning is: the fair-minded among them admitted that the attributes of Muhammad ﷺ and his mission and his Ummah were mentioned in their Books, as was stated by those among them who believed, such as `Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others who met the Prophet . Allah said:
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ
(Those who follow the Messenger, the Prophet who can neither read nor write ...) (7:157)
The Intense Disbelief of Quraysh
Then Allah tells us how intense the disbelief of Quraysh was, and how stubbornly they resisted the Qur'an. If this Book with all its eloquence had been revealed to a non-Arab who did not know one word of Arabic, they still would not have believed in him. Allah says:
وَلَوْ نَزَّلْنَـهُ عَلَى بَعْضِ الاٌّعْجَمِينَ
فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ-
(And if We had revealed it unto any of the non-Arabs, And he had recited it unto them, they would not have believed in it.) And Allah says:
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَاباً مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّواْ فِيهِ يَعْرُجُونَ لَقَالُواْ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـرُنَا
(And even if We opened to them a gate from the heaven and they were to keep on ascending thereto. They would surely say: "Our eyes have been dazzled...") (15:14-15)
وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى
(And even if We had sent down unto them angels, and the dead had spoken unto them...) (6:111)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ
(Truly, those, against whom the Word of your Lord has been justified, will not believe.) (10:96)
كَذَلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ - لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ - فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - فَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ - أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ - أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ - وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
بشارت و تصدیق یافتہ کتاب فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52) 54۔ القمر :52) جو کچھ یہ کررہے ہیں سب کتابوں میں تحریر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ سمجھیں اور ضد اور تعصب نہ کریں تو قرآن کی حقانیت پر یہی دلیل کیا کم ہے کہ خود بنی اسرائیل کے علماء اسے مانتے ہیں۔ ان میں سے جو حق گو اور بےتعصب ہیں وہ توراۃ کی ان آیتوں کا لوگوں پر کھلے عام ذکر کر رہے ہیں جن میں حضور ﷺ کی بعثت قرآن کا ذکر اور آپ کی حقانیت کی خبر ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ، حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان جیسے حق گو حضرات نے دنیا کے سامنے توراۃ و انجیل کی وہ آیتیں رکھ دیں جو حضور ﷺ کی شان والا شان کو ظاہر کرنے والی تھیں۔ اس کے بعد کی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس فصیح وبلیغ جامع بالغ حق کلام کو ہم کسی عجمی پر نازل فرماتے پھر بھی کوئی شک ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ ہمارا کلام ہے۔ مگر مشرکین قریش اپنے کفر اور اپنی سرکشی میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس وقت بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ جیسے فرمان ہے کہ اگر آسمان کا دروازہ بھی ان کے لئے کھول دیا جاتا اور یہ خود چڑھ کر جاتے تب بھی یہی کہتے ہمیں نشہ پلادیا گیا ہے۔ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اور آیت میں ہے اگر ان کے پاس فرشتے آجاتے اور مردے بول اٹھتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوچکا، عذاب ان کا مقدر ہوچکا اور ہدایت کی راہ مسدود کردی گئی۔
200
View Single
كَذَٰلِكَ سَلَكۡنَٰهُ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
This is how We have made (the habit of) denying embedded in the hearts of the guilty.
اس طرح ہم نے اس (کے انکار) کو مجرموں کے دلوں میں پختگی سے داخل کر دیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
201
View Single
لَا يُؤۡمِنُونَ بِهِۦ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ
They will not believe in it to the extent that they see the painful punishment.
وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
202
View Single
فَيَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
So it will come upon them suddenly, whilst they will be unaware.
پس وہ (عذاب) انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں شعور (بھی) نہ ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
203
View Single
فَيَقُولُواْ هَلۡ نَحۡنُ مُنظَرُونَ
They will therefore say, “Will we get some respite?”
تب وہ کہیں گے: کیا ہمیں مہلت دی جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
204
View Single
أَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُونَ
So do they wish to hasten Our punishment?
کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے طلب گار ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
205
View Single
أَفَرَءَيۡتَ إِن مَّتَّعۡنَٰهُمۡ سِنِينَ
Therefore observe, that if We give them some comforts for some years, –
بھلا بتائیے اگر ہم انہیں برسوں فائدہ پہنچاتے رہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
206
View Single
ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ
And then the promise that is given to them, does come upon them-
پھر ان کے پاس وہ (عذاب) آپہنچے جس کا ان سے وعدہ کیا جار ہا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
207
View Single
مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
So of what benefit will be the comforts that they were using?
(تو) وہ چیزیں (ان سے عذاب کو دفع کرنے میں) کیا کام آئیں گی جن سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
208
View Single
وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ
And never did We destroy a township which did not have Heralds of warning, –
اور ہم نے سوائے ان (بستیوں) کے جن کے لئے ڈرانے والے (آچکے) تھے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
209
View Single
ذِكۡرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
To advise; and We never oppress.
(اور یہ بھی) نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Deniers will never believe until They see the Torment
Allah says: `thus We caused denial, disbelief, rejection and stubbornness to enter the hearts of the sinners.'
لاَ يُؤْمِنُونَ بِهِ
(They will not believe in it), i.e., the truth,
حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(until they see the painful torment.) means, when their excuses will be of no avail, and the curse will be upon them, and theirs will be an evil abode.
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً
(It shall come to them of a sudden,) means, the punishment of Allah will come upon them suddenly,
وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَفَيَقُولُواْ هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ
(while they perceive it not. Then they will say: "Can we be respited") means, when they see the punishment, then they will wish they had a little more time so that they can obey Allah -- or so they claim. This is like the Ayah:
وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ
(And warn mankind of the Day when the torment will come unto them) until:
مَا لَكُمْ مِّن زَوَالٍ
(that you would not leave) (14: 44). When every sinner and evildoer sees his punishment, he will feel intense regret. Such was the case of Fir`awn, when Musa prayed against him:
رَبَّنَآ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا
(Our Lord! "You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world) until:
قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا
((Allah) said: "Verily, the invocation of you both is accepted.") (10:88-89). This supplication had an effect on Fir`awn: he did not believe until he saw the painful torment:
حَتَّى إِذَآ أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُ لا إِلِـهَ إِلاَّ الَّذِى ءَامَنَتْ بِهِ بَنواْ إِسْرَءِيلَ
(till when drowning overtook him, he said: "I believe that none has the right to be worshipped but He in Whom the Children of Israel believe.") until:
وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
(and you were one of the mischief-makers) (10:90-91). And Allah says:
فَلَمَّا رَأَوْاْ بَأْسَنَا قَالُواْ ءَامَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ
(so when they saw Our punishment, they said: "We believe in Allah Alone...") (40:84-85).
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
(Would they then wish for Our torment to be hastened on) This is a denunciation and a threat, because they used to say to the Messenger, by way of denial, thinking it unlikely ever to happen:
ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ
(Bring Allah's torment upon us) (29:29). This is as Allah said:
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ
(And they ask you to hasten on the torment...) (29:53-55). Then Allah says:
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَـهُمْ سِنِينَ - ثُمَّ جَآءَهُم مَّا كَانُواْ يُوعَدُونَ - مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(Think, if We do let them enjoy for years, and afterwards comes to them that which they had been promised, all that with which they used to enjoy shall not avail them.) meaning, `even if We delay the matter and give them respite for a short while or for a long time, then the punishment of Allah comes upon them, what good will their life of luxury do them then'
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُواْ إِلاَّ عَشِيَّةً أَوْ ضُحَـهَا
(The Day they see it, (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an afternoon or a morning) (79:46). And Allah says:
يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ
(Everyone of them wishes that he could be given a life of a thousand years. But the grant of such life will not save him even a little from punishment) (2:96).
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى
(And what will his wealth avail him when he goes down) (92:11) Allah says here:
مَآ أَغْنَى عَنْهُمْ مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ
(All that with which they used to enjoy shall not avail them.) According to an authentic Hadith:
«يُؤْتَى بِالْكَافِرِ فَيُغْمَسُ فِي النَّارِ غَمْسَةً ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَأَيْتَ نَعِيمًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَبِّ، وَيُؤتَى بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا كَانَ فِي الدُّنْيَا، فَيُصْبَغُ فِي الْجَنَّةِ صَبْغَةً، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ::َهلْ رَأَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا وَاللهِ يَا رَب»
(The disbelievers will be brought and once dipped into the Fire, then it will be said to him: "Did you ever see anything good Did you ever see anything good" He will say, "No, O Lord!" Then the most miserable person who ever lived on earth will be brought, and he will be put in Paradise for a brief spell, then it will be said to him, "Did you ever see anything bad" He will say, "No, O Lord.") meaning: as if nothing ever happened. Then Allah tells us of His justice towards His creation, in that He does not destroy any nation until after He has left them with no excuse, by warning them, sending Messengers to them and establishing proof against them. He says:
وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلاَّ لَهَا مُنذِرُونَ
ذِكْرَى وَمَا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(And never did We destroy a township but it had its warners by way of reminder, and We have never been unjust.) This is like the Ayat:
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً
(And We never punish until We have sent a Messenger) (17:15).
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِى أُمِّهَا رَسُولاً يَتْلُو عَلَيْهِمْ ءَايَـتِنَا
(And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat.) until;
وَأَهْلُهَا ظَـلِمُونَ
(the people thereof are wrongdoers) (28:59).
کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ یہ ایمان بےسود ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں ہے کہ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہوگا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے آیت (يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ۚ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 96) 2۔ البقرة :96) ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہ دلاکر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلاکر لایا جائے گا اور سوال ہوگا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے ؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی۔ حضرت عمربن خطاب ؓ عموما یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔ اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا۔ رسولوں کو بھیجتا کتابیں اتارتا ہے خبریں دیتا ہے ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیائے کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کرکے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے جیسے فرمایا تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتاجب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔
210
View Single
وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ
And this Qur’an was not brought down by the devils.
اور شیطان اس (قرآن) کو لے کرنہیں اترے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was brought down by Jibril, not Shaytan
Allah tells us about His Book, which falsehood cannot approach from before or behind it, sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. He states that it has been brought down by the trustworthy Ruh (i.e., Jibril) who is helped by Allah,
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَـطِينُ
(And it is not the Shayatin who have brought it down.) Then He tells us that it could not be the case for three reasons that the Shayatin brought it down. One is that it would not suit them, i.e., they have no desire to do so and they do not want to, because their nature is to corrupt and misguide people, but this contains words enjoining what is right and forbidding what is evil, and light, guidance and mighty proofs. There is a big difference between this and the Shayatin, Allah says:
وَمَا يَنبَغِى لَهُمْ
(Neither would it suit them)
وَمَا يَسْتَطِيعُونَ
(nor are they able.) meaning, even if they wanted to, they could not do it. Allah says:
لَوْ أَنزَلْنَا هَـذَا الْقُرْءَانَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَـشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ
(Had We sent down this Qur'an on a mountain, you would surely have seen it humbling itself and rent asunder by the fear of Allah) (59:21). Then Allah explains that even if they wanted to and were able to bear it and convey it, they still would not be able to achieve that, because they were prevented from hearing the Qur'an when it was brought down, for the heavens were filled with guardians and shooting stars at the time when the Qur'an was being revealed to the Messenger of Allah ﷺ, so none of the Shayatin could hear even one letter of it, lest there be any confusion in the matter. This is a part of Allah's mercy towards His servants, protection of His Laws, and support for His Book and His Messenger . Allah says:
إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ
(Verily, they have been removed far from hearing it.) This is like what Allah tells us about the Jinn:
وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنَـهَا مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً وَشُهُباً - وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَـعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الاٌّنَ يَجِدْ لَهُ شِهَاباً رَّصَداً
(And we have sought to reach the heaven; but found it filled with stern guards and flaming fires. And verily, we used to sit there in stations, to (steal) a hearing, but any who listens now will find a flaming fire watching him in ambush.) until;
أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(or whether their Lord intends for them a right path) 72:8-10.
یہ کتاب عزیز یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کردے۔ پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لئے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی ﷺ کو پہنچے اور آپ کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے۔ جیسے سورة جن میں خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھر پور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کر اکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلاکر بھسم کردیتا ہے۔
211
View Single
وَمَا يَنۢبَغِي لَهُمۡ وَمَا يَسۡتَطِيعُونَ
They are unworthy of it, nor can they do it.
نہ (یہ) ان کے لئے سزاوار ہے اور نہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was brought down by Jibril, not Shaytan
Allah tells us about His Book, which falsehood cannot approach from before or behind it, sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. He states that it has been brought down by the trustworthy Ruh (i.e., Jibril) who is helped by Allah,
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَـطِينُ
(And it is not the Shayatin who have brought it down.) Then He tells us that it could not be the case for three reasons that the Shayatin brought it down. One is that it would not suit them, i.e., they have no desire to do so and they do not want to, because their nature is to corrupt and misguide people, but this contains words enjoining what is right and forbidding what is evil, and light, guidance and mighty proofs. There is a big difference between this and the Shayatin, Allah says:
وَمَا يَنبَغِى لَهُمْ
(Neither would it suit them)
وَمَا يَسْتَطِيعُونَ
(nor are they able.) meaning, even if they wanted to, they could not do it. Allah says:
لَوْ أَنزَلْنَا هَـذَا الْقُرْءَانَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَـشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ
(Had We sent down this Qur'an on a mountain, you would surely have seen it humbling itself and rent asunder by the fear of Allah) (59:21). Then Allah explains that even if they wanted to and were able to bear it and convey it, they still would not be able to achieve that, because they were prevented from hearing the Qur'an when it was brought down, for the heavens were filled with guardians and shooting stars at the time when the Qur'an was being revealed to the Messenger of Allah ﷺ, so none of the Shayatin could hear even one letter of it, lest there be any confusion in the matter. This is a part of Allah's mercy towards His servants, protection of His Laws, and support for His Book and His Messenger . Allah says:
إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ
(Verily, they have been removed far from hearing it.) This is like what Allah tells us about the Jinn:
وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنَـهَا مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً وَشُهُباً - وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَـعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الاٌّنَ يَجِدْ لَهُ شِهَاباً رَّصَداً
(And we have sought to reach the heaven; but found it filled with stern guards and flaming fires. And verily, we used to sit there in stations, to (steal) a hearing, but any who listens now will find a flaming fire watching him in ambush.) until;
أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(or whether their Lord intends for them a right path) 72:8-10.
یہ کتاب عزیز یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کردے۔ پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لئے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی ﷺ کو پہنچے اور آپ کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے۔ جیسے سورة جن میں خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھر پور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کر اکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلاکر بھسم کردیتا ہے۔
212
View Single
إِنَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّمۡعِ لَمَعۡزُولُونَ
Indeed they have been banished from the place of hearing.
بیشک وہ (اس کلام کے) سننے سے روک دیئے گئے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an was brought down by Jibril, not Shaytan
Allah tells us about His Book, which falsehood cannot approach from before or behind it, sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. He states that it has been brought down by the trustworthy Ruh (i.e., Jibril) who is helped by Allah,
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَـطِينُ
(And it is not the Shayatin who have brought it down.) Then He tells us that it could not be the case for three reasons that the Shayatin brought it down. One is that it would not suit them, i.e., they have no desire to do so and they do not want to, because their nature is to corrupt and misguide people, but this contains words enjoining what is right and forbidding what is evil, and light, guidance and mighty proofs. There is a big difference between this and the Shayatin, Allah says:
وَمَا يَنبَغِى لَهُمْ
(Neither would it suit them)
وَمَا يَسْتَطِيعُونَ
(nor are they able.) meaning, even if they wanted to, they could not do it. Allah says:
لَوْ أَنزَلْنَا هَـذَا الْقُرْءَانَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَـشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ
(Had We sent down this Qur'an on a mountain, you would surely have seen it humbling itself and rent asunder by the fear of Allah) (59:21). Then Allah explains that even if they wanted to and were able to bear it and convey it, they still would not be able to achieve that, because they were prevented from hearing the Qur'an when it was brought down, for the heavens were filled with guardians and shooting stars at the time when the Qur'an was being revealed to the Messenger of Allah ﷺ, so none of the Shayatin could hear even one letter of it, lest there be any confusion in the matter. This is a part of Allah's mercy towards His servants, protection of His Laws, and support for His Book and His Messenger . Allah says:
إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ
(Verily, they have been removed far from hearing it.) This is like what Allah tells us about the Jinn:
وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنَـهَا مُلِئَتْ حَرَساً شَدِيداً وَشُهُباً - وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَـعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الاٌّنَ يَجِدْ لَهُ شِهَاباً رَّصَداً
(And we have sought to reach the heaven; but found it filled with stern guards and flaming fires. And verily, we used to sit there in stations, to (steal) a hearing, but any who listens now will find a flaming fire watching him in ambush.) until;
أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً
(or whether their Lord intends for them a right path) 72:8-10.
یہ کتاب عزیز یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کردے۔ پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لئے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی ﷺ کو پہنچے اور آپ کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے۔ جیسے سورة جن میں خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھر پور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کر اکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلاکر بھسم کردیتا ہے۔
213
View Single
فَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُعَذَّبِينَ
Therefore do not worship another deity along with Allah, for you will be punished.
پس (اے بندے!) تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پوجا کر ورنہ تو عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہو جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
214
View Single
وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), warn your closest relatives.
اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
215
View Single
وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
And spread your wing of mercy for the believers following you.
اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لئے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
216
View Single
فَإِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ
So if they do not obey you, then say, “Indeed I am unconcerned with what you do.”
پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میں ان اعمالِ (بد) سے بیزار ہوں جو تم انجام دے رہے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
217
View Single
وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ
And rely upon (Allah) the Almighty, the Most Merciful.
اور بڑے غالب مہربان (رب) پر بھروسہ رکھیے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
218
View Single
ٱلَّذِي يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ
Who watches you when you stand up.
جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لئے) قیام کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
219
View Single
وَتَقَلُّبَكَ فِي ٱلسَّـٰجِدِينَ
And watches your movements among those who prostrate in prayer.
اور سجدہ گزاروں میں (بھی) آپ کا پلٹنا دیکھتا (رہتا) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
220
View Single
إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
Indeed only He is the All Hearing, the All Knowing.
بیشک وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to warn His Tribe of near Kindred
Here Allah commands (His Prophet ) to worship Him alone, with no partner or associate, and tells him that whoever associates others in worship with Him, He will punish them. Then Allah commands His Messenger to warn his tribe of near kindred, i.e., those who were most closely related to him, and to tell them that nothing could save any of them except for faith in Allah. Allah also commanded him to be kind and gentle with the believing servants of Allah who followed him, and to disown those who disobeyed him, no matter who they were. Allah said:
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ
(Then if they disobey you, say: "I am innocent of what you do.") This specific warning does not contradict the general warning; indeed it is a part of it, as Allah says elsewhere:
لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أُنذِرَ ءَابَآؤُهُمْ فَهُمْ غَـفِلُونَ
(In order that you may warn a people whose forefathers were not warned, so they are heedless.) (36:6),
لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا
(that you may warn the Mother of the Towns and all around it) (42:7),
وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ
(And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord) (6:51),
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the most quarrelsome people.) (19:97),
لاٌّنذِرَكُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ
(that I may therewith warn you and whomsoever it may reach) (6:19), and
وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الاٌّحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ
(but those of the sects that reject it, the Fire will be their promised meeting place) (11:17). According to Sahih Muslim, the Prophet said:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ لَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّار»
(By the One in Whose Hand is my soul, no one from these nations -- Jewish or Christian -- hears of me then does not believe in me, but he will enter Hell.) Many Hadiths have been narrated concerning the revelation of this Ayah, some of which we will quote below: Imam Ahmad, may Allah have mercy on him, recorded that Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "When Allah revealed the Ayah,
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.), the Prophet went to As-Safa', climbed up and called out,
«يَا صَبَاحَاه»
(O people!) The people gathered around him, some coming of their own accord and others sending people on their behalf to find out what was happening. The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَااَبنِي لُؤَيَ، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُريدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي؟»
(O Bani `Abd Al-Muttalib, O Bani Fihr, O Bani Lu'ayy! What do you think, if I told you that there was a cavalry at the foot of this mountain coming to attack you -- would you believe me) They said, "Yes." He said:
«فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَي عَذَابٍ شَدِيد»
(Then I warn you of a great punishment that is close at hand.) Abu Lahab said, "May you perish for the rest of the day! You only called us to tell us this" Then Allah revealed:
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ
(Perish the two hands of Abu Lahab and perish he!) 111:1 This was also recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that `A'ishah, may Allah be pleased with her said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ stood up and said:
«يَا فَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ ابْنَةُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِالْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُم»
(O Fatimah daughter of Muhammad, O Safiyyah daughter of `Abd Al-Muttalib, O Bani `Abd Al-Muttalib, I cannot help you before Allah. Ask me for whatever you want of my wealth.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Qabisah bin Mukhariq and Zuhayr bin `Amr said: "When the Ayah:
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ
(And warn your tribe of near kindred.) was revealed, the Messenger of Allah ﷺ climbed on top of a rock on the side of a mountain and started to call out:
«يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ، وَإِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَرَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ فَذَهَبَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ يَخْشَى أَنْ يَسْبِقُوهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي وَيَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاه»
(O Bani `Abd Manaf, I am indeed a warner, and the parable of me and you is that of a man who sees the enemy so he goes to save his family, fearing that the enemy may reach them before he does.) And he started to call out, (O people!) It was also recorded by Muslim and An-Nasa'i. Allah's saying:
وَتَوكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ
(And put your trust in the All-Mighty, the Most Merciful,) means, `in all your affairs, for He is your Helper, Protector and Supporter, and He is the One Who will cause you to prevail and will make your word supreme.'
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up. ) means, He is taking care of you. This is like the Ayah,
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا
(So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes) (52:48) Ibn `Abbas said that the Ayah,
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) means, "To pray." `Ikrimah said: "He sees him when he stands and bows and prostrates." Al-Hasan said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you pray alone." Ad-Dahhak said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
(Who sees you when you stand up.) "When you are lying in bed and when you are sitting." Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ
(Who sees you) "When you are standing, when you are sitting, and in all other situations."
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ
(And your movements among those who fall prostrate.) Qatadah said:
الَّذِى يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ
وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّـجِدِينَ-
(Who sees you when you stand up. And your movements among those who fall prostrate.) "When you pray, He sees you when you pray alone and when you pray in congregation." This was also the view of `Ikrimah, `Ata' Al-Khurasani and Al-Hasan Al-Basri.
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(Verily, He, only He, is the All-Hearer, the All-Knower.) He hears all that His servants say and He knows all their movements, as He says:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ
(Neither you do any deed nor recite any portion of the Qur'an, nor you do any deed, but We are Witness thereof, when you are doing it) (10:61).
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آیت میں ہے (وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا 92) 6۔ الانعام :92) تاکہ تو مکہ والوں کو اور اس کے گرد والوں کو سب کو ڈرائے۔ اور آیت میں ہے تو اس قرآن سے انہیں ہوشیار کردے۔ جو اپنے رب کے پاس جمع ہونے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں۔ دیگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ تو اس قرآن سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنادے اور سرکشوں کو ڈرادے اور آیت میں فرمایا (لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ۭ 19ۘ) 6۔ الانعام :19) تاکہ میں اسی قرآن کے ساتھ تمہیں اور جسے بھی یہ پہنچے ڈرادوں۔ اور فرمان ہے اس کے ساتھ ان تمام فرقوں میں سے جو بھی کفر کرے اس کی سزا جہنم ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جس کے کان میری رسالت کی بات پڑجائے خواہ یہودی ہو یا نصرانی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو ضرور وہ جہنم میں جائے گا اس آیت کی تفسیر میں بہت سی حدیثیں ہیں انہیں سن لیجئے۔ 001 مسند احمد میں ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری تو آنحضرت ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے۔ اور یا صباحاہ کرکے آواز دی۔ لوگ جمع ہوگئے جو نہیں آسکتے تھے انہوں نے اپنے آدمی بھیج دئیے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! اے اولاد فہر ! بتاؤ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر تمہارے دشمن کا لشکر پڑا ہوا ہے اور گھات میں ہے۔ موقعہ پاتے ہی تم سب کو قتل کر ڈالے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہاں ہم آپ کو سچا ہی سمجھیں گے۔ اب آپ نے فرمایا سن لو میں تمہیں آنے والے سخت عذابوں سے ڈرانے والا ہوں۔ اس پر ابو لہب ملعون نے کہا تو ہلاک ہوجائے یہی سنانے کے لئے تو نے ہمیں بلایا تھا اس کے جواب میں سورة تبت یدا اتری (بخاری مسلم وغیرہ) 002 مسند احمد میں ہے اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے اے فاطمہ بنت محمد ﷺ اے صفیہ بنت عبدالطلب سنو میں تمہیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہیں آسکتا۔ ہاں میرے پاس جو مال ہو جتنا تم چاہو میں دینے کے لئے تیار ہو (مسلم) 003 ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے اترتے ہی حضور ﷺ نے قریشیوں کو بلایا اور انہیں ایک ایک کرکے اور عام طور پر خطاب کرکے فرمایا اے قریشیو ! اپنی جانیں جہنم سے بچالو اے کعب کے خاندان والو ! اپنی جانیں آگ سے بچالو اے ہاشم کی اولاد کے لوگو اپنے آپ کو اللہ کے عذابوں سے چھڑوالو۔ اے عبد المطلب کے لڑکو ! اللہ کے عذابوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ اے فاطمہ ؓ بنت محمد ! اپنی جان کو دوزخ سے بچالے قسم اللہ کی میں اللہ کے ہاں کی کسی چیز کا مالک نہیں۔ بیشک تمہاری قرابت داری ہے جس کے دنیوی حقوق میں ہر طرح ادا کرنے کو تیار ہوں۔ (مسلم وغیرہ) بخاری مسلم میں بھی قدرے الفاظ کی تبدیلی سے یہ حدیث مروی ہے اسمیں یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ سے یہ بھی فرمایا کہ میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے طلب کرلو۔ ابو یعلی میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے قصی اے ہاشم اے عبد مناف کی اولادو ! یاد رکھو میں ڈرانے والا ہوں اور موت بدلہ دینے والی ہے اس کا چھاپہ پڑنے ہی والا ہے اور قیامت وعدہ گاہ ہے 004 مسند احمد میں ہے حضور ﷺ پر یہ آیت اتری تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے جس کی چوٹی پر پتھر تھے وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا اے بنی عبد مناف میں تو صرف چوکنا کردینے والا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے دشمن کو دیکھا اور دوڑ کر اپنے عزیزوں کو ہوشیار کرنے کے لئے آیا تاکہ وہ بچاؤ کرلیں دور سے ہی اس نے غل مچانا شروع کردیا کہ پہلے ہی خبردار ہوجائیں (مسلم نسائی وغیرہ) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری تو حضور ﷺ نے اپنے اہل بیت کو جمع کرلیا یہ تیس شخص تھے جب یہ کھا پی چکے تو حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمے لے۔ اور میرے بعد میرے وعدے پورے کرے وہ جنت میں بھی مرا ساتھی اور میری اہل میں خلیفہ ہوگا۔ تو ایک شخص نے کہا آپ تو سمندر ہیں آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ تین دفعہ آپ نے فرمایا لیکن کوئی تیار نہ ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ میں اس کے لئے تیار ہوں (مسند احمد) ایک اور سند میں اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بنو عبدالمطلب کو جمع کیا یہ ایک جماعت کی جماعت تھی اور بڑے کھاؤ تھے ایک شخص ایک ایک بکری کا بچہ کھا جاتا تھا اور ایک بڑا بدھنا دودھ کا پی جاتا تھا آپ نے ان سب کے کھانے کے لئے صرف تین پاؤ کے قریب کھانا پکوایا لیکن اللہ نے اسی میں اتنی برکت دی کہ سب پیٹ بھر کر کھاچکے اور خوب آسودہ ہو کر پی چکے لیکن نہ تو کھانے میں کمی نظرآئی تھی نہ پینے کی چیز گھٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا اے اولاد عبد المطلب میں تمہاری طرف خصوصا اور تمام لوگوں کی طرف عموما نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اس وقت تم ایک معجزہ بھی میرا دیکھ چکے ہو۔ اب تم میں سے کون تیار ہے کہ مجھ سے بیعت کرے وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہوگا لیکن ایک شخص بھی مجمع سے کھڑا نہ ہوا سوائے میرے اور میں اس وقت عمر کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تین مرتبہ آپ نے یہی فرمایا اور تینوں مرتبہ بجز میرے اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ تیسری مرتبہ آپ نے میری بیعت لی۔ امام بہیقی دلائل النبوۃ میں لائے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا اگر میں اپنی قوم کے سامنے ابھی ہی اسے پیش کروں گا تو وہ نہ مانیں گے۔ اور ایسا جواب دیں گے جو مجھ پر گراں گزرے پس آپ خاموش ہوگئے اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ اگر آپ نے تعمیل ارشاد میں تاخیر کی تو ڈر ہے کہ آپ کو سزا ہوگی اسی وقت آپ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرادوں میں نے یہ خیال کرکے اگر پہلے ہی سے ان سے کہا گیا تو یہ مجھے ایسا جواب دیں گے جس سے مجھے ایذاء پہنچے میں خاموش رہا لیکن حضرت جبرائیل ؑ آئے اور کہا کہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تجھے عذاب ہوگا تو اب اے علی تم ایک بکری ذبح کرکے گوشت پکالو۔ اور کوئی تین سیر اناج بھی تیار کرلو اور ایک بدھنا دودھ کا بھی بھر لو۔ اور اولاد عبدالمطلب کو بھی جمع کرلو میں نے ایسا ہی کیا اور سب کو دعوت دے دی چالیس آدمی جمع ہوئے یا ایک آدھ کم یا ایک آدھ زیادہ ان میں آپ کے چچا بھی تھے۔ ابو طالب، حمزہ، عباس، اور ابو لہب کافر خبیث۔ میں نے سالن پیش کیا تو آپ نے اس میں سے ایک بوٹی لے کر کچھ کھائی پھر اسے ہنڈیا میں ڈال دیا اور فرمایا لو اللہ کا نام لو اور کھانا شروع کرو سب نے کھانا شروع کیا یہاں تک کہ پیٹ بھر گئے لیکن اللہ کی قسم گوشت اتنا ہی تھا جتنا رکھتے وقت رکھا تھا صرف ان کی انگلیوں کے نشانات تو تھے مگر گوشت کچھ بھی نہ گھٹا تھا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا گوشت تو کھالیتا تھا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے علی انہیں پلاؤ۔ میں وہ بدھنا لایا سب نے باری باری شکم سیر ہو کر پیا اور خوب آسودہ ہوگئے لیکن دودھ بالکل کم نہ ہوا۔ حالانکہ ان میں سے ایک ایک اتنا دودھ پی لیا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ نے کچھ فرمانا چاہا لیکن ابو لہب جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا لو صاحب اب معلوم ہوا کہ یہ تمام جادوگری محض اس لئے تھی۔ چناچہ مجمع اسی وقت اکھڑ گیا اور ہر ایک اپنی راہ لگ گیا۔ اور حضور ﷺ کو نصیحت و تبلیغ کو موقعہ نہ ملا دوسرے روز آپ نے حضرت علی سے فرمایا آج پھر اسی طرح ان سب کی دعوت کرو کیونکہ کل اس نے مجھے کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں دیا۔ میں نے پھر اسی طرح کا انتظام کیا سب کو دعوت دی آئے کھایا پیا پھر کل کی طرح آج بھی ابو لہب نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی اور اسی طرح سب تتر بتر ہوگئے۔ تیسرے دن پھر حضور ﷺ نے حضرت علی سے یہی فرمایا آج جب سب کھا پی چکے تو حضور نے جلدی سے اپنی گفتگو شروع کردی اور فرمایا اے بنو عبدالمطلب واللہ کوئی نوجوان شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بھلائی نہیں لایا، جو میں تمہارے پاس لایا ہوں میں دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اب بتاؤ تم میں سے کون میرے ساتھ اتفاق کرتا ہے اور کون مرا ساتھ دیتا ہے ؟ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ پہلے میں تمہیں اسکی دعوت دوں جو آج میری مان لے گا وہ میرا بھائی ہوگا اور یہ درجے ملیں گے۔ لوگ سب خاموش ہوگئے لیکن حضرت علی جو اس وقت اس مجمع میں سب سے کم عمر تھے اور دکھتی آنکھوں والے اور موٹے پیٹ والے اور بھری پنڈلیوں والے تھے، بول اٹھے یارسول اللہ اس امر میں آپ کی وزارت میں قبول کرتا ہوں آپ نے میری گردن پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے اور ایسی فضیلتوں والا ہے تم اس کی سنو اور مانو۔ یہ سن کر وہ سب لوگ ہنستے ہوتے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے لے اب تو اپنے بچے کی سن اور مان لیکن اس کا راوی عبدالغفار بن قاسم بن ابی مریم متروک ہے کذاب ہے اور ہے بھی شیعہ۔ ابن مدینی وغیرہ فرماتے ہیں یہ حدیثیں گھڑلیا کرتا تھا، دیگر ائمہ حدیث نے بھی اس کو ضعیف لکھا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ اس دعوت میں صرف بکری کے ایک پاؤں کا گوشت پکا تھا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضور خطبہ دینے لگے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ آج جیسا جادو تو ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس پر آپ خاموش ہوگئے۔ اس میں آپ کا خطبہ یہ ہے کہ کون ہے جو میرا قرض اپنے ذمہ لے اور میری اہل میں میرا خلیفہ بنے اس پر سب خاموش رہے اور عباس بھی چپ تھے صرف اپنے مال کی بخل کی وجہ سے۔ میں عباس کو خاموش دیکھ کر خاموش ہو رہا۔ آپ نے دوبارہ یہی فرمایا دوبارہ بھی سب طرف خاموشی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بول پڑا۔ میں اس وقت ان سب سے گری پڑی حالت والا۔ چندھی آنکھوں والا بڑے پیٹ والا اور بوجھل پنڈلیوں والا تھا۔ ان روایتوں میں جو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کون میرا قرض اپنے ذمے لیتا ہے اور میری اہل کی میرے بعد حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے ؟ اس سے مطلب آپ کا یہ تھا کہ جب میں اس تبلیغ دین کو پھیلاؤں گا اور لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاؤں گا تو سب کے سب میرے دشمن ہوجائیں گے اور مجھے قتل کردیں گے۔ یہی کھٹکا آپ کو لگا رہا یہاں تک کہ یہ آیت اتری (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 67) 5۔ المآئدہ :67) اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے بچالے گا۔ اس وقت آپ بےخطر ہوگئے۔ اس سے پہلے آپ اپنی پہرہ چوکی بھی بٹھاتے تھے لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد وہ بھی ہٹادی۔ اس وقت فی الواقع تمام بنوہاشم میں حضرت علی ؓ سے زیادہ ایمان والا اور تصدیق و یقین والا کوئی نہ تھا۔ اس لئے ہی آپ نے حضور کے ساتھ اقرار کیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے کوہ صفا پر عام دعوت دی اور لوگوں کو توحید خالص کی طرف بلایا اور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو درداء ؓ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے وعظ فرما رہے تھے فتوے دے رہے تھے۔ مجلس کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر ایک کی نگاہیں آپ کی چہرے پر تھیں اور شوق سے سن رہے تھے لیکن آپ کے لڑکے اور گھر کے آدمی آپس میں بےپرواہی سے اپنی باتوں میں مشغول تھے۔ کسی نے حضرت ابو درداء ؓ کی اس طرف توجہ دلائی کہ اور سب لوگ تو دل سے آپ کی علمی باتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں اور آپ کے اہل بیت اس سے بالکل بےپرواہ ہیں وہ اپنی باتوں میں نہایت بےپرواہی سے مشغول ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے دنیا سے بالکل کنارہ کشی کرنے والے انبیاء (علیہم السلام) ہوتے ہیں اور ان پر سب سے زیادہ سخت اور بھاری ان کے قرابت دار ہوئے ہیں اسی بارے میں آیت (وانذر سے تعملون) تک ہے پھر فرماتا ہے اپنے تمام امور میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھو وہی تمہارا حافظ وناصر ہے وہی تمہاری تائید کرنے والا اور تمہارے کلمے کو بلند کرنے والا ہے۔ اس کی نگاہیں ہر وقت تم پر ہیں جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ 48ۙ) 52۔ الطور :48) اپنے رب کے حکموں پر صبر کر۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب تو نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم تمہارے رکوع سجود دیکھتے ہیں کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا کسی حالت میں ہو ہماری نظروں میں ہو۔ یعنی تنہائی میں تو نماز پڑھے تو ہم دیکھتے ہیں اور جماعت سے پڑھے تو تو ہماری نگاہ کے سامنے ہوتا ہے یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حالت نماز میں آپ کو جس طرح آپ کے سامنے کی چیزیں دکھاتا تھا آپ ﷺ کے پیچھے کے مقتدی بھی آپ ﷺ کی نگاہ میں رہتے تھے چناچہ صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے صفیں درست کرلیا کرو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا رہتا ہوں ابن عباس ؓ ما یہ مطلب بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک نبی کی پیٹھ سے دوسرے نبی کی پیٹھ کی طرف منتقل ہونا برابر دیکھتے رہے ہیں یہاں تک کہ آپ بحیثیت نبی دنیا میں آئے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتیں خوب سنتا ہے، انکی حرکات و سکنات کو خوب جانتا ہے جیسے فرماتا ہے آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 61) 10۔ یونس :61) ، تو جس حالت میں ہو تم جتنا قرآن پڑھو تم جو عمل کرو اس پر ہم شاہد ہیں۔
221
View Single
هَلۡ أُنَبِّئُكُمۡ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ
Shall I inform you upon whom do the devils descend?
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of the Fabrications of the Idolators
Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ
(Shall I inform you) meaning, shall I tell you,
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
(upon whom the Shayatin descend They descend on every lying, sinful person (Athim)) meaning, one whose speech is lies and fabrication.
أَثِيمٍ
(Athim) means, whose deeds are immoral. This is the person upon whom the Shayatin descend, fortune-tellers and other sinful liars. The Shayatin are also sinful liars.
يُلْقُونَ السَّمْعَ
(Who gives ear, ) means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from `A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said:
«إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء»
(They are nothing.) They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said:
«تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَة»
(That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies.) Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said:
«إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا (لِلَّذِي قَالَ): الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ،فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء»
(When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other) -- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread -- (when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens.) This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said:
«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ: الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ (يَكُونُ) فِي الْأَرْضِ، فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ، فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ، فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَة»
(The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies.)
Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the astray ones follow them.) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "The disbelievers follow the misguided among mankind and the Jinn." This was also the view of Mujahid, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and others. `Ikrimah said, "Two poets would ridicule one another in verse, with one group of people supporting one and another group supporting the other. Hence Allah revealed the Ayah,
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.)
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
(See you not that they speak about every subject in their poetry) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "They indulge in every kind of nonsense." Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "They engage in every kind of verbal art." This was also the view of Mujahid and others.
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(And that they say what they do not do. ) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that at the time of the Messenger of Allah ﷺ, two men, one from among the Ansar and one from another tribe, were ridiculing one another in verse, and each one of them was supported by a group of his own people, who were the foolish ones, and Allah said:
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them. See you not that they speak about every subject in their poetry And that they say what they do not do.) What is meant here is that the Messenger , to whom this Qur'an was revealed, was not a soothsayer or a poet, because his situation was quite obviously different to theirs, as Allah says:
وَمَا عَلَّمْنَـهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
(And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. This is only a Reminder and a plain Qur'an.) (36:69),
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(That this is verily, the word of an honored Messenger. It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember! This is the Revelation sent down from the Lord of all that exits.) (69:40-43)
The Exception of the Poets of Islam
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) Muhammad bin Ishaq narrated from Yazid bin `Abdullah bin Qusayt, that Abu Al-Hasan Salim Al-Barrad, the freed servant of Tamim Ad-Dari said: "When the Ayah --
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.) was revealed, Hassan bin Thabit, `Abdullah bin Rawahah and Ka`b bin Malik came to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and said: "Allah knew when He revealed this Ayah that we are poets. The Prophet recited to them the Ayah,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) and said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَذَكَرُواْ اللَّهَ كَثِيراً
(and remember Allah much). He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged. ) He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.) This was recorded by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir from the narration of Ibn Ishaq. But this Surah was revealed in Makkah, so how could the reason for its revelation be the poets of the Ansar This is something worth thinking about. The reports that have been narrated about this are all Mursal and cannot be relied on. And Allah knows best. But this exception could include the poets of the Ansar and others. It even includes those poets of the Jahiliyyah who indulged in condemning Islam and its followers, then repented and turned to Allah, and gave up what they used to do and started to do righteous deeds and remember Allah much, to make up for the bad things that they had previously said, for good deeds wipe out bad deeds. So they praised Islam and its followers in order to make up for their insults, as the poet `Abdullah bin Az-Zab`ari said when he became Muslim: "O Messenger of Allah, indeed my tongue will try to make up for things it said when I was bad -- When I went along with the Shaytan during the years of misguidance, and whoever inclines towards his way is in a state of loss." Similarly, Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abd Al-Muttalib was one of the most hostile people towards the Prophet , even though he was his cousin, and he was the one who used to mock him the most. But when he became Muslim, there was no one more beloved to him than the Messenger of Allah ﷺ. He began to praise the Messenger of Allah ﷺ where he had mocked him, and take him as a close friend where he had regarded him as an enemy.
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged.) Ibn `Abbas said, "They responded in kind to the disbelievers who used to ridicule the believers in verse." This was also the view of Mujahid, Qatadah and several others. It was also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan:
«اهْجُهُم»
(Ridicule them in verse.) Or he said:
«َهاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَك»
(Ridicule them in verse, and Jibril is with you.) Imam Ahmad recorded that Ka`b bin Malik said to the Prophet , "Allah has revealed what He revealed about the poets. The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّـبْل»
(The believer wages Jihad with his sword and with his tongue, By the One in Whose Hand is my soul, it is as if you are attacking them with arrows.)
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) This is like the Ayah,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers) (40: 52). According to the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Beware of wrongdoing, for wrongdoing will be darkness on the Day of Resurrection.) Qatadah bin Di`amah said concerning the Ayah --
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) this refers to the poets and others. This is the end of the Tafsir Surat Ash-Shu`ara'. Praise be to Allah, Lord of the worlds.
شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
222
View Single
تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ
They descend on every great accuser, extreme sinner. (The magicians)
وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of the Fabrications of the Idolators
Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ
(Shall I inform you) meaning, shall I tell you,
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
(upon whom the Shayatin descend They descend on every lying, sinful person (Athim)) meaning, one whose speech is lies and fabrication.
أَثِيمٍ
(Athim) means, whose deeds are immoral. This is the person upon whom the Shayatin descend, fortune-tellers and other sinful liars. The Shayatin are also sinful liars.
يُلْقُونَ السَّمْعَ
(Who gives ear, ) means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from `A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said:
«إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء»
(They are nothing.) They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said:
«تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَة»
(That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies.) Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said:
«إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا (لِلَّذِي قَالَ): الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ،فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء»
(When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other) -- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread -- (when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens.) This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said:
«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ: الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ (يَكُونُ) فِي الْأَرْضِ، فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ، فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ، فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَة»
(The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies.)
Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the astray ones follow them.) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "The disbelievers follow the misguided among mankind and the Jinn." This was also the view of Mujahid, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and others. `Ikrimah said, "Two poets would ridicule one another in verse, with one group of people supporting one and another group supporting the other. Hence Allah revealed the Ayah,
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.)
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
(See you not that they speak about every subject in their poetry) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "They indulge in every kind of nonsense." Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "They engage in every kind of verbal art." This was also the view of Mujahid and others.
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(And that they say what they do not do. ) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that at the time of the Messenger of Allah ﷺ, two men, one from among the Ansar and one from another tribe, were ridiculing one another in verse, and each one of them was supported by a group of his own people, who were the foolish ones, and Allah said:
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them. See you not that they speak about every subject in their poetry And that they say what they do not do.) What is meant here is that the Messenger , to whom this Qur'an was revealed, was not a soothsayer or a poet, because his situation was quite obviously different to theirs, as Allah says:
وَمَا عَلَّمْنَـهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
(And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. This is only a Reminder and a plain Qur'an.) (36:69),
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(That this is verily, the word of an honored Messenger. It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember! This is the Revelation sent down from the Lord of all that exits.) (69:40-43)
The Exception of the Poets of Islam
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) Muhammad bin Ishaq narrated from Yazid bin `Abdullah bin Qusayt, that Abu Al-Hasan Salim Al-Barrad, the freed servant of Tamim Ad-Dari said: "When the Ayah --
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.) was revealed, Hassan bin Thabit, `Abdullah bin Rawahah and Ka`b bin Malik came to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and said: "Allah knew when He revealed this Ayah that we are poets. The Prophet recited to them the Ayah,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) and said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَذَكَرُواْ اللَّهَ كَثِيراً
(and remember Allah much). He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged. ) He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.) This was recorded by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir from the narration of Ibn Ishaq. But this Surah was revealed in Makkah, so how could the reason for its revelation be the poets of the Ansar This is something worth thinking about. The reports that have been narrated about this are all Mursal and cannot be relied on. And Allah knows best. But this exception could include the poets of the Ansar and others. It even includes those poets of the Jahiliyyah who indulged in condemning Islam and its followers, then repented and turned to Allah, and gave up what they used to do and started to do righteous deeds and remember Allah much, to make up for the bad things that they had previously said, for good deeds wipe out bad deeds. So they praised Islam and its followers in order to make up for their insults, as the poet `Abdullah bin Az-Zab`ari said when he became Muslim: "O Messenger of Allah, indeed my tongue will try to make up for things it said when I was bad -- When I went along with the Shaytan during the years of misguidance, and whoever inclines towards his way is in a state of loss." Similarly, Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abd Al-Muttalib was one of the most hostile people towards the Prophet , even though he was his cousin, and he was the one who used to mock him the most. But when he became Muslim, there was no one more beloved to him than the Messenger of Allah ﷺ. He began to praise the Messenger of Allah ﷺ where he had mocked him, and take him as a close friend where he had regarded him as an enemy.
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged.) Ibn `Abbas said, "They responded in kind to the disbelievers who used to ridicule the believers in verse." This was also the view of Mujahid, Qatadah and several others. It was also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan:
«اهْجُهُم»
(Ridicule them in verse.) Or he said:
«َهاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَك»
(Ridicule them in verse, and Jibril is with you.) Imam Ahmad recorded that Ka`b bin Malik said to the Prophet , "Allah has revealed what He revealed about the poets. The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّـبْل»
(The believer wages Jihad with his sword and with his tongue, By the One in Whose Hand is my soul, it is as if you are attacking them with arrows.)
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) This is like the Ayah,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers) (40: 52). According to the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Beware of wrongdoing, for wrongdoing will be darkness on the Day of Resurrection.) Qatadah bin Di`amah said concerning the Ayah --
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) this refers to the poets and others. This is the end of the Tafsir Surat Ash-Shu`ara'. Praise be to Allah, Lord of the worlds.
شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
223
View Single
يُلۡقُونَ ٱلسَّمۡعَ وَأَكۡثَرُهُمۡ كَٰذِبُونَ
The devils convey upon them what they heard, but most of them are liars.
جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of the Fabrications of the Idolators
Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ
(Shall I inform you) meaning, shall I tell you,
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
(upon whom the Shayatin descend They descend on every lying, sinful person (Athim)) meaning, one whose speech is lies and fabrication.
أَثِيمٍ
(Athim) means, whose deeds are immoral. This is the person upon whom the Shayatin descend, fortune-tellers and other sinful liars. The Shayatin are also sinful liars.
يُلْقُونَ السَّمْعَ
(Who gives ear, ) means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from `A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said:
«إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء»
(They are nothing.) They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said:
«تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَة»
(That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies.) Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said:
«إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا (لِلَّذِي قَالَ): الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ،فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء»
(When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other) -- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread -- (when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens.) This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said:
«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ: الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ (يَكُونُ) فِي الْأَرْضِ، فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ، فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ، فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَة»
(The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies.)
Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the astray ones follow them.) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "The disbelievers follow the misguided among mankind and the Jinn." This was also the view of Mujahid, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and others. `Ikrimah said, "Two poets would ridicule one another in verse, with one group of people supporting one and another group supporting the other. Hence Allah revealed the Ayah,
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.)
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
(See you not that they speak about every subject in their poetry) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "They indulge in every kind of nonsense." Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "They engage in every kind of verbal art." This was also the view of Mujahid and others.
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(And that they say what they do not do. ) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that at the time of the Messenger of Allah ﷺ, two men, one from among the Ansar and one from another tribe, were ridiculing one another in verse, and each one of them was supported by a group of his own people, who were the foolish ones, and Allah said:
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them. See you not that they speak about every subject in their poetry And that they say what they do not do.) What is meant here is that the Messenger , to whom this Qur'an was revealed, was not a soothsayer or a poet, because his situation was quite obviously different to theirs, as Allah says:
وَمَا عَلَّمْنَـهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
(And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. This is only a Reminder and a plain Qur'an.) (36:69),
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(That this is verily, the word of an honored Messenger. It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember! This is the Revelation sent down from the Lord of all that exits.) (69:40-43)
The Exception of the Poets of Islam
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) Muhammad bin Ishaq narrated from Yazid bin `Abdullah bin Qusayt, that Abu Al-Hasan Salim Al-Barrad, the freed servant of Tamim Ad-Dari said: "When the Ayah --
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.) was revealed, Hassan bin Thabit, `Abdullah bin Rawahah and Ka`b bin Malik came to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and said: "Allah knew when He revealed this Ayah that we are poets. The Prophet recited to them the Ayah,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) and said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَذَكَرُواْ اللَّهَ كَثِيراً
(and remember Allah much). He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged. ) He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.) This was recorded by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir from the narration of Ibn Ishaq. But this Surah was revealed in Makkah, so how could the reason for its revelation be the poets of the Ansar This is something worth thinking about. The reports that have been narrated about this are all Mursal and cannot be relied on. And Allah knows best. But this exception could include the poets of the Ansar and others. It even includes those poets of the Jahiliyyah who indulged in condemning Islam and its followers, then repented and turned to Allah, and gave up what they used to do and started to do righteous deeds and remember Allah much, to make up for the bad things that they had previously said, for good deeds wipe out bad deeds. So they praised Islam and its followers in order to make up for their insults, as the poet `Abdullah bin Az-Zab`ari said when he became Muslim: "O Messenger of Allah, indeed my tongue will try to make up for things it said when I was bad -- When I went along with the Shaytan during the years of misguidance, and whoever inclines towards his way is in a state of loss." Similarly, Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abd Al-Muttalib was one of the most hostile people towards the Prophet , even though he was his cousin, and he was the one who used to mock him the most. But when he became Muslim, there was no one more beloved to him than the Messenger of Allah ﷺ. He began to praise the Messenger of Allah ﷺ where he had mocked him, and take him as a close friend where he had regarded him as an enemy.
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged.) Ibn `Abbas said, "They responded in kind to the disbelievers who used to ridicule the believers in verse." This was also the view of Mujahid, Qatadah and several others. It was also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan:
«اهْجُهُم»
(Ridicule them in verse.) Or he said:
«َهاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَك»
(Ridicule them in verse, and Jibril is with you.) Imam Ahmad recorded that Ka`b bin Malik said to the Prophet , "Allah has revealed what He revealed about the poets. The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّـبْل»
(The believer wages Jihad with his sword and with his tongue, By the One in Whose Hand is my soul, it is as if you are attacking them with arrows.)
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) This is like the Ayah,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers) (40: 52). According to the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Beware of wrongdoing, for wrongdoing will be darkness on the Day of Resurrection.) Qatadah bin Di`amah said concerning the Ayah --
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) this refers to the poets and others. This is the end of the Tafsir Surat Ash-Shu`ara'. Praise be to Allah, Lord of the worlds.
شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
224
View Single
وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ
And the astray follow the poets.
اور شاعروں کی پیروی بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of the Fabrications of the Idolators
Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ
(Shall I inform you) meaning, shall I tell you,
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
(upon whom the Shayatin descend They descend on every lying, sinful person (Athim)) meaning, one whose speech is lies and fabrication.
أَثِيمٍ
(Athim) means, whose deeds are immoral. This is the person upon whom the Shayatin descend, fortune-tellers and other sinful liars. The Shayatin are also sinful liars.
يُلْقُونَ السَّمْعَ
(Who gives ear, ) means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from `A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said:
«إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء»
(They are nothing.) They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said:
«تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَة»
(That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies.) Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said:
«إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا (لِلَّذِي قَالَ): الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ،فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء»
(When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other) -- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread -- (when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens.) This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said:
«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ: الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ (يَكُونُ) فِي الْأَرْضِ، فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ، فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ، فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَة»
(The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies.)
Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the astray ones follow them.) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "The disbelievers follow the misguided among mankind and the Jinn." This was also the view of Mujahid, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and others. `Ikrimah said, "Two poets would ridicule one another in verse, with one group of people supporting one and another group supporting the other. Hence Allah revealed the Ayah,
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.)
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
(See you not that they speak about every subject in their poetry) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "They indulge in every kind of nonsense." Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "They engage in every kind of verbal art." This was also the view of Mujahid and others.
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(And that they say what they do not do. ) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that at the time of the Messenger of Allah ﷺ, two men, one from among the Ansar and one from another tribe, were ridiculing one another in verse, and each one of them was supported by a group of his own people, who were the foolish ones, and Allah said:
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them. See you not that they speak about every subject in their poetry And that they say what they do not do.) What is meant here is that the Messenger , to whom this Qur'an was revealed, was not a soothsayer or a poet, because his situation was quite obviously different to theirs, as Allah says:
وَمَا عَلَّمْنَـهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
(And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. This is only a Reminder and a plain Qur'an.) (36:69),
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(That this is verily, the word of an honored Messenger. It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember! This is the Revelation sent down from the Lord of all that exits.) (69:40-43)
The Exception of the Poets of Islam
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) Muhammad bin Ishaq narrated from Yazid bin `Abdullah bin Qusayt, that Abu Al-Hasan Salim Al-Barrad, the freed servant of Tamim Ad-Dari said: "When the Ayah --
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.) was revealed, Hassan bin Thabit, `Abdullah bin Rawahah and Ka`b bin Malik came to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and said: "Allah knew when He revealed this Ayah that we are poets. The Prophet recited to them the Ayah,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) and said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَذَكَرُواْ اللَّهَ كَثِيراً
(and remember Allah much). He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged. ) He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.) This was recorded by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir from the narration of Ibn Ishaq. But this Surah was revealed in Makkah, so how could the reason for its revelation be the poets of the Ansar This is something worth thinking about. The reports that have been narrated about this are all Mursal and cannot be relied on. And Allah knows best. But this exception could include the poets of the Ansar and others. It even includes those poets of the Jahiliyyah who indulged in condemning Islam and its followers, then repented and turned to Allah, and gave up what they used to do and started to do righteous deeds and remember Allah much, to make up for the bad things that they had previously said, for good deeds wipe out bad deeds. So they praised Islam and its followers in order to make up for their insults, as the poet `Abdullah bin Az-Zab`ari said when he became Muslim: "O Messenger of Allah, indeed my tongue will try to make up for things it said when I was bad -- When I went along with the Shaytan during the years of misguidance, and whoever inclines towards his way is in a state of loss." Similarly, Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abd Al-Muttalib was one of the most hostile people towards the Prophet , even though he was his cousin, and he was the one who used to mock him the most. But when he became Muslim, there was no one more beloved to him than the Messenger of Allah ﷺ. He began to praise the Messenger of Allah ﷺ where he had mocked him, and take him as a close friend where he had regarded him as an enemy.
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged.) Ibn `Abbas said, "They responded in kind to the disbelievers who used to ridicule the believers in verse." This was also the view of Mujahid, Qatadah and several others. It was also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan:
«اهْجُهُم»
(Ridicule them in verse.) Or he said:
«َهاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَك»
(Ridicule them in verse, and Jibril is with you.) Imam Ahmad recorded that Ka`b bin Malik said to the Prophet , "Allah has revealed what He revealed about the poets. The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّـبْل»
(The believer wages Jihad with his sword and with his tongue, By the One in Whose Hand is my soul, it is as if you are attacking them with arrows.)
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) This is like the Ayah,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers) (40: 52). According to the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Beware of wrongdoing, for wrongdoing will be darkness on the Day of Resurrection.) Qatadah bin Di`amah said concerning the Ayah --
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) this refers to the poets and others. This is the end of the Tafsir Surat Ash-Shu`ara'. Praise be to Allah, Lord of the worlds.
شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
225
View Single
أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ
Did you not see that they keep wandering in every valley?
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ (شعراء) ہر وادئ (خیال) میں (یونہی) سرگرداں پھرتے رہتے ہیں (انہیں حق میں سچی دلچسپی اور سنجیدگی نہیں ہوتی بلکہ فقط لفظی و فکری جولانیوں میں مست اور خوش رہتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of the Fabrications of the Idolators
Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ
(Shall I inform you) meaning, shall I tell you,
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
(upon whom the Shayatin descend They descend on every lying, sinful person (Athim)) meaning, one whose speech is lies and fabrication.
أَثِيمٍ
(Athim) means, whose deeds are immoral. This is the person upon whom the Shayatin descend, fortune-tellers and other sinful liars. The Shayatin are also sinful liars.
يُلْقُونَ السَّمْعَ
(Who gives ear, ) means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from `A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said:
«إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء»
(They are nothing.) They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said:
«تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَة»
(That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies.) Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said:
«إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا (لِلَّذِي قَالَ): الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ،فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء»
(When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other) -- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread -- (when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens.) This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said:
«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ: الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ (يَكُونُ) فِي الْأَرْضِ، فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ، فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ، فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَة»
(The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies.)
Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the astray ones follow them.) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "The disbelievers follow the misguided among mankind and the Jinn." This was also the view of Mujahid, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and others. `Ikrimah said, "Two poets would ridicule one another in verse, with one group of people supporting one and another group supporting the other. Hence Allah revealed the Ayah,
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.)
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
(See you not that they speak about every subject in their poetry) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "They indulge in every kind of nonsense." Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "They engage in every kind of verbal art." This was also the view of Mujahid and others.
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(And that they say what they do not do. ) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that at the time of the Messenger of Allah ﷺ, two men, one from among the Ansar and one from another tribe, were ridiculing one another in verse, and each one of them was supported by a group of his own people, who were the foolish ones, and Allah said:
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them. See you not that they speak about every subject in their poetry And that they say what they do not do.) What is meant here is that the Messenger , to whom this Qur'an was revealed, was not a soothsayer or a poet, because his situation was quite obviously different to theirs, as Allah says:
وَمَا عَلَّمْنَـهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
(And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. This is only a Reminder and a plain Qur'an.) (36:69),
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(That this is verily, the word of an honored Messenger. It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember! This is the Revelation sent down from the Lord of all that exits.) (69:40-43)
The Exception of the Poets of Islam
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) Muhammad bin Ishaq narrated from Yazid bin `Abdullah bin Qusayt, that Abu Al-Hasan Salim Al-Barrad, the freed servant of Tamim Ad-Dari said: "When the Ayah --
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.) was revealed, Hassan bin Thabit, `Abdullah bin Rawahah and Ka`b bin Malik came to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and said: "Allah knew when He revealed this Ayah that we are poets. The Prophet recited to them the Ayah,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) and said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَذَكَرُواْ اللَّهَ كَثِيراً
(and remember Allah much). He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged. ) He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.) This was recorded by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir from the narration of Ibn Ishaq. But this Surah was revealed in Makkah, so how could the reason for its revelation be the poets of the Ansar This is something worth thinking about. The reports that have been narrated about this are all Mursal and cannot be relied on. And Allah knows best. But this exception could include the poets of the Ansar and others. It even includes those poets of the Jahiliyyah who indulged in condemning Islam and its followers, then repented and turned to Allah, and gave up what they used to do and started to do righteous deeds and remember Allah much, to make up for the bad things that they had previously said, for good deeds wipe out bad deeds. So they praised Islam and its followers in order to make up for their insults, as the poet `Abdullah bin Az-Zab`ari said when he became Muslim: "O Messenger of Allah, indeed my tongue will try to make up for things it said when I was bad -- When I went along with the Shaytan during the years of misguidance, and whoever inclines towards his way is in a state of loss." Similarly, Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abd Al-Muttalib was one of the most hostile people towards the Prophet , even though he was his cousin, and he was the one who used to mock him the most. But when he became Muslim, there was no one more beloved to him than the Messenger of Allah ﷺ. He began to praise the Messenger of Allah ﷺ where he had mocked him, and take him as a close friend where he had regarded him as an enemy.
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged.) Ibn `Abbas said, "They responded in kind to the disbelievers who used to ridicule the believers in verse." This was also the view of Mujahid, Qatadah and several others. It was also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan:
«اهْجُهُم»
(Ridicule them in verse.) Or he said:
«َهاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَك»
(Ridicule them in verse, and Jibril is with you.) Imam Ahmad recorded that Ka`b bin Malik said to the Prophet , "Allah has revealed what He revealed about the poets. The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّـبْل»
(The believer wages Jihad with his sword and with his tongue, By the One in Whose Hand is my soul, it is as if you are attacking them with arrows.)
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) This is like the Ayah,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers) (40: 52). According to the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Beware of wrongdoing, for wrongdoing will be darkness on the Day of Resurrection.) Qatadah bin Di`amah said concerning the Ayah --
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) this refers to the poets and others. This is the end of the Tafsir Surat Ash-Shu`ara'. Praise be to Allah, Lord of the worlds.
شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
226
View Single
وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ
And they speak what they do not do?
اور یہ کہ وہ (ایسی باتیں) کہتے ہیں جنہیں (خود) کرتے نہیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of the Fabrications of the Idolators
Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ
(Shall I inform you) meaning, shall I tell you,
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
(upon whom the Shayatin descend They descend on every lying, sinful person (Athim)) meaning, one whose speech is lies and fabrication.
أَثِيمٍ
(Athim) means, whose deeds are immoral. This is the person upon whom the Shayatin descend, fortune-tellers and other sinful liars. The Shayatin are also sinful liars.
يُلْقُونَ السَّمْعَ
(Who gives ear, ) means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from `A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said:
«إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء»
(They are nothing.) They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said:
«تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَة»
(That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies.) Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said:
«إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا (لِلَّذِي قَالَ): الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ،فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء»
(When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other) -- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread -- (when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens.) This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said:
«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ: الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ (يَكُونُ) فِي الْأَرْضِ، فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ، فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ، فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَة»
(The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies.)
Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the astray ones follow them.) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "The disbelievers follow the misguided among mankind and the Jinn." This was also the view of Mujahid, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and others. `Ikrimah said, "Two poets would ridicule one another in verse, with one group of people supporting one and another group supporting the other. Hence Allah revealed the Ayah,
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.)
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
(See you not that they speak about every subject in their poetry) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "They indulge in every kind of nonsense." Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "They engage in every kind of verbal art." This was also the view of Mujahid and others.
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(And that they say what they do not do. ) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that at the time of the Messenger of Allah ﷺ, two men, one from among the Ansar and one from another tribe, were ridiculing one another in verse, and each one of them was supported by a group of his own people, who were the foolish ones, and Allah said:
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them. See you not that they speak about every subject in their poetry And that they say what they do not do.) What is meant here is that the Messenger , to whom this Qur'an was revealed, was not a soothsayer or a poet, because his situation was quite obviously different to theirs, as Allah says:
وَمَا عَلَّمْنَـهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
(And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. This is only a Reminder and a plain Qur'an.) (36:69),
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(That this is verily, the word of an honored Messenger. It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember! This is the Revelation sent down from the Lord of all that exits.) (69:40-43)
The Exception of the Poets of Islam
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) Muhammad bin Ishaq narrated from Yazid bin `Abdullah bin Qusayt, that Abu Al-Hasan Salim Al-Barrad, the freed servant of Tamim Ad-Dari said: "When the Ayah --
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.) was revealed, Hassan bin Thabit, `Abdullah bin Rawahah and Ka`b bin Malik came to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and said: "Allah knew when He revealed this Ayah that we are poets. The Prophet recited to them the Ayah,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) and said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَذَكَرُواْ اللَّهَ كَثِيراً
(and remember Allah much). He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged. ) He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.) This was recorded by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir from the narration of Ibn Ishaq. But this Surah was revealed in Makkah, so how could the reason for its revelation be the poets of the Ansar This is something worth thinking about. The reports that have been narrated about this are all Mursal and cannot be relied on. And Allah knows best. But this exception could include the poets of the Ansar and others. It even includes those poets of the Jahiliyyah who indulged in condemning Islam and its followers, then repented and turned to Allah, and gave up what they used to do and started to do righteous deeds and remember Allah much, to make up for the bad things that they had previously said, for good deeds wipe out bad deeds. So they praised Islam and its followers in order to make up for their insults, as the poet `Abdullah bin Az-Zab`ari said when he became Muslim: "O Messenger of Allah, indeed my tongue will try to make up for things it said when I was bad -- When I went along with the Shaytan during the years of misguidance, and whoever inclines towards his way is in a state of loss." Similarly, Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abd Al-Muttalib was one of the most hostile people towards the Prophet , even though he was his cousin, and he was the one who used to mock him the most. But when he became Muslim, there was no one more beloved to him than the Messenger of Allah ﷺ. He began to praise the Messenger of Allah ﷺ where he had mocked him, and take him as a close friend where he had regarded him as an enemy.
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged.) Ibn `Abbas said, "They responded in kind to the disbelievers who used to ridicule the believers in verse." This was also the view of Mujahid, Qatadah and several others. It was also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan:
«اهْجُهُم»
(Ridicule them in verse.) Or he said:
«َهاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَك»
(Ridicule them in verse, and Jibril is with you.) Imam Ahmad recorded that Ka`b bin Malik said to the Prophet , "Allah has revealed what He revealed about the poets. The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّـبْل»
(The believer wages Jihad with his sword and with his tongue, By the One in Whose Hand is my soul, it is as if you are attacking them with arrows.)
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) This is like the Ayah,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers) (40: 52). According to the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Beware of wrongdoing, for wrongdoing will be darkness on the Day of Resurrection.) Qatadah bin Di`amah said concerning the Ayah --
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) this refers to the poets and others. This is the end of the Tafsir Surat Ash-Shu`ara'. Praise be to Allah, Lord of the worlds.
شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
227
View Single
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ
Except those who believed and did good deeds, and profusely remembered Allah, and took revenge after they had been wronged*; and soon the unjust will come to know upon which side they will be overturned**. (* The Muslim poets who praise Allah and the Prophet. ** The disbelievers will be punished.)
سوائے ان (شعراء) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہے (یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں بن گئے) اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (ظالموں سے بزبانِ شعر) انتقام لیا (اور اپنے کلام کے ذریعے اسلام اور مظلوموں کا دفاع کیا بلکہ ان کاجوش بڑھایا تو یہ شاعری مذموم نہیں)، اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ (مرنے کے بعد) کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of the Fabrications of the Idolators
Here Allah addresses those idolators who claimed that what was brought by the Messenger was not the truth but was merely something that he had made up by himself, or that it came to him in visions from the Jinn. Allah stated that His Messenger was above their claims and fabrications, and that what he had brought did indeed come from Allah, and that it was a revelation and inspiration, brought down by a noble, trustworthy and mighty angel. It did not come from the Shayatin, because they have no desire for anything like this Noble Qur'an -- they descend upon those who are like them, the lying fortune-tellers. Allah says:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ
(Shall I inform you) meaning, shall I tell you,
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَن تَنَزَّلُ الشَّيَـطِينُ - تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ
(upon whom the Shayatin descend They descend on every lying, sinful person (Athim)) meaning, one whose speech is lies and fabrication.
أَثِيمٍ
(Athim) means, whose deeds are immoral. This is the person upon whom the Shayatin descend, fortune-tellers and other sinful liars. The Shayatin are also sinful liars.
يُلْقُونَ السَّمْعَ
(Who gives ear, ) means, they try to overhear what is said in the heavens, and they try to hear something of the Unseen, then they add to it a hundred lies and tell it to their human comrades, who then tell it to others. Then the people believe everything they say because they were right about the one thing which was heard from the heavens. This was stated in an authentic Hadith recorded by Al-Bukhari from `A'ishah, may Allah be pleased with her, who said, "The people asked the Prophet about fortune-tellers, and he said:
«إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِشَيْء»
(They are nothing.) They said: "O Messenger of Allah, they say things that come true." The Prophet said:
«تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقَرْقِرُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَقَرْقَرَةِ الدَّجَاجِ، فَيَخْلِطُونَ مَعَهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَة»
(That is a word of truth which the Jinn snatches, then he gabbles it like the clucking of a chicken into the ear of his friend, but he mixes it with more than one hundred lies.) Al-Bukhari also recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet said:
«إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا (لِلَّذِي قَالَ): الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا وَبَدَّدَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، ثُمَّ يُلْقِيهَا الْآخَرُ إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، حَتَّى يُلْقِيَهَا عَلَى لِسَانِ السَّاحِرِ أَوِ الْكَاهِنِ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا، وَرُبَّمَا أَلْقَاهَا قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ،فَيُقَالُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ لَنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا: كَذَا وَكَذَا؟ فَيُصَدَّقُ بِتِلْكَ الْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاء»
(When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree, a chain beating on a rock. And when the fear in their hearts subsides, they say: "What is it that your Lord has said" They say: "The truth. And He is the Most High, the Most Great." Then when the Jinn who are listening out, one above the other) -- and Sufyan illustrated this with a gesture, holding his hand vertically with his fingers outspread -- (when they hear this, they throw it down from one to another, until it is passed to the fortune-teller or soothsayer. The shooting star may strike the Jinn before he passes it on, or he may pass it on before he is struck, and he adds to it one hundred lies, thus it is said: "Did he not tell us that on such and such a day, such and such would happen" So they believe him because of that one thing which was heard from the heavens.) This was recorded by Al-Bukhari. Al-Bukhari recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Prophet said:
«إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحَدَّثُ فِي الْعَنَانِ وَالْعَنَانُ: الْغَمَامُ بِالْأَمْرِ (يَكُونُ) فِي الْأَرْضِ، فَتَسْمَعُ الشَّيَاطِينُ الْكَلِمَةَ، فَتَقُرُّهَا فِي أُذُنِ الْكَاهِنِ كَمَا تُقَرُّ الْقَارُورَةُ، فَيَزِيدُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَة»
(The angels speak in the clouds about some matter on earth, and the Shayatin overhear what they say, so they tell it to the fortune-teller, gurgling into his ear like (a liquid poured) from a glass bottle, and he adds to it one hundred lies.)
Refutation of the Claim that the Prophet was a Poet
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the astray ones follow them.) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "The disbelievers follow the misguided among mankind and the Jinn." This was also the view of Mujahid, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and others. `Ikrimah said, "Two poets would ridicule one another in verse, with one group of people supporting one and another group supporting the other. Hence Allah revealed the Ayah,
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.)
أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ
(See you not that they speak about every subject in their poetry) `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas that this means: "They indulge in every kind of nonsense." Ad-Dahhak reported that Ibn `Abbas said, "They engage in every kind of verbal art." This was also the view of Mujahid and others.
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(And that they say what they do not do. ) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that at the time of the Messenger of Allah ﷺ, two men, one from among the Ansar and one from another tribe, were ridiculing one another in verse, and each one of them was supported by a group of his own people, who were the foolish ones, and Allah said:
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ - أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِى كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لاَ يَفْعَلُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them. See you not that they speak about every subject in their poetry And that they say what they do not do.) What is meant here is that the Messenger , to whom this Qur'an was revealed, was not a soothsayer or a poet, because his situation was quite obviously different to theirs, as Allah says:
وَمَا عَلَّمْنَـهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
(And We have not taught him poetry, nor is it suitable for him. This is only a Reminder and a plain Qur'an.) (36:69),
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَّا تُؤْمِنُونَ - وَلاَ بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(That this is verily, the word of an honored Messenger. It is not the word of a poet, little is that you believe! Nor is it the word of a soothsayer, little is that you remember! This is the Revelation sent down from the Lord of all that exits.) (69:40-43)
The Exception of the Poets of Islam
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) Muhammad bin Ishaq narrated from Yazid bin `Abdullah bin Qusayt, that Abu Al-Hasan Salim Al-Barrad, the freed servant of Tamim Ad-Dari said: "When the Ayah --
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ
(As for the poets, the erring ones follow them.) was revealed, Hassan bin Thabit, `Abdullah bin Rawahah and Ka`b bin Malik came to the Messenger of Allah ﷺ, weeping, and said: "Allah knew when He revealed this Ayah that we are poets. The Prophet recited to them the Ayah,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Except those who believe and do righteous deeds,) and said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَذَكَرُواْ اللَّهَ كَثِيراً
(and remember Allah much). He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.)
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged. ) He said:
«أَنْتُم»
((This means) you.) This was recorded by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir from the narration of Ibn Ishaq. But this Surah was revealed in Makkah, so how could the reason for its revelation be the poets of the Ansar This is something worth thinking about. The reports that have been narrated about this are all Mursal and cannot be relied on. And Allah knows best. But this exception could include the poets of the Ansar and others. It even includes those poets of the Jahiliyyah who indulged in condemning Islam and its followers, then repented and turned to Allah, and gave up what they used to do and started to do righteous deeds and remember Allah much, to make up for the bad things that they had previously said, for good deeds wipe out bad deeds. So they praised Islam and its followers in order to make up for their insults, as the poet `Abdullah bin Az-Zab`ari said when he became Muslim: "O Messenger of Allah, indeed my tongue will try to make up for things it said when I was bad -- When I went along with the Shaytan during the years of misguidance, and whoever inclines towards his way is in a state of loss." Similarly, Abu Sufyan bin Al-Harith bin `Abd Al-Muttalib was one of the most hostile people towards the Prophet , even though he was his cousin, and he was the one who used to mock him the most. But when he became Muslim, there was no one more beloved to him than the Messenger of Allah ﷺ. He began to praise the Messenger of Allah ﷺ where he had mocked him, and take him as a close friend where he had regarded him as an enemy.
وَانتَصَرُواْ مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُواْ
(and vindicate themselves after they have been wronged.) Ibn `Abbas said, "They responded in kind to the disbelievers who used to ridicule the believers in verse." This was also the view of Mujahid, Qatadah and several others. It was also recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan:
«اهْجُهُم»
(Ridicule them in verse.) Or he said:
«َهاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَك»
(Ridicule them in verse, and Jibril is with you.) Imam Ahmad recorded that Ka`b bin Malik said to the Prophet , "Allah has revealed what He revealed about the poets. The Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّـبْل»
(The believer wages Jihad with his sword and with his tongue, By the One in Whose Hand is my soul, it is as if you are attacking them with arrows.)
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) This is like the Ayah,
يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ
(The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers) (40: 52). According to the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَة»
(Beware of wrongdoing, for wrongdoing will be darkness on the Day of Resurrection.) Qatadah bin Di`amah said concerning the Ayah --
وَسَيَعْلَمْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ
(And those who do wrong will come to know by what overturning they will be overturned.) this refers to the poets and others. This is the end of the Tafsir Surat Ash-Shu`ara'. Praise be to Allah, Lord of the worlds.
شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے والے ہوں۔ بدکردار اور گناہگار ہوں۔ ایسے کاہنوں اور بدکرداروں اور جھوٹے لوگوں کے پاس جنات اور شیاطین پہنچتے ہیں کیونکہ وہ بھی جھوٹے اور بداعمال ہیں۔ اچٹتی ہوئی کوئی ایک آدھ بات سنی سنائی پہنچاتے ہیں اور وہ ایک جو آسمان سے چھپے چھپائے سن لی تو سو جھوٹ اس میں ملاکر کاہنوں کے کان میں ڈالدی۔ انہوں نے اپنی طرف سے پھر بہت سی باتیں شامل کرکے لوگوں میں ڈینگیں ماردیں۔ اب ایک آدھ بات تو سچی نکلی لیکن لوگوں نے ان کی اور سو جھوٹی باتیں بھی سچی مان لیں اور تباہ ہوئے۔ بخاری شریف میں ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا وہ کوئی چیز نہیں ہیں۔ لوگوں نے کہا حضور کبھی کبھی تو ان کی کوئی بات کھری بھی نکل آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ وہی بات ہوتی ہے جو جنات آسمان سے اڑا لاتے ہیں اور ان کے کان میں کہہ کر جاتے ہیں پھر اسکے ساتھ جھوٹ اپنی طرف سے ملاکر کہہ دیتے ہیں صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ آسمان پر کرتا ہے تو فرشتے با ادب اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر بجائی جاتی ہو جب وہ گھبراہٹ ان کے دلوں سے دور ہوتی ہے تو آپس میں دریافت کرتے ہیں کہ رب کا کیا حکم صادر ہوا ہے ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں کہ رب نے یہ فرمایا اور وہ عالی شان اور بہت بڑی کبرائی والا ہے۔ کبھی کبھی امر الہی سے چوری چھپے سننے والے کسی جن کے کان میں بھنک پڑجاتی ہے جو اس طرح ایک پر ایک پر ہو کر وہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ راوی حدیث حضرت سفیان نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھیلاکر اس پر دوسرا ہاتھ اس طرح رکھ کر انہیں ہلاکر بتایا کہ اس طرح۔ اب اوپر والا نیچے والے کو اور وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتلا دیتا ہے یہاں تک کہ جادوگر اور کاہن کو وہ پہنچادیتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بات پہنچاتے اس سے پہلے شعلہ پہنچ جاتا ہے اور کبھی اس کے پہلے ہی وہ پہنچادیتے ہیں اس میں کاہن و جادوگر اپنے سو جھوٹ شامل کر کے مشہور کرتا ہے چونکہ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ سب باتوں کو ہی سچا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان تمام احایث کا بیان آیت (حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23) 34۔ سبأ :23) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ فرشتے آسمانی امر کی بات چیت بادلوں پر کرتے ہیں جسے شیطان سن کر کاہنوں اور وہ ایک سچ میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کافر شاعروں کی اتباع گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ عرب کے شاعروں کا دستور تھا کسی کی مذمت اور ہجو میں کچھ کہہ ڈالتے تھے لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوجاتی تھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کیساتھ عرج میں جا رہے تھے راستے میں ایک شاعر شعر خوانی کرتے ہوئے ملا۔ آپ نے فرمایا اس شیطان کو پکڑ لو یا فرمایا روکو۔ تم میں سے کوئی شخص خون اور پیپ سے اپنا پیٹ بھرلے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے اپنا پیٹ بھرے۔ انہیں ہر جنگل کی ٹھوکریں کھاتے کسی نے نہیں دیکھا ؟ ہر لغو میں یہ گھس جاتے ہیں۔ کلام کے ہر فن میں بولتے ہیں۔ کبھی کسی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ کبھی کسی کی مذمت میں آسمان و زمین سر پر اٹھاتے ہیں جھوٹی خوشامد جھوٹی برائیاں گھڑی ہوئی بدیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔ یہ زبان کے بھانڈ ہوتے ہیں لیکن کام کے کاہل ایک انصاری اور ایک دوسری قوم کے شخص نے ہجو کا مقابلہ کیا جس میں دنوں کے قوم کے بڑے بڑے لوگ بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ پس اس آیت میں یہی ہے کہ ان کا ساتھ دینے والے گمراہ لوگ ہیں۔ وہ وہ باتیں بکا کرتے ہیں جنہیں کسی نے کبھی کیا نہ ہو۔ اسی لئے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی شاعر نے نے اپنے شعر میں کسی ایسے گناہ کا اقرار کیا ہو جس پر حد شرع واجب ہوتی ہو تو آیا وہ حد اس پر جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ دونوں طرف علماء گئے۔ واقعی وہ فخر و غرور کے ساتھ ایسی باتیں بک دیتے ہیں کہ میں نے یہ کیا اور وہ کیا حالانکہ نہ کچھ کیا ہو اور نہ ہی کرسکتے ہوں۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت نعمان بن عدی بن فضلہ کو بصرے کے شہر یسان کا گورنر مقرر کیا تھا۔ وہ شاعر تھے ایک مرتبہ اپنے شعروں میں کہا کہ کیا حسینوں کو یہ اطلاع نہیں ہوئی کہ ان کا محبوب یسان میں ہے جہاں ہر وقت شیشے کے گلاسوں میں دور شراب چل رہا ہے اور گاؤں کی بھولی لڑکیوں نے گانے اور ان کے رقص وسرور مہیا ہیں ہاں اگر میرے کسی دوست سے ہوسکے تو اس بڑے اور بھرے ہوئے جام مجھے پلائے لیکن ان سے چھوٹے جام مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اللہ کرے امیر المومنین کو یہ خبر نہ پہنچے ورنہ برا مانیں گے اور سزادیں گے۔ یہ اشعار سچ مچ حضرت امیرالمومنین ؓ تک پہنچ گئے آپ سخت ناراض ہوئے اور اسی وقت آدمی بھیجا کہ میں نے تجھے تیرے عہدے سے معزول کیا۔ اور آپ نے ایک خط بھیجا جس میں بسم اللہ کے بعد حم کی تین آیتیں (الیہ المصیر) تک لکھ کر پھر تحریر فرمایا کہ تیرے اشعار سے مجھے سخت رنج ہوا۔ میں تجھے تیرے عہدے سے معزول کرتا ہوں۔ چناچہ اس خط کو پڑھتے ہی حضرت نعمان دربار خلافت میں حاضر ہوئے اور با ادب عرض کیا کہ امیر المومنین واللہ نہ میں نے کبھی شراب پی نہ ناچ رنگ و گانا بجانا دیکھا، نہ سنا۔ یہ تو صرف شاعرانہ ترنگ تھی۔ آپ نے فرمایا یہی میرا خیال ہے لیکن میری تو ہمت نہیں پڑتی کہ ایسے فحش گو شاعر کو کوئی عہدہ دو۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک بھی شاعر اپنے شعروں میں کسی جرم کے اعلان پر اگرچہ وہ قابل حد ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی اس لئے کہ وہ جو کہتے ہیں سو کرتے نہیں ہاں وہ قابل ملامت اور لائق سرزنش ضرور ہیں۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ پیٹ کو لہو پیپ سے بھر لینا اشعار سے بھرلینے سے بدتر ہے۔ مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نہ تو شاعر ہیں، نہ ساحر، نہ کاہن، نہ مفتری ہیں۔ آپ کا ظاہر حال ہی آپ کے ان عیوب سے براءت کا بہت بڑا عادل گواہ ہے جیسے فرمان ہے کہ تو ہم نے انہیں شعر گوئی سکھائی ہے نہ اس کے لائق ہے یہ تو صرف نصیحت اور قرآن مبین ہے۔ اور آیت میں ہے یہ رسول کریم کا قول ہے کسی شاعر کا نہیں تم میں ایمان کی کمی ہے یہ کسی کاہن کا قول نہیں۔ تم میں نصیحت ماننے کا مادہ کم ہے یہ تو رب العلمین کی اتاری ہوئی کتاب ہے اس سورت میں بھی یہی فرمایا گیا کہ یہ رب العلمین کی طرف سے اتری ہے۔ روح الامین نے تیرے دل پر نازل فرمائی ہے عربی زبان میں ہے اس لیے کہ تو لوگوں کو آگاہ کردے اسے شیاطین لے کر نہیں آئے نہ یہ ان کے لائق ہے نہ ان کی بس کی بات ہے وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ کردئیے گئے ہیں۔ جو جھوٹے مفتری اور بد کردا ہوتے ہیں ان کے پاس شیاطین آتے ہیں جو اچٹتی باتیں سن سناکر ان کے کانوں میں آکر ڈال جاتے ہیں۔ محض جھوٹ بولنے والے یہ خود ہوتے ہیں شاعروں کی پشت پناہی اوباشوں کا کام ہے وہ تو ہر وادی میں سرگرداں ہوتے ہیں زبانی باتیں بناتیں ہیں عمل سے کورے رہتے ہیں۔ اس کے بعد جو فرمان ہے اسکا شان نزول یہ ہے کہ اس سے اگلی آیت جس میں شاعروں کی مذمت ہے جب اتری تو دربار رسول کے شعراء حضرت حسان بن ثابت، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک ؓ روتے ہوئے دربار نبی ﷺ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ﷺ شاعروں کی تو یہ گت بنی اور ہم بھی شاعر ہیں اسی وقت آپ نے یہ دوسری آیت تلاوت فرمائی کہ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے تم ہو ذکر اللہ بکثرت کرنے والے تم ہو مظلوم ہو کر بدلہ لینے والے تم ہو پس تم ان سے مسثنیٰ ہو (ابن ابی حاتم وغیرہ)۔ ایک روایت میں حضرت کعب کا نام ہے ایک روایت میں صرف عبداللہ کی اس شکایت پر کہ یارسول اللہ ﷺ شاعر تو میں بھی ہوں اس دوسری آیت کا نازل ہونا مروی ہے لیکنے یہ قابل نظر۔ اس لئے کہ یہ سورت مکیہ ہے شعراء انصار جتنے بھی تھے وہ سب مدینے میں تھے پھر ان کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا یقینا محل غور ہوگا اور جو حدیثیں بیان ہوئیں وہ مرسل ہیں اس وجہ سے اعتماد نہیں ہوسکتا ہے یہ آیت کا نازل بیشک استثناء کے بارے میں ہے اور صرف یہی انصاری شعراء ؓ ہی نہیں بلکہ اگر کسی شاعر نے اپنی جاہلیت کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی اشعار کہے ہوں اور پھر مسلمان ہوجائے توبہ کرلے اور اس کے مقابلے میں ذکر اللہ بکثرت کرے وہ بیشک اس برائی سے الگ ہے۔ حسنات سیات کو دور کردیتی ہے جب کہ اس نے مسلمان کو اور دین حق کو برا کہا تھا وہ برا تھا لیکن جب اس نے ان کی مدح کی تو برائی بھلائی سے بدل گئی۔ جیسے حضرت عبداللہ بن زبعری ؓ نے اسلام سے پہلے حضور کی ہجو بیان کی تھی لیکن اسلام کے بعد بڑی مدح بیان کی اور اپنے اشعار میں اس ہجو کا عذر بھی بیان کرتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت شیطانی پنجہ میں پھنسا ہوا تھا اسی طرح ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب باوجود آپ کا چچا زاد بھائی ہونے کے آپ کا جانی دشمن تھا اور بہت ہجو کیا کرتا تھا جب مسلمان ہوئے تو ایسے مسلمان ہوئے کہ دنیا بھر میں حضور ﷺ سے زیادہ محبوب انہیں کوئی نہ تھا۔ اکثر آپ کی مدح کیا کرتے تھے اور بہت ہی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ صحیح مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ ابو سفیان صخر بن حرب جب مسلمان ہوا تو حضور ﷺ سے کہنے لگا مجھے تین چیزیں عطا فرمائیے ایک تو یہ کہ میرے لڑکے معاویہ کو اپنا کاتب بنا لیجیے۔ دوسرے مجھے کافروں سے جہاد کے لئے بھیجیے اور میرے ساتھ کوئی لشکر دیجیے تاکہ جس طرح کفر میں مسلمانوں سے لڑا کرتا تھا اب اسلام میں کافروں کی خبر لوں۔ آپ نے دونوں باتیں قبول فرمائیں ایک تیسری درخواست بھی کی جو قبول کی گئی۔ پس ایسے لوگ اس آیت کے حکم سے اس دوسری آیت سے الگ کرلئے گئے۔ ذکر اللہ خواہ وہ اپنے شعروں میں بکثرت کریں خواہ اور طرح اپنے کلام میں یقینا وہ اگلے گناہوں کا بدلہ اور کفارہ ہے۔ اپنی مظلومی کا بدلہ لیتے ہیں۔ یعنی کافروں کی ہجو کا جواب دیتے ہیں۔ خود حضور ﷺ نے حضرت حسان سے فرمایا تھا ان کفار کی ہجو کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک شاعر نے جب شعراء کی برائی قرآن میں سنی تو حضور سے عرض کیا آپ نے فرمایا تم ان میں نہیں ہو مومن تو جس طرح اپنی جان سے جہاد کرتا ہے اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے۔ واللہ تم لوگوں کے اشعار تو انہیں مجاہدین کے تیروں کی طرح چھید ڈالتے ہیں۔ پھر فرمایا ظالموں کو اپنا انجام ابھی معلوم ہوجائے گا۔ انہیں عذر معذرت بھی کچھ کام نہ آئیگی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ظالم سے بچو اس سے میدان قیامت میں اندھیروں میں رہ جاؤ گے۔ آیت عام ہے خواہ شاعر ہوں خواہ شاعر نہ ہوں سب شامل ہیں۔ حضرت حسن نے ایک نصرانی کے جنازے کو جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ آپ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی۔ روم میں جب حضرت فضالہ بن عبید تشریف لے گئے اس وقت ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے جب انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا اس سے مراد بیت اللہ کی بربادی کرنے والے ہیں کہا گیا کہ اس سے مراد اہل مکہ ہیں، یہ بھی مروی ہے کہ مراد مشرک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت عام ہے سب پر مشتمل ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی وصیت صرف دو سطروں میں لکھی۔ جو یہ تھی بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ہے وصیت ابوبکر بن ابی قحافہ کی۔ اس وقت کی جب کہ وہ دنیا چھوڑ رہے تھے۔ جس وقت کافر بھی مومن ہوجاتا، فاجر بھی توبہ کرلیتا تب کاذب کو بھی سچا سمجھتا ہے میں تم پر اپنا خلیفہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بنا جارہا ہوں۔ اگر وہ عدل کرے تو بہت اچھا اور میرا گمان بھی ان کے ساتھ یہی ہے اور اگر وہ ظلم کرے اور کوئی تبدیلی کر دے تو میں غیب نہیں جانتا۔ ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس لوٹنے کی جگہ وہ لوٹتے ہیں۔ سورة شعراء کی تفسیر بحمد اللہ ختم ہوئی۔
Jump to Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227