السجدة — As sajda
Ayah 24 / 30 • Meccan
1,643
24
As sajda
السجدة • Meccan
وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ
And We made some leaders among them, guiding by Our command, when they had persevered; and they used to accept faith in Our signs.
اور ہم نے ان میں سے جب وہ صبر کرتے رہے کچھ امام و پیشوا بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے رہے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Book of Musa and the Leadership of the Children of Israel
Allah tells us that He gave the Book -- the Tawrah -- to His servant and Messenger Musa, peace be upon him.
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) Qatadah said, "This refers to the Night of Isra'," then he narrated that Abu Al-`Aliyah Ar-Riyahi said, "The cousin of your Prophet, meaning Ibn `Abbas, told me that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أُرِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طِوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسى رَجُلًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْط الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّال»
(On the night of Isra', I saw Musa bin `Imran, a tall, brown-skinned man with curly hair, looking like the men of Shanu'ah; and I saw `Isa, a man of medium stature and ruddy white skin, and with lank hair. And I saw Malik the Keeper of Hell, and the Dajjal.) Among the signs which Allah showed him were:
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) i.e., he saw Musa and met with him on the Night of Isra'."
وَجَعَلْنَـهُ
(And We made it) means, `the Book which We gave to him, '
هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ
(a guide to the Children of Israel.) This is similar to what Allah says in Surat Al-Isra':
وَءَاتَيْنَآ مُوسَى الْكِتَـبَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِى وَكِيلاً
(And We gave Musa the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel (saying): "Take none other than Me as Trustee.") (17:2)
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يُوقِنُونَ
(And We made from among them, leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and used to believe with certainty in Our Ayat.) means, because they were patient in adhering to the commands of Allah and avoiding what He prohibited, and they believed in His Messengers and followed what they brought, there were among them leaders who guided others to the truth by the command of Allah, calling for goodness, enjoining what is right and forbidding what is wrong. Then when they changed the Words of Allah, twisting and distorting them, they lost that position and their hearts became hard. They change the words from their places, so they do no righteous deeds and have no correct beliefs. Allah says:
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ
(And We made from among them (Children of Israel), leaders, giving guidance under Our command, when they were patient) Qatadah and Sufyan said: "When they patiently shunned the temptations of this world." This was also the view of Al-Hasan bin Salih. Sufyan said, "This is how these people were. A man cannot be an example to be followed unless he shuns the temptation of this world." Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَـهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَـتِ وَفَضَّلْنَـهُمْ عَلَى الْعَـلَمينَ وَءاتَيْنَـهُم بَيِّنَـتٍ مِّنَ الاٌّمْرِ
(And indeed We gave the Children of Israel the Scripture, and the understanding of the Scripture and its laws, and the prophethood; and provided them with good things, and preferred them above the nations. And We gave them clear proofs in matters.) (45:16-17). And He says here:
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقَيَـمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(Verily, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection, concerning that wherein they used to differ.) meaning, with regard to beliefs and actions.
شب معراج اور نبی اکرم ﷺ فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ کو معراج کرائی گئی۔ حضرت موسیٰ کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنادیا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی۔ جیسے سورة بنی اسرائیل میں ہے آیت (وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا ۭ) 17۔ الإسراء :2) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنادیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو۔ پھر فرماتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنادیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کردئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے حضرت سفیان فرماتے ہیں یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہذا انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتدا کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے آپ فرماتے ہیں دین کے لئے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لئے غذا ضروری ہے۔ حضرت سفیان سے حضرت علی ؓ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنادیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنادیا۔ چناچہ فرمان ہے ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضلیت دی۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا۔
الٓمٓ
Alif-Lam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
الف، لام، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madinah
The Virtues of Surah Alif Lam Mim As-Sajdah
In the Book of the Friday prayer, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet used to recite in Fajr on Fridays:
الم تَنزِيلَ
(Alif Lam Mim. The revelation of...), As-Sajdah, and
هَلْ أَتَى عَلَى الإِنسَـنِ
(Has there not been over man...)Al-Insan (76)." This was also recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Jabir said, "The Prophet would never sleep until he recited:
الم تَنزِيلَ
(Alif Lam Mim. The revelation of...), As-Sajdah, and
تَبَارَكَ الَّذِى بِيَدِهِ الْمُلْكُ
(Blessed be He in Whose Hand is the dominion) Al-Mulk (67)."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is the Book of Allah in which there is no Doubt
We discussed the individual letters at the beginning of Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here.
تَنزِيلُ الْكِتَـبِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(The revelation of the Book in which there is no doubt,) means, there is no doubt whatsoever that it has been revealed
مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(from the Lord of all that exists.) Then Allah tells us about the idolators:
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ
(Or say they: "He has fabricated it"): they say, he has fabricated it, i.e., he has made it up by himself.
بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أَتَـهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
(Nay, it is the truth from your Lord, so that you may warn a people to whom no warner has come before you, in order that they may be guided.) means, in order that they may follow the truth.
غیب کی پانچ باتیں یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں۔ مگر اس کے بعد کہ اللہ اسے علم عطا فرمائے۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانے نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ نر ہوگا یا مادہ لڑکا ہوگا یا لڑکی نیک ہوگا یا بد ؟ اسی طرح کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا ؟ نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کہاں مرے گا ؟ اور آیت میں ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور حدیث میں ہے کہ غیب کی کنجیاں یہاں پانچ چیزیں ہیں جن کا بیان آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 34) 31۔ لقمان :34) میں ہے مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری کی حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ یہ پانچ غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مسند احمد میں حضور ﷺ کا فرمان ہے تجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئی ہیں سوائے پانچ کے پھر یہی آیت آپ نے پڑھی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں حضور ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے اور پوچھنے لگے ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کو فرشتوں کو کتابوں کو رسولوں کو آخرت کو مرنے کے بعد جی اٹھنے کو مان لینا۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے ؟ فرمایا ایک اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا نمازیں پڑھنا زکوٰۃ دینا رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے دریافت کیا احسان کیا ہے ؟ فرمایا تیرا اس طرح اللہ کی عبادت کرنا کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا حضور قیامت کب ہے فرمایا اس کا علم نہ مجھے ہے اور نہ تجھے ہے ہاں اس کی کچھ نشانیاں میں تمہیں بتادیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے میاں کو جنے اور جب ننگے پیروں اور ننگے بدنوں والے لوگوں کے سردار بن جائیں۔ علم قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وہ شخص واپس چلا گیا آپ نے فرمایا جاؤ اسے لوٹا لاؤ لوگ دوڑ پڑے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے (بخاری) ہم نے اس حدیث کا مطلب صحیح بخاری میں خوب بیان کیا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جبرائیل نے اپنی ہتھیلیاں حضور کے گھٹنوں پر رکھ کر یہ سوالات کیے تھے۔ ایک صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں مروی ہے کہ بنو عامر قبیلے کا ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس آیا کہنے لگا میں آؤں ؟ آپ نے اپنے خادم کو بھیجا کہ جا کر انہیں ادب سکھاؤ یہ اجازت مانگنا نہیں جانتے۔ ان سے کہو پہلے سلام کرو پھر دریافت کرو کہ میں آسکتا ہوں ؟ انہوں نے سن لیا اور اسی طرح سلام کیا اور اجازت چاہی یہ گئے اور جاکر کہا آپ ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا بھلائی ہی بھلائی۔ سنو تم ایک اللہ کی عبادت کرو لات وعزیٰ کو چھوڑ دو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھاکرو سال بھر میں ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے اپنے فقیروں پر تقسیم کرو۔ انہوں نے دریافت کیا یارسول اللہ ﷺ کیا علم میں سے کچھ ایساباقی ہے جسے آپ نہ جانتے ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں ایساعلم بھی ہے جسے بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ مجاہد فرماتے ہیں گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے آکر حضور ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ میری عورت حمل سے ہے بتلائے کیا بچہ ہوگا ؟ ہمارے شہر میں قحط ہے فرمائیے بارش کب ہوگی ؟ یہ تو میں نہیں جانتا کہ میں کب پیدا ہوا لیکن یہ آپ معلوم کرادیجئیے کہ کب مرونگا ؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ مجھے ان چیزوں کا مطلق علم نہیں۔ مجاہد فرماتے ہیں یہی غیب کی کنجیاں ہیں جن کے بارے میں فرمان باری ہے کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں جو تم سے کہے کہ رسول اللہ ﷺ کل کی بات کا علم جانتے تھے تو سمجھ لینا کہ وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا ؟ قتادۃ فرماتے ہیں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا نہ نبی کو نہ فرشتہ کو اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کس سال کس مہینے کس دن یا کس رات میں وہ آئے گی۔ اسی طرح بارش کا علم بھی اس کے سوا کسی کو نہیں کہ کب آئے ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ نر ہوگا یا مادہ سرخ ہوگا یا سیاہ ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ نیکی کرے گا یا بدی کرے گا ؟ مرے گا یا جئے گا بہت ممکن ہے کل موت یا آفت آجائے۔ نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس زمین میں وہ دبایا جائے گا یا سمندر میں بہایا جائے گا یا جنگل میں مرے گا یا نرم یا سخت زمین میں جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے جب کسی کو موت دوسری زمین میں ہوتی ہے تو اس کا وہیں کا کوئی کام نکل آتا ہے اور وہیں موت آجاتی ہے اور روایت میں ہے کہ یہ فرما کر رسول کریم ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ اعشی ہمدان کے شعر ہیں جن میں اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ یہ ہیں تیری امانتیں جو تو نے مجھے سونپ رکھی تھیں۔ طبرانی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَا رَيۡبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
The revelation of the Book is, without doubt, from the Lord Of The Creation.
اس کتاب کا اتارا جانا، اس میں کچھ شک نہیں کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madinah
The Virtues of Surah Alif Lam Mim As-Sajdah
In the Book of the Friday prayer, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet used to recite in Fajr on Fridays:
الم تَنزِيلَ
(Alif Lam Mim. The revelation of...), As-Sajdah, and
هَلْ أَتَى عَلَى الإِنسَـنِ
(Has there not been over man...)Al-Insan (76)." This was also recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Jabir said, "The Prophet would never sleep until he recited:
الم تَنزِيلَ
(Alif Lam Mim. The revelation of...), As-Sajdah, and
تَبَارَكَ الَّذِى بِيَدِهِ الْمُلْكُ
(Blessed be He in Whose Hand is the dominion) Al-Mulk (67)."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is the Book of Allah in which there is no Doubt
We discussed the individual letters at the beginning of Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here.
تَنزِيلُ الْكِتَـبِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(The revelation of the Book in which there is no doubt,) means, there is no doubt whatsoever that it has been revealed
مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(from the Lord of all that exists.) Then Allah tells us about the idolators:
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ
(Or say they: "He has fabricated it"): they say, he has fabricated it, i.e., he has made it up by himself.
بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أَتَـهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
(Nay, it is the truth from your Lord, so that you may warn a people to whom no warner has come before you, in order that they may be guided.) means, in order that they may follow the truth.
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورة بقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ حضور ﷺ نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقینا اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اترا ہے کہ حضور ﷺ اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا۔ تاکہ وہ حق کی اتباع کرکے نجات حاصل کرلیں۔
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۚ بَلۡ هُوَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوۡمٗا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٖ مِّن قَبۡلِكَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ
What! They dare say that, “He has fabricated it”? In fact it is the Truth from your Lord, in order that you warn a nation towards whom no Herald of Warning came before you, in the hope of their attaining guidance.
کیا کفار و مشرکین یہ کہتے ہیں کہ اسے اس (رسول) نے گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تاکہ وہ ہدایت پائیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madinah
The Virtues of Surah Alif Lam Mim As-Sajdah
In the Book of the Friday prayer, Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said, "The Prophet used to recite in Fajr on Fridays:
الم تَنزِيلَ
(Alif Lam Mim. The revelation of...), As-Sajdah, and
هَلْ أَتَى عَلَى الإِنسَـنِ
(Has there not been over man...)Al-Insan (76)." This was also recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that Jabir said, "The Prophet would never sleep until he recited:
الم تَنزِيلَ
(Alif Lam Mim. The revelation of...), As-Sajdah, and
تَبَارَكَ الَّذِى بِيَدِهِ الْمُلْكُ
(Blessed be He in Whose Hand is the dominion) Al-Mulk (67)."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is the Book of Allah in which there is no Doubt
We discussed the individual letters at the beginning of Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here.
تَنزِيلُ الْكِتَـبِ لاَ رَيْبَ فِيهِ
(The revelation of the Book in which there is no doubt,) means, there is no doubt whatsoever that it has been revealed
مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(from the Lord of all that exists.) Then Allah tells us about the idolators:
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ
(Or say they: "He has fabricated it"): they say, he has fabricated it, i.e., he has made it up by himself.
بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْماً مَّآ أَتَـهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
(Nay, it is the truth from your Lord, so that you may warn a people to whom no warner has come before you, in order that they may be guided.) means, in order that they may follow the truth.
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورة بقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ حضور ﷺ نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقینا اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اترا ہے کہ حضور ﷺ اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا۔ تاکہ وہ حق کی اتباع کرکے نجات حاصل کرلیں۔
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا شَفِيعٍۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
It is Allah Who created the heavens and the earth, and all what is between them, in six days, then (befitting His Majesty) established Himself over the Throne (of control); leaving Allah, there is neither a friend nor an intercessor for you; so do you not ponder?
اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسے) چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں) میں پیدا فرمایا پھر (نظام کائنات کے) عرش (اقتدار) پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ افروز ہوا، تمہارے لئے اسے چھوڑ کر نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی سفارشی، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and Controller of the Universe
Allah tells us that He is the Creator of all things. He created the heavens and earth and all that is between them in six days, then He rose over the Throne -- we have already discussed this matter elsewhere.
مَا لَكُمْ مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ شَفِيعٍ
(You have none, besides Him, as a protector or an intercessor) means, only He is the Sovereign Who is in control of all affairs, the Creator of all things, the Controller of all things, the One Who is able to do all things. There is no Creator besides Him, no intercessor except the one to whom He gives permission.
أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ
(Will you not then remember) -- this is addressed to those who worship others apart from Him and put their trust in others besides Him -- exalted and sanctified and glorified be He above having any equal, partner, supporter, rival or peer, there is no God or Lord except Him.
يُدَبِّرُ الاٌّمْرَ مِنَ السَّمَآءِ إِلَى الاٌّرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ
(He directs the command from the heavens to the earth; then it will go up to Him,) means, His command comes down from above the heavens to the furthest boundary of the seventh earth. This is like the Ayah,
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـوَتٍ وَمِنَ الاٌّرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الاٌّمْرُ بَيْنَهُنَّ
(It is Allah Who has created seven heavens and of the earth the like thereof. The command descends between them, ) (65:12) Deeds are raised up to the place of recording above the lowest heaven. The distance between heaven and earth is the distance of five hundred years traveling, and the thickness of the heaven is the distance of five hundred years. Mujahid, Qatadah and Ad-Dahhak said, "The distance covered by the angel when he descends or ascends is the distance of five hundred years, but he covers it in the blink of an eye." Allah says:
فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَذَلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ
(in one Day, the measurement of which is a thousand years of your reckoning. That is He, the All-Knower of the unseen and the seen,) meaning, He is controlling all these affairs. He sees all that His servants do, and all their deeds, major and minor, significant and insignificant, ascend to Him. He is the Almighty Who has subjugated all things to His control, and to Whom everybody submits, and He is Most Merciful to His believing servants. He is Almighty in His mercy and Most Merciful in His might. This is perfection: might combined with mercy and mercy combined with might, for He is Merciful without any hint of weakness.
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ مالک وخالق وہی ہے ہر چیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہر چیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو۔ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کار بنانے لگا ؟ وہ برابری سے، وزیر ومشیر سے شریک وسہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اسکے علاوہ کوئی پالنہار ہے۔ نسائی میں ہے حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں ہیں میرا ہاتھ تھام کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چزیں پیدا کرکے ساتویں دن عرش پر قیام کیا۔ مٹی ہفتے کے دن بنی۔ پہاڑ اتوار کے دن درخت سوموار کے دن برائیاں منگل کے دن نور بدھ کے دن جانور جمعرات کے دن آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں اسے تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا جس میں سفید وسیاہ اچھی بری ہر طرح کی تھی اسی باعث اولاد آدم بھی بھلی بری ہوئی۔ امام بخاری اسے معلل بتلاتے ہیں فرماتے ہیں اور سند سے مروری ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے اسے کعب احبار سے بیان کیا ہے اور حضرات محدثین نے بھی اسے معلل بتلایا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جسے اور آیت میں ہے (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا 12ۧ) 65۔ الطلاق :12) اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے۔ اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتناہی اس کا گھیراؤ ہے۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کرلیتا ہے۔ اسی لئے فرمایا ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس نے ہر چیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں۔
يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ يَعۡرُجُ إِلَيۡهِ فِي يَوۡمٖ كَانَ مِقۡدَارُهُۥٓ أَلۡفَ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ
He plans (all) the job(s) from the heaven to the earth – then it will return to Him on the Day which amounts to a thousand years in your count.
وہ آسمان سے زمین تک نظام اقتدار کی تدبیر فرماتا ہے پھر وہ امر اس کی طرف ایک دن میں چڑھتا ہے (اور چڑھے گا) جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and Controller of the Universe
Allah tells us that He is the Creator of all things. He created the heavens and earth and all that is between them in six days, then He rose over the Throne -- we have already discussed this matter elsewhere.
مَا لَكُمْ مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ شَفِيعٍ
(You have none, besides Him, as a protector or an intercessor) means, only He is the Sovereign Who is in control of all affairs, the Creator of all things, the Controller of all things, the One Who is able to do all things. There is no Creator besides Him, no intercessor except the one to whom He gives permission.
أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ
(Will you not then remember) -- this is addressed to those who worship others apart from Him and put their trust in others besides Him -- exalted and sanctified and glorified be He above having any equal, partner, supporter, rival or peer, there is no God or Lord except Him.
يُدَبِّرُ الاٌّمْرَ مِنَ السَّمَآءِ إِلَى الاٌّرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ
(He directs the command from the heavens to the earth; then it will go up to Him,) means, His command comes down from above the heavens to the furthest boundary of the seventh earth. This is like the Ayah,
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـوَتٍ وَمِنَ الاٌّرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الاٌّمْرُ بَيْنَهُنَّ
(It is Allah Who has created seven heavens and of the earth the like thereof. The command descends between them, ) (65:12) Deeds are raised up to the place of recording above the lowest heaven. The distance between heaven and earth is the distance of five hundred years traveling, and the thickness of the heaven is the distance of five hundred years. Mujahid, Qatadah and Ad-Dahhak said, "The distance covered by the angel when he descends or ascends is the distance of five hundred years, but he covers it in the blink of an eye." Allah says:
فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَذَلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ
(in one Day, the measurement of which is a thousand years of your reckoning. That is He, the All-Knower of the unseen and the seen,) meaning, He is controlling all these affairs. He sees all that His servants do, and all their deeds, major and minor, significant and insignificant, ascend to Him. He is the Almighty Who has subjugated all things to His control, and to Whom everybody submits, and He is Most Merciful to His believing servants. He is Almighty in His mercy and Most Merciful in His might. This is perfection: might combined with mercy and mercy combined with might, for He is Merciful without any hint of weakness.
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ مالک وخالق وہی ہے ہر چیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہر چیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو۔ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کار بنانے لگا ؟ وہ برابری سے، وزیر ومشیر سے شریک وسہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اسکے علاوہ کوئی پالنہار ہے۔ نسائی میں ہے حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں ہیں میرا ہاتھ تھام کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چزیں پیدا کرکے ساتویں دن عرش پر قیام کیا۔ مٹی ہفتے کے دن بنی۔ پہاڑ اتوار کے دن درخت سوموار کے دن برائیاں منگل کے دن نور بدھ کے دن جانور جمعرات کے دن آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں اسے تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا جس میں سفید وسیاہ اچھی بری ہر طرح کی تھی اسی باعث اولاد آدم بھی بھلی بری ہوئی۔ امام بخاری اسے معلل بتلاتے ہیں فرماتے ہیں اور سند سے مروری ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے اسے کعب احبار سے بیان کیا ہے اور حضرات محدثین نے بھی اسے معلل بتلایا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جسے اور آیت میں ہے (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا 12ۧ) 65۔ الطلاق :12) اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے۔ اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتناہی اس کا گھیراؤ ہے۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کرلیتا ہے۔ اسی لئے فرمایا ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس نے ہر چیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں۔
ذَٰلِكَ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
This is the All Knowing – of all the hidden and the visible, the Most Honourable, the Most Merciful.
وہی غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، غالب و مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the Creator and Controller of the Universe
Allah tells us that He is the Creator of all things. He created the heavens and earth and all that is between them in six days, then He rose over the Throne -- we have already discussed this matter elsewhere.
مَا لَكُمْ مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ شَفِيعٍ
(You have none, besides Him, as a protector or an intercessor) means, only He is the Sovereign Who is in control of all affairs, the Creator of all things, the Controller of all things, the One Who is able to do all things. There is no Creator besides Him, no intercessor except the one to whom He gives permission.
أَفَلاَ تَتَذَكَّرُونَ
(Will you not then remember) -- this is addressed to those who worship others apart from Him and put their trust in others besides Him -- exalted and sanctified and glorified be He above having any equal, partner, supporter, rival or peer, there is no God or Lord except Him.
يُدَبِّرُ الاٌّمْرَ مِنَ السَّمَآءِ إِلَى الاٌّرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ
(He directs the command from the heavens to the earth; then it will go up to Him,) means, His command comes down from above the heavens to the furthest boundary of the seventh earth. This is like the Ayah,
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمَـوَتٍ وَمِنَ الاٌّرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الاٌّمْرُ بَيْنَهُنَّ
(It is Allah Who has created seven heavens and of the earth the like thereof. The command descends between them, ) (65:12) Deeds are raised up to the place of recording above the lowest heaven. The distance between heaven and earth is the distance of five hundred years traveling, and the thickness of the heaven is the distance of five hundred years. Mujahid, Qatadah and Ad-Dahhak said, "The distance covered by the angel when he descends or ascends is the distance of five hundred years, but he covers it in the blink of an eye." Allah says:
فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَذَلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ
(in one Day, the measurement of which is a thousand years of your reckoning. That is He, the All-Knower of the unseen and the seen,) meaning, He is controlling all these affairs. He sees all that His servants do, and all their deeds, major and minor, significant and insignificant, ascend to Him. He is the Almighty Who has subjugated all things to His control, and to Whom everybody submits, and He is Most Merciful to His believing servants. He is Almighty in His mercy and Most Merciful in His might. This is perfection: might combined with mercy and mercy combined with might, for He is Merciful without any hint of weakness.
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔ مالک وخالق وہی ہے ہر چیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہر چیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو۔ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کار بنانے لگا ؟ وہ برابری سے، وزیر ومشیر سے شریک وسہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اسکے علاوہ کوئی پالنہار ہے۔ نسائی میں ہے حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں ہیں میرا ہاتھ تھام کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چزیں پیدا کرکے ساتویں دن عرش پر قیام کیا۔ مٹی ہفتے کے دن بنی۔ پہاڑ اتوار کے دن درخت سوموار کے دن برائیاں منگل کے دن نور بدھ کے دن جانور جمعرات کے دن آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں اسے تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا جس میں سفید وسیاہ اچھی بری ہر طرح کی تھی اسی باعث اولاد آدم بھی بھلی بری ہوئی۔ امام بخاری اسے معلل بتلاتے ہیں فرماتے ہیں اور سند سے مروری ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے اسے کعب احبار سے بیان کیا ہے اور حضرات محدثین نے بھی اسے معلل بتلایا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جسے اور آیت میں ہے (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا 12ۧ) 65۔ الطلاق :12) اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے۔ اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتناہی اس کا گھیراؤ ہے۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کرلیتا ہے۔ اسی لئے فرمایا ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس نے ہر چیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں۔
ٱلَّذِيٓ أَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥۖ وَبَدَأَ خَلۡقَ ٱلۡإِنسَٰنِ مِن طِينٖ
The One Who created all things excellent, and Who initiated the creation of man from clay.
وہی ہے جس نے خوبی و حسن بخشا ہر اس چیز کو جسے اس نے پیدا فرمایا اور اس نے انسانی تخلیق کی ابتداء مٹی (یعنی غیر نامی مادّہ) سے کی
Tafsir Ibn Kathir
The Creation of Man in Stages
Allah tells us that He has created everything well and formed everything in a goodly fashion. Malik said, narrating from Zayd bin Aslam:
الَّذِى أَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهُ
(Who made everything He has created good) means, "He created everything well and in a goodly fashion." When Allah mentions the creation of the heavens and the earth, He follows that by mentioning the creation of man. Allah says:
وَبَدَأَ خَلْقَ الإِنْسَـنِ مِن طِينٍ
(and He began the creation of man from clay.) meaning, He created the father of mankind, Adam, from clay.
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلاَلَةٍ مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ
(Then He made his offspring from semen of despised water.) means, they reproduce in this fashion, from a Nutfah which comes from the loins of men and from between the ribs of women.
ثُمَّ سَوَّاهُ
(Then He fashioned him in due proportion,) means, when He created Adam from clay, He created him and gave him shape and made him upright.
وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالاٌّفْئِدَةَ
(and breathed into him the soul; and He gave you hearing, sight and the sense of deduction.) means, reason.
قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ
(Little is the thanks you give!) means, for these strengths with which Allah has provided you; the one who is truly blessed is the one who uses them to worship and obey his Lord, may He be exalted and glorified.
بہترین خالق بہترین مصور ومدور فرماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہر چیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کیساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے۔ ابو البشر حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدائے ہوئے۔ پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گذاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ جل شانہ وعزاسمہ
ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهُۥ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن مَّآءٖ مَّهِينٖ
Then kept his posterity with a part of an abject fluid.
پھر اس کی نسل کو حقیر پانی کے نچوڑ (یعنی نطفہ) سے چلایا
Tafsir Ibn Kathir
The Creation of Man in Stages
Allah tells us that He has created everything well and formed everything in a goodly fashion. Malik said, narrating from Zayd bin Aslam:
الَّذِى أَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهُ
(Who made everything He has created good) means, "He created everything well and in a goodly fashion." When Allah mentions the creation of the heavens and the earth, He follows that by mentioning the creation of man. Allah says:
وَبَدَأَ خَلْقَ الإِنْسَـنِ مِن طِينٍ
(and He began the creation of man from clay.) meaning, He created the father of mankind, Adam, from clay.
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلاَلَةٍ مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ
(Then He made his offspring from semen of despised water.) means, they reproduce in this fashion, from a Nutfah which comes from the loins of men and from between the ribs of women.
ثُمَّ سَوَّاهُ
(Then He fashioned him in due proportion,) means, when He created Adam from clay, He created him and gave him shape and made him upright.
وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالاٌّفْئِدَةَ
(and breathed into him the soul; and He gave you hearing, sight and the sense of deduction.) means, reason.
قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ
(Little is the thanks you give!) means, for these strengths with which Allah has provided you; the one who is truly blessed is the one who uses them to worship and obey his Lord, may He be exalted and glorified.
بہترین خالق بہترین مصور ومدور فرماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہر چیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کیساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے۔ ابو البشر حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدائے ہوئے۔ پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گذاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ جل شانہ وعزاسمہ
ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ
Then made him proper and blew into him a spirit from Him, and bestowed ears and eyes and hearts to you; very little thanks do you offer!
پھر اس (میں اعضاء) کو درست کیا اور اس میں اپنی روحِ (حیات) پھونکی اور تمہارے لئے (رحمِ مادر ہی میں پہلے) کان اور (پھر) آنکھیں اور (پھر) دل و دماغ بنائے، تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Creation of Man in Stages
Allah tells us that He has created everything well and formed everything in a goodly fashion. Malik said, narrating from Zayd bin Aslam:
الَّذِى أَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهُ
(Who made everything He has created good) means, "He created everything well and in a goodly fashion." When Allah mentions the creation of the heavens and the earth, He follows that by mentioning the creation of man. Allah says:
وَبَدَأَ خَلْقَ الإِنْسَـنِ مِن طِينٍ
(and He began the creation of man from clay.) meaning, He created the father of mankind, Adam, from clay.
ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلاَلَةٍ مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ
(Then He made his offspring from semen of despised water.) means, they reproduce in this fashion, from a Nutfah which comes from the loins of men and from between the ribs of women.
ثُمَّ سَوَّاهُ
(Then He fashioned him in due proportion,) means, when He created Adam from clay, He created him and gave him shape and made him upright.
وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالاٌّفْئِدَةَ
(and breathed into him the soul; and He gave you hearing, sight and the sense of deduction.) means, reason.
قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ
(Little is the thanks you give!) means, for these strengths with which Allah has provided you; the one who is truly blessed is the one who uses them to worship and obey his Lord, may He be exalted and glorified.
بہترین خالق بہترین مصور ومدور فرماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہر چیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کیساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے۔ ابو البشر حضرت آدم ؑ مٹی سے پیدائے ہوئے۔ پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گذاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ جل شانہ وعزاسمہ
10
View Single
وَقَالُوٓاْ أَءِذَا ضَلَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدِۭۚ بَلۡ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ كَٰفِرُونَ
And they said, “When we have mingled into the earth, will we be created again?”; in fact they disbelieve in the meeting with their Lord.
اور کفار کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی میں مِل کر گم ہوجائیں گے تو (کیا) ہم اَز سرِ نَو پیدائش میں آئیں گے، بلکہ وہ اپنے رب سے ملاقات ہی کے مُنکِر ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of Those Who think the Resurrection is unlikely to happen
Allah tells us how the idolators thought it unlikely that the resurrection would ever come to pass, and how they said:
أَءِذَا ضَلَلْنَا فِى الاٌّرْضِ
(When we are lost in the earth,) meaning, `when our bodies have been scattered and have disintegrated and dispersed in the earth,'
أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍ
(shall we indeed be created anew) means, `after that, will we come back again' They thought it unlikely that this would happen, and in terms of their own feeble abilities it is indeed unlikely, but this is not the case with regard to the power of the One Who created them from nothing, Who when He wills a thing merely says to it, "Be!" and it is. Allah says:
بَلْ هُم بِلَقَآءِ رَبِّهِمْ كَـفِرُونَ
(Nay, but they deny the meeting with their Lord!) Then Allah says:
قُلْ يَتَوَفَّـكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِى وُكِّلَ بِكُمْ
(Say: "The angel of death, who is set over you, will take your souls...") The apparent meaning of this Ayah is that the angel of death is a specific personality among the angels, as is also apparent from the Hadith of Al-Bara' which we quoted in (our Tafsir of) Surah Ibrahim. In some reports he (the angel of death) is called `Izra'il, which is well known. This is the view of Qatadah and others. The angel of death has helpers. It was reported in the Hadith that his helpers draw out the soul from the rest of the body until it reaches the throat, then the angel of death takes it. Mujahid said, "The earth is brought together for him and it is like a platter from which he takes whenever he wants."
ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ
(Then you shall be brought to your Lord.) means, on the Day when you are resurrected and brought forth from your graves to receive your reward or punishment.
انسان اور فرشتوں کا ساتھ کفار کا عقیدہ بیان ہو رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل نہیں۔ اور اسے وہ محال جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہمارے ریزے ریزے جدا ہوجائیں گے اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے پھر بھی کیا ہم نئے سرے سے بنائے جاسکتے ہیں۔ افسوس یہ لوگ اپنے اوپر اللہ کو بھی قیاس کرتے ہیں اور اپنی محدود قدرت پر اللہ کی نامعلوم قدرت کا اندازہ کرتے ہیں۔ مانتے ہیں جانتے ہیں کہ اللہ نے اول بار پیدا کیا ہے۔ تعجب ہے پھر دوبارہ پیدا کرنے پر اسے قدرت کیوں نہیں مانتے ؟ حالانکہ اس کا تو صرف فرمان چلتا ہے۔ جہاں کہا یوں ہوجا وہیں ہوگیا۔ اسی لئے فرمادیا کہ انہیں اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ ملک الموت جو تمہاری روح قبض کرنے پر مقرر ہیں تمہیں فوت کردیں گے۔ اس آیت میں بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک الموت ایک فرشتہ کا لقب ہے۔ حضرت برا کی وہ حدیث جس کا بیان سورة ابراہیم میں گذرچکا ہے اس سے بھی پہلی بات سمجھ میں آتی ہے اور بعض آثار میں ان کا نام عزرائیل بھی آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ ہاں ان کے ساتھی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے فرشتے بھی ہیں جو جسم سے روح نکالتے ہیں اور نرخرے تک پہنچ جانے کے بعد ملک الموت اسے لے لیتے ہیں۔ ان کے لئے زمین سمیٹ دی گئی ہیں اور ایسی ہی ہے جیسے ہمارے سامنے کوئی طشتری رکھی ہوئی ہو۔ کہ جو چاہا اٹھالیا۔ ایک مرسل حدیث بھی اس مضمون کی ہے۔ ابن عباس ؓ کا مقولہ بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک انصاری کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملک الموت میرے صحابی کے ساتھ آسانی کیجئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اے اللہ کے نبی تسکین خاطر رکھئے اور دل خوش کیجئے واللہ میں خود باایمان اور نہایت نرمی کرنے والا ہوں۔ سنو ! یارسول ﷺ قسم ہے اللہ کی تمام دنیا کے ہر کچے پکے گھر میں خواہ وہ خشکی میں ہو یا تری میں ہر دن میں میرے پانچ پھیرے ہوتے ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کو میں اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں جتنا وہ اپنے آپ کو جانتا ہے۔ یارسول اللہ ﷺ یقین مانئے اللہ کی قسم میں تو ایک مچھر کی جان قبض کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتاجب تک مجھے اللہ کا حکم نہ ہو۔ حضرت جعفر کا بیان ہے کہ ملک الموت ؑ کا دن میں پانچ وقت ایک ایک شخص کو ڈھونڈ بھال کرنا یہی ہے کہ آپ پانچوں نمازوں کے وقت دیکھ لیا کرتے ہیں اگر وہ نمازوں کی حفاظت کرنے والا ہو تو فرشتے اس کے قریب رہتے ہیں اور شیطان اس سے دور رہتا ہے اور اس کے آخری وقت فرشتہ اسے لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین کرتا ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں ہر دن ہر گھر پر ملک الموت دو دفعہ آتے ہیں۔ کعب احبار اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دروازے پر ٹھہر کر دن بھر میں سات مرتبہ نظر مارتے ہیں کہ اس میں کوئی وہ تو نہیں جس کی روح نکالنے کا حکم ہوچکا ہو۔ پھر قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے قبروں سے نکل کر میدان محشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اپنے کئے کا پھل پانا ہے۔
11
View Single
۞قُلۡ يَتَوَفَّىٰكُم مَّلَكُ ٱلۡمَوۡتِ ٱلَّذِي وُكِّلَ بِكُمۡ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُونَ
Proclaim, “The angel of death, who is appointed over you, causes you to die and then towards your Lord you will return.”
آپ فرما دیں کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روح قبض کرتا ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
Refutation of Those Who think the Resurrection is unlikely to happen
Allah tells us how the idolators thought it unlikely that the resurrection would ever come to pass, and how they said:
أَءِذَا ضَلَلْنَا فِى الاٌّرْضِ
(When we are lost in the earth,) meaning, `when our bodies have been scattered and have disintegrated and dispersed in the earth,'
أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍ
(shall we indeed be created anew) means, `after that, will we come back again' They thought it unlikely that this would happen, and in terms of their own feeble abilities it is indeed unlikely, but this is not the case with regard to the power of the One Who created them from nothing, Who when He wills a thing merely says to it, "Be!" and it is. Allah says:
بَلْ هُم بِلَقَآءِ رَبِّهِمْ كَـفِرُونَ
(Nay, but they deny the meeting with their Lord!) Then Allah says:
قُلْ يَتَوَفَّـكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِى وُكِّلَ بِكُمْ
(Say: "The angel of death, who is set over you, will take your souls...") The apparent meaning of this Ayah is that the angel of death is a specific personality among the angels, as is also apparent from the Hadith of Al-Bara' which we quoted in (our Tafsir of) Surah Ibrahim. In some reports he (the angel of death) is called `Izra'il, which is well known. This is the view of Qatadah and others. The angel of death has helpers. It was reported in the Hadith that his helpers draw out the soul from the rest of the body until it reaches the throat, then the angel of death takes it. Mujahid said, "The earth is brought together for him and it is like a platter from which he takes whenever he wants."
ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ
(Then you shall be brought to your Lord.) means, on the Day when you are resurrected and brought forth from your graves to receive your reward or punishment.
انسان اور فرشتوں کا ساتھ کفار کا عقیدہ بیان ہو رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل نہیں۔ اور اسے وہ محال جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہمارے ریزے ریزے جدا ہوجائیں گے اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے پھر بھی کیا ہم نئے سرے سے بنائے جاسکتے ہیں۔ افسوس یہ لوگ اپنے اوپر اللہ کو بھی قیاس کرتے ہیں اور اپنی محدود قدرت پر اللہ کی نامعلوم قدرت کا اندازہ کرتے ہیں۔ مانتے ہیں جانتے ہیں کہ اللہ نے اول بار پیدا کیا ہے۔ تعجب ہے پھر دوبارہ پیدا کرنے پر اسے قدرت کیوں نہیں مانتے ؟ حالانکہ اس کا تو صرف فرمان چلتا ہے۔ جہاں کہا یوں ہوجا وہیں ہوگیا۔ اسی لئے فرمادیا کہ انہیں اپنے پروردگار کی ملاقات سے انکار ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ ملک الموت جو تمہاری روح قبض کرنے پر مقرر ہیں تمہیں فوت کردیں گے۔ اس آیت میں بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک الموت ایک فرشتہ کا لقب ہے۔ حضرت برا کی وہ حدیث جس کا بیان سورة ابراہیم میں گذرچکا ہے اس سے بھی پہلی بات سمجھ میں آتی ہے اور بعض آثار میں ان کا نام عزرائیل بھی آیا ہے اور یہی مشہور ہے۔ ہاں ان کے ساتھی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے فرشتے بھی ہیں جو جسم سے روح نکالتے ہیں اور نرخرے تک پہنچ جانے کے بعد ملک الموت اسے لے لیتے ہیں۔ ان کے لئے زمین سمیٹ دی گئی ہیں اور ایسی ہی ہے جیسے ہمارے سامنے کوئی طشتری رکھی ہوئی ہو۔ کہ جو چاہا اٹھالیا۔ ایک مرسل حدیث بھی اس مضمون کی ہے۔ ابن عباس ؓ کا مقولہ بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک انصاری کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملک الموت میرے صحابی کے ساتھ آسانی کیجئے۔ آپ نے جواب دیا کہ اے اللہ کے نبی تسکین خاطر رکھئے اور دل خوش کیجئے واللہ میں خود باایمان اور نہایت نرمی کرنے والا ہوں۔ سنو ! یارسول ﷺ قسم ہے اللہ کی تمام دنیا کے ہر کچے پکے گھر میں خواہ وہ خشکی میں ہو یا تری میں ہر دن میں میرے پانچ پھیرے ہوتے ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کو میں اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں جتنا وہ اپنے آپ کو جانتا ہے۔ یارسول اللہ ﷺ یقین مانئے اللہ کی قسم میں تو ایک مچھر کی جان قبض کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتاجب تک مجھے اللہ کا حکم نہ ہو۔ حضرت جعفر کا بیان ہے کہ ملک الموت ؑ کا دن میں پانچ وقت ایک ایک شخص کو ڈھونڈ بھال کرنا یہی ہے کہ آپ پانچوں نمازوں کے وقت دیکھ لیا کرتے ہیں اگر وہ نمازوں کی حفاظت کرنے والا ہو تو فرشتے اس کے قریب رہتے ہیں اور شیطان اس سے دور رہتا ہے اور اس کے آخری وقت فرشتہ اسے لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین کرتا ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں ہر دن ہر گھر پر ملک الموت دو دفعہ آتے ہیں۔ کعب احبار اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دروازے پر ٹھہر کر دن بھر میں سات مرتبہ نظر مارتے ہیں کہ اس میں کوئی وہ تو نہیں جس کی روح نکالنے کا حکم ہوچکا ہو۔ پھر قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے قبروں سے نکل کر میدان محشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اپنے کئے کا پھل پانا ہے۔
12
View Single
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلۡمُجۡرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَآ أَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَٱرۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ
And if you see when the guilty will hang their heads before their Lord; “Our Lord! We have seen and heard, therefore send us back in order that we do good deeds – we are now convinced!”
اور اگر آپ دیکھیں (تو ان پر تعجب کریں) کہ جب مُجرِم لوگ اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوں گے اور (کہیں گے:) اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سُن لیا، پس (اب) ہمیں (دنیا میں) واپس لوٹا دے کہ ہم نیک عمل کر لیں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Bad State in which the Idolators will be on the Day of Resurrection
Allah tells us the state of the idolators on the Day of Resurrection and what they will say when they see the Resurrection and are standing before Allah -- may He be glorified -- humiliated and brought low, with their heads bowed, i.e., in shame. They will say:
رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا
(Our Lord! We have now seen and heard,) meaning, `now we hear what You say and we will obey You.' This is like the Ayah,
أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا
(How clearly will they see and hear, the Day when they will appear before Us!) (19:38). And they will blame themselves when they enter the Fire, and will say:
لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِى أَصْحَـبِ السَّعِيرِ
("Had we but listened or used our intelligence, we would not have been among the dwellers of the blazing Fire!") 67:10 Similarly, here they are described as saying:
رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا
(Our Lord! We have now seen and heard, so send us back) to the world,
نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.) means, `now we are sure and we believe that Your promise is true and that the meeting with You is true.' But the Lord, may He be exalted, knows that if He were to send them back to this world, they would behave as they did previously, and they would reject and disbelieve in the signs of Allah and would go against His Messengers, as He says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord,") (6: 27) And Allah says here:
وَلَوْ شِئْنَا لاّتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا
(And if We had willed, surely We would have given every person his guidance,) This is like the Ayah,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together) (10:99).
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) i.e., from both classes, so their abode will be Hell and they will have no escape from it and no way out. We seek refuge with Allah and in His perfect Words from that.
فَذُوقُواْ بِمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَآ
(Then taste because of your forgetting the meeting of this Day of yours.) means, it will be said to the people of Hell by way of rebuke: `taste this punishment because you denied it and believed that it would never happen; you tried to forget about it and acted as if you had forgotten it.'
إِنَّا نَسِينَـكُمْ
(Surely, We too will forget you,) means, `We will deal with you as if We have forgotten you,' but nothing escapes Allah's attention, and He makes the punishment fit the crime, as He says:
الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا
(This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours) (45:34).
وَذُوقُـواْ عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(so taste you the abiding torment for what you used to do.) i.e., because of your disbelief and rejection, as Allah says in another Ayah:
لاَّ يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْداً وَلاَ شَرَاباً - إِلاَّ حَمِيماً وَغَسَّاقاً
(Nothing cool shall they taste therein, nor any drink. Except Hamim, and Ghassaq) until:
فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلاَّ عَذَاباً
(No increase shall We give you, except in torment) (78:24-30).
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔ اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہوگئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لئے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہوجائیں گے۔ سب اندھا و بہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہوگیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر دوبارہ بھی بھیجے جائیں تو یہی حرکت کریں گے۔ پھر سے اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے دوبارہ نبیوں کو ستائیں گے۔ جیسے کہ خود قرآن کریم کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) میں ہے۔ اسی لئے یہاں فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے جیسے فرمان ہے۔ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کا ایک ایک رہنے والا مومن بن جاتا۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ انسان اور جنات سے جہنم پر ہونا ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کے پورپورے کلمات کا یہ اٹل امر ہے۔ ہم اس کے تمام عذابوں سے پناہ چاہتے ہیں۔ دوزخیوں سے بطور سرزنش کے کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کی فراموشی کا مزہ چکھو۔ اور اس کے جھٹلانے کا خمیازہ بھگتو۔ اسے محال سمجھ کر تم نے وہ معاملہ کیا کہ جو ہر ایک بھولنے والا کیا کرتا ہے۔ اب ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔ اللہ کی ذات حقیقی نسیان اور بھول سے پاک ہے۔ یہ تو صرف بدلے کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے آیت (وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 34) 45۔ الجاثية :34) آج ہم تمہیں بھول جاتے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا 24ۙ) 78۔ النبأ :24) وہاں ٹھنڈک اور پانی نہ رہے گا سوائے گرم پانی اور لہو پیپ کے اور کچھ نہ ہوگا۔
13
View Single
وَلَوۡ شِئۡنَا لَأٓتَيۡنَا كُلَّ نَفۡسٍ هُدَىٰهَا وَلَٰكِنۡ حَقَّ ٱلۡقَوۡلُ مِنِّي لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجۡمَعِينَ
And had We willed We would have given every soul its guidance, but My Word is decreed that I will certainly fill hell with these jinns and men, combined.
اور اگر ہم چاہتے تو ہم ہر نفس کو اس کی ہدایت (اَز خود ہی) عطا کر دیتے لیکن میری طرف سے (یہ) فرمان ثابت ہو چکا ہے کہ میں ضرور سب (مُنکر) جنّات اور انسانوں سے دوزخ کو بھر دوں گا
Tafsir Ibn Kathir
The Bad State in which the Idolators will be on the Day of Resurrection
Allah tells us the state of the idolators on the Day of Resurrection and what they will say when they see the Resurrection and are standing before Allah -- may He be glorified -- humiliated and brought low, with their heads bowed, i.e., in shame. They will say:
رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا
(Our Lord! We have now seen and heard,) meaning, `now we hear what You say and we will obey You.' This is like the Ayah,
أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا
(How clearly will they see and hear, the Day when they will appear before Us!) (19:38). And they will blame themselves when they enter the Fire, and will say:
لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِى أَصْحَـبِ السَّعِيرِ
("Had we but listened or used our intelligence, we would not have been among the dwellers of the blazing Fire!") 67:10 Similarly, here they are described as saying:
رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا
(Our Lord! We have now seen and heard, so send us back) to the world,
نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.) means, `now we are sure and we believe that Your promise is true and that the meeting with You is true.' But the Lord, may He be exalted, knows that if He were to send them back to this world, they would behave as they did previously, and they would reject and disbelieve in the signs of Allah and would go against His Messengers, as He says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord,") (6: 27) And Allah says here:
وَلَوْ شِئْنَا لاّتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا
(And if We had willed, surely We would have given every person his guidance,) This is like the Ayah,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together) (10:99).
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) i.e., from both classes, so their abode will be Hell and they will have no escape from it and no way out. We seek refuge with Allah and in His perfect Words from that.
فَذُوقُواْ بِمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَآ
(Then taste because of your forgetting the meeting of this Day of yours.) means, it will be said to the people of Hell by way of rebuke: `taste this punishment because you denied it and believed that it would never happen; you tried to forget about it and acted as if you had forgotten it.'
إِنَّا نَسِينَـكُمْ
(Surely, We too will forget you,) means, `We will deal with you as if We have forgotten you,' but nothing escapes Allah's attention, and He makes the punishment fit the crime, as He says:
الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا
(This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours) (45:34).
وَذُوقُـواْ عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(so taste you the abiding torment for what you used to do.) i.e., because of your disbelief and rejection, as Allah says in another Ayah:
لاَّ يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْداً وَلاَ شَرَاباً - إِلاَّ حَمِيماً وَغَسَّاقاً
(Nothing cool shall they taste therein, nor any drink. Except Hamim, and Ghassaq) until:
فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلاَّ عَذَاباً
(No increase shall We give you, except in torment) (78:24-30).
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔ اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہوگئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لئے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہوجائیں گے۔ سب اندھا و بہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہوگیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر دوبارہ بھی بھیجے جائیں تو یہی حرکت کریں گے۔ پھر سے اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے دوبارہ نبیوں کو ستائیں گے۔ جیسے کہ خود قرآن کریم کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) میں ہے۔ اسی لئے یہاں فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے جیسے فرمان ہے۔ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کا ایک ایک رہنے والا مومن بن جاتا۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ انسان اور جنات سے جہنم پر ہونا ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کے پورپورے کلمات کا یہ اٹل امر ہے۔ ہم اس کے تمام عذابوں سے پناہ چاہتے ہیں۔ دوزخیوں سے بطور سرزنش کے کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کی فراموشی کا مزہ چکھو۔ اور اس کے جھٹلانے کا خمیازہ بھگتو۔ اسے محال سمجھ کر تم نے وہ معاملہ کیا کہ جو ہر ایک بھولنے والا کیا کرتا ہے۔ اب ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔ اللہ کی ذات حقیقی نسیان اور بھول سے پاک ہے۔ یہ تو صرف بدلے کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے آیت (وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 34) 45۔ الجاثية :34) آج ہم تمہیں بھول جاتے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا 24ۙ) 78۔ النبأ :24) وہاں ٹھنڈک اور پانی نہ رہے گا سوائے گرم پانی اور لہو پیپ کے اور کچھ نہ ہوگا۔
14
View Single
فَذُوقُواْ بِمَا نَسِيتُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَآ إِنَّا نَسِينَٰكُمۡۖ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡخُلۡدِ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
“Therefore taste the recompense of your forgetting the confronting of this day of yours; We have abandoned you – now taste the everlasting punishment, the recompense of your deeds!”
پس (اب) تم مزہ چکھو کہ تم نے اپنے اس دن کی پیشی کو بھلا رکھا تھا، بیشک ہم نے تم کو بھلا دیا ہے اور اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے رہے تھے دائمی عذاب چکھتے رہو
Tafsir Ibn Kathir
The Bad State in which the Idolators will be on the Day of Resurrection
Allah tells us the state of the idolators on the Day of Resurrection and what they will say when they see the Resurrection and are standing before Allah -- may He be glorified -- humiliated and brought low, with their heads bowed, i.e., in shame. They will say:
رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا
(Our Lord! We have now seen and heard,) meaning, `now we hear what You say and we will obey You.' This is like the Ayah,
أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا
(How clearly will they see and hear, the Day when they will appear before Us!) (19:38). And they will blame themselves when they enter the Fire, and will say:
لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِى أَصْحَـبِ السَّعِيرِ
("Had we but listened or used our intelligence, we would not have been among the dwellers of the blazing Fire!") 67:10 Similarly, here they are described as saying:
رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا
(Our Lord! We have now seen and heard, so send us back) to the world,
نَعْمَلْ صَـلِحاً إِنَّا مُوقِنُونَ
(that we will do righteous good deeds. Verily, we now believe with certainty.) means, `now we are sure and we believe that Your promise is true and that the meeting with You is true.' But the Lord, may He be exalted, knows that if He were to send them back to this world, they would behave as they did previously, and they would reject and disbelieve in the signs of Allah and would go against His Messengers, as He says:
وَلَوْ تَرَى إِذْ وُقِفُواْ عَلَى النَّارِ فَقَالُواْ يلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُكَذِّبَ بِـَايَـتِ رَبِّنَا
(If you could but see when they will be held over the (Hell) Fire! They will say: "Would that we were but sent back! Then we would not deny the Ayat of our Lord,") (6: 27) And Allah says here:
وَلَوْ شِئْنَا لاّتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا
(And if We had willed, surely We would have given every person his guidance,) This is like the Ayah,
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, those on earth would have believed, all of them together) (10:99).
وَلَـكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنْى لاّمْلأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
(but the Word from Me took effect, that I will fill Hell with Jinn and mankind together.) i.e., from both classes, so their abode will be Hell and they will have no escape from it and no way out. We seek refuge with Allah and in His perfect Words from that.
فَذُوقُواْ بِمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَآ
(Then taste because of your forgetting the meeting of this Day of yours.) means, it will be said to the people of Hell by way of rebuke: `taste this punishment because you denied it and believed that it would never happen; you tried to forget about it and acted as if you had forgotten it.'
إِنَّا نَسِينَـكُمْ
(Surely, We too will forget you,) means, `We will deal with you as if We have forgotten you,' but nothing escapes Allah's attention, and He makes the punishment fit the crime, as He says:
الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَـذَا
(This Day We will forget you as you forgot the meeting of this Day of yours) (45:34).
وَذُوقُـواْ عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(so taste you the abiding torment for what you used to do.) i.e., because of your disbelief and rejection, as Allah says in another Ayah:
لاَّ يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْداً وَلاَ شَرَاباً - إِلاَّ حَمِيماً وَغَسَّاقاً
(Nothing cool shall they taste therein, nor any drink. Except Hamim, and Ghassaq) until:
فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلاَّ عَذَاباً
(No increase shall We give you, except in torment) (78:24-30).
ناعاقبت اندیشو اب خمیازہ بھگتو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ گنہگار اپنا دوبارہ جینا خود اپنے آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور نہایت ذلت و حقارت کے ساتھ نادم ہو کر گردنیں جھکائے سر ڈالے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔ اس وقت کہیں گے کہ اے اللہ ہماری آنکھیں روشن ہوگئیں کان کھل گئے۔ اب ہم تیرے احکام کی بجا آوری کے لئے ہر طرح تیار ہیں اس دن خوب سوچ سمجھ والے دانا بینا ہوجائیں گے۔ سب اندھا و بہرا پن جاتا رہے گا خود اپنے تئیں ملامت کرنے لگیں گے اور جہنم میں جاتے ہوئے کہیں گے ہمیں پھر دنیا میں بھیج دے تو ہم نیک اعمال کر آئیں ہمیں اب یقین ہوگیا ہے کہ تیری ملاقات سچ ہے تیرا کلام حق ہے۔ لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر دوبارہ بھی بھیجے جائیں تو یہی حرکت کریں گے۔ پھر سے اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے دوبارہ نبیوں کو ستائیں گے۔ جیسے کہ خود قرآن کریم کی آیت (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27) 6۔ الانعام :27) میں ہے۔ اسی لئے یہاں فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے جیسے فرمان ہے۔ اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کا ایک ایک رہنے والا مومن بن جاتا۔ لیکن اللہ کا یہ فیصلہ صادر ہوچکا ہے کہ انسان اور جنات سے جہنم پر ہونا ہے۔ اللہ کی ذات اور اس کے پورپورے کلمات کا یہ اٹل امر ہے۔ ہم اس کے تمام عذابوں سے پناہ چاہتے ہیں۔ دوزخیوں سے بطور سرزنش کے کہا جائے گا کہ اس دن کی ملاقات کی فراموشی کا مزہ چکھو۔ اور اس کے جھٹلانے کا خمیازہ بھگتو۔ اسے محال سمجھ کر تم نے وہ معاملہ کیا کہ جو ہر ایک بھولنے والا کیا کرتا ہے۔ اب ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔ اللہ کی ذات حقیقی نسیان اور بھول سے پاک ہے۔ یہ تو صرف بدلے کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے آیت (وَقِيْلَ الْيَوْمَ نَنْسٰـىكُمْ كَمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا وَمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 34) 45۔ الجاثية :34) آج ہم تمہیں بھول جاتے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا 24ۙ) 78۔ النبأ :24) وہاں ٹھنڈک اور پانی نہ رہے گا سوائے گرم پانی اور لہو پیپ کے اور کچھ نہ ہوگا۔
15
View Single
إِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَسَبَّحُواْ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ۩
Only those believe in Our signs who, when they are reminded of them, fall down in prostration and proclaim the Purity of their Lord while praising Him, and are not conceited. (Command of prostration # 9).
پس ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں اُن (آیتوں) کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبّر نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
The State of the People of Faith and Their Reward Allah states:
إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَايَـتِنَا
(Only those believe in Our Ayat,) means, who accept them as true,
الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْ سُجَّداً
(who, when they are reminded of them, fall down prostrate,) means, they listen to them and obey them in word and deed.
وَسَبَّحُواْ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ
(and glorify the praises of their Lord, and they are not proud.) means, they are not too proud to follow them and submit to them, unlike the ignorant among the rebellious disbelievers. Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship, they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60). Then Allah says:
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds,) meaning, they pray the voluntary night prayer and forego sleep and resting on a comfortable bed. Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds, ) refers to voluntary night prayer. Ad-Dahhak said, "It refers to Salat Al-`Isha' in congregation and Salat Al-Fajr in congregation.
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً
(to invoke their Lord in fear and hope,) means, in fear of His punishment and in hope of His reward.
وَمِمَّا رَزَقْنَـهُمْ يُنفِقُونَ
(and they spend out of what We have bestowed on them.) means, they do both obligatory and supererogatory acts of worship. Their leader in this world and the Hereafter is the Messenger of Allah ﷺ. Imam Ahmad recorded that Mu`adh bin Jabal said, "I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey one morning, walking near him. I said, `O Prophet of Allah, tell me of a deed that will grant me admittance to Paradise and keep me away from Hell.' He said:
«لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهَ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْت»
(You have asked about something great, and it is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything with Him, establish regular prayer, pay Zakah, fast Ramadan and perform pilgrimage to the House.) Then he said:
«أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّومُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِىءُ الْخَطِيئَةَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْل»
(Shall I not tell you of the gates of goodness Fasting is a shield, charity wipes out sin, and the prayer of a man in the depths of the night.) Then he recited:
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds,) until he reached
جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(as a reward for what they used to do.) Then he said:
«أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟»
(Shall I not tell you of the greatest of all things and its pillars and pinnacle) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He said:
«رَأْسُ الْأَمْرِ الْإسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله»
(The greatest of all things is Islam, its pillars are the prayers and its pinnacle is Jihad for the sake of Allah.) Then he said:
«أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلَاكِ ذلِكَ كُلِّهِ؟»
(Shall I not tell you the factor on which all of that depends) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He took hold of his tongue and said,
«كُفَّ عَلَيْكَ هذَا»
(Restrain this.) I said, `O Messenger of Allah, will we be accountable for what we say' He said,
«ثَكِلَتْكَ أُمُّكُ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ أَوْ قَالَ: عَلى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتهِم»
(May your mother be bereft of you, O Mu`adh! Will the people be thrown into Hell -- (or he said) on their faces -- except because of what their tongues say) It was also recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah in their Sunans. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih."
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) means, no one knows the vastness of what Allah has concealed for them of everlasting joy in Paradise and delights such as no one has ever seen. Because they conceal their good deeds, Allah conceals the reward for them, a fitting reward which will suit their deeds. Al-Hasan Al-Basri said, "If people conceal their good deeds, Allah will conceal for them what no eye has seen and what has never crossed the mind of man. It was recorded by Ibn Abi Hatim. Al-Bukhari quoted the Ayah: d
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) Then he recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said:
«قَالَ اللهُ تَعَالى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»
(Allah says: "I have prepared for My righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and it has never crossed the mind of man.") Abu Hurayrah said: "Recite, if you wish:
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes.) It was also recorded by Muslim and At-Tirmidhi. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih." In another version of Al-Bukhari:
«وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا مِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْه»
("and no body has ever even imagined of. All that is reserved, besides which, all that you have seen is nothing.") It was also reported from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Prophet said:
«مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ يَنْعَمْ لَا يَبْأَسْ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»
(Whoever enters Paradise, will enjoy a life of luxury and never feel deprivation, his clothes will never wear out, his youth will never fade. In Paradise there is what no eye has ever seen, no ear has ever heard, and has never crossed the mind of man.) This was recorded by Muslim.
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں !سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) یعنی میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں، تہجد پڑھتے ہیں۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے۔ وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لئے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں حضرت محمد ﷺ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے شعروں میں ہے (وفینا رسول اللہ یتلو کتابہ اذانشق معروف من الصبح ساطع یبیت یجافی جنبہ عن فراشہ اذاستثقلت بالمشرکین المضاجع)یعنی ہم میں اللہ کے رسول ﷺ ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں حضور ﷺ کی کروٹ آپ کے بستر سے الگ ہوتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اسکی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کردیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑجاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضامندی ہے میداں کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے۔ مسند احمد حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کردے آپ نے فرمایا تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ نے فرمایا آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں ؟ پھر آپ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اسے روک رکھ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اے معاذ افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں۔ یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ اس آیت (تتجافی) کو پڑھ کر حضور ﷺ نے فرمایا اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے۔ اور روایت میں حضور ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا۔ پھر حضور کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہوجائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے ؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گذار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔ پھر فرماتا ہے ان کے لئے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بناکر رکھی ہیں۔ اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیاکر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو۔ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) ، اس روایت میں قرۃ کے بجائے قرأت پڑھنا بھی مروی ہے۔ اور روایت میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لئے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا (مسلم) ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) كي تلاوت فرمائی۔ حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ اے باری تعالیٰ ادنیٰ جنتی کا درجہ کیا ہے ؟ جواب ملا کہ ادنی ٰ جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو اس پر خوش ہے ؟ کہ تیرے لئے اتنا ہوجتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا۔ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لئے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتناہی اور پانچ گناہ۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہوگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے ؟ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگادی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) ہے۔ حضرت عباس بن عبدالواحد فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہوگا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہوجائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آگیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔ حضرت ابو الیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے۔ تیسری موتی کی۔ زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی۔ اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گذریں۔ پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ابن جریر میں ہے آنحضرت ﷺ حضرت روح الامین سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں ؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 16) 46۔ الأحقاف :16) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے درگذر فرمالیا۔ راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں ؟ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) فرمایا بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لئے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا۔
16
View Single
تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمۡ عَنِ ٱلۡمَضَاجِعِ يَدۡعُونَ رَبَّهُمۡ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
Their sides stay detached from their beds and they pray to their Lord with fear and hope – and they spend from what We have bestowed upon them.
ان کے پہلو اُن کی خواب گاہوں سے جدا رہتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور امید (کی مِلی جُلی کیفیت) سے پکارتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The State of the People of Faith and Their Reward Allah states:
إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَايَـتِنَا
(Only those believe in Our Ayat,) means, who accept them as true,
الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْ سُجَّداً
(who, when they are reminded of them, fall down prostrate,) means, they listen to them and obey them in word and deed.
وَسَبَّحُواْ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ
(and glorify the praises of their Lord, and they are not proud.) means, they are not too proud to follow them and submit to them, unlike the ignorant among the rebellious disbelievers. Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship, they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60). Then Allah says:
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds,) meaning, they pray the voluntary night prayer and forego sleep and resting on a comfortable bed. Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds, ) refers to voluntary night prayer. Ad-Dahhak said, "It refers to Salat Al-`Isha' in congregation and Salat Al-Fajr in congregation.
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً
(to invoke their Lord in fear and hope,) means, in fear of His punishment and in hope of His reward.
وَمِمَّا رَزَقْنَـهُمْ يُنفِقُونَ
(and they spend out of what We have bestowed on them.) means, they do both obligatory and supererogatory acts of worship. Their leader in this world and the Hereafter is the Messenger of Allah ﷺ. Imam Ahmad recorded that Mu`adh bin Jabal said, "I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey one morning, walking near him. I said, `O Prophet of Allah, tell me of a deed that will grant me admittance to Paradise and keep me away from Hell.' He said:
«لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهَ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْت»
(You have asked about something great, and it is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything with Him, establish regular prayer, pay Zakah, fast Ramadan and perform pilgrimage to the House.) Then he said:
«أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّومُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِىءُ الْخَطِيئَةَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْل»
(Shall I not tell you of the gates of goodness Fasting is a shield, charity wipes out sin, and the prayer of a man in the depths of the night.) Then he recited:
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds,) until he reached
جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(as a reward for what they used to do.) Then he said:
«أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟»
(Shall I not tell you of the greatest of all things and its pillars and pinnacle) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He said:
«رَأْسُ الْأَمْرِ الْإسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله»
(The greatest of all things is Islam, its pillars are the prayers and its pinnacle is Jihad for the sake of Allah.) Then he said:
«أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلَاكِ ذلِكَ كُلِّهِ؟»
(Shall I not tell you the factor on which all of that depends) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He took hold of his tongue and said,
«كُفَّ عَلَيْكَ هذَا»
(Restrain this.) I said, `O Messenger of Allah, will we be accountable for what we say' He said,
«ثَكِلَتْكَ أُمُّكُ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ أَوْ قَالَ: عَلى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتهِم»
(May your mother be bereft of you, O Mu`adh! Will the people be thrown into Hell -- (or he said) on their faces -- except because of what their tongues say) It was also recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah in their Sunans. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih."
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) means, no one knows the vastness of what Allah has concealed for them of everlasting joy in Paradise and delights such as no one has ever seen. Because they conceal their good deeds, Allah conceals the reward for them, a fitting reward which will suit their deeds. Al-Hasan Al-Basri said, "If people conceal their good deeds, Allah will conceal for them what no eye has seen and what has never crossed the mind of man. It was recorded by Ibn Abi Hatim. Al-Bukhari quoted the Ayah: d
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) Then he recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said:
«قَالَ اللهُ تَعَالى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»
(Allah says: "I have prepared for My righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and it has never crossed the mind of man.") Abu Hurayrah said: "Recite, if you wish:
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes.) It was also recorded by Muslim and At-Tirmidhi. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih." In another version of Al-Bukhari:
«وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا مِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْه»
("and no body has ever even imagined of. All that is reserved, besides which, all that you have seen is nothing.") It was also reported from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Prophet said:
«مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ يَنْعَمْ لَا يَبْأَسْ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»
(Whoever enters Paradise, will enjoy a life of luxury and never feel deprivation, his clothes will never wear out, his youth will never fade. In Paradise there is what no eye has ever seen, no ear has ever heard, and has never crossed the mind of man.) This was recorded by Muslim.
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں !سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) یعنی میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں، تہجد پڑھتے ہیں۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے۔ وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لئے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں حضرت محمد ﷺ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے شعروں میں ہے (وفینا رسول اللہ یتلو کتابہ اذانشق معروف من الصبح ساطع یبیت یجافی جنبہ عن فراشہ اذاستثقلت بالمشرکین المضاجع)یعنی ہم میں اللہ کے رسول ﷺ ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں حضور ﷺ کی کروٹ آپ کے بستر سے الگ ہوتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اسکی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کردیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑجاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضامندی ہے میداں کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے۔ مسند احمد حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کردے آپ نے فرمایا تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ نے فرمایا آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں ؟ پھر آپ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اسے روک رکھ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اے معاذ افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں۔ یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ اس آیت (تتجافی) کو پڑھ کر حضور ﷺ نے فرمایا اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے۔ اور روایت میں حضور ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا۔ پھر حضور کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہوجائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے ؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گذار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔ پھر فرماتا ہے ان کے لئے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بناکر رکھی ہیں۔ اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیاکر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو۔ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) ، اس روایت میں قرۃ کے بجائے قرأت پڑھنا بھی مروی ہے۔ اور روایت میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لئے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا (مسلم) ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) كي تلاوت فرمائی۔ حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ اے باری تعالیٰ ادنیٰ جنتی کا درجہ کیا ہے ؟ جواب ملا کہ ادنی ٰ جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو اس پر خوش ہے ؟ کہ تیرے لئے اتنا ہوجتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا۔ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لئے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتناہی اور پانچ گناہ۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہوگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے ؟ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگادی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) ہے۔ حضرت عباس بن عبدالواحد فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہوگا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہوجائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آگیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔ حضرت ابو الیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے۔ تیسری موتی کی۔ زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی۔ اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گذریں۔ پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ابن جریر میں ہے آنحضرت ﷺ حضرت روح الامین سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں ؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 16) 46۔ الأحقاف :16) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے درگذر فرمالیا۔ راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں ؟ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) فرمایا بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لئے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا۔
17
View Single
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
So no soul knows the comfort of the eyes that is kept hidden for them*; the reward of their deeds. (Paradise)
سو کسی کو معلوم نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے، یہ ان (اَعمالِ صالحہ) کا بدلہ ہوگا جو وہ کرتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The State of the People of Faith and Their Reward Allah states:
إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَايَـتِنَا
(Only those believe in Our Ayat,) means, who accept them as true,
الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْ سُجَّداً
(who, when they are reminded of them, fall down prostrate,) means, they listen to them and obey them in word and deed.
وَسَبَّحُواْ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ
(and glorify the praises of their Lord, and they are not proud.) means, they are not too proud to follow them and submit to them, unlike the ignorant among the rebellious disbelievers. Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily, those who scorn My worship, they will surely enter Hell in humiliation!) (40:60). Then Allah says:
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds,) meaning, they pray the voluntary night prayer and forego sleep and resting on a comfortable bed. Mujahid and Al-Hasan said that the Ayah
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds, ) refers to voluntary night prayer. Ad-Dahhak said, "It refers to Salat Al-`Isha' in congregation and Salat Al-Fajr in congregation.
يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً
(to invoke their Lord in fear and hope,) means, in fear of His punishment and in hope of His reward.
وَمِمَّا رَزَقْنَـهُمْ يُنفِقُونَ
(and they spend out of what We have bestowed on them.) means, they do both obligatory and supererogatory acts of worship. Their leader in this world and the Hereafter is the Messenger of Allah ﷺ. Imam Ahmad recorded that Mu`adh bin Jabal said, "I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey one morning, walking near him. I said, `O Prophet of Allah, tell me of a deed that will grant me admittance to Paradise and keep me away from Hell.' He said:
«لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهَ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْت»
(You have asked about something great, and it is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything with Him, establish regular prayer, pay Zakah, fast Ramadan and perform pilgrimage to the House.) Then he said:
«أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّومُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِىءُ الْخَطِيئَةَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْل»
(Shall I not tell you of the gates of goodness Fasting is a shield, charity wipes out sin, and the prayer of a man in the depths of the night.) Then he recited:
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ
(Their sides forsake their beds,) until he reached
جَزَآءً بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(as a reward for what they used to do.) Then he said:
«أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟»
(Shall I not tell you of the greatest of all things and its pillars and pinnacle) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He said:
«رَأْسُ الْأَمْرِ الْإسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ الله»
(The greatest of all things is Islam, its pillars are the prayers and its pinnacle is Jihad for the sake of Allah.) Then he said:
«أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلَاكِ ذلِكَ كُلِّهِ؟»
(Shall I not tell you the factor on which all of that depends) I said, `Of course, O Messenger of Allah.' He took hold of his tongue and said,
«كُفَّ عَلَيْكَ هذَا»
(Restrain this.) I said, `O Messenger of Allah, will we be accountable for what we say' He said,
«ثَكِلَتْكَ أُمُّكُ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ أَوْ قَالَ: عَلى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتهِم»
(May your mother be bereft of you, O Mu`adh! Will the people be thrown into Hell -- (or he said) on their faces -- except because of what their tongues say) It was also recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah in their Sunans. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih."
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) means, no one knows the vastness of what Allah has concealed for them of everlasting joy in Paradise and delights such as no one has ever seen. Because they conceal their good deeds, Allah conceals the reward for them, a fitting reward which will suit their deeds. Al-Hasan Al-Basri said, "If people conceal their good deeds, Allah will conceal for them what no eye has seen and what has never crossed the mind of man. It was recorded by Ibn Abi Hatim. Al-Bukhari quoted the Ayah: d
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes) Then he recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said:
«قَالَ اللهُ تَعَالى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»
(Allah says: "I have prepared for My righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and it has never crossed the mind of man.") Abu Hurayrah said: "Recite, if you wish:
فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ
(No person knows what is kept hidden for them of delights of eyes.) It was also recorded by Muslim and At-Tirmidhi. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih." In another version of Al-Bukhari:
«وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ذُخْرًا مِنْ بَلْهِ مَا أُطْلِعْتُمْ عَلَيْه»
("and no body has ever even imagined of. All that is reserved, besides which, all that you have seen is nothing.") It was also reported from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Prophet said:
«مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ يَنْعَمْ لَا يَبْأَسْ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلى قَلْبِ بَشَر»
(Whoever enters Paradise, will enjoy a life of luxury and never feel deprivation, his clothes will never wear out, his youth will never fade. In Paradise there is what no eye has ever seen, no ear has ever heard, and has never crossed the mind of man.) This was recorded by Muslim.
ایماندار وہی ہے جس کے اعمال تابع قرآن ہوں !سچے ایمانداروں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دل کے کانوں سے ہماری آیتوں کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ زبانی حق مانتے ہیں اور دل سے بھی برحق جانتے ہیں۔ سجدہ کرتے ہیں اور اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں۔ اور اتباع حق سے جی نہیں چراتے۔ نہ اکڑتے ضد کرتے ہیں۔ یہ بدعات کافروں کی ہے جیسے فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60) 40۔ غافر :60) یعنی میری عبادت سے تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ ان سچے ایمانداروں کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ راتوں کو نیند چھوڑ کر اپنے بستروں سے الگ ہو کر نمازیں ادا کرتے ہیں، تہجد پڑھتے ہیں۔ مغرب عشاء کے درمیان کی نماز بھی بعض نے مراد لی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد اس سے عشاء کی نماز کا انتظار ہے۔ اور قول ہے کہ عشاء کی اور صبح کی نمازیں باجماعت اس سے مراد ہے۔ وہ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اس کے عذابوں سے نجات کے لئے اور اس کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق راہ اللہ میں دیتے رہتے ہیں۔ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جن کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔ اور وہ نیکیاں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جن کا تعلق دوسروں سے ہے۔ ان بہترین نیکیوں میں سب سے بڑھے ہوئے وہ ہیں جو درجات میں بھی سب سے آگے ہیں۔ یعنی سید اولاد آدم فخر دو جہاں حضرت محمد ﷺ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے شعروں میں ہے (وفینا رسول اللہ یتلو کتابہ اذانشق معروف من الصبح ساطع یبیت یجافی جنبہ عن فراشہ اذاستثقلت بالمشرکین المضاجع)یعنی ہم میں اللہ کے رسول ﷺ ہیں جو صبح ہوتے ہی اللہ کی پاک کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ راتوں کو جبکہ مشرکین گہری نیند میں سوتے ہیں حضور ﷺ کی کروٹ آپ کے بستر سے الگ ہوتی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اسکی سزائیں یاد کرکے اٹھ بیٹھتا ہے اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کردیتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑجاتا ہے لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اگے بڑھنے میں رب کی رضامندی ہے میداں کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے۔ مسند احمد حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا صبح کے وقت میں آپ کے قریب ہی چل رہا تھا میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں پہنچا دے اور جہنم سے الگ کردے آپ نے فرمایا تو نے سوال تو بڑے کام کا کیا ہے لیکن اللہ جس پر آسان کردے اس پر بڑا سہل ہے۔ سن تو اللہ کی عبادت کرتا رہ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نمازوں کی پابندی کر رمضان کے روزے رکھ بیت اللہ کا حج کر زکوٰۃ ادا کرتا رہ۔ آ اب میں تجھے بھلائیوں کے دروازے بتلاؤں۔ روزہ ڈھال ہے اور انسان کی آدھی رات کی نماز، صدقہ گناہوں کو معاف کرا دیتا ہے۔ پھر آپ نے آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ نے فرمایا آ اب میں تجھے اس امر کے سر اس کے ستون اور اس کی کوہان کی بلندی بتاؤں۔ اس تمام کا سر تو اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اس کے کوہان کی بلندی اللہ کی راہ کا جہاد ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اب میں تجھے تمام کاموں کے سردار کی خبردوں ؟ پھر آپ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اسے روک رکھ میں نے کہا کیا ہم اپنی بات چیت پر بھی پکڑے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اے معاذ افسوس تجھے معلوم نہیں انسان کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالنے والی چیز تو اس کے زبان کے کنارے ہیں۔ یہی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ایک میں یہ بھی ہے کہ اس آیت (تتجافی) کو پڑھ کر حضور ﷺ نے فرمایا اس سے مراد بندے کا رات کی نماز پڑھنا ہے۔ اور روایت میں حضور ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ انسان کا آدھی رات کو قیام کرنا۔ پھر حضور کا اسی آیت کو تلاوت کرنا مروی ہے ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن جبکہ اول و آخر سب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے تو ایک منادی فرشتہ آواز بلند کرے گا جسے تمام مخلوق سنے گی۔ وہ کہے گا کہ آج سب کو معلوم ہوجائے گا کہ سب سے زیادہ ذی عزت اللہ کے نزدیک کون ہے ؟ پھر لوٹ کر آواز لگائے گا کہ تہجد گذار لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور اس آیت کی تلاوت فرمائے گا تو یہ لوگ اٹھ کھڑے ہونگے اور گنتی میں بہت کم ہوں گے۔ حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو ہم لوگ مجلس میں بیٹھے تھے۔ اور بعض صحابہ مغرب کے بعد سے لے کر عشاء تک نماز میں مشغول رہتے تھے پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث کی یہی ایک سند ہے۔ پھر فرماتا ہے ان کے لئے جنت میں کیا کیا نعمتیں اور لذتیں پوشیدہ پوشیدہ بناکر رکھی ہیں۔ اسی کا کسی کو علم نہیں چونکہ یہ لوگ بھی پوشیدہ طور پر عبادت کرتے تھے اسی طرح ہم نے بھی پوشیدہ طور پر ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سکھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال آیا۔ بخاری کی حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ رحمتیں اور نعمتیں مہیاکر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ کے دیکھنے میں آئیں نہ کسی کان کے سننے میں نہ کسی کے دل کے سوچنے میں آئے ہوں۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ راوی حدیث نے کہا قرآن کی اس آیت کو پڑھ لو۔ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) ، اس روایت میں قرۃ کے بجائے قرأت پڑھنا بھی مروی ہے۔ اور روایت میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ جنت کی نعمتیں جسے ملیں وہ کبھی بھی واپس نہیں ہونگی۔ ان کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے ان کی جوانی ڈھلے گی نہیں ان کے لئے جنت میں وہ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل پر ان کا وہم و گمان آیا (مسلم) ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے آخر میں یہی فرمایا اور پھر یہ آیت (تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ۡ وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16) 32۔ السجدة :16) كي تلاوت فرمائی۔ حدیث قدسی میں ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہیں نہ کانوں نے سنی ہیں بلکہ اندازہ میں بھی نہیں آسکتیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ رب العالمین عزوجل سے عرض کیا کہ اے باری تعالیٰ ادنیٰ جنتی کا درجہ کیا ہے ؟ جواب ملا کہ ادنی ٰ جنتی وہ شخص ہے جو کل جنتیوں کے جنت میں چلے جانے کے بعد آئے گا اس سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہے گا یا اللہ کہاں جاؤں ہر ایک نے اپنی جگہ پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنی چیزیں سنھبال لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کہ کیا تو اس پر خوش ہے ؟ کہ تیرے لئے اتنا ہوجتنا دنیا کے کسی بہت بڑے بادشاہ کے پاس تھا۔ وہ کہے گا پروردگار میں اس پر بہت خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لئے اتنا ہی اور اتنا ہی اور اتناہی اور پانچ گناہ۔ یہ کہے گا بس بس اے رب میں راضی ہوگیا اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب ہم نے تجھے دیا اور اس کا دس گنا اور بھی دیا اور بھی جس چیز کو تیرا دل چاہے اور جس چیز سے تیری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ یہ کہے گا میرے پروردگار میری تو باچھیں کھل گئیں جی خوش ہوگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا پھر اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کے جنتی کی کیا کیفیت ہے ؟ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی خاطر و مدارت کی کرامت میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی اور اس پر اپنی مہر لگادی ہے پھر نہ تو وہ کسی کے دیکھنے میں آئی نہ کسی کے سننے میں نہ کسی کے خیال میں۔ اس کا مصداق اللہ کی کتاب کی آیت (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) ہے۔ حضرت عباس بن عبدالواحد فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک جنتی اپنی حور کے ساتھ محبت پیار میں ستر سال تک مشغول رہے گا کسی دوسری چیز کی طرف اس کا التفات ہی نہیں ہوگا۔ پھر جو دوسری طرف التفات ہوگا تو دیکھے گا کہ پہلی سے بہت زیادہ خوبصورت اور نوارنی شکل کی ایک اور حور ہے۔ وہ اسے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر خوش ہو کر کہے گی کہ اب میری مراد بھی پوری ہوگی یہ کہے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گی میں اللہ کی مزید نعمتوں میں سے ہوں۔ اب یہ سراپا اس کی طرف متوجہ ہوجائے گا پھر ستر سال کے بعد دوسری طرف دیکھے گا کہ اس سے بھی اچھی ایک اور حور ہے وہ کہے گی اب وقت آگیا کہ آپ میں میرا حصہ بھی ہو یہ پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی میں ان میں سے ہوں جن کی نسبت جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ہے کوئی نہیں جانتا کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کی کیا کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ فرشتے جنتیوں کے پاس دنیا کے اندازے سے ہر دن میں تین تین بار جنت عدن کے اللہ کے تحفے لے کر جائیں گے جو ان کی جنت میں نہیں اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ وہ فرشتے ان سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہے۔ حضرت ابو الیمان فزاری یا کسی اور سے مروی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں پہلا درجہ چاندی کا ہے اس کی زمین بھی چاندی کی ہے اس کے محلات بھی چاندی کے اس کی مٹی مشک کی ہے۔ تیسری موتی کی۔ زمین بھی موتی کی گھر بھی موتی کے برتن بھی موتی کے اور مٹی مشک کی۔ اور باقی ستانوے تو وہ ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل میں گذریں۔ پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ابن جریر میں ہے آنحضرت ﷺ حضرت روح الامین سے روایت کرتے ہیں کہ انسان کی نیکیاں بدیاں لائی جائی گی۔ بعض بعض سے کم کی جائیں گی پھر اگر ایک نیکی بھی باقی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا دے گا اور جنت میں کشادگی عطا فرمائے گا۔ راوی نے یزداد سے پوچھا کہ نیکیاں کہاں چلی گئیں ؟ تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِهِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّةِ ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ 16) 46۔ الأحقاف :16) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم نے قبول فرمالئے اور ان کی برائیوں سے ہم نے درگذر فرمالیا۔ راوی نے کہا پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں ؟ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 17) 32۔ السجدة :17) فرمایا بندہ جب کوئی نیکی لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کے آرام کی خبریں جو اس کے لئے پوشیدہ رکھ چھوڑی تھیں عطا فرمائے گا۔
18
View Single
أَفَمَن كَانَ مُؤۡمِنٗا كَمَن كَانَ فَاسِقٗاۚ لَّا يَسۡتَوُۥنَ
So will the believer ever be equal to the one who is lawless? They are not equal!
بھلا وہ شخص جو صاحبِ ایمان ہو اس کی مثل ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو، (نہیں) یہ (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے
Tafsir Ibn Kathir
The Believer and the Rebellious are not equal
Allah tells us that in His justice and generosity, on the Day of Judgement He will not judge those who believed in His signs and followed His Messengers, in the same way as He will judge those who rebelled, disobeyed Him and rejected the Messengers sent by Allah to them. This is like the Ayat:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُواْ السَّيِّئَـتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ سَوَآءً مَّحْيَـهُمْ وَمَمَـتُهُمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or do those who earn evil deeds think that We shall hold them equal with those who believe and do righteous good deeds, in their present life and after their death Worst is the judgement that they make.) (45:21),
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as corruptors on earth Or shall We treat those who have Taqwa as the wicked) (38:28)
لاَ يَسْتَوِى أَصْحَـبُ النَّارِ وَأَصْحَـبُ الْجَنَّةِ
(Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise...) (59:20). Allah says:
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِناً كَمَن كَانَ فَاسِقاً لاَّ يَسْتَوُونَ
(Is then he who is a believer like him who is a rebellious Not equal are they. ) i.e., before Allah on the Day of Resurrection. `Ata' bin Yasar, As-Suddi and others mentioned that this was revealed concerning `Ali bin Abi Talib and `Uqbah bin Abi Mu`it. Hence Allah has judged between them when He said:
أَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(As for those who believe and do righteous good deeds,) meaning, their hearts believed in the signs of Allah, and they did as the signs of Allah dictate, i.e. righteous good deeds.
فَلَهُمْ جَنَّـتُ الْمَأْوَى
(for them are Gardens of Abode) i.e., in which there are dwellings and houses and lofty apartments.
نُزُلاً
(as an entertainment) means, something to welcome and honor a guest,
بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَوَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُواْ
(for what they used to do. And as for those who rebel,) means, those who disobeyed Allah, their dwelling place will be the Fire, and every time they want to escape from it, they will be thrown back in, as Allah says:
كُلَّمَآ أَرَادُواْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا
(Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein) (22:22). Al-Fudayl bin `Iyad said: "By Allah, their hands will be tied, their feet will be chained, the flames will lift them up and the angels will strike them.
وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُواْ عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
(and it will be said to them: "Taste you the torment of the Fire which you used to deny.")" means, this will be said to them by way of rebuke and chastisement.
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الاٌّدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الاٌّكْبَرِ
(And verily, We will make them taste of the near lighter torment prior to the greater torment,) Ibn `Abbas said, "The near torment means diseases and problems in this world, and the things that happen to its people as a test from Allah to His servants so that they will repent to Him." Something similar was also narrated from Ubayy bin Ka`b, Abu Al-`Aliyah, Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, `Alqamah, `Atiyah, Mujahid, Qatadah, `Abd Al-Karim Al-Jazari and Khusayf.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَايَـتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ
(And who does more wrong than he who is reminded of the Ayat of his Lord, then turns aside therefrom) means, there is no one who does more wrong than the one whom Allah reminds of His signs and explains them to him clearly, then after that he neglects and ignores them, and turns away from them, forgetting them as if he does not know them. Qatadah said: "Beware of turning away from the remembrance of Allah, for whoever turns away from remembering Him will be the most misguided and the most in need, and the most guilty of sin." Allah says, warning the one who does that:
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
(Verily, We shall exact retribution from the criminals.) meaning, `We shall avenge Ourselves on those who do that in the strongest possible terms.'
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ 28) 38۔ ص :28) یعنی ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کردیں ؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کردیں ؟ اور آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20) 59۔ الحشر :20) دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ یہاں بھی فرمایا کہ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ؓ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالا خانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہوگی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہوگی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 22) 22۔ الحج :22) یعنی جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے۔ حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔ عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لئے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہوجائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ حضرت ابی فرماتے ہیں چاند کا شق ہوجانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکہ کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنادیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ پھر فرماتا ہے جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کرجائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا ؟ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بےعزت بےوقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بےوجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ہم مجرموں سے باز پرس کریں گے اور ان سے پورا بدلا لیں گے۔ (ابن ابی حاتم)
19
View Single
أَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَلَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلۡمَأۡوَىٰ نُزُلَۢا بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Those who accepted faith and did good deeds – for them are the Gardens of (everlasting) stay; a welcome in return for what they did.
چنانچہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ان کے لئے دائمی سکونت کے باغات ہیں، (اللہ کی طرف سے ان کی) ضیافت و اِکرام میں اُن (اَعمال) کے بدلے جو وہ کرتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Believer and the Rebellious are not equal
Allah tells us that in His justice and generosity, on the Day of Judgement He will not judge those who believed in His signs and followed His Messengers, in the same way as He will judge those who rebelled, disobeyed Him and rejected the Messengers sent by Allah to them. This is like the Ayat:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُواْ السَّيِّئَـتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ سَوَآءً مَّحْيَـهُمْ وَمَمَـتُهُمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or do those who earn evil deeds think that We shall hold them equal with those who believe and do righteous good deeds, in their present life and after their death Worst is the judgement that they make.) (45:21),
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as corruptors on earth Or shall We treat those who have Taqwa as the wicked) (38:28)
لاَ يَسْتَوِى أَصْحَـبُ النَّارِ وَأَصْحَـبُ الْجَنَّةِ
(Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise...) (59:20). Allah says:
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِناً كَمَن كَانَ فَاسِقاً لاَّ يَسْتَوُونَ
(Is then he who is a believer like him who is a rebellious Not equal are they. ) i.e., before Allah on the Day of Resurrection. `Ata' bin Yasar, As-Suddi and others mentioned that this was revealed concerning `Ali bin Abi Talib and `Uqbah bin Abi Mu`it. Hence Allah has judged between them when He said:
أَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(As for those who believe and do righteous good deeds,) meaning, their hearts believed in the signs of Allah, and they did as the signs of Allah dictate, i.e. righteous good deeds.
فَلَهُمْ جَنَّـتُ الْمَأْوَى
(for them are Gardens of Abode) i.e., in which there are dwellings and houses and lofty apartments.
نُزُلاً
(as an entertainment) means, something to welcome and honor a guest,
بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَوَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُواْ
(for what they used to do. And as for those who rebel,) means, those who disobeyed Allah, their dwelling place will be the Fire, and every time they want to escape from it, they will be thrown back in, as Allah says:
كُلَّمَآ أَرَادُواْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا
(Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein) (22:22). Al-Fudayl bin `Iyad said: "By Allah, their hands will be tied, their feet will be chained, the flames will lift them up and the angels will strike them.
وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُواْ عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
(and it will be said to them: "Taste you the torment of the Fire which you used to deny.")" means, this will be said to them by way of rebuke and chastisement.
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الاٌّدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الاٌّكْبَرِ
(And verily, We will make them taste of the near lighter torment prior to the greater torment,) Ibn `Abbas said, "The near torment means diseases and problems in this world, and the things that happen to its people as a test from Allah to His servants so that they will repent to Him." Something similar was also narrated from Ubayy bin Ka`b, Abu Al-`Aliyah, Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, `Alqamah, `Atiyah, Mujahid, Qatadah, `Abd Al-Karim Al-Jazari and Khusayf.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَايَـتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ
(And who does more wrong than he who is reminded of the Ayat of his Lord, then turns aside therefrom) means, there is no one who does more wrong than the one whom Allah reminds of His signs and explains them to him clearly, then after that he neglects and ignores them, and turns away from them, forgetting them as if he does not know them. Qatadah said: "Beware of turning away from the remembrance of Allah, for whoever turns away from remembering Him will be the most misguided and the most in need, and the most guilty of sin." Allah says, warning the one who does that:
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
(Verily, We shall exact retribution from the criminals.) meaning, `We shall avenge Ourselves on those who do that in the strongest possible terms.'
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ 28) 38۔ ص :28) یعنی ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کردیں ؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کردیں ؟ اور آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20) 59۔ الحشر :20) دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ یہاں بھی فرمایا کہ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ؓ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالا خانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہوگی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہوگی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 22) 22۔ الحج :22) یعنی جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے۔ حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔ عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لئے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہوجائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ حضرت ابی فرماتے ہیں چاند کا شق ہوجانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکہ کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنادیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ پھر فرماتا ہے جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کرجائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا ؟ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بےعزت بےوقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بےوجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ہم مجرموں سے باز پرس کریں گے اور ان سے پورا بدلا لیں گے۔ (ابن ابی حاتم)
20
View Single
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُواْ فَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَآ أُعِيدُواْ فِيهَا وَقِيلَ لَهُمۡ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
And those who are lawless – their destination is the fire; whenever they wish to come out of it, they will be returned into it, and it will be said to them, “Taste the punishment of the fire you used to deny!”
اور جو لوگ نافرمان ہوئے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اِس آتشِ دوزخ کا عذاب چکھتے رہو جِسے تم جھٹلایا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Believer and the Rebellious are not equal
Allah tells us that in His justice and generosity, on the Day of Judgement He will not judge those who believed in His signs and followed His Messengers, in the same way as He will judge those who rebelled, disobeyed Him and rejected the Messengers sent by Allah to them. This is like the Ayat:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُواْ السَّيِّئَـتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ سَوَآءً مَّحْيَـهُمْ وَمَمَـتُهُمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or do those who earn evil deeds think that We shall hold them equal with those who believe and do righteous good deeds, in their present life and after their death Worst is the judgement that they make.) (45:21),
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as corruptors on earth Or shall We treat those who have Taqwa as the wicked) (38:28)
لاَ يَسْتَوِى أَصْحَـبُ النَّارِ وَأَصْحَـبُ الْجَنَّةِ
(Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise...) (59:20). Allah says:
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِناً كَمَن كَانَ فَاسِقاً لاَّ يَسْتَوُونَ
(Is then he who is a believer like him who is a rebellious Not equal are they. ) i.e., before Allah on the Day of Resurrection. `Ata' bin Yasar, As-Suddi and others mentioned that this was revealed concerning `Ali bin Abi Talib and `Uqbah bin Abi Mu`it. Hence Allah has judged between them when He said:
أَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(As for those who believe and do righteous good deeds,) meaning, their hearts believed in the signs of Allah, and they did as the signs of Allah dictate, i.e. righteous good deeds.
فَلَهُمْ جَنَّـتُ الْمَأْوَى
(for them are Gardens of Abode) i.e., in which there are dwellings and houses and lofty apartments.
نُزُلاً
(as an entertainment) means, something to welcome and honor a guest,
بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَوَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُواْ
(for what they used to do. And as for those who rebel,) means, those who disobeyed Allah, their dwelling place will be the Fire, and every time they want to escape from it, they will be thrown back in, as Allah says:
كُلَّمَآ أَرَادُواْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا
(Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein) (22:22). Al-Fudayl bin `Iyad said: "By Allah, their hands will be tied, their feet will be chained, the flames will lift them up and the angels will strike them.
وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُواْ عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
(and it will be said to them: "Taste you the torment of the Fire which you used to deny.")" means, this will be said to them by way of rebuke and chastisement.
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الاٌّدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الاٌّكْبَرِ
(And verily, We will make them taste of the near lighter torment prior to the greater torment,) Ibn `Abbas said, "The near torment means diseases and problems in this world, and the things that happen to its people as a test from Allah to His servants so that they will repent to Him." Something similar was also narrated from Ubayy bin Ka`b, Abu Al-`Aliyah, Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, `Alqamah, `Atiyah, Mujahid, Qatadah, `Abd Al-Karim Al-Jazari and Khusayf.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَايَـتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ
(And who does more wrong than he who is reminded of the Ayat of his Lord, then turns aside therefrom) means, there is no one who does more wrong than the one whom Allah reminds of His signs and explains them to him clearly, then after that he neglects and ignores them, and turns away from them, forgetting them as if he does not know them. Qatadah said: "Beware of turning away from the remembrance of Allah, for whoever turns away from remembering Him will be the most misguided and the most in need, and the most guilty of sin." Allah says, warning the one who does that:
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
(Verily, We shall exact retribution from the criminals.) meaning, `We shall avenge Ourselves on those who do that in the strongest possible terms.'
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ 28) 38۔ ص :28) یعنی ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کردیں ؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کردیں ؟ اور آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20) 59۔ الحشر :20) دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ یہاں بھی فرمایا کہ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ؓ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالا خانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہوگی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہوگی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 22) 22۔ الحج :22) یعنی جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے۔ حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔ عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لئے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہوجائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ حضرت ابی فرماتے ہیں چاند کا شق ہوجانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکہ کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنادیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ پھر فرماتا ہے جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کرجائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا ؟ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بےعزت بےوقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بےوجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ہم مجرموں سے باز پرس کریں گے اور ان سے پورا بدلا لیں گے۔ (ابن ابی حاتم)
21
View Single
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَدۡنَىٰ دُونَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
And We shall indeed make them taste the smaller punishment before the greater punishment, so that they may return.
اور ہم ان کو یقیناً (آخرت کے) بڑے عذاب سے پہلے قریب تر (دنیوی) عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے تاکہ وہ (کفر سے) باز آجائیں
Tafsir Ibn Kathir
The Believer and the Rebellious are not equal
Allah tells us that in His justice and generosity, on the Day of Judgement He will not judge those who believed in His signs and followed His Messengers, in the same way as He will judge those who rebelled, disobeyed Him and rejected the Messengers sent by Allah to them. This is like the Ayat:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُواْ السَّيِّئَـتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ سَوَآءً مَّحْيَـهُمْ وَمَمَـتُهُمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or do those who earn evil deeds think that We shall hold them equal with those who believe and do righteous good deeds, in their present life and after their death Worst is the judgement that they make.) (45:21),
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as corruptors on earth Or shall We treat those who have Taqwa as the wicked) (38:28)
لاَ يَسْتَوِى أَصْحَـبُ النَّارِ وَأَصْحَـبُ الْجَنَّةِ
(Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise...) (59:20). Allah says:
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِناً كَمَن كَانَ فَاسِقاً لاَّ يَسْتَوُونَ
(Is then he who is a believer like him who is a rebellious Not equal are they. ) i.e., before Allah on the Day of Resurrection. `Ata' bin Yasar, As-Suddi and others mentioned that this was revealed concerning `Ali bin Abi Talib and `Uqbah bin Abi Mu`it. Hence Allah has judged between them when He said:
أَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(As for those who believe and do righteous good deeds,) meaning, their hearts believed in the signs of Allah, and they did as the signs of Allah dictate, i.e. righteous good deeds.
فَلَهُمْ جَنَّـتُ الْمَأْوَى
(for them are Gardens of Abode) i.e., in which there are dwellings and houses and lofty apartments.
نُزُلاً
(as an entertainment) means, something to welcome and honor a guest,
بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَوَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُواْ
(for what they used to do. And as for those who rebel,) means, those who disobeyed Allah, their dwelling place will be the Fire, and every time they want to escape from it, they will be thrown back in, as Allah says:
كُلَّمَآ أَرَادُواْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا
(Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein) (22:22). Al-Fudayl bin `Iyad said: "By Allah, their hands will be tied, their feet will be chained, the flames will lift them up and the angels will strike them.
وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُواْ عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
(and it will be said to them: "Taste you the torment of the Fire which you used to deny.")" means, this will be said to them by way of rebuke and chastisement.
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الاٌّدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الاٌّكْبَرِ
(And verily, We will make them taste of the near lighter torment prior to the greater torment,) Ibn `Abbas said, "The near torment means diseases and problems in this world, and the things that happen to its people as a test from Allah to His servants so that they will repent to Him." Something similar was also narrated from Ubayy bin Ka`b, Abu Al-`Aliyah, Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, `Alqamah, `Atiyah, Mujahid, Qatadah, `Abd Al-Karim Al-Jazari and Khusayf.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَايَـتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ
(And who does more wrong than he who is reminded of the Ayat of his Lord, then turns aside therefrom) means, there is no one who does more wrong than the one whom Allah reminds of His signs and explains them to him clearly, then after that he neglects and ignores them, and turns away from them, forgetting them as if he does not know them. Qatadah said: "Beware of turning away from the remembrance of Allah, for whoever turns away from remembering Him will be the most misguided and the most in need, and the most guilty of sin." Allah says, warning the one who does that:
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
(Verily, We shall exact retribution from the criminals.) meaning, `We shall avenge Ourselves on those who do that in the strongest possible terms.'
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ 28) 38۔ ص :28) یعنی ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کردیں ؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کردیں ؟ اور آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20) 59۔ الحشر :20) دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ یہاں بھی فرمایا کہ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ؓ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالا خانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہوگی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہوگی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 22) 22۔ الحج :22) یعنی جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے۔ حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔ عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لئے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہوجائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ حضرت ابی فرماتے ہیں چاند کا شق ہوجانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکہ کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنادیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ پھر فرماتا ہے جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کرجائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا ؟ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بےعزت بےوقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بےوجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ہم مجرموں سے باز پرس کریں گے اور ان سے پورا بدلا لیں گے۔ (ابن ابی حاتم)
22
View Single
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ثُمَّ أَعۡرَضَ عَنۡهَآۚ إِنَّا مِنَ ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
And who is more unjust than one who is preached to from the verses his Lord, then he turns away from them? We will indeed take revenge from the guilty.
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے پھر وہ اُن سے منہ پھیر لے، بیشک ہم مُجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Believer and the Rebellious are not equal
Allah tells us that in His justice and generosity, on the Day of Judgement He will not judge those who believed in His signs and followed His Messengers, in the same way as He will judge those who rebelled, disobeyed Him and rejected the Messengers sent by Allah to them. This is like the Ayat:
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُواْ السَّيِّئَـتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ سَوَآءً مَّحْيَـهُمْ وَمَمَـتُهُمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Or do those who earn evil deeds think that We shall hold them equal with those who believe and do righteous good deeds, in their present life and after their death Worst is the judgement that they make.) (45:21),
أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ
(Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as corruptors on earth Or shall We treat those who have Taqwa as the wicked) (38:28)
لاَ يَسْتَوِى أَصْحَـبُ النَّارِ وَأَصْحَـبُ الْجَنَّةِ
(Not equal are the dwellers of the Fire and the dwellers of the Paradise...) (59:20). Allah says:
أَفَمَن كَانَ مُؤْمِناً كَمَن كَانَ فَاسِقاً لاَّ يَسْتَوُونَ
(Is then he who is a believer like him who is a rebellious Not equal are they. ) i.e., before Allah on the Day of Resurrection. `Ata' bin Yasar, As-Suddi and others mentioned that this was revealed concerning `Ali bin Abi Talib and `Uqbah bin Abi Mu`it. Hence Allah has judged between them when He said:
أَمَّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(As for those who believe and do righteous good deeds,) meaning, their hearts believed in the signs of Allah, and they did as the signs of Allah dictate, i.e. righteous good deeds.
فَلَهُمْ جَنَّـتُ الْمَأْوَى
(for them are Gardens of Abode) i.e., in which there are dwellings and houses and lofty apartments.
نُزُلاً
(as an entertainment) means, something to welcome and honor a guest,
بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَوَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُواْ
(for what they used to do. And as for those who rebel,) means, those who disobeyed Allah, their dwelling place will be the Fire, and every time they want to escape from it, they will be thrown back in, as Allah says:
كُلَّمَآ أَرَادُواْ أَن يَخْرُجُواْ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا
(Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein) (22:22). Al-Fudayl bin `Iyad said: "By Allah, their hands will be tied, their feet will be chained, the flames will lift them up and the angels will strike them.
وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُواْ عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
(and it will be said to them: "Taste you the torment of the Fire which you used to deny.")" means, this will be said to them by way of rebuke and chastisement.
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الاٌّدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الاٌّكْبَرِ
(And verily, We will make them taste of the near lighter torment prior to the greater torment,) Ibn `Abbas said, "The near torment means diseases and problems in this world, and the things that happen to its people as a test from Allah to His servants so that they will repent to Him." Something similar was also narrated from Ubayy bin Ka`b, Abu Al-`Aliyah, Al-Hasan, Ibrahim An-Nakha`i, Ad-Dahhak, `Alqamah, `Atiyah, Mujahid, Qatadah, `Abd Al-Karim Al-Jazari and Khusayf.
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَايَـتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ
(And who does more wrong than he who is reminded of the Ayat of his Lord, then turns aside therefrom) means, there is no one who does more wrong than the one whom Allah reminds of His signs and explains them to him clearly, then after that he neglects and ignores them, and turns away from them, forgetting them as if he does not know them. Qatadah said: "Beware of turning away from the remembrance of Allah, for whoever turns away from remembering Him will be the most misguided and the most in need, and the most guilty of sin." Allah says, warning the one who does that:
إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ
(Verily, We shall exact retribution from the criminals.) meaning, `We shall avenge Ourselves on those who do that in the strongest possible terms.'
نیک وبد دونوں ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ کے عدل وکرم کا بیان ان آیتوں میں ہے کہ اس کے نزدیک نیک کار اور بدکاربرابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21) 45۔ الجاثية :21) یعنی کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کررہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ایمان اور نیک عمل والوں کی مانند کردیں گے ؟ ان کی موت زیست برابر ہے۔ یہ کیسے برے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ 28) 38۔ ص :28) یعنی ایماندار نیک عمل لوگوں کو کیا ہم زمین کے فسادیوں کے ہم پلہ کردیں ؟ پرہیزگاروں کو گنہگاروں کے برابر کردیں ؟ اور آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20) 59۔ الحشر :20) دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ یہاں بھی فرمایا کہ مومن اور فاسق قیامت کے دن ایک مرتبہ کے نہیں ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ؓ اور عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر ان دونوں قسموں کا تفصیلی بیان فرمایا کہ جس نے اپنے دل سے کلام اللہ کی تصدیق کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا تو انہیں وہ جنتیں ملیں گی جن میں مکانات ہیں بلند بالا خانے ہیں اور رہائش آرام کے تمام سامان ہیں۔ یہ ان کی نیک اعمالی کے بدلے میں مہمانداری ہوگی۔ اور جن لوگوں نے اطاعت چھوڑی ان کی جگہ جہنم میں ہوگی جس میں سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 22) 22۔ الحج :22) یعنی جب کبھی وہاں کے غم سے چھٹکارا چاہیں گے دوبارہ وہیں جھونک دئیے جائیں گے۔ حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں واللہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہونگے آگ شعلے انہیں اوپر نیچے لے جا رہے ہونگے فرشتے انہیں سزائیں کررہے ہونگے اور جھڑک کر فرماتے ہونگے کہ اس جہنم کے عذاب کا لطف اٹھاؤ جسے تم جھوٹا جانتے تھے۔ عذاب ادنی سے مراد دنیوی مصیبتیں آفتیں دکھ درد اور بیماریاں ہیں یہ اس لئے ہوتی ہیں کہ انسان ہوشیار ہوجائے اور اللہ کی طرف جھک جائے اور بڑے عذابوں سے نجات حاصل کرے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی وہ مقرر کردہ سزائیں ہیں جو دنیا میں دی جاتی ہیں جنہیں شرعی اصطلاح میں حدود کہتے ہیں۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ نسائی میں ہے کہ اس سے مراد قحط سالیاں ہیں۔ حضرت ابی فرماتے ہیں چاند کا شق ہوجانا دھویں کا آنا اور پکڑنا اور برباد کن عذاب اور بدر والے دن ان کفار کا قید ہونا اور قتل کیا جانا ہے۔ کیونکہ بدر کی اس شکست نے مکہ کے گھر گھر کو ماتم کدہ بنادیا تھا۔ ان عذابوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ پھر فرماتا ہے جو اللہ کی آیتیں سن کر اس کی وضاحت کو پاکر ان سے منہ موڑلے بلکہ ان کا انکار کرجائے اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا ؟ حضرت قتادۃ فرماتے ہیں اللہ کے ذکر سے اعراض نہ کرو ایسا کرنے والے بےعزت بےوقعت اور بڑے گنہگار ہیں۔ یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ ایسے گنہگاروں سے ہم ضرور انتقام لیں گے۔ جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین کام جس نے کئے وہ مجرم ہوگیا۔ جس نے بےوجہ کوئی جھنڈا باندھا، جس نے ماں باپ کا نافرمانی کی، جس نے ظالم کے ظلم میں اس کا ساتھ دیا۔ یہ مجرم لوگ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ہم مجرموں سے باز پرس کریں گے اور ان سے پورا بدلا لیں گے۔ (ابن ابی حاتم)
23
View Single
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَلَا تَكُن فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآئِهِۦۖ وَجَعَلۡنَٰهُ هُدٗى لِّبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
And indeed We bestowed the Book to Moosa, therefore have no doubt in its acquisition, and made it a guidance for the Descendants of Israel.
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتابِ (تورات) عطا فرمائی، سو تم اُن کی ملاقات کی نسبت شک میں نہ رہو اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا
Tafsir Ibn Kathir
The Book of Musa and the Leadership of the Children of Israel
Allah tells us that He gave the Book -- the Tawrah -- to His servant and Messenger Musa, peace be upon him.
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) Qatadah said, "This refers to the Night of Isra'," then he narrated that Abu Al-`Aliyah Ar-Riyahi said, "The cousin of your Prophet, meaning Ibn `Abbas, told me that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أُرِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طِوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسى رَجُلًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْط الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّال»
(On the night of Isra', I saw Musa bin `Imran, a tall, brown-skinned man with curly hair, looking like the men of Shanu'ah; and I saw `Isa, a man of medium stature and ruddy white skin, and with lank hair. And I saw Malik the Keeper of Hell, and the Dajjal.) Among the signs which Allah showed him were:
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) i.e., he saw Musa and met with him on the Night of Isra'."
وَجَعَلْنَـهُ
(And We made it) means, `the Book which We gave to him, '
هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ
(a guide to the Children of Israel.) This is similar to what Allah says in Surat Al-Isra':
وَءَاتَيْنَآ مُوسَى الْكِتَـبَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِى وَكِيلاً
(And We gave Musa the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel (saying): "Take none other than Me as Trustee.") (17:2)
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يُوقِنُونَ
(And We made from among them, leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and used to believe with certainty in Our Ayat.) means, because they were patient in adhering to the commands of Allah and avoiding what He prohibited, and they believed in His Messengers and followed what they brought, there were among them leaders who guided others to the truth by the command of Allah, calling for goodness, enjoining what is right and forbidding what is wrong. Then when they changed the Words of Allah, twisting and distorting them, they lost that position and their hearts became hard. They change the words from their places, so they do no righteous deeds and have no correct beliefs. Allah says:
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ
(And We made from among them (Children of Israel), leaders, giving guidance under Our command, when they were patient) Qatadah and Sufyan said: "When they patiently shunned the temptations of this world." This was also the view of Al-Hasan bin Salih. Sufyan said, "This is how these people were. A man cannot be an example to be followed unless he shuns the temptation of this world." Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَـهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَـتِ وَفَضَّلْنَـهُمْ عَلَى الْعَـلَمينَ وَءاتَيْنَـهُم بَيِّنَـتٍ مِّنَ الاٌّمْرِ
(And indeed We gave the Children of Israel the Scripture, and the understanding of the Scripture and its laws, and the prophethood; and provided them with good things, and preferred them above the nations. And We gave them clear proofs in matters.) (45:16-17). And He says here:
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقَيَـمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(Verily, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection, concerning that wherein they used to differ.) meaning, with regard to beliefs and actions.
شب معراج اور نبی اکرم ﷺ فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ کو معراج کرائی گئی۔ حضرت موسیٰ کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنادیا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی۔ جیسے سورة بنی اسرائیل میں ہے آیت (وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا ۭ) 17۔ الإسراء :2) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنادیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو۔ پھر فرماتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنادیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کردئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے حضرت سفیان فرماتے ہیں یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہذا انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتدا کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے آپ فرماتے ہیں دین کے لئے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لئے غذا ضروری ہے۔ حضرت سفیان سے حضرت علی ؓ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنادیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنادیا۔ چناچہ فرمان ہے ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضلیت دی۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا۔
24
View Single
وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ
And We made some leaders among them, guiding by Our command, when they had persevered; and they used to accept faith in Our signs.
اور ہم نے ان میں سے جب وہ صبر کرتے رہے کچھ امام و پیشوا بنا دیئے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے رہے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Book of Musa and the Leadership of the Children of Israel
Allah tells us that He gave the Book -- the Tawrah -- to His servant and Messenger Musa, peace be upon him.
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) Qatadah said, "This refers to the Night of Isra'," then he narrated that Abu Al-`Aliyah Ar-Riyahi said, "The cousin of your Prophet, meaning Ibn `Abbas, told me that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أُرِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طِوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسى رَجُلًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْط الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّال»
(On the night of Isra', I saw Musa bin `Imran, a tall, brown-skinned man with curly hair, looking like the men of Shanu'ah; and I saw `Isa, a man of medium stature and ruddy white skin, and with lank hair. And I saw Malik the Keeper of Hell, and the Dajjal.) Among the signs which Allah showed him were:
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) i.e., he saw Musa and met with him on the Night of Isra'."
وَجَعَلْنَـهُ
(And We made it) means, `the Book which We gave to him, '
هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ
(a guide to the Children of Israel.) This is similar to what Allah says in Surat Al-Isra':
وَءَاتَيْنَآ مُوسَى الْكِتَـبَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِى وَكِيلاً
(And We gave Musa the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel (saying): "Take none other than Me as Trustee.") (17:2)
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يُوقِنُونَ
(And We made from among them, leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and used to believe with certainty in Our Ayat.) means, because they were patient in adhering to the commands of Allah and avoiding what He prohibited, and they believed in His Messengers and followed what they brought, there were among them leaders who guided others to the truth by the command of Allah, calling for goodness, enjoining what is right and forbidding what is wrong. Then when they changed the Words of Allah, twisting and distorting them, they lost that position and their hearts became hard. They change the words from their places, so they do no righteous deeds and have no correct beliefs. Allah says:
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ
(And We made from among them (Children of Israel), leaders, giving guidance under Our command, when they were patient) Qatadah and Sufyan said: "When they patiently shunned the temptations of this world." This was also the view of Al-Hasan bin Salih. Sufyan said, "This is how these people were. A man cannot be an example to be followed unless he shuns the temptation of this world." Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَـهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَـتِ وَفَضَّلْنَـهُمْ عَلَى الْعَـلَمينَ وَءاتَيْنَـهُم بَيِّنَـتٍ مِّنَ الاٌّمْرِ
(And indeed We gave the Children of Israel the Scripture, and the understanding of the Scripture and its laws, and the prophethood; and provided them with good things, and preferred them above the nations. And We gave them clear proofs in matters.) (45:16-17). And He says here:
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقَيَـمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(Verily, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection, concerning that wherein they used to differ.) meaning, with regard to beliefs and actions.
شب معراج اور نبی اکرم ﷺ فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ کو معراج کرائی گئی۔ حضرت موسیٰ کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنادیا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی۔ جیسے سورة بنی اسرائیل میں ہے آیت (وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا ۭ) 17۔ الإسراء :2) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنادیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو۔ پھر فرماتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنادیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کردئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے حضرت سفیان فرماتے ہیں یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہذا انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتدا کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے آپ فرماتے ہیں دین کے لئے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لئے غذا ضروری ہے۔ حضرت سفیان سے حضرت علی ؓ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنادیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنادیا۔ چناچہ فرمان ہے ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضلیت دی۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا۔
25
View Single
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Indeed your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning the matters in which they used to differ.
بیشک آپ کا رب ہی ان لوگوں کے درمیان قیامت کے دن ان (باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Book of Musa and the Leadership of the Children of Israel
Allah tells us that He gave the Book -- the Tawrah -- to His servant and Messenger Musa, peace be upon him.
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) Qatadah said, "This refers to the Night of Isra'," then he narrated that Abu Al-`Aliyah Ar-Riyahi said, "The cousin of your Prophet, meaning Ibn `Abbas, told me that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أُرِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طِوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسى رَجُلًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، سَبْط الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّال»
(On the night of Isra', I saw Musa bin `Imran, a tall, brown-skinned man with curly hair, looking like the men of Shanu'ah; and I saw `Isa, a man of medium stature and ruddy white skin, and with lank hair. And I saw Malik the Keeper of Hell, and the Dajjal.) Among the signs which Allah showed him were:
فَلاَ تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِ
(So, be not you in doubt of meeting him.) i.e., he saw Musa and met with him on the Night of Isra'."
وَجَعَلْنَـهُ
(And We made it) means, `the Book which We gave to him, '
هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ
(a guide to the Children of Israel.) This is similar to what Allah says in Surat Al-Isra':
وَءَاتَيْنَآ مُوسَى الْكِتَـبَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِى إِسْرَءِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِى وَكِيلاً
(And We gave Musa the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel (saying): "Take none other than Me as Trustee.") (17:2)
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يُوقِنُونَ
(And We made from among them, leaders, giving guidance under Our command, when they were patient and used to believe with certainty in Our Ayat.) means, because they were patient in adhering to the commands of Allah and avoiding what He prohibited, and they believed in His Messengers and followed what they brought, there were among them leaders who guided others to the truth by the command of Allah, calling for goodness, enjoining what is right and forbidding what is wrong. Then when they changed the Words of Allah, twisting and distorting them, they lost that position and their hearts became hard. They change the words from their places, so they do no righteous deeds and have no correct beliefs. Allah says:
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُواْ
(And We made from among them (Children of Israel), leaders, giving guidance under Our command, when they were patient) Qatadah and Sufyan said: "When they patiently shunned the temptations of this world." This was also the view of Al-Hasan bin Salih. Sufyan said, "This is how these people were. A man cannot be an example to be followed unless he shuns the temptation of this world." Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا بَنِى إِسْرَءِيلَ الْكِتَـبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقْنَـهُمْ مِّنَ الطَّيِّبَـتِ وَفَضَّلْنَـهُمْ عَلَى الْعَـلَمينَ وَءاتَيْنَـهُم بَيِّنَـتٍ مِّنَ الاٌّمْرِ
(And indeed We gave the Children of Israel the Scripture, and the understanding of the Scripture and its laws, and the prophethood; and provided them with good things, and preferred them above the nations. And We gave them clear proofs in matters.) (45:16-17). And He says here:
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقَيَـمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(Verily, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection, concerning that wherein they used to differ.) meaning, with regard to beliefs and actions.
شب معراج اور نبی اکرم ﷺ فرماتا ہے ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی تو اس کی ملاقات کے بارے میں شک وشبہ میں نہ رہ۔ قتادۃ فرماتے ہیں یعنی معراج والی رات میں۔ حدیث میں ہے میں نے معراج والی رات حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ وسفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات حضرت مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھائیں پس اس کی ملاقات میں شک وشبہ نہ کر۔ آپ نے یقینا حضرت موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ کو معراج کرائی گئی۔ حضرت موسیٰ کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنادیا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی۔ جیسے سورة بنی اسرائیل میں ہے آیت (وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا ۭ) 17۔ الإسراء :2) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنادیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو۔ پھر فرماتا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنادیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں۔ لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کردی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کردئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے حضرت سفیان فرماتے ہیں یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہذا انسان کے لئے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتدا کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے آپ فرماتے ہیں دین کے لئے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لئے غذا ضروری ہے۔ حضرت سفیان سے حضرت علی ؓ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنادیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنادیا۔ چناچہ فرمان ہے ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضلیت دی۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا۔
26
View Single
أَوَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ يَمۡشُونَ فِي مَسَٰكِنِهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٍۚ أَفَلَا يَسۡمَعُونَ
And did they not obtain guidance by the fact that We did destroy many generations before them, so now they walk in their houses? Indeed in this are signs; so do they not heed?
اور کیا انہیں (اس امر سے) ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم نے اِن سے پہلے کتنی ہی امّتوں کو ہلاک کر ڈالا تھا جن کی رہائش گاہوں میں (اب) یہ لوگ چَلتے پِھرتے ہیں۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں، تو کیا وہ سنتے نہیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Learning the Lessons of the Past
Allah says: will these people who deny the Messengers not learn from the nations who came before them, whom Allah destroyed for their rejection of His Messengers and their opposition to what the Messengers brought them of the straight path No trace is left of them whatsoever.
هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً
(Can you find a single one of them or hear even a whisper of them) (19:98). Allah says:
يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ
(in whose dwellings they do walk about) meaning, these disbelievers walk about in the places where those disbelievers used to live, but they do not see any of those who used to live there, for they have gone --
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَآ
(As if they had never lived there) (11:68) This is like the Ayat:
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ
(These are their houses in utter ruin, for they did wrong) (27:52).
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins, and (many) a deserted well and lofty castle! Have they not traveled through the land) until:
وَلَـكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِى فِى الصُّدُورِ
(but it is the hearts which are in the breasts that grow blind.) (22:45-46) Allah says here:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَاتٍ
(Verily, therein indeed are signs.) meaning, in the fact that these people are gone and have been destroyed, and in what happened to them because they disbelieved the Messengers, and how those who believed in them were saved, there are many signs, proofs and important lessons.
أَفَلاَ يَسْمَعُونَ
(Would they not then listen) means, to the stories of those who came before and what happened to them. n
The Revival of the Earth with Water is Proof of the Resurrection to come
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَسُوقُ الْمَآءَ إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ
(Have they not seen how We drive water to the dry land) Here Allah explains His kindness and goodness towards them by His sending water to them, whether from the sky or from water flowing through the land, water carried by rivers down from the mountains to the lands that need it at particular times. Allah says:
إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ
(to the dry land) which means the land where nothing grows, as in the Ayah,
وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيداً جُرُزاً
(And verily, We shall make all that is on it a bare dry soil.) (18:8) i.e., barren land where nothing grows. Allah says here:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَسُوقُ الْمَآءَ إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعاً تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَـمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلاَ يُبْصِرُونَ
(Have they not seen how We drive water to the dry land that has no vegetation, and therewith bring forth crops providing food for their cattle and themselves Will they not then see) This is like the Ayah,
فَلْيَنظُرِ الإِنسَـنُ إِلَى طَعَامِهِ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبّاً
(Then let man look at his food: We pour forth water in abundance.) (80:24-25). Allah says here:
أَفَلاَ يُبْصِرُونَ
(Will they not then see)
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب ؓ کا خط کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ وبالا کردیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بےپرواہی کی۔ اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لئے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں۔ دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں کی تحقیر کرنے کا کتنا بد انجام ہوا ؟ کیا تمہارے کان ان کی خبروں سے ناآشنا ہیں۔ پھر جناب باری تعالیٰ اپنے لطف وکرم کو احسان و انعام کو بیان فرما رہا ہے کہ آسمان سے پانی اتارتا ہے پہاڑوں سے اونچی جگہوں سے سمٹ کرندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعہ ادھر ادھر پھیل جاتا ہے۔ بنجر غیر آباد زمین میں اس سے ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔ خشکی تری سے موت زیست سے بدل جاتی ہے۔ گو مفسرین کا قول یہ بھی ہے کہ جزر مصر کی زمین ہے لیکن یہ ٹھیک ہے۔ ہاں مصر میں بھی ایسی زمین ہو تو ہو آیت میں مراد تمام وہ حصے ہیں جو سوکھ گئے ہوں جو پانی کے محتاج ہوں سخت ہوگئے ہوں زمین یبوست (خشکی) کے مارے پھٹنے لگی ہو۔ بیشک مصر کی زمین بھی ایسی ہے دریائے نیل سے وہ سیراب کی جاتی ہے۔ حبش کی بارشوں کا پانی اپنے ساتھ سرخ رنگ کی مٹی کو بھی گھسیٹتا جاتا ہے اور مصر کی زمین جو شور اور ریتلی ہے وہ اس پانی اور اس مٹی سے کھیتی کے قابل بن جاتی ہے اور ہر سال پر فصل کا غلہ تازہ پانی سے انہیں میسر آتا ہے جو ادھر ادھر کا ہوتا ہے۔ اس حکیم و کریم منان ورحیم کی یہ سب مہربانیاں ہیں۔ اسی کی ذات قابل تعریف ہے روایت ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو مصر والے بوائی کے مہینے میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری قدیمی عادت ہے کہ اس مہینے میں کسی کو دریائے نیل کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور اگر نہ چڑھائیں تو دریا میں پانی نہیں آتا۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو ایک باکرہ لڑکی کو جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی ہو اس کے والدین کو دے دلاکر رضامند کرلیتے ہیں اور اسے بہت عمدہ کپڑے اور بہت قیمتی زیور پہنا کر بنا سنوار کر اس نیل میں ڈال دیتے ہیں تو اسکا بہاؤ چڑھتا ہے ورنہ پانی چڑھتا ہی نہیں۔ سپہ سلار اسلام حضرت عمرو بن عاص فاتح مصر نے جواب دیا کہ یہ ایک جاہلانہ اور احمقانہ رسم ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام تو ایسی عادتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے تم اب ایسا نہیں کرسکتے۔ وہ باز رہے لیکن دریائے نیل کا پانی نہ چڑھا مہنیہ پورا نکل گیا لیکن دریا خشک رہا۔ لوگ تنگ آکر ارادہ کرنے لگے کہ مصر کو چھوڑ دیں۔ یہاں کی بود وباش ترک کردیں اب فاتح مصر کو خیال گذرتا ہے اور دربار خلافت کو اس سے مطلع فرماتے ہیں۔ اسی وقت خلیفۃ المسلمین امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ آپ نے جو کیا اچھا کیا اب میں اپنے اس خط میں ایک پرچہ دریائے نیل کے نام بھیج رہا ہوں تم اسے لے کر نیل کے دریا میں ڈال دو۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ نے اس پرچے کو نکال کر پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے بندے امیر المومنین عمر ؓ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔ بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد وقہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کردے۔ یہ پرچہ لے کر حضرت امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ ابھی ایک رات بھی گذرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔ خط کے ساتھ ہی خطہ کا خطہ سرسبز ہوگیا اور دریا پوری روانی سے بہتا رہا۔ اس کے بعد سے ہر سال جو جان چڑھائی جاتی تھی وہ بچ گئی اور مصر سے اس ناپاک رسم کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوا۔ (کتاب السنہ للحافظ ابو القاسم اللالکائی) اسی آیت کے مضمون کی آیت یہ بھی ہے (فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ 24ۙ) 80۔ عبس :24) یعنی انسان اپنی غذا کو دیکھے کہ ہم نے بارش اتاری اور زمین پھاڑ کر اناج اور پھل پیدا کئے اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ اسے نہیں دیکھتے ؟ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جرز وہ زمین ہے جس پر بارش ناکافی برستی ہے پھر نالوں اور نہروں کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ زمین یمن میں ہے حسن فرماتے ہیں ایسی بستیاں یمن اور شام میں ہیں۔ ابن زید وغیرہ کا قول ہے یہ وہ زمین ہے جس میں پیداوار نہ ہو اور غبار آلود ہو۔ اسی کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ 33) 36۔ يس :33) ان کے لئے مردہ زمین بھی اک نشانی ہے جسے ہم زندہ کردیتے ہیں۔
27
View Single
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَسُوقُ ٱلۡمَآءَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِهِۦ زَرۡعٗا تَأۡكُلُ مِنۡهُ أَنۡعَٰمُهُمۡ وَأَنفُسُهُمۡۚ أَفَلَا يُبۡصِرُونَ
And do they not see that We send the water to the barren land and produce crops with it, so their animals and they themselves eat from it? So do they not perceive?
اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو بنجَر زمین کی طرف بہا لے جاتے ہیں، پھر ہم اس سے کھیت نکالتے ہیں جس سے ان کے چوپائے (بھی) کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں، تو کیا وہ دیکھتے نہیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Learning the Lessons of the Past
Allah says: will these people who deny the Messengers not learn from the nations who came before them, whom Allah destroyed for their rejection of His Messengers and their opposition to what the Messengers brought them of the straight path No trace is left of them whatsoever.
هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً
(Can you find a single one of them or hear even a whisper of them) (19:98). Allah says:
يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ
(in whose dwellings they do walk about) meaning, these disbelievers walk about in the places where those disbelievers used to live, but they do not see any of those who used to live there, for they have gone --
كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَآ
(As if they had never lived there) (11:68) This is like the Ayat:
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ
(These are their houses in utter ruin, for they did wrong) (27:52).
فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ
(And many a township did We destroy while they were given to wrongdoing, so that it lie in ruins, and (many) a deserted well and lofty castle! Have they not traveled through the land) until:
وَلَـكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِى فِى الصُّدُورِ
(but it is the hearts which are in the breasts that grow blind.) (22:45-46) Allah says here:
إِنَّ فِى ذَلِكَ لاّيَاتٍ
(Verily, therein indeed are signs.) meaning, in the fact that these people are gone and have been destroyed, and in what happened to them because they disbelieved the Messengers, and how those who believed in them were saved, there are many signs, proofs and important lessons.
أَفَلاَ يَسْمَعُونَ
(Would they not then listen) means, to the stories of those who came before and what happened to them. n
The Revival of the Earth with Water is Proof of the Resurrection to come
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَسُوقُ الْمَآءَ إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ
(Have they not seen how We drive water to the dry land) Here Allah explains His kindness and goodness towards them by His sending water to them, whether from the sky or from water flowing through the land, water carried by rivers down from the mountains to the lands that need it at particular times. Allah says:
إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ
(to the dry land) which means the land where nothing grows, as in the Ayah,
وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيداً جُرُزاً
(And verily, We shall make all that is on it a bare dry soil.) (18:8) i.e., barren land where nothing grows. Allah says here:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَسُوقُ الْمَآءَ إِلَى الاٌّرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعاً تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَـمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلاَ يُبْصِرُونَ
(Have they not seen how We drive water to the dry land that has no vegetation, and therewith bring forth crops providing food for their cattle and themselves Will they not then see) This is like the Ayah,
فَلْيَنظُرِ الإِنسَـنُ إِلَى طَعَامِهِ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبّاً
(Then let man look at his food: We pour forth water in abundance.) (80:24-25). Allah says here:
أَفَلاَ يُبْصِرُونَ
(Will they not then see)
دریائے نیل کے نام عمر بن خطاب ؓ کا خط کیا یہ اس کے ملاحظہ کے بعد بھی راہ راست پر نہیں چلتے کہ ان سے پہلے کے گمراہوں کو ہم نے تہہ وبالا کردیا ہے۔ آج ان کے نشانات مٹ گئے۔ انہوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اللہ کی باتوں سے بےپرواہی کی۔ اب یہ جھٹلانے والے بھی ان ہی کے مکانوں میں رہتے سہتے ہیں۔ ان کی ویرانی ان کے اگلے مالکوں کی ہلاکت ان کے سامنے ہے۔ لیکن تاہم یہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی بات کو قرآن حکیم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ یہ غیر آباد کھنڈر یہ اجڑے ہوئے محلات تو تمہاری آنکھوں کو اور تمہارے کانوں کو کھولنے کے لئے اپنے اندر بہت سی نشانیاں رکھتے ہیں۔ دیکھ لو کہ اللہ کی باتیں نہ ماننے کا رسولوں کی تحقیر کرنے کا کتنا بد انجام ہوا ؟ کیا تمہارے کان ان کی خبروں سے ناآشنا ہیں۔ پھر جناب باری تعالیٰ اپنے لطف وکرم کو احسان و انعام کو بیان فرما رہا ہے کہ آسمان سے پانی اتارتا ہے پہاڑوں سے اونچی جگہوں سے سمٹ کرندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعہ ادھر ادھر پھیل جاتا ہے۔ بنجر غیر آباد زمین میں اس سے ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔ خشکی تری سے موت زیست سے بدل جاتی ہے۔ گو مفسرین کا قول یہ بھی ہے کہ جزر مصر کی زمین ہے لیکن یہ ٹھیک ہے۔ ہاں مصر میں بھی ایسی زمین ہو تو ہو آیت میں مراد تمام وہ حصے ہیں جو سوکھ گئے ہوں جو پانی کے محتاج ہوں سخت ہوگئے ہوں زمین یبوست (خشکی) کے مارے پھٹنے لگی ہو۔ بیشک مصر کی زمین بھی ایسی ہے دریائے نیل سے وہ سیراب کی جاتی ہے۔ حبش کی بارشوں کا پانی اپنے ساتھ سرخ رنگ کی مٹی کو بھی گھسیٹتا جاتا ہے اور مصر کی زمین جو شور اور ریتلی ہے وہ اس پانی اور اس مٹی سے کھیتی کے قابل بن جاتی ہے اور ہر سال پر فصل کا غلہ تازہ پانی سے انہیں میسر آتا ہے جو ادھر ادھر کا ہوتا ہے۔ اس حکیم و کریم منان ورحیم کی یہ سب مہربانیاں ہیں۔ اسی کی ذات قابل تعریف ہے روایت ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو مصر والے بوائی کے مہینے میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری قدیمی عادت ہے کہ اس مہینے میں کسی کو دریائے نیل کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور اگر نہ چڑھائیں تو دریا میں پانی نہیں آتا۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس مہینے کی بارہویں تاریخ کو ایک باکرہ لڑکی کو جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی ہو اس کے والدین کو دے دلاکر رضامند کرلیتے ہیں اور اسے بہت عمدہ کپڑے اور بہت قیمتی زیور پہنا کر بنا سنوار کر اس نیل میں ڈال دیتے ہیں تو اسکا بہاؤ چڑھتا ہے ورنہ پانی چڑھتا ہی نہیں۔ سپہ سلار اسلام حضرت عمرو بن عاص فاتح مصر نے جواب دیا کہ یہ ایک جاہلانہ اور احمقانہ رسم ہے۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اسلام تو ایسی عادتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے تم اب ایسا نہیں کرسکتے۔ وہ باز رہے لیکن دریائے نیل کا پانی نہ چڑھا مہنیہ پورا نکل گیا لیکن دریا خشک رہا۔ لوگ تنگ آکر ارادہ کرنے لگے کہ مصر کو چھوڑ دیں۔ یہاں کی بود وباش ترک کردیں اب فاتح مصر کو خیال گذرتا ہے اور دربار خلافت کو اس سے مطلع فرماتے ہیں۔ اسی وقت خلیفۃ المسلمین امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ آپ نے جو کیا اچھا کیا اب میں اپنے اس خط میں ایک پرچہ دریائے نیل کے نام بھیج رہا ہوں تم اسے لے کر نیل کے دریا میں ڈال دو۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ نے اس پرچے کو نکال کر پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ یہ خط اللہ کے بندے امیر المومنین عمر ؓ کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔ بعد حمد وصلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے اور اپنی مرضی سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد وقہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہیں کہ وہ تجھے رواں کردے۔ یہ پرچہ لے کر حضرت امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ ابھی ایک رات بھی گذرنے نہیں پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے گرانی ارزانی سے بدل گئی۔ خط کے ساتھ ہی خطہ کا خطہ سرسبز ہوگیا اور دریا پوری روانی سے بہتا رہا۔ اس کے بعد سے ہر سال جو جان چڑھائی جاتی تھی وہ بچ گئی اور مصر سے اس ناپاک رسم کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوا۔ (کتاب السنہ للحافظ ابو القاسم اللالکائی) اسی آیت کے مضمون کی آیت یہ بھی ہے (فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖٓ 24ۙ) 80۔ عبس :24) یعنی انسان اپنی غذا کو دیکھے کہ ہم نے بارش اتاری اور زمین پھاڑ کر اناج اور پھل پیدا کئے اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ اسے نہیں دیکھتے ؟ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جرز وہ زمین ہے جس پر بارش ناکافی برستی ہے پھر نالوں اور نہروں کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ زمین یمن میں ہے حسن فرماتے ہیں ایسی بستیاں یمن اور شام میں ہیں۔ ابن زید وغیرہ کا قول ہے یہ وہ زمین ہے جس میں پیداوار نہ ہو اور غبار آلود ہو۔ اسی کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے (وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ښ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْكُلُوْنَ 33) 36۔ يس :33) ان کے لئے مردہ زمین بھی اک نشانی ہے جسے ہم زندہ کردیتے ہیں۔
28
View Single
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡفَتۡحُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
And they say, “When will this decision take place, if you are truthful?”
اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ (کا دن) کب ہوگا اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
How the Disbelievers sought to hasten on the Punishment, and what happened to Them
Allah tells us how the disbelievers sought to hasten on the punishment, and to bring the wrath and vengeance of Allah upon themselves, because they thought this punishment would never happen, and because of their disbelief and stubbornness.
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْفَتْحُ
(They say: "When will this Fath be...") meaning, `when will you prevail over us, O Muhammad, since you claim that there will be a time when you will gain the upper hand over us and take your revenge on us, so when will that happen All we see of you and your companions is that you are hiding, afraid and humiliated.' Allah says:
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ
(Say: "On the Day of Al-Fath...") meaning, `when the wrath and punishment of Allah befall you, in this world and the next,'
لاَ يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِيَمَـنُهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(no profit will it be to those who disbelieve if they (then) believe! Nor will they be granted a respite.) This is like the Ayah,
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ
(Then when their Messengers came to them with clear proofs, they were glad with that which they had of the knowledge...) (40:83-85) Those who claim that this refers to the conquest of Makkah go too far, and have made a grievous mistake, for on the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ accepted the Islam of the freed Makkan prisoners-of-war, who numbered nearly two thousand. If what was meant by this Ayah was the conquest of Makkah, he would not have accepted their Islam, because Allah says:
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لاَ يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِيَمَـنُهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(Say: "On the Day of Al-Fath, no profit will it be to those who disbelieve if they (then) believe! Nor will they be granted a respite.") What is meant by Al-Fath here is Judgement, as in the Ayat:
فَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(Nuh said: So Aftah (judge) between me and them) (26:118). and:
قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ
(Say: "Our Lord will assemble us all together, then He will judge between us with truth") (34:26).
وَاسْتَفْتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
(And they sought judgement and every obstinate, arrogant dictator was brought to a complete loss and destruction. ) (14:15)
وَكَانُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ
(although aforetime they had invoked Allah to pass judgement over those who disbelieved) (2:89)
إِن تَسْتَفْتِحُواْ فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ
(If you ask for a judgement, now has the judgement come unto you) (8:19). Then Allah says:
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانتَظِرْ إِنَّهُمْ مُّنتَظِرُونَ
(So turn aside from them and await, verily, they (too) are awaiting.) meaning, `turn away from these idolators, and convey that which has been revealed to you from your Lord.' This is like the Ayah,
اتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(Follow what has been revealed to you from your Lord, there is no God but Him.) (6:106) `Wait until Allah fulfills that which He has promised you, and grants you victory over those who oppose you, for He never breaks His promise.'
عَنْهُمْ وَانتَظِرْ
(verily, they (too) are awaiting.) means, `you are waiting, and they are waiting and plotting against you,'
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ
(Or do they say: "A poet! We await for him some calamity by time!") (52:30). `You will see the consequences of your patience towards them, and the fulfillment of the promise of your Lord in your victory over them, and they will see the consequences of their wait for something bad to befall you and your Companions, in that Allah's punishment will come upon them.' Sufficient unto us is Allah, and He is the Best Disposer of affairs. This is the end of the Tafsir of Surat As-Sajdah.
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے کافر اعتراضا کہا کرتے تھے کہ اے نبی ﷺ تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈر رہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 83) 40۔ غافر :83) یعنی جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے، پوری دو آیتوں تک۔ اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ ﷺ نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریبا دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔ اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہے تھا کہ اللہ کے پیغمبر ؑ ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانامقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت (فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ01108) 26۔ الشعراء :118) ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت (قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ 26) 34۔ سبأ :26) یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا اور آیت میں ہے (وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ 15 ۙ) 14۔ ابراھیم :15) یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے آیت (وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 89) 2۔ البقرة :89) اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے اور آیت میں فرمان باری ہے آیت (اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ 19) 8۔ الانفال :19) اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی۔ پھر فرماتا ہے آپ ان مشرکین سے بےپرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ پھر فرمایا تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اسکی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں۔ چاہتے ہیں کہ آپ پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بےسود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کردئیے جائیں ؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی (نکبت) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہہ دو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔
29
View Single
قُلۡ يَوۡمَ ٱلۡفَتۡحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِيمَٰنُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
Proclaim, “On the Day of Decision*, the disbelievers will not benefit from their accepting faith, nor will they get respite.” (* Of death or of resurrection)
آپ فرما دیں: فیصلہ کے دن نہ کافروں کو ان کا ایمان فائدہ دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
How the Disbelievers sought to hasten on the Punishment, and what happened to Them
Allah tells us how the disbelievers sought to hasten on the punishment, and to bring the wrath and vengeance of Allah upon themselves, because they thought this punishment would never happen, and because of their disbelief and stubbornness.
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْفَتْحُ
(They say: "When will this Fath be...") meaning, `when will you prevail over us, O Muhammad, since you claim that there will be a time when you will gain the upper hand over us and take your revenge on us, so when will that happen All we see of you and your companions is that you are hiding, afraid and humiliated.' Allah says:
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ
(Say: "On the Day of Al-Fath...") meaning, `when the wrath and punishment of Allah befall you, in this world and the next,'
لاَ يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِيَمَـنُهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(no profit will it be to those who disbelieve if they (then) believe! Nor will they be granted a respite.) This is like the Ayah,
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ
(Then when their Messengers came to them with clear proofs, they were glad with that which they had of the knowledge...) (40:83-85) Those who claim that this refers to the conquest of Makkah go too far, and have made a grievous mistake, for on the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ accepted the Islam of the freed Makkan prisoners-of-war, who numbered nearly two thousand. If what was meant by this Ayah was the conquest of Makkah, he would not have accepted their Islam, because Allah says:
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لاَ يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِيَمَـنُهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(Say: "On the Day of Al-Fath, no profit will it be to those who disbelieve if they (then) believe! Nor will they be granted a respite.") What is meant by Al-Fath here is Judgement, as in the Ayat:
فَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(Nuh said: So Aftah (judge) between me and them) (26:118). and:
قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ
(Say: "Our Lord will assemble us all together, then He will judge between us with truth") (34:26).
وَاسْتَفْتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
(And they sought judgement and every obstinate, arrogant dictator was brought to a complete loss and destruction. ) (14:15)
وَكَانُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ
(although aforetime they had invoked Allah to pass judgement over those who disbelieved) (2:89)
إِن تَسْتَفْتِحُواْ فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ
(If you ask for a judgement, now has the judgement come unto you) (8:19). Then Allah says:
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانتَظِرْ إِنَّهُمْ مُّنتَظِرُونَ
(So turn aside from them and await, verily, they (too) are awaiting.) meaning, `turn away from these idolators, and convey that which has been revealed to you from your Lord.' This is like the Ayah,
اتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(Follow what has been revealed to you from your Lord, there is no God but Him.) (6:106) `Wait until Allah fulfills that which He has promised you, and grants you victory over those who oppose you, for He never breaks His promise.'
عَنْهُمْ وَانتَظِرْ
(verily, they (too) are awaiting.) means, `you are waiting, and they are waiting and plotting against you,'
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ
(Or do they say: "A poet! We await for him some calamity by time!") (52:30). `You will see the consequences of your patience towards them, and the fulfillment of the promise of your Lord in your victory over them, and they will see the consequences of their wait for something bad to befall you and your Companions, in that Allah's punishment will come upon them.' Sufficient unto us is Allah, and He is the Best Disposer of affairs. This is the end of the Tafsir of Surat As-Sajdah.
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے کافر اعتراضا کہا کرتے تھے کہ اے نبی ﷺ تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈر رہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 83) 40۔ غافر :83) یعنی جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے، پوری دو آیتوں تک۔ اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ ﷺ نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریبا دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔ اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہے تھا کہ اللہ کے پیغمبر ؑ ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانامقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت (فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ01108) 26۔ الشعراء :118) ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت (قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ 26) 34۔ سبأ :26) یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا اور آیت میں ہے (وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ 15 ۙ) 14۔ ابراھیم :15) یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے آیت (وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 89) 2۔ البقرة :89) اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے اور آیت میں فرمان باری ہے آیت (اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ 19) 8۔ الانفال :19) اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی۔ پھر فرماتا ہے آپ ان مشرکین سے بےپرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ پھر فرمایا تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اسکی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں۔ چاہتے ہیں کہ آپ پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بےسود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کردئیے جائیں ؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی (نکبت) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہہ دو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔
30
View Single
فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَٱنتَظِرۡ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ
Therefore turn away from them and wait – indeed they too have to wait.
پس آپ اُن سے منہ پھیر لیجئے اور انتظار کیجئے اور وہ لوگ (بھی) انتظار کر رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
How the Disbelievers sought to hasten on the Punishment, and what happened to Them
Allah tells us how the disbelievers sought to hasten on the punishment, and to bring the wrath and vengeance of Allah upon themselves, because they thought this punishment would never happen, and because of their disbelief and stubbornness.
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْفَتْحُ
(They say: "When will this Fath be...") meaning, `when will you prevail over us, O Muhammad, since you claim that there will be a time when you will gain the upper hand over us and take your revenge on us, so when will that happen All we see of you and your companions is that you are hiding, afraid and humiliated.' Allah says:
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ
(Say: "On the Day of Al-Fath...") meaning, `when the wrath and punishment of Allah befall you, in this world and the next,'
لاَ يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِيَمَـنُهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(no profit will it be to those who disbelieve if they (then) believe! Nor will they be granted a respite.) This is like the Ayah,
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ
(Then when their Messengers came to them with clear proofs, they were glad with that which they had of the knowledge...) (40:83-85) Those who claim that this refers to the conquest of Makkah go too far, and have made a grievous mistake, for on the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ accepted the Islam of the freed Makkan prisoners-of-war, who numbered nearly two thousand. If what was meant by this Ayah was the conquest of Makkah, he would not have accepted their Islam, because Allah says:
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لاَ يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِيَمَـنُهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(Say: "On the Day of Al-Fath, no profit will it be to those who disbelieve if they (then) believe! Nor will they be granted a respite.") What is meant by Al-Fath here is Judgement, as in the Ayat:
فَافْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحاً
(Nuh said: So Aftah (judge) between me and them) (26:118). and:
قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ
(Say: "Our Lord will assemble us all together, then He will judge between us with truth") (34:26).
وَاسْتَفْتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
(And they sought judgement and every obstinate, arrogant dictator was brought to a complete loss and destruction. ) (14:15)
وَكَانُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ
(although aforetime they had invoked Allah to pass judgement over those who disbelieved) (2:89)
إِن تَسْتَفْتِحُواْ فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ
(If you ask for a judgement, now has the judgement come unto you) (8:19). Then Allah says:
فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانتَظِرْ إِنَّهُمْ مُّنتَظِرُونَ
(So turn aside from them and await, verily, they (too) are awaiting.) meaning, `turn away from these idolators, and convey that which has been revealed to you from your Lord.' This is like the Ayah,
اتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ
(Follow what has been revealed to you from your Lord, there is no God but Him.) (6:106) `Wait until Allah fulfills that which He has promised you, and grants you victory over those who oppose you, for He never breaks His promise.'
عَنْهُمْ وَانتَظِرْ
(verily, they (too) are awaiting.) means, `you are waiting, and they are waiting and plotting against you,'
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ
(Or do they say: "A poet! We await for him some calamity by time!") (52:30). `You will see the consequences of your patience towards them, and the fulfillment of the promise of your Lord in your victory over them, and they will see the consequences of their wait for something bad to befall you and your Companions, in that Allah's punishment will come upon them.' Sufficient unto us is Allah, and He is the Best Disposer of affairs. This is the end of the Tafsir of Surat As-Sajdah.
نافرمان اپنی بربادی کو آپ بلاوا دیتا ہے کافر اعتراضا کہا کرتے تھے کہ اے نبی ﷺ تم جو ہمیں کہا کرتے ہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی مطمئن کردیا ہے کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور ہم سے بدلے لوگے وہ وقت کب آئے گا ؟ ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب زیر اور بےوقعت دیکھ رہے ہیں۔ چھپ رہے ہو ڈر رہے ہو اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت بتاؤ۔ اللہ فرماتا ہے کہ جب عذاب اللہ آجائے گا اور جب اس کا غصہ اور غضب اتر پڑتا ہے خواہ دنیا میں ہو خواہ آخرت میں اس وقت نہ تو ایمان نفع دیتا ہے نہ مہلت ملتی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ 83) 40۔ غافر :83) یعنی جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر دلیلیں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر نازاں ہونے لگے، پوری دو آیتوں تک۔ اس سے فتح مکہ مراد نہیں۔ فتح مکہ والے دن تو رسول اللہ ﷺ نے کافروں کو اسلام لانا قبول فرمایا تھا اور تقریبا دوہزار آدمی اس دن مسلمان ہوئے تھے۔ اگر اس آیت میں یہی فتح مکہ مراد ہوتی تو چاہے تھا کہ اللہ کے پیغمبر ؑ ان کا اسلام قبول نہ فرماتے جیسے اس آیت میں ہے کہ اس دن کافروں کا اسلام لانامقبول ہوگا۔ بلکہ یہاں مراد فتح سے فیصلہ ہے جیسے قرآن میں ہے آیت (فَافْتَحْ بَيْنِيْ وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَّنَجِّـنِيْ وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ01108) 26۔ الشعراء :118) ہمارے درمیان تو فتح کر یعنی فیصلہ کر۔ اور جیسے اور مقام پر ہے آیت (قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ 26) 34۔ سبأ :26) یعنی اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا پھر ہمارے آپس کے فیصلے فرمائے گا اور آیت میں ہے (وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ 15 ۙ) 14۔ ابراھیم :15) یہ فیصلہ چاہتے ہیں سرکش ضدی تباہ ہوئے اور جگہ ہے آیت (وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا 89) 2۔ البقرة :89) اس سے پہلے وہ کافروں پر فتح چاہتے تھے اور آیت میں فرمان باری ہے آیت (اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ 19) 8۔ الانفال :19) اگر تم فیصلے کے آرزومند ہو تو فتح آگئی۔ پھر فرماتا ہے آپ ان مشرکین سے بےپرواہ ہوجائیے جو رب نے اتارا ہے اسے پہنچاتے رہیے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اپنے رب کی وحی کی اتباع کرو اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ پھر فرمایا تم اپنے رب کے وعدوں کو سچا مان لو اسکی باتیں اٹل ہیں اس کے فرمان سچے ہیں وہ عنقریب تجھے تیرے مخالفین پر غالب کرے گا وہ وعدہ خلافی سے پاک ہے یہ بھی منتظر ہیں۔ چاہتے ہیں کہ آپ پر کوئی آفت آئے لیکن ان کی یہ چاہتیں بےسود ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے والوں کو بھولتا نہیں نہ انہیں چھوڑتا ہے بھلا جو رب کے احکام پر جمے رہیں اللہ کی باتیں دوسروں کو پہنچائیں وہ تائید ایزدی سے کیسے محروم کردئیے جائیں ؟ یہ جو کچھ تم پر دیکھنا چاہتے ہیں وہ ان پر اترے گا بدبختی (نکبت) وادبار میں ہائے وائے واویلا میں گرفتار کئے جائیں گے۔ رب کے عذابوں کا شکار ہونگے۔ کہہ دو کہ اللہ ہمیں کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔