النمل — An naml
Ayah 45 / 93 • Meccan
1,283
45
An naml
النمل • Meccan
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمۡ فَرِيقَانِ يَخۡتَصِمُونَ
And indeed We sent to the Thamud, their fellowman Saleh that, “Worship Allah”, thereupon they became two parties quarrelling.
اور بیشک ہم نے قومِ ثمود کے پاس ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو تو اس وقت وہ دو فرقے ہو گئے جو آپس میں جھگڑتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Salih and Thamud
Allah tells us about Thamud and how they responded to their Prophet Salih, when Allah sent him to call them to worship Allah alone, with no partner or associate.
فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ
(Then look! They became two parties quarreling with each other.) Mujahid said, "These were believers and disbelievers." This is like the Ayah,
قَالَ الْمَلاَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ ءامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَـلِحاً مُّرْسَلٌ مّن رَّبّهِ قَالُواْ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا بِالَّذِى ءامَنتُمْ بِهِ كَـفِرُونَ
(The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak -- to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent." Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in.") (7:75-76)
قَالَ يقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ
(He said: "O my people! Why do you seek to hasten the evil before the good") meaning, `why are you praying for the punishment to come, and not asking Allah for His mercy' Then he said:
لَوْلاَ تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَقَالُواْ اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ
("Why seek you not the forgiveness of Allah, that you may receive mercy" They said: "We augur an omen from you and those with you.") This means: "We do not see any good in your face and the faces of those who are following you." Since they were doomed, whenever anything bad happened to any of them they would say, "This is because of Salih and his companions." Mujahid said, "They regarded them as bad omens." This is similar to what Allah said about the people of Fir`awn:
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُواْ لَنَا هَـذِهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُواْ بِمُوسَى وَمَن مَّعَهُ
(But whenever good came to them, they said: "Ours is this." And if evil afflicted them, they saw it as an omen about Musa and those with him) (7:131). And Allah says:
وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
(And if some good reaches them, they say, "This is from Allah," but if some evil befalls them, they say, "This is from you." Say: "All things are from Allah.") (4:78) i.e., by virtue of His will and decree. And Allah tells us about the dwellers of the town, when the Messengers came to them:
قَالُواْ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَئِن لَّمْ تَنتَهُواْ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ
قَالُواْ طَـئِرُكُم مَّعَكُمْ
(They (people) said: "For us, we see an omen from you; if you cease not, we will surely stone you, and a painful torment will touch you from us." They (Messengers) said: "Your omens are with yourselves!) (36:18) And these people Thamud said:
اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ قَالَ طَائِرُكُمْ عِندَ اللَّهِ
("We augur an omen from you and those with you." He said: "Your omen is of Allah;) meaning, Allah will punish you for that.
بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ
(nay, but you are a people that are being tested.) Qatadah said: "You are being tested to see whether you will obey or disobey." The apparent meaning of the phrase
تُفْتَنُونَ
(are being tested) is: you will be left to get carried away in your state of misguidance.
صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔
طسٓۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡقُرۡءَانِ وَكِتَابٖ مُّبِينٍ
Ta-Seen*; these are verses of the Qur’an and the clear Book. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)
طا، سین (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is Guidance and Glad Tidings for the Believers, a Warning to the Disbelievers, and it is from Allah
In (the comments on) Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
تِلْكَ ءَايَـتُ الْقُرْءَانِ وَكِتَـبٍ مُّبِينٍ
(These are the Ayat of the Qur'an, and (it is) a Book (that is) clear.) It is plain and evident.
هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ
(A guide and glad tidings for the believers.) meaning, guidance and good news may be attained from the Qur'an for those who believe in it, follow it and put it into practice. They establish obligatory prayers, pay Zakah and believe with certain faith in the Hereafter, the resurrection after death, reward and punishment for all deeds, good and bad, and Paradise and Hell. This is like the Ayat:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears...") (41:44).
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the Ludd (most quarrelsome) people) (19: 97). Allah says here:
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(Verily, those who believe not in the Hereafter,) meaning, those who deny it and think that it will never happen,
زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَـلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ
(We have made their deeds fair seeming to them, so that they wander about blindly.) means, `We have made what they are doing seem good to them, and We have left them to continue in their misguidance, so they are lost and confused.' This is their recompense for their disbelief in the Hereafter, as Allah says:
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time) (6:110).
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ
(They are those for whom there will be an evil torment.) in this world and the Hereafter.
وَهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الاٌّخْسَرُونَ
(And in the Hereafter they will be the greatest losers.) means, no one but they, among all the people who will be gathered, will lose their souls and their wealth.
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(And verily, you are being taught the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.)
وَأَنَّكَ
(And verily, you) O Muhammad. Qatadah said:
لَتُلَقَّى
(are being taught) "Are receiving."
الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.) from One Who is Wise in His commands and prohibitions, and Who knows all things, major and minor. Whatever He says is absolute Truth, and His rulings are entirely fair and just, as Allah says:
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice) (6:115).
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے اور بےایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔ اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ انکی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی ﷺ ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق و صداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115)
هُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
A guidance and glad tidings for the believers.
(جو) ہدایت ہے اور (ایسے) ایمان والوں کے لئے خوشخبری ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is Guidance and Glad Tidings for the Believers, a Warning to the Disbelievers, and it is from Allah
In (the comments on) Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
تِلْكَ ءَايَـتُ الْقُرْءَانِ وَكِتَـبٍ مُّبِينٍ
(These are the Ayat of the Qur'an, and (it is) a Book (that is) clear.) It is plain and evident.
هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ
(A guide and glad tidings for the believers.) meaning, guidance and good news may be attained from the Qur'an for those who believe in it, follow it and put it into practice. They establish obligatory prayers, pay Zakah and believe with certain faith in the Hereafter, the resurrection after death, reward and punishment for all deeds, good and bad, and Paradise and Hell. This is like the Ayat:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears...") (41:44).
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the Ludd (most quarrelsome) people) (19: 97). Allah says here:
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(Verily, those who believe not in the Hereafter,) meaning, those who deny it and think that it will never happen,
زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَـلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ
(We have made their deeds fair seeming to them, so that they wander about blindly.) means, `We have made what they are doing seem good to them, and We have left them to continue in their misguidance, so they are lost and confused.' This is their recompense for their disbelief in the Hereafter, as Allah says:
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time) (6:110).
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ
(They are those for whom there will be an evil torment.) in this world and the Hereafter.
وَهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الاٌّخْسَرُونَ
(And in the Hereafter they will be the greatest losers.) means, no one but they, among all the people who will be gathered, will lose their souls and their wealth.
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(And verily, you are being taught the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.)
وَأَنَّكَ
(And verily, you) O Muhammad. Qatadah said:
لَتُلَقَّى
(are being taught) "Are receiving."
الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.) from One Who is Wise in His commands and prohibitions, and Who knows all things, major and minor. Whatever He says is absolute Truth, and His rulings are entirely fair and just, as Allah says:
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice) (6:115).
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے اور بےایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔ اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ انکی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی ﷺ ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق و صداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115)
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ
Those who keep the prayer established and pay the charity and are certain of the Hereafter.
جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر (بھی) یقین رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is Guidance and Glad Tidings for the Believers, a Warning to the Disbelievers, and it is from Allah
In (the comments on) Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
تِلْكَ ءَايَـتُ الْقُرْءَانِ وَكِتَـبٍ مُّبِينٍ
(These are the Ayat of the Qur'an, and (it is) a Book (that is) clear.) It is plain and evident.
هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ
(A guide and glad tidings for the believers.) meaning, guidance and good news may be attained from the Qur'an for those who believe in it, follow it and put it into practice. They establish obligatory prayers, pay Zakah and believe with certain faith in the Hereafter, the resurrection after death, reward and punishment for all deeds, good and bad, and Paradise and Hell. This is like the Ayat:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears...") (41:44).
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the Ludd (most quarrelsome) people) (19: 97). Allah says here:
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(Verily, those who believe not in the Hereafter,) meaning, those who deny it and think that it will never happen,
زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَـلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ
(We have made their deeds fair seeming to them, so that they wander about blindly.) means, `We have made what they are doing seem good to them, and We have left them to continue in their misguidance, so they are lost and confused.' This is their recompense for their disbelief in the Hereafter, as Allah says:
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time) (6:110).
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ
(They are those for whom there will be an evil torment.) in this world and the Hereafter.
وَهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الاٌّخْسَرُونَ
(And in the Hereafter they will be the greatest losers.) means, no one but they, among all the people who will be gathered, will lose their souls and their wealth.
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(And verily, you are being taught the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.)
وَأَنَّكَ
(And verily, you) O Muhammad. Qatadah said:
لَتُلَقَّى
(are being taught) "Are receiving."
الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.) from One Who is Wise in His commands and prohibitions, and Who knows all things, major and minor. Whatever He says is absolute Truth, and His rulings are entirely fair and just, as Allah says:
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice) (6:115).
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے اور بےایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔ اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ انکی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی ﷺ ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق و صداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115)
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُونَ
Those who do not believe in the Hereafter – We have made their deeds seem good to them, so they are astray.
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اَعمالِ (بد ان کی نگاہوں میں) خوش نما کر دیئے ہیں سو وہ (گمراہی میں) سرگرداں رہتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is Guidance and Glad Tidings for the Believers, a Warning to the Disbelievers, and it is from Allah
In (the comments on) Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
تِلْكَ ءَايَـتُ الْقُرْءَانِ وَكِتَـبٍ مُّبِينٍ
(These are the Ayat of the Qur'an, and (it is) a Book (that is) clear.) It is plain and evident.
هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ
(A guide and glad tidings for the believers.) meaning, guidance and good news may be attained from the Qur'an for those who believe in it, follow it and put it into practice. They establish obligatory prayers, pay Zakah and believe with certain faith in the Hereafter, the resurrection after death, reward and punishment for all deeds, good and bad, and Paradise and Hell. This is like the Ayat:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears...") (41:44).
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the Ludd (most quarrelsome) people) (19: 97). Allah says here:
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(Verily, those who believe not in the Hereafter,) meaning, those who deny it and think that it will never happen,
زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَـلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ
(We have made their deeds fair seeming to them, so that they wander about blindly.) means, `We have made what they are doing seem good to them, and We have left them to continue in their misguidance, so they are lost and confused.' This is their recompense for their disbelief in the Hereafter, as Allah says:
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time) (6:110).
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ
(They are those for whom there will be an evil torment.) in this world and the Hereafter.
وَهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الاٌّخْسَرُونَ
(And in the Hereafter they will be the greatest losers.) means, no one but they, among all the people who will be gathered, will lose their souls and their wealth.
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(And verily, you are being taught the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.)
وَأَنَّكَ
(And verily, you) O Muhammad. Qatadah said:
لَتُلَقَّى
(are being taught) "Are receiving."
الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.) from One Who is Wise in His commands and prohibitions, and Who knows all things, major and minor. Whatever He says is absolute Truth, and His rulings are entirely fair and just, as Allah says:
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice) (6:115).
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے اور بےایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔ اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ انکی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی ﷺ ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق و صداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115)
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ وَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ
It is they for whom is the worst punishment, and they will be the greatest losers in the Hereafter.
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بُرا عذاب ہے اور یہی لوگ آخرت میں (سب سے) زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is Guidance and Glad Tidings for the Believers, a Warning to the Disbelievers, and it is from Allah
In (the comments on) Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
تِلْكَ ءَايَـتُ الْقُرْءَانِ وَكِتَـبٍ مُّبِينٍ
(These are the Ayat of the Qur'an, and (it is) a Book (that is) clear.) It is plain and evident.
هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ
(A guide and glad tidings for the believers.) meaning, guidance and good news may be attained from the Qur'an for those who believe in it, follow it and put it into practice. They establish obligatory prayers, pay Zakah and believe with certain faith in the Hereafter, the resurrection after death, reward and punishment for all deeds, good and bad, and Paradise and Hell. This is like the Ayat:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears...") (41:44).
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the Ludd (most quarrelsome) people) (19: 97). Allah says here:
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(Verily, those who believe not in the Hereafter,) meaning, those who deny it and think that it will never happen,
زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَـلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ
(We have made their deeds fair seeming to them, so that they wander about blindly.) means, `We have made what they are doing seem good to them, and We have left them to continue in their misguidance, so they are lost and confused.' This is their recompense for their disbelief in the Hereafter, as Allah says:
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time) (6:110).
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ
(They are those for whom there will be an evil torment.) in this world and the Hereafter.
وَهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الاٌّخْسَرُونَ
(And in the Hereafter they will be the greatest losers.) means, no one but they, among all the people who will be gathered, will lose their souls and their wealth.
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(And verily, you are being taught the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.)
وَأَنَّكَ
(And verily, you) O Muhammad. Qatadah said:
لَتُلَقَّى
(are being taught) "Are receiving."
الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.) from One Who is Wise in His commands and prohibitions, and Who knows all things, major and minor. Whatever He says is absolute Truth, and His rulings are entirely fair and just, as Allah says:
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice) (6:115).
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے اور بےایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔ اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ انکی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی ﷺ ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق و صداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115)
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلۡقُرۡءَانَ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
And indeed you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), are taught the Qur’an from the Wise, the All Knowing.
اور بیشک آپ کو (یہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کی طرف سے سکھایا جا رہا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Qur'an is Guidance and Glad Tidings for the Believers, a Warning to the Disbelievers, and it is from Allah
In (the comments on) Surat Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs.
تِلْكَ ءَايَـتُ الْقُرْءَانِ وَكِتَـبٍ مُّبِينٍ
(These are the Ayat of the Qur'an, and (it is) a Book (that is) clear.) It is plain and evident.
هُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ
(A guide and glad tidings for the believers.) meaning, guidance and good news may be attained from the Qur'an for those who believe in it, follow it and put it into practice. They establish obligatory prayers, pay Zakah and believe with certain faith in the Hereafter, the resurrection after death, reward and punishment for all deeds, good and bad, and Paradise and Hell. This is like the Ayat:
قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ
(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears...") (41:44).
لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the Ludd (most quarrelsome) people) (19: 97). Allah says here:
إِنَّ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ
(Verily, those who believe not in the Hereafter,) meaning, those who deny it and think that it will never happen,
زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَـلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ
(We have made their deeds fair seeming to them, so that they wander about blindly.) means, `We have made what they are doing seem good to them, and We have left them to continue in their misguidance, so they are lost and confused.' This is their recompense for their disbelief in the Hereafter, as Allah says:
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَـرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُواْ بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ
(And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time) (6:110).
أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ
(They are those for whom there will be an evil torment.) in this world and the Hereafter.
وَهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الاٌّخْسَرُونَ
(And in the Hereafter they will be the greatest losers.) means, no one but they, among all the people who will be gathered, will lose their souls and their wealth.
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(And verily, you are being taught the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.)
وَأَنَّكَ
(And verily, you) O Muhammad. Qatadah said:
لَتُلَقَّى
(are being taught) "Are receiving."
الْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
(the Qur'an from One, All-Wise, All-Knowing.) from One Who is Wise in His commands and prohibitions, and Who knows all things, major and minor. Whatever He says is absolute Truth, and His rulings are entirely fair and just, as Allah says:
وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً
(And the Word of your Lord has been fulfilled in truth and in justice) (6:115).
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے اور بےایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔ اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ انکی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے بیشک آپ اے ہمارے نبی ﷺ ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق و صداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ01105) 6۔ الانعام :115)
إِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهۡلِهِۦٓ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ
(Remember) when Moosa said to his wife, “I have sighted a fire; I will soon bring its news to you, or bring for you an ember from it so that you may warm yourselves.”
(وہ واقعہ یاد کریں) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا مجھے ایک آگ میں شعلۂ انس و محبت نظر آیا ہے)، عنقریب میں تمہارے پاس اس میں سے کوئی خبر لاتا ہوں (جس کے لئے مدت سے دشت و بیاباں میں پھر رہے ہیں) یا تمہیں (بھی اس میں سے) کوئی چمکتا ہوا انگارا لا دیتا ہوں تاکہ تم (بھی اس کی حرارت سے) تپ اٹھو
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِيَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِي ٱلنَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
So when he reached it, it was proclaimed, “Blessed is he who is in the location of the fire (Moosa) and those who are close to it (the angels); and Purity is to Allah, the Lord Of The Creation.”
پھر جب وہ اس کے پاس آپہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے جو اس آگ میں (اپنے حجاب نور کی تجلی فرما رہا) ہے اور وہ (بھی) جو اس کے آس پاس (اُلوہی جلووں کے پرتَو میں) ہے، اور اللہ (ہر قسم کے جسم و مثال سے) پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
“O Moosa, I am indeed, in truth, Allah the Almighty, the Wise.”
اے موسٰی! بیشک وہ (جلوہ فرمانے والا) میں ہی اللہ ہوں جو نہایت غالب حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
10
View Single
وَأَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰ لَا تَخَفۡ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
“And put down your staff”; so when he saw it writhing like a serpent, he turned moving away without looking back; We said, “O Moosa, do not fear; indeed the Noble Messengers do not fear in My presence.”
اور (اے موسٰی!) اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو، پھر جب (موسٰی نے لاٹھی کو زمین پر ڈالنے کے بعد) اسے دیکھا کہ سانپ کی مانند تیز حرکت کر رہی ہے تو (فطری رد ِعمل کے طور پر) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر (بھی) نہ دیکھا، (ارشاد ہوا): اے موسٰی! خوف نہ کرو بیشک پیغمبر میرے حضور ڈرا نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
11
View Single
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعۡدَ سُوٓءٖ فَإِنِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ
“Except the one* who does injustice and then after evil changes it for virtue – then indeed I am Oft Forgiving, Most Merciful.” (Other than the Prophets.)
مگر جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد (اسے) نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
12
View Single
وَأَدۡخِلۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖۖ فِي تِسۡعِ ءَايَٰتٍ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
“And put your hand inside your armpit – it will come out shining white, not due to any illness; a sign among the nine signs towards Firaun and his people; they are indeed a lawless nation.”
اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر ڈالو وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمک دار (ہو کر) نکلے گا، (یہ دونوں اللہ کی) نو نشانیوں میں (سے) ہیں (انہیں لے کر) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ بیشک وہ نافرمان قوم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
13
View Single
فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ ءَايَٰتُنَا مُبۡصِرَةٗ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
Then when Our enlightening signs came to them, they said, “This is clear magic.”
پھر جب ان کے پاس ہماری نشانیاں واضح اور روشن ہو کر پہنچ گئیں تو وہ کہنے لگے کہ یہ کھلا جادو ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
14
View Single
وَجَحَدُواْ بِهَا وَٱسۡتَيۡقَنَتۡهَآ أَنفُسُهُمۡ ظُلۡمٗا وَعُلُوّٗاۚ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
And they denied them – whereas in their hearts they were certain of them – due to injustice and pride; therefore see what sort of fate befell the mischievous!
اور انہوں نے ظلم اور تکبّر کے طور پر ان کا سراسر انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان (نشانیوں کے حق ہونے) کا یقین کر چکے تھے۔ پس آپ دیکھئے کہ فساد بپا کرنے والوں کا کیسا (بُرا) انجام ہوا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Musa and the End of Fir`awn
Here Allah tells His Messenger Muhammad ﷺ about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says:
إِذْ قَالَ مُوسَى لاًّهْلِهِ
(when Musa said to his household), meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said,
لاًّهْلِهِ إِنِّى آنَسْتُ نَاراً سَـَاتِيكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ
(to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information...") meaning, `about the way we should take.'
أَوْ ءَاتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ
(or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves.) meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا
(But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it!") meaning, when he came to it, he saw a great and terrifying sight: the fire was burning in a green bush, and the fire was burning ever brighter while the bush was growing ever more green and beautiful. Then he raised his head, and saw that its light was connected to the clouds of the sky. Ibn `Abbas and others said, "It was not a fire, rather it was shining light." According to one report narrated from Ibn `Abbas, it was the Light of the Lord of the worlds. Musa stood amazed by what he was seeing, and
نُودِىَ أَن بُورِكَ مَن فِى النَّارِ
(he was called: "Blessed is whosoever is in the fire...") Ibn `Abbas said, "This means, Holy is (whosoever is in the fire)."
وَمَنْ حَوْلَهَا
(and whosoever is round about it) means, of the angels. This was the view of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan and Qatadah.
وَسُبْحَـنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(And glorified be Allah, the Lord of all that exists), Who does whatever He wills and there is nothing like Him among His creation. Nothing He has made can encompass Him, and He is the Exalted, the Almighty, Who is utterly unlike all that He has created. Heaven and earth cannot contain Him, but He is the One, the Self-Sufficient Master, Who is far above any comparison with His creation.
يمُوسَى إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise.) Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds. Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says:
فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ
(But when he saw it moving as if it were a Jann (snake).) Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes,
وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ
(he turned in flight, and did not look back.) meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying:
يمُوسَى لاَ تَخَفْ إِنِّى لاَ يَخَافُ لَدَىَّ الْمُرْسَلُونَ
(O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me.) means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.'
إَلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْناً بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Except him who has done wrong and afterwards has changed evil for good; then surely, I am Oft-Forgiving, Most Merciful.) This is an exception of the exclusionary type. This is good news for mankind, for whoever does an evil deed then gives it up and repents and turns to Allah, Allah will accept his repentance, as He says:
وَإِنِّى لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَـلِحَاً ثُمَّ اهْتَدَى
(And verily, I am indeed forgiving to him who repents, believes and does righteous good deeds, and then Ahtada.) (20:82)
وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ
(And whoever does evil or wrongs himself...) (4:110). And there are many other Ayat which say the same.
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ
(And put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without hurt.) This is another sign, further brilliant proof of the ability of Allah to do whatever He wills. It is also confirmation of the truth of the one to whom the miracle was given. Allah commanded him to put his hand into the opening of his garment, and when he put his hand in and took it out again, it came out white and shining as if it were a piece of the moon or a flash of dazzling lightning.
فِى تِسْعِ ءَايَـتٍ
(among the nine signs) means, `these are two of the nine signs which you will be supported with and which will serve as proof for you. '
إِلَى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْماً فَـسِقِينَ
(to Fir`awn and his people. Verily, they are a people who are rebellious.) These were the nine signs of which Allah said:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ ءَايَـتٍ بَيِّنَاتٍ
(And indeed We gave Musa nine clear signs) (17:101) -- as we have stated there.
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـتُنَا مُبْصِرَةً
(But when Our Ayat came to them, clear to see,), i.e., clear and obvious,
قَالُواْ هَـذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
(they said: "This is a manifest magic".) They wanted to oppose it with their own magic, but they were defeated and were returned disgraced.
وَجَحَدُواْ بِهَا
(And they belied them) means, verbally,
وَاسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ
(though they themselves were convinced thereof.) means, they knew deep down that this was truth from Allah, but they denied it and were stubborn and arrogant.
ظُلْماً وَعُلُوّاً
(wrongfully and arrogantly) means, wronging themselves because this was the despicable manner to which they were accustomed, and they were arrogant because they were too proud to follow the truth. Allah said:
فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
(So, see what was the end of the mischief-makers.) meaning, `see, O Muhammad, what were the consequences of their actions when Allah destroyed them and drowned every last one of them in a single morning.' The point of this story is: beware, `O you who disbelieve in Muhammad ﷺ and deny the Message that he has brought from his Lord, lest the same thing that befell them befall you also.' But what is worse, is that Muhammad ﷺ is nobler and greater than Musa, and his proof is stronger than that of Musa, for the signs that Allah has given him are combined with his presence and his character, in addition to the fact that previous Prophets foretold his coming and took a covenant from the people that they would follow him if they should see him, may the best of blessings and peace from his Lord be upon him.
آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ ؓ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین و آسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں۔ وہ اپنے اقوال و افعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ موسیٰ ؑ نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہوجائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82۔) 20۔ طه :82) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت (وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01100) 4۔ النسآء :110) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا01001) 17۔ الإسراء :101) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ ؑ سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات و اخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے۔
15
View Single
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ عِلۡمٗاۖ وَقَالَا ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّنۡ عِبَادِهِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
And We indeed bestowed great knowledge to Dawud and Sulaiman; and they both said, “All praise is to Allah, Who bestowed us superiority over many of His believing bondmen.”
اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Dawud and Sulayman (peace be upon them), the organization of Sulayman's Troops and His passage through the Valley of the Ants
Here Allah tells us about the great blessings and favors which He bestowed upon two of His servants and Prophets, Dawud (David) and his son Sulayman (Solomon), peace be upon them both, and how they enjoyed happiness in this world and the Hereafter, power and authority in this world, and the position of being Prophets and Messengers. Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ عِلْماً وَقَالاَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
(And indeed We gave knowledge to Dawud and Sulayman, and they both said: "All the praises and thanks be to Allah, Who has preferred us above many of His believing servants!")
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited from Dawud.) means, in kingship and prophethood. What is meant here is not wealth, because if that were the case, Sulayman would not have been singled out from among the sons of Dawud, as Dawud had one hundred wives. Rather what is meant is the inheritance of kingship and prophethood, for the wealth of the Prophets cannot be inherited, as the Messenger of Allah ﷺ said:
«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَة»
(We Prophets cannot be inherited from; whatever we leave behind is charity.) And Sulayman said:
يأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(O mankind! We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) Here Sulayman was speaking of the blessings that Allah bestowed upon him, by giving him complete authority and power, whereby mankind, the Jinn and the birds were subjugated to him. He also knew the language of the birds and animals, which is something that had never been given to any other human being -- as far as we know from what Allah and His Messenger told us. Allah enabled Sulayman to understand what the birds said to one another as they flew through the air, and what the different kinds of animals said. Sulayman said:
عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) i.e., all things that a king needs.
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
(This, verily, is an evident grace.) means, `this is clearly the blessings of Allah upon us.'
وَحُشِرَ لِسْلَيْمَـنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْس وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
(And there were gathered before Sulayman his hosts of Jinn and men, and birds, and they all were set in battle order.) means, all of Sulayman's troops of Jinn, men and birds were gathered together, and he rode with them in a display of might and glory, with people marching behind him, followed by the Jinn, and the birds flying above his head. When it was hot, they would shade him with their wings.
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they all were set in battle order.) The first and the last of them were brought together, so that none of them would step out of place. Mujahid said: "Officials were appointed to keep each group in order, and to keep the first and the last together so that no one would step out of line -- just as kings do nowadays."
حَتَّى إِذَآ أَتَوْا عَلَى وَادِى النَّمْلِ
(Till, when they came to the valley of the ants,) meaning, when Sulayman, the soldiers and the army with him crossed the valley of the ants,
قَالَتْ نَمْلَةٌ يأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُواْ مَسَـكِنَكُمْ لاَ يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَـنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
(one of the ants said: "O ants! Enter your dwellings, lest Sulayman and his armies should crush you, while they perceive not.") Sulayman, peace be upon him, understood what the ant said,
فَتَبَسَّمَ ضَـحِكاً مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِى أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِى أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَى وَالِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(So he smiled, amused at her speech and said: "My Lord! Grant me the power and ability that I may be grateful for Your favors which You have bestowed on me and on my parents, and that I may do righteous good deeds that will please You, ) meaning: `inspire me to give thanks for the blessings that You have bestowed upon me by teaching me to understand what the birds and animals say, and the blessings that You have bestowed upon my parents by making them Muslims who believe in You.'
وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(and that I may do righteous good deeds that will please You,) means, `deeds that You love which will earn Your pleasure.'
وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ الصَّـلِحِينَ
(and admit me by Your mercy among Your righteous servants.) means, `when You cause me to die, then join me with the righteous among Your servants, and the Higher Companion among Your close friends.'
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہوگی۔ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف حضرت سلیمان ؑ کا نام نہ آتا کیونکہ حضرت داؤد کی سو بیویاں تھیں۔ انبیاء کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چناچہ سید الانبیاء ؑ کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے حضرت سلیمان اللہ کی نعمتیں یاد کرتے فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان جن پرند سب تابع فرمان ہیں پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل وکرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں حضرت سلیمان کی خصوصیت ہی کیا تھی جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور حضرت سلیمان کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے ہی رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ حضرت سلیمان ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب حضرت سلیمان ؑ کو قدرت نے مہیا کردی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہوگئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آگئے ؟ دروازے بند ہیں یہ کہاں سے آگئے ؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی روک اور دروازہ روک نہ سکے وہ کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آگئی تو حضرت سلیمان ؑ نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت داؤد پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کردی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کرکے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے ؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آگئے۔ حضرت سلیمان ؑ کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کرلیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔ جب ان لشکروں کو لے کر حضرت سلیمان ؑ چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ لشکر سلیمان کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام حرمس تھا یہ بنو شعبان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ کو تبسم بلکہ ہنسی آگئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا الہام کر جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہوا اور جب میری موت آجائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیے دوست ہیں۔ مفسین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھوں کے پر دار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ حضرت سلیمان ؑ چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بےاختیار ہنسی آگئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ بن داؤد ؑ استسقاء کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے یہ دعا اس چیونٹی کی سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ حضور فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کردیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔
16
View Single
وَوَرِثَ سُلَيۡمَٰنُ دَاوُۥدَۖ وَقَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنطِقَ ٱلطَّيۡرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيۡءٍۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡمُبِينُ
And Sulaiman became Dawud’s heir; and he said, “O people, we have indeed been taught the language of birds, and have been given from all things; this surely is a manifest favour.”
اور سلیمان (علیہ السلام)، داؤد (علیہ السلام) کے جانشین ہوئے اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی (بھی) سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ بیشک یہ (اللہ کا) واضح فضل ہے
Tafsir Ibn Kathir
Dawud and Sulayman (peace be upon them), the organization of Sulayman's Troops and His passage through the Valley of the Ants
Here Allah tells us about the great blessings and favors which He bestowed upon two of His servants and Prophets, Dawud (David) and his son Sulayman (Solomon), peace be upon them both, and how they enjoyed happiness in this world and the Hereafter, power and authority in this world, and the position of being Prophets and Messengers. Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ عِلْماً وَقَالاَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
(And indeed We gave knowledge to Dawud and Sulayman, and they both said: "All the praises and thanks be to Allah, Who has preferred us above many of His believing servants!")
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited from Dawud.) means, in kingship and prophethood. What is meant here is not wealth, because if that were the case, Sulayman would not have been singled out from among the sons of Dawud, as Dawud had one hundred wives. Rather what is meant is the inheritance of kingship and prophethood, for the wealth of the Prophets cannot be inherited, as the Messenger of Allah ﷺ said:
«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَة»
(We Prophets cannot be inherited from; whatever we leave behind is charity.) And Sulayman said:
يأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(O mankind! We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) Here Sulayman was speaking of the blessings that Allah bestowed upon him, by giving him complete authority and power, whereby mankind, the Jinn and the birds were subjugated to him. He also knew the language of the birds and animals, which is something that had never been given to any other human being -- as far as we know from what Allah and His Messenger told us. Allah enabled Sulayman to understand what the birds said to one another as they flew through the air, and what the different kinds of animals said. Sulayman said:
عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) i.e., all things that a king needs.
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
(This, verily, is an evident grace.) means, `this is clearly the blessings of Allah upon us.'
وَحُشِرَ لِسْلَيْمَـنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْس وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
(And there were gathered before Sulayman his hosts of Jinn and men, and birds, and they all were set in battle order.) means, all of Sulayman's troops of Jinn, men and birds were gathered together, and he rode with them in a display of might and glory, with people marching behind him, followed by the Jinn, and the birds flying above his head. When it was hot, they would shade him with their wings.
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they all were set in battle order.) The first and the last of them were brought together, so that none of them would step out of place. Mujahid said: "Officials were appointed to keep each group in order, and to keep the first and the last together so that no one would step out of line -- just as kings do nowadays."
حَتَّى إِذَآ أَتَوْا عَلَى وَادِى النَّمْلِ
(Till, when they came to the valley of the ants,) meaning, when Sulayman, the soldiers and the army with him crossed the valley of the ants,
قَالَتْ نَمْلَةٌ يأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُواْ مَسَـكِنَكُمْ لاَ يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَـنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
(one of the ants said: "O ants! Enter your dwellings, lest Sulayman and his armies should crush you, while they perceive not.") Sulayman, peace be upon him, understood what the ant said,
فَتَبَسَّمَ ضَـحِكاً مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِى أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِى أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَى وَالِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(So he smiled, amused at her speech and said: "My Lord! Grant me the power and ability that I may be grateful for Your favors which You have bestowed on me and on my parents, and that I may do righteous good deeds that will please You, ) meaning: `inspire me to give thanks for the blessings that You have bestowed upon me by teaching me to understand what the birds and animals say, and the blessings that You have bestowed upon my parents by making them Muslims who believe in You.'
وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(and that I may do righteous good deeds that will please You,) means, `deeds that You love which will earn Your pleasure.'
وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ الصَّـلِحِينَ
(and admit me by Your mercy among Your righteous servants.) means, `when You cause me to die, then join me with the righteous among Your servants, and the Higher Companion among Your close friends.'
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہوگی۔ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف حضرت سلیمان ؑ کا نام نہ آتا کیونکہ حضرت داؤد کی سو بیویاں تھیں۔ انبیاء کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چناچہ سید الانبیاء ؑ کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے حضرت سلیمان اللہ کی نعمتیں یاد کرتے فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان جن پرند سب تابع فرمان ہیں پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل وکرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں حضرت سلیمان کی خصوصیت ہی کیا تھی جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور حضرت سلیمان کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے ہی رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ حضرت سلیمان ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب حضرت سلیمان ؑ کو قدرت نے مہیا کردی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہوگئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آگئے ؟ دروازے بند ہیں یہ کہاں سے آگئے ؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی روک اور دروازہ روک نہ سکے وہ کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آگئی تو حضرت سلیمان ؑ نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت داؤد پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کردی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کرکے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے ؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آگئے۔ حضرت سلیمان ؑ کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کرلیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔ جب ان لشکروں کو لے کر حضرت سلیمان ؑ چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ لشکر سلیمان کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام حرمس تھا یہ بنو شعبان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ کو تبسم بلکہ ہنسی آگئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا الہام کر جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہوا اور جب میری موت آجائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیے دوست ہیں۔ مفسین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھوں کے پر دار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ حضرت سلیمان ؑ چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بےاختیار ہنسی آگئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ بن داؤد ؑ استسقاء کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے یہ دعا اس چیونٹی کی سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ حضور فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کردیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔
17
View Single
وَحُشِرَ لِسُلَيۡمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ وَٱلطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ
And assembled together for Sulaiman were his armies of jinns and men, and of birds – so they had to be restricted.
اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ان کے لشکر جنّوں اور انسانوں اور پرندوں (کی تمام جنسوں) میں سے جمع کئے گئے تھے، چنانچہ وہ بغرضِ نظم و تربیت (ان کی خدمت میں) روکے جاتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Dawud and Sulayman (peace be upon them), the organization of Sulayman's Troops and His passage through the Valley of the Ants
Here Allah tells us about the great blessings and favors which He bestowed upon two of His servants and Prophets, Dawud (David) and his son Sulayman (Solomon), peace be upon them both, and how they enjoyed happiness in this world and the Hereafter, power and authority in this world, and the position of being Prophets and Messengers. Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ عِلْماً وَقَالاَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
(And indeed We gave knowledge to Dawud and Sulayman, and they both said: "All the praises and thanks be to Allah, Who has preferred us above many of His believing servants!")
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited from Dawud.) means, in kingship and prophethood. What is meant here is not wealth, because if that were the case, Sulayman would not have been singled out from among the sons of Dawud, as Dawud had one hundred wives. Rather what is meant is the inheritance of kingship and prophethood, for the wealth of the Prophets cannot be inherited, as the Messenger of Allah ﷺ said:
«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَة»
(We Prophets cannot be inherited from; whatever we leave behind is charity.) And Sulayman said:
يأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(O mankind! We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) Here Sulayman was speaking of the blessings that Allah bestowed upon him, by giving him complete authority and power, whereby mankind, the Jinn and the birds were subjugated to him. He also knew the language of the birds and animals, which is something that had never been given to any other human being -- as far as we know from what Allah and His Messenger told us. Allah enabled Sulayman to understand what the birds said to one another as they flew through the air, and what the different kinds of animals said. Sulayman said:
عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) i.e., all things that a king needs.
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
(This, verily, is an evident grace.) means, `this is clearly the blessings of Allah upon us.'
وَحُشِرَ لِسْلَيْمَـنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْس وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
(And there were gathered before Sulayman his hosts of Jinn and men, and birds, and they all were set in battle order.) means, all of Sulayman's troops of Jinn, men and birds were gathered together, and he rode with them in a display of might and glory, with people marching behind him, followed by the Jinn, and the birds flying above his head. When it was hot, they would shade him with their wings.
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they all were set in battle order.) The first and the last of them were brought together, so that none of them would step out of place. Mujahid said: "Officials were appointed to keep each group in order, and to keep the first and the last together so that no one would step out of line -- just as kings do nowadays."
حَتَّى إِذَآ أَتَوْا عَلَى وَادِى النَّمْلِ
(Till, when they came to the valley of the ants,) meaning, when Sulayman, the soldiers and the army with him crossed the valley of the ants,
قَالَتْ نَمْلَةٌ يأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُواْ مَسَـكِنَكُمْ لاَ يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَـنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
(one of the ants said: "O ants! Enter your dwellings, lest Sulayman and his armies should crush you, while they perceive not.") Sulayman, peace be upon him, understood what the ant said,
فَتَبَسَّمَ ضَـحِكاً مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِى أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِى أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَى وَالِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(So he smiled, amused at her speech and said: "My Lord! Grant me the power and ability that I may be grateful for Your favors which You have bestowed on me and on my parents, and that I may do righteous good deeds that will please You, ) meaning: `inspire me to give thanks for the blessings that You have bestowed upon me by teaching me to understand what the birds and animals say, and the blessings that You have bestowed upon my parents by making them Muslims who believe in You.'
وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(and that I may do righteous good deeds that will please You,) means, `deeds that You love which will earn Your pleasure.'
وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ الصَّـلِحِينَ
(and admit me by Your mercy among Your righteous servants.) means, `when You cause me to die, then join me with the righteous among Your servants, and the Higher Companion among Your close friends.'
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہوگی۔ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف حضرت سلیمان ؑ کا نام نہ آتا کیونکہ حضرت داؤد کی سو بیویاں تھیں۔ انبیاء کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چناچہ سید الانبیاء ؑ کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے حضرت سلیمان اللہ کی نعمتیں یاد کرتے فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان جن پرند سب تابع فرمان ہیں پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل وکرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں حضرت سلیمان کی خصوصیت ہی کیا تھی جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور حضرت سلیمان کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے ہی رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ حضرت سلیمان ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب حضرت سلیمان ؑ کو قدرت نے مہیا کردی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہوگئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آگئے ؟ دروازے بند ہیں یہ کہاں سے آگئے ؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی روک اور دروازہ روک نہ سکے وہ کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آگئی تو حضرت سلیمان ؑ نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت داؤد پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کردی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کرکے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے ؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آگئے۔ حضرت سلیمان ؑ کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کرلیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔ جب ان لشکروں کو لے کر حضرت سلیمان ؑ چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ لشکر سلیمان کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام حرمس تھا یہ بنو شعبان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ کو تبسم بلکہ ہنسی آگئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا الہام کر جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہوا اور جب میری موت آجائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیے دوست ہیں۔ مفسین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھوں کے پر دار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ حضرت سلیمان ؑ چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بےاختیار ہنسی آگئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ بن داؤد ؑ استسقاء کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے یہ دعا اس چیونٹی کی سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ حضور فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کردیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔
18
View Single
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوۡاْ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٞ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمۡلُ ٱدۡخُلُواْ مَسَٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
Until when they came to the valley of the ants, a she ant exclaimed, “O ants, enter your houses – may not Sulaiman and his armies crush you, unknowingly.”
یہاں تک کہ جب وہ (لشکر) چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے تو ایک چیونٹی کہنے لگی: اے چیونٹیو! اپنی رہائش گاہوں میں داخل ہو جاؤ کہیں سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو
Tafsir Ibn Kathir
Dawud and Sulayman (peace be upon them), the organization of Sulayman's Troops and His passage through the Valley of the Ants
Here Allah tells us about the great blessings and favors which He bestowed upon two of His servants and Prophets, Dawud (David) and his son Sulayman (Solomon), peace be upon them both, and how they enjoyed happiness in this world and the Hereafter, power and authority in this world, and the position of being Prophets and Messengers. Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ عِلْماً وَقَالاَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
(And indeed We gave knowledge to Dawud and Sulayman, and they both said: "All the praises and thanks be to Allah, Who has preferred us above many of His believing servants!")
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited from Dawud.) means, in kingship and prophethood. What is meant here is not wealth, because if that were the case, Sulayman would not have been singled out from among the sons of Dawud, as Dawud had one hundred wives. Rather what is meant is the inheritance of kingship and prophethood, for the wealth of the Prophets cannot be inherited, as the Messenger of Allah ﷺ said:
«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَة»
(We Prophets cannot be inherited from; whatever we leave behind is charity.) And Sulayman said:
يأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(O mankind! We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) Here Sulayman was speaking of the blessings that Allah bestowed upon him, by giving him complete authority and power, whereby mankind, the Jinn and the birds were subjugated to him. He also knew the language of the birds and animals, which is something that had never been given to any other human being -- as far as we know from what Allah and His Messenger told us. Allah enabled Sulayman to understand what the birds said to one another as they flew through the air, and what the different kinds of animals said. Sulayman said:
عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) i.e., all things that a king needs.
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
(This, verily, is an evident grace.) means, `this is clearly the blessings of Allah upon us.'
وَحُشِرَ لِسْلَيْمَـنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْس وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
(And there were gathered before Sulayman his hosts of Jinn and men, and birds, and they all were set in battle order.) means, all of Sulayman's troops of Jinn, men and birds were gathered together, and he rode with them in a display of might and glory, with people marching behind him, followed by the Jinn, and the birds flying above his head. When it was hot, they would shade him with their wings.
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they all were set in battle order.) The first and the last of them were brought together, so that none of them would step out of place. Mujahid said: "Officials were appointed to keep each group in order, and to keep the first and the last together so that no one would step out of line -- just as kings do nowadays."
حَتَّى إِذَآ أَتَوْا عَلَى وَادِى النَّمْلِ
(Till, when they came to the valley of the ants,) meaning, when Sulayman, the soldiers and the army with him crossed the valley of the ants,
قَالَتْ نَمْلَةٌ يأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُواْ مَسَـكِنَكُمْ لاَ يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَـنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
(one of the ants said: "O ants! Enter your dwellings, lest Sulayman and his armies should crush you, while they perceive not.") Sulayman, peace be upon him, understood what the ant said,
فَتَبَسَّمَ ضَـحِكاً مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِى أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِى أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَى وَالِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(So he smiled, amused at her speech and said: "My Lord! Grant me the power and ability that I may be grateful for Your favors which You have bestowed on me and on my parents, and that I may do righteous good deeds that will please You, ) meaning: `inspire me to give thanks for the blessings that You have bestowed upon me by teaching me to understand what the birds and animals say, and the blessings that You have bestowed upon my parents by making them Muslims who believe in You.'
وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(and that I may do righteous good deeds that will please You,) means, `deeds that You love which will earn Your pleasure.'
وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ الصَّـلِحِينَ
(and admit me by Your mercy among Your righteous servants.) means, `when You cause me to die, then join me with the righteous among Your servants, and the Higher Companion among Your close friends.'
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہوگی۔ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف حضرت سلیمان ؑ کا نام نہ آتا کیونکہ حضرت داؤد کی سو بیویاں تھیں۔ انبیاء کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چناچہ سید الانبیاء ؑ کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے حضرت سلیمان اللہ کی نعمتیں یاد کرتے فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان جن پرند سب تابع فرمان ہیں پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل وکرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں حضرت سلیمان کی خصوصیت ہی کیا تھی جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور حضرت سلیمان کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے ہی رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ حضرت سلیمان ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب حضرت سلیمان ؑ کو قدرت نے مہیا کردی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہوگئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آگئے ؟ دروازے بند ہیں یہ کہاں سے آگئے ؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی روک اور دروازہ روک نہ سکے وہ کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آگئی تو حضرت سلیمان ؑ نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت داؤد پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کردی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کرکے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے ؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آگئے۔ حضرت سلیمان ؑ کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کرلیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔ جب ان لشکروں کو لے کر حضرت سلیمان ؑ چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ لشکر سلیمان کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام حرمس تھا یہ بنو شعبان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ کو تبسم بلکہ ہنسی آگئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا الہام کر جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہوا اور جب میری موت آجائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیے دوست ہیں۔ مفسین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھوں کے پر دار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ حضرت سلیمان ؑ چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بےاختیار ہنسی آگئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ بن داؤد ؑ استسقاء کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے یہ دعا اس چیونٹی کی سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ حضور فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کردیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔
19
View Single
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٗا مِّن قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَدۡخِلۡنِي بِرَحۡمَتِكَ فِي عِبَادِكَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
He therefore smiled beamingly at her speech*, and submitted, “My Lord, bestow me guidance so that I thank you for the favour which You bestowed upon me and my parents, and so that I may perform the good deeds which please You, and by Your mercy include me among Your bondmen who are worthy of Your proximity.” (Prophet Sulaiman heard the voice of the she ant from far away.)
تو وہ (یعنی سلیمان علیہ السلام) اس (چیونٹی) کی بات سے ہنسی کے ساتھ مسکرائے اور عرض کیا: اے پروردگار! مجھے اپنی توفیق سے اس بات پر قائم رکھ کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمائی ہے اور میں ایسے نیک عمل کرتا رہوں جن سے تو راضی ہوتا ہے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے خاص قرب والے نیکوکار بندوں میں داخل فرما لے
Tafsir Ibn Kathir
Dawud and Sulayman (peace be upon them), the organization of Sulayman's Troops and His passage through the Valley of the Ants
Here Allah tells us about the great blessings and favors which He bestowed upon two of His servants and Prophets, Dawud (David) and his son Sulayman (Solomon), peace be upon them both, and how they enjoyed happiness in this world and the Hereafter, power and authority in this world, and the position of being Prophets and Messengers. Allah says:
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَـنَ عِلْماً وَقَالاَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى فَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
(And indeed We gave knowledge to Dawud and Sulayman, and they both said: "All the praises and thanks be to Allah, Who has preferred us above many of His believing servants!")
وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ
(And Sulayman inherited from Dawud.) means, in kingship and prophethood. What is meant here is not wealth, because if that were the case, Sulayman would not have been singled out from among the sons of Dawud, as Dawud had one hundred wives. Rather what is meant is the inheritance of kingship and prophethood, for the wealth of the Prophets cannot be inherited, as the Messenger of Allah ﷺ said:
«نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَة»
(We Prophets cannot be inherited from; whatever we leave behind is charity.) And Sulayman said:
يأَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(O mankind! We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) Here Sulayman was speaking of the blessings that Allah bestowed upon him, by giving him complete authority and power, whereby mankind, the Jinn and the birds were subjugated to him. He also knew the language of the birds and animals, which is something that had never been given to any other human being -- as far as we know from what Allah and His Messenger told us. Allah enabled Sulayman to understand what the birds said to one another as they flew through the air, and what the different kinds of animals said. Sulayman said:
عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ
(We have been taught the language of birds, and we have been given from everything.) i.e., all things that a king needs.
إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ
(This, verily, is an evident grace.) means, `this is clearly the blessings of Allah upon us.'
وَحُشِرَ لِسْلَيْمَـنَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالإِنْس وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ
(And there were gathered before Sulayman his hosts of Jinn and men, and birds, and they all were set in battle order.) means, all of Sulayman's troops of Jinn, men and birds were gathered together, and he rode with them in a display of might and glory, with people marching behind him, followed by the Jinn, and the birds flying above his head. When it was hot, they would shade him with their wings.
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they all were set in battle order.) The first and the last of them were brought together, so that none of them would step out of place. Mujahid said: "Officials were appointed to keep each group in order, and to keep the first and the last together so that no one would step out of line -- just as kings do nowadays."
حَتَّى إِذَآ أَتَوْا عَلَى وَادِى النَّمْلِ
(Till, when they came to the valley of the ants,) meaning, when Sulayman, the soldiers and the army with him crossed the valley of the ants,
قَالَتْ نَمْلَةٌ يأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُواْ مَسَـكِنَكُمْ لاَ يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَـنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ
(one of the ants said: "O ants! Enter your dwellings, lest Sulayman and his armies should crush you, while they perceive not.") Sulayman, peace be upon him, understood what the ant said,
فَتَبَسَّمَ ضَـحِكاً مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِى أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِى أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَى وَالِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(So he smiled, amused at her speech and said: "My Lord! Grant me the power and ability that I may be grateful for Your favors which You have bestowed on me and on my parents, and that I may do righteous good deeds that will please You, ) meaning: `inspire me to give thanks for the blessings that You have bestowed upon me by teaching me to understand what the birds and animals say, and the blessings that You have bestowed upon my parents by making them Muslims who believe in You.'
وَأَنْ أَعْمَلَ صَـلِحاً تَرْضَـهُ
(and that I may do righteous good deeds that will please You,) means, `deeds that You love which will earn Your pleasure.'
وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ الصَّـلِحِينَ
(and admit me by Your mercy among Your righteous servants.) means, `when You cause me to die, then join me with the righteous among Your servants, and the Higher Companion among Your close friends.'
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہوگی۔ حضرت داؤد کے وارث حضرت سلیمان ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف حضرت سلیمان ؑ کا نام نہ آتا کیونکہ حضرت داؤد کی سو بیویاں تھیں۔ انبیاء کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چناچہ سید الانبیاء ؑ کا ارشاد ہے ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے حضرت سلیمان اللہ کی نعمتیں یاد کرتے فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان جن پرند سب تابع فرمان ہیں پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل وکرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں حضرت سلیمان کی خصوصیت ہی کیا تھی جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور حضرت سلیمان کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے ہی رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ حضرت سلیمان ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب حضرت سلیمان ؑ کو قدرت نے مہیا کردی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہوگئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آگئے ؟ دروازے بند ہیں یہ کہاں سے آگئے ؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی روک اور دروازہ روک نہ سکے وہ کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔ حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آگئی تو حضرت سلیمان ؑ نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت داؤد پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کردی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کرکے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے ؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آگئے۔ حضرت سلیمان ؑ کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کرلیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔ جب ان لشکروں کو لے کر حضرت سلیمان ؑ چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ لشکر سلیمان کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔ حضرت حسن فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام حرمس تھا یہ بنو شعبان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ کو تبسم بلکہ ہنسی آگئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا الہام کر جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہوا اور جب میری موت آجائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیے دوست ہیں۔ مفسین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھوں کے پر دار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ حضرت سلیمان ؑ چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بےاختیار ہنسی آگئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان ؑ بن داؤد ؑ استسقاء کے لئے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے یہ دعا اس چیونٹی کی سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔ حضور فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کردیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔
20
View Single
وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيۡرَ فَقَالَ مَالِيَ لَآ أَرَى ٱلۡهُدۡهُدَ أَمۡ كَانَ مِنَ ٱلۡغَآئِبِينَ
And he surveyed the birds – he therefore said, “What is to me that I do not see the Hudhud (hoopoe), or is he really absent?”
اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے: مجھے کیا ہوا ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھ پا رہا یا وہ (واقعی) غائب ہو گیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Absence of the Hoopoe
Mujahid, Sa`id bin Jubayr and others narrated from Ibn `Abbas and others that the hoopoe was an expert who used to show Sulayman where water was if he was out in open land and needed water. The hoopoe would look for water for him in the various strata of the earth, just as a man looks at things on the surface of the earth, and he would know just how far below the surface the water was. When the hoopoe showed him where the water was, Sulayman would command the Jinn to dig in that place until they brought water from the depths of the earth. One day Sulayman went to some open land and checked on the birds, but he could not see the hoopoe.
فَقَالَ مَالِيَ لاَ أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِينَ
(and (Sulayman) said: "What is the matter that I see not the hoopoe Or is he among the absentees") One day `Abdullah bin `Abbas told a similar story, and among the people was a man from the Khawarij whose name was Nafi` bin Al-Azraq, who often used to raise objections to Ibn `Abbas. He said to him, "Stop, O Ibn `Abbas; you will be defeated (in argument) today!" Ibn `Abbas said: "Why" Nafi` said: "You are telling us that the hoopoe can see water beneath the ground, but any boy can put seed in a trap and cover the trap with dirt, and the hoopoe will come and take the seed, so the boy can catch him in the trap." Ibn `Abbas said, "If it was not for the fact that this man would go and tell others that he had defeated Ibn `Abbas in argument, I would not even answer." Then he said to Nafi`: "Woe to you! When the decree strikes a person, his eyes become blind and he loses all caution." Nafi` said: "By Allah I will never dispute with you concerning anything in the Qur'an. "
لأُعَذِّبَنَّهُ عَذَاباً شَدِيداً
(I will surely punish him with a severe torment) Al-A`mash said, narrating from Al-Minhal bin `Amr from Sa`id that Ibn `Abbas said: "He meant, by plucking his feathers." `Abdullah bin Shaddad said: "By plucking his feathers and exposing him to the sun." This was also the view of more than one of the Salaf, that it means plucking his feathers and leaving him exposed to be eaten by ants.
أَوْ لاّذْبَحَنَّهُ
(or slaughter him,) means, killing him.
أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَـنٍ مُّبِينٍ
(unless he brings me a clear reason.) i.e., a valid excuse. Sufyan bin `Uyaynah and `Abdullah bin Shaddad said: "When the hoopoe came back, the other birds said to him: "What kept you Sulayman has vowed to shed your blood." The hoopoe said: "Did he make any exception did he say `unless"' They said, "Yes, he said:
لأُعَذِّبَنَّهُ عَذَاباً شَدِيداً أَوْ لاّذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَـنٍ مُّبِينٍ
(I will surely punish him with a severe torment or slaughter him, unless he brings me a clear reason.) The hoopoe said, "Then I am saved."
ہدہد ہدہد فوج سلیمان میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے ؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان ؑ جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے ؟ یہ بتادیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔ حضرت سلیمان ؑ اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا پانی کی تلاش کا حکم دیا اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقع میں وہ حاضر نہیں ؟ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ارزق خارجی نے اعتراض کیا تھا یہ بکواسی ہر وقت حضرت عبداللہ کی باتوں پر بےجا اعتراض کیا کرتا تھا کہنے لگا آج تو تم ہارگئے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کیوں ؟ اس نے کہا آپ جو یہ فرماتے ہو کہ ہدہد زمین کے تلے کا پانی دیکھ لیتا تھا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے ایک بچہ جال بچھاکر اسے مٹی سے ڈھک کر دانہ ڈال کر ہدہد کا شکار کرلیتا ہے اگر وہ زمین کے اندر کا پانی دیکھتا ہے تو زمین کے اوپر کا جال اسے کیوں نظر نہیں آتا ؟ آپ نے فرمایا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تو یہ سمجھ جائے گا کہ ابن عباس ؓ لاجواب ہوگیا تو مجھے جواب کی ضرورت نہ تھی سن جس وقت قضا آجاتی ہے آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں اور عقل جاتی رہتی ہے۔ نافع لاجواب ہوگیا اور کہا واللہ اب میں آپ پر اعتراض نہ کرونگا۔ حضرت عبداللہ برزی ایک ولی کامل شخص تھے پیر جمعرات کا روزہ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ اسی سال کی عمر تھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ سلیمان بن زید نے ان سے آنکھ کے جانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے اس کے بتانے سے انکار کردیا۔ یہ بھی پیچھے پڑگئے مہینوں گذر گئے نہ وہ بتاتے نہ یہ سوال چھوڑتے آخر تنگ آکر فرمایا لو سن لو میرے پاس لولو خراسانی برزہ میں (جو دمشق کے پاس ایک شہر ہے) آئے اور مجھ سے کہا کہ میں انہیں برزہ کی وادی میں لے جاؤں میں انہیں وہاں لے گیا۔ انہوں نے انگیٹھیاں نکالیں بخور نکالے اور جلانے شروع کئے یہاں تک کہ تمام وادی خوشبو سے مہکنے لگی۔ اور ہر طرف سے سانپوں کی آمد شروع ہوگئی۔ لیکن بےپرواہی سے بیٹھے رہے کسی سانپ کی طرف التفات نہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک سانپ آیا جو ہاتھ بھر کا تھا اور اسکی آنکھیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے ہماری سال بھر محنت ٹھکانے لگی۔ انہوں نے اس سانپ کو لے کر اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر کر اپنی آنکھوں میں وہ سلائی پھیرلی میں نے ان سے کہا کہ میری آنکھوں میں بھی یہ سلائی پھیردو۔ انہوں نے انکار کردیا میں نے ان سے منت سماجت کی بہ مشکل وہ راضی ہوئے اور میری داہنی آنکھ میں وہ سلائی پھیر دی اب جو میں دیکھتا ہوں تو زمین مجھے ایک شیشے کی طرح معلوم ہونے لگی جیسی اوپر کی چیزیں نظر آتی تھیں ایسی ہی زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ رہا تھا انہوں نے مجھے کہا چل اب آپ ہمارے ساتھ ہی کچھ دورچلے میں نے منظور کرلیا وہ باتیں کرتے ہوئے مجھے ساتھ لئے ہوئے چلے جب میں بستی سے بہت دور نکل گیا تو دونوں نے مجھے دونوں طرف سے پکڑلیا اور ایک نے اپنی انگلی ڈال کر میری آنکھ نکالی اور اسے پھینک دیا۔ اور مجھیے یونہی بندھا ہوا وہیں پٹخ کر دونوں کہیں چل دئیے۔ اتفاقا وہاں سے ایک قافلہ گذرا اور انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ کر رحم کھایا قیدوبند سے مجھے آزاد کردیا اور میں چلا آیا یہ قصہ ہے میری آنکھ کے جانے کا (ابن عساکر) حضرت سلیمان کے اس ہدہد کا نام عنبر تھا، آپ فرماتے ہیں اگر فی الواقع وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزادوں گا اسکے پر نچوادوں گا اور اس کو پھنک دوں گا کہ کیڑے مکوڑے کھاجائیں یا میں اسے حلال کردونگا۔ یا یہ کہ وہ اپنے غیر حاضر ہونے کی کوئی معقول وجہ پیش کردے۔ اتنے میں ہدہد آگیا جانوروں نے اسے خبردی کہ آج تیری خیر نہیں۔ بادشاہ سلامت عہد کرچکے ہیں کہ وہ تجھے مار ڈالیں گے۔ اس نے کہا یہ بیان کرو کہ آپ کے الفاظ کیا تھے ؟ انہوں نے بیان کئے تو خوش ہو کر کہنے لگا پھر تو میں بچ جاؤں گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کے بچاؤ کی وجہ اس کا اپنی ماں کے ساتھ سلوک تھا۔
21
View Single
لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
“I will indeed punish him severely or slay him, or he must bring to me some clear evidence.”
میں اسے (بغیر اجازت غائب ہونے پر) ضرور سخت سزا دوں گا یا اسے ضرور ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے پاس (اپنے بے قصور ہونے کی) واضح دلیل لائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Absence of the Hoopoe
Mujahid, Sa`id bin Jubayr and others narrated from Ibn `Abbas and others that the hoopoe was an expert who used to show Sulayman where water was if he was out in open land and needed water. The hoopoe would look for water for him in the various strata of the earth, just as a man looks at things on the surface of the earth, and he would know just how far below the surface the water was. When the hoopoe showed him where the water was, Sulayman would command the Jinn to dig in that place until they brought water from the depths of the earth. One day Sulayman went to some open land and checked on the birds, but he could not see the hoopoe.
فَقَالَ مَالِيَ لاَ أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِينَ
(and (Sulayman) said: "What is the matter that I see not the hoopoe Or is he among the absentees") One day `Abdullah bin `Abbas told a similar story, and among the people was a man from the Khawarij whose name was Nafi` bin Al-Azraq, who often used to raise objections to Ibn `Abbas. He said to him, "Stop, O Ibn `Abbas; you will be defeated (in argument) today!" Ibn `Abbas said: "Why" Nafi` said: "You are telling us that the hoopoe can see water beneath the ground, but any boy can put seed in a trap and cover the trap with dirt, and the hoopoe will come and take the seed, so the boy can catch him in the trap." Ibn `Abbas said, "If it was not for the fact that this man would go and tell others that he had defeated Ibn `Abbas in argument, I would not even answer." Then he said to Nafi`: "Woe to you! When the decree strikes a person, his eyes become blind and he loses all caution." Nafi` said: "By Allah I will never dispute with you concerning anything in the Qur'an. "
لأُعَذِّبَنَّهُ عَذَاباً شَدِيداً
(I will surely punish him with a severe torment) Al-A`mash said, narrating from Al-Minhal bin `Amr from Sa`id that Ibn `Abbas said: "He meant, by plucking his feathers." `Abdullah bin Shaddad said: "By plucking his feathers and exposing him to the sun." This was also the view of more than one of the Salaf, that it means plucking his feathers and leaving him exposed to be eaten by ants.
أَوْ لاّذْبَحَنَّهُ
(or slaughter him,) means, killing him.
أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَـنٍ مُّبِينٍ
(unless he brings me a clear reason.) i.e., a valid excuse. Sufyan bin `Uyaynah and `Abdullah bin Shaddad said: "When the hoopoe came back, the other birds said to him: "What kept you Sulayman has vowed to shed your blood." The hoopoe said: "Did he make any exception did he say `unless"' They said, "Yes, he said:
لأُعَذِّبَنَّهُ عَذَاباً شَدِيداً أَوْ لاّذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَـنٍ مُّبِينٍ
(I will surely punish him with a severe torment or slaughter him, unless he brings me a clear reason.) The hoopoe said, "Then I am saved."
ہدہد ہدہد فوج سلیمان میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے ؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان ؑ جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے ؟ یہ بتادیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔ حضرت سلیمان ؑ اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا پانی کی تلاش کا حکم دیا اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقع میں وہ حاضر نہیں ؟ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ارزق خارجی نے اعتراض کیا تھا یہ بکواسی ہر وقت حضرت عبداللہ کی باتوں پر بےجا اعتراض کیا کرتا تھا کہنے لگا آج تو تم ہارگئے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کیوں ؟ اس نے کہا آپ جو یہ فرماتے ہو کہ ہدہد زمین کے تلے کا پانی دیکھ لیتا تھا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے ایک بچہ جال بچھاکر اسے مٹی سے ڈھک کر دانہ ڈال کر ہدہد کا شکار کرلیتا ہے اگر وہ زمین کے اندر کا پانی دیکھتا ہے تو زمین کے اوپر کا جال اسے کیوں نظر نہیں آتا ؟ آپ نے فرمایا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تو یہ سمجھ جائے گا کہ ابن عباس ؓ لاجواب ہوگیا تو مجھے جواب کی ضرورت نہ تھی سن جس وقت قضا آجاتی ہے آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں اور عقل جاتی رہتی ہے۔ نافع لاجواب ہوگیا اور کہا واللہ اب میں آپ پر اعتراض نہ کرونگا۔ حضرت عبداللہ برزی ایک ولی کامل شخص تھے پیر جمعرات کا روزہ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ اسی سال کی عمر تھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ سلیمان بن زید نے ان سے آنکھ کے جانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے اس کے بتانے سے انکار کردیا۔ یہ بھی پیچھے پڑگئے مہینوں گذر گئے نہ وہ بتاتے نہ یہ سوال چھوڑتے آخر تنگ آکر فرمایا لو سن لو میرے پاس لولو خراسانی برزہ میں (جو دمشق کے پاس ایک شہر ہے) آئے اور مجھ سے کہا کہ میں انہیں برزہ کی وادی میں لے جاؤں میں انہیں وہاں لے گیا۔ انہوں نے انگیٹھیاں نکالیں بخور نکالے اور جلانے شروع کئے یہاں تک کہ تمام وادی خوشبو سے مہکنے لگی۔ اور ہر طرف سے سانپوں کی آمد شروع ہوگئی۔ لیکن بےپرواہی سے بیٹھے رہے کسی سانپ کی طرف التفات نہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک سانپ آیا جو ہاتھ بھر کا تھا اور اسکی آنکھیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے ہماری سال بھر محنت ٹھکانے لگی۔ انہوں نے اس سانپ کو لے کر اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر کر اپنی آنکھوں میں وہ سلائی پھیرلی میں نے ان سے کہا کہ میری آنکھوں میں بھی یہ سلائی پھیردو۔ انہوں نے انکار کردیا میں نے ان سے منت سماجت کی بہ مشکل وہ راضی ہوئے اور میری داہنی آنکھ میں وہ سلائی پھیر دی اب جو میں دیکھتا ہوں تو زمین مجھے ایک شیشے کی طرح معلوم ہونے لگی جیسی اوپر کی چیزیں نظر آتی تھیں ایسی ہی زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ رہا تھا انہوں نے مجھے کہا چل اب آپ ہمارے ساتھ ہی کچھ دورچلے میں نے منظور کرلیا وہ باتیں کرتے ہوئے مجھے ساتھ لئے ہوئے چلے جب میں بستی سے بہت دور نکل گیا تو دونوں نے مجھے دونوں طرف سے پکڑلیا اور ایک نے اپنی انگلی ڈال کر میری آنکھ نکالی اور اسے پھینک دیا۔ اور مجھیے یونہی بندھا ہوا وہیں پٹخ کر دونوں کہیں چل دئیے۔ اتفاقا وہاں سے ایک قافلہ گذرا اور انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ کر رحم کھایا قیدوبند سے مجھے آزاد کردیا اور میں چلا آیا یہ قصہ ہے میری آنکھ کے جانے کا (ابن عساکر) حضرت سلیمان کے اس ہدہد کا نام عنبر تھا، آپ فرماتے ہیں اگر فی الواقع وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزادوں گا اسکے پر نچوادوں گا اور اس کو پھنک دوں گا کہ کیڑے مکوڑے کھاجائیں یا میں اسے حلال کردونگا۔ یا یہ کہ وہ اپنے غیر حاضر ہونے کی کوئی معقول وجہ پیش کردے۔ اتنے میں ہدہد آگیا جانوروں نے اسے خبردی کہ آج تیری خیر نہیں۔ بادشاہ سلامت عہد کرچکے ہیں کہ وہ تجھے مار ڈالیں گے۔ اس نے کہا یہ بیان کرو کہ آپ کے الفاظ کیا تھے ؟ انہوں نے بیان کئے تو خوش ہو کر کہنے لگا پھر تو میں بچ جاؤں گا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کے بچاؤ کی وجہ اس کا اپنی ماں کے ساتھ سلوک تھا۔
22
View Single
فَمَكَثَ غَيۡرَ بَعِيدٖ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ وَجِئۡتُكَ مِن سَبَإِۭ بِنَبَإٖ يَقِينٍ
So Hudhud did not stay absent for long, and presenting himself submitted, “I have witnessed a matter that your majesty has not seen, and I have brought definite information to you from the city of Saba.”
پس وہ تھوڑی ہی دیر (باہر) ٹھہرا تھا کہ اس نے (حاضر ہو کر) عرض کیا: مجھے ایک ایسی بات معلوم ہوئی ہے جس پر (شاید) آپ مطلع نہ تھے اور میں آپ کے پاس (ملکِ) سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں
Tafsir Ibn Kathir
How the Hoopoe came before Sulayman and told Him about Saba'
Allah says:
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ
(But (the hoopoe) stayed not long,) meaning, he was absent for only a short time. Then he came and said to Sulayman:
أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ
(I have grasped which you have not grasped) meaning, `I have come to know something that you and your troops do not know.'
وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ
(and I have come to you from Saba' with true news.) meaning, with true and certain news. Saba' (Sheba) refers to Himyar, they were a dynasty in Yemen. Then the hoopoe said:
إِنِّى وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ
(I found a woman ruling over them,) Al-Hasan Al-Basri said, "This is Bilqis bint Sharahil, the queen of Saba'." Allah's saying:
وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ
(she has been given all things,) means, all the conveniences of this world that a powerful monarch could need.
وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
(and she has a great throne.) meaning, a tremendous chair adorned with gold and different kinds of jewels and pearls. The historians said, "This throne was in a great, strong palace which was high and firmly constructed. In it there were three hundred and sixty windows on the east side, and a similar number on the west, and it was constructed in such a way that each day when the sun rose it would shine through one window, and when it set it would shine through the opposite window. And the people used to prostrate to the sun morning and evening. This is why the hoopoe said:
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ
(I found her and her people worshipping the sun instead of Allah, and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way,) meaning, from the way of truth,
فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَ
(so they have no guidance.) Allah's saying:
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَأَلاَّ يَسْجُدُواْ للَّهِ
(and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way, so they have no guidance, so they do not prostrate themselves before Allah.) They do not know the way of truth, prostrating only before Allah alone and not before anything that He has created, whether heavenly bodies or anything else. This is like the Ayah:
وَمِنْ ءَايَـتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُواْ لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
(And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Prostrate yourselves not to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you indeed worship Him.) (41:37)
الَّذِى يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Who brings to light what is hidden in the heavens and the earth,) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "He knows everything that is hidden in the heavens and on earth." This was also the view of `Ikrimah, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others. His saying:
وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ
(and knows what you conceal and what you reveal.) means, He knows what His servants say and do in secret, and what they say and do openly. This is like the Ayah:
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day) (13:10). His saying:
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(Allah, La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) means, He is the One to be called upon, Allah, He is the One other than Whom there is no god, the Lord of the Supreme Throne, and there is none greater than Him in all of creation. Since the hoopoe was calling to what is good, and for people to worship and prostrate to Allah alone, it would have been forbidden to kill him. Imam Ahmad, Abu Dawud and Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet forbade killing four kinds of animals: ants, bees, hoopoes and the sparrow hawks. Its chain of narration is Sahih.
ہدہد کی غیر حاضری ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اسکے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے واللہ اعلم ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی ہاتھ اونچا اور چالیس ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمر بستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھے بہت بڑا محل تھا بلند وبالا کشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔ اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح وشام اس کو سجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق مانا جائے۔ جیسے فرمان قرآن ہے کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہئے جو ان سب کا خالق ہے۔ آیت (الا یسجدوا) کی ایک قرأت (الایا اسجدوا) بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لئے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ خب کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لئے اس کے قتل کی ممانعت کردی گئی۔ مسند احمد ابو داؤد ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے چار جانوروں کا قتل منع فرمادیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔
23
View Single
إِنِّي وَجَدتُّ ٱمۡرَأَةٗ تَمۡلِكُهُمۡ وَأُوتِيَتۡ مِن كُلِّ شَيۡءٖ وَلَهَا عَرۡشٌ عَظِيمٞ
“I have seen a woman who rules over them, and she has been given from all things, and she has a mighty throne.”
میں نے (وہاں) ایک ایسی عورت کو پایا ہے جو ان (یعنی ملکِ سبا کے باشندوں) پر حکومت کرتی ہے اور اسے (ملکیت و اقتدار میں) ہر ایک چیز بخشی گئی ہے اور اس کے پاس بہت بڑا تخت ہے
Tafsir Ibn Kathir
How the Hoopoe came before Sulayman and told Him about Saba'
Allah says:
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ
(But (the hoopoe) stayed not long,) meaning, he was absent for only a short time. Then he came and said to Sulayman:
أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ
(I have grasped which you have not grasped) meaning, `I have come to know something that you and your troops do not know.'
وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ
(and I have come to you from Saba' with true news.) meaning, with true and certain news. Saba' (Sheba) refers to Himyar, they were a dynasty in Yemen. Then the hoopoe said:
إِنِّى وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ
(I found a woman ruling over them,) Al-Hasan Al-Basri said, "This is Bilqis bint Sharahil, the queen of Saba'." Allah's saying:
وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ
(she has been given all things,) means, all the conveniences of this world that a powerful monarch could need.
وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
(and she has a great throne.) meaning, a tremendous chair adorned with gold and different kinds of jewels and pearls. The historians said, "This throne was in a great, strong palace which was high and firmly constructed. In it there were three hundred and sixty windows on the east side, and a similar number on the west, and it was constructed in such a way that each day when the sun rose it would shine through one window, and when it set it would shine through the opposite window. And the people used to prostrate to the sun morning and evening. This is why the hoopoe said:
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ
(I found her and her people worshipping the sun instead of Allah, and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way,) meaning, from the way of truth,
فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَ
(so they have no guidance.) Allah's saying:
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَأَلاَّ يَسْجُدُواْ للَّهِ
(and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way, so they have no guidance, so they do not prostrate themselves before Allah.) They do not know the way of truth, prostrating only before Allah alone and not before anything that He has created, whether heavenly bodies or anything else. This is like the Ayah:
وَمِنْ ءَايَـتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُواْ لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
(And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Prostrate yourselves not to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you indeed worship Him.) (41:37)
الَّذِى يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Who brings to light what is hidden in the heavens and the earth,) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "He knows everything that is hidden in the heavens and on earth." This was also the view of `Ikrimah, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others. His saying:
وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ
(and knows what you conceal and what you reveal.) means, He knows what His servants say and do in secret, and what they say and do openly. This is like the Ayah:
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day) (13:10). His saying:
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(Allah, La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) means, He is the One to be called upon, Allah, He is the One other than Whom there is no god, the Lord of the Supreme Throne, and there is none greater than Him in all of creation. Since the hoopoe was calling to what is good, and for people to worship and prostrate to Allah alone, it would have been forbidden to kill him. Imam Ahmad, Abu Dawud and Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet forbade killing four kinds of animals: ants, bees, hoopoes and the sparrow hawks. Its chain of narration is Sahih.
ہدہد کی غیر حاضری ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اسکے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے واللہ اعلم ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی ہاتھ اونچا اور چالیس ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمر بستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھے بہت بڑا محل تھا بلند وبالا کشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔ اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح وشام اس کو سجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق مانا جائے۔ جیسے فرمان قرآن ہے کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہئے جو ان سب کا خالق ہے۔ آیت (الا یسجدوا) کی ایک قرأت (الایا اسجدوا) بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لئے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ خب کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لئے اس کے قتل کی ممانعت کردی گئی۔ مسند احمد ابو داؤد ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے چار جانوروں کا قتل منع فرمادیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔
24
View Single
وَجَدتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُونَ لِلشَّمۡسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُونَ
“I found her and her nation prostrating before the sun instead of Allah, and Satan has made their deeds seem good to them thereby preventing them from the Straight Path – so they do not attain guidance.”
میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ کی بجائے سورج کو سجدہ کرتے پایا ہے اور شیطان نے ان کے اَعمالِ (بد) ان کے لئے خوب خوش نما بنا دیئے ہیں اور انہیں (توحید کی) راہ سے روک دیا ہے سو وہ ہدایت نہیں پا رہے
Tafsir Ibn Kathir
How the Hoopoe came before Sulayman and told Him about Saba'
Allah says:
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ
(But (the hoopoe) stayed not long,) meaning, he was absent for only a short time. Then he came and said to Sulayman:
أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ
(I have grasped which you have not grasped) meaning, `I have come to know something that you and your troops do not know.'
وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ
(and I have come to you from Saba' with true news.) meaning, with true and certain news. Saba' (Sheba) refers to Himyar, they were a dynasty in Yemen. Then the hoopoe said:
إِنِّى وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ
(I found a woman ruling over them,) Al-Hasan Al-Basri said, "This is Bilqis bint Sharahil, the queen of Saba'." Allah's saying:
وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ
(she has been given all things,) means, all the conveniences of this world that a powerful monarch could need.
وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
(and she has a great throne.) meaning, a tremendous chair adorned with gold and different kinds of jewels and pearls. The historians said, "This throne was in a great, strong palace which was high and firmly constructed. In it there were three hundred and sixty windows on the east side, and a similar number on the west, and it was constructed in such a way that each day when the sun rose it would shine through one window, and when it set it would shine through the opposite window. And the people used to prostrate to the sun morning and evening. This is why the hoopoe said:
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ
(I found her and her people worshipping the sun instead of Allah, and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way,) meaning, from the way of truth,
فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَ
(so they have no guidance.) Allah's saying:
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَأَلاَّ يَسْجُدُواْ للَّهِ
(and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way, so they have no guidance, so they do not prostrate themselves before Allah.) They do not know the way of truth, prostrating only before Allah alone and not before anything that He has created, whether heavenly bodies or anything else. This is like the Ayah:
وَمِنْ ءَايَـتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُواْ لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
(And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Prostrate yourselves not to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you indeed worship Him.) (41:37)
الَّذِى يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Who brings to light what is hidden in the heavens and the earth,) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "He knows everything that is hidden in the heavens and on earth." This was also the view of `Ikrimah, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others. His saying:
وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ
(and knows what you conceal and what you reveal.) means, He knows what His servants say and do in secret, and what they say and do openly. This is like the Ayah:
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day) (13:10). His saying:
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(Allah, La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) means, He is the One to be called upon, Allah, He is the One other than Whom there is no god, the Lord of the Supreme Throne, and there is none greater than Him in all of creation. Since the hoopoe was calling to what is good, and for people to worship and prostrate to Allah alone, it would have been forbidden to kill him. Imam Ahmad, Abu Dawud and Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet forbade killing four kinds of animals: ants, bees, hoopoes and the sparrow hawks. Its chain of narration is Sahih.
ہدہد کی غیر حاضری ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اسکے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے واللہ اعلم ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی ہاتھ اونچا اور چالیس ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمر بستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھے بہت بڑا محل تھا بلند وبالا کشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔ اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح وشام اس کو سجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق مانا جائے۔ جیسے فرمان قرآن ہے کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہئے جو ان سب کا خالق ہے۔ آیت (الا یسجدوا) کی ایک قرأت (الایا اسجدوا) بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لئے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ خب کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لئے اس کے قتل کی ممانعت کردی گئی۔ مسند احمد ابو داؤد ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے چار جانوروں کا قتل منع فرمادیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔
25
View Single
أَلَّاۤ يَسۡجُدُواْۤ لِلَّهِ ٱلَّذِي يُخۡرِجُ ٱلۡخَبۡءَ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُخۡفُونَ وَمَا تُعۡلِنُونَ
“Why do they not prostrate to Allah, Who brings forth the things hidden in the heavens and the earth, and knows all what you hide and all what you disclose?”
اس لئے (روکے گئے ہیں) کہ وہ اس اللہ کے حضور سجدہ ریز نہ ہوں جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ (حقائق اور موجودات) کو باہر نکالتا (یعنی ظاہر کرتا) ہے اور ان (سب) چیزوں کو جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم آشکار کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
How the Hoopoe came before Sulayman and told Him about Saba'
Allah says:
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ
(But (the hoopoe) stayed not long,) meaning, he was absent for only a short time. Then he came and said to Sulayman:
أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ
(I have grasped which you have not grasped) meaning, `I have come to know something that you and your troops do not know.'
وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ
(and I have come to you from Saba' with true news.) meaning, with true and certain news. Saba' (Sheba) refers to Himyar, they were a dynasty in Yemen. Then the hoopoe said:
إِنِّى وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ
(I found a woman ruling over them,) Al-Hasan Al-Basri said, "This is Bilqis bint Sharahil, the queen of Saba'." Allah's saying:
وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ
(she has been given all things,) means, all the conveniences of this world that a powerful monarch could need.
وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
(and she has a great throne.) meaning, a tremendous chair adorned with gold and different kinds of jewels and pearls. The historians said, "This throne was in a great, strong palace which was high and firmly constructed. In it there were three hundred and sixty windows on the east side, and a similar number on the west, and it was constructed in such a way that each day when the sun rose it would shine through one window, and when it set it would shine through the opposite window. And the people used to prostrate to the sun morning and evening. This is why the hoopoe said:
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ
(I found her and her people worshipping the sun instead of Allah, and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way,) meaning, from the way of truth,
فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَ
(so they have no guidance.) Allah's saying:
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَأَلاَّ يَسْجُدُواْ للَّهِ
(and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way, so they have no guidance, so they do not prostrate themselves before Allah.) They do not know the way of truth, prostrating only before Allah alone and not before anything that He has created, whether heavenly bodies or anything else. This is like the Ayah:
وَمِنْ ءَايَـتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُواْ لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
(And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Prostrate yourselves not to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you indeed worship Him.) (41:37)
الَّذِى يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Who brings to light what is hidden in the heavens and the earth,) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "He knows everything that is hidden in the heavens and on earth." This was also the view of `Ikrimah, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others. His saying:
وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ
(and knows what you conceal and what you reveal.) means, He knows what His servants say and do in secret, and what they say and do openly. This is like the Ayah:
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day) (13:10). His saying:
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(Allah, La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) means, He is the One to be called upon, Allah, He is the One other than Whom there is no god, the Lord of the Supreme Throne, and there is none greater than Him in all of creation. Since the hoopoe was calling to what is good, and for people to worship and prostrate to Allah alone, it would have been forbidden to kill him. Imam Ahmad, Abu Dawud and Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet forbade killing four kinds of animals: ants, bees, hoopoes and the sparrow hawks. Its chain of narration is Sahih.
ہدہد کی غیر حاضری ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اسکے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے واللہ اعلم ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی ہاتھ اونچا اور چالیس ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمر بستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھے بہت بڑا محل تھا بلند وبالا کشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔ اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح وشام اس کو سجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق مانا جائے۔ جیسے فرمان قرآن ہے کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہئے جو ان سب کا خالق ہے۔ آیت (الا یسجدوا) کی ایک قرأت (الایا اسجدوا) بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لئے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ خب کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لئے اس کے قتل کی ممانعت کردی گئی۔ مسند احمد ابو داؤد ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے چار جانوروں کا قتل منع فرمادیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔
26
View Single
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ۩
“Allah – there is no True God except Him, the Owner of the Great Throne.” (Command of Prostration # 8)
اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہی) عظیم تختِ اقتدار کا مالک ہے
Tafsir Ibn Kathir
How the Hoopoe came before Sulayman and told Him about Saba'
Allah says:
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ
(But (the hoopoe) stayed not long,) meaning, he was absent for only a short time. Then he came and said to Sulayman:
أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ
(I have grasped which you have not grasped) meaning, `I have come to know something that you and your troops do not know.'
وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ
(and I have come to you from Saba' with true news.) meaning, with true and certain news. Saba' (Sheba) refers to Himyar, they were a dynasty in Yemen. Then the hoopoe said:
إِنِّى وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ
(I found a woman ruling over them,) Al-Hasan Al-Basri said, "This is Bilqis bint Sharahil, the queen of Saba'." Allah's saying:
وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ
(she has been given all things,) means, all the conveniences of this world that a powerful monarch could need.
وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
(and she has a great throne.) meaning, a tremendous chair adorned with gold and different kinds of jewels and pearls. The historians said, "This throne was in a great, strong palace which was high and firmly constructed. In it there were three hundred and sixty windows on the east side, and a similar number on the west, and it was constructed in such a way that each day when the sun rose it would shine through one window, and when it set it would shine through the opposite window. And the people used to prostrate to the sun morning and evening. This is why the hoopoe said:
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ
(I found her and her people worshipping the sun instead of Allah, and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way,) meaning, from the way of truth,
فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَ
(so they have no guidance.) Allah's saying:
وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـنُ أَعْمَـلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لاَ يَهْتَدُونَأَلاَّ يَسْجُدُواْ للَّهِ
(and Shaytan has made their deeds fair seeming to them, and has prevented them from the way, so they have no guidance, so they do not prostrate themselves before Allah.) They do not know the way of truth, prostrating only before Allah alone and not before anything that He has created, whether heavenly bodies or anything else. This is like the Ayah:
وَمِنْ ءَايَـتِهِ الَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُواْ لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
(And from among His signs are the night and the day, and the sun and the moon. Prostrate yourselves not to the sun nor to the moon, but prostrate yourselves to Allah Who created them, if you indeed worship Him.) (41:37)
الَّذِى يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ
(Who brings to light what is hidden in the heavens and the earth,) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said: "He knows everything that is hidden in the heavens and on earth." This was also the view of `Ikrimah, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others. His saying:
وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ
(and knows what you conceal and what you reveal.) means, He knows what His servants say and do in secret, and what they say and do openly. This is like the Ayah:
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
(It is the same whether any of you conceals his speech or declares it openly, whether he be hid by night or goes forth freely by day) (13:10). His saying:
اللَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(Allah, La ilaha illa Huwa, the Lord of the Supreme Throne!) means, He is the One to be called upon, Allah, He is the One other than Whom there is no god, the Lord of the Supreme Throne, and there is none greater than Him in all of creation. Since the hoopoe was calling to what is good, and for people to worship and prostrate to Allah alone, it would have been forbidden to kill him. Imam Ahmad, Abu Dawud and Ibn Majah recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet forbade killing four kinds of animals: ants, bees, hoopoes and the sparrow hawks. Its chain of narration is Sahih.
ہدہد کی غیر حاضری ہدہد کی غیر حاضری کی تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آگیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آرہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی سرخ تھا اور ماں کا نام بلتعہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اسکے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے واللہ اعلم ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی ہاتھ اونچا اور چالیس ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمر بستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھے بہت بڑا محل تھا بلند وبالا کشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔ اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح وشام اس کو سجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق مانا جائے۔ جیسے فرمان قرآن ہے کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہئے جو ان سب کا خالق ہے۔ آیت (الا یسجدوا) کی ایک قرأت (الایا اسجدوا) بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لئے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ خب کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔ کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔ چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لئے اس کے قتل کی ممانعت کردی گئی۔ مسند احمد ابو داؤد ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ نے چار جانوروں کا قتل منع فرمادیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔
27
View Single
۞قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
Said Sulaiman, “We shall now see whether you spoke the truth or are among the liars.”
(سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: ہم ابھی دیکھتے ہیں کیا تو سچ کہہ رہا ہے یا توجھوٹ بولنے والوں سے ہے
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman's Letter to Bilqis
Allah tells us what Sulayman said to the hoopoe when he told him about the people of Saba' and their queen:
قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
((Sulayman) said: "We shall see whether you speak the truth or you are (one) of the liars.") meaning, `are you telling the truth'
أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
(or you are (one) of the liars.) meaning, `or are you telling a lie in order to save yourself from the threat I made against you'
اذْهَب بِّكِتَابِى هَـذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ
(Go you with this letter of mine and deliver it to them then draw back from them and see what they return.) Sulayman wrote a letter to Bilqis and her people and gave it to the hoopoe to deliver. It was said that he carried it on his wings, as is the way with birds, or that he carried it in his beak. He went to their land and found the palace of Bilqis, then he went to her private chambers and threw the letter through a small window, then he stepped to one side out of good manners. Bilqis was amazed and confused when she saw that, then she went and picked up the letter, opened its seal and read it. The letter said:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') So she gathered her commanders and ministers and the leaders of her land, and said to them:
يأَيُّهَا الْمَلأُ إِنَّى أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ
("O chiefs! Verily, here is delivered to me a noble letter.") She described it as such because of the wondrous things she had seen, that it was delivered by a bird who threw it to her, then stood aside out of good manners. This was something that no king could do. Then she read the letter to them:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(Verily, it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') Thus they knew that it was from Allah's Prophet Sulayman, upon him be peace, and that they could not match him. This letter was the utmost in brevity and eloquence, coming straight to the point.
أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ
(Be you not exalted against me,) Qatadah said: "Do not be arrogant with me.
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims). )" `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "Do not refuse or be too arrogant to come to me
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims).)"
تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہوجاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کا مضمون سب کو پڑھ کر سنایا کہ یہ خط حضرت سلیمان کا ہے اور اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں انکے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔ پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کردیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کردیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے پہلے کسی نے خط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابنی حاتم میں ہے حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جارہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد ؑ کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتادوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیا میرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی حضور ﷺ دعا (باسمک اللہم) تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا شرع کیا خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔
28
View Single
ٱذۡهَب بِّكِتَٰبِي هَٰذَا فَأَلۡقِهۡ إِلَيۡهِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَٱنظُرۡ مَاذَا يَرۡجِعُونَ
“Go with this letter of mine and drop it upon them – then move aside from them and see what they answer in return.”
میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آپھر دیکھ وہ کس بات کی طرف رجوع کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman's Letter to Bilqis
Allah tells us what Sulayman said to the hoopoe when he told him about the people of Saba' and their queen:
قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
((Sulayman) said: "We shall see whether you speak the truth or you are (one) of the liars.") meaning, `are you telling the truth'
أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
(or you are (one) of the liars.) meaning, `or are you telling a lie in order to save yourself from the threat I made against you'
اذْهَب بِّكِتَابِى هَـذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ
(Go you with this letter of mine and deliver it to them then draw back from them and see what they return.) Sulayman wrote a letter to Bilqis and her people and gave it to the hoopoe to deliver. It was said that he carried it on his wings, as is the way with birds, or that he carried it in his beak. He went to their land and found the palace of Bilqis, then he went to her private chambers and threw the letter through a small window, then he stepped to one side out of good manners. Bilqis was amazed and confused when she saw that, then she went and picked up the letter, opened its seal and read it. The letter said:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') So she gathered her commanders and ministers and the leaders of her land, and said to them:
يأَيُّهَا الْمَلأُ إِنَّى أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ
("O chiefs! Verily, here is delivered to me a noble letter.") She described it as such because of the wondrous things she had seen, that it was delivered by a bird who threw it to her, then stood aside out of good manners. This was something that no king could do. Then she read the letter to them:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(Verily, it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') Thus they knew that it was from Allah's Prophet Sulayman, upon him be peace, and that they could not match him. This letter was the utmost in brevity and eloquence, coming straight to the point.
أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ
(Be you not exalted against me,) Qatadah said: "Do not be arrogant with me.
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims). )" `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "Do not refuse or be too arrogant to come to me
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims).)"
تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہوجاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کا مضمون سب کو پڑھ کر سنایا کہ یہ خط حضرت سلیمان کا ہے اور اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں انکے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔ پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کردیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کردیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے پہلے کسی نے خط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابنی حاتم میں ہے حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جارہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد ؑ کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتادوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیا میرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی حضور ﷺ دعا (باسمک اللہم) تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا شرع کیا خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔
29
View Single
قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ إِنِّيٓ أُلۡقِيَ إِلَيَّ كِتَٰبٞ كَرِيمٌ
The woman said, “O chieftains, indeed a noble letter has been dropped upon me.”
(ملکہ نے) کہا: اے سردارو! میری طرف ایک نامۂ بزرگ ڈالا گیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman's Letter to Bilqis
Allah tells us what Sulayman said to the hoopoe when he told him about the people of Saba' and their queen:
قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
((Sulayman) said: "We shall see whether you speak the truth or you are (one) of the liars.") meaning, `are you telling the truth'
أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
(or you are (one) of the liars.) meaning, `or are you telling a lie in order to save yourself from the threat I made against you'
اذْهَب بِّكِتَابِى هَـذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ
(Go you with this letter of mine and deliver it to them then draw back from them and see what they return.) Sulayman wrote a letter to Bilqis and her people and gave it to the hoopoe to deliver. It was said that he carried it on his wings, as is the way with birds, or that he carried it in his beak. He went to their land and found the palace of Bilqis, then he went to her private chambers and threw the letter through a small window, then he stepped to one side out of good manners. Bilqis was amazed and confused when she saw that, then she went and picked up the letter, opened its seal and read it. The letter said:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') So she gathered her commanders and ministers and the leaders of her land, and said to them:
يأَيُّهَا الْمَلأُ إِنَّى أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ
("O chiefs! Verily, here is delivered to me a noble letter.") She described it as such because of the wondrous things she had seen, that it was delivered by a bird who threw it to her, then stood aside out of good manners. This was something that no king could do. Then she read the letter to them:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(Verily, it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') Thus they knew that it was from Allah's Prophet Sulayman, upon him be peace, and that they could not match him. This letter was the utmost in brevity and eloquence, coming straight to the point.
أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ
(Be you not exalted against me,) Qatadah said: "Do not be arrogant with me.
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims). )" `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "Do not refuse or be too arrogant to come to me
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims).)"
تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہوجاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کا مضمون سب کو پڑھ کر سنایا کہ یہ خط حضرت سلیمان کا ہے اور اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں انکے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔ پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کردیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کردیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے پہلے کسی نے خط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابنی حاتم میں ہے حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جارہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد ؑ کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتادوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیا میرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی حضور ﷺ دعا (باسمک اللہم) تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا شرع کیا خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔
30
View Single
إِنَّهُۥ مِن سُلَيۡمَٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
“Indeed it is from Sulaiman, and it is (begins) with ‘Allah – beginning with the name of – the Most Gracious, the Most Merciful.’”
بیشک وہ (خط) سلیمان (علیہ السلام) کی جانب سے (آیا) ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع (کیا گیا) ہے جو بے حد مہربان بڑا رحم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman's Letter to Bilqis
Allah tells us what Sulayman said to the hoopoe when he told him about the people of Saba' and their queen:
قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
((Sulayman) said: "We shall see whether you speak the truth or you are (one) of the liars.") meaning, `are you telling the truth'
أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
(or you are (one) of the liars.) meaning, `or are you telling a lie in order to save yourself from the threat I made against you'
اذْهَب بِّكِتَابِى هَـذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ
(Go you with this letter of mine and deliver it to them then draw back from them and see what they return.) Sulayman wrote a letter to Bilqis and her people and gave it to the hoopoe to deliver. It was said that he carried it on his wings, as is the way with birds, or that he carried it in his beak. He went to their land and found the palace of Bilqis, then he went to her private chambers and threw the letter through a small window, then he stepped to one side out of good manners. Bilqis was amazed and confused when she saw that, then she went and picked up the letter, opened its seal and read it. The letter said:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') So she gathered her commanders and ministers and the leaders of her land, and said to them:
يأَيُّهَا الْمَلأُ إِنَّى أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ
("O chiefs! Verily, here is delivered to me a noble letter.") She described it as such because of the wondrous things she had seen, that it was delivered by a bird who threw it to her, then stood aside out of good manners. This was something that no king could do. Then she read the letter to them:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(Verily, it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') Thus they knew that it was from Allah's Prophet Sulayman, upon him be peace, and that they could not match him. This letter was the utmost in brevity and eloquence, coming straight to the point.
أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ
(Be you not exalted against me,) Qatadah said: "Do not be arrogant with me.
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims). )" `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "Do not refuse or be too arrogant to come to me
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims).)"
تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہوجاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کا مضمون سب کو پڑھ کر سنایا کہ یہ خط حضرت سلیمان کا ہے اور اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں انکے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔ پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کردیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کردیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے پہلے کسی نے خط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابنی حاتم میں ہے حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جارہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد ؑ کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتادوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیا میرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی حضور ﷺ دعا (باسمک اللہم) تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا شرع کیا خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔
31
View Single
أَلَّا تَعۡلُواْ عَلَيَّ وَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ
“That ‘Do not wish eminence above me, and present yourselves humbly to me, with submission.’”
(اس کامضمون یہ ہے) کہ تم لوگ مجھ پر سربلندی (کی کوشش) مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجاؤ
Tafsir Ibn Kathir
Sulayman's Letter to Bilqis
Allah tells us what Sulayman said to the hoopoe when he told him about the people of Saba' and their queen:
قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
((Sulayman) said: "We shall see whether you speak the truth or you are (one) of the liars.") meaning, `are you telling the truth'
أَمْ كُنتَ مِنَ الْكَـذِبِينَ
(or you are (one) of the liars.) meaning, `or are you telling a lie in order to save yourself from the threat I made against you'
اذْهَب بِّكِتَابِى هَـذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ
(Go you with this letter of mine and deliver it to them then draw back from them and see what they return.) Sulayman wrote a letter to Bilqis and her people and gave it to the hoopoe to deliver. It was said that he carried it on his wings, as is the way with birds, or that he carried it in his beak. He went to their land and found the palace of Bilqis, then he went to her private chambers and threw the letter through a small window, then he stepped to one side out of good manners. Bilqis was amazed and confused when she saw that, then she went and picked up the letter, opened its seal and read it. The letter said:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') So she gathered her commanders and ministers and the leaders of her land, and said to them:
يأَيُّهَا الْمَلأُ إِنَّى أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ
("O chiefs! Verily, here is delivered to me a noble letter.") She described it as such because of the wondrous things she had seen, that it was delivered by a bird who threw it to her, then stood aside out of good manners. This was something that no king could do. Then she read the letter to them:
إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ - أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(Verily, it is from Sulayman, and it (reads): `In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful; Be you not exalted against me, but come to me submitting (as Muslims).') Thus they knew that it was from Allah's Prophet Sulayman, upon him be peace, and that they could not match him. This letter was the utmost in brevity and eloquence, coming straight to the point.
أَلاَّ تَعْلُواْ عَلَىَّ
(Be you not exalted against me,) Qatadah said: "Do not be arrogant with me.
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims). )" `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "Do not refuse or be too arrogant to come to me
وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(but come to me submitting (as Muslims).)"
تحقیق شروع ہوگئی ہدہد کی خبر سنتے ہی حضرت سلیمان نے اس کی تحقیق شروع کردی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانرواہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اسکے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہوگیا۔ اسے سخت تعجب معلوم ہواحیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف ودہشت بھی ہوئی۔ ، خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہوجاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر خط کا مضمون سب کو پڑھ کر سنایا کہ یہ خط حضرت سلیمان کا ہے اور اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں انکے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔ پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کردیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کردیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ حضرت سلیمان ؑ سے پہلے کسی نے خط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابنی حاتم میں ہے حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جارہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد ؑ کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کونسی آیت ہے ؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتادوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیا میرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ اور روایت میں ہے کہ جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی حضور ﷺ دعا (باسمک اللہم) تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا شرع کیا خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔
32
View Single
قَالَتۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَفۡتُونِي فِيٓ أَمۡرِي مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمۡرًا حَتَّىٰ تَشۡهَدُونِ
She said, “O chieftains, advise me in this matter of mine; I do not give a final decision until you are present with me.”
(ملکہ نے) کہا: اے دربار والو! تم مجھے میرے (اس) معاملہ میں مشورہ دو، میں کسی کام کا قطعی فیصلہ کرنے والی نہیں ہوں یہاں تک کہ تم میرے پاس حاضر ہو کر (اس اَمر کے موافق یا مخالف) گواہی دو
Tafsir Ibn Kathir
Bilqis consults with Her Chiefs
When she read Sulayman's letter to them and consulted with them about this news, she said:
يأَيُّهَا الْمَلأ أَفْتُونِى فِى أَمْرِى مَا كُنتُ قَـطِعَةً أَمْراً حَتَّى تَشْهَدُونِ
("O chiefs! Advise me in (this) case of mine. I decide no case till you are present with me.") meaning, `until you come together and offer me your advice.'
قَالُواْ نَحْنُ أُوْلُواْ قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ
(They said: "We have great strength, and great ability for war...") They reminded her of their great numbers, preparedness and strength, then they referred the matter to her and said:
وَالاٌّمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ
(but it is for you to command; so think over what you will command.) meaning, `we have the power and strength, if you want to go to him and fight him.' The matter is yours to decide, so instruct us as you see fit and we will obey. Ibn `Abbas said: "Bilqis said:
إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُواْ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةً
(Verily, kings, when they enter a town, they destroy it and make the most honorable amongst its people the lowest.) And Allah said:
وَكَذلِكَ يَفْعَلُونَ
(And thus they do. ) Then she resorted to peaceful means, seeking a truce and trying to placate Sulayman, and said:
وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ
(But verily, I am going to send him a present, and see with what the messengers return.) meaning, `I will send him a gift befitting for one of his status, and will wait and see what his response will be. Perhaps he will accept that and leave us alone, or he will impose a tax which we can pay him every year, so that he will not fight us and wage war against us.' Qatadah said: "May Allah have mercy on her and be pleased with her -- how wise she was as a Muslim and (before that) as an idolator! She understood how gift-giving has a good effect on people." Ibn `Abbas and others said: "She said to her people, if he accepts the gift, he is a king, so fight him; but if he does not accept it, he is a Prophet, so follow him."
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
33
View Single
قَالُواْ نَحۡنُ أُوْلُواْ قُوَّةٖ وَأُوْلُواْ بَأۡسٖ شَدِيدٖ وَٱلۡأَمۡرُ إِلَيۡكِ فَٱنظُرِي مَاذَا تَأۡمُرِينَ
They said, “We possess great strength and are great warriors, and the decision is yours, therefore consider what you will command.”
انہوں نے کہا: ہم طاقتور اور سخت جنگ جُو ہیں مگر حکم آپ کے اختیار میں ہے سو آپ (خود ہی) غور کر لیں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Bilqis consults with Her Chiefs
When she read Sulayman's letter to them and consulted with them about this news, she said:
يأَيُّهَا الْمَلأ أَفْتُونِى فِى أَمْرِى مَا كُنتُ قَـطِعَةً أَمْراً حَتَّى تَشْهَدُونِ
("O chiefs! Advise me in (this) case of mine. I decide no case till you are present with me.") meaning, `until you come together and offer me your advice.'
قَالُواْ نَحْنُ أُوْلُواْ قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ
(They said: "We have great strength, and great ability for war...") They reminded her of their great numbers, preparedness and strength, then they referred the matter to her and said:
وَالاٌّمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ
(but it is for you to command; so think over what you will command.) meaning, `we have the power and strength, if you want to go to him and fight him.' The matter is yours to decide, so instruct us as you see fit and we will obey. Ibn `Abbas said: "Bilqis said:
إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُواْ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةً
(Verily, kings, when they enter a town, they destroy it and make the most honorable amongst its people the lowest.) And Allah said:
وَكَذلِكَ يَفْعَلُونَ
(And thus they do. ) Then she resorted to peaceful means, seeking a truce and trying to placate Sulayman, and said:
وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ
(But verily, I am going to send him a present, and see with what the messengers return.) meaning, `I will send him a gift befitting for one of his status, and will wait and see what his response will be. Perhaps he will accept that and leave us alone, or he will impose a tax which we can pay him every year, so that he will not fight us and wage war against us.' Qatadah said: "May Allah have mercy on her and be pleased with her -- how wise she was as a Muslim and (before that) as an idolator! She understood how gift-giving has a good effect on people." Ibn `Abbas and others said: "She said to her people, if he accepts the gift, he is a king, so fight him; but if he does not accept it, he is a Prophet, so follow him."
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
34
View Single
قَالَتۡ إِنَّ ٱلۡمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرۡيَةً أَفۡسَدُوهَا وَجَعَلُوٓاْ أَعِزَّةَ أَهۡلِهَآ أَذِلَّةٗۚ وَكَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ
She said, “Indeed the kings, when they enter a township, destroy it and disgrace its honourable people; and this is what they do.”
(ملکہ نے) کہا: بیشک جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل و رسوا کر ڈالتے ہیں اور یہ (لوگ بھی) اسی طرح کریں گے
Tafsir Ibn Kathir
Bilqis consults with Her Chiefs
When she read Sulayman's letter to them and consulted with them about this news, she said:
يأَيُّهَا الْمَلأ أَفْتُونِى فِى أَمْرِى مَا كُنتُ قَـطِعَةً أَمْراً حَتَّى تَشْهَدُونِ
("O chiefs! Advise me in (this) case of mine. I decide no case till you are present with me.") meaning, `until you come together and offer me your advice.'
قَالُواْ نَحْنُ أُوْلُواْ قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ
(They said: "We have great strength, and great ability for war...") They reminded her of their great numbers, preparedness and strength, then they referred the matter to her and said:
وَالاٌّمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ
(but it is for you to command; so think over what you will command.) meaning, `we have the power and strength, if you want to go to him and fight him.' The matter is yours to decide, so instruct us as you see fit and we will obey. Ibn `Abbas said: "Bilqis said:
إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُواْ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةً
(Verily, kings, when they enter a town, they destroy it and make the most honorable amongst its people the lowest.) And Allah said:
وَكَذلِكَ يَفْعَلُونَ
(And thus they do. ) Then she resorted to peaceful means, seeking a truce and trying to placate Sulayman, and said:
وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ
(But verily, I am going to send him a present, and see with what the messengers return.) meaning, `I will send him a gift befitting for one of his status, and will wait and see what his response will be. Perhaps he will accept that and leave us alone, or he will impose a tax which we can pay him every year, so that he will not fight us and wage war against us.' Qatadah said: "May Allah have mercy on her and be pleased with her -- how wise she was as a Muslim and (before that) as an idolator! She understood how gift-giving has a good effect on people." Ibn `Abbas and others said: "She said to her people, if he accepts the gift, he is a king, so fight him; but if he does not accept it, he is a Prophet, so follow him."
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
35
View Single
وَإِنِّي مُرۡسِلَةٌ إِلَيۡهِم بِهَدِيَّةٖ فَنَاظِرَةُۢ بِمَ يَرۡجِعُ ٱلۡمُرۡسَلُونَ
“And I shall send a present to them, then see what reply the envoys bring.”
اور بیشک میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھتی ہوں قاصد کیا جواب لے کر واپس لوٹتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Bilqis consults with Her Chiefs
When she read Sulayman's letter to them and consulted with them about this news, she said:
يأَيُّهَا الْمَلأ أَفْتُونِى فِى أَمْرِى مَا كُنتُ قَـطِعَةً أَمْراً حَتَّى تَشْهَدُونِ
("O chiefs! Advise me in (this) case of mine. I decide no case till you are present with me.") meaning, `until you come together and offer me your advice.'
قَالُواْ نَحْنُ أُوْلُواْ قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ
(They said: "We have great strength, and great ability for war...") They reminded her of their great numbers, preparedness and strength, then they referred the matter to her and said:
وَالاٌّمْرُ إِلَيْكِ فَانظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ
(but it is for you to command; so think over what you will command.) meaning, `we have the power and strength, if you want to go to him and fight him.' The matter is yours to decide, so instruct us as you see fit and we will obey. Ibn `Abbas said: "Bilqis said:
إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُواْ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةً
(Verily, kings, when they enter a town, they destroy it and make the most honorable amongst its people the lowest.) And Allah said:
وَكَذلِكَ يَفْعَلُونَ
(And thus they do. ) Then she resorted to peaceful means, seeking a truce and trying to placate Sulayman, and said:
وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ
(But verily, I am going to send him a present, and see with what the messengers return.) meaning, `I will send him a gift befitting for one of his status, and will wait and see what his response will be. Perhaps he will accept that and leave us alone, or he will impose a tax which we can pay him every year, so that he will not fight us and wage war against us.' Qatadah said: "May Allah have mercy on her and be pleased with her -- how wise she was as a Muslim and (before that) as an idolator! She understood how gift-giving has a good effect on people." Ibn `Abbas and others said: "She said to her people, if he accepts the gift, he is a king, so fight him; but if he does not accept it, he is a Prophet, so follow him."
بلقیس کو خط ملا بلقیس نے حضرت سلیمان ؑ کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کرلوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے ؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لئے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کرلیا تھا کہ حضرت سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لئے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر انکی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔ جناب فاری نے اسکی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کی بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور حضرت سلیمان سے موافقت کرلے صلح کرلے وہ اس نے انکے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرمالیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کردیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر قبول کرلیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کردیا تو انکی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
36
View Single
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمَٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٖ فَمَآ ءَاتَىٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيۡرٞ مِّمَّآ ءَاتَىٰكُمۚ بَلۡ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُونَ
So when the envoy came to Sulaiman, he said, “Are you helping me with wealth? What Allah has bestowed upon me is better than what He has given you; rather it is you who are delighted at your gift.”
سو جب وہ (قاصد) سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا (تو سلیمان علیہ السلام نے اس سے) فرمایا: کیا تم لوگ مال و دولت سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ سو جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے اس (دولت) سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں عطا کی ہے بلکہ تم ہی ہو جو اپنے تحفہ سے فرحاں (اور) نازاں ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Gift and the Response of Sulayman
More than one of the scholars of Tafsir among the Salaf and others stated that she sent him a huge gift of gold, jewels, pearls and other things. It is apparent that Sulayman, peace be upon him, did not even look at what they brought at all and did not pay any attention to it, but he turned away and said, rebuking them:
أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ
("Will you help me in wealth") meaning, `are you trying to flatter me with wealth so that I will leave you alone with your Shirk and your kingdom'
فَمَآ ءَاتَـنِى اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَـكُمْ
(What Allah has given me is better than that which He has given you!) means, `what Allah has given to me of power, wealth and troops, is better than that which you have.'
بَلْ أَنتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ
(Nay, you rejoice in your gift!) means, `you are the ones who are influenced by gifts and presents; we will accept nothing from you except Islam or the sword.'
ارْجِعْ إِلَيْهِمْ
(Go back to them) means, with their gift,
فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لاَّ قِبَلَ لَهُمْ بِهَا
(We verily, shall come to them with armies that they cannot resist,) they have no power to match them or resist them.
وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَآ أَذِلَّةً
(and we shall drive them out from there in disgrace,) `we shall drive them out in disgrace from their land.'
وَهُمْ صَـغِرُونَ
(and they will be abased.) means, humiliated and expelled. When her messengers came back to her with her undelivered gift, and told her what Sulayman said, she and her people paid heed and obeyed him. She came to him with her troops in submission and humility, honoring Sulayman and intending to follow him in Islam. When Sulayman, peace be upon him, realized that they were coming to him, he rejoiced greatly.
بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیے۔ جب یہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کردیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کیے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے انکے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں، واللہ اعلم۔ یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کردو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کیے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر پاقی رہنا چاہتے ہو ؟ یہ محض ناممکن ہے مجے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ملک، مال، لاؤ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں فالحمدللہ۔ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہوجاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑو یا تلوار روکو۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اسکے قاصد پہنچیں حضرت سلیمان ؑ نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کردئے۔ جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کردو اور ان سے کہہ دو مقابلے کی تیاری کرلیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ ہم انہیں انکی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا فورا خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہوگئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوگئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
37
View Single
ٱرۡجِعۡ إِلَيۡهِمۡ فَلَنَأۡتِيَنَّهُم بِجُنُودٖ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخۡرِجَنَّهُم مِّنۡهَآ أَذِلَّةٗ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ
“Go back to them – so we shall indeed come upon them with an army they cannot fight, and degrading them shall certainly drive them out from that city, so they will be humiliated.”
تو ان کے پاس (تحفہ سمیت) واپس پلٹ جا سو ہم ان پر ایسے لشکروں کے ساتھ (حملہ کرنے) آئیں گے جن سے انہیں مقابلہ (کی طاقت) نہیں ہوگی اور ہم انہیں وہاں سے بے عزت کر کے اس حال میں نکالیں گے کہ وہ (قیدی بن کر) رسوا ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Gift and the Response of Sulayman
More than one of the scholars of Tafsir among the Salaf and others stated that she sent him a huge gift of gold, jewels, pearls and other things. It is apparent that Sulayman, peace be upon him, did not even look at what they brought at all and did not pay any attention to it, but he turned away and said, rebuking them:
أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ
("Will you help me in wealth") meaning, `are you trying to flatter me with wealth so that I will leave you alone with your Shirk and your kingdom'
فَمَآ ءَاتَـنِى اللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَـكُمْ
(What Allah has given me is better than that which He has given you!) means, `what Allah has given to me of power, wealth and troops, is better than that which you have.'
بَلْ أَنتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ
(Nay, you rejoice in your gift!) means, `you are the ones who are influenced by gifts and presents; we will accept nothing from you except Islam or the sword.'
ارْجِعْ إِلَيْهِمْ
(Go back to them) means, with their gift,
فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لاَّ قِبَلَ لَهُمْ بِهَا
(We verily, shall come to them with armies that they cannot resist,) they have no power to match them or resist them.
وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَآ أَذِلَّةً
(and we shall drive them out from there in disgrace,) `we shall drive them out in disgrace from their land.'
وَهُمْ صَـغِرُونَ
(and they will be abased.) means, humiliated and expelled. When her messengers came back to her with her undelivered gift, and told her what Sulayman said, she and her people paid heed and obeyed him. She came to him with her troops in submission and humility, honoring Sulayman and intending to follow him in Islam. When Sulayman, peace be upon him, realized that they were coming to him, he rejoiced greatly.
بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیے۔ جب یہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔ اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کردیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کیے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے انکے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں، واللہ اعلم۔ یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کردو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کیے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر پاقی رہنا چاہتے ہو ؟ یہ محض ناممکن ہے مجے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ملک، مال، لاؤ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں فالحمدللہ۔ تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہوجاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑو یا تلوار روکو۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اسکے قاصد پہنچیں حضرت سلیمان ؑ نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کردئے۔ جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے۔ پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کردو اور ان سے کہہ دو مقابلے کی تیاری کرلیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ ہم انہیں انکی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے۔ جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا فورا خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہوگئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوگئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
38
View Single
قَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَؤُاْ أَيُّكُمۡ يَأۡتِينِي بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ أَن يَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ
Said Sulaiman, “O court members, which one of you can bring me her throne before they come humbled in my presence?”
(سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: اے دربار والو! تم میں سے کون اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجائیں
Tafsir Ibn Kathir
How the Throne of Bilqis was brought in an Instant
Muhammad bin Ishaq reported from Yazid bin Ruman: "When the messengers returned with word of what Sulayman said, she said: `By Allah, I knew he was more than a king, and that we have no power to match him, and that we can gain nothing by being stubborn with him. So, she sent word to him saying: "I am coming to you with the leaders of my people to see what you will instruct us to do and what you are calling us to of your religion." Then she issued commands that her throne, which was made of gold and inlaid with rubies, chrysolite and pearls, should be placed in the innermost of seven rooms, one within the other, and all the doors should be locked. Then she told her deputy whom she was leaving in charge, "Take care of my people and my throne, and do not let anyone approach it or see it until I come back to you." Then she set off to meet Sulayman with twelve thousand of her commanders from the leaders of Yemen, under each of whose command were many thousands of men. Sulayman sent the Jinn to bring him news of her progress and route every day and night, then when she drew near, he gathered together the Jinns and humans who were under his control and said:
يأَيُّهَا الْمَلأ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(O chiefs! Which of you can bring me her throne before they come to me surrendering themselves in obedience (as Muslims))."
قَالَ عِفْرِيتٌ مِّن الْجِنِّ
(An `Ifrit from the Jinn said: ) Mujahid said, "A giant Jinn." Abu Salih said, "It was as if he was a mountain."
أَنَاْ ءَاتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ
(I will bring it to you before you rise from your place.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Before you get up from where you are sitting." As-Suddi and others said: "He used to sit to pass judgements and rulings over the people, and to eat, from the beginning of the day until noon."
وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ
(And verily, I am indeed strong and trustworthy for such work.) Ibn `Abbas said: "Strong enough to carry it and trustworthy with the jewels it contains. Sulayman, upon him be peace, said, "I want it faster than that." From this it seems that Sulayman wanted to bring this throne as a demonstration of the greatness of the power and authority that Allah had bestowed upon him and the troops that He had subjugated to him. Power such as had never been given to anyone else, before or since, so that this would furnish proof of his prophethood before Bilqis and her people, because this would be a great and wondrous thing, if he brought her throne as if he were in her country, before they could come to it, although it was hidden and protected by so many locked doors. When Sulayman said, "I want it faster than that,
قَالَ الَّذِى عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَـبِ
(One with whom was knowledge of the Scripture said: ) Ibn `Abbas said, "This was Asif, the scribe of Sulayman." It was also narrated by Muhammad bin Ishaq from Yazid bin Ruman that he was Asif bin Barkhiya' and he was a truthful believer who knew the Greatest Name of Allah. Qatadah said: "He was a believer among the humans, and his name was Asif."
أَنَاْ ءَاتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ
(I will bring it to you within the twinkling of an eye!) Meaning, lift your gaze and look as far as you can, and before you get tired and blink, you will find it before you. Then he got up, performed ablution and prayed to Allah, may He be exalted. Mujahid said: "He said, O Owner of majesty and honor." When Sulayman and his chiefs saw it before them,
قَالَ هَـذَا مِن فَضْلِ رَبِّى
(he said: "This is by the grace of my Lord...") meaning, `this is one of the blessings which Allah has bestowed upon me.'
لِيَبْلُوَنِى أَءَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ
(to test whether I am grateful or ungrateful! And whoever is grateful, truly, his gratitude is for himself;) This is like the Ayat:
مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself; and whosoever does evil, it is against himself.) (41:46)
وَمَنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلاًّنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ
(and whosoever does righteous good deed, then such will prepare a good place for themselves.) (30:44).
وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّى غَنِىٌّ كَرِيمٌ
(and whoever is ungrateful, certainly my Lord is Rich, Bountiful.) He has no need of His servants or their worship.
كَرِيمٌ
(Bountiful) He is Bountiful in and of Himself, even if no one were to worship Him. His greatness does not depend on anyone. This is like what Musa said: p
إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
(If you disbelieve, you and all on earth together, then verily, Allah is Rich, Owner of all praise.) (14:8). It is recorded in Sahih Muslim:
«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ،وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَه»
(Allah, may He be exalted, says: "O My servants, if the first of you and the last of you, mankind and Jinn alike, were all to be as pious as the most pious among you, that would not add to My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, mankind and Jinn alike, were all to be as evil as the most evil one among you, that would not detract from My dominion in the slightest. O My servants, these are deeds which I am recording for you, and I will judge you according to them, so whoever finds something good, let him praise Allah, and whoever finds otherwise, let him blame no one but himself.")
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ لئے اور ملک سلیمان کی طرف چل دی۔ جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اسکے تخت کو اسکے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے ؟ کیونکہ جب وہ یہاں آجائیں گی اور اسلام میں داخل ہوجائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہوگا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لا دیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا : حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ میں بیان ہوئی) حضرت سلیمان کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آصف تھے حضرت سلیمان کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخ بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔ عبداللہ لھیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس حضرت سلیمان نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کرکے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا دعا (یا ذالجلال والاکرام یا فرمایا یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا) اسی وقت تخت بلقیس سامنے آگیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔ جب سلیمان ؑ نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بےنیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (من عمل صالحا فلنفسہ الخ) ، جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لئے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لئے۔ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لئے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہوجائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
39
View Single
قَالَ عِفۡرِيتٞ مِّنَ ٱلۡجِنِّ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبۡلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَۖ وَإِنِّي عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٞ
An extremely evil jinn said, “I will bring it in your presence before you disperse the assembly; and I am indeed strong and trustworthy upon it.”
ایک قوی ہیکل جِن نے عرض کیا: میں اسے آپ کے پاس لاسکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ اپنے مقام سے اٹھیں اور بیشک میں اس (کے لانے) پر طاقتور (اور) امانت دار ہوں
Tafsir Ibn Kathir
How the Throne of Bilqis was brought in an Instant
Muhammad bin Ishaq reported from Yazid bin Ruman: "When the messengers returned with word of what Sulayman said, she said: `By Allah, I knew he was more than a king, and that we have no power to match him, and that we can gain nothing by being stubborn with him. So, she sent word to him saying: "I am coming to you with the leaders of my people to see what you will instruct us to do and what you are calling us to of your religion." Then she issued commands that her throne, which was made of gold and inlaid with rubies, chrysolite and pearls, should be placed in the innermost of seven rooms, one within the other, and all the doors should be locked. Then she told her deputy whom she was leaving in charge, "Take care of my people and my throne, and do not let anyone approach it or see it until I come back to you." Then she set off to meet Sulayman with twelve thousand of her commanders from the leaders of Yemen, under each of whose command were many thousands of men. Sulayman sent the Jinn to bring him news of her progress and route every day and night, then when she drew near, he gathered together the Jinns and humans who were under his control and said:
يأَيُّهَا الْمَلأ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(O chiefs! Which of you can bring me her throne before they come to me surrendering themselves in obedience (as Muslims))."
قَالَ عِفْرِيتٌ مِّن الْجِنِّ
(An `Ifrit from the Jinn said: ) Mujahid said, "A giant Jinn." Abu Salih said, "It was as if he was a mountain."
أَنَاْ ءَاتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ
(I will bring it to you before you rise from your place.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Before you get up from where you are sitting." As-Suddi and others said: "He used to sit to pass judgements and rulings over the people, and to eat, from the beginning of the day until noon."
وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ
(And verily, I am indeed strong and trustworthy for such work.) Ibn `Abbas said: "Strong enough to carry it and trustworthy with the jewels it contains. Sulayman, upon him be peace, said, "I want it faster than that." From this it seems that Sulayman wanted to bring this throne as a demonstration of the greatness of the power and authority that Allah had bestowed upon him and the troops that He had subjugated to him. Power such as had never been given to anyone else, before or since, so that this would furnish proof of his prophethood before Bilqis and her people, because this would be a great and wondrous thing, if he brought her throne as if he were in her country, before they could come to it, although it was hidden and protected by so many locked doors. When Sulayman said, "I want it faster than that,
قَالَ الَّذِى عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَـبِ
(One with whom was knowledge of the Scripture said: ) Ibn `Abbas said, "This was Asif, the scribe of Sulayman." It was also narrated by Muhammad bin Ishaq from Yazid bin Ruman that he was Asif bin Barkhiya' and he was a truthful believer who knew the Greatest Name of Allah. Qatadah said: "He was a believer among the humans, and his name was Asif."
أَنَاْ ءَاتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ
(I will bring it to you within the twinkling of an eye!) Meaning, lift your gaze and look as far as you can, and before you get tired and blink, you will find it before you. Then he got up, performed ablution and prayed to Allah, may He be exalted. Mujahid said: "He said, O Owner of majesty and honor." When Sulayman and his chiefs saw it before them,
قَالَ هَـذَا مِن فَضْلِ رَبِّى
(he said: "This is by the grace of my Lord...") meaning, `this is one of the blessings which Allah has bestowed upon me.'
لِيَبْلُوَنِى أَءَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ
(to test whether I am grateful or ungrateful! And whoever is grateful, truly, his gratitude is for himself;) This is like the Ayat:
مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself; and whosoever does evil, it is against himself.) (41:46)
وَمَنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلاًّنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ
(and whosoever does righteous good deed, then such will prepare a good place for themselves.) (30:44).
وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّى غَنِىٌّ كَرِيمٌ
(and whoever is ungrateful, certainly my Lord is Rich, Bountiful.) He has no need of His servants or their worship.
كَرِيمٌ
(Bountiful) He is Bountiful in and of Himself, even if no one were to worship Him. His greatness does not depend on anyone. This is like what Musa said: p
إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
(If you disbelieve, you and all on earth together, then verily, Allah is Rich, Owner of all praise.) (14:8). It is recorded in Sahih Muslim:
«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ،وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَه»
(Allah, may He be exalted, says: "O My servants, if the first of you and the last of you, mankind and Jinn alike, were all to be as pious as the most pious among you, that would not add to My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, mankind and Jinn alike, were all to be as evil as the most evil one among you, that would not detract from My dominion in the slightest. O My servants, these are deeds which I am recording for you, and I will judge you according to them, so whoever finds something good, let him praise Allah, and whoever finds otherwise, let him blame no one but himself.")
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ لئے اور ملک سلیمان کی طرف چل دی۔ جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اسکے تخت کو اسکے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے ؟ کیونکہ جب وہ یہاں آجائیں گی اور اسلام میں داخل ہوجائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہوگا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لا دیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا : حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ میں بیان ہوئی) حضرت سلیمان کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آصف تھے حضرت سلیمان کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخ بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔ عبداللہ لھیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس حضرت سلیمان نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کرکے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا دعا (یا ذالجلال والاکرام یا فرمایا یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا) اسی وقت تخت بلقیس سامنے آگیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔ جب سلیمان ؑ نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بےنیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (من عمل صالحا فلنفسہ الخ) ، جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لئے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لئے۔ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لئے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہوجائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
40
View Single
قَالَ ٱلَّذِي عِندَهُۥ عِلۡمٞ مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ أَنَا۠ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبۡلَ أَن يَرۡتَدَّ إِلَيۡكَ طَرۡفُكَۚ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسۡتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَٰذَا مِن فَضۡلِ رَبِّي لِيَبۡلُوَنِيٓ ءَأَشۡكُرُ أَمۡ أَكۡفُرُۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيّٞ كَرِيمٞ
Said one who had knowledge of the Book, “I will bring it in your majesty’s presence before you bat your eyelid”; then when he saw it set in his presence*, Sulaiman said, “This is of the favours of my Lord; so that He may test me whether I give thanks or am ungrateful; and whoever gives thanks only gives thanks for his own good; and whoever is ungrateful – then indeed my Lord is the Independent (Not Needing Anything), the Owner Of All Praise.” (A miracle which occurred through one of Allah’s friends.)
(پھر) ایک ایسے شخص نے عرض کیا جس کے پاس (آسمانی) کتاب کا کچھ علم تھا کہ میں اسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے (یعنی پلک جھپکنے سے بھی پہلے)، پھر جب (سلیمان علیہ السلام نے) اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا (تو) کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر گزاری کرتا ہوں یا نا شکری، اور جس نے (اللہ کا) شکر ادا کیا سو وہ محض اپنی ہی ذات کے فائدہ کے لئے شکر مندی کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو بیشک میرا رب بے نیاز، کرم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
How the Throne of Bilqis was brought in an Instant
Muhammad bin Ishaq reported from Yazid bin Ruman: "When the messengers returned with word of what Sulayman said, she said: `By Allah, I knew he was more than a king, and that we have no power to match him, and that we can gain nothing by being stubborn with him. So, she sent word to him saying: "I am coming to you with the leaders of my people to see what you will instruct us to do and what you are calling us to of your religion." Then she issued commands that her throne, which was made of gold and inlaid with rubies, chrysolite and pearls, should be placed in the innermost of seven rooms, one within the other, and all the doors should be locked. Then she told her deputy whom she was leaving in charge, "Take care of my people and my throne, and do not let anyone approach it or see it until I come back to you." Then she set off to meet Sulayman with twelve thousand of her commanders from the leaders of Yemen, under each of whose command were many thousands of men. Sulayman sent the Jinn to bring him news of her progress and route every day and night, then when she drew near, he gathered together the Jinns and humans who were under his control and said:
يأَيُّهَا الْمَلأ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ
(O chiefs! Which of you can bring me her throne before they come to me surrendering themselves in obedience (as Muslims))."
قَالَ عِفْرِيتٌ مِّن الْجِنِّ
(An `Ifrit from the Jinn said: ) Mujahid said, "A giant Jinn." Abu Salih said, "It was as if he was a mountain."
أَنَاْ ءَاتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ
(I will bring it to you before you rise from your place.) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said, "Before you get up from where you are sitting." As-Suddi and others said: "He used to sit to pass judgements and rulings over the people, and to eat, from the beginning of the day until noon."
وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ
(And verily, I am indeed strong and trustworthy for such work.) Ibn `Abbas said: "Strong enough to carry it and trustworthy with the jewels it contains. Sulayman, upon him be peace, said, "I want it faster than that." From this it seems that Sulayman wanted to bring this throne as a demonstration of the greatness of the power and authority that Allah had bestowed upon him and the troops that He had subjugated to him. Power such as had never been given to anyone else, before or since, so that this would furnish proof of his prophethood before Bilqis and her people, because this would be a great and wondrous thing, if he brought her throne as if he were in her country, before they could come to it, although it was hidden and protected by so many locked doors. When Sulayman said, "I want it faster than that,
قَالَ الَّذِى عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَـبِ
(One with whom was knowledge of the Scripture said: ) Ibn `Abbas said, "This was Asif, the scribe of Sulayman." It was also narrated by Muhammad bin Ishaq from Yazid bin Ruman that he was Asif bin Barkhiya' and he was a truthful believer who knew the Greatest Name of Allah. Qatadah said: "He was a believer among the humans, and his name was Asif."
أَنَاْ ءَاتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ
(I will bring it to you within the twinkling of an eye!) Meaning, lift your gaze and look as far as you can, and before you get tired and blink, you will find it before you. Then he got up, performed ablution and prayed to Allah, may He be exalted. Mujahid said: "He said, O Owner of majesty and honor." When Sulayman and his chiefs saw it before them,
قَالَ هَـذَا مِن فَضْلِ رَبِّى
(he said: "This is by the grace of my Lord...") meaning, `this is one of the blessings which Allah has bestowed upon me.'
لِيَبْلُوَنِى أَءَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ
(to test whether I am grateful or ungrateful! And whoever is grateful, truly, his gratitude is for himself;) This is like the Ayat:
مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَيْهَا
(Whosoever does righteous good deed, it is for himself; and whosoever does evil, it is against himself.) (41:46)
وَمَنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلاًّنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ
(and whosoever does righteous good deed, then such will prepare a good place for themselves.) (30:44).
وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّى غَنِىٌّ كَرِيمٌ
(and whoever is ungrateful, certainly my Lord is Rich, Bountiful.) He has no need of His servants or their worship.
كَرِيمٌ
(Bountiful) He is Bountiful in and of Himself, even if no one were to worship Him. His greatness does not depend on anyone. This is like what Musa said: p
إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ
(If you disbelieve, you and all on earth together, then verily, Allah is Rich, Owner of all praise.) (14:8). It is recorded in Sahih Muslim:
«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ،وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَه»
(Allah, may He be exalted, says: "O My servants, if the first of you and the last of you, mankind and Jinn alike, were all to be as pious as the most pious among you, that would not add to My dominion in the slightest. O My servants, if the first of you and the last of you, mankind and Jinn alike, were all to be as evil as the most evil one among you, that would not detract from My dominion in the slightest. O My servants, these are deeds which I am recording for you, and I will judge you according to them, so whoever finds something good, let him praise Allah, and whoever finds otherwise, let him blame no one but himself.")
بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کرلوں یہ کہلوا کر یہاں اپنا نائب ایک کو بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اسکی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ لئے اور ملک سلیمان کی طرف چل دی۔ جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اسکے تخت کو اسکے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے ؟ کیونکہ جب وہ یہاں آجائیں گی اور اسلام میں داخل ہوجائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہوگا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لا دیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھا کرتے تھے۔ اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا : حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اللہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ میں بیان ہوئی) حضرت سلیمان کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ آصف تھے حضرت سلیمان کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخ بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔ عبداللہ لھیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس حضرت سلیمان نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کرکے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا دعا (یا ذالجلال والاکرام یا فرمایا یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا) اسی وقت تخت بلقیس سامنے آگیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔ جب سلیمان ؑ نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بےنیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (من عمل صالحا فلنفسہ الخ) ، جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لئے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لئے۔ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لئے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے صحیح مسلم شریف میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہوجائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔
41
View Single
قَالَ نَكِّرُواْ لَهَا عَرۡشَهَا نَنظُرۡ أَتَهۡتَدِيٓ أَمۡ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهۡتَدُونَ
Said Sulaiman, “Disguise her throne in front of her so that we may see whether she finds the way* or becomes of those who remain unknowing.” (*Recognises her throne.)
(سلیمان علیہ السلام نے) فرمایا: اس(ملکہ کے امتحان) کے لئے اس کے تخت کی صورت اور ہیئت بدل دو ہم دیکھیں گے کہ آیا وہ (پہچان کی) راہ پاتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو سوجھ بوجھ نہیں رکھتے
Tafsir Ibn Kathir
The Test of Bilqis
When Sulayman brought the throne of Bilqis before she and her people arrived, he issued orders that some of its features should be altered, so that he could test her and see whether she recognized it and how composed she would be when she saw it. Would she hasten to say either that it was her throne or that it was not So he said:
نَكِّرُواْ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِى أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لاَ يَهْتَدُونَ
(Disguise her throne for her that we may see whether she will be guided, or she will be one of those not guided.) Ibn `Abbas said: "Remove some of its adornments and parts." Mujahid said: "He issued orders that it should be changed, so whatever was red should be made yellow and vice versa, and whatever was green should be made red, so everything was altered." `Ikrimah said, "They added some things and took some things away." Qatadah said, "It was turned upside down and back to front, and some things were added and some things were taken away."
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ
(So when she came, it was said: "Is your throne like this") Her throne, which had been altered and disguised, with some things added and others taken away, was shown to her. She was wise and steadfast, intelligent and strong-willed. She did not hasten to say that this was her throne, because it was far away from her. Neither did she hasten to say that it was not her throne, when she saw that some things had been altered and changed. She said,
كَأَنَّهُ هُوَ
((It is) as though it were the very same. ) This is the ultimate in intelligence and strong resolve.
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) Mujahid said, "This was spoken by Sulayman."
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(And Saddaha that which she used to worship besides Allah has prevented her, for she was of a disbelieving people.) This is a continuation of the words of Sulayman -- according to the opinion of Mujahid and Sa`id bin Jubayr, may Allah be pleased with them both -- i.e., Sulayman said:
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) and what stopped her from worshipping Allah alone was
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(that which she used to worship besides Allah, for she was of a disbelieving people.) What Mujahid and Sa`id said is good; it was also the view of Ibn Jarir. Then Ibn Jarir said, "It could be that the subject of the verb.
وَصَدَّهَا
(And Saddaha) refers to Sulayman or to Allah, so that the phrase now means:
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ
(She would not worship anything over than Allah.)
إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(for she was of a disbelieving people.) I say: the opinion of Mujahid is supported by the fact that she declared her Islam after she entered the Sarh, as we shall see below.
قِيلَ لَهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا
(It was said to her: "Enter As-Sarh" but when she saw it, she thought it was a pool, and she (tucked up her clothes) uncovering her legs.) Sulayman had commanded the Shayatin to build for her a huge palace of glass beneath which water was flowing. Anyone who did not know the nature of the building would think that it was water, but in fact there was a layer of glass between a person walking and the water.
Verily, it is a Sarh Mumarrad of Qawarir Sarh means a palace or any lofty construction.
Allah says of Fir`awn -- may Allah curse him -- that he said to his minister Haman:
ابْنِ لِى صَرْحاً لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَ
(Build me a Sarh that I may arrive at the ways.) (40:36-37) Sarh is also used to refer to the high constructed palaces in Yemen. Mumarrad means sturdily constructed and smooth.
مِّن قَوارِيرَ
(of Qawarir) means, made of glass, i.e., it was built with smooth surfaces. Marid is a fortress in Dawmat Al-Jandal. What is meant here is that Sulayman built a huge, lofty palace of glass for this queen, in order to show her the greatness of his authority and power. When she saw for herself what Allah had given him and how majestic his position was, she submitted to the command of Allah and acknowledged that he was a noble Prophet, so she submitted to Allah and said:
رَب إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى
(My Lord! Verily, I have wronged myself,) meaning, by her previous disbelief and Shirk and by the fact that she and her people had worshipped the sun instead of Allah.
وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(and I submit, together with Sulayman to Allah, the Lord of all that exists.) meaning, following the religion of Sulayman, worshipping Allah alone with no partner or associate, Who created everything and measured it exactly according to its due measurements.
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
42
View Single
فَلَمَّا جَآءَتۡ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرۡشُكِۖ قَالَتۡ كَأَنَّهُۥ هُوَۚ وَأُوتِينَا ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهَا وَكُنَّا مُسۡلِمِينَ
Then when she came, it was said to her, “Is your throne like this? She said, “As if this is it! And we came to know about this incident beforehand and submit (to you).”
پھر جب وہ (ملکہ) آئی تو اس سے کہا گیا: کیا تمہارا تخت اسی طرح کا ہے، وہ کہنے لگی: گویا یہ وہی ہے اور ہمیں اس سے پہلے ہی (نبوتِ سلیمان کے حق ہونے کا) علم ہو چکا تھا اور ہم مسلمان ہو چکے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Test of Bilqis
When Sulayman brought the throne of Bilqis before she and her people arrived, he issued orders that some of its features should be altered, so that he could test her and see whether she recognized it and how composed she would be when she saw it. Would she hasten to say either that it was her throne or that it was not So he said:
نَكِّرُواْ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِى أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لاَ يَهْتَدُونَ
(Disguise her throne for her that we may see whether she will be guided, or she will be one of those not guided.) Ibn `Abbas said: "Remove some of its adornments and parts." Mujahid said: "He issued orders that it should be changed, so whatever was red should be made yellow and vice versa, and whatever was green should be made red, so everything was altered." `Ikrimah said, "They added some things and took some things away." Qatadah said, "It was turned upside down and back to front, and some things were added and some things were taken away."
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ
(So when she came, it was said: "Is your throne like this") Her throne, which had been altered and disguised, with some things added and others taken away, was shown to her. She was wise and steadfast, intelligent and strong-willed. She did not hasten to say that this was her throne, because it was far away from her. Neither did she hasten to say that it was not her throne, when she saw that some things had been altered and changed. She said,
كَأَنَّهُ هُوَ
((It is) as though it were the very same. ) This is the ultimate in intelligence and strong resolve.
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) Mujahid said, "This was spoken by Sulayman."
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(And Saddaha that which she used to worship besides Allah has prevented her, for she was of a disbelieving people.) This is a continuation of the words of Sulayman -- according to the opinion of Mujahid and Sa`id bin Jubayr, may Allah be pleased with them both -- i.e., Sulayman said:
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) and what stopped her from worshipping Allah alone was
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(that which she used to worship besides Allah, for she was of a disbelieving people.) What Mujahid and Sa`id said is good; it was also the view of Ibn Jarir. Then Ibn Jarir said, "It could be that the subject of the verb.
وَصَدَّهَا
(And Saddaha) refers to Sulayman or to Allah, so that the phrase now means:
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ
(She would not worship anything over than Allah.)
إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(for she was of a disbelieving people.) I say: the opinion of Mujahid is supported by the fact that she declared her Islam after she entered the Sarh, as we shall see below.
قِيلَ لَهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا
(It was said to her: "Enter As-Sarh" but when she saw it, she thought it was a pool, and she (tucked up her clothes) uncovering her legs.) Sulayman had commanded the Shayatin to build for her a huge palace of glass beneath which water was flowing. Anyone who did not know the nature of the building would think that it was water, but in fact there was a layer of glass between a person walking and the water.
Verily, it is a Sarh Mumarrad of Qawarir Sarh means a palace or any lofty construction.
Allah says of Fir`awn -- may Allah curse him -- that he said to his minister Haman:
ابْنِ لِى صَرْحاً لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَ
(Build me a Sarh that I may arrive at the ways.) (40:36-37) Sarh is also used to refer to the high constructed palaces in Yemen. Mumarrad means sturdily constructed and smooth.
مِّن قَوارِيرَ
(of Qawarir) means, made of glass, i.e., it was built with smooth surfaces. Marid is a fortress in Dawmat Al-Jandal. What is meant here is that Sulayman built a huge, lofty palace of glass for this queen, in order to show her the greatness of his authority and power. When she saw for herself what Allah had given him and how majestic his position was, she submitted to the command of Allah and acknowledged that he was a noble Prophet, so she submitted to Allah and said:
رَب إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى
(My Lord! Verily, I have wronged myself,) meaning, by her previous disbelief and Shirk and by the fact that she and her people had worshipped the sun instead of Allah.
وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(and I submit, together with Sulayman to Allah, the Lord of all that exists.) meaning, following the religion of Sulayman, worshipping Allah alone with no partner or associate, Who created everything and measured it exactly according to its due measurements.
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
43
View Single
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعۡبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ إِنَّهَا كَانَتۡ مِن قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ
And the thing she used to worship instead of Allah prevented her; she was indeed from the disbelieving people.
اور اس (ملکہ) کو اس (معبودِ باطل) نے (پہلے قبولِ حق سے) روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی۔ بیشک وہ کافروں کی قوم میں سے تھی
Tafsir Ibn Kathir
The Test of Bilqis
When Sulayman brought the throne of Bilqis before she and her people arrived, he issued orders that some of its features should be altered, so that he could test her and see whether she recognized it and how composed she would be when she saw it. Would she hasten to say either that it was her throne or that it was not So he said:
نَكِّرُواْ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِى أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لاَ يَهْتَدُونَ
(Disguise her throne for her that we may see whether she will be guided, or she will be one of those not guided.) Ibn `Abbas said: "Remove some of its adornments and parts." Mujahid said: "He issued orders that it should be changed, so whatever was red should be made yellow and vice versa, and whatever was green should be made red, so everything was altered." `Ikrimah said, "They added some things and took some things away." Qatadah said, "It was turned upside down and back to front, and some things were added and some things were taken away."
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ
(So when she came, it was said: "Is your throne like this") Her throne, which had been altered and disguised, with some things added and others taken away, was shown to her. She was wise and steadfast, intelligent and strong-willed. She did not hasten to say that this was her throne, because it was far away from her. Neither did she hasten to say that it was not her throne, when she saw that some things had been altered and changed. She said,
كَأَنَّهُ هُوَ
((It is) as though it were the very same. ) This is the ultimate in intelligence and strong resolve.
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) Mujahid said, "This was spoken by Sulayman."
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(And Saddaha that which she used to worship besides Allah has prevented her, for she was of a disbelieving people.) This is a continuation of the words of Sulayman -- according to the opinion of Mujahid and Sa`id bin Jubayr, may Allah be pleased with them both -- i.e., Sulayman said:
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) and what stopped her from worshipping Allah alone was
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(that which she used to worship besides Allah, for she was of a disbelieving people.) What Mujahid and Sa`id said is good; it was also the view of Ibn Jarir. Then Ibn Jarir said, "It could be that the subject of the verb.
وَصَدَّهَا
(And Saddaha) refers to Sulayman or to Allah, so that the phrase now means:
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ
(She would not worship anything over than Allah.)
إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(for she was of a disbelieving people.) I say: the opinion of Mujahid is supported by the fact that she declared her Islam after she entered the Sarh, as we shall see below.
قِيلَ لَهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا
(It was said to her: "Enter As-Sarh" but when she saw it, she thought it was a pool, and she (tucked up her clothes) uncovering her legs.) Sulayman had commanded the Shayatin to build for her a huge palace of glass beneath which water was flowing. Anyone who did not know the nature of the building would think that it was water, but in fact there was a layer of glass between a person walking and the water.
Verily, it is a Sarh Mumarrad of Qawarir Sarh means a palace or any lofty construction.
Allah says of Fir`awn -- may Allah curse him -- that he said to his minister Haman:
ابْنِ لِى صَرْحاً لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَ
(Build me a Sarh that I may arrive at the ways.) (40:36-37) Sarh is also used to refer to the high constructed palaces in Yemen. Mumarrad means sturdily constructed and smooth.
مِّن قَوارِيرَ
(of Qawarir) means, made of glass, i.e., it was built with smooth surfaces. Marid is a fortress in Dawmat Al-Jandal. What is meant here is that Sulayman built a huge, lofty palace of glass for this queen, in order to show her the greatness of his authority and power. When she saw for herself what Allah had given him and how majestic his position was, she submitted to the command of Allah and acknowledged that he was a noble Prophet, so she submitted to Allah and said:
رَب إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى
(My Lord! Verily, I have wronged myself,) meaning, by her previous disbelief and Shirk and by the fact that she and her people had worshipped the sun instead of Allah.
وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(and I submit, together with Sulayman to Allah, the Lord of all that exists.) meaning, following the religion of Sulayman, worshipping Allah alone with no partner or associate, Who created everything and measured it exactly according to its due measurements.
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
44
View Single
قِيلَ لَهَا ٱدۡخُلِي ٱلصَّرۡحَۖ فَلَمَّا رَأَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةٗ وَكَشَفَتۡ عَن سَاقَيۡهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرۡحٞ مُّمَرَّدٞ مِّن قَوَارِيرَۗ قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي وَأَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمَٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
It was said to her, “Enter the hall”; and when she saw it she thought it was a pool and bared her shins*; said Sulaiman, “This is only a smooth hall, affixed with glass”; she said, “My Lord, I have indeed wronged myself, and I now submit myself along with Sulaiman to Allah, the Lord Of The Creation.” (* In order to cross it)
اس (ملکہ) سے کہا گیا: اس محل کے صحن میں داخل ہو جا (جس کے نیچے نیلگوں پانی کی لہریں چلتی تھیں)، پھر جب ملکہ نے اس (مزیّن بلوریں فرش) کو دیکھا تو اسے گہرے پانی کا تالاب سمجھا اور اس نے (پائینچے اٹھا کر) اپنی دونوں پنڈلیاں کھول دیں، سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا: یہ تو محل کا شیشوں جڑا صحن ہے، اس (ملکہ) نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! (میں اسی طرح فریبِ نظر میں مبتلا تھی) بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان (علیہ السلام) کی معیّت میں اس اللہ کی فرمانبردار ہو گئی ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Test of Bilqis
When Sulayman brought the throne of Bilqis before she and her people arrived, he issued orders that some of its features should be altered, so that he could test her and see whether she recognized it and how composed she would be when she saw it. Would she hasten to say either that it was her throne or that it was not So he said:
نَكِّرُواْ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِى أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لاَ يَهْتَدُونَ
(Disguise her throne for her that we may see whether she will be guided, or she will be one of those not guided.) Ibn `Abbas said: "Remove some of its adornments and parts." Mujahid said: "He issued orders that it should be changed, so whatever was red should be made yellow and vice versa, and whatever was green should be made red, so everything was altered." `Ikrimah said, "They added some things and took some things away." Qatadah said, "It was turned upside down and back to front, and some things were added and some things were taken away."
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَكَذَا عَرْشُكِ
(So when she came, it was said: "Is your throne like this") Her throne, which had been altered and disguised, with some things added and others taken away, was shown to her. She was wise and steadfast, intelligent and strong-willed. She did not hasten to say that this was her throne, because it was far away from her. Neither did she hasten to say that it was not her throne, when she saw that some things had been altered and changed. She said,
كَأَنَّهُ هُوَ
((It is) as though it were the very same. ) This is the ultimate in intelligence and strong resolve.
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) Mujahid said, "This was spoken by Sulayman."
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(And Saddaha that which she used to worship besides Allah has prevented her, for she was of a disbelieving people.) This is a continuation of the words of Sulayman -- according to the opinion of Mujahid and Sa`id bin Jubayr, may Allah be pleased with them both -- i.e., Sulayman said:
وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ
(Knowledge was bestowed on us before her, and we had submitted to Allah.) and what stopped her from worshipping Allah alone was
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(that which she used to worship besides Allah, for she was of a disbelieving people.) What Mujahid and Sa`id said is good; it was also the view of Ibn Jarir. Then Ibn Jarir said, "It could be that the subject of the verb.
وَصَدَّهَا
(And Saddaha) refers to Sulayman or to Allah, so that the phrase now means:
مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ
(She would not worship anything over than Allah.)
إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـفِرِينَ
(for she was of a disbelieving people.) I say: the opinion of Mujahid is supported by the fact that she declared her Islam after she entered the Sarh, as we shall see below.
قِيلَ لَهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا
(It was said to her: "Enter As-Sarh" but when she saw it, she thought it was a pool, and she (tucked up her clothes) uncovering her legs.) Sulayman had commanded the Shayatin to build for her a huge palace of glass beneath which water was flowing. Anyone who did not know the nature of the building would think that it was water, but in fact there was a layer of glass between a person walking and the water.
Verily, it is a Sarh Mumarrad of Qawarir Sarh means a palace or any lofty construction.
Allah says of Fir`awn -- may Allah curse him -- that he said to his minister Haman:
ابْنِ لِى صَرْحاً لَّعَـلِّى أَبْلُغُ الاٌّسْبَـبَ
(Build me a Sarh that I may arrive at the ways.) (40:36-37) Sarh is also used to refer to the high constructed palaces in Yemen. Mumarrad means sturdily constructed and smooth.
مِّن قَوارِيرَ
(of Qawarir) means, made of glass, i.e., it was built with smooth surfaces. Marid is a fortress in Dawmat Al-Jandal. What is meant here is that Sulayman built a huge, lofty palace of glass for this queen, in order to show her the greatness of his authority and power. When she saw for herself what Allah had given him and how majestic his position was, she submitted to the command of Allah and acknowledged that he was a noble Prophet, so she submitted to Allah and said:
رَب إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى
(My Lord! Verily, I have wronged myself,) meaning, by her previous disbelief and Shirk and by the fact that she and her people had worshipped the sun instead of Allah.
وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(and I submit, together with Sulayman to Allah, the Lord of all that exists.) meaning, following the religion of Sulayman, worshipping Allah alone with no partner or associate, Who created everything and measured it exactly according to its due measurements.
بلقیس کا تخت آنے کے بعد اس تخت کے آجانے کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ اس میں قدرے تغیر وتبدل کر ڈالو۔ پس کچھ ہیرے جواہر بدل دئیے گئے۔ رنگ وروغن میں بھی تبدیلی کردی گئی نیچے اور اوپر سے بھی کچھ بدل دیا گیا۔ کچھ کمی زیادتی بھی کردی گئی تاکہ بلقیس کی آزمائش کریں کہ وہ اپنے تخت کو پہچان لیتی ہے یا نہیں ؟ جب وہ پہنچی تو اس سے کہا گیا کہ کیا تیرا تخت یہ ہی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہوبہو اسی جیسا ہے۔ اس جواب سے اس کی دور بینی عقلمندی زیر کی دانائی ظاہر ہے کہ دونوں پہلو سامنے رکھے دیکھا کہ تخت بالکل میرے تخت جیسا ہے مگر بظاہر اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے تو اس نے بیچ کی بات کہی حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا اس سے پہلے ہی ہمیں علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے بلقیس کو اللہ کے سوا اوروں کی عبادت نے اور اس کے کفر نے توحید اللہ سے روک دیا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے بلقیس کو غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا اس سے پہلے کافروں میں سے تھے۔ لیکن پہلے قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ ملکہ نے قبول اسلام کا اعلان محل میں داخل ہونے کے بعد کیا ہے۔ جیسے عنقریب بیان ہوگا۔ حضرت سلیمان ؑ نے جنات کے ہاتھوں ایک محل بنوایا تھا جو صرف شیشے اور کانچ کا تھا اور اس کے نیچے پانی سے لباب حوض تھا شیشہ بہت ہی صاف شفاف تھا۔ آنے والا شیشے کا امتیاز نہیں کرسکتا تھا بلکہ اسے یہی معلوم ہوتا تھا۔ کہ پانی ہی پانی ہے۔ حالانکہ اس کے اوپر شیشے کا فرش تھا۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ اس صنعت سے غرض حضرت سلیمان ؑ کی یہ تھی کہ آپ اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ سنا تھا کہ اس کی پنڈلیاں بہت خراب ہیں اور اس کے ٹخنے چوپایوں کے کھروں جیسے ہیں اس کی تحقیق کے لئے آپ نے ایسا کیا تھا۔ جب وہ یہاں آنے لگی تو پانی کے حوض کو دیکھ کر اپنے پائنچے اٹھائے آپ نے دیکھ لیا کہ جو بات مجھے پہنچائی گئی ہے غلط ہے۔ اس کی پنڈلیاں اور پیر بالکل انسانوں جیسے ہی ہیں۔ کوئی نئ بات یا بد صورتی نہیں ہے چونکہ بےنکاح تھی پنڈلیوں پر بال بڑے بڑے تھے۔ آپ نے استرے سے منڈوا ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے کہا اس کی برداشت مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ آپ نے جنوں سے کہا کہ کوئی اور چیز بناؤ جس سے یہ بال جاتے رہیں۔ پس انہوں نے ہڑتال پیش کی یہ دوا سب سے پہلے حضرت سلیمان ؑ کے حکم سے ہی تلاش کی گئی۔ محل میں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک سے اپنے دربار سے اپنی رونق سے اپنے سازو سامان سے اپنے لطف وعیش سے خود اپنے سے بڑی ہستی دیکھ لے اور اپنا جاہ حشم نظروں سے گرجائے جس کے ساتھ ہی تکبر تجبر کا خاتمہ بھی یقینی تھا۔ یہ جب اندر آنے لگی اور حوض کی حد پر پہنچی تو اسے لہلاتا ہوا دریاسمجھ کر پانئچے اٹھائے۔ اس وقت کہا گیا کہ آپ کو غلطی لگی یہ تو شیشہ منڈہا ہوا ہے۔ آپ اسی کے اوپر سے بغیر قدم تر کئے آسکتی ہیں۔ حضرت سلیمان ؑ کے پاس پہنچتے ہی اس کے کان میں آپ نے صدائے توحید ڈالی اور سورج پرستی کی مذمت سنائی۔ اس محل کو دیکھتے ہی اس حقیقت پر نظر ڈالتے ہی دربار کے ٹھاٹھ دیکھتے ہی اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ میرا ملک تو اسکے پاسنگ میں بھی نہیں۔ نیچے پانی ہے اور اوپر شیشہ ہے بیچ میں تخت سلیمانی ہے اور اوپر سے پرندوں کا سایہ ہے جن وانس سب حاضر ہیں اور تابع فرمان۔ جب اسے توحید کی دعوت دی گئی تو بےدینوں کی طرح اس نے بھی زندیقانہ جواب دیا جس سے اللہ کی جناب میں گستاخی لازم آتی تھی۔ اسے سنتے ہی سلیمان ؑ اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑے اور آپ کو دیکھ کر آپ کا سارا لشکر بھی۔ اب وہ بہت ہی نادم ہوگئی ادھر سے حضرت نے ڈانٹا کہ کیا کہہ دیا ؟ اسنے کہا مجھ سے غلطی ہوئی۔ اور اسی وقت رب کی طرف جھک گئی اور کہنے لگی اے اللہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب میں حضرت سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آئی۔ چناچہ سچے دل سے مسلمان ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ میں یہاں پر ایک غریب اثر ابن عباس سے وارد کیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ؑ جب تخت پر متمکن ہوتے تو اس کے پاس کی کرسیوں پر انسان بیٹھتے اور اس کے پاس والی کرسیوں پر جن بیٹھتے پھر ان کے بعد شیاطین بیٹھتے پھر ہوا اس تخت کو لے اڑتی اور معلق تھمادیتی پھر پرند آکر اپنے پروں سے سایہ کرلیتے پھر آپ ہوا کو حکم دیتے اور وہ پرواز کرکے صبح صبح مہینے بھر کے فاصلے پر پہنچادیتی اسی طرح شام کو مہینے بھر کی دوری طے ہوتی ایک مرتبہ اسی طرح آپ جا رہے تھے پرندوں کی دیکھ بھال جو کی تو ہدہد کو غائب پایا بڑے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا وہ جمگھٹے میں مجھے نظر نہیں پڑتا یا سچ مچ غیر حاضر ہے ؟ اگر واقعی وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزا دونگا بلکہ ذبح کردونگا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کردے ایسے موقعہ پر آپ پرندوں کے پرنچواکر آپ زمین پر ڈلوادیتے تھے کیڑے مکوڑے کھاجاتے تھے اس کے بعد تھوڑ ہی دیر میں خود حاضر ہوتا ہے اپنا سبا جانا اور وہ انکی خبر لانا بیان کرتا ہے۔ اپنی معلومات کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہے حضرت سلیمان اس کی صداقت کی آزمائش کے لئے اسے ملکہ سبا کے نام ایک چھٹی دے کر اسے دوبارہ بھیجتے ہیں جس میں ملکہ کو ہدایت ہوتی ہے کہ میری نافرمانی نہ کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ اس خط کو دیکھتے ہی ملکہ کے دل میں خط کی اور اس کے لکھنے والے کی عزت سماجاتی ہے۔ وہ اپنے درباریوں سے مشورہ کرتی ہے وہ اپنی قوت وطاقت فوج کی ٹھاٹھ بیان کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ہم تیار ہیں صرف اشارے کی دیر ہے لیکن یہ برے وقت اور اپنے شکست کے انجام کو دیکھ کر اس ارادے سے باز رہتی ہے۔ اور دوستی کا سلسلہ اس طرح شروع کرتی ہے کہ تحفے اور ہدیے حضرت سلیمان کے پاس بھیجتی ہے۔ جسے حضرت سلیمان ؑ واپس کردیتے ہیں اور چڑھائی کی دھمکی دیتے ہیں اب یہ اپنے ہاں سے چلتی ہے جب قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے لشکر کی گرد کو حضرت سلیمان ؑ دیکھ لیتے ہیں تب فرماتے ہیں کہ اس کا تختہ اٹھالاؤ۔ ایک جن کہتا ہے کہ بہتر میں ابھی لاتا ہوں آپ یہاں سے اٹھیں اس سے پہلے ہی اسے دیکھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی جلد ممکن ہے ؟ اس پر تو یہ خاموش ہوگیا لیکن اللہ کے علم والے نے کہا ابھی ایک آنکھ جھپکتے ہی۔ اتنے میں تو دیکھا کہ جس کرسی پر پاؤ رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھتے ہیں وہاں بلقیس کا تخت نمایا ہوا۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور لوگوں کو نصیحت کی اور اس میں کچھ تبدیلی کا حکم دیا اس کے آتے ہی اس سے اس تخت کے بابت پوچھا تو اس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے۔ اس نے حضرت سلیمان ؑ سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو ایسا پانی جو نہ زمین سے نکلا ہو اور نہ آسمان سے برساہو۔ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اول انسانوں سے پھر جنوں سے پھر شیطانوں سے دریافت فرماتے اس سوال کے جواب میں شیطانوں نے کہا کہ یہ کوئی مشکل چیز نہیں ہے۔ گھوڑے دوڑائیے اور ان کے پسینے سے اس کو پیالہ بھر دیجئے اس سوال کے پورا ہونے کے بعد اس نے دوسرا سوال کیا کہ اللہ کا رنگ کیسا ہے ؟ اسے سن کر آپ اچھل پڑے اور اسی وقت سجدے میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ باری تعالیٰ اس نے ایسا سوال کیا کہ میں اسے تجھ سے دریافت ہی نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ بےفکر ہوجاؤ میں نے کفایت کردیا آپ سجدے سے اٹھے اور فرمایا تو نے کیا پوچھا تھا اس نے کہا پانی کے بارے میں میرا سوال تھا جو آپ نے پورا کیا اور تو میں نے کچھ نہیں پوچھا یہ خود اور اس کا لشکر اس دوسرے سوال ہی کو بھول گئے۔ آپ نے لشکریوں سے بھی پوچھا کہ اس نے دوسرا سوال کیا کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا بجز پانی کے اس نے اور کوئی سوال نہیں کیا۔ شیطانوں کے دل میں خیال آیا کہ اگر سلیمان ؑ نے اسے پسند کرلیا اور اسے اپنی نکاح میں لے لیا اور اولاد بھی ہوگئی تو یہ ہم سے ہمشہ کے لئے گئے اس لئے انہوں نے حوض بنایا پانی سے پر کیا۔ اور اوپر سے بلور کا فرش بنادیا اس صفت سے کہ دیکھنے والے کو وہ معلوم ہی نہ دے وہ تو پانی ہی سمجھے جب بلقیس دربار میں آئی اور وہاں سے گزرنا چاہا تو پانی جان کر اپنے پائنچے اٹھالئے حضرت سلیمان نے پنڈلیوں کے بال دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اسے زائل کرنے کی کوشش کرو تو کہا گیا کہ استرے سے مونڈ سکتے ہیں آپ نے فرمایا اس کا نشان مجھے ناپسند ہے کوئی اور ترکیب بتاؤ پس شیاطین نے طلا بنایا جس کے لگاتے ہی بال اڑ گئے۔ پس اول اول بال صفا طلا حضرت سلیمان کے حکم سے ہی تیار ہوا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے اس قصے کو نقل کرکے لکھا ہے یہ کتنا اچھا قصہ ہے لیکن میں کہتا ہوں بالکل منکر اور سخت غریب ہے یہ عطا بن سائب کا وہم ہے جو اس نے ابن عباس کے نام سے بیان کردیا ہے۔ اور زیادہ قرین قیاس امر یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے دفاتر سے لیا گیا ہے جو مسلمانوں میں کعب اور وہب نے رائج کردیا تھا۔ اللہ ان سے درگذر فرمائے۔ پس ان قصوں کا کوئی اعتماد نہیں بنو اسرائیل تو جدت پسند اور جدت طراز تھے بدل لینا گھڑ لینا کمی زیادتی کرلینا ان کی عادت میں داخل تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ان کا محتاج نہیں رکھا ہمیں وہ کتاب دی اور اپنے نبی کی زبانی وہ باتیں پہنچائیں جو نفع میں وضاحت میں بیان میں ان کی باتوں سے اعلی اور ارفع ہیں ساتھ ہی بہت مفید اور نہایت احتیاط والی۔ فالحمدللہ۔ صرح کہتے ہیں محل کو۔ اور ہر بلند عمارت کو۔ چناچہ فرعون ملعون نے بھی اپنے وزیر ہامان سے یہی کہا تھا۔ آیت (یاھامان ابن لی صرحا)۔ یمن کے ایک خاص اور بلند محل کا نام بھی صرح تھا۔ اس سے مراد ہر وہ بنا ہے جو محکم مضبوط استوار اور قوی ہو۔ یہ بنا بلور اور صاف شفاف شیشے سے بنائی گئی تھی۔ دومتہ الجندل میں ایک قلعہ ہے اسکا نام بھی مادر ہے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ جب اس ملکہ نے حضرت سلیمان کی یہ رفعت، یہ عظمت، یہ شوکت، یہ سلطنت دیکھی اور اس میں غور وفکر کے ساتھ ہی حضرت سلیمان کی سیرت ان کی نیکی اور ان کی دعوت سنی تو یقین آگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اسی وقت مسلمان ہوگئی اپنے اگلے شرک وکفر سے توبہ کرلی اور دین سلیمان کی مطیع بن گئی۔ اللہ کی عبادت کرنے لگی جو خالق مالک متصرف اور مختار کل ہے۔
45
View Single
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمۡ فَرِيقَانِ يَخۡتَصِمُونَ
And indeed We sent to the Thamud, their fellowman Saleh that, “Worship Allah”, thereupon they became two parties quarrelling.
اور بیشک ہم نے قومِ ثمود کے پاس ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو تو اس وقت وہ دو فرقے ہو گئے جو آپس میں جھگڑتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Salih and Thamud
Allah tells us about Thamud and how they responded to their Prophet Salih, when Allah sent him to call them to worship Allah alone, with no partner or associate.
فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ
(Then look! They became two parties quarreling with each other.) Mujahid said, "These were believers and disbelievers." This is like the Ayah,
قَالَ الْمَلاَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ ءامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَـلِحاً مُّرْسَلٌ مّن رَّبّهِ قَالُواْ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا بِالَّذِى ءامَنتُمْ بِهِ كَـفِرُونَ
(The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak -- to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent." Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in.") (7:75-76)
قَالَ يقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ
(He said: "O my people! Why do you seek to hasten the evil before the good") meaning, `why are you praying for the punishment to come, and not asking Allah for His mercy' Then he said:
لَوْلاَ تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَقَالُواْ اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ
("Why seek you not the forgiveness of Allah, that you may receive mercy" They said: "We augur an omen from you and those with you.") This means: "We do not see any good in your face and the faces of those who are following you." Since they were doomed, whenever anything bad happened to any of them they would say, "This is because of Salih and his companions." Mujahid said, "They regarded them as bad omens." This is similar to what Allah said about the people of Fir`awn:
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُواْ لَنَا هَـذِهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُواْ بِمُوسَى وَمَن مَّعَهُ
(But whenever good came to them, they said: "Ours is this." And if evil afflicted them, they saw it as an omen about Musa and those with him) (7:131). And Allah says:
وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
(And if some good reaches them, they say, "This is from Allah," but if some evil befalls them, they say, "This is from you." Say: "All things are from Allah.") (4:78) i.e., by virtue of His will and decree. And Allah tells us about the dwellers of the town, when the Messengers came to them:
قَالُواْ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَئِن لَّمْ تَنتَهُواْ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ
قَالُواْ طَـئِرُكُم مَّعَكُمْ
(They (people) said: "For us, we see an omen from you; if you cease not, we will surely stone you, and a painful torment will touch you from us." They (Messengers) said: "Your omens are with yourselves!) (36:18) And these people Thamud said:
اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ قَالَ طَائِرُكُمْ عِندَ اللَّهِ
("We augur an omen from you and those with you." He said: "Your omen is of Allah;) meaning, Allah will punish you for that.
بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ
(nay, but you are a people that are being tested.) Qatadah said: "You are being tested to see whether you will obey or disobey." The apparent meaning of the phrase
تُفْتَنُونَ
(are being tested) is: you will be left to get carried away in your state of misguidance.
صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔
46
View Single
قَالَ يَٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِۖ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
He said, “O my people, why do you hasten upon the evil before the good? Why do you not seek forgiveness from Allah? Perhaps there may be mercy upon you.”
(صالح علیہ السلام نے) فرمایا: اے میری قوم! تم لوگ بھلائی (یعنی رحمت) سے پہلے برائی (یعنی عذاب) میں کیوں جلدی چاہتے ہو؟ تم اللہ سے بخشش کیوں طلب نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے
Tafsir Ibn Kathir
Salih and Thamud
Allah tells us about Thamud and how they responded to their Prophet Salih, when Allah sent him to call them to worship Allah alone, with no partner or associate.
فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ
(Then look! They became two parties quarreling with each other.) Mujahid said, "These were believers and disbelievers." This is like the Ayah,
قَالَ الْمَلاَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ ءامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَـلِحاً مُّرْسَلٌ مّن رَّبّهِ قَالُواْ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا بِالَّذِى ءامَنتُمْ بِهِ كَـفِرُونَ
(The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak -- to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent." Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in.") (7:75-76)
قَالَ يقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ
(He said: "O my people! Why do you seek to hasten the evil before the good") meaning, `why are you praying for the punishment to come, and not asking Allah for His mercy' Then he said:
لَوْلاَ تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَقَالُواْ اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ
("Why seek you not the forgiveness of Allah, that you may receive mercy" They said: "We augur an omen from you and those with you.") This means: "We do not see any good in your face and the faces of those who are following you." Since they were doomed, whenever anything bad happened to any of them they would say, "This is because of Salih and his companions." Mujahid said, "They regarded them as bad omens." This is similar to what Allah said about the people of Fir`awn:
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُواْ لَنَا هَـذِهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُواْ بِمُوسَى وَمَن مَّعَهُ
(But whenever good came to them, they said: "Ours is this." And if evil afflicted them, they saw it as an omen about Musa and those with him) (7:131). And Allah says:
وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
(And if some good reaches them, they say, "This is from Allah," but if some evil befalls them, they say, "This is from you." Say: "All things are from Allah.") (4:78) i.e., by virtue of His will and decree. And Allah tells us about the dwellers of the town, when the Messengers came to them:
قَالُواْ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَئِن لَّمْ تَنتَهُواْ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ
قَالُواْ طَـئِرُكُم مَّعَكُمْ
(They (people) said: "For us, we see an omen from you; if you cease not, we will surely stone you, and a painful torment will touch you from us." They (Messengers) said: "Your omens are with yourselves!) (36:18) And these people Thamud said:
اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ قَالَ طَائِرُكُمْ عِندَ اللَّهِ
("We augur an omen from you and those with you." He said: "Your omen is of Allah;) meaning, Allah will punish you for that.
بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ
(nay, but you are a people that are being tested.) Qatadah said: "You are being tested to see whether you will obey or disobey." The apparent meaning of the phrase
تُفْتَنُونَ
(are being tested) is: you will be left to get carried away in your state of misguidance.
صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔
47
View Single
قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَـٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ
They said, “We consider you an evil omen, and your companions”; he said, “Your evil omen is with Allah – in fact you people have fallen into trial.”
وہ کہنے لگے: ہمیں تم سے (بھی) نحوست پہنچی ہے اور ان لوگوں سے (بھی) جو تمہارے ساتھ ہیں۔ (صالح علیہ السلام نے) فرمایا: تمہاری نحوست (کا سبب) اللہ کے پاس (لکھا ہوا) ہے بلکہ تم لوگ فتنہ میں مبتلا کئے گئے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Salih and Thamud
Allah tells us about Thamud and how they responded to their Prophet Salih, when Allah sent him to call them to worship Allah alone, with no partner or associate.
فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ
(Then look! They became two parties quarreling with each other.) Mujahid said, "These were believers and disbelievers." This is like the Ayah,
قَالَ الْمَلاَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ مِن قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ ءامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَـلِحاً مُّرْسَلٌ مّن رَّبّهِ قَالُواْ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ إِنَّا بِالَّذِى ءامَنتُمْ بِهِ كَـفِرُونَ
(The leaders of those who were arrogant among his people said to those who were counted weak -- to such of them as believed: "Know you that Salih is one sent from his Lord." They said: "We indeed believe in that with which he has been sent." Those who were arrogant said: "Verily, we disbelieve in that which you believe in.") (7:75-76)
قَالَ يقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ
(He said: "O my people! Why do you seek to hasten the evil before the good") meaning, `why are you praying for the punishment to come, and not asking Allah for His mercy' Then he said:
لَوْلاَ تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَقَالُواْ اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ
("Why seek you not the forgiveness of Allah, that you may receive mercy" They said: "We augur an omen from you and those with you.") This means: "We do not see any good in your face and the faces of those who are following you." Since they were doomed, whenever anything bad happened to any of them they would say, "This is because of Salih and his companions." Mujahid said, "They regarded them as bad omens." This is similar to what Allah said about the people of Fir`awn:
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُواْ لَنَا هَـذِهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُواْ بِمُوسَى وَمَن مَّعَهُ
(But whenever good came to them, they said: "Ours is this." And if evil afflicted them, they saw it as an omen about Musa and those with him) (7:131). And Allah says:
وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ
(And if some good reaches them, they say, "This is from Allah," but if some evil befalls them, they say, "This is from you." Say: "All things are from Allah.") (4:78) i.e., by virtue of His will and decree. And Allah tells us about the dwellers of the town, when the Messengers came to them:
قَالُواْ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَئِن لَّمْ تَنتَهُواْ لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ
قَالُواْ طَـئِرُكُم مَّعَكُمْ
(They (people) said: "For us, we see an omen from you; if you cease not, we will surely stone you, and a painful torment will touch you from us." They (Messengers) said: "Your omens are with yourselves!) (36:18) And these people Thamud said:
اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ قَالَ طَائِرُكُمْ عِندَ اللَّهِ
("We augur an omen from you and those with you." He said: "Your omen is of Allah;) meaning, Allah will punish you for that.
بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ
(nay, but you are a people that are being tested.) Qatadah said: "You are being tested to see whether you will obey or disobey." The apparent meaning of the phrase
تُفْتَنُونَ
(are being tested) is: you will be left to get carried away in your state of misguidance.
صالح ؑ کی ضدی قوم حضرت صالح ؑ جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح کو رسول اللہ مانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لاچکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو ؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں اور آیت میں ہے (وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا 78) 4۔ النسآء :78) یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضا و قدر سے ہے۔ سورة یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت (قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ 18) 36۔ يس :18) ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور سخت دیں گے۔ نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ حضرت صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جارہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔
48
View Single
وَكَانَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٖ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ
And there were nine persons in the city who used to cause turmoil in the land and did not wish reform.
اور (قومِ ثمود کے) شہر میں نو سرکردہ لیڈر (جو اپنی اپنی جماعتوں کے سربراہ) تھے ملک میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Plot of the Mischief-Makers and the End of the People of Thamud
Allah tells us about the evildoers of Thamud and their leaders who used to call their people to misguidance and disbelief, and to deny Salih. Eventually they killed the she-camel and were about to kill Salih too. They plotted to let him sleep with his family at night, then they would assassinate him and tell his relatives that they knew nothing about what happened to him, and that they were telling the truth because none of them had seen anything. Allah says:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ
(And there were in the city) meaning, in the city of Thamud,
تِسْعَةُ رَهْطٍ
(nine Raht,) meaning, nine people,
يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(who made mischief in the land, and would not reform.) They forced their opinions on the people of Thamud, because they were the leaders and chiefs. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "These were the people who killed the she-camel," Meaning, that happened upon their instigation, may Allah curse them. Allah says:
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took (a sword) and killed (the she-camel). ) (54:29)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).) (91:12) `Abdur-Razzaq said that Yahya bin Rabi`ah As-San`ani told them, "I heard `Ata' -- i.e. Ibn Abi Rabah -- say:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine Raht, who made mischief in the land, and would not reform.) `They used to break silver coins."' They would break off pieces from them, as if they used to trade with them in terms of numbers as opposed to weight, as the Arabs used to do. Imam Malik narrated from Yahya bin Sa`id that Sa`id bin Al-Musayyib said: "Cutting gold and silver (coins) is part of spreading corruption on earth." What is meant is that the nature of these evil disbelievers was to spread corruption on earth by every means possible, one of which was that mentioned by these Imams.
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household...") They took a mutual oath, pledging that during the night, whoever met the Allah's Prophet Salih, peace be upon him, he would assassinate him. But Allah planned against them and caused their plot to backfire. Mujahid said, "They took a mutual oath pledging to kill him, but before they could reach him, they and their people were all destroyed." `Abdur-Rahman bin Abi Hatim said: "When they killed the she-camel, Salih said to them:
تَمَتَّعُواْ فِى دَارِكُمْ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ ذلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days. This is a promise (i.e., a threat) that will not be belied.") (11:65). They said: `Salih claims that he will finish with us in three days, but we will finish him and his family before the three days are over.' Salih had a place of worship in a rocky tract in a valley, where he used to pray. So they set out to go to a cave there one night, and said, `When he comes to pray, we will kill him, then we will return. When we have finished him off, we will go to his family and finish them off too.' Then Allah sent down a rock upon them from the mountains round about; they feared that it would crush them, so they ran into the cave and the rock covered the mouth of the cave while they were inside. Their people did not know where they were or what had happened to them. So Allah punished some of them here, and some of them there, and He saved Salih and the people who were with him. Then he recited:
وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـهُمْ وَقَوْمَهُمْبُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً
(So, they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not. Then see how was the end of their plot! Verily, We destroyed them and their nation, all together. These are their houses in utter ruin,) i.e., deserted."
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ إِنَّ فِى ذلِكَ لاّيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَأَنجَيْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(for they did wrong. Verily, in this is indeed an Ayah for people who know. And We saved those who believed, and had Taqwa of Allah.)
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
49
View Single
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ أَهۡلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
Swearing by Allah they said to one another, “We will indeed attack him and his family at night, and then say to his heir, ‘We were not present at the time of slaying of this household, and indeed we are truthful.’”
(ان سرغنوں نے) کہا: تم آپس میں اللہ کی قسم کھا کر عہد کرو کہ ہم ضرور رات کو صالح (علیہ السلام) اور اس کے گھر والوں پر قاتلانہ حملہ کریں گے پھر ان کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم ان کی ہلاکت کے موقع پر حاضر ہی نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Plot of the Mischief-Makers and the End of the People of Thamud
Allah tells us about the evildoers of Thamud and their leaders who used to call their people to misguidance and disbelief, and to deny Salih. Eventually they killed the she-camel and were about to kill Salih too. They plotted to let him sleep with his family at night, then they would assassinate him and tell his relatives that they knew nothing about what happened to him, and that they were telling the truth because none of them had seen anything. Allah says:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ
(And there were in the city) meaning, in the city of Thamud,
تِسْعَةُ رَهْطٍ
(nine Raht,) meaning, nine people,
يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(who made mischief in the land, and would not reform.) They forced their opinions on the people of Thamud, because they were the leaders and chiefs. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "These were the people who killed the she-camel," Meaning, that happened upon their instigation, may Allah curse them. Allah says:
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took (a sword) and killed (the she-camel). ) (54:29)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).) (91:12) `Abdur-Razzaq said that Yahya bin Rabi`ah As-San`ani told them, "I heard `Ata' -- i.e. Ibn Abi Rabah -- say:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine Raht, who made mischief in the land, and would not reform.) `They used to break silver coins."' They would break off pieces from them, as if they used to trade with them in terms of numbers as opposed to weight, as the Arabs used to do. Imam Malik narrated from Yahya bin Sa`id that Sa`id bin Al-Musayyib said: "Cutting gold and silver (coins) is part of spreading corruption on earth." What is meant is that the nature of these evil disbelievers was to spread corruption on earth by every means possible, one of which was that mentioned by these Imams.
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household...") They took a mutual oath, pledging that during the night, whoever met the Allah's Prophet Salih, peace be upon him, he would assassinate him. But Allah planned against them and caused their plot to backfire. Mujahid said, "They took a mutual oath pledging to kill him, but before they could reach him, they and their people were all destroyed." `Abdur-Rahman bin Abi Hatim said: "When they killed the she-camel, Salih said to them:
تَمَتَّعُواْ فِى دَارِكُمْ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ ذلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days. This is a promise (i.e., a threat) that will not be belied.") (11:65). They said: `Salih claims that he will finish with us in three days, but we will finish him and his family before the three days are over.' Salih had a place of worship in a rocky tract in a valley, where he used to pray. So they set out to go to a cave there one night, and said, `When he comes to pray, we will kill him, then we will return. When we have finished him off, we will go to his family and finish them off too.' Then Allah sent down a rock upon them from the mountains round about; they feared that it would crush them, so they ran into the cave and the rock covered the mouth of the cave while they were inside. Their people did not know where they were or what had happened to them. So Allah punished some of them here, and some of them there, and He saved Salih and the people who were with him. Then he recited:
وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـهُمْ وَقَوْمَهُمْبُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً
(So, they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not. Then see how was the end of their plot! Verily, We destroyed them and their nation, all together. These are their houses in utter ruin,) i.e., deserted."
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ إِنَّ فِى ذلِكَ لاّيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَأَنجَيْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(for they did wrong. Verily, in this is indeed an Ayah for people who know. And We saved those who believed, and had Taqwa of Allah.)
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
50
View Single
وَمَكَرُواْ مَكۡرٗا وَمَكَرۡنَا مَكۡرٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
So they devised a scheme, and We made our secret plan, and they remained neglectful.
اور انہوں نے خفیہ سازش کی اور ہم نے (بھی اس کے توڑ کے لئے) خفیہ تدبیر فرمائی اور انہیں خبر بھی نہ ہوئی
Tafsir Ibn Kathir
The Plot of the Mischief-Makers and the End of the People of Thamud
Allah tells us about the evildoers of Thamud and their leaders who used to call their people to misguidance and disbelief, and to deny Salih. Eventually they killed the she-camel and were about to kill Salih too. They plotted to let him sleep with his family at night, then they would assassinate him and tell his relatives that they knew nothing about what happened to him, and that they were telling the truth because none of them had seen anything. Allah says:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ
(And there were in the city) meaning, in the city of Thamud,
تِسْعَةُ رَهْطٍ
(nine Raht,) meaning, nine people,
يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(who made mischief in the land, and would not reform.) They forced their opinions on the people of Thamud, because they were the leaders and chiefs. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "These were the people who killed the she-camel," Meaning, that happened upon their instigation, may Allah curse them. Allah says:
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took (a sword) and killed (the she-camel). ) (54:29)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).) (91:12) `Abdur-Razzaq said that Yahya bin Rabi`ah As-San`ani told them, "I heard `Ata' -- i.e. Ibn Abi Rabah -- say:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine Raht, who made mischief in the land, and would not reform.) `They used to break silver coins."' They would break off pieces from them, as if they used to trade with them in terms of numbers as opposed to weight, as the Arabs used to do. Imam Malik narrated from Yahya bin Sa`id that Sa`id bin Al-Musayyib said: "Cutting gold and silver (coins) is part of spreading corruption on earth." What is meant is that the nature of these evil disbelievers was to spread corruption on earth by every means possible, one of which was that mentioned by these Imams.
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household...") They took a mutual oath, pledging that during the night, whoever met the Allah's Prophet Salih, peace be upon him, he would assassinate him. But Allah planned against them and caused their plot to backfire. Mujahid said, "They took a mutual oath pledging to kill him, but before they could reach him, they and their people were all destroyed." `Abdur-Rahman bin Abi Hatim said: "When they killed the she-camel, Salih said to them:
تَمَتَّعُواْ فِى دَارِكُمْ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ ذلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days. This is a promise (i.e., a threat) that will not be belied.") (11:65). They said: `Salih claims that he will finish with us in three days, but we will finish him and his family before the three days are over.' Salih had a place of worship in a rocky tract in a valley, where he used to pray. So they set out to go to a cave there one night, and said, `When he comes to pray, we will kill him, then we will return. When we have finished him off, we will go to his family and finish them off too.' Then Allah sent down a rock upon them from the mountains round about; they feared that it would crush them, so they ran into the cave and the rock covered the mouth of the cave while they were inside. Their people did not know where they were or what had happened to them. So Allah punished some of them here, and some of them there, and He saved Salih and the people who were with him. Then he recited:
وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـهُمْ وَقَوْمَهُمْبُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً
(So, they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not. Then see how was the end of their plot! Verily, We destroyed them and their nation, all together. These are their houses in utter ruin,) i.e., deserted."
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ إِنَّ فِى ذلِكَ لاّيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَأَنجَيْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(for they did wrong. Verily, in this is indeed an Ayah for people who know. And We saved those who believed, and had Taqwa of Allah.)
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
51
View Single
فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ أَنَّا دَمَّرۡنَٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ أَجۡمَعِينَ
Therefore see what was the result of their scheming – We destroyed them and their entire nation.
تو آپ دیکھئے کہ ان کی (مکارانہ) سازش کا انجام کیسا ہوا، بیشک ہم نے ان (سرداروں) کو اور ان کی ساری قوم کو تباہ و برباد کر دیا
Tafsir Ibn Kathir
The Plot of the Mischief-Makers and the End of the People of Thamud
Allah tells us about the evildoers of Thamud and their leaders who used to call their people to misguidance and disbelief, and to deny Salih. Eventually they killed the she-camel and were about to kill Salih too. They plotted to let him sleep with his family at night, then they would assassinate him and tell his relatives that they knew nothing about what happened to him, and that they were telling the truth because none of them had seen anything. Allah says:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ
(And there were in the city) meaning, in the city of Thamud,
تِسْعَةُ رَهْطٍ
(nine Raht,) meaning, nine people,
يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(who made mischief in the land, and would not reform.) They forced their opinions on the people of Thamud, because they were the leaders and chiefs. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "These were the people who killed the she-camel," Meaning, that happened upon their instigation, may Allah curse them. Allah says:
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took (a sword) and killed (the she-camel). ) (54:29)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).) (91:12) `Abdur-Razzaq said that Yahya bin Rabi`ah As-San`ani told them, "I heard `Ata' -- i.e. Ibn Abi Rabah -- say:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine Raht, who made mischief in the land, and would not reform.) `They used to break silver coins."' They would break off pieces from them, as if they used to trade with them in terms of numbers as opposed to weight, as the Arabs used to do. Imam Malik narrated from Yahya bin Sa`id that Sa`id bin Al-Musayyib said: "Cutting gold and silver (coins) is part of spreading corruption on earth." What is meant is that the nature of these evil disbelievers was to spread corruption on earth by every means possible, one of which was that mentioned by these Imams.
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household...") They took a mutual oath, pledging that during the night, whoever met the Allah's Prophet Salih, peace be upon him, he would assassinate him. But Allah planned against them and caused their plot to backfire. Mujahid said, "They took a mutual oath pledging to kill him, but before they could reach him, they and their people were all destroyed." `Abdur-Rahman bin Abi Hatim said: "When they killed the she-camel, Salih said to them:
تَمَتَّعُواْ فِى دَارِكُمْ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ ذلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days. This is a promise (i.e., a threat) that will not be belied.") (11:65). They said: `Salih claims that he will finish with us in three days, but we will finish him and his family before the three days are over.' Salih had a place of worship in a rocky tract in a valley, where he used to pray. So they set out to go to a cave there one night, and said, `When he comes to pray, we will kill him, then we will return. When we have finished him off, we will go to his family and finish them off too.' Then Allah sent down a rock upon them from the mountains round about; they feared that it would crush them, so they ran into the cave and the rock covered the mouth of the cave while they were inside. Their people did not know where they were or what had happened to them. So Allah punished some of them here, and some of them there, and He saved Salih and the people who were with him. Then he recited:
وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـهُمْ وَقَوْمَهُمْبُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً
(So, they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not. Then see how was the end of their plot! Verily, We destroyed them and their nation, all together. These are their houses in utter ruin,) i.e., deserted."
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ إِنَّ فِى ذلِكَ لاّيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَأَنجَيْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(for they did wrong. Verily, in this is indeed an Ayah for people who know. And We saved those who believed, and had Taqwa of Allah.)
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
52
View Single
فَتِلۡكَ بُيُوتُهُمۡ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓاْۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
So these are their houses fallen flat, the recompense of their injustice; indeed in this is a sign for people who know.
سو یہ ان کے گھر ویران پڑے ہیں اس لئے کہ انہوں نے ظلم کیا تھا۔ بیشک اس میں اس قوم کے لئے (عبرت کی) نشانی ہے جو علم رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Plot of the Mischief-Makers and the End of the People of Thamud
Allah tells us about the evildoers of Thamud and their leaders who used to call their people to misguidance and disbelief, and to deny Salih. Eventually they killed the she-camel and were about to kill Salih too. They plotted to let him sleep with his family at night, then they would assassinate him and tell his relatives that they knew nothing about what happened to him, and that they were telling the truth because none of them had seen anything. Allah says:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ
(And there were in the city) meaning, in the city of Thamud,
تِسْعَةُ رَهْطٍ
(nine Raht,) meaning, nine people,
يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(who made mischief in the land, and would not reform.) They forced their opinions on the people of Thamud, because they were the leaders and chiefs. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "These were the people who killed the she-camel," Meaning, that happened upon their instigation, may Allah curse them. Allah says:
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took (a sword) and killed (the she-camel). ) (54:29)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).) (91:12) `Abdur-Razzaq said that Yahya bin Rabi`ah As-San`ani told them, "I heard `Ata' -- i.e. Ibn Abi Rabah -- say:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine Raht, who made mischief in the land, and would not reform.) `They used to break silver coins."' They would break off pieces from them, as if they used to trade with them in terms of numbers as opposed to weight, as the Arabs used to do. Imam Malik narrated from Yahya bin Sa`id that Sa`id bin Al-Musayyib said: "Cutting gold and silver (coins) is part of spreading corruption on earth." What is meant is that the nature of these evil disbelievers was to spread corruption on earth by every means possible, one of which was that mentioned by these Imams.
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household...") They took a mutual oath, pledging that during the night, whoever met the Allah's Prophet Salih, peace be upon him, he would assassinate him. But Allah planned against them and caused their plot to backfire. Mujahid said, "They took a mutual oath pledging to kill him, but before they could reach him, they and their people were all destroyed." `Abdur-Rahman bin Abi Hatim said: "When they killed the she-camel, Salih said to them:
تَمَتَّعُواْ فِى دَارِكُمْ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ ذلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days. This is a promise (i.e., a threat) that will not be belied.") (11:65). They said: `Salih claims that he will finish with us in three days, but we will finish him and his family before the three days are over.' Salih had a place of worship in a rocky tract in a valley, where he used to pray. So they set out to go to a cave there one night, and said, `When he comes to pray, we will kill him, then we will return. When we have finished him off, we will go to his family and finish them off too.' Then Allah sent down a rock upon them from the mountains round about; they feared that it would crush them, so they ran into the cave and the rock covered the mouth of the cave while they were inside. Their people did not know where they were or what had happened to them. So Allah punished some of them here, and some of them there, and He saved Salih and the people who were with him. Then he recited:
وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـهُمْ وَقَوْمَهُمْبُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً
(So, they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not. Then see how was the end of their plot! Verily, We destroyed them and their nation, all together. These are their houses in utter ruin,) i.e., deserted."
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ إِنَّ فِى ذلِكَ لاّيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَأَنجَيْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(for they did wrong. Verily, in this is indeed an Ayah for people who know. And We saved those who believed, and had Taqwa of Allah.)
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
53
View Single
وَأَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
And We rescued those who accepted faith and used to fear.
اور ہم نے ان لوگوں کو نجات بخشی جو ایمان لائے اور تقوٰی شعار ہوئے
Tafsir Ibn Kathir
The Plot of the Mischief-Makers and the End of the People of Thamud
Allah tells us about the evildoers of Thamud and their leaders who used to call their people to misguidance and disbelief, and to deny Salih. Eventually they killed the she-camel and were about to kill Salih too. They plotted to let him sleep with his family at night, then they would assassinate him and tell his relatives that they knew nothing about what happened to him, and that they were telling the truth because none of them had seen anything. Allah says:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ
(And there were in the city) meaning, in the city of Thamud,
تِسْعَةُ رَهْطٍ
(nine Raht,) meaning, nine people,
يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(who made mischief in the land, and would not reform.) They forced their opinions on the people of Thamud, because they were the leaders and chiefs. Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "These were the people who killed the she-camel," Meaning, that happened upon their instigation, may Allah curse them. Allah says:
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took (a sword) and killed (the she-camel). ) (54:29)
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).) (91:12) `Abdur-Razzaq said that Yahya bin Rabi`ah As-San`ani told them, "I heard `Ata' -- i.e. Ibn Abi Rabah -- say:
وَكَانَ فِى الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى الاٌّرْضِ وَلاَ يُصْلِحُونَ
(And there were in the city nine Raht, who made mischief in the land, and would not reform.) `They used to break silver coins."' They would break off pieces from them, as if they used to trade with them in terms of numbers as opposed to weight, as the Arabs used to do. Imam Malik narrated from Yahya bin Sa`id that Sa`id bin Al-Musayyib said: "Cutting gold and silver (coins) is part of spreading corruption on earth." What is meant is that the nature of these evil disbelievers was to spread corruption on earth by every means possible, one of which was that mentioned by these Imams.
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ
(They said: "Swear one to another by Allah that we shall make a secret night attack on him and his household...") They took a mutual oath, pledging that during the night, whoever met the Allah's Prophet Salih, peace be upon him, he would assassinate him. But Allah planned against them and caused their plot to backfire. Mujahid said, "They took a mutual oath pledging to kill him, but before they could reach him, they and their people were all destroyed." `Abdur-Rahman bin Abi Hatim said: "When they killed the she-camel, Salih said to them:
تَمَتَّعُواْ فِى دَارِكُمْ ثَلَـثَةَ أَيَّامٍ ذلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ
("Enjoy yourselves in your homes for three days. This is a promise (i.e., a threat) that will not be belied.") (11:65). They said: `Salih claims that he will finish with us in three days, but we will finish him and his family before the three days are over.' Salih had a place of worship in a rocky tract in a valley, where he used to pray. So they set out to go to a cave there one night, and said, `When he comes to pray, we will kill him, then we will return. When we have finished him off, we will go to his family and finish them off too.' Then Allah sent down a rock upon them from the mountains round about; they feared that it would crush them, so they ran into the cave and the rock covered the mouth of the cave while they were inside. Their people did not know where they were or what had happened to them. So Allah punished some of them here, and some of them there, and He saved Salih and the people who were with him. Then he recited:
وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـهُمْ وَقَوْمَهُمْبُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً
(So, they plotted a plot, and We planned a plan, while they perceived not. Then see how was the end of their plot! Verily, We destroyed them and their nation, all together. These are their houses in utter ruin,) i.e., deserted."
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُواْ إِنَّ فِى ذلِكَ لاّيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - وَأَنجَيْنَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ
(for they did wrong. Verily, in this is indeed an Ayah for people who know. And We saved those who believed, and had Taqwa of Allah.)
اونٹنی کو مار ڈالا ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا ان کے نام یہ ہیں رعی، رعم، ھرم، ھریم، داب، صواب، مطع، قدار بن سالف یہ آخری شخص وہ ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت (فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ 29) 54۔ القمر :29) اور (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح فساد ہے چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح کو اور اسکے گھرانے کو قتل کرڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ حضرت صالح تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کردیا۔ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب نہیں آیا تو اب نبی اللہ ؑ کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اسے کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کردو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر ؟ اگر صالح نبی ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کردئیے ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوگیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے حضرت صالح پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لئے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آگئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا کہ تین دن میں عذاب اللہ تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کروگے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ چناچہ وہ لوگ چلے گئے۔ فی الواقع ان سے نبی اللہ حضرت صالح ؑ نے صاف فرمادیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ حضرت صالح کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہوجائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر حضرت صالح ؑ کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھا کرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کردو۔ جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آرہی ہے اس سے بچنے کے لئے ایک غار میں گھس گئے چٹان آکر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کا منہ بالکل بند ہوگیا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے ؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کردئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔ حضرت صالح اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہوسکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں انکے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہوگئے ان کے بارونق شہر تباہ کردئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ایمان دار متقیوں کو بال بال بچالیا۔
54
View Single
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ
And (remember) Lut when he said to his people, “What! You stoop to the shameful whereas you can see?”
اور لوط (علیہ السلام) کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: کیا تم بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو حالانکہ تم دیکھتے (بھی) ہو
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His People
Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him, and how he warned his people of Allah's punishment for committing an act of immorality which no human ever committed before them -- intercourse with males instead of females. This is a major sin, whereby men are satisfied with men and women are with women (i.e., homosexuality). Lut said:
أَتَأْتُونَ الْفَـحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Do you commit immoral sins while you see) meaning, `while you see one another, and you practice every kind of evil in your meetings.'
أَءِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَآءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
(Do you practice your lusts on men instead of women Nay, but you are a people who behave senselessly.) means, `you do not know anything of what is natural or what is prescribed by Allah.' This is like the Ayah:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
(Go you in unto the males of mankind, and leave those whom Allah has created for you to be your wives Nay, you are a trespassing people!) (26:165-166)
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") means, `they feel embarrassed because of the deeds you are doing, and because you approve of your actions, so expel them from among yourselves, for they are not fit to live among you in your city.' So, the people resolved to do that, and Allah destroyed them, and a similar end awaits the disbelievers. Allah says:
فَأَنجَيْنَـهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَـهَا مِنَ الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to be of those who remained behind.) meaning, she was one of those who were destroyed, with her people, because she was a helper to what they did and she approved of their evil deeds. She told them about the guests of Lut so that they could come to them. She did not do the evil deeds herself, which was because of the honor of the Lut and not because of any honor on her part.
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(And We rained down on them a rain.) means; stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evildoers. Allah said:
فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(So, evil was the rain of those who were warned.) meaning, those against whom proof was established and whom the warning reached, but they went against the Messenger and denied him, and resolved to drive him out from among them.
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
55
View Single
أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تَجۡهَلُونَ
“What! You lustfully go towards men, leaving the women?! In fact, you are an ignorant people.”
کیا تم اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His People
Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him, and how he warned his people of Allah's punishment for committing an act of immorality which no human ever committed before them -- intercourse with males instead of females. This is a major sin, whereby men are satisfied with men and women are with women (i.e., homosexuality). Lut said:
أَتَأْتُونَ الْفَـحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Do you commit immoral sins while you see) meaning, `while you see one another, and you practice every kind of evil in your meetings.'
أَءِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَآءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
(Do you practice your lusts on men instead of women Nay, but you are a people who behave senselessly.) means, `you do not know anything of what is natural or what is prescribed by Allah.' This is like the Ayah:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
(Go you in unto the males of mankind, and leave those whom Allah has created for you to be your wives Nay, you are a trespassing people!) (26:165-166)
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") means, `they feel embarrassed because of the deeds you are doing, and because you approve of your actions, so expel them from among yourselves, for they are not fit to live among you in your city.' So, the people resolved to do that, and Allah destroyed them, and a similar end awaits the disbelievers. Allah says:
فَأَنجَيْنَـهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَـهَا مِنَ الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to be of those who remained behind.) meaning, she was one of those who were destroyed, with her people, because she was a helper to what they did and she approved of their evil deeds. She told them about the guests of Lut so that they could come to them. She did not do the evil deeds herself, which was because of the honor of the Lut and not because of any honor on her part.
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(And We rained down on them a rain.) means; stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evildoers. Allah said:
فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(So, evil was the rain of those who were warned.) meaning, those against whom proof was established and whom the warning reached, but they went against the Messenger and denied him, and resolved to drive him out from among them.
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
56
View Single
۞فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوٓاْ ءَالَ لُوطٖ مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ
Therefore the answer of his people was nothing except that they said, “Expel the family of Lut from your township; these people wish purity!”
تو ان کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے: تم لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑے پاک باز بنتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His People
Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him, and how he warned his people of Allah's punishment for committing an act of immorality which no human ever committed before them -- intercourse with males instead of females. This is a major sin, whereby men are satisfied with men and women are with women (i.e., homosexuality). Lut said:
أَتَأْتُونَ الْفَـحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Do you commit immoral sins while you see) meaning, `while you see one another, and you practice every kind of evil in your meetings.'
أَءِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَآءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
(Do you practice your lusts on men instead of women Nay, but you are a people who behave senselessly.) means, `you do not know anything of what is natural or what is prescribed by Allah.' This is like the Ayah:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
(Go you in unto the males of mankind, and leave those whom Allah has created for you to be your wives Nay, you are a trespassing people!) (26:165-166)
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") means, `they feel embarrassed because of the deeds you are doing, and because you approve of your actions, so expel them from among yourselves, for they are not fit to live among you in your city.' So, the people resolved to do that, and Allah destroyed them, and a similar end awaits the disbelievers. Allah says:
فَأَنجَيْنَـهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَـهَا مِنَ الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to be of those who remained behind.) meaning, she was one of those who were destroyed, with her people, because she was a helper to what they did and she approved of their evil deeds. She told them about the guests of Lut so that they could come to them. She did not do the evil deeds herself, which was because of the honor of the Lut and not because of any honor on her part.
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(And We rained down on them a rain.) means; stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evildoers. Allah said:
فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(So, evil was the rain of those who were warned.) meaning, those against whom proof was established and whom the warning reached, but they went against the Messenger and denied him, and resolved to drive him out from among them.
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
57
View Single
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَٰهَا مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
We therefore rescued him and his family, except his wife; We had decreed that she is of those who will remain behind.
پس ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو نجات بخشی سوائے ان کی بیوی کے کہ ہم نے اسے (عذاب کے لئے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے مقرر کر لیا تھا
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His People
Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him, and how he warned his people of Allah's punishment for committing an act of immorality which no human ever committed before them -- intercourse with males instead of females. This is a major sin, whereby men are satisfied with men and women are with women (i.e., homosexuality). Lut said:
أَتَأْتُونَ الْفَـحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Do you commit immoral sins while you see) meaning, `while you see one another, and you practice every kind of evil in your meetings.'
أَءِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَآءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
(Do you practice your lusts on men instead of women Nay, but you are a people who behave senselessly.) means, `you do not know anything of what is natural or what is prescribed by Allah.' This is like the Ayah:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
(Go you in unto the males of mankind, and leave those whom Allah has created for you to be your wives Nay, you are a trespassing people!) (26:165-166)
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") means, `they feel embarrassed because of the deeds you are doing, and because you approve of your actions, so expel them from among yourselves, for they are not fit to live among you in your city.' So, the people resolved to do that, and Allah destroyed them, and a similar end awaits the disbelievers. Allah says:
فَأَنجَيْنَـهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَـهَا مِنَ الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to be of those who remained behind.) meaning, she was one of those who were destroyed, with her people, because she was a helper to what they did and she approved of their evil deeds. She told them about the guests of Lut so that they could come to them. She did not do the evil deeds herself, which was because of the honor of the Lut and not because of any honor on her part.
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(And We rained down on them a rain.) means; stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evildoers. Allah said:
فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(So, evil was the rain of those who were warned.) meaning, those against whom proof was established and whom the warning reached, but they went against the Messenger and denied him, and resolved to drive him out from among them.
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
58
View Single
وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ
And We showered a rain upon them; so what a wretched rain for those who were warned!
اور ہم نے ان پر خوب (پتھروں کی) بارش برسائی، سو (ان) ڈرائے گئے لوگوں پر (پتھروں کی) بارش نہایت ہی بری تھی۔
Tafsir Ibn Kathir
Lut and His People
Allah tells us about His servant and Messenger Lut, peace be upon him, and how he warned his people of Allah's punishment for committing an act of immorality which no human ever committed before them -- intercourse with males instead of females. This is a major sin, whereby men are satisfied with men and women are with women (i.e., homosexuality). Lut said:
أَتَأْتُونَ الْفَـحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
(Do you commit immoral sins while you see) meaning, `while you see one another, and you practice every kind of evil in your meetings.'
أَءِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَآءِ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ
(Do you practice your lusts on men instead of women Nay, but you are a people who behave senselessly.) means, `you do not know anything of what is natural or what is prescribed by Allah.' This is like the Ayah:
أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَـلَمِينَ - وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ أَزْوَجِكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ
(Go you in unto the males of mankind, and leave those whom Allah has created for you to be your wives Nay, you are a trespassing people!) (26:165-166)
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُواْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ
(There was no other answer given by his people except that they said: "Drive out the family of Lut from your city. Verily, these are men who want to be clean and pure!") means, `they feel embarrassed because of the deeds you are doing, and because you approve of your actions, so expel them from among yourselves, for they are not fit to live among you in your city.' So, the people resolved to do that, and Allah destroyed them, and a similar end awaits the disbelievers. Allah says:
فَأَنجَيْنَـهُ وَأَهْلَهُ إِلاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَـهَا مِنَ الْغَـبِرِينَ
(So, We saved him and his family, except his wife. We destined her to be of those who remained behind.) meaning, she was one of those who were destroyed, with her people, because she was a helper to what they did and she approved of their evil deeds. She told them about the guests of Lut so that they could come to them. She did not do the evil deeds herself, which was because of the honor of the Lut and not because of any honor on her part.
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَّطَرًا
(And We rained down on them a rain.) means; stones of Sijjil, in a well-arranged manner one after another. Marked from your Lord; and they are not ever far from the evildoers. Allah said:
فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(So, evil was the rain of those who were warned.) meaning, those against whom proof was established and whom the warning reached, but they went against the Messenger and denied him, and resolved to drive him out from among them.
ہم جنسوں سے جنسی تعلق (نتیجہ ایڈز) اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت لوط ؑ کا واقعہ بیان فرما رہا ہے کہ آپ نے اپنی امت یعنی اپنی قوم کو اس کے نالائق فعل پر جس کا فاعل ان سے پہلے کوئی نہ ہوا تھا۔ یعنی اغلام بازی پر ڈرایا۔ تمام قوم کی یہ حالت تھی کہ مرد مردوں سے عورت عورتوں سے شہوت رانی کرلیا کرتی تھیں۔ ساتھ ہی اتنے بےحیا ہوگئے تھے کہ اس پاجی فعل کو پوشیدہ کرنا بھی کچھ ضروری نہیں جانتے تھے۔ اپنے مجمعوں میں واہی فعل کرتے تھے۔ عورتوں کو چھوڑ مردوں کے پاس آتے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ اپنی اس جہالت سے باز آجاؤ تم تو ایسے گئے گزرے اور اتنے نادان ہوئے کہ شرعی پاکیزگی کے ساتھ ہی تم سے طبعی بھی جاتی رہی۔ جیسے دوسری آیت میں ہے (اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ01605ۙ) 26۔ الشعراء :165) کیا تم مردوں کے پاس آتے ہو اور عورتوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑ بنائے ہیں چھوڑتے ہو ؟ بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جب لوط اور لوط والے تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور نہ وہ تمہاری مانتے ہیں نہ تم ان کی۔ تو پھر ہمیشہ کی اس بحث و تکرار کو ختم کیوں نہیں کردیتے ؟ لوط ؑ کے گھرانے کو دیس نکالا دے کر ان کے روزمرہ کے کچوکوں سے نجات حاصل کرلو۔ جب کافروں نے پختہ ارادہ کرلیا اور اس پر جم گئے اور اجماع ہوگیا تو اللہ نے انہیں کو ہلاک کردیا اور اپنے پاک بندے حضرت لوط کو اور ان کی اہل کو ان سے جو عذاب ان پر آئے ان سے بچالیا۔ ہاں آپ کی بیوی جو قوم کے ساتھ ہی تھی وہ پہلے سے ہی ان ہلاک ہونے والوں میں لکھی جا چکی تھی وہ یہاں باقی رہ گئی اور عذاب کے ساتھ تباہ ہوئی کیونکہ یہ انہیں ان کے دین اور ان کے طریقوں میں مدد دیتی تھی انکی بد اعمالیوں کو پسند کرتی تھی۔ اسی نے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کی خبر قوم کو دی تھی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ معاذاللہ ان کی اس فحش کاری میں یہ شریک نہ تھی۔ اللہ کے نبی ؑ کی بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کی بیوی بدکار ہو۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسائے گئے جن پر ان کے نام کندہ تھے ہر ایک پر اسی کے نام پتھر آیا اور ایک بھی ان میں سے بچ نہ سکا۔ ظالموں سے اللہ کی سزا دور نہیں۔ ان پر حجت ربانی قائم ہوچکی تھی۔ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاچکا تھا۔ تبلیغ رسالت کافی طور پر ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے مخالفت میں جھٹلانے میں اور اپنی بےایمانی پر اڑنے میں کمی نہیں کی۔ نبی اللہ ؑ کو تکلیفیں پہنچائیں بلکہ انہیں نکال دینے کا ارادہ کیا اس وقت اس بدترین بارش نے یعنی سنگ باری نے انہیں فنا کردیا۔
59
View Single
قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَىٰٓۗ ءَآللَّهُ خَيۡرٌ أَمَّا يُشۡرِكُونَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “All praise is to Allah, and peace upon His chosen bondmen; is Allah better or what you ascribe as His partners?”
فرما دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس کے منتخب (برگزیدہ) بندوں پر سلامتی ہو، کیا اللہ ہی بہتر ہے یا وہ (معبودانِ باطلہ) جنہیں یہ لوگ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to praise Allah and send Blessings on His Messengers
Allah commands His Messenger to say:
الْحَمْدُ للَّهِ
(Praise and thanks be to Allah,) meaning, for His innumerable blessings upon His servants and for His exalted Attributes and most beautiful Names. And He commands him to send peace upon the servants of Allah whom He chose and selected, i.e., His noble Messengers and Prophets, may the best of peace and blessings from Allah be upon them. This was the view of `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and others; the meaning of the servants He has chose is the Prophets. He said, "This like He said in the Ayah;
سُبْحَـنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
وَسَلَـمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ - وَالْحَمْدُ للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(Glorified be your Lord, the Lord of honor and power! (He is free) from what they attribute unto Him! And peace be on the Messengers! And all the praises and thanks be to Allah, Lord of all that exists.) (37:180-182)." Ath-Thawri and As-Suddi said, "This refers to the Companions of Muhammad ﷺ, may Allah be pleased with them all." Something similar was also narrated from Ibn `Abbas, and there is no contradiction between the two views, because they were also among the servants of Allah whom He had chosen, although the description is more befitting of the Prophets.
ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ
(Is Allah better, or what they ascribe as partners (to Him)) This is a question aimed at denouncing the idolators for their worship of other gods besides Allah. Some more Proofs of Tawhid Then Allah begins to explain that He is the Only One Who creates, provides and controls, as He says:
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ
(Is not He Who created the heavens) meaning, He created those heavens which are so high and serene, with their shining stars and revolving planets. And He created the earth, with its varying heights and densities, and He created everything in it, mountains, hills, plains, rugged terrain, wildernesses, crops, trees, fruits, seas and animals of all different kinds and colors and shapes, etc.
وَأَنزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً
(and sends down for you water from the sky,) means, He sends it as a provision for His servants,
فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ
(whereby We cause to grow wonderful gardens full of beauty and delight) means, beautiful and delightful to behold.
مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُواْ شَجَرَهَا
(It is not in your ability to cause the growth of their trees.) meaning, `you are not able to cause their trees to grow. The One Who is able to do that is the Creator and Provider, Who is doing all this Alone and Independent of any idol and other rival.' The idolators themselves admitted this, as Allah says in another Ayah:
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
(And if you ask them: "Who has created them" they will certainly say: "Allah.") (31:25)
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّن نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَحْيَا بِهِ الاٌّرْضَ مِن بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
(And if you were to ask them: "Who sends down water from the sky, and gives life therewith to the earth after its death" they will surely reply: "Allah.") (29:63) Meaning they will admit that He is the One Who does all these things, Alone, with no partner or associate, but then they worship others alongside Him, others who they admit cannot create or provide anything. But the Only One Who deserves to be worshipped is the Only One Who can create and provide, Allah says:
أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ
(Is there any god with Allah) meaning, `is there any god that can be worshipped alongside Allah, when it is clear to you and anyone who with reason that He is the Creator and Provider, as you yourselves admit' Then Allah says:
بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ
(Nay, but they are a people who ascribe equals (to Him)!) meaning, they describe others as being equal and comparable to Allah.
حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ کہیں کہ ساری تعریفوں کے لائق فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اپنے بندوں کو اپنی بیشمار نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں۔ اس کی صفتیں عالی ہیں اس کے نام بلند اور پاک ہیں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برگذیدہ بندوں پر سلام بھیجیں جیسے انبیاء اور رسول۔ حمدوصلوٰۃ کا ساتھ ہی ذکر آیت (سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ01800ۚ) 37۔ الصافات :180) ، میں بھی ہے۔ ان کے تابعداروں کے بچالینے اور مخالفین کے غارت کردینے کی نعمت بیان فرما کر اپنی تعریفیں کرنے والے اور اپنے نیک بندوں پر سلام بھیجنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد بطور سوال کے مشرکوں کے اس فعل پر انکار کیا کہ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پاک اور بری ہے۔
60
View Single
أَمَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَنۢبَتۡنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهۡجَةٖ مَّا كَانَ لَكُمۡ أَن تُنۢبِتُواْ شَجَرَهَآۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ يَعۡدِلُونَ
Or He Who created the heavens and the earth, and sent down water from the sky for you; so We grew delightful gardens with it; you had no strength to grow its trees; is there a God along with Allah?! In fact they are those who shun the right path.
بلکہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور تمہارے لئے آسمانی فضا سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس (پانی) سے تازہ اور خوش نما باغات اُگائے؟ تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغات) کے درخت اُگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو (راہِ حق سے) پرے ہٹ رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to praise Allah and send Blessings on His Messengers
Allah commands His Messenger to say:
الْحَمْدُ للَّهِ
(Praise and thanks be to Allah,) meaning, for His innumerable blessings upon His servants and for His exalted Attributes and most beautiful Names. And He commands him to send peace upon the servants of Allah whom He chose and selected, i.e., His noble Messengers and Prophets, may the best of peace and blessings from Allah be upon them. This was the view of `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam and others; the meaning of the servants He has chose is the Prophets. He said, "This like He said in the Ayah;
سُبْحَـنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
وَسَلَـمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ - وَالْحَمْدُ للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ
(Glorified be your Lord, the Lord of honor and power! (He is free) from what they attribute unto Him! And peace be on the Messengers! And all the praises and thanks be to Allah, Lord of all that exists.) (37:180-182)." Ath-Thawri and As-Suddi said, "This refers to the Companions of Muhammad ﷺ, may Allah be pleased with them all." Something similar was also narrated from Ibn `Abbas, and there is no contradiction between the two views, because they were also among the servants of Allah whom He had chosen, although the description is more befitting of the Prophets.
ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ
(Is Allah better, or what they ascribe as partners (to Him)) This is a question aimed at denouncing the idolators for their worship of other gods besides Allah. Some more Proofs of Tawhid Then Allah begins to explain that He is the Only One Who creates, provides and controls, as He says:
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ
(Is not He Who created the heavens) meaning, He created those heavens which are so high and serene, with their shining stars and revolving planets. And He created the earth, with its varying heights and densities, and He created everything in it, mountains, hills, plains, rugged terrain, wildernesses, crops, trees, fruits, seas and animals of all different kinds and colors and shapes, etc.
وَأَنزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً
(and sends down for you water from the sky,) means, He sends it as a provision for His servants,
فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ
(whereby We cause to grow wonderful gardens full of beauty and delight) means, beautiful and delightful to behold.
مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُواْ شَجَرَهَا
(It is not in your ability to cause the growth of their trees.) meaning, `you are not able to cause their trees to grow. The One Who is able to do that is the Creator and Provider, Who is doing all this Alone and Independent of any idol and other rival.' The idolators themselves admitted this, as Allah says in another Ayah:
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
(And if you ask them: "Who has created them" they will certainly say: "Allah.") (31:25)
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ مَّن نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَحْيَا بِهِ الاٌّرْضَ مِن بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ
(And if you were to ask them: "Who sends down water from the sky, and gives life therewith to the earth after its death" they will surely reply: "Allah.") (29:63) Meaning they will admit that He is the One Who does all these things, Alone, with no partner or associate, but then they worship others alongside Him, others who they admit cannot create or provide anything. But the Only One Who deserves to be worshipped is the Only One Who can create and provide, Allah says:
أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ
(Is there any god with Allah) meaning, `is there any god that can be worshipped alongside Allah, when it is clear to you and anyone who with reason that He is the Creator and Provider, as you yourselves admit' Then Allah says:
بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ
(Nay, but they are a people who ascribe equals (to Him)!) meaning, they describe others as being equal and comparable to Allah.
بیان کیا جارہا ہے کہ کل کائنات کار چلانے والا، سب کا پیدا کرنے والا، سب کو روزیاں دینے والا، سب کی حفاظتیں کرنے والا، تمام جہان کی تدبیر کرنے والا، صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ان بلند آسمانوں کو چمکتے ستاروں کو اسی نے پیدا کیا ہے اس بھاری بوجھل زمین کو ان بلند چوٹیوں والے پہاڑوں کو ان پھیلے ہوئے میدانوں کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کھیتیاں، باغات، پھل، پھول، دریا، سمندر، حیوانات، جنات، انسان، خشکی اور تری کے عام جاندار اسی ایک کے بنائے ہوئے ہیں۔ آسمانوں سے پانی اتارنے والا وہی ہے۔ اسے اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ اسی نے بنایا، باغات کھیت سب وہی اگاتا ہے۔ جو خوش منظر ہونے کے علاوہ بہت مفید ہیں۔ خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ زندگی کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔ تم میں سے یا تمہارے معبودان باطل میں سے کوئی بھی نہ کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے نہ کسی درخت اگانے کی۔ بس وہی خالق و رازق ہے اللہ کی خالقیت اور اس کی روزی پہنچانے کی صفت کو مشرکین بھی مانتے تھے۔ جیسے دوسری آیت میں بیان ہوا ہے کہ آیت (وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 87ۙ) 43۔ الزخرف :87) یعنی اگر تو ان سے دریافت کرے کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو یہی جواب دیں گے اللہ تعالیٰ نے الغرض یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ خالق کل صرف اللہ ہی ہے۔ لیکن ان کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ عبادت کے وقت اوروں کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ باوجودیکہ جانتے ہیں کہ نہ وہ پیدا کرتے ہیں اور نہ روزی دینے والے۔ اور اس بات کا فیصلہ تو ہر عقلمند کرسکتا ہے کہ عبادت کے لائق وہی ہے جو خالق مالک اور رازق ہے۔ اسی لئے یہاں اس آیت میں بھی سوال کیا گیا کہ معبود برحق کے ساتھ کوئی اور بھی عبادت کے لائق ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ مخلوق کو پیدا کرنے میں، مخلوق کی روزی مہیا کرنے میں کوئی اور بھی شریک ہے ؟ چونکہ وہ مشرک خالق رازق صرف اللہ ہی کو مانتے تھے۔ اور عبادت اوروں کی کرتے تھے۔ اس لئے ایک اور آیت میں فرمایا۔ آیت (اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 17) 16۔ النحل :17) خالق اور غیر خالق یکساں نہیں پھر تم خالق اور مخلوق کو کیسے ایک کررہے ہو ؟ یہ یاد رہے کہ ان آیات میں امن جہاں جہاں ہے وہاں یہی معنی ہیں کہ ایک تو وہ جو ان تمام کاموں کو کرسکے اور ان پر قادر ہو دوسرا وہ جس نے ان میں سے نہ تو کسی کام کو کیا ہو اور نہ کرسکتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ گو دوسری شق کو لفظوں میں بیان نہیں کیا لیکن طرز کلام اسے صاف کردیتا ہے۔ اور آیت میں صاف صاف یہ بھی ہے کہ آیت (ؤ اٰۗللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ 59ۭ) 27۔ النمل :59) کیا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک کرتے ہیں ؟ آیت کے خاتمے پر فرمایا بلکہ ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں آیت (اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاۗءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاۗىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۧ) 39۔ الزمر :9) بھی اسی جیسی آیت ہے یعنی ایک وہ شخص جو اپنے دل میں آخرت کا ڈر رکھ کر اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو کر راتوں کو نماز میں گزارتا ہو۔ یعنی وہ اس جیسا نہیں ہوسکتا جس کے اعمال ایسے نہ ہوں۔ ایک اور جگہ ہے عالم اور بےعلم برابر نہیں۔ عقلمند ہی نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ایک وہ جس کا سینہ اسلام کے لئے کھلا ہوا ہو، اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور ہدایت لئے ہو اور وہ اس جیسا نہیں۔ جس کے دل میں اسلام کی طرف سے کراہت ہو اور سخت دل ہو اللہ نے خود اپنی ذات کی نسبت فرمایا۔ اللہ نے آیت (اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ۚ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ 33۔) 13۔ الرعد :33) یعنی وہ جو مخلوق کی تمام حرکات سکنات سے واقف ہو تمام غیب کی باتوں کو جانتا ہوں اس کی مانند ہے جو کچھ بھی نہ جانتا ہو ؟ بلکہ جس کی آنکھیں اور کان نہ ہو جیسے تمہارے یہ بت ہیں۔ فرمان ہے آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ 33۔) 13۔ الرعد :33) یہ اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہیں ان سے کہہ ذرا انکے نام تو مجھے بتاؤ پس ان سب آیتوں کا مطلب یہی ہے کہ اللہ نے اپنی صفتیں بیان فرمائی ہیں۔ پھر خبر دی ہے کہ یہ صفات کسی میں نہیں۔
61
View Single
أَمَّن جَعَلَ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَجَعَلَ خِلَٰلَهَآ أَنۡهَٰرٗا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٰسِيَ وَجَعَلَ بَيۡنَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
Or He Who made the earth for habitation, and placed rivers within it, and created mountains as anchors for it, and kept a barrier between the two seas? Is there a God along with Allah?! In fact, most of them are ignorant.
بلکہ وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں بنائیں اور اس کے لئے بھاری پہاڑ بنائے۔ اور (کھاری اور شیریں) دو سمندروں کے درمیان آڑ بنائی؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ ان (کفار) میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں
Tafsir Ibn Kathir
أَمَّن جَعَلَ الاٌّرْضَ قَرَاراً
(Is not He Who has made the earth as a fixed abode,) meaning, stable and stationary, so that it does not move or convulse, because if it were to do so, it would not be a good place for people to live on. But by His grace and mercy, He has made it smooth and calm, and it is not shaken or moved. This is like the Ayah,
اللَّهُ الَّذِى جَعَـلَ لَكُـمُ الاٌّرْضَ قَـرَاراً وَالسَّمَآءَ بِنَـآءً
(Allah, Who has made for you the earth as a dwelling place and the sky as a canopy) (40:64).
وَجَعَلَ خِلاَلَهَآ أَنْهَاراً
(and has placed rivers in its midst,) means, He has placed rivers which are fresh and sweet, cutting through the earth, and He has made them of different types, large rivers, small rivers and some in between. He has caused them to flow in all directions, east, west, south, north, according to the needs of mankind in different areas and regions, as He has created them throughout the world and sends them their provision according to their needs.
وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِىَ
(and has placed firm mountains therein, ) means, high mountains which stabilize the earth and make it steadfast, so that it does not shake.
وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزاً
(and has set a barrier between the two seas) means, He has placed a barrier between the fresh water and the salt water, to prevent them from mixing lest they corrupt one another. Divine wisdom dictates that each of them should stay as it is meant to be. The sweet water is that which flows in rivers among mankind, and it is meant to be fresh and palatable so that it may be used to water animals and plants and fruits. The salt water is that which surrounds the continents on all sides, and its water is meant to be salty and undrinkable lest the air be corrupted by its smell, as Allah says:
وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخاً وَحِجْراً مَّحْجُوراً
(And it is He Who has let free the two seas, this is palatable and sweet, and that is salty and bitter; and He has set a barrier and a complete partition between them.) (25:53) Allah says:
أَءِلـهٌ مَّعَ اللهِ
(Is there any god with Allah) meaning, any god who could do this, or who deserves to be worshipped Both meanings are indicated by the context.
بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(Nay, but most of them know not!) means, in that they worship others than Allah.
کائنات کے مظاہر اللہ تعالیٰ کی صداقت٭٭ زمین کو اللہ تعالیٰ نے ٹھہری ہوئی اور ساکن بنایا تاکہ دنیا آرام سے اپنی زندگی بسر کرسکے اور اس پھیلے ہوئے فرش پر راحت پاسکے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (اللہ الذی جعل لکم الأرض قرارا الخ) ، اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہری ہوئی ساکن بنایا اور آسمان کو چھت بنایا۔ اس نے زمین پر پانی کے دریا بہادئیے جو ادھر ادھربہتے رہتے ہیں اور ملک ملک پہنچ کر زمین کو سیراب کرتے ہیں تاکہ زمین سے کھیت باغ وغیرہ اگیں۔ اس نے زمین کی مضبوطی کے لئے اس پر پہاڑوں کی میخیں گاڑھ دیں تاکہ وہ تمہیں متزلزل نہ کرسکے ٹھہری رہے۔ اسکی قدرت دیکھو کہ ایک کھاری سمندر ہے اور دوسرا میٹھا ہے۔ دونوں بہہ رہے ہیں بیچ میں کوئی روک آڑ پردہ حجاب نہیں لیکن قدرت نے ایک کو ایک سے الگ کر رکھا ہے اور نہ کڑوا میٹھے میں مل سکے نہ میٹھاکرڑوے میں۔ کھاری اپنے فوائد پہنچاتا رہے میٹھا اپنے فوائد دیتا رہے اس کا نتھرا ہوا خوش ذائقہ مسرورکن خوش ہضم پانی لوگ پئیں اپنے جانوروں کو پلائیں کھتیاں باڑیاں باغات وغیرہ میں یہ پانی پہنچائیں نہائیں دھوئیں وغیرہ۔ کھاری پانی اپنی فوائد سے لوگوں کو سود مند کرے یہ ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے تاکہ ہوا خراب نہ ہو۔ اور اس آیت میں بھی ہے ان دونوں کا بیان موجود ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ 53) 25۔ الفرقان :53) یعنی ان دونوں سمندروں کا جاری کرنے والا اللہ ہی ہے اور اسی لئے ان دونوں کے درمیاں حد فاصل قائم کر رکھی ہے۔ یہاں یہ قدرتیں اپنی جتاکر۔ پھر سوال کرتا ہے کہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ایسا ہے جس نے یہ کام کئے ہوں یا کرسکتا ہو ؟ تاکہ وہ بھی لائق عبادت سمجھا جائے۔ اکثر لوگ محض بےعلمی سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ عبادتوں کے لائق صرف وہی ایک ہے۔
62
View Single
أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ
Or He Who answers the prayer of the helpless when he invokes Him and removes the evil, and makes you inheritors of the earth? Is there a God along with Allah?! Very little do they ponder!
بلکہ وہ کون ہے جو بے قرار شخص کی دعا قبول فرماتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور فرماتا ہے اور تمہیں زمین میں(پہلے لوگوں کا) وارث و جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ
(And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him) (17:67),
ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَرُونَ
(Then, when harm touches you, unto Him you cry aloud for help) (16:53). Similarly, Allah says here:
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ
(Is not He Who responds to the distressed one, when he calls on Him,) meaning, Who is the only One to Whom the person in desperate need turns, and the only One Who can relieve those who are stricken by harm Imam Ahmad reported that a man of Balhajim said: "O Messenger of Allah, what are you calling for" He said:
«أَدْعُو إِلَى اللهِ وَحْدَهُ الَّذِي إِنْ مَسَّكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَ عَنْكَ، وَالَّذِي إِنْ أَضْلَلْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ فَدَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ، وَالَّذِي إِنْ أَصَابَتْكَ سَنَةٌ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَك»
(I am calling people to Allah Alone, the One Who, if you call on Him when harm befalls you, will relieve you; and when you are lost in the wilderness, you call on Him and He brings you back: and when drought (famine) strikes, you call on Him and He makes your crops grow.) He said: "Advise me." He said:
«لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا وَلَا تَزْهَدَنَّ فِي الْمَعْرُوفِ، وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، وَلَوْ أَنْ تُفْرغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَقِي، وَاتَّزِرْ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّ إِسْبَالَ الْإِزَارِ مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَة»
(Do not slander anyone and do not think of any good deed as insignificant, even if it is only meeting your brother with a cheerful face or emptying your vessel into the vessel of one who is asking for water. Wear your lower garment at mid-calf length, or -- if you insist -- let it reach your ankles, and beware of lowering the garment below the ankles along the ground, for it is a form of showing-off, and Allah does not like showing-off.)
The Story of a Mujahid who fought for the sake of Allah
In his biography of Fatimah bint Al-Hasan Umm Ahmad Al-`Ajaliyyah, Al-Hafiz bin `Asakir reported that she said: "One day the disbelievers defeated the Muslims in a battle. There was a good horse which belonged to a rich man who was also righteous. The horse just stood there, so its owner said, `What is the matter with you Woe to you! I was only preparing you for a day such as this.' The horse said to him: `How can you expect me not to perform badly, when you delegated my feeding to the grooms, and they mistreated me and only fed me a little' The man said, `I make you a promise before Allah that from this day on, only I will feed you from my own lap.' So the horse began to run, and his owner was saved, and after that he only ever fed the horse from his own lap. This story became well known among the people, and they started to come to him to hear the story from his own lips. News of this reached the king of Byzantium, and he said: `A city where this man is, will be kept safe from harm.' He wanted to bring the man to his own city, so he sent an apostate (a man who had left Islam) who was living in his city to go to him, and when he reached him, he pretended that his intentions towards Islam and its followers were good, so the Mujahid trusted him. One day they went out walking along the shore, but the apostate made a pact with another person, a follower of the Byzantine king, to come and help him take the Mujahid prisoner. When they made their move, he lifted his gaze to the sky and said, `O Allah! He has deceived me by swearing in Your Name, so protect me in whatever way You will.' Then two wild animals came out and seized them, and the Mujahid came back safe and sound. " The Inheritance of the Earth
وَيَجْعَلُكُمْ حُلَفَآءَ الاٌّرْضِ
(and makes you inheritors of the earth,) means, each generation inherits from the generation that came before them, one after the other, as Allah says:
إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُمْ مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
(if He wills, He can destroy you, and in your place make whom He wills as your successors, as He raised you from the seed of other people) (6:133),
وَهُوَ الَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَـئِفَ الاٌّرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَـتٍ
(And it is He Who has made you generations coming after generations, replacing each other on the earth. And He has raised you in ranks, some above others) (6:165),
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَـئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِى الأَرْضِ خَلِيفَةً
(And (remember) when your Lord said to the angels: "Verily, I am going to place generations after generations on earth.") (2:30) meaning, people who will come after one another, as we have already stated. Allah's saying:
وَيَجْعَلُكُمْ حُلَفَآءَ الاٌّرْضِ
(and makes you inheritors of the earth,) means, nation after nation, generation after generation, people after people. If He had willed, He could have created them all at one time, and not made some of them the offspring of others. If He had willed, He could have created them all together, as He created Adam from dust. If He had willed, He could have made some of them the offspring of others, but not caused any of them to die until they all died at one time; in this case the earth would have become constricted for them and it would be too difficult for them to live and earn a living, and they would have caused inconvenience and harm to one another. But His wisdom and decree ruled that they should be created from one soul, then their numbers should be greatly increased, so He created them on the earth and made them generation after generation, nation after nation, until their time will come to an end and there will be no one left on earth, as Allah has decreed and as He has completely counted out their numbers. Then the Resurrection will come to pass, and each person will be rewarded or punished according to his deeds. Allah says:
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ حُلَفَآءَ الاٌّرْضِ أَءِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ
(Is not He Who responds to the distressed one, when he calls on Him, and Who removes the evil, and makes you inheritors of the earth, generations after generations Is there any god with Allah) meaning, is there anyone else able to do that, or a god with Allah worth worshipping -- while you know that He is the only one who can do that, having no partners
قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ
(Little is that you remember!) meaning, how little they think about that which would guide them to the truth and show them the straight path.
سختیوں اور مصیبتوں کے وقت پکارے جانے کے قابل اسی کی ذات ہے۔ بےکس بےبس لوگوں کا سہارا وہی ہے گرے پڑے بھولے بھٹکے مصیبت زدہ اسی کو پکارتے ہیں۔ اسی کی طرف لو لگاتے ہیں جیسے فرمایا کہ تمہیں جب سمندر کے طوفان زندگی سے مایوس کردیتے ہیں تو تم اسی کو پکارتے ہو اسکی طرف گریہ وزاری کرتے ہو اور سب کو بھول جاتے ہو۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ ہر ایک بےقرار وہاں پناہ لے سکتا ہے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت اس کے سوا کوئی بھی دور نہیں کرسکتا۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ! آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف جو اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں جو اس وقت تیرے کام آتا ہے جب تو کسی بھنور میں پھنسا ہوا ہو۔ وہی ہے کہ جب تو جنگلوں میں راہ بھول کر اسے پکارے تو وہ تیری رہنمائی کردے تیرا کوئی کھو گیا ہو اور تو اس سے التجا کرے تو وہ اسے تجھ کو ملادے۔ قحط سالی ہوگئی ہو اور تو اس سے دعائیں کرے تو وہ موسلا دھار مینہ تجھ پر برسادے۔ اس شخص نے کہا یارسول اللہ ! مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا کسی کو برا نہ کہو۔ نیکی کے کسی کام کو ہلکا اور بےوقعت نہ سمجھو۔ خواہ اپنے مسلمان بھائی سے بہ کشادہ پیشانی ملنا ہو گو اپنے ڈول سے کسی پیاسے کو ایک گھونٹ پانی کا دینا ہی ہو اور اپنے تہبند کو آدھی پنڈلی تک رکھ۔ لمبائی میں زیادہ ٹخنے تک۔ اس سے نیچے لٹکانے سے بچتا رہ۔ اس لئے کہ یہ فخر و غرور ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے (مسند احمد) ایک روایت میں انکا نام جابر بن سلیم ہے۔ اس میں ہے کہ جب حضور کے پاس آیا آپ ایک چادر سے گوٹ لگائے بیٹھے تھے جس کے پھندنے آپ کے قدموں پر گر رہے تھے میں نے آکر پوچھا کہ تم میں اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کون ہیں ؟ آپ نے اپنے ہاتھ سے خود اپنی طرف اشارہ کیا میں نے کہا یارسول اللہ ! میں ایک گاؤں کا رہنے والا آدمی ہوں ادب تمیز کچھ نہیں جانتا مجھے احکام اسلام کی تعلیم دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی چھوٹی سی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھ، خواہ اپنے مسلمان بھائی سے خوش خلقی کے ساتھ ملاقات ہو۔ اور اپنے ڈول میں سے کسی پانی مانگے والے کے برتن میں ذراسا پانی ڈال دینا ہی ہو۔ اگر کوئی تیری کسی شرمناک بات کو جانتاہو اور وہ تجھے شرمندہ کرے تو تو اسے اس کی کسی ایسی بات کی عار نہ دلا تاکہ اجر تجھے ملے اور وہ گنہگار بن جائے۔ ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے سے پرہیز کر کیونکہ یہ تکبر ہے اور تکبر اللہ کو پسند نہیں اور کسی کو بھی ہرگز گالی نہ دینا۔ حضرت طاؤس ایک بیمار کی بیمار پرسی کے لئے گئے اس نے کہا میرے لئے دعا کرو آپ نے فرمایا تم خود اپنے لئے دعا کرو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا اللہ قبول فرماتا ہے۔ حضرت وہب فرماتے ہیں میں نے اگلی آسمانی کتاب میں پڑھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم ! جو شخص مجھ پر اعتماد کرے اور مجھے تھام لے تو میں اسے اسکے مخالفین سے بچالوں گا اور ضرور بچالوں گا چاہے آسمان و زمین وکل مخلوق اس کی مخالفت اور ایذاء دینے پر تلے ہوں۔ اور جو مجھ پر اعتماد نہ کرے میری پناہ میں نہ آئے تو میں اسے مان وامان سے چلتا پھرتا ہونے کے باوجود اگر چاہوں گا تو زمین میں دھنسادوں گا۔ اور اس کی کوئی مدد نہ کروں گا۔ ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زیدانی لے جایا کرتا تھا اور اسی کرایہ پر میری گذر بسر تھی۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر مجھ سے کرایہ پر لیا۔ میں نے اسے سوار کیا اور چلا ایک جگہ جہاں دو راستے تھے جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا اس راہ پر چلو۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ سیدھی راہ یہی ہے۔ اس نے کہا نہیں میں پوری طرح واقف ہوں، یہ بہت نزدیک راستہ ہے۔ میں اس کے کہنے پر اسی راہ پر چلا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم پہنچ گئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ نہایت خطرناک جنگل ہے ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ میں سہم گیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے میں نے لگام تھام لی وہ اترا اور اپنا تہبند اونچا کرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا۔ میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑلیا میں اسے قسمیں دینے لگا لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔ میں نے کہا اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے اس نے کہا یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں تجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا میں نے اسے اللہ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا۔ اب میں مایوس ہوگیا اور مرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ اور اس سے منت سماجت کی کہ تم مجھے دو رکعت نماز ادا کرلینے دو۔ اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لے۔ میں نے نماز شروع کی لیکن اللہ کی قسم میری زبان سے قرآن کا ایک حرف نہیں نکلتا تھا۔ یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا تھا اور جلدی مچا رہا تھا اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آگئی آیت (اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوْۗءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ 62ۭ) 27۔ النمل :62) یعنی اللہ ہی ہے جو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور بےبسی بےکسی کو سختی اور مصیبت کو دور کردیتا ہے پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھا جو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہا ہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھونپ دیا جو اس کے جگر کے آر پار ہوگیا اور وہ اسی وقت بےجان ہو کر گرپڑا۔ سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور بہ الحاح کہنے لگا اللہ کے لئے یہ بتاؤ تم کون ہو ؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں بےکسوں اور بےبسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت اور آفت کو ٹال دیتا ہے میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنا سامان اور خچر لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔ اس قسم کا ایک واقعہ اور بھی ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے ایک جنگ میں کافروں سے شکست اٹھائی اور واپس لٹے۔ ان میں ایک مسلمان جو بڑے سخی اور نیک تھے ان کا گھوڑا جو بہت تیز رفتا تھا راستے میں اڑگیا۔ اس ولی اللہ نے بہت کوشش کی لیکن جانور نے قدم ہی نہ اٹھایا۔ آخر عاجز آکر اس نے کہا کیا بات ہے جو اڑ گیا۔ ایسے ہی موقعہ کے لئے تو میں نے تیری خدمت کی تھی اور تجھے پیار سے پالا تھا۔ گھوڑے کو اللہ نے زبان دی اس نے جواب دیا کہ وجہ یہ ہے کہ آپ میرا گھاس دانہ سائیس کو سونپ دیتے تھے اور وہ اس میں سے چرالیتا تھا مجھے بہت کم کھانے کو ملتا تھا اور مجھ پر ظلم کرتا تھا۔ اللہ کے نیک بندے نے کہا اب سے میں تجھے اپنی گود ہی میں کھلایا کرونگا جانور یہ سنتے ہی تیزی سے لپکا اور انہیں جائے امن تک پہنچادیا۔ حسب وعدہ اب سے یہ بزرگ اپنے اس جانور کو اپنی گود میں ہی کھلایا کرتا تھا۔ لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی انہوں نے کسی سے واقعہ کہہ دیا جس کی عام شہرت ہوگئی اور لوگ ان سے یہ واقعہ سننے کے لئے دور دور سے آنے لگے۔ شاہ روم کو جب اس کی خبر ملی تو انہوں نے چاہا کسی طرح ان کو اپنے شہر میں بلالے۔ بہت کوشش کی مگر بےسود رہیں۔ آخر میں انہوں نے ایک شخص بھیجا کہ کسی طرح حیلے بہانے کرکے ان کو بادشاہ تک پہنچادے۔ یہ شخص پہلے مسلمان تھا پھر مرتد ہوگیا تھا بادشاہ کے پاس سے یہاں آیا ان سے ملا اپنا اسلام ظاہر کیا اور نہایت نیک بن کر رہنے لگایہاں تک کہ اس ولی کو اس پر پورا اعتماد ہوگیا اور اسے صالح اور دیندار سمجھ کر اس سے دوستی کرلی اور ساتھ ساتھ لے کر پھرنے لگے۔ اس نے اپنا پورا رسوخ جماکر اپنی ظاہری دینداری کے فریب میں انہیں پھنسا کر بادشاہ کو اطلاع دی کہ فلاں وقت دریا کے کنارے ایک مضبوط جری شخص کو بھیجو میں انہیں وہاں لے کر آجاؤں گا اور اس شخص کی مدد سے اسکو گرفتار کرلوں گا۔ یہاں سے انہیں فریب دے کر چلا اور وہاں پہنچایا دفعتا ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے بزرگ پر حملہ کیا ادھر سے اس مرتد نے حملہ کیا اس نیک دل شخص نے اس وقت آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائیں اور دعا کی کہ اے اللہ ! اس شخص نے تیرے نام سے مجھے دھوکا دیا ہے میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ تو جس طرح چاہے مجھے ان دونوں سے بچالے۔ وہیں جنگل سے دو درندے دھاڑتے ہوئے آتے دکھائی دئیے اور ان دونوں شخصوں کو انہوں نے دبوچ لیا اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے چل دئیے اور یہ اللہ کا بندہ وہاں سے صحیح وسالم واپس تشریف لے آیا ؒ۔ اپنی اس شان رحمت کو بیان فرما کر پھر جناب باری کی طرف ارشاد ہوتا ہے کہ وہی تمہیں زمین کا جانشیں بناتا ہے۔ ایک ایک کے پیچھے آرہا ہے اور مسلسل سلسلہ چلا جارہا ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ0303) 4۔ النسآء :133) اگر وہ چاہے تو تم سب کو تو یہاں سے فنا کردے اور کسی اور ہی کو تمہارا جانشین بنادے جیسے کہ خو تمہیں دوسروں کا خلیفہ بنادیا ہے۔ اور آیت میں ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ01605) 6۔ الانعام :165) اس اللہ نے تمہیں زمینوں کا جانشین بنایا ہے اور تم میں سے ایک کو ایک پر درجوں میں بڑھا دیا ہے حضرت آدم ؑ کو بھی خلیفہ کہا گیا وہ اس اعتبار سے کہ ان کی اولاد ایک دوسرے کی جانشین ہوگی جیسے کہ آیت (وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ 30) 2۔ البقرة :30) کی تفسیر اور بیان گذر چکا ہے۔ اس آیت کے اس جملے سے بھی یہی مراد ہے کہ ایک کے بعد ایک، ایک زمانہ کے بعد دوسرا زمانہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم پس یہ اللہ کی قدرت ہے اس نے یہ کیا کہ ایک مرے ایک پیدا ہو۔ حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ان سے ان کی نسل پھیلائی اور دنیا میں ایک ایسا طریقہ رکھا کہ دنیا والوں کی روزیاں اور ان کی زندگیاں تنگ نہ ہوں ورنہ سارے انسان ایک ساتھ شاید زمین میں بہت تنگی سے گزارہ کرتے اور ایک سے ایک کو نقصانات پہنچتے۔ پس موجودہ نظام الٰہی اس کی حکمت کا ثبوت ہے سب کی پیدائش کا، موت کا آنے جانے کا وقت اس کے نزدیک مقرر ہے۔ ایک ایک اس کے علم میں ہے اس کی نگاہ سے کوئی اوجھل نہیں۔ وہ ایک دن ایسا بھی لانے والا ہے کہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے اور ان کے فیصلے کرے نیکی بدی کا بدلہ دے۔ اپنی قدرتوں کو بیان فرماتا ہے کوئی ہے جو ان کاموں کو کرسکتا ہو ؟ اور جب نہیں کرسکتا تو عبادت کے لائق بھی نہیں ہوسکتا ایسی صاف دلیلیں بھی بہت کم سوچی جاتی ہیں اور ان سے نصیحت بھی بہت کم لوگ حاصل کرتے ہیں۔
63
View Single
أَمَّن يَهۡدِيكُمۡ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَمَن يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦٓۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ تَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
Or He Who shows you the path in the darkness of the land and the sea, and He Who sends the winds before His mercy, heralding glad tidings? Is there a God along with Allah?! Supremacy is to Allah above all that they ascribe as partners!
بلکہ وہ کون ہے جو تمہیں خشک و تر (یعنی زمین اور سمندر) کی تاریکیوں میں راستہ دکھاتا ہے اور جو ہواؤں کو اپنی (بارانِ) رحمت سے پہلے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی) معبود ہے؟ اللہ ان (معبودانِ باطلہ) سے برتر ہے جنہیں وہ شریک ٹھہراتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(Is not He Who guides you in the darkness of the land and the sea,) meaning, by means of what He has created of heavenly and earthly signposts. This is like the Ayah,
وَعَلامَـتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ
(And landmarks and by the stars, they guide themselves.) (16:16)
وَهُوَ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُواْ بِهَا فِى ظُلُمَـتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
(It is He Who has set the stars for you, so that you may guide your course with their help through the darkness of the land and the sea...) (6:97)
وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًاَ بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِ
(and Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before His mercy) meaning, ahead of the clouds which bring rain, by means of which Allah shows His mercy to His servants who are suffering drought and despair.
أَءِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
(Is there any god with Allah Exalted be Allah above all that they associate as partners!)
ستاروں کے فوائد آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں کہ خشکی اور تری میں جو راہ بھول جائے وہ انہیں دیکھ کر راہ راست اختیار کرلے۔ جیسے فرمایا ہے کہ ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں سمندروں میں خشکی میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ ٹھیک کرلیتے ہیں بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔
64
View Single
أَمَّن يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Or He Who initiates the creation, then will create it again, and He Who provides you sustenance from the skies and the earth? Is there a God along with Allah?! Proclaim, “Bring your proof, if you are truthful!”
بلکہ وہ کون ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر اسی (عملِ تخلیق) کو دہرائے گا اور جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق عطا فرماتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور بھی)معبود ہے؟ فرما دیجئے: (اے مشرکو!) اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہو
Tafsir Ibn Kathir
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ - إِنَّهُ هُوَ يُبْدِىءُ وَيُعِيدُ
(Verily, the punishment of your Lord is severe and painful. Verily, He it is Who begins and repeats.) (85:12-13)
وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ
(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him.) (30:27)
وَمَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَآءِ والاٌّرْضِ
(and Who provides for you from heaven and earth) with the rain He sends down from the sky causing the blessings of the earth to grow, as He says elsewhere:
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ - وَالاّرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ
(By the sky which gives rain, again and again. And the earth which splits.) (86:11-12)
يَعْلَمُ مَا يَلْجُ فِى الاٌّرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا
(He knows that which goes into the earth and that which comes forth from it, and that which descends from the heaven and that which ascends to it) (34:2). Allah, may He be blessed and exalted, sends down water from the sky as a blessing, and causes it to penetrate the earth, and then come forth as springs. After that, by means of the water He brings forth all kinds of crops, fruits and flowers, in all their different forms and colors.
كُلُواْ وَارْعَوْا أَنْعَـمَكُمْ إِنَّ فِى ذلِكَ لأيَـتٍ لاٌّوْلِى النُّهَى
(Eat and pasture your cattle; verily, in this are signs for men of understanding) (20:54). Allah says:
أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ
(Is there any god with Allah) meaning, who did this Or, according to another interpretation: after this (who could be worth worship)
قُلْ هَاتُواْ بُرْهَـنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(Say: "Bring forth your proofs, if you are truthful.") Produce the evidence of that. But it is known that they have no proof or evidence, as Allah says:
وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَـهَا ءَاخَرَ لاَ بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الْكَـفِرُونَ
(And whoever invokes besides Allah, any other god, of whom he has no proof; then his reckoning is only with his Lord. Surely, the disbelievers will not be successful.) (23:117)
قدرت کاملہ کا ثبوت فرمان ہے کہ اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کو بےنمونہ پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں فنا کرکے دوبارہ پیدا کرے گا۔ جب تم اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر مان رہے ہو تو دوبارہ کی پیدائش جو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اس پر قادر کیوں نہیں مانتے ؟ آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ جیسے سورة طارق میں فرمایا پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم۔ اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْرُ) 34۔ سبأ :2) ، یعنی اللہ خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمان میں سما جائے اور جو زمین سے باہر اگ آئے۔ اور جو آسمان سے اترے اور جو اس پر چڑھے۔ پس آسمان سے مینہ برسانے والا اسے زمین میں ادھر اھر تک پہنچانے والا اور اسکی وجہ سے طرح طرح کے پھل پھول اناج گھاس پات اگانے والا وہی ہے جو تمہاری اور تمہارے جانوروں کی روزیاں ہیں۔ یقینا یہ تمام چیزیں صاحب عقل کے لئے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ اپنی ان قدرتوں کو اور اپنے ان گراں بہا احسانوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ کیا اللہ کے ساتھ ان کاموں کا کرنے والا کوئی اور بھی ہے ؟ جس کی عبادت کی جائے اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ماننے کے دعوے کو دلیل سے ثابت کرسکتے ہو تو وہ دلیل پیش کرو ؟ لیکن چونکہ وہ محض بےدلیل ہیں اس لئے دوسری آیت میں فرمادیا کہ اللہ کے ساتھ جو دوسرے کو بھی پوجے جس کی کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہ ہو وہ یقینا کافر ہے اور نجات سے محروم ہے۔
65
View Single
قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “None in the heavens and the earth know the hidden by themselves, except Allah; and they do not know when they will be raised.”
فرمادیجئے کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں (اَز خود) غیب کا علم نہیں رکھتے سوائے اللہ کے (وہ عالم بالذّات ہے) اور نہ ہی وہ یہ خبر رکھتے ہیں کہ وہ (دوبارہ زندہ کر کے) کب اٹھائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The One Who knows the Unseen is Allah
Allah commands His Messenger to inform all of creation that no one among the dwellers of heaven and earth knows the Unseen, except Allah.
إِلاَّ اللَّهُ
(except Allah) This is an absolute exception, meaning that no one knows this besides Allah, He is alone in that regard, having no partner in that knowledge. This is like the Ayat:
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Unseen, none knows them but He) (6:59).
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain) (31:34). until the end of the Surah. And there are many Ayat which mention similar things.
وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
(nor can they perceive when they shall be resurrected.) That is, the created beings who dwell in the heavens and on earth do not know when the Hour will occur, as Allah says:
ثَقُلَتْ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لاَ تَأْتِيكُمْ إِلاَّ بَغْتَةً
(Heavy is its burden through the heavens and the earth. It shall not come upon you except all of a sudden) (7: 187). meaning, it is a grave matter for the dwellers of heaven and earth.
بَلِ ادَرَكَ عِلْمُهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا
(Nay, their knowledge will perceive that in the Hereafter. Nay, they are in doubt about it.) means their knowledge and amazement stops short of knowing its time. Other scholars read this with the meaning "their knowledge is all the same with regard to that," which reflects the meaning of the Hadith in Sahih Muslim which states that the Messenger of Allah ﷺ said to Jibril, when the latter asked him when the Hour would come: s
«مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِل»
(The one who is being asked about it does not know any more than the one who is asking.) In other words, they were both equal in the fact that their knowledge did not extend that far.
بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا
(Nay, they are in doubt about it.) This refers to the disbelievers in general as Allah says elsewhere:
وَعُرِضُواْ عَلَى رَبِّكَ صَفَا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا
(And they will be set before your Lord in rows, (and Allah will say:) "Now indeed, you have come to Us as We created you the first time. Nay, but you thought that We had appointed no meeting for you (with Us). ") (18:48) i.e., the disbelievers among you. By the same token, Allah says here:
بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا
(Nay, they are in doubt about it.) meaning, they doubt that it will come to pass.
بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ
(Nay, they are in complete blindness about it.) They are blind and completely ignorant about it.
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَءِذَا كُنَّا تُرَاباً وَءَابَآؤُنَآ أَءِنَّا لَمُخْرَجُونَ - لَقَدْ وُعِدْنَا هَـذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرادیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ 34) 31۔ لقمان :34) اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے وہی مادہ کے پیٹ کے بچے سے واقف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا نہ کسی کو یہ خبر کہ وہ کہاں مرے گا ؟ علیم وخبیر صرف اللہ ہی ہے۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ مخلوق تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قیامت کب آئے گی۔ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں میں سے ایک بھی واقف نہیں کہ قیامت کا دن کون سا ہے ؟ جیسے فرمان ہے آیت (ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ01807) 7۔ الاعراف :187) سب پر یہ علم مشکل ہے اور بوجھل ہے وہ تو اچانک آجائے گی۔ حضرت صدیقہ ؓ کا فرمان ہے جو کہے کہ حضور کل کائنات کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لئے کہ اللہ فرماتا ہے زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں۔ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں تین فائدے رکھے ہیں۔ آسمان کی زینت بھولے بھٹکوں کی رہبری اور شیطانوں کی مار۔ کسی اور بات کا ان کیساتھ عقیدہ رکھنا اپنی رائے سے بات بنانا اور خود ساختہ تکلیف اور اپنی عاقبت کے حصہ کو کھونا ہے۔ جاہلوں نے ستاروں کے ساتھ علم نجوم کو معلق رکھ کر فضول باتیں بنائی ہیں کہ اس ستارے کے وقت جو نکاح کرے یوں ہوگا فلاں ستارے کے موقعہ پر سفر کرنے سے یہ ہوتا ہے فلاں ستارے کے وقت جو تولد ہوا وہ ایسا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکو سلے ہیں انکی بکواس کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے ہر ستارے کے وقت کالا گورا ٹھنگنا لمبا خوبصورت بد شکل پیدا ہوتا ہی رہتا ہے۔ نہ کوئی جانور غیب جانے نہ کسی پرند سے غیب حاصل ہوسکے نہ ستارے غیب کی رہنمائی کریں۔ سنو اللہ کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق غیب سے بیخبر ہے۔ انہیں تو اپنے جی اٹھنے کا وقت بھی نہیں معلوم ہے (ابن ابی حاتم) سبحان اللہ حضرت قتادہ کا یہ قول کتنا صحیح کس قدر مفید اور معلومات سے پر ہے۔ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان کے علم آخرت کے وقت کے جاننے سے قاصر ہیں عاجز ہوگئے ہیں۔ ایک قرأت میں بل ادرک ہے یعنی سب کے علم آخرت کا صحیح وقت نہ جاننے میں برابر ہیں۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرا اور تیرا دونوں کا علم اس کے جواب سے عاجز ہے۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ آخرت سے ان کے علم غائب ہیں۔ چونکہ کفار اپنے رب سے جاہل ہیں اس لئے آخرت کے بھی منکر ہیں۔ وہاں تک ان کے علم پہنچتے ہی نہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آخرت میں ان کو علم حاصل ہوگا لیکن بےسود۔ جیسے اور جگہ بھی ہیں کہ جس دن یہ ہمارے پاس پہنچے گے بڑے ہی دانا وبینا ہوجائیں گے۔ لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہونگے۔ پھر فرماتا ہے کہ بلکہ یہ تو شک ہی میں ہیں اس سے مراد کافر ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا 48) 18۔ الكهف :48) یعنی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے صف بستہ پیش کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہم نے جس طرح تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب ہم تمہیں دوبارہ لے آئے ہیں لیکن تم تو یہ سمجھتے رہے کہ قیامت تو کوئی چیز ہی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سے کافر یہ سمجھتے رہیں۔ گو مندرجہ بالا آیات بھی گو ضمیر جنس کی طرف لوٹتی ہے لیکن مراد کفار ہی ہیں اسی لیے آخر میں فرمایا کہ یہ تو اس سے اندھاپے میں ہیں، نابینا ہو رہے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
66
View Single
بَلِ ٱدَّـٰرَكَ عِلۡمُهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّنۡهَاۖ بَلۡ هُم مِّنۡهَا عَمُونَ
Has their knowledge advanced so much as to know the Hereafter? On the contrary, they are in doubt concerning it; in fact they are blind towards it.
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم (اپنی) انتہاء کو پہنچ کر منقطع ہوگیا، مگر وہ اس سے متعلق محض شک میں ہی (مبتلاء) ہیں، بلکہ وہ اس (کے علمِ قطعی) سے اندھے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The One Who knows the Unseen is Allah
Allah commands His Messenger to inform all of creation that no one among the dwellers of heaven and earth knows the Unseen, except Allah.
إِلاَّ اللَّهُ
(except Allah) This is an absolute exception, meaning that no one knows this besides Allah, He is alone in that regard, having no partner in that knowledge. This is like the Ayat:
وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ
(And with Him are the keys of the Unseen, none knows them but He) (6:59).
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain) (31:34). until the end of the Surah. And there are many Ayat which mention similar things.
وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
(nor can they perceive when they shall be resurrected.) That is, the created beings who dwell in the heavens and on earth do not know when the Hour will occur, as Allah says:
ثَقُلَتْ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ لاَ تَأْتِيكُمْ إِلاَّ بَغْتَةً
(Heavy is its burden through the heavens and the earth. It shall not come upon you except all of a sudden) (7: 187). meaning, it is a grave matter for the dwellers of heaven and earth.
بَلِ ادَرَكَ عِلْمُهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا
(Nay, their knowledge will perceive that in the Hereafter. Nay, they are in doubt about it.) means their knowledge and amazement stops short of knowing its time. Other scholars read this with the meaning "their knowledge is all the same with regard to that," which reflects the meaning of the Hadith in Sahih Muslim which states that the Messenger of Allah ﷺ said to Jibril, when the latter asked him when the Hour would come: s
«مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِل»
(The one who is being asked about it does not know any more than the one who is asking.) In other words, they were both equal in the fact that their knowledge did not extend that far.
بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا
(Nay, they are in doubt about it.) This refers to the disbelievers in general as Allah says elsewhere:
وَعُرِضُواْ عَلَى رَبِّكَ صَفَا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَـكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا
(And they will be set before your Lord in rows, (and Allah will say:) "Now indeed, you have come to Us as We created you the first time. Nay, but you thought that We had appointed no meeting for you (with Us). ") (18:48) i.e., the disbelievers among you. By the same token, Allah says here:
بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا
(Nay, they are in doubt about it.) meaning, they doubt that it will come to pass.
بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ
(Nay, they are in complete blindness about it.) They are blind and completely ignorant about it.
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَءِذَا كُنَّا تُرَاباً وَءَابَآؤُنَآ أَءِنَّا لَمُخْرَجُونَ - لَقَدْ وُعِدْنَا هَـذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرادیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59) 6۔ الانعام :59) یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ 34) 31۔ لقمان :34) اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے وہی مادہ کے پیٹ کے بچے سے واقف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا نہ کسی کو یہ خبر کہ وہ کہاں مرے گا ؟ علیم وخبیر صرف اللہ ہی ہے۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ مخلوق تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قیامت کب آئے گی۔ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں میں سے ایک بھی واقف نہیں کہ قیامت کا دن کون سا ہے ؟ جیسے فرمان ہے آیت (ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ01807) 7۔ الاعراف :187) سب پر یہ علم مشکل ہے اور بوجھل ہے وہ تو اچانک آجائے گی۔ حضرت صدیقہ ؓ کا فرمان ہے جو کہے کہ حضور کل کائنات کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لئے کہ اللہ فرماتا ہے زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں۔ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں تین فائدے رکھے ہیں۔ آسمان کی زینت بھولے بھٹکوں کی رہبری اور شیطانوں کی مار۔ کسی اور بات کا ان کیساتھ عقیدہ رکھنا اپنی رائے سے بات بنانا اور خود ساختہ تکلیف اور اپنی عاقبت کے حصہ کو کھونا ہے۔ جاہلوں نے ستاروں کے ساتھ علم نجوم کو معلق رکھ کر فضول باتیں بنائی ہیں کہ اس ستارے کے وقت جو نکاح کرے یوں ہوگا فلاں ستارے کے موقعہ پر سفر کرنے سے یہ ہوتا ہے فلاں ستارے کے وقت جو تولد ہوا وہ ایسا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکو سلے ہیں انکی بکواس کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے ہر ستارے کے وقت کالا گورا ٹھنگنا لمبا خوبصورت بد شکل پیدا ہوتا ہی رہتا ہے۔ نہ کوئی جانور غیب جانے نہ کسی پرند سے غیب حاصل ہوسکے نہ ستارے غیب کی رہنمائی کریں۔ سنو اللہ کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ آسمان و زمین کی کل مخلوق غیب سے بیخبر ہے۔ انہیں تو اپنے جی اٹھنے کا وقت بھی نہیں معلوم ہے (ابن ابی حاتم) سبحان اللہ حضرت قتادہ کا یہ قول کتنا صحیح کس قدر مفید اور معلومات سے پر ہے۔ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان کے علم آخرت کے وقت کے جاننے سے قاصر ہیں عاجز ہوگئے ہیں۔ ایک قرأت میں بل ادرک ہے یعنی سب کے علم آخرت کا صحیح وقت نہ جاننے میں برابر ہیں۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل ؑ کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرا اور تیرا دونوں کا علم اس کے جواب سے عاجز ہے۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ آخرت سے ان کے علم غائب ہیں۔ چونکہ کفار اپنے رب سے جاہل ہیں اس لئے آخرت کے بھی منکر ہیں۔ وہاں تک ان کے علم پہنچتے ہی نہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آخرت میں ان کو علم حاصل ہوگا لیکن بےسود۔ جیسے اور جگہ بھی ہیں کہ جس دن یہ ہمارے پاس پہنچے گے بڑے ہی دانا وبینا ہوجائیں گے۔ لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہونگے۔ پھر فرماتا ہے کہ بلکہ یہ تو شک ہی میں ہیں اس سے مراد کافر ہے جیسے فرمان ہے آیت (وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا 48) 18۔ الكهف :48) یعنی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے صف بستہ پیش کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہم نے جس طرح تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب ہم تمہیں دوبارہ لے آئے ہیں لیکن تم تو یہ سمجھتے رہے کہ قیامت تو کوئی چیز ہی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سے کافر یہ سمجھتے رہیں۔ گو مندرجہ بالا آیات بھی گو ضمیر جنس کی طرف لوٹتی ہے لیکن مراد کفار ہی ہیں اسی لیے آخر میں فرمایا کہ یہ تو اس سے اندھاپے میں ہیں، نابینا ہو رہے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
67
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبٗا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخۡرَجُونَ
And the disbelievers said, “Will we, when we and our forefathers have turned into dust, be removed again?”
اور کافر لوگ کہتے ہیں: کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا (مَر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم (پھر زندہ کر کے قبروں میں سے) نکالے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Scepticism about the Resurrection and Its Refutation
Allah tells us about the idolators who deny the Resurrection, considering it extremely unlikely that bodies will be re-created after they have become bones and dust. Then He says:
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ
(Indeed we were promised this -- we and our forefathers before,) meaning, `we and our forefathers have been hearing this for a long time, but in reality, we have never seen it happen.'
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(verily, these are nothing but tales of ancients.) the promises that bodies will be restored are
إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(nothing but tales of ancients.) meaning that they were taken by the people who came before us from books which were handed down from one to the other, but they have no basis in reality. Responding to their thoughts of disbelief and their belief that there would be no Resurrection, Allah said,
قُلْ
(Say) `O Muhammad, to these people,'
سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَاْنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
(Travel in the land and see how has been the end of the criminals. ) meaning, those who denied the Messengers and their message of the Resurrection and other matters. See how the punishment and vengeance of Allah struck them and how Allah saved from among them the noble Messengers and the believers who followed them. This will be an indication of the truth of the Message brought by the Messengers. Then, to comfort the Prophet , Allah says:
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ
(And grieve you not over them,) meaning, `but do not feel sorry for them or kill yourself with regret for them,'
وَلاَ تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ
(nor be straitened because of what they plot.) means, `because they plot against you and reject what you have brought, for Allah will help and support you, and cause your religion to prevail over those who oppose you and stubbornly resist you in the east and in the west.'
حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔
68
View Single
لَقَدۡ وُعِدۡنَا هَٰذَا نَحۡنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
“Indeed this promise was given to us, and before us to our forefathers – this is nothing but stories of former people.”
درحقیقت اس کا وعدہ ہم سے (بھی) کیا گیا اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے (بھی)، یہ اگلے لوگوں کے من گھڑت افسانوں کے سوا کچھ نہیں
Tafsir Ibn Kathir
Scepticism about the Resurrection and Its Refutation
Allah tells us about the idolators who deny the Resurrection, considering it extremely unlikely that bodies will be re-created after they have become bones and dust. Then He says:
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ
(Indeed we were promised this -- we and our forefathers before,) meaning, `we and our forefathers have been hearing this for a long time, but in reality, we have never seen it happen.'
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(verily, these are nothing but tales of ancients.) the promises that bodies will be restored are
إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(nothing but tales of ancients.) meaning that they were taken by the people who came before us from books which were handed down from one to the other, but they have no basis in reality. Responding to their thoughts of disbelief and their belief that there would be no Resurrection, Allah said,
قُلْ
(Say) `O Muhammad, to these people,'
سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَاْنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
(Travel in the land and see how has been the end of the criminals. ) meaning, those who denied the Messengers and their message of the Resurrection and other matters. See how the punishment and vengeance of Allah struck them and how Allah saved from among them the noble Messengers and the believers who followed them. This will be an indication of the truth of the Message brought by the Messengers. Then, to comfort the Prophet , Allah says:
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ
(And grieve you not over them,) meaning, `but do not feel sorry for them or kill yourself with regret for them,'
وَلاَ تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ
(nor be straitened because of what they plot.) means, `because they plot against you and reject what you have brought, for Allah will help and support you, and cause your religion to prevail over those who oppose you and stubbornly resist you in the east and in the west.'
حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔
69
View Single
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
“Proclaim, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Travel in the land and see what sort of fate befell the guilty.”
فرما دیجئے: تم زمین میں سیر و سیاحت کرو پھر دیکھو مجرموں کا انجام کیسا ہوا
Tafsir Ibn Kathir
Scepticism about the Resurrection and Its Refutation
Allah tells us about the idolators who deny the Resurrection, considering it extremely unlikely that bodies will be re-created after they have become bones and dust. Then He says:
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ
(Indeed we were promised this -- we and our forefathers before,) meaning, `we and our forefathers have been hearing this for a long time, but in reality, we have never seen it happen.'
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(verily, these are nothing but tales of ancients.) the promises that bodies will be restored are
إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(nothing but tales of ancients.) meaning that they were taken by the people who came before us from books which were handed down from one to the other, but they have no basis in reality. Responding to their thoughts of disbelief and their belief that there would be no Resurrection, Allah said,
قُلْ
(Say) `O Muhammad, to these people,'
سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَاْنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
(Travel in the land and see how has been the end of the criminals. ) meaning, those who denied the Messengers and their message of the Resurrection and other matters. See how the punishment and vengeance of Allah struck them and how Allah saved from among them the noble Messengers and the believers who followed them. This will be an indication of the truth of the Message brought by the Messengers. Then, to comfort the Prophet , Allah says:
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ
(And grieve you not over them,) meaning, `but do not feel sorry for them or kill yourself with regret for them,'
وَلاَ تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ
(nor be straitened because of what they plot.) means, `because they plot against you and reject what you have brought, for Allah will help and support you, and cause your religion to prevail over those who oppose you and stubbornly resist you in the east and in the west.'
حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔
70
View Single
وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُن فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ
And do not grieve upon them, nor be distressed because of their scheming.
اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ ان (کی باتوں) پر غم زدہ نہ ہوا کریں اور نہ اس مکر و فریب کے باعث جو وہ کر رہے ہیں تنگ دلی میں (مبتلاء) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
Scepticism about the Resurrection and Its Refutation
Allah tells us about the idolators who deny the Resurrection, considering it extremely unlikely that bodies will be re-created after they have become bones and dust. Then He says:
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ
(Indeed we were promised this -- we and our forefathers before,) meaning, `we and our forefathers have been hearing this for a long time, but in reality, we have never seen it happen.'
إِنْ هَـذَآ إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(verily, these are nothing but tales of ancients.) the promises that bodies will be restored are
إِلاَّ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
(nothing but tales of ancients.) meaning that they were taken by the people who came before us from books which were handed down from one to the other, but they have no basis in reality. Responding to their thoughts of disbelief and their belief that there would be no Resurrection, Allah said,
قُلْ
(Say) `O Muhammad, to these people,'
سِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَاْنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ
(Travel in the land and see how has been the end of the criminals. ) meaning, those who denied the Messengers and their message of the Resurrection and other matters. See how the punishment and vengeance of Allah struck them and how Allah saved from among them the noble Messengers and the believers who followed them. This will be an indication of the truth of the Message brought by the Messengers. Then, to comfort the Prophet , Allah says:
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ
(And grieve you not over them,) meaning, `but do not feel sorry for them or kill yourself with regret for them,'
وَلاَ تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ
(nor be straitened because of what they plot.) means, `because they plot against you and reject what you have brought, for Allah will help and support you, and cause your religion to prevail over those who oppose you and stubbornly resist you in the east and in the west.'
حیات ثانی کے منکر یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہوجانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے ؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا ؟ ہلاک اور تباہ ہوگئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ پھر اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بےفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔
71
View Single
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
And they say, “When will this promise come, if you are truthful?”
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) یہ (عذابِ آخرت کا) وعدہ کب پورا ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(And they say: "When (will) this promise (be fulfilled), if you are truthful") Allah said, responding to them:
قُلْ
(Say) `O Muhammad,'
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ
(Perhaps that which you wish to hasten on, may be close behind you.) Ibn `Abbas said, "That which you wish to hasten on has come close to you, or some of it has come close." This was also the view of Mujahid, Ad-Dahhak, `Ata Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi. This is also what is meant in the Ayat:
وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيبًا
(And they say: "When will that be" Say: "Perhaps it is near!") (17:51)
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers) (29:54).
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم
(may be close behind you.) means, it is being hastened for you. This was reported from Mujahid. Then Allah says:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ
(Verily, your Lord is full of grace for mankind,) meaning, He abundantly bestows His blessings on them even though they wrong themselves, yet despite that they do not give thanks for those blessings, except for a few of them.
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
(And verily, your Lord knows what their breasts conceal and what they reveal.) means, He knows what is hidden in their hearts just as He knows what is easily visible.
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly) (13:10),
يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى
(He knows the secret and that which is yet more hidden) (20: 7),
أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
(Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal) (11:5). Then Allah tells us that He is the Knower of the unseen in the heavens and on earth, and that He is the Knower of the unseen and the seen, i.e., that which is unseen by His servants and that which they can see. And Allah says:
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ
(and there is nothing hidden) Ibn `Abbas said, "This means, there is nothing
فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(in the heaven and the earth but it is in a Clear Book.) This is like the Ayah,
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِنَّ ذلِكَ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.) (22:70)
قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔
72
View Single
قُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي تَسۡتَعۡجِلُونَ
Say, “It could be that a part of what you are impatient for is (already) after you.”
فرما دیجئے: کچھ بعید نہیں کہ اس (عذاب) کا کچھ حصہ تمہارے نزدیک ہی آپہنچا ہو جسے تم بہت جلد طلب کر رہے ہو
Tafsir Ibn Kathir
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(And they say: "When (will) this promise (be fulfilled), if you are truthful") Allah said, responding to them:
قُلْ
(Say) `O Muhammad,'
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ
(Perhaps that which you wish to hasten on, may be close behind you.) Ibn `Abbas said, "That which you wish to hasten on has come close to you, or some of it has come close." This was also the view of Mujahid, Ad-Dahhak, `Ata Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi. This is also what is meant in the Ayat:
وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيبًا
(And they say: "When will that be" Say: "Perhaps it is near!") (17:51)
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers) (29:54).
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم
(may be close behind you.) means, it is being hastened for you. This was reported from Mujahid. Then Allah says:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ
(Verily, your Lord is full of grace for mankind,) meaning, He abundantly bestows His blessings on them even though they wrong themselves, yet despite that they do not give thanks for those blessings, except for a few of them.
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
(And verily, your Lord knows what their breasts conceal and what they reveal.) means, He knows what is hidden in their hearts just as He knows what is easily visible.
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly) (13:10),
يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى
(He knows the secret and that which is yet more hidden) (20: 7),
أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
(Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal) (11:5). Then Allah tells us that He is the Knower of the unseen in the heavens and on earth, and that He is the Knower of the unseen and the seen, i.e., that which is unseen by His servants and that which they can see. And Allah says:
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ
(and there is nothing hidden) Ibn `Abbas said, "This means, there is nothing
فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(in the heaven and the earth but it is in a Clear Book.) This is like the Ayah,
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِنَّ ذلِكَ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.) (22:70)
قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔
73
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَشۡكُرُونَ
Indeed your Lord is Most Munificent upon mankind, but most men do not give thanks.
اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر فضل (فرمانے) والا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(And they say: "When (will) this promise (be fulfilled), if you are truthful") Allah said, responding to them:
قُلْ
(Say) `O Muhammad,'
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ
(Perhaps that which you wish to hasten on, may be close behind you.) Ibn `Abbas said, "That which you wish to hasten on has come close to you, or some of it has come close." This was also the view of Mujahid, Ad-Dahhak, `Ata Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi. This is also what is meant in the Ayat:
وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيبًا
(And they say: "When will that be" Say: "Perhaps it is near!") (17:51)
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers) (29:54).
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم
(may be close behind you.) means, it is being hastened for you. This was reported from Mujahid. Then Allah says:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ
(Verily, your Lord is full of grace for mankind,) meaning, He abundantly bestows His blessings on them even though they wrong themselves, yet despite that they do not give thanks for those blessings, except for a few of them.
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
(And verily, your Lord knows what their breasts conceal and what they reveal.) means, He knows what is hidden in their hearts just as He knows what is easily visible.
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly) (13:10),
يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى
(He knows the secret and that which is yet more hidden) (20: 7),
أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
(Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal) (11:5). Then Allah tells us that He is the Knower of the unseen in the heavens and on earth, and that He is the Knower of the unseen and the seen, i.e., that which is unseen by His servants and that which they can see. And Allah says:
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ
(and there is nothing hidden) Ibn `Abbas said, "This means, there is nothing
فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(in the heaven and the earth but it is in a Clear Book.) This is like the Ayah,
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِنَّ ذلِكَ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.) (22:70)
قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔
74
View Single
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ
And indeed your Lord knows what is hidden in their bosoms, and what they disclose.
اور بیشک آپ کا رب ان (باتوں) کو ضرور جانتا ہے جو ان کے سینے (اندر) چھپائے ہوئے ہیں اور (ان باتوں کو بھی) جو یہ آشکار کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(And they say: "When (will) this promise (be fulfilled), if you are truthful") Allah said, responding to them:
قُلْ
(Say) `O Muhammad,'
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ
(Perhaps that which you wish to hasten on, may be close behind you.) Ibn `Abbas said, "That which you wish to hasten on has come close to you, or some of it has come close." This was also the view of Mujahid, Ad-Dahhak, `Ata Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi. This is also what is meant in the Ayat:
وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيبًا
(And they say: "When will that be" Say: "Perhaps it is near!") (17:51)
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers) (29:54).
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم
(may be close behind you.) means, it is being hastened for you. This was reported from Mujahid. Then Allah says:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ
(Verily, your Lord is full of grace for mankind,) meaning, He abundantly bestows His blessings on them even though they wrong themselves, yet despite that they do not give thanks for those blessings, except for a few of them.
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
(And verily, your Lord knows what their breasts conceal and what they reveal.) means, He knows what is hidden in their hearts just as He knows what is easily visible.
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly) (13:10),
يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى
(He knows the secret and that which is yet more hidden) (20: 7),
أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
(Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal) (11:5). Then Allah tells us that He is the Knower of the unseen in the heavens and on earth, and that He is the Knower of the unseen and the seen, i.e., that which is unseen by His servants and that which they can see. And Allah says:
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ
(and there is nothing hidden) Ibn `Abbas said, "This means, there is nothing
فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(in the heaven and the earth but it is in a Clear Book.) This is like the Ayah,
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِنَّ ذلِكَ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.) (22:70)
قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔
75
View Single
وَمَا مِنۡ غَآئِبَةٖ فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٍ
And all the hidden secrets of the heavens and the earth are (written) in a clear Book. (The Preserved Tablet)
اور آسمان اور زمین میں کوئی (بھی) پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) روشن کتاب (لوح ِمحفوظ) میں (درج) ہے
Tafsir Ibn Kathir
وَيَقُولُونَ مَتَى هَـذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ
(And they say: "When (will) this promise (be fulfilled), if you are truthful") Allah said, responding to them:
قُلْ
(Say) `O Muhammad,'
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ
(Perhaps that which you wish to hasten on, may be close behind you.) Ibn `Abbas said, "That which you wish to hasten on has come close to you, or some of it has come close." This was also the view of Mujahid, Ad-Dahhak, `Ata Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi. This is also what is meant in the Ayat:
وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيبًا
(And they say: "When will that be" Say: "Perhaps it is near!") (17:51)
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(They ask you to hasten on the torment. And verily, Hell, of a surety, will encompass the disbelievers) (29:54).
عَسَى أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم
(may be close behind you.) means, it is being hastened for you. This was reported from Mujahid. Then Allah says:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ
(Verily, your Lord is full of grace for mankind,) meaning, He abundantly bestows His blessings on them even though they wrong themselves, yet despite that they do not give thanks for those blessings, except for a few of them.
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ
(And verily, your Lord knows what their breasts conceal and what they reveal.) means, He knows what is hidden in their hearts just as He knows what is easily visible.
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ
(It is the same (to Him) whether any of you conceals his speech or declares it openly) (13:10),
يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى
(He knows the secret and that which is yet more hidden) (20: 7),
أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
(Surely, even when they cover themselves with their garments, He knows what they conceal and what they reveal) (11:5). Then Allah tells us that He is the Knower of the unseen in the heavens and on earth, and that He is the Knower of the unseen and the seen, i.e., that which is unseen by His servants and that which they can see. And Allah says:
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ
(and there is nothing hidden) Ibn `Abbas said, "This means, there is nothing
فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ
(in the heaven and the earth but it is in a Clear Book.) This is like the Ayah,
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَآءِ وَالاٌّرْضِ إِنَّ ذلِكَ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
(Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.) (22:70)
قیامت کے منکر مشرک چونکہ قیامت کے آنے کے قائل ہی نہیں۔ جرات سے اسے جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ کب آئے گی۔ جناب باری کی طرف سے بواسطہ رسول اللہ ﷺ جواب مل رہا ہے کہ ممکن ہے وہ بالکل ہی قریب آگئی ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51) 17۔ الإسراء :51) اور جگہ ہے یہ عذابوں کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جہنم تو کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ لکم کا لام ردف کے عجل کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ جیسے کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے تو انسانوں پر بہت ہی فضل وکرم ہیں۔ ان کی بیشمار نعمتیں ان کے پاس ہیں تاہم ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ جس طرح تمام ظاہر امور اس پر آشکارا ہیں اسی طرح تمام باطنی امور بھی اس پر ظاہر ہیں۔ جیسے فرمایا (سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 10) 13۔ الرعد :10) ، اور آیت میں ہے (يَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰي) 20۔ طه :7) اور آیت میں ہے (اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) مطلب یہی ہے کہ ہر ظاہر وباطن کا وہ عالم ہے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ ہر غائب حاضر کا اسے علم ہے وہ علام الغیوب ہے۔ آسمان و زمین کی تمام چیزیں خواہ تم کو ان کا علم ہو یا نہ ہو اللہ کے ہاں کھلی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا اللہ عالم ہے۔ سب کچھ کتاب میں موجود ہے اللہ پر سب کچھ آسان ہے۔
76
View Single
إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَكۡثَرَ ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Indeed this Qur’an narrates to the Descendants of Israel most of the matters in which they differ.
بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے وہ بیشتر چیزیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them
Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains. He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil.
أَكْثَرَ الَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(most of that in which they differ.) such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says:
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt) (19:34).
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤمِنِينَ
(And truly, it is a guide and a mercy for the believers.) meaning, it is guidance for the hearts of those who believe in it, and a mercy to them. Then Allah says:
إِن رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم
(Verily, your Lord will decide between them) meaning, on the Day of Resurrection,
بِحُكْمِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ
(by His judgement. And He is the All-Mighty,) means, in His vengeance,
الْعَلِيمُ
(the All-Knowing.) Who knows all that His servants do and say.
The Command to put One's Trust in Allah and to convey the Message
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(So, put your trust in Allah;) in all your affairs, and convey the Message of your Lord.
إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ
(surely, you are on manifest truth.) meaning, you are following manifest truth, even though you are opposed by those who oppose you because they are doomed. The Word of your Lord has been justified against them, so that they will not believe even if all the signs are brought to them. Allah says:
إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى
(Verily, you cannot make the dead to hear) meaning, you cannot cause them to hear anything that will benefit them. The same applies to those over whose hearts is a veil and in whose ears is deafness of disbelief. Allah says:
وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَادِى الْعُمْىِ عَن ضَلَـلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُؤْمِنُ بِـئَايَـتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ-
(nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs. Nor can you lead the blind out of their error. You can only make to hear those who believe in Our Ayat, so they submit (became Muslims).) meaning, those who have hearing and insight will respond to you, those whose hearing and sight are of benefit to their hearts and who are humble towards Allah and to the Message that comes to them through the mouths of the Messengers, may peace be upon them.
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔
77
View Single
وَإِنَّهُۥ لَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
And indeed it is a guidance and a mercy for the Muslims.
اور بیشک یہ ہدایت ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them
Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains. He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil.
أَكْثَرَ الَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(most of that in which they differ.) such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says:
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt) (19:34).
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤمِنِينَ
(And truly, it is a guide and a mercy for the believers.) meaning, it is guidance for the hearts of those who believe in it, and a mercy to them. Then Allah says:
إِن رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم
(Verily, your Lord will decide between them) meaning, on the Day of Resurrection,
بِحُكْمِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ
(by His judgement. And He is the All-Mighty,) means, in His vengeance,
الْعَلِيمُ
(the All-Knowing.) Who knows all that His servants do and say.
The Command to put One's Trust in Allah and to convey the Message
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(So, put your trust in Allah;) in all your affairs, and convey the Message of your Lord.
إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ
(surely, you are on manifest truth.) meaning, you are following manifest truth, even though you are opposed by those who oppose you because they are doomed. The Word of your Lord has been justified against them, so that they will not believe even if all the signs are brought to them. Allah says:
إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى
(Verily, you cannot make the dead to hear) meaning, you cannot cause them to hear anything that will benefit them. The same applies to those over whose hearts is a veil and in whose ears is deafness of disbelief. Allah says:
وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَادِى الْعُمْىِ عَن ضَلَـلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُؤْمِنُ بِـئَايَـتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ-
(nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs. Nor can you lead the blind out of their error. You can only make to hear those who believe in Our Ayat, so they submit (became Muslims).) meaning, those who have hearing and insight will respond to you, those whose hearing and sight are of benefit to their hearts and who are humble towards Allah and to the Message that comes to them through the mouths of the Messengers, may peace be upon them.
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔
78
View Single
إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُم بِحُكۡمِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡعَلِيمُ
Indeed your Lord judges between them with His command; and He is the Almighty, the All Knowing.
اور بیشک آپ کا رب ان (مومنوں اور کافروں) کے درمیان اپنے حکم (عدل) سے فیصلہ فرمائے گا، اور وہ غالب ہے بہت جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them
Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains. He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil.
أَكْثَرَ الَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(most of that in which they differ.) such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says:
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt) (19:34).
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤمِنِينَ
(And truly, it is a guide and a mercy for the believers.) meaning, it is guidance for the hearts of those who believe in it, and a mercy to them. Then Allah says:
إِن رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم
(Verily, your Lord will decide between them) meaning, on the Day of Resurrection,
بِحُكْمِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ
(by His judgement. And He is the All-Mighty,) means, in His vengeance,
الْعَلِيمُ
(the All-Knowing.) Who knows all that His servants do and say.
The Command to put One's Trust in Allah and to convey the Message
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(So, put your trust in Allah;) in all your affairs, and convey the Message of your Lord.
إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ
(surely, you are on manifest truth.) meaning, you are following manifest truth, even though you are opposed by those who oppose you because they are doomed. The Word of your Lord has been justified against them, so that they will not believe even if all the signs are brought to them. Allah says:
إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى
(Verily, you cannot make the dead to hear) meaning, you cannot cause them to hear anything that will benefit them. The same applies to those over whose hearts is a veil and in whose ears is deafness of disbelief. Allah says:
وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَادِى الْعُمْىِ عَن ضَلَـلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُؤْمِنُ بِـئَايَـتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ-
(nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs. Nor can you lead the blind out of their error. You can only make to hear those who believe in Our Ayat, so they submit (became Muslims).) meaning, those who have hearing and insight will respond to you, those whose hearing and sight are of benefit to their hearts and who are humble towards Allah and to the Message that comes to them through the mouths of the Messengers, may peace be upon them.
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔
79
View Single
فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنَّكَ عَلَى ٱلۡحَقِّ ٱلۡمُبِينِ
Therefore rely on Allah; you are indeed upon the clear Truth.
پس آپ اللہ پر بھروسہ کریں بیشک آپ صریح حق پر (قائم اور فائز) ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them
Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains. He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil.
أَكْثَرَ الَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(most of that in which they differ.) such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says:
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt) (19:34).
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤمِنِينَ
(And truly, it is a guide and a mercy for the believers.) meaning, it is guidance for the hearts of those who believe in it, and a mercy to them. Then Allah says:
إِن رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم
(Verily, your Lord will decide between them) meaning, on the Day of Resurrection,
بِحُكْمِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ
(by His judgement. And He is the All-Mighty,) means, in His vengeance,
الْعَلِيمُ
(the All-Knowing.) Who knows all that His servants do and say.
The Command to put One's Trust in Allah and to convey the Message
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(So, put your trust in Allah;) in all your affairs, and convey the Message of your Lord.
إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ
(surely, you are on manifest truth.) meaning, you are following manifest truth, even though you are opposed by those who oppose you because they are doomed. The Word of your Lord has been justified against them, so that they will not believe even if all the signs are brought to them. Allah says:
إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى
(Verily, you cannot make the dead to hear) meaning, you cannot cause them to hear anything that will benefit them. The same applies to those over whose hearts is a veil and in whose ears is deafness of disbelief. Allah says:
وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَادِى الْعُمْىِ عَن ضَلَـلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُؤْمِنُ بِـئَايَـتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ-
(nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs. Nor can you lead the blind out of their error. You can only make to hear those who believe in Our Ayat, so they submit (became Muslims).) meaning, those who have hearing and insight will respond to you, those whose hearing and sight are of benefit to their hearts and who are humble towards Allah and to the Message that comes to them through the mouths of the Messengers, may peace be upon them.
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔
80
View Single
إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ
Indeed the dead* do not listen to your call nor do the deaf* listen to your call, when they flee turning back. (The dead and deaf implies the disbelievers.)
(اے حبیب!) بے شک آپ نہ تو اِن مردوں (یعنی حیات ایمانی سے محروم کافروں) کو اپنی پکار سناتے ہیں اور نہ ہی (صدائے حق کی سماعت سے محروم) بہروں کو، جب کہ وہ (آپ ہی سے) پیٹھ پھیرے جا رہے ہوں ٭o٭ یہاں پر الْمَوْتٰی (مُردوں) اور الصُّمَّ (بہروں) سے مراد کافر ہیں۔ صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم سے بھی یہی معنٰی مروی ہے۔ مختلف تفاسیر سے حوالے ملاحظہ ہوں : تفسیر الطبری (20 : 12)، تفسیر القرطبی (13 : 232)، تفسیر البغوی (3 : 428)، زاد المسیر لابن الجوزی (6 : 189)، تفسیر ابن کثیر (3 : 375، 439)، تفسیر اللباب لابی حفص الحنبلی (16 : 126)، الدر المنثور للسیوطی (6 : 376)، اور فتح القدیر للشوکانی
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them
Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains. He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil.
أَكْثَرَ الَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(most of that in which they differ.) such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says:
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt) (19:34).
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤمِنِينَ
(And truly, it is a guide and a mercy for the believers.) meaning, it is guidance for the hearts of those who believe in it, and a mercy to them. Then Allah says:
إِن رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم
(Verily, your Lord will decide between them) meaning, on the Day of Resurrection,
بِحُكْمِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ
(by His judgement. And He is the All-Mighty,) means, in His vengeance,
الْعَلِيمُ
(the All-Knowing.) Who knows all that His servants do and say.
The Command to put One's Trust in Allah and to convey the Message
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(So, put your trust in Allah;) in all your affairs, and convey the Message of your Lord.
إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ
(surely, you are on manifest truth.) meaning, you are following manifest truth, even though you are opposed by those who oppose you because they are doomed. The Word of your Lord has been justified against them, so that they will not believe even if all the signs are brought to them. Allah says:
إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى
(Verily, you cannot make the dead to hear) meaning, you cannot cause them to hear anything that will benefit them. The same applies to those over whose hearts is a veil and in whose ears is deafness of disbelief. Allah says:
وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَادِى الْعُمْىِ عَن ضَلَـلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُؤْمِنُ بِـئَايَـتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ-
(nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs. Nor can you lead the blind out of their error. You can only make to hear those who believe in Our Ayat, so they submit (became Muslims).) meaning, those who have hearing and insight will respond to you, those whose hearing and sight are of benefit to their hearts and who are humble towards Allah and to the Message that comes to them through the mouths of the Messengers, may peace be upon them.
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔
81
View Single
وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِي ٱلۡعُمۡيِ عَن ضَلَٰلَتِهِمۡۖ إِن تُسۡمِعُ إِلَّا مَن يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسۡلِمُونَ
And you will not guide the blind out of their error; and none listen to you except those who accept faith in Our signs, and they are Muslims.
اور نہ ہی آپ (دل کے) اندھوں کو ان کی گمراہی سے (بچا کر) ہدایت دینے والے ہیں، آپ تو (فی الحقیقت) انہی کو سناتے ہیں جو (آپ کی دعوت قبول کر کے) ہماری آیتوں پر ایمان لے آتے ہیں سو وہی لوگ مسلمان ہیں (اور وہی زندہ کہلانے کے حق دار ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them
Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains. He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil.
أَكْثَرَ الَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
(most of that in which they differ.) such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says:
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ
(Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt) (19:34).
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤمِنِينَ
(And truly, it is a guide and a mercy for the believers.) meaning, it is guidance for the hearts of those who believe in it, and a mercy to them. Then Allah says:
إِن رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم
(Verily, your Lord will decide between them) meaning, on the Day of Resurrection,
بِحُكْمِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ
(by His judgement. And He is the All-Mighty,) means, in His vengeance,
الْعَلِيمُ
(the All-Knowing.) Who knows all that His servants do and say.
The Command to put One's Trust in Allah and to convey the Message
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
(So, put your trust in Allah;) in all your affairs, and convey the Message of your Lord.
إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ
(surely, you are on manifest truth.) meaning, you are following manifest truth, even though you are opposed by those who oppose you because they are doomed. The Word of your Lord has been justified against them, so that they will not believe even if all the signs are brought to them. Allah says:
إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى
(Verily, you cannot make the dead to hear) meaning, you cannot cause them to hear anything that will benefit them. The same applies to those over whose hearts is a veil and in whose ears is deafness of disbelief. Allah says:
وَلاَ تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَادِى الْعُمْىِ عَن ضَلَـلَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُؤْمِنُ بِـئَايَـتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ-
(nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs. Nor can you lead the blind out of their error. You can only make to hear those who believe in Our Ayat, so they submit (became Muslims).) meaning, those who have hearing and insight will respond to you, those whose hearing and sight are of benefit to their hearts and who are humble towards Allah and to the Message that comes to them through the mouths of the Messengers, may peace be upon them.
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات و انجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔
82
View Single
۞وَإِذَا وَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ أَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ
And when the Word (promise) appears upon them, We shall bring forth for them a beast from the earth to speak to them – because the people were not accepting faith in Our signs. (This beast will rise from the earth, when the Last Day draws near.)
اور جب ان پر (عذاب کا) فرمان پورا ہونے کا وقت آجائے گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے گفتگو کرے گا کیونکہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Emergence of the Beast of the Earth
This is the beast which will emerge at the end of time, when mankind has become corrupt and neglected the commands of Allah and changed the true religion. Then Allah will cause a beast to emerge from the earth. It was said that it will be brought from Makkah, or from somewhere else, as we shall discuss in detail below, if Allah wills. The beast will speak to people about matters. Ibn `Abbas, Al-Hasan and Qatadah said, and it was also narrated from `Ali, may Allah be pleased with him, that it will speak words, meaning, it will address them. Many Hadiths and reports have been narrated about the beast, and we will narrate as many of them as Allah enables us to, for He is the One Whose help we seek. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah bin Asid Al-Ghifari said, "The Messenger of Allah ﷺ came out from his room while we were discussing the matter of the Hour. He said:
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانُ وَالدَّابَّةُ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَالدَّجَّالُ، وَثَلَاثَةُ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ، تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا»
(The Hour will not come until you see ten signs: the rising of the sun from the west; the smoke (Ad-Dukhan); emergence of the beast; the emergence of Ya'juj and Ma'juj; the appearance of `Isa bin Maryam, upon him be peace; the Dajjal; and three land cave-ins, one in the west, one in the east and one in the Arabian Peninsula; and a Fire which will emerge from the midst of Yemen, and will drive or gather the people, stopping with them whenever they stop for the night or to rest during the day.)" This was also recorded by Muslim and the Sunan compilers from Hudhayfah, in a Mawquf report. At-Tirmidhi said, "It is Hasan Sahih." It was also recorded by Muslim from Hudhayfah in a Marfu` report. And Allah knows best.
Another Hadith
Muslim bin Al-Hajjaj recorded that `Abdullah bin `Amr said, "I memorized a Hadith from the Messenger of Allah ﷺ which I never forgot afterwards. I heard the Messenger of Allah ﷺ say:
«إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى، وَأَيَّتُهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا»
(The first of the signs to appear will be the rising of the sun from the west, and the emergence of the beast to mankind in the forenoon. Whichever of them appears first, the other will follow close behind it.)
Another Hadith
In his Sahih, Muslim recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said:
«بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا، طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَخَاصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّة»
(Hasten to do good deeds before six things appear: the rising of the sun from the west; the smoke; the Dajjal; the beast; the (death) of one of your favorite, or general affliction.) This was recorded by Muslim alone. Muslim also recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the the Prophet said:
«بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُم»
(Hasten to do good deeds before six things appear: the Dajjal; the smoke; the beast of the earth; the rising of the sun from the west; and the (death of one of your favorite) or general affliction.)
Another Hadith
Ibn Majah recorded from Anas bin Malik that the Messenger of Allah ﷺ said:
«بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانَ، وَالدَّابَّةَ، الدَّجَّالَ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّة»
(Hasten to do good deeds before six things appear: the rising of the sun from the west; the smoke; the beast; the Dajjal; and the (death of one of your favorite) or general affliction.) He was the only one who recorded this version.
Another Hadith
Abu Dawud At -Tayalisi recorded f rom Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said:
«تَخْرُجُ دَابَّةُ الْأَرْضِ وَمَعَهَا عَصَا مُوسَى وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَتَخْطِمُ أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْعَصَا، وَتُجَلِّي وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْخَاتَمِ، حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى الْخِوَانِ يُعْرَفُ الْمُؤْمِنُ مِنَ الْكَافِر»
(A beast will emerge from the earth, and with it will be the staff of Musa and the ring of Sulayman, peace be upon them both. It will strike the nose of the disbelievers with the staff, and it will make the face of the believer bright with the ring, until when people gather to eat, they will be able to recognize the believers from the disbelievers.) It also was recorded by Imam Ahmad, with the wording:
«فَتَخْطِمُ أَنْفَ الْكَافِر بِالْخَاتَمِ، وَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِن بِالْعَصَا، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانَ الْوَاحِدِ لَيَجْتَمِعُونَ فَيَقُولُ هَذَا: يَا مُؤْمِنُ، وَيَقُولُ هَذَا: يَا كَافِر»
(It will strike the nose of the disbelievers with the ring, and will make the face of the believer bright with the staff, until when people gather for a meal, they will say to one another, O believer, or O disbeliever.) It was also recorded by Ibn Majah. Ibn Jurayj reported that Ibn Az-Zubayr described the beast and said, "Its head is like the head of a bull, its eyes are like the eyes of a pig, its ears are like the ears of an elephant, its horns are like the horns of a stag, its neck is like the neck of an ostrich, its chest is like the chest of a lion, its color is like the colour of a tiger, its haunches are like the haunches of a cat, its tail is like the tail of a ram, and its legs are like the legs of a camel. Between each pair of its joints is a distance of twelve cubits. It will bring out with it the staff of Musa and the ring of Sulayman. There will be no believer left without it making a white spot on his face, which will spread until all his face is shining white as a result; and there will be no disbeliever left without it making a black spot on his face, which will spread until all his face is black as a result, then when the people trade with one another in the marketplace, they will say, `How much is this, O believer' `How much is this, O disbeliever' And when the members of one household sit down together to eat, they will know who is a believer and who is a disbeliever. Then the beast will say: `O so-and-so, enjoy yourself, for you are among the people of Paradise.' And it will say: `O so-and-so, you are among the people of Hell,' This is what Allah says:
وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الاٌّرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِـَايَـتِنَا لاَ يُوقِنُونَ
(And when the Word is fulfilled against them, We shall bring out from the earth a beast for them, to speak to them because mankind believed not with certainty in Our Ayat.)
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجاً مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَايَـتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ
دابتہ الارض جس جانور کا یہاں ذکر ہے یہ لوگوں کے بالکل بگڑ جانے اور دین حق کو چھوڑ بیٹھنے کے وقت آخر زمانے میں ظاہر ہوگا۔ جب کہ لوگوں نے دین حق کو بدل دیا ہوگا۔ بعض کہتے ہیں یہ مکہ شریف سے نکلے گا بعض کہتے ہی اور کسی جگہ سے جس کی تفصیل ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالی۔ وہ بولے گا باتیں کرے گا اور کہے گا کہ لوگ اللہ کی آیتوں کا یقین نہیں کرتے تھے ابن جریر اسی کو مختار کہتے ہیں۔ لیکن اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ابن عباس کا قول ہے کہ وہ انہیں زخمی کرے گا ایک روایت میں ہے کہ وہ یہ اور وہ دونوں کرے گا۔ یہ قول بہت اچھا ہے اور دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں، واللہ اعلم۔ وہ احادیث جو دابتہ الارض کے بارے میں مروی ہیں۔ ان میں سے کچھ ہم یہاں بیان کرتے ہیں واللہ المستعان۔ صحابہ کرام ایک مرتبہ بیٹھے قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ عرفات سے آئے۔ ہمیں ذکر میں مشغول دیکھ کر فرمانے لگے کہ قیامت قائم نہ ہوگی کہ تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، دابتہ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ بن مریم کا ظہور، اور دجال کا نکلنا اور مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں تین خسف ہونا، اور ایک آگ کا عدن سے نکلنا جو لوگوں کا حشر کرے گی۔ انہی کے ساتھ رات گزارے گی اور انہی کے ساتھ دوپہر کا سونا سوئے گی (مسلم وغیرہ) ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ دابتہ الارض تین مرتبہ نکلے گا دور دراز کے جنگل سے ظاہر ہوگا اور اس کا ذکر شہر یعنی مکہ تک نہ پہنچے گا پھر ایک لمبے زمانے کے بعد دوبارہ ظاہر ہوگا اور لوگوں کی زبانوں پر اس کا قصہ چڑھ جائے گا یہاں تک کہ مکہ میں بھی اس کی شہرت پہنچے گی۔ پھر جب لوگ اللہ کی سب سے زیادہ حرمت و عظمت والی مسجد مسجد حرام میں ہوں گے اسی وقت اچانک دفعتا دابتہ الارض انہیں وہی دکھائی دے گا کہ رکن مقام کے درمیان اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہوگا۔ لوگ اس کو دیکھ کر ادھر ادھر ہونے لگیں گے یہ مومنوں کی جماعت کے پاس جائے گا اور ان کے منہ کو مثل روشن ستارے کے منور کردے گا اس سے بھاگ کر نہ کوئی بچ سکتا ہے اور نہ چھپ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص اس کو دیکھ کر نماز کو کھڑا ہوجائے گا یہ اس کو کہے گا اب نماز کو کھڑا ہوا ہے ؟ پھر اس کے پیشانی پر نشان کردے گا اور چلا جائے گا اس کے ان نشانات کے بعد کافر مومن کا صاف طور امتیاز ہوجائے گا یہاں تک کہ مومن کافر سے کہے گا کہ اے کافر ! میرا حق ادا کر اور کافر مومن سے کہے گا اے مومن ! میرا حق ادا کر یہ روایت حذیفہ بن اسید سے موقوفا بھی مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں ہوگا جب کہ آپ بیت اللہ شریف کا طواف کررہے ہونگے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ سب سے پہلے جو نشانی ظاہر ہوگی وہ سورج کا مغرب سے نکلنا اور دابتہ الارض کا ضحی کے وقت آجانا ہے۔ ان دونوں میں سے جو پہلے ہوگا اس کے بعد ہی دوسرا ہوگا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے آپ نے فرمایا چھ چیزوں کی آمد سے پہلے نیک اعمال کرلو۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، دھویں کا آنا، دجال کا آنا، اور دابتہ الارض کا آنا تم میں سے ہر ایک کا خاص امر اور عام امر۔ یہ حدیث اور سندوں سے دوسری کتابوں میں بھی ہے۔ ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ دابتہ الارض کے ساتھ حضرت عیسیٰ کی لکڑی اور حضرت سلیمان کی انگوٹھی ہوگی۔ کافروں کی ناک پر لکڑی سے مہر لگائے گا اور مومنوں کے منہ انگوٹھی سے منور کردے گا یہاں تک کہ ایک دسترخوان بیٹھے ہوئے مومن کافر سب ظاہر ہونگے۔ ایک اور حدیث میں جو مسند احمد میں ہے، مروی ہے کہ کافروں کے ناک پر انگوٹھی سے مہر کرے گا اور مومنوں کے چہرے لکڑی سے چمکا دے گا۔ ابن ماجہ میں حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ لے کر مکہ کے پاس ایک جنگل میں گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک خشک زمین ہے جس کے ارد گرد ریت ہے۔ فرمانے لگے یہیں سے دابتہ الارض نکلے گا۔ ابن بریدہ کہتے ہیں اس کے کئی سال بعد میں حج کے لئے نکلا تو مجھے لکڑی دکھائی دی جو میری اس لکڑی کے برابر تھی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس کے چار پیر ہونگے صفا کے کھڈ سے نکلے گا بہت تیزی سے خروج کرے گا جیسے کہ کوئی تیز رفتار گھوڑا ہو لیکن تاہم تین دن میں اس کے جسم کا تیسرا حصہ بھی نہ نکلا ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے جب اس کی بابت پوچھا گیا تو فرمانے لگے جیاد میں ایک چٹان ہے اس کے نیچے سے نکلے گا میں اگر وہاں ہوتا تو تمہیں وہ چٹان دکھا دیتا۔ یہ سیدھا مشرق کی طرف جائے گا اور اس شور سے جائے گا کہ ہر طرف اس کی آواز پہنچ جائے گی۔ پھر شام کی طرف جائے گا وہاں بھی چیخ لگا کر، پھر یمن کی طرف متوجہ ہوگا یہاں بھی آواز لگا کر شام کے وقت مکہ سے چل کر صبح کو عسفان پہنچ جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا پھر مجھے معلوم نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر کا قول ہے کہ مزدلفہ کی رات کو نکلے گا۔ حضرت عزیر کے ایک کلام کی حکایت ہے کہ سدوم کے نیچے سے یہ نکلے گا۔ اس کے کلام کو سب سنیں گے حاملہ کے حمل وقت سے پہلے گرجائیں گے، میٹھا پانی کڑوا ہوجائے گا دوست دشمن ہوجائیں گے حکمت جل جائی گی علم اٹھ جائے گا نیچے کی زمین باتیں کرے گی انسان کی وہ تمنائیں ہونگی کہ جو کبھی پوری نہ ہوں، ان چیزوں کی کوشش ہوگی جو کبھی حاصل نہ ہو۔ اس بارے میں کام کریں گے جسے کھائیں گے نہیں۔ ابوہریرہ ؓ کا قول ہے اس کے جسم پر سب رنگ ہونگے۔ اس کے دوسینگوں کے درمیان سوار کے لئے ایک فرسخ کی راہ ہوگی۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ موٹے نیزے کی اور بھالے کی طرح کا ہوگا۔ حضرت علی فرماتے ہیں اس کے بال ہونگے کھر ہونگے ڈاڑھی ہوگی دم نہ ہوگی۔ تین دن میں بمشکل ایک تہائی باہر آئے گا حالانکہ تیز گھوڑے کی چال چلتا ہوگا۔ ابو زبیر کا قول ہے کہ اس کا سر بیل کے سر کے مشابہ ہوگا آنکھیں خنزیر کی آنکھوں کے مشابہ ہونگی، کان ہاتھی جیسے ہوں گے، سینگ کی جگہ اونٹ کی طرح ہوگی، شتر مرغ جیسی گردن ہوگی، شیر جیسا سینہ ہوگا، چیتے جیسا رنگ ہوگا بلی جیسی کمر ہوگی مینڈے جیسی دم ہوگی اونٹ جیسے پاؤں ہونگے ہر دو جوڑ کے درمیان بارہ گز کا فاصلہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ کی لکڑی اور حضرت سلیمان کی انگوٹھی ساتھ ہوگی ہر مومن کے چہرے پر اپنے عصائے موسوی سے نشان کرے گا جو پھیل جائے گا اور چہرہ منور ہوجائے گا اور ہر کافر کے چہرے پر خاتم سلیمانی سے نشانی لگادے گا جو پھیل جائے گا اور اس کا سارا چہرہ سیاہ ہوجائے گا۔ اب تو اس طرح مومن کافر ظاہر ہوجائیں گے کہ خریدو فروخت کے وقت کھانے پینے کے وقت لوگ ایک دوسروں کو اے مومن اور اے کافر کہہ کر بلائیں گے۔ دابتہ الارض ایک ایک کا نام لے کر ان کو جنت کی خوشخبری یا جہنم کی بدخبری سنائے گا۔ یہی معنی ومطلب اس آیت کا ہے۔
83
View Single
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ فَوۡجٗا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُمۡ يُوزَعُونَ
And the Day when We will raise from every nation an army that denies Our signs – so the former groups will be held back for the latter to join them.
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کا (ایک ایک) گروہ جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے سو وہ (اکٹھا چلنے کے لئے آگے کی طرف سے) روکے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Gathering the Wrongdoers on the Day of Resurrection
Allah tells us about the Day of Resurrection when the wrongdoers who disbelieved in the signs and Messengers of Allah will be gathered before Allah, so that He will ask them about what they did in this world, rebuking, scolding and belittling them.
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجاً
(And the Day when We shall gather out of every nation, a Fawj) means, from every people and generation a group
مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَايَـتِنَا
(of those who denied Our Ayat). This is like the Ayat:
احْشُرُواْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزْوَجَهُمْ
("Assemble those who did wrong, together with their companions (from the devils).") (37:22)
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
(And when the souls are joined with their bodies) (81:7).
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they shall be driven,) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "They will be pushed." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "They will be driven."
حَتَّى إِذَا جَآءُوا
(Till, when they come,) and stand before Allah, may He be glorified and exalted, in the place of reckoning,
قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَايَـتِى وَلَمْ تُحِيطُواْ بِهَا عِلْماًكُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(He will say: "Did you deny My Ayat whereas you comprehended them not by knowledge, or what was it that you used to do") meaning they will be asked about their beliefs and their deeds. Since they are among the doomed and, as Allah says:
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(He neither believed nor performed Salah! But on the contrary, he denied and turned away!) (75:31-32) Then the proof will be established against them and they will have no excuse whatsoever, as Allah says:
هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ - وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ
(That will be a Day when they shall not speak. And they will not be permitted to put forth any excuse) (77:35-36). Similarly, Allah says here:
وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمْ لاَ يَنطِقُونَ
(And the Word will be fulfilled against them, because they have done wrong, and they will be unable to speak.) They will be stunned and speechless, unable to give any answer. This is because they wronged themselves in the world, and now they have returned to the One Who sees the unseen and the seen, from Whom nothing can be hidden. Then Allah points out His complete power, immense authority and greatness, all dictating that He is to be obeyed and that His commands must be followed, and that the message of inescapable truth brought by His Prophets must be believed in. Allah says:
أَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُواْ فِيهِ
(See they not that We have made the night for them to rest therein,) Due to the darkness of the night they halt their activities and calm themselves down, to recover from the exhausting efforts of the day.
وَالنَّهَـارَ مُبْصِـراً
(and the day sight-giving) meaning filled with light, so that they can work and earn a living, and travel and engage in business, and do other things that they need to do.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are Ayat for the people who believe.)
باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔
84
View Single
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبۡتُم بِـَٔايَٰتِي وَلَمۡ تُحِيطُواْ بِهَا عِلۡمًا أَمَّاذَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
Until when they all come together, He will say, “Did you deny My signs whereas your knowledge had not reached it, or what were the deeds you were doing?”
یہاں تک کہ جب وہ سب (مقامِ حساب پر) آپہنچیں گے تو ارشاد ہوگا کیا تم (بغیر غور و فکر کے) میری آیتوں کو جھٹلاتے تھے حالانکہ تم (اپنے ناقص) علم سے انہیں کاملاً جان بھی نہیں سکے تھے یا (تم خود ہی بتاؤ) اس کے علاوہ اور کیا (سبب) تھا جو تم (حق کی تکذیب) کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Gathering the Wrongdoers on the Day of Resurrection
Allah tells us about the Day of Resurrection when the wrongdoers who disbelieved in the signs and Messengers of Allah will be gathered before Allah, so that He will ask them about what they did in this world, rebuking, scolding and belittling them.
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجاً
(And the Day when We shall gather out of every nation, a Fawj) means, from every people and generation a group
مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَايَـتِنَا
(of those who denied Our Ayat). This is like the Ayat:
احْشُرُواْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزْوَجَهُمْ
("Assemble those who did wrong, together with their companions (from the devils).") (37:22)
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
(And when the souls are joined with their bodies) (81:7).
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they shall be driven,) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "They will be pushed." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "They will be driven."
حَتَّى إِذَا جَآءُوا
(Till, when they come,) and stand before Allah, may He be glorified and exalted, in the place of reckoning,
قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَايَـتِى وَلَمْ تُحِيطُواْ بِهَا عِلْماًكُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(He will say: "Did you deny My Ayat whereas you comprehended them not by knowledge, or what was it that you used to do") meaning they will be asked about their beliefs and their deeds. Since they are among the doomed and, as Allah says:
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(He neither believed nor performed Salah! But on the contrary, he denied and turned away!) (75:31-32) Then the proof will be established against them and they will have no excuse whatsoever, as Allah says:
هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ - وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ
(That will be a Day when they shall not speak. And they will not be permitted to put forth any excuse) (77:35-36). Similarly, Allah says here:
وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمْ لاَ يَنطِقُونَ
(And the Word will be fulfilled against them, because they have done wrong, and they will be unable to speak.) They will be stunned and speechless, unable to give any answer. This is because they wronged themselves in the world, and now they have returned to the One Who sees the unseen and the seen, from Whom nothing can be hidden. Then Allah points out His complete power, immense authority and greatness, all dictating that He is to be obeyed and that His commands must be followed, and that the message of inescapable truth brought by His Prophets must be believed in. Allah says:
أَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُواْ فِيهِ
(See they not that We have made the night for them to rest therein,) Due to the darkness of the night they halt their activities and calm themselves down, to recover from the exhausting efforts of the day.
وَالنَّهَـارَ مُبْصِـراً
(and the day sight-giving) meaning filled with light, so that they can work and earn a living, and travel and engage in business, and do other things that they need to do.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are Ayat for the people who believe.)
باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔
85
View Single
وَوَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمۡ لَا يَنطِقُونَ
And the Word has appeared upon them because of their injustice, so now they do not speak.
اور ان پر (ہمارا) وعدہ پورا ہوچکا اس وجہ سے کہ وہ ظلم کر تے رہے سو وہ (جواب میں) کچھ بول نہ سکیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Gathering the Wrongdoers on the Day of Resurrection
Allah tells us about the Day of Resurrection when the wrongdoers who disbelieved in the signs and Messengers of Allah will be gathered before Allah, so that He will ask them about what they did in this world, rebuking, scolding and belittling them.
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجاً
(And the Day when We shall gather out of every nation, a Fawj) means, from every people and generation a group
مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَايَـتِنَا
(of those who denied Our Ayat). This is like the Ayat:
احْشُرُواْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزْوَجَهُمْ
("Assemble those who did wrong, together with their companions (from the devils).") (37:22)
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
(And when the souls are joined with their bodies) (81:7).
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they shall be driven,) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "They will be pushed." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "They will be driven."
حَتَّى إِذَا جَآءُوا
(Till, when they come,) and stand before Allah, may He be glorified and exalted, in the place of reckoning,
قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَايَـتِى وَلَمْ تُحِيطُواْ بِهَا عِلْماًكُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(He will say: "Did you deny My Ayat whereas you comprehended them not by knowledge, or what was it that you used to do") meaning they will be asked about their beliefs and their deeds. Since they are among the doomed and, as Allah says:
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(He neither believed nor performed Salah! But on the contrary, he denied and turned away!) (75:31-32) Then the proof will be established against them and they will have no excuse whatsoever, as Allah says:
هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ - وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ
(That will be a Day when they shall not speak. And they will not be permitted to put forth any excuse) (77:35-36). Similarly, Allah says here:
وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمْ لاَ يَنطِقُونَ
(And the Word will be fulfilled against them, because they have done wrong, and they will be unable to speak.) They will be stunned and speechless, unable to give any answer. This is because they wronged themselves in the world, and now they have returned to the One Who sees the unseen and the seen, from Whom nothing can be hidden. Then Allah points out His complete power, immense authority and greatness, all dictating that He is to be obeyed and that His commands must be followed, and that the message of inescapable truth brought by His Prophets must be believed in. Allah says:
أَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُواْ فِيهِ
(See they not that We have made the night for them to rest therein,) Due to the darkness of the night they halt their activities and calm themselves down, to recover from the exhausting efforts of the day.
وَالنَّهَـارَ مُبْصِـراً
(and the day sight-giving) meaning filled with light, so that they can work and earn a living, and travel and engage in business, and do other things that they need to do.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are Ayat for the people who believe.)
باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔
86
View Single
أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِيَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
Did they not see that We created the night for them to rest in, and created the day providing sight? Indeed in this are signs for the people who have faith.
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کرسکیں اور دن کو (امورِ حیات کی نگرانی کے لئے) روشن (یعنی اشیاء کو دِکھانے اور سُجھانے والا) بنایا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Gathering the Wrongdoers on the Day of Resurrection
Allah tells us about the Day of Resurrection when the wrongdoers who disbelieved in the signs and Messengers of Allah will be gathered before Allah, so that He will ask them about what they did in this world, rebuking, scolding and belittling them.
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجاً
(And the Day when We shall gather out of every nation, a Fawj) means, from every people and generation a group
مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَايَـتِنَا
(of those who denied Our Ayat). This is like the Ayat:
احْشُرُواْ الَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزْوَجَهُمْ
("Assemble those who did wrong, together with their companions (from the devils).") (37:22)
وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ
(And when the souls are joined with their bodies) (81:7).
فَهُمْ يُوزَعُونَ
(and they shall be driven,) Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, said: "They will be pushed." `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "They will be driven."
حَتَّى إِذَا جَآءُوا
(Till, when they come,) and stand before Allah, may He be glorified and exalted, in the place of reckoning,
قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَايَـتِى وَلَمْ تُحِيطُواْ بِهَا عِلْماًكُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
(He will say: "Did you deny My Ayat whereas you comprehended them not by knowledge, or what was it that you used to do") meaning they will be asked about their beliefs and their deeds. Since they are among the doomed and, as Allah says:
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(He neither believed nor performed Salah! But on the contrary, he denied and turned away!) (75:31-32) Then the proof will be established against them and they will have no excuse whatsoever, as Allah says:
هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ - وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ
(That will be a Day when they shall not speak. And they will not be permitted to put forth any excuse) (77:35-36). Similarly, Allah says here:
وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمْ لاَ يَنطِقُونَ
(And the Word will be fulfilled against them, because they have done wrong, and they will be unable to speak.) They will be stunned and speechless, unable to give any answer. This is because they wronged themselves in the world, and now they have returned to the One Who sees the unseen and the seen, from Whom nothing can be hidden. Then Allah points out His complete power, immense authority and greatness, all dictating that He is to be obeyed and that His commands must be followed, and that the message of inescapable truth brought by His Prophets must be believed in. Allah says:
أَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُواْ فِيهِ
(See they not that We have made the night for them to rest therein,) Due to the darkness of the night they halt their activities and calm themselves down, to recover from the exhausting efforts of the day.
وَالنَّهَـارَ مُبْصِـراً
(and the day sight-giving) meaning filled with light, so that they can work and earn a living, and travel and engage in business, and do other things that they need to do.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are Ayat for the people who believe.)
باز پرس کے لمحات اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہوگا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہوگی تاکہ ان کی ذلت و حقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے آیت (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ اور جیسے فرمان ہے آیت (وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۽) 81۔ التکوير :7) جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے جیسے فرمایا آیت (فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى 31 ۙ) 75۔ القیامة :31) یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ پس ان پر حجت ثابت ہوجائے گی اور کوئی عذر نہ کرسکیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ 35ۙ) 77۔ المرسلات :35) یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔ پس ان کے ذمہ بات ثابت ہوجائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔ پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندی شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے،۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجالانے اور اسکے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرلو اور دن بھر کی تھکان دور کرلو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کرلو سفر تجارت کاروبار باآسانی کرسکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔
87
View Single
وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ
And the Day when the Trumpet is blown – so all those who are in the heavens and the earth will be terrified, except whomever Allah wills; and everyone has come to Him, in submission.
اور جس دن صُور پھونکا جائے گا تو وہ (سب لوگ) گھبرا جائیں گے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں مگر جنہیں اللہ چاہے گا (نہیں گھبرائیں گے)، اور سب اس کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Terrors of the Day of Resurrection, the Rewards for Good Deeds and the Punishments for Evil Deed
Allah tells us about the terrors of the Day when the Sur will be blown. The Sur, as described in the Hadith, is,
«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه»
(a horn which is blown into.) According to the Hadith about the Sur (Trumpet), it is (the angel) Israfil who will blow into it by the command of Allah, may He be exalted. He will blow into it for the first time, for a long time. This will signal the end of the life of this world, and the Hour will come upon the most evil of people ever to live. Everyone who is in the heavens and on earth will be terrified,
إِلاَّ مَن شَآءَ اللَّهُ
(except him whom Allah wills.) these are the martyrs, for they are alive, with their Lord, and being provided for. Imam Muslim bin Al-Hajjaj recorded that `Abdullah bin `Amr, may Allah be pleased with him, said that a man came to him and said, "What is this Hadith that you are narrating, that the Hour will come upon such and such people" He said, "Subhan Allah or `La Ilaha Illallah (or something similar), I had decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that after a little while, you will see a major event which will destroy the House the Ka`bah, and such and such will happen." Then he said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ في كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَه»
(The Dajjal will emerge in my Ummah, and will remain for forty -- I do not know whether he said forty days, or forty months, or forty years -- then Allah will send `Isa son of Maryam, who looks like `Urwah bin Mas`ud, and he will search for him and destroy him. Then mankind will remain for seven years during which there will not be any enmity between any two people. Then Allah will send a cool wind from the direction of Syria, and no one will be left on the face of the earth who has even a speck of goodness or faith in his heart, but it will take him. Even if he entered into the heart of a mountain, the wind would follow him and seize him.)" He said, "I heard it from the Messenger of Allah ﷺ who said:
«فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ: فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ قَالَ:الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُولُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، قَالَ: فَذَلِكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانُ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاق»
(Then the most evil of people will remain, and they will be as nimble as birds and will be more temperamental than wild beasts. They will not recognize anything good or denounce anything evil. The Shaytan will appear to them and will say, "Will you do as I tell you" They will say, "What do you command us to do" He will command them to worship idols but in spite of this their provision will be plentiful and they will lead comfortable lives. Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound. The first person to hear it will be a man who is setting up the tank for watering his camels. He will fall down, and all the other people will also fall down. Then Allah will send -- or send down -- rain like dew -- or he said, like shade (Nu'man was the one who was not sure) -- from which will grow the bodies of the people. Then the Trumpet will be blown again, and they will get up and look around. Then it will be said: "O mankind! Go to your Lord!" And they will be stopped, for they are to be questioned. Then it will be said: "Bring forth the people who are to be sent to the Fire." It will be asked: "How many are they" It will be said, "Out of every thousand, nine hundred and ninety-nine." That will be the Day which will make the children grey-headed, and that will be the Day when the Shin shall be uncovered.) His saying;
«ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا»
(Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound.) means that they will tilt their heads so that they can better hear the sound coming from the heavens. That is the blast of the Sur which will terrify everyone, then after that will come the blast which will cause them to die, then the blast which will resurrect them to meet the Lord of the worlds -- this is when all of the creation will be brought forth from their graves. Allah says:
وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَخِرِينَ
(And all shall come to Him, humbled.) meaning, humbling themselves and obeying Him, and no one will go against His command. This is like the Ayat:
يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ
(On the Day when He will call you, and you will answer with His praise and obedience) (17:52).
ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الاٌّرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ
(Then afterwards when He will call you by a single call, behold, you will come out from the earth) (30:25). According to the Hadith about the Sur, when it is blown for the third time, Allah will command the souls to be put into the hole of the Sur (Trumpet), then Israfil will blow into it, after the bodies have grown in their graves and resting places, and when he blows into the Sur (Trumpet), the souls will fly, the believers' souls glowing with light, and the disbelievers' souls looking like darkness. And Allah will say: "By My might and majesty, every soul will go back to its body." And the souls will come back to their bodies and go through them like poison going through a person who is bitten or stung by a poisonous creature. Then they will get up, brushing off the dirt of their graves. Allah says:
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الاٌّجْدَاثِ سِرَاعاً كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ
(The Day when they will come out of the graves quickly as racing to a goal.) (70:43)
وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ
(And you will see the mountains and think them solid, but they shall pass away as the passing away of the clouds.) (27:88) meaning, you will see them as if they are fixed and as if they will remain as they are, but they will pass away as the passing away of the clouds, i.e., they will move away from their places. This is like the Ayat:
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَآءُ مَوْراً - وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْراً
(On the Day when the heaven will shake with a dreadful shaking, And the mountains will move away with a (horrible) movement.) (52:9-10)
وَيَسْـَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّى نَسْفاً - فَيَذَرُهَا قَاعاً صَفْصَفاً - لاَّ تَرَى فِيهَا عِوَجاً وَلا أَمْتاً
(And they ask you concerning the mountains: say, "My Lord will blast them and scatter them as particles of dust. Then He shall leave them as a level smooth plain. You will see therein nothing crooked or curved.") (20:105-107),
" وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الاٌّرْضَ بَارِزَةً
(And (remember) the Day We shall cause the mountains to pass away, and you will see the earth as a leveled plain.) (18:47).
صُنْعَ اللَّهِ الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(The work of Allah, Who perfected all things,) means, He does that by His great power.
الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(Who perfected all things,) means, He has perfected all that He has created, and has fashioned it according to His wisdom.
إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ
(verily, He is well-acquainted with what you do) means, He knows all that His servants do, good or evil, and He will reward or punish them accordingly. Then Allah describes the state of the blessed and the doomed on that Day, and says:
مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا
(Whoever brings a good deed, will have better than its worth.) Qatadah said, "That is sincerely for Allah alone." Allah has explained elsewhere in the Qur'an that He will give ten like it.
وَهُمْ مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ
(and they will be safe from the terror on that Day.) This is like the Ayah,
لاَ يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الاٌّكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them) (21:103) and Allah said:
أَفَمَن يُلْقَى فِى النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِى ءَامِناً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(Is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection) (41:40),
وَهُمْ فِى الْغُرُفَـتِ ءَامِنُونَ
(and they will reside in the high dwellings in peace and security) (34:37).
وَمَن جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ
(And whoever brings an evil deed, they will be cast down on their faces in the Fire.) means, whoever comes to Allah with evil deeds, and with no good deeds to his credit, or whose evil deeds outweigh his good deeds. Allah says:
هَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
((And it will be said to them) "Are you being recompensed anything except what you used to do")
جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔
88
View Single
وَتَرَى ٱلۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةٗ وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِۚ صُنۡعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِيٓ أَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍۚ إِنَّهُۥ خَبِيرُۢ بِمَا تَفۡعَلُونَ
And you will see the mountains presuming them fixed whereas they will be moving like the clouds; this is Allah’s making, Who created all things with wisdom; indeed He is Informed of what you do.
اور (اے انسان!) تو پہاڑوں کو دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادل کے اڑنے کی طرح اڑ رہے ہوں گے۔ (یہ) اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو (حکمت و تدبیر کے ساتھ) مضبوط و مستحکم بنا رکھا ہے۔ بیشک وہ ان سب (کاموں) سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Terrors of the Day of Resurrection, the Rewards for Good Deeds and the Punishments for Evil Deed
Allah tells us about the terrors of the Day when the Sur will be blown. The Sur, as described in the Hadith, is,
«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه»
(a horn which is blown into.) According to the Hadith about the Sur (Trumpet), it is (the angel) Israfil who will blow into it by the command of Allah, may He be exalted. He will blow into it for the first time, for a long time. This will signal the end of the life of this world, and the Hour will come upon the most evil of people ever to live. Everyone who is in the heavens and on earth will be terrified,
إِلاَّ مَن شَآءَ اللَّهُ
(except him whom Allah wills.) these are the martyrs, for they are alive, with their Lord, and being provided for. Imam Muslim bin Al-Hajjaj recorded that `Abdullah bin `Amr, may Allah be pleased with him, said that a man came to him and said, "What is this Hadith that you are narrating, that the Hour will come upon such and such people" He said, "Subhan Allah or `La Ilaha Illallah (or something similar), I had decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that after a little while, you will see a major event which will destroy the House the Ka`bah, and such and such will happen." Then he said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ في كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَه»
(The Dajjal will emerge in my Ummah, and will remain for forty -- I do not know whether he said forty days, or forty months, or forty years -- then Allah will send `Isa son of Maryam, who looks like `Urwah bin Mas`ud, and he will search for him and destroy him. Then mankind will remain for seven years during which there will not be any enmity between any two people. Then Allah will send a cool wind from the direction of Syria, and no one will be left on the face of the earth who has even a speck of goodness or faith in his heart, but it will take him. Even if he entered into the heart of a mountain, the wind would follow him and seize him.)" He said, "I heard it from the Messenger of Allah ﷺ who said:
«فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ: فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ قَالَ:الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُولُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، قَالَ: فَذَلِكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانُ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاق»
(Then the most evil of people will remain, and they will be as nimble as birds and will be more temperamental than wild beasts. They will not recognize anything good or denounce anything evil. The Shaytan will appear to them and will say, "Will you do as I tell you" They will say, "What do you command us to do" He will command them to worship idols but in spite of this their provision will be plentiful and they will lead comfortable lives. Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound. The first person to hear it will be a man who is setting up the tank for watering his camels. He will fall down, and all the other people will also fall down. Then Allah will send -- or send down -- rain like dew -- or he said, like shade (Nu'man was the one who was not sure) -- from which will grow the bodies of the people. Then the Trumpet will be blown again, and they will get up and look around. Then it will be said: "O mankind! Go to your Lord!" And they will be stopped, for they are to be questioned. Then it will be said: "Bring forth the people who are to be sent to the Fire." It will be asked: "How many are they" It will be said, "Out of every thousand, nine hundred and ninety-nine." That will be the Day which will make the children grey-headed, and that will be the Day when the Shin shall be uncovered.) His saying;
«ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا»
(Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound.) means that they will tilt their heads so that they can better hear the sound coming from the heavens. That is the blast of the Sur which will terrify everyone, then after that will come the blast which will cause them to die, then the blast which will resurrect them to meet the Lord of the worlds -- this is when all of the creation will be brought forth from their graves. Allah says:
وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَخِرِينَ
(And all shall come to Him, humbled.) meaning, humbling themselves and obeying Him, and no one will go against His command. This is like the Ayat:
يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ
(On the Day when He will call you, and you will answer with His praise and obedience) (17:52).
ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الاٌّرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ
(Then afterwards when He will call you by a single call, behold, you will come out from the earth) (30:25). According to the Hadith about the Sur, when it is blown for the third time, Allah will command the souls to be put into the hole of the Sur (Trumpet), then Israfil will blow into it, after the bodies have grown in their graves and resting places, and when he blows into the Sur (Trumpet), the souls will fly, the believers' souls glowing with light, and the disbelievers' souls looking like darkness. And Allah will say: "By My might and majesty, every soul will go back to its body." And the souls will come back to their bodies and go through them like poison going through a person who is bitten or stung by a poisonous creature. Then they will get up, brushing off the dirt of their graves. Allah says:
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الاٌّجْدَاثِ سِرَاعاً كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ
(The Day when they will come out of the graves quickly as racing to a goal.) (70:43)
وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ
(And you will see the mountains and think them solid, but they shall pass away as the passing away of the clouds.) (27:88) meaning, you will see them as if they are fixed and as if they will remain as they are, but they will pass away as the passing away of the clouds, i.e., they will move away from their places. This is like the Ayat:
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَآءُ مَوْراً - وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْراً
(On the Day when the heaven will shake with a dreadful shaking, And the mountains will move away with a (horrible) movement.) (52:9-10)
وَيَسْـَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّى نَسْفاً - فَيَذَرُهَا قَاعاً صَفْصَفاً - لاَّ تَرَى فِيهَا عِوَجاً وَلا أَمْتاً
(And they ask you concerning the mountains: say, "My Lord will blast them and scatter them as particles of dust. Then He shall leave them as a level smooth plain. You will see therein nothing crooked or curved.") (20:105-107),
" وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الاٌّرْضَ بَارِزَةً
(And (remember) the Day We shall cause the mountains to pass away, and you will see the earth as a leveled plain.) (18:47).
صُنْعَ اللَّهِ الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(The work of Allah, Who perfected all things,) means, He does that by His great power.
الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(Who perfected all things,) means, He has perfected all that He has created, and has fashioned it according to His wisdom.
إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ
(verily, He is well-acquainted with what you do) means, He knows all that His servants do, good or evil, and He will reward or punish them accordingly. Then Allah describes the state of the blessed and the doomed on that Day, and says:
مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا
(Whoever brings a good deed, will have better than its worth.) Qatadah said, "That is sincerely for Allah alone." Allah has explained elsewhere in the Qur'an that He will give ten like it.
وَهُمْ مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ
(and they will be safe from the terror on that Day.) This is like the Ayah,
لاَ يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الاٌّكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them) (21:103) and Allah said:
أَفَمَن يُلْقَى فِى النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِى ءَامِناً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(Is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection) (41:40),
وَهُمْ فِى الْغُرُفَـتِ ءَامِنُونَ
(and they will reside in the high dwellings in peace and security) (34:37).
وَمَن جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ
(And whoever brings an evil deed, they will be cast down on their faces in the Fire.) means, whoever comes to Allah with evil deeds, and with no good deeds to his credit, or whose evil deeds outweigh his good deeds. Allah says:
هَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
((And it will be said to them) "Are you being recompensed anything except what you used to do")
جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔
89
View Single
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَا وَهُم مِّن فَزَعٖ يَوۡمَئِذٍ ءَامِنُونَ
Whoever brings a good deed – for him is a reward better than it; and they will be safe from the terror on that Day.
جو شخص (اس دن) نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (جزا) ہوگی اور وہ لوگ اس دن گھبراہٹ سے محفوظ و مامون ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Terrors of the Day of Resurrection, the Rewards for Good Deeds and the Punishments for Evil Deed
Allah tells us about the terrors of the Day when the Sur will be blown. The Sur, as described in the Hadith, is,
«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه»
(a horn which is blown into.) According to the Hadith about the Sur (Trumpet), it is (the angel) Israfil who will blow into it by the command of Allah, may He be exalted. He will blow into it for the first time, for a long time. This will signal the end of the life of this world, and the Hour will come upon the most evil of people ever to live. Everyone who is in the heavens and on earth will be terrified,
إِلاَّ مَن شَآءَ اللَّهُ
(except him whom Allah wills.) these are the martyrs, for they are alive, with their Lord, and being provided for. Imam Muslim bin Al-Hajjaj recorded that `Abdullah bin `Amr, may Allah be pleased with him, said that a man came to him and said, "What is this Hadith that you are narrating, that the Hour will come upon such and such people" He said, "Subhan Allah or `La Ilaha Illallah (or something similar), I had decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that after a little while, you will see a major event which will destroy the House the Ka`bah, and such and such will happen." Then he said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ في كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَه»
(The Dajjal will emerge in my Ummah, and will remain for forty -- I do not know whether he said forty days, or forty months, or forty years -- then Allah will send `Isa son of Maryam, who looks like `Urwah bin Mas`ud, and he will search for him and destroy him. Then mankind will remain for seven years during which there will not be any enmity between any two people. Then Allah will send a cool wind from the direction of Syria, and no one will be left on the face of the earth who has even a speck of goodness or faith in his heart, but it will take him. Even if he entered into the heart of a mountain, the wind would follow him and seize him.)" He said, "I heard it from the Messenger of Allah ﷺ who said:
«فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ: فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ قَالَ:الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُولُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، قَالَ: فَذَلِكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانُ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاق»
(Then the most evil of people will remain, and they will be as nimble as birds and will be more temperamental than wild beasts. They will not recognize anything good or denounce anything evil. The Shaytan will appear to them and will say, "Will you do as I tell you" They will say, "What do you command us to do" He will command them to worship idols but in spite of this their provision will be plentiful and they will lead comfortable lives. Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound. The first person to hear it will be a man who is setting up the tank for watering his camels. He will fall down, and all the other people will also fall down. Then Allah will send -- or send down -- rain like dew -- or he said, like shade (Nu'man was the one who was not sure) -- from which will grow the bodies of the people. Then the Trumpet will be blown again, and they will get up and look around. Then it will be said: "O mankind! Go to your Lord!" And they will be stopped, for they are to be questioned. Then it will be said: "Bring forth the people who are to be sent to the Fire." It will be asked: "How many are they" It will be said, "Out of every thousand, nine hundred and ninety-nine." That will be the Day which will make the children grey-headed, and that will be the Day when the Shin shall be uncovered.) His saying;
«ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا»
(Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound.) means that they will tilt their heads so that they can better hear the sound coming from the heavens. That is the blast of the Sur which will terrify everyone, then after that will come the blast which will cause them to die, then the blast which will resurrect them to meet the Lord of the worlds -- this is when all of the creation will be brought forth from their graves. Allah says:
وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَخِرِينَ
(And all shall come to Him, humbled.) meaning, humbling themselves and obeying Him, and no one will go against His command. This is like the Ayat:
يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ
(On the Day when He will call you, and you will answer with His praise and obedience) (17:52).
ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الاٌّرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ
(Then afterwards when He will call you by a single call, behold, you will come out from the earth) (30:25). According to the Hadith about the Sur, when it is blown for the third time, Allah will command the souls to be put into the hole of the Sur (Trumpet), then Israfil will blow into it, after the bodies have grown in their graves and resting places, and when he blows into the Sur (Trumpet), the souls will fly, the believers' souls glowing with light, and the disbelievers' souls looking like darkness. And Allah will say: "By My might and majesty, every soul will go back to its body." And the souls will come back to their bodies and go through them like poison going through a person who is bitten or stung by a poisonous creature. Then they will get up, brushing off the dirt of their graves. Allah says:
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الاٌّجْدَاثِ سِرَاعاً كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ
(The Day when they will come out of the graves quickly as racing to a goal.) (70:43)
وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ
(And you will see the mountains and think them solid, but they shall pass away as the passing away of the clouds.) (27:88) meaning, you will see them as if they are fixed and as if they will remain as they are, but they will pass away as the passing away of the clouds, i.e., they will move away from their places. This is like the Ayat:
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَآءُ مَوْراً - وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْراً
(On the Day when the heaven will shake with a dreadful shaking, And the mountains will move away with a (horrible) movement.) (52:9-10)
وَيَسْـَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّى نَسْفاً - فَيَذَرُهَا قَاعاً صَفْصَفاً - لاَّ تَرَى فِيهَا عِوَجاً وَلا أَمْتاً
(And they ask you concerning the mountains: say, "My Lord will blast them and scatter them as particles of dust. Then He shall leave them as a level smooth plain. You will see therein nothing crooked or curved.") (20:105-107),
" وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الاٌّرْضَ بَارِزَةً
(And (remember) the Day We shall cause the mountains to pass away, and you will see the earth as a leveled plain.) (18:47).
صُنْعَ اللَّهِ الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(The work of Allah, Who perfected all things,) means, He does that by His great power.
الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(Who perfected all things,) means, He has perfected all that He has created, and has fashioned it according to His wisdom.
إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ
(verily, He is well-acquainted with what you do) means, He knows all that His servants do, good or evil, and He will reward or punish them accordingly. Then Allah describes the state of the blessed and the doomed on that Day, and says:
مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا
(Whoever brings a good deed, will have better than its worth.) Qatadah said, "That is sincerely for Allah alone." Allah has explained elsewhere in the Qur'an that He will give ten like it.
وَهُمْ مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ
(and they will be safe from the terror on that Day.) This is like the Ayah,
لاَ يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الاٌّكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them) (21:103) and Allah said:
أَفَمَن يُلْقَى فِى النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِى ءَامِناً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(Is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection) (41:40),
وَهُمْ فِى الْغُرُفَـتِ ءَامِنُونَ
(and they will reside in the high dwellings in peace and security) (34:37).
وَمَن جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ
(And whoever brings an evil deed, they will be cast down on their faces in the Fire.) means, whoever comes to Allah with evil deeds, and with no good deeds to his credit, or whose evil deeds outweigh his good deeds. Allah says:
هَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
((And it will be said to them) "Are you being recompensed anything except what you used to do")
جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔
90
View Single
وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
And whoever brings evil – so their faces will be dipped into the fire; what reward will you get, except what you did?
اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو ان کے منہ (دوزخ کی) آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔ بس تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Terrors of the Day of Resurrection, the Rewards for Good Deeds and the Punishments for Evil Deed
Allah tells us about the terrors of the Day when the Sur will be blown. The Sur, as described in the Hadith, is,
«قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيه»
(a horn which is blown into.) According to the Hadith about the Sur (Trumpet), it is (the angel) Israfil who will blow into it by the command of Allah, may He be exalted. He will blow into it for the first time, for a long time. This will signal the end of the life of this world, and the Hour will come upon the most evil of people ever to live. Everyone who is in the heavens and on earth will be terrified,
إِلاَّ مَن شَآءَ اللَّهُ
(except him whom Allah wills.) these are the martyrs, for they are alive, with their Lord, and being provided for. Imam Muslim bin Al-Hajjaj recorded that `Abdullah bin `Amr, may Allah be pleased with him, said that a man came to him and said, "What is this Hadith that you are narrating, that the Hour will come upon such and such people" He said, "Subhan Allah or `La Ilaha Illallah (or something similar), I had decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that after a little while, you will see a major event which will destroy the House the Ka`bah, and such and such will happen." Then he said, "The Messenger of Allah ﷺ said:
«يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا فَيَبْعَثُ اللهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ في كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَه»
(The Dajjal will emerge in my Ummah, and will remain for forty -- I do not know whether he said forty days, or forty months, or forty years -- then Allah will send `Isa son of Maryam, who looks like `Urwah bin Mas`ud, and he will search for him and destroy him. Then mankind will remain for seven years during which there will not be any enmity between any two people. Then Allah will send a cool wind from the direction of Syria, and no one will be left on the face of the earth who has even a speck of goodness or faith in his heart, but it will take him. Even if he entered into the heart of a mountain, the wind would follow him and seize him.)" He said, "I heard it from the Messenger of Allah ﷺ who said:
«فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَجِيبُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ، قَالَ: فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ قَالَ:الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُولُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ، فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ؟ فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، قَالَ: فَذَلِكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانُ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاق»
(Then the most evil of people will remain, and they will be as nimble as birds and will be more temperamental than wild beasts. They will not recognize anything good or denounce anything evil. The Shaytan will appear to them and will say, "Will you do as I tell you" They will say, "What do you command us to do" He will command them to worship idols but in spite of this their provision will be plentiful and they will lead comfortable lives. Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound. The first person to hear it will be a man who is setting up the tank for watering his camels. He will fall down, and all the other people will also fall down. Then Allah will send -- or send down -- rain like dew -- or he said, like shade (Nu'man was the one who was not sure) -- from which will grow the bodies of the people. Then the Trumpet will be blown again, and they will get up and look around. Then it will be said: "O mankind! Go to your Lord!" And they will be stopped, for they are to be questioned. Then it will be said: "Bring forth the people who are to be sent to the Fire." It will be asked: "How many are they" It will be said, "Out of every thousand, nine hundred and ninety-nine." That will be the Day which will make the children grey-headed, and that will be the Day when the Shin shall be uncovered.) His saying;
«ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا»
(Then the Sur (Trumpet) will be blown, and no one will hear it but he will tilt his head to hear the sound.) means that they will tilt their heads so that they can better hear the sound coming from the heavens. That is the blast of the Sur which will terrify everyone, then after that will come the blast which will cause them to die, then the blast which will resurrect them to meet the Lord of the worlds -- this is when all of the creation will be brought forth from their graves. Allah says:
وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَخِرِينَ
(And all shall come to Him, humbled.) meaning, humbling themselves and obeying Him, and no one will go against His command. This is like the Ayat:
يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ
(On the Day when He will call you, and you will answer with His praise and obedience) (17:52).
ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الاٌّرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ
(Then afterwards when He will call you by a single call, behold, you will come out from the earth) (30:25). According to the Hadith about the Sur, when it is blown for the third time, Allah will command the souls to be put into the hole of the Sur (Trumpet), then Israfil will blow into it, after the bodies have grown in their graves and resting places, and when he blows into the Sur (Trumpet), the souls will fly, the believers' souls glowing with light, and the disbelievers' souls looking like darkness. And Allah will say: "By My might and majesty, every soul will go back to its body." And the souls will come back to their bodies and go through them like poison going through a person who is bitten or stung by a poisonous creature. Then they will get up, brushing off the dirt of their graves. Allah says:
يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الاٌّجْدَاثِ سِرَاعاً كَأَنَّهُمْ إِلَى نُصُبٍ يُوفِضُونَ
(The Day when they will come out of the graves quickly as racing to a goal.) (70:43)
وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ
(And you will see the mountains and think them solid, but they shall pass away as the passing away of the clouds.) (27:88) meaning, you will see them as if they are fixed and as if they will remain as they are, but they will pass away as the passing away of the clouds, i.e., they will move away from their places. This is like the Ayat:
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَآءُ مَوْراً - وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْراً
(On the Day when the heaven will shake with a dreadful shaking, And the mountains will move away with a (horrible) movement.) (52:9-10)
وَيَسْـَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّى نَسْفاً - فَيَذَرُهَا قَاعاً صَفْصَفاً - لاَّ تَرَى فِيهَا عِوَجاً وَلا أَمْتاً
(And they ask you concerning the mountains: say, "My Lord will blast them and scatter them as particles of dust. Then He shall leave them as a level smooth plain. You will see therein nothing crooked or curved.") (20:105-107),
" وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الاٌّرْضَ بَارِزَةً
(And (remember) the Day We shall cause the mountains to pass away, and you will see the earth as a leveled plain.) (18:47).
صُنْعَ اللَّهِ الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(The work of Allah, Who perfected all things,) means, He does that by His great power.
الَّذِى أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ
(Who perfected all things,) means, He has perfected all that He has created, and has fashioned it according to His wisdom.
إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ
(verily, He is well-acquainted with what you do) means, He knows all that His servants do, good or evil, and He will reward or punish them accordingly. Then Allah describes the state of the blessed and the doomed on that Day, and says:
مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا
(Whoever brings a good deed, will have better than its worth.) Qatadah said, "That is sincerely for Allah alone." Allah has explained elsewhere in the Qur'an that He will give ten like it.
وَهُمْ مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ
(and they will be safe from the terror on that Day.) This is like the Ayah,
لاَ يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الاٌّكْبَرُ
(The greatest terror will not grieve them) (21:103) and Allah said:
أَفَمَن يُلْقَى فِى النَّارِ خَيْرٌ أَم مَّن يَأْتِى ءَامِناً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ
(Is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection) (41:40),
وَهُمْ فِى الْغُرُفَـتِ ءَامِنُونَ
(and they will reside in the high dwellings in peace and security) (34:37).
وَمَن جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِى النَّارِ
(And whoever brings an evil deed, they will be cast down on their faces in the Fire.) means, whoever comes to Allah with evil deeds, and with no good deeds to his credit, or whose evil deeds outweigh his good deeds. Allah says:
هَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
((And it will be said to them) "Are you being recompensed anything except what you used to do")
جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم باتیں دیکھو گے۔ بیت اللہ خراب ہوجائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال میری امت میں چالیس ٹھہرے گا۔ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کو نازل فرمائے گا۔ وہ صورت شکل میں بالکل حضرت عروہ بن مسعود ؓ جیسے ہونگے آپ اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور اسے ہلاک کردیں گے۔ پھر سات سال ایسے گزریں گے کہ دنیا بھر میں دو شخص ایسے نہ ہونگے جن میں آپس میں بغض و عدوات ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک بھینی بھینی ٹھنڈی ہوا چلائے گا جس سے ہر مومن فوت ہوجائے گا۔ ایک ذرے کے برابر بھی جس کے دل میں خیر یا ایمان ہوگا اس کی روح بھی قبض ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی کھوہ میں گھس گیا ہوگا تو یہ ہوا وہیں جاکر اسے فناکردے گی۔ اب زمین پر صرف بد لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور چوپائیوں جیسے بےعقل ہوں گے۔ ان میں سے بھلائی برائی کی تمیز اٹھ جائے گی ان کے پاس شیطان پہنچے گا اور کہے گا تم شرماتے نہیں ؟ کہ بتوں کی پرستش چھوڑے بیٹھے ہو ؟ یہ بت پرستی شروع کردیں گے۔ اللہ انہیں روزیاں پہنچاتا رہے گا اور خوش وخرم رکھے گا۔ یہ اسی مستی میں ہونگے جو صور پھونکنے کا حکم مل جائے گا۔ جس کے کان میں آواز پڑی وہیں دائیں بائیں لوٹنے لگا سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹ کے لئے حوض ٹھیک ٹھاک کر رہا ہوگا سنتے ہی بیہوش ہوجائے گا۔ اور سب لوگ بیہوش ہونا شروع ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مثل شبنم کے بارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اٹھنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا جس سے سب اٹھ کھڑے ہونگے۔ وہیں آواز لگے گی کہ لوگو ! اپنے رب کے پاس چلو۔ وہاں ٹھہرو تم سے سوال جواب ہوگا پھر فرمایا جائے گا کہ آگ کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنوں میں سے کتنے ؟ تو فرمایا جائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہ ہوگا وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کردے۔ یہ ہوگا وہ دن جب پنڈلی (تجلی رب) کی زیارت کرائی جائے گی۔ پہلا نفخہ تو گھبراہٹ کا نفخہ ہوگا۔ دوسرا بیہوشی اور موت کا اور تیسرا دوبارہ جی کر رب العلمین کے دربار میں پیش ہونے کا۔ أتوہ کی قرائت الف کے مد کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ہر ایک ذلیل وخوار ہو کر پست و لاچار ہو کر بےبس اور مجبور ہو کر ماتحت اور محکوم ہو کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا۔ ایک سے بھی بن نہ پڑے گی کہ اسکی حکم عدولی کرے۔ جیسے فرمان ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52) 17۔ الإسراء :52) جس دن اللہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی حمد بیان کرتے ہوئے اس کی فرمانبرداری کروگے اور آیت میں ہے کہ پھر جب وہ تمہیں زمین سے بلائے گا تو تم سب نکل کھڑے ہوگے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام روحیں صور کے سوراخ میں رکھی جائیں گی اور جب جسم قبروں سے اٹھ رہے ہونگے۔ صور پھونک دیا جائے گا روحیں اڑنے لگیں گی مومنوں کی روحیں نورانی ہونگی کافروں کی روحیں اندھیرے اور ظلمت والی ہونگی۔ رب العالمین خالق کل فرمادے گا میرے جلال کی میری عزت کی قسم ہے ہر روح اپنے بدن میں چلی جائے۔ جس طرح زہر رگ وپے میں سرایت کرتا ہے اس طرح روحیں اپنے جسموں میں پھیل جائیں گی اور لوگ اپنی اپنی جگہ سے سرجھاڑ اٹھ کھڑے ہوں گے جیسے فرمایا کہ اس دن قبروں سے اس طرح جلدی نکلیں گے جس طرح اپنی عبادت گاہ کی طرف دوڑے بھاگے جاتے تھے۔ یہ بلند پہاڑ جنہیں تم گڑا ہوا اور جما ہوا دیکھ رہے ہو یہ اس دن اڑتے بادلوں کی طرح ادھر ادھر پھیلے ہوئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ریزہ ریزہ ہو کر یہ چلنے پھرنے لگیں گے اور آخر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام ونشان ہوجائیں گے زمین صاف ہتھیلی جیسی بغیر کسی اونچ نیچ کے ہوجائے گی یہ ہے صفت اس صناع کی جس کی ہر صفت حکمت والی مضبوط پختہ اور اعلی ہوتی ہے۔ جس کی اعلی تر قدرت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بندوں کے تمام اعمال خیر وشر سے وہ واقف ہے ہر ایک فعل کی سزا جزا وہ ضرور دے گا۔ اس اختصار کے بعد تفصیل بیان فرمائی کہ نیکی اخلاص توحید لے کر جو آئے گا وہ ایک کے بدلے دس پائے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے نڈر رہے گا اور لوگ گھبراہٹ میں عذاب میں ہونگے۔ یہ امن میں ثواب میں ہوگا بلند وبالا بالاخانوں میں راحت واطمینان سے ہوگا۔ اور جس کی برائیاں ہی برائیاں ہوں یا جس کی برائیاں بھلائیوں سے زیادہ ہوں اسے ان کا بدلہ ملے گا۔ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی۔ اکثر مفسرین سے مروی ہے کہ برائی سے مراد شرک ہے۔
91
View Single
إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ ٱلۡبَلۡدَةِ ٱلَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَيۡءٖۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
“I (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) have been commanded to worship the Lord of this city, Who has deemed it sacred, and everything belongs to Him; and I have been commanded to be among the obedient.”
(آپ ان سے فرما دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہرِ (مکّہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے عزت و حُرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اُسی کی (مِلک) ہے اور مجھے (یہ) حکم (بھی) دیا گیا ہے کہ میں (اللہ کے) فرمانبرداروں میں رہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to worship Allah and to call People with the Qur'an
Allah commands His Messenger to say:
إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبِّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَىءٍ
(I have been commanded only to worship the Lord of this city, Who has sanctified it and to Whom belongs everything.) This is like the Ayah,
قُلْ يأَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى شَكٍّ مِّن دِينِى فَلاَ أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَلَـكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِى يَتَوَفَّاكُمْ
(Say: "O you mankind! If you are in doubt as to my religion, then (know that) I will never worship those whom you worship besides Allah. But I worship Allah Who causes you to die.) (10:104) The fact that the word "Rabb" (Lord) is connected to the word city (in the phrase "the Lord of this city") is a sign of honor and divine care for that city. This is like the Ayah,
فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(So let them worship the Lord of this House (the Ka`bah), Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.) (106:3-4)
الَّذِى حَرَّمَهَا
(Who has sanctified it) means, the One Who made it a sanctuary by His Law and by His decree, making it sanctified. It was recorded in the Two Sahihs that Ibn `Abbas said: "On the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا»
(Verily, this city was made sacred by Allah the day He created the heavens and the earth, so it is sacred by the sanctity of Allah until the Day of Resurrection. Its thorny bushes should not be cut, its game should not be chased, and its lost property should not be picked up except by one who would announce it publicly and none is allowed to uproot its thorny shrubs...)" This was reported in Sahih, Hasan, Musnad narrarations, through various routes, by such a large group that it is absolutely unquestionable, as has been explained in the appropriate place in the book Al-Ahkam, to Allah is the praise and thanks.
وَلَهُ كُلُّ شَىءٍ
(and to Whom belongs everything.) This is a statement of general application following a specific statement, i.e., He is the Lord of this city, and the Lord and Sovereign of all things, there is no god worthy of worship besides Him.
وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(And I am commanded to be from among the Muslims. ) means, those who believe in Allah alone, who are sincere towards Him and who obediently follow His commands.
وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْءَانَ
(And that I should recite the Qur'an,) means, to people, so as to convey it to them. This is like the Ayah,
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَـتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
(This is what We recite to you of the Ayat and the Wise Reminder.) (3:58)
نَتْلُواْ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ
(We recite to you some of the news of Musa and Fir`awn in truth.) (28:3) meaning, `I am a conveyer and a warner.'
فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُنذِرِينَ
(then whosoever receives guidance, receives it for the good of himself; and whosoever goes astray, say (to him): "I am only one of the warners.") meaning, `I have an example to follow in the Messengers who warned their people, and did what they had to do in order to convey the Message to them and fulfil the covenant they had made.' Allah will judge their nations to whom they were sent, as He says:
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey and on Us is the reckoning) (13: 40).
إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ
(But you are only a warner. And Allah is a Protector over all thing) (11:12).
وَقُلِ الْحَمْدُ للَّهِ سَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا
(And say: "All the praises and thanks be to Allah. He will show you His Ayat (signs), and you shall recognize them.) means, praise be to Allah, Who does not punish anyone except after establishing plea against him, warning him and leaving him with no excuse. Allah says:
سَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا
(He will show you His Ayat (signs), and you shall recognize them.) This is like the Ayah,
سَنُرِيهِمْ ءَايَـتِنَا فِى الاٌّفَاقِ وَفِى أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
(We will show them Our signs in the universe, and in themselves, until it becomes manifest to them that this is the truth) (41:53).
وَمَا رَبُّكَ بِغَـفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(And your Lord is not unaware of what you do.) means, on the contrary, He witnesses and sees all things. It was recorded that Imam Ahmad, may Allah have mercy upon him, used to recite the following two lines of verse, whether they were written by him or someone else: "If you are alone one day, do not say, `I am alone.' Rather say, `Someone is watching me.' Do not think that Allah will let His attention wander for even an instant, or that anything is hidden from Him." This is the end of the Tafsir of Surat An-Naml. All praise and thanks be to Allah.
اللہ تعالیٰ کو حکم اعلان اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہوا کرے میں تو جن کی تم عبادت کررہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لئے ہے جیسے فرمایا آیت (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ۙ) 106۔ قریش :3) انہیں چاہیے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف کے وقت بےخوف کر رکھا ہے۔ یہاں فرمایا کہ اس شہر کو حرمت وعزت والا اس نے بنایا ہے۔ جیسے بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن فرمایا کہ یہ شہر اسی وقت سے باحرمت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت دینے سے حرمت والا ہی رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں نہ اس کا شکار خوف زدہ کیا جائے نہ اس میں گری پڑی چیز کسی کی اٹھای جائے ہاں جو پہچان کر مالک کو پہنچانا چاہے اس کے لئے جائز ہے۔ اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مروی ہے جیسے کہ احکام کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ وللہ الحمد۔ پھر اس خاص چیز کی ملکیت ثابت کرکے اپنی عام ملکیت کا ذکر فرماتا ہے کہ ہر چیز کا رب اور مالک وہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی مالک نہ معبود۔ اور مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں موحد مخلص مطیع اور فرمانبردار ہو کر رہوں۔ اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا کہ میں لوگوں کو اللہ کا کلام پڑھ کر سناؤں۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم یہ آیتیں اور یہ حکمت والا ذکر تیرے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم تجھے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ سناتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کا مبلغ ہوں میں تمہیں جگا رہا ہوں۔ تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اگر میری مان کر راہ راست پر آؤگے تو اپنا بھلاکروگے۔ اور اگر میری نہ مانی تو میں اپنے تبلیغ کے فرض کو ادا کرکے سبکدوش ہوگیا ہوں۔ اگلے رسولوں نے بھی یہی کیا تھا اللہ کا کلام پہنچاکر اپنا دامن پاک کرلیا۔ جیسے فرمان ہے تجھ پر صرف پہنچادینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اور فرمایا تو صرف ڈرا دینے والا ہے اور ہر چیز پر وکیل اللہ ہی ہے۔ اللہ کے لئے تعریف ہے جو بندوں کی بیخبر ی میں انہیں عذاب نہیں کرتا بلکہ پہلے اپنا پیغام پہنچاتا ہے اپنی حجت تمام کرتا ہے بھلا برا سمجھا دیتا ہے۔ ہم تمہیں ایسی آیتیں دکھائیں گے کہ تم خود قائل ہوجاؤ۔ جیسے فرمایا آیت (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ 53) 41۔ فصلت :53) یعنی ہم انہیں خود ان کے نفسوں میں اور ان کے اردگرد ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ جن سے ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سے غافل نہیں بلکہ اسکا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے دیکھو لوگو ! اللہ کو کسی چیز سے اپنے عمل سے غافل نہ جاننا۔ وہ ایک ایک مچھر سے ایک ایک پتنگے سے اور ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ عمربن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ اگر وہ غافل ہوتا تو انسان کے قدموں کے نشان سے جنہیں ہوا مٹادیتی ہے غفلت کرجاتا لیکن وہ ان نشانات کا بھی حافظ ہے اور عالم ہے۔ امام احمد بن حنبل اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے تھے جو یا تو آپ کے ہیں یا کسی اور کے شعر (اذا ماخلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب)یعنی جب تو کسی وقت بھی خلوت اور تنہائی میں ہو تو اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا نہ سمجھنا بلکہ اپنے اللہ کو وہاں حاضر ناظر جاننا۔ وہ ایک ساعت بھی کسی سے غافل نہیں نہ کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے سورة نمل کی تفسیر ختم ہوئی۔
92
View Single
وَأَنۡ أَتۡلُوَاْ ٱلۡقُرۡءَانَۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ
“And to recite the Qur’an”; so whoever attained the right path, has attained it for his own good; and whoever goes astray – so say, “Indeed I am only a Herald of Warning.”
نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لئے راہِ راست اختیار کی، اور جو بہکا رہا تو آپ فرما دیں کہ میں تو صِرف ڈر سنانے والوں میں سے ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to worship Allah and to call People with the Qur'an
Allah commands His Messenger to say:
إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبِّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَىءٍ
(I have been commanded only to worship the Lord of this city, Who has sanctified it and to Whom belongs everything.) This is like the Ayah,
قُلْ يأَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى شَكٍّ مِّن دِينِى فَلاَ أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَلَـكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِى يَتَوَفَّاكُمْ
(Say: "O you mankind! If you are in doubt as to my religion, then (know that) I will never worship those whom you worship besides Allah. But I worship Allah Who causes you to die.) (10:104) The fact that the word "Rabb" (Lord) is connected to the word city (in the phrase "the Lord of this city") is a sign of honor and divine care for that city. This is like the Ayah,
فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(So let them worship the Lord of this House (the Ka`bah), Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.) (106:3-4)
الَّذِى حَرَّمَهَا
(Who has sanctified it) means, the One Who made it a sanctuary by His Law and by His decree, making it sanctified. It was recorded in the Two Sahihs that Ibn `Abbas said: "On the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا»
(Verily, this city was made sacred by Allah the day He created the heavens and the earth, so it is sacred by the sanctity of Allah until the Day of Resurrection. Its thorny bushes should not be cut, its game should not be chased, and its lost property should not be picked up except by one who would announce it publicly and none is allowed to uproot its thorny shrubs...)" This was reported in Sahih, Hasan, Musnad narrarations, through various routes, by such a large group that it is absolutely unquestionable, as has been explained in the appropriate place in the book Al-Ahkam, to Allah is the praise and thanks.
وَلَهُ كُلُّ شَىءٍ
(and to Whom belongs everything.) This is a statement of general application following a specific statement, i.e., He is the Lord of this city, and the Lord and Sovereign of all things, there is no god worthy of worship besides Him.
وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(And I am commanded to be from among the Muslims. ) means, those who believe in Allah alone, who are sincere towards Him and who obediently follow His commands.
وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْءَانَ
(And that I should recite the Qur'an,) means, to people, so as to convey it to them. This is like the Ayah,
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَـتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
(This is what We recite to you of the Ayat and the Wise Reminder.) (3:58)
نَتْلُواْ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ
(We recite to you some of the news of Musa and Fir`awn in truth.) (28:3) meaning, `I am a conveyer and a warner.'
فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُنذِرِينَ
(then whosoever receives guidance, receives it for the good of himself; and whosoever goes astray, say (to him): "I am only one of the warners.") meaning, `I have an example to follow in the Messengers who warned their people, and did what they had to do in order to convey the Message to them and fulfil the covenant they had made.' Allah will judge their nations to whom they were sent, as He says:
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey and on Us is the reckoning) (13: 40).
إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ
(But you are only a warner. And Allah is a Protector over all thing) (11:12).
وَقُلِ الْحَمْدُ للَّهِ سَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا
(And say: "All the praises and thanks be to Allah. He will show you His Ayat (signs), and you shall recognize them.) means, praise be to Allah, Who does not punish anyone except after establishing plea against him, warning him and leaving him with no excuse. Allah says:
سَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا
(He will show you His Ayat (signs), and you shall recognize them.) This is like the Ayah,
سَنُرِيهِمْ ءَايَـتِنَا فِى الاٌّفَاقِ وَفِى أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
(We will show them Our signs in the universe, and in themselves, until it becomes manifest to them that this is the truth) (41:53).
وَمَا رَبُّكَ بِغَـفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(And your Lord is not unaware of what you do.) means, on the contrary, He witnesses and sees all things. It was recorded that Imam Ahmad, may Allah have mercy upon him, used to recite the following two lines of verse, whether they were written by him or someone else: "If you are alone one day, do not say, `I am alone.' Rather say, `Someone is watching me.' Do not think that Allah will let His attention wander for even an instant, or that anything is hidden from Him." This is the end of the Tafsir of Surat An-Naml. All praise and thanks be to Allah.
اللہ تعالیٰ کو حکم اعلان اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہوا کرے میں تو جن کی تم عبادت کررہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لئے ہے جیسے فرمایا آیت (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ۙ) 106۔ قریش :3) انہیں چاہیے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف کے وقت بےخوف کر رکھا ہے۔ یہاں فرمایا کہ اس شہر کو حرمت وعزت والا اس نے بنایا ہے۔ جیسے بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن فرمایا کہ یہ شہر اسی وقت سے باحرمت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت دینے سے حرمت والا ہی رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں نہ اس کا شکار خوف زدہ کیا جائے نہ اس میں گری پڑی چیز کسی کی اٹھای جائے ہاں جو پہچان کر مالک کو پہنچانا چاہے اس کے لئے جائز ہے۔ اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مروی ہے جیسے کہ احکام کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ وللہ الحمد۔ پھر اس خاص چیز کی ملکیت ثابت کرکے اپنی عام ملکیت کا ذکر فرماتا ہے کہ ہر چیز کا رب اور مالک وہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی مالک نہ معبود۔ اور مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں موحد مخلص مطیع اور فرمانبردار ہو کر رہوں۔ اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا کہ میں لوگوں کو اللہ کا کلام پڑھ کر سناؤں۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم یہ آیتیں اور یہ حکمت والا ذکر تیرے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم تجھے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ سناتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کا مبلغ ہوں میں تمہیں جگا رہا ہوں۔ تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اگر میری مان کر راہ راست پر آؤگے تو اپنا بھلاکروگے۔ اور اگر میری نہ مانی تو میں اپنے تبلیغ کے فرض کو ادا کرکے سبکدوش ہوگیا ہوں۔ اگلے رسولوں نے بھی یہی کیا تھا اللہ کا کلام پہنچاکر اپنا دامن پاک کرلیا۔ جیسے فرمان ہے تجھ پر صرف پہنچادینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اور فرمایا تو صرف ڈرا دینے والا ہے اور ہر چیز پر وکیل اللہ ہی ہے۔ اللہ کے لئے تعریف ہے جو بندوں کی بیخبر ی میں انہیں عذاب نہیں کرتا بلکہ پہلے اپنا پیغام پہنچاتا ہے اپنی حجت تمام کرتا ہے بھلا برا سمجھا دیتا ہے۔ ہم تمہیں ایسی آیتیں دکھائیں گے کہ تم خود قائل ہوجاؤ۔ جیسے فرمایا آیت (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ 53) 41۔ فصلت :53) یعنی ہم انہیں خود ان کے نفسوں میں اور ان کے اردگرد ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ جن سے ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سے غافل نہیں بلکہ اسکا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے دیکھو لوگو ! اللہ کو کسی چیز سے اپنے عمل سے غافل نہ جاننا۔ وہ ایک ایک مچھر سے ایک ایک پتنگے سے اور ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ عمربن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ اگر وہ غافل ہوتا تو انسان کے قدموں کے نشان سے جنہیں ہوا مٹادیتی ہے غفلت کرجاتا لیکن وہ ان نشانات کا بھی حافظ ہے اور عالم ہے۔ امام احمد بن حنبل اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے تھے جو یا تو آپ کے ہیں یا کسی اور کے شعر (اذا ماخلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب)یعنی جب تو کسی وقت بھی خلوت اور تنہائی میں ہو تو اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا نہ سمجھنا بلکہ اپنے اللہ کو وہاں حاضر ناظر جاننا۔ وہ ایک ساعت بھی کسی سے غافل نہیں نہ کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے سورة نمل کی تفسیر ختم ہوئی۔
93
View Single
وَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ فَتَعۡرِفُونَهَاۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ
And proclaim, “All praise is to Allah – He will soon show you His signs so you will recognise them”; and (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) your Lord is not unaware of what you, O people, do.”
اور آپ فرمادیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا سو تم انہیں پہچان لو گے، اور آپ کا رب ان کاموں سے بے خبر نہیں جو تم انجام دیتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to worship Allah and to call People with the Qur'an
Allah commands His Messenger to say:
إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبِّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَىءٍ
(I have been commanded only to worship the Lord of this city, Who has sanctified it and to Whom belongs everything.) This is like the Ayah,
قُلْ يأَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى شَكٍّ مِّن دِينِى فَلاَ أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَلَـكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِى يَتَوَفَّاكُمْ
(Say: "O you mankind! If you are in doubt as to my religion, then (know that) I will never worship those whom you worship besides Allah. But I worship Allah Who causes you to die.) (10:104) The fact that the word "Rabb" (Lord) is connected to the word city (in the phrase "the Lord of this city") is a sign of honor and divine care for that city. This is like the Ayah,
فَلْيَعْبُدُواْ رَبَّ هَـذَا الْبَيْتِ - الَّذِى أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خوْفٍ
(So let them worship the Lord of this House (the Ka`bah), Who has fed them against hunger, and has made them safe from fear.) (106:3-4)
الَّذِى حَرَّمَهَا
(Who has sanctified it) means, the One Who made it a sanctuary by His Law and by His decree, making it sanctified. It was recorded in the Two Sahihs that Ibn `Abbas said: "On the day of the conquest of Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said:
«إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا»
(Verily, this city was made sacred by Allah the day He created the heavens and the earth, so it is sacred by the sanctity of Allah until the Day of Resurrection. Its thorny bushes should not be cut, its game should not be chased, and its lost property should not be picked up except by one who would announce it publicly and none is allowed to uproot its thorny shrubs...)" This was reported in Sahih, Hasan, Musnad narrarations, through various routes, by such a large group that it is absolutely unquestionable, as has been explained in the appropriate place in the book Al-Ahkam, to Allah is the praise and thanks.
وَلَهُ كُلُّ شَىءٍ
(and to Whom belongs everything.) This is a statement of general application following a specific statement, i.e., He is the Lord of this city, and the Lord and Sovereign of all things, there is no god worthy of worship besides Him.
وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
(And I am commanded to be from among the Muslims. ) means, those who believe in Allah alone, who are sincere towards Him and who obediently follow His commands.
وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْءَانَ
(And that I should recite the Qur'an,) means, to people, so as to convey it to them. This is like the Ayah,
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الآيَـتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ
(This is what We recite to you of the Ayat and the Wise Reminder.) (3:58)
نَتْلُواْ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ
(We recite to you some of the news of Musa and Fir`awn in truth.) (28:3) meaning, `I am a conveyer and a warner.'
فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ مِنَ الْمُنذِرِينَ
(then whosoever receives guidance, receives it for the good of himself; and whosoever goes astray, say (to him): "I am only one of the warners.") meaning, `I have an example to follow in the Messengers who warned their people, and did what they had to do in order to convey the Message to them and fulfil the covenant they had made.' Allah will judge their nations to whom they were sent, as He says:
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
(your duty is only to convey and on Us is the reckoning) (13: 40).
إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ
(But you are only a warner. And Allah is a Protector over all thing) (11:12).
وَقُلِ الْحَمْدُ للَّهِ سَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا
(And say: "All the praises and thanks be to Allah. He will show you His Ayat (signs), and you shall recognize them.) means, praise be to Allah, Who does not punish anyone except after establishing plea against him, warning him and leaving him with no excuse. Allah says:
سَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا
(He will show you His Ayat (signs), and you shall recognize them.) This is like the Ayah,
سَنُرِيهِمْ ءَايَـتِنَا فِى الاٌّفَاقِ وَفِى أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
(We will show them Our signs in the universe, and in themselves, until it becomes manifest to them that this is the truth) (41:53).
وَمَا رَبُّكَ بِغَـفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(And your Lord is not unaware of what you do.) means, on the contrary, He witnesses and sees all things. It was recorded that Imam Ahmad, may Allah have mercy upon him, used to recite the following two lines of verse, whether they were written by him or someone else: "If you are alone one day, do not say, `I am alone.' Rather say, `Someone is watching me.' Do not think that Allah will let His attention wander for even an instant, or that anything is hidden from Him." This is the end of the Tafsir of Surat An-Naml. All praise and thanks be to Allah.
اللہ تعالیٰ کو حکم اعلان اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہوا کرے میں تو جن کی تم عبادت کررہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لئے ہے جیسے فرمایا آیت (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ۙ) 106۔ قریش :3) انہیں چاہیے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف کے وقت بےخوف کر رکھا ہے۔ یہاں فرمایا کہ اس شہر کو حرمت وعزت والا اس نے بنایا ہے۔ جیسے بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے دن فرمایا کہ یہ شہر اسی وقت سے باحرمت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت دینے سے حرمت والا ہی رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں نہ اس کا شکار خوف زدہ کیا جائے نہ اس میں گری پڑی چیز کسی کی اٹھای جائے ہاں جو پہچان کر مالک کو پہنچانا چاہے اس کے لئے جائز ہے۔ اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مروی ہے جیسے کہ احکام کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ وللہ الحمد۔ پھر اس خاص چیز کی ملکیت ثابت کرکے اپنی عام ملکیت کا ذکر فرماتا ہے کہ ہر چیز کا رب اور مالک وہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی مالک نہ معبود۔ اور مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں موحد مخلص مطیع اور فرمانبردار ہو کر رہوں۔ اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا کہ میں لوگوں کو اللہ کا کلام پڑھ کر سناؤں۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم یہ آیتیں اور یہ حکمت والا ذکر تیرے سامنے تلاوت کرتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم تجھے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ سناتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کا مبلغ ہوں میں تمہیں جگا رہا ہوں۔ تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اگر میری مان کر راہ راست پر آؤگے تو اپنا بھلاکروگے۔ اور اگر میری نہ مانی تو میں اپنے تبلیغ کے فرض کو ادا کرکے سبکدوش ہوگیا ہوں۔ اگلے رسولوں نے بھی یہی کیا تھا اللہ کا کلام پہنچاکر اپنا دامن پاک کرلیا۔ جیسے فرمان ہے تجھ پر صرف پہنچادینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے۔ اور فرمایا تو صرف ڈرا دینے والا ہے اور ہر چیز پر وکیل اللہ ہی ہے۔ اللہ کے لئے تعریف ہے جو بندوں کی بیخبر ی میں انہیں عذاب نہیں کرتا بلکہ پہلے اپنا پیغام پہنچاتا ہے اپنی حجت تمام کرتا ہے بھلا برا سمجھا دیتا ہے۔ ہم تمہیں ایسی آیتیں دکھائیں گے کہ تم خود قائل ہوجاؤ۔ جیسے فرمایا آیت (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ 53) 41۔ فصلت :53) یعنی ہم انہیں خود ان کے نفسوں میں اور ان کے اردگرد ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ جن سے ان پر حق ظاہر ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سے غافل نہیں بلکہ اسکا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے دیکھو لوگو ! اللہ کو کسی چیز سے اپنے عمل سے غافل نہ جاننا۔ وہ ایک ایک مچھر سے ایک ایک پتنگے سے اور ایک ایک ذرے سے باخبر ہے۔ عمربن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ اگر وہ غافل ہوتا تو انسان کے قدموں کے نشان سے جنہیں ہوا مٹادیتی ہے غفلت کرجاتا لیکن وہ ان نشانات کا بھی حافظ ہے اور عالم ہے۔ امام احمد بن حنبل اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے تھے جو یا تو آپ کے ہیں یا کسی اور کے شعر (اذا ماخلوت الدھر یوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب)یعنی جب تو کسی وقت بھی خلوت اور تنہائی میں ہو تو اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا نہ سمجھنا بلکہ اپنے اللہ کو وہاں حاضر ناظر جاننا۔ وہ ایک ساعت بھی کسی سے غافل نہیں نہ کوئی مخفی اور پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے سورة نمل کی تفسیر ختم ہوئی۔