النجم — An najm
Ayah 45 / 62 • Meccan
3,001
45
An najm
النجم • Meccan
وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰ
And that it is He Who has created the two pairs, male and female?
اور یہ کہ اُسی نے نَر اور مادہ دو قِسموں کو پیدا کیا
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
وَٱلنَّجۡمِ إِذَا هَوَىٰ
By oath of the beloved shining star Mohammed (peace and blessings be upon him), when he returned from the Ascent.
قَسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The First Surah in which a Prostration is revealed
Al-Bukhari recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "Surat An-Najm was the first Surah in which a prostration was revealed. The Prophet (recited it in Makkah) and prostrated. Those who were with him did the same, except an old man who took a handful of soil and prostrated on it. Later on, I saw him killed as a disbeliever; he was Umayyah bin Khalaf." Al-Bukhari recorded this Hadith in several places of his Sahih, as did Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i, using various chains of narration through Abu Ishaq from `Abdullah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Allah swears the Messenger ﷺ is True and His Words are a Revelation from Him
Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha`bi and others stated that the Creator swears by whatever He wills among His creation, but the created only vow by the Creator. Allah said,
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى
(By the star when it goes down.) Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "The star refers to Pleiades when it sets at Fajr." Ad-Dahhak said "When the Shayatin are shot with it." And this Ayah is like Allah's saying;
فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَقِعِ النُّجُومِ - وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ - إِنَّهُ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ - فِى كِتَـبٍ مَّكْنُونٍ - لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ - تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(So, I swear by the setting of the stars. And verily, that is indeed a great oath, if you but know. That is indeed an honorable recitation. In a Book well-guarded. Which none can touch but the pure. A revelation from the Lord of all that exists.)(56:75-80) Allah said;
مَا ضَلَّ صَـحِبُكُمْ وَمَا غَوَى
(Your companion has neither gone astray nor has erred.) This contains the subject of the oath. This part of the Ayah is the witness that the Messenger of Allah ﷺ is sane and a follower of Truth. He is neither led astray, such as in the case of the ignorant who does not proceed on any path with knowledge, nor is he one who erred, such as in the case of the knowledgeable, who knows the Truth, yet deviates from it intentionally to something else. Therefore, Allah exonerated His Messenger and his Message from being similar to the misguided ways of the Christians and the erroneous paths of the Jews, such as knowing the Truth and hiding it, while abiding by falsehood. Rather, he, may Allah's peace and blessings be on him, and his glorious Message that Allah has sent him with, are on the perfect straight path, following guidance and what is correct.
Muhammad ﷺ was sent as a Mercy for all that exists; He does not speak of His Desire
Allah said,
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى
(Nor does he speak of desire), asserting that nothing the Prophet utters is of his own desire or wish,
إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْىٌ يُوحَى
(It is only a revelation revealed.), means, he only conveys to the people what he was commanded to convey, in its entirety without additions or deletions. Imam Ahmad recorded that Abu Umamah said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيَ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَر»
(Verily, numbers similar to the two tribes, or one of them, Rabi`ah and Mudar, will enter Paradise on account of the intercession of one man, who is not a Prophet.) A man asked, "O Allah's Messenger! Is not Rabi`ah a subtribe of Mudar." The Prophet said,
«إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُول»
(I said what I said.) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said, "I used to record everything I heard from the Messenger of Allah ﷺ so it would be preserved. The Quraysh discouraged me from this, saying, `You record everything you hear from the Messenger of Allah ﷺ, even though he is human and sometimes speaks when he is angry' I stopped recording the Hadiths for a while, but later mentioned what they said to the Messenger of Allah ﷺ, who said,
«اكْتُبْ، فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا الْحَق»
(Write! By He in Whose Hand is my soul, every word that comes out of me is the Truth.)" Abu Dawud also collected this Hadith.
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ
Your companion did not err, nor did he go astray.
تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنہوں نے تمہیں اپنا صحابی بنایا) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The First Surah in which a Prostration is revealed
Al-Bukhari recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "Surat An-Najm was the first Surah in which a prostration was revealed. The Prophet (recited it in Makkah) and prostrated. Those who were with him did the same, except an old man who took a handful of soil and prostrated on it. Later on, I saw him killed as a disbeliever; he was Umayyah bin Khalaf." Al-Bukhari recorded this Hadith in several places of his Sahih, as did Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i, using various chains of narration through Abu Ishaq from `Abdullah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Allah swears the Messenger ﷺ is True and His Words are a Revelation from Him
Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha`bi and others stated that the Creator swears by whatever He wills among His creation, but the created only vow by the Creator. Allah said,
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى
(By the star when it goes down.) Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "The star refers to Pleiades when it sets at Fajr." Ad-Dahhak said "When the Shayatin are shot with it." And this Ayah is like Allah's saying;
فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَقِعِ النُّجُومِ - وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ - إِنَّهُ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ - فِى كِتَـبٍ مَّكْنُونٍ - لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ - تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(So, I swear by the setting of the stars. And verily, that is indeed a great oath, if you but know. That is indeed an honorable recitation. In a Book well-guarded. Which none can touch but the pure. A revelation from the Lord of all that exists.)(56:75-80) Allah said;
مَا ضَلَّ صَـحِبُكُمْ وَمَا غَوَى
(Your companion has neither gone astray nor has erred.) This contains the subject of the oath. This part of the Ayah is the witness that the Messenger of Allah ﷺ is sane and a follower of Truth. He is neither led astray, such as in the case of the ignorant who does not proceed on any path with knowledge, nor is he one who erred, such as in the case of the knowledgeable, who knows the Truth, yet deviates from it intentionally to something else. Therefore, Allah exonerated His Messenger and his Message from being similar to the misguided ways of the Christians and the erroneous paths of the Jews, such as knowing the Truth and hiding it, while abiding by falsehood. Rather, he, may Allah's peace and blessings be on him, and his glorious Message that Allah has sent him with, are on the perfect straight path, following guidance and what is correct.
Muhammad ﷺ was sent as a Mercy for all that exists; He does not speak of His Desire
Allah said,
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى
(Nor does he speak of desire), asserting that nothing the Prophet utters is of his own desire or wish,
إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْىٌ يُوحَى
(It is only a revelation revealed.), means, he only conveys to the people what he was commanded to convey, in its entirety without additions or deletions. Imam Ahmad recorded that Abu Umamah said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيَ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَر»
(Verily, numbers similar to the two tribes, or one of them, Rabi`ah and Mudar, will enter Paradise on account of the intercession of one man, who is not a Prophet.) A man asked, "O Allah's Messenger! Is not Rabi`ah a subtribe of Mudar." The Prophet said,
«إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُول»
(I said what I said.) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said, "I used to record everything I heard from the Messenger of Allah ﷺ so it would be preserved. The Quraysh discouraged me from this, saying, `You record everything you hear from the Messenger of Allah ﷺ, even though he is human and sometimes speaks when he is angry' I stopped recording the Hadiths for a while, but later mentioned what they said to the Messenger of Allah ﷺ, who said,
«اكْتُبْ، فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا الْحَق»
(Write! By He in Whose Hand is my soul, every word that comes out of me is the Truth.)" Abu Dawud also collected this Hadith.
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ
And he does not say anything by his own desire.
اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The First Surah in which a Prostration is revealed
Al-Bukhari recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "Surat An-Najm was the first Surah in which a prostration was revealed. The Prophet (recited it in Makkah) and prostrated. Those who were with him did the same, except an old man who took a handful of soil and prostrated on it. Later on, I saw him killed as a disbeliever; he was Umayyah bin Khalaf." Al-Bukhari recorded this Hadith in several places of his Sahih, as did Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i, using various chains of narration through Abu Ishaq from `Abdullah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Allah swears the Messenger ﷺ is True and His Words are a Revelation from Him
Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha`bi and others stated that the Creator swears by whatever He wills among His creation, but the created only vow by the Creator. Allah said,
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى
(By the star when it goes down.) Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "The star refers to Pleiades when it sets at Fajr." Ad-Dahhak said "When the Shayatin are shot with it." And this Ayah is like Allah's saying;
فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَقِعِ النُّجُومِ - وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ - إِنَّهُ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ - فِى كِتَـبٍ مَّكْنُونٍ - لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ - تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(So, I swear by the setting of the stars. And verily, that is indeed a great oath, if you but know. That is indeed an honorable recitation. In a Book well-guarded. Which none can touch but the pure. A revelation from the Lord of all that exists.)(56:75-80) Allah said;
مَا ضَلَّ صَـحِبُكُمْ وَمَا غَوَى
(Your companion has neither gone astray nor has erred.) This contains the subject of the oath. This part of the Ayah is the witness that the Messenger of Allah ﷺ is sane and a follower of Truth. He is neither led astray, such as in the case of the ignorant who does not proceed on any path with knowledge, nor is he one who erred, such as in the case of the knowledgeable, who knows the Truth, yet deviates from it intentionally to something else. Therefore, Allah exonerated His Messenger and his Message from being similar to the misguided ways of the Christians and the erroneous paths of the Jews, such as knowing the Truth and hiding it, while abiding by falsehood. Rather, he, may Allah's peace and blessings be on him, and his glorious Message that Allah has sent him with, are on the perfect straight path, following guidance and what is correct.
Muhammad ﷺ was sent as a Mercy for all that exists; He does not speak of His Desire
Allah said,
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى
(Nor does he speak of desire), asserting that nothing the Prophet utters is of his own desire or wish,
إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْىٌ يُوحَى
(It is only a revelation revealed.), means, he only conveys to the people what he was commanded to convey, in its entirety without additions or deletions. Imam Ahmad recorded that Abu Umamah said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيَ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَر»
(Verily, numbers similar to the two tribes, or one of them, Rabi`ah and Mudar, will enter Paradise on account of the intercession of one man, who is not a Prophet.) A man asked, "O Allah's Messenger! Is not Rabi`ah a subtribe of Mudar." The Prophet said,
«إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُول»
(I said what I said.) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said, "I used to record everything I heard from the Messenger of Allah ﷺ so it would be preserved. The Quraysh discouraged me from this, saying, `You record everything you hear from the Messenger of Allah ﷺ, even though he is human and sometimes speaks when he is angry' I stopped recording the Hadiths for a while, but later mentioned what they said to the Messenger of Allah ﷺ, who said,
«اكْتُبْ، فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا الْحَق»
(Write! By He in Whose Hand is my soul, every word that comes out of me is the Truth.)" Abu Dawud also collected this Hadith.
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔
إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ
It is but a divine revelation, which is revealed to him.
اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The First Surah in which a Prostration is revealed
Al-Bukhari recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "Surat An-Najm was the first Surah in which a prostration was revealed. The Prophet (recited it in Makkah) and prostrated. Those who were with him did the same, except an old man who took a handful of soil and prostrated on it. Later on, I saw him killed as a disbeliever; he was Umayyah bin Khalaf." Al-Bukhari recorded this Hadith in several places of his Sahih, as did Muslim, Abu Dawud and An-Nasa'i, using various chains of narration through Abu Ishaq from `Abdullah.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Allah swears the Messenger ﷺ is True and His Words are a Revelation from Him
Ibn Abi Hatim recorded that Ash-Sha`bi and others stated that the Creator swears by whatever He wills among His creation, but the created only vow by the Creator. Allah said,
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى
(By the star when it goes down.) Ibn Abi Najih reported that Mujahid said, "The star refers to Pleiades when it sets at Fajr." Ad-Dahhak said "When the Shayatin are shot with it." And this Ayah is like Allah's saying;
فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَقِعِ النُّجُومِ - وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ - إِنَّهُ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ - فِى كِتَـبٍ مَّكْنُونٍ - لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ - تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ
(So, I swear by the setting of the stars. And verily, that is indeed a great oath, if you but know. That is indeed an honorable recitation. In a Book well-guarded. Which none can touch but the pure. A revelation from the Lord of all that exists.)(56:75-80) Allah said;
مَا ضَلَّ صَـحِبُكُمْ وَمَا غَوَى
(Your companion has neither gone astray nor has erred.) This contains the subject of the oath. This part of the Ayah is the witness that the Messenger of Allah ﷺ is sane and a follower of Truth. He is neither led astray, such as in the case of the ignorant who does not proceed on any path with knowledge, nor is he one who erred, such as in the case of the knowledgeable, who knows the Truth, yet deviates from it intentionally to something else. Therefore, Allah exonerated His Messenger and his Message from being similar to the misguided ways of the Christians and the erroneous paths of the Jews, such as knowing the Truth and hiding it, while abiding by falsehood. Rather, he, may Allah's peace and blessings be on him, and his glorious Message that Allah has sent him with, are on the perfect straight path, following guidance and what is correct.
Muhammad ﷺ was sent as a Mercy for all that exists; He does not speak of His Desire
Allah said,
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى
(Nor does he speak of desire), asserting that nothing the Prophet utters is of his own desire or wish,
إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْىٌ يُوحَى
(It is only a revelation revealed.), means, he only conveys to the people what he was commanded to convey, in its entirety without additions or deletions. Imam Ahmad recorded that Abu Umamah said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيَ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَر»
(Verily, numbers similar to the two tribes, or one of them, Rabi`ah and Mudar, will enter Paradise on account of the intercession of one man, who is not a Prophet.) A man asked, "O Allah's Messenger! Is not Rabi`ah a subtribe of Mudar." The Prophet said,
«إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُول»
(I said what I said.) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said, "I used to record everything I heard from the Messenger of Allah ﷺ so it would be preserved. The Quraysh discouraged me from this, saying, `You record everything you hear from the Messenger of Allah ﷺ, even though he is human and sometimes speaks when he is angry' I stopped recording the Hadiths for a while, but later mentioned what they said to the Messenger of Allah ﷺ, who said,
«اكْتُبْ، فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا الْحَق»
(Write! By He in Whose Hand is my soul, every word that comes out of me is the Truth.)" Abu Dawud also collected this Hadith.
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے، مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں میں حضور ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چناچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے بزار میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا۔ اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور ﷺ کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔
عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلۡقُوَىٰ
He has been taught by the Extremely Powerful.
ان کو بڑی قوّتوں و الے رب نے (براہِ راست) علمِ (کامل) سے نوازا
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
ذُو مِرَّةٖ فَٱسۡتَوَىٰ
The Strong; then the Spectacle inclined towards him.
جو حسنِ مُطلَق ہے، پھر اُس نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
وَهُوَ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡأَعۡلَىٰ
And he was on the horizon of the highest heaven.
اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ
Then the Spectacle became closer, and came down in full view.
پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا٭o٭ یہ معنی امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے الجامع الصحیح میں روایت کیا ہے، مزید حضرت عبد اﷲ بن عباس، امام حسن بصری، امام جعفر الصادق، محمد بن کعب القرظی التابعی، ضحّاک رضی اللہ عنہم اور دیگر کئی ائمہِ تفسیر کا قول بھی یہی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ أَوۡ أَدۡنَىٰ
So the distance between the Spectacle and the beloved was only two arms’ length, or even less. (The Heavenly Journey of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – was with body and soul.)
پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا)
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
10
View Single
فَأَوۡحَىٰٓ إِلَىٰ عَبۡدِهِۦ مَآ أَوۡحَىٰ
So Allah divinely revealed to His bondman, whatever He divinely revealed.
پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اللہ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
11
View Single
مَا كَذَبَ ٱلۡفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ
The heart did not deny, what it saw. (The Holy Prophet was bestowed with seeing Allah – see also preceding verses 8, 9, 10.)
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
12
View Single
أَفَتُمَٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ
What! So do you dispute with him regarding what he saw?
کیا تم ان سے اِس پر جھگڑتے ہو کہ جو انہوں نے دیکھا
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
13
View Single
وَلَقَدۡ رَءَاهُ نَزۡلَةً أُخۡرَىٰ
And indeed he did see the Spectacle again.
اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)٭o٭ یہ معنی ابن عباس، ابوذر غفاری، عکرمہ التابعی، حسن البصری التابعی، محمد بن کعب القرظی التابعی، ابوالعالیہ الریاحی التابعی، عطا بن ابی رباح التابعی، کعب الاحبار التابعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابوالحسن اشعری رضی اللہ عنہم اور دیگر ائمہ کے اَقوال پر ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
14
View Single
عِندَ سِدۡرَةِ ٱلۡمُنتَهَىٰ
Near the lote-tree of the last boundary.
سِدرۃ المنتہٰی کے قریب
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
15
View Single
عِندَهَا جَنَّةُ ٱلۡمَأۡوَىٰٓ
Close to which is the Everlasting Paradise.
اسی کے پاس جنت الْمَاْوٰى ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
16
View Single
إِذۡ يَغۡشَى ٱلسِّدۡرَةَ مَا يَغۡشَىٰ
When the lote-tree was being enveloped, by whatever around it.
جب نورِ حق کی تجلیّات سِدرَۃ (المنتہٰی) کو (بھی) ڈھانپ رہی تھیں جو کہ (اس پر) سایہ فگن تھیں٭o٭ یہ معنی بھی امام حسن بصری رضی اللہ عنہ و دیگر ائمہ کے اقوال پر ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
17
View Single
مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ
The sight did not shift, nor did it cross the limits.
اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
18
View Single
لَقَدۡ رَأَىٰ مِنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ
Indeed he saw the supreme signs of his Lord.
بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں
Tafsir Ibn Kathir
The Trustworthy Angel brought Allah's Revelation to the Trustworthy Messenger
Allah the Exalted states that the Message His servant and Messenger Muhammad ﷺ brought to people was taught to him by,
شَدِيدُ الْقُوَى
(mighty in power), he is Jibril, peace be upon him,
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ
(Verily, this is the Word a most honorable messenger, owner of power, with (Allah) the Lord of the Throne, obeyed (by the angels) and trustworthy.)(81:19-21) Allah said here,
ذُو مِرَّةٍ
(Dhu Mirrah), meaning, he is mighty in power, according to Mujahid, Al-Hasan and Ibn Zayd. In an authentic Hadith from `Abdullah bin `Umar and Abu Hurayrah, the Prophet said,
«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي»
(Charity is not allowed for a rich person nor Dhu Mirrah (a strong person) of sound mind and body.) Allah said;
فَاسْتَوَى
(then he Istawa (rose).) this refers to the angel Jibril, according to Al-Hasan, Mujahid, Qatadah and Ar-Rabi` bin Anas,
وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى
(While he was in the highest part of the horizon.) meaning, Jibril rose to the highest part of the horizon, according to `Ikrimah and several others; `Ikrimah said, "The highest horizon where the morning comes from." Mujahid said, "It is (the place of) sunrise." Qatadah said, "That from which the day comes." Ibn Zayd and several others said similarly. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah saw Jibril in his original shape having six hundred wings, each wing filling the side of the horizon, with a colorful array, and pearls and rubies falling from each wing as much as only Allah knows." Only Imam Ahmad collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Abbas said, "The Prophet asked Jibril to appear himself to him in his original shape and Jibril said to him, `Invoke your Lord.' The Prophet invoked his Lord the Exalted and Most Honored, and a great huge figure appeared to him from the east and kept rising and spreading. When the Prophet saw Jibril in his original shape, he was knocked unconscious. Jibril came down and revived the Prophet and wiped the saliva off of his cheeks."' Only Ahmad collected this Hadith.
Meaning of "at a distance of two bows' length or less
Allah's statement,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bows` length or less.) means, Jibril came closer to Muhammad ﷺ when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement,
أَوْ أَدْنَى
(or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as,
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً
(Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness.)(2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah,
يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً
(fear men as they fear Allah or even more.)(4:77), and Allah's statement,
وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
(And We sent him to hundred thousand (people) or even more.)(37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet , according to `A'ishah, the Mother of the faithful, `Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that `Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى
(And was at a distance of two bow lengths or less.) "Allah's Messenger ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril; he had six hundred wings.)" Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah,
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى - فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.) Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad ﷺ saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So he revealed to His servant whatever He revealed.) means, Jibril conveyed to Allah's servant Muhammad ﷺ whatever he conveyed. Or, the meaning here could be: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through Jibril. Both meanings are correct. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement,
فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَآ أَوْحَى
(So He revealed to His servant whatever He revealed.) "Allah revealed to him,
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً
(Did He not find you an orphan.)(93:6), and,
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
(And have We not raised high your fame)(94:4)" Someone else said, "Allah revealed to the Prophet that the Prophets will not enter Paradise until he enters it first, and the nations will not enter it until his Ummah enters it first."
Did the Prophet see His Lord during the Night of Isra
Allah said next,
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى - أَفَتُمَـرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى
(The heart lied not in what he saw. Will you then dispute with him about what he saw) Muslim recorded from Ibn `Abbas about:
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى
(The heart lied not in what he saw), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent.) "He saw Allah twice in his heart." Simak reported a similar from `Ikrimah from Ibn `Abbas. Abu Salih, As-Suddi and several others said similarly that the Prophet saw Allah twice in his heart.Masruq said, "I went to `A'ishah and asked her, `Did Muhammad ﷺ see his Lord' She said, `You said something that caused my hair to rise!' I said, `Behold!' and recited this Ayah,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) She said, `Where did your mind wander It was Jibril. Whoever says to you that Muhammad ﷺ saw his Lord, or hid any part of what he was commanded (i.e., Allah's Message), or knew any of the five things which only Allah knows,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain...)(31:34), Then he invents a great lie against Allah! The Prophet only saw Jibril twice, in his original shape, once near Sidrat Al-Muntaha and another time in Ajyad (in Makkah) while Jibril had six hundred wings that covered the horizon."' Muslim recorded that Abu Dharr said, "I asked the Messenger of Allah ﷺ, `Have you seen your Lord' He said,
«نُورٌ أَنَّى أَرَاه»
(How can I see Him since there was a light)" In another narration, the Prophet said,
«رَأَيْتُ نُورًا»
(I only saw a light.) Allah's statement,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى - عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى - عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى
(And indeed he saw him at a second descent. Near Sidrat Al-Muntaha.) "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ يَنْتَثِرُ مِنْ رِيشِهِ التَّهَاوِيلُ مِنَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوت»
(I saw Jibril while he had six hundred wings and a colorful array of pearls and rubies falling from the feathers of his wings.)" This Hadith has a good, strong chain of narration. Ahmad also recorded that `Abdullah Ibn Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ saw Jibril in his original shape while Jibril had six hundred wings, each wing covering the side of the horizon. From his wings, precious stones were dropping of which only Allah has knowledge." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Messenger of Allah ﷺ said,
«رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاح»
(I saw Jibril over Sidrat Al-Muntaha while he had six hundred wings.)" One of the subnarrators of the Hadith asked `Asim about Jibril's wings and `Asim refused to elaborate. So some of his companions were asked and one of them said, "Each wing was covering what is between the east and the west." This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said that Allah's Messenger ﷺ said:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٍ بِهِ الدُّر»
(Jibril came to me wearing green with pearls hanging down.) This Hadith has a good chain of narration. Imam Ahmad recorded that `Amir said that Masruq asked `A'ishah, "O Mother of the faithful, has Muhammad ﷺ seen his Lord, the Exalted and Most Honored" She said, "Glorious is Allah! My hair is standing on end because of what you said. Three matters, if one tells you about any of them, will have lied. Whoever tells you that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have lied." She then recited these two Ayat,
لاَّ تُدْرِكُهُ الاٌّبْصَـرُ وَهُوَ يُدْرِكُ الاٌّبْصَـرَ
(No vision can grasp Him, but He grasps all vision.)(6:103), and,
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلاَّ وَحْياً أَوْ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ
(It is not given to any human being that Allah should speak to him unless (it be) by revelation, or from behind a veil.)(42:51) She went one, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ knew what the morrow will bring, will have uttered a lie." She then recited,
إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ
(Verily, Allah, with Him is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs.)(31:34) `A'ishah said, "And whoever tells you that Muhammad ﷺ has hidden any part of the Message will have lied," and she then recited this Ayah,
يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ
(O Messenger proclaim which has been sent down to you from your Lord.)(5:67).She went one, "However, he saw Jibril twice in his original shape." Imam Ahmad also recorded that Masruq said, "I asked `A'ishah, `Did not Allah say,
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِالاٍّفُقِ الْمُبِينِ
(And indeed he saw him in the clear horizon.)(81:23), and,
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى
(And indeed he saw him at a second descent)' She said, `I was the first among this Ummah to ask Allah's Messenger ﷺ about it. He said,
«إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيل»
(That was Jibril.) He only saw him twice in his actual and real figure. He saw Jibril descend from heaven to earth and was so huge that he covered the whole horizon between the sky and earth.)"' This Hadith is recorded in the Two Sahihs via Ash-Sha`bi.
Angels, Light and colors covered Sidrat Al-Muntaha
Allah said,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) We mentioned before, in the Hadiths about Al-Isra' that the angels, Allah's Light, and spectacular colors covered the Sidrah. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Isra' journey, he ascended to Sidrat Al-Muntaha, which is in the seventh heaven. There everything terminates that ascends from the earth and is held there, and terminates everything that descends from above it is held there,
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى
(When that covered the lote tree which did cover it!) He said, "Golden butterflies. The Messenger of Allah ﷺ was given three things: He was given the five prayers, he was given the concluding verses of Surat Al-Baqarah (2:284-286), and remission of serious sins for those among his Ummah who do not associate anything with Allah." Muslim collected this Hadith. Allah's statement,
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى
(The sight turned not aside, nor it transgressed beyond the limit.) indicates that the Prophet's sight did not turn right or left, according to `Ibn `Abbas,
وَمَا طَغَى
(nor it transgressed beyond the limit.) not exceeding what has been ordained for it. This is a tremendous quality that demonstrates the Prophet's firm obedience to Allah, because he only did what was commanded and did ask beyond what he was given. Allah's statement,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) is similar to another Ayah,
لِنُرِيَهُ مِنْ ءْايَـتِنَآ
(In order that We might show him of Our Ayat.)(17:1), meaning, signs that testify to Allah's might and greatness. Relying on these two Ayat, some scholars of Ahl us-Sunnah said that the Prophet did not see Allah during the Isra' journey, because Allah said,
لَقَدْ رَأَى مِنْ ءَايَـتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(Indeed he saw of the greatest signs of his Lord.) They said that, had the Prophet seen his Lord, Allah would have conveyed this news and the Prophet would have narrated it to the people.
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) کا امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت ﷺ دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہوگئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی آیت (اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ ۚ) 96۔ العلق :1) کی چند آیتیں آپ پر نازل ہوچکی تھیں پھر وحی بند ہوگئی تھی جس کا حضور ﷺ کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ﷺ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ کا غم غلط ہوجاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہوجاتا واپس چلے آتے۔ لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کردیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوگئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور ﷺ کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر کے قول کی تائید میں پیش ہوسکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں، امام احمد فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جاسکتی ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو اس میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں ایک میں تو حضرت جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل اس وقت ہیبت الہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل ﷺ سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بیہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔ ابن عساکر میں ہے کہ ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ﷺ کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چناچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بےادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا) حضور ﷺ کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہوگیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے ؟ ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کرلیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد ﷺ کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔ پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور ﷺ کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہوگئی یہاں لفظ (او) جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت (اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً 74) 2۔ البقرة :74) بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں ایک اور فرمان ہے وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت (اَوْ اَشَدَّ خَشْـيَةً 77) 4۔ النسآء :77) بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور جگہ ہے ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہوسکتا۔ یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) میں ہے۔ حضرت انس والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہوگی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جاسکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں نبی ﷺ کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہرچند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیل اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہوجائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور ﷺ سے ضبط نہ ہوسکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۚ) 53۔ النجم :9) آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى ۠) 93۔ الضحی :6) اور آیت (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ۭ) 94۔ الشرح :4) تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہوجائے، ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے حضرت ابن مسعود نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انس، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے یہ سن کر کہا پھر یہ آیت کہاں جائے گا جس میں فرمان ہے آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔ یہ حدیث غریب ہے ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباس کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گذرا ابن عباس نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد ﷺ اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کردیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟ سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور ﷺ نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپالیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہوگی ؟ بارش کب اور کتنی برسے گی ؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ؟ کون کل کیا کرے گا ؟ کون کہاں مرے گا ؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے لئے اور دیدار حضرت محمد ﷺ کے لئے صحیح مسلم میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) پڑھی۔ اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) پڑھی حضرت عکرمہ سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 11 ) 53۔ النجم :11) کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ حضور ﷺ سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا یہ حدیث بھی بہت غریب ہے ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چناچہ مطول حدیث میں ہے کہ میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا اے محمد ﷺ جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہوگئی پھر مجھ سے وہی سوال کیا میں نے کہا اب مجھے معلوم ہوگیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا جماعت کے لئے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گذرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گذارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہوگا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہوجائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ جب نماز پڑھو یہ کہو (اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ ان تقبضنی الیک غیر مفتون) یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا اسی کی مثل روایت سورة ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گذر چکی ہے ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے پیدل چلنے کے قدم ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار میں نے کہا یا اللہ تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا اور حضرت موسیٰ کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا ؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے ؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں آیت (ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ) 53۔ النجم :8) ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کردیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔ اس کی اسناد ضعیف ہے اوپر عتبہ بن ابو لہب کا یہ کہنا کہ میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا اور پھر حضور ﷺ کا اس کے لئے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہوچکا ہے یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورة سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گذر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں یہ بھی بیان گذر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور ﷺ کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گذر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ صدیقہ اپنے اس جواب کے بعد آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ01003) 6۔ الانعام :103) ، کی تلاوت کی اور آیت (مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ للنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰـنِيّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ 79ۙ) 3۔ آل عمران :79) کی بھی تلاوت فرمائی یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ 34) 31۔ لقمان :34) آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کی کسی بات کو چھپالیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) پڑھی یعنی اے رسول ﷺ جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ہاں آپ نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہ کے سامنے سورة نجم کی آیت (وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ۭ) 53۔ النجم :7) اور (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ) 53۔ النجم :13) پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی ﷺ سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے ؟ کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟ حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا، صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور ﷺ نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چناچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم، حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہی پر اس وقت فرشتے بہ کثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں معراج والی رات آنحضرت ﷺ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، حضور ﷺ کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورة بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم) ابوہریرہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہی پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور ﷺ پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت ﷺ نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔ ابن زید فرماتے ہیں حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔ آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے اسی کو ایک نظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے آیت (لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى 23ۚ) 20۔ طه :23) اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور ﷺ نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا ابن مسعود کا قول گذر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔
19
View Single
أَفَرَءَيۡتُمُ ٱللَّـٰتَ وَٱلۡعُزَّىٰ
So did you observe the idols Lat and Uzza?
کیا تم نے لات اور عزٰی (دیویوں) پر غور کیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
20
View Single
وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ
And subsequently the third, the Manat?
اور اُس تیسری ایک اور (دیوی) منات کو بھی (غور سے دیکھا ہے؟ تم نے انہیں اللہ کی بیٹیاں بنا رکھا ہے؟)
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
21
View Single
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلۡأُنثَىٰ
What! For you the son, and for Him the daughter?
(اے مشرکو!) کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اس (اللہ) کے لئے بیٹیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
22
View Single
تِلۡكَ إِذٗا قِسۡمَةٞ ضِيزَىٰٓ
Then that is surely a very unjust distribution!
(اگر تمہارا تصور درست ہے) تب تو یہ تقسیم بڑی ناانصافی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
23
View Single
إِنۡ هِيَ إِلَّآ أَسۡمَآءٞ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٍۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهۡوَى ٱلۡأَنفُسُۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلۡهُدَىٰٓ
They are nothing but some names that you have coined, you and your forefathers – Allah has not sent any proof for them; they follow only guesses and their own desires; whereas the guidance from their Lord has come to them.
مگر (حقیقت یہ ہے کہ) وہ (بت) محض نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کی نسبت کوئی دلیل نہیں اتاری، وہ لوگ محض وہم و گمان کی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں حالانکہ اُن کے پاس اُن کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
24
View Single
أَمۡ لِلۡإِنسَٰنِ مَا تَمَنَّىٰ
What! Will man get whatever he dreams of?
کیا انسان کے لئے وہ (سب کچھ) میسّر ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
25
View Single
فَلِلَّهِ ٱلۡأٓخِرَةُ وَٱلۡأُولَىٰ
So (know that) Allah only is the Owner of all – the Hereafter and this world.
پس آخرت اور دنیا کا مالک تو اللہ ہی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
26
View Single
۞وَكَم مِّن مَّلَكٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغۡنِي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ
And many an angel is in the heavens, whose intercession does not benefit the least unless Allah gives permission for whomever He wills, and whom He likes.
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں (کہ کفّار و مشرکین اُن کی عبادت کرتے اور ان سے شفاعت کی امید رکھتے ہیں) جِن کی شفاعت کچھ کام نہیں آئے گی مگر اس کے بعد کہ اللہ جسے چاہتا ہے اور پسند فرماتا ہے اُس کے لئے اِذن (جاری) فرما دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Refuting Idolatry, Al-Lat and Al-`Uzza
Allah the Exalted rebukes the idolators for worshipping idols and taking rivals to Him. They built houses for their idols to resemble the Ka`bah built by Prophet Ibrahim, Allah's Khalil.
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ
(Have you then considered Al-Lat,) Al-Lat was a white stone with inscriptions on. There was a house built around Al-Lat in At-Ta'if with curtains, servants and a sacred courtyard around it. The people of At-Ta'if, the tribe of Thaqif and their allies, worshipped Al-Lat. They would boast to Arabs, except the Quraysh, that they had Al-Lat. Ibn Jarir said, "They derived Al-Lat's name from Allah's Name, and made it feminine. Allah is far removed from what they ascribe to Him. It was reported that Al-Lat is pronounced Al-Lat because, according to `Abdullah bin `Abbas, Mujahid, and Ar-Rabi` bin Anas, Al-Lat was a man who used to mix Sawiq (a kind of barley mash) with water for the pilgrims during the time of Jahiliyyah. When he died, they remained next to his grave and worshipped him." Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said about Allah's statement,
اللَّـتَ وَالْعُزَّى
(Al-Lat, and Al-`Uzza.) "Al-Lat was a man who used to mix Sawiq for the pilgrims." Ibn Jarir said, "They also derived the name for their idol Al-`Uzza from Allah's Name Al-`Aziz. Al-`Uzza was a tree on which the idolators placed a monument and curtains, in the area of Nakhlah, between Makkah and At-Ta'if. The Quraysh revered Al-`Uzza." During the battle of Uhud, Abu Sufyan said, "We have Al-`Uzza, but you do not have Al-`Uzza." Allah's Messenger ﷺ replied,
«قُولُوا: اللهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُم»
(Say, "Allah is Our Supporter, but you have no support.") Manat was another idol in the area of Mushallal near Qudayd, between Makkah and Al-Madinah. The tribes of Khuza`ah, Aws and Khazraj used to revere Manat during the time of Jahiliyyah. They used to announce Hajj to the Ka`bah from next to Manat. Al-Bukhari collected a statement from `A'ishah with this meaning. There were other idols in the Arabian Peninsula that the Arabs revered just as they revered the Ka`bah, besides the three idols that Allah mentioned in His Glorious Book. Allah mentioned these three here because they were more famous than the others. An-Nasa'i recorded that Abu At-Tufayl said, "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he sent Khalid bin Al-Walid to the area of Nakhlah where the idol of Al-`Uzza was erected on three trees of a forest. Khalid cut the three trees and approached the house built around it and destroyed it. When he went back to the Prophet and informed him of the story, the Prophet said to him,
«ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا»
(Go back and finish your mission, for you have not finished it.) Khalid went back and when the custodians who were also its servants of Al-`Uzza saw him, they started invoking by calling Al-`Uzza! When Khalid approached it, he found a naked woman whose hair was untidy and who was throwing sand on her head. Khalid killed her with the sword and went back to the Messenger of Allah ﷺ, who said to him,
«تِلْكَ الْعُزَّى»
(That was Al-`Uzza!)" Muhammad bin Ishaq narrated, "Al-Lat belonged to the tribe of Thaqif in the area of At-Ta'if. Banu Mu`attib were the custodians of Al-Lat and its servants." I say that the Prophet sent Al-Mughirah bin Shu`bah and Abu Sufyan Sakhr bin Harb to destroy Al-Lat. They carried out the Prophet's command and built a Masjid in its place in the city of At-Ta'if. Muhammad bin Ishaq said that Manat used to be the idol of the Aws and Khazraj tribes and those who followed their religion in Yathrib (Al-Madinah). Manat was near the coast, close to the area of Mushallal in Qudayd. The Prophet sent Abu Sufyan Sakhr bin Harb or `Ali bin Abi Talib to demolish it. Ibn Ishaq said that Dhul-Khalasah was the idol of the tribes of Daws, Khath`am and Bajilah, and the Arabs who resided in the area of Tabalah. I say that Dhul-Khalasah was called the Southern Ka`bah, and the Ka`bah in Makkah was called the Northern Ka`bah. The Messenger of Allah ﷺ sent Jarir bin `Abdullah Al-Bajali to Dhul-Khalasah and he destroyed it. Ibn Ishaq said that Fals was the idol of Tay' and the neighboring tribes in the Mount of Tay', such as Salma and Ajja. Ibn Hisham said that some scholars of knowledge told him that the Messenger of Allah ﷺ sent `Ali bin Abi Talib to Fals and he destroyed it and found two swords in its treasure, which the Prophet then gave to `Ali as war spoils. Muhammad bin Ishaq also said that the tribes of Himyar, and Yemen in general, had a house of worship in San`a' called Riyam. He mentioned that there was a black dog in it and that the religious men who went with Tubba` removed it, killed it and demolished the building. Ibn Ishaq said that Ruda' was a structure of Bani Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d bin Zayd Manat bin Tamim, which Al-Mustawghir bin Rabi`ah bin Ka`b bin Sa`d demolished after Islam. In Sindad there was Dhul-Ka`bat, the idol of the tribes of Bakr and Taghlib, the sons of the Wa'il, and also the Iyad tribes.
Refuting the Idolators Who appoint Rivals to Allah and claim that the Angels were Females
Allah the Exalted said,
أَفَرَءَيْتُمُ اللَّـتَ وَالْعُزَّى - وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الاٍّخْرَى
(Have you then considered Al-Lat, and Al-`Uzza. And Manat, the other third), then Allah said,
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى
(Is it for you the males and for Him the females) Allah asked the idolators, `do you choose female offspring for Allah and give preference to yourselves with the males If you made this division between yourselves and the created, it would be,
قِسْمَةٌ ضِيزَى
(a division most unfair!)' meaning, it would be an unfair and unjust division. `How is it then that you make this division between you and Allah, even though this would be foolish and unjust, if you made it between yourselves and others' Allah the Exalted refutes such innovated lies, falsehood and atheism they invented through worshipping the idols and calling them gods,
إِنْ هِىَ إِلاَّ أَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم
(They are but names which you have named -- you and your fathers) of your own desire,
مَّآ أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـنٍ
(for which Allah has sent down no authority.) meaning, proof,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الاٌّنفُسُ
(They follow but a guess and that which they themselves desire,) they have no proof, except their trust in their forefathers who took this false path in the past, as well as, their lusts and desires to become leaders, and thereby gain honor and reverence for their forefathers,
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى
(whereas there has surely come to them the guidance from their Lord!), meaning, Allah has sent them Messengers with the clear truth and unequivocal evidence. However, they did not adhere to or follow the guidance that came to them through the Prophets.
Wishful Thinking does not earn One Righteousness
Allah the Exalted said,
أَمْ لِلإِنسَـنِ مَا تَمَنَّى
(Or shall man have what he wishes), asserting that not everyone gets the goodness that he wishes,
لَّيْسَ بِأَمَـنِيِّكُمْ وَلا أَمَانِىِّ أَهْلِ الْكِتَـبِ
(It will not be in accordance with desires (of Muslims), nor those of the People of Scripture.)(4:123) Allah says, not everyone who claims to be guided is truly guided, and not everyone gets what he wishes for himself. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِه»
(When one of you wishes for something, let him be careful with what he wishes for, because he does not know what part of his wish will be written for him.)Only Ahmad collected this Hadith. Allah's statement,
فَلِلَّهِ الاٌّخِرَةُ والاٍّولَى
(But to Allah belongs the last and the first.) meaning, all matters belong to Allah and He is the King and Owner of this world and the Hereafter, Who does what He will in both lives. Whatever He wills, occurs and whatever He does not will, never occurs.
No Interecession except with Allah's Leave
Allah said,
وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى
(And there are many angels in the heavens, whose intercession will avail nothing except after Allah has given leave for whom He wills and is pleased with.) As He said;
مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
(Who is he that can intercede with Him except with His permission )(2:255) and,
وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ
(Intercession with Him profits not except for him whom He permits.) (34:23) `If this is the case with the angels who are close to Him, how can you, O ignorant ones, hope for Allah to grant you the intercession of the idols and rivals you worship with Him without having His permission or any divine legislation permitting you to worship them' Rather, Allah has forbidden idol worshipping by the tongues of all of His Messengers and He revealed this prohibition in all of His Books.
بتکدے کیا تھے ؟ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کردی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فورا لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور ﷺ کے پاس گئے آپ نے فرمایا دعا (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر) پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا مکہ اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور کہتے جاتے تھے یا عزی کفرانک لا سبحانک انی رایت اللہ قد اھانک اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور ﷺ کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی۔ لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی ﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنادی، مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے فنا ہوا فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت ﷺ نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں، قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کردیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جا چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہوجانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟ تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہوگا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗٓ اَجْرٌ كَرِيْمٌ 11ۚ) 57۔ الحدید :11) کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کرسکے اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول ﷺ اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
27
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ تَسۡمِيَةَ ٱلۡأُنثَىٰ
Indeed those who do not believe in the Hereafter, coin the names of angels like those of females.
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کر دیتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Refuting the Claim of the Idolators that the Angels are Allah's Daughters
Allah the Exalted admonishes the idolators for calling the angels female names and claiming that they are Allah's daughters. Allah is far removed from what they ascribe to Him. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَجَعَلُواْ الْمَلَـئِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـنِ إِنَـثاً أَشَهِدُواْ خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَـدَتُهُمْ وَيُسْـَلُونَ
(And they make females the angels, who themselves are servants of the Most Gracious. Did they witness their creation Their testimony will be recorded, and they will be questioned!)(43:19) Allah's statement here,
وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ
(But they have no knowledge thereof.) meaning, they have no correct knowledge testifying to their statements. What they say is all lies, falsehood, fake and utter atheism,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً
(They follow but conjecture, and verily, conjecture is no substitute for the truth.) meaning, conjecture is of no benefit and never takes the place of truth. In a Hadith recorded in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيث»
(Beware of suspicion, for suspicion is the most lying speech.)
The Necessity of turning away from the People of Misguidance
Allah's statement,
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّى عَن ذِكْرِنَا
(Therefore withdraw from him who turns away from Our Reminder), means, stay away from those who turn away from the Truth and shun them,
وَلَمْ يُرِدْ إِلاَّ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا
(and desires nothing but the life of this world.) meaning, whose aim and knowledge are concentrated on this life; this is the goal of those who have no goodness in them,
ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ
(That is what they could reach of knowledge.) meaning, seeking this life and striving hard in its affairs is the best knowledge they have acquired. There is also the reported supplication:
«اللْهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا»
(O Allah! Make not this life the greatest of our concerns nor the best knowledge that we can attain.) Allah's statement,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى
(Verily, your Lord is He, Who knows best him who goes astray from His path, and He knows best him who receives guidance.) meaning, He is the Creator of all creatures and He knows whatever benefits His servants. Allah is the One Who guides whom He wills and misguides whom He wills, and all of this indicates His power, knowledge and wisdom. Certainly, He is Just and never legislates or decrees unjustly.
آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔
28
View Single
وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـٔٗا
And they do not have any knowledge of it; they just follow assumption; and indeed assumption does not serve any purpose in place of the Truth.
اور انہیں اِس کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں، اور بیشک گمان یقین کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا
Tafsir Ibn Kathir
Refuting the Claim of the Idolators that the Angels are Allah's Daughters
Allah the Exalted admonishes the idolators for calling the angels female names and claiming that they are Allah's daughters. Allah is far removed from what they ascribe to Him. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَجَعَلُواْ الْمَلَـئِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـنِ إِنَـثاً أَشَهِدُواْ خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَـدَتُهُمْ وَيُسْـَلُونَ
(And they make females the angels, who themselves are servants of the Most Gracious. Did they witness their creation Their testimony will be recorded, and they will be questioned!)(43:19) Allah's statement here,
وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ
(But they have no knowledge thereof.) meaning, they have no correct knowledge testifying to their statements. What they say is all lies, falsehood, fake and utter atheism,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً
(They follow but conjecture, and verily, conjecture is no substitute for the truth.) meaning, conjecture is of no benefit and never takes the place of truth. In a Hadith recorded in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيث»
(Beware of suspicion, for suspicion is the most lying speech.)
The Necessity of turning away from the People of Misguidance
Allah's statement,
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّى عَن ذِكْرِنَا
(Therefore withdraw from him who turns away from Our Reminder), means, stay away from those who turn away from the Truth and shun them,
وَلَمْ يُرِدْ إِلاَّ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا
(and desires nothing but the life of this world.) meaning, whose aim and knowledge are concentrated on this life; this is the goal of those who have no goodness in them,
ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ
(That is what they could reach of knowledge.) meaning, seeking this life and striving hard in its affairs is the best knowledge they have acquired. There is also the reported supplication:
«اللْهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا»
(O Allah! Make not this life the greatest of our concerns nor the best knowledge that we can attain.) Allah's statement,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى
(Verily, your Lord is He, Who knows best him who goes astray from His path, and He knows best him who receives guidance.) meaning, He is the Creator of all creatures and He knows whatever benefits His servants. Allah is the One Who guides whom He wills and misguides whom He wills, and all of this indicates His power, knowledge and wisdom. Certainly, He is Just and never legislates or decrees unjustly.
آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔
29
View Single
فَأَعۡرِضۡ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكۡرِنَا وَلَمۡ يُرِدۡ إِلَّا ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا
Therefore turn away from whoever has turned away from Our remembrance and has desired only the life of this world.
سو آپ اپنی توجّہ اس سے ہٹا لیں جو ہماری یاد سے رُوگردانی کرتا ہے اور سوائے دنیوی زندگی کے اور کوئی مقصد نہیں رکھتا
Tafsir Ibn Kathir
Refuting the Claim of the Idolators that the Angels are Allah's Daughters
Allah the Exalted admonishes the idolators for calling the angels female names and claiming that they are Allah's daughters. Allah is far removed from what they ascribe to Him. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَجَعَلُواْ الْمَلَـئِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـنِ إِنَـثاً أَشَهِدُواْ خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَـدَتُهُمْ وَيُسْـَلُونَ
(And they make females the angels, who themselves are servants of the Most Gracious. Did they witness their creation Their testimony will be recorded, and they will be questioned!)(43:19) Allah's statement here,
وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ
(But they have no knowledge thereof.) meaning, they have no correct knowledge testifying to their statements. What they say is all lies, falsehood, fake and utter atheism,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً
(They follow but conjecture, and verily, conjecture is no substitute for the truth.) meaning, conjecture is of no benefit and never takes the place of truth. In a Hadith recorded in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيث»
(Beware of suspicion, for suspicion is the most lying speech.)
The Necessity of turning away from the People of Misguidance
Allah's statement,
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّى عَن ذِكْرِنَا
(Therefore withdraw from him who turns away from Our Reminder), means, stay away from those who turn away from the Truth and shun them,
وَلَمْ يُرِدْ إِلاَّ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا
(and desires nothing but the life of this world.) meaning, whose aim and knowledge are concentrated on this life; this is the goal of those who have no goodness in them,
ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ
(That is what they could reach of knowledge.) meaning, seeking this life and striving hard in its affairs is the best knowledge they have acquired. There is also the reported supplication:
«اللْهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا»
(O Allah! Make not this life the greatest of our concerns nor the best knowledge that we can attain.) Allah's statement,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى
(Verily, your Lord is He, Who knows best him who goes astray from His path, and He knows best him who receives guidance.) meaning, He is the Creator of all creatures and He knows whatever benefits His servants. Allah is the One Who guides whom He wills and misguides whom He wills, and all of this indicates His power, knowledge and wisdom. Certainly, He is Just and never legislates or decrees unjustly.
آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔
30
View Single
ذَٰلِكَ مَبۡلَغُهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱهۡتَدَىٰ
This is the extent of their knowledge; indeed your Lord well knows one who has strayed from His path, and He well knows one who has attained guidance.
اُن لوگوں کے علم کی رسائی کی یہی حد ہے، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جِس نے ہدایت پا لی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Refuting the Claim of the Idolators that the Angels are Allah's Daughters
Allah the Exalted admonishes the idolators for calling the angels female names and claiming that they are Allah's daughters. Allah is far removed from what they ascribe to Him. Allah the Exalted said in another Ayah,
وَجَعَلُواْ الْمَلَـئِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـنِ إِنَـثاً أَشَهِدُواْ خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَـدَتُهُمْ وَيُسْـَلُونَ
(And they make females the angels, who themselves are servants of the Most Gracious. Did they witness their creation Their testimony will be recorded, and they will be questioned!)(43:19) Allah's statement here,
وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ
(But they have no knowledge thereof.) meaning, they have no correct knowledge testifying to their statements. What they say is all lies, falsehood, fake and utter atheism,
إِن يَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئاً
(They follow but conjecture, and verily, conjecture is no substitute for the truth.) meaning, conjecture is of no benefit and never takes the place of truth. In a Hadith recorded in the Sahih, the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيث»
(Beware of suspicion, for suspicion is the most lying speech.)
The Necessity of turning away from the People of Misguidance
Allah's statement,
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّى عَن ذِكْرِنَا
(Therefore withdraw from him who turns away from Our Reminder), means, stay away from those who turn away from the Truth and shun them,
وَلَمْ يُرِدْ إِلاَّ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا
(and desires nothing but the life of this world.) meaning, whose aim and knowledge are concentrated on this life; this is the goal of those who have no goodness in them,
ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ
(That is what they could reach of knowledge.) meaning, seeking this life and striving hard in its affairs is the best knowledge they have acquired. There is also the reported supplication:
«اللْهُمَّ لَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا»
(O Allah! Make not this life the greatest of our concerns nor the best knowledge that we can attain.) Allah's statement,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى
(Verily, your Lord is He, Who knows best him who goes astray from His path, and He knows best him who receives guidance.) meaning, He is the Creator of all creatures and He knows whatever benefits His servants. Allah is the One Who guides whom He wills and misguides whom He wills, and all of this indicates His power, knowledge and wisdom. Certainly, He is Just and never legislates or decrees unjustly.
آخرت کا گھر اور دنیا اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19) 43۔ الزخرف :19) ، یعنی اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کرلیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال نہ ہو، ایک منقول دعا میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں (اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بےانصافی نہیں کرتا۔
31
View Single
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ لِيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَسَـٰٓـُٔواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ بِٱلۡحُسۡنَى
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, in order to repay those who do evil for what they have done, and give an excellent reward to those who do good.
اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ جن لوگوں نے برائیاں کیں انہیں اُن کے اعمال کا بدلہ دے اور جن لوگوں نے نیکیاں کیں انہیں اچھا اجر عطا فرمائے
Tafsir Ibn Kathir
Allah knows Every Matter, whether Small or Big, and He rewards Each according to His or Her Deeds
Allah asserts that He is the King and Owner of the heavens and earth and that He is independent of the need for anyone. He is the authority over His creation and rules them with justice. He created the creation in truth,
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best.) He recompenses each according to his or her deeds, good for good and evil for evil.
Qualities of the Good-doers; Allah forgives the Small Faults
Allah stated that the gooddoers are those who avoid major sins and immoral sins. They sometimes commit minor sins, but they will be forgiven these minor sins and covered from exposure, as Allah mentioned in another Ayah;
إِن تَجْتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَـتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلاً كَرِيماً
(If you avoid the great sins which you are forbidden to do, We shall expiate from you your (small) sins, and admit you to a Noble Entrance.)(4:31) Allah said here,
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَـئِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَحِشَ إِلاَّ اللَّمَمَ
(Those who avoid great sins and Al-Fawahish (immoral sins) except Al-Lamam), Al-Lamam means, small faults and minor errors. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "I have not seen anything that resembles Al-Lamam better than the Hadith that Abu Hurayrah narrated from the Prophet ,
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصِدِّقُ ذلِكَ أَوْ يُكَذِّبُه»
(Verily, Allah the Exalted has decreed for the Son of Adam his share of Zina and he will certainly earn his share. The Zina of the eye is by looking, the Zina of the tongue is by talking and the heart wishes and lusts, but the sexual organ either substantiates all this or not.)" This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Ibn Jarir recorded that Ibn Mas`ud said, "The eyes commit Zina by looking, the lips by kissing, the hands by transgressing, the feet by walking, and the sexual organ either materializes all of this or not. When one commits sexual intercourse, he will be someone who committed Zina. Otherwise, it is Al-Lamam." Masruq and Ash-Sha`bi also held the same view. `Abdur-Rahman bin Nafi`, who is also known as Ibn Lubabah At-Ta'ifi, said, "I asked Abu Hurayrah about Allah's statement,
إِلاَّ اللَّمَمَ
(except the Lamam), and he said, `It pertains to kissing, winking one's eye, looking and embracing. When the sexual organ meets the sexual organ in intercourse then Ghusl is obligatory, and that is Zina."
Encouraging Repentance and forbidding Claims of Purity for Oneself
Allah's statement,
إِنَّ رَبَّكَ وَسِعُ الْمَغْفِرَةِ
(verily, your Lord is of vast forgiveness.) asserts that His Mercy encompasses everything, and His forgiveness entails every type of sin, if one repents,
قُلْ يعِبَادِىَ الَّذِينَ أَسْرَفُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُواْ مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Say: "O My servants who have transgressed against them- selves! Despair not of the mercy of Allah: verily, Allah forgives all sins. Truly, He is Oft-Forgiving, Most Merciful.") (39:53) Allah said,
هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُمْ مِّنَ الاٌّرْضِ
(He knows you well when He created you from the earth,) Allah says, `He was and still is the All-Knowing Whose knowledge encompasses your affairs, statements and all of the actions that will be committed by you, even when He created your father `Adam from the earth and took his offspring from his loin, as small as ants. He then divided them into two groups, a group destined for Paradise and a group to Hellfire,'
وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَـتِكُمْ
(and when you were fetuses in your mothers' wombs.) when He commanded the angel to record one's provisions, age, actions and if he would be among the miserable or the happy. Allah said,
فَلاَ تُزَكُّواْ أَنفُسَكُمْ
(So, ascribe not purity to yourselves.) forbidding one from ascribing purity and praising himself and thinking highly of his actions,
هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى
(He knows best him who has Taqwa.) Allah said in another Ayah,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمْ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلاً
(Have you not seen those who claim sanctity for themselves. Nay, but Allah sanctifies whom He wills, and they will not be dealt with unjustly, even equal to the extent of a Fatil.) (4:49) In his Sahih, Muslim recorded that Muhammad bin `Amr bin `Ata said, "I called my daughter, Barrah (the pious one), and Zaynab bint Abu Salamah said to me, `The Messenger of Allah ﷺ forbade using this name. I was originally called Barrah and he said,
«لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ، إِنَّ اللهَ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُم»
(Do not ascribe purity to yourselves; Allah knows best who the pious people among you are)' They said, `What should we call her' He said,
«سَمُّوهَا زَيْنَب»
(Call her Zaynab.)" Imam Ahmad recorded a Hadith from `Abdur-Rahman bin Abi Bakrah, from his father who said, "A man praised another man before the Prophet . The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مرارًا إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا، أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذلِك»
(Woe to you, you have cut off the neck of your friend! (He repeated this) If one of you must praise a friend of his, let him say, "I think that so-and-so is this and that; Allah knows best about him and I will never purify anyone before Allah," if he knows his friend to be as he is describing him.)" Al-Bukhari, Muslim, Abu Dawud and Ibn Majah collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Hammam bin Al-Harith said, "A man came before `Uthman bin `Affan and praised him. Al-Miqdad bin Al-Aswad started throwing sand in the face of that man, saying, `The Messenger of Allah ﷺ ordered us to throw sand in their faces when we see those who praise."' Muslim and Abu Dawud also collected this Hadith.
گناہ اور ضابطہ الہٰی مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31) 4۔ النسآء :31) اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے، یہاں بھی فرمایا مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لم کی تفسیر میرے خیال میں حضرت ابوہریرہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقینا پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا (بخاری و مسلم) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کردیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب لم میں داخل ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ لم بوسہ لینا چھڑنا دیکھنا مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہوگیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہوگیا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گذر چکا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو لم میں داخل ہے، شاعر کہتا ہے ان تغفر اللھم تغفر جما، وای عبد لک ما الما اے اللہ جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں حضور ﷺ کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں، بزار فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورة تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے چوری کے قریب ہوجانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کرکے لوٹ آیا اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا یہ سب المام ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں، حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے ایک روایت میں ہے صحابہ سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کردینے والی سے کم ہے حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کردی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہ ہے جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53) 39۔ الزمر :53) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لئے اور ایک جہنم کے لئے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی عمر عمل نیکی بدی لکھ لی بہت سے بچے پیٹ سے ہی گرجاتے ہیں۔ بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کرچکے اور بڑھاپے میں آگئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے ؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اپنے آپ سراہنے نہ لگو جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے اور آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 49) 4۔ النسآء :49) کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔ محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے حضرت زینت بنت ابو سلمہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ نے فرمایا تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ فرمایا زینب نام رکھو مسند احمد میں ہے حضور ﷺ کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ نے فرمایا افسوس تو نے اس کی گردن ماری کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں گمان فلاں کی طرف سے ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ۔ ابو داؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کردیں اس پر حضرت مقداد بن اسود اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا ہمیں رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔
32
View Single
ٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَـٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلۡمَغۡفِرَةِۚ هُوَ أَعۡلَمُ بِكُمۡ إِذۡ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَإِذۡ أَنتُمۡ أَجِنَّةٞ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡۖ فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ
Those who avoid the cardinal sins and lewdness, except that they approached it and refrained; indeed your Lord’s mercy is limitless; He knows you very well – since He has created you from clay, and when you were foetuses in your mothers’ wombs; therefore do not, on your own, claim yourselves to be clean; He well knows who are the pious.
جو لوگ چھوٹے گناہوں (اور لغزشوں) کے سوا بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، بیشک آپ کا رب بخشش کی بڑی گنجائش رکھنے والا ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہاری زندگی کی ابتداء اور نشو و نما زمین (یعنی مٹی) سے کی تھی اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جَنیِن (یعنی حمل) کی صورت میں تھے، پس تم اپنے آپ کو بڑا پاک و صاف مَت جتایا کرو، وہ خوب جانتا ہے کہ (اصل) پرہیزگار کون ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah knows Every Matter, whether Small or Big, and He rewards Each according to His or Her Deeds
Allah asserts that He is the King and Owner of the heavens and earth and that He is independent of the need for anyone. He is the authority over His creation and rules them with justice. He created the creation in truth,
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best.) He recompenses each according to his or her deeds, good for good and evil for evil.
Qualities of the Good-doers; Allah forgives the Small Faults
Allah stated that the gooddoers are those who avoid major sins and immoral sins. They sometimes commit minor sins, but they will be forgiven these minor sins and covered from exposure, as Allah mentioned in another Ayah;
إِن تَجْتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَـتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلاً كَرِيماً
(If you avoid the great sins which you are forbidden to do, We shall expiate from you your (small) sins, and admit you to a Noble Entrance.)(4:31) Allah said here,
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَـئِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَحِشَ إِلاَّ اللَّمَمَ
(Those who avoid great sins and Al-Fawahish (immoral sins) except Al-Lamam), Al-Lamam means, small faults and minor errors. Imam Ahmad recorded that Ibn `Abbas said, "I have not seen anything that resembles Al-Lamam better than the Hadith that Abu Hurayrah narrated from the Prophet ,
«إِنَّ اللهَ تَعَالَى كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ، وَالنَّفْسُ تَتَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصِدِّقُ ذلِكَ أَوْ يُكَذِّبُه»
(Verily, Allah the Exalted has decreed for the Son of Adam his share of Zina and he will certainly earn his share. The Zina of the eye is by looking, the Zina of the tongue is by talking and the heart wishes and lusts, but the sexual organ either substantiates all this or not.)" This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Ibn Jarir recorded that Ibn Mas`ud said, "The eyes commit Zina by looking, the lips by kissing, the hands by transgressing, the feet by walking, and the sexual organ either materializes all of this or not. When one commits sexual intercourse, he will be someone who committed Zina. Otherwise, it is Al-Lamam." Masruq and Ash-Sha`bi also held the same view. `Abdur-Rahman bin Nafi`, who is also known as Ibn Lubabah At-Ta'ifi, said, "I asked Abu Hurayrah about Allah's statement,
إِلاَّ اللَّمَمَ
(except the Lamam), and he said, `It pertains to kissing, winking one's eye, looking and embracing. When the sexual organ meets the sexual organ in intercourse then Ghusl is obligatory, and that is Zina."
Encouraging Repentance and forbidding Claims of Purity for Oneself
Allah's statement,
إِنَّ رَبَّكَ وَسِعُ الْمَغْفِرَةِ
(verily, your Lord is of vast forgiveness.) asserts that His Mercy encompasses everything, and His forgiveness entails every type of sin, if one repents,
قُلْ يعِبَادِىَ الَّذِينَ أَسْرَفُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُواْ مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(Say: "O My servants who have transgressed against them- selves! Despair not of the mercy of Allah: verily, Allah forgives all sins. Truly, He is Oft-Forgiving, Most Merciful.") (39:53) Allah said,
هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُمْ مِّنَ الاٌّرْضِ
(He knows you well when He created you from the earth,) Allah says, `He was and still is the All-Knowing Whose knowledge encompasses your affairs, statements and all of the actions that will be committed by you, even when He created your father `Adam from the earth and took his offspring from his loin, as small as ants. He then divided them into two groups, a group destined for Paradise and a group to Hellfire,'
وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِى بُطُونِ أُمَّهَـتِكُمْ
(and when you were fetuses in your mothers' wombs.) when He commanded the angel to record one's provisions, age, actions and if he would be among the miserable or the happy. Allah said,
فَلاَ تُزَكُّواْ أَنفُسَكُمْ
(So, ascribe not purity to yourselves.) forbidding one from ascribing purity and praising himself and thinking highly of his actions,
هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى
(He knows best him who has Taqwa.) Allah said in another Ayah,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمْ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلاً
(Have you not seen those who claim sanctity for themselves. Nay, but Allah sanctifies whom He wills, and they will not be dealt with unjustly, even equal to the extent of a Fatil.) (4:49) In his Sahih, Muslim recorded that Muhammad bin `Amr bin `Ata said, "I called my daughter, Barrah (the pious one), and Zaynab bint Abu Salamah said to me, `The Messenger of Allah ﷺ forbade using this name. I was originally called Barrah and he said,
«لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ، إِنَّ اللهَ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُم»
(Do not ascribe purity to yourselves; Allah knows best who the pious people among you are)' They said, `What should we call her' He said,
«سَمُّوهَا زَيْنَب»
(Call her Zaynab.)" Imam Ahmad recorded a Hadith from `Abdur-Rahman bin Abi Bakrah, from his father who said, "A man praised another man before the Prophet . The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مرارًا إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللهُ حَسِيبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا، أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذلِك»
(Woe to you, you have cut off the neck of your friend! (He repeated this) If one of you must praise a friend of his, let him say, "I think that so-and-so is this and that; Allah knows best about him and I will never purify anyone before Allah," if he knows his friend to be as he is describing him.)" Al-Bukhari, Muslim, Abu Dawud and Ibn Majah collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Hammam bin Al-Harith said, "A man came before `Uthman bin `Affan and praised him. Al-Miqdad bin Al-Aswad started throwing sand in the face of that man, saying, `The Messenger of Allah ﷺ ordered us to throw sand in their faces when we see those who praise."' Muslim and Abu Dawud also collected this Hadith.
گناہ اور ضابطہ الہٰی مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31) 4۔ النسآء :31) اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے، یہاں بھی فرمایا مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لم کی تفسیر میرے خیال میں حضرت ابوہریرہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقینا پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا (بخاری و مسلم) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کردیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب لم میں داخل ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ لم بوسہ لینا چھڑنا دیکھنا مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہوگیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہوگیا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گذر چکا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو لم میں داخل ہے، شاعر کہتا ہے ان تغفر اللھم تغفر جما، وای عبد لک ما الما اے اللہ جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں حضور ﷺ کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں، بزار فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورة تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے چوری کے قریب ہوجانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کرکے لوٹ آیا اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا یہ سب المام ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں، حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے ایک روایت میں ہے صحابہ سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کردینے والی سے کم ہے حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کردی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہ ہے جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53) 39۔ الزمر :53) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لئے اور ایک جہنم کے لئے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی عمر عمل نیکی بدی لکھ لی بہت سے بچے پیٹ سے ہی گرجاتے ہیں۔ بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کرچکے اور بڑھاپے میں آگئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے ؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اپنے آپ سراہنے نہ لگو جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے اور آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 49) 4۔ النسآء :49) کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔ محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے حضرت زینت بنت ابو سلمہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ نے فرمایا تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ فرمایا زینب نام رکھو مسند احمد میں ہے حضور ﷺ کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ نے فرمایا افسوس تو نے اس کی گردن ماری کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں گمان فلاں کی طرف سے ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ۔ ابو داؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کردیں اس پر حضرت مقداد بن اسود اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا ہمیں رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔
33
View Single
أَفَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي تَوَلَّىٰ
So did you observe him who turned away?
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے (حق سے) منہ پھیر لیا
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
گناہ اور ضابطہ الہٰی مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31) 4۔ النسآء :31) اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے، یہاں بھی فرمایا مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لم کی تفسیر میرے خیال میں حضرت ابوہریرہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقینا پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا (بخاری و مسلم) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کردیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب لم میں داخل ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ لم بوسہ لینا چھڑنا دیکھنا مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہوگیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہوگیا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گذر چکا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو لم میں داخل ہے، شاعر کہتا ہے ان تغفر اللھم تغفر جما، وای عبد لک ما الما اے اللہ جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں حضور ﷺ کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں، بزار فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورة تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے چوری کے قریب ہوجانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کرکے لوٹ آیا اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا یہ سب المام ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں، حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے ایک روایت میں ہے صحابہ سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کردینے والی سے کم ہے حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کردی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہ ہے جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 53) 39۔ الزمر :53) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لئے اور ایک جہنم کے لئے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی عمر عمل نیکی بدی لکھ لی بہت سے بچے پیٹ سے ہی گرجاتے ہیں۔ بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہوجاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کرچکے اور بڑھاپے میں آگئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے ؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اپنے آپ سراہنے نہ لگو جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے اور آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 49) 4۔ النسآء :49) کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔ محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے حضرت زینت بنت ابو سلمہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ نے فرمایا تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ فرمایا زینب نام رکھو مسند احمد میں ہے حضور ﷺ کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ نے فرمایا افسوس تو نے اس کی گردن ماری کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں گمان فلاں کی طرف سے ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ۔ ابو داؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کردیں اس پر حضرت مقداد بن اسود اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا ہمیں رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔
34
View Single
وَأَعۡطَىٰ قَلِيلٗا وَأَكۡدَىٰٓ
And he gave a little, then refrained?
اور اس نے (راہِ حق میں) تھوڑا سا (مال) دیا اور (پھر ہاتھ) روک لیا
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
35
View Single
أَعِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلۡغَيۡبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ
Does he have knowledge of the hidden, so he can foresee?
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
36
View Single
أَمۡ لَمۡ يُنَبَّأۡ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ
Did not the news reach him, of that which is mentioned in the Books of Moosa?
کیا اُسے اُن (باتوں) کی خبر نہیں دی گئی جو موسٰی (علیہ السلام) کے صحیفوں میں (مذکور) تھیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
37
View Single
وَإِبۡرَٰهِيمَ ٱلَّذِي وَفَّىٰٓ
And of Ibrahim, who was most obedient?
اور ابراہیم (علیہ السلام) کے (صحیفوں میں تھیں) جنہوں نے (اللہ کے ہر امر کو) بتمام و کمال پورا کیا
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
38
View Single
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰ
That no burdened soul bears another soul’s burden?
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
39
View Single
وَأَن لَّيۡسَ لِلۡإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ
And that man will not obtain anything except what he strove for?
اور یہ کہ انسان کو (عدل میں) وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی (رہا فضل اس پر کسی کا حق نہیں وہ محض اللہ کی عطاء و رضا ہے جس پر جتنا چاہے کر دے)
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
40
View Single
وَأَنَّ سَعۡيَهُۥ سَوۡفَ يُرَىٰ
And that his effort will soon be scrutinised?
اور یہ کہ اُس کی ہر کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی (یعنی ظاہر کر دی جائے گی)
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
41
View Single
ثُمَّ يُجۡزَىٰهُ ٱلۡجَزَآءَ ٱلۡأَوۡفَىٰ
Then he will be fully repaid for it?
پھر اُسے (اُس کی ہر کوشش کا) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Chastising Those Who disobey Allah and stop giving Charity
Allah the Exalted chastises those who turn away from His obedience,
فَلاَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى - وَلَـكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى
(So he (the disbeliever) neither believed nor prayed! But on the contrary, he belied and turned away!)(75:31-32),
وَأَعْطَى قَلِيلاً وَأَكْدَى
(And gave a little, then stopped) Ibn `Abbas said, "Gave a little, then stopped giving." Similar was said by Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Qatadah and several others. `Ikrimah and Sa`id said: "Like the case of a people who dig a well, during the course of which they find a rock preventing them from completing their work. So they say, `We are finished' and they abandon the work." Allah's statement,
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
(Is with him the knowledge of the Unseen so that he sees) means, does this person, who stopped giving for fear of poverty and ended his acts of charity have knowledge of the Unseen and thus knows that if he does not stop giving, his wealth will go away No. Such a person has stopped giving in charity for righteous causes and did not keep relations with kith and kin because of his miserliness, being stingy and out of fear of poverty. The Prophet said in a Hadith,
«أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
(O Bilal, spend and fear not less provisions from the Owner of the Thone.) Allah the Exalted and Most honored said,
وَمَآ أَنفَقْتُمْ مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
(And whatsoever you spend of anything (in Allah's cause), He will replace it. And He is the Best of providers.)(34:39)
The Meaning of `fulfilled
Allah the Exalted said,
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَى - وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى
(Or is he not informed with what is in the Suhuf of Musa. And of Ibrahim who fulfilled), Sa`id bin Jubayr and Ath-Thawri said it means: "Conveyed all that he was ordered to convey." Ibn `Abbas said about:
وَفَّى
(fulfilled) "He delivered all that Allah ordered him to deliver." Sa`id bin Jubayr said about:
وَفَّى
(fulfilled), "What he was ordered." Qatadah said about:
وَفَّى
(fulfilled), "He obeyed Allah and delivered His Message to His creatures." This is the view preferred by Ibn Jarir because it includes the statement before it and supports it. Allah said,
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَـتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّى جَـعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا
(And (remember) when the Lord of Ibrahim tried him with (certain) commands, which he fulfilled. He said: "Verily, I am going to make you an Imam (a leader) for mankind.")(2:124) Therefore, Ibrahim fulfilled all the commands of his Lord, stayed away from all the prohibitions, and conveyed Allah's Message in its entirety. Therefore, he is worthy of being made a leader for mankind in all of his affairs, statements and actions. Allah the Exalted said,
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Then, We have sent the revelation to you (saying): "Follow the religion of Ibrahim, a Hanif, and he was not of the idolators.")(16:123)
None shall carry the Burden of Any Other on the Day of Resurrection
Allah the Exalted explained what He has revealed in the Scripture of Ibrahim and Musa,
أَلاَّ تَزِرُ وَزِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
(That no burdened person shall bear the burden of another.) Meaning, every soul shall carry its own injustices, whether disbelief or sin, and none else shall carry its burden of sin, as Allah states
وَإِن تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لاَ يُحْمَلْ مِنْهُ شَىْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى
(And if one heavily laden calls another to (bear) his load, nothing of it will be lifted even though he be near of kin.)(35:18) Allah said,
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَـنِ إِلاَّ مَا سَعَى
(And that man can have nothing but what he does.) So just as no soul shall carry the burden of any other, the soul shall only benefit from the good that one earns for himself. As for the Hadith recorded by Muslim in the Sahih, that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: مِنْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ، أَوْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ مِنْ بَعْدِهِ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِه»
(When a person dies, his deeds will cease except in three cases: from a righteous son who invokes Allah for him, or an ongoing charity after his death, or knowledge that people benefit from.) These three things are, in reality, a result of one's own deeds, efforts and actions. For example, a Hadith states,
«إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِه»
(Verily, the best type of provision that one consumes is from what he himself has earned, and one's offspring are among what he has earned.) The ongoing charity that one leaves behind, like an endowment, for example, are among the traces of his own actions and deeds. Allah the Exalted said,
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَاَ قَدَّمُواْ وَءَاثَارَهُمْ
(Verily, We give life to the dead, and We record that which they send before (them) and their traces.)(36:12) The knowledge that one spreads among people which they are guided by is among his actions and deeds. A Hadith collected in the Sahih states,
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites to guidance, he will earn as much reward as those who follow him, without decreasing anything out of their own rewards.) Allah said,
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى
(And that his deeds will be seen.) meaning, on the Day of Resurrection,
وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَى عَـلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(And say: "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do.")(9:105), Then Allah will remind you of your actions and recompense you for them in the best manner, good for good and evil for evil. Allah's statement here,
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَآءَ الأَوْفَى
(Then he will be recompensed with a full and the best recompense.)
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
42
View Single
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلۡمُنتَهَىٰ
And that the end is only towards your Lord?
اور یہ کہ (بالآخر سب کو) آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
43
View Single
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَضۡحَكَ وَأَبۡكَىٰ
And that it is He Who made (you) laugh and made (you) cry?
اور یہ کہ وہی (خوشی دے کر) ہنساتا ہے اور (غم دے کر) رُلاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
44
View Single
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحۡيَا
And that it is He Who gave death and gave life?
اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جِلاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
45
View Single
وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوۡجَيۡنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰ
And that it is He Who has created the two pairs, male and female?
اور یہ کہ اُسی نے نَر اور مادہ دو قِسموں کو پیدا کیا
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
46
View Single
مِن نُّطۡفَةٍ إِذَا تُمۡنَىٰ
From a drop of liquid, when it is added?
نطفہ (ایک تولیدی قطرہ) سے جبکہ وہ (رَحمِ مادہ میں) ٹپکایا جاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
47
View Single
وَأَنَّ عَلَيۡهِ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰ
And that only upon Him is the next revival?
اور یہ کہ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ کرنا (بھی) اسی پر ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
48
View Single
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغۡنَىٰ وَأَقۡنَىٰ
And that it is He Who has given wealth and contentment?
اور یہ کہ وہی (بقدرِ ضرورت دے کر) غنی کر دیتا ہے اور وہی (ضرورت سے زائد دے کر) خزانے بھر دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہوگئے عرب " اکدیٰ " اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہوجائیں فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے، حدیث میں ہے اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ خود قرآن میں ہے آیت (وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ 39) 34۔ سبأ :39) تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ وفی کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے (وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ01204) 2۔ البقرة :124) ، ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنادیا جیسے ارشاد ہوا ہے آیت (ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین) پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم کے لئے لفظ وفی اس لئے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ 17) 30۔ الروم :17) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے آیت ختم کی۔ پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۭ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 18) 35۔ فاطر :18) ، اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حضرت امام شافعی اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے ؓ اجمعین۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع ؑ کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا، صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت (اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ ڳ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ 12ۧ) 36۔ يس :12) ، یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا (وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ01005ۚ) 9۔ التوبہ :105) ، یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
49
View Single
وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعۡرَىٰ
And that He only is the Lord of the star Sirius?
اور یہ کہ وہی شِعرٰی (ستارے) کا رب ہے (جس کی دورِ جاہلیت میں پوجا کی جاتی تھی)
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
50
View Single
وَأَنَّهُۥٓ أَهۡلَكَ عَادًا ٱلۡأُولَىٰ
And that it is He Who earlier destroyed the tribe of Aad?
اور یہ کہ اسی نے پہلی (قومِ) عاد کو ہلاک کیا
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
51
View Single
وَثَمُودَاْ فَمَآ أَبۡقَىٰ
And destroyed the tribe of Thamud, not sparing anyone?
اور (قومِ) ثمود کو (بھی)، پھر (ان میں سے کسی کو) باقی نہ چھوڑا
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
52
View Single
وَقَوۡمَ نُوحٖ مِّن قَبۡلُۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ هُمۡ أَظۡلَمَ وَأَطۡغَىٰ
And before them, the people of Nooh? Indeed they were more unjust and more rebellious than these!
اور اس سے پہلے قومِ نوح کو (بھی ہلاک کیا)، بیشک وہ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
53
View Single
وَٱلۡمُؤۡتَفِكَةَ أَهۡوَىٰ
And that it is He Who threw down the upturned townships?
اور (قومِ لُوط کی) الٹی ہوئی بستیوں کو (اوپر اٹھا کر) اُسی نے نیچے دے پٹکا
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
54
View Single
فَغَشَّىٰهَا مَا غَشَّىٰ
So they were covered with whatever covered them?
پس اُن کو ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا (یعنی پھر اُن پر پتھروں کی بارش کر دی گئی)
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
55
View Single
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ
So O listener! Which favour of your Lord will you doubt?
سو (اے انسان!) تو اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں میں شک کرے گا
Tafsir Ibn Kathir
Some Attributes of the Lord, that He returns Man as He originated Him, and some of what He does with His Servants
Allah the Exalted said,
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنتَهَى
(And that to your Lord is the End.) meaning, the return of everything on the Day of Resurrection. Ibn Abi Hatim recorded that `Amr bin Maymun Al-Awdi said, "Once, Mu`adh bin Jabal stood up among us and said, `O Children of Awd! I am the emissary of Allah's Messenger ﷺ to you; know that the Return is to Allah, either to Paradise or the Fire."' Allah's statement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
(And that it is He Who makes you laugh, and makes you weep.) means that He created in His creatures the ability to laugh or weep and the causes for each of these opposites,
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
(And that it is He Who causes death and gives life.) In a similar statement, Allah said,
الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ
(Who has created death and life.)(67:2) Allah said,
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى
(And that He creates the pairs, male and female. From Nutfah when it is emitted.) as He said:
أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى - ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى - فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى
(Does man think that he will be left neglected Was he not a Nutfah Then he became an `Alaqah (something that clings); then (Allah) shaped and fashioned (him) in due proportion. And made of him two sexes, male and female. Is not He (Allah) able to give life to the dead)(75:36-40) Allah the Exalted said,
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الاٍّخْرَى
(And that upon Him is another bringing forth.) meaning, just as He first originated creation, He is able to bring it back to life, resurrecting it for the Day of Judgement,
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى
(And that it is He Who Aghna (gives much) and Aqna (a little).) It is Allah Who gives wealth to His servants and this wealth remains with them. This means they are able to use it to their benefit, is this out of the completeness of His favor. Most of the statements of the scholars of Tafsir revolve around this meaning, such as those from Abu Salih, Ibn Jarir and others. Mujahid said that,
أَغْنَى
(Aghna) meaning: He gives wealth.
وَأَقْنَى
(Aqna) meaning: He gives servants. Similar was said by Qatadah. Ibn `Abbas and Mujahid said;
أَغْنَى
(Aghna) means: He granted; while,
وَأَقْنَى
(Aqna) means: He gave contentment.
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى
(And that He is the Lord of Ash-Shi`ra.) Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said about Ash-Shi`ra that it is the bright star, named Mirzam Al-Jawza' (Sirius), which a group of Arabs used to worship.
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَاداً الاٍّولَى
(And that it is He Who destroyed the former `Ad) the people of Hud. They are the descendants of `Ad, son of Iram, son of Sam, son of Nuh. As Allah the Exalted said,
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ
(Saw you not how your Lord dealt with `Ad. Of Iram, with the lofty pillars, the like of which were not created in the land)(89:6-8) The people of `Ad were among the strongest, fiercest people and the most rebellious against Allah the Exalted and His Messenger. Allah destroyed them,
بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍسَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَـنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً
(By a furious violent wind! Which Allah imposed in them for seven nights and eight days in succession.)(69:6-7) Allah's statement,
وَثَمُودَ فَمَآ أَبْقَى
(And Thamud. He spared none), declares that He destroyed them all and spared none of them,
وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ
(And the people of Nuh aforetime.) before `Ad and Thamud,
إِنَّهُمْ كَانُواْ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى
(Verily, they were more unjust and more rebellious and transgressing.) more unjust in disobeying Allah than those who came after them,
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى
(And He destroyed the overthrown cities.) meaning, the cities (of Sodom and Gomorrah) to which Prophet Lut was sent. Allah turned their cities upside down over them and sent on them stones of Sijjil. Allah's statement that whatever has covered it, has covered it, is like the case with the stones of Sijjil that He sent on them,
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَراً فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ
(And We rained on them a rain (of torment). And how evil was the rain of those who had been warned!)(26:173) Allah said,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt) meaning, `which of Allah's favors for you, O man, do you doubt,' according to Qatadah. Ibn Jurayj said that the Ayah,
فَبِأَىِّ آلاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى
(Then which of the graces of your Lord will you doubt), is directed towards the Prophet saying: "O Muhammad!" However, the first ex- planation is better, and it is the meaning that Ibn Jarir preferred.
سب کی آخری منزل اللہ تعالیٰ ادراک سے بلند ہے فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ بغوی میں ہے حضور ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں، جیسے اور حدیث میں ہے مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پاسکتا، گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا ؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت وحیات کا خالق ہے جیسے فرمایا آیت (الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۙ) 67۔ الملک :2) اس نے موت وحیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا، جیسے اور جگہ فرمان ہے آیت (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36ۭ) 75۔ القیامة :36) ، کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنادیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنادیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ شعری اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کردیا جیسے فرمایا آیت (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۽) 89۔ الفجر :6) ، یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کردیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہوچکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن وقہار نے زیر و زبر کردیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کردیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی حضرت قتادہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا ؟ بعض کہتے ہیں خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔
56
View Single
هَٰذَا نَذِيرٞ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلۡأُولَىٰٓ
He (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) is a Herald of Warning, like the former Heralds of Warning.
یہ (رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
A Warning and Exhortation, the Order to prostrate and to be humble
Allah said,
هَـذَا نَذِيرٌ
(This is a warner) in reference to Muhammad ﷺ ,
مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى
(from the warners of old.) means, just like the warners of old, he was sent as a Messenger as they were sent as Messengers. Allah the Exalted said,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")(46:9) Allah said;
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(The Azifah draws near.) that which is near, the Day of Resurrection, has drawn nearer,
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(None besides Allah can avert it.) no one besides Allah can prevent it from coming, nor does anyone know when it will come, except Him. The warner is eager to convey his knowledge of the imminence of a calamity, so that it does not befall those to whom he is a warner. As He said;
إِنِّينَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(He is only a warner to you in face of a severe torment.) (34:46) And in the Hadith:
«أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَان»
(I am the naked warner,) meaning, I was in such a hurry to warn against the evil I saw coming, that I did not wear anything. In this case, one rushes to warn his people in such haste that he will be naked. This meaning befits the meaning of the A0yah,
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(the Azifah draws near.), in reference to the nearing Day of Resurrection. Allah said in the beginning of the Surah:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
(The Hour has drawn near.)(54:1) Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتْى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، تُهْلِكُه»
(Beware of small sins! The example of the effect of small sin is that of people who settled near the bottom of a valley. One of them brought a piece of wood, and another brought another piece of wood, until they cooked their bread! Verily, small sins will destroy its companion, if one is held accountable for them.) Allah the Exalted admonishes the idolators because they hear the Qur'an, yet they turn away from it in heedless play,
تَعْجَبُونَ
(wonder) doubting that it is true.
وَتَضْحَكُونَ
(And you laugh) in jest and mock at it,
وَلاَ تَبْكُونَ
(and weep not,) just as those who believe in it weep,
وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)(17:109) Allah said;
وَأَنتُمْ سَـمِدُونَ
(While you are Samidun.) Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn `Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismid for us' means `Sing for us."' `Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn `Abbas, he said that,
سَـمِدُونَ
(Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and `Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity,
فَاسْجُدُواْ لِلَّهِ وَاعْبُدُواْ
(So fall you down in prostration to Allah and worship Him.) meaning, with submission, sincerity, and Tawhid. Al-Bukhari recorded that Abu Ma`mar said that `Abdul-Warith said that Ayyub said that `Ikrimah said that, Ibn `Abbas said, "The Prophet prostrated upon reciting An-Najm and the Muslims, idolators, Jinns and mankind who were present prostrated along with him." Only Muslim collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said, "While in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ once recited Surat An-Najm, then prostrated along with all those who were with him at the time. I raised my head, however, and I refused to prostrate." Al-Muttalib had not embraced Islam yet, but ever since he became Muslim, he would never hear anyone recite this Surah until the end, without prostrating with whomever was prostrating after reciting it. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Book of Al-Bukhari, excluding prayer in his Sunan. This is the end of the Tafsir of Surat An-Najm. All praise and thanks are due to Allah.
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
57
View Single
أَزِفَتِ ٱلۡأٓزِفَةُ
The approaching event has come near.
آنے والی (قیامت کی گھڑی) قریب آپہنچی
Tafsir Ibn Kathir
A Warning and Exhortation, the Order to prostrate and to be humble
Allah said,
هَـذَا نَذِيرٌ
(This is a warner) in reference to Muhammad ﷺ ,
مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى
(from the warners of old.) means, just like the warners of old, he was sent as a Messenger as they were sent as Messengers. Allah the Exalted said,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")(46:9) Allah said;
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(The Azifah draws near.) that which is near, the Day of Resurrection, has drawn nearer,
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(None besides Allah can avert it.) no one besides Allah can prevent it from coming, nor does anyone know when it will come, except Him. The warner is eager to convey his knowledge of the imminence of a calamity, so that it does not befall those to whom he is a warner. As He said;
إِنِّينَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(He is only a warner to you in face of a severe torment.) (34:46) And in the Hadith:
«أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَان»
(I am the naked warner,) meaning, I was in such a hurry to warn against the evil I saw coming, that I did not wear anything. In this case, one rushes to warn his people in such haste that he will be naked. This meaning befits the meaning of the A0yah,
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(the Azifah draws near.), in reference to the nearing Day of Resurrection. Allah said in the beginning of the Surah:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
(The Hour has drawn near.)(54:1) Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتْى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، تُهْلِكُه»
(Beware of small sins! The example of the effect of small sin is that of people who settled near the bottom of a valley. One of them brought a piece of wood, and another brought another piece of wood, until they cooked their bread! Verily, small sins will destroy its companion, if one is held accountable for them.) Allah the Exalted admonishes the idolators because they hear the Qur'an, yet they turn away from it in heedless play,
تَعْجَبُونَ
(wonder) doubting that it is true.
وَتَضْحَكُونَ
(And you laugh) in jest and mock at it,
وَلاَ تَبْكُونَ
(and weep not,) just as those who believe in it weep,
وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)(17:109) Allah said;
وَأَنتُمْ سَـمِدُونَ
(While you are Samidun.) Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn `Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismid for us' means `Sing for us."' `Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn `Abbas, he said that,
سَـمِدُونَ
(Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and `Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity,
فَاسْجُدُواْ لِلَّهِ وَاعْبُدُواْ
(So fall you down in prostration to Allah and worship Him.) meaning, with submission, sincerity, and Tawhid. Al-Bukhari recorded that Abu Ma`mar said that `Abdul-Warith said that Ayyub said that `Ikrimah said that, Ibn `Abbas said, "The Prophet prostrated upon reciting An-Najm and the Muslims, idolators, Jinns and mankind who were present prostrated along with him." Only Muslim collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said, "While in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ once recited Surat An-Najm, then prostrated along with all those who were with him at the time. I raised my head, however, and I refused to prostrate." Al-Muttalib had not embraced Islam yet, but ever since he became Muslim, he would never hear anyone recite this Surah until the end, without prostrating with whomever was prostrating after reciting it. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Book of Al-Bukhari, excluding prayer in his Sunan. This is the end of the Tafsir of Surat An-Najm. All praise and thanks are due to Allah.
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
58
View Single
لَيۡسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌ
None except Allah can avert it.
اللہ کے سوا اِسے کوئی ظاہر (اور قائم) کرنے والا نہیں ہے
Tafsir Ibn Kathir
A Warning and Exhortation, the Order to prostrate and to be humble
Allah said,
هَـذَا نَذِيرٌ
(This is a warner) in reference to Muhammad ﷺ ,
مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى
(from the warners of old.) means, just like the warners of old, he was sent as a Messenger as they were sent as Messengers. Allah the Exalted said,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")(46:9) Allah said;
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(The Azifah draws near.) that which is near, the Day of Resurrection, has drawn nearer,
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(None besides Allah can avert it.) no one besides Allah can prevent it from coming, nor does anyone know when it will come, except Him. The warner is eager to convey his knowledge of the imminence of a calamity, so that it does not befall those to whom he is a warner. As He said;
إِنِّينَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(He is only a warner to you in face of a severe torment.) (34:46) And in the Hadith:
«أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَان»
(I am the naked warner,) meaning, I was in such a hurry to warn against the evil I saw coming, that I did not wear anything. In this case, one rushes to warn his people in such haste that he will be naked. This meaning befits the meaning of the A0yah,
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(the Azifah draws near.), in reference to the nearing Day of Resurrection. Allah said in the beginning of the Surah:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
(The Hour has drawn near.)(54:1) Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتْى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، تُهْلِكُه»
(Beware of small sins! The example of the effect of small sin is that of people who settled near the bottom of a valley. One of them brought a piece of wood, and another brought another piece of wood, until they cooked their bread! Verily, small sins will destroy its companion, if one is held accountable for them.) Allah the Exalted admonishes the idolators because they hear the Qur'an, yet they turn away from it in heedless play,
تَعْجَبُونَ
(wonder) doubting that it is true.
وَتَضْحَكُونَ
(And you laugh) in jest and mock at it,
وَلاَ تَبْكُونَ
(and weep not,) just as those who believe in it weep,
وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)(17:109) Allah said;
وَأَنتُمْ سَـمِدُونَ
(While you are Samidun.) Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn `Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismid for us' means `Sing for us."' `Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn `Abbas, he said that,
سَـمِدُونَ
(Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and `Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity,
فَاسْجُدُواْ لِلَّهِ وَاعْبُدُواْ
(So fall you down in prostration to Allah and worship Him.) meaning, with submission, sincerity, and Tawhid. Al-Bukhari recorded that Abu Ma`mar said that `Abdul-Warith said that Ayyub said that `Ikrimah said that, Ibn `Abbas said, "The Prophet prostrated upon reciting An-Najm and the Muslims, idolators, Jinns and mankind who were present prostrated along with him." Only Muslim collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said, "While in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ once recited Surat An-Najm, then prostrated along with all those who were with him at the time. I raised my head, however, and I refused to prostrate." Al-Muttalib had not embraced Islam yet, but ever since he became Muslim, he would never hear anyone recite this Surah until the end, without prostrating with whomever was prostrating after reciting it. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Book of Al-Bukhari, excluding prayer in his Sunan. This is the end of the Tafsir of Surat An-Najm. All praise and thanks are due to Allah.
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
59
View Single
أَفَمِنۡ هَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ تَعۡجَبُونَ
So are you surprised at this fact?
پس کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
A Warning and Exhortation, the Order to prostrate and to be humble
Allah said,
هَـذَا نَذِيرٌ
(This is a warner) in reference to Muhammad ﷺ ,
مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى
(from the warners of old.) means, just like the warners of old, he was sent as a Messenger as they were sent as Messengers. Allah the Exalted said,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")(46:9) Allah said;
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(The Azifah draws near.) that which is near, the Day of Resurrection, has drawn nearer,
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(None besides Allah can avert it.) no one besides Allah can prevent it from coming, nor does anyone know when it will come, except Him. The warner is eager to convey his knowledge of the imminence of a calamity, so that it does not befall those to whom he is a warner. As He said;
إِنِّينَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(He is only a warner to you in face of a severe torment.) (34:46) And in the Hadith:
«أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَان»
(I am the naked warner,) meaning, I was in such a hurry to warn against the evil I saw coming, that I did not wear anything. In this case, one rushes to warn his people in such haste that he will be naked. This meaning befits the meaning of the A0yah,
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(the Azifah draws near.), in reference to the nearing Day of Resurrection. Allah said in the beginning of the Surah:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
(The Hour has drawn near.)(54:1) Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتْى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، تُهْلِكُه»
(Beware of small sins! The example of the effect of small sin is that of people who settled near the bottom of a valley. One of them brought a piece of wood, and another brought another piece of wood, until they cooked their bread! Verily, small sins will destroy its companion, if one is held accountable for them.) Allah the Exalted admonishes the idolators because they hear the Qur'an, yet they turn away from it in heedless play,
تَعْجَبُونَ
(wonder) doubting that it is true.
وَتَضْحَكُونَ
(And you laugh) in jest and mock at it,
وَلاَ تَبْكُونَ
(and weep not,) just as those who believe in it weep,
وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)(17:109) Allah said;
وَأَنتُمْ سَـمِدُونَ
(While you are Samidun.) Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn `Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismid for us' means `Sing for us."' `Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn `Abbas, he said that,
سَـمِدُونَ
(Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and `Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity,
فَاسْجُدُواْ لِلَّهِ وَاعْبُدُواْ
(So fall you down in prostration to Allah and worship Him.) meaning, with submission, sincerity, and Tawhid. Al-Bukhari recorded that Abu Ma`mar said that `Abdul-Warith said that Ayyub said that `Ikrimah said that, Ibn `Abbas said, "The Prophet prostrated upon reciting An-Najm and the Muslims, idolators, Jinns and mankind who were present prostrated along with him." Only Muslim collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said, "While in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ once recited Surat An-Najm, then prostrated along with all those who were with him at the time. I raised my head, however, and I refused to prostrate." Al-Muttalib had not embraced Islam yet, but ever since he became Muslim, he would never hear anyone recite this Surah until the end, without prostrating with whomever was prostrating after reciting it. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Book of Al-Bukhari, excluding prayer in his Sunan. This is the end of the Tafsir of Surat An-Najm. All praise and thanks are due to Allah.
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
60
View Single
وَتَضۡحَكُونَ وَلَا تَبۡكُونَ
And you laugh, and do not weep!
اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو
Tafsir Ibn Kathir
A Warning and Exhortation, the Order to prostrate and to be humble
Allah said,
هَـذَا نَذِيرٌ
(This is a warner) in reference to Muhammad ﷺ ,
مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى
(from the warners of old.) means, just like the warners of old, he was sent as a Messenger as they were sent as Messengers. Allah the Exalted said,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")(46:9) Allah said;
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(The Azifah draws near.) that which is near, the Day of Resurrection, has drawn nearer,
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(None besides Allah can avert it.) no one besides Allah can prevent it from coming, nor does anyone know when it will come, except Him. The warner is eager to convey his knowledge of the imminence of a calamity, so that it does not befall those to whom he is a warner. As He said;
إِنِّينَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(He is only a warner to you in face of a severe torment.) (34:46) And in the Hadith:
«أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَان»
(I am the naked warner,) meaning, I was in such a hurry to warn against the evil I saw coming, that I did not wear anything. In this case, one rushes to warn his people in such haste that he will be naked. This meaning befits the meaning of the A0yah,
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(the Azifah draws near.), in reference to the nearing Day of Resurrection. Allah said in the beginning of the Surah:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
(The Hour has drawn near.)(54:1) Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتْى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، تُهْلِكُه»
(Beware of small sins! The example of the effect of small sin is that of people who settled near the bottom of a valley. One of them brought a piece of wood, and another brought another piece of wood, until they cooked their bread! Verily, small sins will destroy its companion, if one is held accountable for them.) Allah the Exalted admonishes the idolators because they hear the Qur'an, yet they turn away from it in heedless play,
تَعْجَبُونَ
(wonder) doubting that it is true.
وَتَضْحَكُونَ
(And you laugh) in jest and mock at it,
وَلاَ تَبْكُونَ
(and weep not,) just as those who believe in it weep,
وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)(17:109) Allah said;
وَأَنتُمْ سَـمِدُونَ
(While you are Samidun.) Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn `Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismid for us' means `Sing for us."' `Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn `Abbas, he said that,
سَـمِدُونَ
(Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and `Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity,
فَاسْجُدُواْ لِلَّهِ وَاعْبُدُواْ
(So fall you down in prostration to Allah and worship Him.) meaning, with submission, sincerity, and Tawhid. Al-Bukhari recorded that Abu Ma`mar said that `Abdul-Warith said that Ayyub said that `Ikrimah said that, Ibn `Abbas said, "The Prophet prostrated upon reciting An-Najm and the Muslims, idolators, Jinns and mankind who were present prostrated along with him." Only Muslim collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said, "While in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ once recited Surat An-Najm, then prostrated along with all those who were with him at the time. I raised my head, however, and I refused to prostrate." Al-Muttalib had not embraced Islam yet, but ever since he became Muslim, he would never hear anyone recite this Surah until the end, without prostrating with whomever was prostrating after reciting it. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Book of Al-Bukhari, excluding prayer in his Sunan. This is the end of the Tafsir of Surat An-Najm. All praise and thanks are due to Allah.
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
61
View Single
وَأَنتُمۡ سَٰمِدُونَ
And you are lost in play!
اور تم (غفلت کی) کھیل میں پڑے ہو
Tafsir Ibn Kathir
A Warning and Exhortation, the Order to prostrate and to be humble
Allah said,
هَـذَا نَذِيرٌ
(This is a warner) in reference to Muhammad ﷺ ,
مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى
(from the warners of old.) means, just like the warners of old, he was sent as a Messenger as they were sent as Messengers. Allah the Exalted said,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")(46:9) Allah said;
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(The Azifah draws near.) that which is near, the Day of Resurrection, has drawn nearer,
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(None besides Allah can avert it.) no one besides Allah can prevent it from coming, nor does anyone know when it will come, except Him. The warner is eager to convey his knowledge of the imminence of a calamity, so that it does not befall those to whom he is a warner. As He said;
إِنِّينَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(He is only a warner to you in face of a severe torment.) (34:46) And in the Hadith:
«أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَان»
(I am the naked warner,) meaning, I was in such a hurry to warn against the evil I saw coming, that I did not wear anything. In this case, one rushes to warn his people in such haste that he will be naked. This meaning befits the meaning of the A0yah,
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(the Azifah draws near.), in reference to the nearing Day of Resurrection. Allah said in the beginning of the Surah:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
(The Hour has drawn near.)(54:1) Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتْى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، تُهْلِكُه»
(Beware of small sins! The example of the effect of small sin is that of people who settled near the bottom of a valley. One of them brought a piece of wood, and another brought another piece of wood, until they cooked their bread! Verily, small sins will destroy its companion, if one is held accountable for them.) Allah the Exalted admonishes the idolators because they hear the Qur'an, yet they turn away from it in heedless play,
تَعْجَبُونَ
(wonder) doubting that it is true.
وَتَضْحَكُونَ
(And you laugh) in jest and mock at it,
وَلاَ تَبْكُونَ
(and weep not,) just as those who believe in it weep,
وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)(17:109) Allah said;
وَأَنتُمْ سَـمِدُونَ
(While you are Samidun.) Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn `Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismid for us' means `Sing for us."' `Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn `Abbas, he said that,
سَـمِدُونَ
(Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and `Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity,
فَاسْجُدُواْ لِلَّهِ وَاعْبُدُواْ
(So fall you down in prostration to Allah and worship Him.) meaning, with submission, sincerity, and Tawhid. Al-Bukhari recorded that Abu Ma`mar said that `Abdul-Warith said that Ayyub said that `Ikrimah said that, Ibn `Abbas said, "The Prophet prostrated upon reciting An-Najm and the Muslims, idolators, Jinns and mankind who were present prostrated along with him." Only Muslim collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said, "While in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ once recited Surat An-Najm, then prostrated along with all those who were with him at the time. I raised my head, however, and I refused to prostrate." Al-Muttalib had not embraced Islam yet, but ever since he became Muslim, he would never hear anyone recite this Surah until the end, without prostrating with whomever was prostrating after reciting it. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Book of Al-Bukhari, excluding prayer in his Sunan. This is the end of the Tafsir of Surat An-Najm. All praise and thanks are due to Allah.
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔
62
View Single
فَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ وَٱعۡبُدُواْ۩
Therefore prostrate for Allah, and worship Him. (Command of Prostration # 12)
سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور (اُس کی) عبادت کرو
Tafsir Ibn Kathir
A Warning and Exhortation, the Order to prostrate and to be humble
Allah said,
هَـذَا نَذِيرٌ
(This is a warner) in reference to Muhammad ﷺ ,
مِّنَ النُّذُرِ الاٍّوْلَى
(from the warners of old.) means, just like the warners of old, he was sent as a Messenger as they were sent as Messengers. Allah the Exalted said,
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say: "I am not a new thing among the Messengers.")(46:9) Allah said;
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(The Azifah draws near.) that which is near, the Day of Resurrection, has drawn nearer,
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
(None besides Allah can avert it.) no one besides Allah can prevent it from coming, nor does anyone know when it will come, except Him. The warner is eager to convey his knowledge of the imminence of a calamity, so that it does not befall those to whom he is a warner. As He said;
إِنِّينَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
(He is only a warner to you in face of a severe torment.) (34:46) And in the Hadith:
«أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَان»
(I am the naked warner,) meaning, I was in such a hurry to warn against the evil I saw coming, that I did not wear anything. In this case, one rushes to warn his people in such haste that he will be naked. This meaning befits the meaning of the A0yah,
أَزِفَتِ الاٌّزِفَةُ
(the Azifah draws near.), in reference to the nearing Day of Resurrection. Allah said in the beginning of the Surah:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ
(The Hour has drawn near.)(54:1) Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِبَطْنِ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتْى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، تُهْلِكُه»
(Beware of small sins! The example of the effect of small sin is that of people who settled near the bottom of a valley. One of them brought a piece of wood, and another brought another piece of wood, until they cooked their bread! Verily, small sins will destroy its companion, if one is held accountable for them.) Allah the Exalted admonishes the idolators because they hear the Qur'an, yet they turn away from it in heedless play,
تَعْجَبُونَ
(wonder) doubting that it is true.
وَتَضْحَكُونَ
(And you laugh) in jest and mock at it,
وَلاَ تَبْكُونَ
(and weep not,) just as those who believe in it weep,
وَيَخِرُّونَ لِلاٌّذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا
(And they fall down on their faces weeping and it increases their humility.)(17:109) Allah said;
وَأَنتُمْ سَـمِدُونَ
(While you are Samidun.) Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn `Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismid for us' means `Sing for us."' `Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn `Abbas, he said that,
سَـمِدُونَ
(Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and `Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity,
فَاسْجُدُواْ لِلَّهِ وَاعْبُدُواْ
(So fall you down in prostration to Allah and worship Him.) meaning, with submission, sincerity, and Tawhid. Al-Bukhari recorded that Abu Ma`mar said that `Abdul-Warith said that Ayyub said that `Ikrimah said that, Ibn `Abbas said, "The Prophet prostrated upon reciting An-Najm and the Muslims, idolators, Jinns and mankind who were present prostrated along with him." Only Muslim collected this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said, "While in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ once recited Surat An-Najm, then prostrated along with all those who were with him at the time. I raised my head, however, and I refused to prostrate." Al-Muttalib had not embraced Islam yet, but ever since he became Muslim, he would never hear anyone recite this Surah until the end, without prostrating with whomever was prostrating after reciting it. An-Nasa'i also collected this Hadith in the Book of Al-Bukhari, excluding prayer in his Sunan. This is the end of the Tafsir of Surat An-Najm. All praise and thanks are due to Allah.
" نذیر " کا مفہوم نذیر کہتے کسے ہیں یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) 46۔ الأحقاف :9) یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آگئی۔ نہ تو اسے کوئی دفع کرسکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے۔ نذیر عربی میں اسے کہتے ہیں مثلا ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ 46) 34۔ سبأ :46) میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کرلو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہوگئے ہیں اور آنحضرت ﷺ ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آچکی مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کرلی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہوجاتا ہے اور حدیث میں ہے میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتادیا کہ خبردار ہوجاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں۔ اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (سمد) گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے آپ سے (سامدون) کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے۔ پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضور ﷺ نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورة النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سورة نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورة مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔