النحل — An nahl
Ayah 51 / 128 • Meccan
543
51
An nahl
النحل • Meccan
۞وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓاْ إِلَٰهَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَإِيَّـٰيَ فَٱرۡهَبُونِ
And Allah has proclaimed, “Do not ascribe two Gods; indeed He is the only One God; therefore fear Me alone.”
اور اللہ نے فرمایا ہے: تم دو معبود مت بناؤ، بیشک وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے، اور تم مجھ ہی سے ڈرتے رہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah Alone is Deserving of Worship
Allah tells us that there is no god but He, and that no one else should be worshipped except Him, alone, without partners, for He is the Sovereign, Creator, and Lord of all things.
وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا
(His is the religion Wasiba) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Maymun bin Mahran, As-Suddi, Qatadah and others said that this means forever. It was also reported that Ibn `Abbas said, "It means obligatory." Mujahid said: "It means purely for Him," i.e., worship is due to Him Alone, from whoever is in the heavens and on earth. As Allah says:
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(Do they seek other than the religion of Allah, while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. And to Him shall they all be returned.) (3:83) This is in accordance with the opinion of Ibn `Abbas and `Ikrimah, which is that this Ayah is merely stating the case. According to the opinion of Mujahid, it is by way of instruction, i.e., it is saying: You had better fear associating partners in worship with Me, and be sincere in your obedience to Me. As Allah says:
أَلاَ لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ
(Surely, the pure religion (sincere devotion) is for Allah only.) (39:3) Then Allah tells us that He is the One Who has the power to benefit and harm, and that the provisions, blessings, good health and help, His servants enjoy are from His bounty and graciousness towards them.
ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَرُونَ
(Then, when harm touches you, to Him you cry aloud for help.) meaning because you know that none has the power to remove that harm except for Him, so when you are harmed, you turn to ask Him for help and beg Him for aid. As Allah says:
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا
(And when harm touches you at sea, those that you call upon vanish, except for Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful.)(17:67) Here, Allah tells us:
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءاتَيْنَـهُمْ
(Then, when He has removed the harm from you, behold! some of you associate others in worship with their Lord (Allah). So they are ungrateful for that which We have given them!) (16:54-55) It was said that the Lam here (translated as "So") is an indicator of sequence, or that it serves an explanatory function, meaning, `We decreed that they would conceal the truth and deny the blessings that Allah has bestowed upon them. He is the One Who bestows blessings and the One Who removes distress.' Then Allah threatens them, saying:
فَتَمَتَّعُواْ
(Then enjoy yourselves) meaning, do what you like and enjoy what you have for a little while.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(but you will soon come to know.) meaning the consequences of that.
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آجاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کردی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا۔
أَتَىٰٓ أَمۡرُ ٱللَّهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوهُۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
The command of Allah is arriving soon, therefore do not seek to hasten it; Purity and Supremacy are to Him, above all the partners (they ascribe).
اللہ کا وعدہ (قریب) آپہنچا سو تم اس کے چاہنے میں عجلت نہ کرو۔ وہ پاک ہے اور وہ ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Warning about the approach of the Hour
Allah is informing about the approach of the Hour in the past tense in Arabic in order to confirm that it will undoubtedly come to pass. This is like the following Ayat, in which the verbs appear in the past tense in Arabic:
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(Mankind's reckoning has drawn near them, while they turn away in heedlessness.)21:1
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft.) 54:1
فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(so do not seek to hasten it.) means, what was far is now near, so do not try to rush it. As Allah said,
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ - يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ
(And they ask you to hasten the torment (for them), and had it not been for a term appointed, the torment would certainly have come to them. And surely, it will come upon them suddenly while they are unaware! They ask you to hasten on the torment. And verily! Hell, of a surety, will encompass the disbelievers) (29:53-54). Ibn Abi Hatim reported from `Uqbah bin `Amir that the Messenger of Allah ﷺ said:
«تَطْلُعُ عَلَيْكُمْ عِنْدَ السَّاعَةِ سَحَابَةٌ سَوْدَاءُ مِنَ الْمَغْرِبِ مِثْلَ التُّرْسِ، فَمَا تَزَالُ تَرْتَفِعُ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ فِيهَا: يَا أَيُّهَاالنَّاسُ فَيُقْبِلُ النَّاسُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ: هَلْ سَمِعْتُمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: نَعَمْ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشُكُّ، ثُمَّ يُنَادِي الثَّانِيَةَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ فَيَقُولُ النَّاسُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: هَلْ سَمِعْتُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، ثُمَّ يُنَادِي الثَّالِثَةَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَى أَمْرُ اللهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوه»
(When the Hour approaches, a black cloud resembling a shield will emerge upon from the west. It will continue rising in the sky, then a voice will call out, `O mankind!' The people will say to one another, `Did you hear that' Some will say, `yes', but others will doubt it. Then a second call will come, `O mankind!' The people will say to one another, `Did you hear that' And they will say, `Yes.' Then a third call will come, `O mankind!' The Event ordained by Allah has indeed come, so do not seek to hasten it.') The Messenger of Allah ﷺ said:
«فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَيْنِ لَيَنْشُرَانِ الثَّوبَ فَمَا يَطْوِيَانِهِ أَبَدًا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَمُدَّنَّ حَوْضَهُ فَمَا يَسْقِي فِيهِ شَيْئًا أَبَدًا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلُبُ نَاقَتَهُ فَمَا يَشْرِبُهُ أَبَدًا قَالَ وَيَشْتَغِلُ النَّاس»
(By the One in Whose Hand is my soul, two men will spread out a cloth, but will never refold it; a man will prepare his trough, but will never water his animals from it; and a man will milk his camel, but will never drink the milk." Then he said, "The people will be distracted.") Then Allah tells us that He is free from their allegations of partners to their worship of idols, and making equals for Him. Glorified and exalted be He far above that. These are the people who deny the Hour, so He says:
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
(Glorified and Exalted be He above all that they associate as partners with Him. )
عذاب کا شوق جلد پورا ہو گا اللہ تعالیٰ قیامت کی نزدیکی کی خبر دے رہا ہے اور گو یا کہ وہ قائم ہوچکی۔ اس لئے ماضی کے لفظ سے بیان فرماتا ہے جیسے فرمان ہے لوگوں کا حساب قریب آچکا پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اور آیت میں ہے قیامت آچکی۔ چاند پھٹ گیا۔ پھر فرمایا اس قریب والی چیز کے اور قریب ہونے کی تمنائیں نہ کرو۔ ہ کی ضمیر کا مرجع یا تو لفظ اللہ ہے یعنی اللہ سے جلدی نہ چاہو یا عذاب ہیں یعنی عذابوں کی جلدی نہ مچاؤ۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے لازم ملزوم ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے یہ لوگ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں مگر ہماری طرف سے اس کا وقت مقرر نہ ہوتا تو بیشک ان پر عذاب آجاتے لیکن عذاب ان پر آئے گا ضرور اور وہ بھی نا گہاں ان کی غفلت میں۔ یہ عذابو کی جلدی کرتے ہیں اور جہنم ان سب کافروں کو گھیر ہوئے ہے۔ ضحاک ؒ نے اس آیت کا ایک عجیب مطلب بیان کیا ہے یعنی وہ کہتے ہیں کہ مراد ہے کہ اللہ فرائض اور حدود نازل ہوچکے۔ امام ابن جریر نے اسے خوب رد کیا ہے اور فرمایا ہے ایک شخص بھی تو ہمارے علم میں ایسا نہیں جس نے شریعت کے وجود سے پہلے اسے مانگنے میں عجلت کی ہو۔ مراد اس سے عذابوں کی جلدی ہے جو کافروں کی عادت تھی کیونکہ وہ انہیں مانتے ہی نہ تھے۔ جیسے قرآن پاک نے فرمایا ہے آیت (يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا 18) 42۔ الشوری :18) بےایمان تو اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور ایما ندار ان سے لر زاں و ترساں ہیں کیونکہ وہ انہیں برحق مانتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ عذاب الہٰی میں شک کرنے والے دور کی گمراہی میں جا پڑتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضور ﷺ فرماتے ہے فرماتے ہیں قیامت کے قریب مغرب کی جانب سے ڈھال کی طرح کا سیاہ ابر نمودار ہوگا اور وہ بہت جلد آسمان پر چڑھے گا پھر اس میں سے ایک منا دی کرے گا لوگ تعجب سے ایک دو سرے سے کہیں گے میاں کچھ سنا بھی ؟ بعض ہاں کہیں گے اور بعض بات کو اڑا دیں گے وہ پھر دوبارہ ندا کرے گا اور کہے گا اے لوگو ! اب تو سب کہیں گے کہ ہاں صاحب آواز تو آئی۔ پھر وہ تیسری دفعہ منادی کرے گا اور کہے گا اے لوگو امر الہٰی آپہنچا اب جلدی نہ کرو۔ اللہ کی قسم دو شخص جو کسی کپڑے کو پھیلائے ہوئے ہوں گے سمیٹنے بھی نہ پائیں گے جو قیامت قائم ہوجائے گی کوئی اپنے حوض کو ٹھیک کر رہا ہوگا ابھی پانی بھی پلا نہ پایا ہوگا جو قیامت آئے گی دودھ دوہنے والے پی بھی نہ سکیں گے کہ قیامت آجائے گی ہر ایک نفسا نفسی میں لگ جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نفس کریم سے شرک اور عبادت غیر پاکیزگی بیان فرماتا ہے فی الواقع وہ ان تمام باتوں سے پاک بہت دور اور بہت بلند ہے یہی مشرک ہیں جو منکر قیامت بھی ہیں اللہ سجانہ و تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے۔
يُنَزِّلُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦٓ أَنۡ أَنذِرُوٓاْ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ
He sends down the angels with the soul of faith – the divine revelations – towards those among His bondmen He wills that, “There is no worship except for Me, therefore fear Me.”
وہی فرشتوں کو وحی کے ساتھ (جو جملہ تعلیماتِ دین کی روح اور جان ہے) اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے کہ (لوگوں کو) ڈر سناؤ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو میری پرہیزگاری اختیار کرو
Tafsir Ibn Kathir
Allah sends Whomever He wills with the Message of Tawhid
يُنَزِّلُ الْمَلَـئِكَةَ بِالْرُّوحِ
(He sends down the angels with the Ruh) refers to the revelation. This is like the Ayat:
وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَـبُ وَلاَ الإِيمَـنُ وَلَـكِن جَعَلْنَـهُ نُوراً نَّهْدِى بِهِ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا
(And thus We have sent to you a Ruh (revelation) by Our command. You knew not what is the Book, nor what is the faith. But We have made it a light by which We guide whomever We will among Our servants.) 43:52
عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ
(to those servants of His whom He wills) meaning the Prophets, as Allah says:
اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ
(Allah best knows where to place His Message.) 6:124
اللَّهُ يَصْطَفِى مِنَ الْمَلَـئِكَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ
(Allah chooses Messengers from angels and from men.) 22:75
رَفِيعُ الدَّرَجَـتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِى الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلاَقِ - يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ
(He sends the Ruh (revelation) by His command to whoever among His servants He wills to, that he may warn of the Day of Meeting. The Day when they will (all) come out, nothing about them will be hidden from Allah. Whose is the kingdom this Day: It is Allah's, the One, the Irresistible!) (40:15-16)
أَنْ أَنْذِرُواْ
((saying): "Warn...") meaning that they should alert them.
أَنَّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَ أَنَاْ فَاتَّقُونِ
(that none has the right to be worshipped but I, so have Taqwa of Me.) means, `fear My punishment, if you go against My commands and worship anything other than Me.'
وحی کیا ہے ؟ روح سے مراد یہاں وحی ہے جیسے آیت (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 52ۙ) 42۔ الشوری :52) ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے وحی نازل فرمائی حالانکہ تجھے تو یہ بھی پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کی ماہیت کیا ہے ؟ ہاں ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا اپنے بندوں میں سے راستہ دکھا دیا۔ یہاں فرمان ہے کہ ہم جن بندوں کو چاہیں پیغبری عطا فرماتے ہیں ہمیں ہی اس کا پورا علم ہے کہ اس کے لائق کون ؟ ہم ہی فرشتوں میں سے بھی اس اعلیٰ منصب کے فرشتے چھانٹ لیتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔ اللہ اپنی وحی اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا تارتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ہوشیار کردیں جس دن سب کے سب اللہ کے سا منے ہوں گے کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہوگی۔ اس دن ملک کس کا ہوگا ؟ صرف اللہ واحد وقہار کا۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں وحدانیت رب کا اعلان کردیں اور پارسائی سے دور مشرکوں کو ڈرائیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ مجھ سے ڈرتے رہا کریں۔
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ تَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
He created the heavens and the earth with the truth; Supreme is He above their ascribing of partners (to Him).
اُسی نے آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا، وہ ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں کفار (اس کا) شریک گردانتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the One Who has created the Heavens, the Earth, and Man
Allah tells us about His creation of the upper realm, which is the heavens, and the lower realm, which is the earth, and everything in them. They have been created for a true purpose, not in vain, so that
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(He may requite those who do evil with that which they have done (i.e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise).) 53:31 Then He declares Himself to be above the Shirk of those who worship others besides Him. He is independent of His creation, alone with no partner or associate. For this reason He deserves to be worshipped Alone, without partners. Then He mentions how man has been created from a Nutfah, i.e., something that is insignificant, weak and has no value - but when man becomes independent and is able to fend for himself - then he begins to dispute with his Lord, may He be exalted, and disbelieves in Him and fights His Messengers. But man was created to be a servant, not an opponent, as Allah says:
وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَراً فَجَعَلَهُ نَسَباً وَصِهْراً وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيراً - وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُهُمْ وَلاَ يَضُرُّهُمْ وَكَانَ الْكَـفِرُ عَلَى رَبِّهِ ظَهِيراً
(And it is He Who has created man from water, and gave him descendants, and made Him kindred by marriage, and your Lord is capable (of all things). And they worship besides Allah, that which can neither profit them nor harm them; and the disbeliever is ever a helper (of Shaytan) against his Lord) (25: 54-55). And;
أَوَلَمْ يَرَ الإِنسَـنُ أَنَّا خَلَقْنَـهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مٌّبِينٌ - وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ - قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ
(Does not man see that We have created him from Nutfah. Yet, behold he stands as an open opponent. And he puts forth for Us a parable, and forgets his own creation. He says: "Who will give life to these bones after they are rotten and have become dust" Say: "He will give life to them Who created them the first time! And He is the knower of every creature!") (36:77-79). Imam Ahmad and Ibn Majah reported that Busr bin Jahhash said: "The Messenger of Allah ﷺ spat in his palm, then he said,
«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: ابْنَ آدَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ، حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ فَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْكَ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ، وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَة»
(Allah, may He be exalted, says: "O son of Adam, how could you be more powerful than I when I have created you from something like this, and when I have fashioned you perfectly and made you complete, you walk wearing your two garments and the earth makes a sound (beneath your feet). You collect money but do not give anything to anyone, then when the soul of a dying person reaches the throat, you say, `I want to give in charity', but it is too late for charity.")
عالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے۔ بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوگی۔ وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بیزار ہے۔ واحد ہے، لا شریک ہے، اکیلا ہی خالق کل ہے۔ اسی لئے اکیلا ہی سزا وار عبادت ہے۔ انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نافرمان ہے۔ اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنادیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آجاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے۔ بندہ تھا چاہئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو زندگی کرنے لگا۔ اور آیت میں ہے اللہ نے انسان کو پانی سے بنایا اس کا نسب اور سسرال قائم کیا۔ اللہ قادر ہے رب کے سوا یہ ان کی پوجا کرنے لگے ہیں جو بےنفع اور بےضرر ہیں کافر کچھ اللہ سے پوشیدہ نہیں۔ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تو بڑا ہی جھگڑالو نکلا۔ ہم پر بھی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش بھول گیا کہنے لگا کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ انہیں وہ خالق اکبر پیدا کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا وہ تو ہر طرح کی مخلوق کی پیدائش کا پورا عالم ہے۔ مسند احمد اور ابن ماجہ میں کہ حضور ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر فرمایا کہ جناب باری فرماتا ہے کہ اے انسان تو مجھے کیا عاجز کرسکتا ہے میں نے تو تجھے اس تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا ہے جب تو زندگی پا گیا تنومند ہوگیا لباس مکان مل گیا تو لگا سمیٹنے اور میری راہ سے روکنے ؟ اور جب دم گلے میں اٹکا تو تو کہنے لگا کہ اب میں صدقہ کرتا ہو، اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔ بس اب صدقہ خیرات کا وقت نکل گیا۔
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٖ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٞ مُّبِينٞ
He created man from a drop of fluid, yet he is an open quarreller!
اُسی نے انسان کو ایک تولیدی قطرہ سے پیدا فرمایا، پھر بھی وہ (اللہ کے حضور مطیع ہونے کی بجائے) کھلا جھگڑالو بن گیا
Tafsir Ibn Kathir
Allah is the One Who has created the Heavens, the Earth, and Man
Allah tells us about His creation of the upper realm, which is the heavens, and the lower realm, which is the earth, and everything in them. They have been created for a true purpose, not in vain, so that
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(He may requite those who do evil with that which they have done (i.e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise).) 53:31 Then He declares Himself to be above the Shirk of those who worship others besides Him. He is independent of His creation, alone with no partner or associate. For this reason He deserves to be worshipped Alone, without partners. Then He mentions how man has been created from a Nutfah, i.e., something that is insignificant, weak and has no value - but when man becomes independent and is able to fend for himself - then he begins to dispute with his Lord, may He be exalted, and disbelieves in Him and fights His Messengers. But man was created to be a servant, not an opponent, as Allah says:
وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَراً فَجَعَلَهُ نَسَباً وَصِهْراً وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيراً - وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُهُمْ وَلاَ يَضُرُّهُمْ وَكَانَ الْكَـفِرُ عَلَى رَبِّهِ ظَهِيراً
(And it is He Who has created man from water, and gave him descendants, and made Him kindred by marriage, and your Lord is capable (of all things). And they worship besides Allah, that which can neither profit them nor harm them; and the disbeliever is ever a helper (of Shaytan) against his Lord) (25: 54-55). And;
أَوَلَمْ يَرَ الإِنسَـنُ أَنَّا خَلَقْنَـهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مٌّبِينٌ - وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ - قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ
(Does not man see that We have created him from Nutfah. Yet, behold he stands as an open opponent. And he puts forth for Us a parable, and forgets his own creation. He says: "Who will give life to these bones after they are rotten and have become dust" Say: "He will give life to them Who created them the first time! And He is the knower of every creature!") (36:77-79). Imam Ahmad and Ibn Majah reported that Busr bin Jahhash said: "The Messenger of Allah ﷺ spat in his palm, then he said,
«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: ابْنَ آدَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ، حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ فَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْكَ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ، وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَة»
(Allah, may He be exalted, says: "O son of Adam, how could you be more powerful than I when I have created you from something like this, and when I have fashioned you perfectly and made you complete, you walk wearing your two garments and the earth makes a sound (beneath your feet). You collect money but do not give anything to anyone, then when the soul of a dying person reaches the throat, you say, `I want to give in charity', but it is too late for charity.")
عالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے۔ بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوگی۔ وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بیزار ہے۔ واحد ہے، لا شریک ہے، اکیلا ہی خالق کل ہے۔ اسی لئے اکیلا ہی سزا وار عبادت ہے۔ انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نافرمان ہے۔ اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنادیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آجاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے۔ بندہ تھا چاہئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو زندگی کرنے لگا۔ اور آیت میں ہے اللہ نے انسان کو پانی سے بنایا اس کا نسب اور سسرال قائم کیا۔ اللہ قادر ہے رب کے سوا یہ ان کی پوجا کرنے لگے ہیں جو بےنفع اور بےضرر ہیں کافر کچھ اللہ سے پوشیدہ نہیں۔ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تو بڑا ہی جھگڑالو نکلا۔ ہم پر بھی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش بھول گیا کہنے لگا کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ اے نبی ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ انہیں وہ خالق اکبر پیدا کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا وہ تو ہر طرح کی مخلوق کی پیدائش کا پورا عالم ہے۔ مسند احمد اور ابن ماجہ میں کہ حضور ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر فرمایا کہ جناب باری فرماتا ہے کہ اے انسان تو مجھے کیا عاجز کرسکتا ہے میں نے تو تجھے اس تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا ہے جب تو زندگی پا گیا تنومند ہوگیا لباس مکان مل گیا تو لگا سمیٹنے اور میری راہ سے روکنے ؟ اور جب دم گلے میں اٹکا تو تو کہنے لگا کہ اب میں صدقہ کرتا ہو، اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔ بس اب صدقہ خیرات کا وقت نکل گیا۔
وَٱلۡأَنۡعَٰمَ خَلَقَهَاۖ لَكُمۡ فِيهَا دِفۡءٞ وَمَنَٰفِعُ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ
And He created cattle; in them are warm clothing and uses for you, and you eat from them.
اور اُسی نے تمہارے لئے چوپائے پیدا فرمائے، ان میں تمہارے لئے گرم لباس ہے اور (دوسرے) فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے (بھی) ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Cattle are part of the Creation of Allah and a Blessing from Him
Allah reminds His servants of the blessing in His creation of An`am, this term includes camels, cows and sheep, as was explained in detail in Surat Al-An`am where the "eight pairs" are mentioned. The blessings include the benefits derived from their wool and hair, from which clothes and furnishings are made, from their milk which is drunk, and their young which are eaten. Their beauty is a kind of adornment, thus Allah says,
وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ
(And there is beauty in them for you, when you bring them home in the evening.) which is when they are brought back from the pasture in the evening. This is a reference to how their flanks become fat, their udders fill with milk and their humps become bigger.
وَحِينَ تَسْرَحُونَ
(and as you lead them forth to pasture (in the morning).) meaning when you send them out to the pasture in the morning.
وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ
(And they carry your loads) meaning the heavy burdens that you cannot move or carry by yourselves
إِلَى بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُواْ بَـلِغِيهِ إِلاَّ بِشِقِّ الأَنفُسِ
(to a land that you could not reach except with great trouble to yourselves) meaning journeys for Hajj, `Umrah, military campaigns, and journeys for the purpose of trading, and so on. They use these animals for all kinds of purposes, for riding and for carrying loads, as Allah says:
وَإِنَّ لَكُمْ فِى الاٌّنْعَـمِ لَعِبْرَةً نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهَا وَلَكُمْ فيِهَا مَنَـفِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ
(And verily, there is indeed a lesson for you in the An'am (cattle). We give you to drink (milk) of that which is in their bellies. And there are numerous (other) benefits in them for you. Of them you eat, and on them and on ships you are carried.) (23:21-22)
اللَّهُ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّنْعَـمَ لِتَرْكَـبُواْ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـفِعُ وَلِتَـبْلُغُواْ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ - وَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَأَىَّ ءَايَـتِ اللَّهِ تُنكِرُونَ
(Allah, it is He Who has made cattle for you, so that some you may ride, and some you may eat. And you find (many other) benefits in them; you may reach by their means a desire that is in your breasts (i.e. carry your goods, loads), and on them and on ships you are carried. And He shows you His Ayat. Which, then of the Ayat of Allah do you deny) (40:79-81). Thus here Allah says, after enumerating these blessings,
إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Truly, your Lord is full of kindness, Most Merciful.) meaning, your Lord is the One Who has subjugated the An`am (cattle) to you. This is like the Ayat:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعـماً فَهُمْ لَهَا مَـلِكُونَ - وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
(Do they not see, that of what Our Hands have created, We created the An'am (cattle) for them, so that they may own them, and We subdued them so that they may ride some and they may eat some.)(36:71-72).
وَالَّذِى خَلَقَ الأَزْوَجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالاٌّنْعَـمِ مَا تَرْكَبُونَ - لِتَسْتَوُواْ عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُواْ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُواْ سُبْحَـنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ - وَإِنَّآ إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ
(And He made mounts for you out of ships and cattle. In order that you may ride on their backs, and may then remember the favor of your Lord when you mount upon them, and say: "Glory be to the One Who subjected this to us, and we could never have it (by our efforts). And verily, to Our Lord we indeed are to return!") (43:12-14) Ibn `Abbas said,
لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ
(In them there is warmth) refers to clothing;
وَمَنَـفِعُ
(and numerous benefits) refers to the ways in which they derive the benefits of food and drink from them."
چوپائے اور انسان جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری۔ جس کا مفصل بیان سورة انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں۔ شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں، بھری ہوئی کو کھوں والے، بھرے ہوئے تھنوں والے، اونچی کوہانوں والے، کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہوتے ہیں پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کرلے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے مشکل تھا۔ حج وعمرہ کے، جہاد کے، تجارت کے اور ایسے ہی اور سفر انہیں پر ہوتے ہیں تمہیں لے جاتے ہیں تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں۔ جیسے آیت (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ 66) 16۔ النحل :66) میں ہے کہ یہ چوپائے جانور بھی تمہاری عبرت کا باعث ہیں ان کے پیٹ ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور ان سے بہت سے فائدے پہنچاتے ہیں ان کا گوشت بھی تم کھاتے ہو ان پر سواریاں بھی کرتے ہو۔ سمندر کی سواری کے لئے کشتیاں ہم نے بنادی ہیں۔ اور آیت میں ہے آیت (اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ 79ۡ) 40۔ غافر :79) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں کہ تم ان پر سواری کرو انہیں کھاؤ نفع اٹھاؤ دلی حاجتیں پوری کرو اور تمہیں کشتیوں پر بھی سوار کرایا اور بہت سی نشانیاں دکھائیں پس تم ہمارے کس کس نشان کا انکار کرو گے ؟ یہاں بھی اپنی یہ نعمتیں جتا کر فرمایا کہ تمہارا وہ رب جس کا مطیع بنادیا ہے وہ تم پر بہت ہی شفقت و رحمت والا ہے جیسے سورة یاسین میں فرمایا کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کیلئے اپنے ہاتھوں چوپائے بنائے اور انہیں انکا مالک بنادیا اور انیں انکا مطیع بنادیا کہ بعض کو کھائیں بعض پر سوار ہوں اور آیت میں (وَالَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12 ۙ) 43۔ الزخرف :12) اس اللہ نے تمہارے لئے کشتیاں بنادیں اور چوپائے پیدا کردیئے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے رب کا فضل و شکر کرو اور کہو وہ پاک ہے جس نے انہیں ہمارا ماتحت کردیا حالانکہ ہم میں یہ طاقت نہ تھی ہم مانتے ہیں کہ ہم اسی کی جانب لوٹیں گے۔ دف کے معنی کپڑا اور منافع سے مراد کھانا پینا، نسل حاصل کرنا، سواری کرنا، گوشت کھانا، دودھ پینا ہے۔
وَلَكُمۡ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسۡرَحُونَ
And in them is your elegance, when you bring them home at evening, and when you leave them to graze.
اور ان میں تمہارے لئے رونق (اور دل کشی بھی) ہے جب تم شام کو چراگاہ سے (واپس) لاتے ہو اور جب تم صبح کو (چرانے کے لئے) لے جاتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Cattle are part of the Creation of Allah and a Blessing from Him
Allah reminds His servants of the blessing in His creation of An`am, this term includes camels, cows and sheep, as was explained in detail in Surat Al-An`am where the "eight pairs" are mentioned. The blessings include the benefits derived from their wool and hair, from which clothes and furnishings are made, from their milk which is drunk, and their young which are eaten. Their beauty is a kind of adornment, thus Allah says,
وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ
(And there is beauty in them for you, when you bring them home in the evening.) which is when they are brought back from the pasture in the evening. This is a reference to how their flanks become fat, their udders fill with milk and their humps become bigger.
وَحِينَ تَسْرَحُونَ
(and as you lead them forth to pasture (in the morning).) meaning when you send them out to the pasture in the morning.
وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ
(And they carry your loads) meaning the heavy burdens that you cannot move or carry by yourselves
إِلَى بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُواْ بَـلِغِيهِ إِلاَّ بِشِقِّ الأَنفُسِ
(to a land that you could not reach except with great trouble to yourselves) meaning journeys for Hajj, `Umrah, military campaigns, and journeys for the purpose of trading, and so on. They use these animals for all kinds of purposes, for riding and for carrying loads, as Allah says:
وَإِنَّ لَكُمْ فِى الاٌّنْعَـمِ لَعِبْرَةً نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهَا وَلَكُمْ فيِهَا مَنَـفِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ
(And verily, there is indeed a lesson for you in the An'am (cattle). We give you to drink (milk) of that which is in their bellies. And there are numerous (other) benefits in them for you. Of them you eat, and on them and on ships you are carried.) (23:21-22)
اللَّهُ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّنْعَـمَ لِتَرْكَـبُواْ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـفِعُ وَلِتَـبْلُغُواْ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ - وَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَأَىَّ ءَايَـتِ اللَّهِ تُنكِرُونَ
(Allah, it is He Who has made cattle for you, so that some you may ride, and some you may eat. And you find (many other) benefits in them; you may reach by their means a desire that is in your breasts (i.e. carry your goods, loads), and on them and on ships you are carried. And He shows you His Ayat. Which, then of the Ayat of Allah do you deny) (40:79-81). Thus here Allah says, after enumerating these blessings,
إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Truly, your Lord is full of kindness, Most Merciful.) meaning, your Lord is the One Who has subjugated the An`am (cattle) to you. This is like the Ayat:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعـماً فَهُمْ لَهَا مَـلِكُونَ - وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
(Do they not see, that of what Our Hands have created, We created the An'am (cattle) for them, so that they may own them, and We subdued them so that they may ride some and they may eat some.)(36:71-72).
وَالَّذِى خَلَقَ الأَزْوَجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالاٌّنْعَـمِ مَا تَرْكَبُونَ - لِتَسْتَوُواْ عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُواْ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُواْ سُبْحَـنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ - وَإِنَّآ إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ
(And He made mounts for you out of ships and cattle. In order that you may ride on their backs, and may then remember the favor of your Lord when you mount upon them, and say: "Glory be to the One Who subjected this to us, and we could never have it (by our efforts). And verily, to Our Lord we indeed are to return!") (43:12-14) Ibn `Abbas said,
لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ
(In them there is warmth) refers to clothing;
وَمَنَـفِعُ
(and numerous benefits) refers to the ways in which they derive the benefits of food and drink from them."
چوپائے اور انسان جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری۔ جس کا مفصل بیان سورة انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں۔ شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں، بھری ہوئی کو کھوں والے، بھرے ہوئے تھنوں والے، اونچی کوہانوں والے، کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہوتے ہیں پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کرلے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے مشکل تھا۔ حج وعمرہ کے، جہاد کے، تجارت کے اور ایسے ہی اور سفر انہیں پر ہوتے ہیں تمہیں لے جاتے ہیں تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں۔ جیسے آیت (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ 66) 16۔ النحل :66) میں ہے کہ یہ چوپائے جانور بھی تمہاری عبرت کا باعث ہیں ان کے پیٹ ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور ان سے بہت سے فائدے پہنچاتے ہیں ان کا گوشت بھی تم کھاتے ہو ان پر سواریاں بھی کرتے ہو۔ سمندر کی سواری کے لئے کشتیاں ہم نے بنادی ہیں۔ اور آیت میں ہے آیت (اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ 79ۡ) 40۔ غافر :79) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں کہ تم ان پر سواری کرو انہیں کھاؤ نفع اٹھاؤ دلی حاجتیں پوری کرو اور تمہیں کشتیوں پر بھی سوار کرایا اور بہت سی نشانیاں دکھائیں پس تم ہمارے کس کس نشان کا انکار کرو گے ؟ یہاں بھی اپنی یہ نعمتیں جتا کر فرمایا کہ تمہارا وہ رب جس کا مطیع بنادیا ہے وہ تم پر بہت ہی شفقت و رحمت والا ہے جیسے سورة یاسین میں فرمایا کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کیلئے اپنے ہاتھوں چوپائے بنائے اور انہیں انکا مالک بنادیا اور انیں انکا مطیع بنادیا کہ بعض کو کھائیں بعض پر سوار ہوں اور آیت میں (وَالَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12 ۙ) 43۔ الزخرف :12) اس اللہ نے تمہارے لئے کشتیاں بنادیں اور چوپائے پیدا کردیئے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے رب کا فضل و شکر کرو اور کہو وہ پاک ہے جس نے انہیں ہمارا ماتحت کردیا حالانکہ ہم میں یہ طاقت نہ تھی ہم مانتے ہیں کہ ہم اسی کی جانب لوٹیں گے۔ دف کے معنی کپڑا اور منافع سے مراد کھانا پینا، نسل حاصل کرنا، سواری کرنا، گوشت کھانا، دودھ پینا ہے۔
وَتَحۡمِلُ أَثۡقَالَكُمۡ إِلَىٰ بَلَدٖ لَّمۡ تَكُونُواْ بَٰلِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ ٱلۡأَنفُسِۚ إِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ
And they transport your loads to a town where you could not reach except utterly exhausted; indeed your Lord is Most Compassionate, Most Merciful.
اور یہ (جانور) تمہارے بوجھ (بھی) ان شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر جانکاہ مشقت کے نہیں پہنچ سکتے تھے، بیشک تمہارا رب نہایت شفقت والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Cattle are part of the Creation of Allah and a Blessing from Him
Allah reminds His servants of the blessing in His creation of An`am, this term includes camels, cows and sheep, as was explained in detail in Surat Al-An`am where the "eight pairs" are mentioned. The blessings include the benefits derived from their wool and hair, from which clothes and furnishings are made, from their milk which is drunk, and their young which are eaten. Their beauty is a kind of adornment, thus Allah says,
وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ
(And there is beauty in them for you, when you bring them home in the evening.) which is when they are brought back from the pasture in the evening. This is a reference to how their flanks become fat, their udders fill with milk and their humps become bigger.
وَحِينَ تَسْرَحُونَ
(and as you lead them forth to pasture (in the morning).) meaning when you send them out to the pasture in the morning.
وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ
(And they carry your loads) meaning the heavy burdens that you cannot move or carry by yourselves
إِلَى بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُواْ بَـلِغِيهِ إِلاَّ بِشِقِّ الأَنفُسِ
(to a land that you could not reach except with great trouble to yourselves) meaning journeys for Hajj, `Umrah, military campaigns, and journeys for the purpose of trading, and so on. They use these animals for all kinds of purposes, for riding and for carrying loads, as Allah says:
وَإِنَّ لَكُمْ فِى الاٌّنْعَـمِ لَعِبْرَةً نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهَا وَلَكُمْ فيِهَا مَنَـفِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ
(And verily, there is indeed a lesson for you in the An'am (cattle). We give you to drink (milk) of that which is in their bellies. And there are numerous (other) benefits in them for you. Of them you eat, and on them and on ships you are carried.) (23:21-22)
اللَّهُ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّنْعَـمَ لِتَرْكَـبُواْ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ - وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـفِعُ وَلِتَـبْلُغُواْ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ - وَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَأَىَّ ءَايَـتِ اللَّهِ تُنكِرُونَ
(Allah, it is He Who has made cattle for you, so that some you may ride, and some you may eat. And you find (many other) benefits in them; you may reach by their means a desire that is in your breasts (i.e. carry your goods, loads), and on them and on ships you are carried. And He shows you His Ayat. Which, then of the Ayat of Allah do you deny) (40:79-81). Thus here Allah says, after enumerating these blessings,
إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Truly, your Lord is full of kindness, Most Merciful.) meaning, your Lord is the One Who has subjugated the An`am (cattle) to you. This is like the Ayat:
أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعـماً فَهُمْ لَهَا مَـلِكُونَ - وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
(Do they not see, that of what Our Hands have created, We created the An'am (cattle) for them, so that they may own them, and We subdued them so that they may ride some and they may eat some.)(36:71-72).
وَالَّذِى خَلَقَ الأَزْوَجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالاٌّنْعَـمِ مَا تَرْكَبُونَ - لِتَسْتَوُواْ عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُواْ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُواْ سُبْحَـنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ - وَإِنَّآ إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ
(And He made mounts for you out of ships and cattle. In order that you may ride on their backs, and may then remember the favor of your Lord when you mount upon them, and say: "Glory be to the One Who subjected this to us, and we could never have it (by our efforts). And verily, to Our Lord we indeed are to return!") (43:12-14) Ibn `Abbas said,
لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ
(In them there is warmth) refers to clothing;
وَمَنَـفِعُ
(and numerous benefits) refers to the ways in which they derive the benefits of food and drink from them."
چوپائے اور انسان جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری۔ جس کا مفصل بیان سورة انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں۔ شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں، بھری ہوئی کو کھوں والے، بھرے ہوئے تھنوں والے، اونچی کوہانوں والے، کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہوتے ہیں پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کرلے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے مشکل تھا۔ حج وعمرہ کے، جہاد کے، تجارت کے اور ایسے ہی اور سفر انہیں پر ہوتے ہیں تمہیں لے جاتے ہیں تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں۔ جیسے آیت (وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۭ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَاۗىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ 66) 16۔ النحل :66) میں ہے کہ یہ چوپائے جانور بھی تمہاری عبرت کا باعث ہیں ان کے پیٹ ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور ان سے بہت سے فائدے پہنچاتے ہیں ان کا گوشت بھی تم کھاتے ہو ان پر سواریاں بھی کرتے ہو۔ سمندر کی سواری کے لئے کشتیاں ہم نے بنادی ہیں۔ اور آیت میں ہے آیت (اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ 79ۡ) 40۔ غافر :79) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں کہ تم ان پر سواری کرو انہیں کھاؤ نفع اٹھاؤ دلی حاجتیں پوری کرو اور تمہیں کشتیوں پر بھی سوار کرایا اور بہت سی نشانیاں دکھائیں پس تم ہمارے کس کس نشان کا انکار کرو گے ؟ یہاں بھی اپنی یہ نعمتیں جتا کر فرمایا کہ تمہارا وہ رب جس کا مطیع بنادیا ہے وہ تم پر بہت ہی شفقت و رحمت والا ہے جیسے سورة یاسین میں فرمایا کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کیلئے اپنے ہاتھوں چوپائے بنائے اور انہیں انکا مالک بنادیا اور انیں انکا مطیع بنادیا کہ بعض کو کھائیں بعض پر سوار ہوں اور آیت میں (وَالَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12 ۙ) 43۔ الزخرف :12) اس اللہ نے تمہارے لئے کشتیاں بنادیں اور چوپائے پیدا کردیئے کہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے رب کا فضل و شکر کرو اور کہو وہ پاک ہے جس نے انہیں ہمارا ماتحت کردیا حالانکہ ہم میں یہ طاقت نہ تھی ہم مانتے ہیں کہ ہم اسی کی جانب لوٹیں گے۔ دف کے معنی کپڑا اور منافع سے مراد کھانا پینا، نسل حاصل کرنا، سواری کرنا، گوشت کھانا، دودھ پینا ہے۔
وَٱلۡخَيۡلَ وَٱلۡبِغَالَ وَٱلۡحَمِيرَ لِتَرۡكَبُوهَا وَزِينَةٗۚ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
And horses, and mules, and donkeys so that you may ride them, and for adornment; and He will create what you do not know*. (* All modern means of transport – by air, sea, land and even in space – evidence this.)
اور (اُسی نے) گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو (پیدا کیا) تاکہ تم ان پر سواری کر سکو اور وہ (تمہارے لئے) باعثِ زینت بھی ہوں، اور وہ (مزید ایسی بازینت سواریوں کو بھی) پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
This refers to another category of animals that Allah has created as a blessing for His servants; horses, mules and donkeys, all of which He made for riding and adornment.
This is the main purpose for which these animals were created. It was reported in the Two Sahihs that Jabir bin `Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade us to eat the meat of domestic donkeys, but he allowed us to eat the meat of horses." Imam Ahmad and Abu Dawud reported with two chains of narration, each of which meet the conditions of Muslim, that Jabir said: "On the day of Khaybar we slaughtered horses, mules and donkeys. The Messenger of Allah ﷺ forbade us from eating the mules and donkeys, but he did not forbid us from eating the horses." According to Sahih Muslim, Asma' bint Abi Bakr (may Allah be pleased with them both) said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ we slaughtered a horse and ate it when we were in Al-Madinah."
سواری کے جانوروں کی حرمت اپنی ایک اور نعمت بیان فرما رہا ہے کہ زینت کے لئے اور سواری کے لئے اس نے گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کئے ہیں بڑا مقصد ان جانوروں کی پید ائش سے انسان کا ہی فائدہ ہے۔ انہیں اور چوپایوں پر فضیلت دی اور علیحدہ ذکر کیا اس وجہ سے بعض علماء نے گھوڑے کے گوشت کی حرمت کی دلیل اس آیت سے لی ہے۔ جیسے امام ابوحنیفہ اور ان کی موافقت کرنے والے فقہا کہتے ہیں کہ خچر اور گدھے کے ساتھ گھوڑے کا ذکر ہے اور پہلے کے دونوں جانور حرام ہیں اس لئے یہ بھی حرام ہوا۔ چناچہ خچر اور گدھے کی حرمت احادیث میں آئی ہے اور اکثر علماء کا مذہب بھی ہے۔ ابن عباس ؓ سے ان تینوں کی حرمت آئی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے پہلے کی آیت میں چوپایوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انہیں تو کھاتے ہو پس یہ تو ہوئے کھانے کے جانور اور ان تینوں کا بیان کر کے فرمایا کہ ان پر تم سواری کرتے ہو پس یہ ہوئے سواری کے جانور۔ مسند کی حدیث میں کہ حضور ﷺ نے گھوڑوں کے خچروں کے اور گدھوں کے گوشت کو منع فرمایا ہے لیکن اس کے راویوں میں ایک راوی صالح ابن یحییٰ بن مقدام ہیں جن میں کلام ہے۔ مسند کی اور حدیث میں مقدام بن معدی کرب سے منقول ہے کہ ہم حضرت خالد بن ولید ؓ کے ساتھ صائقہ کی جنگ میں تھے، میرے پاس میرے ساتھی گوشت لائے، مجھ سے ایک پتھر مانگا میں نے دیا۔ انہوں نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں تھے لوگوں نے یہودیوں کے کھیتوں پر جلدی کردی حضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ لوگوں میں ندا کر دوں کہ نماز کے لئے آجائیں اور مسلمانوں کے سوا کوئی نہ آئے پھر فرمایا کہ اے لوگو تم نے یہودیوں کے باغات میں گھسنے کی جلدی کی سنو معاہدہ کا مال بغیر حق کے حلال نہیں اور پالتو گدھوں کے اور گھوڑوں کے اور خچروں کے گوشت اور ہر ایک کچلیوں والا درندہ اور ہر ایک پنجے سے شکار کھلینے والا پرندہ حرام ہے۔ حضور ﷺ کی ممانعت یہود کے باغات سے شاید اس وقت تھی جب ان سے معاہدہ ہوگیا۔ پس اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو بیشک گھوڑے کی حرمت کے بارے میں تو نص تھی لیکن اس میں بخاری و مسلم کی حدیث کے مقا بلے کی قوت نہیں جس میں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت کو منع فرما دیا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی۔ اور حدیث میں ہے کہ ہم نے خیبر والے دن گھوڑے اور خچر اور گدھے ذبح کئے تو ہمیں حضور ﷺ نے خچر اور گدھے کے گوشت سے تو منع کردیا لیکن گھوڑے کے گوشت سے نہیں روکا۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت اسماء بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ ہم نے مدینے میں حضور ﷺ کی موجودگی میں گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا۔ پس یہ سب سے بڑی سب سے قوی اور سب سے زیادہ ثبوت والی حدیث ہے اور یہی مذہب جمہور علماء کا ہے۔ مالک، شا فعی، احمد، ان کے سب ساتھی اور اکثر سلف و کلف یہی کہتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ پہلے گھوڑوں میں وحشت اور جنگلی پن تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کے لئے اسے مطیع کردیا۔ وہب نے اسرائیلی روایتوں میں بیان کیا ہے کہ جنوبی ہوا سے گھوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ ان تینوں جانوروں پر سواری لینے کا جواز تو قرآن کے لفظوں سے ثابت ہے حضور ﷺ کو ایک خچر ہدیے میں دیا گیا تھا جس پر آپ سواری کرتے تھے ہاں یہ آپ نے منع فرمایا ہے کہ گھوڑوں کو گدھیوں سے ملایا جائے۔ یہ ممانعت اس لئے ہے کہ نسل منقطع نہ ہوجائے۔ حضرت دحیہ کلبی ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم گھوڑے اور گدھی کے ملاپ سے خچر لیں اور آپ اس پر سوار ہوں آپ نے فرمایا یہ کام وہ کرتے ہیں جو علم سے کورے ہیں۔
وَعَلَى ٱللَّهِ قَصۡدُ ٱلسَّبِيلِ وَمِنۡهَا جَآئِرٞۚ وَلَوۡ شَآءَ لَهَدَىٰكُمۡ أَجۡمَعِينَ
And the middle path rightly leads to Allah – any other path is wayward; and had He willed He would have brought all of you upon guidance.
اور درمیانی راہ اللہ (کے دروازے) پر جا پہنچتی ہے اور اس میں سے کئی ٹیڑھی راہیں بھی (نکلتی) ہیں، اور اگر وہ چاہتا تو تم سب ہی کو ہدایت فرما دیتا
Tafsir Ibn Kathir
Explanation of the Different Religious Paths
When Allah mentioned the animals which may be used for the purpose of physical journeys, He also referred to the moral, religious routes that people may follow. Often in the Qur'an there is a shift from physical or tangible things to beneficial spiritual and religious matters, as when Allah says,
وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى
(And take a provision (with you) for the journey, but the best provision is Taqwa (piety, righteousness).) 2:197 And,
يَـبَنِى آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَرِى سَوْءَتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ
(O Children of Adam! We have granted clothing for you to cover yourselves, as well as for adornment; but the raiment of righteousness, that is better.) 7:26 Since Allah mentioned cattle and other such animals in this Surah, all of which are ridden or can be used in any way necessary, carrying people's necessities for them to distant places and on difficult journeys - then He mentions the ways which people follow to try to reach Him, and explains that the right way is the one that does reach Him. He says:
وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ
(And it is up to Allah to show the right way.) This is like the Ayat,
وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
(And verily, this is My straight path, so follow it, and do not follow the (other) paths, for they will separate you away from His path.) 6:153 and,
قَالَ هَذَا صِرَطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ
((Allah) said: "This is the way which will lead straight to Me.") (15:41)
وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ
(And it is up to Allah to show the right way.) Mujahid said: "The true way is up to Allah."
وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ
(And it is up to Allah to show the right way.) Al-`Awfi said that Ibn `Abbas said: "It is up to Allah to clarify, to explain the guidance and misguidance." This was also reported by `Ali bin Abi Talhah, and was also the opinion of Qatadah and Ad-Dahhak. Hence Allah said:
وَمِنْهَا جَآئِرٌ
(But there are ways that stray.) meaning they deviate from the truth. Ibn `Abbas and others said: "These are the different ways," and various opinions and whims, such as Judaism, Christianity and Zoroastrianism. Ibn Mas`ud recited it as (وَمِنْكُمْ جَائِرٌ) "But among you are those who stray. " Then Allah tells us that all of that happens by His will and decree. He says:
وَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(And had He willed, He would have guided you all.) And Allah says:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(If your Lord had willed, then all who are in the earth would have believed.) 10:99
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبّكَ لاَمْلاَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ-
(And if your Lord had so willed, He could surely, have made humanity one Ummah, but they will not stop disagreeing. Except those for whom your Lord has granted mercy. And it is for this that He did create them; and the Word of your Lord has been fulfilled (i.e. His saying): "Surely, I shall fill Hell with Jinn and men all together.") (11:118-119).
تقویٰ بہترین زاد راہ ہے دنیوی راہیں طے کرنے کے اسباب بیان فرما کر اب دینی راہ چلنے کے اسباب بیان فرماتا ہے۔ محسوسات سے معنویات کی طرف رجوع کرتا ہے قرآن میں اکثر بیانات اس قسم کے موجود ہیں سفر حج کے توشہ کا ذکر کر کے تقوے کے توشے کا جو آخرت میں کام دے بیان ہوا ہے ظاہری لباس کا ذکر فرما کر لباس تقوی کی اچھائی بیان کی ہے اسی طرح یہاں حیوانات سے دنیا کے کٹھن راستے اور دراز سفر طے ہونے کا بیان فرما کر آخرت کے راستے دینی راہیں بیان فرمائیں کہ سچا راستہ اللہ سے ملانے والا ہے رب کی سیدھی راہ وہی ہے اسی پر چلو دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ بہک جاؤ گے اور سیدھی راہ سے الگ ہوجاؤ گے۔ فرمایا میری طرف پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے جو میں نے بتائی ہے طریق جو اللہ سے ملانے والا ہے اللہ نے ظاہر کردیا ہے اور وہ دین اسلام ہے جسے اللہ نے واضح کردیا ہے اور ساتھ ہی دو سرے راستوں کی گمراہی بھی بیان فرما دی ہے۔ پس سچا راستہ ایک ہی ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے باقی اور راہیں غلط راہیں ہیں، حق سے الگ تھلگ ہیں، لوگوں کی اپنی ایجاد ہیں جیسے یہودیت نصرانیت مجوسیت وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہدایت رب کے قبضے کی چیز ہے اگر چاہے تو روئے زمین کے لوگوں کو نیک راہ پر لگا دے زمین کے تمام باشندے مومن بن جائیں سب لوگ ایک ہی دین کے عامل ہوجائیں لیکن یہ اختلاف باقی ہی رہے گا مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ اسی کے لئے انہیں پیدا کیا ہے تیرے رب کی بات پوری ہو کر ہی رہے گی کہ جنت دوزخ انسان سے بھر جائے۔
10
View Single
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗۖ لَّكُم مِّنۡهُ شَرَابٞ وَمِنۡهُ شَجَرٞ فِيهِ تُسِيمُونَ
It is He Who sent down water from the sky – you drink from it, and from it are trees you use as pasture.
وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا، اس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اسی میں سے (کچھ) شجر کاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں شاداب ہوتی ہیں) جن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Blessings of Rain, and explaining how it is one of the Signs
When Allah mentions the blessings of cattle and other animals that He has granted mankind, He then mentions how He has blessed them by sending rain down from the sky above, which has been fulfilling the needs and bringing joy to people and their cattle. Allah says:
لَّكُم مَّنْهُ شَرَابٌ
(from it you drink) meaning, He made it fresh and pure so that they can drink it, not salty and undrinkable.
وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ
(and from it (grows) the vegetation on which you send your cattle to pasture.) meaning, from it He raised plants on which your cattle graze. Ibn `Abbas, `Ikrimah, Ad-Dahhak, Qatadah and Ibn Zayd, all said that this refers to grazing animals including camels.
يُنبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالأَعْنَـبَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَتِ
(With it He causes crops to grow for you, olives, date palms, grapes, and every kind of fruit.) meaning, with this one kind of water, He makes the earth sprout plants with different tastes, colors, scents and shapes. For this reason He says,
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(Verily, in this there is indeed an evident proof and a manifest sign for people who give thought.) meaning, this is a sign and a proof that there is no god besides Allah, as He says:
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ وَأَنزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُواْ شَجَرَهَا أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ
(Is not He (better than your gods) Who created the heavens and the earth, and sends water down for you from the sky, from which We cause wonderful gardens full of beauty and delight to grow You are not able to cause the growth of their trees. Is there any ilah (god) with Allah Nay, but they are a people who make equals (to Him)!) (27:60).
تمہارے فائدوں کے سامان چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنا دے اسی آب باراں سے درخت اگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں۔ سوم کے معنی چرنے کے ہیں اسی وجہ سے اہل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا۔ پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے مختلف مزے کے، مختلف شکل و صورت کے، مختلف خوشبو کے طرح طرح کے پھل پھول وہ تمہارے لئے پیدا کرتا ہے پس یہ سب نشانیاں ایک شخص کو اللہ کی وحدانیت جاننے کے لئے کافی ہیں اسی کا بیان اور آیتوں میں اس طرح ہوا ہے کہ آسمان و زمین کا خالق، بادلوں سے پانی برسانے والا، ان سے ہرے بھرے باغات پیدا کرنے والا، جن کے پیدا کرنے سے تم عاجز تھے اللہ ہی ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں پھر بھی لوگ حق سے ادھر ادھر ہو رہے ہیں۔
11
View Single
يُنۢبِتُ لَكُم بِهِ ٱلزَّرۡعَ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلنَّخِيلَ وَٱلۡأَعۡنَٰبَ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
With this water He produces for you crops, and olives, and dates, and grapes, and all kinds of fruit; indeed in this is a sign for people who ponder.
اُسی پانی سے تمہارے لئے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اگاتا ہے، بیشک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Blessings of Rain, and explaining how it is one of the Signs
When Allah mentions the blessings of cattle and other animals that He has granted mankind, He then mentions how He has blessed them by sending rain down from the sky above, which has been fulfilling the needs and bringing joy to people and their cattle. Allah says:
لَّكُم مَّنْهُ شَرَابٌ
(from it you drink) meaning, He made it fresh and pure so that they can drink it, not salty and undrinkable.
وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ
(and from it (grows) the vegetation on which you send your cattle to pasture.) meaning, from it He raised plants on which your cattle graze. Ibn `Abbas, `Ikrimah, Ad-Dahhak, Qatadah and Ibn Zayd, all said that this refers to grazing animals including camels.
يُنبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالأَعْنَـبَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَتِ
(With it He causes crops to grow for you, olives, date palms, grapes, and every kind of fruit.) meaning, with this one kind of water, He makes the earth sprout plants with different tastes, colors, scents and shapes. For this reason He says,
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(Verily, in this there is indeed an evident proof and a manifest sign for people who give thought.) meaning, this is a sign and a proof that there is no god besides Allah, as He says:
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ وَأَنزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُواْ شَجَرَهَا أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ
(Is not He (better than your gods) Who created the heavens and the earth, and sends water down for you from the sky, from which We cause wonderful gardens full of beauty and delight to grow You are not able to cause the growth of their trees. Is there any ilah (god) with Allah Nay, but they are a people who make equals (to Him)!) (27:60).
تمہارے فائدوں کے سامان چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنا دے اسی آب باراں سے درخت اگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں۔ سوم کے معنی چرنے کے ہیں اسی وجہ سے اہل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں۔ ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا۔ پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے مختلف مزے کے، مختلف شکل و صورت کے، مختلف خوشبو کے طرح طرح کے پھل پھول وہ تمہارے لئے پیدا کرتا ہے پس یہ سب نشانیاں ایک شخص کو اللہ کی وحدانیت جاننے کے لئے کافی ہیں اسی کا بیان اور آیتوں میں اس طرح ہوا ہے کہ آسمان و زمین کا خالق، بادلوں سے پانی برسانے والا، ان سے ہرے بھرے باغات پیدا کرنے والا، جن کے پیدا کرنے سے تم عاجز تھے اللہ ہی ہے اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں پھر بھی لوگ حق سے ادھر ادھر ہو رہے ہیں۔
12
View Single
وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ وَٱلنُّجُومُ مُسَخَّرَٰتُۢ بِأَمۡرِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
And He subjected the night and the day for you – and the sun and the moon; and the stars are subjected to His command; indeed in this are signs for people of intellect.
اور اُسی نے تمہارے لئے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا، اور تمام ستارے بھی اُسی کی تدبیر (سے نظام) کے پابند ہیں، بیشک اس میں عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Signs in the Subjection of Night and Day, the Sun and the Moon, and in that which grows on Earth
Allah mentions the mighty signs and immense blessings to be found in His subjection of night and day, which follow one another; the sun and moon, which revolve; the stars, both fixed and moving through the skies, offering light by which people may find their way in the darkness. Each of (these heavenly bodies) travels in its own orbit, which Allah has ordained for it, and travels in the manner prescribed for it, without deviating in any way. All of them are under His subjugation, His control and His decree, as Allah says:
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed, your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in Six Days, and then He rose (Istawa) over the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars (all) subjected to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists!) (7:54) Thus Allah says;
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(Surely, in this are proofs for people who understand.) meaning, they are indications of His immense power and might, for those who think about Allah and understand His signs.
وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِى الاٌّرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ
(And whatsoever He has created of varying colors on the earth for you. ) When Allah points out the features of the skies, He also points out the wondrous things that He has created on earth, the variety of its animals, minerals, plants and inanimate features, all having different colors and shapes, benefits and qualities.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
(Verily, in this is a sign for people who reflect.) meaning (those who remember) the blessings of Allah and give thanks to Him for them.
سورج چاند کی گردش میں پوشیدہ فوائد اللہ تعالیٰ اپنی اور نعمتیں یاد دلاتا ہے کہ دن رات برابر تمہارے فائدے کے لئے آتے جاتے ہیں۔ سورج چاند گردش میں ہیں، ستارے چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں، ہر ایک ایسا صحیح اندازہ اللہ نے مقرر کر رکھا ہے جس سے وہ نہ ادھر ادھر ہوں نہ تمہیں کوئی نقصان ہو۔ ہر ایک رب کی قدرت میں اور اس کے غلبے تلے ہے۔ اس نے چھ دن میں آسمان زمین پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا دن رات برابر پے درپے آتے رہتے ہیں سورج چاند ستارے اس کے حکم سے کام میں لگے ہوئے ہیں خلق و امر کا مالک وہی ہے وہ رب العالمین بڑی برکتوں والا ہے۔ جو سوچ سمجھ رکھتا ہو اس کے لئے تو اس میں اللہ کی قدرت و سلطنت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ ان آسمانی چیزوں کے بعد اب تم زمینی چیزیں دیکھو کہ حیوان، کان، نباتات، جمادات، وغیرہ مختلف رنگ روپ کی چیزیں بیشمار فوائد کی چیزیں اسی نے تمہارے لئے زمین پر پیدا کر رکھی ہیں۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کو سوچیں اور قدر کریں ان کے لئے تو یہ زبردست نشان ہے۔
13
View Single
وَمَا ذَرَأَ لَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُخۡتَلِفًا أَلۡوَٰنُهُۥٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَذَّكَّرُونَ
And the things He has created for you in the earth, of numerous colours; indeed in this is a sign for people who remember.
اور (حیوانات، نباتات اور معدنیات وغیرہ میں سے بقیہ) جو کچھ بھی اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا فرمایا ہے جن کے رنگ (یعنی جنسیں، نوعیں، قسمیں، خواص اور منافع) الگ الگ ہیں (سب تمہارے لئے مسخر ہیں)، بیشک اس میں نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Signs in the Subjection of Night and Day, the Sun and the Moon, and in that which grows on Earth
Allah mentions the mighty signs and immense blessings to be found in His subjection of night and day, which follow one another; the sun and moon, which revolve; the stars, both fixed and moving through the skies, offering light by which people may find their way in the darkness. Each of (these heavenly bodies) travels in its own orbit, which Allah has ordained for it, and travels in the manner prescribed for it, without deviating in any way. All of them are under His subjugation, His control and His decree, as Allah says:
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Indeed, your Lord is Allah, Who created the heavens and the earth in Six Days, and then He rose (Istawa) over the Throne. He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars (all) subjected to His command. Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists!) (7:54) Thus Allah says;
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(Surely, in this are proofs for people who understand.) meaning, they are indications of His immense power and might, for those who think about Allah and understand His signs.
وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِى الاٌّرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ
(And whatsoever He has created of varying colors on the earth for you. ) When Allah points out the features of the skies, He also points out the wondrous things that He has created on earth, the variety of its animals, minerals, plants and inanimate features, all having different colors and shapes, benefits and qualities.
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
(Verily, in this is a sign for people who reflect.) meaning (those who remember) the blessings of Allah and give thanks to Him for them.
سورج چاند کی گردش میں پوشیدہ فوائد اللہ تعالیٰ اپنی اور نعمتیں یاد دلاتا ہے کہ دن رات برابر تمہارے فائدے کے لئے آتے جاتے ہیں۔ سورج چاند گردش میں ہیں، ستارے چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں، ہر ایک ایسا صحیح اندازہ اللہ نے مقرر کر رکھا ہے جس سے وہ نہ ادھر ادھر ہوں نہ تمہیں کوئی نقصان ہو۔ ہر ایک رب کی قدرت میں اور اس کے غلبے تلے ہے۔ اس نے چھ دن میں آسمان زمین پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا دن رات برابر پے درپے آتے رہتے ہیں سورج چاند ستارے اس کے حکم سے کام میں لگے ہوئے ہیں خلق و امر کا مالک وہی ہے وہ رب العالمین بڑی برکتوں والا ہے۔ جو سوچ سمجھ رکھتا ہو اس کے لئے تو اس میں اللہ کی قدرت و سلطنت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ ان آسمانی چیزوں کے بعد اب تم زمینی چیزیں دیکھو کہ حیوان، کان، نباتات، جمادات، وغیرہ مختلف رنگ روپ کی چیزیں بیشمار فوائد کی چیزیں اسی نے تمہارے لئے زمین پر پیدا کر رکھی ہیں۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کو سوچیں اور قدر کریں ان کے لئے تو یہ زبردست نشان ہے۔
14
View Single
وَهُوَ ٱلَّذِي سَخَّرَ ٱلۡبَحۡرَ لِتَأۡكُلُواْ مِنۡهُ لَحۡمٗا طَرِيّٗا وَتَسۡتَخۡرِجُواْ مِنۡهُ حِلۡيَةٗ تَلۡبَسُونَهَاۖ وَتَرَى ٱلۡفُلۡكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
And it is He Who subjected the sea for you, so you eat fresh meat from it, and extract ornaments from it which you wear; and you see ships ploughing through it and in order that you may seek His munificence and that you may give thanks.
اور وہی ہے جس نے (فضا و بر کے علاوہ) بحر (یعنی دریاؤں اور سمندروں) کو بھی مسخر فرما دیا تاکہ تم اس میں سے تازہ (و پسندیدہ) گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے موتی (وغیرہ) نکالو جنہیں تم زیبائش کے لئے پہنتے ہو، اور (اے انسان!) تُو کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (دریاؤں اور سمندروں کا) پانی چیرتے ہوئے اس میں چلے جاتے ہیں، اور (یہ سب کچھ اس لئے کیا) تاکہ تم (دور دور تک) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو اور یہ کہ تم شکر گزار بن جاؤ
Tafsir Ibn Kathir
Signs in the Oceans, Mountains, Rivers, Roads and Stars
Allah tells us how He has subjected the seas, with their waves lapping the shores, and how He blesses His servants by subjecting the seas for them so that they may travel on them, and by putting fish and whales in them, by making their flesh permissible to eat - whether they are caught alive or dead - at all times, including when people are in a state of Ihram. He has created pearls and precious jewels in the oceans, and made it easy for His servants to recover ornaments that they can wear from the ocean floor. He made the sea such that it carries the ships which plow through it. He is the One Who taught mankind to make ships, which is the inheritance of their forefather Nuh. He was the first one to travel by ship, he was taught how to make them, then people took this knowledge from him and passed it down from generation to generation through the centuries, so that they could travel from country to country and from place to place, bringing goods from here to there and from there to here. Thus Allah says:
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(that you may seek from His bounty and that you may perhaps be grateful.) - for His bounty and blessings. Then Allah mentions the earth and how He placed in it mountains standing firm, which make it stable and keep it from shaking in such a manner that the creatures dwelling on it would not be able to live. Hence Allah says,
وَالْجِبَالَ أَرْسَـهَا
(And the mountains He has fixed firmly.) (79: 32).
وَأَنْهَـراً وَسُبُلاً
(and rivers and roads) meaning He has made rivers which flow from one place to another, bringing provision for His servants. The rivers arise in one place, and bring provision to people living in another place. They flow through lands and fields and wildernesses, through mountains and hills, until they reach the land whose people they are meant to benefit. They meander across the land, left and right, north and south, east and west - rivers great and small - flowing sometimes and ceasing sometimes, flowing from their sources to the places where the water gathers, flowing rapidly or moving slowly, as decreed by Allah. There is no god besides Him and no Lord except Him. He also made roads or routes along which people travel from one land or city to another, and He even made gaps in the mountains so that there would be routes between them, as He says:
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجاً سُبُلاً
(And We placed broad highways for them to pass through.) 21:31
وَعَلامَـتٍ
(And landmarks) meaning, signs like great mountains and small hills, and so on, things that land and sea travelers use to find their way if they get lost.
وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ
(and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.) meaning, in the darkness of the night. This was the opinion of Ibn `Abbas.
Worship is Allah's Right
Then Allah tells us of His greatness, and that worship should be directed to Him alone, not to any of the idols which do not create but are rather themselves created. Thus He says
أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لاَّ يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ
(Is then He, Who creates, the same as one who does not create Will you not then reflect)(16:17). Then He shows His servants some of the many blessings He granted for them, and the many kinds of things that He has done for them. He says;
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَآ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(And if you would try to count the favors of Allah, you would never be able to count them. Truly, Allah is Forgiving, Most Merciful.) (16:18) meaning that He pardons and forgives them. If He were to ask you to thank Him for all of His blessings, you would not be able to do so, and if He were to command you to do so, you would be incapable of it. If He punishes you, He is never unjust in His punishment, but He is Forgiving and Most Merciful, He forgives much and rewards for little. Ibn Jarir said: "It means that Allah is Forgiving when you fail to thank Him properly, if you repent and turn to Him in obedience, and strive to do that which pleases Him. He is Merciful to you and does not punish you if you turn to Him and repent."
اللہ کے انعامات اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں۔ اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو۔ مسند بزار میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟ اس نے کہا ڈبو دونگا فرمایا تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبر گیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی۔ اس حدیث کا راوی صرف عبد الرحمن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ عبداللہ بن ابی عمرو سے بھی یہ روایت مرفوعاً مروی ہے۔ اس کے بعد زمین کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس کے ٹھہرانے اور ہلنے جلنے سے بچانے کے لئے اس پر مضبوط اور وزنی پہاڑ جما دیئے کہ اس کے ہلنے کی وجہ سے اس پر رہنے والوں کی زندگی دشوار نہ ہوجائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا 32ۙ) 79۔ النازعات :32) حضرت حسن ؒ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہوگیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے۔ قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا کرم ہے کہ اس نے نہریں چشمے اور دریا چاروں طرف بہا دئیے۔ کوئی تیز ہے کوئی سست، کوئی لمبا ہے کوئی مختصر، کبھی کم پانی ہے کبھی زیادہ، کبھی بالکل سوکھا پڑا ہے۔ پہاڑوں پر، جنگلوں میں، ریت میں، پتھروں میں برابر یہ چشمے بہتے رہتے ہیں اور ریل پیل کردیتے ہیں یہ سب اس کا فضل و کرم، لطف و رحم ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی پروردگار نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت، وہی رب ہے، وہی معبود ہے۔ اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں، تری میں، پہاڑ میں، بستی میں، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آسکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت۔ اور بھی علامتیں اس نے مقرر کردیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کرلیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لئے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں۔ پھر اپنی عظمت وکبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بےبس ہیں، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے ؟ اتنا بھی بیہوش ہوجانا شایان انسانیت نہیں۔ پھر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور کثرت بیان فرماتا ہے کہ تمہاری گنتی میں بھی نہیں آسکتیں، اتنی نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں یہ بھی تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ میری نعمتوں کی گنتی کرسکو، اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرماتا رہتا ہے اگر اپنی تمام تر نعمتوں کا شکر بھی تم سب طلب کرے تو تمہارے بس کا نہیں۔ اگر ان نعمتوں کے بدلے تم سے چاہے تو تمہاری طاقت سے خارج ہے سنو اگر وہ تم سب کو عذاب کرے تو بھی وہ ظالم نہیں لیکن وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، تمہاری تقصیروں سے تجاوز کرلیتا ہے۔ توبہ، رجوع، اطاعت اور طلب رضا مندی کے ساتھ جو گناہ ہوجائیں ان سے چشم پوشی کرلیتا ہے۔ بڑا ہی رحیم ہے، توبہ کے بعد عذاب نہیں کرتا۔
15
View Single
وَأَلۡقَىٰ فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمۡ وَأَنۡهَٰرٗا وَسُبُلٗا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
And He placed mountains as anchors in the earth so that it may not shake along with you, and streams and roads for you to find course.
اور اسی نے زمین میں (مختلف مادوں کو باہم ملا کر) بھاری پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) تمہیں لے کر کانپنے لگے اور نہریں اور (قدرتی) راستے (بھی) بنائے تاکہ تم (منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پا سکو
Tafsir Ibn Kathir
Signs in the Oceans, Mountains, Rivers, Roads and Stars
Allah tells us how He has subjected the seas, with their waves lapping the shores, and how He blesses His servants by subjecting the seas for them so that they may travel on them, and by putting fish and whales in them, by making their flesh permissible to eat - whether they are caught alive or dead - at all times, including when people are in a state of Ihram. He has created pearls and precious jewels in the oceans, and made it easy for His servants to recover ornaments that they can wear from the ocean floor. He made the sea such that it carries the ships which plow through it. He is the One Who taught mankind to make ships, which is the inheritance of their forefather Nuh. He was the first one to travel by ship, he was taught how to make them, then people took this knowledge from him and passed it down from generation to generation through the centuries, so that they could travel from country to country and from place to place, bringing goods from here to there and from there to here. Thus Allah says:
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(that you may seek from His bounty and that you may perhaps be grateful.) - for His bounty and blessings. Then Allah mentions the earth and how He placed in it mountains standing firm, which make it stable and keep it from shaking in such a manner that the creatures dwelling on it would not be able to live. Hence Allah says,
وَالْجِبَالَ أَرْسَـهَا
(And the mountains He has fixed firmly.) (79: 32).
وَأَنْهَـراً وَسُبُلاً
(and rivers and roads) meaning He has made rivers which flow from one place to another, bringing provision for His servants. The rivers arise in one place, and bring provision to people living in another place. They flow through lands and fields and wildernesses, through mountains and hills, until they reach the land whose people they are meant to benefit. They meander across the land, left and right, north and south, east and west - rivers great and small - flowing sometimes and ceasing sometimes, flowing from their sources to the places where the water gathers, flowing rapidly or moving slowly, as decreed by Allah. There is no god besides Him and no Lord except Him. He also made roads or routes along which people travel from one land or city to another, and He even made gaps in the mountains so that there would be routes between them, as He says:
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجاً سُبُلاً
(And We placed broad highways for them to pass through.) 21:31
وَعَلامَـتٍ
(And landmarks) meaning, signs like great mountains and small hills, and so on, things that land and sea travelers use to find their way if they get lost.
وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ
(and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.) meaning, in the darkness of the night. This was the opinion of Ibn `Abbas.
Worship is Allah's Right
Then Allah tells us of His greatness, and that worship should be directed to Him alone, not to any of the idols which do not create but are rather themselves created. Thus He says
أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لاَّ يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ
(Is then He, Who creates, the same as one who does not create Will you not then reflect)(16:17). Then He shows His servants some of the many blessings He granted for them, and the many kinds of things that He has done for them. He says;
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَآ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(And if you would try to count the favors of Allah, you would never be able to count them. Truly, Allah is Forgiving, Most Merciful.) (16:18) meaning that He pardons and forgives them. If He were to ask you to thank Him for all of His blessings, you would not be able to do so, and if He were to command you to do so, you would be incapable of it. If He punishes you, He is never unjust in His punishment, but He is Forgiving and Most Merciful, He forgives much and rewards for little. Ibn Jarir said: "It means that Allah is Forgiving when you fail to thank Him properly, if you repent and turn to Him in obedience, and strive to do that which pleases Him. He is Merciful to you and does not punish you if you turn to Him and repent."
اللہ کے انعامات اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں۔ اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو۔ مسند بزار میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟ اس نے کہا ڈبو دونگا فرمایا تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبر گیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی۔ اس حدیث کا راوی صرف عبد الرحمن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ عبداللہ بن ابی عمرو سے بھی یہ روایت مرفوعاً مروی ہے۔ اس کے بعد زمین کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس کے ٹھہرانے اور ہلنے جلنے سے بچانے کے لئے اس پر مضبوط اور وزنی پہاڑ جما دیئے کہ اس کے ہلنے کی وجہ سے اس پر رہنے والوں کی زندگی دشوار نہ ہوجائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا 32ۙ) 79۔ النازعات :32) حضرت حسن ؒ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہوگیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے۔ قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا کرم ہے کہ اس نے نہریں چشمے اور دریا چاروں طرف بہا دئیے۔ کوئی تیز ہے کوئی سست، کوئی لمبا ہے کوئی مختصر، کبھی کم پانی ہے کبھی زیادہ، کبھی بالکل سوکھا پڑا ہے۔ پہاڑوں پر، جنگلوں میں، ریت میں، پتھروں میں برابر یہ چشمے بہتے رہتے ہیں اور ریل پیل کردیتے ہیں یہ سب اس کا فضل و کرم، لطف و رحم ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی پروردگار نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت، وہی رب ہے، وہی معبود ہے۔ اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں، تری میں، پہاڑ میں، بستی میں، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آسکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت۔ اور بھی علامتیں اس نے مقرر کردیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کرلیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لئے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں۔ پھر اپنی عظمت وکبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بےبس ہیں، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے ؟ اتنا بھی بیہوش ہوجانا شایان انسانیت نہیں۔ پھر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور کثرت بیان فرماتا ہے کہ تمہاری گنتی میں بھی نہیں آسکتیں، اتنی نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں یہ بھی تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ میری نعمتوں کی گنتی کرسکو، اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرماتا رہتا ہے اگر اپنی تمام تر نعمتوں کا شکر بھی تم سب طلب کرے تو تمہارے بس کا نہیں۔ اگر ان نعمتوں کے بدلے تم سے چاہے تو تمہاری طاقت سے خارج ہے سنو اگر وہ تم سب کو عذاب کرے تو بھی وہ ظالم نہیں لیکن وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، تمہاری تقصیروں سے تجاوز کرلیتا ہے۔ توبہ، رجوع، اطاعت اور طلب رضا مندی کے ساتھ جو گناہ ہوجائیں ان سے چشم پوشی کرلیتا ہے۔ بڑا ہی رحیم ہے، توبہ کے بعد عذاب نہیں کرتا۔
16
View Single
وَعَلَٰمَٰتٖۚ وَبِٱلنَّجۡمِ هُمۡ يَهۡتَدُونَ
And landmarks; and they are guided by the star.
اور (دن کو راہ تلاش کرنے کے لئے) علامتیں بنائیں، اور (رات کو) لوگ ستاروں کے ذریعہ (بھی) راہ پاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Signs in the Oceans, Mountains, Rivers, Roads and Stars
Allah tells us how He has subjected the seas, with their waves lapping the shores, and how He blesses His servants by subjecting the seas for them so that they may travel on them, and by putting fish and whales in them, by making their flesh permissible to eat - whether they are caught alive or dead - at all times, including when people are in a state of Ihram. He has created pearls and precious jewels in the oceans, and made it easy for His servants to recover ornaments that they can wear from the ocean floor. He made the sea such that it carries the ships which plow through it. He is the One Who taught mankind to make ships, which is the inheritance of their forefather Nuh. He was the first one to travel by ship, he was taught how to make them, then people took this knowledge from him and passed it down from generation to generation through the centuries, so that they could travel from country to country and from place to place, bringing goods from here to there and from there to here. Thus Allah says:
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(that you may seek from His bounty and that you may perhaps be grateful.) - for His bounty and blessings. Then Allah mentions the earth and how He placed in it mountains standing firm, which make it stable and keep it from shaking in such a manner that the creatures dwelling on it would not be able to live. Hence Allah says,
وَالْجِبَالَ أَرْسَـهَا
(And the mountains He has fixed firmly.) (79: 32).
وَأَنْهَـراً وَسُبُلاً
(and rivers and roads) meaning He has made rivers which flow from one place to another, bringing provision for His servants. The rivers arise in one place, and bring provision to people living in another place. They flow through lands and fields and wildernesses, through mountains and hills, until they reach the land whose people they are meant to benefit. They meander across the land, left and right, north and south, east and west - rivers great and small - flowing sometimes and ceasing sometimes, flowing from their sources to the places where the water gathers, flowing rapidly or moving slowly, as decreed by Allah. There is no god besides Him and no Lord except Him. He also made roads or routes along which people travel from one land or city to another, and He even made gaps in the mountains so that there would be routes between them, as He says:
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجاً سُبُلاً
(And We placed broad highways for them to pass through.) 21:31
وَعَلامَـتٍ
(And landmarks) meaning, signs like great mountains and small hills, and so on, things that land and sea travelers use to find their way if they get lost.
وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ
(and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.) meaning, in the darkness of the night. This was the opinion of Ibn `Abbas.
Worship is Allah's Right
Then Allah tells us of His greatness, and that worship should be directed to Him alone, not to any of the idols which do not create but are rather themselves created. Thus He says
أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لاَّ يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ
(Is then He, Who creates, the same as one who does not create Will you not then reflect)(16:17). Then He shows His servants some of the many blessings He granted for them, and the many kinds of things that He has done for them. He says;
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَآ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(And if you would try to count the favors of Allah, you would never be able to count them. Truly, Allah is Forgiving, Most Merciful.) (16:18) meaning that He pardons and forgives them. If He were to ask you to thank Him for all of His blessings, you would not be able to do so, and if He were to command you to do so, you would be incapable of it. If He punishes you, He is never unjust in His punishment, but He is Forgiving and Most Merciful, He forgives much and rewards for little. Ibn Jarir said: "It means that Allah is Forgiving when you fail to thank Him properly, if you repent and turn to Him in obedience, and strive to do that which pleases Him. He is Merciful to you and does not punish you if you turn to Him and repent."
اللہ کے انعامات اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں۔ اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو۔ مسند بزار میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟ اس نے کہا ڈبو دونگا فرمایا تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبر گیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی۔ اس حدیث کا راوی صرف عبد الرحمن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ عبداللہ بن ابی عمرو سے بھی یہ روایت مرفوعاً مروی ہے۔ اس کے بعد زمین کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس کے ٹھہرانے اور ہلنے جلنے سے بچانے کے لئے اس پر مضبوط اور وزنی پہاڑ جما دیئے کہ اس کے ہلنے کی وجہ سے اس پر رہنے والوں کی زندگی دشوار نہ ہوجائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا 32ۙ) 79۔ النازعات :32) حضرت حسن ؒ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہوگیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے۔ قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا کرم ہے کہ اس نے نہریں چشمے اور دریا چاروں طرف بہا دئیے۔ کوئی تیز ہے کوئی سست، کوئی لمبا ہے کوئی مختصر، کبھی کم پانی ہے کبھی زیادہ، کبھی بالکل سوکھا پڑا ہے۔ پہاڑوں پر، جنگلوں میں، ریت میں، پتھروں میں برابر یہ چشمے بہتے رہتے ہیں اور ریل پیل کردیتے ہیں یہ سب اس کا فضل و کرم، لطف و رحم ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی پروردگار نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت، وہی رب ہے، وہی معبود ہے۔ اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں، تری میں، پہاڑ میں، بستی میں، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آسکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت۔ اور بھی علامتیں اس نے مقرر کردیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کرلیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لئے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں۔ پھر اپنی عظمت وکبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بےبس ہیں، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے ؟ اتنا بھی بیہوش ہوجانا شایان انسانیت نہیں۔ پھر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور کثرت بیان فرماتا ہے کہ تمہاری گنتی میں بھی نہیں آسکتیں، اتنی نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں یہ بھی تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ میری نعمتوں کی گنتی کرسکو، اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرماتا رہتا ہے اگر اپنی تمام تر نعمتوں کا شکر بھی تم سب طلب کرے تو تمہارے بس کا نہیں۔ اگر ان نعمتوں کے بدلے تم سے چاہے تو تمہاری طاقت سے خارج ہے سنو اگر وہ تم سب کو عذاب کرے تو بھی وہ ظالم نہیں لیکن وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، تمہاری تقصیروں سے تجاوز کرلیتا ہے۔ توبہ، رجوع، اطاعت اور طلب رضا مندی کے ساتھ جو گناہ ہوجائیں ان سے چشم پوشی کرلیتا ہے۔ بڑا ہی رحیم ہے، توبہ کے بعد عذاب نہیں کرتا۔
17
View Single
أَفَمَن يَخۡلُقُ كَمَن لَّا يَخۡلُقُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
So will He Who creates ever be like one who does not create? So do you not heed advice?
کیا وہ خالق جو (اتنا کچھ) پیدا فرمائے اس کے مثل ہو سکتا ہے جو (کچھ بھی) پیدا نہ کر سکے، کیا تم لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Signs in the Oceans, Mountains, Rivers, Roads and Stars
Allah tells us how He has subjected the seas, with their waves lapping the shores, and how He blesses His servants by subjecting the seas for them so that they may travel on them, and by putting fish and whales in them, by making their flesh permissible to eat - whether they are caught alive or dead - at all times, including when people are in a state of Ihram. He has created pearls and precious jewels in the oceans, and made it easy for His servants to recover ornaments that they can wear from the ocean floor. He made the sea such that it carries the ships which plow through it. He is the One Who taught mankind to make ships, which is the inheritance of their forefather Nuh. He was the first one to travel by ship, he was taught how to make them, then people took this knowledge from him and passed it down from generation to generation through the centuries, so that they could travel from country to country and from place to place, bringing goods from here to there and from there to here. Thus Allah says:
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(that you may seek from His bounty and that you may perhaps be grateful.) - for His bounty and blessings. Then Allah mentions the earth and how He placed in it mountains standing firm, which make it stable and keep it from shaking in such a manner that the creatures dwelling on it would not be able to live. Hence Allah says,
وَالْجِبَالَ أَرْسَـهَا
(And the mountains He has fixed firmly.) (79: 32).
وَأَنْهَـراً وَسُبُلاً
(and rivers and roads) meaning He has made rivers which flow from one place to another, bringing provision for His servants. The rivers arise in one place, and bring provision to people living in another place. They flow through lands and fields and wildernesses, through mountains and hills, until they reach the land whose people they are meant to benefit. They meander across the land, left and right, north and south, east and west - rivers great and small - flowing sometimes and ceasing sometimes, flowing from their sources to the places where the water gathers, flowing rapidly or moving slowly, as decreed by Allah. There is no god besides Him and no Lord except Him. He also made roads or routes along which people travel from one land or city to another, and He even made gaps in the mountains so that there would be routes between them, as He says:
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجاً سُبُلاً
(And We placed broad highways for them to pass through.) 21:31
وَعَلامَـتٍ
(And landmarks) meaning, signs like great mountains and small hills, and so on, things that land and sea travelers use to find their way if they get lost.
وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ
(and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.) meaning, in the darkness of the night. This was the opinion of Ibn `Abbas.
Worship is Allah's Right
Then Allah tells us of His greatness, and that worship should be directed to Him alone, not to any of the idols which do not create but are rather themselves created. Thus He says
أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لاَّ يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ
(Is then He, Who creates, the same as one who does not create Will you not then reflect)(16:17). Then He shows His servants some of the many blessings He granted for them, and the many kinds of things that He has done for them. He says;
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَآ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(And if you would try to count the favors of Allah, you would never be able to count them. Truly, Allah is Forgiving, Most Merciful.) (16:18) meaning that He pardons and forgives them. If He were to ask you to thank Him for all of His blessings, you would not be able to do so, and if He were to command you to do so, you would be incapable of it. If He punishes you, He is never unjust in His punishment, but He is Forgiving and Most Merciful, He forgives much and rewards for little. Ibn Jarir said: "It means that Allah is Forgiving when you fail to thank Him properly, if you repent and turn to Him in obedience, and strive to do that which pleases Him. He is Merciful to you and does not punish you if you turn to Him and repent."
اللہ کے انعامات اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں۔ اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو۔ مسند بزار میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟ اس نے کہا ڈبو دونگا فرمایا تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبر گیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی۔ اس حدیث کا راوی صرف عبد الرحمن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ عبداللہ بن ابی عمرو سے بھی یہ روایت مرفوعاً مروی ہے۔ اس کے بعد زمین کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس کے ٹھہرانے اور ہلنے جلنے سے بچانے کے لئے اس پر مضبوط اور وزنی پہاڑ جما دیئے کہ اس کے ہلنے کی وجہ سے اس پر رہنے والوں کی زندگی دشوار نہ ہوجائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا 32ۙ) 79۔ النازعات :32) حضرت حسن ؒ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہوگیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے۔ قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا کرم ہے کہ اس نے نہریں چشمے اور دریا چاروں طرف بہا دئیے۔ کوئی تیز ہے کوئی سست، کوئی لمبا ہے کوئی مختصر، کبھی کم پانی ہے کبھی زیادہ، کبھی بالکل سوکھا پڑا ہے۔ پہاڑوں پر، جنگلوں میں، ریت میں، پتھروں میں برابر یہ چشمے بہتے رہتے ہیں اور ریل پیل کردیتے ہیں یہ سب اس کا فضل و کرم، لطف و رحم ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی پروردگار نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت، وہی رب ہے، وہی معبود ہے۔ اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں، تری میں، پہاڑ میں، بستی میں، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آسکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت۔ اور بھی علامتیں اس نے مقرر کردیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کرلیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لئے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں۔ پھر اپنی عظمت وکبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بےبس ہیں، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے ؟ اتنا بھی بیہوش ہوجانا شایان انسانیت نہیں۔ پھر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور کثرت بیان فرماتا ہے کہ تمہاری گنتی میں بھی نہیں آسکتیں، اتنی نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں یہ بھی تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ میری نعمتوں کی گنتی کرسکو، اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرماتا رہتا ہے اگر اپنی تمام تر نعمتوں کا شکر بھی تم سب طلب کرے تو تمہارے بس کا نہیں۔ اگر ان نعمتوں کے بدلے تم سے چاہے تو تمہاری طاقت سے خارج ہے سنو اگر وہ تم سب کو عذاب کرے تو بھی وہ ظالم نہیں لیکن وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، تمہاری تقصیروں سے تجاوز کرلیتا ہے۔ توبہ، رجوع، اطاعت اور طلب رضا مندی کے ساتھ جو گناہ ہوجائیں ان سے چشم پوشی کرلیتا ہے۔ بڑا ہی رحیم ہے، توبہ کے بعد عذاب نہیں کرتا۔
18
View Single
وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
And if you enumerate the favours of Allah, you will never be able to count them; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Signs in the Oceans, Mountains, Rivers, Roads and Stars
Allah tells us how He has subjected the seas, with their waves lapping the shores, and how He blesses His servants by subjecting the seas for them so that they may travel on them, and by putting fish and whales in them, by making their flesh permissible to eat - whether they are caught alive or dead - at all times, including when people are in a state of Ihram. He has created pearls and precious jewels in the oceans, and made it easy for His servants to recover ornaments that they can wear from the ocean floor. He made the sea such that it carries the ships which plow through it. He is the One Who taught mankind to make ships, which is the inheritance of their forefather Nuh. He was the first one to travel by ship, he was taught how to make them, then people took this knowledge from him and passed it down from generation to generation through the centuries, so that they could travel from country to country and from place to place, bringing goods from here to there and from there to here. Thus Allah says:
وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(that you may seek from His bounty and that you may perhaps be grateful.) - for His bounty and blessings. Then Allah mentions the earth and how He placed in it mountains standing firm, which make it stable and keep it from shaking in such a manner that the creatures dwelling on it would not be able to live. Hence Allah says,
وَالْجِبَالَ أَرْسَـهَا
(And the mountains He has fixed firmly.) (79: 32).
وَأَنْهَـراً وَسُبُلاً
(and rivers and roads) meaning He has made rivers which flow from one place to another, bringing provision for His servants. The rivers arise in one place, and bring provision to people living in another place. They flow through lands and fields and wildernesses, through mountains and hills, until they reach the land whose people they are meant to benefit. They meander across the land, left and right, north and south, east and west - rivers great and small - flowing sometimes and ceasing sometimes, flowing from their sources to the places where the water gathers, flowing rapidly or moving slowly, as decreed by Allah. There is no god besides Him and no Lord except Him. He also made roads or routes along which people travel from one land or city to another, and He even made gaps in the mountains so that there would be routes between them, as He says:
وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجاً سُبُلاً
(And We placed broad highways for them to pass through.) 21:31
وَعَلامَـتٍ
(And landmarks) meaning, signs like great mountains and small hills, and so on, things that land and sea travelers use to find their way if they get lost.
وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ
(and by the stars (during the night), they (mankind) guide themselves.) meaning, in the darkness of the night. This was the opinion of Ibn `Abbas.
Worship is Allah's Right
Then Allah tells us of His greatness, and that worship should be directed to Him alone, not to any of the idols which do not create but are rather themselves created. Thus He says
أَفَمَن يَخْلُقُ كَمَن لاَّ يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ
(Is then He, Who creates, the same as one who does not create Will you not then reflect)(16:17). Then He shows His servants some of the many blessings He granted for them, and the many kinds of things that He has done for them. He says;
وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَآ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(And if you would try to count the favors of Allah, you would never be able to count them. Truly, Allah is Forgiving, Most Merciful.) (16:18) meaning that He pardons and forgives them. If He were to ask you to thank Him for all of His blessings, you would not be able to do so, and if He were to command you to do so, you would be incapable of it. If He punishes you, He is never unjust in His punishment, but He is Forgiving and Most Merciful, He forgives much and rewards for little. Ibn Jarir said: "It means that Allah is Forgiving when you fail to thank Him properly, if you repent and turn to Him in obedience, and strive to do that which pleases Him. He is Merciful to you and does not punish you if you turn to Him and repent."
اللہ کے انعامات اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں۔ اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو۔ مسند بزار میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟ اس نے کہا ڈبو دونگا فرمایا تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبر گیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی۔ اس حدیث کا راوی صرف عبد الرحمن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ عبداللہ بن ابی عمرو سے بھی یہ روایت مرفوعاً مروی ہے۔ اس کے بعد زمین کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس کے ٹھہرانے اور ہلنے جلنے سے بچانے کے لئے اس پر مضبوط اور وزنی پہاڑ جما دیئے کہ اس کے ہلنے کی وجہ سے اس پر رہنے والوں کی زندگی دشوار نہ ہوجائے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا 32ۙ) 79۔ النازعات :32) حضرت حسن ؒ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہوگیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے۔ قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا کرم ہے کہ اس نے نہریں چشمے اور دریا چاروں طرف بہا دئیے۔ کوئی تیز ہے کوئی سست، کوئی لمبا ہے کوئی مختصر، کبھی کم پانی ہے کبھی زیادہ، کبھی بالکل سوکھا پڑا ہے۔ پہاڑوں پر، جنگلوں میں، ریت میں، پتھروں میں برابر یہ چشمے بہتے رہتے ہیں اور ریل پیل کردیتے ہیں یہ سب اس کا فضل و کرم، لطف و رحم ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی پروردگار نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت، وہی رب ہے، وہی معبود ہے۔ اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں، تری میں، پہاڑ میں، بستی میں، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آسکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت۔ اور بھی علامتیں اس نے مقرر کردیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کرلیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لئے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں۔ پھر اپنی عظمت وکبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بےبس ہیں، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے ؟ اتنا بھی بیہوش ہوجانا شایان انسانیت نہیں۔ پھر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور کثرت بیان فرماتا ہے کہ تمہاری گنتی میں بھی نہیں آسکتیں، اتنی نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں یہ بھی تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ میری نعمتوں کی گنتی کرسکو، اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرماتا رہتا ہے اگر اپنی تمام تر نعمتوں کا شکر بھی تم سب طلب کرے تو تمہارے بس کا نہیں۔ اگر ان نعمتوں کے بدلے تم سے چاہے تو تمہاری طاقت سے خارج ہے سنو اگر وہ تم سب کو عذاب کرے تو بھی وہ ظالم نہیں لیکن وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، تمہاری تقصیروں سے تجاوز کرلیتا ہے۔ توبہ، رجوع، اطاعت اور طلب رضا مندی کے ساتھ جو گناہ ہوجائیں ان سے چشم پوشی کرلیتا ہے۔ بڑا ہی رحیم ہے، توبہ کے بعد عذاب نہیں کرتا۔
19
View Single
وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعۡلِنُونَ
And Allah knows what you conceal and what you disclose.
اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The gods of the Idolators are Created, they do not create
Then Allah tells us that the idols which people call on instead of Him cannot create anything, they are themselves created, as Al-Khalil (Ibrahim) said:
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ - وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
("Do you worship that which you (yourselves) carve While Allah has created you and what you make!") (37:-96).
أَمْوتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍ
((They are) dead, not alive) means, they are inanimate and lifeless, they do not hear, see, or think.
وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
(and they know not when they will be resurrected.) meaning, they do not know when the Hour will come, so how can anyone hope for any benefit or reward from these idols They should hope for it from the One Who knows all things and is the Creator of all things.
اللہ خالق کل چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت (قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95ۙ) 37۔ الصافات :95) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بےروح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو ؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔
20
View Single
وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ
And those whom they worship other than Allah, do not create anything but are themselves created.
اور یہ (مشرک) لوگ جن (بتوں) کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The gods of the Idolators are Created, they do not create
Then Allah tells us that the idols which people call on instead of Him cannot create anything, they are themselves created, as Al-Khalil (Ibrahim) said:
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ - وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
("Do you worship that which you (yourselves) carve While Allah has created you and what you make!") (37:-96).
أَمْوتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍ
((They are) dead, not alive) means, they are inanimate and lifeless, they do not hear, see, or think.
وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
(and they know not when they will be resurrected.) meaning, they do not know when the Hour will come, so how can anyone hope for any benefit or reward from these idols They should hope for it from the One Who knows all things and is the Creator of all things.
اللہ خالق کل چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت (قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95ۙ) 37۔ الصافات :95) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بےروح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو ؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔
21
View Single
أَمۡوَٰتٌ غَيۡرُ أَحۡيَآءٖۖ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ
They are dead, not alive; and they do not know when will the people be raised.
(وہ) مُردے ہیں زندہ نہیں، اور (انہیں اتنا بھی) شعور نہیں کہ (لوگ) کب اٹھائے جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The gods of the Idolators are Created, they do not create
Then Allah tells us that the idols which people call on instead of Him cannot create anything, they are themselves created, as Al-Khalil (Ibrahim) said:
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ - وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
("Do you worship that which you (yourselves) carve While Allah has created you and what you make!") (37:-96).
أَمْوتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍ
((They are) dead, not alive) means, they are inanimate and lifeless, they do not hear, see, or think.
وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ
(and they know not when they will be resurrected.) meaning, they do not know when the Hour will come, so how can anyone hope for any benefit or reward from these idols They should hope for it from the One Who knows all things and is the Creator of all things.
اللہ خالق کل چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت (قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95ۙ) 37۔ الصافات :95) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بےروح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی ؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو ؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔
22
View Single
إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۚ فَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٞ وَهُم مُّسۡتَكۡبِرُونَ
Your God is One God; so those who do not believe in the Hereafter – their hearts deny and they are proud.
تمہارا معبود، معبودِ یکتا ہے، پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ سرکش و متکبّر ہیں
Tafsir Ibn Kathir
None is to be worshipped except Allah
Allah tells us that there is none to be worshipped besides Him, the One, the Unique, the Lone, the Self-Sufficient. He tells us that the hearts of the disbelievers deny that and are astonished by that:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
("Has he made the gods (all) into One God! Verily, this is a curious thing!") (38:5).
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
(And when Allah alone is mentioned, the hearts of those who do not believe in the Hereafter are filled with disgust, and when those besides Him are mentioned, behold, they rejoice!) (39:45).
وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ
(and they are proud) meaning they are too proud to worship Allah, and their hearts reject the idea of singling Him out, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily! Those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) 40:60 So here, Allah says;
لاَ جَرَمَ
(Certainly), meaning truly,
أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
(Allah knows what they conceal and what they reveal.) meaning He will requite them for that in full.
إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ
(Truly, He does not like the proud.)
اللہ ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے۔ کافروں کے دل بھلی بات سے انکار کرتے ہیں وہ اس حق کلمے کو سن کر سخت حیرت زدہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ واحد کا ذکر سن کر ان کے دل مرجھا جاتے ہیں۔ ہاں اوروں کا ذکر ہو تو کھل جاتے ہیں یہ اللہ کی عبادت سے مغرور ہیں۔ نہ ان کے دل میں ایمان نہ عبادت کے عادی۔ ایسے لوگ ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ہر عمل پر جزا اور سزا دے گا وہ مغرور لوگوں سے بیزار ہے۔
23
View Single
لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡتَكۡبِرِينَ
Certainly Allah knows what they hide and what they disclose; indeed He does not like the proud.
یہ بات حق و ثابت ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں، بیشک وہ سرکشوں متکبّروں کو پسند نہیں کرتا
Tafsir Ibn Kathir
None is to be worshipped except Allah
Allah tells us that there is none to be worshipped besides Him, the One, the Unique, the Lone, the Self-Sufficient. He tells us that the hearts of the disbelievers deny that and are astonished by that:
أَجَعَلَ الاٌّلِهَةَ إِلَـهاً وَحِداً إِنَّ هَـذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ
("Has he made the gods (all) into One God! Verily, this is a curious thing!") (38:5).
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
(And when Allah alone is mentioned, the hearts of those who do not believe in the Hereafter are filled with disgust, and when those besides Him are mentioned, behold, they rejoice!) (39:45).
وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ
(and they are proud) meaning they are too proud to worship Allah, and their hearts reject the idea of singling Him out, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِى سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَخِرِينَ
(Verily! Those who scorn My worship they will surely enter Hell in humiliation!) 40:60 So here, Allah says;
لاَ جَرَمَ
(Certainly), meaning truly,
أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ
(Allah knows what they conceal and what they reveal.) meaning He will requite them for that in full.
إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ
(Truly, He does not like the proud.)
اللہ ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، وہ واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے۔ کافروں کے دل بھلی بات سے انکار کرتے ہیں وہ اس حق کلمے کو سن کر سخت حیرت زدہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ واحد کا ذکر سن کر ان کے دل مرجھا جاتے ہیں۔ ہاں اوروں کا ذکر ہو تو کھل جاتے ہیں یہ اللہ کی عبادت سے مغرور ہیں۔ نہ ان کے دل میں ایمان نہ عبادت کے عادی۔ ایسے لوگ ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ہر عمل پر جزا اور سزا دے گا وہ مغرور لوگوں سے بیزار ہے۔
24
View Single
وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡ قَالُوٓاْ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
And when it is said to them, “What has your Lord sent down?”, they say, “The tales of former people.”
اور جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ (تو) وہ کہتے ہیں: اگلی قوموں کے جھوٹے قصے (اتارے ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
The Destruction of the Disbelievers and Intensification of their Punishment for rejecting the Revelation
Allah informs us that when it is said to those liars,
مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ
("What is it that your Lord has revealed" They say,) not wanting to answer,
أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
("Tales of the men of old!") meaning nothing is revealed to him, what he is reciting to us is just tales of the men of old, taken from the previous Books. As Allah says,
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) i.e., they tell lies against the Messenger and say things contradicting one another, but all of it is false, as Allah says,
انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُواْ لَكَ الاٌّمْثَالَ فَضَلُّواْ فَلاَ يَسْتَطِيعْونَ سَبِيلاً
(Look at the parables they make of you, so they have gone astray, and they are not able to find the right way.)(17:48) Once they have gone beyond the bounds of the truth, whatever they say will be in error. They used to say that he (the Prophet ) was a sorcerer, a poet, a soothsayer, or a madman, then they settled on an idea proposed by their leader, an individual known as Al-Walid bin Al-Mughirah Al-Makhzumi, when:
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ
(He thought, and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way; then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but the magic of old.") (74:18-24) meaning something that had been transmitted and passed down. So they dispersed having agreed on this opinion, may Allah punish them.
لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(They will bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge.) meaning, `We decreed that they would say that, so they will carry the burden of their own sins and some of the burden of those who followed them and agreed with them,' i.e., they will be held guilty not only for going astray themselves, but also for tempting others and having them follow them. As it says in a Hadith:
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites people to guidance, he will receive a reward like that of those who follow him, without diminishing their reward in the least. And whoever invites people to misguidance, he will bear a burden of sin like that of those who follow him, without diminishing their burden in the least.) Allah says;
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْـَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(They shall bear their own loads, and other loads besides their own; and they shall be questioned about their false allegations on the Day of Resurrection.) (29:13) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas that it is like the Ayah:
لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge.) (16:25) Allah says,
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(They shall bear their own loads, and other loads besides their own) (29:13). Mujahid said: "They will bear the burden of their own sins, and they will bear the sins of those who obeyed them, but that will not lessen the punishment of those who obeyed them at all."
قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے کیا رکھا ہے ؟ وہی لکھ لئے ہیں اور صبح شام دوہرا رہے ہیں پس رسول ﷺ پر افترا باندھتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی اس کے خلاف اور کچھ کہنے لگتے ہیں۔ دراصل کسی بات پر جم ہی نہیں سکتے اور یہ بہت بری دلیل ہے ان کے تمام اقوال کے باطل ہونے کی۔ ہر ایک جو حق سے ہٹ جائے وہ یونہی مارا مارا بہکا بہکا پھرتا ہے کبھی حضور رسول ﷺ کو جادوگر کہتے، کبھی شاعر، کبھی کا ھن، کبھی مجنون۔ پھر ان کے بڈھے گرو ولید بن مغیرہ مخزومی نے انہیں بڑے غور و خوض کے بعد کہا کہ سب مل کر اس کلام کو موثر جادو کہا کرو۔ ان کے اس قول کا نتیجہ بد ہوگا اور ہم نے انہیں اس راہ پر اس لئے لگا دیا ہے کہ یہ اپنے پورے گناہوں کے ساتھ ان کے بھی کچھ گناہ اپنے اوپر لادیں جو ان کے مقلد ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے ہدایت کی دعوت دینے والے کو اپنے اجر کے ساتھ اپنے متبع لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے لیکن ان کے اجر کم نہیں ہوتے اور برائی کی طرف بلانے والوں کو ان کی ماننے والوں کے گناہ بھی ملتے ہیں لیکن ماننے والوں کے گناہ کم ہو کر نہیں۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :13) یہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ہی ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے افترا کا سوال ان سے قیامت کے دن ہونا ضروری ہے۔ پس ماننے والوں کے بوجھ گو ان کی گردنوں پر ہیں لیکن وہ بھی ہلکے نہیں ہوں گے۔
25
View Single
لِيَحۡمِلُوٓاْ أَوۡزَارَهُمۡ كَامِلَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَمِنۡ أَوۡزَارِ ٱلَّذِينَ يُضِلُّونَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٍۗ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ
In order to bear their full burdens on the Day of Resurrection, and some burdens of those whom they mislead with their ignorance; pay heed! What an evil burden they bear!
(یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہے ہیں) تاکہ روزِ قیامت وہ اپنے (اعمالِ بد کے) پورے پورے بوجھ اٹھائیں اور کچھ بوجھ اُن لوگوں کے بھی (اٹھائیں) جنہیں (اپنی) جہالت کے ذریعہ گمراہ کئے جا رہے ہیں، جان لو! بہت بُرا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Destruction of the Disbelievers and Intensification of their Punishment for rejecting the Revelation
Allah informs us that when it is said to those liars,
مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُواْ
("What is it that your Lord has revealed" They say,) not wanting to answer,
أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
("Tales of the men of old!") meaning nothing is revealed to him, what he is reciting to us is just tales of the men of old, taken from the previous Books. As Allah says,
وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
(And they say: "Tales of the ancients, which he has written down, and they are dictated to him morning and afternoon.") (25:5) i.e., they tell lies against the Messenger and say things contradicting one another, but all of it is false, as Allah says,
انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُواْ لَكَ الاٌّمْثَالَ فَضَلُّواْ فَلاَ يَسْتَطِيعْونَ سَبِيلاً
(Look at the parables they make of you, so they have gone astray, and they are not able to find the right way.)(17:48) Once they have gone beyond the bounds of the truth, whatever they say will be in error. They used to say that he (the Prophet ) was a sorcerer, a poet, a soothsayer, or a madman, then they settled on an idea proposed by their leader, an individual known as Al-Walid bin Al-Mughirah Al-Makhzumi, when:
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ
(He thought, and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way; then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but the magic of old.") (74:18-24) meaning something that had been transmitted and passed down. So they dispersed having agreed on this opinion, may Allah punish them.
لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(They will bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge.) meaning, `We decreed that they would say that, so they will carry the burden of their own sins and some of the burden of those who followed them and agreed with them,' i.e., they will be held guilty not only for going astray themselves, but also for tempting others and having them follow them. As it says in a Hadith:
«مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا»
(Whoever invites people to guidance, he will receive a reward like that of those who follow him, without diminishing their reward in the least. And whoever invites people to misguidance, he will bear a burden of sin like that of those who follow him, without diminishing their burden in the least.) Allah says;
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْـَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(They shall bear their own loads, and other loads besides their own; and they shall be questioned about their false allegations on the Day of Resurrection.) (29:13) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas that it is like the Ayah:
لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
(That they may bear their own burdens in full on the Day of Resurrection, and also of the burdens of those whom they misled without knowledge.) (16:25) Allah says,
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ
(They shall bear their own loads, and other loads besides their own) (29:13). Mujahid said: "They will bear the burden of their own sins, and they will bear the sins of those who obeyed them, but that will not lessen the punishment of those who obeyed them at all."
قرآن حکیم کے ارشادات کو دیرینہ کہنا کفر کی علامت ہے ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے کیا رکھا ہے ؟ وہی لکھ لئے ہیں اور صبح شام دوہرا رہے ہیں پس رسول ﷺ پر افترا باندھتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی اس کے خلاف اور کچھ کہنے لگتے ہیں۔ دراصل کسی بات پر جم ہی نہیں سکتے اور یہ بہت بری دلیل ہے ان کے تمام اقوال کے باطل ہونے کی۔ ہر ایک جو حق سے ہٹ جائے وہ یونہی مارا مارا بہکا بہکا پھرتا ہے کبھی حضور رسول ﷺ کو جادوگر کہتے، کبھی شاعر، کبھی کا ھن، کبھی مجنون۔ پھر ان کے بڈھے گرو ولید بن مغیرہ مخزومی نے انہیں بڑے غور و خوض کے بعد کہا کہ سب مل کر اس کلام کو موثر جادو کہا کرو۔ ان کے اس قول کا نتیجہ بد ہوگا اور ہم نے انہیں اس راہ پر اس لئے لگا دیا ہے کہ یہ اپنے پورے گناہوں کے ساتھ ان کے بھی کچھ گناہ اپنے اوپر لادیں جو ان کے مقلد ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے ہدایت کی دعوت دینے والے کو اپنے اجر کے ساتھ اپنے متبع لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے لیکن ان کے اجر کم نہیں ہوتے اور برائی کی طرف بلانے والوں کو ان کی ماننے والوں کے گناہ بھی ملتے ہیں لیکن ماننے والوں کے گناہ کم ہو کر نہیں۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) 29۔ العنکبوت :13) یہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ہی ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے افترا کا سوال ان سے قیامت کے دن ہونا ضروری ہے۔ پس ماننے والوں کے بوجھ گو ان کی گردنوں پر ہیں لیکن وہ بھی ہلکے نہیں ہوں گے۔
26
View Single
قَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَأَتَى ٱللَّهُ بُنۡيَٰنَهُم مِّنَ ٱلۡقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّقۡفُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ
Indeed those before them had plotted, so Allah seized the foundations of their building, therefore the roof fell down upon them from a height, and the punishment came upon them from a place they did not know.
بیشک اُن لوگوں نے (بھی) فریب کیا جو اِن سے پہلے تھے تو اللہ نے اُن (کے مکر و فریب) کی عمارت کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا تو ان کے اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر اس طرف سے عذاب آپہنچا جس کا اُنہیں کچھ خیال بھی نہ تھا
Tafsir Ibn Kathir
Discussion about what the previous Peoples did, and what was done to Them
قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ
(Those before them indeed plotted,) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "This refers to Namrud (Nimrod), who built the tower." Others said that it refers to Bukhtanassar (Nebuchadnezzar). The correct view is that this is said by way of example, to refute what was done by those who disbelieved in Allah and associated others in worship with Him. As Nuh said,
وَمَكَرُواْ مَكْراً كُبَّاراً
("And they have hatched a mighty scheme.") (71:22) meaning, they used all sorts of ploys to misguide their people, and tempted them to join them in their Shirk via all possible means. On the Day of Resurrection their followers will say to them:
بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَاداً
("Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals to Him!") (34:33)
فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَـنَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ
(but Allah struck at the foundation of their building.) meaning, He uprooted it and brought their efforts to naught. This is like the Ayah:
كُلَّمَآ أَوْقَدُواْ نَاراً لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ
(Every time they kindled the fire of war, Allah extinguished it.) 5:64 and
فَأَتَـهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُواْ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُواْ يأُوْلِى الاٌّبْصَـرِ
(But Allah's (torment) reached them from a place where they were not expecting it, and He cast terror into their hearts so that they destroyed their own dwellings with their own hands and the hands of the believers. So then take admonition, O you with eyes (to see).) 59:2 Allah says here:
فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَـنَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَـهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يُخْزِيهِمْ
(but Allah struck at the foundation of their building, and then the roof fell down upon them, from above them, and the torment overtook them from directions they did not perceive. Then, on the Day of Resurrection, He will disgrace them) 16:26-27 meaning, He will expose their scandalous deeds and what they used to hide in their hearts, and He will bring it out in the open. As He says,
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ
(The Day when all the secrets will be (exposed and) examined. ) (86:9) They will be displayed and made known, as found in the Two Sahihs, where Ibn `Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ ابْنِ فُلَان»
(On the Day of Resurrection a banner will be set up by his backside for every deceitful person, (whose size is) in accordance with the amount of his deceit. It be said, "This is the one who deceived so-and-so, the son of so-and-so.") Thus, what they used to plot in secret will be made public. Allah will humiliate them before all of His creation, and the Lord will say to them, in rebuke and reprimand;
أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تُشَـقُّونَ فِيهِمْ
(Where are My (so-called) partners, those over which you caused so much discord) meaning, you fought and made enemies for their sake, so where are they now to help and save you
هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Can they help you or (even) help themselves) 26:93
فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلاَ نَاصِرٍ
(Then will (man) have no power, nor any helper.) 86:10 When evidence and proof is established against them, and the Word (of Allah) is justified against them, and they will be unable to give any excuse, realizing that escape is impossible, then
قَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ
(Those who have been given the knowledge will say) who are the leaders in this world and the Hereafter and who know about the truth in this world and the Hereafter - will say,
إِنَّ الْخِزْىَ الْيَوْمَ وَالْسُّوءَ عَلَى الْكَـفِرِينَ
(Indeed it is a Day of disgrace and misery for the disbelievers.) meaning, today those who disbelieved in Allah and worshipped others who have no power either to benefit or to harm them are now surrounded by disgrace and punishment.
نمرود کا تذکرہ بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں، خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے سرکا دینے والا ہو۔ بعض کہتے ہیں یہ تو کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے ساتھ جو غیروں کی عبادت کی ان کے عمل کی بربادی کی مثال ہے جیسے حضرت نوح ؑ نے فرمایا تھا آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ) 27۔ النمل :50) ان کافروں نے بڑا ہی مکر کیا، ہر حیلے سے لوگوں کو گمراہ کیا، ہر وسیلے سے انہیں شرک پر آمادہ کیا۔ چناچہ ان کے چیلے قیامت کے دن ان سے کہیں گے کہ تمہارا رات دن کا مکر کہ ہم سے کفر و شرک کے لیے کہنا، الخ۔ ان کی عما رت کی جڑ اور بنیاد سے عذاب الٰہی آیا یعنی بالکل ہی کھو دیا اصل سے کاٹ دیا جیسے فرمان ہے جب لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔ اور فرمان ہے ان کے پاس اللہ ایسی جگہ سے آیا جہاں کا انہیں خیال بھی نہ تھا، ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ یہ اپنے ہاتھوں اپنے مکانات تباہ کرنے لگے اور دوسری جانب سے مومنوں کے ہاتھوں مٹے، عقل مندو ! عبرت حاصل کرو۔ یہاں فرمایا کہ اللہ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیاد سے آگیا اور ان پر اوپر سے چھت آ پڑی اور نا دانستہ جگہ سے ان پر عذاب اتر آیا۔ قیامت کے دن کی رسوائی اور فضیحت ابھی باقی ہے، اس وقت چھپا ہوا سب کھل جائے گا، اندر کا سب باہر آجائے گا۔ سارا معاملہ طشت ازبام ہوجائے گا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر غدار کے لئے اس کے پاس ہی جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جو اس کے غدر کے مطابق ہوگا اور مشہور کردیا جائے گا کہ فلاں کا یہ غدر ہے جو فلاں کا لڑکا تھا۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی میدان محشر میں سب کے سامنے رسوا کیا جائے گا۔ ان سے ان کا پروردگار ڈانٹ ڈپٹ کر دریافت فرمائے گا کہ جن کی حمایت میں تم میرے بندوں سے الجھتے رہتے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ آج بےیارو مددگار کیوں ہو ؟ یہ چپ ہوجائیں گے، کیا جواب دیں ؟ لا چار ہوجائیں گے، کون سی جھوٹی دلیل پیش کریں ؟ اس وقت علماء کرام جو دنیا اور آخرت میں اللہ کے اور مخلوق کے پاس عزت رکھتے ہیں جواب دیں گے کہ رسوائی اور عذاب آج کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کے معبودان باطل ان سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
27
View Single
ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يُخۡزِيهِمۡ وَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تُشَـٰٓقُّونَ فِيهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ إِنَّ ٱلۡخِزۡيَ ٱلۡيَوۡمَ وَٱلسُّوٓءَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ
Then on the Day of Resurrection He will disgrace them and proclaim, “Where are My partners, concerning whom you disputed”; the people of knowledge will say, “All disgrace and evil is upon the disbelievers this day.”
پھر وہ اُنہیں قیامت کے دن رسوا کرے گا اور ارشاد فرمائے گا: میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے حق میں تم (مومنوں سے) جھگڑا کرتے تھے؟ وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہیں گے: بیشک آج کافروں پر (ہر قسم کی) رسوائی اور بربادی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Discussion about what the previous Peoples did, and what was done to Them
قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ
(Those before them indeed plotted,) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "This refers to Namrud (Nimrod), who built the tower." Others said that it refers to Bukhtanassar (Nebuchadnezzar). The correct view is that this is said by way of example, to refute what was done by those who disbelieved in Allah and associated others in worship with Him. As Nuh said,
وَمَكَرُواْ مَكْراً كُبَّاراً
("And they have hatched a mighty scheme.") (71:22) meaning, they used all sorts of ploys to misguide their people, and tempted them to join them in their Shirk via all possible means. On the Day of Resurrection their followers will say to them:
بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَاداً
("Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals to Him!") (34:33)
فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَـنَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ
(but Allah struck at the foundation of their building.) meaning, He uprooted it and brought their efforts to naught. This is like the Ayah:
كُلَّمَآ أَوْقَدُواْ نَاراً لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ
(Every time they kindled the fire of war, Allah extinguished it.) 5:64 and
فَأَتَـهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُواْ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُواْ يأُوْلِى الاٌّبْصَـرِ
(But Allah's (torment) reached them from a place where they were not expecting it, and He cast terror into their hearts so that they destroyed their own dwellings with their own hands and the hands of the believers. So then take admonition, O you with eyes (to see).) 59:2 Allah says here:
فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَـنَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَـهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يُخْزِيهِمْ
(but Allah struck at the foundation of their building, and then the roof fell down upon them, from above them, and the torment overtook them from directions they did not perceive. Then, on the Day of Resurrection, He will disgrace them) 16:26-27 meaning, He will expose their scandalous deeds and what they used to hide in their hearts, and He will bring it out in the open. As He says,
يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ
(The Day when all the secrets will be (exposed and) examined. ) (86:9) They will be displayed and made known, as found in the Two Sahihs, where Ibn `Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ ابْنِ فُلَان»
(On the Day of Resurrection a banner will be set up by his backside for every deceitful person, (whose size is) in accordance with the amount of his deceit. It be said, "This is the one who deceived so-and-so, the son of so-and-so.") Thus, what they used to plot in secret will be made public. Allah will humiliate them before all of His creation, and the Lord will say to them, in rebuke and reprimand;
أَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّذِينَ كُنتُمْ تُشَـقُّونَ فِيهِمْ
(Where are My (so-called) partners, those over which you caused so much discord) meaning, you fought and made enemies for their sake, so where are they now to help and save you
هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ
(Can they help you or (even) help themselves) 26:93
فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلاَ نَاصِرٍ
(Then will (man) have no power, nor any helper.) 86:10 When evidence and proof is established against them, and the Word (of Allah) is justified against them, and they will be unable to give any excuse, realizing that escape is impossible, then
قَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ
(Those who have been given the knowledge will say) who are the leaders in this world and the Hereafter and who know about the truth in this world and the Hereafter - will say,
إِنَّ الْخِزْىَ الْيَوْمَ وَالْسُّوءَ عَلَى الْكَـفِرِينَ
(Indeed it is a Day of disgrace and misery for the disbelievers.) meaning, today those who disbelieved in Allah and worshipped others who have no power either to benefit or to harm them are now surrounded by disgrace and punishment.
نمرود کا تذکرہ بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں، خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے سرکا دینے والا ہو۔ بعض کہتے ہیں یہ تو کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے ساتھ جو غیروں کی عبادت کی ان کے عمل کی بربادی کی مثال ہے جیسے حضرت نوح ؑ نے فرمایا تھا آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ) 27۔ النمل :50) ان کافروں نے بڑا ہی مکر کیا، ہر حیلے سے لوگوں کو گمراہ کیا، ہر وسیلے سے انہیں شرک پر آمادہ کیا۔ چناچہ ان کے چیلے قیامت کے دن ان سے کہیں گے کہ تمہارا رات دن کا مکر کہ ہم سے کفر و شرک کے لیے کہنا، الخ۔ ان کی عما رت کی جڑ اور بنیاد سے عذاب الٰہی آیا یعنی بالکل ہی کھو دیا اصل سے کاٹ دیا جیسے فرمان ہے جب لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔ اور فرمان ہے ان کے پاس اللہ ایسی جگہ سے آیا جہاں کا انہیں خیال بھی نہ تھا، ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ یہ اپنے ہاتھوں اپنے مکانات تباہ کرنے لگے اور دوسری جانب سے مومنوں کے ہاتھوں مٹے، عقل مندو ! عبرت حاصل کرو۔ یہاں فرمایا کہ اللہ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیاد سے آگیا اور ان پر اوپر سے چھت آ پڑی اور نا دانستہ جگہ سے ان پر عذاب اتر آیا۔ قیامت کے دن کی رسوائی اور فضیحت ابھی باقی ہے، اس وقت چھپا ہوا سب کھل جائے گا، اندر کا سب باہر آجائے گا۔ سارا معاملہ طشت ازبام ہوجائے گا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر غدار کے لئے اس کے پاس ہی جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جو اس کے غدر کے مطابق ہوگا اور مشہور کردیا جائے گا کہ فلاں کا یہ غدر ہے جو فلاں کا لڑکا تھا۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی میدان محشر میں سب کے سامنے رسوا کیا جائے گا۔ ان سے ان کا پروردگار ڈانٹ ڈپٹ کر دریافت فرمائے گا کہ جن کی حمایت میں تم میرے بندوں سے الجھتے رہتے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ آج بےیارو مددگار کیوں ہو ؟ یہ چپ ہوجائیں گے، کیا جواب دیں ؟ لا چار ہوجائیں گے، کون سی جھوٹی دلیل پیش کریں ؟ اس وقت علماء کرام جو دنیا اور آخرت میں اللہ کے اور مخلوق کے پاس عزت رکھتے ہیں جواب دیں گے کہ رسوائی اور عذاب آج کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کے معبودان باطل ان سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
28
View Single
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡۖ فَأَلۡقَوُاْ ٱلسَّلَمَ مَا كُنَّا نَعۡمَلُ مِن سُوٓءِۭۚ بَلَىٰٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
Those whose souls the angels remove whilst they were wronging themselves; so now they will plead “We never used to do any wrong”; "Yes you did, why not? Indeed Allah well knows what you used to do."
جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر (بدستور) ظلم کئے جا رہے ہوں، سو وہ (روزِ قیامت) اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کریں گے (اور کہیں گے:) ہم (دنیا میں) کوئی برائی نہیں کیا کرتے تھے، کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Disbeliever during and after Death
Allah informs us of the state of the idolators who are doing wrong to themselves when death approaches and the angels come to seize their evil souls.
فَأَلْقَوُاْ السَّلَمَ
(Then, they will (falsely) submit) meaning, they will make it appear as if they used to listen and obey by saying,
مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ
(We did not do any evil.) Similarly, on the Day of Resurrection, they will say,
وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(By Allah, our Lord, we were not idolators.) 6:23
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ
(On the Day when Allah will resurrect them all together; then they will swear to Him as they swear to you.) 58:18 Allah says, rejecting what they say,
الَّذِينَ تَتَوَفَّـهُمُ الْمَلَـئِكَةُ ظَالِمِى أَنفُسِهِمْ فَأَلْقَوُاْ السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ بَلَى إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ - فَادْخُلُواْ أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
("Yes! Truly, Allah is Most Knowing of what you did. So enter the gates of Hell, to abide therein, and indeed, what an evil abode there is for the arrogant.") (16:28-29), meaning, a miserable position in the abode of humiliation for those who were too arrogant to pay atten- tion to the signs of Allah and follow His Messengers. They will enter Hell from the day they die with their souls, and their bodies will feel the heat and hot winds of their graves. When the Day of Resurrec- tion comes, their souls will be reunited with their bodies, to abide forever in the fire of Hell, and
لاَ يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُواْ وَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا
(It will not be complete enough to kill them nor shall its torment be lightened for them.) (35:36) As Allah says,
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(The Fire, they are exposed to it morning and afternoon. And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir'awn's people to enter the severest torment!") (40:46).
مشرکین کی جان کنی کا عالم مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لئے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بےگناہی بیان کرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے۔ جس طرح دنیا میں اپنی بےگناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کہ کرچکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آجائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو۔ مقام برا، مکان برا، ذلت اور سوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہوجائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ) 40۔ غافر :46) یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ۔
29
View Single
فَٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ
“So now enter the gates of hell, remaining in it for ever”; so what an evil destination for the arrogant!
پس تم دوزخ کے دروازوں سے داخل ہو جاؤ، تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو تکبّر کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Condition of the Disbeliever during and after Death
Allah informs us of the state of the idolators who are doing wrong to themselves when death approaches and the angels come to seize their evil souls.
فَأَلْقَوُاْ السَّلَمَ
(Then, they will (falsely) submit) meaning, they will make it appear as if they used to listen and obey by saying,
مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ
(We did not do any evil.) Similarly, on the Day of Resurrection, they will say,
وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
(By Allah, our Lord, we were not idolators.) 6:23
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ
(On the Day when Allah will resurrect them all together; then they will swear to Him as they swear to you.) 58:18 Allah says, rejecting what they say,
الَّذِينَ تَتَوَفَّـهُمُ الْمَلَـئِكَةُ ظَالِمِى أَنفُسِهِمْ فَأَلْقَوُاْ السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ بَلَى إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ - فَادْخُلُواْ أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَـلِدِينَ فِيهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ
("Yes! Truly, Allah is Most Knowing of what you did. So enter the gates of Hell, to abide therein, and indeed, what an evil abode there is for the arrogant.") (16:28-29), meaning, a miserable position in the abode of humiliation for those who were too arrogant to pay atten- tion to the signs of Allah and follow His Messengers. They will enter Hell from the day they die with their souls, and their bodies will feel the heat and hot winds of their graves. When the Day of Resurrec- tion comes, their souls will be reunited with their bodies, to abide forever in the fire of Hell, and
لاَ يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُواْ وَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا
(It will not be complete enough to kill them nor shall its torment be lightened for them.) (35:36) As Allah says,
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ
(The Fire, they are exposed to it morning and afternoon. And on the Day when the Hour will be established (it will be said to the angels): "Cause Fir'awn's people to enter the severest torment!") (40:46).
مشرکین کی جان کنی کا عالم مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لئے آتے ہیں، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بےگناہی بیان کرتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے۔ جس طرح دنیا میں اپنی بےگناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو، بد اعمالیاں جی کھول کہ کرچکے ہو، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آجائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے۔ اب اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو۔ مقام برا، مکان برا، ذلت اور سوائی والا، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہوجائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی۔ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ) 40۔ غافر :46) یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ۔
30
View Single
۞وَقِيلَ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ مَاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمۡۚ قَالُواْ خَيۡرٗاۗ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۚ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞۚ وَلَنِعۡمَ دَارُ ٱلۡمُتَّقِينَ
And it was said to the pious, “What has your Lord sent down?” They said, “Goodness”; for those who did good in this world is goodness, and the final home is the best; and indeed what an excellent final home for the pious.
اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ وہ کہتے ہیں: (دنیا و آخرت کی) بھلائی (اتاری ہے)، ان لوگوں کے لئے جو نیکی کرتے رہے اس دنیا میں (بھی) بھلائی ہے، اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی بہتر ہے، اور پرہیزگاروں کا گھر کیا ہی خوب ہے
Tafsir Ibn Kathir
What the Pious say about the Revelation, their Reward and their Condition during and after Death
Here we are told about the blessed, as opposed to the doomed, who, when they are asked,
مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ
(What is it that your Lord has revealed) they will reluctantly answer, "He did not reveal anything, these are just the fables of old." But the blessed, on the other hand, will say, "That which is good," meaning - He revealed something good, meaning mercy and blessings for those who followed it and believed in it. Then we are told about Allah's promise to His servants which He revealed to His Messengers. He says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِى هذِهِ الْدُّنْيَا حَسَنَةٌ
(For those who do good in this world, there is good) This is like the Ayah,
مَنْ عَمِلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Whoever works righteousness - whether male or female - while being a true believer verily, to him We will give a good life, and We shall certainly reward them in proportion to the best of what they used to do.) (16:97), which means that whoever does good in this world, Allah will reward him for his good deeds in this world and in the next. Then we are told that the home of the Hereafter will be better, i.e., better than the life of this world, and that the reward in the Hereafter will be more complete than the reward in this life, as Allah says,
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ
(But those who were given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better) 28:80 and,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and what is with Allah for the righteous is better.) 3:198 and;
وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(Although the Hereafter is better and enduring) (87:17). Allah said to His Messenger :
وَلَلاٌّخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الاٍّولَى
(And indeed the Hereafter is better for you than the present) (93:4). Then Allah describes the abode of the Hereafter, saying,
وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ
(And excellent indeed will be the home (i.e. Paradise) of those who have Taqwa.)
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn (Eden) Paradise (Gardens of Eternity)) refers to the home of the Muttaqun, i.e., in the Hereafter they will have Gardens of Eternity in which they will dwell forever.
تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهَـرُ
(under which rivers flow) meaning, between its trees and palaces.
لَّهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ
(in it they will have all that they wish) this is like the Ayah:
وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الاٌّنْفُسُ وَتَلَذُّ الاٌّعْيُنُ وَأَنتُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(in it (there will be) all that souls could desire, and all that eyes could delight in, and in it you will live forever.) 43:71
كَذَلِكَ يَجْزِى اللَّهُ الْمُتَّقِينَ
(Thus Allah rewards those who have Taqwa.) meaning, this is how Allah rewards everyone who believes in Him, fears Him, and does good deeds. Then Allah tells us about their condition when death approaches them in a good state, i.e., free from Shirk, impurity and all evil. The angels greet them and give them the good news of Paradise, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةُ أَلاَّ تَخَافُواْ وَلاَ تَحْزَنُواْ وَأَبْشِرُواْ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ
(Verily, those who say: "Our Lord is Allah (alone)," and then behave righteously, on them the angels will descend (at the time of their death) (saying): "Fear not, nor grieve! But receive the good news of Paradise as you have been promised! We have been your friends in the life of this world and are (so) in the Hereafter. In it you shall have (all) that your souls desire, and in it you shall have (all) that you ask for. An entertainment from (Allah), the Oft-Forgiving, Most Merciful.")(41:30:32) We have already referred to the Hadiths that have been reported on the taking of the soul of the believer and the soul of the disbeliever, when we discussed the Ayah,
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّـلِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَآءُ
(Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world (i.e. they will keep on worshipping Allah Alone and none else), and in the Hereafter. And Allah will cause the wrongdoers to stray, and Allah does as He wills.) (14:27)
متقیوں کے لیے بہترین جزا بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہوجائے۔ پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کرچکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا۔ یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ ثواب الٰہی بہتر ہے، الخ قرآن فرماتا ہے آیت (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ) 3۔ آل عمران :198) اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لئے بہت اعلیٰ ہیں۔ پھر فرماتا ہے دار آخرت متقیوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے۔ جنات عدن بدل ہے دارا لمتقین کا یعنی ان کے لئے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہوگی اور وہ بھی ہمیشگی والی۔ حدیث میں ہے اہل جنت بیٹھے ہوں گے، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہوگا۔ پرہیزگار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایمان دار ہوں، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ) 41۔ فصلت :30) جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو۔ اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ) 14۔ ابراہیم :27) کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔
31
View Single
جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ يَدۡخُلُونَهَا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ لَهُمۡ فِيهَا مَا يَشَآءُونَۚ كَذَٰلِكَ يَجۡزِي ٱللَّهُ ٱلۡمُتَّقِينَ
Everlasting Gardens of Eden which they will enter, beneath which rivers flow – in it they will get whatever they wish; this is how Allah rewards the pious.
سدا بہار باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اِن میں اُن کے لئے جو کچھ وہ چاہیں گے (میسّر) ہوگا، اس طرح اللہ پرہیزگاروں کو صلہ عطا فرماتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
What the Pious say about the Revelation, their Reward and their Condition during and after Death
Here we are told about the blessed, as opposed to the doomed, who, when they are asked,
مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ
(What is it that your Lord has revealed) they will reluctantly answer, "He did not reveal anything, these are just the fables of old." But the blessed, on the other hand, will say, "That which is good," meaning - He revealed something good, meaning mercy and blessings for those who followed it and believed in it. Then we are told about Allah's promise to His servants which He revealed to His Messengers. He says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِى هذِهِ الْدُّنْيَا حَسَنَةٌ
(For those who do good in this world, there is good) This is like the Ayah,
مَنْ عَمِلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Whoever works righteousness - whether male or female - while being a true believer verily, to him We will give a good life, and We shall certainly reward them in proportion to the best of what they used to do.) (16:97), which means that whoever does good in this world, Allah will reward him for his good deeds in this world and in the next. Then we are told that the home of the Hereafter will be better, i.e., better than the life of this world, and that the reward in the Hereafter will be more complete than the reward in this life, as Allah says,
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ
(But those who were given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better) 28:80 and,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and what is with Allah for the righteous is better.) 3:198 and;
وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(Although the Hereafter is better and enduring) (87:17). Allah said to His Messenger :
وَلَلاٌّخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الاٍّولَى
(And indeed the Hereafter is better for you than the present) (93:4). Then Allah describes the abode of the Hereafter, saying,
وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ
(And excellent indeed will be the home (i.e. Paradise) of those who have Taqwa.)
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn (Eden) Paradise (Gardens of Eternity)) refers to the home of the Muttaqun, i.e., in the Hereafter they will have Gardens of Eternity in which they will dwell forever.
تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهَـرُ
(under which rivers flow) meaning, between its trees and palaces.
لَّهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ
(in it they will have all that they wish) this is like the Ayah:
وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الاٌّنْفُسُ وَتَلَذُّ الاٌّعْيُنُ وَأَنتُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(in it (there will be) all that souls could desire, and all that eyes could delight in, and in it you will live forever.) 43:71
كَذَلِكَ يَجْزِى اللَّهُ الْمُتَّقِينَ
(Thus Allah rewards those who have Taqwa.) meaning, this is how Allah rewards everyone who believes in Him, fears Him, and does good deeds. Then Allah tells us about their condition when death approaches them in a good state, i.e., free from Shirk, impurity and all evil. The angels greet them and give them the good news of Paradise, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةُ أَلاَّ تَخَافُواْ وَلاَ تَحْزَنُواْ وَأَبْشِرُواْ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ
(Verily, those who say: "Our Lord is Allah (alone)," and then behave righteously, on them the angels will descend (at the time of their death) (saying): "Fear not, nor grieve! But receive the good news of Paradise as you have been promised! We have been your friends in the life of this world and are (so) in the Hereafter. In it you shall have (all) that your souls desire, and in it you shall have (all) that you ask for. An entertainment from (Allah), the Oft-Forgiving, Most Merciful.")(41:30:32) We have already referred to the Hadiths that have been reported on the taking of the soul of the believer and the soul of the disbeliever, when we discussed the Ayah,
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّـلِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَآءُ
(Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world (i.e. they will keep on worshipping Allah Alone and none else), and in the Hereafter. And Allah will cause the wrongdoers to stray, and Allah does as He wills.) (14:27)
متقیوں کے لیے بہترین جزا بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہوجائے۔ پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کرچکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا۔ یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ ثواب الٰہی بہتر ہے، الخ قرآن فرماتا ہے آیت (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ) 3۔ آل عمران :198) اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لئے بہت اعلیٰ ہیں۔ پھر فرماتا ہے دار آخرت متقیوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے۔ جنات عدن بدل ہے دارا لمتقین کا یعنی ان کے لئے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہوگی اور وہ بھی ہمیشگی والی۔ حدیث میں ہے اہل جنت بیٹھے ہوں گے، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہوگا۔ پرہیزگار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایمان دار ہوں، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ) 41۔ فصلت :30) جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو۔ اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ) 14۔ ابراہیم :27) کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔
32
View Single
ٱلَّذِينَ تَتَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمُ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
Those whose souls the angels remove in a state of purity, saying, “Peace be upon you – enter Paradise, the reward of your deeds.”
جن کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (نیکی و طاعت کے باعث) پاکیزہ اور خوش و خرم ہوں، (ان سے فرشتے قبضِ روح کے وقت ہی کہہ دیتے ہیں:) تم پر سلامتی ہو، تم جنت میں داخل ہو جاؤ ان (اَعمالِ صالحہ) کے باعث جو تم کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
What the Pious say about the Revelation, their Reward and their Condition during and after Death
Here we are told about the blessed, as opposed to the doomed, who, when they are asked,
مَّاذَآ أَنزَلَ رَبُّكُمْ
(What is it that your Lord has revealed) they will reluctantly answer, "He did not reveal anything, these are just the fables of old." But the blessed, on the other hand, will say, "That which is good," meaning - He revealed something good, meaning mercy and blessings for those who followed it and believed in it. Then we are told about Allah's promise to His servants which He revealed to His Messengers. He says:
لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ فِى هذِهِ الْدُّنْيَا حَسَنَةٌ
(For those who do good in this world, there is good) This is like the Ayah,
مَنْ عَمِلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Whoever works righteousness - whether male or female - while being a true believer verily, to him We will give a good life, and We shall certainly reward them in proportion to the best of what they used to do.) (16:97), which means that whoever does good in this world, Allah will reward him for his good deeds in this world and in the next. Then we are told that the home of the Hereafter will be better, i.e., better than the life of this world, and that the reward in the Hereafter will be more complete than the reward in this life, as Allah says,
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ
(But those who were given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better) 28:80 and,
وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ
(and what is with Allah for the righteous is better.) 3:198 and;
وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى
(Although the Hereafter is better and enduring) (87:17). Allah said to His Messenger :
وَلَلاٌّخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الاٍّولَى
(And indeed the Hereafter is better for you than the present) (93:4). Then Allah describes the abode of the Hereafter, saying,
وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ
(And excellent indeed will be the home (i.e. Paradise) of those who have Taqwa.)
جَنَّـتِ عَدْنٍ
(`Adn (Eden) Paradise (Gardens of Eternity)) refers to the home of the Muttaqun, i.e., in the Hereafter they will have Gardens of Eternity in which they will dwell forever.
تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهَـرُ
(under which rivers flow) meaning, between its trees and palaces.
لَّهُمْ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ
(in it they will have all that they wish) this is like the Ayah:
وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الاٌّنْفُسُ وَتَلَذُّ الاٌّعْيُنُ وَأَنتُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(in it (there will be) all that souls could desire, and all that eyes could delight in, and in it you will live forever.) 43:71
كَذَلِكَ يَجْزِى اللَّهُ الْمُتَّقِينَ
(Thus Allah rewards those who have Taqwa.) meaning, this is how Allah rewards everyone who believes in Him, fears Him, and does good deeds. Then Allah tells us about their condition when death approaches them in a good state, i.e., free from Shirk, impurity and all evil. The angels greet them and give them the good news of Paradise, as Allah says:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةُ أَلاَّ تَخَافُواْ وَلاَ تَحْزَنُواْ وَأَبْشِرُواْ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ - نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ
(Verily, those who say: "Our Lord is Allah (alone)," and then behave righteously, on them the angels will descend (at the time of their death) (saying): "Fear not, nor grieve! But receive the good news of Paradise as you have been promised! We have been your friends in the life of this world and are (so) in the Hereafter. In it you shall have (all) that your souls desire, and in it you shall have (all) that you ask for. An entertainment from (Allah), the Oft-Forgiving, Most Merciful.")(41:30:32) We have already referred to the Hadiths that have been reported on the taking of the soul of the believer and the soul of the disbeliever, when we discussed the Ayah,
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّـلِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَآءُ
(Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world (i.e. they will keep on worshipping Allah Alone and none else), and in the Hereafter. And Allah will cause the wrongdoers to stray, and Allah does as He wills.) (14:27)
متقیوں کے لیے بہترین جزا بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہوجائے۔ پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کرچکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا۔ یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا کہ ثواب الٰہی بہتر ہے، الخ قرآن فرماتا ہے آیت (وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ) 3۔ آل عمران :198) اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لئے بہت اعلیٰ ہیں۔ پھر فرماتا ہے دار آخرت متقیوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے۔ جنات عدن بدل ہے دارا لمتقین کا یعنی ان کے لئے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں، جو چاہیں گے پائیں گے۔ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہوگی اور وہ بھی ہمیشگی والی۔ حدیث میں ہے اہل جنت بیٹھے ہوں گے، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہوگا۔ پرہیزگار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے جو ایمان دار ہوں، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں، سلام کرتے ہیں، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ) 41۔ فصلت :30) جن لوگوں نے اللہ کو رب مانا، پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں تم کوئی غم نہ کرو، جنت کی خوشخبری سنو، جس کا تم سے وعدہ تھا، ہم دنیا آخرت میں تمہارے والی ہیں، جو تم چاہو گے پاؤ گے جو مانگو گے ملے گا۔ تم تو اللہ غفور و رحیم کے مہمان ہو۔ اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ) 14۔ ابراہیم :27) کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں۔
33
View Single
هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ يَأۡتِيَ أَمۡرُ رَبِّكَۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
So what are they waiting for, except that the angels come upon them or that your Lord’s punishment comes? Those before them did exactly this; and Allah did not oppress them at all, but it is they who used to wrong themselves.
یہ اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اِس کے کہ ِان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے رب کا حکمِ (عذاب) آپہنچے، یہی کچھ ان لوگوں نے (بھی) کیا تھا جو اِن سے پہلے تھے، اور اللہ نے اُن پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Disbelievers' Refrain from Faith means that They were simply awaiting Punishment
Threatening the idolators for their persistence in falsehood and their conceited delusions about this world, Allah says: Are these people waiting only for the angels to come and take their souls Qatadah said:
أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ
(Or there comes the command of your Lord) means the Day of Resurrection and the terror that they will go through."
كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(Thus did those before them.) means, thus did their predecessors and those who were like them among the idolators persist in their Shirk, until they tasted the wrath of Allah and experienced the punishment and torment that they suffered.
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ
(And Allah did not wrong them.) because by sending His Messengers and revealing His Books He gave them enough warning and clearly demonstrated His proofs to them.
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they were wronging themselves.) meaning, by opposing the Messengers and denying what they brought. For this reason Allah's punishment tormented them.
وَحَاقَ بِهِم
(they were surrounded) meaning, they were overwhelmed by the painful torment.
مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(by that which they used to mock.) meaning, they used to make fun of the Messengers when they warned them Allah's punishment, and for this it will be said to them on the Day of Resurrection:
هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(This is the Fire which you used to belie.) (52:14).
فرشتوں کا انتظار اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا۔ ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آپڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، و بال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا۔ اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے۔
34
View Single
فَأَصَابَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
So the evils of their deeds struck them, and what they used to mock at surrounded them.
سو جو اَعمال انہوں نے کئے تھے انہی کی سزائیں ان کو پہنچیں اور اسی (عذاب) نے انہیں آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Disbelievers' Refrain from Faith means that They were simply awaiting Punishment
Threatening the idolators for their persistence in falsehood and their conceited delusions about this world, Allah says: Are these people waiting only for the angels to come and take their souls Qatadah said:
أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ
(Or there comes the command of your Lord) means the Day of Resurrection and the terror that they will go through."
كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(Thus did those before them.) means, thus did their predecessors and those who were like them among the idolators persist in their Shirk, until they tasted the wrath of Allah and experienced the punishment and torment that they suffered.
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ
(And Allah did not wrong them.) because by sending His Messengers and revealing His Books He gave them enough warning and clearly demonstrated His proofs to them.
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they were wronging themselves.) meaning, by opposing the Messengers and denying what they brought. For this reason Allah's punishment tormented them.
وَحَاقَ بِهِم
(they were surrounded) meaning, they were overwhelmed by the painful torment.
مَا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
(by that which they used to mock.) meaning, they used to make fun of the Messengers when they warned them Allah's punishment, and for this it will be said to them on the Day of Resurrection:
هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
(This is the Fire which you used to belie.) (52:14).
فرشتوں کا انتظار اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا۔ ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آپڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، و بال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا۔ اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے۔
35
View Single
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدۡنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖ نَّحۡنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ فَهَلۡ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
And the polytheists said, “Had Allah willed, we would not have worshipped anything besides Him – neither we nor our forefathers – and nor would we have forbidden anything, whilst being disassociated with Him”; those before them did exactly this; so what is (incumbent) upon the Noble Messengers, except to plainly convey (the message)?
اور مشرک لوگ کہتے ہیں: اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی بھی چیز کی پرستش نہ کرتے، نہ ہی ہم اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی چیز کو حرام قرار دیتے، یہی کچھ ان لوگوں نے (بھی) کیا تھا جو اِن سے پہلے تھے، تو کیا رسولوں کے ذمہ (اللہ کے پیغام اور احکام) واضح طور پر پہنچا دینے کے علاوہ بھی کچھ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Argument that their Shirk was Divinely decreed, and the Refutation of this Claim
Allah tells us about the idolators delusion over their Shirk, and the excuse they claimed for it based on the idea that it is ordained by divine decree. He says:
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ نَّحْنُ وَلا ءَابَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ
((They say:) "If Allah had so willed, neither we nor our fathers would have worshipped any but Him, nor would we have forbidden anything without (a command from) Him.") They had superstitious customs dealing with certain animals, e.g. the Bahirah the Sa'ibah and the Wasilah and other things that they had invented and innovated by themselves, with no revealed authority. The essence of what they said was: "If Allah hated what we did, He would have stopped by punishing us, and He would not have enabled us to do it." Rejecting their confusing ideas, Allah says:
فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(Are the Messengers charged with anything but to clearly convey the Message) meaning, the matter is not as you claim. It is not the case that Allah did not rebuke your behavior; rather, He did rebuke you, and in the strongest possible terms, and He emphatically forbade you from such behavior. To every nation - that is, to every generation, to every community of people - He sent a Messenger. All of the Messengers called their people to worship Allah (Alone) as well as forbidding them from worshipping anything or anybody except for Him.
أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(Worship Allah (Alone), and shun the Taghut (all false deities).) Allah continued sending Messengers to mankind with this Message, from the first incidence of Shirk that appeared among the Children of Adam, in the people to whom Nuh was sent - the first Messenger sent by Allah to the people of this earth - until He sent the final Messenger, Muhammad ﷺ, whose call was addressed to both men and Jinn, in the east and in the west. All of the Messengers brought the same Message, as Allah says:
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you (O Muhammad) but We revealed to him (saying): None has the right to be worshipped but I (Allah), so worship Me (alone and none else).") (21:25)
وَاسْئلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ
(And ask (O Muhammad) those Messengers of Ours whom We sent before you: "Did We ever appointed to be worshipped besides the Most Gracious (Allah)") (43:45) And in this Ayah, Allah says:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And We have indeed sent a Messenger to every Ummah (community, nation) (saying): "Worship Allah (alone), and shun the Taghut (all false deities).") So how could any of the idolators say,
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ
(If Allah had so willed, we would not have worshipped any but Him,) The legislative will of Allah is clear and cannot be taken as an excuse by them, because He had forbidden them to do that upon the tongue of His Messengers, but by His universal will i.e., by which He allows things to occur even though they do not please Him He allowed them to do that as it was decreed for them. So there is no argument in that for them. Allah created Hell and its people both the Shayatin (devils) and disbelievers, but He does not like His servants to disbelieve. And this point constitutes the strongest proof and the most unquestionable wisdom. Then Allah informs us that He rebuked them with punishment in this world, after the Messengers issued their warning, thus He says:
فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَـلَةُ فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Then among them were some whom Allah guided, and among them were some who deserved to be left to stray. So travel through the land and see the end of those who denied (the truth).) This means: ask about what happened to those who went against the Messengers and rejected the truth, see how:
دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَـفِرِينَ أَمْثَـلُهَا
(Allah destroyed them completely, and a similar (end awaits) the disbelievers.) (47:10) and,
وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نكِيرِ
(And indeed those before them belied (the Messengers of Allah), so then how terrible was My denial (punishment)) (67:18) Then Allah told His Messenger that His eagerness to guide them will be of no benefit to them if Allah wills that they should be misguided, as He says:
وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً
(And for whoever Allah wills to try with error, you can do nothing for him against Allah) (5:41). Nuh said to his people:
وَلاَ يَنفَعُكُمْ نُصْحِى إِنْ أَرَدْتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ
("And my advice will not profit you, even if I wish to give you good counsel, if Allah's will is to keep you astray.")(11:34). In this Ayah, Allah says:
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ
((Even) if you desire that they be guided, then verily, Allah does not guide those whom He allowed to stray,) As Allah says:
مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(Whomsoever Allah allows to stray, then there is no guide for him; and He lets them wander blindly in their transgressions.) (7:186)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly! Those deserving the Word (wrath) of your Lord will not believe, even if every sign should come to them - until they see the painful torment) (10:96-97).
فَإِنَّ اللَّهَ
(then verily, Allah) meaning, this is the way in which Allah does things. If He wills a thing, then it happens, and if He does not will a thing, then it does not happen. For this reason Allah says:
لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ
(Allah does not guide those whom He allowed to stray,) meaning the one whom He has caused to go astray, so who can guide him apart from Allah No one.
وَمَا لَهُم مِّن نَّـصِرِينَ
(And they will have no helpers.) means, they will have no one to save them from the punishment of Allah,
أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists!) (7:54).
الٹی سوچ مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کرچکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کردی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین کو اپنا نبی بنایا، جن و انس کے لئے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21۔ الانبیآء :25) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو۔ ایک اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لئے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں ؟ یہاں بھی فرمایا ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بےزاری ہی رہی۔ پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتدا ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے پھر فرماتا ہے کہ رسولوں کے آ گاہ کردینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کرلو کہ کس طرح عذاب الہٰی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لئے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا ؟ پھر اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بےفائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا) 5۔ المائدہ :41) جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لئے محض بےسود ہے۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ بہکاوے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں۔ فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آجائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں۔ پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر۔ اس لئے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کرسکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لئے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الہٰی سے بچا سکے۔ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات بابرکت ہے، وہی سچا معبود ہے۔
36
View Single
وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّـٰغُوتَۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنۡهُم مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ ٱلضَّلَٰلَةُۚ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
And indeed We sent to every nation a Noble Messenger (proclaiming) that “Worship Allah and beware of the devil”; therefore Allah guided some of them, and error proved true upon some of them; therefore travel in the land and see what sort of fate befell the deniers!
اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو) تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (یعنی شیطان اور بتوں کی اطاعت و پرستش) سے اجتناب کرو، سو اُن میں بعض وہ ہوئے جنہیں اللہ نے ہدایت فرما دی اور اُن میں بعض وہ ہوئے جن پر گمراہی (ٹھیک) ثابت ہوئی، سو تم لوگ زمین میں سیر و سیاحت کرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Argument that their Shirk was Divinely decreed, and the Refutation of this Claim
Allah tells us about the idolators delusion over their Shirk, and the excuse they claimed for it based on the idea that it is ordained by divine decree. He says:
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ نَّحْنُ وَلا ءَابَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ
((They say:) "If Allah had so willed, neither we nor our fathers would have worshipped any but Him, nor would we have forbidden anything without (a command from) Him.") They had superstitious customs dealing with certain animals, e.g. the Bahirah the Sa'ibah and the Wasilah and other things that they had invented and innovated by themselves, with no revealed authority. The essence of what they said was: "If Allah hated what we did, He would have stopped by punishing us, and He would not have enabled us to do it." Rejecting their confusing ideas, Allah says:
فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(Are the Messengers charged with anything but to clearly convey the Message) meaning, the matter is not as you claim. It is not the case that Allah did not rebuke your behavior; rather, He did rebuke you, and in the strongest possible terms, and He emphatically forbade you from such behavior. To every nation - that is, to every generation, to every community of people - He sent a Messenger. All of the Messengers called their people to worship Allah (Alone) as well as forbidding them from worshipping anything or anybody except for Him.
أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(Worship Allah (Alone), and shun the Taghut (all false deities).) Allah continued sending Messengers to mankind with this Message, from the first incidence of Shirk that appeared among the Children of Adam, in the people to whom Nuh was sent - the first Messenger sent by Allah to the people of this earth - until He sent the final Messenger, Muhammad ﷺ, whose call was addressed to both men and Jinn, in the east and in the west. All of the Messengers brought the same Message, as Allah says:
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you (O Muhammad) but We revealed to him (saying): None has the right to be worshipped but I (Allah), so worship Me (alone and none else).") (21:25)
وَاسْئلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ
(And ask (O Muhammad) those Messengers of Ours whom We sent before you: "Did We ever appointed to be worshipped besides the Most Gracious (Allah)") (43:45) And in this Ayah, Allah says:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And We have indeed sent a Messenger to every Ummah (community, nation) (saying): "Worship Allah (alone), and shun the Taghut (all false deities).") So how could any of the idolators say,
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ
(If Allah had so willed, we would not have worshipped any but Him,) The legislative will of Allah is clear and cannot be taken as an excuse by them, because He had forbidden them to do that upon the tongue of His Messengers, but by His universal will i.e., by which He allows things to occur even though they do not please Him He allowed them to do that as it was decreed for them. So there is no argument in that for them. Allah created Hell and its people both the Shayatin (devils) and disbelievers, but He does not like His servants to disbelieve. And this point constitutes the strongest proof and the most unquestionable wisdom. Then Allah informs us that He rebuked them with punishment in this world, after the Messengers issued their warning, thus He says:
فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَـلَةُ فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Then among them were some whom Allah guided, and among them were some who deserved to be left to stray. So travel through the land and see the end of those who denied (the truth).) This means: ask about what happened to those who went against the Messengers and rejected the truth, see how:
دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَـفِرِينَ أَمْثَـلُهَا
(Allah destroyed them completely, and a similar (end awaits) the disbelievers.) (47:10) and,
وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نكِيرِ
(And indeed those before them belied (the Messengers of Allah), so then how terrible was My denial (punishment)) (67:18) Then Allah told His Messenger that His eagerness to guide them will be of no benefit to them if Allah wills that they should be misguided, as He says:
وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً
(And for whoever Allah wills to try with error, you can do nothing for him against Allah) (5:41). Nuh said to his people:
وَلاَ يَنفَعُكُمْ نُصْحِى إِنْ أَرَدْتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ
("And my advice will not profit you, even if I wish to give you good counsel, if Allah's will is to keep you astray.")(11:34). In this Ayah, Allah says:
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ
((Even) if you desire that they be guided, then verily, Allah does not guide those whom He allowed to stray,) As Allah says:
مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(Whomsoever Allah allows to stray, then there is no guide for him; and He lets them wander blindly in their transgressions.) (7:186)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly! Those deserving the Word (wrath) of your Lord will not believe, even if every sign should come to them - until they see the painful torment) (10:96-97).
فَإِنَّ اللَّهَ
(then verily, Allah) meaning, this is the way in which Allah does things. If He wills a thing, then it happens, and if He does not will a thing, then it does not happen. For this reason Allah says:
لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ
(Allah does not guide those whom He allowed to stray,) meaning the one whom He has caused to go astray, so who can guide him apart from Allah No one.
وَمَا لَهُم مِّن نَّـصِرِينَ
(And they will have no helpers.) means, they will have no one to save them from the punishment of Allah,
أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists!) (7:54).
الٹی سوچ مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کرچکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کردی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین کو اپنا نبی بنایا، جن و انس کے لئے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21۔ الانبیآء :25) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو۔ ایک اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لئے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں ؟ یہاں بھی فرمایا ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بےزاری ہی رہی۔ پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتدا ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے پھر فرماتا ہے کہ رسولوں کے آ گاہ کردینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کرلو کہ کس طرح عذاب الہٰی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لئے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا ؟ پھر اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بےفائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا) 5۔ المائدہ :41) جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لئے محض بےسود ہے۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ بہکاوے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں۔ فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آجائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں۔ پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر۔ اس لئے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کرسکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لئے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الہٰی سے بچا سکے۔ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات بابرکت ہے، وہی سچا معبود ہے۔
37
View Single
إِن تَحۡرِصۡ عَلَىٰ هُدَىٰهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَن يُضِلُّۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
If you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) desire for their guidance, then indeed Allah does not guide one whom He misleads, and they do not have any aides.
اگر آپ ان کے ہدایت پر آجانے کی شدید طلب رکھتے ہیں تو (آپ اپنی طبیعتِ مطہرہ پر اس قدر بوجھ نہ لائیں) بیشک اللہ جسے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اسے ہدایت نہیں فرماتا اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں ہوتا
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators Argument that their Shirk was Divinely decreed, and the Refutation of this Claim
Allah tells us about the idolators delusion over their Shirk, and the excuse they claimed for it based on the idea that it is ordained by divine decree. He says:
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ نَّحْنُ وَلا ءَابَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ
((They say:) "If Allah had so willed, neither we nor our fathers would have worshipped any but Him, nor would we have forbidden anything without (a command from) Him.") They had superstitious customs dealing with certain animals, e.g. the Bahirah the Sa'ibah and the Wasilah and other things that they had invented and innovated by themselves, with no revealed authority. The essence of what they said was: "If Allah hated what we did, He would have stopped by punishing us, and He would not have enabled us to do it." Rejecting their confusing ideas, Allah says:
فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(Are the Messengers charged with anything but to clearly convey the Message) meaning, the matter is not as you claim. It is not the case that Allah did not rebuke your behavior; rather, He did rebuke you, and in the strongest possible terms, and He emphatically forbade you from such behavior. To every nation - that is, to every generation, to every community of people - He sent a Messenger. All of the Messengers called their people to worship Allah (Alone) as well as forbidding them from worshipping anything or anybody except for Him.
أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(Worship Allah (Alone), and shun the Taghut (all false deities).) Allah continued sending Messengers to mankind with this Message, from the first incidence of Shirk that appeared among the Children of Adam, in the people to whom Nuh was sent - the first Messenger sent by Allah to the people of this earth - until He sent the final Messenger, Muhammad ﷺ, whose call was addressed to both men and Jinn, in the east and in the west. All of the Messengers brought the same Message, as Allah says:
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ
(And We did not send any Messenger before you (O Muhammad) but We revealed to him (saying): None has the right to be worshipped but I (Allah), so worship Me (alone and none else).") (21:25)
وَاسْئلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ
(And ask (O Muhammad) those Messengers of Ours whom We sent before you: "Did We ever appointed to be worshipped besides the Most Gracious (Allah)") (43:45) And in this Ayah, Allah says:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ
(And We have indeed sent a Messenger to every Ummah (community, nation) (saying): "Worship Allah (alone), and shun the Taghut (all false deities).") So how could any of the idolators say,
لَوْ شَآءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَىْءٍ
(If Allah had so willed, we would not have worshipped any but Him,) The legislative will of Allah is clear and cannot be taken as an excuse by them, because He had forbidden them to do that upon the tongue of His Messengers, but by His universal will i.e., by which He allows things to occur even though they do not please Him He allowed them to do that as it was decreed for them. So there is no argument in that for them. Allah created Hell and its people both the Shayatin (devils) and disbelievers, but He does not like His servants to disbelieve. And this point constitutes the strongest proof and the most unquestionable wisdom. Then Allah informs us that He rebuked them with punishment in this world, after the Messengers issued their warning, thus He says:
فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَـلَةُ فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
(Then among them were some whom Allah guided, and among them were some who deserved to be left to stray. So travel through the land and see the end of those who denied (the truth).) This means: ask about what happened to those who went against the Messengers and rejected the truth, see how:
دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَـفِرِينَ أَمْثَـلُهَا
(Allah destroyed them completely, and a similar (end awaits) the disbelievers.) (47:10) and,
وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نكِيرِ
(And indeed those before them belied (the Messengers of Allah), so then how terrible was My denial (punishment)) (67:18) Then Allah told His Messenger that His eagerness to guide them will be of no benefit to them if Allah wills that they should be misguided, as He says:
وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً
(And for whoever Allah wills to try with error, you can do nothing for him against Allah) (5:41). Nuh said to his people:
وَلاَ يَنفَعُكُمْ نُصْحِى إِنْ أَرَدْتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ
("And my advice will not profit you, even if I wish to give you good counsel, if Allah's will is to keep you astray.")(11:34). In this Ayah, Allah says:
إِن تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ
((Even) if you desire that they be guided, then verily, Allah does not guide those whom He allowed to stray,) As Allah says:
مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ
(Whomsoever Allah allows to stray, then there is no guide for him; and He lets them wander blindly in their transgressions.) (7:186)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ
(Truly! Those deserving the Word (wrath) of your Lord will not believe, even if every sign should come to them - until they see the painful torment) (10:96-97).
فَإِنَّ اللَّهَ
(then verily, Allah) meaning, this is the way in which Allah does things. If He wills a thing, then it happens, and if He does not will a thing, then it does not happen. For this reason Allah says:
لاَ يَهْدِى مَن يُضِلُّ
(Allah does not guide those whom He allowed to stray,) meaning the one whom He has caused to go astray, so who can guide him apart from Allah No one.
وَمَا لَهُم مِّن نَّـصِرِينَ
(And they will have no helpers.) means, they will have no one to save them from the punishment of Allah,
أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ
(Surely, His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists!) (7:54).
الٹی سوچ مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں، شرک پر اڑیں، حلال کو حرام کریں، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں، ہمیں تمہارے یہ کام سخت ناپسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کرچکے۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے، ہر بستی، ہر جماعت، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے، سب نے اپنا فرض ادا کیا۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کردی۔ سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین کو اپنا نبی بنایا، جن و انس کے لئے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی جیسے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21۔ الانبیآء :25) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں پس تم صرف ہی عبادت کرو۔ ایک اور آیت میں ہے تو اپنے سے پہلے کے رسولوں سے پوچھ لے کہ کیا ہم نے ان کے لئے سوائے اپنے اور معبود مقرر کئے تھے، جن کی وہ عبادت کرتے ہوں ؟ یہاں بھی فرمایا ہر امت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بےزاری ہی رہی۔ پس مشرکین کو اپنے شرک پر، اللہ کی چاہت، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتدا ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے پھر فرماتا ہے کہ رسولوں کے آ گاہ کردینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے۔ تم رسولوں کے مخالفین کا، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کرلو کہ کس طرح عذاب الہٰی نے مشرکوں کو غارت کیا۔ اس وقت کے کافروں کے لئے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا ؟ پھر اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بےفائدہ ہے۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا) 5۔ المائدہ :41) جسے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا چاہے تو اسے کچھ بھی تو نفع نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لئے محض بےسود ہے۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ بہکاوے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں۔ فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 10۔ یونس :96) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تمام نشانیاں ان کے پاس آجائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں۔ پس اللہ یعنی اس کی شان، کا امر۔ اس لئے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کرسکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لئے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الہٰی سے بچا سکے۔ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات بابرکت ہے، وہی سچا معبود ہے۔
38
View Single
وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَا يَبۡعَثُ ٱللَّهُ مَن يَمُوتُۚ بَلَىٰ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقّٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
And they swore by Allah most vehemently in their oaths that, “Allah will not raise up the dead”; yes He will, why not? A true promise obligatory upon Him, but most men do not know.
اور یہ لوگ بڑی شدّ و مد سے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ جو مَر جائے اللہ اسے (دوبارہ) نہیں اٹھائے گا، کیوں نہیں اس کے ذمۂ کرم پر سچا وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
The Resurrection after Death is true, there is Wisdom behind it, and it is easy for Allah
Allah tells us that the idolators swore by Allah their strongest oaths, meaning that they made oaths swore fervently that Allah would not resurrect the one who died. They considered that to be improbable, and did not believe the Messengers when they told them about that, swearing that it could not happen. Allah said, refuting them:
بَلَى
(Yes), meaning it will indeed happen,
وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا
(a promise (binding) upon Him in truth,) - meaning it is inevitable,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most of mankind know not.) means, because of their ignorance they oppose the Messengers and fall into disbelief. Then Allah mentions His wisdom and the reason why He will resurrect mankind physically on the Day of Calling (between the people of Fire and of Paradise). He says,
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ
(In order that He may make clear to them) means, to mankind,
الَّذِى يَخْتَلِفُونَ فِيهِ
(what they differed over,) means, every dispute.
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done (i. e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise).) (53:31)
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَـذِبِينَ
(and so that those who disbelieved may know that they were liars.) meaning that they lied in their oaths and their swearing that Allah would not resurrect those who die. Thus they will be pushed down by force to the Fire with horrible force on the Day of Resurrection, and the guards of Hell will say to them:
هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see Taste its heat, and whether you are tolerant of it or intolerant of it - it is all the same. You are only being requited for what you have done.) (52:14-16). Then Allah tells us about His ability to do whatever He wills, and that nothing is impossible for Him on earth or in heaven. When He wants a thing, all He has to do is say to it "Be!" and it is. The Resurrection is one such thing, when He wants it to happen, all He will have to do is issue the command once, and it will happen as He wills, as He says:
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye) (54:50) and,
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as (the creation and resurrection of) a single person. ) 31:28 And in this Ayah, Allah says:
إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
(Verily, Our Word to a thing when We intend it, is only that We say to it: "Be!" - and it is.) meaning, We issue the command once, and then it happens. Allah does not need to repeat or confirm whatever He commands, because there is nothing that can stop Him or oppose Him. He is the One, the Compelling, the Almighty, whose power, might and dominion have subjected all things. None has the right to be worshipped except Him, and there is no Lord other than Him.
قیامت یقینا قائم ہوگی کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہوجائے، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو ؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے پھر اپنی بےاندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کرسکتی، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام ہوجاتا ہے۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے جیسے فرمایا ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہوجائے گا تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کردینا اس پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو اسھر کہا ہوجا ادھر ہوگیا۔ اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کرسکے، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد وقہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہئے تھا۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حالانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقینا زندہ ہوں گے۔ یہ برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیان دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ میں احد ہوں، میں اللہ ہوں، میں صمد ہوں، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں۔ ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقو فا مروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفو عا روایت بھی آئی ہے۔
39
View Single
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِي يَخۡتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰذِبِينَ
In order that He may make clear to them the matter in which they differed, and the disbelievers may realise that they were liars.
(مُردوں کا اٹھایا جانا اس لئے ہے) تاکہ ان کے لئے وہ (حق) بات واضح کر دے جس میں وہ لوگ اختلاف کرتے ہیں اور یہ کہ کافر لوگ جان لیں کہ حقیقت میں وہی جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Resurrection after Death is true, there is Wisdom behind it, and it is easy for Allah
Allah tells us that the idolators swore by Allah their strongest oaths, meaning that they made oaths swore fervently that Allah would not resurrect the one who died. They considered that to be improbable, and did not believe the Messengers when they told them about that, swearing that it could not happen. Allah said, refuting them:
بَلَى
(Yes), meaning it will indeed happen,
وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا
(a promise (binding) upon Him in truth,) - meaning it is inevitable,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most of mankind know not.) means, because of their ignorance they oppose the Messengers and fall into disbelief. Then Allah mentions His wisdom and the reason why He will resurrect mankind physically on the Day of Calling (between the people of Fire and of Paradise). He says,
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ
(In order that He may make clear to them) means, to mankind,
الَّذِى يَخْتَلِفُونَ فِيهِ
(what they differed over,) means, every dispute.
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done (i. e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise).) (53:31)
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَـذِبِينَ
(and so that those who disbelieved may know that they were liars.) meaning that they lied in their oaths and their swearing that Allah would not resurrect those who die. Thus they will be pushed down by force to the Fire with horrible force on the Day of Resurrection, and the guards of Hell will say to them:
هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see Taste its heat, and whether you are tolerant of it or intolerant of it - it is all the same. You are only being requited for what you have done.) (52:14-16). Then Allah tells us about His ability to do whatever He wills, and that nothing is impossible for Him on earth or in heaven. When He wants a thing, all He has to do is say to it "Be!" and it is. The Resurrection is one such thing, when He wants it to happen, all He will have to do is issue the command once, and it will happen as He wills, as He says:
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye) (54:50) and,
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as (the creation and resurrection of) a single person. ) 31:28 And in this Ayah, Allah says:
إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
(Verily, Our Word to a thing when We intend it, is only that We say to it: "Be!" - and it is.) meaning, We issue the command once, and then it happens. Allah does not need to repeat or confirm whatever He commands, because there is nothing that can stop Him or oppose Him. He is the One, the Compelling, the Almighty, whose power, might and dominion have subjected all things. None has the right to be worshipped except Him, and there is no Lord other than Him.
قیامت یقینا قائم ہوگی کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہوجائے، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو ؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے پھر اپنی بےاندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کرسکتی، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام ہوجاتا ہے۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے جیسے فرمایا ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہوجائے گا تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کردینا اس پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو اسھر کہا ہوجا ادھر ہوگیا۔ اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کرسکے، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد وقہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہئے تھا۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حالانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقینا زندہ ہوں گے۔ یہ برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیان دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ میں احد ہوں، میں اللہ ہوں، میں صمد ہوں، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں۔ ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقو فا مروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفو عا روایت بھی آئی ہے۔
40
View Single
إِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَيۡءٍ إِذَآ أَرَدۡنَٰهُ أَن نَّقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
And Our command for anything to occur, when We will it, is that We only say to it, “Be” – and it thereupon happens.
ہمارا فرمان تو کسی چیز کے لئے صرف اِسی قدر ہوتا ہے کہ جب ہم اُس (کو وجود میں لانے) کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اُسے فرماتے ہیں: ”ہو جا“ پس وہ ہو جاتی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Resurrection after Death is true, there is Wisdom behind it, and it is easy for Allah
Allah tells us that the idolators swore by Allah their strongest oaths, meaning that they made oaths swore fervently that Allah would not resurrect the one who died. They considered that to be improbable, and did not believe the Messengers when they told them about that, swearing that it could not happen. Allah said, refuting them:
بَلَى
(Yes), meaning it will indeed happen,
وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا
(a promise (binding) upon Him in truth,) - meaning it is inevitable,
وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ
(but most of mankind know not.) means, because of their ignorance they oppose the Messengers and fall into disbelief. Then Allah mentions His wisdom and the reason why He will resurrect mankind physically on the Day of Calling (between the people of Fire and of Paradise). He says,
لِيُبَيِّنَ لَهُمُ
(In order that He may make clear to them) means, to mankind,
الَّذِى يَخْتَلِفُونَ فِيهِ
(what they differed over,) means, every dispute.
لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى
(that He may requite those who do evil with that which they have done (i. e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise).) (53:31)
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَـذِبِينَ
(and so that those who disbelieved may know that they were liars.) meaning that they lied in their oaths and their swearing that Allah would not resurrect those who die. Thus they will be pushed down by force to the Fire with horrible force on the Day of Resurrection, and the guards of Hell will say to them:
هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ - أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ - اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(This is the Fire which you used to belie. Is this magic or do you not see Taste its heat, and whether you are tolerant of it or intolerant of it - it is all the same. You are only being requited for what you have done.) (52:14-16). Then Allah tells us about His ability to do whatever He wills, and that nothing is impossible for Him on earth or in heaven. When He wants a thing, all He has to do is say to it "Be!" and it is. The Resurrection is one such thing, when He wants it to happen, all He will have to do is issue the command once, and it will happen as He wills, as He says:
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye) (54:50) and,
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The creation of you all and the resurrection of you all are only as (the creation and resurrection of) a single person. ) 31:28 And in this Ayah, Allah says:
إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
(Verily, Our Word to a thing when We intend it, is only that We say to it: "Be!" - and it is.) meaning, We issue the command once, and then it happens. Allah does not need to repeat or confirm whatever He commands, because there is nothing that can stop Him or oppose Him. He is the One, the Compelling, the Almighty, whose power, might and dominion have subjected all things. None has the right to be worshipped except Him, and there is no Lord other than Him.
قیامت یقینا قائم ہوگی کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کرتے ہیں، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں۔ پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہوجائے، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے۔ کافروں کا اپنے عقیدے، اپنے قول، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ جہنم جس کا تم انکار کرتے رہے اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو ؟ اس میں اب پڑے رہو۔ صبر سے رہو یا ہائے وائے کرو، سب برابر ہے، اعمال کا بدلہ بھگتنا ضروری ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے پھر اپنی بےاندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کرسکتی، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام ہوجاتا ہے۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے جیسے فرمایا ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہوجائے گا تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کردینا اس پر ایسا ہی ہے جیسے ایک کو اسھر کہا ہوجا ادھر ہوگیا۔ اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کرسکے، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد وقہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہئے تھا۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حالانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقینا زندہ ہوں گے۔ یہ برحق وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیان دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ میں احد ہوں، میں اللہ ہوں، میں صمد ہوں، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں۔ ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقو فا مروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفو عا روایت بھی آئی ہے۔
41
View Single
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْ لَنُبَوِّئَنَّهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ
And to those who migrated in Allah's cause after being oppressed, We shall indeed give them a good place in the world, and indeed the reward of the Hereafter is extremely great; if only the people knew!
اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے تو ہم ضرور انہیں دنیا (ہی) میں بہتر ٹھکانا دیں گے، اور آخرت کا اجر تو یقیناً بہت بڑا ہے، کاش! وہ (اس راز کو) جانتے ہوتے
Tafsir Ibn Kathir
The Reward of the Muhajirin
Allah tells us about the reward of those who migrated for His sake, seeking His pleasure, those who left their homeland behind, brothers and friends, hoping for the reward of Allah. This may have been revealed concerning those who migrated to Ethiopia, those whose persecution at the hands of their own people in Makkah was so extreme that they left them and went to Ethiopia so that they would be able to worship their Lord. Among the most prominent of these migrants were `Uthman bin `Affan and his wife Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ, Ja`far bin Abi Talib, the cousin of the Messenger ﷺ, and Abu Salamah bin `Abdul-Asad, among a group of almost eighty sincere and faithful men and women, may Allah be pleased with them. Allah promised them a great reward in this world and the next. Allah said:
لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى الدُّنْيَا حَسَنَة
(We will certainly give them good residence in this world,) Ibn `Abbas, Ash-Sha`bi and Qatadah said: (this means) "Al-Madinah." It was also said that it meant "good provision". This was the opinion of Mujahid. There is no contradiction between these two opinions, for they left their homes and wealth, but Allah compensated them with something better in this world. Whoever gives up something for the sake of Allah, Allah compensates him with something that is better for him than that, and this is what happened. He gave them power throughout the land and caused them to rule over the people, so they became governors and rulers, and each of them became a leader of the pious. Allah tells us that His reward for the Muhajirin in the Hereafter is greater than that which He gave them in this world, as He says:
وَلاّجْرُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ
(but indeed the reward of the Hereafter will be greater) meaning, greater than that which We have given you in this world.
لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(if they but knew!) means, if those who stayed behind and did not migrate with them only knew what Allah prepared for those who obeyed Him and followed His Messenger . Then Allah describes them as:
الَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(those who remained patient, and put their trust in their Lord.) (16:42), meaning, they bore their people's persecution with patience, putting their trust in Allah Who made their end good in this world and the Hereafter.
دین کی پاسبانی میں ہجرت جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کر کے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکہ میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کر کے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے حضرت عثمان بن عفان ؓ آپ کے ساتھ آپ کی بیوی صاحبہ حضرت رقیہ ؓ بھی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد ؓ وغیرہ۔ قریب قریب اسی آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔ پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔ ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کردیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر وثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ حضرت فاروق اعظم ؓ سے خوش ہو کہ آپ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت وغیرہ دیتے تو فرماتے لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔ ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لئے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں۔
42
View Single
ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
Those who patiently endured and who rely only upon Allah.
جن لوگوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر توکل کئے رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Reward of the Muhajirin
Allah tells us about the reward of those who migrated for His sake, seeking His pleasure, those who left their homeland behind, brothers and friends, hoping for the reward of Allah. This may have been revealed concerning those who migrated to Ethiopia, those whose persecution at the hands of their own people in Makkah was so extreme that they left them and went to Ethiopia so that they would be able to worship their Lord. Among the most prominent of these migrants were `Uthman bin `Affan and his wife Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ, Ja`far bin Abi Talib, the cousin of the Messenger ﷺ, and Abu Salamah bin `Abdul-Asad, among a group of almost eighty sincere and faithful men and women, may Allah be pleased with them. Allah promised them a great reward in this world and the next. Allah said:
لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى الدُّنْيَا حَسَنَة
(We will certainly give them good residence in this world,) Ibn `Abbas, Ash-Sha`bi and Qatadah said: (this means) "Al-Madinah." It was also said that it meant "good provision". This was the opinion of Mujahid. There is no contradiction between these two opinions, for they left their homes and wealth, but Allah compensated them with something better in this world. Whoever gives up something for the sake of Allah, Allah compensates him with something that is better for him than that, and this is what happened. He gave them power throughout the land and caused them to rule over the people, so they became governors and rulers, and each of them became a leader of the pious. Allah tells us that His reward for the Muhajirin in the Hereafter is greater than that which He gave them in this world, as He says:
وَلاّجْرُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ
(but indeed the reward of the Hereafter will be greater) meaning, greater than that which We have given you in this world.
لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(if they but knew!) means, if those who stayed behind and did not migrate with them only knew what Allah prepared for those who obeyed Him and followed His Messenger . Then Allah describes them as:
الَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(those who remained patient, and put their trust in their Lord.) (16:42), meaning, they bore their people's persecution with patience, putting their trust in Allah Who made their end good in this world and the Hereafter.
دین کی پاسبانی میں ہجرت جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کر کے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکہ میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کر کے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے حضرت عثمان بن عفان ؓ آپ کے ساتھ آپ کی بیوی صاحبہ حضرت رقیہ ؓ بھی تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد ؓ وغیرہ۔ قریب قریب اسی آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔ پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔ ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کردیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر وثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ حضرت فاروق اعظم ؓ سے خوش ہو کہ آپ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت وغیرہ دیتے تو فرماتے لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔ ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لئے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں۔
43
View Single
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
And We did not send before you except men, towards whom We sent divine revelations – so O people, ask the people of knowledge if you do not know. (* All the Prophets were men.)
اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے سو تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو
Tafsir Ibn Kathir
Only Human Messengers have been Sent
Ad-Dahhak said, reporting from Ibn `Abbas: "When Allah sent Muhammad as a Messenger, the Arabs, or some of them, denied him and said, `Allah is too great to send a human being as a Messenger.' Then Allah revealed:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ
(Is it a wonder to people that We have sent Our Inspiration to a man from among themselves (saying): "Warn mankind...") and He said,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنْتُم لاَ تَعْلَمُونَ
(And We sent not (as Our Messengers) before you (O Muhammad) any but men, whom We sent Revelation. So ask Ahl Adh-Dhikr, if you know not.). meaning, (ask) the people of the previous Books, were the Messengers that were sent to them humans or angels If they were angels, then you have the right to find this strange, but if they were human, then you have no grounds to deny that Muhammad ﷺ is a Messenger. Allah says:
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you (as Messengers) any but men to whom We revealed, from among the people of townships. ) 12:109 and not from among the people of heaven as you say." It was reported by Mujahid from Ibn `Abbas that what is meant by Ahl Adh-Dhikr is the People of the Book. This is as Allah says:
أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِى السَّمَآءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَءُهُ قُلْ سُبْحَـنَ رَبِّى هَلْ كُنتُ إَلاَّ بَشَرًا رَّسُولاً - وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُواْ إِذْ جَآءَهُمُ الْهُدَى إِلاَّ أَن قَالُواْ أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولاً
(Say: "Glorified be my Lord! Am I anything but a man, sent as a Messenger" And nothing prevented men from believing when the guidance came to them, except that they said: "Has Allah sent a man as (His) Messenger") (17:93-94)
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you (O Muhammad) any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets.) (25:20)
وَمَا جَعَلْنَـهُمْ جَسَداً لاَّ يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَـلِدِينَ
(And We did not create them (the Messengers, with) bodies that did not eat food, nor were they immortals.)(21:8)
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say (O Muhammad ): "I am not a new thing among the Messengers. ") 46:9,
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ
(Say (O Muhammad): "I am only a man like you. It has been revealed to me.") 18:110 Then Allah informs those who doubt that a Messenger can be a human to ask those who have knowledge of the previous Scriptures about the Prophets who came before: were their Prophets humans or angels Then Allah mentions that He has sent them,
بِالْبَيِّنَـتِ
(with clear signs), meaning proof and evidence, and
وَالزُّبُرِ
(and Books Zubur), meaning Scriptures. Ibn `Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak and others said: Zubur is the plural of Zabur, and the Arabs say, Zaburtul-Kitab meaning, "I wrote the book." Allah says:
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in (their) Records (of deeds) Zubur) (54:52)
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الاٌّرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّـلِحُونَ
(And indeed We have written in Az-Zabur after the Dhikr that My righteous servant shall inherit the land (i.e. the land of Paradise).) (21:105) Then Allah says:
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ
(And We have also revealed the Dhikr to you), meaning the Qur'an,
لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
(so that you may clearly explain to men what was revealed to them,) meaning, sent down from their Lord, because you know the meaning of what Allah has revealed to you, and because of your understanding and adherence to it, and because We know that you are the best of creation and the leader of the Children of Adam. So that you may explain in detail what has been mentioned in brief, and explain what is not clear.
وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(so that perhaps they may reflect.) meaning, they should examine themselves and be guided by it, so that they may attain the victory of salvation in this world and the next.
انسان اور منصب رسالت پر اختلا حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ فرماتا ہے آیت (اکان للناس عجبا) الخ، کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے۔ اور فرمایا ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے ؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے۔ اور آیت میں من اھل القری کا لفظ بھی فرمایا یعنی وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آسمان کی مخلوق نہ تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔ مجاہد ؒ اور اعمش ؒ کا قول بھی یہی ہے عبدالرحمن ؒ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے جیسے آیت (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) 15۔ الحجر :9) میں ہے یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہوسکتی تھی ؟ اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم اہل ذکر ہیں یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں۔ جیسے علی ابن عباس، حسن، حسین، محمد بن حنفیہ، علی بن حیسن زین العابدین، علی بن اللہ بن عباس ابو جعفر باقر، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر اور ان جیسے اور بزرگ حضرات۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔ یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ آپ بھی انسان ہیں اور آپ سے پہلے بھی انبیاء بنی آ دم میں سے ہوتے رہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93) 17۔ الإسراء :93) کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے۔ اور آیت میں ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے۔ اور آیت میں ہے ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ) 46۔ الأحقاف :9) میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں ؟ ایک اور آیت میں ہے میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے الخ پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہوتے تھے یا غیر انسان ؟ پھر یہاں فرماتا ہے کہ رسول کو وہ دلیلیل دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے۔ زبر سے مراد کتابیں ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52) 54۔ القمر :52) جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے۔ اور آیت میں ہے (لقد کتبنا فی الزبور) ہم نے زبور میں لکھ دیا الخ پھر فرماتا ہے ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا یعنی قرآن اس لئے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔ حقیقتاً اے نبی آپ ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لئے کہ آپ افضل الخلائق ہیں۔ اولاد آدم کے سردار ہیں۔ جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ کے ذمے ہے، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوجیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔
44
View Single
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ
Along with clear proofs and writings; and We have sent down this Remembrance towards you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) so that you may explain to mankind what has been revealed towards them, and that they may ponder.
(انہیں بھی) واضح دلائل اور کتابوں کے ساتھ (بھیجا تھا)، اور (اے نبیِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف ذکرِ عظیم (قرآن) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے وہ (پیغام اور احکام) خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں
Tafsir Ibn Kathir
Only Human Messengers have been Sent
Ad-Dahhak said, reporting from Ibn `Abbas: "When Allah sent Muhammad as a Messenger, the Arabs, or some of them, denied him and said, `Allah is too great to send a human being as a Messenger.' Then Allah revealed:
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ
(Is it a wonder to people that We have sent Our Inspiration to a man from among themselves (saying): "Warn mankind...") and He said,
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنْتُم لاَ تَعْلَمُونَ
(And We sent not (as Our Messengers) before you (O Muhammad) any but men, whom We sent Revelation. So ask Ahl Adh-Dhikr, if you know not.). meaning, (ask) the people of the previous Books, were the Messengers that were sent to them humans or angels If they were angels, then you have the right to find this strange, but if they were human, then you have no grounds to deny that Muhammad ﷺ is a Messenger. Allah says:
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى
(And We sent not before you (as Messengers) any but men to whom We revealed, from among the people of townships. ) 12:109 and not from among the people of heaven as you say." It was reported by Mujahid from Ibn `Abbas that what is meant by Ahl Adh-Dhikr is the People of the Book. This is as Allah says:
أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِى السَّمَآءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَءُهُ قُلْ سُبْحَـنَ رَبِّى هَلْ كُنتُ إَلاَّ بَشَرًا رَّسُولاً - وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُواْ إِذْ جَآءَهُمُ الْهُدَى إِلاَّ أَن قَالُواْ أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولاً
(Say: "Glorified be my Lord! Am I anything but a man, sent as a Messenger" And nothing prevented men from believing when the guidance came to them, except that they said: "Has Allah sent a man as (His) Messenger") (17:93-94)
وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ
(And We never sent before you (O Muhammad) any of the Messengers but verily, they ate food and walked in the markets.) (25:20)
وَمَا جَعَلْنَـهُمْ جَسَداً لاَّ يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَـلِدِينَ
(And We did not create them (the Messengers, with) bodies that did not eat food, nor were they immortals.)(21:8)
قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ
(Say (O Muhammad ): "I am not a new thing among the Messengers. ") 46:9,
قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ
(Say (O Muhammad): "I am only a man like you. It has been revealed to me.") 18:110 Then Allah informs those who doubt that a Messenger can be a human to ask those who have knowledge of the previous Scriptures about the Prophets who came before: were their Prophets humans or angels Then Allah mentions that He has sent them,
بِالْبَيِّنَـتِ
(with clear signs), meaning proof and evidence, and
وَالزُّبُرِ
(and Books Zubur), meaning Scriptures. Ibn `Abbas, Mujahid, Ad-Dahhak and others said: Zubur is the plural of Zabur, and the Arabs say, Zaburtul-Kitab meaning, "I wrote the book." Allah says:
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in (their) Records (of deeds) Zubur) (54:52)
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الاٌّرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّـلِحُونَ
(And indeed We have written in Az-Zabur after the Dhikr that My righteous servant shall inherit the land (i.e. the land of Paradise).) (21:105) Then Allah says:
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ
(And We have also revealed the Dhikr to you), meaning the Qur'an,
لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
(so that you may clearly explain to men what was revealed to them,) meaning, sent down from their Lord, because you know the meaning of what Allah has revealed to you, and because of your understanding and adherence to it, and because We know that you are the best of creation and the leader of the Children of Adam. So that you may explain in detail what has been mentioned in brief, and explain what is not clear.
وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
(so that perhaps they may reflect.) meaning, they should examine themselves and be guided by it, so that they may attain the victory of salvation in this world and the next.
انسان اور منصب رسالت پر اختلا حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ فرماتا ہے آیت (اکان للناس عجبا) الخ، کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے۔ اور فرمایا ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے ؟ اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے۔ اور آیت میں من اھل القری کا لفظ بھی فرمایا یعنی وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آسمان کی مخلوق نہ تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں۔ مجاہد ؒ اور اعمش ؒ کا قول بھی یہی ہے عبدالرحمن ؒ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے جیسے آیت (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) 15۔ الحجر :9) میں ہے یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہوسکتی تھی ؟ اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم اہل ذکر ہیں یعنی یہ امت یہ قول بھی اپنی جگہ ہے۔ درست ہے فی الواقع یہ امت تمام اگلی امتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں۔ جیسے علی ابن عباس، حسن، حسین، محمد بن حنفیہ، علی بن حیسن زین العابدین، علی بن اللہ بن عباس ابو جعفر باقر، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر اور ان جیسے اور بزرگ حضرات۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں۔ یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں۔ یہاں بیان ہو رہا ہے کہ آپ بھی انسان ہیں اور آپ سے پہلے بھی انبیاء بنی آ دم میں سے ہوتے رہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93) 17۔ الإسراء :93) کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں۔ لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے۔ اور آیت میں ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے۔ اور آیت میں ہے ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ) 46۔ الأحقاف :9) میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں ؟ ایک اور آیت میں ہے میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے الخ پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہوتے تھے یا غیر انسان ؟ پھر یہاں فرماتا ہے کہ رسول کو وہ دلیلیل دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے۔ زبر سے مراد کتابیں ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي الزُّبُرِ 52) 54۔ القمر :52) جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے۔ اور آیت میں ہے (لقد کتبنا فی الزبور) ہم نے زبور میں لکھ دیا الخ پھر فرماتا ہے ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا یعنی قرآن اس لئے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔ حقیقتاً اے نبی آپ ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لئے کہ آپ افضل الخلائق ہیں۔ اولاد آدم کے سردار ہیں۔ جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ کے ذمے ہے، لوگوں پر جو مشکل ہو آپ اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوجیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔
45
View Single
أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخۡسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ
So do they who conspire evils, not fear that Allah may bury them in the earth, or that the punishment may come to them from a place they do not know?
کیا وہ بُرے مکر و فریب کرنے والے لوگ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا (کسی) ایسی جگہ سے ان پر عذاب بھیج دے جس کا انہیں کوئی خیال بھی نہ ہو
Tafsir Ibn Kathir
How the Guilty can feel Secure
Allah informs us about His patience, and how He delays the punishment for the sinners who do evil things and call others to do likewise, plotting to call others to do evil - even though He is able to make the earth swallow them or to bring His wrath upon them.
مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ
(from where they do not perceive it), meaning in such a way that they do not know where it comes from. As Allah says:
أَءَمِنتُمْ مَّن فِى السَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الاٌّرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ - أَمْ أَمِنتُمْ مِّن فِى السَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَـصِباً فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ
(Do you feel secure that He Who is over the heaven (Allah), will not cause you to sink into the earth, when it quakes Or do you feel secure that He Who is over the heaven (Allah), will not send a storm of stones upon you Then you shall know how My warning really is.) (67:16-17).
أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ
(Or that He may punish them in the midst of their going to and fro) meaning, when they are busy with their daily business, travel, and other distracting activities. Qatadah and As-Suddi said:
تَقَلُّبِهِمْ
(Their going to and fro) means their journeys." As Allah says:
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(Did the people of the towns feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing) (7:97-98)
فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ
(so that there be no escape for them (from Allah's punishment)) meaning, it is not impossible for Allah, no matter what their situation.
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ
(Or that He may punish them where they fear it most) meaning, or Allah will take from them what they most fear, which is even more frightening, because when the thing you most fear to happen does happen, this is even worse. Hence Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that,
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ
(Or that He may punish them where they fear it most) means that Allah is saying: If I wish, I can take him after the death of his companion and after he has become frightened of that.' This was also reported from Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah and others. Then Allah says:
فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Indeed your Lord is full of kindness, Most Merciful.) meaning, because He does not hasten to punish, as was reported in the Two Sahihs:
«لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللهِ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِم»
(No one is more patient in the case of hearing offensive speech than Allah, for they attribute to Him a son, while He alone is giving them provision and good health.) And it is also recorded in Two Sahihs,
«إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Allah will let the wrongdoer continue until, when He begins to punish him, He will never let him go.) Then the Messenger of Allah ﷺ recited:
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong. Indeed, His punishment is painful, (and) severe) (11:102) And Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَـلِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَىَّ الْمَصِيرُ
(And many a township did I give respite while it was given to wrongdoing. Then I punished it. And to Me is the (final) return (of all).) (22:48)
اللہ عز و جل کا غضب اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بد کردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بیخبر ی میں ان پر عذاب لاسکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے جیسے سورة تبارک میں فرمایا اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے ؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر حضر رات دن جس وقت چاہے، پکڑ لے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسـُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ 97ۭ) 7۔ الاعراف :97) ، کیا بستی والے اس سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آجائے۔ یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آجائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کرسکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہوجائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آجائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لئے جلدی نہیں پکڑتا۔ بخاری و مسلم میں ہے خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہر تے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے۔ بخاری مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہوجاتا ہے پھر حضور ﷺ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) ، پڑھی۔ اور آیت میں ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کرلیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔
46
View Single
أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ فِي تَقَلُّبِهِمۡ فَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ
Or that He may seize them while they move here and there, for they cannot escape?
یا ان کی نقل و حرکت (سفر اور شغلِ تجارت) کے دوران ہی انہیں پکڑ لے سو وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے
Tafsir Ibn Kathir
How the Guilty can feel Secure
Allah informs us about His patience, and how He delays the punishment for the sinners who do evil things and call others to do likewise, plotting to call others to do evil - even though He is able to make the earth swallow them or to bring His wrath upon them.
مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ
(from where they do not perceive it), meaning in such a way that they do not know where it comes from. As Allah says:
أَءَمِنتُمْ مَّن فِى السَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الاٌّرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ - أَمْ أَمِنتُمْ مِّن فِى السَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَـصِباً فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ
(Do you feel secure that He Who is over the heaven (Allah), will not cause you to sink into the earth, when it quakes Or do you feel secure that He Who is over the heaven (Allah), will not send a storm of stones upon you Then you shall know how My warning really is.) (67:16-17).
أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ
(Or that He may punish them in the midst of their going to and fro) meaning, when they are busy with their daily business, travel, and other distracting activities. Qatadah and As-Suddi said:
تَقَلُّبِهِمْ
(Their going to and fro) means their journeys." As Allah says:
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(Did the people of the towns feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing) (7:97-98)
فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ
(so that there be no escape for them (from Allah's punishment)) meaning, it is not impossible for Allah, no matter what their situation.
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ
(Or that He may punish them where they fear it most) meaning, or Allah will take from them what they most fear, which is even more frightening, because when the thing you most fear to happen does happen, this is even worse. Hence Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that,
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ
(Or that He may punish them where they fear it most) means that Allah is saying: If I wish, I can take him after the death of his companion and after he has become frightened of that.' This was also reported from Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah and others. Then Allah says:
فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Indeed your Lord is full of kindness, Most Merciful.) meaning, because He does not hasten to punish, as was reported in the Two Sahihs:
«لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللهِ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِم»
(No one is more patient in the case of hearing offensive speech than Allah, for they attribute to Him a son, while He alone is giving them provision and good health.) And it is also recorded in Two Sahihs,
«إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Allah will let the wrongdoer continue until, when He begins to punish him, He will never let him go.) Then the Messenger of Allah ﷺ recited:
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong. Indeed, His punishment is painful, (and) severe) (11:102) And Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَـلِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَىَّ الْمَصِيرُ
(And many a township did I give respite while it was given to wrongdoing. Then I punished it. And to Me is the (final) return (of all).) (22:48)
اللہ عز و جل کا غضب اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بد کردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بیخبر ی میں ان پر عذاب لاسکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے جیسے سورة تبارک میں فرمایا اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے ؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر حضر رات دن جس وقت چاہے، پکڑ لے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسـُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ 97ۭ) 7۔ الاعراف :97) ، کیا بستی والے اس سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آجائے۔ یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آجائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کرسکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہوجائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آجائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لئے جلدی نہیں پکڑتا۔ بخاری و مسلم میں ہے خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہر تے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے۔ بخاری مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہوجاتا ہے پھر حضور ﷺ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) ، پڑھی۔ اور آیت میں ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کرلیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔
47
View Single
أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ عَلَىٰ تَخَوُّفٖ فَإِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٌ
Or that He may seize them whilst constantly ruining them? For indeed your Lord is Most Compassionate, Most Merciful.
یا انہیں ان کے خوف زدہ ہونے پر پکڑ لے، تو بیشک تمہارا رب بڑا شفیق نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
How the Guilty can feel Secure
Allah informs us about His patience, and how He delays the punishment for the sinners who do evil things and call others to do likewise, plotting to call others to do evil - even though He is able to make the earth swallow them or to bring His wrath upon them.
مِنْ حَيْثُ لاَ يَشْعُرُونَ
(from where they do not perceive it), meaning in such a way that they do not know where it comes from. As Allah says:
أَءَمِنتُمْ مَّن فِى السَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الاٌّرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ - أَمْ أَمِنتُمْ مِّن فِى السَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَـصِباً فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ
(Do you feel secure that He Who is over the heaven (Allah), will not cause you to sink into the earth, when it quakes Or do you feel secure that He Who is over the heaven (Allah), will not send a storm of stones upon you Then you shall know how My warning really is.) (67:16-17).
أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِى تَقَلُّبِهِمْ
(Or that He may punish them in the midst of their going to and fro) meaning, when they are busy with their daily business, travel, and other distracting activities. Qatadah and As-Suddi said:
تَقَلُّبِهِمْ
(Their going to and fro) means their journeys." As Allah says:
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ - أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
(Did the people of the towns feel secure against the coming of Our punishment by night while they were asleep Or, did the people of the towns feel secure against the coming of Our punishment in the forenoon while they were playing) (7:97-98)
فَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ
(so that there be no escape for them (from Allah's punishment)) meaning, it is not impossible for Allah, no matter what their situation.
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ
(Or that He may punish them where they fear it most) meaning, or Allah will take from them what they most fear, which is even more frightening, because when the thing you most fear to happen does happen, this is even worse. Hence Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said that,
أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ
(Or that He may punish them where they fear it most) means that Allah is saying: If I wish, I can take him after the death of his companion and after he has become frightened of that.' This was also reported from Mujahid, Ad-Dahhak, Qatadah and others. Then Allah says:
فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ
(Indeed your Lord is full of kindness, Most Merciful.) meaning, because He does not hasten to punish, as was reported in the Two Sahihs:
«لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللهِ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِم»
(No one is more patient in the case of hearing offensive speech than Allah, for they attribute to Him a son, while He alone is giving them provision and good health.) And it is also recorded in Two Sahihs,
«إِنَّ اللهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Allah will let the wrongdoer continue until, when He begins to punish him, He will never let him go.) Then the Messenger of Allah ﷺ recited:
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong. Indeed, His punishment is painful, (and) severe) (11:102) And Allah says:
وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَـلِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَىَّ الْمَصِيرُ
(And many a township did I give respite while it was given to wrongdoing. Then I punished it. And to Me is the (final) return (of all).) (22:48)
اللہ عز و جل کا غضب اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بد کردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے۔ بیخبر ی میں ان پر عذاب لاسکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے جیسے سورة تبارک میں فرمایا اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے ؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے۔ اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے، آتے، کھاتے، کماتے ہی پکڑ لے۔ سفر حضر رات دن جس وقت چاہے، پکڑ لے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسـُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ 97ۭ) 7۔ الاعراف :97) ، کیا بستی والے اس سے نڈر ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات میں ان کے سوتے سلاتے ہی آجائے۔ یا دن چڑھے ان کے کھیل کود کے وقت ہی آجائے۔ اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کرسکتا وہ ہارنے والا، تھکنے والا اور ناکام ہونے والا نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہوجائیں ڈر اور پھر پکڑ۔ ایک کو اچانک موت آجائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے۔ لیکن رب العلی، رب کائنات بڑا ہی رؤف و رحیم ہے اس لئے جلدی نہیں پکڑتا۔ بخاری و مسلم میں ہے خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہر تے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے۔ بخاری مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہوجاتا ہے پھر حضور ﷺ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) ، پڑھی۔ اور آیت میں ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیاں ہیں جنہیں میں نے کچھ مہلت دی لیکن آخر ان کے ظلم کی بنا پر انہیں گرفتار کرلیا۔ لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔
48
View Single
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ يَتَفَيَّؤُاْ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلۡيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدٗا لِّلَّهِ وَهُمۡ دَٰخِرُونَ
And have they not observed that the shadows of the things Allah has created incline to the right and to the left, in prostration to Allah, and that they are servile?
کیا انہوں نے ان (سایہ دار) چیزوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ نے پیدا فرمائی ہیں (کہ) ان کے سائے دائیں اور بائیں اَطراف سے اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں اور وہ (درحقیقت) طاعت و عاجزی کا اظہار کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Everything prostrates to Allah
Allah informs us about His might, majesty and pride, meaning that all things submit themselves to Him and every created being - animate and inanimate, as well as the responsible - humans and Jinns, and the angels - all humble themselves before Him. He tells us that everything that has a shadow leaning to the right and the left, i.e., in the morning and the evening, is by its shadow, prostrating to Allah. Mujahid said, "When the sun passes its zenith, everything prostrates to Allah, may He be glorified." This was also said by Qatadah, Ad-Dahhak and others.
لِلَّهِ وَهُمْ
(while they are humble) means, they are in a state of humility. Mujahid also said: "The prostration of every thing is its shadow", and he mentioned the mountains and said that their prostrations are their shadows. Abu Ghalib Ash-Shaybani said: "The waves of the sea are its prayers". It is as if reason is attributed to these inanimate objects when they are described as prostrating, so Allah says:
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مِن دَآبَّةٍ
(And to Allah prostrate all that are in the heavens and all that are in the earth, of the moving creatures) As Allah says:
وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَـلُهُم بِالْغُدُوِّ وَالاٌّصَالِ
(And to Allah (alone) all who are in the heavens and the earth fall in prostration, willingly or unwillingly, and so do their shadows in the mornings and in the afternoons.) (13:15)
وَالْمَلَـئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ
(and the angels, and they are not proud.) means, they prostrate to Allah and are not too proud to worship Him.
يَخَـفُونَ رَبَّهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ
(They fear their Lord above them) means, they prostrate out of fear of their Lord, may He be glorified.
وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(and they do what they are commanded.) meaning they continually obey Allah, doing what He tells them to do and avoiding that which He forbids.
عرش سے فرش تک اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بیکسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ 15۞{ السجدہ }) 13۔ الرعد :15) خوشی نا خوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آسکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔
49
View Single
وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن دَآبَّةٖ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ
And to Allah only prostrates whatsoever is in the heavens and whatsoever moves in the earth, and the angels – and they are not proud.
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے جملہ جاندار اور فرشتے، اللہ (ہی) کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ (ذرا بھی) غرور و تکبر نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
Everything prostrates to Allah
Allah informs us about His might, majesty and pride, meaning that all things submit themselves to Him and every created being - animate and inanimate, as well as the responsible - humans and Jinns, and the angels - all humble themselves before Him. He tells us that everything that has a shadow leaning to the right and the left, i.e., in the morning and the evening, is by its shadow, prostrating to Allah. Mujahid said, "When the sun passes its zenith, everything prostrates to Allah, may He be glorified." This was also said by Qatadah, Ad-Dahhak and others.
لِلَّهِ وَهُمْ
(while they are humble) means, they are in a state of humility. Mujahid also said: "The prostration of every thing is its shadow", and he mentioned the mountains and said that their prostrations are their shadows. Abu Ghalib Ash-Shaybani said: "The waves of the sea are its prayers". It is as if reason is attributed to these inanimate objects when they are described as prostrating, so Allah says:
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مِن دَآبَّةٍ
(And to Allah prostrate all that are in the heavens and all that are in the earth, of the moving creatures) As Allah says:
وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَـلُهُم بِالْغُدُوِّ وَالاٌّصَالِ
(And to Allah (alone) all who are in the heavens and the earth fall in prostration, willingly or unwillingly, and so do their shadows in the mornings and in the afternoons.) (13:15)
وَالْمَلَـئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ
(and the angels, and they are not proud.) means, they prostrate to Allah and are not too proud to worship Him.
يَخَـفُونَ رَبَّهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ
(They fear their Lord above them) means, they prostrate out of fear of their Lord, may He be glorified.
وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(and they do what they are commanded.) meaning they continually obey Allah, doing what He tells them to do and avoiding that which He forbids.
عرش سے فرش تک اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بیکسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ 15۞{ السجدہ }) 13۔ الرعد :15) خوشی نا خوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آسکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔
50
View Single
يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوۡقِهِمۡ وَيَفۡعَلُونَ مَا يُؤۡمَرُونَ۩
They bear upon themselves the fear of their Lord, and do only what they are commanded.
وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے (اسے) بجا لاتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Everything prostrates to Allah
Allah informs us about His might, majesty and pride, meaning that all things submit themselves to Him and every created being - animate and inanimate, as well as the responsible - humans and Jinns, and the angels - all humble themselves before Him. He tells us that everything that has a shadow leaning to the right and the left, i.e., in the morning and the evening, is by its shadow, prostrating to Allah. Mujahid said, "When the sun passes its zenith, everything prostrates to Allah, may He be glorified." This was also said by Qatadah, Ad-Dahhak and others.
لِلَّهِ وَهُمْ
(while they are humble) means, they are in a state of humility. Mujahid also said: "The prostration of every thing is its shadow", and he mentioned the mountains and said that their prostrations are their shadows. Abu Ghalib Ash-Shaybani said: "The waves of the sea are its prayers". It is as if reason is attributed to these inanimate objects when they are described as prostrating, so Allah says:
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مِن دَآبَّةٍ
(And to Allah prostrate all that are in the heavens and all that are in the earth, of the moving creatures) As Allah says:
وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَـلُهُم بِالْغُدُوِّ وَالاٌّصَالِ
(And to Allah (alone) all who are in the heavens and the earth fall in prostration, willingly or unwillingly, and so do their shadows in the mornings and in the afternoons.) (13:15)
وَالْمَلَـئِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ
(and the angels, and they are not proud.) means, they prostrate to Allah and are not too proud to worship Him.
يَخَـفُونَ رَبَّهُمْ مِّن فَوْقِهِمْ
(They fear their Lord above them) means, they prostrate out of fear of their Lord, may He be glorified.
وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(and they do what they are commanded.) meaning they continually obey Allah, doing what He tells them to do and avoiding that which He forbids.
عرش سے فرش تک اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام۔ جمادات و حیوانات، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات، اس کی فرماں بردار، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بیکسی کا ثبوت پیش کرنے والی، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی۔ اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ 15۞{ السجدہ }) 13۔ الرعد :15) خوشی نا خوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آسکتے اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔
51
View Single
۞وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓاْ إِلَٰهَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَإِيَّـٰيَ فَٱرۡهَبُونِ
And Allah has proclaimed, “Do not ascribe two Gods; indeed He is the only One God; therefore fear Me alone.”
اور اللہ نے فرمایا ہے: تم دو معبود مت بناؤ، بیشک وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے، اور تم مجھ ہی سے ڈرتے رہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah Alone is Deserving of Worship
Allah tells us that there is no god but He, and that no one else should be worshipped except Him, alone, without partners, for He is the Sovereign, Creator, and Lord of all things.
وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا
(His is the religion Wasiba) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Maymun bin Mahran, As-Suddi, Qatadah and others said that this means forever. It was also reported that Ibn `Abbas said, "It means obligatory." Mujahid said: "It means purely for Him," i.e., worship is due to Him Alone, from whoever is in the heavens and on earth. As Allah says:
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(Do they seek other than the religion of Allah, while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. And to Him shall they all be returned.) (3:83) This is in accordance with the opinion of Ibn `Abbas and `Ikrimah, which is that this Ayah is merely stating the case. According to the opinion of Mujahid, it is by way of instruction, i.e., it is saying: You had better fear associating partners in worship with Me, and be sincere in your obedience to Me. As Allah says:
أَلاَ لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ
(Surely, the pure religion (sincere devotion) is for Allah only.) (39:3) Then Allah tells us that He is the One Who has the power to benefit and harm, and that the provisions, blessings, good health and help, His servants enjoy are from His bounty and graciousness towards them.
ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَرُونَ
(Then, when harm touches you, to Him you cry aloud for help.) meaning because you know that none has the power to remove that harm except for Him, so when you are harmed, you turn to ask Him for help and beg Him for aid. As Allah says:
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا
(And when harm touches you at sea, those that you call upon vanish, except for Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful.)(17:67) Here, Allah tells us:
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءاتَيْنَـهُمْ
(Then, when He has removed the harm from you, behold! some of you associate others in worship with their Lord (Allah). So they are ungrateful for that which We have given them!) (16:54-55) It was said that the Lam here (translated as "So") is an indicator of sequence, or that it serves an explanatory function, meaning, `We decreed that they would conceal the truth and deny the blessings that Allah has bestowed upon them. He is the One Who bestows blessings and the One Who removes distress.' Then Allah threatens them, saying:
فَتَمَتَّعُواْ
(Then enjoy yourselves) meaning, do what you like and enjoy what you have for a little while.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(but you will soon come to know.) meaning the consequences of that.
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آجاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کردی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا۔
52
View Single
وَلَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًاۚ أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ
And to Him only belongs all whatever is in the heavens and in the earth, and obeying Him only is obligatory; so will you fear anyone other than Allah?
اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور (سب کے لئے) اسی کی فرمانبرداری واجب ہے۔ تو کیا تم غیر اَز خدا (کسی) سے ڈرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah Alone is Deserving of Worship
Allah tells us that there is no god but He, and that no one else should be worshipped except Him, alone, without partners, for He is the Sovereign, Creator, and Lord of all things.
وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا
(His is the religion Wasiba) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Maymun bin Mahran, As-Suddi, Qatadah and others said that this means forever. It was also reported that Ibn `Abbas said, "It means obligatory." Mujahid said: "It means purely for Him," i.e., worship is due to Him Alone, from whoever is in the heavens and on earth. As Allah says:
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(Do they seek other than the religion of Allah, while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. And to Him shall they all be returned.) (3:83) This is in accordance with the opinion of Ibn `Abbas and `Ikrimah, which is that this Ayah is merely stating the case. According to the opinion of Mujahid, it is by way of instruction, i.e., it is saying: You had better fear associating partners in worship with Me, and be sincere in your obedience to Me. As Allah says:
أَلاَ لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ
(Surely, the pure religion (sincere devotion) is for Allah only.) (39:3) Then Allah tells us that He is the One Who has the power to benefit and harm, and that the provisions, blessings, good health and help, His servants enjoy are from His bounty and graciousness towards them.
ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَرُونَ
(Then, when harm touches you, to Him you cry aloud for help.) meaning because you know that none has the power to remove that harm except for Him, so when you are harmed, you turn to ask Him for help and beg Him for aid. As Allah says:
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا
(And when harm touches you at sea, those that you call upon vanish, except for Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful.)(17:67) Here, Allah tells us:
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءاتَيْنَـهُمْ
(Then, when He has removed the harm from you, behold! some of you associate others in worship with their Lord (Allah). So they are ungrateful for that which We have given them!) (16:54-55) It was said that the Lam here (translated as "So") is an indicator of sequence, or that it serves an explanatory function, meaning, `We decreed that they would conceal the truth and deny the blessings that Allah has bestowed upon them. He is the One Who bestows blessings and the One Who removes distress.' Then Allah threatens them, saying:
فَتَمَتَّعُواْ
(Then enjoy yourselves) meaning, do what you like and enjoy what you have for a little while.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(but you will soon come to know.) meaning the consequences of that.
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آجاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کردی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا۔
53
View Single
وَمَا بِكُم مِّن نِّعۡمَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيۡهِ تَجۡـَٔرُونَ
And whatever blessings you have, are all from Allah – then whenever misfortune reaches you, towards Him only do you seek refuge.
اور تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے سو وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی کے آگے گریہ و زاری کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Allah Alone is Deserving of Worship
Allah tells us that there is no god but He, and that no one else should be worshipped except Him, alone, without partners, for He is the Sovereign, Creator, and Lord of all things.
وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا
(His is the religion Wasiba) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Maymun bin Mahran, As-Suddi, Qatadah and others said that this means forever. It was also reported that Ibn `Abbas said, "It means obligatory." Mujahid said: "It means purely for Him," i.e., worship is due to Him Alone, from whoever is in the heavens and on earth. As Allah says:
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(Do they seek other than the religion of Allah, while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. And to Him shall they all be returned.) (3:83) This is in accordance with the opinion of Ibn `Abbas and `Ikrimah, which is that this Ayah is merely stating the case. According to the opinion of Mujahid, it is by way of instruction, i.e., it is saying: You had better fear associating partners in worship with Me, and be sincere in your obedience to Me. As Allah says:
أَلاَ لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ
(Surely, the pure religion (sincere devotion) is for Allah only.) (39:3) Then Allah tells us that He is the One Who has the power to benefit and harm, and that the provisions, blessings, good health and help, His servants enjoy are from His bounty and graciousness towards them.
ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَرُونَ
(Then, when harm touches you, to Him you cry aloud for help.) meaning because you know that none has the power to remove that harm except for Him, so when you are harmed, you turn to ask Him for help and beg Him for aid. As Allah says:
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا
(And when harm touches you at sea, those that you call upon vanish, except for Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful.)(17:67) Here, Allah tells us:
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءاتَيْنَـهُمْ
(Then, when He has removed the harm from you, behold! some of you associate others in worship with their Lord (Allah). So they are ungrateful for that which We have given them!) (16:54-55) It was said that the Lam here (translated as "So") is an indicator of sequence, or that it serves an explanatory function, meaning, `We decreed that they would conceal the truth and deny the blessings that Allah has bestowed upon them. He is the One Who bestows blessings and the One Who removes distress.' Then Allah threatens them, saying:
فَتَمَتَّعُواْ
(Then enjoy yourselves) meaning, do what you like and enjoy what you have for a little while.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(but you will soon come to know.) meaning the consequences of that.
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آجاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کردی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا۔
54
View Single
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمۡ إِذَا فَرِيقٞ مِّنكُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ
And then, when He averts the misfortune from you, a group among you starts ascribing partners to their Lord!
پھر جب اللہ اس تکلیف کو تم سے دور فرما دیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اس وقت اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Alone is Deserving of Worship
Allah tells us that there is no god but He, and that no one else should be worshipped except Him, alone, without partners, for He is the Sovereign, Creator, and Lord of all things.
وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا
(His is the religion Wasiba) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Maymun bin Mahran, As-Suddi, Qatadah and others said that this means forever. It was also reported that Ibn `Abbas said, "It means obligatory." Mujahid said: "It means purely for Him," i.e., worship is due to Him Alone, from whoever is in the heavens and on earth. As Allah says:
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(Do they seek other than the religion of Allah, while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. And to Him shall they all be returned.) (3:83) This is in accordance with the opinion of Ibn `Abbas and `Ikrimah, which is that this Ayah is merely stating the case. According to the opinion of Mujahid, it is by way of instruction, i.e., it is saying: You had better fear associating partners in worship with Me, and be sincere in your obedience to Me. As Allah says:
أَلاَ لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ
(Surely, the pure religion (sincere devotion) is for Allah only.) (39:3) Then Allah tells us that He is the One Who has the power to benefit and harm, and that the provisions, blessings, good health and help, His servants enjoy are from His bounty and graciousness towards them.
ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَرُونَ
(Then, when harm touches you, to Him you cry aloud for help.) meaning because you know that none has the power to remove that harm except for Him, so when you are harmed, you turn to ask Him for help and beg Him for aid. As Allah says:
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا
(And when harm touches you at sea, those that you call upon vanish, except for Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful.)(17:67) Here, Allah tells us:
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءاتَيْنَـهُمْ
(Then, when He has removed the harm from you, behold! some of you associate others in worship with their Lord (Allah). So they are ungrateful for that which We have given them!) (16:54-55) It was said that the Lam here (translated as "So") is an indicator of sequence, or that it serves an explanatory function, meaning, `We decreed that they would conceal the truth and deny the blessings that Allah has bestowed upon them. He is the One Who bestows blessings and the One Who removes distress.' Then Allah threatens them, saying:
فَتَمَتَّعُواْ
(Then enjoy yourselves) meaning, do what you like and enjoy what you have for a little while.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(but you will soon come to know.) meaning the consequences of that.
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آجاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کردی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا۔
55
View Single
لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡۚ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ
In order to deny the favours We have given them; so enjoy a little; for you will soon come to know.
(یہ کفر و شرک اس لئے) تاکہ وہ ان (نعمتوں) کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھی ہیں، پس (اے مشرکو! چند روزہ) فائدہ اٹھا لو پھر تم عنقریب (اپنے انجام کو) جان لو گے
Tafsir Ibn Kathir
Allah Alone is Deserving of Worship
Allah tells us that there is no god but He, and that no one else should be worshipped except Him, alone, without partners, for He is the Sovereign, Creator, and Lord of all things.
وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا
(His is the religion Wasiba) Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Maymun bin Mahran, As-Suddi, Qatadah and others said that this means forever. It was also reported that Ibn `Abbas said, "It means obligatory." Mujahid said: "It means purely for Him," i.e., worship is due to Him Alone, from whoever is in the heavens and on earth. As Allah says:
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(Do they seek other than the religion of Allah, while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. And to Him shall they all be returned.) (3:83) This is in accordance with the opinion of Ibn `Abbas and `Ikrimah, which is that this Ayah is merely stating the case. According to the opinion of Mujahid, it is by way of instruction, i.e., it is saying: You had better fear associating partners in worship with Me, and be sincere in your obedience to Me. As Allah says:
أَلاَ لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ
(Surely, the pure religion (sincere devotion) is for Allah only.) (39:3) Then Allah tells us that He is the One Who has the power to benefit and harm, and that the provisions, blessings, good health and help, His servants enjoy are from His bounty and graciousness towards them.
ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَرُونَ
(Then, when harm touches you, to Him you cry aloud for help.) meaning because you know that none has the power to remove that harm except for Him, so when you are harmed, you turn to ask Him for help and beg Him for aid. As Allah says:
وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا
(And when harm touches you at sea, those that you call upon vanish, except for Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful.)(17:67) Here, Allah tells us:
ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُواْ بِمَآ ءاتَيْنَـهُمْ
(Then, when He has removed the harm from you, behold! some of you associate others in worship with their Lord (Allah). So they are ungrateful for that which We have given them!) (16:54-55) It was said that the Lam here (translated as "So") is an indicator of sequence, or that it serves an explanatory function, meaning, `We decreed that they would conceal the truth and deny the blessings that Allah has bestowed upon them. He is the One Who bestows blessings and the One Who removes distress.' Then Allah threatens them, saying:
فَتَمَتَّعُواْ
(Then enjoy yourselves) meaning, do what you like and enjoy what you have for a little while.
فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
(but you will soon come to know.) meaning the consequences of that.
ہر چیز کا واحد مالک وہی ہے اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، وہ لا شریک ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، مالک ہے، پالنہار ہے۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سو دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں۔ آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے، خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو۔ دین خالص صرف اللہ ہی کا ہے آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں۔ اور اب بھی ان نعمتوں کے پالنے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو۔ خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں، بتوں، فقیروں، ولیوں، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آجاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کردی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پردے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالانکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا۔
56
View Single
وَيَجۡعَلُونَ لِمَا لَا يَعۡلَمُونَ نَصِيبٗا مِّمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡۗ تَٱللَّهِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَفۡتَرُونَ
And for things unknown, they assign a portion of the sustenance We have given them; by Allah – you will certainly be questioned regarding all that you used to fabricate.
اور یہ ان (بتوں) کے لئے جن (کی حقیقت) کو وہ خود بھی نہیں جانتے اس رزق میں سے حصہ مقرر کرتے ہیں جو ہم نے انہیں عطا کر رکھا ہے۔ اللہ کی قسم! تم سے اس بہتان کی نسبت ضرور پوچھ گچھ کی جائے گی جو تم باندھا کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Among the Behavior of the Idolators was vowing to Things that Allah had provided for Them to their gods
Allah tells us about some of the heinous deeds of those who used to perform baseless worship of other gods besides Him, such as idols and statues, with no grounds for doing so. They gave their idols a share of that which Allah had provided for them,
فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(They say: "This is for Allah," according to their claim, "and this is for our partners." But the share of their "partners" is not directed to Allah, while the share of Allah is directed to their "partners"! How evil is that with which they judge) (6:136) That is they assigned a share for their idols as well as Allah, but they gave preference to their gods over Him, so Allah swore by His Almighty Self to question them about these lies and fabrications. He will most certainly call them to account for it and give them the unrelenting punishment in the fire of Hell. So He says,
تَاللَّهِ لَتُسْـَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ
(By Allah, you shall certainly be questioned about (all) that you used to fabricate.) Then Allah tells us how they used to regard the angels, who are servants of the Most Merciful, as being female, and that they considered them to be Allah's daughters, and they worshipped them with Him. In all of the above, they made very serious errors. They attributed offspring to Him when He has no offspring, then they assigned Him the kind of offspring they regarded as inferior, namely daughters, which they did not even want for themselves, as He said:
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى - تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى
(Are the males for you and the females for Him That is indeed an unfair division!) (53:21-22) And Allah says here:
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَـتِ سُبْحَانَهُ
(And they assign daughters unto Allah! Glorified (and Exalted) is He.) meaning, above their claims and fabrications.
أَلاَ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ - وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
(But no! It is from their falsehood that they say: "Allah has begotten." They are certainly liars! Has He (then) chosen daughters rather than sons What is the matter with you How do you decide) (37:151-154)
وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ
(And for themselves, what they desire;) meaning they choose the males for themselves, rejecting the daughters that they assign to Allah. Exalted be Allah far above what they say!
The Idolators' Abhorrence for Daughters
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالاٍّنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا
(And when the news of (the birth of) a female (child) is brought to any of them, his face becomes dark) meaning with distress and grief.
وَهُوَ كَظِيمٌ
(and he is filled with inner grief!) meaning he is silent because of the intensity of the grief he feels.
يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ
(He hides himself from the people) meaning he does not want anyone to see him.
مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(because of the evil of that whereof he has been informed. Shall he keep her with dishonor or bury her in the earth) meaning should he keep her, humiliating her, not letting her inherit from him and not taking care of her, preferring his male children over her
أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(or bury her in the earth) meaning bury her alive, as they used to do during the days of ignorance. How could they dislike something so intensely, yet attribute it to Allah
أَلاَ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Certainly, evil is their decision.) meaning how evil are the words they say, the way they want to share things out and the things they attribute to Him. As Allah says:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدّاً وَهُوَ كَظِيمٌ
(And if one of them is informed of the news of (the birth of a girl) that which he sets forth as a parable to the Most Gracious (Allah), his face becomes dark, and he is filled with grief!) (43:17). Here, Allah says:
لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ
(For those who do not believe in the Hereafter there is an evil description,) meaning, only imperfection is to be attributed to
وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الاٌّعْلَى
(and for Allah is the highest description) meaning He is absolutely perfect in all ways and this absolute perfection is His Alone.
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(And He is the All-Mighty, the All-Wise.)
باز پرس لازمی ہوگی مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لئے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لئے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لئے اولاد ہو ؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے ؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑجائے، زبان بند ہوجائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھو نٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لئے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں ؟ کتنی بےحیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لئے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لئے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لئے ہے اللہ کے لئے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
57
View Single
وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ ٱلۡبَنَٰتِ سُبۡحَٰنَهُۥ وَلَهُم مَّا يَشۡتَهُونَ
And they assign daughters to Allah – Purity is to Him! – and assign for themselves what they wish.
اور یہ (کفار و مشرکین) اللہ کے لئے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں وہ (اس سے) پاک ہے اور اپنے لئے وہ کچھ (یعنی بیٹے) جن کی وہ خواہش کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Among the Behavior of the Idolators was vowing to Things that Allah had provided for Them to their gods
Allah tells us about some of the heinous deeds of those who used to perform baseless worship of other gods besides Him, such as idols and statues, with no grounds for doing so. They gave their idols a share of that which Allah had provided for them,
فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(They say: "This is for Allah," according to their claim, "and this is for our partners." But the share of their "partners" is not directed to Allah, while the share of Allah is directed to their "partners"! How evil is that with which they judge) (6:136) That is they assigned a share for their idols as well as Allah, but they gave preference to their gods over Him, so Allah swore by His Almighty Self to question them about these lies and fabrications. He will most certainly call them to account for it and give them the unrelenting punishment in the fire of Hell. So He says,
تَاللَّهِ لَتُسْـَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ
(By Allah, you shall certainly be questioned about (all) that you used to fabricate.) Then Allah tells us how they used to regard the angels, who are servants of the Most Merciful, as being female, and that they considered them to be Allah's daughters, and they worshipped them with Him. In all of the above, they made very serious errors. They attributed offspring to Him when He has no offspring, then they assigned Him the kind of offspring they regarded as inferior, namely daughters, which they did not even want for themselves, as He said:
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى - تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى
(Are the males for you and the females for Him That is indeed an unfair division!) (53:21-22) And Allah says here:
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَـتِ سُبْحَانَهُ
(And they assign daughters unto Allah! Glorified (and Exalted) is He.) meaning, above their claims and fabrications.
أَلاَ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ - وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
(But no! It is from their falsehood that they say: "Allah has begotten." They are certainly liars! Has He (then) chosen daughters rather than sons What is the matter with you How do you decide) (37:151-154)
وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ
(And for themselves, what they desire;) meaning they choose the males for themselves, rejecting the daughters that they assign to Allah. Exalted be Allah far above what they say!
The Idolators' Abhorrence for Daughters
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالاٍّنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا
(And when the news of (the birth of) a female (child) is brought to any of them, his face becomes dark) meaning with distress and grief.
وَهُوَ كَظِيمٌ
(and he is filled with inner grief!) meaning he is silent because of the intensity of the grief he feels.
يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ
(He hides himself from the people) meaning he does not want anyone to see him.
مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(because of the evil of that whereof he has been informed. Shall he keep her with dishonor or bury her in the earth) meaning should he keep her, humiliating her, not letting her inherit from him and not taking care of her, preferring his male children over her
أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(or bury her in the earth) meaning bury her alive, as they used to do during the days of ignorance. How could they dislike something so intensely, yet attribute it to Allah
أَلاَ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Certainly, evil is their decision.) meaning how evil are the words they say, the way they want to share things out and the things they attribute to Him. As Allah says:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدّاً وَهُوَ كَظِيمٌ
(And if one of them is informed of the news of (the birth of a girl) that which he sets forth as a parable to the Most Gracious (Allah), his face becomes dark, and he is filled with grief!) (43:17). Here, Allah says:
لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ
(For those who do not believe in the Hereafter there is an evil description,) meaning, only imperfection is to be attributed to
وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الاٌّعْلَى
(and for Allah is the highest description) meaning He is absolutely perfect in all ways and this absolute perfection is His Alone.
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(And He is the All-Mighty, the All-Wise.)
باز پرس لازمی ہوگی مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لئے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لئے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لئے اولاد ہو ؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے ؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑجائے، زبان بند ہوجائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھو نٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لئے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں ؟ کتنی بےحیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لئے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لئے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لئے ہے اللہ کے لئے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
58
View Single
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلۡأُنثَىٰ ظَلَّ وَجۡهُهُۥ مُسۡوَدّٗا وَهُوَ كَظِيمٞ
And when one among of them receives the glad tidings of a daughter, his face turns black for the day, and he remains seething.
اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Among the Behavior of the Idolators was vowing to Things that Allah had provided for Them to their gods
Allah tells us about some of the heinous deeds of those who used to perform baseless worship of other gods besides Him, such as idols and statues, with no grounds for doing so. They gave their idols a share of that which Allah had provided for them,
فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(They say: "This is for Allah," according to their claim, "and this is for our partners." But the share of their "partners" is not directed to Allah, while the share of Allah is directed to their "partners"! How evil is that with which they judge) (6:136) That is they assigned a share for their idols as well as Allah, but they gave preference to their gods over Him, so Allah swore by His Almighty Self to question them about these lies and fabrications. He will most certainly call them to account for it and give them the unrelenting punishment in the fire of Hell. So He says,
تَاللَّهِ لَتُسْـَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ
(By Allah, you shall certainly be questioned about (all) that you used to fabricate.) Then Allah tells us how they used to regard the angels, who are servants of the Most Merciful, as being female, and that they considered them to be Allah's daughters, and they worshipped them with Him. In all of the above, they made very serious errors. They attributed offspring to Him when He has no offspring, then they assigned Him the kind of offspring they regarded as inferior, namely daughters, which they did not even want for themselves, as He said:
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى - تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى
(Are the males for you and the females for Him That is indeed an unfair division!) (53:21-22) And Allah says here:
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَـتِ سُبْحَانَهُ
(And they assign daughters unto Allah! Glorified (and Exalted) is He.) meaning, above their claims and fabrications.
أَلاَ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ - وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
(But no! It is from their falsehood that they say: "Allah has begotten." They are certainly liars! Has He (then) chosen daughters rather than sons What is the matter with you How do you decide) (37:151-154)
وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ
(And for themselves, what they desire;) meaning they choose the males for themselves, rejecting the daughters that they assign to Allah. Exalted be Allah far above what they say!
The Idolators' Abhorrence for Daughters
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالاٍّنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا
(And when the news of (the birth of) a female (child) is brought to any of them, his face becomes dark) meaning with distress and grief.
وَهُوَ كَظِيمٌ
(and he is filled with inner grief!) meaning he is silent because of the intensity of the grief he feels.
يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ
(He hides himself from the people) meaning he does not want anyone to see him.
مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(because of the evil of that whereof he has been informed. Shall he keep her with dishonor or bury her in the earth) meaning should he keep her, humiliating her, not letting her inherit from him and not taking care of her, preferring his male children over her
أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(or bury her in the earth) meaning bury her alive, as they used to do during the days of ignorance. How could they dislike something so intensely, yet attribute it to Allah
أَلاَ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Certainly, evil is their decision.) meaning how evil are the words they say, the way they want to share things out and the things they attribute to Him. As Allah says:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدّاً وَهُوَ كَظِيمٌ
(And if one of them is informed of the news of (the birth of a girl) that which he sets forth as a parable to the Most Gracious (Allah), his face becomes dark, and he is filled with grief!) (43:17). Here, Allah says:
لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ
(For those who do not believe in the Hereafter there is an evil description,) meaning, only imperfection is to be attributed to
وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الاٌّعْلَى
(and for Allah is the highest description) meaning He is absolutely perfect in all ways and this absolute perfection is His Alone.
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(And He is the All-Mighty, the All-Wise.)
باز پرس لازمی ہوگی مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لئے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لئے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لئے اولاد ہو ؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے ؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑجائے، زبان بند ہوجائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھو نٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لئے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں ؟ کتنی بےحیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لئے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لئے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لئے ہے اللہ کے لئے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
59
View Single
يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓۚ أَيُمۡسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمۡ يَدُسُّهُۥ فِي ٱلتُّرَابِۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ
Hiding from the people because of the evil of the tidings; “Will he keep her with disgrace, or bury her beneath the earth?”; pay heed! Very evil is the judgement they impose!
وہ لوگوں سے چُھپا پھرتا ہے (بزعمِ خویش) اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Among the Behavior of the Idolators was vowing to Things that Allah had provided for Them to their gods
Allah tells us about some of the heinous deeds of those who used to perform baseless worship of other gods besides Him, such as idols and statues, with no grounds for doing so. They gave their idols a share of that which Allah had provided for them,
فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(They say: "This is for Allah," according to their claim, "and this is for our partners." But the share of their "partners" is not directed to Allah, while the share of Allah is directed to their "partners"! How evil is that with which they judge) (6:136) That is they assigned a share for their idols as well as Allah, but they gave preference to their gods over Him, so Allah swore by His Almighty Self to question them about these lies and fabrications. He will most certainly call them to account for it and give them the unrelenting punishment in the fire of Hell. So He says,
تَاللَّهِ لَتُسْـَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ
(By Allah, you shall certainly be questioned about (all) that you used to fabricate.) Then Allah tells us how they used to regard the angels, who are servants of the Most Merciful, as being female, and that they considered them to be Allah's daughters, and they worshipped them with Him. In all of the above, they made very serious errors. They attributed offspring to Him when He has no offspring, then they assigned Him the kind of offspring they regarded as inferior, namely daughters, which they did not even want for themselves, as He said:
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى - تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى
(Are the males for you and the females for Him That is indeed an unfair division!) (53:21-22) And Allah says here:
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَـتِ سُبْحَانَهُ
(And they assign daughters unto Allah! Glorified (and Exalted) is He.) meaning, above their claims and fabrications.
أَلاَ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ - وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
(But no! It is from their falsehood that they say: "Allah has begotten." They are certainly liars! Has He (then) chosen daughters rather than sons What is the matter with you How do you decide) (37:151-154)
وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ
(And for themselves, what they desire;) meaning they choose the males for themselves, rejecting the daughters that they assign to Allah. Exalted be Allah far above what they say!
The Idolators' Abhorrence for Daughters
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالاٍّنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا
(And when the news of (the birth of) a female (child) is brought to any of them, his face becomes dark) meaning with distress and grief.
وَهُوَ كَظِيمٌ
(and he is filled with inner grief!) meaning he is silent because of the intensity of the grief he feels.
يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ
(He hides himself from the people) meaning he does not want anyone to see him.
مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(because of the evil of that whereof he has been informed. Shall he keep her with dishonor or bury her in the earth) meaning should he keep her, humiliating her, not letting her inherit from him and not taking care of her, preferring his male children over her
أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(or bury her in the earth) meaning bury her alive, as they used to do during the days of ignorance. How could they dislike something so intensely, yet attribute it to Allah
أَلاَ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Certainly, evil is their decision.) meaning how evil are the words they say, the way they want to share things out and the things they attribute to Him. As Allah says:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدّاً وَهُوَ كَظِيمٌ
(And if one of them is informed of the news of (the birth of a girl) that which he sets forth as a parable to the Most Gracious (Allah), his face becomes dark, and he is filled with grief!) (43:17). Here, Allah says:
لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ
(For those who do not believe in the Hereafter there is an evil description,) meaning, only imperfection is to be attributed to
وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الاٌّعْلَى
(and for Allah is the highest description) meaning He is absolutely perfect in all ways and this absolute perfection is His Alone.
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(And He is the All-Mighty, the All-Wise.)
باز پرس لازمی ہوگی مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لئے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لئے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لئے اولاد ہو ؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے ؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑجائے، زبان بند ہوجائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھو نٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لئے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں ؟ کتنی بےحیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لئے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لئے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لئے ہے اللہ کے لئے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
60
View Single
لِلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوۡءِۖ وَلِلَّهِ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
Those who do not believe in the Hereafter, for them only is the evil state; and the Majesty of Allah is Supreme; and He only is the Most Honourable, the Wise.
ان لوگوں کی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (یہ) نہایت بری صفت ہے، اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Among the Behavior of the Idolators was vowing to Things that Allah had provided for Them to their gods
Allah tells us about some of the heinous deeds of those who used to perform baseless worship of other gods besides Him, such as idols and statues, with no grounds for doing so. They gave their idols a share of that which Allah had provided for them,
فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(They say: "This is for Allah," according to their claim, "and this is for our partners." But the share of their "partners" is not directed to Allah, while the share of Allah is directed to their "partners"! How evil is that with which they judge) (6:136) That is they assigned a share for their idols as well as Allah, but they gave preference to their gods over Him, so Allah swore by His Almighty Self to question them about these lies and fabrications. He will most certainly call them to account for it and give them the unrelenting punishment in the fire of Hell. So He says,
تَاللَّهِ لَتُسْـَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ
(By Allah, you shall certainly be questioned about (all) that you used to fabricate.) Then Allah tells us how they used to regard the angels, who are servants of the Most Merciful, as being female, and that they considered them to be Allah's daughters, and they worshipped them with Him. In all of the above, they made very serious errors. They attributed offspring to Him when He has no offspring, then they assigned Him the kind of offspring they regarded as inferior, namely daughters, which they did not even want for themselves, as He said:
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى - تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى
(Are the males for you and the females for Him That is indeed an unfair division!) (53:21-22) And Allah says here:
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَـتِ سُبْحَانَهُ
(And they assign daughters unto Allah! Glorified (and Exalted) is He.) meaning, above their claims and fabrications.
أَلاَ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ - وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
(But no! It is from their falsehood that they say: "Allah has begotten." They are certainly liars! Has He (then) chosen daughters rather than sons What is the matter with you How do you decide) (37:151-154)
وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُونَ
(And for themselves, what they desire;) meaning they choose the males for themselves, rejecting the daughters that they assign to Allah. Exalted be Allah far above what they say!
The Idolators' Abhorrence for Daughters
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالاٍّنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا
(And when the news of (the birth of) a female (child) is brought to any of them, his face becomes dark) meaning with distress and grief.
وَهُوَ كَظِيمٌ
(and he is filled with inner grief!) meaning he is silent because of the intensity of the grief he feels.
يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ
(He hides himself from the people) meaning he does not want anyone to see him.
مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(because of the evil of that whereof he has been informed. Shall he keep her with dishonor or bury her in the earth) meaning should he keep her, humiliating her, not letting her inherit from him and not taking care of her, preferring his male children over her
أَمْ يَدُسُّهُ فِى التُّرَابِ
(or bury her in the earth) meaning bury her alive, as they used to do during the days of ignorance. How could they dislike something so intensely, yet attribute it to Allah
أَلاَ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
(Certainly, evil is their decision.) meaning how evil are the words they say, the way they want to share things out and the things they attribute to Him. As Allah says:
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدّاً وَهُوَ كَظِيمٌ
(And if one of them is informed of the news of (the birth of a girl) that which he sets forth as a parable to the Most Gracious (Allah), his face becomes dark, and he is filled with grief!) (43:17). Here, Allah says:
لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالاٌّخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ
(For those who do not believe in the Hereafter there is an evil description,) meaning, only imperfection is to be attributed to
وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الاٌّعْلَى
(and for Allah is the highest description) meaning He is absolutely perfect in all ways and this absolute perfection is His Alone.
وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(And He is the All-Mighty, the All-Wise.)
باز پرس لازمی ہوگی مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہوجائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہوجائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہوگی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا۔ جہنم کی آگ ہوگی اور یہ ہوں گے۔ پھر ان کی دوسری بےانصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے۔ یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے اول تو اللہ کے لئے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے، پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لئے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں۔ کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لئے اولاد ہو ؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے ؟ اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے۔ انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑجائے، زبان بند ہوجائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھو نٹ پی کر خاموش ہوجائے۔ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے۔ اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی۔ یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لئے یہی چیز ثابت کرتے ہیں۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں ؟ کتنی بےحیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لئے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لئے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لئے ہے اللہ کے لئے کمال ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
61
View Single
وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلۡمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ
Were Allah to seize people on account of their injustices, He would not have left anyone walking on the earth, but He gives them respite up to an appointed promise; then when their promise comes they cannot go back one moment nor come forward.
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے عوض (فوراً) پکڑ لیا کرتا تو اس (زمین) پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں مقررہ میعاد تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah does not immediately punish for Disobedience
Allah tells us about His patience with His creatures, even though they do wrong. If He were to punish them for what they have done, there would be no living creature left on the face of the earth, i.e., He would have destroyed every animal on earth after destroying the sons of Adam. But the Lord - magnificent is His glory - is forbearing and He covers people's faults. He waits until the appointed time, i.e., He does not rush to punish them. If He did, then there would be no one left. Ibn Jarir reported that Abu Salamah said: "Abu Hurayrah heard a man saying, `The wrongdoer harms no one but himself.' He turned to him and said, `That is not true, by Allah! Even the buzzard dies in its nest because of the sins of the wrongdoer."'
They attribute to Allah what They Themselves dislike
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ
(They assign to Allah that which they dislike (for themselves),) meaning, daughters, and partners, who are merely His servants, yet none of them would like to have someone sharing in his wealth.
وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الْحُسْنَى
(and their tongues assert the lie that the better things will be theirs.) This is a denunciation of their claims that better things will be theirs in this world, and in the Hereafter. Allah tells us about what some of them said, as in the Ayat:
وَلَئِنْ أَذَقْنَا الإِنْسَـنَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ - وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ
(And if We give man a taste of mercy from Us, and then take it from him, verily! He is hopelessly, ungrateful. But if We let him taste of goodness after harm has touched him, he is sure to say: "Ills have departed from me." Surely, he is cheerful, and boastful (ungrateful to Allah).) (11:9-10)
وَلَئِنْ أَذَقْنَـهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـذَا لِى وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّجِّعْتُ إِلَى رَبِّى إِنَّ لِى عِندَهُ لَلْحُسْنَى فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ
(And if We give him a taste of mercy from Us, after some adversity has touched him, he is sure to say: "This is due to me; I do not think that the Hour will occur. But if I am brought back to my Lord, then , with Him, there will surely be the best for me." Then, We will certainly show the disbelievers what they have done, and We shall make them taste severe torment.) (41:50)
أَفَرَأَيْتَ الَّذِى كَفَرَ بِـَايَـتِنَا وَقَالَ لأوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَداً
(Have you seen the one who disbelieved in Our Ayat and said: "I shall certainly be given wealth and children (if I came back to life).") (19:77) Allah tells us about one of the two men:
دَخَلَجَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـذِهِ أَبَداًوَمَآ أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَى رَبِّى لأَجِدَنَّ خَيْراً مِّنْهَا مُنْقَلَباً
(He went into his garden while wronging himself. He said: "I do not think that this will ever perish. And I do not think that the Hour will ever come, and if indeed I am brought back to my Lord, (on the Day of Resurrection), then surely, I shall find better than this when I return to Him.") (18:35-36) These people combined bad deeds with the false hopes of being rewarded with good for those bad deeds, which is impossible. Thus Allah refuted their false hopes, when He said:
لاَ جَرَمَ
(No doubt), meaning, truly it is inevitable that
أَنَّ لَهُمُ الْنَّارَ
(for them is the Fire), meaning, on the Day of Resurrection.
وَأَنَّهُمْ مُّفْرَطُونَ
(and they will be forsaken). Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said: "This means they will be forgotten and neglected there." This is like the Ayah:
فَالْيَوْمَ نَنسَـهُمْ كَمَا نَسُواْ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَـذَا
(So today We forget them just as they forgot meeting on this day of theirs.) (7:51). It was also reported from Qatadah that,
مُّفْرَطُونَ
(they will be forsaken) means `they are hastened into the Fire.' There is no contradiction between the two, because they will be hastened into the Fire on the Day of Resurrection, then they will be forgotten there, i.e., left to dwell there for eternity.
وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہوجائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آجائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، در گزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں۔ ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے۔ اپنے لئے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لئے یہ سب روا رکھیں۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لئے ہے۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لئے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا۔ سورة کہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہونے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دو بارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا۔ کام برے کریں آ زو نیکی کی رکھیں۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لئے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا۔ پس انکی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی۔ اللہ فرماتا ہے دراصل ان کے لئے آتش دوزخ تیار ہے۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہوجائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں۔
62
View Single
وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكۡرَهُونَۚ وَتَصِفُ أَلۡسِنَتُهُمُ ٱلۡكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفۡرَطُونَ
And they assign to Allah that which is abhorred by themselves, and their tongues speak the lies that goodness is for them; so it occurred that for them is the fire, and they have crossed the limits.
اور وہ اللہ کے لئے وہ کچھ مقرر کرتے ہیں جو (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں کہ ان کے لئے بھلائی ہے، (ہرگز نہیں!) حقیقت یہ ہے کہ ان کے لئے دوزخ ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے پہلے بھیجے جائیں گے (اور اس میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیئے جائیں گے)
Tafsir Ibn Kathir
Allah does not immediately punish for Disobedience
Allah tells us about His patience with His creatures, even though they do wrong. If He were to punish them for what they have done, there would be no living creature left on the face of the earth, i.e., He would have destroyed every animal on earth after destroying the sons of Adam. But the Lord - magnificent is His glory - is forbearing and He covers people's faults. He waits until the appointed time, i.e., He does not rush to punish them. If He did, then there would be no one left. Ibn Jarir reported that Abu Salamah said: "Abu Hurayrah heard a man saying, `The wrongdoer harms no one but himself.' He turned to him and said, `That is not true, by Allah! Even the buzzard dies in its nest because of the sins of the wrongdoer."'
They attribute to Allah what They Themselves dislike
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ
(They assign to Allah that which they dislike (for themselves),) meaning, daughters, and partners, who are merely His servants, yet none of them would like to have someone sharing in his wealth.
وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الْحُسْنَى
(and their tongues assert the lie that the better things will be theirs.) This is a denunciation of their claims that better things will be theirs in this world, and in the Hereafter. Allah tells us about what some of them said, as in the Ayat:
وَلَئِنْ أَذَقْنَا الإِنْسَـنَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ - وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ
(And if We give man a taste of mercy from Us, and then take it from him, verily! He is hopelessly, ungrateful. But if We let him taste of goodness after harm has touched him, he is sure to say: "Ills have departed from me." Surely, he is cheerful, and boastful (ungrateful to Allah).) (11:9-10)
وَلَئِنْ أَذَقْنَـهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـذَا لِى وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّجِّعْتُ إِلَى رَبِّى إِنَّ لِى عِندَهُ لَلْحُسْنَى فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ
(And if We give him a taste of mercy from Us, after some adversity has touched him, he is sure to say: "This is due to me; I do not think that the Hour will occur. But if I am brought back to my Lord, then , with Him, there will surely be the best for me." Then, We will certainly show the disbelievers what they have done, and We shall make them taste severe torment.) (41:50)
أَفَرَأَيْتَ الَّذِى كَفَرَ بِـَايَـتِنَا وَقَالَ لأوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَداً
(Have you seen the one who disbelieved in Our Ayat and said: "I shall certainly be given wealth and children (if I came back to life).") (19:77) Allah tells us about one of the two men:
دَخَلَجَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـذِهِ أَبَداًوَمَآ أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَى رَبِّى لأَجِدَنَّ خَيْراً مِّنْهَا مُنْقَلَباً
(He went into his garden while wronging himself. He said: "I do not think that this will ever perish. And I do not think that the Hour will ever come, and if indeed I am brought back to my Lord, (on the Day of Resurrection), then surely, I shall find better than this when I return to Him.") (18:35-36) These people combined bad deeds with the false hopes of being rewarded with good for those bad deeds, which is impossible. Thus Allah refuted their false hopes, when He said:
لاَ جَرَمَ
(No doubt), meaning, truly it is inevitable that
أَنَّ لَهُمُ الْنَّارَ
(for them is the Fire), meaning, on the Day of Resurrection.
وَأَنَّهُمْ مُّفْرَطُونَ
(and they will be forsaken). Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and others said: "This means they will be forgotten and neglected there." This is like the Ayah:
فَالْيَوْمَ نَنسَـهُمْ كَمَا نَسُواْ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَـذَا
(So today We forget them just as they forgot meeting on this day of theirs.) (7:51). It was also reported from Qatadah that,
مُّفْرَطُونَ
(they will be forsaken) means `they are hastened into the Fire.' There is no contradiction between the two, because they will be hastened into the Fire on the Day of Resurrection, then they will be forgotten there, i.e., left to dwell there for eternity.
وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہوجائیں۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آجائیں۔ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، در گزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الٰہی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں۔ ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے۔ اپنے لئے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لئے یہ سب روا رکھیں۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لئے ہے۔ یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لئے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا۔ سورة کہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے کہ وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہونے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دو بارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا۔ کام برے کریں آ زو نیکی کی رکھیں۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں۔ کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لئے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا، جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا۔ پس انکی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی۔ اللہ فرماتا ہے دراصل ان کے لئے آتش دوزخ تیار ہے۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہوجائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں۔
63
View Single
تَٱللَّهِ لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلۡيَوۡمَ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
By Allah, We indeed sent Noble Messengers to several nations before you, but Satan made their misdeeds appear good to them – so he only is their companion this day, and for them is a punishment, most painful.
اللہ کی قسم! یقیناً ہم نے آپ سے پہلے (بھی بہت سی) امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان (امتوں) کے لئے ان کے (برے) اعمال آراستہ و خوش نما کر دکھائے، سو وہی (شیطان) آج ان کا دوست ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Finding Consolation in the Reminder of Those Who came before
Allah says, `He sent Messengers to the nations of the past, and they were rejected. You, O Muhammad, have an example in your brothers among the Messengers, so do not be distressed by your people's rejection. As for the idolators' rejection of the Messengers, the reason for this is that the Shaytan made their deeds attractive to them.'
فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ
(So today he (Shaytan) is their helper,) meaning they will be suffering punishment while Shaytan is their only helper, and he cannot save them, so they have no one to answer their calls for help, and theirs is a painful punishment.
The Reason why the Qur'an was revealed
Then Allah says to His Messenger that He has revealed the Book to him to explain the truth to mankind in matters which they dispute over. So the Qur'an is a decisive arbitrator for every issue that they argue about.
وَهَدَى
(and (as) a guidance) meaning, for their hearts.
وَرَحْمَةً
(and a mercy) meaning, for the one who adheres to it.
لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(for a people who believe.) Just as Allah causes the Qur'an to bring life to hearts that were dead from disbelief, so He brings the earth to life after it has died, by sending down water from the sky.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
(Surely that is a sign for people who listen.) meaning those who understand the words and their meanings.
شیطان کے دوست اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔
64
View Single
وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِي ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
And We did not send down this Book towards you except for you to clearly explain to them the matters in which they may differ, and a guidance and a mercy for the believers.
اور ہم نے آپ کی طرف کتاب نہیں اتاری مگر اس لئے کہ آپ ان پر وہ (اُمور) واضح کر دیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور (اس لئے کہ یہ کتاب) ہدایت اور رحمت ہے اس قوم کے لئے جو ایمان لے آئی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Finding Consolation in the Reminder of Those Who came before
Allah says, `He sent Messengers to the nations of the past, and they were rejected. You, O Muhammad, have an example in your brothers among the Messengers, so do not be distressed by your people's rejection. As for the idolators' rejection of the Messengers, the reason for this is that the Shaytan made their deeds attractive to them.'
فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ
(So today he (Shaytan) is their helper,) meaning they will be suffering punishment while Shaytan is their only helper, and he cannot save them, so they have no one to answer their calls for help, and theirs is a painful punishment.
The Reason why the Qur'an was revealed
Then Allah says to His Messenger that He has revealed the Book to him to explain the truth to mankind in matters which they dispute over. So the Qur'an is a decisive arbitrator for every issue that they argue about.
وَهَدَى
(and (as) a guidance) meaning, for their hearts.
وَرَحْمَةً
(and a mercy) meaning, for the one who adheres to it.
لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(for a people who believe.) Just as Allah causes the Qur'an to bring life to hearts that were dead from disbelief, so He brings the earth to life after it has died, by sending down water from the sky.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
(Surely that is a sign for people who listen.) meaning those who understand the words and their meanings.
شیطان کے دوست اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔
65
View Single
وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ
And Allah sent down water from the sky and with it revived the earth after its death; indeed in this is a sign for people who keep ears*. (* That listen to the truth.)
اور اللہ نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ زمین کو اس کے مردہ (یعنی بنجر) ہونے کے بعد زندہ (یعنی سرسبز و شاداب) کر دیا۔ بیشک اس میں (نصیحت) سننے والوں کے لئے نشانی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Finding Consolation in the Reminder of Those Who came before
Allah says, `He sent Messengers to the nations of the past, and they were rejected. You, O Muhammad, have an example in your brothers among the Messengers, so do not be distressed by your people's rejection. As for the idolators' rejection of the Messengers, the reason for this is that the Shaytan made their deeds attractive to them.'
فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ
(So today he (Shaytan) is their helper,) meaning they will be suffering punishment while Shaytan is their only helper, and he cannot save them, so they have no one to answer their calls for help, and theirs is a painful punishment.
The Reason why the Qur'an was revealed
Then Allah says to His Messenger that He has revealed the Book to him to explain the truth to mankind in matters which they dispute over. So the Qur'an is a decisive arbitrator for every issue that they argue about.
وَهَدَى
(and (as) a guidance) meaning, for their hearts.
وَرَحْمَةً
(and a mercy) meaning, for the one who adheres to it.
لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(for a people who believe.) Just as Allah causes the Qur'an to bring life to hearts that were dead from disbelief, so He brings the earth to life after it has died, by sending down water from the sky.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
(Surely that is a sign for people who listen.) meaning those who understand the words and their meanings.
شیطان کے دوست اے نبی ﷺ آپ تسلی رکھیں۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں۔ برائیاں انہیں شیطانی وسو اس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہوجائے گا۔ قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔ یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں، ان کے لئے رحمت ہے۔ اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔
66
View Single
وَإِنَّ لَكُمۡ فِي ٱلۡأَنۡعَٰمِ لَعِبۡرَةٗۖ نُّسۡقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيۡنِ فَرۡثٖ وَدَمٖ لَّبَنًا خَالِصٗا سَآئِغٗا لِّلشَّـٰرِبِينَ
And indeed in cattle is a lesson for you; We provide you drink from what is in their bellies – pure milk from between the excretion and the blood, palatable for the drinkers.
اور بیشک تمہارے لئے مویشیوں میں (بھی) مقامِ غور ہے، ہم ان کے جسموں کے اندر کی اس چیز سے جو آنتوں کے (بعض) مشمولات اور خون کے اختلاط سے (وجود میں آتی ہے) خالص دودھ نکال کر تمہیں پلاتے ہیں (جو) پینے والوں کے لئے فرحت بخش ہوتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Lessons and Blessings in Cattle and the Fruit of the Date-palm and Grapevine
وَإِنَّ لَكُمْ
(there is for you) - O mankind -
فِى الاٌّنْعَـمِ
(in the cattle) - meaning camels, cows and sheep,
لَعِبْرَةً
(a lesson) meaning a sign and an evidence of the wisdom, power, mercy and kindness of the Creator.
نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهِ
(We have made a drink for you out of what is in its belly) meaning its singular forms refers to one cattle, or it could refer to the whole species. For cattle are the creatures which provide a drink from what is in their bellies and in another Ayah it is `in their bellies.' Either way is plausible. He said,
مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا
(from between excretions and blood, pure milk;) meaning it is free of blood, and is pure in its whiteness, taste and sweetness. It is between excrement and blood in the belly of the animal, but each of them goes its own way after the food has been fully digested in its stomach. The blood goes to the veins, the milk goes to the udder, the urine goes to the bladder and the feces goes to the anus. None of them gets mixed with another after separating, and none of them is affected by the other.
لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِلشَّارِبِينَ
(pure milk; palatable to the drinkers.) meaning nothing to cause one to choke on it. When Allah mentions milk and how He has made it a palatable drink for mankind, He follows this with a reference to the drinks that people make from the fruits of the date palm and grapevine, and what they used to do with intoxicating Nabidh (drink made from dates) before it was forbidden. Thus He reminds them of His blessings, and says:
وَمِن ثَمَرَتِ النَّخِيلِ وَالاٌّعْنَـبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا
(And from the fruits of date palms and grapes, you derive strong drink) This indicates that it was permissible to drink it before it was forbidden. It also indicates that strong drink (i.e., intoxicating drink) derived from dates is the same as strong drink derived from grapes. Also forbidden are strong drinks derived from wheat, barley, corn and honey, as is explained in detail in the Sunnah.
سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا
(strong drink and a goodly provision.) Ibn `Abbas said: "Strong drink is the product of these two fruits that is forbidden, and the good provision is what is permitted of them." According to another report: "Strong drink is its unlawful, and the goodly provision is its lawful," referring to the fruits when they are dried, like dates and raisins, or products derived from them such as molasses, vinegar and wine (of grapes, dates) which are permissible to drink before they become strong (becomes alcoholic), as was stated in the Sunnah.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(There is indeed a sign in this for those of reason.) It is appropriate to mention reason here, because it is the noblest feature of man. Hence Allah forbade this Ummah from drinking intoxicants, in order to protect their ability to reason. Allah says:
وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ - لِيَأْكُلُواْ مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلاَ يَشْكُرُونَ - سُبْحَـنَ الَّذِى خَلَق الاٌّزْوَجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الاٌّرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُونَ
(And We placed gardens of date palms and grapes in it, and We caused springs of water to gush forth in it. So that they may eat of its fruit - while their hands did not make it. Will they not then give thanks Glory be to Him Who created all the pairs of that which the earth produces, as well as their own (human) kind (male and female), and of that which they know not.) (36:34-36)
وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِى مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ
خوشگوار دودھ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا گواہ ہے اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ بطونہ میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں بطونہا ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت (كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ 11ۚ فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ 12ۘ) 80۔ عبس :1211) میں ہے اور جیسے آیت (وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ 35) 27۔ النمل :35) میں ہے پس جاء میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دو سرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔ یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک ؒ شافعی ؒ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔ دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے۔ اسی کی نگہبانی کے لئے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کردیں۔ اسی نعمت کا بیان سورة یٰسین کی آیت (وَجَعَلْنَا فِيْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّــرْنَا فِيْهَا مِنَ الْعُيُوْنِ 34ۙ) 36۔ يس :34) میں ہے یعنی زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اسکا پھل کھائیں، یہ انکے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے ؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کردی ہیں۔
67
View Single
وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلۡأَعۡنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنۡهُ سَكَرٗا وَرِزۡقًا حَسَنًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ
And from the fruits of date and grapes, for you make juices and good nourishment from them; indeed in this is a sign for people of intellect.
اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم شکّر اور (دیگر) عمدہ غذائیں بناتے ہو، بیشک اس میں اہلِ عقل کے لئے نشانی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Lessons and Blessings in Cattle and the Fruit of the Date-palm and Grapevine
وَإِنَّ لَكُمْ
(there is for you) - O mankind -
فِى الاٌّنْعَـمِ
(in the cattle) - meaning camels, cows and sheep,
لَعِبْرَةً
(a lesson) meaning a sign and an evidence of the wisdom, power, mercy and kindness of the Creator.
نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهِ
(We have made a drink for you out of what is in its belly) meaning its singular forms refers to one cattle, or it could refer to the whole species. For cattle are the creatures which provide a drink from what is in their bellies and in another Ayah it is `in their bellies.' Either way is plausible. He said,
مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا
(from between excretions and blood, pure milk;) meaning it is free of blood, and is pure in its whiteness, taste and sweetness. It is between excrement and blood in the belly of the animal, but each of them goes its own way after the food has been fully digested in its stomach. The blood goes to the veins, the milk goes to the udder, the urine goes to the bladder and the feces goes to the anus. None of them gets mixed with another after separating, and none of them is affected by the other.
لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِلشَّارِبِينَ
(pure milk; palatable to the drinkers.) meaning nothing to cause one to choke on it. When Allah mentions milk and how He has made it a palatable drink for mankind, He follows this with a reference to the drinks that people make from the fruits of the date palm and grapevine, and what they used to do with intoxicating Nabidh (drink made from dates) before it was forbidden. Thus He reminds them of His blessings, and says:
وَمِن ثَمَرَتِ النَّخِيلِ وَالاٌّعْنَـبِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا
(And from the fruits of date palms and grapes, you derive strong drink) This indicates that it was permissible to drink it before it was forbidden. It also indicates that strong drink (i.e., intoxicating drink) derived from dates is the same as strong drink derived from grapes. Also forbidden are strong drinks derived from wheat, barley, corn and honey, as is explained in detail in the Sunnah.
سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا
(strong drink and a goodly provision.) Ibn `Abbas said: "Strong drink is the product of these two fruits that is forbidden, and the good provision is what is permitted of them." According to another report: "Strong drink is its unlawful, and the goodly provision is its lawful," referring to the fruits when they are dried, like dates and raisins, or products derived from them such as molasses, vinegar and wine (of grapes, dates) which are permissible to drink before they become strong (becomes alcoholic), as was stated in the Sunnah.
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
(There is indeed a sign in this for those of reason.) It is appropriate to mention reason here, because it is the noblest feature of man. Hence Allah forbade this Ummah from drinking intoxicants, in order to protect their ability to reason. Allah says:
وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ - لِيَأْكُلُواْ مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلاَ يَشْكُرُونَ - سُبْحَـنَ الَّذِى خَلَق الاٌّزْوَجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الاٌّرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُونَ
(And We placed gardens of date palms and grapes in it, and We caused springs of water to gush forth in it. So that they may eat of its fruit - while their hands did not make it. Will they not then give thanks Glory be to Him Who created all the pairs of that which the earth produces, as well as their own (human) kind (male and female), and of that which they know not.) (36:34-36)
وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِى مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ
خوشگوار دودھ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا گواہ ہے اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ بطونہ میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے۔ دوسری آیت میں بطونہا ہے دونوں باتیں جائز ہیں۔ جیسے آیت (كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ 11ۚ فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ 12ۘ) 80۔ عبس :1211) میں ہے اور جیسے آیت (وَاِنِّىْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ 35) 27۔ النمل :35) میں ہے پس جاء میں مذکر لائے۔ مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا، دودھ تھن کی طرف پہنچا، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دو سرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے۔ یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے۔ اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک ؒ شافعی ؒ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گہیوں جو، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آچکا ہے۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نیند شربت بنا کر، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے۔ پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں۔ دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے۔ اسی کی نگہبانی کے لئے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس امت پر حرام کردیں۔ اسی نعمت کا بیان سورة یٰسین کی آیت (وَجَعَلْنَا فِيْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّــرْنَا فِيْهَا مِنَ الْعُيُوْنِ 34ۙ) 36۔ يس :34) میں ہے یعنی زمین میں ہم نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ لگا دئیے اور ان میں پانی کے چشمے بہا دئیے تاکہ لوگ اسکا پھل کھائیں، یہ انکے اپنے بنائے ہوئے نہیں۔ کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہیں کریں گے ؟ وہ ذات پاک ہے جس نے زمین کی پیداوار میں اور خود انسانوں میں اور اس مخلوق میں جسے یہ جانتے ہی نہیں ہر طرح کی جوڑ جوڑ چیزیں پیدا کردی ہیں۔
68
View Single
وَأَوۡحَىٰ رَبُّكَ إِلَى ٱلنَّحۡلِ أَنِ ٱتَّخِذِي مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتٗا وَمِنَ ٱلشَّجَرِ وَمِمَّا يَعۡرِشُونَ
And your Lord inspired the bee that, “Build homes in hills, and in trees, and in rooftops.”
اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں (خیال) ڈال دیا کہ تو بعض پہاڑوں میں اپنے گھر بنا اور بعض درختوں میں اور بعض چھپروں میں (بھی) جنہیں لوگ (چھت کی طرح) اونچا بناتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
In the Bee and its Honey there is Blessing and a Lesson
What is meant by inspiration here is guidance. The bee is guided to make its home in the mountains, in trees and in structures erected by man. The bee's home is a solid structure, with its hexagonal shapes and interlocking forms there is no looseness in its combs. Then Allah decrees that the bee will have permission to eat from all fruits and to follow the ways which Allah has made easy for it, wherever it wants to go in the vast spaces of the wilderness, valleys and high mountains. Then each bee comes back to its hive without swerving to the right or left, it comes straight back to its home where its offspring and honey are. It makes wax from its wings, and regurgitates honey from its mouth, and lays eggs from its rear, then the next morning it goes out to the fields again.
فَاسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلاً
(and follow the routes of your Lord made easy (for you)) Qatadah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "This means, in an obedient way", understanding it to be a description of the route of migration. Ibn Zayd said that this is like the Ayah:
وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
(And We have subdued them for them so that some they may ride and some they may eat.) (36:72) He said: "Do you not see that they move the bees' home from one land to another, and the bees follow them" The first opinion is clearly the more likely, as it describes the routes that the bees follow, i.e., `follow these routes as they are easy for you.' This was stated by Mujahid. Ibn Jarir said that both opinions are correct.
يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَآءٌ لِلنَّاسِ
(There comes forth from their bellies, a drink of varying colors, wherein is healing for men.) meaning, honey, that is white, yellow, red, or of other good colors, depending on the different things that the bees eat.
فِيهِ شِفَآءٌ لِلنَّاسِ
(in which there is a cure for men.) meaning there is a cure in honey for diseases that people suffer from. Some of those who spoke about the study of Prophetic medicine said that if Allah had said, `in which there is the cure for men', then it would be the remedy for all diseases, but He said, `in which there is a cure for men', meaning that it is the right treatment for every "cold" disease, because it is "hot", and a disease should be treated with its opposite. Al-Bukhari and Muslim recorded in their Sahihs from Qatadah from Abu Al-Mutawakkil `Ali bin Dawud An-Naji from Abu Sa`id Al-Khudri that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "My brother is suffering from diarrhea". He said,
«اسْقِهِ عَسَلًا»
(Give him honey to drink.) The man went and gave him honey, then he came back and said, "O Messenger of Allah! I gave him honey to drink, and he only got worse." The Prophet said,
«اذْهَبْ فَاسْقِهِ عَسَلًا»
(Go and give him honey to drink.) So he went and gave him honey, then he came back and said, "O Messenger of Allah! it only made him worse. " The Prophet said,
«صَدَقَ اللهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اذْهَبْ فَاسْقِهِ عَسَلًا»
(Allah speaks the truth and your brother's stomach is lying. Go and give him honey to drink.) So he went and gave him honey, and he recovered." It is reported in the Two Sahihs from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Messenger of Allah ﷺ used to like sweet things and honey. This is the wording of Al-Bukhari, who also reported in his Sahih from Ibn `Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said:
«الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَي»
(Healing is to be found in three things: the cut made by the cupper, or drinking honey, or in branding with fire (cauterizing), but I have forbidden my Ummah to use branding.)
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(There is indeed a sign in that for people who reflect.) meaning in the fact that Allah inspires this weak little creature to travel through the vast fields and feed from every kind of fruit, then gather it for wax and honey, which are some of the best things, in this is a sign for people who think about the might and power of the bee's Creator Who causes all of this to happen. From this they learn that He is the Initiator, the All-Powerful, the All-Wise, the All-Knowing, the Most Generous, the Most Merciful.
وحی سے کیا مراد ہے ؟ وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لئے مقدر کردیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آ بادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔ ذللا کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہوگا سالکہ کا جیسے قرآن میں آیت (وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ 72) 36۔ يس :72) میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔ ابو یعلی موصلی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفا بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کردیتا ہے یہاں فیہ الشفاء للناس نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا اس میں شفا ہے لوگوں کے لئے پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔ مجاہد اور ابن جریر سے منقول ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفا ہے۔ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفا ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لئے مجاہد کے اس قول کی اقتدا نہیں کی گئی۔ ہاں قرآن کے شفا ہونے کا ذکر آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا 82) 17۔ الإسراء :82) میں ہے اور آیت (وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ 57) 10۔ یونس :57) میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے چناچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ کسی نے آ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا حضور ﷺ اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ نے فرمایا جا اور شہد پلاؤ۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے آپ نے فرمایا اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفا حاصل ہوگئی۔ بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کردی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ حضور ﷺ سے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفا بفضل الہی حاصل ہوگئی اور حضور ﷺ کی بات جو بہ اشارہ الہی پوری ہوگئی۔ بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سرور رسل ﷺ کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی۔ آپ کا فرمان ہے کہ تین چیزوں میں شفا ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفا ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا۔ مسلم کی حدیث میں ہے میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں۔ ابن ماجہ میں ہے تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن۔ ابن جریر میں حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ جب تم میں سے کوئی شفا چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھولے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضامندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفا آجائے گی اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا 82) 17۔ الإسراء :82) یعنی ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفا ہے اور رحمت ہے اور آیت میں ہے آیت (وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ ۙ) 50۔ ق :9) ہم آسمان سے بابرکت پانی برساتے ہیں۔ اور فرمان ہے آیت (وَاٰتُوا النِّسَاۗءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ ۭ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْۗــــــًٔـا مَّرِيْۗـــــــًٔـا) 4۔ النسآء :4) یعنی اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو سہتا پچتا۔ شہد کے بارے میں فرمان الہی ہے فیہ شفاء للناس شہد میں لوگوں کے لئے شفاء ہے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی۔ اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔ ابن ماجہ کی اور حدیث میں آپ کا فرمان ہے کہ تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا ؟ فرمایا موت۔ سنوت کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے پھر فرماتا ہے کہ مکھی جیسی بےطاقت چیز کا تمہارے لئے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کرسکتے ہیں۔
69
View Single
ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ فَٱسۡلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلٗاۚ يَخۡرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٞ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٞ لِّلنَّاسِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ
“Then eat from all kinds of fruits, and tread the ways of your Lord which are soft and easy for you”; from their bellies comes a drink of various colours, in which is health for mankind; indeed in this is a sign for people who ponder.
پس تو ہر قسم کے پھلوں سے رس چوسا کر پھر اپنے رب کے (سمجھائے ہوئے) راستوں پر (جو ان پھلوں اور پھولوں تک جاتے ہیں جن سے تو نے رس چوسنا ہے، دوسری مکھیوں کے لئے بھی) آسانی فراہم کرتے ہوئے چلا کر، ان کے شکموں سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے (وہ شہد ہے) جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانی ہے
Tafsir Ibn Kathir
In the Bee and its Honey there is Blessing and a Lesson
What is meant by inspiration here is guidance. The bee is guided to make its home in the mountains, in trees and in structures erected by man. The bee's home is a solid structure, with its hexagonal shapes and interlocking forms there is no looseness in its combs. Then Allah decrees that the bee will have permission to eat from all fruits and to follow the ways which Allah has made easy for it, wherever it wants to go in the vast spaces of the wilderness, valleys and high mountains. Then each bee comes back to its hive without swerving to the right or left, it comes straight back to its home where its offspring and honey are. It makes wax from its wings, and regurgitates honey from its mouth, and lays eggs from its rear, then the next morning it goes out to the fields again.
فَاسْلُكِى سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلاً
(and follow the routes of your Lord made easy (for you)) Qatadah and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: "This means, in an obedient way", understanding it to be a description of the route of migration. Ibn Zayd said that this is like the Ayah:
وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ
(And We have subdued them for them so that some they may ride and some they may eat.) (36:72) He said: "Do you not see that they move the bees' home from one land to another, and the bees follow them" The first opinion is clearly the more likely, as it describes the routes that the bees follow, i.e., `follow these routes as they are easy for you.' This was stated by Mujahid. Ibn Jarir said that both opinions are correct.
يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَآءٌ لِلنَّاسِ
(There comes forth from their bellies, a drink of varying colors, wherein is healing for men.) meaning, honey, that is white, yellow, red, or of other good colors, depending on the different things that the bees eat.
فِيهِ شِفَآءٌ لِلنَّاسِ
(in which there is a cure for men.) meaning there is a cure in honey for diseases that people suffer from. Some of those who spoke about the study of Prophetic medicine said that if Allah had said, `in which there is the cure for men', then it would be the remedy for all diseases, but He said, `in which there is a cure for men', meaning that it is the right treatment for every "cold" disease, because it is "hot", and a disease should be treated with its opposite. Al-Bukhari and Muslim recorded in their Sahihs from Qatadah from Abu Al-Mutawakkil `Ali bin Dawud An-Naji from Abu Sa`id Al-Khudri that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "My brother is suffering from diarrhea". He said,
«اسْقِهِ عَسَلًا»
(Give him honey to drink.) The man went and gave him honey, then he came back and said, "O Messenger of Allah! I gave him honey to drink, and he only got worse." The Prophet said,
«اذْهَبْ فَاسْقِهِ عَسَلًا»
(Go and give him honey to drink.) So he went and gave him honey, then he came back and said, "O Messenger of Allah! it only made him worse. " The Prophet said,
«صَدَقَ اللهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اذْهَبْ فَاسْقِهِ عَسَلًا»
(Allah speaks the truth and your brother's stomach is lying. Go and give him honey to drink.) So he went and gave him honey, and he recovered." It is reported in the Two Sahihs from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Messenger of Allah ﷺ used to like sweet things and honey. This is the wording of Al-Bukhari, who also reported in his Sahih from Ibn `Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said:
«الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ: فِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ كَيَّةٍ بِنَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَي»
(Healing is to be found in three things: the cut made by the cupper, or drinking honey, or in branding with fire (cauterizing), but I have forbidden my Ummah to use branding.)
إِنَّ فِى ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(There is indeed a sign in that for people who reflect.) meaning in the fact that Allah inspires this weak little creature to travel through the vast fields and feed from every kind of fruit, then gather it for wax and honey, which are some of the best things, in this is a sign for people who think about the might and power of the bee's Creator Who causes all of this to happen. From this they learn that He is the Initiator, the All-Powerful, the All-Wise, the All-Knowing, the Most Generous, the Most Merciful.
وحی سے کیا مراد ہے ؟ وحی سے مراد یہاں پر الہام، ہدایت اور ارشاد ہے۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاری گری کا ہوتا ہے۔ پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لئے مقدر کردیا کہ یہ پھلوں، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو، چاہے بیابان کے درخت ہوں، چاہے آ بادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں، یہ نہ راستہ بھولے، نہ بھٹکتی پھرے، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے۔ اپنے پروں سے موم بنائے۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے۔ ذللا کی تفسیر اطاعت گزر اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہوگا سالکہ کا جیسے قرآن میں آیت (وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ 72) 36۔ يس :72) میں بھی یہی معنی مراد ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے۔ ابن اجریر دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں۔ ابو یعلی موصلی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔ کئی مکھیاں آگ میں بھی ہوتی ہیں شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین۔ اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفا بھی ہے، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کردیتا ہے یہاں فیہ الشفاء للناس نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا اس میں شفا ہے لوگوں کے لئے پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔ مجاہد اور ابن جریر سے منقول ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفا ہے۔ یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفا ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لئے مجاہد کے اس قول کی اقتدا نہیں کی گئی۔ ہاں قرآن کے شفا ہونے کا ذکر آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَا 82) 17۔ الإسراء :82) میں ہے اور آیت (وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ 57) 10۔ یونس :57) میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے چناچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ کسی نے آ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ، وہ گیا، شہد دیا، پھر آیا اور کہا حضور ﷺ اسے تو بیماری اور بڑھ گئی۔ آپ نے فرمایا جا اور شہد پلاؤ۔ اس نے جا کر پھر پلایا، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے آپ نے فرمایا اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، جا پھر شہد دے۔ تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الٰہی شفا حاصل ہوگئی۔ بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کردی۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا۔ دست بڑھ گئے۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا۔ حضور ﷺ سے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا، پیٹ صاف ہوگیا، بلا نکل گئی اور کامل شفا بفضل الہی حاصل ہوگئی اور حضور ﷺ کی بات جو بہ اشارہ الہی پوری ہوگئی۔ بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سرور رسل ﷺ کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی۔ آپ کا فرمان ہے کہ تین چیزوں میں شفا ہے، پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور داغ لگوانے میں لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفا ہے تو پچھنے لگانے میں، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا۔ مسلم کی حدیث میں ہے میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ ناپسند رکھتا ہوں۔ ابن ماجہ میں ہے تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن۔ ابن جریر میں حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ جب تم میں سے کوئی شفا چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھولے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضامندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفا آجائے گی اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے آیت (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا 82) 17۔ الإسراء :82) یعنی ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مومنین کے لیے شفا ہے اور رحمت ہے اور آیت میں ہے آیت (وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ ۙ) 50۔ ق :9) ہم آسمان سے بابرکت پانی برساتے ہیں۔ اور فرمان ہے آیت (وَاٰتُوا النِّسَاۗءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةٍ ۭ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْۗــــــًٔـا مَّرِيْۗـــــــًٔـا) 4۔ النسآء :4) یعنی اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو سہتا پچتا۔ شہد کے بارے میں فرمان الہی ہے فیہ شفاء للناس شہد میں لوگوں کے لئے شفاء ہے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی۔ اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے۔ ابن ماجہ کی اور حدیث میں آپ کا فرمان ہے کہ تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے۔ لوگوں نے پوچھا سام کیا ؟ فرمایا موت۔ سنوت کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔ شاعر کے شعر میں یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے پھر فرماتا ہے کہ مکھی جیسی بےطاقت چیز کا تمہارے لئے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے میری عظمت، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کرسکتے ہیں۔
70
View Single
وَٱللَّهُ خَلَقَكُمۡ ثُمَّ يَتَوَفَّىٰكُمۡۚ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرۡذَلِ ٱلۡعُمُرِ لِكَيۡ لَا يَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٖ شَيۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٞ قَدِيرٞ
And Allah created you, and will then remove your souls; and among you is one who is sent back to the most lowly age, so knowing nothing after having had knowledge; indeed Allah knows everything, is Able to do all things.
اور اللہ نے تمہیں پیدا فرمایا ہے پھر وہ تمہیں وفات دیتا (یعنی تمہاری روح قبض کرتا) ہے۔ اور تم میں سے کسی کو ناقص ترین عمر (بڑھاپا) کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ (زندگی میں بہت کچھ) جان لینے کے بعد اب کچھ بھی نہ جانے (یعنی انسان مرنے سے پہلے اپنی بے بسی و کم مائیگی کا منظر بھی دیکھ لے)، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
In Man there is a Lesson
Allah tells us that He is controlling the affairs of His servants. He is the One Who created them out of nothing, then He will cause them to die. But there are some of them that He allows to grow old, which is a physical weakness, as Allah says:
اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ
(Allah is He Who created you in (a state of) weakness, then gave you strength after weakness, then after strength gave (you) weakness) (30:54)
لِكَىْ لاَ يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا
(so that they know nothing after having known.) meaning, after he knew things, he will reach a stage where he knows nothing because of weakness of mind due to old age and senility. Thus Al-Bukhari, when commenting on this Ayah, reported a narration from Anas bin Malik that the Messenger of Allah ﷺ used to pray:
«أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَات»
(I seek refuge with You from miserliness, laziness, old age, senility, the punishment of the grave, the Fitnah of the Dajjal and the trials of life and death.) Zuhayr bin Abi Sulma said, in his famous Mu`allaqah: "I became exhausted from the responsibilities of life. Whoever lives for eighty years, no wonder he is tired. I saw death hitting people like a crazed camel, and whoever it hit dies, but whoever is not hit lives until he grows old."
بہترین دعا تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے، وہی انہیں پھر فوت کرے گا بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں پچھتر سال کی عمر میں عموما انسان ایسا ہی ہوجاتا ہے طاقت ختم ہوجاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے۔ علم کی کمی ہوجاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہوجاتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی دعا میں فرماتے تھے (اللھم انی اعوذبک من البخل والکسل والھرم وارذل العمر و عذاب القبر وفتنتہ الدجال وفتنتہ المحیا و الممات) یعنی اے اللہ میں بخیلی سے، عاجزی سے، بڑھاپے سے، ذلیل عمر سے، قبر کے عذاب سے، دجال کے فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ زہیر بن ابو سلمہ نے بھی اپنے مشہور قصیدہ معلقہ میں اس عمر کو رنج و غم کا مخزن و منبع بتایا ہے۔
71
View Single
وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلرِّزۡقِۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزۡقِهِمۡ عَلَىٰ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَهُمۡ فِيهِ سَوَآءٌۚ أَفَبِنِعۡمَةِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ
And Allah has made some among you superior above others in livelihood; so those to whom the superiority is given, will not return their livelihood to their slaves, so they may all become equal in this respect; so do they deny the favours of Allah?
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے (تاکہ وہ تمہیں حکمِ انفاق کے ذریعے آزمائے)، مگر جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی دولت (کے کچھ حصہ کو بھی) اپنے زیردست لوگوں پر نہیں لوٹاتے (یعنی خرچ نہیں کرتے) حالانکہ وہ سب اس میں (بنیادی ضروریات کی حد تک) برابر ہیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
There is a Sign and a Blessing in Matters of People's Livelihood
Allah explains to the idolators the ignorance and disbelief involved in their claim that Allah has partners while also admitting that these partners are His servants. In their Talbiyah for Hajj, they used to say, "Here I am, there are no partners for You except Your own partner, You own him and everything he owns." Allah says, denouncing them: `You would not accept for your servant to have an equal share in your wealth, so how is it that Allah would accept His servant to be His equal in divinity and glory As Allah says elsewhere:
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلاً مِّنْ أَنفُسِكُمْ هَلْ لَّكُمْ مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَـنُكُمْ مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَـكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ
(He sets forth a parable for you from yourselves: Do you have partners among those whom your right hands possess (i.e. your servant) to share as equals in the wealth We have granted you, those whom you fear as you fear each other) (30:28) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas mentioned this Ayah, saying, "Allah is saying - `If they did not want their servant to have a share with them in their wealth and wives, how can My servant have a share with Me in My power' Thus Allah says:
أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(Do they then deny the favor of Allah)" According to another report, Ibn `Abbas said: "How can they accept for Me that which they do not accept for themselves"
أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
(Do they then deny the favor of Allah) meaning, they assign to Allah a share of the tilth and cattle which He has created. They denied His blessings and associated others in worship with Him. Al-Hasan Al-Basri said: "Umar bin Al-Khattab wrote this letter to Abu Musa Al-Ash`ari: `Be content with your provision in this world, for the Most Merciful has honored some of His servants over others in terms of provision as a test of both. The one who has been given plenty is being tested to see if he will give thanks to Allah and fulfill the duties which are his by virtue of his wealth..."' It was reported by Ibn Abi Hatim.
مشرکین کی جہالت کا ایک انداز مشرکین کی جہالت اور ان کے کفر کا بیان ہو رہا ہے کہ اپنے معبودوں کو اللہ کے غلام جاننے کے باوجود ان کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں۔ چناچہ حج کے موقع پر وہ کہا کرتے تھے دعا (لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک تملکہ وما ملک یعنی اے اللہ میں تیرے پاس حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو خود تیرے غلام ہیں ان کا اور ان کی ماتحت چیزوں کا اصلی مالک تو ہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں الزام دیتا ہے کہ جب تم اپنے غلاموں کی اپنی برابری اور اپنے مال میں شرکت پسند نہیں کرتے تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک ٹھیرا رہے ہو ؟ یہی مضمون آیت (ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28) 30۔ الروم :28) میں بیان ہوا ہے۔ کہ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے مال میں اپنی بیویوں میں اپنا شریک بنانے سے نفرت کرتے ہو تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک سمجھ رہے ہو ؟ یہی اللہ کی نعمتوں سے انکار ہے کہ اللہ کے لئے وہ پسند کرنا، جو اپنے لئے بھی پسند نہ ہو۔ یہ ہے مثال معبودان باطل کی۔ جب تم خود اس سے الگ ہو پھر اللہ تو اس سے بہت زیادہ بیزار ہے۔ رب کی نعمتوں کا کفر اور کیا ہوگا کہ کھیتیاں چوپائے ایک اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور تم انہیں اس کے سوا اوروں کے نام سے منسوب کرو۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو ایک رسالہ لکھا کہ اپنی روزی پر قناعت اختیار کرو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ امیر کر رکھا ہے یہ بھی اس کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ وہ دیکھے کہ امیر امراء کس طرح شکر الہی ادا کرتے ہیں اور جو حقوق دوسروں کے ان پر جناب باری نے مقرر کئے ہیں کہاں تک انہیں ادا کرتے ہیں۔
72
View Single
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةٗ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِۚ أَفَبِٱلۡبَٰطِلِ يُؤۡمِنُونَ وَبِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ هُمۡ يَكۡفُرُونَ
And Allah has created for you wives of your own breed, and has given you from your wives, sons and grandsons, and has provided sustenance for you from good things; so do they believe in falsehood and deny the favours of Allah?
اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لئے جوڑے پیدا فرمائے اور تمہارے جوڑوں (یعنی بیویوں) سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے/ نواسے پیدا فرمائے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا فرمایا، تو کیا پھر بھی وہ (حق کو چھوڑ کر) باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمت سے وہ ناشکری کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Among His Blessings and Signs are Mates, Children and Grandchildren
Allah mentions the blessing He has bestowed upon His servant by giving them mates from among themselves, mates of their own kind. If He had given them mates of another kind, there would be no harmony, love and mercy between them. But out of His mercy He has made the Children of Adam male and female, and has made the females wives or mates for the males. Then Allah mentions that from these wives He creates children and grandchildren, one's children's children. This was the opinion of Ibn `Abbas, `Ikrimah, Al-Hasan, Ad-Dahhak and Ibn Zayd. Shu`bah said, narrating from Abu Bishr from Sa`id bin Jubayr from Ibn `Abbas: "Children and grandchildren, who are one's children and one's children's children." It was also said that this means servants and helpers, or it means sons-in-law or in-laws. I say: if we understand
وَحَفَدَةً
(grandsons) to refer back to wives, then it must mean children, children's children, and sons-in-law, because they are the husbands of one's daughter or the children of one's wife.
وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ
(and has granted you good provisions.) meaning your food and drink. Then Allah denounces those who associate others in worship with the One Who bestows blessings on them:
أَفَبِالْبَـطِلِ يُؤْمِنُونَ
(Do they then believe in false deities), meaning idols and rivals to Allah
وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ
(and deny the favor of Allah) meaning, by concealing the blessings that Allah has given them and attributing them to others. According to a Sahih Hadith, the Prophet said:
«إِنَّ اللهَ يَقُولُ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُمْتَنًّا عَلَيْهِ: أَلَمْ أُزَوِّجْكَ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟»
(Allah will say to His servant on the Day of Resurrection, reminding him of His blessings: "Did I not give you a wife Did I not honor you Did I not subject horses and camels to your use, and cause you to occupy a position of leadership and honor")
بندوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان اپنے بندوں پر اپنا ایک اور احسان جتاتا ہے کہ انہی کی جنس سے انہی کی ہم شکل، ہم وضع عورتیں ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ اگر جنس اور ہوتی تو دلی میل جول، محبت و موعدت قائم نہ رہتی لیکن اپنی رحمت سے اس نے مرد عورت ہم جنس بنائے۔ پھر اس جوڑے سے نسل بڑھائی، اولاد پھیلائی، لڑکے ہوئے، لڑکوں کے لڑکے ہوئے، حفدہ کے ایک معنی تو یہی پوتوں کے ہیں، دوسرے معنی خادم اور مددگار کے ہیں پس لڑکے اور پوتے بھی ایک طرح خدمت گزار ہوتے ہیں اور عرب میں یہی دستور بھی تھا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں انسان کی بیوی کی سابقہ گھر کی اولاد اس کی نہیں ہوتی۔ حفدہ اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے لئے کام کاج کرے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اس سے مراد دامادی رشتہ ہے اس کے معنی کے تحت میں یہ سب داخل ہیں، چناچہ قنوت میں جملہ آتا ہے والیک نسعی ونحفد ہماری سعی کوشش اور خدمت تیرے لئے ہی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اولاد سے، غلام سے، سسرال والوں سے، خدمت حاصل ہوتی ہے ان سب کے پاس سے نعمت الہی ہمیں ملتی ہے۔ ہاں جن کے نزدیک وحفدۃ کا تعلق ازواجا سے ہے ان کے نزدیک تو مراد اولاد اور اولاد کی اولاد اور داماد اور بیوی کی اولاد ہیں۔ پس یہ سب بسا اوقات اسی شخص کی حفاظت میں، اس کی گود میں اور اس کی خدمت میں ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہی مطلب سامنے رکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہو کہ اولاد تیری غلام ہے۔ جیسے کہ ابو داؤد میں ہے اور جنہوں نے حفدہ سے مراد خادم لیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ معطوف ہے اللہ کے فرمان آیت (وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ 72ۙ) 16۔ النحل :72) پر یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں اور اولاد کو خادم بنادیا ہے اور تمہیں کھانے پینے کی بہترین ذائقے دار چیزیں عنایت فرمائی ہیں پس باطل پر یقین رکھ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری نہ کرنی چاہئے۔ رب کی نعمتوں پر پردہ ڈال دیا اور ان کی دوسروں کی طرف نسبت کردی۔ صحیح حدیث میں ہے کے قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے احسان جتاتے ہوئے فرمائے گا کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی ؟ میں نے تجھے ذی عزت نہیں بنایا تھا ؟ میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے تابع نہیں کیا تھا اور میں نے تجھے سرداری میں اور آرام میں نہیں چھوڑا تھا ؟
73
View Single
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ رِزۡقٗا مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ شَيۡـٔٗا وَلَا يَسۡتَطِيعُونَ
And they worship such besides Allah, who do not have power to provide them any sustenance from the heavens or the earth, nor can they do anything.
اور اللہ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے ان کے لئے کسی قدر رزق دینے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی کچھ قدرت رکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Denouncing the Worship of anything besides Allah
Allah tells us about the Mushrikin who worship others besides Him, even though He alone is the bountiful Provider, the Creator and Sustainer, without partners or associates, but they still worship idols and make rivals for Him. He says:
مَا لاَ يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ شَيْئًا
(such as do not have power to grant them any provision from the heavens or the earth) meaning, nobody can cause rain to fall, or make plants and trees grow. They cannot do these things for them- selves, even if they wanted to. Thus Allah says:
فَلاَ تَضْرِبُواْ لِلَّهِ الاٌّمْثَالَ
(So do not give examples on behalf of Allah.) meaning, do not set up rivals to Him or describe anything as being like Him.
إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(Truly, Allah knows and you know not.) meaning, He knows and bears witness that there is no god but Him, but you are ignorant and associate others in worship with Him.
توحید کی تاکید نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا وحدہ لا شریک لہ ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک وسہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔
74
View Single
فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
Therefore do not ascribe equals to Allah; indeed Allah knows whereas you do not know.
پس تم اللہ کے لئے مثل نہ ٹھہرایا کرو، بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
Denouncing the Worship of anything besides Allah
Allah tells us about the Mushrikin who worship others besides Him, even though He alone is the bountiful Provider, the Creator and Sustainer, without partners or associates, but they still worship idols and make rivals for Him. He says:
مَا لاَ يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ شَيْئًا
(such as do not have power to grant them any provision from the heavens or the earth) meaning, nobody can cause rain to fall, or make plants and trees grow. They cannot do these things for them- selves, even if they wanted to. Thus Allah says:
فَلاَ تَضْرِبُواْ لِلَّهِ الاٌّمْثَالَ
(So do not give examples on behalf of Allah.) meaning, do not set up rivals to Him or describe anything as being like Him.
إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ
(Truly, Allah knows and you know not.) meaning, He knows and bears witness that there is no god but Him, but you are ignorant and associate others in worship with Him.
توحید کی تاکید نعمتیں دینے والا، پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا وحدہ لا شریک لہ ہے۔ اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں۔ وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت پس تم اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ اس کے شریک وسہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے۔ تم جاہل ہو، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو۔
75
View Single
۞ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبۡدٗا مَّمۡلُوكٗا لَّا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَمَن رَّزَقۡنَٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنٗا فَهُوَ يُنفِقُ مِنۡهُ سِرّٗا وَجَهۡرًاۖ هَلۡ يَسۡتَوُۥنَۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
Allah has illustrated an example – there is a slave, himself the property of another, not owning anything – and another one upon whom We have bestowed a good livelihood from Us, he therefore spends from it, secretly and publicly; will they be equal? All praise is to Allah; in fact, most of them do not know.
اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (کہ) ایک غلام ہے (جو کسی کی) ملکیت میں ہے (خود) کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور (دوسرا) وہ شخص ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے عمدہ روزی عطا فرمائی ہے سو وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں، سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (بنیادی حقیقت کو بھی) نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
The Example of the Believer and the Disbeliever, or the Idol and the True God
Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "This is the example which Allah gives of the disbeliever and the believer." This was also the view of Qatadah and Ibn Jarir. The servant who has no power over anything is like the disbeliever, and the one who is given good provisions and spends of them secretly and openly is like the believer. Ibn Abi Najih reported that Mujahid said: "This is an example given of the idol and the True God - can they be the same" Once the difference between them is so clear and so obvious, no one can be unaware of it except the one who is foolish. Allah says:
الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ
(All the praises and thanks are to Allah. Nay! (But) most of them know not.)
مومن اور کافر میں فرق ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں یہ کافر اور مومن کی مثال ہے۔ پس ملکیت کے غلام سے مراد کافر اور اچھی روزی والے اور خرچ کرنے والے سے مراد مومن ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں اس مثال سے بت کی اور اللہ تعالیٰ کی جدائی سمجھانا مقصود ہے کہ یہ اور وہ برابر کے نہیں۔ اس مثال کا فرق اس قدر واضح ہے جس کے بتانے کی ضرورت نہیں، اسی لئے فرماتا کہ تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے۔ اکثر مشرک بےعلمی پر تلے ہوئے ہیں۔
76
View Single
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا رَّجُلَيۡنِ أَحَدُهُمَآ أَبۡكَمُ لَا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوۡلَىٰهُ أَيۡنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأۡتِ بِخَيۡرٍ هَلۡ يَسۡتَوِي هُوَ وَمَن يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
And Allah has illustrated an example – two men – one of them dumb, unable to do anything, and he is a burden on his master – wherever his master sends him, he brings back no good; will he be equal to one who gives the command of justice and is on the Straight Path?
اور اللہ نے دو (ایسے) آدمیوں کی مثال بیان فرمائی ہے جن میں سے ایک گونگا ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے وہ (مالک) اسے جدھر بھی بھیجتا ہے کوئی بھلائی لے کر نہیں آتا، کیا وہ (گونگا) اور (دوسرا) وہ شخص جو (اس منصب کا حامل ہے کہ) لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھی راہ پر گامزن ہے (دونوں) برابر ہو سکتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Another Example
Mujahid said, "This also refers to idols and the True God, may He be exalted." Meaning that the idol is dumb and cannot speak or say anything, good or otherwise. It cannot do anything at all, no words, no action, it is dependent and is a burden on its master.
أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ
(whichever way he directs him,) meaning, wherever he sends him
لاَ يَأْتِ بِخَيْرٍ
(he brings no good.) meaning, he does not succeed in what he wants.
هَلْ يَسْتَوِى
(Is such a man equal) meaning, a man who has these attributes
وَمَن يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ
(to one who commands justice) meaning fairness, one whose words are true and whose deeds are righteous.
وَهُوَ عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(and is himself on the straight path) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "This is also an example of the disbeliever and the believer", as in the previous Ayah.
گونگے بت مشرکین کے معبود ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کرسکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پس ایک برابر ہوجائیں گے ؟ ایک قول ہے کہ ایک گونگا حضرت عثمان ؓ کا غلام تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد حضرت عثمان بن عفان ؓ ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد حضرت عثمان ؓ کا وہ غلام ہے جس پر آپ خرچ کرتے تھے جو آپ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا، منکر تھا اور آپ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
77
View Single
وَلِلَّهِ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَآ أَمۡرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمۡحِ ٱلۡبَصَرِ أَوۡ هُوَ أَقۡرَبُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
And for Allah only are the hidden things of the heavens and the earth, and the matter of Resurrection is not but like the batting of an eyelid – in fact closer than this; indeed Allah is Able to do all things.
اور آسمانوں اور زمین کا (سب) غیب اللہ ہی کے لئے ہے، اور قیامت کے بپا ہونے کا واقعہ اس قدر تیزی سے ہوگا جیسے آنکھ کا جھپکنا یا ا س سے بھی تیز تر، بیشک اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Unseen belongs to Allah and only He has Knowledge of the Hour
Allah tells us of the perfection of His knowledge and ability to do all things, by telling us that He alone knows the Unseen of the heavens and the earth. No one knows anything about such things except for what Allah informs about as He wills. His complete power, which no one can oppose or resist, means that when He wants a thing, He only has to say to it "Be!" and it is, as Allah says:
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) (54:50) meaning, whatever He wills happens in blinking. Thus Allah says here:
وَمَآ أَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly, Allah is Able to do all things.) iElsewhere, Allah says:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The processes of creating you all and resurrecting you all are but like that of (the creation and resurrection of) a single person.) (31:28)
Among the Favors Allah has granted People are Hearing, Sight and the Heart
Then Allah mentions His blessings to His servants in that He brought them from their mothers' wombs not knowing a thing, then He gives them hearing to recognize voices, sight to see visible things and hearts - meaning reason - whose seat, according to the correct view, is the heart, although it was also said that its seat is the brain. With his reason, a person can distinguish between what is harmful and what is beneficial. These abilities and senses develop gradually in man. The more he grows, the more his hearing, vision and reason increase, until they reach their peak. Allah has created these faculties in man to enable him to worship his Lord, so he uses all these organs, abilities and strengths to obey his Master. Al-Bukhari reported in his Sahih from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يَقُولُ تَعَالَى: مَنْ عَادَىىِلي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ أَدَاءِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ دَعَانِي لَأُجِيبَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَ بِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ فِي شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي فِي قَبْضِ نَفْسِ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْه»
(Allah says: "Whoever takes My friend as an enemy, has declared war on Me. My servant does not draw near to Me with anything better than his doing that which I have enjoined upon him, and My servant keeps drawing near to Me by doing Nawafil (supererogatory) deeds until I love him. And when I love him, I am his hearing with which he hears, his vision with which he sees, his hand with which he strikes and his foot with which he walks. Were he to ask Me for anything, I would give it to him, if he were to call on Me, I would respond, if he were to seek Me for refuge I would surely grant him it. I do not hesitate to do anything as I hesitate to take the soul of My believing servant, because he hates death and I hate to upset him, but it is inevitable.") The meaning of the Hadith is that when a person is sincere in his obedience towards Allah, all his deeds are done for the sake of Allah, so he only hears for the sake of Allah, he only sees for the sake of Allah - meaning he only listens to or looks at what has been allowed by Allah. He does not strike or walk except in obedience to Allah, seeking Allah's help in all of these things. Thus in some versions of the Hadith, narrated outside the Sahih, after the phrase "his foot with which he walks", there is added:
«فَبِي يَسْمَعُ، وَبِي يُبْصِرُ، وَبِي يَبْطِشُ، وَبِي يَمْشِي»
(So through Me he hears, through Me he sees, through Me he strikes and through Me he walks.) Thus Allah says:
وَجَعَلَ لَكُمُ الْسَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(And He gave you hearing, sight, and hearts that you might give thanks.) Elsewhere, He says:
قُلْ هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالاٌّفْئِدَةَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ - قُلْ هُوَ الَّذِى ذَرَأَكُمْ فِى الاٌّرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(Say it is He Who has created you, and endowed you with hearing and seeing, and hearts. Little thanks you give. Say: "It is He Who has created you on the earth, and to Him shall you be gathered (in the Hereafter).") (67:23-24)
In the Subjection of the Birds in the Sky there is a Sign
Then Allah tells His servants to look at the birds held (flying) in the sky, between heaven and earth, and how He has caused them to fly with their wings in the sky. They are held up only by Him, it is He Who gave them the strength to do that, subjecting the air to carry them and support them. As Allah says in Surat Al-Mulk:
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَــفَّـتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلاَّ الرَّحْمَـنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ بَصِيرٌ
(Do they not see the birds above them, spreading their wings out and folding them in None holds them up except the Most Gracious (Allah). Verily, He is the All-Seer of everything.) (67:19) And here Allah says:
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are clear signs for people who believe.)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّن بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّن جُلُودِ الاٌّنْعَـمِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَـثاً وَمَتَـعاً إِلَى حِينٍ - وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
فَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
نیکیوں کی دیوار لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دے دے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کرسکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہوگی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آجائے گی۔ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کرسکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کرسکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہوجاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہوجاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لئے ہوجاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لئے، دیکھتا ہے اللہ کے لئے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضامندی کے کاموں کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لئے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لئے سنتا ہے اور میرے ہی لئے دیکھتا ہے اور میرے لئے پکڑتا ہے اور میرے لئے ہی چلتا پھرتا ہے۔ آیت میں بیان ہے کہ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو اور آیت میں فرمان ہے آیت (قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ 23) 67۔ الملک :23) یعنی اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے۔ پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورة ملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے ؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے ؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے، یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ اس میں ایمانداروں کے لئے بہت سے نشان ہیں۔
78
View Single
وَٱللَّهُ أَخۡرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
And Allah brought you forth from your mothers’ wombs, whilst you did not know anything* – and gave you ears and eyes and hearts, for you to be grateful. (* Prophet Mohammed and Prophet Jesus, among others, are exceptions to this rule – peace and blessings be upon them.)
اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے (اس حالت میں) باہر نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر بجا لاؤ
Tafsir Ibn Kathir
The Unseen belongs to Allah and only He has Knowledge of the Hour
Allah tells us of the perfection of His knowledge and ability to do all things, by telling us that He alone knows the Unseen of the heavens and the earth. No one knows anything about such things except for what Allah informs about as He wills. His complete power, which no one can oppose or resist, means that when He wants a thing, He only has to say to it "Be!" and it is, as Allah says:
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) (54:50) meaning, whatever He wills happens in blinking. Thus Allah says here:
وَمَآ أَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly, Allah is Able to do all things.) iElsewhere, Allah says:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The processes of creating you all and resurrecting you all are but like that of (the creation and resurrection of) a single person.) (31:28)
Among the Favors Allah has granted People are Hearing, Sight and the Heart
Then Allah mentions His blessings to His servants in that He brought them from their mothers' wombs not knowing a thing, then He gives them hearing to recognize voices, sight to see visible things and hearts - meaning reason - whose seat, according to the correct view, is the heart, although it was also said that its seat is the brain. With his reason, a person can distinguish between what is harmful and what is beneficial. These abilities and senses develop gradually in man. The more he grows, the more his hearing, vision and reason increase, until they reach their peak. Allah has created these faculties in man to enable him to worship his Lord, so he uses all these organs, abilities and strengths to obey his Master. Al-Bukhari reported in his Sahih from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يَقُولُ تَعَالَى: مَنْ عَادَىىِلي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ أَدَاءِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ دَعَانِي لَأُجِيبَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَ بِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ فِي شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي فِي قَبْضِ نَفْسِ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْه»
(Allah says: "Whoever takes My friend as an enemy, has declared war on Me. My servant does not draw near to Me with anything better than his doing that which I have enjoined upon him, and My servant keeps drawing near to Me by doing Nawafil (supererogatory) deeds until I love him. And when I love him, I am his hearing with which he hears, his vision with which he sees, his hand with which he strikes and his foot with which he walks. Were he to ask Me for anything, I would give it to him, if he were to call on Me, I would respond, if he were to seek Me for refuge I would surely grant him it. I do not hesitate to do anything as I hesitate to take the soul of My believing servant, because he hates death and I hate to upset him, but it is inevitable.") The meaning of the Hadith is that when a person is sincere in his obedience towards Allah, all his deeds are done for the sake of Allah, so he only hears for the sake of Allah, he only sees for the sake of Allah - meaning he only listens to or looks at what has been allowed by Allah. He does not strike or walk except in obedience to Allah, seeking Allah's help in all of these things. Thus in some versions of the Hadith, narrated outside the Sahih, after the phrase "his foot with which he walks", there is added:
«فَبِي يَسْمَعُ، وَبِي يُبْصِرُ، وَبِي يَبْطِشُ، وَبِي يَمْشِي»
(So through Me he hears, through Me he sees, through Me he strikes and through Me he walks.) Thus Allah says:
وَجَعَلَ لَكُمُ الْسَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(And He gave you hearing, sight, and hearts that you might give thanks.) Elsewhere, He says:
قُلْ هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالاٌّفْئِدَةَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ - قُلْ هُوَ الَّذِى ذَرَأَكُمْ فِى الاٌّرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(Say it is He Who has created you, and endowed you with hearing and seeing, and hearts. Little thanks you give. Say: "It is He Who has created you on the earth, and to Him shall you be gathered (in the Hereafter).") (67:23-24)
In the Subjection of the Birds in the Sky there is a Sign
Then Allah tells His servants to look at the birds held (flying) in the sky, between heaven and earth, and how He has caused them to fly with their wings in the sky. They are held up only by Him, it is He Who gave them the strength to do that, subjecting the air to carry them and support them. As Allah says in Surat Al-Mulk:
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَــفَّـتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلاَّ الرَّحْمَـنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ بَصِيرٌ
(Do they not see the birds above them, spreading their wings out and folding them in None holds them up except the Most Gracious (Allah). Verily, He is the All-Seer of everything.) (67:19) And here Allah says:
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are clear signs for people who believe.)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّن بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّن جُلُودِ الاٌّنْعَـمِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَـثاً وَمَتَـعاً إِلَى حِينٍ - وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
فَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
نیکیوں کی دیوار لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دے دے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کرسکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہوگی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آجائے گی۔ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کرسکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کرسکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہوجاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہوجاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لئے ہوجاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لئے، دیکھتا ہے اللہ کے لئے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضامندی کے کاموں کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لئے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لئے سنتا ہے اور میرے ہی لئے دیکھتا ہے اور میرے لئے پکڑتا ہے اور میرے لئے ہی چلتا پھرتا ہے۔ آیت میں بیان ہے کہ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو اور آیت میں فرمان ہے آیت (قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ 23) 67۔ الملک :23) یعنی اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے۔ پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورة ملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے ؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے ؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے، یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ اس میں ایمانداروں کے لئے بہت سے نشان ہیں۔
79
View Single
أَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ مُسَخَّرَٰتٖ فِي جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
Have they not seen the birds, subservient in the open skies? No one holds them up except Allah; indeed in this are signs for the people who believe.
کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان کی ہوا میں (قانونِ حرکت و پرواز کے) پابند (ہو کر اڑتے رہتے) ہیں، انہیں اللہ کے (قانون کے) سوا کوئی چیز تھامے ہوئے نہیں ہے۔ بیشک اس (پرواز کے اصول) میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Unseen belongs to Allah and only He has Knowledge of the Hour
Allah tells us of the perfection of His knowledge and ability to do all things, by telling us that He alone knows the Unseen of the heavens and the earth. No one knows anything about such things except for what Allah informs about as He wills. His complete power, which no one can oppose or resist, means that when He wants a thing, He only has to say to it "Be!" and it is, as Allah says:
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) (54:50) meaning, whatever He wills happens in blinking. Thus Allah says here:
وَمَآ أَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
(And the matter of the Hour is not but as a twinkling of the eye, or even nearer. Truly, Allah is Able to do all things.) iElsewhere, Allah says:
مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ
(The processes of creating you all and resurrecting you all are but like that of (the creation and resurrection of) a single person.) (31:28)
Among the Favors Allah has granted People are Hearing, Sight and the Heart
Then Allah mentions His blessings to His servants in that He brought them from their mothers' wombs not knowing a thing, then He gives them hearing to recognize voices, sight to see visible things and hearts - meaning reason - whose seat, according to the correct view, is the heart, although it was also said that its seat is the brain. With his reason, a person can distinguish between what is harmful and what is beneficial. These abilities and senses develop gradually in man. The more he grows, the more his hearing, vision and reason increase, until they reach their peak. Allah has created these faculties in man to enable him to worship his Lord, so he uses all these organs, abilities and strengths to obey his Master. Al-Bukhari reported in his Sahih from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said:
«يَقُولُ تَعَالَى: مَنْ عَادَىىِلي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ أَدَاءِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ دَعَانِي لَأُجِيبَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَ بِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ فِي شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي فِي قَبْضِ نَفْسِ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْه»
(Allah says: "Whoever takes My friend as an enemy, has declared war on Me. My servant does not draw near to Me with anything better than his doing that which I have enjoined upon him, and My servant keeps drawing near to Me by doing Nawafil (supererogatory) deeds until I love him. And when I love him, I am his hearing with which he hears, his vision with which he sees, his hand with which he strikes and his foot with which he walks. Were he to ask Me for anything, I would give it to him, if he were to call on Me, I would respond, if he were to seek Me for refuge I would surely grant him it. I do not hesitate to do anything as I hesitate to take the soul of My believing servant, because he hates death and I hate to upset him, but it is inevitable.") The meaning of the Hadith is that when a person is sincere in his obedience towards Allah, all his deeds are done for the sake of Allah, so he only hears for the sake of Allah, he only sees for the sake of Allah - meaning he only listens to or looks at what has been allowed by Allah. He does not strike or walk except in obedience to Allah, seeking Allah's help in all of these things. Thus in some versions of the Hadith, narrated outside the Sahih, after the phrase "his foot with which he walks", there is added:
«فَبِي يَسْمَعُ، وَبِي يُبْصِرُ، وَبِي يَبْطِشُ، وَبِي يَمْشِي»
(So through Me he hears, through Me he sees, through Me he strikes and through Me he walks.) Thus Allah says:
وَجَعَلَ لَكُمُ الْسَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(And He gave you hearing, sight, and hearts that you might give thanks.) Elsewhere, He says:
قُلْ هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالاٌّفْئِدَةَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ - قُلْ هُوَ الَّذِى ذَرَأَكُمْ فِى الاٌّرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(Say it is He Who has created you, and endowed you with hearing and seeing, and hearts. Little thanks you give. Say: "It is He Who has created you on the earth, and to Him shall you be gathered (in the Hereafter).") (67:23-24)
In the Subjection of the Birds in the Sky there is a Sign
Then Allah tells His servants to look at the birds held (flying) in the sky, between heaven and earth, and how He has caused them to fly with their wings in the sky. They are held up only by Him, it is He Who gave them the strength to do that, subjecting the air to carry them and support them. As Allah says in Surat Al-Mulk:
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَــفَّـتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلاَّ الرَّحْمَـنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ بَصِيرٌ
(Do they not see the birds above them, spreading their wings out and folding them in None holds them up except the Most Gracious (Allah). Verily, He is the All-Seer of everything.) (67:19) And here Allah says:
إِنَّ فِى ذلِكَ لآيَـتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
(Verily, in this are clear signs for people who believe.)
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّن بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّن جُلُودِ الاٌّنْعَـمِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَـثاً وَمَتَـعاً إِلَى حِينٍ - وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
فَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
نیکیوں کی دیوار لوگ اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے، جس چیز پر چاہے، اطلاع دے دے۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کرسکے۔ نہ کوئی اسے روک سکے جس کام کا جب ارادہ کرے، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہوگی لیکن حکم الٰہی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے، وہ بھی حکم ہوتے ہی آجائے گی۔ ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں۔ عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔ عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے یہ قویٰ اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے کہ جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کرسکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کرسکتا۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہوجاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہوجاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لئے ہوجاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لئے، دیکھتا ہے اللہ کے لئے، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضامندی کے کاموں کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں۔ اس لئے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لئے سنتا ہے اور میرے ہی لئے دیکھتا ہے اور میرے لئے پکڑتا ہے اور میرے لئے ہی چلتا پھرتا ہے۔ آیت میں بیان ہے کہ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے، کان، آنکھ، دل، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو اور آیت میں فرمان ہے آیت (قُلْ هُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ 23) 67۔ الملک :23) یعنی اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں لیکن تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو، اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور اسی کی طرف تمہارا حشر کیا جانے والا ہے۔ پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے۔ سورة ملک میں بھی یہی فرمان ہے کہ کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے ؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے ؟ وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے، یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ اس میں ایمانداروں کے لئے بہت سے نشان ہیں۔
80
View Single
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُيُوتِكُمۡ سَكَنٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ بُيُوتٗا تَسۡتَخِفُّونَهَا يَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَيَوۡمَ إِقَامَتِكُمۡ وَمِنۡ أَصۡوَافِهَا وَأَوۡبَارِهَا وَأَشۡعَارِهَآ أَثَٰثٗا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٖ
And Allah has given you houses for staying, and made some houses from the hides of animals, which are easy for you on your day of travel and on the day of stopover – and from their wool, and fur, and hair, some household items and utilities for a while.
اور اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو (مستقل) سکونت کی جگہ بنایا اور تمہارے لئے چوپایوں کی کھالوں سے (عارضی) گھر (یعنی خیمے) بنائے جنہیں تم اپنے سفر کے وقت اور (دورانِ سفر منزلوں پر) اپنے ٹھہرنے کے وقت ہلکا پھلکا پاتے ہو اور (اسی اللہ نے تمہارے لئے) بھیڑوں اور دنبوں کی اون اور اونٹوں کی پشم اور بکریوں کے بالوں سے گھریلو استعمال اور (معیشت و تجارت میں) فائدہ اٹھانے کے اسباب بنائے (جو) مقررہ مدت تک (ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
احسانات الٰہی کی ایک جھلک قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔ درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لئے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنا لو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب وزینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔ تسلمون کی دوسری قرأت تسلمون بھی ہے۔ یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرما نبردار بن جاؤ۔ اس سورة کا نام سورة النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لئے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بیشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حالانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں ؟ اسی لئے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بےپایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے ؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بیشمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے اس آیت کی تلاوت اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ نے پڑھا اس لئے کہ تم مسلمان اور مطیع ہوجاؤ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہوجاتے ہیں۔
81
View Single
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡجِبَالِ أَكۡنَٰنٗا وَجَعَلَ لَكُمۡ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلۡحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأۡسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُونَ
And Allah has provided you shade with the things He has created, and created for you refuge in the hills, and created some clothing for you to protect you from the heat, and some clothing to protect you during conflict; this is how He completes His favour upon you, so that you may obey.
اور اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کردہ کئی چیزوں کے سائے بنائے اور اس نے تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور اس نے تمہارے لئے (کچھ) ایسے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور (کچھ) ایسے لباس جو تمہیں شدید جنگ میں (دشمن کے وار سے) بچاتے ہیں، اس طرح اللہ تم پر اپنی نعمتِ (کفالت و حفاظت) پوری فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے حضور) سرِ نیاز خم کر دو
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
احسانات الٰہی کی ایک جھلک قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔ درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لئے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنا لو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب وزینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔ تسلمون کی دوسری قرأت تسلمون بھی ہے۔ یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرما نبردار بن جاؤ۔ اس سورة کا نام سورة النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لئے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بیشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حالانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں ؟ اسی لئے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بےپایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے ؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بیشمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے اس آیت کی تلاوت اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ نے پڑھا اس لئے کہ تم مسلمان اور مطیع ہوجاؤ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہوجاتے ہیں۔
82
View Single
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
Then if they turn away, O dear Prophet, (Mohammed – peace and blessings be upon him) upon you is nothing but to clearly convey (the message).
سو اگر (پھر بھی) وہ رُوگردانی کریں تو (اے نبئ معظم!) آپ کے ذمہ تو صرف (میرے پیغام اور احکام کو) صاف صاف پہنچا دینا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
احسانات الٰہی کی ایک جھلک قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔ درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لئے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنا لو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب وزینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔ تسلمون کی دوسری قرأت تسلمون بھی ہے۔ یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرما نبردار بن جاؤ۔ اس سورة کا نام سورة النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لئے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بیشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حالانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں ؟ اسی لئے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بےپایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے ؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بیشمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے اس آیت کی تلاوت اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ نے پڑھا اس لئے کہ تم مسلمان اور مطیع ہوجاؤ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہوجاتے ہیں۔
83
View Single
يَعۡرِفُونَ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا وَأَكۡثَرُهُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ
They recognise the favour* of Allah and then deny it, and most of them are disbelievers. (* Prophet Mohammed (peace and blessings be upon him) and / or all the favours of Allah.)
یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کافر ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
احسانات الٰہی کی ایک جھلک قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں۔ اسی طرح چوپائے، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے، تمبو اس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔ پھر بکریوں کے بال، اونٹوں کے بال، بھیڑوں اور دنبوں کی اون، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں، فرش بھی تیار ہوتے ہیں، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں۔ درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لئے بنائے ہیں۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنا لو۔ سوتی، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب وزینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں۔ اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو۔ تسلمون کی دوسری قرأت تسلمون بھی ہے۔ یعنی تم سلامت رہو۔ اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرما نبردار بن جاؤ۔ اس سورة کا نام سورة النعم بھی ہے۔ لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو، دشمن کے وار سے بچو۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لئے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بیشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حالانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی۔ اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں ؟ اسی لئے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بےپایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی پڑی ہے ؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا۔ یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بیشمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے، یہ اکثر لوگ کافر ہیں، اللہ کے ناشکرے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے اس آیت کی تلاوت اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے اس نے کہا یہ بھی سچ ہے، اسی طرح آپ ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ نے پڑھا اس لئے کہ تم مسلمان اور مطیع ہوجاؤ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہوجاتے ہیں۔
84
View Single
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدٗا ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ
And the day when We will raise up a witness from every nation – then there will be no leave for the disbelievers, nor will they be appeased.
اور جس دن ہم ہر اُمت سے (اس کے نبی کو اس کے اعمال پر) گواہ بنا کر اٹھائیں گے پھر کافر لوگوں کو (کوئی عذر پیش کرنے کی) اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ (اس وقت) ان سے توبہ و رجوع کا مطالبہ کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
ہر امت کا گواہ اس کا نبی قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گرپڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چناچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت (اذا رایتھم) الخ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہوسکتا ہے ؟ اور آیت میں ہے (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53) 18۔ الكهف :53) گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے۔ اور آیت میں ہے (لو یعلم الذین کفروا) کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کرسکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الہٰی انہیں ہکا بکا کردیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہوگی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بےنیاز ہوجائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو ؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بیخبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہوجانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں۔ اور آیتوں میں ہے کہ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت (ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 25ڎ) 29۔ العنکبوت :25) یعنی قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو الخ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہوجائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 38) 19۔ مریم :38) یعنی جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ سب چہرے اس دن اللہ حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہوجائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہوگا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے جیسے فرمان الہٰی ہے آیت (قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں۔ ابو یعلی میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہر یلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔
85
View Single
وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ ٱلۡعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ
And when the unjust will see the punishment, from that time on it will not be lightened for them, nor will they get respite.
اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو نہ ان سے (اس عذاب کی) تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
ہر امت کا گواہ اس کا نبی قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گرپڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چناچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت (اذا رایتھم) الخ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہوسکتا ہے ؟ اور آیت میں ہے (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53) 18۔ الكهف :53) گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے۔ اور آیت میں ہے (لو یعلم الذین کفروا) کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کرسکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الہٰی انہیں ہکا بکا کردیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہوگی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بےنیاز ہوجائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو ؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بیخبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہوجانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں۔ اور آیتوں میں ہے کہ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت (ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 25ڎ) 29۔ العنکبوت :25) یعنی قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو الخ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہوجائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 38) 19۔ مریم :38) یعنی جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ سب چہرے اس دن اللہ حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہوجائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہوگا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے جیسے فرمان الہٰی ہے آیت (قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں۔ ابو یعلی میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہر یلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔
86
View Single
وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ شُرَكَآءَهُمۡ قَالُواْ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدۡعُواْ مِن دُونِكَۖ فَأَلۡقَوۡاْ إِلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلَ إِنَّكُمۡ لَكَٰذِبُونَ
And when the polytheists will see their ascribed partners, they will say, “Our Lord! These are our partners whom we used to worship besides You”; so they will strike back at them with the saying, “You are indeed liars!”
اور جب مشرک لوگ اپنے (خود ساختہ) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک تھے جن کی ہم تجھے چھوڑ کر پرستش کرتے تھے، پس وہ (شرکاء) انہیں (جواباً) پیغام بھیجیں گے کہ بیشک تم جھوٹے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
ہر امت کا گواہ اس کا نبی قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گرپڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چناچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت (اذا رایتھم) الخ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہوسکتا ہے ؟ اور آیت میں ہے (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53) 18۔ الكهف :53) گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے۔ اور آیت میں ہے (لو یعلم الذین کفروا) کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کرسکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الہٰی انہیں ہکا بکا کردیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہوگی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بےنیاز ہوجائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو ؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بیخبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہوجانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں۔ اور آیتوں میں ہے کہ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت (ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 25ڎ) 29۔ العنکبوت :25) یعنی قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو الخ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہوجائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 38) 19۔ مریم :38) یعنی جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ سب چہرے اس دن اللہ حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہوجائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہوگا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے جیسے فرمان الہٰی ہے آیت (قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں۔ ابو یعلی میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہر یلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔
87
View Single
وَأَلۡقَوۡاْ إِلَى ٱللَّهِ يَوۡمَئِذٍ ٱلسَّلَمَۖ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
And on that day they will fall humbly before Allah, and they will lose all that they used to fabricate.
اور یہ (مشرکین) اس دن اللہ کے حضور عاجزی و فرمانبرداری ظاہر کریں گے اور ان سے وہ سارا بہتان جاتا رہے گا جو یہ باندھا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from Allah
Allah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says:
تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ
(which you find so light when you travel and when you camp;)
وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ
(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively.
أَثَـثاً
(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase,
إِلَى حِينٍ
(for a while) means, until the appointed time.
Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allah
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً
(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees."
وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً
(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds.
جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ
(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool.
وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ
(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on.
كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ
(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him.
لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ
(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.
All the Messenger has to do is convey the Message
فَإِن تَوَلَّوْاْ
(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them.
فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ
(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them.
يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا
(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him.
وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ
(and most of them are disbelievers.)
وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-
ہر امت کا گواہ اس کا نبی قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گرپڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چناچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت (اذا رایتھم) الخ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہوسکتا ہے ؟ اور آیت میں ہے (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53) 18۔ الكهف :53) گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے۔ اور آیت میں ہے (لو یعلم الذین کفروا) کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کرسکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الہٰی انہیں ہکا بکا کردیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہوگی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بےنیاز ہوجائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو ؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بیخبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہوجانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں۔ اور آیتوں میں ہے کہ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت (ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 25ڎ) 29۔ العنکبوت :25) یعنی قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو الخ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہوجائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 38) 19۔ مریم :38) یعنی جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ سب چہرے اس دن اللہ حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہوجائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہوگا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے جیسے فرمان الہٰی ہے آیت (قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں۔ ابو یعلی میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہر یلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔
88
View Single
ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ زِدۡنَٰهُمۡ عَذَابٗا فَوۡقَ ٱلۡعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفۡسِدُونَ
Those who disbelieved and prevented from the way of Allah – We added punishment upon the punishment – the recompense of their mischief.
جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان کے عذاب پر عذاب کا اضافہ کریں گے اس وجہ سے کہ وہ فساد انگیزی کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Plight of the Idolators on the Day of Judgement
Allah tells us about the predicament of the idolators on the Day when they will be resurrected in the realm of the Hereafter. He will raise a witness from every nation - that is - their Prophet, to testify about their response to the Message he conveyed from Allah.
ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ
(then, those who disbelieved will not be given leave.) meaning, they will not be allowed to offer any excuse, as Allah says:
هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ - وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ
(That will be a Day when they do not speak. And they will not be permitted to present any excuse) (77:35-36). Hence, Allah says:
وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَوَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ
(nor will they be allowed (to return to the world) to repent and ask for Allah's forgiveness. And once those who did wrong see) meaning those who associated others in worship with Allah,
الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ
(the torment, it will not decrease for them,) meaning it will not be reduced for them even for a moment.
وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(nor will they be given respite. ) meaning, it will not be delayed for them, rather they will be taken quickly from the place of gathering, with no calling to account. Then Hell will be brought forth, pulled by seventy thousand ropes, each of which is held by seventy thousand angels, and a neck will stretch forth from Hell towards the people, and it will expel a gust of hot air. No one will be left but will fall to his knees. Then it (the neck that is stretched forth) will say, "I have been entrusted to deal with every stubborn, arrogant one who joined another god with Allah," and so and so, mentioning different types of people, as was reported in the Hadith. Then it will come down upon them and pick them up from where they are standing as a bird picks up a seed. Allah says:
إِذَا رَأَتْهُمْ مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُواْ لَهَا تَغَيُّظاً وَزَفِيراً - وَإَذَآ أُلْقُواْ مِنْهَا مَكَاناً ضَيِّقاً مُّقَرَّنِينَ دَعَوْاْ هُنَالِكَ ثُبُوراً - لاَّ تَدْعُواْ الْيَوْمَ ثُبُوراً وَحِداً وَادْعُواْ ثُبُوراً كَثِيراً
(When it (Hell) sees them from a far place, they will hear its raging and its roaring. And when they are thrown into a narrow part of it, chained together, they will cry for destruction. Today, do not scream for one destruction, but scream repeatedly for destruction.) (25:12-14)
وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّواْ أَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُواْ عَنْهَا مَصْرِفًا
(And the guilty shall see the Fire and apprehend that they are about to fall into it. And they will find no way to avoid it.) (18:53)
لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لاَ يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلاَ عَن ظُهُورِهِمْ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ - بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ
(If only those who disbelieved knew (about the time) when they will not be able to protect their faces nor their backs from the Fire, and they have no help. Nay, it (the Fire) will come upon them all of a sudden and will perplex them, and they will have no power to avert it nor will they have any respite.) (21:39-40)
The gods of the Idolators will disown Them at the Time when They need them most
Then Allah tells us that their gods will disown them when they need them most. He says:
وَإِذَا رَءَا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءَهُمْ
(And when those who associated partners with Allah see their partners) meaning, those whom they used to worship in this world.'
قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ
(they will say: "Our Lord! These are our partners whom we used to call upon besides you." But they will throw their statements back at them (saying): "You are indeed liars!") i.e., those gods will say to them, `you are lying. We never commanded you to worship us.' Allah says:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ - وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ
(And who is more astray than one who calls upon others besides Allah, such as will not answer him till the Day of Resurrection, and who are (even) unaware of their invocations to them And when the people are gathered (on the Day of Resurrection), they (false deities) will become their enemies and will deny their worship,) (46:5-6)
وَاتَّخَذُواْ مِن دُونِ اللَّهِ ءالِهَةً لِّيَكُونُواْ لَهُمْ عِزّاً
كَلاَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدّاً
(And they have taken gods besides Allah, that they might give them honor, power and glory. Nay, but they will deny their worship, and become their adversaries (on the Day of Resurrection).) (19:81-82) Al-Khalil Ibrahim said:
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ
(but on the Day of Resurrection, you will disown each other) 29:25 And Allah says:
وَقِيلَ ادْعُواْ شُرَكَآءَكُمْ
(And it will be said (to them): "Call upon your partners") 28:64 And there are many other similar Ayat.
Everything will surrender to Allah on the Day of Resurrection
وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ
(And they will offer (their full) submission to Allah on that Day,) Qatadah and `Ikrimah said: "They will humble themselves and surrender on that Day," i.e., they will all surrender to Allah, there will not be anyone who does not hear and obey. As Allah says:
أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا
(How clearly will they see and hear, the Day when they will appear before Us!) 19:38 meaning, they will see and hear better than they have ever seen and heard before. And Allah says:
وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا
(And if you only could see when the guilty hang their heads before their Lord (saying): "Our Lord! We have now seen and heard.") 32:12
وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَىِّ الْقَيُّومِ
(And (all) faces shall be humbled before the Ever Living, the Sustainer.) 20:111 meaning, they will humble and submit themselves.
وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ
(And they will offer (their full) submission to Allah on that Day, and what they falsely invented will wander away from them.) The things that they used to worship which were all based on fabrications and lies, will all disappear, and they will have no helper or supporter, and no one to turn to.
Those among the Idolators who corrupted Others will receive a Greater Punishment
Then Allah tells us:
الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا
(Those who disbelieved and tried to obstruct the path of Allah, for them We will add torment) meaning one punishment for their disbelief and another punishment for turning others away from following the truth, as Allah says:
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ
(And they prevent others from him and they themselves keep away from him) 6:26 meaning they forbade others to follow him and they themselves shunned him, but:
وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
(they destroyed only themselves, while they do not realize it.) This is evidence that there will be varying levels of punishment for the disbelievers, just as there will be varying degrees of Paradise for the believers, as Allah says:
قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ
(For each one there is double (torment), but you know not.) 7:38
ہر امت کا گواہ اس کا نبی قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر امت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے۔ سورة والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آموجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گرپڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چناچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔ جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت (اذا رایتھم) الخ جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہوسکتا ہے ؟ اور آیت میں ہے (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53) 18۔ الكهف :53) گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے۔ اور آیت میں ہے (لو یعلم الذین کفروا) کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کرسکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الہٰی انہیں ہکا بکا کردیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہوگی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بےنیاز ہوجائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو ؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) 46۔ الأحقاف :5) یعنی اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بیخبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہوجانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں۔ اور آیتوں میں ہے کہ اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت (ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 25ڎ) 29۔ العنکبوت :25) یعنی قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے کہ انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو الخ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں۔ اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہوجائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 38) 19۔ مریم :38) یعنی جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے، اس دن خوب ہی سننے والے، دیکھنے والے ہوجائیں گے۔ اور آیت میں ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا، الخ۔ اور آیت میں ہے کہ سب چہرے اس دن اللہ حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے، تابع اور مطیع ہوں گے، زیر فرمان ہوں گے۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے۔ ساری چالاکیاں ختم ہوجائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہوگا۔ جنہوں نے کفر کیا، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بیوقوف تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مومنوں کے جزا کے درجے ہوں گے جیسے فرمان الہٰی ہے آیت (قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں۔ ابو یعلی میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہر یلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہوتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہوگا۔
89
View Single
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِۚ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ
And the day when We will raise from every group, a witness from among them, in order to testify against them and will bring you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) as a witness upon them all; and We have sent down this Qur’an upon you which is a clear explanation of all things, and a guidance and a mercy and glad tidings to the Muslims.
اور (یہ) وہ دن ہوگا (جب) ہم ہر امت میں انہی میں سے خود ان پر ایک گواہ اٹھائیں گے اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ کو ان سب (امتوں اور پیغمبروں) پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے
Tafsir Ibn Kathir
Every Prophet will bear Witness against his Nation on the Day of Resurrection
Allah addressed His servant and Messenger Muhammad ﷺ, saying:
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِى كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ أَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَـؤُلآءِ
(And on the Day when We resurrect a witness from each nation from among themselves, and We bring you (O Muhammad) as a witness against these.), meaning, your Ummah. The Ayah means: remember that Day and its terrors, and the great honor and high position that Allah has bestowed upon you. This Ayah is like the Ayah with which `Abdullah bin Mas`ud ended when he recited to the Messenger of Allah ﷺ from the beginning of Surat An-Nisa'. When he reached the Ayah:
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاءِ شَهِيداً
(How (will it be) then, when We bring from each nation a witness and We bring you (O Muhammad) as a witness against these) 4:41 the Messenger of Allah ﷺ said to him:
«حَسْبُك»
(Enough.) Ibn Mas`ud said: "I turned to him and saw his eyes streaming with tears."
The Qur'an explains Everything
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَـبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَىْءٍ
(And We revealed the Book (the Qur'an) to you as an explanation of everything,) Ibn Mas`ud said: "Allah made it clear that in this Qur'an there is complete knowledge and about everything." The Qur'an contains all kinds of beneficial knowledge, such as reports of what happened in the past, information about what is yet to come, what is lawful and unlawful, and what people need to know about their worldly affairs, their religion, their livelihood in this world, and their destiny in the Hereafter.
وَهَدَى
(a guidance) means, for their hearts.
وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ
(a mercy, and good news for the Muslims.) Al-Awza`i said:
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَـبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَىْءٍ
(And We have revealed the Book (the Qur'an) as an explanation of everything,) meaning, with the Sunnah. The is the reason why the phrase,
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَـبَ
(And We have revealed the Book to you) is mentioned immediately after the phrase,
وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَـؤُلآءِ
(And We shall bring you (O Muhammad) as a witness against these. ) the meaning - and Allah knows best - is that the One Who obligated you to convey the Book which He revealed to you, will also ask you about that on the Day of Resurrection.
فَلَنَسْـَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
(Then We shall indeed question those (people) to whom it (the Book) was sent and We shall indeed question the Messengers.) (7:6)
فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ - عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(So by your Lord We question them all about what they did.) (15:92-92)
يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَآ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـمُ الْغُيُوبِ
(On the Day when Allah gathers the Messengers together and says to them: "What was the response you received (to your Message)" They will say: "We have no knowledge, indeed only You are the Knower of all that is hidden.") (5:109) And Allah says:
إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَى مَعَادٍ
(Verily, He Who obligated the Qur'an upon you (O Muhammad) will surely bring you back to the return.) 28:85 meaning, the One Who gave you the obligation of conveying the Qur'an will bring you back to Him, and your return will be on the Day of Resurrection, and He will question you about you commission of the duty He gave you. This is one of the opinions, and it presents a good understanding of it.
کتاب مبین اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ ﷺ سے خطاب کر کے فرما رہے ہیں کہ اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شر افت وکر امت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورة نساء کے شروع کی آیت فکیف اذا جئنا من کل امتہ بشھید و جئنا بک علی ھو لاء شھیدا یعنی کیو نکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے حضور ﷺ نے ایک بار حضرت عبداللہ بن مسعود سے سورة نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ نے فرمایا بس کر کافی ہے۔ ابن مسعود ؓ نے دیکھا کہ اس وقت آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ ﷺ۔ پھر فرماتا ہے اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نا فع علم، ہر بھلائی گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام و احوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے۔ امام اوزاعی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب سنت رسول ﷺ کو ملا کر ہر چیز کا بیان ہے۔ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غا لبا یہ تعلق ہے کہ جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی با بت سوال کرنے والا ہے جیسے فرمان ہے کہ امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی باز پرس کریں گے۔ رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے۔ اور آیت میں ہے ان لذی فرض علیک القر ان لر ادک الی معاد یعنی جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سو نپے ہوئے فریضے کی با بت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔
90
View Single
۞إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
Indeed Allah decrees the commands of justice and kindness, and of giving to relatives, and forbids from the shameful and evil and rebellion; He advises you so that you may pay heed.
بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Fair and Kind
Allah tells us that He commands His servant to be just, i.e., fair and moderate, and that He encourages kindness and good treatment. As He says:
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّـبِرينَ
(And if you punish them, then punish them with the like of that with which you were afflicted. But if you have patience with them, then it is better for those who are patient.) (16:126)
وَجَزَآءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ
(The recompense for an offense is an offense the like thereof; but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah.) 42:40
وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ
(and wounds equal for equal. But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall count as atonement for him.) 5:45 And there are other Ayat which support the institution of justice in Islam, as well as encouraging a fair and generous attitude.
The Command to maintain the Ties of Kinship and the prohibition of Immoral Sins, Evil and Tyranny
وَإِيتَآءِ ذِى الْقُرْبَى
(and giving (help) to relatives,) meaning that Allah is commanding us to uphold the ties of kinship, as He says:
وَءَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا
(And give the relative his due and to the poor and to the wayfarer. But do not spend wastefully in the manner of a spendthrift.) (17:26)
وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ
(and He forbids immoral sins, and evil) Fahsha' refers to all things that are forbidden, and Munkar refers to those forbidden deeds that are committed openly by the one who does them. Hence Allah says elsewhere:
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ
(Say (O Muhammad): "(But) the things that my Lord has indeed forbidden are the indecencies, whether committed openly or secretly) (7:33) Baghy refers to aggression towards people. In a Hadith, the Prophet said:
«مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرَ أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لِصَاحِبِهِ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِم»
(There is no sin more deserving of having its punishment hastened in this world, as well as what is reserved in the Hereafter for the one who does it, than tyrannical aggression and cutting the ties of kinship.)
يَعِظُكُمُ
(He admonishes you,) meaning, He commands what He commands you of good and He forbids what He forbids you of evil;
لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(so that perhaps you may take heed) Ash-Sha`bi reported that Shatiyr bin Shakl said: "I heard Ibn Mas`ud say: `The most comprehensive Ayah in the Qur'an is in Surat An-Nahl:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإْحْسَانِ
(Verily, Allah enjoins justice and kindness...)"' It was reported by Ibn Jarir.
The Eyewitness Account of `Uthman
Concerning the revelation of this Ayah, Imam Ahmad reported a Hasan Hadith from `Abdullah bin `Abbas who said: "While the Messenger of Allah ﷺ was sitting in the courtyard of his house, `Uthman bin Maz`un passed by and smiled at the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ said to him,
«أَلَا تَجْلِسُ؟»
(Won't you sit down) He said, `Certainly.' So the Messenger of Allah ﷺ sat facing him, and while they were talking, the Messenger of Allah ﷺ began looking up at the sky, looking at it for a while, then he brought his gaze down until he was looking at the ground to his right. Then the Messenger of Allah ﷺ turned slightly away from his companion `Uthman to where he was looking. Then he began to tilt his head as if trying to understand something, and Ibn Maz`un was looking on. When the matter was finished and he had understood what had been said to him, the Messenger of Allah ﷺ stared at the sky again as he had the first time, looking at whatever he could see until it disappeared. Then he turned back to face `Uthman again. `Uthman said, `O Muhammad, I have never seen you do anything like you did today while I was sitting with you.' The Messenger of Allah ﷺ said:
«وَمَا رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ؟»
(What did you see me do) `Uthman said: `I saw you staring at the sky, then you lowered your gaze until you were looking to your right, then you turned to him and left me. Then you tilted your head as if you were trying to understand something that was being said to you.' The Messenger of Allah ﷺ said,
«وَفَطِنْتَ لِذَلِكَ؟»
(Did you notice that) `Uthman said, `Yes'. The Messenger of Allah ﷺ said:
«أَتَانِي رَسُولُ اللهِ آنِفًا وَأَنْتَ جَالِس»
(A messenger from Allah came to me just now, when you were sitting here.) `Uthman said, `A messenger from Allah' The Messenger of Allah ﷺ said,
«نَعَم»
(Yes.) `Uthman said, `And what did he say to you' The Messenger of Allah ﷺ said:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإْحْسَانِ
(Verily, Allah orders justice and kindness...) `Uthman said: `That was when faith was established in my heart and I began to love Muhammad ." It is a Hasan Hadith having a good connected chain of narrators in which their hearing it from each other is clear.
بر ابر کا بدلہ اللہ سبحا نہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے جیسے آیت (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ01206) 16۔ النحل :126) میں فرمایا کہ اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کرلو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے۔ اور آیت میں فرمایا اس کا اجر خدا کے ہاں ملے گا۔ ایک اور آیت میں ہے زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے۔ پس عدل تو فرض، احسان نفل اور کلمہ توحید کی شہادت بھی عدل ہے۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو۔ اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو۔ وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ جیسے صاف لفظوں میں ارشاد آیت (وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا 26) 17۔ الإسراء :26)۔ رشتے داروں، مسکینوں، مسافروں کو ان کا حق دو اور بےجا خرچ نہ کرو۔ محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں۔ لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے۔ حدیث میں ہے کہ کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو۔ اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لئے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کردی ہے۔ حدیث شریف میں ہے بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے۔ اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ ﷺ کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہوگئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں۔ دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لئے تیار ہوئے یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں ﷺ اور دوسرے سو ال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول۔ پھر آپ نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے۔ آپ نے پھر پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کرلی پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتادیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ کی زبانی ہم نے سنے۔ یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلی باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ۔ اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ اپنی انگنائی میں بھٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون آپ کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا بیٹھتے نہیں ہو ؟ وہ بیٹھ گیا، آپ اس کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کر رہے تھے کہ حضور ﷺ دفعتہ اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ نے رخ بھی کرلیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی پھر آپ نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں، یہاں تک کہ آسمان تک آپ کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ ٹھیک ٹھاک ہوگئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا، اس سے صبر نہ ہوسکا، پوچھا کہ حضرت آپ کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا، آپ نے پوچھا تم نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا یہ کہ آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچیں کرلی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے، مجھے چھوڑ دیا، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہو۔ اور آپ اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں۔ آپ نے فرمایا اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا ؟ اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا۔ آپ نے فرمایا میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا ؟ آپ نے فرمایا ہاں، ہاں اللہ کا بھیجا ہوا۔ پوچھا پھر اس نے آپ سے کیا کہا ؟ آپ نے یہی آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عثمان بن مظعون ؓ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور حضور ﷺ کی محبت نے میرے دل میں گھر کرلیا۔ ایک اور روایت میں حضرت عثمان بن ابو العاص ؓ سے مروی ہے کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں یہ روایت بھی صحیح ہے واللہ ! علم۔
91
View Single
وَأَوۡفُواْ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمۡ وَلَا تَنقُضُواْ ٱلۡأَيۡمَٰنَ بَعۡدَ تَوۡكِيدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ ٱللَّهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيلًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ
And fulfil the covenant of Allah when you have made the promise, and do not break your oaths after ratifying them, and you have made Allah a Guarantor over you; indeed Allah knows your deeds.
اور تم اللہ کا عہد پورا کر دیا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو پختہ کر لینے کے بعد انہیں مت توڑا کرو حالانکہ تم اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنا چکے ہو، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to fulfill the Covenant
This is one of the commands of Allah, to fulfill covenants, keep promises and to fulfill oaths after confirming them. Thus Allah says:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them) There is no conflict between this and the Ayat:
وَلاَ تَجْعَلُواْ اللَّهَ عُرْضَةً لاًّيْمَـنِكُمْ
(And do not use Allah as an excuse in your oaths) 2:224
ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَـنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَـنَكُمْ
(That is the expiation for oaths when you have sworn. And protect your oaths.) 5:89 meaning, do not forgo your oaths without offering the penance. There is also no conflict between this Ayah (16:91) and the Hadith reported in the Two Sahihs according to which the Prophet said:
«إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»
(By Allah, if Allah wills, I will not swear an oath and then realize that something else is better, but I do that which is better and find a way to free myself from the oath. According to another report he said: "and I offer penance for my oath. ") There is no contradiction at all between all of these texts and the Ayah under discussion here, which is:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them) because these are the kinds of oaths that have to do with covenants and promises, not the kind that have to do with urging oneself to do something or preventing him from doing something. Therefore Mujahid said concerning this Ayah:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them) "The oath here refers to oaths made during Jahiliyyah." This supports the Hadith recorded by Imam Ahmad from Jubayr bin Mut`im, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
«لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّة»
(There is no oath in Islam, and any oath made during the Jahiliyyah is only reinforced by Islam.) This was also reported by Muslim. The meaning is that Islam does not need oaths as they were used by the people of the Jahiliyyah; adherence to Islam is sufficient to do away with any need for what they used to customarily give oaths for. In the Two Sahihs it was reported that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ swore the treaty of allegiance between the Muhajirin (emigrants) and the Ansar (helpers) in our house. " This means that he established brotherhood between them, and they used to inherit from one another, until Allah abrogated that. And Allah knows best.
إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
(Verily, Allah knows what you do.) This is a warning and a threat to those who break their oaths after confirming them.
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَـثًا
(And do not be like the one who undoes the thread which she has spun, after it has become strong,) `Abdullah bin Kathir and As-Suddi said: "This was a foolish woman in Makkah. Everytime she spun thread and made it strong, she would undo it again." Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said: "This is like the one who breaks a covenant after confirming it." This view is more correct and more apparent, whether or not there was a woman in Makkah who undid her thread after spinning it. The word Ankathan could be referring back to the word translated as "undoes", reinforcing the meaning, or it could be the predicate of the verb "to be", meaning, do not be Ankathan, the plural of Nakth (breach, violation), from the word Nakith (perfidious). Hence after this, Allah says:
تَتَّخِذُونَ أَيْمَـنَكُمْ دَخَلاً بَيْنَكُمْ
(by taking your oaths as a means of deception among yourselves) meaning for the purposes of cheating and tricking one another.
أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِىَ أَرْبَى مِنْ أُمَّةٍ
(when one group is more numerous than another group. ) meaning, you swear an oath with some people if they are more in number than you, so that they can trust you, but when you are able to betray them you do so. Allah forbids that, by showing a case where treachery might be expected or excused, but He forbids it. If treachery is forbidden in such a case, then in cases where one is in a position of strength it is forbidden more emphatically. Mujahid said: "They used to enter into alliances and covenants, then find other parties who were more powerful and more numerous, so they would cancel the alliance with the first group and make an alliance with the second who were more powerful and more numerous. This is what they were forbidden to do." Ad-Dahhak, Qatadah and Ibn Zayd said something similar.
إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ
(Allah only tests you by this) Sa`id bin Jubayr said: "This means (you are tested) by the large numbers." This was reported by Ibn Abi Hatim. Ibn Jarir said: "It means (you are being tested) by His command to you to adhere to your covenants."
وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
(And on the Day of Resurrection, He will certainly clarify that which you differed over.) Everyone will be rewarded or punished in accordance with his deeds, good or evil.
عہد و پیمان کی حفاظت اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے۔ اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں واللہ میں جس چیز پر قسم کھا لوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بیحد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لئے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔ چناچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اسلام میں دو جماعتوں کی اپس میں ایک کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آ پس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے۔ اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری کردیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔ بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت انس ؓ کے گھر میں رسول کریم علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں۔ اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہوگیا۔ کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو۔ مسند احمد میں ہے کہ جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے اما بعد کہہ کر فرمایا ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول ﷺ کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ہر غدار کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔ مسند احمد میں حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بےپناہ چھوڑ دے پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد وپیم ان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے۔ مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہوجانے کے بعد بےوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کردیتی۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے۔ انکاثا کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ نقضت غزلھا کا اسم مصدر ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بدل ہو کان کی کبر کا یعنی انکاث نہ ہو جمع مکث کی ناکث سے۔ پھر فرماتا ہے کہ قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اپنے سے بڑوں کو اپنی قسموں سے اطمینان دلاؤ اور اپنی ایمانداری اور نیک نیتی کا سکہ بٹھا کر پھر غداری اور بےایمانی کر جاؤ ان کی کثرت دیکھ کر جھوٹے وعدے کر کے صلح کرلو اور پھر موقع پا کر لڑائی شروع کردو ایسا نہ کرو۔ پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کردی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولی حرام ہوئی۔ بحمد اللہ ہم سورة انفال میں حضرت معاویہ ؓ کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لئے صلح نامہ ہوگیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے۔ جب حضرت عمرو بن عتبہ ؓ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المومنین حضرت معاویہ ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر ! اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بد عہدی سے بچ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس قوم سے عہد معاہدہ ہوجائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہوجائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت معاویہ ؓ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا۔ ازبی سے مراد اکثر ہے۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کرلی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کرلیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے، اس سے معاملہ کرلیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے۔ یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک، بدوں کو بد۔
92
View Single
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّتِي نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ أَنكَٰثٗا تَتَّخِذُونَ أَيۡمَٰنَكُمۡ دَخَلَۢا بَيۡنَكُمۡ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرۡبَىٰ مِنۡ أُمَّةٍۚ إِنَّمَا يَبۡلُوكُمُ ٱللَّهُ بِهِۦۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
And do not be like the woman broke her thread into bits after she had manufactured it; you make your oaths a phoney excuse between yourselves lest one nation may not be more than the other; Allah just tries you with it; and He will surely clarify for you on the Day of Resurrection, the matters in which you differed.
اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کات لینے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، تم اپنی قَسموں کو اپنے درمیان فریب کاری کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ (اس طرح) ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ہو جائے، بات یہ ہے کہ اللہ (بھی) تمہیں اسی کے ذریعہ آزماتا ہے، اور وہ تمہارے لئے قیامت کے دن ان باتوں کو ضرور واضح فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to fulfill the Covenant
This is one of the commands of Allah, to fulfill covenants, keep promises and to fulfill oaths after confirming them. Thus Allah says:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them) There is no conflict between this and the Ayat:
وَلاَ تَجْعَلُواْ اللَّهَ عُرْضَةً لاًّيْمَـنِكُمْ
(And do not use Allah as an excuse in your oaths) 2:224
ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَـنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَـنَكُمْ
(That is the expiation for oaths when you have sworn. And protect your oaths.) 5:89 meaning, do not forgo your oaths without offering the penance. There is also no conflict between this Ayah (16:91) and the Hadith reported in the Two Sahihs according to which the Prophet said:
«إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»
(By Allah, if Allah wills, I will not swear an oath and then realize that something else is better, but I do that which is better and find a way to free myself from the oath. According to another report he said: "and I offer penance for my oath. ") There is no contradiction at all between all of these texts and the Ayah under discussion here, which is:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them) because these are the kinds of oaths that have to do with covenants and promises, not the kind that have to do with urging oneself to do something or preventing him from doing something. Therefore Mujahid said concerning this Ayah:
وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا
(and do not break the oaths after you have confirmed them) "The oath here refers to oaths made during Jahiliyyah." This supports the Hadith recorded by Imam Ahmad from Jubayr bin Mut`im, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:
«لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّة»
(There is no oath in Islam, and any oath made during the Jahiliyyah is only reinforced by Islam.) This was also reported by Muslim. The meaning is that Islam does not need oaths as they were used by the people of the Jahiliyyah; adherence to Islam is sufficient to do away with any need for what they used to customarily give oaths for. In the Two Sahihs it was reported that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ swore the treaty of allegiance between the Muhajirin (emigrants) and the Ansar (helpers) in our house. " This means that he established brotherhood between them, and they used to inherit from one another, until Allah abrogated that. And Allah knows best.
إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
(Verily, Allah knows what you do.) This is a warning and a threat to those who break their oaths after confirming them.
وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَـثًا
(And do not be like the one who undoes the thread which she has spun, after it has become strong,) `Abdullah bin Kathir and As-Suddi said: "This was a foolish woman in Makkah. Everytime she spun thread and made it strong, she would undo it again." Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said: "This is like the one who breaks a covenant after confirming it." This view is more correct and more apparent, whether or not there was a woman in Makkah who undid her thread after spinning it. The word Ankathan could be referring back to the word translated as "undoes", reinforcing the meaning, or it could be the predicate of the verb "to be", meaning, do not be Ankathan, the plural of Nakth (breach, violation), from the word Nakith (perfidious). Hence after this, Allah says:
تَتَّخِذُونَ أَيْمَـنَكُمْ دَخَلاً بَيْنَكُمْ
(by taking your oaths as a means of deception among yourselves) meaning for the purposes of cheating and tricking one another.
أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِىَ أَرْبَى مِنْ أُمَّةٍ
(when one group is more numerous than another group. ) meaning, you swear an oath with some people if they are more in number than you, so that they can trust you, but when you are able to betray them you do so. Allah forbids that, by showing a case where treachery might be expected or excused, but He forbids it. If treachery is forbidden in such a case, then in cases where one is in a position of strength it is forbidden more emphatically. Mujahid said: "They used to enter into alliances and covenants, then find other parties who were more powerful and more numerous, so they would cancel the alliance with the first group and make an alliance with the second who were more powerful and more numerous. This is what they were forbidden to do." Ad-Dahhak, Qatadah and Ibn Zayd said something similar.
إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ
(Allah only tests you by this) Sa`id bin Jubayr said: "This means (you are tested) by the large numbers." This was reported by Ibn Abi Hatim. Ibn Jarir said: "It means (you are being tested) by His command to you to adhere to your covenants."
وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
(And on the Day of Resurrection, He will certainly clarify that which you differed over.) Everyone will be rewarded or punished in accordance with his deeds, good or evil.
عہد و پیمان کی حفاظت اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے۔ اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں واللہ میں جس چیز پر قسم کھا لوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بیحد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لئے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔ چناچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اسلام میں دو جماعتوں کی اپس میں ایک کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آ پس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے۔ اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری کردیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔ بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت انس ؓ کے گھر میں رسول کریم علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں۔ اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہوگیا۔ کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو۔ مسند احمد میں ہے کہ جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے اما بعد کہہ کر فرمایا ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول ﷺ کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ہر غدار کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔ مسند احمد میں حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بےپناہ چھوڑ دے پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد وپیم ان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے۔ مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہوجانے کے بعد بےوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کردیتی۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے۔ انکاثا کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ نقضت غزلھا کا اسم مصدر ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بدل ہو کان کی کبر کا یعنی انکاث نہ ہو جمع مکث کی ناکث سے۔ پھر فرماتا ہے کہ قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اپنے سے بڑوں کو اپنی قسموں سے اطمینان دلاؤ اور اپنی ایمانداری اور نیک نیتی کا سکہ بٹھا کر پھر غداری اور بےایمانی کر جاؤ ان کی کثرت دیکھ کر جھوٹے وعدے کر کے صلح کرلو اور پھر موقع پا کر لڑائی شروع کردو ایسا نہ کرو۔ پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کردی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولی حرام ہوئی۔ بحمد اللہ ہم سورة انفال میں حضرت معاویہ ؓ کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لئے صلح نامہ ہوگیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے۔ جب حضرت عمرو بن عتبہ ؓ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المومنین حضرت معاویہ ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر ! اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بد عہدی سے بچ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس قوم سے عہد معاہدہ ہوجائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہوجائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں۔ یہ سنتے ہی حضرت معاویہ ؓ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا۔ ازبی سے مراد اکثر ہے۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کرلی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کرلیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے، اس سے معاملہ کرلیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے۔ یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک، بدوں کو بد۔
93
View Single
وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَلَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
Had Allah willed He would have made you all one nation, but He sends astray whomever He wills and guides whomever He wills; and you will certainly be questioned regarding your deeds.
اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرما دیتا ہے، اور تم سے ان کاموں کی نسبت ضرور پوچھا جائے گا جو تم انجام دیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
If Allah had willed, He would have made all of Humanity one Nation
Allah says:
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ
(And had Allah willed, He would have made you) meaning - O mankind,
أُمَّةً وَحِدَةً
((all) one nation,) This is like the Ayah:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, all of those on earth would have believed together.) 10:99, meaning, He could have created harmony among them, and there would not be any differences, conflicts or hatred between them.
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ
(And if your Lord had so willed, He would surely, have made mankind one Ummah nation or community, but they will not cease to disagree. Except him on whom your Lord has bestowed His mercy, and for that did He create them.) (11:118-119) Similarly, Allah says here:
وَلـكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ
(but He allows whom He wills to stray and He guides whom He wills. ) Then on the Day of Resurrection, He will ask them all about their deeds, and will reward or punish them even equal to a scalish thread in the long slit of a date stone or the size of a speck on the back of a date stone, or even a thin membrane of the date stone.
The Prohibition on taking an Oath for Purposes of Treachery
Then Allah warns His servant against taking oaths as means of deception, i.e., using them for treacherous purposes, lest a foot should slip after being firmly planted. This is an analogy describing one who was on the right path but then deviated and slipped from the path of guidance because of an unfulfilled oath that involved hindering people from the path of Allah. This is because if a disbeliever were to find that after having agreed to a covenant, then the believer betrayed him, then the believer will have hindered him from entering Islam. Thus Allah says:
وَتَذُوقُواْ الْسُّوءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(and you taste the evil of having hindered from the path of Allah, and you will suffer a terrible punishment.)
Do not break Oaths for the sake of Worldly Gain
Then Allah says:
وَلاَ تَشْتَرُواْ بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(And do not use an oath by Allah for the purchase of little value.) meaning, do not neglect an oath sworn in the Name of Allah for the sake of this world and its attractions, for they are few, and even if the son of Adam were to gain this world and all that is in it, that which is with Allah is better for him, i.e., the reward of Allah is better for the one who puts his hope in Him, believes in Him, seeks Him and fulfills his oaths in the hope of that which Allah has promised. This is why Allah says:
إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَمَا عِندَكُمْ يَنفَدُ
(if you only knew. Whatever you have will be exhausted,) meaning, it will come to an end and will vanish, because it is only there for a certain, limited time.
وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(and what is with Allah will remain.) meaning, His reward for you in Paradise will remain, without interruption or end, because it is eternal and will never change nor disappear.
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(And to those who are patient, We will certainly grant them their rewards in proportion to the best of what they used to do. ) Here the Lord swears, with the Lam of affirmation, that He will reward the patient for the best of their deeds, i.e., He will forgive them for their bad deeds.
ایک مذہب و مسلک اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا (ترجمہ) یعنی اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کردیتا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ باایمان ہی ہوتے۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لئے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین و بال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لئے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی۔ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہوجائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لئے جو اجر وثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہوجائے بلکہ لینے کے دینے پڑجائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا۔
94
View Single
وَلَا تَتَّخِذُوٓاْ أَيۡمَٰنَكُمۡ دَخَلَۢا بَيۡنَكُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمُۢ بَعۡدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُواْ ٱلسُّوٓءَ بِمَا صَدَدتُّمۡ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَكُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
And do not make your oaths phoney excuses between yourselves, so that a foot may not slip after being steadfast and you may taste evil because you were preventing from Allah’s way; and lest you be severely punished.
اور تم اپنی قَسموں کو آپس میں فریب کاری کا ذریعہ نہ بنایا کرو ورنہ قدم (اسلام پر) جم جانے کے بعد لڑکھڑا جائے گا اور تم اس وجہ سے کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے برے انجام کا مزہ چکھو گے، اور تمہارے لئے زبردست عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
If Allah had willed, He would have made all of Humanity one Nation
Allah says:
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ
(And had Allah willed, He would have made you) meaning - O mankind,
أُمَّةً وَحِدَةً
((all) one nation,) This is like the Ayah:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, all of those on earth would have believed together.) 10:99, meaning, He could have created harmony among them, and there would not be any differences, conflicts or hatred between them.
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ
(And if your Lord had so willed, He would surely, have made mankind one Ummah nation or community, but they will not cease to disagree. Except him on whom your Lord has bestowed His mercy, and for that did He create them.) (11:118-119) Similarly, Allah says here:
وَلـكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ
(but He allows whom He wills to stray and He guides whom He wills. ) Then on the Day of Resurrection, He will ask them all about their deeds, and will reward or punish them even equal to a scalish thread in the long slit of a date stone or the size of a speck on the back of a date stone, or even a thin membrane of the date stone.
The Prohibition on taking an Oath for Purposes of Treachery
Then Allah warns His servant against taking oaths as means of deception, i.e., using them for treacherous purposes, lest a foot should slip after being firmly planted. This is an analogy describing one who was on the right path but then deviated and slipped from the path of guidance because of an unfulfilled oath that involved hindering people from the path of Allah. This is because if a disbeliever were to find that after having agreed to a covenant, then the believer betrayed him, then the believer will have hindered him from entering Islam. Thus Allah says:
وَتَذُوقُواْ الْسُّوءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(and you taste the evil of having hindered from the path of Allah, and you will suffer a terrible punishment.)
Do not break Oaths for the sake of Worldly Gain
Then Allah says:
وَلاَ تَشْتَرُواْ بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(And do not use an oath by Allah for the purchase of little value.) meaning, do not neglect an oath sworn in the Name of Allah for the sake of this world and its attractions, for they are few, and even if the son of Adam were to gain this world and all that is in it, that which is with Allah is better for him, i.e., the reward of Allah is better for the one who puts his hope in Him, believes in Him, seeks Him and fulfills his oaths in the hope of that which Allah has promised. This is why Allah says:
إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَمَا عِندَكُمْ يَنفَدُ
(if you only knew. Whatever you have will be exhausted,) meaning, it will come to an end and will vanish, because it is only there for a certain, limited time.
وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(and what is with Allah will remain.) meaning, His reward for you in Paradise will remain, without interruption or end, because it is eternal and will never change nor disappear.
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(And to those who are patient, We will certainly grant them their rewards in proportion to the best of what they used to do. ) Here the Lord swears, with the Lam of affirmation, that He will reward the patient for the best of their deeds, i.e., He will forgive them for their bad deeds.
ایک مذہب و مسلک اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا (ترجمہ) یعنی اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کردیتا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ باایمان ہی ہوتے۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لئے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین و بال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لئے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی۔ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہوجائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لئے جو اجر وثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہوجائے بلکہ لینے کے دینے پڑجائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا۔
95
View Single
وَلَا تَشۡتَرُواْ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلًاۚ إِنَّمَا عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
And do not exchange the covenant of Allah to procure an abject price; that which is with Allah is better for you, if you know.
اور اللہ کے عہد حقیر سی قیمت (یعنی دنیوی مال و دولت) کے عوض مت بیچ ڈالا کرو، بیشک جو (اجر) اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم (اس راز کو) جانتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
If Allah had willed, He would have made all of Humanity one Nation
Allah says:
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ
(And had Allah willed, He would have made you) meaning - O mankind,
أُمَّةً وَحِدَةً
((all) one nation,) This is like the Ayah:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, all of those on earth would have believed together.) 10:99, meaning, He could have created harmony among them, and there would not be any differences, conflicts or hatred between them.
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ
(And if your Lord had so willed, He would surely, have made mankind one Ummah nation or community, but they will not cease to disagree. Except him on whom your Lord has bestowed His mercy, and for that did He create them.) (11:118-119) Similarly, Allah says here:
وَلـكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ
(but He allows whom He wills to stray and He guides whom He wills. ) Then on the Day of Resurrection, He will ask them all about their deeds, and will reward or punish them even equal to a scalish thread in the long slit of a date stone or the size of a speck on the back of a date stone, or even a thin membrane of the date stone.
The Prohibition on taking an Oath for Purposes of Treachery
Then Allah warns His servant against taking oaths as means of deception, i.e., using them for treacherous purposes, lest a foot should slip after being firmly planted. This is an analogy describing one who was on the right path but then deviated and slipped from the path of guidance because of an unfulfilled oath that involved hindering people from the path of Allah. This is because if a disbeliever were to find that after having agreed to a covenant, then the believer betrayed him, then the believer will have hindered him from entering Islam. Thus Allah says:
وَتَذُوقُواْ الْسُّوءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(and you taste the evil of having hindered from the path of Allah, and you will suffer a terrible punishment.)
Do not break Oaths for the sake of Worldly Gain
Then Allah says:
وَلاَ تَشْتَرُواْ بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(And do not use an oath by Allah for the purchase of little value.) meaning, do not neglect an oath sworn in the Name of Allah for the sake of this world and its attractions, for they are few, and even if the son of Adam were to gain this world and all that is in it, that which is with Allah is better for him, i.e., the reward of Allah is better for the one who puts his hope in Him, believes in Him, seeks Him and fulfills his oaths in the hope of that which Allah has promised. This is why Allah says:
إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَمَا عِندَكُمْ يَنفَدُ
(if you only knew. Whatever you have will be exhausted,) meaning, it will come to an end and will vanish, because it is only there for a certain, limited time.
وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(and what is with Allah will remain.) meaning, His reward for you in Paradise will remain, without interruption or end, because it is eternal and will never change nor disappear.
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(And to those who are patient, We will certainly grant them their rewards in proportion to the best of what they used to do. ) Here the Lord swears, with the Lam of affirmation, that He will reward the patient for the best of their deeds, i.e., He will forgive them for their bad deeds.
ایک مذہب و مسلک اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا (ترجمہ) یعنی اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کردیتا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ باایمان ہی ہوتے۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لئے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین و بال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لئے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی۔ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہوجائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لئے جو اجر وثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہوجائے بلکہ لینے کے دینے پڑجائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا۔
96
View Single
مَا عِندَكُمۡ يَنفَدُ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٖۗ وَلَنَجۡزِيَنَّ ٱلَّذِينَ صَبَرُوٓاْ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
What you have will perish, and that which is with Allah will remain forever; and indeed We shall pay the patiently enduring a recompense which befits the best of their deeds.
جو (مال و زر) تمہارے پاس ہے فنا ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے باقی رہنے والا ہے، اور ہم ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ضرور ان کا اجر عطا فرمائیں گے ان کے اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے رہے تھے
Tafsir Ibn Kathir
If Allah had willed, He would have made all of Humanity one Nation
Allah says:
وَلَوْ شَآءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ
(And had Allah willed, He would have made you) meaning - O mankind,
أُمَّةً وَحِدَةً
((all) one nation,) This is like the Ayah:
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا
(And had your Lord willed, all of those on earth would have believed together.) 10:99, meaning, He could have created harmony among them, and there would not be any differences, conflicts or hatred between them.
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ
إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ
(And if your Lord had so willed, He would surely, have made mankind one Ummah nation or community, but they will not cease to disagree. Except him on whom your Lord has bestowed His mercy, and for that did He create them.) (11:118-119) Similarly, Allah says here:
وَلـكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ
(but He allows whom He wills to stray and He guides whom He wills. ) Then on the Day of Resurrection, He will ask them all about their deeds, and will reward or punish them even equal to a scalish thread in the long slit of a date stone or the size of a speck on the back of a date stone, or even a thin membrane of the date stone.
The Prohibition on taking an Oath for Purposes of Treachery
Then Allah warns His servant against taking oaths as means of deception, i.e., using them for treacherous purposes, lest a foot should slip after being firmly planted. This is an analogy describing one who was on the right path but then deviated and slipped from the path of guidance because of an unfulfilled oath that involved hindering people from the path of Allah. This is because if a disbeliever were to find that after having agreed to a covenant, then the believer betrayed him, then the believer will have hindered him from entering Islam. Thus Allah says:
وَتَذُوقُواْ الْسُّوءَ بِمَا صَدَدتُّمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(and you taste the evil of having hindered from the path of Allah, and you will suffer a terrible punishment.)
Do not break Oaths for the sake of Worldly Gain
Then Allah says:
وَلاَ تَشْتَرُواْ بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَناً قَلِيلاً
(And do not use an oath by Allah for the purchase of little value.) meaning, do not neglect an oath sworn in the Name of Allah for the sake of this world and its attractions, for they are few, and even if the son of Adam were to gain this world and all that is in it, that which is with Allah is better for him, i.e., the reward of Allah is better for the one who puts his hope in Him, believes in Him, seeks Him and fulfills his oaths in the hope of that which Allah has promised. This is why Allah says:
إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَمَا عِندَكُمْ يَنفَدُ
(if you only knew. Whatever you have will be exhausted,) meaning, it will come to an end and will vanish, because it is only there for a certain, limited time.
وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ
(and what is with Allah will remain.) meaning, His reward for you in Paradise will remain, without interruption or end, because it is eternal and will never change nor disappear.
وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(And to those who are patient, We will certainly grant them their rewards in proportion to the best of what they used to do. ) Here the Lord swears, with the Lam of affirmation, that He will reward the patient for the best of their deeds, i.e., He will forgive them for their bad deeds.
ایک مذہب و مسلک اگر اللہ چاہتا تو دنیا بھر کا ایک ہی مذہب و مسلک ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا (ترجمہ) یعنی اللہ کی چاہت ہوتی تو اے لوگو تم سب کو وہ ایک ہی گروہ کردیتا۔ ایک اور آیت میں ہے کہ اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ باایمان ہی ہوتے۔ یعنی ان میں موافقت یگانگت ہوتی۔ اختلاف و بغض بالکل نہ ہوتا۔ تیرا رب قادر ہے اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کر دے لیکن یہ تو متفرق ہی رہیں گے مگر جن پر تیرے رب کا رحم ہو، اسی لئے انہیں پیدا کیا ہے۔ ہدایت و ضلالت اسی کے ہاتھ ہے۔ قیامت کے دن وہ حساب لے گا، پوچھ گچھ کرے گا اور چھوٹے بڑے، نیک بد، کل اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ قسموں کو، عہد و پیمان کو، مکاری کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ ثابت قدمی کے بعد پھسل جاؤ گے۔ جیسے کوئی سیدھی راہ سے بھٹک جائے اور تمہارا یہ کام اوروں کے بھی راہ حق سے ہٹ جانے کا سبب بن جائے گا جس کا بدترین و بال تم پر پڑے گا۔ کیونکہ کفار جب دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے عہد کر کے توڑ دیا، وعدے کا خلاف کیا تو انہیں دین پر وثوق و اعتماد نہ رہے گا پس وہ اسلام کو قبول کرنے سے رک جائیں گے اور چونکہ ان کے اس رکنے کا باعث چونکہ تم بنو گے اس لئے تمہیں بڑا عذاب ہوگا اور سخت سزا دی جائے گی۔ اللہ کو بیچ میں رکھ کر جو وعدے کرو اس کی قسمیں کھا کر جو عہد و پیمان ہوں انہیں دنیوی لالچ سے توڑ دینا یا بدل دینا تم پر حرام ہے گو ساری دنیا اصل ہوجائے تاہم اس حرمت کے مرتکب نہ بنو۔ کیونکہ دنیا ہیچ ہے، اللہ کے پاس جو ہے، وہی بہتر ہے اس جزا اور اس ثواب کی امید رکھو جو اللہ کی اس بات پر یقین رکھے، اسی کا طالب رہے اور حکم الٰہی کی پابندی کے ماتحت اپنے وعدوں کی نگہبانی کرے، اس کے لئے جو اجر وثواب اللہ کے پاس ہے وہ ساری دنیا سے بہت زیاد اور بہتر ہے۔ اسے اچھی طرح جان لو، نادانی سے ایسا نہ کرو کہ ثواب آخرت ضائع ہوجائے بلکہ لینے کے دینے پڑجائیں۔ سنو دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں لا زوال اور ابدی ہیں۔ مجھے قسم ہے جن لوگوں نے دنیا میں صبر کیا، میں انہیں قیامت کے دن ان کے بہترین اعمال کا نہایت اعلیٰ صلہ عطا فرماؤں گا اور انہیں بخش دوں گا۔
97
View Single
مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَنُحۡيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةٗ طَيِّبَةٗۖ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Whoever does good deeds – whether a male or female – and is a Muslim, We shall sustain him an excellent life, and shall certainly pay them a recompense which befits the best of their deeds.
جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Righteous Deeds and their Reward
This is a promise from Allah to those Children of Adam, male or female, who do righteous deeds - deeds in accordance with the Book of Allah and the Sunnah of His Prophet , with a heart that believes in Allah and His Messenger , while believing that these deeds are commanded and enjoined by Allah. Allah promises that He will give them a good life in this world and that He will reward them according to the best of their deeds in the Hereafter. The good life includes feeling tranquillity in all aspects of life. It has been reported that Ibn `Abbas and a group (of scholars) interpreted it to mean good, lawful provisions. It was reported that `Ali bin Abi Talib interpreted as contentment. This was also the opinion of Ibn `Abbas, `Ikrimah and Wahb bin Munabbih. `Ali bin Abi Talhah recorded from Ibn `Abbas that it meant happiness. Al-Hasan, Mujahid and Qatadah said: "None gets this good life mentioned except in Paradise." Ad-Dahhak said: "It means lawful provisions and worship in this life". Ad-Dahhak also said: "It means working to obey Allah and finding joy in that." The correct view is that a good life includes all of these things. as found in the Hadith recorded by Imam Ahmad from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said:
«قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاه»
(He who submits becomes a Muslim has succeeded, is given sufficient provisions, and is content with Allah for what he is given.) It was also recorded by Muslim.
فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْءَانَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَـنِ الرَّجِيمِ
کتاب و سنت کے فرماں بردار اللہ تبارک و تعالیٰ جل شانہ اپنے ان بندوں سے جو اپنے دل میں اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر ایمان کامل رکھیں اور کتاب و سنت کی تابعداری کے ماتحت نیک اعمال کریں، وعدہ کرتا ہے کہ وہ انہیں دنیا میں بھی بہترین اور پاکیزہ زندگی عطا فرمائے گا۔ عمدگی سے ان کی عمر بسر ہوگی، خواہ وہ مرد ہوں، خواہ عورتیں ہوں، ساتھ ہی انہیں اپنے پاس دار آخرت میں بھی ان کی نیک اعمالیوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔ دنیا میں پاک اور حلال روزی، قناعت، خوش نفسی، سعادت، پاکیزگی، عبادت کا لطف، اطاعت کا مزہ، دل کی ٹھنڈک، سینے کی کشادگی، سب ہی کچھ اللہ کی طرف سے ایماندار نیک عامل کو عطا ہوتی ہے۔ چناچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس نے فلاح حاصل کرلی جو مسلمان ہوگیا اور برابر سرابر روزی دیا گیا اور جو ملا اس پر قناعت نصیب ہوئی اور حدیث میں ہے جسے اسلام کی راہ دکھا دی گئی اور جسے پیٹ پالنے کا ٹکڑا میسر ہوگیا اور اللہ نے اس کے دل کو قناعت سے بھر دیا، اس نے نجات پا لی (ترمذی) صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان کی نیکی کا بدلہ دنیا میں عطا فرماتا ہے اور آخرت کی نیکیاں بھی انہیں دیتا ہے، ہاں کافر اپنی نیکیاں دنیا میں ہی کھا لیتا ہے آخرت کے لئے اس کے ہاتھ میں کوئی نیکی باقی نہیں رہتی۔
98
View Single
فَإِذَا قَرَأۡتَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
And when you recite the Qur’an, seek the refuge of Allah from Satan the outcast.
سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to seek Refuge with Allah before reciting the Qur'an
This is a command from Allah to His servants upon the tongue of His Prophet , telling them that when they want to read Qur'an, they should seek refuge with Allah from the cursed Shaytan. The Hadiths mentioned about seeking refuge with Allah (Isti`adhah), were quoted in our discussion at the beginning of this Tafsir, praise be to Allah. The reason for seeking refuge with Allah before reading is that the reader should not get confused or mixed up, and that the Shaytan would not confuse him or stop him from thinking about and pondering over the meaning of what he reads. Hence the majority of scholars said that refuge should be sought with Allah before starting to read.
إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(Verily, he has no power over those who believe and put their trust only in their Lord.) Ath-Thawri said: "He has no power to make them commit a sin they will not repent from." Others said: it means that he has no argument for them. Others said it is like the Ayah:
إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Except Your chosen servants amongst them.) 15:40
إِنَّمَا سُلْطَـنُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ
(His power is only over those who obey and follow him (Shaytan), ) Mujahid said: "Those who obey him." Others said, "Those who take him as their protector instead of Allah."
وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ
(and those who join partners with Him.) means, those who associate others in worship with Allah.
آعوذ کا مقصد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمد اللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لئے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آجائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ " ب " کو سبیبہ بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھیرا لیں۔
99
View Single
إِنَّهُۥ لَيۡسَ لَهُۥ سُلۡطَٰنٌ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
Indeed he has no power over the believers and who rely only upon their Lord.
بیشک اسے ان لوگوں پر کچھ (بھی) غلبہ حاصل نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to seek Refuge with Allah before reciting the Qur'an
This is a command from Allah to His servants upon the tongue of His Prophet , telling them that when they want to read Qur'an, they should seek refuge with Allah from the cursed Shaytan. The Hadiths mentioned about seeking refuge with Allah (Isti`adhah), were quoted in our discussion at the beginning of this Tafsir, praise be to Allah. The reason for seeking refuge with Allah before reading is that the reader should not get confused or mixed up, and that the Shaytan would not confuse him or stop him from thinking about and pondering over the meaning of what he reads. Hence the majority of scholars said that refuge should be sought with Allah before starting to read.
إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(Verily, he has no power over those who believe and put their trust only in their Lord.) Ath-Thawri said: "He has no power to make them commit a sin they will not repent from." Others said: it means that he has no argument for them. Others said it is like the Ayah:
إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Except Your chosen servants amongst them.) 15:40
إِنَّمَا سُلْطَـنُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ
(His power is only over those who obey and follow him (Shaytan), ) Mujahid said: "Those who obey him." Others said, "Those who take him as their protector instead of Allah."
وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ
(and those who join partners with Him.) means, those who associate others in worship with Allah.
آعوذ کا مقصد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمد اللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لئے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آجائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ " ب " کو سبیبہ بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھیرا لیں۔
100
View Single
إِنَّمَا سُلۡطَٰنُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يَتَوَلَّوۡنَهُۥ وَٱلَّذِينَ هُم بِهِۦ مُشۡرِكُونَ
Satan’s power is only over those who make friendship with him and ascribe him as a partner (in worship).
بس اس کا غلبہ صرف انہی لوگوں پر ہے جو اسے دوست بناتے ہیں اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Command to seek Refuge with Allah before reciting the Qur'an
This is a command from Allah to His servants upon the tongue of His Prophet , telling them that when they want to read Qur'an, they should seek refuge with Allah from the cursed Shaytan. The Hadiths mentioned about seeking refuge with Allah (Isti`adhah), were quoted in our discussion at the beginning of this Tafsir, praise be to Allah. The reason for seeking refuge with Allah before reading is that the reader should not get confused or mixed up, and that the Shaytan would not confuse him or stop him from thinking about and pondering over the meaning of what he reads. Hence the majority of scholars said that refuge should be sought with Allah before starting to read.
إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
(Verily, he has no power over those who believe and put their trust only in their Lord.) Ath-Thawri said: "He has no power to make them commit a sin they will not repent from." Others said: it means that he has no argument for them. Others said it is like the Ayah:
إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
(Except Your chosen servants amongst them.) 15:40
إِنَّمَا سُلْطَـنُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ
(His power is only over those who obey and follow him (Shaytan), ) Mujahid said: "Those who obey him." Others said, "Those who take him as their protector instead of Allah."
وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِكُونَ
(and those who join partners with Him.) means, those who associate others in worship with Allah.
آعوذ کا مقصد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی زبانی اپنے مومن بندوں کو حکم فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے وہ اعوذ پڑھ لیا کریں۔ یہ حکم فرضیت کے طور پر نہیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ آعوذ کی پوری بحث مع معنی وغیرہ کے ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں فالحمد اللہ۔ اس حکم کی مصلحت یہ ہے کہ قاری قرآن میں الھنے، غور و فکر سے رک جانے اور شیطانی وسوسوں میں آنے سے بچ جائے۔ اسی لئے جمہور کہتے ہیں کہ قرأت شروع کرنے سے پہلے آعوذ پڑھ لیا کر۔ کسی کا قول یہ بھی ہے کہ ختم قرأت کے بعد پڑھے۔ ان کی دلیل یہی آیت ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور احادیث کی دلالت بھی اس پر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ ایماندار متوکلین کو وہ ایسے گناہوں میں پھانس نہیں سکتا، جن سے وہ توبہ ہی نہ کریں۔ اس کی کوئی حجت ان کے سامنے چل نہیں سکتی، یہ مخلص بندے اس کے گہرے مکر سے محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں جو اس کی اطاعت کریں، اس کے کہے میں آجائیں، اسے اپنا دوست اور حمایتی ٹھہرا لیں۔ اسے اللہ کی عبادتوں میں شریک کرنے لگیں۔ ان پر تو یہ چھا جاتا ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ " ب " کو سبیبہ بتلائیں یعنی وہ اس کی فرمانبرداری کے باعث اللہ کے ساتھ شرکت کرنے لگ جائیں، یہ معنی بھی ہیں کہ وہ اسے اپنے مال میں، اپنی اولاد میں شریک الہ ٹھیرا لیں۔
101
View Single
وَإِذَا بَدَّلۡنَآ ءَايَةٗ مَّكَانَ ءَايَةٖ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓاْ إِنَّمَآ أَنتَ مُفۡتَرِۭۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
And when We replace a verse* by another – and Allah well knows what He sends down – the disbelievers say, “You are just fabricating”; in fact most of them do not know. (* The command of one verse by another.)
اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators' Accusation that the Prophet was a Liar since some Ayat were abrogated, and the Refutation of their Claim
Allah tells us of the weak minds of the idolators, and their lack of faith and conviction. He explains that it is impossible for them to have faith when He has decreed that they are doomed. When they saw that some rulings had been changed by being abrogated, they said to the Messenger of Allah ﷺ:
إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍ
(You are but a forger) meaning one who tells lies. But Allah is the Lord Who does whatever He wills, and rules as He wants.
بَدَّلْنَآ ءَايَةً مَّكَانَ ءَايَةٍ
(And when We change a verse (of the Qur'an) in place of another) Mujahid said: this means, "We remove one and put another in its place." Qatadah said: this is like the Ayah:
مَا نَنسَخْ مِنْ ءَايَةٍ أَوْ نُنسِهَا
(Whatever verse We change abrogate or omit the abrogated...)" (2:106). Allah said, in response to them:
قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ
(Say: "Ruh-ul-Qudus has brought it...") meaning, Jibril,
مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ
(from your Lord with truth, ) meaning, with truthfulness and justice
لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(for the conviction of those who believe,) so that they will believe what was revealed earlier and what was revealed later, and humble themselves towards Allah.
وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ
(and as a guide and good news for the Muslims.) meaning He has made it a guide and good news to the Muslims who believe in Allah and His Messengers.
ازلی بدنصیب لوگ مشرکوں کی عقلی، بےثباتی اور بےیقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو ؟ یہ تو ازلی بدنصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت (مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ01006) 2۔ البقرة :106) میں فرمایا ہے۔ پاک روح یعنی حضرت جبرائیل ؑ اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہوجائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لئے ہدایت و بشارت ہوجائے، اللہ اور رسول اللہ کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہوجائیں۔
102
View Single
قُلۡ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلۡقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلۡحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ
Proclaim, “The Holy Spirit* has rightly brought it down from your Lord, to make the believers steadfast, and a guidance and glad tidings for the Muslims.” (* Angel Jibreel – peace and blessings be upon him.)
فرما دیجئے: اس (قرآن) کو روحُ القدس (جبرئیل علیہ السلام) نے آپ کے رب کی طرف سے سچائی کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور (یہ) مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators' Accusation that the Prophet was a Liar since some Ayat were abrogated, and the Refutation of their Claim
Allah tells us of the weak minds of the idolators, and their lack of faith and conviction. He explains that it is impossible for them to have faith when He has decreed that they are doomed. When they saw that some rulings had been changed by being abrogated, they said to the Messenger of Allah ﷺ:
إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍ
(You are but a forger) meaning one who tells lies. But Allah is the Lord Who does whatever He wills, and rules as He wants.
بَدَّلْنَآ ءَايَةً مَّكَانَ ءَايَةٍ
(And when We change a verse (of the Qur'an) in place of another) Mujahid said: this means, "We remove one and put another in its place." Qatadah said: this is like the Ayah:
مَا نَنسَخْ مِنْ ءَايَةٍ أَوْ نُنسِهَا
(Whatever verse We change abrogate or omit the abrogated...)" (2:106). Allah said, in response to them:
قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ
(Say: "Ruh-ul-Qudus has brought it...") meaning, Jibril,
مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ
(from your Lord with truth, ) meaning, with truthfulness and justice
لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(for the conviction of those who believe,) so that they will believe what was revealed earlier and what was revealed later, and humble themselves towards Allah.
وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ
(and as a guide and good news for the Muslims.) meaning He has made it a guide and good news to the Muslims who believe in Allah and His Messengers.
ازلی بدنصیب لوگ مشرکوں کی عقلی، بےثباتی اور بےیقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو ؟ یہ تو ازلی بدنصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت (مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ01006) 2۔ البقرة :106) میں فرمایا ہے۔ پاک روح یعنی حضرت جبرائیل ؑ اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر تیری جانب آتے ہیں تاکہ ایماندار ثابت قدم ہوجائیں، اب اترا، مانا، پھر اترا، پھر مانا، ان کے دل رب کی طرف جھکتے رہیں، تازہ تازہ کلام الٰہی سنتے رہیں، مسلمانوں کے لئے ہدایت و بشارت ہوجائے، اللہ اور رسول اللہ کے ماننے والے راہ یافتہ ہو کر خوش ہوجائیں۔
103
View Single
وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ أَنَّهُمۡ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٞۗ لِّسَانُ ٱلَّذِي يُلۡحِدُونَ إِلَيۡهِ أَعۡجَمِيّٞ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيّٞ مُّبِينٌ
And indeed We know that they say, “This Qur’an is being taught by some other man”; the one they refer to speaks a foreign language, whereas this is clear Arabic!
اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں کہ انہیں یہ (قرآن) محض کوئی آدمی ہی سکھاتا ہے، جس شخص کی طرف وہ بات کو حق سے ہٹاتے ہوئے منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن واضح و روشن عربی زبان (میں) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Idolators' Claim that the Qur'an was taught by a Human, and the Refutation of their Claim
Allah tells us about the idolators' lies, allegations, and slander when they claimed that this Qur'an which Muhammad had recited for them, was actually taught to him by a human. They referred to a foreign (i.e., non-Arab) man who lived among them as the servant of some of the clans of Quraysh and who used to sell goods by As-Safa. Maybe the Messenger of Allah ﷺ used to sit with him sometimes and talk to him a little, but he was a foreigner who did not know much Arabic, only enough simple phrases to answer questions when he had to. So in refutation of their claims of fabrication, Allah said:
لِّسَانُ الَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّ وَهَـذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّ مُّبِينٌ
(The tongue of the man they refer to is foreign, while this (the Qur'an) is a (in) clear Arabic tongue.) meaning, how could it be that this Qur'an with its eloquent style and perfect meanings, which is more perfect than any Book revealed to any previously sent Prophet, have been learnt from a foreigner who hardly speaks the language No one with the slightest amount of common sense would say such a thing.
سب سے زیادہ منزلت و رفعت والا کلام کافروں کی ایک بہتان بازی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے یہ قرآن ایک انسان سکھاتا ہے۔ قریش کے کسی قبیلے کا ایک عجمی غلام تھا، صفا پہاڑی کے پاس خریدو فروخت کیا کرتا تھا، حضور ﷺ کبھی کبھی اس کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے اور کچھ باتیں کرلیا کرتے تھے، یہ شخص صحیح عربی زبان بولنے پر بھی قادر نہ تھا۔ ٹوٹی پھوٹی زبان میں بمشکل اپنا مطلب ادا کرلیا کرتا تھا۔ اس افترا کا جواب جناب باری دیتا ہے کہ وہ کیا سکھائے گا جو خود بولنا نہیں جانتا، عجمی زبان کا آدمی ہے اور یہ قرآن تو عربی زبان میں ہے، پھر فصاحت و بلاغت والا، کمال و سلاست والا، عمدہ اور اعلیٰ پاکیزہ اور بالا۔ معنی، مطلب، الفاظ، واقعات ہیں۔ سب سے نرالا بنی اسرائیل کی آسمانی کتابوں سے بھی زیادہ منزلت اور رفعت والا۔ وقعت اور عزت والا۔ تم میں اگر ذرا سی عقل ہوتی تو یوں ہتھیلی پر چراغ رکھ کر چوری کرنے کو نہ نکلتے، ایسا جھوٹ نہ بکتے، جو بیوقوفوں کے ہاں بھی نہ چل سکے۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ایک نصرانی غلام جسے جبر کہا جاتا تھا جو بنو حضرمی قبیلے کے کسی شخص کا غلام تھا، اس کے پاس رسول اللہ ﷺ مروہ کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے، اس پر مشرکین نے یہ بےپر کی اڑائی کہ یہ قرآن اسی کا سکھایا ہوا ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ کہتے ہیں کہ اس کا نام یعیش تھا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں مکہ شریف میں ایک لوہار تھا جس کا نام بلعام تھا۔ یہ عجمی شخص تھا، اسے حضور ﷺ تعلیم دیتے تھے تو آپ کا اس کے پاس آنا جانا دیکھ کر قریش مشہور کرنے لگے کہ یہی شخص آپ کو کچھ سکھاتا ہے اور آپ اسے کلام اللہ کے نام سے اپنے حلقے میں سکھاتے ہیں۔ کسی نے کہا ہے مراد اس سے سلمان فارسی ہیں ؓ لیکن یہ قول تو نہایت بودا ہے کیونکہ حضرت سلمان تو مدینے میں آپ سے ملے اور یہ آیت مکہ میں اتری ہے۔ عبید اللہ بن مسلم کہتے ہیں ہمارے دو مقامی آدمی روم کے رہنے والے تھے جو اپنی زبان میں اپنی کتاب پڑھتے تھے۔ حضور ﷺ بھی جاتے آتے کبھی ان کے پاس کھڑے ہو کر سن لیا کرتے، اس پر مشرکین نے اڑایا کہ انہی سے آپ قرآن سیکھتے ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری، سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں مشرکین میں سے ایک شخص تھا جو وحی لکھا کرتا تھا، اس کے بعد وہ اسلام سے مرتد ہوگیا اور یہ بات گھڑلی۔ اللہ کی لعنت ہو اس پر۔
104
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهۡدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Those who disbelieve in the signs of Allah – Allah does not guide them, and for them is a punishment, most painful.
بیشک جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ انہیں ہدایت (یعنی صحیح فہم و بصیرت کی توفیق بھی) نہیں دیتا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَـتِ اللَّهِ
(Verily, those who do not believe in Allah's Ayat,) Allah will not guide them, and theirs will be a painful punishment, meaning, the disbelievers and heretics who are known to the people as liars. The Messenger Muhammad ﷺ, on the other hand, was the most honest and righteous of people, the most perfect in knowledge, deeds, faith and conviction. He was known among his people for his truthfulness and no one among them had any doubts about that - to such an extent that they always addressed him as Al-Amin (the Trustworthy) Muhammad. Thus when Heraclius, the king of the Romans, asked Abu Sufyan about the attributes of the Messenger of Allah ﷺ, one of the things he said to him was, "Did you ever accuse him of lying before he made his claim" Abu Sufyan said, "No". Heraclius said, "He would refrain from lying about people and then go and fabricate lies about Allah"
ارادہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ کی کتاب سے غفلت کرے، اللہ کی باتوں پر ایمان لانے کا قصد ہی نہ رکھے ایسے لوگوں کو اللہ بھی دور ڈال دیتا ہے انہیں دین حق کی توفیق ہی نہیں ہوتی آخرت میں سخت درد ناک عذابوں میں پھنستے ہیں۔ پھر بیان فرمایا کہ یہ رسول سلام علیہ اللہ پر جھوٹ و افترا باندھنے والے نہیں، یہ کام تو بدترین مخلوق کا ہے جو ملحد و کافر ہوں ان کا جھوٹ لوگوں میں مشہور ہوتا ہے اور آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تو تمام مخلوق سے بہتر و افضل دین دار، اللہ شناس، سچوں کے سے ہیں۔ سب سے زیادہ کمال علم و ایمان، عمل و نیکی میں آپ کو اصل ہے۔ سچائی میں، بھلائی میں، یقین میں، معرفت میں، آپ کا ثانی کوئی نہیں۔ ان کافروں سے ہی پوچھ لو یہ بھی آپ کی صداقت کے قائل ہیں۔ آپ کی امانت کے مداح ہیں۔ آپ ان میں محمد امین کے ممتاز لقب سے مشہور معروف ہیں۔ شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے آنحضرت ﷺ کی نسبت بہت سے سوالات کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ کی طرف نسبت کی ہے ؟ ابو سفیان نے جواب دیا کبھی نہیں اس پر شاہ نے کہا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیوی معاملات میں لوگوں کے بارے میں کبھی بھی جھوٹ کی گندگی سے اپنی زبان خراب نہ کی ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے۔
105
View Single
إِنَّمَا يَفۡتَرِي ٱلۡكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ
Only those who do not believe in Allah’s signs attribute lies and fabrications; and they themselves are liars.
بیشک جھوٹی افترا پردازی (بھی) وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَـتِ اللَّهِ
(Verily, those who do not believe in Allah's Ayat,) Allah will not guide them, and theirs will be a painful punishment, meaning, the disbelievers and heretics who are known to the people as liars. The Messenger Muhammad ﷺ, on the other hand, was the most honest and righteous of people, the most perfect in knowledge, deeds, faith and conviction. He was known among his people for his truthfulness and no one among them had any doubts about that - to such an extent that they always addressed him as Al-Amin (the Trustworthy) Muhammad. Thus when Heraclius, the king of the Romans, asked Abu Sufyan about the attributes of the Messenger of Allah ﷺ, one of the things he said to him was, "Did you ever accuse him of lying before he made his claim" Abu Sufyan said, "No". Heraclius said, "He would refrain from lying about people and then go and fabricate lies about Allah"
ارادہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ کی کتاب سے غفلت کرے، اللہ کی باتوں پر ایمان لانے کا قصد ہی نہ رکھے ایسے لوگوں کو اللہ بھی دور ڈال دیتا ہے انہیں دین حق کی توفیق ہی نہیں ہوتی آخرت میں سخت درد ناک عذابوں میں پھنستے ہیں۔ پھر بیان فرمایا کہ یہ رسول سلام علیہ اللہ پر جھوٹ و افترا باندھنے والے نہیں، یہ کام تو بدترین مخلوق کا ہے جو ملحد و کافر ہوں ان کا جھوٹ لوگوں میں مشہور ہوتا ہے اور آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تو تمام مخلوق سے بہتر و افضل دین دار، اللہ شناس، سچوں کے سے ہیں۔ سب سے زیادہ کمال علم و ایمان، عمل و نیکی میں آپ کو اصل ہے۔ سچائی میں، بھلائی میں، یقین میں، معرفت میں، آپ کا ثانی کوئی نہیں۔ ان کافروں سے ہی پوچھ لو یہ بھی آپ کی صداقت کے قائل ہیں۔ آپ کی امانت کے مداح ہیں۔ آپ ان میں محمد امین کے ممتاز لقب سے مشہور معروف ہیں۔ شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے آنحضرت ﷺ کی نسبت بہت سے سوالات کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ کی طرف نسبت کی ہے ؟ ابو سفیان نے جواب دیا کبھی نہیں اس پر شاہ نے کہا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیوی معاملات میں لوگوں کے بارے میں کبھی بھی جھوٹ کی گندگی سے اپنی زبان خراب نہ کی ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے۔
106
View Single
مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنۡ أُكۡرِهَ وَقَلۡبُهُۥ مُطۡمَئِنُّۢ بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلۡكُفۡرِ صَدۡرٗا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
The one who disbelieves in Allah after accepting faith – except him who is forced to and whose heart is still firmly upon faith – but whoever is wholeheartedly a disbeliever, upon them is the wrath of Allah; and for them is a great punishment.
جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جسے انتہائی مجبور کر دیا گیا مگر اس کا دل (بدستور) ایمان سے مطمئن ہے، لیکن (ہاں) وہ شخص جس نے (دوبارہ) شرحِ صدر کے ساتھ کفر (اختیار) کیا سو ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Wrath against the Apostate, except for the One Who is forced into Disbelief
Allah tells us that He is angry with them who willingly disbelieve in Him after clearly believing in Him, who open their hearts to disbelief finding peace in that, because they understood the faith yet they still turned away from it. They will suffer severe punishment in the Hereafter, because they preferred this life to the Hereafter, and they left the faith for the sake of this world and Allah did not guide their hearts and help them to stand firm in the true religion. He put a seal on their hearts so that they would not be able to understand what is beneficial for them, and He sealed their ears and eyes so that they would not benefit from them. Their faculties did not help them at all, so they are unaware of what is going to happen to them.
لاَ جَرَمَ
(No doubt) means, it is inevitable, and no wonder that those who are like this -
أَنَّهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الْخَـسِرونَ
(in the Hereafter, they will be the losers.) meaning, they will lose themselves and their families on the Day of Resurrection.
إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَـنِ
(except one who was forced while his heart is at peace with the faith) This is an exception in the case of one who utters statements of disbelief and verbally agrees with the Mushrikin because he is forced to do so by the beatings and abuse to which he is subjected, but his heart refuses to accept what he is saying, and he is, in reality, at peace with his faith in Allah and His Messenger . The scholars agreed that if a person is forced into disbelief, it is permissible for him to either go along with them in the interests of self-preservation, or to refuse, as Bilal did when they were inflicting all sorts of torture on him, even placing a huge rock on his chest in the intense heat and telling him to admit others as partners with Allah. He refused, saying, "Alone, Alone." And he said, "By Allah, if I knew any word more annoying to you than this, I would say it." May Allah be pleased with him. Similarly, when the Liar Musaylimah asked Habib bin Zayd Al-Ansari, "Do you bear witness that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah" He said, "Yes." Then Musaylimah asked, "Do you bear witness that I am the messenger of Allah ﷺ" Habib said, "I do not hear you." Musaylimah kept cutting him, piece by piece, but he remained steadfast insisting on his words. It is better and preferable for the Muslim to remain steadfast in his religion, even if that leads to him being killed, as was mentioned by Al-Hafiz Ibn `Asakir in his biography of `Abdullah bin Hudhafah Al-Sahmi, one of the Companions. He said that he was taken prisoner by the Romans, who brought him to their king. The king said, "Become a Christian, and I will give you a share of my kingdom and my daughter in marriage." `Abdullah said: "If you were to give me all that you possess and all that Arabs possess to make me give up the religion of Muhammad ﷺ even for an instant, I would not do it." The king said, "Then I will kill you." `Abdullah said, "It is up to you." The king gave orders that he should be crucified, and commanded his archers to shoot near his hands and feet while ordering him to become a Christian, but he still refused. Then the king gave orders that he should be brought down, and that a big vessel made of copper be brought and heated up. Then, while `Abdullah was watching, one of the Muslim prisoners was brought out and thrown into it, until all that was left of him was scorched bones. The king ordered him to become a Christian, but he still refused. Then he ordered that `Abdullah be thrown into the vessel, and he was brought back to the pulley to be thrown in. `Abdullah wept, and the king hoped that he would respond to him, so he called him, but `Abdullah said, "I only weep because I have only one soul with which to be thrown into this vessel at this moment for the sake of Allah; I wish that I had as many souls as there are hairs on my body with which I could undergo this torture for the sake of Allah." According to some reports, the king imprisoned him and deprived him of food and drink for several days, then he sent him wine and pork, and he did not come near them. Then the king called him and asked him, "What stopped you from eating" `Abdullah said, "It is permissible for me under these circumstances, but I did not want to give you the opportunity to gloat." The king said to him, "Kiss my head and I will let you go." `Abdullah said, "And will you release all the Muslim prisoners with me" The king said, "Yes." So `Abdullah kissed his head and he released him and all the other Muslim prisoners he was holding. When he came back, `Umar bin Al-Khattab said, "Every Muslim should kiss the head of `Abdullah bin Hudhafah, and I will be the first to do so." And he stood up and kissed his head. May Allah be pleased with them both.
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقینا ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ شعبی، قتاوہ اور ابو مالک بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھرحضور ﷺ کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ نے پوچھا تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا۔ بیہقی میں اسے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ نے حضور ﷺ کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ نے فرمایا تم اپنا دل کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کرلینا۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے ان کی موافقت کرلے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ حضرت بلال ؓ نے کر کے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ کو لٹا کر آپ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ لیکن آپ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کردیا اور اللہ کی توحید احد احد کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ " واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ " اسی طرح حضرت خیب بن زیاد انصاری ؓ کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہوگئے تھے، انہیں حضرت علی ؓ نے آگ میں جلوا دیا، جب حضرت ابن عباس ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لئے کہ فرمان رسول ﷺ ہے کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کردو۔ جب یہ خبر حضرت علی ؓ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا ابن عباس کی ماں پر افسوس۔ اسے امام بخاری ؒ نے بھی وارد کیا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل ؓ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا ؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہوگیا اب پھر یہودی ہوگیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ نے فرمایا واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا کہ جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کردو یا فرمایا جو اپنے دین کو بدل دے۔ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کردیا جائے۔ چناچہ حافظ ابن عساکر ؒ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی ؓ کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ آپ کو رومی کفار نے قید کرلیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کرلیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی ؓ نے جواب دیا کہ یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دے دے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چناچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا بار بار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کرلو اور آپ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چناچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت حضرت عبداللہ ؓ کی موجودگی میں آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، ؓ پھر بادشاہ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لیکر فرمایا کہ ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو ، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لئے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لئے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے فرمایا کہ میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کردیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لئے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردیتا ہوں آپ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ کو اور آپ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ یہاں سے آزاد ہو کر حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ ؓ کا ماتھا چومے اور میں ابتدا کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
107
View Single
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
This is because the worldly life was dearer to them than the Hereafter; and because Allah does not guide such disbelieving people.
یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر عزیز رکھا اور اس لئے کہ اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Wrath against the Apostate, except for the One Who is forced into Disbelief
Allah tells us that He is angry with them who willingly disbelieve in Him after clearly believing in Him, who open their hearts to disbelief finding peace in that, because they understood the faith yet they still turned away from it. They will suffer severe punishment in the Hereafter, because they preferred this life to the Hereafter, and they left the faith for the sake of this world and Allah did not guide their hearts and help them to stand firm in the true religion. He put a seal on their hearts so that they would not be able to understand what is beneficial for them, and He sealed their ears and eyes so that they would not benefit from them. Their faculties did not help them at all, so they are unaware of what is going to happen to them.
لاَ جَرَمَ
(No doubt) means, it is inevitable, and no wonder that those who are like this -
أَنَّهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الْخَـسِرونَ
(in the Hereafter, they will be the losers.) meaning, they will lose themselves and their families on the Day of Resurrection.
إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَـنِ
(except one who was forced while his heart is at peace with the faith) This is an exception in the case of one who utters statements of disbelief and verbally agrees with the Mushrikin because he is forced to do so by the beatings and abuse to which he is subjected, but his heart refuses to accept what he is saying, and he is, in reality, at peace with his faith in Allah and His Messenger . The scholars agreed that if a person is forced into disbelief, it is permissible for him to either go along with them in the interests of self-preservation, or to refuse, as Bilal did when they were inflicting all sorts of torture on him, even placing a huge rock on his chest in the intense heat and telling him to admit others as partners with Allah. He refused, saying, "Alone, Alone." And he said, "By Allah, if I knew any word more annoying to you than this, I would say it." May Allah be pleased with him. Similarly, when the Liar Musaylimah asked Habib bin Zayd Al-Ansari, "Do you bear witness that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah" He said, "Yes." Then Musaylimah asked, "Do you bear witness that I am the messenger of Allah ﷺ" Habib said, "I do not hear you." Musaylimah kept cutting him, piece by piece, but he remained steadfast insisting on his words. It is better and preferable for the Muslim to remain steadfast in his religion, even if that leads to him being killed, as was mentioned by Al-Hafiz Ibn `Asakir in his biography of `Abdullah bin Hudhafah Al-Sahmi, one of the Companions. He said that he was taken prisoner by the Romans, who brought him to their king. The king said, "Become a Christian, and I will give you a share of my kingdom and my daughter in marriage." `Abdullah said: "If you were to give me all that you possess and all that Arabs possess to make me give up the religion of Muhammad ﷺ even for an instant, I would not do it." The king said, "Then I will kill you." `Abdullah said, "It is up to you." The king gave orders that he should be crucified, and commanded his archers to shoot near his hands and feet while ordering him to become a Christian, but he still refused. Then the king gave orders that he should be brought down, and that a big vessel made of copper be brought and heated up. Then, while `Abdullah was watching, one of the Muslim prisoners was brought out and thrown into it, until all that was left of him was scorched bones. The king ordered him to become a Christian, but he still refused. Then he ordered that `Abdullah be thrown into the vessel, and he was brought back to the pulley to be thrown in. `Abdullah wept, and the king hoped that he would respond to him, so he called him, but `Abdullah said, "I only weep because I have only one soul with which to be thrown into this vessel at this moment for the sake of Allah; I wish that I had as many souls as there are hairs on my body with which I could undergo this torture for the sake of Allah." According to some reports, the king imprisoned him and deprived him of food and drink for several days, then he sent him wine and pork, and he did not come near them. Then the king called him and asked him, "What stopped you from eating" `Abdullah said, "It is permissible for me under these circumstances, but I did not want to give you the opportunity to gloat." The king said to him, "Kiss my head and I will let you go." `Abdullah said, "And will you release all the Muslim prisoners with me" The king said, "Yes." So `Abdullah kissed his head and he released him and all the other Muslim prisoners he was holding. When he came back, `Umar bin Al-Khattab said, "Every Muslim should kiss the head of `Abdullah bin Hudhafah, and I will be the first to do so." And he stood up and kissed his head. May Allah be pleased with them both.
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقینا ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ شعبی، قتاوہ اور ابو مالک بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھرحضور ﷺ کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ نے پوچھا تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا۔ بیہقی میں اسے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ نے حضور ﷺ کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ نے فرمایا تم اپنا دل کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کرلینا۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے ان کی موافقت کرلے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ حضرت بلال ؓ نے کر کے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ کو لٹا کر آپ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ لیکن آپ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کردیا اور اللہ کی توحید احد احد کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ " واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ " اسی طرح حضرت خیب بن زیاد انصاری ؓ کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہوگئے تھے، انہیں حضرت علی ؓ نے آگ میں جلوا دیا، جب حضرت ابن عباس ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لئے کہ فرمان رسول ﷺ ہے کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کردو۔ جب یہ خبر حضرت علی ؓ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا ابن عباس کی ماں پر افسوس۔ اسے امام بخاری ؒ نے بھی وارد کیا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل ؓ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا ؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہوگیا اب پھر یہودی ہوگیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ نے فرمایا واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا کہ جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کردو یا فرمایا جو اپنے دین کو بدل دے۔ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کردیا جائے۔ چناچہ حافظ ابن عساکر ؒ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی ؓ کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ آپ کو رومی کفار نے قید کرلیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کرلیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی ؓ نے جواب دیا کہ یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دے دے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چناچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا بار بار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کرلو اور آپ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چناچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت حضرت عبداللہ ؓ کی موجودگی میں آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، ؓ پھر بادشاہ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لیکر فرمایا کہ ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو ، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لئے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لئے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے فرمایا کہ میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کردیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لئے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردیتا ہوں آپ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ کو اور آپ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ یہاں سے آزاد ہو کر حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ ؓ کا ماتھا چومے اور میں ابتدا کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
108
View Single
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَسَمۡعِهِمۡ وَأَبۡصَٰرِهِمۡۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ
These are the ones whose hearts, ears, and eyes Allah has sealed; and they are the neglectful.
یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مُہر لگا دی ہے اور یہی لوگ ہی (آخرت کے انجام سے) غافل ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Wrath against the Apostate, except for the One Who is forced into Disbelief
Allah tells us that He is angry with them who willingly disbelieve in Him after clearly believing in Him, who open their hearts to disbelief finding peace in that, because they understood the faith yet they still turned away from it. They will suffer severe punishment in the Hereafter, because they preferred this life to the Hereafter, and they left the faith for the sake of this world and Allah did not guide their hearts and help them to stand firm in the true religion. He put a seal on their hearts so that they would not be able to understand what is beneficial for them, and He sealed their ears and eyes so that they would not benefit from them. Their faculties did not help them at all, so they are unaware of what is going to happen to them.
لاَ جَرَمَ
(No doubt) means, it is inevitable, and no wonder that those who are like this -
أَنَّهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الْخَـسِرونَ
(in the Hereafter, they will be the losers.) meaning, they will lose themselves and their families on the Day of Resurrection.
إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَـنِ
(except one who was forced while his heart is at peace with the faith) This is an exception in the case of one who utters statements of disbelief and verbally agrees with the Mushrikin because he is forced to do so by the beatings and abuse to which he is subjected, but his heart refuses to accept what he is saying, and he is, in reality, at peace with his faith in Allah and His Messenger . The scholars agreed that if a person is forced into disbelief, it is permissible for him to either go along with them in the interests of self-preservation, or to refuse, as Bilal did when they were inflicting all sorts of torture on him, even placing a huge rock on his chest in the intense heat and telling him to admit others as partners with Allah. He refused, saying, "Alone, Alone." And he said, "By Allah, if I knew any word more annoying to you than this, I would say it." May Allah be pleased with him. Similarly, when the Liar Musaylimah asked Habib bin Zayd Al-Ansari, "Do you bear witness that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah" He said, "Yes." Then Musaylimah asked, "Do you bear witness that I am the messenger of Allah ﷺ" Habib said, "I do not hear you." Musaylimah kept cutting him, piece by piece, but he remained steadfast insisting on his words. It is better and preferable for the Muslim to remain steadfast in his religion, even if that leads to him being killed, as was mentioned by Al-Hafiz Ibn `Asakir in his biography of `Abdullah bin Hudhafah Al-Sahmi, one of the Companions. He said that he was taken prisoner by the Romans, who brought him to their king. The king said, "Become a Christian, and I will give you a share of my kingdom and my daughter in marriage." `Abdullah said: "If you were to give me all that you possess and all that Arabs possess to make me give up the religion of Muhammad ﷺ even for an instant, I would not do it." The king said, "Then I will kill you." `Abdullah said, "It is up to you." The king gave orders that he should be crucified, and commanded his archers to shoot near his hands and feet while ordering him to become a Christian, but he still refused. Then the king gave orders that he should be brought down, and that a big vessel made of copper be brought and heated up. Then, while `Abdullah was watching, one of the Muslim prisoners was brought out and thrown into it, until all that was left of him was scorched bones. The king ordered him to become a Christian, but he still refused. Then he ordered that `Abdullah be thrown into the vessel, and he was brought back to the pulley to be thrown in. `Abdullah wept, and the king hoped that he would respond to him, so he called him, but `Abdullah said, "I only weep because I have only one soul with which to be thrown into this vessel at this moment for the sake of Allah; I wish that I had as many souls as there are hairs on my body with which I could undergo this torture for the sake of Allah." According to some reports, the king imprisoned him and deprived him of food and drink for several days, then he sent him wine and pork, and he did not come near them. Then the king called him and asked him, "What stopped you from eating" `Abdullah said, "It is permissible for me under these circumstances, but I did not want to give you the opportunity to gloat." The king said to him, "Kiss my head and I will let you go." `Abdullah said, "And will you release all the Muslim prisoners with me" The king said, "Yes." So `Abdullah kissed his head and he released him and all the other Muslim prisoners he was holding. When he came back, `Umar bin Al-Khattab said, "Every Muslim should kiss the head of `Abdullah bin Hudhafah, and I will be the first to do so." And he stood up and kissed his head. May Allah be pleased with them both.
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقینا ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ شعبی، قتاوہ اور ابو مالک بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھرحضور ﷺ کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ نے پوچھا تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا۔ بیہقی میں اسے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ نے حضور ﷺ کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ نے فرمایا تم اپنا دل کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کرلینا۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے ان کی موافقت کرلے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ حضرت بلال ؓ نے کر کے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ کو لٹا کر آپ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ لیکن آپ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کردیا اور اللہ کی توحید احد احد کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ " واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ " اسی طرح حضرت خیب بن زیاد انصاری ؓ کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہوگئے تھے، انہیں حضرت علی ؓ نے آگ میں جلوا دیا، جب حضرت ابن عباس ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لئے کہ فرمان رسول ﷺ ہے کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کردو۔ جب یہ خبر حضرت علی ؓ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا ابن عباس کی ماں پر افسوس۔ اسے امام بخاری ؒ نے بھی وارد کیا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل ؓ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا ؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہوگیا اب پھر یہودی ہوگیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ نے فرمایا واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا کہ جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کردو یا فرمایا جو اپنے دین کو بدل دے۔ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کردیا جائے۔ چناچہ حافظ ابن عساکر ؒ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی ؓ کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ آپ کو رومی کفار نے قید کرلیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کرلیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی ؓ نے جواب دیا کہ یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دے دے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چناچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا بار بار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کرلو اور آپ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چناچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت حضرت عبداللہ ؓ کی موجودگی میں آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، ؓ پھر بادشاہ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لیکر فرمایا کہ ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو ، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لئے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لئے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے فرمایا کہ میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کردیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لئے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردیتا ہوں آپ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ کو اور آپ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ یہاں سے آزاد ہو کر حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ ؓ کا ماتھا چومے اور میں ابتدا کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
109
View Single
لَا جَرَمَ أَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
So it occurred that they are the losers in the Hereafter.
یہ حقیقت ہے کہ بیشک یہی لوگ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Allah's Wrath against the Apostate, except for the One Who is forced into Disbelief
Allah tells us that He is angry with them who willingly disbelieve in Him after clearly believing in Him, who open their hearts to disbelief finding peace in that, because they understood the faith yet they still turned away from it. They will suffer severe punishment in the Hereafter, because they preferred this life to the Hereafter, and they left the faith for the sake of this world and Allah did not guide their hearts and help them to stand firm in the true religion. He put a seal on their hearts so that they would not be able to understand what is beneficial for them, and He sealed their ears and eyes so that they would not benefit from them. Their faculties did not help them at all, so they are unaware of what is going to happen to them.
لاَ جَرَمَ
(No doubt) means, it is inevitable, and no wonder that those who are like this -
أَنَّهُمْ فِى الاٌّخِرَةِ هُمُ الْخَـسِرونَ
(in the Hereafter, they will be the losers.) meaning, they will lose themselves and their families on the Day of Resurrection.
إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَـنِ
(except one who was forced while his heart is at peace with the faith) This is an exception in the case of one who utters statements of disbelief and verbally agrees with the Mushrikin because he is forced to do so by the beatings and abuse to which he is subjected, but his heart refuses to accept what he is saying, and he is, in reality, at peace with his faith in Allah and His Messenger . The scholars agreed that if a person is forced into disbelief, it is permissible for him to either go along with them in the interests of self-preservation, or to refuse, as Bilal did when they were inflicting all sorts of torture on him, even placing a huge rock on his chest in the intense heat and telling him to admit others as partners with Allah. He refused, saying, "Alone, Alone." And he said, "By Allah, if I knew any word more annoying to you than this, I would say it." May Allah be pleased with him. Similarly, when the Liar Musaylimah asked Habib bin Zayd Al-Ansari, "Do you bear witness that Muhammad ﷺ is the Messenger of Allah" He said, "Yes." Then Musaylimah asked, "Do you bear witness that I am the messenger of Allah ﷺ" Habib said, "I do not hear you." Musaylimah kept cutting him, piece by piece, but he remained steadfast insisting on his words. It is better and preferable for the Muslim to remain steadfast in his religion, even if that leads to him being killed, as was mentioned by Al-Hafiz Ibn `Asakir in his biography of `Abdullah bin Hudhafah Al-Sahmi, one of the Companions. He said that he was taken prisoner by the Romans, who brought him to their king. The king said, "Become a Christian, and I will give you a share of my kingdom and my daughter in marriage." `Abdullah said: "If you were to give me all that you possess and all that Arabs possess to make me give up the religion of Muhammad ﷺ even for an instant, I would not do it." The king said, "Then I will kill you." `Abdullah said, "It is up to you." The king gave orders that he should be crucified, and commanded his archers to shoot near his hands and feet while ordering him to become a Christian, but he still refused. Then the king gave orders that he should be brought down, and that a big vessel made of copper be brought and heated up. Then, while `Abdullah was watching, one of the Muslim prisoners was brought out and thrown into it, until all that was left of him was scorched bones. The king ordered him to become a Christian, but he still refused. Then he ordered that `Abdullah be thrown into the vessel, and he was brought back to the pulley to be thrown in. `Abdullah wept, and the king hoped that he would respond to him, so he called him, but `Abdullah said, "I only weep because I have only one soul with which to be thrown into this vessel at this moment for the sake of Allah; I wish that I had as many souls as there are hairs on my body with which I could undergo this torture for the sake of Allah." According to some reports, the king imprisoned him and deprived him of food and drink for several days, then he sent him wine and pork, and he did not come near them. Then the king called him and asked him, "What stopped you from eating" `Abdullah said, "It is permissible for me under these circumstances, but I did not want to give you the opportunity to gloat." The king said to him, "Kiss my head and I will let you go." `Abdullah said, "And will you release all the Muslim prisoners with me" The king said, "Yes." So `Abdullah kissed his head and he released him and all the other Muslim prisoners he was holding. When he came back, `Umar bin Al-Khattab said, "Every Muslim should kiss the head of `Abdullah bin Hudhafah, and I will be the first to do so." And he stood up and kissed his head. May Allah be pleased with them both.
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور اپنے انجام سے غافل ہوگئے۔ یقینا ایسے لوگ قیامت کے دن اپنا اور اپنے ہم خیال لوگوں کا نقصان کرنے والے ہیں۔ پہلی آیت کے درمیان جن لوگوں کا استثناء کیا ہے یعنی وہ جن پر جبر کیا جائے اور ان کے دل ایمان پر جمے ہوئے ہوں، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بہ سبب مار پیٹ اور ایذاؤں کے مجبور ہو کر زبان سے مشرکوں کی موافقت کریں لیکن ان کا دل وہ نہ کہتا ہو بلکہ دل میں اللہ پر اور اس کے رسول پر کامل اطمینان کے ساتھ پورا ایمان ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ کو مشرکین نے عذاب کرنا شروع کیا جب تک کہ آپ آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر نہ کریں۔ پس بادل ناخواستہ مجبوراً اور کرھاً آپ نے ان کی موافقت کی، پھر اللہ کے نبی کے پاس آ کر عذر بیان کرنے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ شعبی، قتاوہ اور ابو مالک بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ مشرکوں نے آپ کو پکڑا اور عذاب دینے شروع کئے، یہاں تک کہ آپ ان کے ارادوں کے قریب ہوگئے۔ پھرحضور ﷺ کے پاس آ کر اس کی شکایت کرنے لگے تو آپ نے پوچھا تم اپنے دل کا حال کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ وہ تو ایمان پر مطمئن ہے، جما ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اگر وہ پھر لوٹیں تو تم بھی لوٹنا۔ بیہقی میں اسے بھی زیادہ تفصیل سے ہے اس میں ہے کہ آپ نے حضور ﷺ کو برا بھلا کہا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے کیا پھر آپ کے پاس آ کر اپنا یہ دکھ بیان کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ انہوں نے اذیت دینا ختم نہیں کیا جب تک کہ میں نے آپ کو برا بھلا نہ کہہ لیا اور ان کے معبودوں کا ذکر خیر سے نہ کیا۔ آپ نے فرمایا تم اپنا دل کیسا پاتے ہو ؟ جواب دیا کہ ایمان پر مطمئن۔ فرمایا اگر وہ پھر کریں تو تم بھی پھر کرلینا۔ اسی پر یہ آیت اتری۔ پس علماء کرام کا اتفاق ہے کہ جس پر جبر و کراہ کیا جائے، اسے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے ان کی موافقت کرلے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایسے موقعہ پر بھی ان کی نہ مانے جیسے کہ حضرت بلال ؓ نے کر کے دکھایا کہ مشرکوں کی ایک نہ مانی حالانکہ وہ انہیں بدترین تکلیفیں دیتے تھے یہاں تک کہ سخت گرمیوں میں پوری تیز دھوپ میں آپ کو لٹا کر آپ کے سینے پر بھاری وزنی پتھر رکھ دیا کہ اب بھی شرک کرو تو نجات پاؤ لیکن آپ نے پھر بھی ان کی نہ مانی صاف انکار کردیا اور اللہ کی توحید احد احد کے لفظ سے بیان فرماتے رہے بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ " واللہ اگر اس سے بھی زیادہ تمہیں چبھنے والا کوئی لفظ میرے علم میں ہوتا تو میں وہی کہتا اللہ ان سے راضی رہے اور انہیں بھی ہمیشہ راضی رکھے۔ " اسی طرح حضرت خیب بن زیاد انصاری ؓ کا واقعہ ہے کہ جب ان سے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ کیا تو حضرت محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔ پھر اس نے آپ سے پوچھا کہ کیا میرے رسول اللہ ہونے کی بھی گواہی دیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میں نہیں سنتا۔ اس پر اس جھوٹے مدعی نبوت نے ان کے جسم کے ایک عضو کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا پھر یہی سوال جواب ہوا۔ دوسرا عضو جسم کٹ گیا یونہی ہوتا رہا لیکن آپ آخر دم تک اسی پر قائم رہے، اللہ آپ سے خوش ہو اور آپ کو بھی خوش رکھے۔ مسند احمد میں ہے کہ جو چند لوگ مرتد ہوگئے تھے، انہیں حضرت علی ؓ نے آگ میں جلوا دیا، جب حضرت ابن عباس ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا میں تو انہیں آگ میں نہ جلاتا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے عذاب سے تم عذاب نہ کرو۔ ہاں بیشک میں انہیں قتل کرا دیتا۔ اس لئے کہ فرمان رسول ﷺ ہے کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کردو۔ جب یہ خبر حضرت علی ؓ کو ہوئی تو آپ نے فرمایا ابن عباس کی ماں پر افسوس۔ اسے امام بخاری ؒ نے بھی وارد کیا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس یمن میں معاذ بن جبل ؓ تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک شخص ان کے پاس ہے۔ پوچھا یہ کیا ؟ جواب ملا کہ یہ ایک یہودی تھا، پھر مسلمان ہوگیا اب پھر یہودی ہوگیا ہے۔ ہم تقریباً دو ماہ سے اسے اسلام پر لانے کی کوشش میں ہیں، تو آپ نے فرمایا واللہ میں بیٹھوں گا بھی نہیں جب تک کہ تم اس کی گردن نہ اڑا دو۔ یہی فیصلہ ہے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کا کہ جو اپنے دین سے لوٹ جائے اسے قتل کردو یا فرمایا جو اپنے دین کو بدل دے۔ یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی ہے لیکن الفاظ اور ہیں۔ پس افضل و اولیٰ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم اور ثابت قدم رہے گو اسے قتل بھی کردیا جائے۔ چناچہ حافظ ابن عساکر ؒ عبداللہ بن حذافہ سہمی صحابی ؓ کے ترجمہ میں لائے ہیں کہ آپ کو رومی کفار نے قید کرلیا اور اپنے بادشاہ کے پاس پہنچا دیا، اس نے آپ سے کہا کہ تم نصرانی بن جاؤ میں تمہیں اپنے راج پاٹ میں شریک کرلیتا ہوں اور اپنی شہزادی تمہاری نکاح میں دیتا ہوں۔ صحابی ؓ نے جواب دیا کہ یہ تو کیا اگر تو اپنی تمام بادشاہت مجھے دے دے اور تمام عرب کا راج بھی مجھے سونپ دے اور یہ چاہے کہ میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی دین محمد سے پھر جاؤں تہ یہ بھی ناممکن ہے۔ بادشاہ نے کہا پھر میں تجھے قتل کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا کہ ہاں یہ تجھے اختیار ہے چناچہ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا اور تیر اندازوں نے قریب سے بحکم بادشاہ ان کے ہاتھ پاؤں اور جسم چھیدنا شروع کیا بار بار کہا جاتا تھا کہ اب بھی نصراینت قبول کرلو اور آپ پورے استقلال اور صبر سے فرماتے جاتے تھے کہ ہرگز نہیں آخر بادشاہ نے کہا اسے سولی سے اتار لو، پھر حکم دیا کہ پیتل کی دیگ یا پیتل کی کی بنی ہوئی گائے خوب تپا کر آگ بنا کر لائی جائے۔ چناچہ وہ پیش ہوئی بادشاہ نے ایک اور مسلمان قیدی کی بابت حکم دیا کہ اسے اس میں ڈال دو۔ اسی وقت حضرت عبداللہ ؓ کی موجودگی میں آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے اس مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا وہ مسکین اسی وقت چر مر ہو کر رہ گئے۔ گوشت پوست جل گیا ہڈیاں چمکنے لگیں، ؓ پھر بادشاہ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا کہ دیکھو اب بھی ہماری مان لو اور ہمارا مذہب قبول کرلو، ورنہ اسی آگ کی دیگ میں اسی طرح تمہیں بھی ڈال کر جلا دیا جائے گا۔ آپ نے پھر بھی اپنے ایمانی جوش سے کام لیکر فرمایا کہ ناممکن کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی وقت بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں چرخی پر چڑھا کر اس میں ڈال دو ، جب یہ اس آگ کی دیگ میں ڈالے جانے کے لئے چرخی پر اٹھائے گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، اسی وقت اس نے حکم دیا کہ رک جاؤ انہیں اپنے پاس بلا لیا، اس لئے کہ اسے امید بندھ گئی تھی کہ شاید اس عذاب کو دیکھ کر اب اس کے خیالات پلٹ گئے ہیں میری مان لے گا اور میرا مذہب قبول کر کے میرا داماد بن کر میری سلطنت کا ساجھی بن جائے گا لیکن بادشاہ کی یہ تمنا اور یہ خیال محض بےسود نکلا۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے فرمایا کہ میں صرف اس وجہ سے رویا تھا کہ آج ایک ہی جان ہے جسے راہ حق میں اس عذاب کے ساتھ میں قربان کر رہا ہوں، کاش کہ میرے روئیں روئیں میں ایک ایک جان ہوتی کہ آج میں سب جانیں راہ اللہ اسی طرح ایک ایک کر کے فدا کرتا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ کو قید خانہ میں رکھا کھانا پینا بند کردیا، کئی دن کے بعد شراب اور خنزیر کا گوشت بھیجا لیکن آپ نے اس بھوک پر بھی اس کی طرف توجہ تک نہ فرمائی۔ بادشاہ نے بلوا بھیجا اور اسے نہ کھانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اس حالت میں یہ میرے لئے حلال تو ہوگیا ہے لیکن میں تجھ جیسے دشمن کو اپنے بارے میں خوش ہونے کا موقعہ دینا چاہتا ہی نہیں ہوں۔ اب بادشاہ نے کہا اچھا تو میرے سر کا بوسہ لے تو میں تجھے اور تیرے ساتھ کے اور تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردیتا ہوں آپ نے اسے قبول فرما لیا اس کے سر کا بوسہ لے لیا اور بادشاہ نے بھی اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ کو اور آپ کے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دیا جب حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ یہاں سے آزاد ہو کر حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے کہ عبداللہ بن حذافہ ؓ کا ماتھا چومے اور میں ابتدا کرتا ہوں یہ فرما کر پہلے آپ نے ان کے سر پر بوسہ دیا۔
110
View Single
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُواْ ثُمَّ جَٰهَدُواْ وَصَبَرُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
Then indeed your Lord – for those who migrated after they had been oppressed, and then fought and remained patient – indeed your Lord is then, surely, Oft Forgiving, Most Merciful.
پھر آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے (ظلم و جبر کرنے والے کافروں کے ہاتھوں) آزمائشوں (اور تکلیفوں) میں مبتلا کیے جانے کے بعد ہجرت کی (یعنی اللہ کے لیے اپنے وطن چھوڑ دیے) پھر (دفاعی) جنگیں کیں اور (جنگ و جدال، فتنہ و فساد اور ظلم و جبر کے خلاف) سینہ سپر رہے تو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The One who is forced to renounce Islam will be forgiven if He does Righteous Deeds afterwards
This refers to another group of people who were oppressed in Makkah and whose position with their own people was weak, so they went along with them when they were tried by them. Then they managed to escape by emigrating, leaving their homeland, families and wealth behind, seeking the pleasure and forgiveness of Allah. They joined the believers and fought with them against the disbelievers, bearing hardship with patience. Allah tells them that after this, meaning after their giving in when put to the test, He will forgive them and show mercy to them when they are resurrected.
يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍ تُجَـدِلُ
((Remember) the Day when every person will come pleading) meaning making a case in his own defence.
عَن نَّفْسِهَا
(for himself.) means, no one else will plead on his behalf; not his father, not his son, nor his brother, nor his wife.
وَتُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ
(and every one will be paid in full for what he did,) meaning whatever he did, good or evil.
وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and they will not be dealt with unjustly.) meaning there will be no decrease in the reward for good, and no increase in the punishment for evil. They will not be dealt with unjustly in the slightest way.
صبر و استقامت یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لئے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہوگا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔
111
View Single
۞يَوۡمَ تَأۡتِي كُلُّ نَفۡسٖ تُجَٰدِلُ عَن نَّفۡسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
The day when every soul will come quarrelling against itself, and every soul will be fully repaid for what it did, and they will not be wronged.
وہ دن (یاد کریں) جب ہر شخص محض اپنی جان کی طرف سے (دفاع کے لئے) جھگڑتا ہوا حاضر ہوگا اور ہر جان کو جو کچھ اس نے کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The One who is forced to renounce Islam will be forgiven if He does Righteous Deeds afterwards
This refers to another group of people who were oppressed in Makkah and whose position with their own people was weak, so they went along with them when they were tried by them. Then they managed to escape by emigrating, leaving their homeland, families and wealth behind, seeking the pleasure and forgiveness of Allah. They joined the believers and fought with them against the disbelievers, bearing hardship with patience. Allah tells them that after this, meaning after their giving in when put to the test, He will forgive them and show mercy to them when they are resurrected.
يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍ تُجَـدِلُ
((Remember) the Day when every person will come pleading) meaning making a case in his own defence.
عَن نَّفْسِهَا
(for himself.) means, no one else will plead on his behalf; not his father, not his son, nor his brother, nor his wife.
وَتُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ
(and every one will be paid in full for what he did,) meaning whatever he did, good or evil.
وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ
(and they will not be dealt with unjustly.) meaning there will be no decrease in the reward for good, and no increase in the punishment for evil. They will not be dealt with unjustly in the slightest way.
صبر و استقامت یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لئے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہوگا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔
112
View Single
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا قَرۡيَةٗ كَانَتۡ ءَامِنَةٗ مُّطۡمَئِنَّةٗ يَأۡتِيهَا رِزۡقُهَا رَغَدٗا مِّن كُلِّ مَكَانٖ فَكَفَرَتۡ بِأَنۡعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلۡجُوعِ وَٱلۡخَوۡفِ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ
And Allah has illustrated an example of a township – which dwelt in peace and security, its provisions coming in abundance from every side – in response the township started being ungrateful of Allah’s favours, therefore Allah made it taste the punishment by covering it with a cloak of starvation and fear, on account of their deeds.
اور اللہ نے ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جو (بڑے) امن اور اطمینان سے (آباد) تھی اس کا رزق اس کے (مکینوں کے) پاس ہر طرف سے بڑی وسعت و فراغت کے ساتھ آتا تھا پھر اس بستی (والوں) نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کے عذاب کا لباس پہنا دیا ان اعمال کے سبب سے جو وہ کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Example of Makkah
This example refers to the people of Makkah, which had been secure, peaceful and stable, a secure sanctuary while men were being snatched away from everywhere outside of it. Whoever entered Makkah, he was safe, and he had no need to fear, as Allah said:
وَقَالُواْ إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَآ أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَماً ءَامِناً يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَىْءٍ رِّزْقاً مِّن لَّدُنَّا
(And they say: "If we follow the guidance with you, we would be snatched away from our land." Have We not established a secure sanctuary (Makkah) for them, to which are brought fruits of all kinds, a provision from Ourselves.) 28:57 Similarly, Allah says here:
يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا
(its provision coming to it in abundance) meaning, with ease and in plenty,
مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ
(from every place, but it (its people) denied the favors of Allah.) meaning, they denied the blessings of Allah towards them, the greatest of which was Muhammad ﷺ being sent to them, as Allah said:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ - جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ
(Have you not seen those who have changed the favors of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the abode of destruction; Hell, in which they will burn, - and what an evil place to settle in!) (14:28-29). Hence Allah replaced their former blessings with the opposite, and said:
فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ
(So Allah made it taste extreme hunger (famine) and fear,) meaning, He inflicted it and made them taste of hunger after fruits of all kinds and provision in abundance from every place had been brought to it. This was when they defied the Messenger of Allah ﷺ and insisted on opposing him, so he supplicated against them, asking Allah to send them seven years like the seven years of Yusuf (i.e., seven years of famine), and they were stricken with a year in which everything that they had was destroyed, and they ate `Alhaz', which is the hair of the camel mixed with its blood when it is slaughtered.
وَالْخَوْفِ
(and fear). This refers to the fact that their sense of security was replaced with fear of the Messenger of Allah ﷺ and his Companions after they had migrated to Al-Madinah. They feared the power and the attack of his armies, and they started to lose and face the destruction of everything that belonged to them, until Allah made it possible for His Messenger to conquer Makkah. This happened because of their evil deeds, their wrongdoing and their rejection of the Messenger that Allah sent to them from among themselves. He reminded them of this blessing in the Ayah:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed, Allah blessed the believers when He sent Messenger from among themselves to them.) (3:164) and,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ يأُوْلِى الأَلْبَـبِ الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَدْ أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراًرَسُولاً
(So have Taqwa of Allah! O men of understanding who have believed, Allah has indeed revealed to you a reminder (this Qur'an). (And has also sent to you) a Messenger.) 65:10-11 and:
كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنْكُمْ يَتْلُواْ عَلَيْكُمْ آيَـتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(Similarly (as a blessing), We have sent a Messenger to you from among you, reciting Our Ayat to you, and purifying you, and teaching you the Book (the Qur'an) and the Hikmah (i.e. Sunnah).) Until
وَلاَ تَكْفُرُونِ
(and do not be ungrateful.) 2:151-152 Allah changed the situation of the disbelievers and made it the opposite of what it had been, so they lived in fear after being secure, they were hungry after having plenty of provisions. After the believers lived in fear, Allah granted them security, giving them ample provisions after they lived in poverty, making them rulers, governors and leaders of mankind. This is what we say about the example that was given of the people of Makkah. It was also the opinion of Al-`Awfi and Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and Malik narrated it from Az-Zuhri as well. May Allah have mercy on them all.
اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آجاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے انہیں امن وامان کا حرم نہیں دے رکھا ؟ جہاں ہماری روزیاں قسم قسم کے پھولوں کی شکل میں ان کے پاس چاروں طرف سے کھینچی چلی آتی ہیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ عمدہ اور گزارے لائق روزی اس شہر کے لوگوں کے پاس ہر طرف سے آرہی تھی لیکن پھر بھی یہ اللہ کی نعمتوں کے منکر رہے جن میں سب سے اعلیٰ نعمت آنحضرت ﷺ کی بعثت تھی جیسے ارشاد باری ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ 28ۙ) 14۔ ابراھیم :28) کیا تو نے انہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف پہنچا دیا جو جہنم ہے جہاں یہ داخل ہوں گے اور جو بری قرار گاہ ہے۔ ان کی اس سرکشی کی سزا میں دونوں نعمتیں دوزحمتوں سے بدل دی گئیں۔ امن خوف سے، اطمینان بھوک اور گھبراہٹ سے، انہوں نے اللہ کے رسول کی نہ مانی۔ آپ کے خلاف کمر کس لی تو آپ نے ان کے لئے سات قحط سالیوں کی بد دعا دی۔ جیسی حضرت یوسف ؑ کے زمانہ میں تھیں۔ اس قحط سالی میں انہوں نے اونٹ کے خون میں لتھڑے ہوئے بال تک کھائے۔ امن کے بعد خوف آیا۔ ہر وقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لشکر سے خوف زدہ رہنے لگے۔ آپ کی دن دگنی ترقی اور آپ کے لشکروں کی کثرت کا سنتے اور سھمے جاتے تھے یہاں تک کہ بالآخر اللہ کے پیغمبر ﷺ نے ان کے شہر مکہ پر چڑھائی کی اور اسے فتح کر کے وہاں قبضہ کرلیا۔ یہ ان کی بد اعمالیوں کا ثمرہ تھا کیونکہ یہ ظلم و زیادتی پر اڑے ہوئے تھے اور اللہ کے رسول ﷺ کی تکذیب کرتے رہے تھے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ان میں خود ان میں سے ہی بھیجا تھا جس احسان کا بیان آیت (لقد من اللہ) الخ میں فرمایا ہے اور اسی کا بیان آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ٽ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا 10 ۙ) 65۔ الطلاق :10) میں ہے اور اسی معنی کی آیت (کما ارسلنا فیکم) میں ہے تکفرون تک اس لطیفے کو بھی نہ بھولئے کہ جیسے کفر کی وجہ سے امن کے بعد خوف آیا اور فراخی کے بعد بھوک آئی ایمان کی وجہ سے خوف کے بعد امن ملا اور بھوک کے بعد حکومت، سرداری امارت اور امامت ملی۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ سلیم بن نمیر کہتے ہیں ہم حضرت حفصہ زوجہ محترمہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ حج سے لوٹتے ہوئے آ رہے تھے اس وقت مدینہ شریف میں خلیفتہ المومنین حضرت عثمان ؓ گھرے ہوئے تھے۔ مائی صاحبہ اکثر راہ چلتوں سے ان کی بابت دریافت فرمایا کرتی تھیں۔ دو سواروں کو جاتے ہوئے دیکھ کر آدمی بھیجا کہ ان سے خلیفتہ الرسول کا حال پوچھو۔ انہوں نے خبر دی کہ افسوس آپ شہید کردیئے گئے۔ اسی وقت آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہی وہ شہید ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وضرب اللہ) الخ عبید اللہ بن مغیرہ کے استاد کا بھی یہی قول ہے۔
113
View Single
وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡهُمۡ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ
And indeed a Noble Messenger came to them from among them – in response they denied him, and therefore the punishment seized them, and they were unjust.
اور بیشک ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا پس انہیں عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم ہی تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Example of Makkah
This example refers to the people of Makkah, which had been secure, peaceful and stable, a secure sanctuary while men were being snatched away from everywhere outside of it. Whoever entered Makkah, he was safe, and he had no need to fear, as Allah said:
وَقَالُواْ إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَآ أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَماً ءَامِناً يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَىْءٍ رِّزْقاً مِّن لَّدُنَّا
(And they say: "If we follow the guidance with you, we would be snatched away from our land." Have We not established a secure sanctuary (Makkah) for them, to which are brought fruits of all kinds, a provision from Ourselves.) 28:57 Similarly, Allah says here:
يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا
(its provision coming to it in abundance) meaning, with ease and in plenty,
مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ
(from every place, but it (its people) denied the favors of Allah.) meaning, they denied the blessings of Allah towards them, the greatest of which was Muhammad ﷺ being sent to them, as Allah said:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ - جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ
(Have you not seen those who have changed the favors of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the abode of destruction; Hell, in which they will burn, - and what an evil place to settle in!) (14:28-29). Hence Allah replaced their former blessings with the opposite, and said:
فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ
(So Allah made it taste extreme hunger (famine) and fear,) meaning, He inflicted it and made them taste of hunger after fruits of all kinds and provision in abundance from every place had been brought to it. This was when they defied the Messenger of Allah ﷺ and insisted on opposing him, so he supplicated against them, asking Allah to send them seven years like the seven years of Yusuf (i.e., seven years of famine), and they were stricken with a year in which everything that they had was destroyed, and they ate `Alhaz', which is the hair of the camel mixed with its blood when it is slaughtered.
وَالْخَوْفِ
(and fear). This refers to the fact that their sense of security was replaced with fear of the Messenger of Allah ﷺ and his Companions after they had migrated to Al-Madinah. They feared the power and the attack of his armies, and they started to lose and face the destruction of everything that belonged to them, until Allah made it possible for His Messenger to conquer Makkah. This happened because of their evil deeds, their wrongdoing and their rejection of the Messenger that Allah sent to them from among themselves. He reminded them of this blessing in the Ayah:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ
(Indeed, Allah blessed the believers when He sent Messenger from among themselves to them.) (3:164) and,
فَاتَّقُواْ اللَّهَ يأُوْلِى الأَلْبَـبِ الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَدْ أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراًرَسُولاً
(So have Taqwa of Allah! O men of understanding who have believed, Allah has indeed revealed to you a reminder (this Qur'an). (And has also sent to you) a Messenger.) 65:10-11 and:
كَمَآ أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنْكُمْ يَتْلُواْ عَلَيْكُمْ آيَـتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَـبَ وَالْحِكْمَةَ
(Similarly (as a blessing), We have sent a Messenger to you from among you, reciting Our Ayat to you, and purifying you, and teaching you the Book (the Qur'an) and the Hikmah (i.e. Sunnah).) Until
وَلاَ تَكْفُرُونِ
(and do not be ungrateful.) 2:151-152 Allah changed the situation of the disbelievers and made it the opposite of what it had been, so they lived in fear after being secure, they were hungry after having plenty of provisions. After the believers lived in fear, Allah granted them security, giving them ample provisions after they lived in poverty, making them rulers, governors and leaders of mankind. This is what we say about the example that was given of the people of Makkah. It was also the opinion of Al-`Awfi and Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah, `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, and Malik narrated it from Az-Zuhri as well. May Allah have mercy on them all.
اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آجاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے انہیں امن وامان کا حرم نہیں دے رکھا ؟ جہاں ہماری روزیاں قسم قسم کے پھولوں کی شکل میں ان کے پاس چاروں طرف سے کھینچی چلی آتی ہیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ عمدہ اور گزارے لائق روزی اس شہر کے لوگوں کے پاس ہر طرف سے آرہی تھی لیکن پھر بھی یہ اللہ کی نعمتوں کے منکر رہے جن میں سب سے اعلیٰ نعمت آنحضرت ﷺ کی بعثت تھی جیسے ارشاد باری ہے آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ 28ۙ) 14۔ ابراھیم :28) کیا تو نے انہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی طرف پہنچا دیا جو جہنم ہے جہاں یہ داخل ہوں گے اور جو بری قرار گاہ ہے۔ ان کی اس سرکشی کی سزا میں دونوں نعمتیں دوزحمتوں سے بدل دی گئیں۔ امن خوف سے، اطمینان بھوک اور گھبراہٹ سے، انہوں نے اللہ کے رسول کی نہ مانی۔ آپ کے خلاف کمر کس لی تو آپ نے ان کے لئے سات قحط سالیوں کی بد دعا دی۔ جیسی حضرت یوسف ؑ کے زمانہ میں تھیں۔ اس قحط سالی میں انہوں نے اونٹ کے خون میں لتھڑے ہوئے بال تک کھائے۔ امن کے بعد خوف آیا۔ ہر وقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے لشکر سے خوف زدہ رہنے لگے۔ آپ کی دن دگنی ترقی اور آپ کے لشکروں کی کثرت کا سنتے اور سھمے جاتے تھے یہاں تک کہ بالآخر اللہ کے پیغمبر ﷺ نے ان کے شہر مکہ پر چڑھائی کی اور اسے فتح کر کے وہاں قبضہ کرلیا۔ یہ ان کی بد اعمالیوں کا ثمرہ تھا کیونکہ یہ ظلم و زیادتی پر اڑے ہوئے تھے اور اللہ کے رسول ﷺ کی تکذیب کرتے رہے تھے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ان میں خود ان میں سے ہی بھیجا تھا جس احسان کا بیان آیت (لقد من اللہ) الخ میں فرمایا ہے اور اسی کا بیان آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ٽ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا 10 ۙ) 65۔ الطلاق :10) میں ہے اور اسی معنی کی آیت (کما ارسلنا فیکم) میں ہے تکفرون تک اس لطیفے کو بھی نہ بھولئے کہ جیسے کفر کی وجہ سے امن کے بعد خوف آیا اور فراخی کے بعد بھوک آئی ایمان کی وجہ سے خوف کے بعد امن ملا اور بھوک کے بعد حکومت، سرداری امارت اور امامت ملی۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ۔ سلیم بن نمیر کہتے ہیں ہم حضرت حفصہ زوجہ محترمہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ حج سے لوٹتے ہوئے آ رہے تھے اس وقت مدینہ شریف میں خلیفتہ المومنین حضرت عثمان ؓ گھرے ہوئے تھے۔ مائی صاحبہ اکثر راہ چلتوں سے ان کی بابت دریافت فرمایا کرتی تھیں۔ دو سواروں کو جاتے ہوئے دیکھ کر آدمی بھیجا کہ ان سے خلیفتہ الرسول کا حال پوچھو۔ انہوں نے خبر دی کہ افسوس آپ شہید کردیئے گئے۔ اسی وقت آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہی وہ شہید ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وضرب اللہ) الخ عبید اللہ بن مغیرہ کے استاد کا بھی یہی قول ہے۔
114
View Single
فَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلٗا طَيِّبٗا وَٱشۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ
Therefore eat the lawful and good sustenance Allah has provided you, and be grateful for the blessings of your Lord, if you worship Him.
پس جو حلال اور پاکیزہ رزق تمہیں اللہ نے بخشا ہے، تم اس میں سے کھایا کرو اور اللہ کی نعمت کا شکر بجا لاتے رہو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
The Command to eat Lawful Provisions and to be Thankful, and an Explanation of what is Unlawful
Allah orders His believing servants to eat the good and lawful things that He has provided, and to give thanks to Him for that, for He is the Giver and Originator of all favors, Who alone deserves to be worshipped, having no partners or associate. Then Allah mentions what He has forbidden things which harm them in both religious and worldly affairs, i.,e., dead meat, blood and the flesh of pigs.
وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ
(and any animal which is slaughtered as a sacrifice for other than Allah.) meaning, it was slaughtered with the mention of a name other than that of Allah. Nevertheless,
فَمَنِ اضْطُرَّ
(But if one is forced by necessity.) meaning, if one needs to do it, without deliberately disobeying or transgressing, then,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Allah is Pardoning, Most Merciful.) We have already discussed a similar Ayah in Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here. And to Allah be praise. Then Allah forbids us to follow the ways of the idolators who declare things to be permitted or forbidden based upon their own whims and whatever names they agree on, such as the Bahirah (a she-camel whose milk was spared for the idols and nobody was allowed to milk it), the Sa'ibah (a she-camel let loose for free pasture for their false gods, idols, etc., and nothing was allowed to be carried on it), the Wasilah (a she-camel set free for idols because it has given birth to a she-camel at its first delivery and then again gives birth to a she-camel at its second delivery) and the Ham (a stallion camel freed from work for the sake of their idols, after it had finished a number of acts of copulation assigned for it), and so on. All of these were laws and customs that were invented during jahiliyyah. Then Allah says:
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـذَا حَلَـلٌ وَهَـذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ
(And do not describe what your tongues have lied about, saying: "This is lawful and this is forbidden," to invent lies against Allah.) This includes everyone who comes up with an innovation (Bid`ah) for which he has no evidence from the Shari`ah, or whoever declares something lawful that Allah has forbidden, or whoever declares something unlawful that Allah has permitted, only because it suits his opinions or whim to do so.
لِمَا تَصِفُ
(describe what...) meaning, do not speak lies because of what your tongues put forth. Then Allah warns against that by saying:
إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ
(Verily, those who invent lies against Allah, will never succeed.) meaning, either in this world or the Hereafter. As for this world, it is transient pleasure, and in the Hereafter, theirs will be a severe punishment, as Allah says:
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We will drive them into an unrelenting punishment.) (31:24) and
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then to Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they disbelieved.) (10:69-70)
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں فالحمد اللہ پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کرلیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ لما تصف میں ما مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑ لو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہوجاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بےبسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے۔
115
View Single
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
Only these are forbidden for you – the carrion, and blood, and flesh of swine, and that which has been slaughtered while proclaiming the name of any other besides Allah; so one who is compelled and does not eat out of desire, nor more than what is necessary, then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، حرام کیا ہے، پھر جو شخص حالتِ اضطرار (یعنی انتہائی مجبوری کی حالت) میں ہو، نہ (طلبِ لذت میں احکامِ الٰہی سے) سرکشی کرنے والا ہو اور نہ (مجبوری کی حد سے) تجاوز کرنے والا ہو، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to eat Lawful Provisions and to be Thankful, and an Explanation of what is Unlawful
Allah orders His believing servants to eat the good and lawful things that He has provided, and to give thanks to Him for that, for He is the Giver and Originator of all favors, Who alone deserves to be worshipped, having no partners or associate. Then Allah mentions what He has forbidden things which harm them in both religious and worldly affairs, i.,e., dead meat, blood and the flesh of pigs.
وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ
(and any animal which is slaughtered as a sacrifice for other than Allah.) meaning, it was slaughtered with the mention of a name other than that of Allah. Nevertheless,
فَمَنِ اضْطُرَّ
(But if one is forced by necessity.) meaning, if one needs to do it, without deliberately disobeying or transgressing, then,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Allah is Pardoning, Most Merciful.) We have already discussed a similar Ayah in Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here. And to Allah be praise. Then Allah forbids us to follow the ways of the idolators who declare things to be permitted or forbidden based upon their own whims and whatever names they agree on, such as the Bahirah (a she-camel whose milk was spared for the idols and nobody was allowed to milk it), the Sa'ibah (a she-camel let loose for free pasture for their false gods, idols, etc., and nothing was allowed to be carried on it), the Wasilah (a she-camel set free for idols because it has given birth to a she-camel at its first delivery and then again gives birth to a she-camel at its second delivery) and the Ham (a stallion camel freed from work for the sake of their idols, after it had finished a number of acts of copulation assigned for it), and so on. All of these were laws and customs that were invented during jahiliyyah. Then Allah says:
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـذَا حَلَـلٌ وَهَـذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ
(And do not describe what your tongues have lied about, saying: "This is lawful and this is forbidden," to invent lies against Allah.) This includes everyone who comes up with an innovation (Bid`ah) for which he has no evidence from the Shari`ah, or whoever declares something lawful that Allah has forbidden, or whoever declares something unlawful that Allah has permitted, only because it suits his opinions or whim to do so.
لِمَا تَصِفُ
(describe what...) meaning, do not speak lies because of what your tongues put forth. Then Allah warns against that by saying:
إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ
(Verily, those who invent lies against Allah, will never succeed.) meaning, either in this world or the Hereafter. As for this world, it is transient pleasure, and in the Hereafter, theirs will be a severe punishment, as Allah says:
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We will drive them into an unrelenting punishment.) (31:24) and
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then to Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they disbelieved.) (10:69-70)
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں فالحمد اللہ پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کرلیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ لما تصف میں ما مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑ لو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہوجاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بےبسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے۔
116
View Single
وَلَا تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٞ وَهَٰذَا حَرَامٞ لِّتَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ
And do not say – the lie which your tongues speak – “This is lawful, and this is forbidden” in order to fabricate a lie against Allah; indeed those who fabricate lies against Allah will never prosper.
اور وہ جھوٹ مت کہا کرو جو تمہاری زبانیں بیان کرتی رہتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس طرح کہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو، بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ (کبھی) فلاح نہیں پائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to eat Lawful Provisions and to be Thankful, and an Explanation of what is Unlawful
Allah orders His believing servants to eat the good and lawful things that He has provided, and to give thanks to Him for that, for He is the Giver and Originator of all favors, Who alone deserves to be worshipped, having no partners or associate. Then Allah mentions what He has forbidden things which harm them in both religious and worldly affairs, i.,e., dead meat, blood and the flesh of pigs.
وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ
(and any animal which is slaughtered as a sacrifice for other than Allah.) meaning, it was slaughtered with the mention of a name other than that of Allah. Nevertheless,
فَمَنِ اضْطُرَّ
(But if one is forced by necessity.) meaning, if one needs to do it, without deliberately disobeying or transgressing, then,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Allah is Pardoning, Most Merciful.) We have already discussed a similar Ayah in Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here. And to Allah be praise. Then Allah forbids us to follow the ways of the idolators who declare things to be permitted or forbidden based upon their own whims and whatever names they agree on, such as the Bahirah (a she-camel whose milk was spared for the idols and nobody was allowed to milk it), the Sa'ibah (a she-camel let loose for free pasture for their false gods, idols, etc., and nothing was allowed to be carried on it), the Wasilah (a she-camel set free for idols because it has given birth to a she-camel at its first delivery and then again gives birth to a she-camel at its second delivery) and the Ham (a stallion camel freed from work for the sake of their idols, after it had finished a number of acts of copulation assigned for it), and so on. All of these were laws and customs that were invented during jahiliyyah. Then Allah says:
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـذَا حَلَـلٌ وَهَـذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ
(And do not describe what your tongues have lied about, saying: "This is lawful and this is forbidden," to invent lies against Allah.) This includes everyone who comes up with an innovation (Bid`ah) for which he has no evidence from the Shari`ah, or whoever declares something lawful that Allah has forbidden, or whoever declares something unlawful that Allah has permitted, only because it suits his opinions or whim to do so.
لِمَا تَصِفُ
(describe what...) meaning, do not speak lies because of what your tongues put forth. Then Allah warns against that by saying:
إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ
(Verily, those who invent lies against Allah, will never succeed.) meaning, either in this world or the Hereafter. As for this world, it is transient pleasure, and in the Hereafter, theirs will be a severe punishment, as Allah says:
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We will drive them into an unrelenting punishment.) (31:24) and
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then to Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they disbelieved.) (10:69-70)
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں فالحمد اللہ پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کرلیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ لما تصف میں ما مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑ لو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہوجاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بےبسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے۔
117
View Single
مَتَٰعٞ قَلِيلٞ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
A little enjoyment – and for them is a punishment, most painful.
فائدہ تھوڑا ہے مگر ان کے لئے عذاب (بڑا) دردناک ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to eat Lawful Provisions and to be Thankful, and an Explanation of what is Unlawful
Allah orders His believing servants to eat the good and lawful things that He has provided, and to give thanks to Him for that, for He is the Giver and Originator of all favors, Who alone deserves to be worshipped, having no partners or associate. Then Allah mentions what He has forbidden things which harm them in both religious and worldly affairs, i.,e., dead meat, blood and the flesh of pigs.
وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ
(and any animal which is slaughtered as a sacrifice for other than Allah.) meaning, it was slaughtered with the mention of a name other than that of Allah. Nevertheless,
فَمَنِ اضْطُرَّ
(But if one is forced by necessity.) meaning, if one needs to do it, without deliberately disobeying or transgressing, then,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(Allah is Pardoning, Most Merciful.) We have already discussed a similar Ayah in Surat Al-Baqarah, and there is no need to repeat it here. And to Allah be praise. Then Allah forbids us to follow the ways of the idolators who declare things to be permitted or forbidden based upon their own whims and whatever names they agree on, such as the Bahirah (a she-camel whose milk was spared for the idols and nobody was allowed to milk it), the Sa'ibah (a she-camel let loose for free pasture for their false gods, idols, etc., and nothing was allowed to be carried on it), the Wasilah (a she-camel set free for idols because it has given birth to a she-camel at its first delivery and then again gives birth to a she-camel at its second delivery) and the Ham (a stallion camel freed from work for the sake of their idols, after it had finished a number of acts of copulation assigned for it), and so on. All of these were laws and customs that were invented during jahiliyyah. Then Allah says:
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَـذَا حَلَـلٌ وَهَـذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ
(And do not describe what your tongues have lied about, saying: "This is lawful and this is forbidden," to invent lies against Allah.) This includes everyone who comes up with an innovation (Bid`ah) for which he has no evidence from the Shari`ah, or whoever declares something lawful that Allah has forbidden, or whoever declares something unlawful that Allah has permitted, only because it suits his opinions or whim to do so.
لِمَا تَصِفُ
(describe what...) meaning, do not speak lies because of what your tongues put forth. Then Allah warns against that by saying:
إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ
(Verily, those who invent lies against Allah, will never succeed.) meaning, either in this world or the Hereafter. As for this world, it is transient pleasure, and in the Hereafter, theirs will be a severe punishment, as Allah says:
نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ
(We let them enjoy for a little while, then in the end We will drive them into an unrelenting punishment.) (31:24) and
قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لاَ يُفْلِحُونَ - مَتَـعٌ فِى الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
(Verily, those who invent a lie against Allah, will never be successful. (A brief) enjoyment in this world! and then to Us will be their return, then We shall make them taste the severest torment because they disbelieved.) (10:69-70)
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی کامل تفسیر بھی بیان کردی اب دوبارہ دہرانے کی حاجت نہیں فالحمد اللہ پھر کافروں کے رویہ سے مسلمانوں کو روک رہا ہے کہ جس طرح انہوں نے از خود اپنی سمجھ سے حلت حرمت قائم کرلی ہے تم نہ کرو آپس میں طے کرلیا کہ فلاں کے نام سے منسوب جانور حرمت و عزت والا ہے۔ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام وغیرہ تو فرمان ہے کہ اپنی زبانوں سے جھوٹ موٹ اللہ کے ذمے الزام رکھ کر آپ حلال حرام نہ ٹھہرا لو۔ اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی بدعت کو نکالے جس کی کوئی شرعی دلیل نہ ہو۔ یا اللہ کے حرام کو حلال کرے یا مباح کو حرام قرار دے اور اپنی رائے اور تشبیہ سے احکام ایجاد کرے۔ لما تصف میں ما مصدریہ ہے یعنی تم اپنی زبان سے حلال حرام کا جھوٹ وصف نہ گھڑ لو۔ ایسے لوگ دنیا کی فلاح سے آخرت کی نجات سے محروم ہوجاتے ہیں دنیا میں گو تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن مرتے ہی المناک عذابوں کا لقمہ بنیں گے۔ یہاں کچھ عیش و عشرت کرلیں وہاں بےبسی کے ساتھ سخت عذاب برداشت کرنے پڑیں گے۔ جیسے فرمان الٰہی ہے اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے نجات سے محروم ہیں۔ دنیا میں چاہے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں پھر ہم ان کے کفر کی وجہ سے انہیں سخت عذاب چکھائیں گے۔
118
View Single
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ مِن قَبۡلُۖ وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
And especially for the Jews We forbade which We related to you earlier; and We did not oppress them, but it is they who wronged themselves.
اور یہود پر ہم نے وہی چیزیں حرام کی تھیں جو ہم پہلے آپ سے بیان کر چکے ہیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
Some Good Things were Forbidden for the Jews
After mentioning that He has forbidden us to eat dead meat, blood, the flesh of swine, and any animal which is slaughtered as a sacrifice for others than Allah, and after making allowances for cases of necessity - which is part of making things easy for this Ummah, because Allah desires ease for us, not hardship - Allah then mentions what He forbade for the Jews in their laws before they were abrogated, and the restrictions, limitations and difficulties involved therein. He tells us:
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ
(And for those who are Jews, We have forbidden such things as We have mentioned to you before.) meaning in Surat Al-An`am, where Allah says:
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ
(And unto those who are Jews, We forbade every (animal) with undivided hoof, and We forbade them the fat of the ox and the sheep except what adheres to their backs) Until,
لَصَـدِقُونَ
(We are indeed truthful) 6:146 Hence Allah says here:
وَمَا ظَلَمْنَـهُمْ
(And We did not wrong them,) meaning, in the restrictions that We imposed upon them.
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves. ) meaning, they deserved that. This is like the Ayah:
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَـتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيراً
(Because of the wrong committed of those who were Jews, We prohibited certain good foods which had been lawful for them - and (also) for their hindering many from Allah's way.) (4:160) Then Allah tells us, honoring and remin- ding believers who have sinned of His blessings, that who- ever among them repents, He will accept his repentance, as He says:
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُواْ السُّوءَ بِجَهَـلَةٍ
(Then, your Lord for those who did evil out of ignorance) Some of the Salaf said that this means that everyone who disobeys Allah is ignorant.
ثُمَّ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُواْ
(and afterward repent and do righteous deeds) meaning, they give up the sins they used to commit and turn to doing acts of obedience to Allah.
إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا
(verily, after that, your Lord is...) means, after that mistake
لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(...Pardoning, Most Merciful.)
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔ یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتادیا ہے۔ سورة انعام کی آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ01108) 16۔ النحل :118) میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کردیا تھا اور گائے اور بکری کی چربی کو سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں پر یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو، یہ بدلہ تھا ان کی سرکشی کا ہم اپنے فرمان میں بالکل سچے ہیں۔ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ہاں وہ خود ناانصاف تھے۔ ان کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں، حرام کردیں دوسری وجہ ان کا راہ حق سے اوروں کو روکنا بھی تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے اس رحم و کرم کی خبر دیتا ہے جو وہ گنہگار مومنوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ادھر اس نے توبہ کی، ادھر رحمت کی گود اس کے لئے پھیل گئی۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہی ہوتا ہے۔ توبہ کہتے ہیں گناہ سے ہٹ جانے کو اور اصلاح کہتے ہیں اطاعت پر کمر کس لینے کو پس جو ایسا کرے اس کے گناہ اور اس کی لغزش کے بعد بھی اللہ اسے بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
119
View Single
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ وَأَصۡلَحُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٌ
Then indeed your Lord – for those who unwittingly commit evil and then repent and reform themselves – indeed your Lord is then, surely, Oft Forgiving, Most Merciful.
پھر بیشک آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نادانی سے غلطیاں کیں پھر اس کے بعد تائب ہوگئے اور (اپنی) حالت درست کرلی تو بیشک آپ کا رب اس کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے
Tafsir Ibn Kathir
Some Good Things were Forbidden for the Jews
After mentioning that He has forbidden us to eat dead meat, blood, the flesh of swine, and any animal which is slaughtered as a sacrifice for others than Allah, and after making allowances for cases of necessity - which is part of making things easy for this Ummah, because Allah desires ease for us, not hardship - Allah then mentions what He forbade for the Jews in their laws before they were abrogated, and the restrictions, limitations and difficulties involved therein. He tells us:
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ
(And for those who are Jews, We have forbidden such things as We have mentioned to you before.) meaning in Surat Al-An`am, where Allah says:
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ
(And unto those who are Jews, We forbade every (animal) with undivided hoof, and We forbade them the fat of the ox and the sheep except what adheres to their backs) Until,
لَصَـدِقُونَ
(We are indeed truthful) 6:146 Hence Allah says here:
وَمَا ظَلَمْنَـهُمْ
(And We did not wrong them,) meaning, in the restrictions that We imposed upon them.
وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
(but they wronged themselves. ) meaning, they deserved that. This is like the Ayah:
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَـتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيراً
(Because of the wrong committed of those who were Jews, We prohibited certain good foods which had been lawful for them - and (also) for their hindering many from Allah's way.) (4:160) Then Allah tells us, honoring and remin- ding believers who have sinned of His blessings, that who- ever among them repents, He will accept his repentance, as He says:
ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُواْ السُّوءَ بِجَهَـلَةٍ
(Then, your Lord for those who did evil out of ignorance) Some of the Salaf said that this means that everyone who disobeys Allah is ignorant.
ثُمَّ تَابُواْ مِن بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُواْ
(and afterward repent and do righteous deeds) meaning, they give up the sins they used to commit and turn to doing acts of obedience to Allah.
إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا
(verily, after that, your Lord is...) means, after that mistake
لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
(...Pardoning, Most Merciful.)
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔ یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتادیا ہے۔ سورة انعام کی آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ01108) 16۔ النحل :118) میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانوروں کو حرام کردیا تھا اور گائے اور بکری کی چربی کو سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں پر یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو، یہ بدلہ تھا ان کی سرکشی کا ہم اپنے فرمان میں بالکل سچے ہیں۔ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا ہاں وہ خود ناانصاف تھے۔ ان کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں، حرام کردیں دوسری وجہ ان کا راہ حق سے اوروں کو روکنا بھی تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے اس رحم و کرم کی خبر دیتا ہے جو وہ گنہگار مومنوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ادھر اس نے توبہ کی، ادھر رحمت کی گود اس کے لئے پھیل گئی۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہی ہوتا ہے۔ توبہ کہتے ہیں گناہ سے ہٹ جانے کو اور اصلاح کہتے ہیں اطاعت پر کمر کس لینے کو پس جو ایسا کرے اس کے گناہ اور اس کی لغزش کے بعد بھی اللہ اسے بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
120
View Single
إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةٗ قَانِتٗا لِّلَّهِ حَنِيفٗا وَلَمۡ يَكُ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Indeed Ibrahim was a leader, obedient to Allah, and detached from all; and he was not a polytheist.
بیشک ابراہیم (علیہ السلام تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش (صرف اسی کی طرف یک سُو) تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
He selected him, as Allah says :
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ
(And before, We indeed gave Ibrahim his integrity, and We were indeed most knowledgeable about him)(21:51). Then Allah says:
وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(and guided him to a straight path.) which means to worship Allah alone, without partners or associate, in the manner that He prescribed and which pleases Him.
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) meaning, `We granted him all that a believer may require for a good and complete life in this world.'
وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous.) Concerning the Ayah:
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) Mujahid said: "This means a truthful tongue."
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا
(Then, We have sent the revelation to you: "Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif. ..) meaning, `because of his perfection, greatness, and the soundness of his Tawhid and his way, We revealed to you, O Seal of the Messengers and Leader of the Prophets ,'
أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif and he was not of the idolators.) This is like the Ayah in Surat Al-An`am:
قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif and he was not of the idolators.") (6:161). Then Allah rebukes the Jews,
جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آجانے والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدر دان اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام٭٭ امام حنفائ، والد انبیائ، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گذار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جان والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلای سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا وابراہیم الذی وفی وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنالیا۔ جیسے فرمان ہے ولقد اتینا ابراہیم رشدہ الخ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ قل اننی ہدانی ربی الا صراط مستقیم الخ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔ آیت (وابراہیم الذی وفی) وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ 51ۚ) 21۔ الأنبیاء :51) ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت و اطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سید الانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ01601) 6۔ الانعام :161) کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔
121
View Single
شَاكِرٗا لِّأَنۡعُمِهِۚ ٱجۡتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
Grateful for His blessings; Allah chose him and guided him to the Straight Path.
اس (اللہ) کی نعمتوں پر شاکر تھے، اللہ نے انہیں چن (کر اپنی بارگاہ میں خاص برگزیدہ بنا) لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی
Tafsir Ibn Kathir
He selected him, as Allah says :
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ
(And before, We indeed gave Ibrahim his integrity, and We were indeed most knowledgeable about him)(21:51). Then Allah says:
وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(and guided him to a straight path.) which means to worship Allah alone, without partners or associate, in the manner that He prescribed and which pleases Him.
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) meaning, `We granted him all that a believer may require for a good and complete life in this world.'
وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous.) Concerning the Ayah:
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) Mujahid said: "This means a truthful tongue."
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا
(Then, We have sent the revelation to you: "Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif. ..) meaning, `because of his perfection, greatness, and the soundness of his Tawhid and his way, We revealed to you, O Seal of the Messengers and Leader of the Prophets ,'
أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif and he was not of the idolators.) This is like the Ayah in Surat Al-An`am:
قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif and he was not of the idolators.") (6:161). Then Allah rebukes the Jews,
جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آجانے والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدر دان اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام٭٭ امام حنفائ، والد انبیائ، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گذار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جان والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلای سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا وابراہیم الذی وفی وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنالیا۔ جیسے فرمان ہے ولقد اتینا ابراہیم رشدہ الخ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ قل اننی ہدانی ربی الا صراط مستقیم الخ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔ آیت (وابراہیم الذی وفی) وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ 51ۚ) 21۔ الأنبیاء :51) ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت و اطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سید الانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ01601) 6۔ الانعام :161) کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔
122
View Single
وَءَاتَيۡنَٰهُ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
And We gave him goodness in this world; and indeed in the Hereafter he is worthy of proximity.
اور ہم نے اسے دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرمائی، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) صالحین میں سے ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
He selected him, as Allah says :
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ
(And before, We indeed gave Ibrahim his integrity, and We were indeed most knowledgeable about him)(21:51). Then Allah says:
وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(and guided him to a straight path.) which means to worship Allah alone, without partners or associate, in the manner that He prescribed and which pleases Him.
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) meaning, `We granted him all that a believer may require for a good and complete life in this world.'
وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous.) Concerning the Ayah:
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) Mujahid said: "This means a truthful tongue."
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا
(Then, We have sent the revelation to you: "Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif. ..) meaning, `because of his perfection, greatness, and the soundness of his Tawhid and his way, We revealed to you, O Seal of the Messengers and Leader of the Prophets ,'
أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif and he was not of the idolators.) This is like the Ayah in Surat Al-An`am:
قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif and he was not of the idolators.") (6:161). Then Allah rebukes the Jews,
جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آجانے والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدر دان اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام٭٭ امام حنفائ، والد انبیائ، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گذار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جان والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلای سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا وابراہیم الذی وفی وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنالیا۔ جیسے فرمان ہے ولقد اتینا ابراہیم رشدہ الخ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ قل اننی ہدانی ربی الا صراط مستقیم الخ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔ آیت (وابراہیم الذی وفی) وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ 51ۚ) 21۔ الأنبیاء :51) ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت و اطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سید الانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ01601) 6۔ الانعام :161) کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔
123
View Single
ثُمَّ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ أَنِ ٱتَّبِعۡ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
And then We sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) the divine revelation that, “Follow the religion of Ibrahim, who was free from all falsehood; and was not a polytheist.”
پھر (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کریں جو ہر باطل سے جدا تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے
Tafsir Ibn Kathir
He selected him, as Allah says :
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ
(And before, We indeed gave Ibrahim his integrity, and We were indeed most knowledgeable about him)(21:51). Then Allah says:
وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(and guided him to a straight path.) which means to worship Allah alone, without partners or associate, in the manner that He prescribed and which pleases Him.
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) meaning, `We granted him all that a believer may require for a good and complete life in this world.'
وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ
(and in the Hereafter he shall be of the righteous.) Concerning the Ayah:
وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً
(And We gave him good in this world,) Mujahid said: "This means a truthful tongue."
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا
(Then, We have sent the revelation to you: "Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif. ..) meaning, `because of his perfection, greatness, and the soundness of his Tawhid and his way, We revealed to you, O Seal of the Messengers and Leader of the Prophets ,'
أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif and he was not of the idolators.) This is like the Ayah in Surat Al-An`am:
قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif and he was not of the idolators.") (6:161). Then Allah rebukes the Jews,
جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آجانے والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدر دان اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام٭٭ امام حنفائ، والد انبیائ، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گذار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جان والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلای سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ حضرت معاذ امت قانت اور حنیف تھے اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ غلطی کر گئے ایسے تو قرآن کے مطابق حضرت خلیل الرحمن تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو امت فرمایا ہے تو آب نے فرمایا جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی ؟ اور قانت کے کیا معنی ؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک حضرت معاذ ایسے ہی تھے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد و مومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔ قتادہ فرماتے ہیں وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا وابراہیم الذی وفی وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنالیا۔ جیسے فرمان ہے ولقد اتینا ابراہیم رشدہ الخ ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سیدالانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ قل اننی ہدانی ربی الا صراط مستقیم الخ کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔ آیت (وابراہیم الذی وفی) وہ ابراہیم جس نے پورا کیا یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا۔ اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفیٰ بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے (وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ 51ۚ) 21۔ الأنبیاء :51) ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی وہ عبادت و اطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ اے خاتم رسل اے سید الانبیاء تجھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا۔ سورة انعام میں ارشاد ہے۔ آیت (قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ01601) 6۔ الانعام :161) کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا۔ پھر یہودیوں پر انکار ہو رہا ہے اور فرمایا جا رہا ہے۔
124
View Single
إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبۡتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
The Sabbath was made obligatory only upon those who differed in it; and indeed your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning the matter in which they differed.
ہفتہ کا دن صرف انہی لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا، اور بیشک آپ کا رب قیامت کے دن اُن کے درمیان اُن (باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Prescription of the Sabbath for the Jews
There is no doubt that for every nation, Allah prescribed one day of the week for people to gather to worship Him. For this Ummah He prescribed Friday, because it is the sixth day, on which Allah completed and perfected His creation. On this day He gathered and completed His blessings for His servants. It was said that Allah prescribed this day for the Children of Israel through His Prophet Musa, but they changed it and chose Saturday because it was the day on which the Creator did not create anything, as He had completed His creation on Friday. Allah made observance of the Sabbath obligatory for them in the laws of the Tawrah (Torah), telling them to keep the Sabbath. At the same time, He told them to follow Muhammad ﷺ when he was sent, and took their promises and covenant to that effect. Hence Allah says:
إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ
(The Sabbath was only prescribed for those who differed concerning it,) Mujahid said: "They observed the Sabbath (Saturday) and ignored Friday." Then they continued to observe Saturday until Allah sent `Isa bin Maryam. It was said that he told them to change it to Sunday, and it was also said that he did not forsake the laws of the Tawrah except for a few rulings which were abrogated, and he continued to observe the Sabbath until he was taken up (into heaven). Afterwards, the Christians at the time of Constantine were the ones who changed it to Sunday in order to be different from the Jews, and they started to pray towards the east instead of facing the Dome (i.e., Jerusalem). And Allah knows best. It was reported in the Two Sahihs that Abu Hurayrah heard the Messenger of Allah ﷺ say:
«نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فَرَضَ اللهُ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ: الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَد»
(We are the last, but we will be the first on the Day of Resurrection, even though they were given the Book before us. This is the day that Allah obligated upon them, but they differed concerning it. Allah guided us to this day, and the people observe their days after us, the Jews on the following day and the Christians on the day after that.) This version was recorded by Al-Bukhari. It was reported that Abu Hurayrah and Hudhayfah said that the Messenger of Allah ﷺ said:
«أَضَلَّ اللهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ، وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ، فَجَاءَ اللهُ بِنَا فَهَدَانَا اللهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ، وَكَذَلِكَ هُمْ تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِق»
(Allah let the people who came before us stray from Friday, so the Jews had Saturday and the Christians had Sunday. Then Allah brought us and guided us to Friday. So now there are Friday, Saturday and Sunday, thus they will follow us on the Day of Resurrection. We are the last of the people of this world, but will be the first on the Day of Resurrection, and will be the first to be judged, before all of creation.) It was reported by Muslim.
جمعہ کا دن ہر امت کے لئے ہفتے میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے جس میں وہ جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی خوشی منائیں۔ اس امت کے لئے وہ دن جمعہ کا دن ہے، اس لئے کہ وہ چھٹا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کمال کیا۔ اور ساری مخلوق پیدا ہوچکی اور اپنے بندوں کو ان کی ضرورت کی اپنی پوری نعمت عطا فرما دی۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبانی یہی دن بنی اسرائیل کے لئے مقرر فرمایا گیا تھا لیکن وہ اس سے ہٹ کر ہفتے کے دن کو لے بیٹھے، یہ سمجھے کہ جمعہ کو مخلوق پوری ہوگئی، ہفتہ کے دن اللہ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ پس تورات جب اتری ان پر وہی ہفتے کا دن مقرر ہوا اور انہیں حکم ملا کہ اسے مضبوطی سے تھامے رہیں، ہاں یہ ضرور فرما دیا گیا تھا کہ آنحضرت محمد ﷺ جب بھی آئیں تو وہ سب کے سب کو چھوڑ کر صرف آپ ہی کی اتباع کریں۔ اس بات پر ان سے وعدہ بھی لے لیا تھا۔ پس ہفتے کا دن انہوں نے خود ہی اپنے لئے چھانٹا تھا۔ اور آپ ہی جمعہ کو چھوڑا تھا۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے زمانہ تک یہ اسی پر رہے۔ کہا جاتا ہے کہ پھر آپ نے انہیں اتوار کے دن کی طرف دعوت دی۔ ایک قول ہے کہ آپ نے توراۃ کی شریعت چھوڑی نہ تھی سوائے بعض منسوخ احکام کے اور ہفتے کے دن کی محافظت آپ نے بھی برابر داری رکھی۔ جب آپ آسمان پر چڑھا لئے گئے تو آپ کے بعد قسطنطین بادشاہ کے زمانے میں صرف یہودیوں کی ضد میں آ کر صخرہ سے مشرق جانب کو اپنا قبلہ انہوں نے مقرر کرلیا اور ہفتے کی بجائے اتوار کا دن مقرر کرلیا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم سب سے آخر والے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے والے ہیں۔ ہاں انہیں کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی۔ یہ دن بھی اللہ نے ان پر فرض کیا لیکن ان کے اختلاف نے انہیں کھو دیا اور اللہ رب العزت نے ہمیں اس کی ہدایت دی پس یہ سب لوگ ہمارے پیچھے پیچھے ہیں۔ یہودی ایک دن پیچھے نصارنی دو دن۔ آپ فرماتے ہیں ہم سے پہلے کی امتوں کو اللہ نے اس دن سے محروم کردیا یہود نے ہفتے کا دن رکھا نصاری نے اتوار کا اور جمعہ ہمارا ہوا۔ پس جس طرح دنوں کے اس اعتبار سے وہ ہمارے پیچھے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے ہی رہیں گے۔ ہم دنیا کے اعتبار سے پچھلے ہیں اور قیامت کے اعتبار سے پہلے ہیں یعنی تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلے ہمارے ہوں گے۔ (مسلم)
125
View Single
ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
Call towards the path of your Lord with sound planning and good advice, and debate with them in the best possible way; indeed your Lord well knows him who has strayed from His path, and He well knows the guided.
(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to invite people to Allah with Wisdom and Good Preaching
Allah commands His Messenger Muhammad ﷺ to invite the people to Allah with Hikmah (wisdom). Ibn Jarir said: "That is what was revealed to him from the Book and the Sunnah."
وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
(and fair preaching) meaning, with exhortation and stories of the events that happened to people that are mentioned in the Qur'an, which he is to tell them about in order to warn them of the punishment of Allah.
وَجَـدِلْهُم بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ
(and argue with them with that which is best.) meaning, if any of them want to debate and argue, then let that be in the best manner, with kindness, gentleness and good speech, as Allah says elsewhere:
وَلاَ تُجَـدِلُواْ أَهْلَ الْكِتَـبِ إِلاَّ بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ إِلاَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنْهُمْ
(And do not argue with the People of the Book, unless it be with that which is best, except for those who purposefully do wrong.) 29:46 Allah commanded him to speak gently, as He commanded Musa and Harun to do when he sent them to Pharaoh, as He said:
فَقُولاَ لَهُ قَوْلاً لَّيِّناً لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى
(And speak to him mildly, perhaps he may accept admonition or fear (Allah))(20: 44).
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ
(Truly, your Lord best knows who has strayed from His path,) meaning, Allah already knows who is doomed (destined for Hell) and who is blessed (destined for Paradise). This has already been written with Him and the matter is finished, so call them to Allah, but do not exhaust yourself with regret over those who go astray, for it is not your task to guide them. You are just a warner, and all you have to do is convey the Message, and it is He Who will bring them to account.
إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ
(You cannot guide whom you love) 28:56
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ
(It is not up to you to guide them, but Allah guides whom He wills.) 2:72
حکمت سے مراد کتاب اللہ اور حدیث رسول ﷺ ہے اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر ؒ کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ ہے۔ اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں۔ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑجائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰـهُنَا وَاِلٰــهُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 46) 29۔ العنکبوت :46) اہل کتاب سے مناظرے مجادلے کا بہترین طریقہ ہی برتا کرو الخ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہوجائے۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہوچکی ہے۔ آپ تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے۔ حساب ہم آپ لیں گے۔ ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں، ہدایت عطا کردیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے۔
126
View Single
وَإِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُواْ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبۡتُم بِهِۦۖ وَلَئِن صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٞ لِّلصَّـٰبِرِينَ
And if you mete out punishment, then punish similarly as you were afflicted; and if you patiently endure, then indeed patience is better for the patiently enduring.
اور اگر تم سزا دینا چاہو تو اتنی ہی سزا دو جس قدر تکلیف تمہیں دی گئی تھی، اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command for Equality in Punishment
Allah commands justice in punishment and equity in settling the cases of rights. `Abdur-Razzaq recorded that, concerning the Ayah,
فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ
(then punish them with the like of that with which you were afflicted.) Ibn Sirin said, "If a man among you takes something from you, then you should take something similar from him." This was also the opinion of Mujahid, Ibrahim, Al-Hasan Al-Basri, and others. Ibn Jarir also favored this opinion. Ibn Zayd said: "They had been commanded to forgive the idolators, then some men became Muslim who were strong and powerful. They said, `O Messenger of Allah, if only Allah would give us permission, we would sort out these dogs!' Then this Ayah was revealed, then it was latter abrogated by the command to engage in Jihad."
وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللَّهِ
(And be patient, and your patience will not be but by the help of Allah.) This emphasizes the command to be patient and tells us that patience cannot be acquired except by the will, help, decree and power of Allah. Then Allah says:
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ
(And do not grieve over them,) meaning, those who oppose you, for Allah has decreed that this should happen.
وَلاَ تَكُ فِى ضَيْقٍ
(and do not be distressed) means do not be worried or upset.
مِّمَّا يَمْكُرُونَ
(by their plots.) meaning; because of the efforts they are putting into opposing you and causing you harm, for Allah is protecting, helping, and supporting you, and He will cause you to prevail and defeat them.
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
(Truly, Allah is with those who have Taqwa, and the doers of good.) meaning; He is with them in the sense of supporting them, helping them and guiding them. This is a special kind of "being with", as Allah says elsewhere:
إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَـئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
((Remember) when your Lord revealed to the angels, "Verily, I am with you, so support those who believe.") 8:12 And Allah said to Musa and Harun:
لاَ تَخَافَآ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(Fear not, verily I am with you both, hearing and seeing.) 20:46 The Prophet said to (Abu Bakr) As-Siddiq when they were in the cave:
«لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا»
(Do not worry, Allah is with us.") The general kind of "being with" some one, or something is by means of seeing, hearing and knowing, as Allah says:
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And He is with you wherever you may be. And Allah sees whatever you do.) 57:4
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ
(Have you not seen that Allah knows whatever is in the heavens and whatever is on the earth There is no secret counsel of three but He is their fourth, - nor of five but He is their sixth, - nor of less than that or more, but He is with them wherever they may be.) 58:7
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا
(You will not be in any circumstance, nor recite any portion of the Qur'an, nor having done any deeds, but We are witnessing you.) 10:61
وَالَّذِينَ اتَّقَواْ
(those who have Taqwa) means, they keep away from that which is forbidden.
وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
(and the doers of good. ) meaning they do deeds of obedience to Allah. These are the ones whom Allah takes care of, He gives them support, and helps them to prevail over their enemies and opponents. This is end of the Tafsir of Surat An-Nahl. To Allah be praise and blessings, and peace and blessings be upon Muhammad and his family and Companions.
قصاص اور حصول قصاص قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین ؒ وغیرہ فرماتے ہیں اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔ ابن زید ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہوجائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہوگئی۔ حضرت عطا بن یسار ؒ فرماتے ہیں سورة نحل پوری مکہ شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں حضرت حمزہ ؓ شہید کر دئے گئے اور آپ کے اعضائے جسم بھی شہادت کے بعد کاٹ لئے گئے جس پر رسول اللہ ﷺ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ اب جب مجھے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں پر غلبہ دے تو میں ان میں سے تیس شخصوں کے ہاتھ پاؤں اسی طرح کاٹوں گا۔ مسلمانوں کے کان میں جب اپنے محترم نبی ﷺ کے یہ الفاظ پڑے تو ان کے جوش بہت بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ واللہ ہم ان پر غالب آ کر ان کی لاشوں کے وہ ٹکڑے ٹکڑے کریں گے کہ عربوں نے کبھی ایسا دیکھا ہی نہ ہوگا اس پر یہ آیتیں اتریں (سیرت ابن اسحاق) لیکن یہ روایت مرسل ہے اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے جن کا نام ہی نہیں لیا گیا، مبہم چھوڑا گیا۔ ہاں دوسری سند سے یہ متصل بھی مروی ہے۔ بزار میں ہے کہ جب حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؒ شہید کر دئے گئے۔ آپ پاس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے آہ ! اس سے زیادہ دل دکھانے والا منظر اور کیا ہوگا کہ محترم چچا کی لاش کے ٹکڑے آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ آپ کی زبان مبارک سے نکلا کہ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاں تک میرا علم ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ رشتے ناتے کے جوڑنے والے نیکیوں کو لپک کر کرنے والے تھے۔ واللہ دوسرے لوگوں کے درد و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں تو آپ کے اس جسم کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ آپ کو اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے نکالتا یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا جب ان مشرکوں نے یہ حرکت کی ہے تو واللہ میں بھی ان میں کے ستر شخصوں کی یہی بری حالت بناؤں گا۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آئے اور یہ آیتیں آتری تو آپ اپنی قسم کے پورا کرنے سے رک گئے اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔ لیکن سند اس کی بھی کمزور ہے۔ اس کے راوی صالح بشیر مری ہیں جو ائمہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہیں بلکہ امام بخاری ؒ تو انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ شعبی اور ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی زبان سے نکلا تھا کہ ان لوگوں نے جو ہمارے شہیدوں کی بےحرمتی کی ہے اور ان کے اعضاء بدن کاٹ دئیے ہیں واللہ ہم بھی ان سے اس کا بدلہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیتیں اتاریں۔ مسند احمد میں ہے کہ جنگ احد میں ساٹھ انصاری شہید ہوئے اور چھ مہاجر ؓ اجمعین تو اصحاب رسول ﷺ کی زبان سے نکل گیا کہ جب ہم ان مشرکوں پر غلبہ پائیں تو ہم بھی ان کے ٹکڑے کئے بغیر نہ رہیں گے۔ چناچہ فتح مکہ والے دن ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن کے بعد قریش پہچانے بھی نہ جائیں گے۔ اسی وقت ندا ہوئی اللہ کے رسول ﷺ تمام لوگوں کو پناہ دیتے ہیں سوائے فلاں فلاں کے (جن کے نام لئے گئے ہیں) اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نبی ﷺ نے اسی وقت فرمایا کہ ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے۔ اس آیت کریمہ کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس میں عدل کی مشروعیت بیان ہوئی ہے اور افضل طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے آیت (جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ 27) 10۔ یونس :27) میں کہ برائی کا بدلہ لینے کی رخصت عطا فرما کر پھر فرمایا ہے کہ جو درکزر کرلے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اسی طرح آیت (والجروح قصاص) میں بھی زخموں کا بدلہ لینے کی اجازت دے کر فرمایا ہے کہ جو بطور صدقہ معاف کر دے یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گی۔ اسی طرح اس آیت میں بھی برابر بدلہ لینے کے جواز کا ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوا ہے کہ اگر صبر کرلو تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔ پھر صبر کی مزید تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ ان ہی سے ہوسکتا ہے جن کی مدد پر اللہ ہو اور جنہیں اس کی جانب سے توفیق نصیب ہوئی ہو۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے مخالفین کا غم نہ کھا، ان کی قسمت میں ہی مخالفت لکھ دی گئی ہے نہ ان کے فن فریب سے آزردہ خاطر ہو۔ اللہ تجھے کافی ہے، وہی تیرا مددگار ہے، وہی تجھے ان سب پر غالب کرنے والا ہے اور ان کی مکاریوں اور چلاکیوں سے بچانے والا ہے۔ ان کی عداوت اور ان کے برے ارادے تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ملائیکہ اور مجاہدین اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی تائید ہدایات اور اس کی توفیق ان کے ساتھ ہے، جن کے دل اللہ کے ڈر سے اور جن کے اعمال احسان کے جوہر سے مال مال ہوں۔ چناچہ جہاد کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی اتاری تھے کہ آیت (اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭسَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ 12ۭ) 8۔ الانفال :12) میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو، اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے فرمایا تھا آیت (قَالَ لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى 46۔) 20۔ طه :46) تم خوف نہ کھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا سنتا ہوں۔ غار میں رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا تھا آیت (اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا 40) 9۔ التوبہ :40) غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پس یہ ساتھ تو خاص تھا۔ اور مراد اس سے تائید و نصرت الہٰی کا ساتھ ہونا ہے۔ اور عام ساتھ کا بیان آیت (وھو معکم اینما کنتم واللہ بما تعملون بصیر) اور آیت (يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا) 58۔ المجادلة :7) اور آیت (وما یکون فی شان) الخ میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور وہ تمہارے اعمال دیکھنے والا ہے اور جو تین شخص کوئی سرگوشی کرنے لگیں ان میں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ میں چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش میں بھی جہاں وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور تم کسی حال میں ہو یا تلاوت قرآن میں ہو یا تم اور کوئی کام میں لگے ہوئے ہو ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں پس ان آیتوں میں ساتھ سے مراد سننے دیکھنے کا ساتھ ہے تقویٰ کے معنی ہیں حرام کاموں اور گناہ کے کاموں کو اللہ کے فرمان پر ترک کردینے کے۔ اور احسان کے معنی ہیں پروردگار کی اطاعت و عبادت کو بجا لانا۔ جن لوگوں میں یہ دونوں صفتیں ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ وامان میں رہتے ہیں، جناب باری ان کی تائید اور مدد فرماتا رہتا ہے۔ ان کے مخالفین اور دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان سب پر کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت محمد بن حاطب ؒ سے مروی ہے حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے تھے جو باایمان پرہیزگار اور نیک کار ہیں۔
127
View Single
وَٱصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) patiently endure – and your patience is only due to the guidance of Allah – and do not grieve for them, and do not be disheartened by their deceits.
اور (اے حبیبِ مکرّم!) صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا اللہ ہی کے ساتھ ہے اور آپ ان (کی سرکشی) پر رنجیدہ خاطر نہ ہوا کریں اور آپ ان کی فریب کاریوں سے (اپنے کشادہ سینہ میں) تنگی (بھی) محسوس نہ کیا کریں
Tafsir Ibn Kathir
The Command for Equality in Punishment
Allah commands justice in punishment and equity in settling the cases of rights. `Abdur-Razzaq recorded that, concerning the Ayah,
فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ
(then punish them with the like of that with which you were afflicted.) Ibn Sirin said, "If a man among you takes something from you, then you should take something similar from him." This was also the opinion of Mujahid, Ibrahim, Al-Hasan Al-Basri, and others. Ibn Jarir also favored this opinion. Ibn Zayd said: "They had been commanded to forgive the idolators, then some men became Muslim who were strong and powerful. They said, `O Messenger of Allah, if only Allah would give us permission, we would sort out these dogs!' Then this Ayah was revealed, then it was latter abrogated by the command to engage in Jihad."
وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللَّهِ
(And be patient, and your patience will not be but by the help of Allah.) This emphasizes the command to be patient and tells us that patience cannot be acquired except by the will, help, decree and power of Allah. Then Allah says:
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ
(And do not grieve over them,) meaning, those who oppose you, for Allah has decreed that this should happen.
وَلاَ تَكُ فِى ضَيْقٍ
(and do not be distressed) means do not be worried or upset.
مِّمَّا يَمْكُرُونَ
(by their plots.) meaning; because of the efforts they are putting into opposing you and causing you harm, for Allah is protecting, helping, and supporting you, and He will cause you to prevail and defeat them.
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
(Truly, Allah is with those who have Taqwa, and the doers of good.) meaning; He is with them in the sense of supporting them, helping them and guiding them. This is a special kind of "being with", as Allah says elsewhere:
إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَـئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
((Remember) when your Lord revealed to the angels, "Verily, I am with you, so support those who believe.") 8:12 And Allah said to Musa and Harun:
لاَ تَخَافَآ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(Fear not, verily I am with you both, hearing and seeing.) 20:46 The Prophet said to (Abu Bakr) As-Siddiq when they were in the cave:
«لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا»
(Do not worry, Allah is with us.") The general kind of "being with" some one, or something is by means of seeing, hearing and knowing, as Allah says:
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And He is with you wherever you may be. And Allah sees whatever you do.) 57:4
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ
(Have you not seen that Allah knows whatever is in the heavens and whatever is on the earth There is no secret counsel of three but He is their fourth, - nor of five but He is their sixth, - nor of less than that or more, but He is with them wherever they may be.) 58:7
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا
(You will not be in any circumstance, nor recite any portion of the Qur'an, nor having done any deeds, but We are witnessing you.) 10:61
وَالَّذِينَ اتَّقَواْ
(those who have Taqwa) means, they keep away from that which is forbidden.
وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
(and the doers of good. ) meaning they do deeds of obedience to Allah. These are the ones whom Allah takes care of, He gives them support, and helps them to prevail over their enemies and opponents. This is end of the Tafsir of Surat An-Nahl. To Allah be praise and blessings, and peace and blessings be upon Muhammad and his family and Companions.
قصاص اور حصول قصاص قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین ؒ وغیرہ فرماتے ہیں اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔ ابن زید ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہوجائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہوگئی۔ حضرت عطا بن یسار ؒ فرماتے ہیں سورة نحل پوری مکہ شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں حضرت حمزہ ؓ شہید کر دئے گئے اور آپ کے اعضائے جسم بھی شہادت کے بعد کاٹ لئے گئے جس پر رسول اللہ ﷺ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ اب جب مجھے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں پر غلبہ دے تو میں ان میں سے تیس شخصوں کے ہاتھ پاؤں اسی طرح کاٹوں گا۔ مسلمانوں کے کان میں جب اپنے محترم نبی ﷺ کے یہ الفاظ پڑے تو ان کے جوش بہت بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ واللہ ہم ان پر غالب آ کر ان کی لاشوں کے وہ ٹکڑے ٹکڑے کریں گے کہ عربوں نے کبھی ایسا دیکھا ہی نہ ہوگا اس پر یہ آیتیں اتریں (سیرت ابن اسحاق) لیکن یہ روایت مرسل ہے اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے جن کا نام ہی نہیں لیا گیا، مبہم چھوڑا گیا۔ ہاں دوسری سند سے یہ متصل بھی مروی ہے۔ بزار میں ہے کہ جب حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؒ شہید کر دئے گئے۔ آپ پاس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے آہ ! اس سے زیادہ دل دکھانے والا منظر اور کیا ہوگا کہ محترم چچا کی لاش کے ٹکڑے آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ آپ کی زبان مبارک سے نکلا کہ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاں تک میرا علم ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ رشتے ناتے کے جوڑنے والے نیکیوں کو لپک کر کرنے والے تھے۔ واللہ دوسرے لوگوں کے درد و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں تو آپ کے اس جسم کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ آپ کو اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے نکالتا یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا جب ان مشرکوں نے یہ حرکت کی ہے تو واللہ میں بھی ان میں کے ستر شخصوں کی یہی بری حالت بناؤں گا۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آئے اور یہ آیتیں آتری تو آپ اپنی قسم کے پورا کرنے سے رک گئے اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔ لیکن سند اس کی بھی کمزور ہے۔ اس کے راوی صالح بشیر مری ہیں جو ائمہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہیں بلکہ امام بخاری ؒ تو انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ شعبی اور ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی زبان سے نکلا تھا کہ ان لوگوں نے جو ہمارے شہیدوں کی بےحرمتی کی ہے اور ان کے اعضاء بدن کاٹ دئیے ہیں واللہ ہم بھی ان سے اس کا بدلہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیتیں اتاریں۔ مسند احمد میں ہے کہ جنگ احد میں ساٹھ انصاری شہید ہوئے اور چھ مہاجر ؓ اجمعین تو اصحاب رسول ﷺ کی زبان سے نکل گیا کہ جب ہم ان مشرکوں پر غلبہ پائیں تو ہم بھی ان کے ٹکڑے کئے بغیر نہ رہیں گے۔ چناچہ فتح مکہ والے دن ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن کے بعد قریش پہچانے بھی نہ جائیں گے۔ اسی وقت ندا ہوئی اللہ کے رسول ﷺ تمام لوگوں کو پناہ دیتے ہیں سوائے فلاں فلاں کے (جن کے نام لئے گئے ہیں) اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نبی ﷺ نے اسی وقت فرمایا کہ ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے۔ اس آیت کریمہ کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس میں عدل کی مشروعیت بیان ہوئی ہے اور افضل طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے آیت (جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ 27) 10۔ یونس :27) میں کہ برائی کا بدلہ لینے کی رخصت عطا فرما کر پھر فرمایا ہے کہ جو درکزر کرلے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اسی طرح آیت (والجروح قصاص) میں بھی زخموں کا بدلہ لینے کی اجازت دے کر فرمایا ہے کہ جو بطور صدقہ معاف کر دے یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گی۔ اسی طرح اس آیت میں بھی برابر بدلہ لینے کے جواز کا ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوا ہے کہ اگر صبر کرلو تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔ پھر صبر کی مزید تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ ان ہی سے ہوسکتا ہے جن کی مدد پر اللہ ہو اور جنہیں اس کی جانب سے توفیق نصیب ہوئی ہو۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے مخالفین کا غم نہ کھا، ان کی قسمت میں ہی مخالفت لکھ دی گئی ہے نہ ان کے فن فریب سے آزردہ خاطر ہو۔ اللہ تجھے کافی ہے، وہی تیرا مددگار ہے، وہی تجھے ان سب پر غالب کرنے والا ہے اور ان کی مکاریوں اور چلاکیوں سے بچانے والا ہے۔ ان کی عداوت اور ان کے برے ارادے تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ملائیکہ اور مجاہدین اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی تائید ہدایات اور اس کی توفیق ان کے ساتھ ہے، جن کے دل اللہ کے ڈر سے اور جن کے اعمال احسان کے جوہر سے مال مال ہوں۔ چناچہ جہاد کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی اتاری تھے کہ آیت (اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭسَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ 12ۭ) 8۔ الانفال :12) میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو، اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے فرمایا تھا آیت (قَالَ لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى 46۔) 20۔ طه :46) تم خوف نہ کھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا سنتا ہوں۔ غار میں رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا تھا آیت (اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا 40) 9۔ التوبہ :40) غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پس یہ ساتھ تو خاص تھا۔ اور مراد اس سے تائید و نصرت الہٰی کا ساتھ ہونا ہے۔ اور عام ساتھ کا بیان آیت (وھو معکم اینما کنتم واللہ بما تعملون بصیر) اور آیت (يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا) 58۔ المجادلة :7) اور آیت (وما یکون فی شان) الخ میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور وہ تمہارے اعمال دیکھنے والا ہے اور جو تین شخص کوئی سرگوشی کرنے لگیں ان میں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ میں چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش میں بھی جہاں وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور تم کسی حال میں ہو یا تلاوت قرآن میں ہو یا تم اور کوئی کام میں لگے ہوئے ہو ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں پس ان آیتوں میں ساتھ سے مراد سننے دیکھنے کا ساتھ ہے تقویٰ کے معنی ہیں حرام کاموں اور گناہ کے کاموں کو اللہ کے فرمان پر ترک کردینے کے۔ اور احسان کے معنی ہیں پروردگار کی اطاعت و عبادت کو بجا لانا۔ جن لوگوں میں یہ دونوں صفتیں ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ وامان میں رہتے ہیں، جناب باری ان کی تائید اور مدد فرماتا رہتا ہے۔ ان کے مخالفین اور دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان سب پر کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت محمد بن حاطب ؒ سے مروی ہے حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے تھے جو باایمان پرہیزگار اور نیک کار ہیں۔
128
View Single
إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحۡسِنُونَ
Indeed Allah is with the pious and the virtuous.
بیشک اللہ اُن لوگوں کو اپنی معیتِ (خاص) سے نوازتا ہے جو صاحبانِ تقوٰی ہوں اور وہ لوگ جو صاحبانِ اِحسان (بھی) ہوں
Tafsir Ibn Kathir
The Command for Equality in Punishment
Allah commands justice in punishment and equity in settling the cases of rights. `Abdur-Razzaq recorded that, concerning the Ayah,
فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ
(then punish them with the like of that with which you were afflicted.) Ibn Sirin said, "If a man among you takes something from you, then you should take something similar from him." This was also the opinion of Mujahid, Ibrahim, Al-Hasan Al-Basri, and others. Ibn Jarir also favored this opinion. Ibn Zayd said: "They had been commanded to forgive the idolators, then some men became Muslim who were strong and powerful. They said, `O Messenger of Allah, if only Allah would give us permission, we would sort out these dogs!' Then this Ayah was revealed, then it was latter abrogated by the command to engage in Jihad."
وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللَّهِ
(And be patient, and your patience will not be but by the help of Allah.) This emphasizes the command to be patient and tells us that patience cannot be acquired except by the will, help, decree and power of Allah. Then Allah says:
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ
(And do not grieve over them,) meaning, those who oppose you, for Allah has decreed that this should happen.
وَلاَ تَكُ فِى ضَيْقٍ
(and do not be distressed) means do not be worried or upset.
مِّمَّا يَمْكُرُونَ
(by their plots.) meaning; because of the efforts they are putting into opposing you and causing you harm, for Allah is protecting, helping, and supporting you, and He will cause you to prevail and defeat them.
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
(Truly, Allah is with those who have Taqwa, and the doers of good.) meaning; He is with them in the sense of supporting them, helping them and guiding them. This is a special kind of "being with", as Allah says elsewhere:
إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَـئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
((Remember) when your Lord revealed to the angels, "Verily, I am with you, so support those who believe.") 8:12 And Allah said to Musa and Harun:
لاَ تَخَافَآ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى
(Fear not, verily I am with you both, hearing and seeing.) 20:46 The Prophet said to (Abu Bakr) As-Siddiq when they were in the cave:
«لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا»
(Do not worry, Allah is with us.") The general kind of "being with" some one, or something is by means of seeing, hearing and knowing, as Allah says:
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
(And He is with you wherever you may be. And Allah sees whatever you do.) 57:4
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ
(Have you not seen that Allah knows whatever is in the heavens and whatever is on the earth There is no secret counsel of three but He is their fourth, - nor of five but He is their sixth, - nor of less than that or more, but He is with them wherever they may be.) 58:7
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا
(You will not be in any circumstance, nor recite any portion of the Qur'an, nor having done any deeds, but We are witnessing you.) 10:61
وَالَّذِينَ اتَّقَواْ
(those who have Taqwa) means, they keep away from that which is forbidden.
وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
(and the doers of good. ) meaning they do deeds of obedience to Allah. These are the ones whom Allah takes care of, He gives them support, and helps them to prevail over their enemies and opponents. This is end of the Tafsir of Surat An-Nahl. To Allah be praise and blessings, and peace and blessings be upon Muhammad and his family and Companions.
قصاص اور حصول قصاص قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین ؒ وغیرہ فرماتے ہیں اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔ ابن زید ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہوجائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہوگئی۔ حضرت عطا بن یسار ؒ فرماتے ہیں سورة نحل پوری مکہ شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں حضرت حمزہ ؓ شہید کر دئے گئے اور آپ کے اعضائے جسم بھی شہادت کے بعد کاٹ لئے گئے جس پر رسول اللہ ﷺ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ اب جب مجھے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں پر غلبہ دے تو میں ان میں سے تیس شخصوں کے ہاتھ پاؤں اسی طرح کاٹوں گا۔ مسلمانوں کے کان میں جب اپنے محترم نبی ﷺ کے یہ الفاظ پڑے تو ان کے جوش بہت بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ واللہ ہم ان پر غالب آ کر ان کی لاشوں کے وہ ٹکڑے ٹکڑے کریں گے کہ عربوں نے کبھی ایسا دیکھا ہی نہ ہوگا اس پر یہ آیتیں اتریں (سیرت ابن اسحاق) لیکن یہ روایت مرسل ہے اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے جن کا نام ہی نہیں لیا گیا، مبہم چھوڑا گیا۔ ہاں دوسری سند سے یہ متصل بھی مروی ہے۔ بزار میں ہے کہ جب حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؒ شہید کر دئے گئے۔ آپ پاس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے آہ ! اس سے زیادہ دل دکھانے والا منظر اور کیا ہوگا کہ محترم چچا کی لاش کے ٹکڑے آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ آپ کی زبان مبارک سے نکلا کہ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاں تک میرا علم ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ رشتے ناتے کے جوڑنے والے نیکیوں کو لپک کر کرنے والے تھے۔ واللہ دوسرے لوگوں کے درد و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں تو آپ کے اس جسم کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ آپ کو اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے نکالتا یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا جب ان مشرکوں نے یہ حرکت کی ہے تو واللہ میں بھی ان میں کے ستر شخصوں کی یہی بری حالت بناؤں گا۔ اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ وحی لے کر آئے اور یہ آیتیں آتری تو آپ اپنی قسم کے پورا کرنے سے رک گئے اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔ لیکن سند اس کی بھی کمزور ہے۔ اس کے راوی صالح بشیر مری ہیں جو ائمہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہیں بلکہ امام بخاری ؒ تو انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ شعبی اور ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی زبان سے نکلا تھا کہ ان لوگوں نے جو ہمارے شہیدوں کی بےحرمتی کی ہے اور ان کے اعضاء بدن کاٹ دئیے ہیں واللہ ہم بھی ان سے اس کا بدلہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیتیں اتاریں۔ مسند احمد میں ہے کہ جنگ احد میں ساٹھ انصاری شہید ہوئے اور چھ مہاجر ؓ اجمعین تو اصحاب رسول ﷺ کی زبان سے نکل گیا کہ جب ہم ان مشرکوں پر غلبہ پائیں تو ہم بھی ان کے ٹکڑے کئے بغیر نہ رہیں گے۔ چناچہ فتح مکہ والے دن ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن کے بعد قریش پہچانے بھی نہ جائیں گے۔ اسی وقت ندا ہوئی اللہ کے رسول ﷺ تمام لوگوں کو پناہ دیتے ہیں سوائے فلاں فلاں کے (جن کے نام لئے گئے ہیں) اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نبی ﷺ نے اسی وقت فرمایا کہ ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے۔ اس آیت کریمہ کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس میں عدل کی مشروعیت بیان ہوئی ہے اور افضل طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے آیت (جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ ۭ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ 27) 10۔ یونس :27) میں کہ برائی کا بدلہ لینے کی رخصت عطا فرما کر پھر فرمایا ہے کہ جو درکزر کرلے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اسی طرح آیت (والجروح قصاص) میں بھی زخموں کا بدلہ لینے کی اجازت دے کر فرمایا ہے کہ جو بطور صدقہ معاف کر دے یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گی۔ اسی طرح اس آیت میں بھی برابر بدلہ لینے کے جواز کا ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوا ہے کہ اگر صبر کرلو تو یہ بہت ہی بہتر ہے۔ پھر صبر کی مزید تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ ان ہی سے ہوسکتا ہے جن کی مدد پر اللہ ہو اور جنہیں اس کی جانب سے توفیق نصیب ہوئی ہو۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے مخالفین کا غم نہ کھا، ان کی قسمت میں ہی مخالفت لکھ دی گئی ہے نہ ان کے فن فریب سے آزردہ خاطر ہو۔ اللہ تجھے کافی ہے، وہی تیرا مددگار ہے، وہی تجھے ان سب پر غالب کرنے والا ہے اور ان کی مکاریوں اور چلاکیوں سے بچانے والا ہے۔ ان کی عداوت اور ان کے برے ارادے تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ملائیکہ اور مجاہدین اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی تائید ہدایات اور اس کی توفیق ان کے ساتھ ہے، جن کے دل اللہ کے ڈر سے اور جن کے اعمال احسان کے جوہر سے مال مال ہوں۔ چناچہ جہاد کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی اتاری تھے کہ آیت (اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭسَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ 12ۭ) 8۔ الانفال :12) میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو، اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے فرمایا تھا آیت (قَالَ لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى 46۔) 20۔ طه :46) تم خوف نہ کھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا سنتا ہوں۔ غار میں رسول کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمایا تھا آیت (اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا 40) 9۔ التوبہ :40) غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ پس یہ ساتھ تو خاص تھا۔ اور مراد اس سے تائید و نصرت الہٰی کا ساتھ ہونا ہے۔ اور عام ساتھ کا بیان آیت (وھو معکم اینما کنتم واللہ بما تعملون بصیر) اور آیت (يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا) 58۔ المجادلة :7) اور آیت (وما یکون فی شان) الخ میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور وہ تمہارے اعمال دیکھنے والا ہے اور جو تین شخص کوئی سرگوشی کرنے لگیں ان میں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ میں چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش میں بھی جہاں وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور تم کسی حال میں ہو یا تلاوت قرآن میں ہو یا تم اور کوئی کام میں لگے ہوئے ہو ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں پس ان آیتوں میں ساتھ سے مراد سننے دیکھنے کا ساتھ ہے تقویٰ کے معنی ہیں حرام کاموں اور گناہ کے کاموں کو اللہ کے فرمان پر ترک کردینے کے۔ اور احسان کے معنی ہیں پروردگار کی اطاعت و عبادت کو بجا لانا۔ جن لوگوں میں یہ دونوں صفتیں ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ وامان میں رہتے ہیں، جناب باری ان کی تائید اور مدد فرماتا رہتا ہے۔ ان کے مخالفین اور دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان سب پر کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت محمد بن حاطب ؒ سے مروی ہے حضرت عثمان ؓ ان لوگوں میں سے تھے جو باایمان پرہیزگار اور نیک کار ہیں۔
Jump to Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128