القمر — Al qamar
Ayah 10 / 55 • Meccan
2,982
10
Al qamar
القمر • Meccan
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَغۡلُوبٞ فَٱنتَصِرۡ
He therefore prayed to his Lord, “I am overpowered, therefore avenge me.”
سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ
The Last Day came near, and the moon split apart.
قیامت قریب آپہنچی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Hadith of Abu Waqid preceded, in which it is mentioned that the Messenger of Allah ﷺ would recite Surah Qaf (chapter 53) and Iqtarabat As-Sa`ah (Al-Qamar, chapter 54), during (the `Id Prayers of) Al-Adha and Al-Fitr. The Prophet used to recite these two Surahs during major gatherings and occasions because they contain Allah's promises and warnings, and information about the origin of creation, Resurrection, Tawhid, the affirmation of prophethood, and so forth among the great objectives.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Hour draws near; the cleaving of the Moon
Allah informs about the approach of the Last Hour and the imminent end and demise of the world,
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it.)(16:1),
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(21:1)
Hadiths about the Last Hour
There are several Hadiths with this meaning. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Anas said that one day, when the sun was about to set, the Messenger of Allah ﷺ gave a speech to his Companions, saying,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هذَا فِيمَا مَضَى مِنْه»
(By He in Whose Hand is my soul! Not much of this world is left compared to what has already passed of it, except as much as what is left in this day of yours compared to what has already passed of it.) Anas said, "We could only see a small part of the setting sun at the time." Another Hadith that supports and explains the above Hadith is recorded by Imam Ahmad that `Abdullah bin `Umar said, "We were sitting with the Prophet while the sun was rising above Qu`ayqa`an, after `Asr. He said,
«مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى»
(What remains of your time, compared to what has passed, is as long as what remains of this day compared to what has passed of it.)" Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هكَذَا»
(I was sent like this with the Last Hour.) and he pointed with his middle and index finger. The Two Sahihs also recorded this Hadith. Imam Ahmad recorded that Wahb As-Suwa'i said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهذِهِ مِنْ هذِهِ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي»
(I was sent just before the Last Hour, like the distance between this and this; the latter almost overtook the former.) Al-A`mash joined between his index and middle fingers while narrating this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Awza`i said that Isma`il bin `Ubaydullah said, "Anas bin Malik went to Al-Walid bin `Abdul-Malik who asked him about what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about the Last Hour. Anas said, `I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْن»
(You and the Last Hour are as close as these two (fingers).)"' Only Imam Ahmad collected this Hadith. There is proof to support these Hadiths in the Sahih listing, Al-Hashir (literally the Gatherer), among the names of the Messenger of Allah ﷺ ; he is the first to be gathered, and all people will be gathered thereafter (for the Day of Judgement). Allah's statement,
وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(and the moon has been cleft asunder.) It occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ, according to the authentic Mutawatir Hadiths the scholars agree that the moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet, and it was among the clear miracles that Allah gave him. Hadiths mentioning that the Moon was split
The Narration of Anas bin Malik
Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Prophet for a miracle and the moon was split into two parts in Makkah. Allah said,
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.)" Muslim also collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Messenger of Allah ﷺ to produce a miracle, and he showed them the splitting of the moon into two parts, until they saw (the mount of) Hira' between them." This Hadith is recorded in the Two Sahihs with various chains of narration.
The Narration of Jubayr bin Mut`im
Imam Ahmad recorded that Jubayr bin Mut`im said, "The moon was split into two pieces during the time of Allah's Prophet ; a part of the moon was over one mountain and another part over another mountain. So they said, `Muhammad has taken us by his magic.' They then said, `If he was able to take us by magic, he will not be able to do so with all people."' Only Imam Ahmad recorded this Hadith with this chain of narration. Al-Bayhaqi used another chain of narration in a similar Hadith he collected in Ad-Dala'il.
The Narration of `Abdullah bin `Abbas
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The moon was split during the time of the Prophet ." Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas commented on Allah's saying:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً يُعْرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away and say: "This is magic, Mustamir.") "This occurred before the Hijrah; the moon was split and they saw it in two parts."
The Narration of `Abdullah bin `Umar Al-Hafiz Abu Bakr
Al-Bayhaqi recorded that `Abdullah bin `Umar commented on Allah's statement:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.) "This occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ; the moon was split in two parts. A part of it was before the mount and a part on the other side. The Prophet said,
«اللْهُمَّ اشْهَد»
(O Allah! Be witness.)" This is the narration that Muslim and At-Tirmidhi collected. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
The Narration of `Abdullah bin Mas`ud
Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said, "The moon was split in two parts during the time of Allah's Messenger ﷺ, and they saw its two parts. Allah's Messenger ﷺ said,
«اشْهَدُوا»
(Be witnesses.)" Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that `Abdullah (Ibn Mas`ud) said, "I saw the mountain between the two parts of the moon when it was split." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "The moon was split during the time of Allah's Messenger ﷺ and I saw the mount between its two parts.
The Stubbornness of the idolators
Allah said,
وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً
(And if they see an Ayah), if they see proof, evidence and a sign,
يُعْرِضُواْ
(they turn away), they do not believe in it. Rather, they turn away from it, abandoning it behind their backs,
وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(and say: "This is magic, Mustamir.") They say, `the sign that we saw was magic, which was cast on us.' Mustamir, means, `will soon go away', according to Mujahid, Qatadah and several others. The Quraysh said that the cleaving of the moon was false and will soon diminish and fade away,
وَكَذَّبُواْ وَاتَّبَعُواْ أَهْوَآءَهُمْ
(They denied and followed their own lusts.), they rejected the truth when it came to them, following the ignorance and foolishness that their lusts and desires called them to. Allah's statement,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) means, the good deeds will take their doers to all that is good and righteous, and similarly evil deeds will take their doers to all that is evil, according to Qatadah, while Ibn Jurayj said, "will settle according to its people." Mujahid commented on the meaning of,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) by saying, "On the Day of Resurrection." Allah's statement,
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ
(And indeed there has come to them news); in this Qur'an, there has come to them the news of the earlier nations that disbelieved in their Messengers and the torment, punishment and affliction that befell them,
مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
(wherein there is Muzdajar), wherein there are warnings and lessons to stop them from idolatry and persisting in denial,
حِكْمَةٌ بَـلِغَةٌ
(Perfect wisdom,) in that Allah guides whomever He wills and misguides whomever He wills,
فَمَا تُغْنِـى النُّذُرُ
(but warners benefit them not.) but the preaching of warnings does not benefit those upon whom Allah has written misery and sealed their hearts. Who can guide such people after Allah This Ayah is similar to Allah's statements,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.")(6:149) and,
وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ
(But neither Ayat nor warners benefit those who believe not.)(10:101)
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گذرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے، دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہوچکا تھا رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گذرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ولید بن عبدالملک کے پاس جب حضرت ابوہریرہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ تم اور قیامت قربت میں ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو۔ اس کی شہادت اس حدیث سے ہوسکتی ہے جس میں آپ ﷺ کے مبارک ناموں میں سے ایک نام (حاشر) آیا ہے اور (حاشر) وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو حضرت بہز کی روایت سے مروی ہے کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہوچکا یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھالیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ سنو ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہوگی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی (مسلم) ابو عبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لئے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا حضرت حذیفہ خطیب تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگوں سنو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکرے ہوگیا۔ بیشک قیامت قریب آچکی ہے بیشک چاند پھٹ گیا ہے بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہوگا میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہوگی ؟ جس میں آگے نکلنا ہوگا ؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا تم نادان ہو یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی حضرت حذیفہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ غایت آگ ہے اور سابق وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا یہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں ردم، دھواں، لزام، بطشہ اور چاند کا پھٹنا یہ سب گذر چکا ہے اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہوگیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے۔ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے ایک حراء کے اس طرف ایک اس طرف مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد ﷺ نے ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کردیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں، ابن عمر فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے ابن مسعود فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اس وقت حضور ﷺ اور ہم سب منیٰ میں تھے اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کرسکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چناچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آکر یہی کہیں تو حضور ﷺ کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا جب کبھی آیا جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے خصوصاً حضرت صدیق سے فرمایا کہ اے ابوبکر تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آچکے ہیں ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا جیسے فرمایا آیت (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ01409) 6۔ الانعام :149) ، اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا اور جگہ ہے آیت (وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ01001) 10۔ یونس :101) بےایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا۔
وَإِن يَرَوۡاْ ءَايَةٗ يُعۡرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحۡرٞ مُّسۡتَمِرّٞ
And when they see a sign, they turn away and say, “Just a customary magic!”
اور اگر وہ (کفّار) کوئی نشانی (یعنی معجزہ) دیکھتے ہیں تو مُنہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ تو) ہمیشہ سے چلا آنے والا طاقتور جادو ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Hadith of Abu Waqid preceded, in which it is mentioned that the Messenger of Allah ﷺ would recite Surah Qaf (chapter 53) and Iqtarabat As-Sa`ah (Al-Qamar, chapter 54), during (the `Id Prayers of) Al-Adha and Al-Fitr. The Prophet used to recite these two Surahs during major gatherings and occasions because they contain Allah's promises and warnings, and information about the origin of creation, Resurrection, Tawhid, the affirmation of prophethood, and so forth among the great objectives.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Hour draws near; the cleaving of the Moon
Allah informs about the approach of the Last Hour and the imminent end and demise of the world,
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it.)(16:1),
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(21:1)
Hadiths about the Last Hour
There are several Hadiths with this meaning. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Anas said that one day, when the sun was about to set, the Messenger of Allah ﷺ gave a speech to his Companions, saying,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هذَا فِيمَا مَضَى مِنْه»
(By He in Whose Hand is my soul! Not much of this world is left compared to what has already passed of it, except as much as what is left in this day of yours compared to what has already passed of it.) Anas said, "We could only see a small part of the setting sun at the time." Another Hadith that supports and explains the above Hadith is recorded by Imam Ahmad that `Abdullah bin `Umar said, "We were sitting with the Prophet while the sun was rising above Qu`ayqa`an, after `Asr. He said,
«مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى»
(What remains of your time, compared to what has passed, is as long as what remains of this day compared to what has passed of it.)" Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هكَذَا»
(I was sent like this with the Last Hour.) and he pointed with his middle and index finger. The Two Sahihs also recorded this Hadith. Imam Ahmad recorded that Wahb As-Suwa'i said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهذِهِ مِنْ هذِهِ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي»
(I was sent just before the Last Hour, like the distance between this and this; the latter almost overtook the former.) Al-A`mash joined between his index and middle fingers while narrating this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Awza`i said that Isma`il bin `Ubaydullah said, "Anas bin Malik went to Al-Walid bin `Abdul-Malik who asked him about what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about the Last Hour. Anas said, `I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْن»
(You and the Last Hour are as close as these two (fingers).)"' Only Imam Ahmad collected this Hadith. There is proof to support these Hadiths in the Sahih listing, Al-Hashir (literally the Gatherer), among the names of the Messenger of Allah ﷺ ; he is the first to be gathered, and all people will be gathered thereafter (for the Day of Judgement). Allah's statement,
وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(and the moon has been cleft asunder.) It occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ, according to the authentic Mutawatir Hadiths the scholars agree that the moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet, and it was among the clear miracles that Allah gave him. Hadiths mentioning that the Moon was split
The Narration of Anas bin Malik
Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Prophet for a miracle and the moon was split into two parts in Makkah. Allah said,
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.)" Muslim also collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Messenger of Allah ﷺ to produce a miracle, and he showed them the splitting of the moon into two parts, until they saw (the mount of) Hira' between them." This Hadith is recorded in the Two Sahihs with various chains of narration.
The Narration of Jubayr bin Mut`im
Imam Ahmad recorded that Jubayr bin Mut`im said, "The moon was split into two pieces during the time of Allah's Prophet ; a part of the moon was over one mountain and another part over another mountain. So they said, `Muhammad has taken us by his magic.' They then said, `If he was able to take us by magic, he will not be able to do so with all people."' Only Imam Ahmad recorded this Hadith with this chain of narration. Al-Bayhaqi used another chain of narration in a similar Hadith he collected in Ad-Dala'il.
The Narration of `Abdullah bin `Abbas
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The moon was split during the time of the Prophet ." Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas commented on Allah's saying:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً يُعْرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away and say: "This is magic, Mustamir.") "This occurred before the Hijrah; the moon was split and they saw it in two parts."
The Narration of `Abdullah bin `Umar Al-Hafiz Abu Bakr
Al-Bayhaqi recorded that `Abdullah bin `Umar commented on Allah's statement:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.) "This occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ; the moon was split in two parts. A part of it was before the mount and a part on the other side. The Prophet said,
«اللْهُمَّ اشْهَد»
(O Allah! Be witness.)" This is the narration that Muslim and At-Tirmidhi collected. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
The Narration of `Abdullah bin Mas`ud
Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said, "The moon was split in two parts during the time of Allah's Messenger ﷺ, and they saw its two parts. Allah's Messenger ﷺ said,
«اشْهَدُوا»
(Be witnesses.)" Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that `Abdullah (Ibn Mas`ud) said, "I saw the mountain between the two parts of the moon when it was split." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "The moon was split during the time of Allah's Messenger ﷺ and I saw the mount between its two parts.
The Stubbornness of the idolators
Allah said,
وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً
(And if they see an Ayah), if they see proof, evidence and a sign,
يُعْرِضُواْ
(they turn away), they do not believe in it. Rather, they turn away from it, abandoning it behind their backs,
وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(and say: "This is magic, Mustamir.") They say, `the sign that we saw was magic, which was cast on us.' Mustamir, means, `will soon go away', according to Mujahid, Qatadah and several others. The Quraysh said that the cleaving of the moon was false and will soon diminish and fade away,
وَكَذَّبُواْ وَاتَّبَعُواْ أَهْوَآءَهُمْ
(They denied and followed their own lusts.), they rejected the truth when it came to them, following the ignorance and foolishness that their lusts and desires called them to. Allah's statement,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) means, the good deeds will take their doers to all that is good and righteous, and similarly evil deeds will take their doers to all that is evil, according to Qatadah, while Ibn Jurayj said, "will settle according to its people." Mujahid commented on the meaning of,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) by saying, "On the Day of Resurrection." Allah's statement,
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ
(And indeed there has come to them news); in this Qur'an, there has come to them the news of the earlier nations that disbelieved in their Messengers and the torment, punishment and affliction that befell them,
مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
(wherein there is Muzdajar), wherein there are warnings and lessons to stop them from idolatry and persisting in denial,
حِكْمَةٌ بَـلِغَةٌ
(Perfect wisdom,) in that Allah guides whomever He wills and misguides whomever He wills,
فَمَا تُغْنِـى النُّذُرُ
(but warners benefit them not.) but the preaching of warnings does not benefit those upon whom Allah has written misery and sealed their hearts. Who can guide such people after Allah This Ayah is similar to Allah's statements,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.")(6:149) and,
وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ
(But neither Ayat nor warners benefit those who believe not.)(10:101)
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گذرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے، دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہوچکا تھا رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گذرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ولید بن عبدالملک کے پاس جب حضرت ابوہریرہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ تم اور قیامت قربت میں ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو۔ اس کی شہادت اس حدیث سے ہوسکتی ہے جس میں آپ ﷺ کے مبارک ناموں میں سے ایک نام (حاشر) آیا ہے اور (حاشر) وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو حضرت بہز کی روایت سے مروی ہے کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہوچکا یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھالیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ سنو ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہوگی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی (مسلم) ابو عبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لئے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا حضرت حذیفہ خطیب تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگوں سنو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکرے ہوگیا۔ بیشک قیامت قریب آچکی ہے بیشک چاند پھٹ گیا ہے بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہوگا میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہوگی ؟ جس میں آگے نکلنا ہوگا ؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا تم نادان ہو یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی حضرت حذیفہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ غایت آگ ہے اور سابق وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا یہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں ردم، دھواں، لزام، بطشہ اور چاند کا پھٹنا یہ سب گذر چکا ہے اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہوگیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے۔ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے ایک حراء کے اس طرف ایک اس طرف مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد ﷺ نے ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کردیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں، ابن عمر فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے ابن مسعود فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اس وقت حضور ﷺ اور ہم سب منیٰ میں تھے اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کرسکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چناچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آکر یہی کہیں تو حضور ﷺ کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا جب کبھی آیا جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے خصوصاً حضرت صدیق سے فرمایا کہ اے ابوبکر تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آچکے ہیں ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا جیسے فرمایا آیت (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ01409) 6۔ الانعام :149) ، اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا اور جگہ ہے آیت (وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ01001) 10۔ یونس :101) بےایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا۔
وَكَذَّبُواْ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَكُلُّ أَمۡرٖ مُّسۡتَقِرّٞ
And they denied and followed their own desires, whereas each matter has been decided!
اور انہوں نے (اب بھی) جھٹلایا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلے اور ہر کام (جس کا وعدہ کیا گیا ہے) مقررّہ وقت پر ہونے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Hadith of Abu Waqid preceded, in which it is mentioned that the Messenger of Allah ﷺ would recite Surah Qaf (chapter 53) and Iqtarabat As-Sa`ah (Al-Qamar, chapter 54), during (the `Id Prayers of) Al-Adha and Al-Fitr. The Prophet used to recite these two Surahs during major gatherings and occasions because they contain Allah's promises and warnings, and information about the origin of creation, Resurrection, Tawhid, the affirmation of prophethood, and so forth among the great objectives.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Hour draws near; the cleaving of the Moon
Allah informs about the approach of the Last Hour and the imminent end and demise of the world,
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it.)(16:1),
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(21:1)
Hadiths about the Last Hour
There are several Hadiths with this meaning. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Anas said that one day, when the sun was about to set, the Messenger of Allah ﷺ gave a speech to his Companions, saying,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هذَا فِيمَا مَضَى مِنْه»
(By He in Whose Hand is my soul! Not much of this world is left compared to what has already passed of it, except as much as what is left in this day of yours compared to what has already passed of it.) Anas said, "We could only see a small part of the setting sun at the time." Another Hadith that supports and explains the above Hadith is recorded by Imam Ahmad that `Abdullah bin `Umar said, "We were sitting with the Prophet while the sun was rising above Qu`ayqa`an, after `Asr. He said,
«مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى»
(What remains of your time, compared to what has passed, is as long as what remains of this day compared to what has passed of it.)" Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هكَذَا»
(I was sent like this with the Last Hour.) and he pointed with his middle and index finger. The Two Sahihs also recorded this Hadith. Imam Ahmad recorded that Wahb As-Suwa'i said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهذِهِ مِنْ هذِهِ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي»
(I was sent just before the Last Hour, like the distance between this and this; the latter almost overtook the former.) Al-A`mash joined between his index and middle fingers while narrating this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Awza`i said that Isma`il bin `Ubaydullah said, "Anas bin Malik went to Al-Walid bin `Abdul-Malik who asked him about what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about the Last Hour. Anas said, `I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْن»
(You and the Last Hour are as close as these two (fingers).)"' Only Imam Ahmad collected this Hadith. There is proof to support these Hadiths in the Sahih listing, Al-Hashir (literally the Gatherer), among the names of the Messenger of Allah ﷺ ; he is the first to be gathered, and all people will be gathered thereafter (for the Day of Judgement). Allah's statement,
وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(and the moon has been cleft asunder.) It occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ, according to the authentic Mutawatir Hadiths the scholars agree that the moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet, and it was among the clear miracles that Allah gave him. Hadiths mentioning that the Moon was split
The Narration of Anas bin Malik
Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Prophet for a miracle and the moon was split into two parts in Makkah. Allah said,
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.)" Muslim also collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Messenger of Allah ﷺ to produce a miracle, and he showed them the splitting of the moon into two parts, until they saw (the mount of) Hira' between them." This Hadith is recorded in the Two Sahihs with various chains of narration.
The Narration of Jubayr bin Mut`im
Imam Ahmad recorded that Jubayr bin Mut`im said, "The moon was split into two pieces during the time of Allah's Prophet ; a part of the moon was over one mountain and another part over another mountain. So they said, `Muhammad has taken us by his magic.' They then said, `If he was able to take us by magic, he will not be able to do so with all people."' Only Imam Ahmad recorded this Hadith with this chain of narration. Al-Bayhaqi used another chain of narration in a similar Hadith he collected in Ad-Dala'il.
The Narration of `Abdullah bin `Abbas
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The moon was split during the time of the Prophet ." Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas commented on Allah's saying:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً يُعْرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away and say: "This is magic, Mustamir.") "This occurred before the Hijrah; the moon was split and they saw it in two parts."
The Narration of `Abdullah bin `Umar Al-Hafiz Abu Bakr
Al-Bayhaqi recorded that `Abdullah bin `Umar commented on Allah's statement:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.) "This occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ; the moon was split in two parts. A part of it was before the mount and a part on the other side. The Prophet said,
«اللْهُمَّ اشْهَد»
(O Allah! Be witness.)" This is the narration that Muslim and At-Tirmidhi collected. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
The Narration of `Abdullah bin Mas`ud
Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said, "The moon was split in two parts during the time of Allah's Messenger ﷺ, and they saw its two parts. Allah's Messenger ﷺ said,
«اشْهَدُوا»
(Be witnesses.)" Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that `Abdullah (Ibn Mas`ud) said, "I saw the mountain between the two parts of the moon when it was split." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "The moon was split during the time of Allah's Messenger ﷺ and I saw the mount between its two parts.
The Stubbornness of the idolators
Allah said,
وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً
(And if they see an Ayah), if they see proof, evidence and a sign,
يُعْرِضُواْ
(they turn away), they do not believe in it. Rather, they turn away from it, abandoning it behind their backs,
وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(and say: "This is magic, Mustamir.") They say, `the sign that we saw was magic, which was cast on us.' Mustamir, means, `will soon go away', according to Mujahid, Qatadah and several others. The Quraysh said that the cleaving of the moon was false and will soon diminish and fade away,
وَكَذَّبُواْ وَاتَّبَعُواْ أَهْوَآءَهُمْ
(They denied and followed their own lusts.), they rejected the truth when it came to them, following the ignorance and foolishness that their lusts and desires called them to. Allah's statement,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) means, the good deeds will take their doers to all that is good and righteous, and similarly evil deeds will take their doers to all that is evil, according to Qatadah, while Ibn Jurayj said, "will settle according to its people." Mujahid commented on the meaning of,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) by saying, "On the Day of Resurrection." Allah's statement,
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ
(And indeed there has come to them news); in this Qur'an, there has come to them the news of the earlier nations that disbelieved in their Messengers and the torment, punishment and affliction that befell them,
مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
(wherein there is Muzdajar), wherein there are warnings and lessons to stop them from idolatry and persisting in denial,
حِكْمَةٌ بَـلِغَةٌ
(Perfect wisdom,) in that Allah guides whomever He wills and misguides whomever He wills,
فَمَا تُغْنِـى النُّذُرُ
(but warners benefit them not.) but the preaching of warnings does not benefit those upon whom Allah has written misery and sealed their hearts. Who can guide such people after Allah This Ayah is similar to Allah's statements,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.")(6:149) and,
وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ
(But neither Ayat nor warners benefit those who believe not.)(10:101)
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گذرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے، دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہوچکا تھا رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گذرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ولید بن عبدالملک کے پاس جب حضرت ابوہریرہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ تم اور قیامت قربت میں ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو۔ اس کی شہادت اس حدیث سے ہوسکتی ہے جس میں آپ ﷺ کے مبارک ناموں میں سے ایک نام (حاشر) آیا ہے اور (حاشر) وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو حضرت بہز کی روایت سے مروی ہے کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہوچکا یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھالیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ سنو ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہوگی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی (مسلم) ابو عبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لئے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا حضرت حذیفہ خطیب تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگوں سنو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکرے ہوگیا۔ بیشک قیامت قریب آچکی ہے بیشک چاند پھٹ گیا ہے بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہوگا میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہوگی ؟ جس میں آگے نکلنا ہوگا ؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا تم نادان ہو یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی حضرت حذیفہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ غایت آگ ہے اور سابق وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا یہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں ردم، دھواں، لزام، بطشہ اور چاند کا پھٹنا یہ سب گذر چکا ہے اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہوگیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے۔ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے ایک حراء کے اس طرف ایک اس طرف مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد ﷺ نے ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کردیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں، ابن عمر فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے ابن مسعود فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اس وقت حضور ﷺ اور ہم سب منیٰ میں تھے اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کرسکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چناچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آکر یہی کہیں تو حضور ﷺ کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا جب کبھی آیا جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے خصوصاً حضرت صدیق سے فرمایا کہ اے ابوبکر تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آچکے ہیں ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا جیسے فرمایا آیت (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ01409) 6۔ الانعام :149) ، اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا اور جگہ ہے آیت (وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ01001) 10۔ یونس :101) بےایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا۔
وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّنَ ٱلۡأَنۢبَآءِ مَا فِيهِ مُزۡدَجَرٌ
And indeed the news which had a lot of deterrence, came to them.
اور بیشک اُن کے پاس (پہلی قوموں کی) ایسی خبریں آچکی ہیں جن میں (کفر و نافرمانی پر بڑی) عبرت و سرزنش ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Hadith of Abu Waqid preceded, in which it is mentioned that the Messenger of Allah ﷺ would recite Surah Qaf (chapter 53) and Iqtarabat As-Sa`ah (Al-Qamar, chapter 54), during (the `Id Prayers of) Al-Adha and Al-Fitr. The Prophet used to recite these two Surahs during major gatherings and occasions because they contain Allah's promises and warnings, and information about the origin of creation, Resurrection, Tawhid, the affirmation of prophethood, and so forth among the great objectives.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Hour draws near; the cleaving of the Moon
Allah informs about the approach of the Last Hour and the imminent end and demise of the world,
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it.)(16:1),
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(21:1)
Hadiths about the Last Hour
There are several Hadiths with this meaning. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Anas said that one day, when the sun was about to set, the Messenger of Allah ﷺ gave a speech to his Companions, saying,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هذَا فِيمَا مَضَى مِنْه»
(By He in Whose Hand is my soul! Not much of this world is left compared to what has already passed of it, except as much as what is left in this day of yours compared to what has already passed of it.) Anas said, "We could only see a small part of the setting sun at the time." Another Hadith that supports and explains the above Hadith is recorded by Imam Ahmad that `Abdullah bin `Umar said, "We were sitting with the Prophet while the sun was rising above Qu`ayqa`an, after `Asr. He said,
«مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى»
(What remains of your time, compared to what has passed, is as long as what remains of this day compared to what has passed of it.)" Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هكَذَا»
(I was sent like this with the Last Hour.) and he pointed with his middle and index finger. The Two Sahihs also recorded this Hadith. Imam Ahmad recorded that Wahb As-Suwa'i said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهذِهِ مِنْ هذِهِ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي»
(I was sent just before the Last Hour, like the distance between this and this; the latter almost overtook the former.) Al-A`mash joined between his index and middle fingers while narrating this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Awza`i said that Isma`il bin `Ubaydullah said, "Anas bin Malik went to Al-Walid bin `Abdul-Malik who asked him about what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about the Last Hour. Anas said, `I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْن»
(You and the Last Hour are as close as these two (fingers).)"' Only Imam Ahmad collected this Hadith. There is proof to support these Hadiths in the Sahih listing, Al-Hashir (literally the Gatherer), among the names of the Messenger of Allah ﷺ ; he is the first to be gathered, and all people will be gathered thereafter (for the Day of Judgement). Allah's statement,
وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(and the moon has been cleft asunder.) It occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ, according to the authentic Mutawatir Hadiths the scholars agree that the moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet, and it was among the clear miracles that Allah gave him. Hadiths mentioning that the Moon was split
The Narration of Anas bin Malik
Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Prophet for a miracle and the moon was split into two parts in Makkah. Allah said,
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.)" Muslim also collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Messenger of Allah ﷺ to produce a miracle, and he showed them the splitting of the moon into two parts, until they saw (the mount of) Hira' between them." This Hadith is recorded in the Two Sahihs with various chains of narration.
The Narration of Jubayr bin Mut`im
Imam Ahmad recorded that Jubayr bin Mut`im said, "The moon was split into two pieces during the time of Allah's Prophet ; a part of the moon was over one mountain and another part over another mountain. So they said, `Muhammad has taken us by his magic.' They then said, `If he was able to take us by magic, he will not be able to do so with all people."' Only Imam Ahmad recorded this Hadith with this chain of narration. Al-Bayhaqi used another chain of narration in a similar Hadith he collected in Ad-Dala'il.
The Narration of `Abdullah bin `Abbas
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The moon was split during the time of the Prophet ." Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas commented on Allah's saying:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً يُعْرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away and say: "This is magic, Mustamir.") "This occurred before the Hijrah; the moon was split and they saw it in two parts."
The Narration of `Abdullah bin `Umar Al-Hafiz Abu Bakr
Al-Bayhaqi recorded that `Abdullah bin `Umar commented on Allah's statement:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.) "This occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ; the moon was split in two parts. A part of it was before the mount and a part on the other side. The Prophet said,
«اللْهُمَّ اشْهَد»
(O Allah! Be witness.)" This is the narration that Muslim and At-Tirmidhi collected. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
The Narration of `Abdullah bin Mas`ud
Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said, "The moon was split in two parts during the time of Allah's Messenger ﷺ, and they saw its two parts. Allah's Messenger ﷺ said,
«اشْهَدُوا»
(Be witnesses.)" Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that `Abdullah (Ibn Mas`ud) said, "I saw the mountain between the two parts of the moon when it was split." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "The moon was split during the time of Allah's Messenger ﷺ and I saw the mount between its two parts.
The Stubbornness of the idolators
Allah said,
وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً
(And if they see an Ayah), if they see proof, evidence and a sign,
يُعْرِضُواْ
(they turn away), they do not believe in it. Rather, they turn away from it, abandoning it behind their backs,
وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(and say: "This is magic, Mustamir.") They say, `the sign that we saw was magic, which was cast on us.' Mustamir, means, `will soon go away', according to Mujahid, Qatadah and several others. The Quraysh said that the cleaving of the moon was false and will soon diminish and fade away,
وَكَذَّبُواْ وَاتَّبَعُواْ أَهْوَآءَهُمْ
(They denied and followed their own lusts.), they rejected the truth when it came to them, following the ignorance and foolishness that their lusts and desires called them to. Allah's statement,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) means, the good deeds will take their doers to all that is good and righteous, and similarly evil deeds will take their doers to all that is evil, according to Qatadah, while Ibn Jurayj said, "will settle according to its people." Mujahid commented on the meaning of,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) by saying, "On the Day of Resurrection." Allah's statement,
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ
(And indeed there has come to them news); in this Qur'an, there has come to them the news of the earlier nations that disbelieved in their Messengers and the torment, punishment and affliction that befell them,
مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
(wherein there is Muzdajar), wherein there are warnings and lessons to stop them from idolatry and persisting in denial,
حِكْمَةٌ بَـلِغَةٌ
(Perfect wisdom,) in that Allah guides whomever He wills and misguides whomever He wills,
فَمَا تُغْنِـى النُّذُرُ
(but warners benefit them not.) but the preaching of warnings does not benefit those upon whom Allah has written misery and sealed their hearts. Who can guide such people after Allah This Ayah is similar to Allah's statements,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.")(6:149) and,
وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ
(But neither Ayat nor warners benefit those who believe not.)(10:101)
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گذرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے، دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہوچکا تھا رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گذرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ولید بن عبدالملک کے پاس جب حضرت ابوہریرہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ تم اور قیامت قربت میں ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو۔ اس کی شہادت اس حدیث سے ہوسکتی ہے جس میں آپ ﷺ کے مبارک ناموں میں سے ایک نام (حاشر) آیا ہے اور (حاشر) وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو حضرت بہز کی روایت سے مروی ہے کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہوچکا یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھالیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ سنو ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہوگی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی (مسلم) ابو عبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لئے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا حضرت حذیفہ خطیب تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگوں سنو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکرے ہوگیا۔ بیشک قیامت قریب آچکی ہے بیشک چاند پھٹ گیا ہے بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہوگا میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہوگی ؟ جس میں آگے نکلنا ہوگا ؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا تم نادان ہو یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی حضرت حذیفہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ غایت آگ ہے اور سابق وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا یہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں ردم، دھواں، لزام، بطشہ اور چاند کا پھٹنا یہ سب گذر چکا ہے اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہوگیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے۔ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے ایک حراء کے اس طرف ایک اس طرف مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد ﷺ نے ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کردیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں، ابن عمر فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے ابن مسعود فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اس وقت حضور ﷺ اور ہم سب منیٰ میں تھے اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کرسکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چناچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آکر یہی کہیں تو حضور ﷺ کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا جب کبھی آیا جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے خصوصاً حضرت صدیق سے فرمایا کہ اے ابوبکر تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آچکے ہیں ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا جیسے فرمایا آیت (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ01409) 6۔ الانعام :149) ، اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا اور جگہ ہے آیت (وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ01001) 10۔ یونس :101) بےایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا۔
حِكۡمَةُۢ بَٰلِغَةٞۖ فَمَا تُغۡنِ ٱلنُّذُرُ
The pinnacle of wisdom – so how will the Heralds of warning provide any benefit?
(یہ قرآن) کامل دانائی و حکمت ہے کیا پھر بھی ڈر سنانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Hadith of Abu Waqid preceded, in which it is mentioned that the Messenger of Allah ﷺ would recite Surah Qaf (chapter 53) and Iqtarabat As-Sa`ah (Al-Qamar, chapter 54), during (the `Id Prayers of) Al-Adha and Al-Fitr. The Prophet used to recite these two Surahs during major gatherings and occasions because they contain Allah's promises and warnings, and information about the origin of creation, Resurrection, Tawhid, the affirmation of prophethood, and so forth among the great objectives.
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
The Hour draws near; the cleaving of the Moon
Allah informs about the approach of the Last Hour and the imminent end and demise of the world,
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوهُ
(The Event ordained by Allah will come to pass, so seek not to hasten it.)(16:1),
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
(Draws near for mankind their reckoning, while they turn away in heedlessness.)(21:1)
Hadiths about the Last Hour
There are several Hadiths with this meaning. Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Anas said that one day, when the sun was about to set, the Messenger of Allah ﷺ gave a speech to his Companions, saying,
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هذَا فِيمَا مَضَى مِنْه»
(By He in Whose Hand is my soul! Not much of this world is left compared to what has already passed of it, except as much as what is left in this day of yours compared to what has already passed of it.) Anas said, "We could only see a small part of the setting sun at the time." Another Hadith that supports and explains the above Hadith is recorded by Imam Ahmad that `Abdullah bin `Umar said, "We were sitting with the Prophet while the sun was rising above Qu`ayqa`an, after `Asr. He said,
«مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ فِيمَا مَضَى»
(What remains of your time, compared to what has passed, is as long as what remains of this day compared to what has passed of it.)" Imam Ahmad recorded that Sahl bin Sa`d said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هكَذَا»
(I was sent like this with the Last Hour.) and he pointed with his middle and index finger. The Two Sahihs also recorded this Hadith. Imam Ahmad recorded that Wahb As-Suwa'i said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهذِهِ مِنْ هذِهِ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي»
(I was sent just before the Last Hour, like the distance between this and this; the latter almost overtook the former.) Al-A`mash joined between his index and middle fingers while narrating this Hadith. Imam Ahmad recorded that Al-Awza`i said that Isma`il bin `Ubaydullah said, "Anas bin Malik went to Al-Walid bin `Abdul-Malik who asked him about what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about the Last Hour. Anas said, `I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«أَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْن»
(You and the Last Hour are as close as these two (fingers).)"' Only Imam Ahmad collected this Hadith. There is proof to support these Hadiths in the Sahih listing, Al-Hashir (literally the Gatherer), among the names of the Messenger of Allah ﷺ ; he is the first to be gathered, and all people will be gathered thereafter (for the Day of Judgement). Allah's statement,
وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(and the moon has been cleft asunder.) It occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ, according to the authentic Mutawatir Hadiths the scholars agree that the moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet, and it was among the clear miracles that Allah gave him. Hadiths mentioning that the Moon was split
The Narration of Anas bin Malik
Imam Ahmad recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Prophet for a miracle and the moon was split into two parts in Makkah. Allah said,
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.)" Muslim also collected this Hadith. Al-Bukhari recorded that Anas bin Malik said, "The people of Makkah asked the Messenger of Allah ﷺ to produce a miracle, and he showed them the splitting of the moon into two parts, until they saw (the mount of) Hira' between them." This Hadith is recorded in the Two Sahihs with various chains of narration.
The Narration of Jubayr bin Mut`im
Imam Ahmad recorded that Jubayr bin Mut`im said, "The moon was split into two pieces during the time of Allah's Prophet ; a part of the moon was over one mountain and another part over another mountain. So they said, `Muhammad has taken us by his magic.' They then said, `If he was able to take us by magic, he will not be able to do so with all people."' Only Imam Ahmad recorded this Hadith with this chain of narration. Al-Bayhaqi used another chain of narration in a similar Hadith he collected in Ad-Dala'il.
The Narration of `Abdullah bin `Abbas
Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The moon was split during the time of the Prophet ." Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that Ibn `Abbas commented on Allah's saying:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً يُعْرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder. And if they see a sign, they turn away and say: "This is magic, Mustamir.") "This occurred before the Hijrah; the moon was split and they saw it in two parts."
The Narration of `Abdullah bin `Umar Al-Hafiz Abu Bakr
Al-Bayhaqi recorded that `Abdullah bin `Umar commented on Allah's statement:
اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
(The Hour has drawn near, and the moon has been cleft asunder.) "This occurred during the time of Allah's Messenger ﷺ; the moon was split in two parts. A part of it was before the mount and a part on the other side. The Prophet said,
«اللْهُمَّ اشْهَد»
(O Allah! Be witness.)" This is the narration that Muslim and At-Tirmidhi collected. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."
The Narration of `Abdullah bin Mas`ud
Imam Ahmad recorded that Ibn Mas`ud said, "The moon was split in two parts during the time of Allah's Messenger ﷺ, and they saw its two parts. Allah's Messenger ﷺ said,
«اشْهَدُوا»
(Be witnesses.)" Al-Bukhari and Muslim collected this Hadith. Ibn Jarir recorded that `Abdullah (Ibn Mas`ud) said, "I saw the mountain between the two parts of the moon when it was split." Imam Ahmad recorded that `Abdullah said, "The moon was split during the time of Allah's Messenger ﷺ and I saw the mount between its two parts.
The Stubbornness of the idolators
Allah said,
وَإِن يَرَوْاْ ءَايَةً
(And if they see an Ayah), if they see proof, evidence and a sign,
يُعْرِضُواْ
(they turn away), they do not believe in it. Rather, they turn away from it, abandoning it behind their backs,
وَيَقُولُواْ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
(and say: "This is magic, Mustamir.") They say, `the sign that we saw was magic, which was cast on us.' Mustamir, means, `will soon go away', according to Mujahid, Qatadah and several others. The Quraysh said that the cleaving of the moon was false and will soon diminish and fade away,
وَكَذَّبُواْ وَاتَّبَعُواْ أَهْوَآءَهُمْ
(They denied and followed their own lusts.), they rejected the truth when it came to them, following the ignorance and foolishness that their lusts and desires called them to. Allah's statement,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) means, the good deeds will take their doers to all that is good and righteous, and similarly evil deeds will take their doers to all that is evil, according to Qatadah, while Ibn Jurayj said, "will settle according to its people." Mujahid commented on the meaning of,
وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ
(And every matter will be settled.) by saying, "On the Day of Resurrection." Allah's statement,
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ
(And indeed there has come to them news); in this Qur'an, there has come to them the news of the earlier nations that disbelieved in their Messengers and the torment, punishment and affliction that befell them,
مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
(wherein there is Muzdajar), wherein there are warnings and lessons to stop them from idolatry and persisting in denial,
حِكْمَةٌ بَـلِغَةٌ
(Perfect wisdom,) in that Allah guides whomever He wills and misguides whomever He wills,
فَمَا تُغْنِـى النُّذُرُ
(but warners benefit them not.) but the preaching of warnings does not benefit those upon whom Allah has written misery and sealed their hearts. Who can guide such people after Allah This Ayah is similar to Allah's statements,
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
(Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all.")(6:149) and,
وَمَا تُغْنِى الآيَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُؤْمِنُونَ
(But neither Ayat nor warners benefit those who believe not.)(10:101)
اللہ تعالیٰ قیامت کے قرب کی اور دنیا کے خاتمہ کی اطلاع دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے آیت (اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ) 16۔ النحل :1) اللہ کا امر آچکا اب تو اس کی طلب کی جلدی چھوڑ دو اور فرمایا آیت (اقترب للناس حسابھم) الخ، لوگوں کے حساب کے وقت ان کے سروں پر آپہنچا اور وہ اب تک غفلت میں ہیں۔ اس مضمون کی حدیثیں بھی بہت سی ہیں بزار میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں سورج کے ڈوبنے کے وقت جبکہ وہ تھوڑا سا ہی باقی رہ گیا تھا رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو خطبہ دیا جس میں فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں مری جان ہے دنیا کے گذرے ہوئے حصے میں اور باقی ماندہ حصے میں وہی نسبت ہے جو اس دن کے گذرے ہوئے اور باقی بچے ہوئے حصے میں ہے۔ اس حدیث کے راویوں میں حضرت خلف بن موسیٰ کو امام ابن حبان ثقہ راویوں میں گنتے تو ہیں لیکن فرماتے ہیں کبھی کبھی خطا بھی کر جاتے تھے، دوسری روایت جو اس کی تقویت بلکہ تفسیر بھی کرتی ہے وہ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے ہے کہ عصر کے بعد جب کہ سورج بالکل غروب کے قریب ہوچکا تھا رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری عمریں گزشتہ لوگوں کی عمروں کے مقابلہ میں اتنی ہی ہیں جتنا یہ باقی کا دن گذرے ہوئے دن کے مقابلہ میں ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے حضور ﷺ نے اپنی کلمہ کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ قریب تھا وہ مجھ سے آگے بڑھ جائے ولید بن عبدالملک کے پاس جب حضرت ابوہریرہ پہنچے تو اس نے قیامت کے بارے میں حدیث کا سوال کیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ تم اور قیامت قربت میں ان دونوں انگلیوں کی طرح ہو۔ اس کی شہادت اس حدیث سے ہوسکتی ہے جس میں آپ ﷺ کے مبارک ناموں میں سے ایک نام (حاشر) آیا ہے اور (حاشر) وہ ہے جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو حضرت بہز کی روایت سے مروی ہے کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے اپنے خطبہ میں فرمایا اور کبھی کہتے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ سناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہوچکا یہ پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہی ہے اور جس طرح برتن کا کھانا کھالیا جائے اور کناروں میں کچھ باقی لگا لپٹا رہ جائے اسی طرح دنیا کی عمر کا کل حصہ نکل چکا صرف برائے نام باقی رہ گیا ہے تم یہاں سے ایسے جہان کی طرف جانے والے ہو جسے فنا نہیں پس تم سے جو ہو سکے بھلائیاں اپنے ساتھ لے کر جاؤ سنو ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے گا جو برابر ستر سال تک نیچے کی طرف جاتا رہے گا لیکن تلے تک نہ پہنچے گا اللہ کی قسم جہنم کا یہ گہرا گڑھا انسانوں سے پر ہونے والا ہے تم اس پر تعجب نہ کرو ہم نے یہ بھی ذکر سنا ہے کہ جنت کی چوکھٹ کی دو لکڑیوں کے درمیان چالیس سال کا راستہ ہے اور وہ بھی ایک دن اس حالت پر ہوگی کہ بھیڑ بھاڑ نظر آئے گی (مسلم) ابو عبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ مدائن گیا اور بستی سے تین میل کے فاصلے پر ہم ٹھہرے۔ جمعہ کے لئے میں بھی اپنے والد کے ہمراہ گیا حضرت حذیفہ خطیب تھے آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگوں سنو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکرے ہوگیا۔ بیشک قیامت قریب آچکی ہے بیشک چاند پھٹ گیا ہے بیشک دنیا جدائی کا الارم بجا چکی ہے آج کا دن کوشش اور تیاری کا ہے کل تو دوڑ بھاگ کر کے آگے بڑھ جانے کا دن ہوگا میں نے اپنے باپ سے دریافت کیا کہ کیا کل دوڑ ہوگی ؟ جس میں آگے نکلنا ہوگا ؟ میرے باپ نے مجھ سے فرمایا تم نادان ہو یہاں مراد نیک اعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے۔ دوسرے جمعہ کو جب ہم آئے تو بھی حضرت حذیفہ کو اسی کے قریب فرماتے ہوئے سنا اس کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ غایت آگ ہے اور سابق وہ ہے جو جنت میں پہلے پہنچ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا یہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا ذکر ہے جیسے کہ متواتر احادیث میں صحت کے ساتھ مروی ہے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ یہ پانچوں چیزیں ردم، دھواں، لزام، بطشہ اور چاند کا پھٹنا یہ سب گذر چکا ہے اس بارے کی حدیثیں سنئے۔ مسند احمد میں ہے کہ اہل مکہ نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ طلب کیا جس پر دو مرتبہ چاند شق ہوگیا جس کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے۔ بخاری میں ہے کہ انہیں چاند کے دو ٹکڑے دکھا دئیے ایک حراء کے اس طرف ایک اس طرف مسند میں ہے ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر دوسرا دوسرے پہاڑ پر۔ اسے دیکھ کر بھی جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا بول پڑے کہ محمد ﷺ نے ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے۔ لیکن سمجھداروں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ ہم پر جادو کردیا ہے تو تمام دنیا کے لوگوں پر تو نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور روایتیں بھی بہت سی ہیں ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں چاند گرہن ہوا کافر کہنے لگے چاند پر جادو ہوا ہے اس پر یہ آیتیں مستمر تک اتریں، ابن عمر فرماتے ہیں جب چاند پھٹا اور اس کے دو ٹکڑے ہوئے ایک پہاڑ کے پیچھے اور ایک آگے اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، مسلم اور ترمذی وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے ابن مسعود فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو یاد رکھنا اور گواہ رہنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اس وقت حضور ﷺ اور ہم سب منیٰ میں تھے اور روایت میں ہے کہ مکہ میں تھے ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ کفار نے یہ دیکھ کر کہا یہ ابن ابی کبشہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کا جادو ہے لیکن ان کے سمجھداروں نے کہا مان لو ہم پر جادو کیا ہے لیکن ساری دنیا پر تو نہیں کرسکتا، اب جو لوگ سفر سے آئیں ان سے دریافت کرنا کہ کیا انہوں نے بھی اس رات کو چاند کو دو ٹکڑے دیکھا تھا چناچہ وہ آئے ان سے پوچھا انہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آکر یہی کہیں تو حضور ﷺ کی سچائی میں کوئی شک نہیں، اب جو باہر سے آیا جب کبھی آیا جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسی کا بیان اسی آیت میں ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں پہاڑ چاند کے دو ٹکڑوں کے درمیان دکھائی دیتا تھا اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے خصوصاً حضرت صدیق سے فرمایا کہ اے ابوبکر تم گواہ رہنا اور مشرکین نے اس زبردست معجزے کو بھی جادو کہہ کر ٹال دیا، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ جب یہ دلیل حجت اور برہان دیکھتے ہیں سہل انکاری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور مانتے ہیں بلکہ حق کو جھٹلا کر احکام نبوی کے خلاف اپنی خواہشات نفسانی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اپنی جہالت اور کم عقلی سے باز نہیں آتے۔ ہر امر مستقر ہے یعنی خیر خیر والوں کے ساتھ اور شر شر والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ قیامت کے دن ہر امر واقع ہونے والا ہے اگلے لوگوں کے وہ واقعات جو دل کو ہلا دینے والے اور اپنے اندر کامل عبرت رکھنے والے ہیں ان کے پاس آچکے ہیں ان کی تکذیب کے سلسلہ میں ان پر جو بلائیں اتریں اور ان کے جو قصے ان تک پہنچے وہ سراسر عبرت و نصیحت کے خزانے ہیں اور وعظ و ہدایت سے پر ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت کرے اور جسے گمراہ کرے اس میں بھی اس کی حکمت بالغہ موجود ہے ان پر شقاوت لکھی جا چکی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے انہیں کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا جیسے فرمایا آیت (قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ01409) 6۔ الانعام :149) ، اللہ تعالیٰ کی دلیلیں ہر طرح کامل ہیں اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لا کھڑا کرتا اور جگہ ہے آیت (وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ01001) 10۔ یونس :101) بےایمانوں کو کسی معجزے نے اور کسی ڈرنے اور ڈر سنانے والے نے کوئی نفع نہ پہنچایا۔
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡۘ يَوۡمَ يَدۡعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَيۡءٖ نُّكُرٍ
Therefore turn away from them; on the day when the announcer will call towards a severe unknown matter –
سو آپ اُن سے منہ پھیر لیں، جس دن بلانے والا (فرشتہ) ایک نہایت ناگوار چیز (میدانِ حشر) کی طرف بلائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The terrible End the Disbelievers will meet on the Day of Resurrection
Allah the Exalted says, `O Muhammad, turn away from these people who, when they witness a miracle, they deny it and say that this is continuous magic.' Turn away from them and wait until,
يَوْمَ يَدْعُو الدَّاعِ إِلَى شَىْءٍ نُّكُرٍ
(The Day that the caller will call (them) to a terrible thing.) to the Recompense and the afflictions, horrors and tremendous hardships that it brings forth,
خُشَّعاً أَبْصَـرُهُمْ
(with humbled eyes), their eyes will be covered with disgrace,
يَخْرُجُونَ مِنَ الاٌّجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ
(they will come forth from (their) graves as if they were locusts spread abroad.) They will gather towards the area of Reckoning in such haste and crowds, in response to the caller, as if they were crowds of locusts spreading all about. Allah said,
مُهْطِعِينَ
(Hastening) meaing hurriedly,
إِلَى الدَّاعِ
(towards the caller.) without being able to hesitate or slow down,
يَقُولُ الْكَـفِرُونَ هَـذَا يَوْمٌ عَسِرٌ
(The disbelievers will say: "This is a hard Day."), meaing, `this is a hard, terrible, horrifying and distressful Day,'
فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ - عَلَى الْكَـفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ
(Truly, that Day will be a Hard Day -- far from easy for the dis- believers.) (74:9-10)
معجزات بھی بےاثر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کار آمد نہیں چھوڑ دو ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو ، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لئے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہوگی جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہوگی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر ٹڈی دل کی طرح یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے نہ مخالفت کی تاب ہے نہ دیر لگانے کی طاقت، اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بیحد سخت دن ہے۔
خُشَّعًا أَبۡصَٰرُهُمۡ يَخۡرُجُونَ مِنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ كَأَنَّهُمۡ جَرَادٞ مُّنتَشِرٞ
They will come out from the graves with eyes lowered, as if they were spread locusts.
اپنی آنکھیں جھکائے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The terrible End the Disbelievers will meet on the Day of Resurrection
Allah the Exalted says, `O Muhammad, turn away from these people who, when they witness a miracle, they deny it and say that this is continuous magic.' Turn away from them and wait until,
يَوْمَ يَدْعُو الدَّاعِ إِلَى شَىْءٍ نُّكُرٍ
(The Day that the caller will call (them) to a terrible thing.) to the Recompense and the afflictions, horrors and tremendous hardships that it brings forth,
خُشَّعاً أَبْصَـرُهُمْ
(with humbled eyes), their eyes will be covered with disgrace,
يَخْرُجُونَ مِنَ الاٌّجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ
(they will come forth from (their) graves as if they were locusts spread abroad.) They will gather towards the area of Reckoning in such haste and crowds, in response to the caller, as if they were crowds of locusts spreading all about. Allah said,
مُهْطِعِينَ
(Hastening) meaing hurriedly,
إِلَى الدَّاعِ
(towards the caller.) without being able to hesitate or slow down,
يَقُولُ الْكَـفِرُونَ هَـذَا يَوْمٌ عَسِرٌ
(The disbelievers will say: "This is a hard Day."), meaing, `this is a hard, terrible, horrifying and distressful Day,'
فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ - عَلَى الْكَـفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ
(Truly, that Day will be a Hard Day -- far from easy for the dis- believers.) (74:9-10)
معجزات بھی بےاثر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کار آمد نہیں چھوڑ دو ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو ، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لئے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہوگی جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہوگی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر ٹڈی دل کی طرح یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے نہ مخالفت کی تاب ہے نہ دیر لگانے کی طاقت، اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بیحد سخت دن ہے۔
مُّهۡطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِۖ يَقُولُ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَسِرٞ
Rushing towards the caller; the disbelievers will say, “This is a tough day.”
پکارنے والے کی طرف دوڑ کر جا رہے ہوں گے، کفّار کہتے ہوں گے: یہ بڑا سخت دِن ہے
Tafsir Ibn Kathir
The terrible End the Disbelievers will meet on the Day of Resurrection
Allah the Exalted says, `O Muhammad, turn away from these people who, when they witness a miracle, they deny it and say that this is continuous magic.' Turn away from them and wait until,
يَوْمَ يَدْعُو الدَّاعِ إِلَى شَىْءٍ نُّكُرٍ
(The Day that the caller will call (them) to a terrible thing.) to the Recompense and the afflictions, horrors and tremendous hardships that it brings forth,
خُشَّعاً أَبْصَـرُهُمْ
(with humbled eyes), their eyes will be covered with disgrace,
يَخْرُجُونَ مِنَ الاٌّجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ
(they will come forth from (their) graves as if they were locusts spread abroad.) They will gather towards the area of Reckoning in such haste and crowds, in response to the caller, as if they were crowds of locusts spreading all about. Allah said,
مُهْطِعِينَ
(Hastening) meaing hurriedly,
إِلَى الدَّاعِ
(towards the caller.) without being able to hesitate or slow down,
يَقُولُ الْكَـفِرُونَ هَـذَا يَوْمٌ عَسِرٌ
(The disbelievers will say: "This is a hard Day."), meaing, `this is a hard, terrible, horrifying and distressful Day,'
فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ - عَلَى الْكَـفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ
(Truly, that Day will be a Hard Day -- far from easy for the dis- believers.) (74:9-10)
معجزات بھی بےاثر ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کار آمد نہیں چھوڑ دو ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو ، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لئے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہوگی جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہوگی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر ٹڈی دل کی طرح یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے نہ مخالفت کی تاب ہے نہ دیر لگانے کی طاقت، اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بیحد سخت دن ہے۔
۞كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ فَكَذَّبُواْ عَبۡدَنَا وَقَالُواْ مَجۡنُونٞ وَٱزۡدُجِرَ
Before these, the people of Nooh denied and they belied Our bondman and said, “He is a madman” and rebuffed him.
اِن سے پہلے قومِ نوح نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ سو انہوں نے ہمارے بندۂ (مُرسَل نُوح علیہ السلام) کی تکذیب کی اور کہا: (یہ) دیوانہ ہے، اور انہیں دھمکیاں دی گئیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
10
View Single
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَغۡلُوبٞ فَٱنتَصِرۡ
He therefore prayed to his Lord, “I am overpowered, therefore avenge me.”
سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
11
View Single
فَفَتَحۡنَآ أَبۡوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٖ مُّنۡهَمِرٖ
We therefore opened the gates of heaven, with water flowing furiously.
پھر ہم نے موسلادھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دئیے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
12
View Single
وَفَجَّرۡنَا ٱلۡأَرۡضَ عُيُونٗا فَٱلۡتَقَى ٱلۡمَآءُ عَلَىٰٓ أَمۡرٖ قَدۡ قُدِرَ
And caused springs to gush out from the earth, so that the two waters met totalling a quantity that had been destined.
اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کر دیئے، سو (زمین و آسمان کا) پانی ایک ہی کام کے لئے جمع ہو گیا جو (اُن کی ہلاکت کے لئے) پہلے سے مقرر ہو چکا تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
13
View Single
وَحَمَلۡنَٰهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلۡوَٰحٖ وَدُسُرٖ
And We carried Nooh upon a ship of wooden planks and nails.
اور ہم نے اُن کو (یعنی نوح علیہ السلام کو) تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
14
View Single
تَجۡرِي بِأَعۡيُنِنَا جَزَآءٗ لِّمَن كَانَ كُفِرَ
Sailing in front of Our sight; as a reward for the sake of one who was rejected.
جو ہماری نگاہوں کے سامنے (ہماری حفاظت میں) چلتی تھی، (یہ سب کچھ) اس (ایک) شخص (نوح علیہ السلام) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
15
View Single
وَلَقَد تَّرَكۡنَٰهَآ ءَايَةٗ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
And We left it as a sign – so is there one who would ponder?
اور بیشک ہم نے اِس (طوفانِ نوح کے آثار) کو نشانی کے طور پر باقی رکھا تو کیا کوئی سوچنے (اور نصیحت قبول کرنے) والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
16
View Single
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
So how did My punishment turn out, and My threats?
سو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
17
View Single
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of Nuh and the Lesson from it
Allah the Exalted said,
كَذَّبَتْ
(denied) `before your people, O Muhammad,'
قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُواْ عَبْدَنَا
(the people of Nuh. They rejected Our servant) means, they denied him categorically and accused him of madness,
وَقَالُواْ مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
(and said: "A madman!" Wazdujir.) Mujahid said about Wazdujir: "He was driven out accused on account of madness." It was also said that Wazdujir means, he was rebuked, deterred, threatened and warned by his people saying:
لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ ينُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُرْجُومِينَ
("If you do not stop O Nuh, you will be among those who will be stoned.") 26:116 This was said by Ibn Zayd, and it is sound.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنُّى مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ
(Then he invoked his Lord (saying): "I have been overcome, so help (me)!") meaning, `I am weak and cannot overcome or resist my people, so help Your religion!' Allah the Exalted said,
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir.) As-Suddi said about Munhamir, "It means abundant."
وَفَجَّرْنَا الاٌّرْضَ عُيُوناً
(And We caused springs to gush forth from the earth.) means, from every part of the earth, and even ovens in which fire was burning -- water and springs gushed forth,
فَالْتَقَى المَآءُ
(So, the waters met), means, of the heaven and the earth,
عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
(for a matter predestined.) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas:
فَفَتَحْنَآ أَبْوَبَ السَّمَآءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ
(So, We opened the gates of the heaven with water Munhamir), Torrential rain, the only water that fell from the sky before that day and ever since was from clouds. But the sky's gates were opened on them that day, and therefore, the water that came down was not from clouds. So both the waters (of the earth and the heaven) met according to a matter ordained." Allah said,
وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَحٍ وَدُسُرٍ
(And We carried him on a (ship) made of planks and nails (Dusur)), Ibn `Abbas, Sa`id bin Jubayr, Al-Qurazi, Qatadah and Ibn Zayd said that Dusur means nails. Ibn Jarir preferred this view. Allah's statement,
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا
(Floating under Our Eyes), means, `by Our command and under Our protection and observation,'
جَزَآءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ
(a reward for him who had been rejected!) meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ تَّرَكْنَـهَا ءايَةً
(And indeed, We have left this as a sign.) Qatadah said, "Allah left the ship of Nuh intact until the first generation of this Ummah were able to see it." However, it appears that the meaning here is that Allah kept ships as a sign. For instance, Allah the Exalted said,
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ - وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
(And a sign for them is that We bore their offspring in the laden ship. And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.)(36:41-42),
إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَآ أُذُنٌ وَعِيَةٌ
(Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it an admonition for you and that it might be retained by the retaining ears.)(69:11-12) Allah's statement here,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember) means, `is there any that will receive admonition and reminder. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said, "The Prophet recited to me,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Al-Bukhari collected a similar Hadith from `Abdullah that he said, "I recited to the Prophet (فَهَلْ مِن مُّذَّكِرٍ) (then is there any that will remember) and the Prophet said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then is there any that will remember)" Allah's statement,
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(Then how (terrible) was My torment and My warnings) means, `how terrible was My torment that I inflicted on those who disbelieved in Me and denied My Messengers, who did not heed to My warnings How was My help that I extended to My Messengers and the revenge exerted on their behalf,'
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ
(And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember); meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said,
كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ
((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.)(38:29),
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً
(So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people.)(19:97) Allah said,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember), meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil"
دیرینہ انداز کفر یعنی اے نبی ﷺ آپ ﷺ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے حضرت نوح تھے تکذیب کی اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ اے نوح اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے، ہمارے بندے اور رسول حضرت نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کرسکتا ہوں تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا جاتا ہے۔ موسلا دھار بارش کے دروازے آسمان سے اور ابلتے ہوئے پانی کے چشمے زمین سے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ جو پانی کی جگہ نہ تھی مثلاً تنور وغیرہ وہاں سے زمین پانی اگل دیتی ہے ہر طرف پانی بھر جاتا ہے نہ آسمان سے برسنا رکتا ہے نہ زمین سے ابلنا تھمتا ہے پس حد حکم تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمیشہ پانی ابر سے برستا ہے لیکن اس وقت آسمان سے پانی کے دروازے کھول دئیے گئے تھے اور عذاب الٰہی پانی کی شکل میں برس رہا تھا نہ اس سے پہلے کبھی اتنا پانی برسا نہ اس کے بعد کبھی ایسا برسے ادھر سے آسمان کی یہ رنگت ادھر سے زمین کو حکم کہ پانی اگل دے پس ریل پیل ہوگئی، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آسمان کے دہانے کھول دئیے گئے اور ان میں سے براہ راست پانی برسا۔ اس طوفان سے ہم نے اپنے بندے کو بچا لیا انہیں کشتی پر سوار کرلیا جو تختوں میں کیلیں لگا کر بنائی گئی تھی۔ دسر کے معنی کشتی کے دائیں بائیں طرف کا حصہ اور ابتدائی حصہ جس پر موج تھپیڑے مارتی ہے اور اس کے جوڑے اور اس کی اصل کے بھی کئے گئے ہیں، وہ ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حفاظت میں چل رہی تھی اور صحیح وسالم آر پار جار ہی تھی۔ حضرت نوح کی مدد تھی اور کفار سے یہ انتقام تھا ہم نے اسے نشانی بنا کر چھوڑا۔ یعنی اس کشتی کو بطور عبرت کے باقی رکھا، حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس امت کے اوائل لوگوں نے بھی اسے دیکھا ہے لیکن ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کے نمونے پر اور کشتیاں ہم نے بطور نشان کے دنیا میں قائم رکھیں، جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ) 36۔ يس :41) یعنی ان کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے نسل آدم کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا اور کشتی کے مانند اور بھی ایسی سواریاں دیں جن پر وہ سوار ہوں اور جگہ ہے آیت (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۙ) 69۔ الحاقة :11) ، یعنی جب پانی نے طغیانی کی ہم نے تمہیں کشتی میں لے لیا تاکہ تمہارے لئے نصیحت وعبرت ہو اور یاد رکھنے والے کان اسے محفوظ رکھ سکیں، پس کوئی ہے جو ذکر و وعظ حاصل کرے ؟ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے (مد کر) پڑھایا ہے، خود حضور ﷺ سے بھی اس لفظ کی قرأت اسی طرح مروی ہے، حضرت اسود سے سوال ہوتا ہے کہ یہ لفظ دال سے ہے یا ذال سے ؟ فرمایا میں نے عبداللہ سے دال کے ساتھ سنا ہے اور وہ فرماتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دال کے ساتھ سنا ہے، پھر فرماتا ہے میرا عذاب میرے ساتھ کفر کرنے اور میرے رسولوں کو جھوٹا کہنے اور میری نصیحت سے عبرت نہ حاصل کرنے والوں پر کیسا ہوا ؟ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کے دشمنوں سے بدلہ لیا اور کس طرح ان دشمنان دین حق کو نیست ونابود کردیا۔ ہم نے قرآن کریم کے الفاظ اور معانی کو ہر اس شخص کے لئے آسان کردیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھے، جیسے فرمایا آیت (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ 2009) 38۔ ص :29) ، ہم نے تیری طرف سے یہ مبارک کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور اس لئے کہ عقلمند لوگ یاد رکھ لیں اور جگہ ہے آیت (فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 58) 44۔ الدخان :58) ، یعنی ہم نے اسے تیری زبان پر اس لئے آسان کیا ہے کہ تو پرہیزگار لوگوں کو خوشی سنا دے اور جھگڑالو لوگوں کو ڈرا دے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس کی قرأت اور تلاوت اللہ تعالیٰ نے آسان کردی ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اس میں آسانی نہ رکھ دیتا تو مخلوق کی طاقت نہ تھی کہ اللہ عزوجل کے کلام کو پڑھ سکے۔ میں کہتا ہوں انہی آسانیوں میں سے ایک آسانی وہ ہے جو پہلے حدیث میں گذر چکی کہ یہ قرآن سات قرأتوں پر نازل کیا گیا ہے، اس حدیث کے تمام طرق و الفاظ ہم نے پہلے جمع کر دئیے ہیں، اب دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ پس اس قرآن کو بہت ہی سادہ کردیا ہے کوئی طالب علم جو اس الٰہی علم کو حاصل کرے اس کے لئے بالکل آسان ہے۔
18
View Single
كَذَّبَتۡ عَادٞ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
The tribe of A’ad denied – so how did My punishment turn out, and My warnings?
(قومِ) عاد نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا سو (اُن پر) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) رہا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of ` Ad Allah states that ` Ad, the People of Hud, denied their Messenger, just as the people of Nuh did.
So, Allah sent on them,
عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً
(against them a violently cold (Sarsar) wind), means, a bitterly cold and furious wind,
فِى يَوْمِ نَحْسٍ
(on a day of calamity), against them, according to Ad-Dahhak, Qatadah and As-Suddi,
مُّسْتَمِرٌّ
(continuous), upon them because the calamity, torment and destruction that they suffered in this life on that day continued with that of the Hereafter,
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ
(Plucking out men as if they were uprooted stems of date palms.) The wind would pluck one of them and raise him high, until he could no longer be seen, and then violently send him down on his head to the ground. His head would be smashed and only his body would be left, headless,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(as if they were uprooted stems of date palms. Then, how was My torment and My warnings And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
کفار کی بدترین روایات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کرلے۔
19
View Single
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا صَرۡصَرٗا فِي يَوۡمِ نَحۡسٖ مُّسۡتَمِرّٖ
We indeed sent towards them a severe windstorm, on a day the ill luck of which lasted upon them forever.
بیشک ہم نے اُن پر نہایت سخت آواز والی تیز آندھی (اُن کے حق میں) دائمی نحوست کے دن میں بھیجی
Tafsir Ibn Kathir
The Story of ` Ad Allah states that ` Ad, the People of Hud, denied their Messenger, just as the people of Nuh did.
So, Allah sent on them,
عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً
(against them a violently cold (Sarsar) wind), means, a bitterly cold and furious wind,
فِى يَوْمِ نَحْسٍ
(on a day of calamity), against them, according to Ad-Dahhak, Qatadah and As-Suddi,
مُّسْتَمِرٌّ
(continuous), upon them because the calamity, torment and destruction that they suffered in this life on that day continued with that of the Hereafter,
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ
(Plucking out men as if they were uprooted stems of date palms.) The wind would pluck one of them and raise him high, until he could no longer be seen, and then violently send him down on his head to the ground. His head would be smashed and only his body would be left, headless,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(as if they were uprooted stems of date palms. Then, how was My torment and My warnings And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
کفار کی بدترین روایات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کرلے۔
20
View Single
تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٖ مُّنقَعِرٖ
Smashing down men as if they were uprooted trunks of date palms.
جو لوگوں کو (اس طرح) اکھاڑ پھینکتی تھی گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of ` Ad Allah states that ` Ad, the People of Hud, denied their Messenger, just as the people of Nuh did.
So, Allah sent on them,
عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً
(against them a violently cold (Sarsar) wind), means, a bitterly cold and furious wind,
فِى يَوْمِ نَحْسٍ
(on a day of calamity), against them, according to Ad-Dahhak, Qatadah and As-Suddi,
مُّسْتَمِرٌّ
(continuous), upon them because the calamity, torment and destruction that they suffered in this life on that day continued with that of the Hereafter,
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ
(Plucking out men as if they were uprooted stems of date palms.) The wind would pluck one of them and raise him high, until he could no longer be seen, and then violently send him down on his head to the ground. His head would be smashed and only his body would be left, headless,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(as if they were uprooted stems of date palms. Then, how was My torment and My warnings And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
کفار کی بدترین روایات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کرلے۔
21
View Single
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
So how did My punishment turn out, and My warnings?
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) رہا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of ` Ad Allah states that ` Ad, the People of Hud, denied their Messenger, just as the people of Nuh did.
So, Allah sent on them,
عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً
(against them a violently cold (Sarsar) wind), means, a bitterly cold and furious wind,
فِى يَوْمِ نَحْسٍ
(on a day of calamity), against them, according to Ad-Dahhak, Qatadah and As-Suddi,
مُّسْتَمِرٌّ
(continuous), upon them because the calamity, torment and destruction that they suffered in this life on that day continued with that of the Hereafter,
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ
(Plucking out men as if they were uprooted stems of date palms.) The wind would pluck one of them and raise him high, until he could no longer be seen, and then violently send him down on his head to the ground. His head would be smashed and only his body would be left, headless,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(as if they were uprooted stems of date palms. Then, how was My torment and My warnings And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
کفار کی بدترین روایات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کرلے۔
22
View Single
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of ` Ad Allah states that ` Ad, the People of Hud, denied their Messenger, just as the people of Nuh did.
So, Allah sent on them,
عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً
(against them a violently cold (Sarsar) wind), means, a bitterly cold and furious wind,
فِى يَوْمِ نَحْسٍ
(on a day of calamity), against them, according to Ad-Dahhak, Qatadah and As-Suddi,
مُّسْتَمِرٌّ
(continuous), upon them because the calamity, torment and destruction that they suffered in this life on that day continued with that of the Hereafter,
تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ
(Plucking out men as if they were uprooted stems of date palms.) The wind would pluck one of them and raise him high, until he could no longer be seen, and then violently send him down on his head to the ground. His head would be smashed and only his body would be left, headless,
كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(as if they were uprooted stems of date palms. Then, how was My torment and My warnings And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
کفار کی بدترین روایات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ وبالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کرلے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہوجاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کردیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کرلے۔
23
View Single
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ بِٱلنُّذُرِ
The tribe of Thamud denied the Noble Messengers.
(قومِ) ثمود نے بھی ڈرسنانے والے پیغمبروں کو جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
24
View Single
فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٗا مِّنَّا وَٰحِدٗا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٍ
So they said, “What! Shall we follow a man from among us? If we do, we are indeed astray, and insane!”
پس وہ کہنے لگے: کیا ایک بشر جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں، تب تو ہم یقیناً گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
25
View Single
أَءُلۡقِيَ ٱلذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٞ
“What! Of all the men among us, the remembrance has come down upon him? In fact, he is a mischievous, great liar.”
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (یعنی وحی) اتاری گئی ہے؟ بلکہ وہ بڑا جھوٹا، خود پسند (اور متکبّر) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
26
View Single
سَيَعۡلَمُونَ غَدٗا مَّنِ ٱلۡكَذَّابُ ٱلۡأَشِرُ
It was said to Saleh, “They will soon realise tomorrow who is the mischievous great liar.”
انہیں کل (قیامت کے دن) ہی معلوم ہو جائے گا کہ کون بڑا جھوٹا، خود پسند (اور متکبّر) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
27
View Single
إِنَّا مُرۡسِلُواْ ٱلنَّاقَةِ فِتۡنَةٗ لَّهُمۡ فَٱرۡتَقِبۡهُمۡ وَٱصۡطَبِرۡ
“We shall send a she-camel to test them, therefore O Saleh, wait and have patience.”
بیشک ہم اُن کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں، پس (اے صالح!) اُن (کے انجام) کا انتظار کریں اور صبر جاری رکھیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
28
View Single
وَنَبِّئۡهُمۡ أَنَّ ٱلۡمَآءَ قِسۡمَةُۢ بَيۡنَهُمۡۖ كُلُّ شِرۡبٖ مُّحۡتَضَرٞ
“And inform them that the water is to be shared between them; only those may come whose turn it is.”
اور انہیں اس بات سے آگاہ کر دیں کہ اُن کے (اور اونٹنی کے) درمیان پانی تقسیم کر دیا گیا ہے، ہر ایک (کو) پانی کا حصّہ اس کی باری پر حاضر کیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
29
View Single
فَنَادَوۡاْ صَاحِبَهُمۡ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ
In response they called their companion – he therefore caught and hamstrung the she-camel.
پس انہوں نے (قدار نامی) اپنے ایک ساتھی کو بلایا، اس نے (اونٹنی پر تلوار سے) وار کیا اور کونچیں کاٹ دیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
30
View Single
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
So how did My punishment turn out, and My warnings?
پھر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا (عبرت ناک) ہوا؟
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
31
View Single
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَكَانُواْ كَهَشِيمِ ٱلۡمُحۡتَظِرِ
Indeed We sent upon them a single Scream – thereupon they became like the barrier builder’s residual dry trampled hay.
بیشک ہم نے اُن پر ایک نہایت خوفناک آواز بھیجی سو وہ باڑ لگانے والے کے بچے ہوئے اور روندے گئے بھوسے کی طرح ہوگئے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
32
View Single
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Thamud
Allah states here that the people of Thamud denied their Messenger Salih,
فَقَالُواْ أَبَشَراً مِّنَّا وَحِداً نَّتَّبِعُهُ إِنَّآ إِذاً لَّفِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ
(And they said: "A man, alone among us -- shall we follow him Truly, then we should be in error and distress!") They said, `We would have earned failure and loss if we all submitted to a man from among us.' They were amazed that the Reminder was sent to him alone among them, and therefore, accused him of being a liar,
بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
(Nay, he is an insolent liar!), means, he has tresspassed the limits in his lies. Allah the Exalted responded,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!), thus warning and threatening them and delivering a sure promise to them,
إِنَّا مُرْسِلُواْ النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ
(Verily, We are sending the she-camel as a test for them.) To test and try the people of Thamud, Allah sent to them a superb, pregnant female camel that emerged from solid rock, according to their request, so that it would become a proof against them from Allah, the Exalted. Thereafter, they were supposed to believe in what was brought to them by Salih, peace be upon him. Allah ordered His servant and Messenger Salih,
فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
(So watch them, and be patient!) Allah commanded, `await, O Salih, and see what will become of them and be patient; verily the better end will be yours and you will have success in this life and the Hereafter,'
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ
(And inform them that the water is to be shared between them) one day for her to drink and one day for them to drink,
قَالَ هَـذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
(He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink, and you have a right to drink (water) on a day, known.") (26:155) Allah's statement,
كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ
(each one's right to drink being established.) Mujahid said, "When she did not drink, they would drink the water, and when she drank, they would drink her milk." Allah the Exalted said;
فَنَادَوْاْ صَـحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ
(But they called their comrade and he took and killed.) According to the Scholars of Tafsir, his name was Qudar bin Salif; he was the evilest among them,
إِذِ انبَعَثَ أَشْقَـهَا
(When the most wicked man among them went forth (to kill the she-camel).)(91:12) Allah said here,
فَتَعَاطَى
(and he took) meaning to harm,
فَعَقَرَفَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
(and killed (her). Then, how was My torment and My warnings), `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbe- lief in Me and denying My Messenger'
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَحِدَةً فَكَانُواْ كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(Verily, We sent against them a single Sayhah, and they became like straw Al-Muhtazir.) They all perished and none of them remained. They were no more, they died out, just as plants and grass dry and die out. As-Suddi said that they became like the dry grass in the desert when it becomes burned and the wind scatters it all about. Ibn Zayd said, "The Arabs used to erect fences (Hizar, from which the word, Al-Muhtazir, is derived) made of dried bushes, around their camels and cattle, so Allah said,
كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
(like straw Al-Muhtazir.)
فریب نظر کے شکار لوگ ثمودیوں نے رسول اللہ حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور تعجب کے طور پر محال سمجھ کر کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ہمیں میں سے ایک شخص کے تابعدار بن جائیں ؟ آخر اس کی اتنی بڑی فضیلت کی کیا وجہ ؟ پھر اس سے آگے بڑھے اور کہنے لگے ہم نہیں مان سکتے کہ ہم سب میں سے صرف اسی ایک پر اللہ کی باتیں نازل کی جائیں، پھر اس سے بھی قدم بڑھایا اور نبی اللہ کو کھلے لفظوں میں جھوٹا اور پرلے سرے کا جھوٹا کہا بطور ڈانٹ کے اللہ فرماتا ہے اب تو جو چاہو کہہ لو لیکن کل کھل جائے گا کہ دراصل جھوٹا اور جھوٹ میں حد سے بڑھ جانے والا کون تھا ؟ ان کی آزمائش کے لئے فتنہ بنا کر ہم ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں چناچہ ان لوگوں کی طلب کے موافق پتھر کی ایک سخت چٹان میں سے ایک چکلے چوڑے اعضاء والی گابھن اونٹنی نکلی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ تم اب دیکھتے رہو کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کی سختیوں پر صبر کرو دنیا اور آخرت میں انجام کار غلبہ آپ ﷺ ہی کا رہے گا اب ان سے کہہ دیجئے کہ پانی پر ایک دن تو ان کا اختیار ہوگا اور ایک دن اس اونٹنی کا۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ01505ۚ) 26۔ الشعراء :155) ہر باری موجود کی گئی ہے یعنی جب اونٹنی نہ ہو تو پانی موجود ہے اور جب اونٹنی ہو تو اس کا دودھ حاضر ہے انہوں نے مل جل کر اپنے رفیق قدار بن سالف کو آواز دی اور یہ بڑا ہی بدبخت تھا، جیسے اور آیت میں ہے آیت (اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا 12۽) 91۔ الشمس :12) ان کا بدترین آدمی اٹھا اس نے آکر اسے پکڑا اور زخمی کیا پھر تو ان کے کفر و تکذیب کا میں نے بھی پورا بدلہ لیا اور جس طرح کھیتی کے کٹے ہوئے سوکھے پتے اڑ اڑ کر کافور ہوجاتے ہیں انہیں بھی ہم نے بےنام و نشان کردیا، خشک چارہ جس طرح جنگل میں اڑتا پھرتا ہے اسی میں انہیں بھی برباد کردیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ اونٹوں کو خشک کانٹوں دار باڑے میں رکھ لیا کرتے تھے۔ جب اس باڑھ کو روندھ دیا جائے اس وقت اس کی جیسی حالت ہوجاتی ہے وہی حالت ان کی ہوگئی کہ ایک بھی نہ بچا نہ بچ سکا۔ جیسے مٹی دیوار سے جھڑ جاتی ہے اسی طرح ان کے بھی پر پرزے اکھڑ گئے یہ سب اقوال مفسرین کے اس جملہ کی تفسیریں ہیں لیکن اول قوی ہے واللہ اعلم۔
33
View Single
كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوطِۭ بِٱلنُّذُرِ
The people of Lut denied the Noble Messengers.
قومِ لُوط نے بھی ڈرسنانے والوں کو جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
34
View Single
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٖۖ نَّجَّيۡنَٰهُم بِسَحَرٖ
Indeed We sent a shower of stones upon them, except the family of Lut; We rescued them before dawn.
بیشک ہم نے اُن پر کنکریاں برسانے والی آندھی بھیجی سوائے اولادِ لُوط (علیہ السلام) کے، ہم نے انہیں پچھلی رات (عذاب سے) بچا لیا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
35
View Single
نِّعۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي مَن شَكَرَ
As a reward from Us; this is how We reward one who gives thanks.
اپنی طرف سے خاص انعام کے ساتھ، اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیا کرتے ہیں جو شکر گزار ہوتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
36
View Single
وَلَقَدۡ أَنذَرَهُم بَطۡشَتَنَا فَتَمَارَوۡاْ بِٱلنُّذُرِ
And indeed he had warned them of Our seizure – in response they doubted the warnings.
اور بیشک لُوط (علیہ السلام) نے انہیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا پھر اُن لوگوں نے اُن کے ڈرانے میں شک کرتے ہوئے جھٹلایا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
37
View Single
وَلَقَدۡ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيۡفِهِۦ فَطَمَسۡنَآ أَعۡيُنَهُمۡ فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ
And they tried to persuade him regarding his guests – We therefore blinded their eyes, “So taste My punishment, and My warnings.”
اور بیشک اُن لوگوں نے لُوط (علیہ السلام) سے اُن کے مہمانوں کو چھین لینے کا ارادہ کیا سو ہم نے اُن کی آنکھوں کی ساخت مٹا کر انہیں بے نور کر دیا۔ پھر (اُن سے کہا:) میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
38
View Single
وَلَقَدۡ صَبَّحَهُم بُكۡرَةً عَذَابٞ مُّسۡتَقِرّٞ
And indeed, the everlasting punishment overcame them early in the morning.
اور بیشک اُن پر صبح سویرے ہی ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب آپہنچا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
39
View Single
فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ
“So taste My punishment, and My warnings!”
پھر (اُن سے کہا گیا:) میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
40
View Single
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?
اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of the People of the Prophet Lut
Allah the Exalted states that the people of Lut defied and denied their Messenger and committed sodomy, the awful immoral sin that no people in the history of mankind had committed before. This is why Allah destroyed them with a type of torment that He never inflicted upon any nation before them. Allah the Exalted commanded Jibril, peace be upon him, to raise their cities to the sky and then turn them upside down over them, followed by stones made of marked Sijjil. So He said here:
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَـصِباً إِلاَّ آلَ لُوطٍ نَّجَّيْنَـهُم بِسَحَرٍ
(Verily, We sent against them Hasib (a violent storm of stones) except the family of Lut, them We saved in the last hour of the night.) They left the city in the last part of the night and were saved from the torment that struck their people, none of whom believed in Lut. And even Lut's wife suffered the same end as her people. Allah's Prophet Lut left Sodom with his daughters in safety, unharmed. Allah said,
كَذَلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَوَلَقَدْ أَنذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا
(Thus do We reward him who gives thanks. And he indeed had warned them of Our punishment,) meaning, before the torment struck his people, he warned them of Allah's torment and punishment. They did not heed the warning, nor listen to Lut, but instead doubted and disputed the warning.
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ
(And they indeed sought to shame his guests) that is the night the angels Jibril, Mika'il and Israfil came to him in the shape of handsome young men, as a test from Allah for Lut's people. Lut hosted his guests, while his wife, the evil old one, sent a message to her people informing them of Lut's guests. They came to him in haste from every direction, and Lut had to close the door in their faces. They came during the night and tried to break the door; Lut tried to fend them off, while shielding his guests from them, saying,
هَـؤُلآءِ بَنَاتِى إِن كُنْتُمْ فَـعِلِينَ
(These are my daughters, if you must act (so).) (15:71), in reference to their women,
قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِى بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ
(They said: "Surely, you know that we have neither any desire nor need of your daughters!")(11:79), meaning, `we do not have any desire for women,'
وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ
(and indeed you know well what we want!)(11:79) When the situation became serious and they insisted on coming in, Jibril went out to them and struck their eyes with the tip of his wing, causing them to lose their sight. They went back feeling for the walls to guide them, threatening Lut with what would befall him in the morning. Allah the Exalted said,
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ
(And verily, an abiding torment seized them early in the morning.) meaning, a torment that they had no way of escaping or avoiding,
فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(Then taste you My torment and My warnings. And indeed, We have made the Qur'an easy to understand and remember; then is there any that will remember)
خلاف وضع فطری کے مرتکب لوطیوں کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کر کے کس مکروہ کام کو کیا جسے ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا یعنی اغلام بازی، اسی لئے ان کی ہلاکت کی صورت بھی ایسی ہی انوکھی ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل نے کی بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب پہنچا کر اوندھی مار دیں اور ان پر آسمان سے ان کے نام کے پتھر برسائے مگر لوط کے ماننے والوں کو سحر کے وقت یعنی رات کی آخری گھڑی میں بچا لیا انہیں حکم دیا گیا کہ تم اس بستی سے چلے جاؤ، حضرت لوط پر ان کی قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا تھا یہاں تک کہ خود حضرت لوط کی بیوی بھی کافرہ ہی تھی قوم میں سے ایک بھی شخص کو ایمان نصیب نہ ہوا۔ پس عذاب الٰہی سے بھی کوئی نہ بچا آپ کی بیوی بھی قوم کے ساتھ ہی ساتھ ہلاک ہوئی صرف آپ اور آپ کی لڑکیاں اس نحوست سے بچا لئیے گئے شاکروں کو اللہ اسی برے اور آڑے وقت میں کام آتا ہے اور انہیں ان کی شکر گذاری کا پھل دیتا ہے۔ عذاب کے آنے سے پہلے حضرت لوط انہیں آگاہ کرچکے تھے لیکن انہوں نے توجہ تک نہ کی بلکہ شک و شبہ اور جھگڑا کیا، اور ان کے مہمانوں کے بارے میں انہیں چکمہ دینا چاہا۔ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، وغیرہ فرشتے انسانی صورتوں میں حضرت لوط کے گھر مہمان بن کر آئے تھے، نہایت خوبصورت چہرے پیاری پیاری شکلیں اور عنفوان شباب کی عمر۔ ادھر یہ رات کے وقت حضرت لوط کے گھر اترے ان کی بیوی کافرہ تھی قوم کو اطلاع دی کہ آج لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں ان لوگوں کو اغلام کی بدعادت تو تھی ہی دوڑ بھاگ کر حضرت لوط کے مکان کو گھیر لیا حضرت لوط نے دروازے بند کر لئے انہوں نے ترکیبیں شروع کیں کہ کسی طرح مہمان ہاتھ لگیں جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا شام کا وقت تھا حضرت لوط انہیں سمجھا رہے تھے ان سے کہہ رہے تھے کہ یہ میری بیٹیاں یعنی جو تمہاری جوروئیں موجود ہیں تم اس بدفعلی کو چھوڑو اور حلال چیز سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان سرکشوں کا جواب تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمیں عورتوں کی چاہت نہیں ہمارا جو ارادہ ہے وہ آپ سے مخفی نہیں تم ہمیں اپنے مہمان سونپ دو۔ جب اسی بحث و مباحثہ میں بہت وقت گذر چکا اور وہ لوگ مقابلہ پر تل گئے اور حضرت لوط بیحد زچ آگئے اور بہت ہی تنگ ہوئے، تب حضرت جبرائیل باہر نکلے اور اپنا پر ان کی آنکھوں پر پھیرا سب اندھے بن گئے آنکھیں بالکل جاتی رہیں اب تو حضرت لوط کو برا کہتے ہوئے دیواریں ٹٹولتے ہوئے صبح کا وعدہ دے کر پچھلے پاؤں واپس ہوئے، لیکن صبح کے وقت ہی ان پر عذاب الٰہی آگیا جس میں سے نہ بھاگ سکے نہ اس سے پیچھا چھڑا سکے عذاب کے مزے اور ڈراوے کی طرف دھیان نہ دینے کا وبال انہوں نے چکھ لیا یہ قرآن تو بہت ہی آسان ہے جو چاہے نصیحت حاصل کرسکتا ہے کوئی ہے جو بھی اس سے پند و وعظ حاصل کرلے ؟
41
View Single
وَلَقَدۡ جَآءَ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ ٱلنُّذُرُ
And indeed the Noble Messengers came to the people of Firaun.
اور بیشک قومِ فرعون کے پاس (بھی) ڈر سنانے والے آئے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Fir`awn and His People
Allah the Exalted narrates to us the story of Fir`awn and his people. A Messenger came to them from Allah, Musa supported by his brother Harun. Their Messengers delivered good news if they believe, and a warning if they rejected the Message. Allah supported Musa and Harun with tremendous miracles and great signs, but Fir`awn and his people rejected all of them. Allah took them the way the All-Mighty, the All-Capable would; He destroyed them all leaving none surviving to tell the story of what happened to them. Advising and Threatening the Quraysh Allah said,
أَكُفَّـرُكُمْ
(Are your disbelievers) meaning, `O idolators of the Quraysh,'
خَيْرٌ مِّنْ أُوْلَـئِكُمْ
(better than these) meaning better than the nations that were mentioned here, who were destroyed on account of their disbelief in the Messengers and rejecting the Scriptures. `Are you better than these'
أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى الزُّبُرِ
(Or have you immunity in the Divine Scriptures), `do you have immunity from Allah that the torment and punishment will not touch you' Allah said about the Quraysh,
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious") stating that they believed they will support each other and their great gathering will avail them against those who intend to harm them. Allah the Exalted responded,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) affirming that their gathering shall scatter, and they shall be defeated. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The Prophet , while in a dome-shaped tent on the day of the battle of Badr, said,
«أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللْهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا»
(O Allah! I ask you for the fulfillment of Your covenant and promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers), You will never be worshipped on the earth after today.) Abu Bakr caught him by the hand and said, `This is sufficient, O Allah's Messenger! You have sufficiently asked and petitioned Allah.' The Prophet was clad in his armor at that time and went out, saying,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" Al-Bukhari also recorded that Yusuf bin Mahak said, "I was with the Mother of the faithful, `A'ishah, when she said, `When I was still a young playful girl in Makkah, this Ayah was revealed to Muhammad ﷺ,
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" This is the abridged narration that Al-Bukhari collected, but he also collected a longer narration of it in the Book of the Virtues of the Qur'an. Muslim did not collect this Hadith.
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ جائے ؟ پھر فرماتا ہے کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں آپ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ ﷺ اپنی دعا فرما رہے تھے اے اللہ تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں اے اللہ اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے بس اتنا ہی کہا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے آپ نے بہت فریاد کرلی۔ اب آپ اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں آیت (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45) 54۔ القمر :45) ، جاری تھیں، حضرت عمر فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کونسی جماعت ہوگی ؟ جب بدر والے دن میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے کیمپ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آگئی۔ بخاری میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی۔ اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) ، اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
42
View Single
كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذۡنَٰهُمۡ أَخۡذَ عَزِيزٖ مُّقۡتَدِرٍ
They denied all Our signs, We therefore seized them – the seizure of the Most Honourable, the All Powerful.
انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے انہیں بڑے غالب بڑی قدرت والے کی پکڑ کی شان کے مطابق پکڑ لیا
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Fir`awn and His People
Allah the Exalted narrates to us the story of Fir`awn and his people. A Messenger came to them from Allah, Musa supported by his brother Harun. Their Messengers delivered good news if they believe, and a warning if they rejected the Message. Allah supported Musa and Harun with tremendous miracles and great signs, but Fir`awn and his people rejected all of them. Allah took them the way the All-Mighty, the All-Capable would; He destroyed them all leaving none surviving to tell the story of what happened to them. Advising and Threatening the Quraysh Allah said,
أَكُفَّـرُكُمْ
(Are your disbelievers) meaning, `O idolators of the Quraysh,'
خَيْرٌ مِّنْ أُوْلَـئِكُمْ
(better than these) meaning better than the nations that were mentioned here, who were destroyed on account of their disbelief in the Messengers and rejecting the Scriptures. `Are you better than these'
أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى الزُّبُرِ
(Or have you immunity in the Divine Scriptures), `do you have immunity from Allah that the torment and punishment will not touch you' Allah said about the Quraysh,
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious") stating that they believed they will support each other and their great gathering will avail them against those who intend to harm them. Allah the Exalted responded,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) affirming that their gathering shall scatter, and they shall be defeated. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The Prophet , while in a dome-shaped tent on the day of the battle of Badr, said,
«أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللْهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا»
(O Allah! I ask you for the fulfillment of Your covenant and promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers), You will never be worshipped on the earth after today.) Abu Bakr caught him by the hand and said, `This is sufficient, O Allah's Messenger! You have sufficiently asked and petitioned Allah.' The Prophet was clad in his armor at that time and went out, saying,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" Al-Bukhari also recorded that Yusuf bin Mahak said, "I was with the Mother of the faithful, `A'ishah, when she said, `When I was still a young playful girl in Makkah, this Ayah was revealed to Muhammad ﷺ,
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" This is the abridged narration that Al-Bukhari collected, but he also collected a longer narration of it in the Book of the Virtues of the Qur'an. Muslim did not collect this Hadith.
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ جائے ؟ پھر فرماتا ہے کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں آپ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ ﷺ اپنی دعا فرما رہے تھے اے اللہ تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں اے اللہ اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے بس اتنا ہی کہا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے آپ نے بہت فریاد کرلی۔ اب آپ اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں آیت (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45) 54۔ القمر :45) ، جاری تھیں، حضرت عمر فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کونسی جماعت ہوگی ؟ جب بدر والے دن میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے کیمپ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آگئی۔ بخاری میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی۔ اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) ، اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
43
View Single
أَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٞ مِّنۡ أُوْلَـٰٓئِكُمۡ أَمۡ لَكُم بَرَآءَةٞ فِي ٱلزُّبُرِ
Are your disbelievers better than they were, or have you been given exemption in the Books?
(اے قریشِ مکہ!) کیا تمہارے کافر اُن (اگلے) لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں نجات لکھی ہوئی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Fir`awn and His People
Allah the Exalted narrates to us the story of Fir`awn and his people. A Messenger came to them from Allah, Musa supported by his brother Harun. Their Messengers delivered good news if they believe, and a warning if they rejected the Message. Allah supported Musa and Harun with tremendous miracles and great signs, but Fir`awn and his people rejected all of them. Allah took them the way the All-Mighty, the All-Capable would; He destroyed them all leaving none surviving to tell the story of what happened to them. Advising and Threatening the Quraysh Allah said,
أَكُفَّـرُكُمْ
(Are your disbelievers) meaning, `O idolators of the Quraysh,'
خَيْرٌ مِّنْ أُوْلَـئِكُمْ
(better than these) meaning better than the nations that were mentioned here, who were destroyed on account of their disbelief in the Messengers and rejecting the Scriptures. `Are you better than these'
أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى الزُّبُرِ
(Or have you immunity in the Divine Scriptures), `do you have immunity from Allah that the torment and punishment will not touch you' Allah said about the Quraysh,
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious") stating that they believed they will support each other and their great gathering will avail them against those who intend to harm them. Allah the Exalted responded,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) affirming that their gathering shall scatter, and they shall be defeated. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The Prophet , while in a dome-shaped tent on the day of the battle of Badr, said,
«أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللْهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا»
(O Allah! I ask you for the fulfillment of Your covenant and promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers), You will never be worshipped on the earth after today.) Abu Bakr caught him by the hand and said, `This is sufficient, O Allah's Messenger! You have sufficiently asked and petitioned Allah.' The Prophet was clad in his armor at that time and went out, saying,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" Al-Bukhari also recorded that Yusuf bin Mahak said, "I was with the Mother of the faithful, `A'ishah, when she said, `When I was still a young playful girl in Makkah, this Ayah was revealed to Muhammad ﷺ,
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" This is the abridged narration that Al-Bukhari collected, but he also collected a longer narration of it in the Book of the Virtues of the Qur'an. Muslim did not collect this Hadith.
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ جائے ؟ پھر فرماتا ہے کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں آپ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ ﷺ اپنی دعا فرما رہے تھے اے اللہ تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں اے اللہ اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے بس اتنا ہی کہا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے آپ نے بہت فریاد کرلی۔ اب آپ اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں آیت (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45) 54۔ القمر :45) ، جاری تھیں، حضرت عمر فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کونسی جماعت ہوگی ؟ جب بدر والے دن میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے کیمپ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آگئی۔ بخاری میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی۔ اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) ، اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
44
View Single
أَمۡ يَقُولُونَ نَحۡنُ جَمِيعٞ مُّنتَصِرٞ
Or they say, “We shall all take revenge as a group.”
یا یہ (کفّار) کہتے ہیں کہ ہم (نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) غالب رہنے والی مضبوط جماعت ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Fir`awn and His People
Allah the Exalted narrates to us the story of Fir`awn and his people. A Messenger came to them from Allah, Musa supported by his brother Harun. Their Messengers delivered good news if they believe, and a warning if they rejected the Message. Allah supported Musa and Harun with tremendous miracles and great signs, but Fir`awn and his people rejected all of them. Allah took them the way the All-Mighty, the All-Capable would; He destroyed them all leaving none surviving to tell the story of what happened to them. Advising and Threatening the Quraysh Allah said,
أَكُفَّـرُكُمْ
(Are your disbelievers) meaning, `O idolators of the Quraysh,'
خَيْرٌ مِّنْ أُوْلَـئِكُمْ
(better than these) meaning better than the nations that were mentioned here, who were destroyed on account of their disbelief in the Messengers and rejecting the Scriptures. `Are you better than these'
أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى الزُّبُرِ
(Or have you immunity in the Divine Scriptures), `do you have immunity from Allah that the torment and punishment will not touch you' Allah said about the Quraysh,
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious") stating that they believed they will support each other and their great gathering will avail them against those who intend to harm them. Allah the Exalted responded,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) affirming that their gathering shall scatter, and they shall be defeated. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The Prophet , while in a dome-shaped tent on the day of the battle of Badr, said,
«أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللْهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا»
(O Allah! I ask you for the fulfillment of Your covenant and promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers), You will never be worshipped on the earth after today.) Abu Bakr caught him by the hand and said, `This is sufficient, O Allah's Messenger! You have sufficiently asked and petitioned Allah.' The Prophet was clad in his armor at that time and went out, saying,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" Al-Bukhari also recorded that Yusuf bin Mahak said, "I was with the Mother of the faithful, `A'ishah, when she said, `When I was still a young playful girl in Makkah, this Ayah was revealed to Muhammad ﷺ,
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" This is the abridged narration that Al-Bukhari collected, but he also collected a longer narration of it in the Book of the Virtues of the Qur'an. Muslim did not collect this Hadith.
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ جائے ؟ پھر فرماتا ہے کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں آپ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ ﷺ اپنی دعا فرما رہے تھے اے اللہ تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں اے اللہ اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے بس اتنا ہی کہا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے آپ نے بہت فریاد کرلی۔ اب آپ اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں آیت (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45) 54۔ القمر :45) ، جاری تھیں، حضرت عمر فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کونسی جماعت ہوگی ؟ جب بدر والے دن میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے کیمپ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آگئی۔ بخاری میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی۔ اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) ، اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
45
View Single
سَيُهۡزَمُ ٱلۡجَمۡعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ
The group will soon be routed, and will turn their backs to flee.
عنقریب یہ جتّھہ (میدانِ بدر میں) شکست کھائے گا اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Fir`awn and His People
Allah the Exalted narrates to us the story of Fir`awn and his people. A Messenger came to them from Allah, Musa supported by his brother Harun. Their Messengers delivered good news if they believe, and a warning if they rejected the Message. Allah supported Musa and Harun with tremendous miracles and great signs, but Fir`awn and his people rejected all of them. Allah took them the way the All-Mighty, the All-Capable would; He destroyed them all leaving none surviving to tell the story of what happened to them. Advising and Threatening the Quraysh Allah said,
أَكُفَّـرُكُمْ
(Are your disbelievers) meaning, `O idolators of the Quraysh,'
خَيْرٌ مِّنْ أُوْلَـئِكُمْ
(better than these) meaning better than the nations that were mentioned here, who were destroyed on account of their disbelief in the Messengers and rejecting the Scriptures. `Are you better than these'
أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى الزُّبُرِ
(Or have you immunity in the Divine Scriptures), `do you have immunity from Allah that the torment and punishment will not touch you' Allah said about the Quraysh,
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious") stating that they believed they will support each other and their great gathering will avail them against those who intend to harm them. Allah the Exalted responded,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) affirming that their gathering shall scatter, and they shall be defeated. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The Prophet , while in a dome-shaped tent on the day of the battle of Badr, said,
«أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللْهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا»
(O Allah! I ask you for the fulfillment of Your covenant and promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers), You will never be worshipped on the earth after today.) Abu Bakr caught him by the hand and said, `This is sufficient, O Allah's Messenger! You have sufficiently asked and petitioned Allah.' The Prophet was clad in his armor at that time and went out, saying,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" Al-Bukhari also recorded that Yusuf bin Mahak said, "I was with the Mother of the faithful, `A'ishah, when she said, `When I was still a young playful girl in Makkah, this Ayah was revealed to Muhammad ﷺ,
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" This is the abridged narration that Al-Bukhari collected, but he also collected a longer narration of it in the Book of the Virtues of the Qur'an. Muslim did not collect this Hadith.
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ جائے ؟ پھر فرماتا ہے کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں آپ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ ﷺ اپنی دعا فرما رہے تھے اے اللہ تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں اے اللہ اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے بس اتنا ہی کہا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے آپ نے بہت فریاد کرلی۔ اب آپ اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں آیت (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45) 54۔ القمر :45) ، جاری تھیں، حضرت عمر فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کونسی جماعت ہوگی ؟ جب بدر والے دن میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے کیمپ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آگئی۔ بخاری میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی۔ اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) ، اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
46
View Single
بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَٱلسَّاعَةُ أَدۡهَىٰ وَأَمَرُّ
In fact their promise is upon the Last Day – and the Last Day is very severe and very bitter!
بلکہ اُن کا (اصل) وعدہ تو قیامت ہے اور قیامت کی گھڑی بہت ہی سخت اور بہت ہی تلخ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Story of Fir`awn and His People
Allah the Exalted narrates to us the story of Fir`awn and his people. A Messenger came to them from Allah, Musa supported by his brother Harun. Their Messengers delivered good news if they believe, and a warning if they rejected the Message. Allah supported Musa and Harun with tremendous miracles and great signs, but Fir`awn and his people rejected all of them. Allah took them the way the All-Mighty, the All-Capable would; He destroyed them all leaving none surviving to tell the story of what happened to them. Advising and Threatening the Quraysh Allah said,
أَكُفَّـرُكُمْ
(Are your disbelievers) meaning, `O idolators of the Quraysh,'
خَيْرٌ مِّنْ أُوْلَـئِكُمْ
(better than these) meaning better than the nations that were mentioned here, who were destroyed on account of their disbelief in the Messengers and rejecting the Scriptures. `Are you better than these'
أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى الزُّبُرِ
(Or have you immunity in the Divine Scriptures), `do you have immunity from Allah that the torment and punishment will not touch you' Allah said about the Quraysh,
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ
(Or say they: "We are a great multitude, victorious") stating that they believed they will support each other and their great gathering will avail them against those who intend to harm them. Allah the Exalted responded,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
(Their multitude will be put to flight, and they will show their backs.) affirming that their gathering shall scatter, and they shall be defeated. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said, "The Prophet , while in a dome-shaped tent on the day of the battle of Badr, said,
«أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللْهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا»
(O Allah! I ask you for the fulfillment of Your covenant and promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers), You will never be worshipped on the earth after today.) Abu Bakr caught him by the hand and said, `This is sufficient, O Allah's Messenger! You have sufficiently asked and petitioned Allah.' The Prophet was clad in his armor at that time and went out, saying,
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" Al-Bukhari also recorded that Yusuf bin Mahak said, "I was with the Mother of the faithful, `A'ishah, when she said, `When I was still a young playful girl in Makkah, this Ayah was revealed to Muhammad ﷺ,
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
(Nay, but the Hour is their appointed time and that Hour will be more grievous and more bitter.)" This is the abridged narration that Al-Bukhari collected, but he also collected a longer narration of it in the Book of the Virtues of the Qur'an. Muslim did not collect this Hadith.
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
سچائی کے دلائل سے اعراض کرنے والی اقوام فرعون اور اس کی قوم کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) بشارت اور ڈراوے لے کر آتے ہیں بڑے بڑے معجزے اور زبردست نشانیاں اللہ کی طرف سے انہیں دی جاتی ہیں جو ان کی نبوت کی حقانیت پر پوری پوری دلیل ہوتی ہیں۔ لیکن یہ فرعونی ان سب کو جھٹلاتے ہیں جس کی بدبختی میں ان پر عذاب الہٰی نازل ہوتے ہیں اور انہیں بالکل ہی سوکھے تنکوں کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ پھر فرماتا ہے اے مشرکین قریش اب بتلاؤ تم ان سے کچھ بہتر ہو ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے لئے اللہ نے اپنی کتابوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ؟ کہ ان کے کفر پر تو انہیں عذاب کیا جائے لیکن تم کفر کئے جاؤ اور تمہیں کوئی سزا نہ جائے ؟ پھر فرماتا ہے کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ایک جماعت کی جماعت ہیں آپ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے اور ہمیں کوئی برائی ہماری کثرت اور جماعت کی جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا انہیں ہزیمت دی جائے گی اور یہ پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھریں گے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بدر والے دن اپنی قیام گاہ میں رسول اللہ ﷺ اپنی دعا فرما رہے تھے اے اللہ تجھے تیرا عہد و پیمان یاد دلاتا ہوں اے اللہ اگر تیری چاہت یہی ہے کہ آج کے دن کے بعد سے تیری عبادت و وحدانیت کے ساتھ زمین پر کی ہی نہ جائے بس اتنا ہی کہا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے آپ نے بہت فریاد کرلی۔ اب آپ اپنے خیمے سے باہر آئے اور زبان پر دونوں آیتیں آیت (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ 45) 54۔ القمر :45) ، جاری تھیں، حضرت عمر فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے کے وقت میں سوچ رہا تھا کہ اس سے مراد کونسی جماعت ہوگی ؟ جب بدر والے دن میں نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ زرہ پہنے ہوئے اپنے کیمپ سے باہر تشریف لائے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے، اس دن میری سمجھ میں اس کی تفسیر آگئی۔ بخاری میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری چھوٹی سی عمر تھی۔ اپنی ہمجولیوں میں کھیلتی پھرتی تھی اس وقت یہ آیت (بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ 46) 54۔ القمر :46) ، اتری ہے۔ یہ روایت بخاری میں فضائل القرآن کے موقعہ پر مطول مروی ہے مسلم میں یہ حدیث نہیں۔
47
View Single
إِنَّ ٱلۡمُجۡرِمِينَ فِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٖ
Indeed the criminals are astray and insane.
بیشک مجرم لوگ گمراہی اور دیوانگی (یا آگ کی لپیٹ) میں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
48
View Single
يَوۡمَ يُسۡحَبُونَ فِي ٱلنَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
On the day when they are dragged upon their faces in the fire – “Taste the heat of hell.”
جس دن وہ لوگ اپنے مُنہ کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے (تو اُن سے کہا جائے گا:) آگ میں جلنے کا مزہ چکھو
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
49
View Single
إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ
We have indeed created all things by a proper measure.
بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرّرہ اندازے کے مطابق بنایا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
50
View Single
وَمَآ أَمۡرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَةٞ كَلَمۡحِۭ بِٱلۡبَصَرِ
And Our command is only a fleeting one – like the batting of an eyelid.
اور ہمارا حکم تو فقط یک بارگی واقع ہو جاتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
51
View Single
وَلَقَدۡ أَهۡلَكۡنَآ أَشۡيَاعَكُمۡ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
And We have indeed destroyed your kind, so is there one who would ponder?
اور بیشک ہم نے تمہارے (بہت سے) گروہوں کو ہلاک کر ڈالا، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
52
View Single
وَكُلُّ شَيۡءٖ فَعَلُوهُ فِي ٱلزُّبُرِ
And all what they did is in the Books.
اور جو کچھ (بھی) انہوں نے کیا اعمال ناموں میں (درج) ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
53
View Single
وَكُلُّ صَغِيرٖ وَكَبِيرٖ مُّسۡتَطَرٌ
And every small and great thing is recorded.
اور ہر چھوٹا اور بڑا (عمل) لکھ دیا گیا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
54
View Single
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَنَهَرٖ
Indeed the pious are amidst Gardens and springs.
بیشک پرہیزگار جنتوں اور نہروں میں (لطف اندوز) ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
55
View Single
فِي مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِندَ مَلِيكٖ مُّقۡتَدِرِۭ
Seated in an assembly of the Truth, in the presence of Allah, the Omnipotent King.
پاکیزہ مجالس میں (حقیقی) اقتدار کے مالک بادشاہ کی خاص قربت میں (بیٹھے) ہوں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Destination of the Criminals
Allah the Exalted states that the criminals are misguided away from the truth and engulfed in confusion, because of the doubts and uncertainty they are in. This description befits every disbeliever and innovator of all types and forms of sects. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire), meaning, just as they were consumed in doubt, suspicion and hesitation, they ended up in the Fire. And just as they were misguided, they will end up being dragged on their faces, unaware of where they will be taken. They will be admonished and criticized,
ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
("Taste you the touch of Hell!")
Everything was created with Qadar
Allah's statement,
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, We have created all things with Qadar.) is similar to several other Ayat,
وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً
(He has created everything, and has measured it exactly according to its due measurements (Faqaddarahu Taqdir).) (25:2) and,
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الاّعْلَى - الَّذِى خَلَقَ فَسَوَّى - وَالَّذِى قَدَّرَ فَهَدَى
(Glorify the Name of your Lord, the Most High. Who has created (everything), and then proportioned it. And Who has measured (Qaddara) and then guided.)(87:1-3), i.e., He measured out the total sum (Qadar) of everything and then guided the creation to it. The Imams of the Sunnah relied on this honorable Ayah as evidence that Allah created the creation with destined limits before they were created. He knew everything that will occur before it occurred and recorded everything that will occur, before they occurred. They used this Ayah and similar Ayat and Hadiths to refute the Qadariyyah sect, who started their sect during the latter time of the Companions. I mentioned this subject in detail in my explanation on the chapter on faith of Sahih Al-Bukhari. I will mention here some Hadiths pertaining to this honorable Ayah. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said, "The idolators of the Quraysh came to the Messenger of Allah ﷺ arguing with him and discounting the Qadar. This Ayah was revealed,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Muslim, At-Tirmidhi and Ibn Majah collected this Hadith. Al-Bazzar recorded that `Amr bin Shu`ayb said that his father narrated that his grandfather said, "These Ayat were revealed about those who deny Al-Qadar,
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَـلٍ وَسُعُرٍ - يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
(Verily, the criminals are in error and will burn. The Day they will be dragged on their faces into the Fire: "Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.)" Ibn Abi Hatim also recorded that Zurarah said that his father said that the Prophet recited this Ayah,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) and then said,
«نَزَلَتْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ الله»
(These Ayat were revealed about some members of my Ummah. They will come before the end of time and deny Al-Qadar.) Ata' bin Abi Rabah said, "I went to Ibn `Abbas and found him drawing water from the well of Zamzam. The bottom of his clothes were wet with the water of Zamzam and I said to him, `They talked about Al-Qadar (some denied it).' He asked, `Have they done this' I said, `Yes.' He said, `By Allah! This Ayah was revealed only about them,
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ - إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَـهُ بِقَدَرٍ
("Taste you the touch of Hell!" Verily, We have created all things with Qadar.) They are the worst members of this Ummah. Do not visit those who fall ill among them or pray the Funeral prayer for those among them who die. If I saw one of them, I would pluck out his eyes with these two fingers of mine."' Imam Ahmad recorded that Nafi` said, " `Abdullah bin `Umar had a friend in the area of Ash-Sham who used to write to him. `Abdullah bin `Umar wrote to him, `I was told that you started talking about Al-Qadar. Therefore, do not dare write to me any more. I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَر»
(There will be some members of my Ummah who will deny Al-Qadar.)" Abu Dawud collected this Hadith from Ahmad bin Hanbal. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتْى الْعَجْزُ وَالْكَيْس»
(Every thing is predetermined, even laziness and intelligence.) Muslim collected this Hadith using a chain of narration through Imam Malik. There is also an authentic Hadith in which the Messenger of Allah ﷺ said,
«اسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَمْرٌ فَقُلْ: قَدَّرَ اللهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، وَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا لَكَانَ كَذَا، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَان»
(Seek the help of Allah and do not succumb to feebleness. And when an affliction strikes you, say, "Allah has decreed this, and He does as He wills." Do not say, "Had I done this or that, this or that would have happened, because "if" opens the door wide for the work of Ash-Shaytan.)" In a Hadith from `Abbas, the Messenger of Allah ﷺ said to him,
«وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ، جَفَّتِ الْأَقْلَامُ وَطُوِيَتِ الصُّحُف»
(Know that if the Ummah were to all gather their strength to cause you some benefit that Allah has not decreed for you, they will never be able to bring you that benefit. And if they gather their strength to bring a harm to you that Allah has not written on you, they will never be able to harm you. The pens have gone dry and the Books of Record have been closed.) Imam Ahmad recorded that Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah said that his father said to him, "I went to `Ubadah when he was ill, and I thought that he was going to die. So I said, `O my father, advise us and make the best effort in this regard.' He said, `Help me sit up,' and when he was helped up, he said, `O my son! Know that you will not taste the delight of Faith or earn true knowledge in Allah until you believe in Al-Qadar, the good and the not so good parts of it.' I asked, `O my father! How can I know (or believe in) Al-Qadar, the good and the not so good parts of it' He said, `When you know that what has missed you, would never have come to you and what has befallen you would never have missed you. O my son! I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة»
(The first thing Allah created was the Pen, right after that commanded it, `Record!' and the Pen recorded everything that will occur until the Day of Resurrection.) O my son! If you die not having this belief, you will enter the Hellfire."' At-Tirmidhi also recorded it and said: "Hasan Sahih Gharib." It is confirmed in Sahih Muslim from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّ اللهَ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلْقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة»
(Verily, Allah recorded the measurements for the creatures fifty thousand years before He created the heavens and earth.) Ibn Wahb added,
وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَآءِ
(And His Throne was over the water.)(11:7) At-Tirmidhi also recorded it, and he said: "Hasan, Sahih Gharib."
A Warning to beware of Allah's Threats
Allah said,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
(And Our commandment is but one as the twinkling of an eye.) This is information about the execution of His will in His creation, just as He informed us the execution of His decree in them,
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ
(And Our commandment is but one) meaning, `We only command a thing once, without needing to repeat the command; and whatever We command comes to existence faster than the blinking of an eye without any delay, not even for an instant.' Allah said,
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَـعَكُمْ
(And indeed, We have destroyed your likes), i.e. the earlier nations who denied their Messengers,
فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
(then is there any that will remember) meaning, is there any that will receive admonition by remembering the humiliation and torment that Allah decreed for them
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَـعِهِم مِّن قَبْلُ
(And a barrier will be set between them and that which they desire, as was done in the past with the people of their kind.)(34:54) Allah's statement,
وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ
(And everything they have done is noted in Az-Zubur.) meaning, everything they did is recorded in the Books of Record entrusted to the angels, peace be upon them,
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ
(And everything, small and large,) meaning, of their actions,
مُّسْتَطَرٌ
(is written down.) everything that they do is recorded and written in their Record of deeds, which leave nothing, whether large or small, but it is recorded and counted. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا»
(O `A'ishah! Beware of small sins, because there is someone assigned by Allah who records them.) An-Nasa'i and Ibn Majah also collected this Hadith.
The Good End for Those with Taqwa
Allah said,
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـتٍ وَنَهَرٍ
(Verily, those who have Taqwa, will be in the midst of Gardens and Rivers.), unlike the end that the miserable are facing, loss, confusion and being dragged in the Fire on their faces, as well as being disgraced, punished and threatened. Allah said,
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ
(In a seat of truth,) in the Dwelling of Allah's honor, encompassed by His pleasure, favors, bounties, generosity and compassion,
عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرِ
(near the Muqtadir King.) meaning with the Magnificent King Who created everything and measured its destiny; He is able to grant them whatever they wish and ask for. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Prophet said,
«الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمنِ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا»
(Verily, the just will be with Allah on podiums of light, to the right of Ar-Rahman, and both of His Hands are right. They are those who are just and fair in their judgement and with their families and those whom they are responsible for.) Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith.
This is the end of the Tafsir of Surah Iqtarabat (Al-Qamar). All praise and thanks are due to Allah, and success and immunity from error come from Him.
شکوک و شبہات کے مریض لوگ بدکار لوگ گمراہ ہوچکے ہیں راہ حق سے بھٹک چکے ہیں اور شکوک و اضطراب کے خیالات میں ہیں۔ یہ لوگ خواہ کفار ہوں خواہ اور فرقوں کے بدعتی ہوں۔ ان کا یہ فعل انہیں اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹوائے گا اور جس طرح یہاں غافل ہیں وہاں اس وقت بھی بیخبر ہوں گے کہ نہ معلوم کس طرف لئے جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہا جائے گا کہ اب آتش دوزخ کے لگنے کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو طے شدہ منصوبہ سے پیدا کیا ہے جیسے اور آیت میں ہے ہر چیز کو ہم نے پیدا کیا پھر اس کا مقدر مقرر کیا۔ اور جگہ فرمایا اپنے رب کی جو بلند وبالا ہے پاکی بیان کر جس نے پیدا کیا اور درست کیا اور محور عمل مقرر کیا اور راہ دکھائی۔ یعنی تقدیر مقرر کی پھر اس کی طرف رہنمائی کی ائمہ اہل سنت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر ان کی پیدائش سے پہلے ہی لکھ دی ہے یعنی ہر چیز اپنے ظہور سے پہلے اللہ کے ہاں لکھی جا چکی ہے فرقہ قدریہ اس کا منکر ہے یہ لوگ صحابہ کے آخر زمانہ میں ہی نکل چکے تھے۔ اہل سنت ان کے مسلک کے خلاف اس قسم کی آیتوں کو پیش کرتے ہیں اور اس مضمون کی احادیث بھی اور اس مسئلہ کی مفصل بحث میں ہم صحیح بخاری کتاب الایمان کی شرح میں لکھ دی ہیں یہاں صرف وہ حدیثیں لکھتے ہیں جو مضمون آیت کے متعلق ہیں، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں مشرکین قریش رسول اللہ ﷺ سے تقدیر کے بارے میں بحث کرنے لگے اس پر یہ آیتیں اتریں (مسند احمد مسلم وغیرہ) بروایت حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی ہے کہ یہ آیتیں منکرین تقدیر کی تردید ہی میں اتری ہیں (بزار) ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا یہ میری امت کے ان لوگوں کے حق میں اتری ہے جو آخر زمانہ میں پیدا ہوں گے اور تقدیر کو جھٹلائیں گے۔ حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس کے پاس آیا آپ اس وقت چاہ زمزم سے پانی نکال رہے تھے آپ کے کپڑوں کے دامن بھیگے ہوئے تھے میں نے کہا تقدیر کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے لوگ اس مسئلہ میں موافق و مخالف ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا لوگوں نے واقعی ایسا ہی کیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ایسا ہو رہا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم یہ آیتیں انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں آیت (ذوقوا مس سقر انا کل شئی خلقناہ بقدر) یاد رکھو یہ لوگ اس امت کے بدترین لوگ ہیں ان کے بیماروں کی تیمارداری نہ کرو ان کے مردوں کے جنازے نہ پڑھو ان میں سے اگر کوئی مجھے مل جائے تو میں اپنی ان انگلیوں سے اس کی آنکھیں نکال دوں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے سامنے ذکر آیا کہ آج ایک شخص آیا ہے جو منکر تقدیر ہے فرمایا اچھا مجھے اس کے پاس لے چلو لوگوں نے کہا آپ نابینا ہے آپ اس کے پاس چل کر کیا کریں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میرا بس چلا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آگئی تو مروڑ دوں گا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بنو فہر کی عورتیں خزرج کے اردگرد طواف کرتی پھرتی ہیں ان کے جسم حرکت کرتے ہیں وہ مشرکہ عورتیں ہیں اس امت کا پہلا شرک یہی ہے اس رب کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی بےسمجھی یہاں تک بڑھے گی کہ اللہ تعالیٰ کو بھلائی کا مقرر کرنے والا بھی نہ مانیں گے جس طرح برائی کا مقدر کرنے والا نہ مانا (مسند احمد) حضرت عبداللہ بن عمر کا ایک دوست شامی تھا جس سے آپ کی خط و کتابت تھی حضرت عبداللہ نے کہیں سے سن پایا کہ وہ تقدیر کے بارے میں کچھ موشگافیاں کرتا ہے آپ نے جھٹ سے اسے خط لکھا کہ میں نے سنا ہے تو تقدیر کے مسئلہ میں کچھ کلام کرتا ہے اگر یہ سچ ہے تو بس مجھ سے خط و کتابت کی امید نہ رکھنا آج سے بند سمجھنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں تقدیر کو جھٹلانے والے لوگ ہوں گے (ابو داؤد) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہوں اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازے نہ پڑھو (مسند احمد) اس امت میں مسخ ہوگا یعنی لوگوں کی صورتیں بدل دی جائیں گی یاد رکھو یہ ان میں ہوگا جو تقدیر کو جھٹلائیں اور زندیقیت کریں (ترمذی وغیرہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ایک کی تقدیر مقرر کردہ اندازے سے ہے یہاں تک کہ نادانی اور عقل مندی بھی (مسلم) صحیح حدیث میں ہے اللہ سے مدد طلب کر اور عاجز و بیوقوف نہ بن پھر اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہہ دے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تھا اور جو اللہ نے چاہا کیا پھر یوں نہ کہہ کہ اگر یوں کرتا تو یوں ہوتا اس لئے کہ اس طرح " اگر " کہنے سے شیطانی عمل کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ جان رکھ اگر تمام امت جمع ہو کر تجھے وہ نفع پہنچانا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو نہیں پہنچا سکتی اور اگر سب اتفاق کر کے تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں اور تیری تقدیر میں وہ نہ ہو تو نہیں پہنچا سکتے قلمیں خشک ہو چکیں اور دفتر لپیٹ کر تہہ کر دئیے گئے۔ حضرت ولید بن عبادہ نے اپنے باپ حضرت عبادہ بن صامت کی بیماری میں جبکہ ان کی حالت بالکل غیر تھی کہا کہ ابا جی ہمیں کچھ وصیت کر جائیے آپ نے فرمایا اچھا مجھے بٹھا دو جب لوگوں نے آپ کو بٹھا دیا تو آپ نے فرمایا اے میرے پیارے بچے ایمان کا لطف تجھے حاصل نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو علم تجھے ہے اس کی تہہ تک تو نہیں پہنچ سکتا جب تک تیرا ایمان تقدیر کی بھلائی برائی پر پکا نہ ہو میں نے پوچھا ابا جی میں یہ کیسے معلوم کرسکتا ہوں کہ میرا ایمان تقدیر کے خیر و شر پر پختہ ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ تجھے یقین ہو کہ جو تجھے نہ ملا وہ ملنے والا ہی نہیں اور جو تجھے پہنچا وہ ٹلنے والا ہی نہ تھا میرے بچو سنو ! میں نے رسول اللہ ﷺ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے فرمایا لکھ پس وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت تک جو ہونے والا تھا سب لکھ ڈالا اے بیٹے اگر تو انتقال کے وقت تک اس عقیدے پر نہ رہے تو تو جہنم میں داخل ہوگا ترمذی میں یہ حدیث ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں حسن صحیح غریب ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک کہ چار باتوں پر اس کا ایمان نہ ہو گواہی دے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں جسے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے اور مرنے کے بعد جینے پر ایمان رکھے اور تقدیر کی بھلائی برائی منجانب اللہ ہونے کو مانے (ترمذی وغیرہ) صحیح مسلم میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ پھر پروردگار عالم اپنی چاہت اور احکام کے بےروک ٹوک جاری اور پورا ہونے کو بیان فرماتا ہے کہ جس طرح جو کچھ میں نے مقدر کیا ہے وہ اگر وہی ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح جس کام کا میں ارادہ کروں صرف ایک دفعہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے دوبارہ تاکیدًا حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ایک آنکھ جھپکنے کے برابر وہ کام میری حسب چاہت ہوجاتا ہے عرب شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے اذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولۃً فیکون یعنی اللہ تعالیٰ جب کبھی جس کسی کام کا ارادہ کرتا ہے صرف فرما دیتا ہے کہ ہوجا وہ اسی وقت ہوجاتا ہے ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لئے نصیحت و تذکیر نہیں ؟ جیسے اور آیت میں فرمایا (وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54) 34۔ سبأ :54) یعنی ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے (نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ) حضرت سلیمان بن مغیرہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا جسے میں نے حقیر سمجھا رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے اے سلیمان لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا یعنی صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہوجائیں گے گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گذر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہوجا۔ کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہوجاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر۔ ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہوگا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہوگی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہوگا جو تمام چیزوں کا خالق ہے سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا مسند احمد میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے الحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورة اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔