القلم — Al qalam
Ayah 26 / 52 • Meccan
2,453
26
Al qalam
القلم • Meccan
فَلَمَّا رَأَوۡهَا قَالُوٓاْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
Then when they saw it, they said, “We have indeed strayed.”
پھر جب انہوں نے اس (ویران باغ) کو دیکھا تو کہنے لگے: ہم یقیناً راستہ بھول گئے ہیں (یہ ہمارا باغ نہیں ہے)
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ
Nuun* – by oath of the pen and by oath of what is written by it. (Alphabet of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
نون (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قلم کی قَسم اور اُس (مضمون) کی قَسم جو (فرشتے) لکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ن
(Nun), is like Allah's saying,
ص
(Sad), and Allah's saying,
ق
(Qaf), and similar to them from the individual letters that appear at the beginning of Qur'anic chapters. This has been dis- cussed at length previously and there is no need to repeat it here.
The Explanation of the Pen Concerning
Allah's statement,
وَالْقَلَمِ
(By the pen) The apparent meaning is that this refers to the actual pen that is used to write. This is like Allah's saying,
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ - الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not.) (96:3-5) Therefore, this statement is Allah's swearing and alerting His creatures to what He has favored them with by teaching them the skill of writing, through which knowledge is attained. Thus, Allah continues by saying,
وَمَا يَسْطُرُونَ
(and by what they Yastur.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah all said that this means, "what they write." As-Suddi said, "The angels and the deeds of the servants they record." Others said, "Rather, what is meant here is the pen which Allah caused to write the decree when He wrote the decrees of all creation, and this took place fifty-thousand years before He created the heavens and the earth." For this, they present Hadiths that have been reported about the Pen. Ibn Abi Hatim recorded from Al-Walid bin `Ubadah bin As-Samit that he said, "My father called for me when he was dying and he said to me: `Verily, I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَد»
(Verily, the first of what Allah created was the Pen, and He said to it: "Write." The Pen said: "O my Lord, what shall I write" He said: "Write the decree and whatever will throughout eternity.")" This Hadith has been recorded by Imam Ahmad through various routes of transmission. At-Tirmidhi also recorded it from a Hadith of Abu Dawud At-Tayalisi and he (At-Tirmidhi) said about it, "Hasan Sahih, Gharib."
Swearing by the Pen refers to the Greatness of the Prophet
Allah says,
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(You, by the grace of your Lord, are not insane.) meaning -- and all praise is due to Allah -- `you are not crazy as the ignorant among your people claim. They are those who deny the guidance and the clear truth that you have come with. Therefore, they attribute madness to you because of it.'
وَإِنَّ لَكَ لاّجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ
(And verily, for you will be reward that is not Mamnun.) meaning, `for you is the great reward, and abundant blessings which will never be cut off or perish, because you conveyed the Message of your Lord to creation, and you were patient with their abuse.' The meaning of:
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(not Mamnun) is that it will not be cut off. This is similar to Allah's statement,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108) and His statement,
فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Then they shall have a reward without end.) (95:6) Mujahid said,
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Without Mamnun) means "Without reckoning." And this refers back to what we have said before.
The Explanation of the Statement: "Verily, You are on an Exalted Character."
Concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "Verily, you are on a great religion, and it is Islam." Likewise said Mujahid, Abu Malik, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Ad-Dahhak and Ibn Zayd also said this. Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah that he said concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) "It has been mentioned to us that Sa`d bin Hisham asked `A'ishah about the character of the Messenger of Allah ﷺ, so she replied: `Have you not read the Qur'an' Sa`d said: `Of course.' Then she said: `Verily, the character of the Messenger of Allah ﷺ was the Qur'an."' `Abdur-Razzaq recorded similar to this and Imam Muslim recorded it in his Sahih on the authority of Qatadah in its full length. This means that he would act according to the commands and the prohibition in the Qur'an. His nature and character were patterned according to the Qur'an, and he abandoned his natural disposition (i.e., the carnal nature). So whatever the Qur'an commanded, he did it, and whatever it forbade, he avoided it. Along with this, Allah gave him the exalted character, which included the qualities of modesty, kindness, bravery, pardoning, gentleness and every other good characteristic. This is like that which has been confirmed in the Two Sahihs that Anas said, "I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and he never said a word of displeasure to me (Uff), nor did he ever say to me concerning something I had done: `Why did you do that' And he never said to me concerning something I had not done: `Why didn't you do this' He had the best character, and I never touched any silk or anything else that was softer than the palm of the Messenger of Allah ﷺ. And I never smelled any musk or perfume that had a better fragrance than the sweat of the Messenger of Allah ﷺ." Imam Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The Messenger of Allah ﷺ had the most handsome face of all the people, and he had the best behavior of all of the people. And he was not tall, nor was he short." The Hadiths concerning this matter are numerous. Abu `Isa At-Tirmidhi has a complete book on this subject called Kitab Ash-Shama'il. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ never struck a servant of his with his hand, nor did he ever hit a woman. He never hit anything with his hand, except for when he was fighting Jihad in the cause of Allah. And he was never given the option between two things except that the most beloved of the two to him was the easiest of them, as long as it did not involve sin. If it did involve sin, then he stayed farther away from sin than any of the people. He would not avenge himself concerning anything that was done to him, except if the limits of Allah were transgressed. Then, in that case he would avenge for the sake of Allah." Imam Ahmad also recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق»
(I have only been sent to perfect righteous behavior.) Ahmad was alone in recording this Hadith. In reference to Allah's statement,
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ - بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(You will see, and they will see, which of you is afflicted with madness.) then it means, `you will know, O Muhammad -- and those who oppose you and reject you, will know -- who is insane and misguided among you.' This is like Allah's statement,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26) Allah also says,
وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And verily (either) we or you are rightly guided or in plain error.) (34:24) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas, it means "You will know and they will know on the Day of Judgement." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;
بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(Which of you is Maftun (afflicted with madness) means which of you is crazy. This was also said by Mujahid and others as well. The literal meaning of Maftun is one who has been charmed or lured away from the truth and has strayed from it. Thus, the entire statement means, `so you will know and they will know,' or `you will be informed and they will be informed, as to which of you is afflicted with madness.' And Allah knows best. Then Allah says,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(Verily, your Lord is the best Knower of him who has gone astray from His path, and He is the best Knower of those who are guided.) meaning, `He knows which of the two groups are truly guided among you, and He knows the party that is astray from the truth.'
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کردیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں " ن " سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں ؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتایئے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر ؟حضور ﷺ نے فرمایا یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتادیں، ابن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ نے فرمایا سنو ! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے، دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا انہیں پانی کونسا ملے گا ؟ فرمایا سلسبیل نامی نہر کا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد " ن " سے نور کی تختی ہے ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے، ابن جریج فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " ن " سے مراد دولت ہے اور قلم سے مراد قلم ہے، حسن اور قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں، ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے نون کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " جو قیامت تک ہونے والا ہے، اعمال خواہ نیک ہوں خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کونسی چیز دنیا میں کب جائے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ رشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہوجاتا ہے عمر پوری ہوجاتی ہے اجل آپہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ آج کے دن کیا سامان ہے ؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لئے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مرگیا اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا آیت (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29) 45۔ الجاثية :29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ " ن " کے متعلق بیان، اب قلم کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے آیت (الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ ۙ) 96۔ العلق :4) یعنی اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے، اس لئے اس کے بعد فرمایا آیت (نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :1) یعنی اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے چالیس ہزار سال پہلے اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجر عظیم ہے اور ثواب بےپایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بےحساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے، حضرت عائشہ سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا، سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورة مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بنو سواد کے ایک شخص نے حضرت عائشہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت (وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) 68۔ القلم :4) پڑھی اس نے کہا کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے ام المومنین ؓ نے فرمایا سنو ! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ کے لئے کھانا پکایا اور حضرت حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حضرت حفصہ کے ہاں کا کھانا آجائے تو تو برتن گرا دینا چناچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، حضور ﷺ بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں (مسند احمد) مطلب اس حدیث کا جو کئی طرق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے یہ ہے کہ ایک تو آپ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں دوسرے آپ کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ نے مجھے اف تک نہیں کہا کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ حضور ﷺ سب سے زیادہ خوش خلق تھے حضور ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو ریشم ہے نہ کوئی اور چیز۔ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر (بخاری و مسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ کا قد نہ تو بہت لانبا تھا نہ آپ پست قامت تھے، اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا نہ بیوی بچوں کو نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ کو اختیار دیا جاتا تو آپ اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ اس سے بہت دور ہوجاتے، کبھی بھی حضور ﷺ نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لئے ضرور انتقام لیتے، مسند امد میں ہے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26) 54۔ القمر :26) انہیں ابھی کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24) 34۔ سبأ :24) ہم یا تم ہدایت پر ہیں ایک کھلی گمراہی پر حضرات ابن عباس فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ (مفتون) مجنون کو کہتے ہیں مجاہد وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے ؟ (مفتون) کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہوجائے (ایکم) پر (ب) کو اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہوجائے کہ آیت (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہوجائے گا کہ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی (مفتون) کی خبر دے دیں گے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے۔
مَآ أَنتَ بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُونٖ
You are not insane, by the munificence of your Lord.
(اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے رب کے فضل سے (ہرگز) دیوانے نہیں ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ن
(Nun), is like Allah's saying,
ص
(Sad), and Allah's saying,
ق
(Qaf), and similar to them from the individual letters that appear at the beginning of Qur'anic chapters. This has been dis- cussed at length previously and there is no need to repeat it here.
The Explanation of the Pen Concerning
Allah's statement,
وَالْقَلَمِ
(By the pen) The apparent meaning is that this refers to the actual pen that is used to write. This is like Allah's saying,
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ - الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not.) (96:3-5) Therefore, this statement is Allah's swearing and alerting His creatures to what He has favored them with by teaching them the skill of writing, through which knowledge is attained. Thus, Allah continues by saying,
وَمَا يَسْطُرُونَ
(and by what they Yastur.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah all said that this means, "what they write." As-Suddi said, "The angels and the deeds of the servants they record." Others said, "Rather, what is meant here is the pen which Allah caused to write the decree when He wrote the decrees of all creation, and this took place fifty-thousand years before He created the heavens and the earth." For this, they present Hadiths that have been reported about the Pen. Ibn Abi Hatim recorded from Al-Walid bin `Ubadah bin As-Samit that he said, "My father called for me when he was dying and he said to me: `Verily, I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَد»
(Verily, the first of what Allah created was the Pen, and He said to it: "Write." The Pen said: "O my Lord, what shall I write" He said: "Write the decree and whatever will throughout eternity.")" This Hadith has been recorded by Imam Ahmad through various routes of transmission. At-Tirmidhi also recorded it from a Hadith of Abu Dawud At-Tayalisi and he (At-Tirmidhi) said about it, "Hasan Sahih, Gharib."
Swearing by the Pen refers to the Greatness of the Prophet
Allah says,
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(You, by the grace of your Lord, are not insane.) meaning -- and all praise is due to Allah -- `you are not crazy as the ignorant among your people claim. They are those who deny the guidance and the clear truth that you have come with. Therefore, they attribute madness to you because of it.'
وَإِنَّ لَكَ لاّجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ
(And verily, for you will be reward that is not Mamnun.) meaning, `for you is the great reward, and abundant blessings which will never be cut off or perish, because you conveyed the Message of your Lord to creation, and you were patient with their abuse.' The meaning of:
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(not Mamnun) is that it will not be cut off. This is similar to Allah's statement,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108) and His statement,
فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Then they shall have a reward without end.) (95:6) Mujahid said,
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Without Mamnun) means "Without reckoning." And this refers back to what we have said before.
The Explanation of the Statement: "Verily, You are on an Exalted Character."
Concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "Verily, you are on a great religion, and it is Islam." Likewise said Mujahid, Abu Malik, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Ad-Dahhak and Ibn Zayd also said this. Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah that he said concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) "It has been mentioned to us that Sa`d bin Hisham asked `A'ishah about the character of the Messenger of Allah ﷺ, so she replied: `Have you not read the Qur'an' Sa`d said: `Of course.' Then she said: `Verily, the character of the Messenger of Allah ﷺ was the Qur'an."' `Abdur-Razzaq recorded similar to this and Imam Muslim recorded it in his Sahih on the authority of Qatadah in its full length. This means that he would act according to the commands and the prohibition in the Qur'an. His nature and character were patterned according to the Qur'an, and he abandoned his natural disposition (i.e., the carnal nature). So whatever the Qur'an commanded, he did it, and whatever it forbade, he avoided it. Along with this, Allah gave him the exalted character, which included the qualities of modesty, kindness, bravery, pardoning, gentleness and every other good characteristic. This is like that which has been confirmed in the Two Sahihs that Anas said, "I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and he never said a word of displeasure to me (Uff), nor did he ever say to me concerning something I had done: `Why did you do that' And he never said to me concerning something I had not done: `Why didn't you do this' He had the best character, and I never touched any silk or anything else that was softer than the palm of the Messenger of Allah ﷺ. And I never smelled any musk or perfume that had a better fragrance than the sweat of the Messenger of Allah ﷺ." Imam Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The Messenger of Allah ﷺ had the most handsome face of all the people, and he had the best behavior of all of the people. And he was not tall, nor was he short." The Hadiths concerning this matter are numerous. Abu `Isa At-Tirmidhi has a complete book on this subject called Kitab Ash-Shama'il. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ never struck a servant of his with his hand, nor did he ever hit a woman. He never hit anything with his hand, except for when he was fighting Jihad in the cause of Allah. And he was never given the option between two things except that the most beloved of the two to him was the easiest of them, as long as it did not involve sin. If it did involve sin, then he stayed farther away from sin than any of the people. He would not avenge himself concerning anything that was done to him, except if the limits of Allah were transgressed. Then, in that case he would avenge for the sake of Allah." Imam Ahmad also recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق»
(I have only been sent to perfect righteous behavior.) Ahmad was alone in recording this Hadith. In reference to Allah's statement,
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ - بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(You will see, and they will see, which of you is afflicted with madness.) then it means, `you will know, O Muhammad -- and those who oppose you and reject you, will know -- who is insane and misguided among you.' This is like Allah's statement,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26) Allah also says,
وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And verily (either) we or you are rightly guided or in plain error.) (34:24) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas, it means "You will know and they will know on the Day of Judgement." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;
بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(Which of you is Maftun (afflicted with madness) means which of you is crazy. This was also said by Mujahid and others as well. The literal meaning of Maftun is one who has been charmed or lured away from the truth and has strayed from it. Thus, the entire statement means, `so you will know and they will know,' or `you will be informed and they will be informed, as to which of you is afflicted with madness.' And Allah knows best. Then Allah says,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(Verily, your Lord is the best Knower of him who has gone astray from His path, and He is the best Knower of those who are guided.) meaning, `He knows which of the two groups are truly guided among you, and He knows the party that is astray from the truth.'
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کردیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں " ن " سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں ؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتایئے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر ؟حضور ﷺ نے فرمایا یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتادیں، ابن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ نے فرمایا سنو ! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے، دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا انہیں پانی کونسا ملے گا ؟ فرمایا سلسبیل نامی نہر کا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد " ن " سے نور کی تختی ہے ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے، ابن جریج فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " ن " سے مراد دولت ہے اور قلم سے مراد قلم ہے، حسن اور قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں، ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے نون کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " جو قیامت تک ہونے والا ہے، اعمال خواہ نیک ہوں خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کونسی چیز دنیا میں کب جائے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ رشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہوجاتا ہے عمر پوری ہوجاتی ہے اجل آپہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ آج کے دن کیا سامان ہے ؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لئے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مرگیا اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا آیت (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29) 45۔ الجاثية :29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ " ن " کے متعلق بیان، اب قلم کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے آیت (الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ ۙ) 96۔ العلق :4) یعنی اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے، اس لئے اس کے بعد فرمایا آیت (نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :1) یعنی اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے چالیس ہزار سال پہلے اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجر عظیم ہے اور ثواب بےپایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بےحساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے، حضرت عائشہ سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا، سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورة مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بنو سواد کے ایک شخص نے حضرت عائشہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت (وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) 68۔ القلم :4) پڑھی اس نے کہا کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے ام المومنین ؓ نے فرمایا سنو ! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ کے لئے کھانا پکایا اور حضرت حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حضرت حفصہ کے ہاں کا کھانا آجائے تو تو برتن گرا دینا چناچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، حضور ﷺ بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں (مسند احمد) مطلب اس حدیث کا جو کئی طرق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے یہ ہے کہ ایک تو آپ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں دوسرے آپ کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ نے مجھے اف تک نہیں کہا کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ حضور ﷺ سب سے زیادہ خوش خلق تھے حضور ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو ریشم ہے نہ کوئی اور چیز۔ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر (بخاری و مسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ کا قد نہ تو بہت لانبا تھا نہ آپ پست قامت تھے، اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا نہ بیوی بچوں کو نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ کو اختیار دیا جاتا تو آپ اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ اس سے بہت دور ہوجاتے، کبھی بھی حضور ﷺ نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لئے ضرور انتقام لیتے، مسند امد میں ہے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26) 54۔ القمر :26) انہیں ابھی کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24) 34۔ سبأ :24) ہم یا تم ہدایت پر ہیں ایک کھلی گمراہی پر حضرات ابن عباس فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ (مفتون) مجنون کو کہتے ہیں مجاہد وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے ؟ (مفتون) کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہوجائے (ایکم) پر (ب) کو اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہوجائے کہ آیت (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہوجائے گا کہ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی (مفتون) کی خبر دے دیں گے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے۔
وَإِنَّ لَكَ لَأَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُونٖ
And indeed for you is an unlimited reward.
اور بے شک آپ کے لئے ایسا اَجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ن
(Nun), is like Allah's saying,
ص
(Sad), and Allah's saying,
ق
(Qaf), and similar to them from the individual letters that appear at the beginning of Qur'anic chapters. This has been dis- cussed at length previously and there is no need to repeat it here.
The Explanation of the Pen Concerning
Allah's statement,
وَالْقَلَمِ
(By the pen) The apparent meaning is that this refers to the actual pen that is used to write. This is like Allah's saying,
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ - الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not.) (96:3-5) Therefore, this statement is Allah's swearing and alerting His creatures to what He has favored them with by teaching them the skill of writing, through which knowledge is attained. Thus, Allah continues by saying,
وَمَا يَسْطُرُونَ
(and by what they Yastur.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah all said that this means, "what they write." As-Suddi said, "The angels and the deeds of the servants they record." Others said, "Rather, what is meant here is the pen which Allah caused to write the decree when He wrote the decrees of all creation, and this took place fifty-thousand years before He created the heavens and the earth." For this, they present Hadiths that have been reported about the Pen. Ibn Abi Hatim recorded from Al-Walid bin `Ubadah bin As-Samit that he said, "My father called for me when he was dying and he said to me: `Verily, I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَد»
(Verily, the first of what Allah created was the Pen, and He said to it: "Write." The Pen said: "O my Lord, what shall I write" He said: "Write the decree and whatever will throughout eternity.")" This Hadith has been recorded by Imam Ahmad through various routes of transmission. At-Tirmidhi also recorded it from a Hadith of Abu Dawud At-Tayalisi and he (At-Tirmidhi) said about it, "Hasan Sahih, Gharib."
Swearing by the Pen refers to the Greatness of the Prophet
Allah says,
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(You, by the grace of your Lord, are not insane.) meaning -- and all praise is due to Allah -- `you are not crazy as the ignorant among your people claim. They are those who deny the guidance and the clear truth that you have come with. Therefore, they attribute madness to you because of it.'
وَإِنَّ لَكَ لاّجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ
(And verily, for you will be reward that is not Mamnun.) meaning, `for you is the great reward, and abundant blessings which will never be cut off or perish, because you conveyed the Message of your Lord to creation, and you were patient with their abuse.' The meaning of:
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(not Mamnun) is that it will not be cut off. This is similar to Allah's statement,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108) and His statement,
فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Then they shall have a reward without end.) (95:6) Mujahid said,
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Without Mamnun) means "Without reckoning." And this refers back to what we have said before.
The Explanation of the Statement: "Verily, You are on an Exalted Character."
Concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "Verily, you are on a great religion, and it is Islam." Likewise said Mujahid, Abu Malik, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Ad-Dahhak and Ibn Zayd also said this. Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah that he said concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) "It has been mentioned to us that Sa`d bin Hisham asked `A'ishah about the character of the Messenger of Allah ﷺ, so she replied: `Have you not read the Qur'an' Sa`d said: `Of course.' Then she said: `Verily, the character of the Messenger of Allah ﷺ was the Qur'an."' `Abdur-Razzaq recorded similar to this and Imam Muslim recorded it in his Sahih on the authority of Qatadah in its full length. This means that he would act according to the commands and the prohibition in the Qur'an. His nature and character were patterned according to the Qur'an, and he abandoned his natural disposition (i.e., the carnal nature). So whatever the Qur'an commanded, he did it, and whatever it forbade, he avoided it. Along with this, Allah gave him the exalted character, which included the qualities of modesty, kindness, bravery, pardoning, gentleness and every other good characteristic. This is like that which has been confirmed in the Two Sahihs that Anas said, "I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and he never said a word of displeasure to me (Uff), nor did he ever say to me concerning something I had done: `Why did you do that' And he never said to me concerning something I had not done: `Why didn't you do this' He had the best character, and I never touched any silk or anything else that was softer than the palm of the Messenger of Allah ﷺ. And I never smelled any musk or perfume that had a better fragrance than the sweat of the Messenger of Allah ﷺ." Imam Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The Messenger of Allah ﷺ had the most handsome face of all the people, and he had the best behavior of all of the people. And he was not tall, nor was he short." The Hadiths concerning this matter are numerous. Abu `Isa At-Tirmidhi has a complete book on this subject called Kitab Ash-Shama'il. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ never struck a servant of his with his hand, nor did he ever hit a woman. He never hit anything with his hand, except for when he was fighting Jihad in the cause of Allah. And he was never given the option between two things except that the most beloved of the two to him was the easiest of them, as long as it did not involve sin. If it did involve sin, then he stayed farther away from sin than any of the people. He would not avenge himself concerning anything that was done to him, except if the limits of Allah were transgressed. Then, in that case he would avenge for the sake of Allah." Imam Ahmad also recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق»
(I have only been sent to perfect righteous behavior.) Ahmad was alone in recording this Hadith. In reference to Allah's statement,
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ - بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(You will see, and they will see, which of you is afflicted with madness.) then it means, `you will know, O Muhammad -- and those who oppose you and reject you, will know -- who is insane and misguided among you.' This is like Allah's statement,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26) Allah also says,
وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And verily (either) we or you are rightly guided or in plain error.) (34:24) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas, it means "You will know and they will know on the Day of Judgement." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;
بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(Which of you is Maftun (afflicted with madness) means which of you is crazy. This was also said by Mujahid and others as well. The literal meaning of Maftun is one who has been charmed or lured away from the truth and has strayed from it. Thus, the entire statement means, `so you will know and they will know,' or `you will be informed and they will be informed, as to which of you is afflicted with madness.' And Allah knows best. Then Allah says,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(Verily, your Lord is the best Knower of him who has gone astray from His path, and He is the best Knower of those who are guided.) meaning, `He knows which of the two groups are truly guided among you, and He knows the party that is astray from the truth.'
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کردیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں " ن " سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں ؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتایئے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر ؟حضور ﷺ نے فرمایا یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتادیں، ابن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ نے فرمایا سنو ! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے، دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا انہیں پانی کونسا ملے گا ؟ فرمایا سلسبیل نامی نہر کا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد " ن " سے نور کی تختی ہے ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے، ابن جریج فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " ن " سے مراد دولت ہے اور قلم سے مراد قلم ہے، حسن اور قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں، ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے نون کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " جو قیامت تک ہونے والا ہے، اعمال خواہ نیک ہوں خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کونسی چیز دنیا میں کب جائے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ رشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہوجاتا ہے عمر پوری ہوجاتی ہے اجل آپہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ آج کے دن کیا سامان ہے ؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لئے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مرگیا اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا آیت (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29) 45۔ الجاثية :29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ " ن " کے متعلق بیان، اب قلم کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے آیت (الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ ۙ) 96۔ العلق :4) یعنی اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے، اس لئے اس کے بعد فرمایا آیت (نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :1) یعنی اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے چالیس ہزار سال پہلے اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجر عظیم ہے اور ثواب بےپایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بےحساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے، حضرت عائشہ سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا، سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورة مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بنو سواد کے ایک شخص نے حضرت عائشہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت (وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) 68۔ القلم :4) پڑھی اس نے کہا کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے ام المومنین ؓ نے فرمایا سنو ! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ کے لئے کھانا پکایا اور حضرت حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حضرت حفصہ کے ہاں کا کھانا آجائے تو تو برتن گرا دینا چناچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، حضور ﷺ بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں (مسند احمد) مطلب اس حدیث کا جو کئی طرق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے یہ ہے کہ ایک تو آپ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں دوسرے آپ کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ نے مجھے اف تک نہیں کہا کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ حضور ﷺ سب سے زیادہ خوش خلق تھے حضور ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو ریشم ہے نہ کوئی اور چیز۔ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر (بخاری و مسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ کا قد نہ تو بہت لانبا تھا نہ آپ پست قامت تھے، اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا نہ بیوی بچوں کو نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ کو اختیار دیا جاتا تو آپ اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ اس سے بہت دور ہوجاتے، کبھی بھی حضور ﷺ نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لئے ضرور انتقام لیتے، مسند امد میں ہے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26) 54۔ القمر :26) انہیں ابھی کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24) 34۔ سبأ :24) ہم یا تم ہدایت پر ہیں ایک کھلی گمراہی پر حضرات ابن عباس فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ (مفتون) مجنون کو کہتے ہیں مجاہد وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے ؟ (مفتون) کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہوجائے (ایکم) پر (ب) کو اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہوجائے کہ آیت (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہوجائے گا کہ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی (مفتون) کی خبر دے دیں گے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے۔
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ
And indeed you possess an exemplary character.
اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ن
(Nun), is like Allah's saying,
ص
(Sad), and Allah's saying,
ق
(Qaf), and similar to them from the individual letters that appear at the beginning of Qur'anic chapters. This has been dis- cussed at length previously and there is no need to repeat it here.
The Explanation of the Pen Concerning
Allah's statement,
وَالْقَلَمِ
(By the pen) The apparent meaning is that this refers to the actual pen that is used to write. This is like Allah's saying,
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ - الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not.) (96:3-5) Therefore, this statement is Allah's swearing and alerting His creatures to what He has favored them with by teaching them the skill of writing, through which knowledge is attained. Thus, Allah continues by saying,
وَمَا يَسْطُرُونَ
(and by what they Yastur.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah all said that this means, "what they write." As-Suddi said, "The angels and the deeds of the servants they record." Others said, "Rather, what is meant here is the pen which Allah caused to write the decree when He wrote the decrees of all creation, and this took place fifty-thousand years before He created the heavens and the earth." For this, they present Hadiths that have been reported about the Pen. Ibn Abi Hatim recorded from Al-Walid bin `Ubadah bin As-Samit that he said, "My father called for me when he was dying and he said to me: `Verily, I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَد»
(Verily, the first of what Allah created was the Pen, and He said to it: "Write." The Pen said: "O my Lord, what shall I write" He said: "Write the decree and whatever will throughout eternity.")" This Hadith has been recorded by Imam Ahmad through various routes of transmission. At-Tirmidhi also recorded it from a Hadith of Abu Dawud At-Tayalisi and he (At-Tirmidhi) said about it, "Hasan Sahih, Gharib."
Swearing by the Pen refers to the Greatness of the Prophet
Allah says,
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(You, by the grace of your Lord, are not insane.) meaning -- and all praise is due to Allah -- `you are not crazy as the ignorant among your people claim. They are those who deny the guidance and the clear truth that you have come with. Therefore, they attribute madness to you because of it.'
وَإِنَّ لَكَ لاّجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ
(And verily, for you will be reward that is not Mamnun.) meaning, `for you is the great reward, and abundant blessings which will never be cut off or perish, because you conveyed the Message of your Lord to creation, and you were patient with their abuse.' The meaning of:
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(not Mamnun) is that it will not be cut off. This is similar to Allah's statement,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108) and His statement,
فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Then they shall have a reward without end.) (95:6) Mujahid said,
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Without Mamnun) means "Without reckoning." And this refers back to what we have said before.
The Explanation of the Statement: "Verily, You are on an Exalted Character."
Concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "Verily, you are on a great religion, and it is Islam." Likewise said Mujahid, Abu Malik, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Ad-Dahhak and Ibn Zayd also said this. Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah that he said concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) "It has been mentioned to us that Sa`d bin Hisham asked `A'ishah about the character of the Messenger of Allah ﷺ, so she replied: `Have you not read the Qur'an' Sa`d said: `Of course.' Then she said: `Verily, the character of the Messenger of Allah ﷺ was the Qur'an."' `Abdur-Razzaq recorded similar to this and Imam Muslim recorded it in his Sahih on the authority of Qatadah in its full length. This means that he would act according to the commands and the prohibition in the Qur'an. His nature and character were patterned according to the Qur'an, and he abandoned his natural disposition (i.e., the carnal nature). So whatever the Qur'an commanded, he did it, and whatever it forbade, he avoided it. Along with this, Allah gave him the exalted character, which included the qualities of modesty, kindness, bravery, pardoning, gentleness and every other good characteristic. This is like that which has been confirmed in the Two Sahihs that Anas said, "I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and he never said a word of displeasure to me (Uff), nor did he ever say to me concerning something I had done: `Why did you do that' And he never said to me concerning something I had not done: `Why didn't you do this' He had the best character, and I never touched any silk or anything else that was softer than the palm of the Messenger of Allah ﷺ. And I never smelled any musk or perfume that had a better fragrance than the sweat of the Messenger of Allah ﷺ." Imam Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The Messenger of Allah ﷺ had the most handsome face of all the people, and he had the best behavior of all of the people. And he was not tall, nor was he short." The Hadiths concerning this matter are numerous. Abu `Isa At-Tirmidhi has a complete book on this subject called Kitab Ash-Shama'il. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ never struck a servant of his with his hand, nor did he ever hit a woman. He never hit anything with his hand, except for when he was fighting Jihad in the cause of Allah. And he was never given the option between two things except that the most beloved of the two to him was the easiest of them, as long as it did not involve sin. If it did involve sin, then he stayed farther away from sin than any of the people. He would not avenge himself concerning anything that was done to him, except if the limits of Allah were transgressed. Then, in that case he would avenge for the sake of Allah." Imam Ahmad also recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق»
(I have only been sent to perfect righteous behavior.) Ahmad was alone in recording this Hadith. In reference to Allah's statement,
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ - بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(You will see, and they will see, which of you is afflicted with madness.) then it means, `you will know, O Muhammad -- and those who oppose you and reject you, will know -- who is insane and misguided among you.' This is like Allah's statement,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26) Allah also says,
وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And verily (either) we or you are rightly guided or in plain error.) (34:24) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas, it means "You will know and they will know on the Day of Judgement." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;
بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(Which of you is Maftun (afflicted with madness) means which of you is crazy. This was also said by Mujahid and others as well. The literal meaning of Maftun is one who has been charmed or lured away from the truth and has strayed from it. Thus, the entire statement means, `so you will know and they will know,' or `you will be informed and they will be informed, as to which of you is afflicted with madness.' And Allah knows best. Then Allah says,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(Verily, your Lord is the best Knower of him who has gone astray from His path, and He is the best Knower of those who are guided.) meaning, `He knows which of the two groups are truly guided among you, and He knows the party that is astray from the truth.'
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کردیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں " ن " سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں ؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتایئے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر ؟حضور ﷺ نے فرمایا یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتادیں، ابن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ نے فرمایا سنو ! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے، دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا انہیں پانی کونسا ملے گا ؟ فرمایا سلسبیل نامی نہر کا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد " ن " سے نور کی تختی ہے ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے، ابن جریج فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " ن " سے مراد دولت ہے اور قلم سے مراد قلم ہے، حسن اور قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں، ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے نون کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " جو قیامت تک ہونے والا ہے، اعمال خواہ نیک ہوں خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کونسی چیز دنیا میں کب جائے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ رشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہوجاتا ہے عمر پوری ہوجاتی ہے اجل آپہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ آج کے دن کیا سامان ہے ؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لئے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مرگیا اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا آیت (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29) 45۔ الجاثية :29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ " ن " کے متعلق بیان، اب قلم کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے آیت (الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ ۙ) 96۔ العلق :4) یعنی اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے، اس لئے اس کے بعد فرمایا آیت (نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :1) یعنی اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے چالیس ہزار سال پہلے اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجر عظیم ہے اور ثواب بےپایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بےحساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے، حضرت عائشہ سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا، سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورة مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بنو سواد کے ایک شخص نے حضرت عائشہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت (وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) 68۔ القلم :4) پڑھی اس نے کہا کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے ام المومنین ؓ نے فرمایا سنو ! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ کے لئے کھانا پکایا اور حضرت حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حضرت حفصہ کے ہاں کا کھانا آجائے تو تو برتن گرا دینا چناچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، حضور ﷺ بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں (مسند احمد) مطلب اس حدیث کا جو کئی طرق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے یہ ہے کہ ایک تو آپ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں دوسرے آپ کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ نے مجھے اف تک نہیں کہا کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ حضور ﷺ سب سے زیادہ خوش خلق تھے حضور ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو ریشم ہے نہ کوئی اور چیز۔ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر (بخاری و مسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ کا قد نہ تو بہت لانبا تھا نہ آپ پست قامت تھے، اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا نہ بیوی بچوں کو نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ کو اختیار دیا جاتا تو آپ اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ اس سے بہت دور ہوجاتے، کبھی بھی حضور ﷺ نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لئے ضرور انتقام لیتے، مسند امد میں ہے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26) 54۔ القمر :26) انہیں ابھی کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24) 34۔ سبأ :24) ہم یا تم ہدایت پر ہیں ایک کھلی گمراہی پر حضرات ابن عباس فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ (مفتون) مجنون کو کہتے ہیں مجاہد وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے ؟ (مفتون) کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہوجائے (ایکم) پر (ب) کو اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہوجائے کہ آیت (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہوجائے گا کہ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی (مفتون) کی خبر دے دیں گے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے۔
فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُونَ
So very soon, you will see and they too will realise –
پس عنقریب آپ (بھی) دیکھ لیں گے اور وہ (بھی) دیکھ لیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ن
(Nun), is like Allah's saying,
ص
(Sad), and Allah's saying,
ق
(Qaf), and similar to them from the individual letters that appear at the beginning of Qur'anic chapters. This has been dis- cussed at length previously and there is no need to repeat it here.
The Explanation of the Pen Concerning
Allah's statement,
وَالْقَلَمِ
(By the pen) The apparent meaning is that this refers to the actual pen that is used to write. This is like Allah's saying,
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ - الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not.) (96:3-5) Therefore, this statement is Allah's swearing and alerting His creatures to what He has favored them with by teaching them the skill of writing, through which knowledge is attained. Thus, Allah continues by saying,
وَمَا يَسْطُرُونَ
(and by what they Yastur.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah all said that this means, "what they write." As-Suddi said, "The angels and the deeds of the servants they record." Others said, "Rather, what is meant here is the pen which Allah caused to write the decree when He wrote the decrees of all creation, and this took place fifty-thousand years before He created the heavens and the earth." For this, they present Hadiths that have been reported about the Pen. Ibn Abi Hatim recorded from Al-Walid bin `Ubadah bin As-Samit that he said, "My father called for me when he was dying and he said to me: `Verily, I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَد»
(Verily, the first of what Allah created was the Pen, and He said to it: "Write." The Pen said: "O my Lord, what shall I write" He said: "Write the decree and whatever will throughout eternity.")" This Hadith has been recorded by Imam Ahmad through various routes of transmission. At-Tirmidhi also recorded it from a Hadith of Abu Dawud At-Tayalisi and he (At-Tirmidhi) said about it, "Hasan Sahih, Gharib."
Swearing by the Pen refers to the Greatness of the Prophet
Allah says,
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(You, by the grace of your Lord, are not insane.) meaning -- and all praise is due to Allah -- `you are not crazy as the ignorant among your people claim. They are those who deny the guidance and the clear truth that you have come with. Therefore, they attribute madness to you because of it.'
وَإِنَّ لَكَ لاّجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ
(And verily, for you will be reward that is not Mamnun.) meaning, `for you is the great reward, and abundant blessings which will never be cut off or perish, because you conveyed the Message of your Lord to creation, and you were patient with their abuse.' The meaning of:
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(not Mamnun) is that it will not be cut off. This is similar to Allah's statement,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108) and His statement,
فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Then they shall have a reward without end.) (95:6) Mujahid said,
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Without Mamnun) means "Without reckoning." And this refers back to what we have said before.
The Explanation of the Statement: "Verily, You are on an Exalted Character."
Concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "Verily, you are on a great religion, and it is Islam." Likewise said Mujahid, Abu Malik, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Ad-Dahhak and Ibn Zayd also said this. Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah that he said concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) "It has been mentioned to us that Sa`d bin Hisham asked `A'ishah about the character of the Messenger of Allah ﷺ, so she replied: `Have you not read the Qur'an' Sa`d said: `Of course.' Then she said: `Verily, the character of the Messenger of Allah ﷺ was the Qur'an."' `Abdur-Razzaq recorded similar to this and Imam Muslim recorded it in his Sahih on the authority of Qatadah in its full length. This means that he would act according to the commands and the prohibition in the Qur'an. His nature and character were patterned according to the Qur'an, and he abandoned his natural disposition (i.e., the carnal nature). So whatever the Qur'an commanded, he did it, and whatever it forbade, he avoided it. Along with this, Allah gave him the exalted character, which included the qualities of modesty, kindness, bravery, pardoning, gentleness and every other good characteristic. This is like that which has been confirmed in the Two Sahihs that Anas said, "I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and he never said a word of displeasure to me (Uff), nor did he ever say to me concerning something I had done: `Why did you do that' And he never said to me concerning something I had not done: `Why didn't you do this' He had the best character, and I never touched any silk or anything else that was softer than the palm of the Messenger of Allah ﷺ. And I never smelled any musk or perfume that had a better fragrance than the sweat of the Messenger of Allah ﷺ." Imam Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The Messenger of Allah ﷺ had the most handsome face of all the people, and he had the best behavior of all of the people. And he was not tall, nor was he short." The Hadiths concerning this matter are numerous. Abu `Isa At-Tirmidhi has a complete book on this subject called Kitab Ash-Shama'il. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ never struck a servant of his with his hand, nor did he ever hit a woman. He never hit anything with his hand, except for when he was fighting Jihad in the cause of Allah. And he was never given the option between two things except that the most beloved of the two to him was the easiest of them, as long as it did not involve sin. If it did involve sin, then he stayed farther away from sin than any of the people. He would not avenge himself concerning anything that was done to him, except if the limits of Allah were transgressed. Then, in that case he would avenge for the sake of Allah." Imam Ahmad also recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق»
(I have only been sent to perfect righteous behavior.) Ahmad was alone in recording this Hadith. In reference to Allah's statement,
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ - بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(You will see, and they will see, which of you is afflicted with madness.) then it means, `you will know, O Muhammad -- and those who oppose you and reject you, will know -- who is insane and misguided among you.' This is like Allah's statement,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26) Allah also says,
وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And verily (either) we or you are rightly guided or in plain error.) (34:24) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas, it means "You will know and they will know on the Day of Judgement." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;
بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(Which of you is Maftun (afflicted with madness) means which of you is crazy. This was also said by Mujahid and others as well. The literal meaning of Maftun is one who has been charmed or lured away from the truth and has strayed from it. Thus, the entire statement means, `so you will know and they will know,' or `you will be informed and they will be informed, as to which of you is afflicted with madness.' And Allah knows best. Then Allah says,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(Verily, your Lord is the best Knower of him who has gone astray from His path, and He is the best Knower of those who are guided.) meaning, `He knows which of the two groups are truly guided among you, and He knows the party that is astray from the truth.'
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کردیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں " ن " سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں ؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتایئے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر ؟حضور ﷺ نے فرمایا یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتادیں، ابن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ نے فرمایا سنو ! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے، دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا انہیں پانی کونسا ملے گا ؟ فرمایا سلسبیل نامی نہر کا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد " ن " سے نور کی تختی ہے ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے، ابن جریج فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " ن " سے مراد دولت ہے اور قلم سے مراد قلم ہے، حسن اور قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں، ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے نون کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " جو قیامت تک ہونے والا ہے، اعمال خواہ نیک ہوں خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کونسی چیز دنیا میں کب جائے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ رشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہوجاتا ہے عمر پوری ہوجاتی ہے اجل آپہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ آج کے دن کیا سامان ہے ؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لئے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مرگیا اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا آیت (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29) 45۔ الجاثية :29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ " ن " کے متعلق بیان، اب قلم کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے آیت (الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ ۙ) 96۔ العلق :4) یعنی اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے، اس لئے اس کے بعد فرمایا آیت (نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :1) یعنی اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے چالیس ہزار سال پہلے اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجر عظیم ہے اور ثواب بےپایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بےحساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے، حضرت عائشہ سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا، سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورة مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بنو سواد کے ایک شخص نے حضرت عائشہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت (وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) 68۔ القلم :4) پڑھی اس نے کہا کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے ام المومنین ؓ نے فرمایا سنو ! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ کے لئے کھانا پکایا اور حضرت حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حضرت حفصہ کے ہاں کا کھانا آجائے تو تو برتن گرا دینا چناچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، حضور ﷺ بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں (مسند احمد) مطلب اس حدیث کا جو کئی طرق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے یہ ہے کہ ایک تو آپ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں دوسرے آپ کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ نے مجھے اف تک نہیں کہا کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ حضور ﷺ سب سے زیادہ خوش خلق تھے حضور ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو ریشم ہے نہ کوئی اور چیز۔ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر (بخاری و مسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ کا قد نہ تو بہت لانبا تھا نہ آپ پست قامت تھے، اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا نہ بیوی بچوں کو نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ کو اختیار دیا جاتا تو آپ اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ اس سے بہت دور ہوجاتے، کبھی بھی حضور ﷺ نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لئے ضرور انتقام لیتے، مسند امد میں ہے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26) 54۔ القمر :26) انہیں ابھی کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24) 34۔ سبأ :24) ہم یا تم ہدایت پر ہیں ایک کھلی گمراہی پر حضرات ابن عباس فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ (مفتون) مجنون کو کہتے ہیں مجاہد وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے ؟ (مفتون) کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہوجائے (ایکم) پر (ب) کو اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہوجائے کہ آیت (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہوجائے گا کہ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی (مفتون) کی خبر دے دیں گے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے۔
بِأَييِّكُمُ ٱلۡمَفۡتُونُ
- That who among you was insane.
کہ تم میں سے کون دیوانہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ن
(Nun), is like Allah's saying,
ص
(Sad), and Allah's saying,
ق
(Qaf), and similar to them from the individual letters that appear at the beginning of Qur'anic chapters. This has been dis- cussed at length previously and there is no need to repeat it here.
The Explanation of the Pen Concerning
Allah's statement,
وَالْقَلَمِ
(By the pen) The apparent meaning is that this refers to the actual pen that is used to write. This is like Allah's saying,
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ - الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not.) (96:3-5) Therefore, this statement is Allah's swearing and alerting His creatures to what He has favored them with by teaching them the skill of writing, through which knowledge is attained. Thus, Allah continues by saying,
وَمَا يَسْطُرُونَ
(and by what they Yastur.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah all said that this means, "what they write." As-Suddi said, "The angels and the deeds of the servants they record." Others said, "Rather, what is meant here is the pen which Allah caused to write the decree when He wrote the decrees of all creation, and this took place fifty-thousand years before He created the heavens and the earth." For this, they present Hadiths that have been reported about the Pen. Ibn Abi Hatim recorded from Al-Walid bin `Ubadah bin As-Samit that he said, "My father called for me when he was dying and he said to me: `Verily, I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَد»
(Verily, the first of what Allah created was the Pen, and He said to it: "Write." The Pen said: "O my Lord, what shall I write" He said: "Write the decree and whatever will throughout eternity.")" This Hadith has been recorded by Imam Ahmad through various routes of transmission. At-Tirmidhi also recorded it from a Hadith of Abu Dawud At-Tayalisi and he (At-Tirmidhi) said about it, "Hasan Sahih, Gharib."
Swearing by the Pen refers to the Greatness of the Prophet
Allah says,
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(You, by the grace of your Lord, are not insane.) meaning -- and all praise is due to Allah -- `you are not crazy as the ignorant among your people claim. They are those who deny the guidance and the clear truth that you have come with. Therefore, they attribute madness to you because of it.'
وَإِنَّ لَكَ لاّجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ
(And verily, for you will be reward that is not Mamnun.) meaning, `for you is the great reward, and abundant blessings which will never be cut off or perish, because you conveyed the Message of your Lord to creation, and you were patient with their abuse.' The meaning of:
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(not Mamnun) is that it will not be cut off. This is similar to Allah's statement,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108) and His statement,
فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Then they shall have a reward without end.) (95:6) Mujahid said,
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Without Mamnun) means "Without reckoning." And this refers back to what we have said before.
The Explanation of the Statement: "Verily, You are on an Exalted Character."
Concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "Verily, you are on a great religion, and it is Islam." Likewise said Mujahid, Abu Malik, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Ad-Dahhak and Ibn Zayd also said this. Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah that he said concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) "It has been mentioned to us that Sa`d bin Hisham asked `A'ishah about the character of the Messenger of Allah ﷺ, so she replied: `Have you not read the Qur'an' Sa`d said: `Of course.' Then she said: `Verily, the character of the Messenger of Allah ﷺ was the Qur'an."' `Abdur-Razzaq recorded similar to this and Imam Muslim recorded it in his Sahih on the authority of Qatadah in its full length. This means that he would act according to the commands and the prohibition in the Qur'an. His nature and character were patterned according to the Qur'an, and he abandoned his natural disposition (i.e., the carnal nature). So whatever the Qur'an commanded, he did it, and whatever it forbade, he avoided it. Along with this, Allah gave him the exalted character, which included the qualities of modesty, kindness, bravery, pardoning, gentleness and every other good characteristic. This is like that which has been confirmed in the Two Sahihs that Anas said, "I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and he never said a word of displeasure to me (Uff), nor did he ever say to me concerning something I had done: `Why did you do that' And he never said to me concerning something I had not done: `Why didn't you do this' He had the best character, and I never touched any silk or anything else that was softer than the palm of the Messenger of Allah ﷺ. And I never smelled any musk or perfume that had a better fragrance than the sweat of the Messenger of Allah ﷺ." Imam Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The Messenger of Allah ﷺ had the most handsome face of all the people, and he had the best behavior of all of the people. And he was not tall, nor was he short." The Hadiths concerning this matter are numerous. Abu `Isa At-Tirmidhi has a complete book on this subject called Kitab Ash-Shama'il. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ never struck a servant of his with his hand, nor did he ever hit a woman. He never hit anything with his hand, except for when he was fighting Jihad in the cause of Allah. And he was never given the option between two things except that the most beloved of the two to him was the easiest of them, as long as it did not involve sin. If it did involve sin, then he stayed farther away from sin than any of the people. He would not avenge himself concerning anything that was done to him, except if the limits of Allah were transgressed. Then, in that case he would avenge for the sake of Allah." Imam Ahmad also recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق»
(I have only been sent to perfect righteous behavior.) Ahmad was alone in recording this Hadith. In reference to Allah's statement,
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ - بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(You will see, and they will see, which of you is afflicted with madness.) then it means, `you will know, O Muhammad -- and those who oppose you and reject you, will know -- who is insane and misguided among you.' This is like Allah's statement,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26) Allah also says,
وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And verily (either) we or you are rightly guided or in plain error.) (34:24) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas, it means "You will know and they will know on the Day of Judgement." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;
بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(Which of you is Maftun (afflicted with madness) means which of you is crazy. This was also said by Mujahid and others as well. The literal meaning of Maftun is one who has been charmed or lured away from the truth and has strayed from it. Thus, the entire statement means, `so you will know and they will know,' or `you will be informed and they will be informed, as to which of you is afflicted with madness.' And Allah knows best. Then Allah says,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(Verily, your Lord is the best Knower of him who has gone astray from His path, and He is the best Knower of those who are guided.) meaning, `He knows which of the two groups are truly guided among you, and He knows the party that is astray from the truth.'
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کردیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں " ن " سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں ؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتایئے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر ؟حضور ﷺ نے فرمایا یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتادیں، ابن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ نے فرمایا سنو ! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے، دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا انہیں پانی کونسا ملے گا ؟ فرمایا سلسبیل نامی نہر کا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد " ن " سے نور کی تختی ہے ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے، ابن جریج فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " ن " سے مراد دولت ہے اور قلم سے مراد قلم ہے، حسن اور قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں، ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے نون کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " جو قیامت تک ہونے والا ہے، اعمال خواہ نیک ہوں خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کونسی چیز دنیا میں کب جائے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ رشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہوجاتا ہے عمر پوری ہوجاتی ہے اجل آپہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ آج کے دن کیا سامان ہے ؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لئے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مرگیا اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا آیت (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29) 45۔ الجاثية :29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ " ن " کے متعلق بیان، اب قلم کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے آیت (الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ ۙ) 96۔ العلق :4) یعنی اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے، اس لئے اس کے بعد فرمایا آیت (نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :1) یعنی اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے چالیس ہزار سال پہلے اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجر عظیم ہے اور ثواب بےپایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بےحساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے، حضرت عائشہ سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا، سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورة مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بنو سواد کے ایک شخص نے حضرت عائشہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت (وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) 68۔ القلم :4) پڑھی اس نے کہا کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے ام المومنین ؓ نے فرمایا سنو ! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ کے لئے کھانا پکایا اور حضرت حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حضرت حفصہ کے ہاں کا کھانا آجائے تو تو برتن گرا دینا چناچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، حضور ﷺ بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں (مسند احمد) مطلب اس حدیث کا جو کئی طرق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے یہ ہے کہ ایک تو آپ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں دوسرے آپ کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ نے مجھے اف تک نہیں کہا کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ حضور ﷺ سب سے زیادہ خوش خلق تھے حضور ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو ریشم ہے نہ کوئی اور چیز۔ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر (بخاری و مسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ کا قد نہ تو بہت لانبا تھا نہ آپ پست قامت تھے، اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا نہ بیوی بچوں کو نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ کو اختیار دیا جاتا تو آپ اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ اس سے بہت دور ہوجاتے، کبھی بھی حضور ﷺ نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لئے ضرور انتقام لیتے، مسند امد میں ہے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26) 54۔ القمر :26) انہیں ابھی کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24) 34۔ سبأ :24) ہم یا تم ہدایت پر ہیں ایک کھلی گمراہی پر حضرات ابن عباس فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ (مفتون) مجنون کو کہتے ہیں مجاہد وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے ؟ (مفتون) کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہوجائے (ایکم) پر (ب) کو اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہوجائے کہ آیت (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہوجائے گا کہ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی (مفتون) کی خبر دے دیں گے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے۔
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ
Indeed your Lord well knows those who have strayed from His path, and He well knows those who are upon guidance.
بے شک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے، اور وہ ان کو (بھی) خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
ن
(Nun), is like Allah's saying,
ص
(Sad), and Allah's saying,
ق
(Qaf), and similar to them from the individual letters that appear at the beginning of Qur'anic chapters. This has been dis- cussed at length previously and there is no need to repeat it here.
The Explanation of the Pen Concerning
Allah's statement,
وَالْقَلَمِ
(By the pen) The apparent meaning is that this refers to the actual pen that is used to write. This is like Allah's saying,
اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ - الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
(Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not.) (96:3-5) Therefore, this statement is Allah's swearing and alerting His creatures to what He has favored them with by teaching them the skill of writing, through which knowledge is attained. Thus, Allah continues by saying,
وَمَا يَسْطُرُونَ
(and by what they Yastur.) Ibn `Abbas, Mujahid and Qatadah all said that this means, "what they write." As-Suddi said, "The angels and the deeds of the servants they record." Others said, "Rather, what is meant here is the pen which Allah caused to write the decree when He wrote the decrees of all creation, and this took place fifty-thousand years before He created the heavens and the earth." For this, they present Hadiths that have been reported about the Pen. Ibn Abi Hatim recorded from Al-Walid bin `Ubadah bin As-Samit that he said, "My father called for me when he was dying and he said to me: `Verily, I heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟ قَالَ: اكْتُبِ الْقَدَرَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَد»
(Verily, the first of what Allah created was the Pen, and He said to it: "Write." The Pen said: "O my Lord, what shall I write" He said: "Write the decree and whatever will throughout eternity.")" This Hadith has been recorded by Imam Ahmad through various routes of transmission. At-Tirmidhi also recorded it from a Hadith of Abu Dawud At-Tayalisi and he (At-Tirmidhi) said about it, "Hasan Sahih, Gharib."
Swearing by the Pen refers to the Greatness of the Prophet
Allah says,
مَآ أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ
(You, by the grace of your Lord, are not insane.) meaning -- and all praise is due to Allah -- `you are not crazy as the ignorant among your people claim. They are those who deny the guidance and the clear truth that you have come with. Therefore, they attribute madness to you because of it.'
وَإِنَّ لَكَ لاّجْراً غَيْرَ مَمْنُونٍ
(And verily, for you will be reward that is not Mamnun.) meaning, `for you is the great reward, and abundant blessings which will never be cut off or perish, because you conveyed the Message of your Lord to creation, and you were patient with their abuse.' The meaning of:
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(not Mamnun) is that it will not be cut off. This is similar to Allah's statement,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(a gift without an end.) (11:108) and His statement,
فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Then they shall have a reward without end.) (95:6) Mujahid said,
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(Without Mamnun) means "Without reckoning." And this refers back to what we have said before.
The Explanation of the Statement: "Verily, You are on an Exalted Character."
Concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas, "Verily, you are on a great religion, and it is Islam." Likewise said Mujahid, Abu Malik, As-Suddi and Ar-Rabi` bin Anas. Ad-Dahhak and Ibn Zayd also said this. Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah that he said concerning Allah's statement,
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
(And verily, you are on an exalted (standard of) character.) "It has been mentioned to us that Sa`d bin Hisham asked `A'ishah about the character of the Messenger of Allah ﷺ, so she replied: `Have you not read the Qur'an' Sa`d said: `Of course.' Then she said: `Verily, the character of the Messenger of Allah ﷺ was the Qur'an."' `Abdur-Razzaq recorded similar to this and Imam Muslim recorded it in his Sahih on the authority of Qatadah in its full length. This means that he would act according to the commands and the prohibition in the Qur'an. His nature and character were patterned according to the Qur'an, and he abandoned his natural disposition (i.e., the carnal nature). So whatever the Qur'an commanded, he did it, and whatever it forbade, he avoided it. Along with this, Allah gave him the exalted character, which included the qualities of modesty, kindness, bravery, pardoning, gentleness and every other good characteristic. This is like that which has been confirmed in the Two Sahihs that Anas said, "I served the Messenger of Allah ﷺ for ten years, and he never said a word of displeasure to me (Uff), nor did he ever say to me concerning something I had done: `Why did you do that' And he never said to me concerning something I had not done: `Why didn't you do this' He had the best character, and I never touched any silk or anything else that was softer than the palm of the Messenger of Allah ﷺ. And I never smelled any musk or perfume that had a better fragrance than the sweat of the Messenger of Allah ﷺ." Imam Al-Bukhari recorded that Al-Bara' said, "The Messenger of Allah ﷺ had the most handsome face of all the people, and he had the best behavior of all of the people. And he was not tall, nor was he short." The Hadiths concerning this matter are numerous. Abu `Isa At-Tirmidhi has a complete book on this subject called Kitab Ash-Shama'il. Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "The Messenger of Allah ﷺ never struck a servant of his with his hand, nor did he ever hit a woman. He never hit anything with his hand, except for when he was fighting Jihad in the cause of Allah. And he was never given the option between two things except that the most beloved of the two to him was the easiest of them, as long as it did not involve sin. If it did involve sin, then he stayed farther away from sin than any of the people. He would not avenge himself concerning anything that was done to him, except if the limits of Allah were transgressed. Then, in that case he would avenge for the sake of Allah." Imam Ahmad also recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاق»
(I have only been sent to perfect righteous behavior.) Ahmad was alone in recording this Hadith. In reference to Allah's statement,
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ - بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(You will see, and they will see, which of you is afflicted with madness.) then it means, `you will know, O Muhammad -- and those who oppose you and reject you, will know -- who is insane and misguided among you.' This is like Allah's statement,
سَيَعْلَمُونَ غَداً مَّنِ الْكَذَّابُ الاٌّشِرُ
(Tomorrow they will come to know who is the liar, the insolent one!) (54:26) Allah also says,
وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِى ضَلَـلٍ مُّبِينٍ
(And verily (either) we or you are rightly guided or in plain error.) (34:24) Ibn Jurayj reported from Ibn `Abbas, it means "You will know and they will know on the Day of Judgement." Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas;
بِأَيِّكُمُ الْمَفْتُونُ
(Which of you is Maftun (afflicted with madness) means which of you is crazy. This was also said by Mujahid and others as well. The literal meaning of Maftun is one who has been charmed or lured away from the truth and has strayed from it. Thus, the entire statement means, `so you will know and they will know,' or `you will be informed and they will be informed, as to which of you is afflicted with madness.' And Allah knows best. Then Allah says,
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
(Verily, your Lord is the best Knower of him who has gone astray from His path, and He is the best Knower of those who are guided.) meaning, `He knows which of the two groups are truly guided among you, and He knows the party that is astray from the truth.'
نون وغیرہ جیسے حروف ہجا کا مفصل بیان سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکا ہے اس لئے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، کہا گیا ہے کہ یہاں ان سے مراد وہ بڑی مچھلی ہے جو ایک محیط عالم پانی پر ہے جو ساتوں زمینوں کو اٹھائے ہوئے ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے کہا کیا لکھوں ؟ فرمایا تقدیر لکھ ڈال پس اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس پر قلم جاری ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی پیدا کی اور پانی کے بخارات بلند کئے، جس سے آسمان بنے اور زمین کو اس مچھلی کی پیٹھ پر رکھا مچھلی نے حرکت کی جس سے زمین بھی ہلنے لگی پس زمین پر پہاڑ گاڑ کر اسے مضبوط اور ساکن کردیا، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم) مطلب یہ ہے کہ یہاں " ن " سے مراد یہ مچھلی ہے، طبرانی میں مرفوعاً مروی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو اور مچھلی کو پیدا کیا قلم نے دریافت کیا میں کیا لکھوں ؟ حکم ہوا ہر وہ چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے پھر آپ نے پہلی آیت کی تلاوت کی، پس نون سے مراد یہ مچھلی ہے اور قلم سے مراد یہ قلم ہے، ابن عساکر کی حدیث میں ہے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا پھر نون یعنی دوات کو پھر قلم سے فرمایا لکھ اس نے پوچھا کیا ؟ فرمایا جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے عمل، رزق عمر، موت وغیرہ، پس قلم نے سب کچھ لکھ لیا۔ اس آیت میں یہی مراد ہے، پھر قلم پر مہر لگا دی اب وہ قیامت تک نہ چلے گا، پھر عقل کو پیدا کیا اور فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم اپنے دوستوں میں تو میں تجھے کمال تک پہنچاؤں گا اور اپنے دشمنوں میں تجھے ناقص رکھوں گا، مجاہد فرماتے ہیں یہ مشہور تھا کہ نون سے مراد وہ مچھلی ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے، بغوی وغیرہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کی پیٹھ پر ایک چٹان ہے جس کی موٹائی آسمان و زمین کے برابر ہے اس پر ایک بیل ہے جس کے چالیس ہزار سینگ ہیں اس کی پیٹھ پر ساتوں زمینیں اور ان پر تمام مخلوق ہے، واللہ اعلم اور تعجب تو یہ ہے کہ ان بعض مفسرین نے اس حدیث کو بھی انہی معنی پر محمول کیا ہے جو مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور بہت کچھ سوالات کئے کہا کہ میں وہ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں جنہیں نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا بتایئے قیامت کے پہلی نشانی کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ کبھی بچہ اپنے باپ کی صورت میں ہوتا ہے کبھی ماں کی صورت پر ؟حضور ﷺ نے فرمایا یہ باتیں ابھی ابھی جبرائیل نے مجھے بتادیں، ابن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے یہی فرشتہ ہے جو یہودیوں کا دشمن ہے، آپ نے فرمایا سنو ! قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ کا نکلنا ہے جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف لے جائے گی اور جنتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کی زیادتی ہے اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سابق آجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت کر جائے تو وہی کھینچ لیتی ہے، دوسری حدیث میں اتنی زیادتی ہے کہ پوچھا جنتیوں کے اس کھانے کے بعد انہیں کیا ملے گا فرمایا جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت میں چرتا چگتا رہا تھا، پوچھا انہیں پانی کونسا ملے گا ؟ فرمایا سلسبیل نامی نہر کا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد " ن " سے نور کی تختی ہے ایک مرسل غریب حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اس سے مراد نور کی تختی اور نور کا حکم ہے جو قیامت تک کے حال پر چل چکا ہے، ابن جریج فرماتے ہیں مجھے خبر دی گئی ہے کہ یہ نورانی قلم سو سال کی طولانی رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " ن " سے مراد دولت ہے اور قلم سے مراد قلم ہے، حسن اور قتادہ بھی یہی فرماتے ہیں، ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ مروی ہے جو ابن ابی حاتم میں ہے کہ اللہ نے نون کو پیدا کیا اور وہ دوات ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نون یعنی دوات کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا، پھر فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " فرمایا " لکھ " اس نے پوچھا " کیا لکھوں ؟ " جو قیامت تک ہونے والا ہے، اعمال خواہ نیک ہوں خواہ بد، روزی خواہ حلال ہو خواہ حرام، پھر یہ بھی کہ کونسی چیز دنیا میں کب جائے گی کس قدر رہے گی، کیسے نکلے گی، پھر اللہ تعالیٰ نے بندوں پر محافظ رشتے مقرر کئے اور کتاب پر داروغے مقرر کئے، محافظ فرشتے ہر دن ان کے عمل خازن فرشتوں سے دریافت کر کے لکھ لیتے ہیں جب رزق ختم ہوجاتا ہے عمر پوری ہوجاتی ہے اجل آپہنچتی ہے تو محافظ فرشتے داروغہ فرشتوں کے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ بتاؤ آج کے دن کیا سامان ہے ؟ وہ کہتے ہیں بس اس شخص کے لئے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا یہ سن کر یہ فرشتے نیچے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ مرگیا اس بیان کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا تم تو عرب ہو کیا تم نے قرآن میں محافظ فرشتوں کی بابت یہ نہیں پڑھا آیت (اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 29) 45۔ الجاثية :29) مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے اعمال کو اصل سے نقل کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو تھا لفظ " ن " کے متعلق بیان، اب قلم کی نسبت سنئے۔ بظاہر مراد یہاں عام قلم ہے جس سے لکھا جاتا ہے جیسے اور جگہ فرمان عالیشان ہے آیت (الَّذِيْ عَلَّمَ بالْقَلَمِ ۙ) 96۔ العلق :4) یعنی اس اللہ نے قلم سے لکھنا سکھایا، پس اس کی قسم کھا کر اس بات پر آگاہی کی جاتی ہے کہ مخلوق پر میری ایک نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے انہیں لکھنا سکھایا جس سے علوم تک ان کے رسائی ہو سکے، اس لئے اس کے بعد فرمایا آیت (نۗ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :1) یعنی اس چیز کی قسم جو لکھتے ہیں، حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر یہ بھی مروی ہے کہ اس چیز کی جو جانتے ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد اس سے فرشتوں کا لکھنا ہے جو بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور مفسرین کہتے ہیں اس سے مراد وہ قلم ہے جو قدرتی طور پر چلا اور تقدیریں لکھیں آسمان و زمین کی پیدائش سے چالیس ہزار سال پہلے اور اس قول کی دلیل میں یہ جماعت وہ حدیثیں وارد کرتی ہے جو قلم کے ذکر میں مروی ہیں، حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر لکھا گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی تو بحمد اللہ دیوانہ نہیں جیسے کہ تیری قوم کے جاہل منکرین حق کہتے ہیں بلکہ تیرے لئے اجر عظیم ہے اور ثواب بےپایاں ہے جو نہ ختم ہو نہ ٹوٹے نہ کٹے کیونکہ تو نے حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری راہ میں سخت سے سخت مصیبتیں جھیلی ہیں ہم تجھے بےحساب بدلہ دیں گے، تو بہت بڑے خلق پر ہے یعنی دین اسلام پر اور بہترین ادب پر ہے، حضرت عائشہ سے اخلاق نبوی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ جواب دیتی ہیں کہ آپ کا خلق قرآن تھا، سعید فرماتے ہیں یعنی جیسے کہ قرآن میں ہے اور حدیث میں ہے کہ صدیقہ نے پوچھا کہ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا، سائل حضرت سعید بن ہشام نے کہا ہاں پڑھا ہے آپ نے فرمایا بس تو آپ کا خلق قرآن کریم تھا، مسلم میں یہ حدیث پوری ہے جسے ہم سورة مزمل کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بنو سواد کے ایک شخص نے حضرت عائشہ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے یہی فرما کر پھر آیت (وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ) 68۔ القلم :4) پڑھی اس نے کہا کوئی ایک آدھ واقعہ تو بیان کیجئے ام المومنین ؓ نے فرمایا سنو ! ایک مرتبہ میں نے بھی آپ کے لئے کھانا پکایا اور حضرت حفصہ نے بھی، میں نے اپنی لونڈی سے کہا دیکھ اگر میرے کھانے سے پہلے حضرت حفصہ کے ہاں کا کھانا آجائے تو تو برتن گرا دینا چناچہ اس نے یہی کیا اور برتن بھی ٹوٹ گیا، حضور ﷺ بکھرے ہوئے کھانے کو سمیٹنے لگے اور فرمایا اس برتن کے بدلے ثابت برتن تم دو واللہ اور کچھ ڈانٹا ڈپٹا نہیں (مسند احمد) مطلب اس حدیث کا جو کئی طرق سے مختلف الفاظ میں کئی کتابوں میں ہے یہ ہے کہ ایک تو آپ کی جبلت اور پیدائش میں ہی اللہ نے پسندیدہ اخلاق بہترین خصلتیں اور پاکیزہ عادتیں رکھی تھیں دوسرے آپ کا عمل قرآن کریم پر ایسا تھا کہ گویا احکام قرآن کا مجسم عملی نمونہ ہیں، ہر حکم کو بجا لانے اور ہر نہی سے رک جانے میں آپ کی حالت یہ تھی کہ گویا قرآن میں جو کچھ ہے وہ آپ کی عادتوں اور آپ کے کریمانہ اخلاق کا بیان ہے۔ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن کسی دن آپ نے مجھے اف تک نہیں کہا کسی کرنے کے کام کو نہ کروں یا نہ کرنے کے کام کر گزروں تو بھی ڈانٹ ڈپٹ تو کجا اتنا بھی نہ فرماتے کہ ایسا کیوں ہوا ؟ حضور ﷺ سب سے زیادہ خوش خلق تھے حضور ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم نہ تو ریشم ہے نہ کوئی اور چیز۔ حضور ﷺ کے پسینہ سے زیادہ خوشبو والی چیز میں نے تو کوئی نہیں سونگھی نہ مشک اور نہ عطر (بخاری و مسلم) صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ خلیق تھے آپ کا قد نہ تو بہت لانبا تھا نہ آپ پست قامت تھے، اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، شمائل ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نہ تو کبھی کسی خادم یا غلام کو مارا نہ بیوی بچوں کو نہ کسی اور کو، ہاں اللہ کی راہ کا جہاد الگ چیز ہے، جب کبھی دو کاموں میں آپ کو اختیار دیا جاتا تو آپ اسے پسند کرتے جو زیادہ آسان ہوتا ہاں یہ اور بات ہے کہ اس میں کچھ گناہ ہو تو آپ اس سے بہت دور ہوجاتے، کبھی بھی حضور ﷺ نے اپنا بدلہ کسی سے نہیں لیا ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی اللہ کی حرمتوں کو توڑتا ہو تو تو آپ اللہ کے احکام جاری کرنے کے لئے ضرور انتقام لیتے، مسند امد میں ہے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں میں بہترین اخلاق اور پاکیزہ ترین عادتوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ پھر فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اور آپ کے مخالف اور منکر ابھی ابھی جان لیں گے کہ دراصل بہکا ہوا اور گمراہ کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ 26) 54۔ القمر :26) انہیں ابھی کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا اور شیخی باز کون تھا ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 24) 34۔ سبأ :24) ہم یا تم ہدایت پر ہیں ایک کھلی گمراہی پر حضرات ابن عباس فرماتے ہیں یعنی یہ حقیقت قیامت کے دن کھل جائے گی، آپ سے مروی ہے کہ (مفتون) مجنون کو کہتے ہیں مجاہد وغیرہ کا بھی یہی قول ہے، قتادہ وغیرہ فرماتے ہیں یعنی کون شیطان سے نزدیک تر ہے ؟ (مفتون) کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو حق سے بہک جائے اور گمراہ ہوجائے (ایکم) پر (ب) کو اس لئے داخل کیا گیا ہے کہ دلالت ہوجائے کہ آیت (فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُوْنَ ۙ) 68۔ القلم :5) میں تضمین فعل ہے تو تقدیری عبارت کو ملا کر ترجمہ یوں ہوجائے گا کہ تو بھی اور وہ بھی عنقریب جان لیں گے اور تو بھی اور وہ سب بھی بہت جلدی (مفتون) کی خبر دے دیں گے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے بہکنے والے اور راہ راست والے سب اللہ پر ظاہر ہیں اسے خوب معلوم ہے کہ راہ راست سے کس کا قدم پھسل گیا ہے۔
فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
Therefore do not listen to the deniers.
سو آپ جھٹلانے والوں کی بات نہ مانیں
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ
They wish that in some way you may yield, so they too might soften their stand.
وہ تو چاہتے ہیں کہ (دین کے معاملے میں) آپ (بے جا) نرمی اِختیار کر لیں تو وہ بھی نرم پڑ جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
10
View Single
وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ
Nor ever listen to any excessive oath maker, ignoble person.
اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قَسمیں کھانے والا اِنتہائی ذلیل ہے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
11
View Single
هَمَّازٖ مَّشَّآءِۭ بِنَمِيمٖ
The excessively insulting one, spreader of spite.
(جو) طعنہ زَن، عیب جُو (ہے اور) لوگوں میں فساد انگیزی کے لئے چغل خوری کرتا پھرتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
12
View Single
مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ
One who excessively forbids the good, transgressor, sinner.
(جو) بھلائی کے کام سے بہت روکنے والا بخیل، حد سے بڑھنے والا سرکش (اور) سخت گنہگار ہے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
13
View Single
عُتُلِّۭ بَعۡدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ
Foul mouthed, and in addition to all this, of improper lineage.
(جو) بد مزاج درُشت خو ہے، مزید برآں بد اَصل (بھی) ہے٭o٭ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ جتنے ذِلت آمیز اَلقاب باری تعالیٰ نے اس بدبخت کو دئیے آج تک کلامِ اِلٰہی میں کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہوئے۔ وجہ یہ تھی کہ اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اَقدس میں گستاخی کی، جس پر غضبِ اِلٰہی بھڑک اٹھا۔ ولید نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک کلمہ بولا تھا، جواباً باری تعالیٰ نے اُس کے دس رذائل بیان کیے اور آخر میں نطفۂ حرام ہونا بھی ظاہر کر دیا، اور اس کی ماں نے بعد ازاں اِس اَمر کی بھی تصدیق کر دی۔ (تفسیر قرطبی، رازی، نسفی وغیرھم)
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
14
View Single
أَن كَانَ ذَا مَالٖ وَبَنِينَ
Because he* has some wealth and sons. (Walid bin Mugaira, who cursed the Holy Prophet.)
اِس لئے (اس کی بات کو اہمیت نہ دیں) کہ وہ مال دار اور صاحبِ اَولاد ہے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
15
View Single
إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
When Our verses are recited to him, he says, “These are stories of earlier people.”
جب اس پر ہماری آیتیں تلاوت کی جائیں (تو) کہتا ہے: یہ (تو) پہلے لوگوں کے اَفسانے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
16
View Single
سَنَسِمُهُۥ عَلَى ٱلۡخُرۡطُومِ
We will soon singe his pig-nose.
اب ہم اس کی سونڈ جیسی ناک پر داغ لگا دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Prohibition of giving in to the Pressure of the Disbelievers and Their Suggestions, and that They like to meet in the Middle of the Path
Allah says, `just as We have favored you and given you the upright legislation and great (standard of) character,'
فَلاَ تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(So, do not obey the deniers. They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) Ibn `Abbas said, "That you would permit them (their idolatry) and they also would permit you (to practice your religion)." Mujahid said,
وَدُّواْ لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ
(They wish that you should compromise with them, so they (too) would compromise with you.) "This means that you should be quiet about their gods and abandon the truth that you are upon." Then Allah says,
وَلاَ تُطِعْ كُلَّ حَلاَّفٍ مَّهِينٍ
(And do not obey every Hallaf (one who swears much) Mahin (liar or worthless person).) This is because the liar, due to his weakness and his disgracefulness, only seeks protection in his false oaths which he boldly swears to while using Allah's Names, and he uses them (false oaths) all the time and out of place (i.e., unnecessarily). Ibn `Abbas said, "Al-Mahin means the liar." Then Allah says,
هَمَّازٍ
(A Hammaz, ) Ibn `Abbas and Qatadah both said, "This is slander."
مَّشَّآءِ بِنَمِيمٍ
(going about with Namim,) This refers to the one who goes around among people instigating discord between them and carrying tales in order to corrupt relations between people when they are good and pleasant. It is confirmed in the Two Sahihs that Mujahid reported from Tawus that Ibn `Abbas said, "The Messenger of Allah ﷺ once passed by two graves and he said,
«إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الْاخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَة»
(Verily, these two are being punished, and they are not being punished for something major. One of them was not careful about protecting himself from urine (when relieving himself). The other one used to spread Namimah.)" This Hadith has been recorded by the Group in their books through routes of transmission that are all on the authority of Mujahid. Imam Ahmad recorded that Hudhayfah said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying,
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّات»
(The slanderer will not enter into Paradise.)" This Hadith has been reported by the Group except for Ibn Majah. Concerning Allah's statement,
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
(Hinderer of good, transgressor, sinful,) it means, he refuses to give and withholds that which he has of good.
مُعْتَدٍ
(transgressor,) this means, in attaining that which Allah has made permissible for him, he exceeds the legislated bounds.
أَثِيمٍ
(sinful,) meaning, he delves into the forbidden things. Concerning Allah's statement,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul, and moreover Zanim.) `Utul means one who is cruel, harsh, strong, greedy and stingy. Imam Ahmad recorded from Al-Harithah bin Wahb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلَ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِر»
(Shall I inform you of the people of Paradise (They will be) every weak and oppressed person. When he swears by Allah, he fulfills his oath. Shall I inform you of the people of the Fire Every `Utul (cruel person), Jawwaz and arrogant person.) Al-Waki` said, "It (`Utul) is every Jawwaz, Ja`zari and arrogant person." Both Al-Bukhari and Muslim recorded this in their Two Sahihs, as well as the rest of the Group, except for Abu Dawud. All of its routes of transmission are by way of Sufyan Ath-Thawri and Shu`bah who both reported it from Sa`id bin Khalid. The scholars of Arabic language have said that Ja`zari means rude and harsh, while Jawwaz means greedy and stingy. Concerning the word Zanim, Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said concerning the Ayah,
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ
(`Utul (cruel), and moreover Zanim.) "A man from the Quraysh who stands out among them like the sheep that has had a piece of its ear cut off." The meaning of this is that he is famous for his evil just as a sheep that has a piece of its ear cut off stands out among its sister sheep. In the Arabic language the Zanim is a person who is adopted among a group of people (i.e., he is not truly of them). Ibn Jarir and others among the Imams have said this. Concerning Allah's statement,
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ - إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا قَالَ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ
((He was so) because he had wealth and children. When Our Ayat are recited to him, he says: "Tales of the men of old!") Allah is saying, `this is how he responds to the favors that Allah has bestowed upon him of wealth and children, by disbelieving in Allah's Ayat and turning away from them while claiming that they are a lie that has been taken from the tales of the ancients.' This is similar to Allah's statement,
ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيداً - وَجَعَلْتُ لَهُ مَالاً مَّمْدُوداً - وَبَنِينَ شُهُوداً - وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيداً - ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ - كَلاَّ إِنَّهُ كان لاٌّيَـتِنَا عَنِيداً - سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً - إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ - فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ - ثُمَّ نَظَرَ - ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ - ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ - فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ - إِنْ هَـذَآ إِلاَّ قَوْلُ الْبَشَرِ - سَأُصْلِيهِ سَقَرَ - وَمَآ أَدْرَاكَ مَا سَقَرُ - لاَ تُبْقِى وَلاَ تَذَرُ - لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ - عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
(Leave Me alone (to deal) with whom I created lonely (without any wealth and children etc.). And then granted him resources in abundance. And children to be by his side. And made life smooth and comfortable for him. After all that he desires that I should give more. Nay! Verily, he has been opposing Our Ayat. I shall oblige him to face a severe torment! Verily, he thought and plotted. So let him be cursed, how he plotted! And once more let him be cursed, how he plotted! Then he thought. Then he frowned and he looked in a bad tempered way. Then he turned back, and was proud. Then he said: "This is nothing but magic from that of old, this is nothing but the word of a human being!" I will cast him into Hellfire. And what will make you know what Hellfire is It spares not (any sinner), nor does it leave (anything unburned)! Burning and blackening the skins! Over it are nineteen (angels as keepers of Hell).) 74:11-30 Then Allah said here,
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ
(We shall brand him on the snout!) Ibn Jarir said, "We will make his matter clear and evident so that they will know him and he will not be hidden from them, just as the branding mark on the snouts (of animals)." Others have said,
سَنَسِمُهُ
(We shall brand him) This is the mark of the people of the Hell-fire; meaning, `We will blacken his face on the Day of Judgement,' and the face has been referred to here as snout.
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ - وَلاَ يَسْتَثْنُونَ - فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ - فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ - فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ - أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ - فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ - وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ قَـدِرِينَ - فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
زیادہ قسمیں کھانے والے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ جو نعمتیں ہم نے تجھے دیں جو صراط مستقیم اور خلق عظیم ہم نے تجھے عطا فرمایا اب تجھے چاہئے کہ ہماری نہ ماننے والوں کی تو نہ مان، ان کی تو عین خوشی ہے کہ آپ ذرا بھی نرم پڑیں تو یہ کھل کھیلیں اور یہ بھی مطلب ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے معبودان باطل کی طرف کچھ تو رخ کریں حق سے ذرا سا تو ادھر ادھر ہوجائیں، پھر فرماتا ہے کہ زیادہ قسمیں کھانے والے کمینے شخص کی بھی نہ مان چونکہ جھوٹے شخص کو اپنی ذلت اور کذب بیانی کے ظاہر ہوجانے کا ڈر رہتا ہے، اس لئے وہ قسمیں کھا کھا کر دوسرے کو اپنا یقین دلانا چاہتا ہے لگاتار قسموں پر قسمیں کھائے چلا جاتا ہے اور اللہ کے ناموں کو بےموقعہ استعمال کرتا پھرتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (مھین) سے مراد کاذب ہے۔ مجاہد کہتے ہیں ضعیف دل والا۔ حسن کہتے ہیں (حلاف) مکابرہ کرنے والا اور (مہین) ضعیف، (ھماز) غیب کرنے والا، چغل خور جو ادھر کی ادھر لگائے اور ادھر کی ادھر تاکہ فساد ہوجائے۔ طبیعتوں میں نفرت اور دل میں دشمنی آجائے، رسول اللہ ﷺ کے راستے میں دو قبریں آگئیں آپ نے فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا اور کسی بڑے امر پر نہیں ایک تو پیشاب کرنے میں پردے کا خیال نہ رکھتا تھا۔ دوسرا چغل خور تھا (بخاری و مسلم) فرماتے ہیں چغل خور جنت میں نہ جائے گا (مسند) دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے یہ حدیث اس وقت سنائی تھی جب آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص خفیہ پولیس کا آدمی ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بھلا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ضرور ارشاد فرمایئے، فرمایا وہ کہ جب انہیں دیکھا جائے اللہ یاد آجائے اور سن لو سب سے بدتر شخص وہ ہے جو چغل خور ہو دوستوں میں فساد ڈلوانے والا ہو پاک صاف لوگوں کو تہمت لگانے والا ہو، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے، پھر ان بدلوگوں کے ناپاک خصائل بیان ہو رہے ہیں کہ بھلائیوں سے باز رہنے والا اور باز رکھنے والا ہے، حلال چیزوں اور حلال کاموں سے ہٹ کر حرام خوری اور حرام کاری کرتا ہے، گنہگار، بدکردار، محرمات کو استعمال کرنے والا، بدخو، بدگو جمع کرنے والا اور نہ دینے والا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ گرے پڑے عاجز و ضعیف ہیں جو اللہ کے ہاں اس بلند مرتبہ پر ہیں کہ اگر وہ قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے اور جہنمی لوگ سرکش متکبر اور خودبین ہوتے ہیں اور حدیث میں ہے جمع کرنے والے اور نہ دینے والے بدگو اور سخت خلق، ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا آیت (عتل زنیم) کون ہے ؟ فرمایا بد خلق خوب کھانے پینے والا لوگوں پر ظلم کرنے والا پیٹو آدمی، لیکن اس روایت کو اکثر راویوں نے مرسل بیان کیا ہے، ایک اور حدیث میں ہے اس نالائق شخص پر آسمان روتا ہے جسے اللہ نے تندرستی دی پیٹ بھر کھانے کو دیا مال و جاہ بھی عطا فرمائی پھر بھی لوگوں پر ظلم و ستم کر رہا ہے، یہ حدیث بھی دو مرسل طریقوں سے مروی ہے، غرض (عتل) کہتے ہیں جس کا بدن صحیح ہو طاقتور ہو اور خوب کھانے پینے والا زور دار شخص ہو۔ (زنیم) سے مراد بدنام ہے جو برائی میں مشہور ہو، لغت عرب میں (زنیم) اسے کہتے ہیں جو کسی قوم میں سمجھا جاتا ہو لیکن دراصل اس کا نہ ہو، عرب شاعروں نے اسے اسی معنی میں باندھا ہے یعنی جس کا نسب صحیح نہ ہو، کہا گیا ہے کہ مراد اس سے اخنس بن شریق ثقفی ہے جو بنو زہرہ کا حلیف تھا اور بعض کہتے ہیں یہ اسود بن عبد یغوث زہری ہے، عکرمہ فرماتے ہیں ولد الزنا مراد ہے، یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جس طرح ایک بکری جو تمام بکریوں میں سے الگ تھلگ اپنا چرا ہوا کان اپنی گردن پر لٹکائے ہوئے ہو تو یہ یک نگاہ پہچان لی جاتی ہے اسی طرح کافر مومنوں میں پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح کے اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن خلاصہ سب کا صرف اسی قدر ہے کہ زنیم وہ شخص ہے جو برائی سے مشہور ہو اور عموماً ایسے لوگ ادھر ادھر سے ملے ہوئے ہوتے ہیں جن کے صحیح نسب کا اور حقیقی باپ کا پتہ نہیں ہوتا ایسوں پر شیطان کا غلبہ بہت زیادہ رہا کرتا ہے، جیسے حدیث میں ہے زنا کی اولاد جنت میں نہیں جائے گی، اور روایت میں ہے کہ زنا کی اولاد تین برے لوگوں کی برائی کا مجموعہ ہے، اگر وہ بھی اپنے ماں باپ کے سے کام کرے۔ پھر فرمایا اس کی ان شرارتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالدار اور بیٹوں کا باپ بن گیا ہے ہماری اس نعمت کا گن گانا تو کہاں ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے اور توہین کر کے کہتا پھرتا ہے کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا 11 ۙ) 74۔ المدثر :11) مجھے چھوڑ دے اور اسے جسے میں نے یکتا پیدا کیا ہے اور بہت سا مال دیا ہے اور حاضر باش لڑکے دیئے ہیں اور بھی بہت کشادگی دے رکھی ہے پھر بھی اس کی طمع ہے کہ میں اسے اور دوں ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو میری آیتوں کا مخالف ہے میں اسے عنقریب بدترین مصیبت میں ڈالوں گا اس نے غور و فکر کے اندازہ لگایا یہ تباہ ہو۔ کتنی بری تجویز اس نے سوچی میں پھر کہتا ہوں، یہ برباد ہو اس نے کیسی بری تجویز کی اس نے پھر نظر ڈالی اور ترش رو ہو کہ منہ بنا لیا، پھر منہ پھیر کر اینٹھنے لگا اور کہ دیا کہ یہ کلام اللہ تو پرانا نقل کیا ہوا جادو ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ انسانی کلام ہے، اس کی اس بات پر میں بھی اسے (سقر) میں ڈالوں گا تجھے کیا معلوم کہ (سقر) کیا ہے نہ وہ باقی رکھے نہ چھوڑے بدن پر لپیٹ جاتی ہے اس پر انتیس فرشتے متعین ہیں، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ اس کی ناک پر ہم داغ لگائیں گے یعنی اسے ہم اس قدر رسوا کریں گے کہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہ رہے ہر ایک اسے جان پہچان لے جیسے نشاندار ناک والے کو بیک نگاہ ہزاروں میں لوگ پہچان لیتے ہیں اور جو داغ چھپائے نہ چھپ سکے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ بدر والے دن اس کی ناک پر تلوار لگے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیامت والے دن جہنم کی مہر لگے گی یعنی منہ کالا کردیا جائے گا تو ناک سے مراد پورا چہرہ ہوا۔ امام ابو جعفر ابن جریر نے ان تمام اقوال کو وارد کر کے فرمایا ہے کہ ان سب میں تطبیق اس طرح ہوجاتی ہے کہ یہ کل امور اس میں جمع ہوجائیں یہ بھی ہو وہ بھی ہو، دنیا میں رسوا ہو سچ مچ ناک پر نشان لگے آخرت میں بھی نشاندار مجرم بنے فی الواقع یہ بہت درست ہے، ابن ابی حاتم میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ بندہ ہزارہا برس تک اللہ کے ہاں مومن لکھا رہتا ہے لیکن مرتا اس حالت میں ہے کہ اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے اور بندہ اللہ کے ہاں کافر ہزارہا سال تک لکھا رہتا ہے پھر مرتے وقت اللہ اس سے خوش ہوجاتا ہے جو شخص عیب گوئی اور چغل خوری کی حالت میں مرے جو لوگوں کو بدنام کرنے والا ہو قیامت کے دن اس کی ناک پر دونوں ہونٹوں کی طرف سے نشان لگا دیا جائے جو اس مجرم کی علامت بن جائے گا۔
17
View Single
إِنَّا بَلَوۡنَٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ إِذۡ أَقۡسَمُواْ لَيَصۡرِمُنَّهَا مُصۡبِحِينَ
We have indeed tested them the way We had tested the owners of the garden when they swore that they would reap its harvest the next morning.
بے شک ہم ان (اہلِ مکہ) کی (اُسی طرح) آزمائش کریں گے جس طرح ہم نے (یمن کے) ان باغ والوں کو آزمایا تھا جب انہوں نے قَسم کھائی تھی کہ ہم صبح سویرے یقیناً اس کے پھل توڑ لیں گے
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
18
View Single
وَلَا يَسۡتَثۡنُونَ
And they did not say, “If Allah wills”.
اور انہوں نے (اِن شاء اللہ کہہ کر یا غریبوں کے حصہ کا) اِستثناء نہ کیا
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
19
View Single
فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآئِفٞ مِّن رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآئِمُونَ
So an envoy from your Lord completed his round upon the garden, whilst they were sleeping.
پس آپ کے رب کی جانب سے ایک پھرنے والا (عذاب رات ہی رات میں) اس (باغ) پر پھر گیا اور وہ سوتے ہی رہے
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
20
View Single
فَأَصۡبَحَتۡ كَٱلصَّرِيمِ
So in the morning it became as if harvested.
سو وہ (لہلہاتا پھلوں سے لدا ہوا باغ) صبح کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہوگیا
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
21
View Single
فَتَنَادَوۡاْ مُصۡبِحِينَ
They then called out to each other at daybreak.
پھر صبح ہوتے ہی وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
22
View Single
أَنِ ٱغۡدُواْ عَلَىٰ حَرۡثِكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰرِمِينَ
That, “Go to your fields at early morn, if you want to harvest.”
کہ اپنی کھیتی پر سویرے سویرے چلے چلو اگر تم پھل توڑنا چاہتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
23
View Single
فَٱنطَلَقُواْ وَهُمۡ يَتَخَٰفَتُونَ
So they went off, while whispering to one another.
سو وہ لوگ چل پڑے اور وہ آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
24
View Single
أَن لَّا يَدۡخُلَنَّهَا ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكُم مِّسۡكِينٞ
“Make sure that no needy person enters your garden this day.”
کہ آج اس باغ میں تمہارے پاس ہرگز کوئی محتاج نہ آنے پائے
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
25
View Single
وَغَدَوۡاْ عَلَىٰ حَرۡدٖ قَٰدِرِينَ
And they left at early morn, assuming they were in control of their purpose.
اور وہ صبح سویرے (پھل کاٹنے اور غریبوں کو اُن کے حصہ سے محروم کرنے کے) منصوبے پر قادِر بنتے ہوئے چل پڑے
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
26
View Single
فَلَمَّا رَأَوۡهَا قَالُوٓاْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
Then when they saw it, they said, “We have indeed strayed.”
پھر جب انہوں نے اس (ویران باغ) کو دیکھا تو کہنے لگے: ہم یقیناً راستہ بھول گئے ہیں (یہ ہمارا باغ نہیں ہے)
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
27
View Single
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ
“In fact, we are unfortunate.”
(جب غور سے دیکھا تو پکار اٹھے: نہیں نہیں،) بلکہ ہم تو محروم ہو گئے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
28
View Single
قَالَ أَوۡسَطُهُمۡ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُونَ
The best among them said, “Did I not tell you, ‘Why do you not proclaim His purity?’”
ان کے ایک عدل پسند زِیرک شخص نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم (اللہ کا) ذِکر و تسبیح کیوں نہیں کرتے
Tafsir Ibn Kathir
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ- فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ- قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ- عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبّنَا رغِبُونَ- كَذَلِكَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الاْخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ-
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
29
View Single
قَالُواْ سُبۡحَٰنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
They said, “Purity is to our Lord – we have indeed been unjust.”
(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی ظالم تھے
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
30
View Single
فَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَلَٰوَمُونَ
So they came towards each other, blaming.
سو وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم ملامت کرنے لگے
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
31
View Single
قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَٰغِينَ
They said, “Woe to us – we were indeed rebellious.”
کہنے لگے: ہائے ہماری شامت! بے شک ہم ہی سرکش و باغی تھے
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
32
View Single
عَسَىٰ رَبُّنَآ أَن يُبۡدِلَنَا خَيۡرٗا مِّنۡهَآ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا رَٰغِبُونَ
“Hopefully, our Lord will give us a better replacement than this – we now incline towards our Lord.”
امید ہے ہمارا رب ہمیں اس کے بدلہ میں اس سے بہتر دے گا، بے شک ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
33
View Single
كَذَٰلِكَ ٱلۡعَذَابُۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ
Such is the punishment; and indeed the punishment of the Hereafter is the greatest, if only they knew!
عذاب اسی طرح ہوتا ہے، اور واقعی آخرت کا عذاب (اِس سے) کہیں بڑھ کر ہے، کاش! وہ لوگ جانتے ہوتے
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے انشاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لئے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا ایسا ہوگیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی، اسی لئے حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جو اس کے لئے تیار کردی گئی ہے پھر حضور ﷺ نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بےنصیب ہوگئے (ابن ابی حاتم) صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے، سدی فرماتے ہیں حرد ان کی بستی کا نام تھا لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہا اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے، لیکن جب وہاں پہنچے تو ہکا بکا رہ گئے۔ کہ لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ میوؤں سے لدے ہوئے درخت اور پکے ہوئے پھل سب غارت اور برباد ہوچکے ہیں سارے باغ میں آندھی پھر گئی ہے اور کل باغ میوؤں سمیت جل کر کوئلہ ہوگیا ہے، کوئی پھل نصف دام کا بھی نہیں رہا، ساری تروتازگی پژمردگی سے بدل گئی ہے، باغ سارا کا سارا جل کر راکھ ہوگیا ہے درختوں کے کالے کالے ڈراؤنے ٹنڈ کھڑے ہوئے ہیں، پہلے تو سمجھے کہ ہم راہ بھول گئے کسی اور باغ میں چلے آئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارا طریقہ کار غلط تھا جس کا یہ نتیجہ ہے پھر بغور دیکھنے سے جب یقین ہوگیا کہ باغ تو یہ ہمارا ہی ہے تب سمجھ گئے اور کہنے لگے ہے تو یہی لیکن ہم بدقسمت ہیں، ہمارے نصیب میں ہی اس کا پھل اور فائدہ نہیں، ان سب میں جو عدل و انصاف والا اور بھلائی اور بہتری والا تھا وہ بول پڑا کہ دیکھو میں تو پہلے ہی تم سے کہتا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے، سدی فرماتے ہیں ان کے زمانہ میں سبحان اللہ کہنا بھی انشاء اللہ کہنے کے قائم مقام تھا، امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کے معنی ہی انشاء اللہ کہنے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بہتر شخص نے ان سے کہا کہ دیکھو میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم کیوں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد وثناء نہیں کرتے ؟ یہ سن کر اب وہ کہنے لگ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اب اطاعت بجا لائے جبکہ عذاب پہنچ چکا اب اپنی تقصیر کو مانا جب سزا دے دی گئی، اب تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے بہت ہی برا کیا کہ مسکینوں کا حق مارنا چاہا اور اللہ کی فرمانبرداری سے رک گئے، پھر سب نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری سرکشی حد سے بڑھ گئی اسی وجہ سے اللہ کا عذاب آیا، پھر کہتے ہیں شاید ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے یعنی دنیا میں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخرت کے خیال سے انہوں نے یہ کہا ہو واللہ اعلم، بعض سلف کا قول ہے کہ یہ واقعہ اہل یمن کا ہے، حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یہ لوگ فروان کے رہنے والے تھے جو صنعاء سے چھ میل کے فاصلہ پر ایک بستی ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اہل حبشہ تھے۔ مذہباً اہل کتاب تھے یہ باغ انہیں ان کے باپ کے ورثے میں ملا تھا اس کا یہ دستور تھا کہ باغ کی پیداوار میں سے باغ کا خرچ نکال کر اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی نفع اللہ کے نام صدقہ کردیتا تھا اس کے انتقال کے بعد ان بچوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا کہ ہمارا باپ تو بیوقوف تھا جو اتنی بڑی رقم ہر سال ادھر ادھر دے دیتا تھا ہم ان فقیروں کو اگر نہ دیں اور اپنا مال باقاعدہ سنبھالیں تو بہت جلد دولت مند بن جائیں یہ ارادہ انہوں نے پختہ کرلیا تو ان پر وہ عذاب آیا جس نے اصل مال بھی تباہ کردیا اور بالکل خالی ہاتھ رہ گئے، پھر فرماتا ہے جو شخص بھی اللہ کے حکموں کے خلاف کرے اور اللہ کی نعمتوں میں بخل کرے اور مسکینوں محتاجوں کا حق ادا نہ کرے اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرے اس پر اسی طرح کے عذاب نازل ہوتے ہیں اور یہ تو دنیوی عذاب ہیں آخرت کے عذاب تو ابھی باقی ہیں جو سخت تر اور بدتر ہیں، بیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے رات کے وقت کھیتی کاٹنے اور باغ کے پھل اتارنے سے منع فرما دیا ہے۔
34
View Single
إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ
Indeed for the pious, with their Lord, are Gardens of Serenity.
بے شک پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
35
View Single
أَفَنَجۡعَلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ كَٱلۡمُجۡرِمِينَ
Shall We equate the Muslims to the guilty?
کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح (محروم) کر دیں گے
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
36
View Single
مَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ
What is the matter with you? What sort of a judgement you impose!
تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیا فیصلہ کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
37
View Single
أَمۡ لَكُمۡ كِتَٰبٞ فِيهِ تَدۡرُسُونَ
Is there a Book for you, from which you read?
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
38
View Single
إِنَّ لَكُمۡ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ
- That for you in it is whatever you like?
کہ تمہارے لئے اس میں وہ کچھ ہے جو تم پسند کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
39
View Single
أَمۡ لَكُمۡ أَيۡمَٰنٌ عَلَيۡنَا بَٰلِغَةٌ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّ لَكُمۡ لَمَا تَحۡكُمُونَ
Or is it that you have a covenant from Us, right up to the Day of Judgement, that you will get all what you claim?
یا تمہارے لئے ہمارے ذِمّہ کچھ (ایسے) پختہ عہد و پیمان ہیں جو روزِ قیامت تک باقی رہیں (جن کے ذریعے ہم پابند ہوں) کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جس کا تم (اپنے حق میں) فیصلہ کرو گے
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
40
View Single
سَلۡهُمۡ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ
Ask them, who among them is a guarantor for it?
ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون اس (قسم کی بے ہودہ بات) کا ذِمّہ دار ہے
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
41
View Single
أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَآءُ فَلۡيَأۡتُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ
Or is it that they have partners in worship? So they should bring their appointed partners, if they are truthful.
یا ان کے کچھ اور شریک (بھی) ہیں؟ تو انہیں چاہئے کہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر وہ سچے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
A Parable of the Removal of the Earnings of the Disbelievers
This is a parable that Allah made of the behavior of the Quraysh disbelievers with the great mercy, and tremendous favors He granted them. The mercy and favor of sending of Muhammad ﷺ to them. But they met him with denial, rejection and opposition. Therefore Allah says,
إِنَّا بَلَوْنَـهُمْ
(Verily, We have tried them) meaning, `We have tested them.'
كَمَا بَلَوْنَآ أَصْحَـبَ الْجَنَّةِ
(as We tried the People of the Garden,) This refers to a garden containing different types of fruits and vegetation.
إِذْ أَقْسَمُواْ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ
(when they swore to pluck the fruits of the (garden) in the morning,) meaning, they vowed between themselves during the night that they would pluck the fruit of the garden in the morning so that poor and the beggars would not know what they were doing. In this way they would be able to keep its fruit for themselves and not give any of it in charity.
وَلاَ يَسْتَثْنُونَ
(Without (saying: "If Allah wills.")) meaning their vow that they made. Therefore, Allah broke their vow. He then said,
فَطَافَ عَلَيْهَا طَآئِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَآئِمُونَ
(Then there passed over it a Ta'if from your Lord while they were asleep. ) meaning, it was afflicted with some heavenly destruction.
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ
(So by the morning it became like As-Sarim.) Ibn `Abbas said, "Like the dark night." Ath-Thawri and As-Suddi both said, "Like the crop when it is harvested withered and dry."
فَتَنَادَوْاْ مُصْبِحِينَ
(Then they called out (one to another as soon) as the morning broke.) meaning, when it was (early) morning time they called each other so that they could go together to pick the harvest or cut it (its fruits). Then Allah said,
أَنِ اغْدُواْ عَلَى حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَـرِمِينَ
((Saying:) "Go to your tilth in the morning, if you would pluck (the fruits).") meaning, `if you want to pluck your harvest fruit.'
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ
(So they departed, and they were whispering:) meaning, they spoke privately about what they were doing so that no one could hear what they were saying. Then Allah, the All-Knower of secrets and private discussions, explained what they were saying in private. He said,
فَانطَلَقُواْ وَهُمْ يَتَخَـفَتُونَ - أَن لاَّ يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِينٌ
(So they departed, and they were whispering: "No poor person shall enter upon you into it today.") meaning, some of them said to others, "Do not allow any poor person to enter upon you in it (the garden) today." Allah then said,
وَغَدَوْاْ عَلَى حَرْدٍ
(And they went in the morning with Hard) meaning, with strength and power.
قَـدِرِينَ
(Qadirin) meaning, they thought they had power to do what they claimed and what they were desiring.
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُواْ إِنَّا لَضَآلُّونَ
(But when they saw it, they said: "Verily, we have gone astray.") meaning, when they arrived at it and came upon it, and it was in the condition which Allah changed from that luster, brilliance and abundance of fruit, to being black, gloomy and void of any benefit. They believed that they had been mistaken in the path they took in walking to it. This is why they said,
إِنَّا لَضَآلُّونَ
(Verily, we have gone astray.) meaning, `we have walked down a path other than the one we were seeking to reach it.' This was said by Ibn `Abbas and others. Then they changed their minds and realized with certainty that it was actually the correct path. Then they said,
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
(Nay! Indeed we are deprived (of the fruits)!) meaning, `nay, this is it, but we have no portion and no share (of harvest).'
قَالَ أَوْسَطُهُمْ
(The Awsat among them said,) Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, `Ikrimah, Muhammad bin Ka`b, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak and Qatadah all said, "This means the most just of them and the best of them."
أَلَمْ أَقُلْ لَّكُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun') Mujahid, As-Suddi and Ibn Jurayj all said that,
لَوْلاَ تُسَبِّحُونَ
(Why do you not Tusabbihun) this means "why do you not say, `If Allah wills"' As-Suddi said, "Their making exception due to the will of Allah in that time was by glorifying Allah (Tasbih)." Ibn Jarir said, "It is a person's saying, `If Allah wills."' It has also been said that it means that the best of them said to them, "Did I not tell you, why don't you glorify Allah and thank Him for what He has given you and favored you with"
قَالُواْ سُبْحَـنَ رَبِّنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَ
(They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers.") They became obedient when it was of no benefit to them, and they were remorseful and confessed when it was not of any use. Then they said,
إِنَّا كُنَّا ظَـلِمِينَفَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَلَـوَمُونَ
("...Verily, we have been wrongdoers." Then they turned one against another, blaming.) meaning, they started blaming each other for what they had resolved to do, preventing the poor people from receiving their right of the harvested fruit. Thus, their response to each other was only to confess their error and sin.
قَالُواْ يوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا طَـغِينَ
(They said: "Woe to us! Verily, we were Taghin.") meaning, `we have transgressed, trespassed, violated and exceeded the bounds until what this happened to us.'
عَسَى رَبُّنَآ أَن يُبْدِلَنَا خَيْراً مِّنْهَآ إِنَّآ إِلَى رَبِّنَا رَغِبُونَ
(We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord.) It has been said, "They were hoping for something better in exchange in this life." It has also been said, "They were hoping for its reward in the abode of the Hereafter." And Allah knows best. Some of the Salaf mentioned that these people were from Yemen. Sa`id bin Jubayr said, "They were from a village that was called Darawan which was six miles from San`a' (in Yemen). " It has also been said, "They were from the people of Ethiopia whose father had left them this garden, and they were from the People of the Book. Their father used to handle the garden in a good way. Whatever he reaped from it he would put it back into the garden as it needed, and he would save some of it as food for his dependants for the year, and he would give away the excess in charity. Then, when he died, and his children inherited the garden they said, `Verily, our father was foolish for giving some of this garden's harvest to the poor. If we prevent them from it, then we will have more.' So when they made up their minds to do this they were punished with what was contrary to their plan. Allah took away all of what they possessed of wealth, gain and charity. Nothing remained for them." Allah then says,
كَذَلِكَ الْعَذَابُ
(Such is the punishment,) meaning, such is the punishment of whoever opposes the command of Allah, is stingy with what Allah has given him and favored him with, withholds the right of the poor and needy, and responds to Allah's blessings upon him with ungratefulness (or disbelief).
وَلَعَذَابُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ
(but truly, the punishment of the Hereafter is greater if they but knew.) meaning, this is the punishment in this life, as you have heard, and the punishment of the Hereafter is even harder.
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی ؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے ؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو۔
42
View Single
يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَن سَاقٖ وَيُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ
On the day when the Shin* will be exposed and they will be called to prostrate themselves, they will be unable. (Used as a metaphor)
جس دن ساق (یعنی اَحوالِ قیامت کی ہولناک شدت) سے پردہ اٹھایا جائے گا اور وہ (نافرمان) لوگ سجدہ کے لئے بلائے جائیں گے تو وہ (سجدہ) نہ کر سکیں گے
Tafsir Ibn Kathir
The Terror of the Day of Judgement
After Allah mentions that those who have Taqwa, will have Gardens of Delight with their Lord, He explains when this will be, and its actual occurrence. He says,
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ
(The Day when the Shin shall be laid bare and they shall be called to prostrate themselves, but they shall not be able to do so.) meaning, the Day of Judgement and the horrors, earthquakes, trials, tests and great matters that will occur during it. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that he heard the Prophet saying,
«يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»
(Our Lord will reveal His Shin, and every believing male and female will prostrate to Him. The only people who will remain standing are those who prostrated in the worldly life only to be seen and heard (showing off). This type of person will try to prostrate at that time, but his back will made to be one stiff plate (the bone will not bend or flex).)" This Hadith was recorded in the Two Sahihs and other books from different routes of transmission with various wordings. It is a long Hadith that is very popular. Concerning Allah's statement,
خَـشِعَةً أَبْصَـرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ
(Their eyes will be cast down and ignominy will cover them;) means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Everytime one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing.
For Whoever denies the Qur'an
Then Allah says,
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ
(Then leave Me alone with such as belie this narration.) meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says,
سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(We shall punish them gradually from directions they perceive not.) meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) (23:55,56) Allah also said,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) Therefore, Allah says here,
وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(And I will grant them a respite. Verily, My plan is strong.) meaning, `I will delay them, give them respite and extend their time. Yet, this is My plan, and My plot against them.' Thus, Allah says,
إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(Verily, My plan is strong.) meaning, `great against whoever opposes My command, rejects My Messengers and dares to disobey Me.' In the Two Sahihs it is recorded from the Messenger of Allah ﷺ that he said,
«إِنَّ اللهَ تَعَالى لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتْى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Verily Allah the Exalted gives respite to the wrongdoer until He seizes him and he will not be able to escape Him.) Then he recited,
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.) (11:102) In reference to Allah's statement,
أَمْ تَسْـَلُهُمْ أَجْراً فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ - أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
(Or is it that you ask them for a wage, so that they are heavily burdened with debt Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down) the explanation of these two Ayat prece- ded in Surat At-Tur. The meaning of it is, `you, O Muhammad, call them to Allah without taking any wages from them. rather, you hope for the reward with Allah. Yet, they reject that which you have brought to them simply due to ignorance, disbelief and obstinacy.'
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
43
View Single
خَٰشِعَةً أَبۡصَٰرُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَٰلِمُونَ
With lowered eyes, disgrace overcoming them; and indeed they used to be called to prostrate themselves whilst they were healthy.
ان کی آنکھیں (ہیبت اور ندامت کے باعث) جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذِلت چھا رہی ہوگی، حالانکہ وہ (دنیا میں بھی) سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے جبکہ وہ تندرست تھے (مگر پھر بھی سجدہ کے اِنکاری تھے)
Tafsir Ibn Kathir
The Terror of the Day of Judgement
After Allah mentions that those who have Taqwa, will have Gardens of Delight with their Lord, He explains when this will be, and its actual occurrence. He says,
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ
(The Day when the Shin shall be laid bare and they shall be called to prostrate themselves, but they shall not be able to do so.) meaning, the Day of Judgement and the horrors, earthquakes, trials, tests and great matters that will occur during it. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that he heard the Prophet saying,
«يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»
(Our Lord will reveal His Shin, and every believing male and female will prostrate to Him. The only people who will remain standing are those who prostrated in the worldly life only to be seen and heard (showing off). This type of person will try to prostrate at that time, but his back will made to be one stiff plate (the bone will not bend or flex).)" This Hadith was recorded in the Two Sahihs and other books from different routes of transmission with various wordings. It is a long Hadith that is very popular. Concerning Allah's statement,
خَـشِعَةً أَبْصَـرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ
(Their eyes will be cast down and ignominy will cover them;) means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Everytime one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing.
For Whoever denies the Qur'an
Then Allah says,
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ
(Then leave Me alone with such as belie this narration.) meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says,
سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(We shall punish them gradually from directions they perceive not.) meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) (23:55,56) Allah also said,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) Therefore, Allah says here,
وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(And I will grant them a respite. Verily, My plan is strong.) meaning, `I will delay them, give them respite and extend their time. Yet, this is My plan, and My plot against them.' Thus, Allah says,
إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(Verily, My plan is strong.) meaning, `great against whoever opposes My command, rejects My Messengers and dares to disobey Me.' In the Two Sahihs it is recorded from the Messenger of Allah ﷺ that he said,
«إِنَّ اللهَ تَعَالى لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتْى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Verily Allah the Exalted gives respite to the wrongdoer until He seizes him and he will not be able to escape Him.) Then he recited,
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.) (11:102) In reference to Allah's statement,
أَمْ تَسْـَلُهُمْ أَجْراً فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ - أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
(Or is it that you ask them for a wage, so that they are heavily burdened with debt Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down) the explanation of these two Ayat prece- ded in Surat At-Tur. The meaning of it is, `you, O Muhammad, call them to Allah without taking any wages from them. rather, you hope for the reward with Allah. Yet, they reject that which you have brought to them simply due to ignorance, disbelief and obstinacy.'
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
44
View Single
فَذَرۡنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِۖ سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ
Therefore leave the one who denies this matter, to Me; We shall soon steadily take them away, from a place they do not know.
پس (اے حبیبِ مکرم!) آپ مجھے اور اس شخص کو جو اس کلام کو جھٹلاتا ہے (اِنتقام کے لئے) چھوڑ دیں، اب ہم انہیں آہستہ آہستہ (تباہی کی طرف) اس طرح لے جائیں گے کہ انہیں معلوم تک نہ ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
The Terror of the Day of Judgement
After Allah mentions that those who have Taqwa, will have Gardens of Delight with their Lord, He explains when this will be, and its actual occurrence. He says,
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ
(The Day when the Shin shall be laid bare and they shall be called to prostrate themselves, but they shall not be able to do so.) meaning, the Day of Judgement and the horrors, earthquakes, trials, tests and great matters that will occur during it. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that he heard the Prophet saying,
«يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»
(Our Lord will reveal His Shin, and every believing male and female will prostrate to Him. The only people who will remain standing are those who prostrated in the worldly life only to be seen and heard (showing off). This type of person will try to prostrate at that time, but his back will made to be one stiff plate (the bone will not bend or flex).)" This Hadith was recorded in the Two Sahihs and other books from different routes of transmission with various wordings. It is a long Hadith that is very popular. Concerning Allah's statement,
خَـشِعَةً أَبْصَـرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ
(Their eyes will be cast down and ignominy will cover them;) means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Everytime one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing.
For Whoever denies the Qur'an
Then Allah says,
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ
(Then leave Me alone with such as belie this narration.) meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says,
سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(We shall punish them gradually from directions they perceive not.) meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) (23:55,56) Allah also said,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) Therefore, Allah says here,
وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(And I will grant them a respite. Verily, My plan is strong.) meaning, `I will delay them, give them respite and extend their time. Yet, this is My plan, and My plot against them.' Thus, Allah says,
إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(Verily, My plan is strong.) meaning, `great against whoever opposes My command, rejects My Messengers and dares to disobey Me.' In the Two Sahihs it is recorded from the Messenger of Allah ﷺ that he said,
«إِنَّ اللهَ تَعَالى لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتْى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Verily Allah the Exalted gives respite to the wrongdoer until He seizes him and he will not be able to escape Him.) Then he recited,
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.) (11:102) In reference to Allah's statement,
أَمْ تَسْـَلُهُمْ أَجْراً فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ - أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
(Or is it that you ask them for a wage, so that they are heavily burdened with debt Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down) the explanation of these two Ayat prece- ded in Surat At-Tur. The meaning of it is, `you, O Muhammad, call them to Allah without taking any wages from them. rather, you hope for the reward with Allah. Yet, they reject that which you have brought to them simply due to ignorance, disbelief and obstinacy.'
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
45
View Single
وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ
And I will give them respite; indeed My plan is very solid.
اور میں اُنہیں مہلت دے رہا ہوں، بے شک میری تدبیر بہت مضبوط ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Terror of the Day of Judgement
After Allah mentions that those who have Taqwa, will have Gardens of Delight with their Lord, He explains when this will be, and its actual occurrence. He says,
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ
(The Day when the Shin shall be laid bare and they shall be called to prostrate themselves, but they shall not be able to do so.) meaning, the Day of Judgement and the horrors, earthquakes, trials, tests and great matters that will occur during it. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that he heard the Prophet saying,
«يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»
(Our Lord will reveal His Shin, and every believing male and female will prostrate to Him. The only people who will remain standing are those who prostrated in the worldly life only to be seen and heard (showing off). This type of person will try to prostrate at that time, but his back will made to be one stiff plate (the bone will not bend or flex).)" This Hadith was recorded in the Two Sahihs and other books from different routes of transmission with various wordings. It is a long Hadith that is very popular. Concerning Allah's statement,
خَـشِعَةً أَبْصَـرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ
(Their eyes will be cast down and ignominy will cover them;) means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Everytime one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing.
For Whoever denies the Qur'an
Then Allah says,
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ
(Then leave Me alone with such as belie this narration.) meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says,
سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(We shall punish them gradually from directions they perceive not.) meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) (23:55,56) Allah also said,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) Therefore, Allah says here,
وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(And I will grant them a respite. Verily, My plan is strong.) meaning, `I will delay them, give them respite and extend their time. Yet, this is My plan, and My plot against them.' Thus, Allah says,
إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(Verily, My plan is strong.) meaning, `great against whoever opposes My command, rejects My Messengers and dares to disobey Me.' In the Two Sahihs it is recorded from the Messenger of Allah ﷺ that he said,
«إِنَّ اللهَ تَعَالى لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتْى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Verily Allah the Exalted gives respite to the wrongdoer until He seizes him and he will not be able to escape Him.) Then he recited,
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.) (11:102) In reference to Allah's statement,
أَمْ تَسْـَلُهُمْ أَجْراً فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ - أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
(Or is it that you ask them for a wage, so that they are heavily burdened with debt Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down) the explanation of these two Ayat prece- ded in Surat At-Tur. The meaning of it is, `you, O Muhammad, call them to Allah without taking any wages from them. rather, you hope for the reward with Allah. Yet, they reject that which you have brought to them simply due to ignorance, disbelief and obstinacy.'
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
46
View Single
أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ أَجۡرٗا فَهُم مِّن مَّغۡرَمٖ مُّثۡقَلُونَ
Or is it that you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) ask any fee from them, so they are burdened with the penalty?
کیا آپ ان سے (تبلیغِ رسالت پر) کوئی معاوضہ مانگ رہے ہیں کہ وہ تاوان (کے بوجھ) سے دبے جا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Terror of the Day of Judgement
After Allah mentions that those who have Taqwa, will have Gardens of Delight with their Lord, He explains when this will be, and its actual occurrence. He says,
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ
(The Day when the Shin shall be laid bare and they shall be called to prostrate themselves, but they shall not be able to do so.) meaning, the Day of Judgement and the horrors, earthquakes, trials, tests and great matters that will occur during it. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that he heard the Prophet saying,
«يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»
(Our Lord will reveal His Shin, and every believing male and female will prostrate to Him. The only people who will remain standing are those who prostrated in the worldly life only to be seen and heard (showing off). This type of person will try to prostrate at that time, but his back will made to be one stiff plate (the bone will not bend or flex).)" This Hadith was recorded in the Two Sahihs and other books from different routes of transmission with various wordings. It is a long Hadith that is very popular. Concerning Allah's statement,
خَـشِعَةً أَبْصَـرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ
(Their eyes will be cast down and ignominy will cover them;) means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Everytime one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing.
For Whoever denies the Qur'an
Then Allah says,
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ
(Then leave Me alone with such as belie this narration.) meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says,
سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(We shall punish them gradually from directions they perceive not.) meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) (23:55,56) Allah also said,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) Therefore, Allah says here,
وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(And I will grant them a respite. Verily, My plan is strong.) meaning, `I will delay them, give them respite and extend their time. Yet, this is My plan, and My plot against them.' Thus, Allah says,
إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(Verily, My plan is strong.) meaning, `great against whoever opposes My command, rejects My Messengers and dares to disobey Me.' In the Two Sahihs it is recorded from the Messenger of Allah ﷺ that he said,
«إِنَّ اللهَ تَعَالى لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتْى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Verily Allah the Exalted gives respite to the wrongdoer until He seizes him and he will not be able to escape Him.) Then he recited,
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.) (11:102) In reference to Allah's statement,
أَمْ تَسْـَلُهُمْ أَجْراً فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ - أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
(Or is it that you ask them for a wage, so that they are heavily burdened with debt Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down) the explanation of these two Ayat prece- ded in Surat At-Tur. The meaning of it is, `you, O Muhammad, call them to Allah without taking any wages from them. rather, you hope for the reward with Allah. Yet, they reject that which you have brought to them simply due to ignorance, disbelief and obstinacy.'
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
47
View Single
أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ
Or that they possess the hidden, so they are writing it?
کیا ان کے پاس علمِ غیب ہے کہ وہ (اس کی بنیاد پر اپنے فیصلے) لکھتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Terror of the Day of Judgement
After Allah mentions that those who have Taqwa, will have Gardens of Delight with their Lord, He explains when this will be, and its actual occurrence. He says,
يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ
(The Day when the Shin shall be laid bare and they shall be called to prostrate themselves, but they shall not be able to do so.) meaning, the Day of Judgement and the horrors, earthquakes, trials, tests and great matters that will occur during it. Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said that he heard the Prophet saying,
«يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا»
(Our Lord will reveal His Shin, and every believing male and female will prostrate to Him. The only people who will remain standing are those who prostrated in the worldly life only to be seen and heard (showing off). This type of person will try to prostrate at that time, but his back will made to be one stiff plate (the bone will not bend or flex).)" This Hadith was recorded in the Two Sahihs and other books from different routes of transmission with various wordings. It is a long Hadith that is very popular. Concerning Allah's statement,
خَـشِعَةً أَبْصَـرُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ
(Their eyes will be cast down and ignominy will cover them;) means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Everytime one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing.
For Whoever denies the Qur'an
Then Allah says,
فَذَرْنِى وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـذَا الْحَدِيثِ
(Then leave Me alone with such as belie this narration.) meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says,
سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ
(We shall punish them gradually from directions they perceive not.) meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement,
أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ - نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ
(Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not.) (23:55,56) Allah also said,
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ
(So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows.) Therefore, Allah says here,
وَأُمْلِى لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(And I will grant them a respite. Verily, My plan is strong.) meaning, `I will delay them, give them respite and extend their time. Yet, this is My plan, and My plot against them.' Thus, Allah says,
إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
(Verily, My plan is strong.) meaning, `great against whoever opposes My command, rejects My Messengers and dares to disobey Me.' In the Two Sahihs it is recorded from the Messenger of Allah ﷺ that he said,
«إِنَّ اللهَ تَعَالى لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتْى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْه»
(Verily Allah the Exalted gives respite to the wrongdoer until He seizes him and he will not be able to escape Him.) Then he recited,
وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
(Such is the punishment of your Lord when He seizes the towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.) (11:102) In reference to Allah's statement,
أَمْ تَسْـَلُهُمْ أَجْراً فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ - أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
(Or is it that you ask them for a wage, so that they are heavily burdened with debt Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down) the explanation of these two Ayat prece- ded in Surat At-Tur. The meaning of it is, `you, O Muhammad, call them to Allah without taking any wages from them. rather, you hope for the reward with Allah. Yet, they reject that which you have brought to them simply due to ignorance, disbelief and obstinacy.'
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختہ کی طرف ہوجائے گی، یعنی ان سے سجدے کے لئے جھکا نہ جائے گا، یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے اور دوسری کتابوں میں بھی ہے کئی کئی سندوں سے الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ مروی ہے اور یہ حدیث مطول ہے اور مشہور ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ دن تکلیف دکھ درد اور شدت کا دن ہے (ابن جریر) اور ابن جریر اسے دوسری سند سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہ ابن مسعود یا ابن عباس سے آیت (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ) 68۔ القلم :42) کی تفسیر میں بہت بڑا عظیم الشان امر مروی ہے جیسے شاعر کا قول ہے (شالت الحرب عن ساق) یہاں بھی لڑائی کی عظمت اور بڑائی بیان کی گئی ہے، مجاہد سے بھی یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں قیامت کے دن کی یہ گھڑی بہت سخت ہوگی، آپ فرماتے ہیں یہ امر بہت سخت بڑی گھبراہٹ والا اور ہولناک ہے، آپ فرماتے ہیں جس وقت امر کھول دیا جائے گا اعمال ظاہر ہوجائیں گے اور یہ کھلنا آخرت کا آجاتا ہے اور اس سے کام کا کھل جانا ہے، یہ سب روایتیں ابن جریر میں ہیں، اس کے بعد یہ حدیث ابو یعلی میں بھی ہے اور اس کی اسناد میں ایک مبہم راوی ہے واللہ اعلم (یاد رہے کہ صحیح تفسیر وہی ہے جو بخاری مسلم کے حوالے سے اوپر مرفوع حدیث میں گذری کہ اللہ عزوجل اپنی پنڈلی کھولے گا، دوسری حدیث بھی مطلب کے لحاظ سے ٹھیک ہے کیونکہ اللہ خود نور اوراقوال بھی اسطرح ٹھیک ہیں کہ اللہ عالم کی پنڈلی بھی ظاہر ہوگی اور ساتھ ہی وہ ہولناکیاں اور شدتیں بھی ہوں گی واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرمایا جس دن ان لوگوں کی آنکھیں اوپر کو نہ اٹھیں گی اور ذلیل و پست ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں بڑے سرکش اور کبر و غرور والے تھے، صحت اور سلامتی کی حالت میں دنیا میں جب انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا تو رک جاتا تھے جس کی سزا یہ ملی کہ آج سجدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے پہلے کرسکتے تھے لیکن نہیں کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر مومن سب سجدے میں گرپڑیں گے لیکن کافر و منافق سجدہ نہ کرسکیں گے کمر تختہ ہوجائے گی جھکے گی ہی نہیں بلکہ پیٹھ کے بل چت گرپڑیں گے، یہاں بھی ان کی حالت مومنوں کے خلاف تھی وہاں بھی خلاف ہی رہے گی۔ پھر فرمایا مجھے اور میری اس حدیث یعنی قرآن کو جھٹلانے والوں کو تو چھوڑ دے، اس میں بڑی وعید ہے اور سخت ڈانٹ ہے کہ تو ٹھہر جا میں آپ ان سے نپٹ لوں گا دیکھ تو سہی کہ کس طرح بتدریج انہیں پکڑتا ہوں یہ اپنی سرکشی اور غرور میں پڑتے جائیں گے میری ڈھیل کے راز کو نہ سمجھیں گے اور پھر ایک دم یہ پاپ کا گھڑا پھوٹے گا اور میں اچانک انہیں پکڑ لوں گا۔ میں انہیں بڑھاتا رہوں گا یہ بدمست ہوتے چلے جائیں گے وہ اسے کرامت سمجھیں گے حالانکہ وہ اہانت ہوگی، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ 55ۙ) 23۔ المؤمنون :55) ، یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ مال و اولاد کا بڑھنا ان کے لئے ہماری جانب سے کسی بھلائی کی بنا پر ہے، نہیں بلکہ یہ بےشعور ہیں اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ حَتّٰى اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44) 6۔ الانعام :44) جب یہ ہمارے وعظ و پند کو بھلا چکے تو ہم نے ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ انہیں جو دیا گیا تھا اس پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ناگہانی پکڑ لیا اور ان کی امیدیں منقطع ہوگئیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے میں انہیں ڈھیل دوں گا، بڑھاؤں گا اور اونچا کروں گا یہ میرا داؤ ہے اور میری تدبیر میرے مخالفوں اور میرے نافرمانوں کے ساتھ بہت بڑی ہے۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) یعنی اسی طرح ہے تیرے رب کی پکڑ جبکہ وہ کسی بستی والوں کو پکڑتا ہے جو ظالم ہوتے ہیں اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت سخت ہے۔ پھر فرمایا تو کچھ ان سے اجرت اور بدلہ تو مانگتا ہی نہیں جو ان پر بھاری پڑتا ہو جس تاوان سے یہ جھکے جاتے ہوں، نہ ان کے پاس کوئی علم غیب ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں۔ ان دونوں جملوں کی تفسیر سورة والطور میں گذر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں اللہ عزوجل کی طرف بغیر اجرت اور بغیر مال طلبی کے اور بغیر بدلے کی چاہت کے بلا رہے ہیں آپ کی غرض سوائے ثواب حاصل کرنے کے اور کوئی نہیں اس پر بھی یہ لوگ صرف اپنی جہالت اور کفر اور سرکشی کی وجہ سے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔
48
View Single
فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومٞ
Therefore wait for your Lord’s command, and do not be like the one of the fish; who cried out when he was distraught. (Prophet Yunus – peace be upon him.)
پس آپ اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر فرمائیے اور مچھلی والے (پیغمبر یونس علیہ السلام) کی طرح (دل گرفتہ) نہ ہوں، جب انہوں نے (اللہ کو) پکارا اس حال میں کہ وہ (اپنی قوم پر) غم و غصہ سے بھرے ہوئے تھے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Patient and to refrain from being Hasty like Yunus was
Allah says,
فَاصْبِرْ
(So wait with patience) `O Muhammad, persevere against the harm your people cause you and their rejection. For verily, Allah will give you authority over them, and make the final victory for you and your followers in this life and the Hereafter.'
وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ
(and be not like the Companion of the Fish) meaning, Dhun-Nun, who was Yunus bin Matta, when he went off angry with his people. Various things happened to him, such as riding on a ship at sea, being swallowed by a (large) fish, the fish carrying him off into the ocean, being in the darkness and depth of the sea and hearing the sea's and its dwellers glorification of the Most High, the Most Able (Allah). For He (Allah) is the One Whose execution of divine decree cannot be resisted. After all of this, he (Yunus) called out from the layers of darkness,
أَن لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ
("That none has the right to be worshipped but You (O Allah), Glorified (and Exalted) are You! Truly, I have been of the wrongdoers.") (21:87) Then Allah said concerning him,
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَـهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنجِـى الْمُؤْمِنِينَ
(So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers.) (21:88) Allah also says,
فَلَوْلاَ أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ - لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(Had he not been of them who glorify Allah, he would have indeed remained inside its belly (the fish) till the Day when they are resurrected.) (37:143,144) So here (in this Surah), Allah says,
إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
(when he cried out (to Us) while he was Makzum.) Ibn `Abbas, Mujahid and As-Suddi, all said, "while he was distressed." Then Allah goes on to say,
فَاجْتَبَـهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّـلِحِينَ
(Then his Lord chose him and made him of the righteous.) Imam Ahmad recorded from `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»
(It is not befitting for anyone to say that I am better than Yunus bin Matta.) Al-Bukhari recorded this Hadith and it is in the Two Sahihs reported from Abu Hurayrah. Concerning Allah's statement,
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَـرِهِمْ
(And verily, those who disbelieve would almost make you slip with their eyes) Ibn `Abbas, Mujahid and others have said,
لَيُزْلِقُونَكَ
(would make you slip) "In order to have some effect on you."
بِأَبْصَـرِهِمْ
(with their eyes) meaning, `they will affect you by looking at you with their eyes (i.e., the evil eye).' This means `they are jealous of you due to their hatred of you, and were it not for Allah's protection of you, defending you against them (then their evil eye would harm you).'
The Effect of the Evil Eye is Real
In this Ayah is a proof that the effect of the evil eye and its affliction by the command of Allah is real. Many Hadiths have been reported concerning this through numerous routes of transmission. The Hadith of Buraydah bin Al-Husayb Abu `Abdullah bin Majah recorded from Buraydah bin Al-Husayb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.) This is how Ibn Majah recorded this Hadith. Imam Muslim also recorded this Hadith in his Sahih on the authority of Buraydah himself, but he did not attribute it to the Prophet . There is a story concerning this incident (as reported by Buraydah in Sahih Muslim), and At-Tirmidhi recorded the Hadith in this manner (like Muslim's version). This Hadith has also been recorded by Imam Al-Bukhari, Abu Dawud and At-Tirmidhi on the authority of `Imran bin Husayn, however, he did not attribute it to the Prophet . `Imran's wording is,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.)" Muslim recorded in his Sahih from Ibn `Abbas that the Prophet said,
«الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتِ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»
(The evil eye is real. If anything were to overtake the divine decree (and change it), then it would be the evil eye. And if you perform Ghusl (to remove the evil eye) then wash well.) Muslim was alone in recording this Hadith, as Al-Bukhari did not mention it. It is reported from Ibn `Abbas that he said, "The Messenger of Allah ﷺ used to invoke Allah's protection for Al-Hasan and Al-Husayn (his grandsons) by saying,
«أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّة»
(I seek protection for you two by the perfect Words of Allah from every Shaytan, and dangerous creature, and from every eye that is evil.) Then he would say:
«هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام»
(Thus, did Ibrahim used to seek protection for Ishaq and Isma`il (his sons).)" This Hadith was recorded by Al-Bukhari and the Sunan compilers.
The Hadith of Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf
Ibn Majah recorded from Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf that `Amir bin Rabi`ah passed by Sahl bin Hunayf while he was bathing and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today (i.e., commenting on how nice Sahl's skin was)." So he did not leave before he (Sahl) fell down on the ground. So he was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him (the Prophet ) that Sahl had been afflicted by a seizure. The Prophet then said,
«مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟»
(Who do you blame (or hold responsible) for this) The people replied, ""Amir bin Rabi`ah." Then the Prophet said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَة»
(Would one of you knowingly kill his brother If one of you sees something of his brother that he likes, then let him supplicate for blessings for him.) Then the Prophet called for some water and he commanded `Amir to perform Wudu' with the water. So he washed his face, his hands up to his two elbows, his two knees, and the inside of his Izar. Then the Prophet commanded him to pour the water over Sahl. Sufyan said that Ma`mar related from Az-Zuhri that he said, "The Prophet ordered him to turn the water pot over (empty its contents over) him (Sahl) from behind him." An-Nasa'i recorded this Hadith through different routes from Abu Umamah with the wording, "And he turned the pot over pouring its contents over him (Sahl) from behind him."
The Hadith of Abu Sa`id Al-Khudri
Ibn Majah recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "The Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge from the evil eye of the Jinns and the evil eye of humans. Then when the Mu`awwidhatan were revealed, he used them (for seeking protection) and abandoned everything else. This was recorded by At-Tirmidhi, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan."
Another Hadith from Abu Sa`id Imam
Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allahﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
Another Hadith from Abu Sa`id
Imam Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
The Hadith of Asma' bint `Umays
Imam Ahmad recorded from `Ubayd bin Rifa`ah Az-Zuraqi that Asma' said, "O Messenger of Allah! Verily, Bani Ja`far are afflicted with the evil eye; should I seek to have Ruqyah " The Prophet replied,
«نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ يَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْن»
(Yes, for if anything could overcome the divine decree, it would be the evil eye.) This Hadith has been recorded like this by At-Tirmidhi, Ibn Majah, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said concerning it, "Hasan Sahih."
The Hadith of `A'ishah
Ibn Majah recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Messenger of Allah ﷺ ordered her to have Ruqyah performed as a cure against the evil eye. This was reported by Al-Bukhari and Muslim. The Hadith of Sahl bin Hunayf Imam Ahmad recorded from Abu Umamah bin Sahl bin Hunayf that his father informed him that the Messenger of Allah ﷺ went out on a journey in the direction of Makkah and they (the Companions) accompanied him until they came to the valley of Kharrar from Al-Juhfah. They stopped there and Sahl took a bath. He (Sahl) was a white man, with a handsome body and nice skin. So the brother of Bani `Adi bin Ka`b, `Amir bin Rabi`ah looked at Sahl while he bathed and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today." Then Sahl suddenly had a seizure and fell to the ground. So he (Sahl) was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him, "O Messenger of Allah! Can you do anything for Sahl By Allah, he has not lifted his head nor has he regained consciousness." The Prophet then said,
«هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ؟»
(Do you all blame (or hold responsible) anyone for what has happened to him) They said, "`Amir bin Rabi`ah looked at him." So the Prophet called `Amir and he was very angry with him. He said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ؟»
(Would one of you knowingly kill his brother Why don't you ask Allah to bless your brother when you see something (of him) that you like) Then the Prophet said,
«اغْتَسِلْ لَه»
(Bathe for him.) So he (`Amir) washed his face, his hands, his elbows, his knees, his feet and the inside of his Izar (waist wrapper) in a drinking vessel. Then that water was poured over him (Sahl). A man poured it over Sahl's head and his back from behind him, then the container was turned upside down and emptied behind him. This was done, and afterwards Sahl recovered and left with the people having nothing wrong with him."
The Hadith of `Amir bin Rabi`ah
Imam Ahmad recorded in his Musnad that `Ubaydullah bin `Amir said, "`Amir bin Rabi`ah and Sahl bin Hanayf went off together intending to bathe. So they went about their business using coverings (to cover their nakedness). So `Amir removed a cloak of wool that he (Sahl) was using to conceal himself. He (`Amir) said, `I looked at him and my eye fell upon him while he was pouring water on himself bathing. Then I heard a loud splash in the water coming from where he was. So I went to him, and I called him three times, but he did not answer me. So I went to the Prophet and informed him. Then, the Prophet came walking, and he was wading in the water. I can still picture the whiteness of his shins. When he came to Sahl (who was unconscious), he hit him on his chest with his hand and said,
«اللْهُمَّ اصْرِفْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا»
(O Allah! Remove from him its heat, its cold and its pain.) He (Sahl) then stood up, and Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيُبَرِّكْ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَق»
(If one of you sees in his brother, or himself, or his wealth that which pleases him, then he should ask Allah to bless it, for verily, the evil eye is real.)
The Accusation of the Disbelievers and the Reply to Them
Allah says,
وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ
(and they say: "Verily, he is a madman!") meaning, they cut at him with their eyes and attack him with their tongues saying, "Verily, he is a madman." They say this because he came with the Qur'an. Allah then says,
وَمَا هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(But it is nothing else but a Reminder to all the creatures (`Alamin).) This is the end of the explanation (Tafsir) of Surah Nun (or Al-Qalam), and all praise and blessing belong to Allah.
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
49
View Single
لَّوۡلَآ أَن تَدَٰرَكَهُۥ نِعۡمَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ لَنُبِذَ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُومٞ
Were it not for his Lord’s favour that reached him, he would have surely been cast onto the desolate land, reproached.
اگر ان کے رب کی رحمت و نعمت ان کی دستگیری نہ کرتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دئیے جاتے اور وہ ملامت زدہ ہوتے (مگر اللہ نے انہیں ا س سے محفوط رکھا)
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Patient and to refrain from being Hasty like Yunus was
Allah says,
فَاصْبِرْ
(So wait with patience) `O Muhammad, persevere against the harm your people cause you and their rejection. For verily, Allah will give you authority over them, and make the final victory for you and your followers in this life and the Hereafter.'
وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ
(and be not like the Companion of the Fish) meaning, Dhun-Nun, who was Yunus bin Matta, when he went off angry with his people. Various things happened to him, such as riding on a ship at sea, being swallowed by a (large) fish, the fish carrying him off into the ocean, being in the darkness and depth of the sea and hearing the sea's and its dwellers glorification of the Most High, the Most Able (Allah). For He (Allah) is the One Whose execution of divine decree cannot be resisted. After all of this, he (Yunus) called out from the layers of darkness,
أَن لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ
("That none has the right to be worshipped but You (O Allah), Glorified (and Exalted) are You! Truly, I have been of the wrongdoers.") (21:87) Then Allah said concerning him,
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَـهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنجِـى الْمُؤْمِنِينَ
(So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers.) (21:88) Allah also says,
فَلَوْلاَ أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ - لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(Had he not been of them who glorify Allah, he would have indeed remained inside its belly (the fish) till the Day when they are resurrected.) (37:143,144) So here (in this Surah), Allah says,
إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
(when he cried out (to Us) while he was Makzum.) Ibn `Abbas, Mujahid and As-Suddi, all said, "while he was distressed." Then Allah goes on to say,
فَاجْتَبَـهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّـلِحِينَ
(Then his Lord chose him and made him of the righteous.) Imam Ahmad recorded from `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»
(It is not befitting for anyone to say that I am better than Yunus bin Matta.) Al-Bukhari recorded this Hadith and it is in the Two Sahihs reported from Abu Hurayrah. Concerning Allah's statement,
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَـرِهِمْ
(And verily, those who disbelieve would almost make you slip with their eyes) Ibn `Abbas, Mujahid and others have said,
لَيُزْلِقُونَكَ
(would make you slip) "In order to have some effect on you."
بِأَبْصَـرِهِمْ
(with their eyes) meaning, `they will affect you by looking at you with their eyes (i.e., the evil eye).' This means `they are jealous of you due to their hatred of you, and were it not for Allah's protection of you, defending you against them (then their evil eye would harm you).'
The Effect of the Evil Eye is Real
In this Ayah is a proof that the effect of the evil eye and its affliction by the command of Allah is real. Many Hadiths have been reported concerning this through numerous routes of transmission. The Hadith of Buraydah bin Al-Husayb Abu `Abdullah bin Majah recorded from Buraydah bin Al-Husayb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.) This is how Ibn Majah recorded this Hadith. Imam Muslim also recorded this Hadith in his Sahih on the authority of Buraydah himself, but he did not attribute it to the Prophet . There is a story concerning this incident (as reported by Buraydah in Sahih Muslim), and At-Tirmidhi recorded the Hadith in this manner (like Muslim's version). This Hadith has also been recorded by Imam Al-Bukhari, Abu Dawud and At-Tirmidhi on the authority of `Imran bin Husayn, however, he did not attribute it to the Prophet . `Imran's wording is,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.)" Muslim recorded in his Sahih from Ibn `Abbas that the Prophet said,
«الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتِ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»
(The evil eye is real. If anything were to overtake the divine decree (and change it), then it would be the evil eye. And if you perform Ghusl (to remove the evil eye) then wash well.) Muslim was alone in recording this Hadith, as Al-Bukhari did not mention it. It is reported from Ibn `Abbas that he said, "The Messenger of Allah ﷺ used to invoke Allah's protection for Al-Hasan and Al-Husayn (his grandsons) by saying,
«أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّة»
(I seek protection for you two by the perfect Words of Allah from every Shaytan, and dangerous creature, and from every eye that is evil.) Then he would say:
«هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام»
(Thus, did Ibrahim used to seek protection for Ishaq and Isma`il (his sons).)" This Hadith was recorded by Al-Bukhari and the Sunan compilers.
The Hadith of Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf
Ibn Majah recorded from Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf that `Amir bin Rabi`ah passed by Sahl bin Hunayf while he was bathing and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today (i.e., commenting on how nice Sahl's skin was)." So he did not leave before he (Sahl) fell down on the ground. So he was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him (the Prophet ) that Sahl had been afflicted by a seizure. The Prophet then said,
«مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟»
(Who do you blame (or hold responsible) for this) The people replied, ""Amir bin Rabi`ah." Then the Prophet said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَة»
(Would one of you knowingly kill his brother If one of you sees something of his brother that he likes, then let him supplicate for blessings for him.) Then the Prophet called for some water and he commanded `Amir to perform Wudu' with the water. So he washed his face, his hands up to his two elbows, his two knees, and the inside of his Izar. Then the Prophet commanded him to pour the water over Sahl. Sufyan said that Ma`mar related from Az-Zuhri that he said, "The Prophet ordered him to turn the water pot over (empty its contents over) him (Sahl) from behind him." An-Nasa'i recorded this Hadith through different routes from Abu Umamah with the wording, "And he turned the pot over pouring its contents over him (Sahl) from behind him."
The Hadith of Abu Sa`id Al-Khudri
Ibn Majah recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "The Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge from the evil eye of the Jinns and the evil eye of humans. Then when the Mu`awwidhatan were revealed, he used them (for seeking protection) and abandoned everything else. This was recorded by At-Tirmidhi, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan."
Another Hadith from Abu Sa`id Imam
Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allahﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
Another Hadith from Abu Sa`id
Imam Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
The Hadith of Asma' bint `Umays
Imam Ahmad recorded from `Ubayd bin Rifa`ah Az-Zuraqi that Asma' said, "O Messenger of Allah! Verily, Bani Ja`far are afflicted with the evil eye; should I seek to have Ruqyah " The Prophet replied,
«نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ يَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْن»
(Yes, for if anything could overcome the divine decree, it would be the evil eye.) This Hadith has been recorded like this by At-Tirmidhi, Ibn Majah, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said concerning it, "Hasan Sahih."
The Hadith of `A'ishah
Ibn Majah recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Messenger of Allah ﷺ ordered her to have Ruqyah performed as a cure against the evil eye. This was reported by Al-Bukhari and Muslim. The Hadith of Sahl bin Hunayf Imam Ahmad recorded from Abu Umamah bin Sahl bin Hunayf that his father informed him that the Messenger of Allah ﷺ went out on a journey in the direction of Makkah and they (the Companions) accompanied him until they came to the valley of Kharrar from Al-Juhfah. They stopped there and Sahl took a bath. He (Sahl) was a white man, with a handsome body and nice skin. So the brother of Bani `Adi bin Ka`b, `Amir bin Rabi`ah looked at Sahl while he bathed and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today." Then Sahl suddenly had a seizure and fell to the ground. So he (Sahl) was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him, "O Messenger of Allah! Can you do anything for Sahl By Allah, he has not lifted his head nor has he regained consciousness." The Prophet then said,
«هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ؟»
(Do you all blame (or hold responsible) anyone for what has happened to him) They said, "`Amir bin Rabi`ah looked at him." So the Prophet called `Amir and he was very angry with him. He said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ؟»
(Would one of you knowingly kill his brother Why don't you ask Allah to bless your brother when you see something (of him) that you like) Then the Prophet said,
«اغْتَسِلْ لَه»
(Bathe for him.) So he (`Amir) washed his face, his hands, his elbows, his knees, his feet and the inside of his Izar (waist wrapper) in a drinking vessel. Then that water was poured over him (Sahl). A man poured it over Sahl's head and his back from behind him, then the container was turned upside down and emptied behind him. This was done, and afterwards Sahl recovered and left with the people having nothing wrong with him."
The Hadith of `Amir bin Rabi`ah
Imam Ahmad recorded in his Musnad that `Ubaydullah bin `Amir said, "`Amir bin Rabi`ah and Sahl bin Hanayf went off together intending to bathe. So they went about their business using coverings (to cover their nakedness). So `Amir removed a cloak of wool that he (Sahl) was using to conceal himself. He (`Amir) said, `I looked at him and my eye fell upon him while he was pouring water on himself bathing. Then I heard a loud splash in the water coming from where he was. So I went to him, and I called him three times, but he did not answer me. So I went to the Prophet and informed him. Then, the Prophet came walking, and he was wading in the water. I can still picture the whiteness of his shins. When he came to Sahl (who was unconscious), he hit him on his chest with his hand and said,
«اللْهُمَّ اصْرِفْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا»
(O Allah! Remove from him its heat, its cold and its pain.) He (Sahl) then stood up, and Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيُبَرِّكْ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَق»
(If one of you sees in his brother, or himself, or his wealth that which pleases him, then he should ask Allah to bless it, for verily, the evil eye is real.)
The Accusation of the Disbelievers and the Reply to Them
Allah says,
وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ
(and they say: "Verily, he is a madman!") meaning, they cut at him with their eyes and attack him with their tongues saying, "Verily, he is a madman." They say this because he came with the Qur'an. Allah then says,
وَمَا هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(But it is nothing else but a Reminder to all the creatures (`Alamin).) This is the end of the explanation (Tafsir) of Surah Nun (or Al-Qalam), and all praise and blessing belong to Allah.
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
50
View Single
فَٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَجَعَلَهُۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
His Lord therefore chose him and made him among those deserving His proximity.
پھر ان کے رب نے انہیں برگزیدہ بنا لیا اور انہیں (اپنے قربِ خاص سے نواز کر) کامل نیکو کاروں میں (شامل) فرما دیا
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Patient and to refrain from being Hasty like Yunus was
Allah says,
فَاصْبِرْ
(So wait with patience) `O Muhammad, persevere against the harm your people cause you and their rejection. For verily, Allah will give you authority over them, and make the final victory for you and your followers in this life and the Hereafter.'
وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ
(and be not like the Companion of the Fish) meaning, Dhun-Nun, who was Yunus bin Matta, when he went off angry with his people. Various things happened to him, such as riding on a ship at sea, being swallowed by a (large) fish, the fish carrying him off into the ocean, being in the darkness and depth of the sea and hearing the sea's and its dwellers glorification of the Most High, the Most Able (Allah). For He (Allah) is the One Whose execution of divine decree cannot be resisted. After all of this, he (Yunus) called out from the layers of darkness,
أَن لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ
("That none has the right to be worshipped but You (O Allah), Glorified (and Exalted) are You! Truly, I have been of the wrongdoers.") (21:87) Then Allah said concerning him,
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَـهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنجِـى الْمُؤْمِنِينَ
(So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers.) (21:88) Allah also says,
فَلَوْلاَ أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ - لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(Had he not been of them who glorify Allah, he would have indeed remained inside its belly (the fish) till the Day when they are resurrected.) (37:143,144) So here (in this Surah), Allah says,
إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
(when he cried out (to Us) while he was Makzum.) Ibn `Abbas, Mujahid and As-Suddi, all said, "while he was distressed." Then Allah goes on to say,
فَاجْتَبَـهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّـلِحِينَ
(Then his Lord chose him and made him of the righteous.) Imam Ahmad recorded from `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»
(It is not befitting for anyone to say that I am better than Yunus bin Matta.) Al-Bukhari recorded this Hadith and it is in the Two Sahihs reported from Abu Hurayrah. Concerning Allah's statement,
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَـرِهِمْ
(And verily, those who disbelieve would almost make you slip with their eyes) Ibn `Abbas, Mujahid and others have said,
لَيُزْلِقُونَكَ
(would make you slip) "In order to have some effect on you."
بِأَبْصَـرِهِمْ
(with their eyes) meaning, `they will affect you by looking at you with their eyes (i.e., the evil eye).' This means `they are jealous of you due to their hatred of you, and were it not for Allah's protection of you, defending you against them (then their evil eye would harm you).'
The Effect of the Evil Eye is Real
In this Ayah is a proof that the effect of the evil eye and its affliction by the command of Allah is real. Many Hadiths have been reported concerning this through numerous routes of transmission. The Hadith of Buraydah bin Al-Husayb Abu `Abdullah bin Majah recorded from Buraydah bin Al-Husayb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.) This is how Ibn Majah recorded this Hadith. Imam Muslim also recorded this Hadith in his Sahih on the authority of Buraydah himself, but he did not attribute it to the Prophet . There is a story concerning this incident (as reported by Buraydah in Sahih Muslim), and At-Tirmidhi recorded the Hadith in this manner (like Muslim's version). This Hadith has also been recorded by Imam Al-Bukhari, Abu Dawud and At-Tirmidhi on the authority of `Imran bin Husayn, however, he did not attribute it to the Prophet . `Imran's wording is,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.)" Muslim recorded in his Sahih from Ibn `Abbas that the Prophet said,
«الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتِ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»
(The evil eye is real. If anything were to overtake the divine decree (and change it), then it would be the evil eye. And if you perform Ghusl (to remove the evil eye) then wash well.) Muslim was alone in recording this Hadith, as Al-Bukhari did not mention it. It is reported from Ibn `Abbas that he said, "The Messenger of Allah ﷺ used to invoke Allah's protection for Al-Hasan and Al-Husayn (his grandsons) by saying,
«أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّة»
(I seek protection for you two by the perfect Words of Allah from every Shaytan, and dangerous creature, and from every eye that is evil.) Then he would say:
«هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام»
(Thus, did Ibrahim used to seek protection for Ishaq and Isma`il (his sons).)" This Hadith was recorded by Al-Bukhari and the Sunan compilers.
The Hadith of Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf
Ibn Majah recorded from Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf that `Amir bin Rabi`ah passed by Sahl bin Hunayf while he was bathing and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today (i.e., commenting on how nice Sahl's skin was)." So he did not leave before he (Sahl) fell down on the ground. So he was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him (the Prophet ) that Sahl had been afflicted by a seizure. The Prophet then said,
«مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟»
(Who do you blame (or hold responsible) for this) The people replied, ""Amir bin Rabi`ah." Then the Prophet said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَة»
(Would one of you knowingly kill his brother If one of you sees something of his brother that he likes, then let him supplicate for blessings for him.) Then the Prophet called for some water and he commanded `Amir to perform Wudu' with the water. So he washed his face, his hands up to his two elbows, his two knees, and the inside of his Izar. Then the Prophet commanded him to pour the water over Sahl. Sufyan said that Ma`mar related from Az-Zuhri that he said, "The Prophet ordered him to turn the water pot over (empty its contents over) him (Sahl) from behind him." An-Nasa'i recorded this Hadith through different routes from Abu Umamah with the wording, "And he turned the pot over pouring its contents over him (Sahl) from behind him."
The Hadith of Abu Sa`id Al-Khudri
Ibn Majah recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "The Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge from the evil eye of the Jinns and the evil eye of humans. Then when the Mu`awwidhatan were revealed, he used them (for seeking protection) and abandoned everything else. This was recorded by At-Tirmidhi, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan."
Another Hadith from Abu Sa`id Imam
Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allahﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
Another Hadith from Abu Sa`id
Imam Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
The Hadith of Asma' bint `Umays
Imam Ahmad recorded from `Ubayd bin Rifa`ah Az-Zuraqi that Asma' said, "O Messenger of Allah! Verily, Bani Ja`far are afflicted with the evil eye; should I seek to have Ruqyah " The Prophet replied,
«نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ يَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْن»
(Yes, for if anything could overcome the divine decree, it would be the evil eye.) This Hadith has been recorded like this by At-Tirmidhi, Ibn Majah, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said concerning it, "Hasan Sahih."
The Hadith of `A'ishah
Ibn Majah recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Messenger of Allah ﷺ ordered her to have Ruqyah performed as a cure against the evil eye. This was reported by Al-Bukhari and Muslim. The Hadith of Sahl bin Hunayf Imam Ahmad recorded from Abu Umamah bin Sahl bin Hunayf that his father informed him that the Messenger of Allah ﷺ went out on a journey in the direction of Makkah and they (the Companions) accompanied him until they came to the valley of Kharrar from Al-Juhfah. They stopped there and Sahl took a bath. He (Sahl) was a white man, with a handsome body and nice skin. So the brother of Bani `Adi bin Ka`b, `Amir bin Rabi`ah looked at Sahl while he bathed and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today." Then Sahl suddenly had a seizure and fell to the ground. So he (Sahl) was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him, "O Messenger of Allah! Can you do anything for Sahl By Allah, he has not lifted his head nor has he regained consciousness." The Prophet then said,
«هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ؟»
(Do you all blame (or hold responsible) anyone for what has happened to him) They said, "`Amir bin Rabi`ah looked at him." So the Prophet called `Amir and he was very angry with him. He said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ؟»
(Would one of you knowingly kill his brother Why don't you ask Allah to bless your brother when you see something (of him) that you like) Then the Prophet said,
«اغْتَسِلْ لَه»
(Bathe for him.) So he (`Amir) washed his face, his hands, his elbows, his knees, his feet and the inside of his Izar (waist wrapper) in a drinking vessel. Then that water was poured over him (Sahl). A man poured it over Sahl's head and his back from behind him, then the container was turned upside down and emptied behind him. This was done, and afterwards Sahl recovered and left with the people having nothing wrong with him."
The Hadith of `Amir bin Rabi`ah
Imam Ahmad recorded in his Musnad that `Ubaydullah bin `Amir said, "`Amir bin Rabi`ah and Sahl bin Hanayf went off together intending to bathe. So they went about their business using coverings (to cover their nakedness). So `Amir removed a cloak of wool that he (Sahl) was using to conceal himself. He (`Amir) said, `I looked at him and my eye fell upon him while he was pouring water on himself bathing. Then I heard a loud splash in the water coming from where he was. So I went to him, and I called him three times, but he did not answer me. So I went to the Prophet and informed him. Then, the Prophet came walking, and he was wading in the water. I can still picture the whiteness of his shins. When he came to Sahl (who was unconscious), he hit him on his chest with his hand and said,
«اللْهُمَّ اصْرِفْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا»
(O Allah! Remove from him its heat, its cold and its pain.) He (Sahl) then stood up, and Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيُبَرِّكْ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَق»
(If one of you sees in his brother, or himself, or his wealth that which pleases him, then he should ask Allah to bless it, for verily, the evil eye is real.)
The Accusation of the Disbelievers and the Reply to Them
Allah says,
وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ
(and they say: "Verily, he is a madman!") meaning, they cut at him with their eyes and attack him with their tongues saying, "Verily, he is a madman." They say this because he came with the Qur'an. Allah then says,
وَمَا هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(But it is nothing else but a Reminder to all the creatures (`Alamin).) This is the end of the explanation (Tafsir) of Surah Nun (or Al-Qalam), and all praise and blessing belong to Allah.
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
51
View Single
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ لَمَّا سَمِعُواْ ٱلذِّكۡرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجۡنُونٞ
And indeed the disbelievers seem as if they would topple you with their evil gaze when they hear the Qur’an, and they say, “He is indeed insane.”
اور بے شک کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آپ کو اپنی (حاسدانہ بد) نظروں سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Patient and to refrain from being Hasty like Yunus was
Allah says,
فَاصْبِرْ
(So wait with patience) `O Muhammad, persevere against the harm your people cause you and their rejection. For verily, Allah will give you authority over them, and make the final victory for you and your followers in this life and the Hereafter.'
وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ
(and be not like the Companion of the Fish) meaning, Dhun-Nun, who was Yunus bin Matta, when he went off angry with his people. Various things happened to him, such as riding on a ship at sea, being swallowed by a (large) fish, the fish carrying him off into the ocean, being in the darkness and depth of the sea and hearing the sea's and its dwellers glorification of the Most High, the Most Able (Allah). For He (Allah) is the One Whose execution of divine decree cannot be resisted. After all of this, he (Yunus) called out from the layers of darkness,
أَن لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ
("That none has the right to be worshipped but You (O Allah), Glorified (and Exalted) are You! Truly, I have been of the wrongdoers.") (21:87) Then Allah said concerning him,
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَـهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنجِـى الْمُؤْمِنِينَ
(So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers.) (21:88) Allah also says,
فَلَوْلاَ أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ - لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(Had he not been of them who glorify Allah, he would have indeed remained inside its belly (the fish) till the Day when they are resurrected.) (37:143,144) So here (in this Surah), Allah says,
إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
(when he cried out (to Us) while he was Makzum.) Ibn `Abbas, Mujahid and As-Suddi, all said, "while he was distressed." Then Allah goes on to say,
فَاجْتَبَـهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّـلِحِينَ
(Then his Lord chose him and made him of the righteous.) Imam Ahmad recorded from `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»
(It is not befitting for anyone to say that I am better than Yunus bin Matta.) Al-Bukhari recorded this Hadith and it is in the Two Sahihs reported from Abu Hurayrah. Concerning Allah's statement,
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَـرِهِمْ
(And verily, those who disbelieve would almost make you slip with their eyes) Ibn `Abbas, Mujahid and others have said,
لَيُزْلِقُونَكَ
(would make you slip) "In order to have some effect on you."
بِأَبْصَـرِهِمْ
(with their eyes) meaning, `they will affect you by looking at you with their eyes (i.e., the evil eye).' This means `they are jealous of you due to their hatred of you, and were it not for Allah's protection of you, defending you against them (then their evil eye would harm you).'
The Effect of the Evil Eye is Real
In this Ayah is a proof that the effect of the evil eye and its affliction by the command of Allah is real. Many Hadiths have been reported concerning this through numerous routes of transmission. The Hadith of Buraydah bin Al-Husayb Abu `Abdullah bin Majah recorded from Buraydah bin Al-Husayb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.) This is how Ibn Majah recorded this Hadith. Imam Muslim also recorded this Hadith in his Sahih on the authority of Buraydah himself, but he did not attribute it to the Prophet . There is a story concerning this incident (as reported by Buraydah in Sahih Muslim), and At-Tirmidhi recorded the Hadith in this manner (like Muslim's version). This Hadith has also been recorded by Imam Al-Bukhari, Abu Dawud and At-Tirmidhi on the authority of `Imran bin Husayn, however, he did not attribute it to the Prophet . `Imran's wording is,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.)" Muslim recorded in his Sahih from Ibn `Abbas that the Prophet said,
«الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتِ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»
(The evil eye is real. If anything were to overtake the divine decree (and change it), then it would be the evil eye. And if you perform Ghusl (to remove the evil eye) then wash well.) Muslim was alone in recording this Hadith, as Al-Bukhari did not mention it. It is reported from Ibn `Abbas that he said, "The Messenger of Allah ﷺ used to invoke Allah's protection for Al-Hasan and Al-Husayn (his grandsons) by saying,
«أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّة»
(I seek protection for you two by the perfect Words of Allah from every Shaytan, and dangerous creature, and from every eye that is evil.) Then he would say:
«هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام»
(Thus, did Ibrahim used to seek protection for Ishaq and Isma`il (his sons).)" This Hadith was recorded by Al-Bukhari and the Sunan compilers.
The Hadith of Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf
Ibn Majah recorded from Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf that `Amir bin Rabi`ah passed by Sahl bin Hunayf while he was bathing and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today (i.e., commenting on how nice Sahl's skin was)." So he did not leave before he (Sahl) fell down on the ground. So he was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him (the Prophet ) that Sahl had been afflicted by a seizure. The Prophet then said,
«مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟»
(Who do you blame (or hold responsible) for this) The people replied, ""Amir bin Rabi`ah." Then the Prophet said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَة»
(Would one of you knowingly kill his brother If one of you sees something of his brother that he likes, then let him supplicate for blessings for him.) Then the Prophet called for some water and he commanded `Amir to perform Wudu' with the water. So he washed his face, his hands up to his two elbows, his two knees, and the inside of his Izar. Then the Prophet commanded him to pour the water over Sahl. Sufyan said that Ma`mar related from Az-Zuhri that he said, "The Prophet ordered him to turn the water pot over (empty its contents over) him (Sahl) from behind him." An-Nasa'i recorded this Hadith through different routes from Abu Umamah with the wording, "And he turned the pot over pouring its contents over him (Sahl) from behind him."
The Hadith of Abu Sa`id Al-Khudri
Ibn Majah recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "The Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge from the evil eye of the Jinns and the evil eye of humans. Then when the Mu`awwidhatan were revealed, he used them (for seeking protection) and abandoned everything else. This was recorded by At-Tirmidhi, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan."
Another Hadith from Abu Sa`id Imam
Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allahﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
Another Hadith from Abu Sa`id
Imam Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
The Hadith of Asma' bint `Umays
Imam Ahmad recorded from `Ubayd bin Rifa`ah Az-Zuraqi that Asma' said, "O Messenger of Allah! Verily, Bani Ja`far are afflicted with the evil eye; should I seek to have Ruqyah " The Prophet replied,
«نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ يَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْن»
(Yes, for if anything could overcome the divine decree, it would be the evil eye.) This Hadith has been recorded like this by At-Tirmidhi, Ibn Majah, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said concerning it, "Hasan Sahih."
The Hadith of `A'ishah
Ibn Majah recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Messenger of Allah ﷺ ordered her to have Ruqyah performed as a cure against the evil eye. This was reported by Al-Bukhari and Muslim. The Hadith of Sahl bin Hunayf Imam Ahmad recorded from Abu Umamah bin Sahl bin Hunayf that his father informed him that the Messenger of Allah ﷺ went out on a journey in the direction of Makkah and they (the Companions) accompanied him until they came to the valley of Kharrar from Al-Juhfah. They stopped there and Sahl took a bath. He (Sahl) was a white man, with a handsome body and nice skin. So the brother of Bani `Adi bin Ka`b, `Amir bin Rabi`ah looked at Sahl while he bathed and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today." Then Sahl suddenly had a seizure and fell to the ground. So he (Sahl) was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him, "O Messenger of Allah! Can you do anything for Sahl By Allah, he has not lifted his head nor has he regained consciousness." The Prophet then said,
«هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ؟»
(Do you all blame (or hold responsible) anyone for what has happened to him) They said, "`Amir bin Rabi`ah looked at him." So the Prophet called `Amir and he was very angry with him. He said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ؟»
(Would one of you knowingly kill his brother Why don't you ask Allah to bless your brother when you see something (of him) that you like) Then the Prophet said,
«اغْتَسِلْ لَه»
(Bathe for him.) So he (`Amir) washed his face, his hands, his elbows, his knees, his feet and the inside of his Izar (waist wrapper) in a drinking vessel. Then that water was poured over him (Sahl). A man poured it over Sahl's head and his back from behind him, then the container was turned upside down and emptied behind him. This was done, and afterwards Sahl recovered and left with the people having nothing wrong with him."
The Hadith of `Amir bin Rabi`ah
Imam Ahmad recorded in his Musnad that `Ubaydullah bin `Amir said, "`Amir bin Rabi`ah and Sahl bin Hanayf went off together intending to bathe. So they went about their business using coverings (to cover their nakedness). So `Amir removed a cloak of wool that he (Sahl) was using to conceal himself. He (`Amir) said, `I looked at him and my eye fell upon him while he was pouring water on himself bathing. Then I heard a loud splash in the water coming from where he was. So I went to him, and I called him three times, but he did not answer me. So I went to the Prophet and informed him. Then, the Prophet came walking, and he was wading in the water. I can still picture the whiteness of his shins. When he came to Sahl (who was unconscious), he hit him on his chest with his hand and said,
«اللْهُمَّ اصْرِفْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا»
(O Allah! Remove from him its heat, its cold and its pain.) He (Sahl) then stood up, and Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيُبَرِّكْ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَق»
(If one of you sees in his brother, or himself, or his wealth that which pleases him, then he should ask Allah to bless it, for verily, the evil eye is real.)
The Accusation of the Disbelievers and the Reply to Them
Allah says,
وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ
(and they say: "Verily, he is a madman!") meaning, they cut at him with their eyes and attack him with their tongues saying, "Verily, he is a madman." They say this because he came with the Qur'an. Allah then says,
وَمَا هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(But it is nothing else but a Reminder to all the creatures (`Alamin).) This is the end of the explanation (Tafsir) of Surah Nun (or Al-Qalam), and all praise and blessing belong to Allah.
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔
52
View Single
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
Whereas it is not but an advice to the entire creation!
اور وہ (قرآن) تو سارے جہانوں کے لئے نصیحت ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Command to be Patient and to refrain from being Hasty like Yunus was
Allah says,
فَاصْبِرْ
(So wait with patience) `O Muhammad, persevere against the harm your people cause you and their rejection. For verily, Allah will give you authority over them, and make the final victory for you and your followers in this life and the Hereafter.'
وَلاَ تَكُن كَصَـحِبِ الْحُوتِ
(and be not like the Companion of the Fish) meaning, Dhun-Nun, who was Yunus bin Matta, when he went off angry with his people. Various things happened to him, such as riding on a ship at sea, being swallowed by a (large) fish, the fish carrying him off into the ocean, being in the darkness and depth of the sea and hearing the sea's and its dwellers glorification of the Most High, the Most Able (Allah). For He (Allah) is the One Whose execution of divine decree cannot be resisted. After all of this, he (Yunus) called out from the layers of darkness,
أَن لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ
("That none has the right to be worshipped but You (O Allah), Glorified (and Exalted) are You! Truly, I have been of the wrongdoers.") (21:87) Then Allah said concerning him,
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَـهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنجِـى الْمُؤْمِنِينَ
(So We answered his call, and delivered him from the distress. And thus We do deliver the believers.) (21:88) Allah also says,
فَلَوْلاَ أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ - لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ
(Had he not been of them who glorify Allah, he would have indeed remained inside its belly (the fish) till the Day when they are resurrected.) (37:143,144) So here (in this Surah), Allah says,
إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ
(when he cried out (to Us) while he was Makzum.) Ibn `Abbas, Mujahid and As-Suddi, all said, "while he was distressed." Then Allah goes on to say,
فَاجْتَبَـهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّـلِحِينَ
(Then his Lord chose him and made him of the righteous.) Imam Ahmad recorded from `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى»
(It is not befitting for anyone to say that I am better than Yunus bin Matta.) Al-Bukhari recorded this Hadith and it is in the Two Sahihs reported from Abu Hurayrah. Concerning Allah's statement,
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَـرِهِمْ
(And verily, those who disbelieve would almost make you slip with their eyes) Ibn `Abbas, Mujahid and others have said,
لَيُزْلِقُونَكَ
(would make you slip) "In order to have some effect on you."
بِأَبْصَـرِهِمْ
(with their eyes) meaning, `they will affect you by looking at you with their eyes (i.e., the evil eye).' This means `they are jealous of you due to their hatred of you, and were it not for Allah's protection of you, defending you against them (then their evil eye would harm you).'
The Effect of the Evil Eye is Real
In this Ayah is a proof that the effect of the evil eye and its affliction by the command of Allah is real. Many Hadiths have been reported concerning this through numerous routes of transmission. The Hadith of Buraydah bin Al-Husayb Abu `Abdullah bin Majah recorded from Buraydah bin Al-Husayb that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.) This is how Ibn Majah recorded this Hadith. Imam Muslim also recorded this Hadith in his Sahih on the authority of Buraydah himself, but he did not attribute it to the Prophet . There is a story concerning this incident (as reported by Buraydah in Sahih Muslim), and At-Tirmidhi recorded the Hadith in this manner (like Muslim's version). This Hadith has also been recorded by Imam Al-Bukhari, Abu Dawud and At-Tirmidhi on the authority of `Imran bin Husayn, however, he did not attribute it to the Prophet . `Imran's wording is,
«لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَة»
(There is no Ruqyah except to cure the evil eye and the sting.)" Muslim recorded in his Sahih from Ibn `Abbas that the Prophet said,
«الْعَيْنُ حَقٌّ وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتِ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»
(The evil eye is real. If anything were to overtake the divine decree (and change it), then it would be the evil eye. And if you perform Ghusl (to remove the evil eye) then wash well.) Muslim was alone in recording this Hadith, as Al-Bukhari did not mention it. It is reported from Ibn `Abbas that he said, "The Messenger of Allah ﷺ used to invoke Allah's protection for Al-Hasan and Al-Husayn (his grandsons) by saying,
«أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّة»
(I seek protection for you two by the perfect Words of Allah from every Shaytan, and dangerous creature, and from every eye that is evil.) Then he would say:
«هَكَذَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام»
(Thus, did Ibrahim used to seek protection for Ishaq and Isma`il (his sons).)" This Hadith was recorded by Al-Bukhari and the Sunan compilers.
The Hadith of Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf
Ibn Majah recorded from Abu Umamah As`ad bin Sahl bin Hunayf that `Amir bin Rabi`ah passed by Sahl bin Hunayf while he was bathing and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today (i.e., commenting on how nice Sahl's skin was)." So he did not leave before he (Sahl) fell down on the ground. So he was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him (the Prophet ) that Sahl had been afflicted by a seizure. The Prophet then said,
«مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟»
(Who do you blame (or hold responsible) for this) The people replied, ""Amir bin Rabi`ah." Then the Prophet said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَة»
(Would one of you knowingly kill his brother If one of you sees something of his brother that he likes, then let him supplicate for blessings for him.) Then the Prophet called for some water and he commanded `Amir to perform Wudu' with the water. So he washed his face, his hands up to his two elbows, his two knees, and the inside of his Izar. Then the Prophet commanded him to pour the water over Sahl. Sufyan said that Ma`mar related from Az-Zuhri that he said, "The Prophet ordered him to turn the water pot over (empty its contents over) him (Sahl) from behind him." An-Nasa'i recorded this Hadith through different routes from Abu Umamah with the wording, "And he turned the pot over pouring its contents over him (Sahl) from behind him."
The Hadith of Abu Sa`id Al-Khudri
Ibn Majah recorded that Abu Sa`id Al-Khudri said, "The Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge from the evil eye of the Jinns and the evil eye of humans. Then when the Mu`awwidhatan were revealed, he used them (for seeking protection) and abandoned everything else. This was recorded by At-Tirmidhi, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan."
Another Hadith from Abu Sa`id Imam
Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allahﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
Another Hadith from Abu Sa`id
Imam Ahmad recorded from Abu Sa`id that Jibril came to the Prophet and said, "O Muhammad, are you suffering from any ailment" The Prophet said,
«نَعَم»
(Yes)." Then Jibril said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ تَشْنِيكَ، وَاللهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيك»
("In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from the evil of every soul and every evil eye that hates you, may Allah cure you, in the Name of Allah I pray over you for healing.") This Hadith has been recorded by Muslim and the Sunan compilers except for Abu Dawud. Imam Ahmad also recorded from Abu Sa`id or Jabir bin `Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ was bothered by some illness, and Jibril came to him and said,
«بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ، اللهُ يَشْفِيك»
(In the Name of Allah I pray over you for healing (Ruqyah), from everything that bothers you, from every envious person and evil eye, may Allah cure you.)
The Hadith of Asma' bint `Umays
Imam Ahmad recorded from `Ubayd bin Rifa`ah Az-Zuraqi that Asma' said, "O Messenger of Allah! Verily, Bani Ja`far are afflicted with the evil eye; should I seek to have Ruqyah " The Prophet replied,
«نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ يَسْبِقُ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْن»
(Yes, for if anything could overcome the divine decree, it would be the evil eye.) This Hadith has been recorded like this by At-Tirmidhi, Ibn Majah, and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said concerning it, "Hasan Sahih."
The Hadith of `A'ishah
Ibn Majah recorded from `A'ishah, may Allah be pleased with her, that the Messenger of Allah ﷺ ordered her to have Ruqyah performed as a cure against the evil eye. This was reported by Al-Bukhari and Muslim. The Hadith of Sahl bin Hunayf Imam Ahmad recorded from Abu Umamah bin Sahl bin Hunayf that his father informed him that the Messenger of Allah ﷺ went out on a journey in the direction of Makkah and they (the Companions) accompanied him until they came to the valley of Kharrar from Al-Juhfah. They stopped there and Sahl took a bath. He (Sahl) was a white man, with a handsome body and nice skin. So the brother of Bani `Adi bin Ka`b, `Amir bin Rabi`ah looked at Sahl while he bathed and he said, "I haven't seen the skin of a beautiful virgin girl nicer than this that I see today." Then Sahl suddenly had a seizure and fell to the ground. So he (Sahl) was brought to the Messenger of Allah ﷺ and it was said to him, "O Messenger of Allah! Can you do anything for Sahl By Allah, he has not lifted his head nor has he regained consciousness." The Prophet then said,
«هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ؟»
(Do you all blame (or hold responsible) anyone for what has happened to him) They said, "`Amir bin Rabi`ah looked at him." So the Prophet called `Amir and he was very angry with him. He said,
«عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ؟»
(Would one of you knowingly kill his brother Why don't you ask Allah to bless your brother when you see something (of him) that you like) Then the Prophet said,
«اغْتَسِلْ لَه»
(Bathe for him.) So he (`Amir) washed his face, his hands, his elbows, his knees, his feet and the inside of his Izar (waist wrapper) in a drinking vessel. Then that water was poured over him (Sahl). A man poured it over Sahl's head and his back from behind him, then the container was turned upside down and emptied behind him. This was done, and afterwards Sahl recovered and left with the people having nothing wrong with him."
The Hadith of `Amir bin Rabi`ah
Imam Ahmad recorded in his Musnad that `Ubaydullah bin `Amir said, "`Amir bin Rabi`ah and Sahl bin Hanayf went off together intending to bathe. So they went about their business using coverings (to cover their nakedness). So `Amir removed a cloak of wool that he (Sahl) was using to conceal himself. He (`Amir) said, `I looked at him and my eye fell upon him while he was pouring water on himself bathing. Then I heard a loud splash in the water coming from where he was. So I went to him, and I called him three times, but he did not answer me. So I went to the Prophet and informed him. Then, the Prophet came walking, and he was wading in the water. I can still picture the whiteness of his shins. When he came to Sahl (who was unconscious), he hit him on his chest with his hand and said,
«اللْهُمَّ اصْرِفْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا»
(O Allah! Remove from him its heat, its cold and its pain.) He (Sahl) then stood up, and Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ، فَلْيُبَرِّكْ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَق»
(If one of you sees in his brother, or himself, or his wealth that which pleases him, then he should ask Allah to bless it, for verily, the evil eye is real.)
The Accusation of the Disbelievers and the Reply to Them
Allah says,
وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ
(and they say: "Verily, he is a madman!") meaning, they cut at him with their eyes and attack him with their tongues saying, "Verily, he is a madman." They say this because he came with the Qur'an. Allah then says,
وَمَا هُوَ إِلاَّ ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ
(But it is nothing else but a Reminder to all the creatures (`Alamin).) This is the end of the explanation (Tafsir) of Surah Nun (or Al-Qalam), and all praise and blessing belong to Allah.
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا بھی پکارنا اور آیت (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87ښ) 21۔ الأنبیاء :87) پڑھنا پھر آپ کی دعا کا قبول ہونا اس غم سے نجات پانا وغیرہ جس واقعہ کا مفصل بیان پہلے گزر چکا ہے۔ جس کے بیان کے بعد اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اسی طرح ایمانداروں کو نجات دیا کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ اگر وہ تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک اسی کے پیٹ میں پڑے رہتے، یہاں بھی فرمان ہے کہ جب اس نے غم اور دکھ کی حالت میں ہمیں پکارا، پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یونس ؑ کی زبان سے نکلتے ہی یہ کلمہ عرش پر پہنچا، فرشتوں نے کہا یا رب اس کمزور غیر معروف شخص کی آواز تو ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پہلے کی سنی ہوئی ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کیا تم نے اسے پہچانا نہیں ؟ فرشتوں نے عرض کیا نہیں، جناب باری نے فرمایا یہ میرے بندے یونس کی آواز ہے فرشتوں نے کہا پروردگار پھر تو تیرا یہ بندہ وہ ہے جس کے اعمال صالحہ روز آسمانوں پر چڑھتے رہے جس کی دعائیں ہر وقت قبولیت کا درجہ پاتی رہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سچ ہے، فرشتوں نے کہا پھر اے ارحم الراحمین ان کی آسانیوں کے وقت کے نیک اعمال کی بنا پر انہیں اس سختی سے نجات عطا فرما، چناچہ فرمان باری ہوا کہ اے مچھلی تو انہیں اگل دے اور مچھلی نے انہیں کنارے پر آ کر اگل دیا، یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے اسے پھر برگزیدہ بنا لیا اور نیک کاروں میں کردیا، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کسی کو لائق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت یونس بن متی سے افضل بتائے۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے، اگلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ تیرے بغض و حسد کی وجہ سے یہ کفار تو اپنی آنکھوں سے گھور گھور کر تجھے پھسلا دینا چاہتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے حمایت اور بچاؤ نہ ہوتا تو یقیناً یہ ایسا کر گذرتے، اس آیت میں دلیل ہے اس امر پر کہ نظر کا لگنا اور اس کی تاثیر کا اللہ کے حکم سے ہونا حق ہے جیسا کہ بہت سی احادیث میں بھی ہے جو کئی کئی سندوں سے مروی ہے، ابو داؤد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دم جھاڑا صرف نظر کا اور زہریلے جانوروں کا اور نہ تھمنے والے خون کا ہے، بعض سندوں میں نظر کا لفظ نہیں یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے اور صحیح مسلم شریف میں بھی ایک قصہ کے ساتھ موقوفاً مروی ہے، بخاری شریف اور ترمذی میں بھی ہے، ایک غریب حدیث ابو یعلی میں ہے کہ نظر میں کچھ بھی حق نہیں سب سے سچا شگون فال ہے، یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ کوئی ڈر، خوف، الو اور نظر نہیں اور نیک فالی سب سے زیادہ سچا فال ہے اور روایات میں ہے کہ نظر حق ہے، نظر حق ہے، وہ بلندی والے کو بھی اتار دیتی ہے (مسند احمد) صحیح مسلم میں ہے نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر کر جاتی جب تم سے غسل کرایا جائے تو غسل کرلیا کرو، عبدالرزاق میں ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت حسن اور حضرت حسین ان الفاظ کے ساتھ پناہ میں دیتے دعا (اعیذ کما بکلمات اللہ التامتہ من کل شیطان وھامتہ ومن کل عین لامتہ) یعنی تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے بھرپور کلمات کی پناہ میں سونپتا ہوں ہر شیطان سے اور ہر ایک زہریلے جانور سے اور ہر ایک لگ جانے والی نظر سے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم ؑ بھی حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو انہی الفاظ سے اللہ کی پناہ دیا کرتے تھے، یہ حدیث سنن میں اور بخاری شریف میں بھی ہے، ابن ماجہ میں ہے کہ سہل بن حنیف غسل کر رہے تھے عامر بن ربیعہ کہنے لگے میں نے تو آج تک ایسا بدن کسی پردہ نشین کا بھی نہیں دیکھا بس ذرا سی دیر میں وہ بیہوش ہو کر گرپڑے لوگوں نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کی خبر لیجئے یہ تو بیہوش ہوگئے آپ نے فرمایا کسی پر تمہارا شک بھی ہے لوگوں نے کا کہاں عامر بن ربیعہ پر، آپ نے فرمایا تم میں سے کیوں کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے کہ اسے بہت اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے برکت کی دعا کرے پھر پانی منگوا کر عامر سے فرمایا تم وضو کرو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور گھٹنے اور تہمبد کے اندر کا حصہ جسم دھو ڈالو۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا برتن کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے اوندھا دو ، نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت موجود ہے، حضرت ابو سعید فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ جنات کی اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب سورة معوذتیں نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور سب کو چھوڑ دیا (ابن ماجہ ترمذی نسائی) مسند وغیرہ میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے نبی صاحب ﷺ کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو جبرائیل ﷺ نے کہا دعا (بسم اللہ ارقیک من کل شئی یوذیک من شر کل نفس وعین واللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک) بعض روایات میں کچھ الفاظ کا ہیر پھیر بھی ہے، بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ یقیناً نظر کا لگ جانا برحق ہے، مسند کی ایک حدیث میں اس کے بعد یوں بھی ہے کہ اس کا سبب شیطان ہے اور ابن آدم کا حسد ہے، مسند کی اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ شگون تین چیزوں میں ہے گھر گھوڑ اور عورت تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا پھر تو میں رسول اللہ ﷺ پر وہ کہوں گا جو آپ نے نہیں فرمایا ہاں میں نے حضور ﷺ سے یہ تو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا سب سے سچا شگون نیک فالی ہے اور نظر کا لگنا حق ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ حضرت جعفر کے بچوں کو نظر لگ جایا کرتی ہے تو کیا میں کچھ دم کرا لیا کروں آپ نے فرمایا ہاں اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت کر جانے والی ہوتی تو وہ نظر تھی، حضرت عائشہ کو بھی حضور ﷺ کا نظر بد سے دم کرنے کا حکم مروی ہے (ابن ماجہ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نظر لگانے والے کو حکم کیا جاتا تھا کہ وہ وضو کرے اور جس کو نظر لگی ہے اسے اس پانی سے غسل کرایا جاتا تھا (احمد) اور حدیث میں ہے، نہیں ہے الو اور نظر حق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے مسند احمد میں بھی حضرت سہل اور حضرت عامر والا قصہ جو اوپر بیان ہوا قدرے تفصیل کے ساتھ مروی ہے، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ یہ دونوں بزرگ غسل کے ارادے سے چلے اور حضرت عامر پانی میں غسل کے لئے اترے اور ان کا بدن دیکھ کر حضرت سہل کی نظر لگ گئی اور وہ وہیں پانی میں خرخراہٹ کرنے لگے میں نے تین مرتبہ آوازیں دیں لیکن جواب نہ ملا میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ سنایا آپ خود تشریف لائے اور تھوڑے سے پانی میں کھچ کھچ کرتے ہوئے تہمبد اونچا اٹھائے ہوئے وہاں تک پہنچے اور ان کے سینے میں ہاتھ مارا اور دعا کی (اللھم اصرف عنہ حشرھا و بردھا و وصبھا) اے اللہ تو اس سے اس کی گرمی اور سردی اور تکلیف دور کر دے۔ مسند بزار میں ہے کہ میری امت کی قضاء و قدر کے بعد اکثر موت نظر سے ہوگی، فرماتے ہیں نظر حق ہے انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے اور اونٹ کو ہنڈیا تک میری امت کی اکثر ہلاکی اسی میں ہے، ایک اور صحیح سند سے بھی یہ روایت مروی ہے، فرمان رسالت ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی اور نہ الو کی وجہ سے بربادی کا یقین کرلینا کوئی واقعیت رکھتا ہے اور نہ حسد کوئی چیز ہے، ہاں نظر سچ ہے، ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل حضور ﷺ کے پاس آئے آپ اس وقت غمزدہ تھے جب پوچھا تو فرمایا حسن اور حسین کو نظر لگ گئی ہے، فرمایا یہ سچائی کے قابل چیز ہے نظر واقعی لگتی ہے، آپ نے یہ کلمات پڑھ کر انہیں پناہ میں کیوں نہ دیا ؟ حضور ﷺ نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں ؟ فرمایا یوں کہو اللھم ذا السلطان العظیم ذا المن القدیم ذا الوجہ الکریم ولی الکلمات التامات والدعوت المستجابات عاف الحسن والحسین من انفس الجن واعین الانس یعنی اے اللہ اے بہت بڑی بادشاہی والے اے زبردست قدیم احسانوں والے، اے بزرگ تر چہرے والے اے پورے کلموں والے اور اے دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دینے والے تو حسن اور حسین کو تمام جنات کی ہواؤں سے اور تمام انسان کی آنکھوں سے اپنی پناہ دے، حضور ﷺ نے یہ دعا پڑھی وہیں دونوں بچے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے سامنے کھیلنے کودنے لگے توحضور ﷺ نے فرمایا لوگو اپنی جانوں کو اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اسی پناہ کے ساتھ پناہ دیا کرو، اس جیسی اور کوئی پناہ کی دعا نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جہاں یہ کافر اپنی حقارت بھری نظریں آپ پر ڈالتے ہیں وہاں اپنی طعنہ آمیز زبان بھی آپ پر کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو قرآن لانے میں مجنون ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے قرآن تو اللہ ان کی طرف سے تمام عالم کے لئے نصیحت نامہ ہے۔ الحمد للہ سورة نون کی تفسیم ختم ہوئی۔