المجادلة — Al mujadila
Ayah 18 / 22 • Medinan
2,788
18
Al mujadila
المجادلة • Medinan
يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيَحۡلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍۚ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ
The day when Allah will raise them all, they will swear in His presence the way they now swear in front of you, and they will assume that they have achieved something; pay heed! Indeed it is they who are the liars.
جس دن اللہ اُن سب کو (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے گا تو وہ اُس کے حضور (بھی) قَسمیں کھا جائیں گے جیسے تمہارے سامنے قَسمیں کھاتے ہیں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ کسی (اچھی) شے (یعنی روِش) پر ہیں۔ آگاہ رہو کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Hypocrites
Allah chastises the hypocrites for secretly aiding and supporting the disbelievers even though, in reality, they were neither with the disbelievers nor with the Muslims. Allah the Exalted said in another Ayah,
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَلاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً
((They are) swaying between this and that, belonging neither to these nor to those; and he whom Allah sends astray, you will not find for him a way.)(4:143) Allah said here,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم
(Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah) referring to the Jews with whom the hypocrites were allies in secret. Allah said,
مَّا هُم مِّنكُمْ وَلاَ مِنْهُمْ
(They are neither of you nor of them,) meaning, that these hypocrites are neither with the believers, nor with their allies the Jews,
وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they swear to a lie while they know.) meaning, the hypocrites lie when they vow, knowing that they are lying, which is called the vow of Al-Ghamus. We seek refuge with Allah from their ways. When the hypocrites met the believers they said that they believed and when they went to the Messenger, they swore to him by Allah that they were believers. They knew that they were lying in their vow, and they knew that they did not declare their true creed. This is why Allah witnessed here that they lie in their vows and know that they are lying, even though their statement (about the Prophet being Allah's Prophet) is true in essence. Allah the Exalted said,
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.) meaning, Allah has prepared a painful torment for the hypocrites on account of their evil deeds, their aid and support of the disbelievers and their deceit and betrayal of the believers. The statement of Allah the Exalted,
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah,) meaning, the hypocrites pretended to be believers and concealed disbelief under the shield of their false oaths. Many were unaware of their true stance and were thus deceived by their oaths. Because of this, some people were hindered from the Path of Allah
فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(so they shall have a humiliating torment.) meaning, as recompense for belittling the significance of swearing by the Mighty Name of Allah, while lying and concealing betrayal. Allah the Exalted said,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا
(Their children and their wealth will avail them nothing against Allah.) meaning, none of their possessions can avert the affliction when it is sent their way,
أُولَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.) Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together;) referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out,
فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something.) meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said,
وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(And they think that they have something) meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs;
أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ
(Verily, they are liars!) stressing that they are lying, Allah then said;
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَـنُ فَأَنسَـهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ
(The Shaytan has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allah.) meaning, Shaytan has taken over their hearts to the point that he made them forget Allah the Exalted and Most Honored. This is what the devil does to those whom he controls. Abu Dawud recorded that Abu Ad-Darda' said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَة»
(Any three in a village or desert among whom the Salah is not called for, will have the Shaytan control them. Therefore, adhere to the Jama`ah, for the wolf eats from the strayed sheep.) Za'idah added that As-Sa'ib said that Jama`ah, refers to, "Praying in congregation." Allah the Exalted said,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ
(They are the party of Shaytan.) referring to those who are controlled by the devil and, as a result, forgot the remembrance of Allah,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!)
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
قَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّتِي تُجَٰدِلُكَ فِي زَوۡجِهَا وَتَشۡتَكِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَآۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ
Allah has indeed heard the speech of the woman who is arguing with you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning her husband, and is complaining to Allah; and Allah hears the conversation of you both; indeed Allah is All Hearing, All Knowing.
بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی، اور اللہ آپ دونوں کے باہمی سوال و جواب سن رہا تھا، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Al-Madinah
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Reason for revealing this Surah
Imam Ahmad recorded that `A'ishah said, "All praise be to Allah, Who hears all voices. "The woman who disputed" came to the Prophet and argued with him while I was in another part of the room, unable to hear what she said. Allah the Exalted and Most Honored revealed this Ayah,
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِى زَوْجِهَا
(Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband.)" till the end of this Ayah. Al-Bukhari collected this Hadith without a chain of narration in the Book of Tawhid in his Sahih. An-Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir also collected this Hadith. In the narration that Ibn Abi Hatim collected, `A'ishah said, "Blessed is He, Whose hearing has encompassed all things. I heard what Khawlah bint Tha`labah said while some of it I could not hear. She was complaining to Allah's Messenger ﷺ about her husband. She said, `O Allah's Messenger! He spent my wealth, exhausted my youth and my womb bore abundantly for him. When I be- came old, unable to bear children, he pronounced the Ziharon me! O Allah! I complain to you.' Soon after, Jibril brought down this Ayah,
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِى زَوْجِهَا
(Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband,)" She added, "Her husband was Aws bin As-Samit."
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات حمد وثناء کے لائق ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیر رکھا ہے، یہ شکایت کرنے والی خاتون آکر آنحضرت ﷺ سے اس طرح چپکے چپکے باتیں کر رہی تھیں کہ باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میں مطلقاً نہ سن سکی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس پوشیدہ آواز کو بھی سن لیا اور یہ آیت اتری (بخاری و مسند وغیرہ) اور روایت میں آپ کا یہ فرمان اس طرح منقول ہے کہ بابرکت ہے وہ الہ جو ہر اونچی نیچی آواز کو سنتا ہے، یہ شکایت کرنے والی بی بی صاحبہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اس طرح سرگوشیاں کر رہی تھیں کہ کوئی لفظ تو کان تک پہنچ جاتا تھا ورنہ اکثر باتیں باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میرے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں۔ اپنے میاں کی شکایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یارسول اللہ ﷺ میری جوانی تو ان کے ساتھ کٹی بچے ان سے ہوئے اب جبکہ میں بڑھیا ہوگئی بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہی تو میرے میاں نے مجھ سے ظہار کرلیا، اے اللہ میں تیرے سامنے اپنے اس دکھڑے کا رونا روتی ہوں، ابھی یہ بی بی صاحبہ گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں کہ حضرت جبرائیل ؑ یہ آیت لے کر اترے، ان کے خاوند کا نام حضرت اوس بن صامت ؓ تھا (ابن ابی حاتم) انہیں بھی کچھ جنون سا ہوجاتا تھا اس حالت میں اپنی بیوی صاحبہ سے ظہار کرلیتے پھر جب اچھے ہوجاتے تو گویا کچھ کہا ہی نہ تھا، یہ بی بی صاحبہ حضور سے فتویٰ پوچھنے اور اللہ کے سامنے اپنی التجا بیان کرنے کو آئیں جس پر یہ آیت اتری۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ اپنی خلافت کے زمانے میں اور لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک عورت نے آواز دے کر ٹھہرالیا، حضرت عمر فوراً ٹھہر گئے اور ان کے پاس جاکر توجہ اور ادب سے سر جھکائے ان کی باتیں سننے لگے، جب وہ اپنی فرمائش کی تعمیل کراچکیں اور خود لوٹ گئیں تب امیرالمومنین ؓ بھی واپس ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے کہا امیرالمومنین ایک بڑھیا کے کہنے سے آپ رک گئے اور اتنے آدمیوں کو آپ کی وجہ سے اب تک رکنا پڑا، آپ نے فرمایا افسوس جانتے بھی ہو یہ کون تھیں ؟ اس نے کہا نہیں، فرمایا یہ وہ عورت ہیں جن کی شکایت اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر سنی یہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ ہیں اگر یہ آج صبح سے شام چھوڑ رات کردیتیں اور مجھ سے کچھ فرماتی رہتیں تو بھی میں ان کی خدمت سے نہ ٹلتا ہاں نماز کے وقت نماز ادا کرلیتا اور پھر کمربستہ خدمت کیلئے حاضر ہوجاتا (ابن ابی حاتم) اس کی سند منقطع ہے اور دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ایک روایت میں ہے کہ یہ خولہ بن صامت تھیں اور ان کی والدہ کا نام معاذہ تھا جن کے بارے میں آیت (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا 33) 24۔ النور :33) ہوئی تھی، لیکن ٹھیک بات یہ ہے کہ حضرت خولہ اوس بن صامت کی بیوی تھیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو۔
ٱلَّذِينَ يُظَٰهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَآئِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَٰتِهِمۡۖ إِنۡ أُمَّهَٰتُهُمۡ إِلَّا ٱلَّـٰٓـِٔي وَلَدۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَيَقُولُونَ مُنكَرٗا مِّنَ ٱلۡقَوۡلِ وَزُورٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ
Those among you who have proclaimed their wives as their mothers – so their wives are not their mothers; their mothers are only those that gave them birth; and undoubtedly they utter evil and a blatant lie; and indeed Allah is Most Pardoning, Oft Forgiving.
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کر بیٹھتے ہیں (یعنی یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ تم مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہو)، تو (یہ کہنے سے) وہ اُن کی مائیں نہیں (ہوجاتیں)، اُن کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے اُن کو جَنا ہے، اور بیشک وہ لوگ بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور بیشک اللہ ضرور درگزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Az-Zihar and the Atonement for It Imam
Ahmad recorded that Khuwaylah bint Tha`labah said, "By Allah! Allah sent down the beginning of Surat Al-Mujadilah in connection with me and `Aws bin As-Samit. He was my husband and had grown old and difficult. One day, he came to me and I argued with him about something and he said, out of anger, `You are like my mother's back to me.' He went out and sat with some of his people. Then he came back and wanted to have sexual intercourse with me. I said, `No, by the One in Whose Hand is the soul of Khuwaylah! You will not have your way with me after you said what you said, until Allah and His Messenger issue judgement about our case.' He wanted to have his way regardless of my choice and I pushed him away from me; he was an old man.' I next went to one of my neighbors and borrowed a garment from her and went to the Messenger of Allah ﷺ. I told him what happened and kept complaining to him of the ill treatment I received from `Aws. He said,
«يَاخُوَيْلَةُ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَاتَّقِي اللهَ فِيه»
(O Khuwaylah! Your cousin is an old man, so have Taqwa of Allah regarding him.) By Allah! Before I departed, parts of the Qur'an were revealed about me. Allah's Messenger ﷺ felt the hardship upon receiving the revelation as he usually did and then became relieved. He said to me,
«يَا خُوَيْلَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ قُرْآنًا»
(O Khuwaylah! Allah has revealed something about you and your spouse.) He recited to me,
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِى إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمآ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband, and complains to Allah. And Allah hears the argument between you both. Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.), until,
وَلِلكَـفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And for disbelievers, there is a painful torment.) He then said to me,
«مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَة»
(Command him to free a slave.) I said, `O Allah's Messenger! He does not have any to free.' He said,
«فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْن»
(Let him fast for two consecutive months.) I said, `By Allah! He is an old man and cannot fast.' He said,
«فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْر»
(Let him feed sixty poor people a Wasq of dates.) I said, `O Allah's Messenger! By Allah, he does not have any of that.' He said,
«فَإِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْر»
(We will help him with a basket of dates.) I said, `And I, O Allah's Messenger! I will help him with another.' He said,
«قَدْ أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا»
(You have done a righteously good thing. So go and give away the dates on his behalf and take care of your cousin.) I did that."' Abu Dawud also collected this Hadith in the Book of Divorce in his Sunan, according to which her name is Khawlah bint Tha`labah. She is also known as Khawlah bint Malik bin Tha`labah, and Khuwaylah. All these are close to each other, and Allah knows best. This is what is correct about the reason behind revealing this Surah. Therefore, Allah's statement,
الَّذِينَ يُظَـهِرُونَ مِنكُمْ مِّن نِّسَآئِهِمْ
(Those among you who make their wives unlawful to them by Zihar) refers to Zihar, which is derived from Az-Zahr, meaning, the back. During the time of Jahiliyyah, when one wanted to declare Zihar towards his wife, he would say, "To me, you are like the back of my mother." That was one way they issued divorce during that time. Allah allowed this Ummah to pay expiation for this statement and did not render it as a divorce, contrary to the case during the time of Jahiliyyah. Allah said,
مَّا هُنَّ أُمَّهَـتِهِمْ إِنْ أُمَّهَـتُهُمْ إِلاَّ اللاَّئِى وَلَدْنَهُمْ
(they cannot be their mothers. None can be their mothers except those who gave them birth.) meaning, when the husband says to his wife that she is like his mother, or the back of his mother etc., she does not become his mother. Rather his mother is she who gave birth to him. This is why Allah said,
وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَراً مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوراً
(And verily, they utter an ill word and a lie.) meaning, false and sinful speech,
وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ
(And verily, Allah is Oft-Pardoning, Oft-Forgiving.) meaning, `what you used to do during the time of Jahiliyyah, and what accidentally slips out of your mouth, unintentionally.' Allah's statement,
وَالَّذِينَ يُظَـهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ
(And those who make unlawful to them (their wives) by Zihar and wish to free themselves from what they uttered,) Ash-Shafi`i said, "It means to keep her for a while after the Zihar, without divorcing her, even though his is able to do so." Ahmad bin Hanbal said, "To return to having sexual relations with her or to merely intend to do so, but only after he pays the expiation mentioned in the Ayah for his statement." It has been quoted from Malik that it is the intention to have sexual relations or to keep her or actually having sexual intercourse. Sa`id bin Jubayr said that this Ayah,
ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ
(and wish to free themselves from what they uttered,) meaning, if they want to return to having sexual intercourse which was forbidden between them. Al-Hasan Al-Basri said that it is to utilize her sexual organ, and he did not see any harm in doing what is less than that before paying the expiation. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas:
مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا
(before they touch each other.) "The `touching' refers here to sexual intercourse." Similar was said by `Ata', Az-Zuhri, Qatadah and Muqatil bin Hayyan. Az-Zuhri added, "He is not to kiss or touch her until he pays the expiation." The Sunan compilers recorded from `Ikrimah, from Ibn `Abbas that a man said, "O Allah's Messenger! I pronounced Zihar on my wife, but then had sexual intercourse with her before I paid the expiation." The Messenger ﷺ said,
«مَا حَمَلَكَ عَلى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ الله»
(May Allah grant you His mercy, what made you do that) He said, "I saw the adornment she was wearing shining in the moon's light." The Prophet said,
«فَلَا تَقْرَبْهَا حَتْى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Then do not touch her until you do what Allah the Exalted and Most Honored has ordered you to do.) At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib Sahih." Abu Dawud and An-Nasa'i also recorded it. Allah said,
فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ
((the penalty) in that case is the freeing of a slave) indicating the necessity of freeing a slave before they touch each other. This Ayah mentions any slave, not only believing servants as in the case of the expiation for (unintentional) killing,
ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ
(That is an admonition to you.) meaning, a warning to threaten you in this case.
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, He is All-Knower in what brings you benefit. Allah's statement,
فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِيناً
(And he who finds not must fast two successive months before they both touch each other. And he who is unable to do so, should feed sixty of the poor.) is explained by the Hadiths that prescribe these punishments in this order, just as in the Hadith collected in the Two Sahihs about the man who had sexual intercourse with his wife during the day, in Ramadan. Allah said,
ذَلِكَ لِتُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
(That is in order that you may have perfect faith in Allah and His Messenger.) meaning, `We legislated this punishment so that you acquire this trait,'
وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ
(These are the limits set by Allah.) meaning, the things that He has forbidden, so do not transgress them,
وَلِلكَـفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And for disbelievers, there is a painful torment.) meaning, those who do not believe and do not abide by the rulings of Islamic legislation should never think they will be saved from the torment. Rather theirs will be a painful torment in this life and the Hereafter.
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ ؓ اور مسئلہ ظہار حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں اس سورة مجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو، لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آگئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کردیں، آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو وہ بوڑھے بڑے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اترچکی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے خولہ تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر آپ نے آیت (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا) 58۔ المجادلة :1) تک پڑھ سنایا اور فرمایا جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں، میں نے کہا حضور ﷺ ان کے پاس غلام کہاں ؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں، میں نے کہا حضور ﷺ وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں، میں نے کہا حضور ﷺ اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دیدوں گا میں نے کہا بہتر آدھا وسق میں دیدوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کردو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو (مسند احمد و ابو داؤد)۔ ان کا نام بعض روایتوں میں خولہ کے بجائے خولہ بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو، واللہ اعلم۔ اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔ حضرت سلمہ بن صخر ؓ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا، حضرت سلمہ بن صخر انصاری ؓ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے کہ مجھے جماع کی طاقت اوروں سے بہت زیادہ تھی، رمضان میں اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو دن میں روزے کے وقت میں بچ نہ سکوں میں نے رمضان بھر کیلئے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، ایک رات جبکہ وہ میری خدمت میں مصروف تھی بدن کے کسی حصہ پر سے کپڑا ہٹ گیا پھر تاب کہاں تھی ؟ اس سے بات چیت کر بیٹھا صبح اپنی قوم کے پاس آکر میں نے کہا رات ایسا واقعہ ہوگیا ہے تم مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو اور آپ سے پوچھو کہ اس گناہ کا بدلہ کیا ہے ؟ سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو تیرے ساتھ نہیں جائیں گے ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم میں اس کی بابت کوئی آیت اترے یا حضور ﷺ کوئی ایسی بات فرما دیں کہ ہمیشہ کیلئے ہم پر عار باقی رہ جائے، تو جانے تیرا کام، تو نے ایسا کیوں کیا ؟ ہم تیرے ساتھی نہیں، میں نے کہا اچھا پھر میں اکیلا جاتا ہوں۔ چناچہ میں گیا اور حضور ﷺ سے تمام واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ایسا کیا ؟ میں نے کہا جی ہاں حضور مجھ سے ایسا ہوگیا۔ آپ نے پھر فرمایا تم نے ایسا کیا ؟ میں نے پھر یہی عرض کیا کہ حضور ﷺ مجھ سے یہ خطا ہوگئی، آپ ﷺ نے تیسری دفعہ بھی یہی فرمایا میں نے پھر اقرار کیا اور کہا کہ حضور ﷺ میں موجود ہوں جو سزا میرے لئے تجویز کی جائے میں اسے صبر سے برداشت کروں گا آپ ﷺ حکم دیجئے، آپ نے فرمایا جاؤ ایک غلام آزاد کرو، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا حضور ﷺ میں تو صرف اس کا مالک ہوں اللہ کی قسم مجھے غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر دو مہینے کے پے درپے روزے رکھو، میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا پھر جاؤ صدقہ کرو میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس کچھ نہیں بلکہ آج کی شب سب گھر والوں نے فاقہ کیا ہے، پھر فرمایا اچھا بنو رزیق کے قبیلے کے صدقے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ صدقے کا مال تمہیں دیدیں تم اس میں سے ایک وسق کھجور تو ساٹھ مسکینوں کو دیدو اور باقی تم آپ اپنے اور اپنے بال بچوں کے کام میں لاؤ، میں خوش خوش لوٹا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور برائی پائی اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس میں نے کشادگی اور برکت پائی۔ حضور ﷺ کا حکم ہے کہ اپنے صدقے تم مجھے دیدو چناچہ انہوں نے مجھے دے دیئے (مسند احمد ابو داؤد وغیرہ) بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اوس بن صامت اور ان کی بیوی صاحبہ حضرت خویلہ بنت ثعلبہ کے واقعہ کے بعد کا ہے، چناچہ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ ظہار کا پہلا واقعہ حضرت اوس بن صامت کا ہے جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے، ان کی بیوی صاحبہ کا نام خولہ بنت ثعلبہ بن مالک رضی الہ تعالیٰ عنہا تھا، اس واقعہ سے حضرت خولہ کو ڈر تھا کہ شاید طلاق ہوگئی، انہوں نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ میرے میاں نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے اور اگر ہم علیحدہ علیحدہ ہوگئے تو دونوں برباد ہوجائیں گے میں اب اس لائق بھی نہیں رہی کہ مجھے اولاد ہو ہمارے اس تعلق کو بھی زمانہ گزر چکا اور بھی اسی طرح کی باتیں کہتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اب تک ظہار کا کوئی حکم اسلام میں نہ تھا اس پر یہ آیتیں شروع سورت سے الیم تک اتریں۔ حضور ﷺ نے حضرت اوس کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم غلام آزاد کرسکتے ہو ؟ انہوں نے قسم کھاکر انکار کیا حضور ﷺ نے ان کیلئے رقم جمع کی انہوں نے اس سے غلام خرید کر آزاد کیا اور اپنی بیوی صاحبہ سے رجوع کیا (ابن جریر) حضرت ابن عباس کے علاوہ اور بھی بہت سے بزرگوں کا یہ فرمان ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، واللہ اعلم۔ لفظ ظہار ظہر سے مشٹق ہے چونکہ اہل جاہلیت اپنی بیوی سے ظہار کرتے وقت یوں کہتے تھے کہ انت علی کظھر امی یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ، شریعت میں حکم یہ ہے کہ اس طرح خواہ کسی عضو کا نام لے ظہار ہوجائے گا، ظہار جاہلیت کے زمانے میں طلاق سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس امت کیلئے اس میں کفارہ مقرر کردیا اور اسے طلاق شمار نہیں کیا جیسے کہ جاہلیت کا دستور تھا۔ سلف میں سے اکثر حضرات نے یہی فرمایا ہے، حضرت ابن عباس جاہلیت کے اس دستور کا ذکر کرکے فرماتے ہیں اسلام میں جب حضرت خویلہ والا واقعہ پیش آیا اور دونوں میاں بیوی پچھتانے لگے تو حضرت اوس نے اپنی بیوی صاحبہ کو حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا یہ جب آئیں تو دیکھا کہ آپ کنگھی کر رہے ہیں، آپ نے واقعہ سن کر فرمایا ہمارے پاس اس کا کوئی حکم نہیں اتنے میں یہ آیتیں اتریں اور آپ ﷺ نے حضرت خویلہ ؓ کو اس کی خوشخبری دی اور پڑھ سنائیں، جب غلام کو آزاد کرنے کا ذکر کیا تو عذر کیا کہ ہمارے پاس غلام نہیں، پھر روزوں کا ذکر سن کر کہا اگر ہر روز تین مرتبہ پانی نہ پئیں تو بوجہ اپنے بڑھاپے کے فوت ہوجائیں، جب کھانا کھلانے کا ذکر سنا تو کہا چند لقموں پر تو سارا دن گزرتا ہے تو اوروں کو دینا کہاں ؟ چناچہ حضور ﷺ نے آدھا وسق تیس صاع منگواکر انہیں دیئے اور فرمایا اسے صدقہ کردو اور اپنی بیوی سے رجوع کرلو (ابن جریر) اس کی اسناد قوی اور پختہ ہے، لیکن ادائیگی غربت سے خالی نہیں۔ حضرت ابو العالیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، فرماتے ہیں خولہ بنت دلیج ایک انصاری کی بیوی تھیں جو کم نگاہ والے مفلس اور کج خلق تھے، کسی دن کسی بات پر میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا تو جاہلیت کی رسم کے مطابق ظہار کرلیا جو ان کی طلاق تھی۔ یہ بیوی صاحبہ حضور ﷺ کے پاس پہنچیں اس وقت آپ عائشہ کے گھر میں تھے اور ام المومنین آپ کا سر دھو رہی تھیں، جاکر سارا واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا اب کیا ہوسکتا ہے، میرے علم میں تو تو اس پر حرام ہوگئی یہ سن کر کہنے لگیں اللہ میری عرض تجھ سے ہے، اب حضرت عائشہ آپ کے سر مبارک کا ایک طرف کا حصہ دھو کر گھوم کر دوسری جانب آئیں اور ادھر کا حصہ دھونے لگیں تو حضرت خولہ بھی گھوم کر اس دوسری طرف آ بیٹھیں اور اپنا واقعہ دوہرایا، آپ ﷺ نے پھر یہی جواب دیا، ام المومنین نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا ہے تو ان سے کہا کہ دور ہٹ کر بیٹھو، یہ دور کھسک گئیں ادھر وحی نازل ہونی شروع ہوئی جب اتر چکی تو آپ نے فرمایا وہ عورت کہاں ہے ؟ ام المومنین نے انہیں آواز دے کر بلایا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اپنے خاوند کو لے آؤ، یہ دوڑتی ہوئی گئیں اور اپنے شوہر کو بلا لائیں تو واقعی وہ ایسے ہی تھے جیسے انہوں نے کہا تھا، آپ نے استعیذ باللہ السمیع العلیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس سورت کی یہ آیتیں سنائیں، اور فرمایا تم غلام آزاد کرسکتے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں، کہا دو مہینے کے لگاتار ایک کے پیچھے ایک روزے رکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے قسم کھاکر کہا کہ اگر دو تین دفعہ دن میں نہ کھاؤں تو بینائی بالکل جاتی رہتی ہے، فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں لیکن اگر آپ میری امداد فرمائیں تو اور بات ہے، پس حضور ﷺ نے ان کی اعانت کی اور فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اور جاہلیت کی اس رسم طلاق کو ہٹا کر اللہ تعالیٰ نے اسے ظہار مقرر فرمایا (ابن ابی حاتم و ابن جریر) حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں ایلا اور ظہار جاہلیت کے زمانہ کی طلاقیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے ایلا میں تو چار مہینے کی مدت مقرر فرمائی اور ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا۔ حضرت امام مالک ؒ نے لفظ منکم سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ یہاں خطاب مومنوں سے ہے اسلئے اس حکم میں کافر داخل نہیں، جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ بہ اعتبار غلبہ کے کہہ دیا گیا ہے اس لئے بطور قید کے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں لے سکتے، لفظ من نسائھم سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے ظہار نہیں نہ وہ اس خطاب میں داخل ہے۔ پھر فرماتا ہے اس کہنے سے کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے یا میرے لئے تو مثل میری ماں کے ہے یا مثل میری ماں کی پیٹھ کے ہے یا اور ایسے ہی الفاظ اپنی بیوی کو کہہ دینے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی، حقیقی ماں تو وہی ہے جس کے بطن سے یہ تولد ہوا ہے، یہ لوگ اپنے منہ سے فحش اور باطل قول بول دیتے ہیں اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشش دینے والا ہے۔ اس نے جاہلیت کی اس تنگی کو تم سے دور کردیا، اسی طرح ہر وہ کلام جو ایک دم زبان سے بغیر سوچے سمجھے اور بلا قصد نکل جائے۔ چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے سنا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے اے میری بہن تو آپ نے فرمایا یہ تیری بہن ہے ؟ غرض یہ کہنا برا لگا اسے روکا مگر اس سے حرمت ثابت نہیں کی کیونکہ دراصل اس کا مقصود یہ نہ تھا یونہی زبان سے بغیر قصد کے نکل گیا تھا ورنہ ضرور حرمت ثابت ہوجاتی، کیونکہ صحیح قول یہی ہے کہ اپنی بیوی کو جو شخض اس نام سے یاد کرے جو محرمات ابدیہ ہیں مثلاً بہن یا پھوپھی یا خالہ وغیرہ تو وہ بھی حکم میں ماں کہنے کے ہیں۔ جو لوگ ظہار کریں پھر اپنے کہنے سے لوٹیں اس کا مطلب ایک تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہار کیا پھر مکرر اس لفظ کو کہا لیکن یہ ٹھیک نہیں، بقول حضرت امام شافعی مطلب یہ ہے کہ ظہار کیا پھر اس عورت کو روک رکھا یہاں تک کہ اتنا زمانہ گزر گیا کہ اگر چاہتا تو اس میں باقاعدہ طلاق دے سکتا تھا لیکن طلاق نہ دی۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ پھر لوٹے جماع کی طرف یا ارادہ کرے تو یہ حلال نہیں تاوقتیکہ مذکورہ کفارہ ادا نہ کرے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ مراد اس سے جماع کا ارادہ یا پھر بسانے کا عزم یا جماع ہے۔ امام ابوحنیفہ وغیرہ کہتے ہیں مراد ظہار کی طرف لوٹنا ہے اس کی حرمت اور جاہلیت کے حکم کے اٹھ جانے کے بعد پس جو شخص اب ظہار کرے گا اس پر اس کی بیوی حرام ہوجائے گی جب تک کہ یہ کفارہ ادا نہ کرے، حضرت سعید فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا اب پھر اس کام کو کرنا چاہے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ مجامعت کرنا چاہے ورنہ اور طرح چھونے میں قبل کفارہ کے بھی ان کے نزدیک کوئی حرج نہیں۔ ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں یہاں مس سے مراد صحبت کرنا ہے۔ زہری فرماتے ہیں کہ ہاتھ لگانا پیار کرنا بھی کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جائز نہیں۔ سنن میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں اس سے مل لیا آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا تو نے کیوں کیا ؟ کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ چاندنی رات میں اس کے خلخال کی چمک نے مجھے بےتاب کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ ادا نہ کردے، نسائی میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے اور امام نسائی ؒ مرسل ہونے کو اولیٰ بتاتے ہیں۔ پھر کفارہ بیان ہو رہا ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ہاں یہ قید نہیں کہ مومن ہی ہو جیسے قتل کے کفارے میں غلام کے مومن ہونے کی قید ہے۔ امام شافعی تو فرماتے ہیں یہ مطلق اس مقید پر محمول ہوگی کیونکہ غلام کو آزاد کرنے کی شرط جیسی وہاں ہے ایسی ہی یہاں بھی ہے، اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ ایک سیاہ فام لونڈی کی بابت حضور ﷺ نے فرمایا تھا اسے آزاد کردو یہ مومنہ ہے، اوپر واقعہ گزر چکا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار کرکے پھر کفارہ سے قبل واقع ہونے والے کو آپ نے دوسرا کفارہ ادا کرنے کو نہیں فرمایا۔ پھر فرماتا ہے اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے یعنی دھمکایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں سے خبردار ہے اور تمہارے احوال کا عالم ہے۔ جو غلام کو آزاد کرنے پر قادر نہ ہو وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے کے بعد اپنی بیوی سے اس صورت میں مل سکتا ہے اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینے کے بعد، پہلے حدیثیں گزر چکیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم پہلی صورت پھر دوسری پھر تیسری، جیسے کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث میں بھی ہے جس میں آپ نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو فرمایا تھا۔ ہم نے یہ احکام اس لئے مقرر کئے ہیں کہ تمہارا کامل ایمان اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ہوجائے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کے محرمات ہیں خبردار اس حرمت کو نہ توڑنا۔ جو کافر ہوں یعنی ایمان نہ لائیں حکم برداری نہ کریں شریعت کے احکام کی بےعزتی کریں ان سے لاپرواہی برتیں انہیں بلاؤں سے بچنے والا نہ سمجھو بلکہ ان کیلئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں۔
وَٱلَّذِينَ يُظَٰهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مِّن قَبۡلِ أَن يَتَمَآسَّاۚ ذَٰلِكُمۡ تُوعَظُونَ بِهِۦۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
And those among you who have proclaimed their wives as their mothers and then wish to revert to the matter upon which they had uttered such an enormous word, must then free a slave before they touch one another; this is what you are advised; and Allah is Aware of your deeds.
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں پھر جو کہا ہے اس سے پلٹنا چاہیں تو ایک گردن (غلام یا باندی) کا آزاد کرنا لازم ہے قبل اِس کے کہ وہ ایک دوسرے کو مَس کریں، تمہیں اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے، اور اللہ اُن کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو
Tafsir Ibn Kathir
Az-Zihar and the Atonement for It Imam
Ahmad recorded that Khuwaylah bint Tha`labah said, "By Allah! Allah sent down the beginning of Surat Al-Mujadilah in connection with me and `Aws bin As-Samit. He was my husband and had grown old and difficult. One day, he came to me and I argued with him about something and he said, out of anger, `You are like my mother's back to me.' He went out and sat with some of his people. Then he came back and wanted to have sexual intercourse with me. I said, `No, by the One in Whose Hand is the soul of Khuwaylah! You will not have your way with me after you said what you said, until Allah and His Messenger issue judgement about our case.' He wanted to have his way regardless of my choice and I pushed him away from me; he was an old man.' I next went to one of my neighbors and borrowed a garment from her and went to the Messenger of Allah ﷺ. I told him what happened and kept complaining to him of the ill treatment I received from `Aws. He said,
«يَاخُوَيْلَةُ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَاتَّقِي اللهَ فِيه»
(O Khuwaylah! Your cousin is an old man, so have Taqwa of Allah regarding him.) By Allah! Before I departed, parts of the Qur'an were revealed about me. Allah's Messenger ﷺ felt the hardship upon receiving the revelation as he usually did and then became relieved. He said to me,
«يَا خُوَيْلَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ قُرْآنًا»
(O Khuwaylah! Allah has revealed something about you and your spouse.) He recited to me,
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِى إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمآ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband, and complains to Allah. And Allah hears the argument between you both. Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.), until,
وَلِلكَـفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And for disbelievers, there is a painful torment.) He then said to me,
«مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَة»
(Command him to free a slave.) I said, `O Allah's Messenger! He does not have any to free.' He said,
«فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْن»
(Let him fast for two consecutive months.) I said, `By Allah! He is an old man and cannot fast.' He said,
«فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْر»
(Let him feed sixty poor people a Wasq of dates.) I said, `O Allah's Messenger! By Allah, he does not have any of that.' He said,
«فَإِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْر»
(We will help him with a basket of dates.) I said, `And I, O Allah's Messenger! I will help him with another.' He said,
«قَدْ أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا»
(You have done a righteously good thing. So go and give away the dates on his behalf and take care of your cousin.) I did that."' Abu Dawud also collected this Hadith in the Book of Divorce in his Sunan, according to which her name is Khawlah bint Tha`labah. She is also known as Khawlah bint Malik bin Tha`labah, and Khuwaylah. All these are close to each other, and Allah knows best. This is what is correct about the reason behind revealing this Surah. Therefore, Allah's statement,
الَّذِينَ يُظَـهِرُونَ مِنكُمْ مِّن نِّسَآئِهِمْ
(Those among you who make their wives unlawful to them by Zihar) refers to Zihar, which is derived from Az-Zahr, meaning, the back. During the time of Jahiliyyah, when one wanted to declare Zihar towards his wife, he would say, "To me, you are like the back of my mother." That was one way they issued divorce during that time. Allah allowed this Ummah to pay expiation for this statement and did not render it as a divorce, contrary to the case during the time of Jahiliyyah. Allah said,
مَّا هُنَّ أُمَّهَـتِهِمْ إِنْ أُمَّهَـتُهُمْ إِلاَّ اللاَّئِى وَلَدْنَهُمْ
(they cannot be their mothers. None can be their mothers except those who gave them birth.) meaning, when the husband says to his wife that she is like his mother, or the back of his mother etc., she does not become his mother. Rather his mother is she who gave birth to him. This is why Allah said,
وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَراً مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوراً
(And verily, they utter an ill word and a lie.) meaning, false and sinful speech,
وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ
(And verily, Allah is Oft-Pardoning, Oft-Forgiving.) meaning, `what you used to do during the time of Jahiliyyah, and what accidentally slips out of your mouth, unintentionally.' Allah's statement,
وَالَّذِينَ يُظَـهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ
(And those who make unlawful to them (their wives) by Zihar and wish to free themselves from what they uttered,) Ash-Shafi`i said, "It means to keep her for a while after the Zihar, without divorcing her, even though his is able to do so." Ahmad bin Hanbal said, "To return to having sexual relations with her or to merely intend to do so, but only after he pays the expiation mentioned in the Ayah for his statement." It has been quoted from Malik that it is the intention to have sexual relations or to keep her or actually having sexual intercourse. Sa`id bin Jubayr said that this Ayah,
ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ
(and wish to free themselves from what they uttered,) meaning, if they want to return to having sexual intercourse which was forbidden between them. Al-Hasan Al-Basri said that it is to utilize her sexual organ, and he did not see any harm in doing what is less than that before paying the expiation. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas:
مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا
(before they touch each other.) "The `touching' refers here to sexual intercourse." Similar was said by `Ata', Az-Zuhri, Qatadah and Muqatil bin Hayyan. Az-Zuhri added, "He is not to kiss or touch her until he pays the expiation." The Sunan compilers recorded from `Ikrimah, from Ibn `Abbas that a man said, "O Allah's Messenger! I pronounced Zihar on my wife, but then had sexual intercourse with her before I paid the expiation." The Messenger ﷺ said,
«مَا حَمَلَكَ عَلى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ الله»
(May Allah grant you His mercy, what made you do that) He said, "I saw the adornment she was wearing shining in the moon's light." The Prophet said,
«فَلَا تَقْرَبْهَا حَتْى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Then do not touch her until you do what Allah the Exalted and Most Honored has ordered you to do.) At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib Sahih." Abu Dawud and An-Nasa'i also recorded it. Allah said,
فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ
((the penalty) in that case is the freeing of a slave) indicating the necessity of freeing a slave before they touch each other. This Ayah mentions any slave, not only believing servants as in the case of the expiation for (unintentional) killing,
ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ
(That is an admonition to you.) meaning, a warning to threaten you in this case.
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, He is All-Knower in what brings you benefit. Allah's statement,
فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِيناً
(And he who finds not must fast two successive months before they both touch each other. And he who is unable to do so, should feed sixty of the poor.) is explained by the Hadiths that prescribe these punishments in this order, just as in the Hadith collected in the Two Sahihs about the man who had sexual intercourse with his wife during the day, in Ramadan. Allah said,
ذَلِكَ لِتُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
(That is in order that you may have perfect faith in Allah and His Messenger.) meaning, `We legislated this punishment so that you acquire this trait,'
وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ
(These are the limits set by Allah.) meaning, the things that He has forbidden, so do not transgress them,
وَلِلكَـفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And for disbelievers, there is a painful torment.) meaning, those who do not believe and do not abide by the rulings of Islamic legislation should never think they will be saved from the torment. Rather theirs will be a painful torment in this life and the Hereafter.
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ ؓ اور مسئلہ ظہار حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں اس سورة مجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو، لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آگئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کردیں، آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو وہ بوڑھے بڑے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اترچکی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے خولہ تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر آپ نے آیت (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا) 58۔ المجادلة :1) تک پڑھ سنایا اور فرمایا جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں، میں نے کہا حضور ﷺ ان کے پاس غلام کہاں ؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں، میں نے کہا حضور ﷺ وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں، میں نے کہا حضور ﷺ اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دیدوں گا میں نے کہا بہتر آدھا وسق میں دیدوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کردو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو (مسند احمد و ابو داؤد)۔ ان کا نام بعض روایتوں میں خولہ کے بجائے خولہ بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو، واللہ اعلم۔ اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔ حضرت سلمہ بن صخر ؓ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا، حضرت سلمہ بن صخر انصاری ؓ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے کہ مجھے جماع کی طاقت اوروں سے بہت زیادہ تھی، رمضان میں اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو دن میں روزے کے وقت میں بچ نہ سکوں میں نے رمضان بھر کیلئے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، ایک رات جبکہ وہ میری خدمت میں مصروف تھی بدن کے کسی حصہ پر سے کپڑا ہٹ گیا پھر تاب کہاں تھی ؟ اس سے بات چیت کر بیٹھا صبح اپنی قوم کے پاس آکر میں نے کہا رات ایسا واقعہ ہوگیا ہے تم مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو اور آپ سے پوچھو کہ اس گناہ کا بدلہ کیا ہے ؟ سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو تیرے ساتھ نہیں جائیں گے ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم میں اس کی بابت کوئی آیت اترے یا حضور ﷺ کوئی ایسی بات فرما دیں کہ ہمیشہ کیلئے ہم پر عار باقی رہ جائے، تو جانے تیرا کام، تو نے ایسا کیوں کیا ؟ ہم تیرے ساتھی نہیں، میں نے کہا اچھا پھر میں اکیلا جاتا ہوں۔ چناچہ میں گیا اور حضور ﷺ سے تمام واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ایسا کیا ؟ میں نے کہا جی ہاں حضور مجھ سے ایسا ہوگیا۔ آپ نے پھر فرمایا تم نے ایسا کیا ؟ میں نے پھر یہی عرض کیا کہ حضور ﷺ مجھ سے یہ خطا ہوگئی، آپ ﷺ نے تیسری دفعہ بھی یہی فرمایا میں نے پھر اقرار کیا اور کہا کہ حضور ﷺ میں موجود ہوں جو سزا میرے لئے تجویز کی جائے میں اسے صبر سے برداشت کروں گا آپ ﷺ حکم دیجئے، آپ نے فرمایا جاؤ ایک غلام آزاد کرو، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا حضور ﷺ میں تو صرف اس کا مالک ہوں اللہ کی قسم مجھے غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر دو مہینے کے پے درپے روزے رکھو، میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا پھر جاؤ صدقہ کرو میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس کچھ نہیں بلکہ آج کی شب سب گھر والوں نے فاقہ کیا ہے، پھر فرمایا اچھا بنو رزیق کے قبیلے کے صدقے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ صدقے کا مال تمہیں دیدیں تم اس میں سے ایک وسق کھجور تو ساٹھ مسکینوں کو دیدو اور باقی تم آپ اپنے اور اپنے بال بچوں کے کام میں لاؤ، میں خوش خوش لوٹا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور برائی پائی اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس میں نے کشادگی اور برکت پائی۔ حضور ﷺ کا حکم ہے کہ اپنے صدقے تم مجھے دیدو چناچہ انہوں نے مجھے دے دیئے (مسند احمد ابو داؤد وغیرہ) بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اوس بن صامت اور ان کی بیوی صاحبہ حضرت خویلہ بنت ثعلبہ کے واقعہ کے بعد کا ہے، چناچہ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ ظہار کا پہلا واقعہ حضرت اوس بن صامت کا ہے جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے، ان کی بیوی صاحبہ کا نام خولہ بنت ثعلبہ بن مالک رضی الہ تعالیٰ عنہا تھا، اس واقعہ سے حضرت خولہ کو ڈر تھا کہ شاید طلاق ہوگئی، انہوں نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ میرے میاں نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے اور اگر ہم علیحدہ علیحدہ ہوگئے تو دونوں برباد ہوجائیں گے میں اب اس لائق بھی نہیں رہی کہ مجھے اولاد ہو ہمارے اس تعلق کو بھی زمانہ گزر چکا اور بھی اسی طرح کی باتیں کہتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اب تک ظہار کا کوئی حکم اسلام میں نہ تھا اس پر یہ آیتیں شروع سورت سے الیم تک اتریں۔ حضور ﷺ نے حضرت اوس کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم غلام آزاد کرسکتے ہو ؟ انہوں نے قسم کھاکر انکار کیا حضور ﷺ نے ان کیلئے رقم جمع کی انہوں نے اس سے غلام خرید کر آزاد کیا اور اپنی بیوی صاحبہ سے رجوع کیا (ابن جریر) حضرت ابن عباس کے علاوہ اور بھی بہت سے بزرگوں کا یہ فرمان ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، واللہ اعلم۔ لفظ ظہار ظہر سے مشٹق ہے چونکہ اہل جاہلیت اپنی بیوی سے ظہار کرتے وقت یوں کہتے تھے کہ انت علی کظھر امی یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ، شریعت میں حکم یہ ہے کہ اس طرح خواہ کسی عضو کا نام لے ظہار ہوجائے گا، ظہار جاہلیت کے زمانے میں طلاق سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس امت کیلئے اس میں کفارہ مقرر کردیا اور اسے طلاق شمار نہیں کیا جیسے کہ جاہلیت کا دستور تھا۔ سلف میں سے اکثر حضرات نے یہی فرمایا ہے، حضرت ابن عباس جاہلیت کے اس دستور کا ذکر کرکے فرماتے ہیں اسلام میں جب حضرت خویلہ والا واقعہ پیش آیا اور دونوں میاں بیوی پچھتانے لگے تو حضرت اوس نے اپنی بیوی صاحبہ کو حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا یہ جب آئیں تو دیکھا کہ آپ کنگھی کر رہے ہیں، آپ نے واقعہ سن کر فرمایا ہمارے پاس اس کا کوئی حکم نہیں اتنے میں یہ آیتیں اتریں اور آپ ﷺ نے حضرت خویلہ ؓ کو اس کی خوشخبری دی اور پڑھ سنائیں، جب غلام کو آزاد کرنے کا ذکر کیا تو عذر کیا کہ ہمارے پاس غلام نہیں، پھر روزوں کا ذکر سن کر کہا اگر ہر روز تین مرتبہ پانی نہ پئیں تو بوجہ اپنے بڑھاپے کے فوت ہوجائیں، جب کھانا کھلانے کا ذکر سنا تو کہا چند لقموں پر تو سارا دن گزرتا ہے تو اوروں کو دینا کہاں ؟ چناچہ حضور ﷺ نے آدھا وسق تیس صاع منگواکر انہیں دیئے اور فرمایا اسے صدقہ کردو اور اپنی بیوی سے رجوع کرلو (ابن جریر) اس کی اسناد قوی اور پختہ ہے، لیکن ادائیگی غربت سے خالی نہیں۔ حضرت ابو العالیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، فرماتے ہیں خولہ بنت دلیج ایک انصاری کی بیوی تھیں جو کم نگاہ والے مفلس اور کج خلق تھے، کسی دن کسی بات پر میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا تو جاہلیت کی رسم کے مطابق ظہار کرلیا جو ان کی طلاق تھی۔ یہ بیوی صاحبہ حضور ﷺ کے پاس پہنچیں اس وقت آپ عائشہ کے گھر میں تھے اور ام المومنین آپ کا سر دھو رہی تھیں، جاکر سارا واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا اب کیا ہوسکتا ہے، میرے علم میں تو تو اس پر حرام ہوگئی یہ سن کر کہنے لگیں اللہ میری عرض تجھ سے ہے، اب حضرت عائشہ آپ کے سر مبارک کا ایک طرف کا حصہ دھو کر گھوم کر دوسری جانب آئیں اور ادھر کا حصہ دھونے لگیں تو حضرت خولہ بھی گھوم کر اس دوسری طرف آ بیٹھیں اور اپنا واقعہ دوہرایا، آپ ﷺ نے پھر یہی جواب دیا، ام المومنین نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا ہے تو ان سے کہا کہ دور ہٹ کر بیٹھو، یہ دور کھسک گئیں ادھر وحی نازل ہونی شروع ہوئی جب اتر چکی تو آپ نے فرمایا وہ عورت کہاں ہے ؟ ام المومنین نے انہیں آواز دے کر بلایا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اپنے خاوند کو لے آؤ، یہ دوڑتی ہوئی گئیں اور اپنے شوہر کو بلا لائیں تو واقعی وہ ایسے ہی تھے جیسے انہوں نے کہا تھا، آپ نے استعیذ باللہ السمیع العلیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس سورت کی یہ آیتیں سنائیں، اور فرمایا تم غلام آزاد کرسکتے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں، کہا دو مہینے کے لگاتار ایک کے پیچھے ایک روزے رکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے قسم کھاکر کہا کہ اگر دو تین دفعہ دن میں نہ کھاؤں تو بینائی بالکل جاتی رہتی ہے، فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں لیکن اگر آپ میری امداد فرمائیں تو اور بات ہے، پس حضور ﷺ نے ان کی اعانت کی اور فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اور جاہلیت کی اس رسم طلاق کو ہٹا کر اللہ تعالیٰ نے اسے ظہار مقرر فرمایا (ابن ابی حاتم و ابن جریر) حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں ایلا اور ظہار جاہلیت کے زمانہ کی طلاقیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے ایلا میں تو چار مہینے کی مدت مقرر فرمائی اور ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا۔ حضرت امام مالک ؒ نے لفظ منکم سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ یہاں خطاب مومنوں سے ہے اسلئے اس حکم میں کافر داخل نہیں، جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ بہ اعتبار غلبہ کے کہہ دیا گیا ہے اس لئے بطور قید کے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں لے سکتے، لفظ من نسائھم سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے ظہار نہیں نہ وہ اس خطاب میں داخل ہے۔ پھر فرماتا ہے اس کہنے سے کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے یا میرے لئے تو مثل میری ماں کے ہے یا مثل میری ماں کی پیٹھ کے ہے یا اور ایسے ہی الفاظ اپنی بیوی کو کہہ دینے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی، حقیقی ماں تو وہی ہے جس کے بطن سے یہ تولد ہوا ہے، یہ لوگ اپنے منہ سے فحش اور باطل قول بول دیتے ہیں اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشش دینے والا ہے۔ اس نے جاہلیت کی اس تنگی کو تم سے دور کردیا، اسی طرح ہر وہ کلام جو ایک دم زبان سے بغیر سوچے سمجھے اور بلا قصد نکل جائے۔ چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے سنا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے اے میری بہن تو آپ نے فرمایا یہ تیری بہن ہے ؟ غرض یہ کہنا برا لگا اسے روکا مگر اس سے حرمت ثابت نہیں کی کیونکہ دراصل اس کا مقصود یہ نہ تھا یونہی زبان سے بغیر قصد کے نکل گیا تھا ورنہ ضرور حرمت ثابت ہوجاتی، کیونکہ صحیح قول یہی ہے کہ اپنی بیوی کو جو شخض اس نام سے یاد کرے جو محرمات ابدیہ ہیں مثلاً بہن یا پھوپھی یا خالہ وغیرہ تو وہ بھی حکم میں ماں کہنے کے ہیں۔ جو لوگ ظہار کریں پھر اپنے کہنے سے لوٹیں اس کا مطلب ایک تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہار کیا پھر مکرر اس لفظ کو کہا لیکن یہ ٹھیک نہیں، بقول حضرت امام شافعی مطلب یہ ہے کہ ظہار کیا پھر اس عورت کو روک رکھا یہاں تک کہ اتنا زمانہ گزر گیا کہ اگر چاہتا تو اس میں باقاعدہ طلاق دے سکتا تھا لیکن طلاق نہ دی۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ پھر لوٹے جماع کی طرف یا ارادہ کرے تو یہ حلال نہیں تاوقتیکہ مذکورہ کفارہ ادا نہ کرے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ مراد اس سے جماع کا ارادہ یا پھر بسانے کا عزم یا جماع ہے۔ امام ابوحنیفہ وغیرہ کہتے ہیں مراد ظہار کی طرف لوٹنا ہے اس کی حرمت اور جاہلیت کے حکم کے اٹھ جانے کے بعد پس جو شخص اب ظہار کرے گا اس پر اس کی بیوی حرام ہوجائے گی جب تک کہ یہ کفارہ ادا نہ کرے، حضرت سعید فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا اب پھر اس کام کو کرنا چاہے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ مجامعت کرنا چاہے ورنہ اور طرح چھونے میں قبل کفارہ کے بھی ان کے نزدیک کوئی حرج نہیں۔ ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں یہاں مس سے مراد صحبت کرنا ہے۔ زہری فرماتے ہیں کہ ہاتھ لگانا پیار کرنا بھی کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جائز نہیں۔ سنن میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں اس سے مل لیا آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا تو نے کیوں کیا ؟ کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ چاندنی رات میں اس کے خلخال کی چمک نے مجھے بےتاب کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ ادا نہ کردے، نسائی میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے اور امام نسائی ؒ مرسل ہونے کو اولیٰ بتاتے ہیں۔ پھر کفارہ بیان ہو رہا ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ہاں یہ قید نہیں کہ مومن ہی ہو جیسے قتل کے کفارے میں غلام کے مومن ہونے کی قید ہے۔ امام شافعی تو فرماتے ہیں یہ مطلق اس مقید پر محمول ہوگی کیونکہ غلام کو آزاد کرنے کی شرط جیسی وہاں ہے ایسی ہی یہاں بھی ہے، اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ ایک سیاہ فام لونڈی کی بابت حضور ﷺ نے فرمایا تھا اسے آزاد کردو یہ مومنہ ہے، اوپر واقعہ گزر چکا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار کرکے پھر کفارہ سے قبل واقع ہونے والے کو آپ نے دوسرا کفارہ ادا کرنے کو نہیں فرمایا۔ پھر فرماتا ہے اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے یعنی دھمکایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں سے خبردار ہے اور تمہارے احوال کا عالم ہے۔ جو غلام کو آزاد کرنے پر قادر نہ ہو وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے کے بعد اپنی بیوی سے اس صورت میں مل سکتا ہے اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینے کے بعد، پہلے حدیثیں گزر چکیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم پہلی صورت پھر دوسری پھر تیسری، جیسے کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث میں بھی ہے جس میں آپ نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو فرمایا تھا۔ ہم نے یہ احکام اس لئے مقرر کئے ہیں کہ تمہارا کامل ایمان اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ہوجائے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کے محرمات ہیں خبردار اس حرمت کو نہ توڑنا۔ جو کافر ہوں یعنی ایمان نہ لائیں حکم برداری نہ کریں شریعت کے احکام کی بےعزتی کریں ان سے لاپرواہی برتیں انہیں بلاؤں سے بچنے والا نہ سمجھو بلکہ ان کیلئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں۔
فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِن قَبۡلِ أَن يَتَمَآسَّاۖ فَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ فَإِطۡعَامُ سِتِّينَ مِسۡكِينٗاۚ ذَٰلِكَ لِتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۗ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
So one who cannot find a slave, must then fast for two successive months before they touch one another; and one who cannot even fast, must then feed sixty needy ones; this is in order that you keep faith in Allah and His Noble Messenger; and these are the limits of Allah; and for the disbelievers is a painful punishment.
پھر جسے (غلام یا باندی) میسّر نہ ہو تو دو ماہ متواتر روزے رکھنا (لازم ہے) قبل اِس کے کہ وہ ایک دوسرے کو مَس کریں، پھر جو شخص اِس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (لازم ہے)، یہ اِس لئے کہ تم اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان رکھو۔ اور یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدود ہیں، اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Az-Zihar and the Atonement for It Imam
Ahmad recorded that Khuwaylah bint Tha`labah said, "By Allah! Allah sent down the beginning of Surat Al-Mujadilah in connection with me and `Aws bin As-Samit. He was my husband and had grown old and difficult. One day, he came to me and I argued with him about something and he said, out of anger, `You are like my mother's back to me.' He went out and sat with some of his people. Then he came back and wanted to have sexual intercourse with me. I said, `No, by the One in Whose Hand is the soul of Khuwaylah! You will not have your way with me after you said what you said, until Allah and His Messenger issue judgement about our case.' He wanted to have his way regardless of my choice and I pushed him away from me; he was an old man.' I next went to one of my neighbors and borrowed a garment from her and went to the Messenger of Allah ﷺ. I told him what happened and kept complaining to him of the ill treatment I received from `Aws. He said,
«يَاخُوَيْلَةُ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَاتَّقِي اللهَ فِيه»
(O Khuwaylah! Your cousin is an old man, so have Taqwa of Allah regarding him.) By Allah! Before I departed, parts of the Qur'an were revealed about me. Allah's Messenger ﷺ felt the hardship upon receiving the revelation as he usually did and then became relieved. He said to me,
«يَا خُوَيْلَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ قُرْآنًا»
(O Khuwaylah! Allah has revealed something about you and your spouse.) He recited to me,
قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِى تُجَادِلُكَ فِى زَوْجِهَا وَتَشْتَكِى إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمآ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
(Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband, and complains to Allah. And Allah hears the argument between you both. Verily, Allah is All-Hearer, All-Seer.), until,
وَلِلكَـفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And for disbelievers, there is a painful torment.) He then said to me,
«مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَة»
(Command him to free a slave.) I said, `O Allah's Messenger! He does not have any to free.' He said,
«فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْن»
(Let him fast for two consecutive months.) I said, `By Allah! He is an old man and cannot fast.' He said,
«فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْر»
(Let him feed sixty poor people a Wasq of dates.) I said, `O Allah's Messenger! By Allah, he does not have any of that.' He said,
«فَإِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْر»
(We will help him with a basket of dates.) I said, `And I, O Allah's Messenger! I will help him with another.' He said,
«قَدْ أَصَبْتِ وَأَحْسَنْتِ فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا»
(You have done a righteously good thing. So go and give away the dates on his behalf and take care of your cousin.) I did that."' Abu Dawud also collected this Hadith in the Book of Divorce in his Sunan, according to which her name is Khawlah bint Tha`labah. She is also known as Khawlah bint Malik bin Tha`labah, and Khuwaylah. All these are close to each other, and Allah knows best. This is what is correct about the reason behind revealing this Surah. Therefore, Allah's statement,
الَّذِينَ يُظَـهِرُونَ مِنكُمْ مِّن نِّسَآئِهِمْ
(Those among you who make their wives unlawful to them by Zihar) refers to Zihar, which is derived from Az-Zahr, meaning, the back. During the time of Jahiliyyah, when one wanted to declare Zihar towards his wife, he would say, "To me, you are like the back of my mother." That was one way they issued divorce during that time. Allah allowed this Ummah to pay expiation for this statement and did not render it as a divorce, contrary to the case during the time of Jahiliyyah. Allah said,
مَّا هُنَّ أُمَّهَـتِهِمْ إِنْ أُمَّهَـتُهُمْ إِلاَّ اللاَّئِى وَلَدْنَهُمْ
(they cannot be their mothers. None can be their mothers except those who gave them birth.) meaning, when the husband says to his wife that she is like his mother, or the back of his mother etc., she does not become his mother. Rather his mother is she who gave birth to him. This is why Allah said,
وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَراً مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوراً
(And verily, they utter an ill word and a lie.) meaning, false and sinful speech,
وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ
(And verily, Allah is Oft-Pardoning, Oft-Forgiving.) meaning, `what you used to do during the time of Jahiliyyah, and what accidentally slips out of your mouth, unintentionally.' Allah's statement,
وَالَّذِينَ يُظَـهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ
(And those who make unlawful to them (their wives) by Zihar and wish to free themselves from what they uttered,) Ash-Shafi`i said, "It means to keep her for a while after the Zihar, without divorcing her, even though his is able to do so." Ahmad bin Hanbal said, "To return to having sexual relations with her or to merely intend to do so, but only after he pays the expiation mentioned in the Ayah for his statement." It has been quoted from Malik that it is the intention to have sexual relations or to keep her or actually having sexual intercourse. Sa`id bin Jubayr said that this Ayah,
ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ
(and wish to free themselves from what they uttered,) meaning, if they want to return to having sexual intercourse which was forbidden between them. Al-Hasan Al-Basri said that it is to utilize her sexual organ, and he did not see any harm in doing what is less than that before paying the expiation. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas:
مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا
(before they touch each other.) "The `touching' refers here to sexual intercourse." Similar was said by `Ata', Az-Zuhri, Qatadah and Muqatil bin Hayyan. Az-Zuhri added, "He is not to kiss or touch her until he pays the expiation." The Sunan compilers recorded from `Ikrimah, from Ibn `Abbas that a man said, "O Allah's Messenger! I pronounced Zihar on my wife, but then had sexual intercourse with her before I paid the expiation." The Messenger ﷺ said,
«مَا حَمَلَكَ عَلى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ الله»
(May Allah grant you His mercy, what made you do that) He said, "I saw the adornment she was wearing shining in the moon's light." The Prophet said,
«فَلَا تَقْرَبْهَا حَتْى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللهُ عَزَّ وَجَل»
(Then do not touch her until you do what Allah the Exalted and Most Honored has ordered you to do.) At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib Sahih." Abu Dawud and An-Nasa'i also recorded it. Allah said,
فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ
((the penalty) in that case is the freeing of a slave) indicating the necessity of freeing a slave before they touch each other. This Ayah mentions any slave, not only believing servants as in the case of the expiation for (unintentional) killing,
ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ
(That is an admonition to you.) meaning, a warning to threaten you in this case.
وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(And Allah is All-Aware of what you do.) meaning, He is All-Knower in what brings you benefit. Allah's statement,
فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِيناً
(And he who finds not must fast two successive months before they both touch each other. And he who is unable to do so, should feed sixty of the poor.) is explained by the Hadiths that prescribe these punishments in this order, just as in the Hadith collected in the Two Sahihs about the man who had sexual intercourse with his wife during the day, in Ramadan. Allah said,
ذَلِكَ لِتُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
(That is in order that you may have perfect faith in Allah and His Messenger.) meaning, `We legislated this punishment so that you acquire this trait,'
وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ
(These are the limits set by Allah.) meaning, the things that He has forbidden, so do not transgress them,
وَلِلكَـفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
(And for disbelievers, there is a painful torment.) meaning, those who do not believe and do not abide by the rulings of Islamic legislation should never think they will be saved from the torment. Rather theirs will be a painful torment in this life and the Hereafter.
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ ؓ اور مسئلہ ظہار حضرت خولہ بنت ثعلبہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں اس سورة مجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو، لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آگئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کردیں، آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو وہ بوڑھے بڑے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ آنحضرت ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اترچکی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے خولہ تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر آپ نے آیت (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا) 58۔ المجادلة :1) تک پڑھ سنایا اور فرمایا جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں، میں نے کہا حضور ﷺ ان کے پاس غلام کہاں ؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں، میں نے کہا حضور ﷺ وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں، میں نے کہا حضور ﷺ اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دیدوں گا میں نے کہا بہتر آدھا وسق میں دیدوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کردو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو (مسند احمد و ابو داؤد)۔ ان کا نام بعض روایتوں میں خولہ کے بجائے خولہ بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو، واللہ اعلم۔ اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔ حضرت سلمہ بن صخر ؓ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا، حضرت سلمہ بن صخر انصاری ؓ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے کہ مجھے جماع کی طاقت اوروں سے بہت زیادہ تھی، رمضان میں اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو دن میں روزے کے وقت میں بچ نہ سکوں میں نے رمضان بھر کیلئے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، ایک رات جبکہ وہ میری خدمت میں مصروف تھی بدن کے کسی حصہ پر سے کپڑا ہٹ گیا پھر تاب کہاں تھی ؟ اس سے بات چیت کر بیٹھا صبح اپنی قوم کے پاس آکر میں نے کہا رات ایسا واقعہ ہوگیا ہے تم مجھے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو اور آپ سے پوچھو کہ اس گناہ کا بدلہ کیا ہے ؟ سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو تیرے ساتھ نہیں جائیں گے ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم میں اس کی بابت کوئی آیت اترے یا حضور ﷺ کوئی ایسی بات فرما دیں کہ ہمیشہ کیلئے ہم پر عار باقی رہ جائے، تو جانے تیرا کام، تو نے ایسا کیوں کیا ؟ ہم تیرے ساتھی نہیں، میں نے کہا اچھا پھر میں اکیلا جاتا ہوں۔ چناچہ میں گیا اور حضور ﷺ سے تمام واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ایسا کیا ؟ میں نے کہا جی ہاں حضور مجھ سے ایسا ہوگیا۔ آپ نے پھر فرمایا تم نے ایسا کیا ؟ میں نے پھر یہی عرض کیا کہ حضور ﷺ مجھ سے یہ خطا ہوگئی، آپ ﷺ نے تیسری دفعہ بھی یہی فرمایا میں نے پھر اقرار کیا اور کہا کہ حضور ﷺ میں موجود ہوں جو سزا میرے لئے تجویز کی جائے میں اسے صبر سے برداشت کروں گا آپ ﷺ حکم دیجئے، آپ نے فرمایا جاؤ ایک غلام آزاد کرو، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا حضور ﷺ میں تو صرف اس کا مالک ہوں اللہ کی قسم مجھے غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر دو مہینے کے پے درپے روزے رکھو، میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا پھر جاؤ صدقہ کرو میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس کچھ نہیں بلکہ آج کی شب سب گھر والوں نے فاقہ کیا ہے، پھر فرمایا اچھا بنو رزیق کے قبیلے کے صدقے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ صدقے کا مال تمہیں دیدیں تم اس میں سے ایک وسق کھجور تو ساٹھ مسکینوں کو دیدو اور باقی تم آپ اپنے اور اپنے بال بچوں کے کام میں لاؤ، میں خوش خوش لوٹا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور برائی پائی اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس میں نے کشادگی اور برکت پائی۔ حضور ﷺ کا حکم ہے کہ اپنے صدقے تم مجھے دیدو چناچہ انہوں نے مجھے دے دیئے (مسند احمد ابو داؤد وغیرہ) بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اوس بن صامت اور ان کی بیوی صاحبہ حضرت خویلہ بنت ثعلبہ کے واقعہ کے بعد کا ہے، چناچہ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ ظہار کا پہلا واقعہ حضرت اوس بن صامت کا ہے جو حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے، ان کی بیوی صاحبہ کا نام خولہ بنت ثعلبہ بن مالک رضی الہ تعالیٰ عنہا تھا، اس واقعہ سے حضرت خولہ کو ڈر تھا کہ شاید طلاق ہوگئی، انہوں نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ میرے میاں نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے اور اگر ہم علیحدہ علیحدہ ہوگئے تو دونوں برباد ہوجائیں گے میں اب اس لائق بھی نہیں رہی کہ مجھے اولاد ہو ہمارے اس تعلق کو بھی زمانہ گزر چکا اور بھی اسی طرح کی باتیں کہتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اب تک ظہار کا کوئی حکم اسلام میں نہ تھا اس پر یہ آیتیں شروع سورت سے الیم تک اتریں۔ حضور ﷺ نے حضرت اوس کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم غلام آزاد کرسکتے ہو ؟ انہوں نے قسم کھاکر انکار کیا حضور ﷺ نے ان کیلئے رقم جمع کی انہوں نے اس سے غلام خرید کر آزاد کیا اور اپنی بیوی صاحبہ سے رجوع کیا (ابن جریر) حضرت ابن عباس کے علاوہ اور بھی بہت سے بزرگوں کا یہ فرمان ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، واللہ اعلم۔ لفظ ظہار ظہر سے مشٹق ہے چونکہ اہل جاہلیت اپنی بیوی سے ظہار کرتے وقت یوں کہتے تھے کہ انت علی کظھر امی یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ، شریعت میں حکم یہ ہے کہ اس طرح خواہ کسی عضو کا نام لے ظہار ہوجائے گا، ظہار جاہلیت کے زمانے میں طلاق سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس امت کیلئے اس میں کفارہ مقرر کردیا اور اسے طلاق شمار نہیں کیا جیسے کہ جاہلیت کا دستور تھا۔ سلف میں سے اکثر حضرات نے یہی فرمایا ہے، حضرت ابن عباس جاہلیت کے اس دستور کا ذکر کرکے فرماتے ہیں اسلام میں جب حضرت خویلہ والا واقعہ پیش آیا اور دونوں میاں بیوی پچھتانے لگے تو حضرت اوس نے اپنی بیوی صاحبہ کو حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا یہ جب آئیں تو دیکھا کہ آپ کنگھی کر رہے ہیں، آپ نے واقعہ سن کر فرمایا ہمارے پاس اس کا کوئی حکم نہیں اتنے میں یہ آیتیں اتریں اور آپ ﷺ نے حضرت خویلہ ؓ کو اس کی خوشخبری دی اور پڑھ سنائیں، جب غلام کو آزاد کرنے کا ذکر کیا تو عذر کیا کہ ہمارے پاس غلام نہیں، پھر روزوں کا ذکر سن کر کہا اگر ہر روز تین مرتبہ پانی نہ پئیں تو بوجہ اپنے بڑھاپے کے فوت ہوجائیں، جب کھانا کھلانے کا ذکر سنا تو کہا چند لقموں پر تو سارا دن گزرتا ہے تو اوروں کو دینا کہاں ؟ چناچہ حضور ﷺ نے آدھا وسق تیس صاع منگواکر انہیں دیئے اور فرمایا اسے صدقہ کردو اور اپنی بیوی سے رجوع کرلو (ابن جریر) اس کی اسناد قوی اور پختہ ہے، لیکن ادائیگی غربت سے خالی نہیں۔ حضرت ابو العالیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، فرماتے ہیں خولہ بنت دلیج ایک انصاری کی بیوی تھیں جو کم نگاہ والے مفلس اور کج خلق تھے، کسی دن کسی بات پر میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا تو جاہلیت کی رسم کے مطابق ظہار کرلیا جو ان کی طلاق تھی۔ یہ بیوی صاحبہ حضور ﷺ کے پاس پہنچیں اس وقت آپ عائشہ کے گھر میں تھے اور ام المومنین آپ کا سر دھو رہی تھیں، جاکر سارا واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا اب کیا ہوسکتا ہے، میرے علم میں تو تو اس پر حرام ہوگئی یہ سن کر کہنے لگیں اللہ میری عرض تجھ سے ہے، اب حضرت عائشہ آپ کے سر مبارک کا ایک طرف کا حصہ دھو کر گھوم کر دوسری جانب آئیں اور ادھر کا حصہ دھونے لگیں تو حضرت خولہ بھی گھوم کر اس دوسری طرف آ بیٹھیں اور اپنا واقعہ دوہرایا، آپ ﷺ نے پھر یہی جواب دیا، ام المومنین نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا ہے تو ان سے کہا کہ دور ہٹ کر بیٹھو، یہ دور کھسک گئیں ادھر وحی نازل ہونی شروع ہوئی جب اتر چکی تو آپ نے فرمایا وہ عورت کہاں ہے ؟ ام المومنین نے انہیں آواز دے کر بلایا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اپنے خاوند کو لے آؤ، یہ دوڑتی ہوئی گئیں اور اپنے شوہر کو بلا لائیں تو واقعی وہ ایسے ہی تھے جیسے انہوں نے کہا تھا، آپ نے استعیذ باللہ السمیع العلیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس سورت کی یہ آیتیں سنائیں، اور فرمایا تم غلام آزاد کرسکتے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں، کہا دو مہینے کے لگاتار ایک کے پیچھے ایک روزے رکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے قسم کھاکر کہا کہ اگر دو تین دفعہ دن میں نہ کھاؤں تو بینائی بالکل جاتی رہتی ہے، فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں لیکن اگر آپ میری امداد فرمائیں تو اور بات ہے، پس حضور ﷺ نے ان کی اعانت کی اور فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اور جاہلیت کی اس رسم طلاق کو ہٹا کر اللہ تعالیٰ نے اسے ظہار مقرر فرمایا (ابن ابی حاتم و ابن جریر) حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں ایلا اور ظہار جاہلیت کے زمانہ کی طلاقیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے ایلا میں تو چار مہینے کی مدت مقرر فرمائی اور ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا۔ حضرت امام مالک ؒ نے لفظ منکم سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ یہاں خطاب مومنوں سے ہے اسلئے اس حکم میں کافر داخل نہیں، جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ بہ اعتبار غلبہ کے کہہ دیا گیا ہے اس لئے بطور قید کے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں لے سکتے، لفظ من نسائھم سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے ظہار نہیں نہ وہ اس خطاب میں داخل ہے۔ پھر فرماتا ہے اس کہنے سے کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے یا میرے لئے تو مثل میری ماں کے ہے یا مثل میری ماں کی پیٹھ کے ہے یا اور ایسے ہی الفاظ اپنی بیوی کو کہہ دینے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی، حقیقی ماں تو وہی ہے جس کے بطن سے یہ تولد ہوا ہے، یہ لوگ اپنے منہ سے فحش اور باطل قول بول دیتے ہیں اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشش دینے والا ہے۔ اس نے جاہلیت کی اس تنگی کو تم سے دور کردیا، اسی طرح ہر وہ کلام جو ایک دم زبان سے بغیر سوچے سمجھے اور بلا قصد نکل جائے۔ چناچہ ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے سنا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے اے میری بہن تو آپ نے فرمایا یہ تیری بہن ہے ؟ غرض یہ کہنا برا لگا اسے روکا مگر اس سے حرمت ثابت نہیں کی کیونکہ دراصل اس کا مقصود یہ نہ تھا یونہی زبان سے بغیر قصد کے نکل گیا تھا ورنہ ضرور حرمت ثابت ہوجاتی، کیونکہ صحیح قول یہی ہے کہ اپنی بیوی کو جو شخض اس نام سے یاد کرے جو محرمات ابدیہ ہیں مثلاً بہن یا پھوپھی یا خالہ وغیرہ تو وہ بھی حکم میں ماں کہنے کے ہیں۔ جو لوگ ظہار کریں پھر اپنے کہنے سے لوٹیں اس کا مطلب ایک تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہار کیا پھر مکرر اس لفظ کو کہا لیکن یہ ٹھیک نہیں، بقول حضرت امام شافعی مطلب یہ ہے کہ ظہار کیا پھر اس عورت کو روک رکھا یہاں تک کہ اتنا زمانہ گزر گیا کہ اگر چاہتا تو اس میں باقاعدہ طلاق دے سکتا تھا لیکن طلاق نہ دی۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ پھر لوٹے جماع کی طرف یا ارادہ کرے تو یہ حلال نہیں تاوقتیکہ مذکورہ کفارہ ادا نہ کرے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ مراد اس سے جماع کا ارادہ یا پھر بسانے کا عزم یا جماع ہے۔ امام ابوحنیفہ وغیرہ کہتے ہیں مراد ظہار کی طرف لوٹنا ہے اس کی حرمت اور جاہلیت کے حکم کے اٹھ جانے کے بعد پس جو شخص اب ظہار کرے گا اس پر اس کی بیوی حرام ہوجائے گی جب تک کہ یہ کفارہ ادا نہ کرے، حضرت سعید فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا اب پھر اس کام کو کرنا چاہے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ مجامعت کرنا چاہے ورنہ اور طرح چھونے میں قبل کفارہ کے بھی ان کے نزدیک کوئی حرج نہیں۔ ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں یہاں مس سے مراد صحبت کرنا ہے۔ زہری فرماتے ہیں کہ ہاتھ لگانا پیار کرنا بھی کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جائز نہیں۔ سنن میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں اس سے مل لیا آپ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا تو نے کیوں کیا ؟ کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ چاندنی رات میں اس کے خلخال کی چمک نے مجھے بےتاب کردیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اب اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ ادا نہ کردے، نسائی میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے اور امام نسائی ؒ مرسل ہونے کو اولیٰ بتاتے ہیں۔ پھر کفارہ بیان ہو رہا ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ہاں یہ قید نہیں کہ مومن ہی ہو جیسے قتل کے کفارے میں غلام کے مومن ہونے کی قید ہے۔ امام شافعی تو فرماتے ہیں یہ مطلق اس مقید پر محمول ہوگی کیونکہ غلام کو آزاد کرنے کی شرط جیسی وہاں ہے ایسی ہی یہاں بھی ہے، اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ ایک سیاہ فام لونڈی کی بابت حضور ﷺ نے فرمایا تھا اسے آزاد کردو یہ مومنہ ہے، اوپر واقعہ گزر چکا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار کرکے پھر کفارہ سے قبل واقع ہونے والے کو آپ نے دوسرا کفارہ ادا کرنے کو نہیں فرمایا۔ پھر فرماتا ہے اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے یعنی دھمکایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں سے خبردار ہے اور تمہارے احوال کا عالم ہے۔ جو غلام کو آزاد کرنے پر قادر نہ ہو وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے کے بعد اپنی بیوی سے اس صورت میں مل سکتا ہے اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینے کے بعد، پہلے حدیثیں گزر چکیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم پہلی صورت پھر دوسری پھر تیسری، جیسے کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث میں بھی ہے جس میں آپ نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو فرمایا تھا۔ ہم نے یہ احکام اس لئے مقرر کئے ہیں کہ تمہارا کامل ایمان اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ہوجائے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کے محرمات ہیں خبردار اس حرمت کو نہ توڑنا۔ جو کافر ہوں یعنی ایمان نہ لائیں حکم برداری نہ کریں شریعت کے احکام کی بےعزتی کریں ان سے لاپرواہی برتیں انہیں بلاؤں سے بچنے والا نہ سمجھو بلکہ ان کیلئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَقَدۡ أَنزَلۡنَآ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖۚ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٞ مُّهِينٞ
Indeed those who oppose Allah and His Noble Messenger have been humiliated, like those before them who were humiliated, and We have indeed sent down clear verses; and for the disbelievers is a disgraceful punishment.
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عداوت رکھتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح اُن سے پہلے لوگ ذلیل کئے جاچکے ہیں اور بیشک ہم نے واضح آیتیں نازل فرما دی ہیں، اور کافروں کے لئے ذِلت انگیز عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Explaining the Punishment of the Enemies of the Religion
Allah states that those who defy Him and His Messenger and contradict His commandments,
كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(will be disgraced as those before them were disgraced) meaning, they will be humiliated, cursed and disgraced, just as what happened to their like were before them,
وَقَدْ أَنزَلْنَآ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(And We have sent down clear Ayat.) meaning, none contradicts or opposes them, except a disbeliever, rebellious, sinner,
وَلِلْكَـفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And for the disbelievers is a disgraceful torment) meaning, as just recompense for their arrogant refusal to follow, obey and submit to the religion of Allah. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together) referring to the Day of Resurrection when He will gather the early and the latter generations in one area,
فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُواْ
(and inform them of what they did.) He will tell them all that they did in detail, whether good or evil,
أَحْصَـهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ
(Allah has kept account of it, while they have forgotten it.) meaning, Allah recorded and kept all these actions, even though they have forgotten what they did,
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ
(And Allah is Witness over all things.) meaning, nothing escapes His knowledge, and no matter is hidden from Him or escapes His complete observation.
Allah's Knowledge encompasses Creation
Then Allah the Exalted informs of His knowledge encompassing all creation, observing it, hearing their speech and seeing them, wherever they may be and in whatever condition they may be in,
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ
(Have you not seen that Allah knows whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth There is no Najwa of three), i.e., secret consultation of three,
إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ
(but He is their fourth --- nor of five but He is their sixth --- nor of less than that or more but He is with them wheresoever they may be.) meaning, He is watching them, perfectly hearing their speech, whether uttered in public or secret. His angels record all that they say, even though He has better knowledge of it and hears them perfectly, as Allah said;
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّـمُ الْغُيُوبِ
(Know they not that Allah knows their secret ideas, and their Najwa, and that Allah is the All-Knower of the unseen.) (9:78),
أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَهُم بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
(Or do they think that We hear not their secrets and their private Najwa And Our messengers are by them to record.) (43:80) For this reason, several mentioned that there is a consensus among the scholars that this "with" refers to Allah's knowledge. There is no doubt that this meaning is true, especially if we add to it the certainty that His hearing encompasses all things, as well as His sight. He, the Exalted and Most Honored, is never lacking in knowing all their affairs,
ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(And afterwards on the Day of Resurrection He will inform them of what they did. Verily, Allah is the All-Knower of everything.) Imam Ahmad commented, "Allah began the Ayah (58:7) by mentioning His knowledge and ended it by mentioning His knowledge."
احکامات رسول اللہ ﷺ اور ہم فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرع سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کردیئے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کردی ہیں اور نشانیاں ظاہر کردی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بےانتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔ گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔ نہ تو اللہ پر کوئی چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے، تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 78ۚ) 9۔ التوبہ :78) کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے، اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80) 43۔ الزخرف :80) کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے ؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں، اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔ بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم بیان پر کیا (مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔ مترجم)
يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓاْۚ أَحۡصَىٰهُ ٱللَّهُ وَنَسُوهُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
The day when Allah will raise all of them together and inform them of their misdeeds; Allah has kept count of them, whereas they have forgotten them; and all things are present before Allah.
جس دن اللہ ان سب لوگوں کو (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے گا پھر انہیں اُن کے اعمال سے آگاہ فرمائے گا، اللہ نے (ان کے) ہر عمل کو شمار کر رکھا ہے حالانکہ وہ اسے بھول (بھی) چکے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر مطّلع (اور آگاہ) ہے
Tafsir Ibn Kathir
Explaining the Punishment of the Enemies of the Religion
Allah states that those who defy Him and His Messenger and contradict His commandments,
كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(will be disgraced as those before them were disgraced) meaning, they will be humiliated, cursed and disgraced, just as what happened to their like were before them,
وَقَدْ أَنزَلْنَآ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(And We have sent down clear Ayat.) meaning, none contradicts or opposes them, except a disbeliever, rebellious, sinner,
وَلِلْكَـفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And for the disbelievers is a disgraceful torment) meaning, as just recompense for their arrogant refusal to follow, obey and submit to the religion of Allah. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together) referring to the Day of Resurrection when He will gather the early and the latter generations in one area,
فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُواْ
(and inform them of what they did.) He will tell them all that they did in detail, whether good or evil,
أَحْصَـهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ
(Allah has kept account of it, while they have forgotten it.) meaning, Allah recorded and kept all these actions, even though they have forgotten what they did,
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ
(And Allah is Witness over all things.) meaning, nothing escapes His knowledge, and no matter is hidden from Him or escapes His complete observation.
Allah's Knowledge encompasses Creation
Then Allah the Exalted informs of His knowledge encompassing all creation, observing it, hearing their speech and seeing them, wherever they may be and in whatever condition they may be in,
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ
(Have you not seen that Allah knows whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth There is no Najwa of three), i.e., secret consultation of three,
إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ
(but He is their fourth --- nor of five but He is their sixth --- nor of less than that or more but He is with them wheresoever they may be.) meaning, He is watching them, perfectly hearing their speech, whether uttered in public or secret. His angels record all that they say, even though He has better knowledge of it and hears them perfectly, as Allah said;
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّـمُ الْغُيُوبِ
(Know they not that Allah knows their secret ideas, and their Najwa, and that Allah is the All-Knower of the unseen.) (9:78),
أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَهُم بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
(Or do they think that We hear not their secrets and their private Najwa And Our messengers are by them to record.) (43:80) For this reason, several mentioned that there is a consensus among the scholars that this "with" refers to Allah's knowledge. There is no doubt that this meaning is true, especially if we add to it the certainty that His hearing encompasses all things, as well as His sight. He, the Exalted and Most Honored, is never lacking in knowing all their affairs,
ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(And afterwards on the Day of Resurrection He will inform them of what they did. Verily, Allah is the All-Knower of everything.) Imam Ahmad commented, "Allah began the Ayah (58:7) by mentioning His knowledge and ended it by mentioning His knowledge."
احکامات رسول اللہ ﷺ اور ہم فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرع سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کردیئے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کردی ہیں اور نشانیاں ظاہر کردی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بےانتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔ گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔ نہ تو اللہ پر کوئی چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے، تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 78ۚ) 9۔ التوبہ :78) کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے، اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80) 43۔ الزخرف :80) کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے ؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں، اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔ بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم بیان پر کیا (مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔ مترجم)
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
O listener! Did you not see that Allah knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth? Wherever there is any discussion among three He is the fourth present with them, and among five He is the sixth, and there is no discussion among fewer or more except that He is with them wherever they may be; and then on the Day of Resurrection He will inform them of all what they did; indeed Allah knows all things.
(اے انسان!) کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ اُن سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، کہیں بھی تین (آدمیوں) کی کوئی سرگوشی نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ (اللہ اپنے محیط علم و آگہی کے ساتھ) اُن کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی پانچ (آدمیوں) کی سرگوشی ہوتی ہے مگر وہ (اپنے علمِ محیط کے ساتھ) اُن کا چھٹا ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم (لوگوں) کی اور نہ زیادہ کی مگر وہ (ہمیشہ) اُن کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوتے ہیں، پھر وہ قیامت کے دن انہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو وہ کرتے رہے تھے، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Explaining the Punishment of the Enemies of the Religion
Allah states that those who defy Him and His Messenger and contradict His commandments,
كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ
(will be disgraced as those before them were disgraced) meaning, they will be humiliated, cursed and disgraced, just as what happened to their like were before them,
وَقَدْ أَنزَلْنَآ ءَايَـتٍ بَيِّنَـتٍ
(And We have sent down clear Ayat.) meaning, none contradicts or opposes them, except a disbeliever, rebellious, sinner,
وَلِلْكَـفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(And for the disbelievers is a disgraceful torment) meaning, as just recompense for their arrogant refusal to follow, obey and submit to the religion of Allah. Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together) referring to the Day of Resurrection when He will gather the early and the latter generations in one area,
فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُواْ
(and inform them of what they did.) He will tell them all that they did in detail, whether good or evil,
أَحْصَـهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ
(Allah has kept account of it, while they have forgotten it.) meaning, Allah recorded and kept all these actions, even though they have forgotten what they did,
وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ
(And Allah is Witness over all things.) meaning, nothing escapes His knowledge, and no matter is hidden from Him or escapes His complete observation.
Allah's Knowledge encompasses Creation
Then Allah the Exalted informs of His knowledge encompassing all creation, observing it, hearing their speech and seeing them, wherever they may be and in whatever condition they may be in,
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ
(Have you not seen that Allah knows whatsoever is in the heavens and whatsoever is on the earth There is no Najwa of three), i.e., secret consultation of three,
إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ
(but He is their fourth --- nor of five but He is their sixth --- nor of less than that or more but He is with them wheresoever they may be.) meaning, He is watching them, perfectly hearing their speech, whether uttered in public or secret. His angels record all that they say, even though He has better knowledge of it and hears them perfectly, as Allah said;
أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّـمُ الْغُيُوبِ
(Know they not that Allah knows their secret ideas, and their Najwa, and that Allah is the All-Knower of the unseen.) (9:78),
أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لاَ نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَهُم بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
(Or do they think that We hear not their secrets and their private Najwa And Our messengers are by them to record.) (43:80) For this reason, several mentioned that there is a consensus among the scholars that this "with" refers to Allah's knowledge. There is no doubt that this meaning is true, especially if we add to it the certainty that His hearing encompasses all things, as well as His sight. He, the Exalted and Most Honored, is never lacking in knowing all their affairs,
ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
(And afterwards on the Day of Resurrection He will inform them of what they did. Verily, Allah is the All-Knower of everything.) Imam Ahmad commented, "Allah began the Ayah (58:7) by mentioning His knowledge and ended it by mentioning His knowledge."
احکامات رسول اللہ ﷺ اور ہم فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرع سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کردیئے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کردی ہیں اور نشانیاں ظاہر کردی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بےانتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔ گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔ نہ تو اللہ پر کوئی چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے، تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 78ۚ) 9۔ التوبہ :78) کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے، اور جگہ ارشاد ہے آیت (اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ 80) 43۔ الزخرف :80) کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے ؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں، اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔ بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم بیان پر کیا (مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔ مترجم)
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نُهُواْ عَنِ ٱلنَّجۡوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَيَتَنَٰجَوۡنَ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِۖ وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ وَيَقُولُونَ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا ٱللَّهُ بِمَا نَقُولُۚ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ يَصۡلَوۡنَهَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
Did you not see those who were forbidden from conspiracy, yet they do what was forbidden, and consult each other for sinning, and for exceeding limits, and for disobeying the Noble Messenger? And when they come in your presence, they greet you with words not chosen by Allah for respectfully greeting you, and they inwardly say, “Why does not Allah punish us for what we say?”; hell is sufficient for them; they will sink into it; and what a wretched outcome!
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشیوں سے منع کیا گیا تھا پھر وہ لوگ وہی کام کرنے لگے جس سے روکے گئے تھے اور وہ گناہ اور سرکشی اور نافرمانئ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو آپ کو اُن (نازیبا) کلمات کے ساتھ سلام کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ رسول سچے ہیں تو) اللہ ہمیں اِن (باتوں) پر عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں؟ انہیں دوزخ (کا عذاب) ہی کافی ہے، وہ اسی میں داخل ہوں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Evil of the Jews
Ibn Abi Najih reported from Mujahid,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُواْ عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ
(Have you not seen those who were forbidden to hold secret counsels, and afterwards returned to that which they had been forbidden,) He said, "The Jews." Similar was said by Muqatil bin Hayyan, who added, "The Prophet had a peace treaty with the Jews. When one of the Prophet's Companions would pass by a gathering of Jews, they would speak among themselves in secret, prompting the believer to think that they were plotting to kill or harm him. When the believer saw this, he feared for his safety and changed the route he was taking. The Prophet advised them to abandon their evil secret talks, but they did not listen and kept on holding the Najwa. Allah the Exalted sent down this Ayah in their case,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُواْ عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ
(Have you not seen those who were forbidden to hold secret counsels, and afterwards returned to that which they had been forbidden)." Allah's statement,
وَيَتَنَـجَوْنَ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ
(and conspired together for sin and wrongdoing and disobedience to the Messenger.) means, they used to talk to each other,
بِالإِثْمِ
(for sin) which involves themselves,
وَالْعُدْوَنِ
(and wrongdoing) which effects others. They speak about disobedience and defying of the Messenger , with persistence and recommending each other to follow their way,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not,) Ibn Abi Hatim recorded that `A'ishah said, "Some Jews came to the Prophet and greeted him by saying, `As-Sam `Alayka, O Abul-Qasim.' So I said to them, `wa `Alaykum As-Sam (the same death be upon you).' The Prophet said,
«يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّش»
(O `A'ishah, Allah does not like rudeness and foul speech.) I said, `Didn't you hear them say, `As-Sam Alayka' He said,
«أَوَ مَا سَمِعْتِ أَقُولُ: وَعَلَيْكُم»
(Didn't you hear me answering them back by saying, `Wa `Alaykum (And the same upon you)') Allah the Exalted then sent down this Ayah,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not,)" The narration collected in the Sahih states that `A'ishah said, "And be upon you the death, disgrace and curse." The Messenger of Allah ﷺ said to her,
«إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لَنَا فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا»
(Allah accepts our supplication against them, but not theirs against us.) Ibn Jarir recorded that Anas bin Malik said, "A Jew passed by Allah's Messenger , who was sitting with his Companions, he greeted them and they greeted him back. Allah's Messenger ﷺ then said to his Companions,
«هَلْ تَدْرُونَ مَا قَالَ؟»
(Do you know what he just said) They said, `He said: As-Salam, O Allah's Messenger.' The Prophet said,
«بَلْ قَالَ: سَامٌ عَلَيْكُم»
(Rather he said, Sam `Alaykum.) meaning, `may you disgrace your religion.' Allah's Messenger ﷺ then said,
«رُدُّوه»
(Bring him back,) and when he was brought back, the Prophet asked him,
«أَقُلْتَ: سَامٌ عَلَيْكُمْ؟»
(Did you say: Sam `Alaykum) He said, `Yes.' The Prophet then said,
«إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا: عَلَيْك»
(When the people of the Book greet you, say, `Wa `Alaykum.')" meaning, `and the same on you too.' The basis for the Hadith of Anas is in the Sahih and similar to this Hadith of `A'ishah is in the Sahih. Allah said,
وَيَقُولُونَ فِى أَنفُسِهِمْ لَوْلاَ يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ
(and say within themselves:"Why should Allah punish us not for what we say") means, the Jews say these words, changing the meaning of the Islamic greeting, into an abusive statement, and then say, `Had he been a Prophet, Allah would have punished us for what we said. Allah knows what we conceal. Therefore, if Muhammad ﷺ were a Prophet, Allah would have sent His punishment on us sooner, in this life.' Allah the Exalted replied,
حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ
(Hell will be sufficient for them;) ell should be sufficient for them in the Hereafter,
يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(they will enter therein. And worst indeed is that destination!) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Jews used to say, "Sam `Alayka," to Allah's Messenger ﷺ. They would say then within themselves, "Why does Allah not punish us for what we say" This Ayah was later revealed,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِى أَنفُسِهِمْ لَوْلاَ يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not, and say within themselves: "Why should Allah punish us not for what we say" Hell will be sufficient for them; they will enter therein. And worst indeed is that destination!) Its chain of narration is Hasan, but they (Al-Bukhari and Muslim) did not collect it.
Manners of the Najwa, (Secret Counsel)
Allah the Exalted teaches His believing servants to avoid the ways of the disbelievers and hypocrites,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلاَ تَتَنَـجَوْاْ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَةِ الرَّسُولِ
(O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience to the Messenger,) meaning, do not hold evil secret counsels like the ignorant disbelieving People of the Scriptures and their allies among the hypocrites, who imitate their ways,
وَتَنَـجَوْاْ بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللَّهَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(but do it for Al-Birr and Taqwa; and have Taqwa of Allah unto Whom you shall be gathered.) and He will then inform you of all your deeds and statements; He has counted and recorded them and will justly hold you accountable for them. Allah the Exalted said,
إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَـنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْئاً إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(An-Najwa are only from the Shaytan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits. And in Allah let the believers put their trust.) Allah states that secret talks, where the believers feel anxious, are
مِنَ الشَّيْطَـنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(only from Shaytan, in order that he may cause grief to the believers.) meaning, that those who hold such counsels do so because of the lures of the devil,
لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(in order that he may cause grief to the believers.) The devil seeks to bother the believers, even though his plots will not harm the believers, except if Allah wills it. Those who are the subject of evil Najwa, should seek refuge in Allah and put his trust in Him, for none of it will harm them, Allah willing. The Sunnah also forbids the Najwa so that no Muslim is bothered by it. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه»
(If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, because that would cause him to be worried.) This Hadith is collected in the Two Sahihs using a chain of narration that contained Al-A`mash. `Abdur-Razzaq narrated that `Abdullah bin `Umar said that Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه»
(If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, except with his permission, because that would cause him to be worried.) Muslim collected this Hadith.
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آگئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آگئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہوگئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور فرمایا یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں ؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا ؟ ہم نے کہا حضور ﷺ ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (یعنی ریاکاری) اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر ؑ کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا السام علیک یا ابو القاسم حضرت عائشہ سے رہا نہ گیا فرمایا وعلیکم السام۔ سام کے معنی موت کے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا کیا حضور ﷺ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو السلام نہیں کہا بلکہ السام کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا ؟ میں نے کہہ دیا وعلیکم۔ اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے ان کے جواب میں فرمایا تھا علیکم السام والنام واللعنتہ اور آپ نے صدیقہ کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کو سنانا مقبول ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک مرتبہ حضور ﷺ اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا صحابہ نے جواب دیا پھر حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے کہا حضرت ﷺ سلام کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے کہا تھا سام علیکم یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آگیا تو آپ نے فرمایا سچ سچ بتا کیا تو نے سام علیکم نہیں کہا تھا ؟ اس نے کہا ہاں حضور ﷺ میں نے یہی کہا تھا آپ نے فرمایا سنو جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف علیک کہہ دیا کرو یعنی جو تو نے کہا ہو وہ تجھ پر (ابن جریر وغیرہ) پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔ حضرت صفوان فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہوگی اس کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا رسالت مآب ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کرلے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے ؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا فلاں کیا تھا فلاں کیا تھا یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہوگا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہوجاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے (بخاری و مسلم)۔ پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لئے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہئے کہ اعوذ پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے انشاء اللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے، مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہوگا (بخاری و مسلم) اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں (مسلم)۔
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَنَٰجَيۡتُمۡ فَلَا تَتَنَٰجَوۡاْ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَتَنَٰجَوۡاْ بِٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
O People who Believe! When you consult each other, do not consult for sinning, nor for exceeding limits, nor for disobeying the Noble Messenger – and consult for righteousness and piety; and fear Allah, towards Whom you will be raised.
اے ایمان والو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور ظلم و سرکشی اور نافرمانئ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سرگوشی نہ کیا کرو اور نیکی اور پرہیزگاری کی بات ایک دوسرے کے کان میں کہہ لیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم سب جمع کئے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
The Evil of the Jews
Ibn Abi Najih reported from Mujahid,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُواْ عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ
(Have you not seen those who were forbidden to hold secret counsels, and afterwards returned to that which they had been forbidden,) He said, "The Jews." Similar was said by Muqatil bin Hayyan, who added, "The Prophet had a peace treaty with the Jews. When one of the Prophet's Companions would pass by a gathering of Jews, they would speak among themselves in secret, prompting the believer to think that they were plotting to kill or harm him. When the believer saw this, he feared for his safety and changed the route he was taking. The Prophet advised them to abandon their evil secret talks, but they did not listen and kept on holding the Najwa. Allah the Exalted sent down this Ayah in their case,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُواْ عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ
(Have you not seen those who were forbidden to hold secret counsels, and afterwards returned to that which they had been forbidden)." Allah's statement,
وَيَتَنَـجَوْنَ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ
(and conspired together for sin and wrongdoing and disobedience to the Messenger.) means, they used to talk to each other,
بِالإِثْمِ
(for sin) which involves themselves,
وَالْعُدْوَنِ
(and wrongdoing) which effects others. They speak about disobedience and defying of the Messenger , with persistence and recommending each other to follow their way,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not,) Ibn Abi Hatim recorded that `A'ishah said, "Some Jews came to the Prophet and greeted him by saying, `As-Sam `Alayka, O Abul-Qasim.' So I said to them, `wa `Alaykum As-Sam (the same death be upon you).' The Prophet said,
«يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّش»
(O `A'ishah, Allah does not like rudeness and foul speech.) I said, `Didn't you hear them say, `As-Sam Alayka' He said,
«أَوَ مَا سَمِعْتِ أَقُولُ: وَعَلَيْكُم»
(Didn't you hear me answering them back by saying, `Wa `Alaykum (And the same upon you)') Allah the Exalted then sent down this Ayah,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not,)" The narration collected in the Sahih states that `A'ishah said, "And be upon you the death, disgrace and curse." The Messenger of Allah ﷺ said to her,
«إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لَنَا فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا»
(Allah accepts our supplication against them, but not theirs against us.) Ibn Jarir recorded that Anas bin Malik said, "A Jew passed by Allah's Messenger , who was sitting with his Companions, he greeted them and they greeted him back. Allah's Messenger ﷺ then said to his Companions,
«هَلْ تَدْرُونَ مَا قَالَ؟»
(Do you know what he just said) They said, `He said: As-Salam, O Allah's Messenger.' The Prophet said,
«بَلْ قَالَ: سَامٌ عَلَيْكُم»
(Rather he said, Sam `Alaykum.) meaning, `may you disgrace your religion.' Allah's Messenger ﷺ then said,
«رُدُّوه»
(Bring him back,) and when he was brought back, the Prophet asked him,
«أَقُلْتَ: سَامٌ عَلَيْكُمْ؟»
(Did you say: Sam `Alaykum) He said, `Yes.' The Prophet then said,
«إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا: عَلَيْك»
(When the people of the Book greet you, say, `Wa `Alaykum.')" meaning, `and the same on you too.' The basis for the Hadith of Anas is in the Sahih and similar to this Hadith of `A'ishah is in the Sahih. Allah said,
وَيَقُولُونَ فِى أَنفُسِهِمْ لَوْلاَ يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ
(and say within themselves:"Why should Allah punish us not for what we say") means, the Jews say these words, changing the meaning of the Islamic greeting, into an abusive statement, and then say, `Had he been a Prophet, Allah would have punished us for what we said. Allah knows what we conceal. Therefore, if Muhammad ﷺ were a Prophet, Allah would have sent His punishment on us sooner, in this life.' Allah the Exalted replied,
حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ
(Hell will be sufficient for them;) ell should be sufficient for them in the Hereafter,
يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(they will enter therein. And worst indeed is that destination!) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Jews used to say, "Sam `Alayka," to Allah's Messenger ﷺ. They would say then within themselves, "Why does Allah not punish us for what we say" This Ayah was later revealed,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِى أَنفُسِهِمْ لَوْلاَ يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not, and say within themselves: "Why should Allah punish us not for what we say" Hell will be sufficient for them; they will enter therein. And worst indeed is that destination!) Its chain of narration is Hasan, but they (Al-Bukhari and Muslim) did not collect it.
Manners of the Najwa, (Secret Counsel)
Allah the Exalted teaches His believing servants to avoid the ways of the disbelievers and hypocrites,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلاَ تَتَنَـجَوْاْ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَةِ الرَّسُولِ
(O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience to the Messenger,) meaning, do not hold evil secret counsels like the ignorant disbelieving People of the Scriptures and their allies among the hypocrites, who imitate their ways,
وَتَنَـجَوْاْ بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللَّهَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(but do it for Al-Birr and Taqwa; and have Taqwa of Allah unto Whom you shall be gathered.) and He will then inform you of all your deeds and statements; He has counted and recorded them and will justly hold you accountable for them. Allah the Exalted said,
إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَـنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْئاً إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(An-Najwa are only from the Shaytan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits. And in Allah let the believers put their trust.) Allah states that secret talks, where the believers feel anxious, are
مِنَ الشَّيْطَـنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(only from Shaytan, in order that he may cause grief to the believers.) meaning, that those who hold such counsels do so because of the lures of the devil,
لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(in order that he may cause grief to the believers.) The devil seeks to bother the believers, even though his plots will not harm the believers, except if Allah wills it. Those who are the subject of evil Najwa, should seek refuge in Allah and put his trust in Him, for none of it will harm them, Allah willing. The Sunnah also forbids the Najwa so that no Muslim is bothered by it. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه»
(If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, because that would cause him to be worried.) This Hadith is collected in the Two Sahihs using a chain of narration that contained Al-A`mash. `Abdur-Razzaq narrated that `Abdullah bin `Umar said that Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه»
(If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, except with his permission, because that would cause him to be worried.) Muslim collected this Hadith.
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آگئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آگئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہوگئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور فرمایا یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں ؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا ؟ ہم نے کہا حضور ﷺ ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (یعنی ریاکاری) اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر ؑ کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا السام علیک یا ابو القاسم حضرت عائشہ سے رہا نہ گیا فرمایا وعلیکم السام۔ سام کے معنی موت کے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا کیا حضور ﷺ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو السلام نہیں کہا بلکہ السام کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا ؟ میں نے کہہ دیا وعلیکم۔ اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے ان کے جواب میں فرمایا تھا علیکم السام والنام واللعنتہ اور آپ نے صدیقہ کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کو سنانا مقبول ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک مرتبہ حضور ﷺ اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا صحابہ نے جواب دیا پھر حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے کہا حضرت ﷺ سلام کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے کہا تھا سام علیکم یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آگیا تو آپ نے فرمایا سچ سچ بتا کیا تو نے سام علیکم نہیں کہا تھا ؟ اس نے کہا ہاں حضور ﷺ میں نے یہی کہا تھا آپ نے فرمایا سنو جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف علیک کہہ دیا کرو یعنی جو تو نے کہا ہو وہ تجھ پر (ابن جریر وغیرہ) پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔ حضرت صفوان فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہوگی اس کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا رسالت مآب ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کرلے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے ؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا فلاں کیا تھا فلاں کیا تھا یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہوگا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہوجاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے (بخاری و مسلم)۔ پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لئے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہئے کہ اعوذ پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے انشاء اللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے، مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہوگا (بخاری و مسلم) اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں (مسلم)۔
10
View Single
إِنَّمَا ٱلنَّجۡوَىٰ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ لِيَحۡزُنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
The evil consultation is only from the devil in order that he may upset the believers, whereas he cannot harm them in the least without Allah’s command; and only upon Allah must the Muslims rely.
(منفی اور تخریبی) سرگوشی محض شیطان ہی کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو پریشان کرے حالانکہ وہ (شیطان) اُن (مومنوں) کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا مگر اللہ کے حکم سے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے
Tafsir Ibn Kathir
The Evil of the Jews
Ibn Abi Najih reported from Mujahid,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُواْ عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ
(Have you not seen those who were forbidden to hold secret counsels, and afterwards returned to that which they had been forbidden,) He said, "The Jews." Similar was said by Muqatil bin Hayyan, who added, "The Prophet had a peace treaty with the Jews. When one of the Prophet's Companions would pass by a gathering of Jews, they would speak among themselves in secret, prompting the believer to think that they were plotting to kill or harm him. When the believer saw this, he feared for his safety and changed the route he was taking. The Prophet advised them to abandon their evil secret talks, but they did not listen and kept on holding the Najwa. Allah the Exalted sent down this Ayah in their case,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُواْ عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنْهُ
(Have you not seen those who were forbidden to hold secret counsels, and afterwards returned to that which they had been forbidden)." Allah's statement,
وَيَتَنَـجَوْنَ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ
(and conspired together for sin and wrongdoing and disobedience to the Messenger.) means, they used to talk to each other,
بِالإِثْمِ
(for sin) which involves themselves,
وَالْعُدْوَنِ
(and wrongdoing) which effects others. They speak about disobedience and defying of the Messenger , with persistence and recommending each other to follow their way,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not,) Ibn Abi Hatim recorded that `A'ishah said, "Some Jews came to the Prophet and greeted him by saying, `As-Sam `Alayka, O Abul-Qasim.' So I said to them, `wa `Alaykum As-Sam (the same death be upon you).' The Prophet said,
«يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّش»
(O `A'ishah, Allah does not like rudeness and foul speech.) I said, `Didn't you hear them say, `As-Sam Alayka' He said,
«أَوَ مَا سَمِعْتِ أَقُولُ: وَعَلَيْكُم»
(Didn't you hear me answering them back by saying, `Wa `Alaykum (And the same upon you)') Allah the Exalted then sent down this Ayah,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not,)" The narration collected in the Sahih states that `A'ishah said, "And be upon you the death, disgrace and curse." The Messenger of Allah ﷺ said to her,
«إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لَنَا فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا»
(Allah accepts our supplication against them, but not theirs against us.) Ibn Jarir recorded that Anas bin Malik said, "A Jew passed by Allah's Messenger , who was sitting with his Companions, he greeted them and they greeted him back. Allah's Messenger ﷺ then said to his Companions,
«هَلْ تَدْرُونَ مَا قَالَ؟»
(Do you know what he just said) They said, `He said: As-Salam, O Allah's Messenger.' The Prophet said,
«بَلْ قَالَ: سَامٌ عَلَيْكُم»
(Rather he said, Sam `Alaykum.) meaning, `may you disgrace your religion.' Allah's Messenger ﷺ then said,
«رُدُّوه»
(Bring him back,) and when he was brought back, the Prophet asked him,
«أَقُلْتَ: سَامٌ عَلَيْكُمْ؟»
(Did you say: Sam `Alaykum) He said, `Yes.' The Prophet then said,
«إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا: عَلَيْك»
(When the people of the Book greet you, say, `Wa `Alaykum.')" meaning, `and the same on you too.' The basis for the Hadith of Anas is in the Sahih and similar to this Hadith of `A'ishah is in the Sahih. Allah said,
وَيَقُولُونَ فِى أَنفُسِهِمْ لَوْلاَ يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ
(and say within themselves:"Why should Allah punish us not for what we say") means, the Jews say these words, changing the meaning of the Islamic greeting, into an abusive statement, and then say, `Had he been a Prophet, Allah would have punished us for what we said. Allah knows what we conceal. Therefore, if Muhammad ﷺ were a Prophet, Allah would have sent His punishment on us sooner, in this life.' Allah the Exalted replied,
حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ
(Hell will be sufficient for them;) ell should be sufficient for them in the Hereafter,
يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(they will enter therein. And worst indeed is that destination!) Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin `Amr said that the Jews used to say, "Sam `Alayka," to Allah's Messenger ﷺ. They would say then within themselves, "Why does Allah not punish us for what we say" This Ayah was later revealed,
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِى أَنفُسِهِمْ لَوْلاَ يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
(And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not, and say within themselves: "Why should Allah punish us not for what we say" Hell will be sufficient for them; they will enter therein. And worst indeed is that destination!) Its chain of narration is Hasan, but they (Al-Bukhari and Muslim) did not collect it.
Manners of the Najwa, (Secret Counsel)
Allah the Exalted teaches His believing servants to avoid the ways of the disbelievers and hypocrites,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلاَ تَتَنَـجَوْاْ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَةِ الرَّسُولِ
(O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience to the Messenger,) meaning, do not hold evil secret counsels like the ignorant disbelieving People of the Scriptures and their allies among the hypocrites, who imitate their ways,
وَتَنَـجَوْاْ بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللَّهَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
(but do it for Al-Birr and Taqwa; and have Taqwa of Allah unto Whom you shall be gathered.) and He will then inform you of all your deeds and statements; He has counted and recorded them and will justly hold you accountable for them. Allah the Exalted said,
إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَـنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْئاً إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(An-Najwa are only from the Shaytan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits. And in Allah let the believers put their trust.) Allah states that secret talks, where the believers feel anxious, are
مِنَ الشَّيْطَـنِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(only from Shaytan, in order that he may cause grief to the believers.) meaning, that those who hold such counsels do so because of the lures of the devil,
لِيَحْزُنَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ
(in order that he may cause grief to the believers.) The devil seeks to bother the believers, even though his plots will not harm the believers, except if Allah wills it. Those who are the subject of evil Najwa, should seek refuge in Allah and put his trust in Him, for none of it will harm them, Allah willing. The Sunnah also forbids the Najwa so that no Muslim is bothered by it. Imam Ahmad recorded that `Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه»
(If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, because that would cause him to be worried.) This Hadith is collected in the Two Sahihs using a chain of narration that contained Al-A`mash. `Abdur-Razzaq narrated that `Abdullah bin `Umar said that Allah's Messenger ﷺ said,
«إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه»
(If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, except with his permission, because that would cause him to be worried.) Muslim collected this Hadith.
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت ﷺ میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور ﷺ نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکن انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آگئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آگئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہوگئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور فرمایا یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں ؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا ؟ ہم نے کہا حضور ﷺ ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ نے فرمایا سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (یعنی ریاکاری) اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر ؑ کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا السام علیک یا ابو القاسم حضرت عائشہ سے رہا نہ گیا فرمایا وعلیکم السام۔ سام کے معنی موت کے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا کیا حضور ﷺ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو السلام نہیں کہا بلکہ السام کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا ؟ میں نے کہہ دیا وعلیکم۔ اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے ان کے جواب میں فرمایا تھا علیکم السام والنام واللعنتہ اور آپ نے صدیقہ کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کو سنانا مقبول ہے (ابن ابی حاتم وغیرہ) ایک مرتبہ حضور ﷺ اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیا صحابہ نے جواب دیا پھر حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے کہا حضرت ﷺ سلام کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اس نے کہا تھا سام علیکم یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آگیا تو آپ نے فرمایا سچ سچ بتا کیا تو نے سام علیکم نہیں کہا تھا ؟ اس نے کہا ہاں حضور ﷺ میں نے یہی کہا تھا آپ نے فرمایا سنو جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف علیک کہہ دیا کرو یعنی جو تو نے کہا ہو وہ تجھ پر (ابن جریر وغیرہ) پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔ حضرت صفوان فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہوگی اس کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا رسالت مآب ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کرلے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے ؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا فلاں کیا تھا فلاں کیا تھا یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہوگا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہوجاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے (بخاری و مسلم)۔ پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لئے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہئے کہ اعوذ پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے انشاء اللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے، مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہوگا (بخاری و مسلم) اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں (مسلم)۔
11
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِي ٱلۡمَجَٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُواْ فَٱنشُزُواْ يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
O People who Believe! When you are told to give room in the assemblies, then do give room – Allah will give you room (in His mercy); and when it is said, “Stand up in reverence”, then do stand up – Allah will raise the believers among you, and those given knowledge, to high ranks; and Allah is Aware of your deeds.
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ (اپنی) مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو کشادہ ہو جایا کرو اللہ تمہیں کشادگی عطا فرمائے گا اور جب کہا جائے کھڑے ہو جاؤ تو تم کھڑے ہوجایا کرو، اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا، اور اللہ اُن کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
Manners for Assemblies
Allah teaches His servants good manners and orders them to be kind to each other when they are sitting together,
يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُواْ فِى الْمَجَـلِسِ
(O you who believe! When you are told to make room in the assemblies,)
فَافْسَحُواْ يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ
(make room. Allah will give you room.) Indeed, the reward or recompense depends on the type of action. In a Hadith, the Prophet said,
«مَنْ بَنَىىِللهِ مَسْجِدًا بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّة»
(Whoever builds a Masjid for Allah, Allah builds for him a house in Paradise.) In another Hadith, the Prophet said,
«وَمَنْ يَسَّرَ عَلى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْاخِرَةِ، وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيه»
(He who relieves a difficulty for a person living in straitened circumstances, then Allah will relieve the difficulties of this life and the Hereafter for him. Surely, Allah helps the servant as long as the servant helps his brother.) There are many similar Hadiths. This is why Allah the Exalted said,
فَافْسَحُواْ يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ
(make room. Allah will give you room.) Qatadah said, "This Ayah was revealed about gatherings in places where Allah is being remembered. When someone would come to join in assemblies with the Messenger , they would hesitate to offer them space so that they would not loose their places. Allah the Exalted commanded them to spread out and make room for each other." Imam Ahmad and Imam Ash-Shafi`i recorded that `Abdullah bin `Umar said that the Messenger of Allah ﷺ said,
«لَا يُقِمِ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ فَيَجْلِسَ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا»
(One of you should not remove someone from his place and sit in it, but instead, spread out and make room.) This Hadith is recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,
«لَا يُقِمِ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ، وَلَكِنِ افْسَحُوا يَفْسَحِ اللهُ لَكُم»
(A man should not remove another man from his place and then sit in it. Rather spread out and make room and Allah will make room for you.) Imam Ahmad also recorded this Hadith with the wording:
«لَا يَقُومُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ، وَلَكِنِ افْسَحُوا يَفْسَحِ اللهُ لَكُم»
(A man should not leave his place for another man, but rather spread out and make room, and Allah will make room for you)." It has been reported that Ibn `Abbas, Al-Hasan Al-Basri and others said that:
إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُواْ فِى الْمَجَـلِسِ فَافْسَحُواْ يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ
(When you are told to make room in the assemblies, make room. Allah will give you room.) means to war assemblies, and that,
وَإِذَا قِيلَ انشُزُواْ فَانشُزُواْ
(And when you are told to rise up, then rise up.) means, "Get up to fight." Qatadah said
وَإِذَا قِيلَ انشُزُواْ فَانشُزُواْ
(And when you are told to rise up, then rise up.) means, "When you are called to any type of good, then respond."
The Virtues of Knowledge and People of Knowledge
Allah's statement,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ دَرَجَـتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
(Allah will exalt in degrees those of you who believe, and those who have been granted knowledge. And Allah is Well-Acquainted with what you do.) means, do not think that if one of you makes room for his brother, or rises up when he is commanded to do so, that this will diminish his right or honor. Rather, this will increase his virtue and status with Allah, and Allah the Exalted will never make his good deed be lost. To the contrary, He will reward him for it in this life and the Hereafter. Surely, he who humbles himself by and before the command of his Lord, then Allah will elevate his status and make him known by his good behavior. the statement of Allah the Exalted,
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ دَرَجَـتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
m(Allah will exalt in degree those of you who believe, and those who have been granted knowledge. And Allah is Well--Acquainted with what you do.) meaning, surely, Allah is Aware of those who deserve this reward and those who are not worthy of it. Imam Ahmad recorded that Abu At-Tufayl `Amir bin Wathilah said that Nafi` bin `Abdul--Harith met `Umar bin Al-Khattab in the area of `Usfan. `Umar appointed Abu At-Tufayl to be the governor of Makkah. `Umar asked him, "Whom did you appoint as your deputy for the valley people (that is, Makkah)." `Amir said, "I appointed Ibn Abza, one of our freed slaves, as my deputy." `Umar said, "You made a freed slave their governor in your absence" He said, "O Leader of the faithful! He has memorized Allah's Book and has knowledge of regulations of inheritance, along with being a proficient judge." `Umar said, "Surely, your Prophet has said,
«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهذَا الْكِتَابِ قَوْمًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِين»
(Verily, Allah elevates some people and degrades others, on account of this Book.)" Muslim collected this Hadith.
آداب مجلس باہم معاملات اور علمائے حق و باعمل کی توقیر یہاں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ مجلسی آداب سکھاتا ہے۔ انہیں حکم دیتا ہے کہ نشست و برخاست میں بھی ایک دوسرے کا خیال ولحاظ رکھو۔ تو فرماتا ہے کہ جب مجلس جمع ہو اور کوئی آئے تو ذرا ادھر ادھر ہٹ ہٹاکر اسے بھی جگہ دو۔ مجلس میں کشادگی کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی دے گا۔ اس لئے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے، چناچہ ایک حدیث میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کیلئے مسجد بنادے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جو کسی سختی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا، جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہے اللہ تعالیٰ خود اپنے اس بندے کی مدد پر رہتا ہے اور بھی اسی طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں۔ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں یہ آیت مجلس ذکر کے بارے میں اتری ہے مثلاً وعظ ہو رہا ہے حضور ﷺ کچھ نصیحت کی باتیں بیان فرما رہے ہیں لوگ بیٹھے سن رہے ہیں اب جو دوسرا کوئی آیا تو کوئی اپنی جگہ سے نہیں سرکتا تاکہ اسے بھی جگہ مل جائے۔ قرآن کریم نے حکم دیا کہ ایسا نہ کرو ادھر ادھر کھل جایا کرو تاکہ آنے والے کی جگہ ہوجائے۔ حضرت مقاتل فرماتے ہیں جمعہ کے دن یہ آیت اتری، رسول اللہ ﷺ اس دن صفہ میں تھے یعنی مسجد کے ایک چھپر تلے جگہ تنگ تھی اور آپ کی عادت مبارک تھی کہ جو مہاجر اور انصاری بدر کی لڑائی میں آپ کے ساتھ تھے آپ ان کی بڑی عزت اور تکریم کیا کرتے تھے اس دن اتفاق سے چند بدری صحابہ دیر سے آئے تو آنحضرت ﷺ کے آس پاس کھڑے ہوگئے آپ سے سلام علیک ہوئی آپ نے جواب دیا پھر اور اہل مجلس کو سلام کیا انہوں نے بھی جواب دیا اب یہ اسی امید پر کھڑے رہے کہ مجلس میں ذرا کشادگی دیکھیں تو بیٹھ جائیں لیکن کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ ہلا جو ان کیلئے جگہ ہوتی۔ آنحضرت ﷺ نے جب یہ دیکھا تو نہ رہا گیا نام لے لے کر بعض لوگوں کو ان کی جگہ سے کھڑا کیا اور ان بدری صحابیوں کو بیٹھنے کو فرمایا، جو لوگ کھڑے کرائے گئے تھے انہیں ذرا بھاری پڑا ادھر منافقین کے ہاتھ میں ایک مشغلہ لگ گیا، کہنے لگے لیجئے یہ عدل کرنے کے مدعی نبی ہیں کہ جو لوگ شق سے آئے پہلے آئے اپنے نبی کے قریب جگہ لی اطمینان سے اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے انہیں تو ان کی جگہ سے کھڑا کردیا اور دیر سے آنے والوں کو ان کی جگہ دلوا دی کس قدر ناانصافی ہے، ادھر حضور ﷺ نے اس لئے ان کے دل میلے نہ ہوں دعا کی کہ اللہ اس پر رحم کرے جو اپنے مسلمان بھائی کیلئے مجلس میں جگہ کردے۔ اس حدیث کو سنتے ہی صحابہ نے فوراً خود بخود اپنی جگہ سے ہٹنا اور آنے والوں کو جگہ دینا شروع کردیا اور جمعہ ہی کے دن یہ آیت اتری (بن ابی حاتم) بخاری مسلم مسند وغیرہ میں حدیث ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے ہٹاکر وہاں نہ بیٹھے بلکہ تمہیں چاہئے کہ ادھر ادھر سرک کر اس کیلئے جگہ بنادو۔ شافعی میں ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے بلکہ کہہ دے کہ گنجائش کرو۔ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ کسی آنے والے کیلئے کھڑے ہوجانا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ تو اجازت دیتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اپنے سردار کیلئے کھڑے ہوجاؤ، بعض علماء منع کرتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ لوگ اس کیلئے سیدھے کھڑے ہوں وہ جہنم میں اپنی جگہ بنالے، بعض بزرگ تفصیل بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سفر سے اگر کوئی آیا ہو تو حاکم کیلئے عہدہ حکمرانی کے سبب لوگوں کا کھڑے ہوجانا درست ہے کیونکہ حضور ﷺ نے جن کیلئے کھڑا ہونے کو فرمایا تھا یہ حضرت سعد بن معاذ ؓ تھے۔ بنو قریظہ کے آپ حاکم بنائے گئے تھے جب انہیں آتا ہوا دیکھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اپنے سردار کیلئے کھڑے ہوجاؤ اور یہ (بطور تعظیم کے نہ تھا بلکہ) صرف اس لئے تھا کہ ان کے احکام کو بخوبی جاری کرائے واللہ اعلم۔ ہاں اسے عادت بنالینا کہ مجلس میں جہاں کوئی بڑا آدمی آیا اور لوگ کھڑے ہوگئے یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، سنن کی حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام کے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبوب اور باعزت کوئی نہ تھا لیکن تاہم آپ کو دیکھ کر وہ کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے، جانتے تھے کہ آپ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ سنن کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ آتے ہی مجلس کے خاتمہ پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور جہاں آپ تشریف فرما ہوجاتے وہی جگہ صدارت کی جگہ ہوجاتی اور صحابہ کرام اپنے اپنے مراتب کے مطابق مجلس میں بیٹھ جاتے۔ حضرت الصدیق ؓ کے آپ دائیں جانب، فاروق ؓ آپ کے بائیں اور عموماً حضرت عثمان و علی ؓ آپ کے سامنے بیٹھتے تھے کیونکہ یہ دونوں بزرگ کاتب وحی تھے آپ ان سے فرماتے اور یہ وحی کو لکھ لیا کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضور ﷺ کا فرمان تھا کہ مجھ سے قریب ہو کر عقل مند، صاحب فراست لوگ بیٹھیں پھر درجہ بدرجہ اور یہ انتظام اس لئے تھا کہ حضور ﷺ کے مبارک ارشادات یہ حضرات سنیں اور بخوبی سمجھیں، یہی وجہ تھی کہ صفہ والی مجلس میں جس کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے آپ نے اور لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹاکر وہ جگہ بدری صحابہ کو دلوائی، گو اس کے ساتھ اور وجوہات بھی تھیں مثلاً ان لوگوں کو خود چاہئے تھا کہ ان بزرگ صحابہ کا خیال کرتے اور لحاظ و مروت برت کر خود ہٹ کر انہیں جگہ دیتے جب انہوں نے از خود ایسا نہیں کیا تو پھر حکماً ان سے ایسا کرایا گیا، اسی طرح پہلے کے لوگ حضور ﷺ کے بہت سے کلمات پوری طرح سن چکے تھے اب یہ حضرات آئے تھے تو آپ نے چاہا کہ یہ بھی بہ آرام بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور دینی تعلیم حاصل کرلیں، اسی طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کی صفوں کی درستی کے وقت ہمارے مونڈھے خود پکڑ پکڑ کر ٹھیک ٹھاک کرتے اور زبانی بھی فرماتے جاتے سیدھے رہو ٹیڑھے ترچھے نہ کھڑے ہوا کرو، دانائی اور عقلمندی والے مجھ سے بالکل قریب رہیں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔ حضرت ابو مسعود ؓ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے اس حکم کے باوجود افسوس کہ اب تم بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو، مسلم، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے ظاہر ہے کہ جب آپ کا یہ حکم نماز کیلئے تھا تو نماز کے سوا کسی اور وقتوں میں تو بطور اولیٰ یہی حکم رہے گا، ابو داؤد شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صفوں کو درست کرو، مونڈھے ملائے رکھو، صفوں کے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑو اپنے بھائیوں کے پاس صف میں نرم بن جایا کرو، صف میں شیطان کیلئے سوراخ نہ چھوڑو صف ملانے والے کو اللہ تعالیٰ ملاتا ہے اور صف توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ کاٹ دیتا ہے، اسی لئے سید القراء حضرت ابی بن کعب ؓ جب پہنچتے تو صف اول میں سے کسی ضعیف العقل شخص کو پیچھے ہٹا دیتے اور خود پہلی صف میں مل جاتے اور اسی حدیث کو دلیل میں لاتے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے مجھ سے قریب ذی رائے اور اعلیٰ عقل مند کھڑے ہوں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھ کر اگر کوئی شخص کھڑا ہوجاتا تو آپ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے اور اس حدیث کو پیش کرتے جو اوپر گزری کہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ میں کوئی اور نہ بیٹھے، یہاں بطور نمونے کے یہ چند مسائل اور تھوڑی حدیثیں لکھ کر ہم آغے چلتے ہیں بسط و تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں نہ یہ موقع ہے، ایک صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ بیٹھے ہوئے تھے کہ تین شخص آئے ایک تو مجلس کے درمیان جگہ خالی دیکھ کر وہاں آکر بیٹھ گئے دوسرے نے مجلس کے آخڑ میں جگہ بنآلی تیسرے واپس چلے گئے، حضور ﷺ نے فرمایا لوگوں میں تمہیں تین شخصوں کی بابت خبر دوں ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جگہ دی، دوسرے نے شرم کی۔ اللہ نے بھی اس سے حیا کی، تیسرے نے منہ پھیرلیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیرلیا۔ مسند احمد میں ہے کہ کسی کو حلال نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان تفریق کرے، ہاں ان کی خوشنودی سے ہو تو اور بات ہے (ابوداؤد ترمذی) امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، حضرت ابن عباس حضرت حسن بصری وغیرہ فرماتے ہیں مجلسوں کی کشادگی کا حکم جہاد کے بارے میں ہے، اسی طرح اٹھ کھڑے ہونے کا حکم بھی جہاد کے بارے میں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں یعنی جب تمہیں بھلائی اور کارخیر کی طرف بلایا جائے تو تم فوراً آجاؤ، حضرت مقاتل فرماتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں نماز کیلئے بلایا جائے تو اٹھ کھڑے ہوجایا کرو، حضرت عبدالرحمن بن زید فرماتے ہیں کہ صحابہ جب حضور ﷺ کے ہاں آتے تو جاتے وقت ہر ایک کی چاہت یہ ہوتی کہ سب سے آخر حضور ﷺ سے جدا میں ہوں، بسا اوقات آپ کو کوئی کام کاج ہوتا تو بڑا حرج ہوتا لیکن آپ مروت سے کچھ نہ فرماتے اس پر یہ حکم ہوا کہ جب تم سے کھڑے ہونے کو کہا جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، جیسے اور جگہ ہے وان قیل لکم ارجعوا فارجعوا اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو لوٹ جاؤ۔ پھر فرماتا ہے کہ مجلسوں میں جگہ دینے کو جب کہا جائے تو جگہ دینے میں اور جب چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جانے میں اپنی ہتک نہ سمجھو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرتبہ بلند کرنا اور اپنی توقیر کر انآ ہے اسے اللہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس پر دنیا اور آخرت میں نیک بدلہ دے گا، جو شخص احکام الٰہیہ پر تواضع سے گردن جھکا دے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور اس کی شہرت نیکی کے ساتھ کرتا ہے۔ ایمان والوں اور صحیح علم والوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ اللہ کے احکام کے سامنے گردن جھکا دیا کریں اور اس سے وہ بلند درجوں کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ بلند مرتبوں کا مستحق کون ہے اور کون نہیں ؟ حضرت نافع بن عبدالحارث سے امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ کی ملاقات عسفان میں ہوئی ہے حضرت عمر نے انہیں مکہ شریف کا عامل بنایا تھا تو ان سے پوچھا کہ تم مکہ شریف میں اپنی جگہ کسے چھوڑ آئے ہو ؟ جواب دیا کہ ابن ابزیٰ کو حضرت عمر فاروق نے فرمایا وہ تو ہمارے مولیٰ ہیں یعنی آزاد کردہ غلام انہیں تم اہل مکہ کا امیر بناکر چلے آئے ہو ؟ کہا ہاں اس لئے کہ وہ اللہ کی کتاب کا ماہر اور فرائض کا جاننے والا اور اچھا وعظ کہنے والا ہے، حضرت عمر نے اس وقت فرمایا سچ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے ایک قوم کو عزت پر پہنچا کر بلند مرتبہ کرے گا اور بعض کو پست و کم مرتبہ بنا دے گا۔ (مسلم) علم اور علماء کی فضیلت، جو اس آیت اور دیگر آیات و احادیث سے ظاہر ہے میں نے ان سب کو بخاری شریف کی کتاب العلم کی شرح میں جمع کردیا ہے والحمدللہ۔
12
View Single
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَةٗۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لَّكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
O People who Believe! When you wish to humbly consult with the Noble Messenger, give some charity before you consult; that is much better and much purer for you; so if you do not have the means, then (know that) Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
اے ایمان والو! جب تم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی راز کی بات تنہائی میں عرض کرنا چاہو تو اپنی رازدارانہ بات کہنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کرو، یہ (عمل) تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے، پھر اگر (خیرات کے لئے) کچھ نہ پاؤ تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Order to give Charity before One speaks to the Prophet in private
Allah commanded His believing servants, when any of them wanted to speak with Allah's Messenger ﷺ in secret, to give away charity beforehand so that his charity cleanses and purifies him and makes him worthy of having a private counsel with the Prophet . This is why Allah the Exalted said,
ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ
(That will be better and purer for you.) then He said,
فَإِن لَّمْ تَجِدُواْ
(But if you find not.) meaning, if he is unable to do so due to poverty,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(then verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) He only commanded those who are financially able to give this type of charity. Allah the Exalted said,
أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ
(Are you afraid of spending in charity before your private consultation) meaning, are you afraid that the order to give charity before speaking privately to the Prophet remains in effect forever
فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُواْ وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَءَاتُواْ الزَّكَوةَ وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(If then you do it not, and Allah has forgiven you, then perform Salah and give Zakah and obey Allah and His Messenger. And Allah is All-Aware of what you do.) Therefore, Allah abrogated the obligation of giving this charity. It was said that none has implemented this command before except its abrogation, `Ali bin Abi Talib. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas:
فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً
(spend something in charity before your private consultation.) "The Muslims kept asking Allah's Messenger ﷺ questions until it became difficult on him. Allah wanted to lighten the burden from His Prophet , upon him be peace. So when He said this, many Muslims were afraid to pay this charity and stopped asking. Afterwards, Allah sent down this Ayah,
أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُواْ وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَءَاتُواْ الزَّكَوةَ
(Are you afraid of spending in charity before your private consultation If then you do it not, and Allah has forgiven you, then perform Salah and give Zakah) Thus Allah made things easy and lenient for them." `Ikrimah and Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement:
فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً
(spend something in charity before your private consultation.) "This was abrogated by the next Ayah:
أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ
(Are you afraid of spending in charity before your private consultation...)." Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah and Muqatil bin Hayyan, "People kept questioning Allah's Messenger ﷺ until they made things difficult for him. Allah provided a way to stop their behavior by this Ayah. One of them would need to speak to Allah's Prophet about a real matter, but could not do so until he gave in charity. This became hard on people and Allah sent down relief from this requirement afterwards,
فَإِن لَّمْ تَجِدُواْ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(But if you find not, then verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful)." Ma`mar reported from Qatadah that the Ayah,
إِذَا نَـجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً
(When you (want to) consult the Messenger in private, spend something in charity before your private consultation.) was abrogated after being in effect for only one hour of a day. `Abdur-Razzaq recorded that Mujahid said that `Ali said, "No one except me implemented this Ayah, until it was abrogated," and he was reported to have said that it remained in effect for merely an hour.
نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کی منسوخ شرط اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہوجاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کرسکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔ پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرمایا اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف حضرت علی ؓ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے حضور سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ حضرت علی ؓ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کرسکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھناکر میں نے دس درہم لے لئے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دیدیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کرسکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی سے پوچھا کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہئے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو بہت ہوئی۔ فرمایا پھر آدھا دینار کہا ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں آپ نے فرمایا اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر ؟ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ نے فرمایا واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کردی، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مسلمان برابر حضور ﷺ سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کردیئے جو حضور ﷺ پر گراں گزرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کردی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کردی اور اس حکم کو منسوخ کردیا، عکرمہ اور حسن بصری کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، حضرت قتادہ اور حضرت مقاتل بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت قتادہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا حضرت علی ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کرسکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہوگیا۔
13
View Single
ءَأَشۡفَقۡتُمۡ أَن تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَٰتٖۚ فَإِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُواْ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
Were you afraid to offer charity before you consult? So when you did not do this, and Allah has inclined towards you with His mercy, keep the prayers established and pay the obligatory charity and obey Allah and His Noble Messenger; and Allah is Aware of your deeds.
کیا (بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں) تنہائی و رازداری کے ساتھ بات کرنے سے قبل صدقات و خیرات دینے سے تم گھبرا گئے؟ پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور اللہ نے تم سے باز پرس اٹھا لی (یعنی یہ پابندی اٹھا دی) تو (اب) نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے رہو، اور اللہ تمہارے سب کاموں سے خوب آگاہ ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Order to give Charity before One speaks to the Prophet in private
Allah commanded His believing servants, when any of them wanted to speak with Allah's Messenger ﷺ in secret, to give away charity beforehand so that his charity cleanses and purifies him and makes him worthy of having a private counsel with the Prophet . This is why Allah the Exalted said,
ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ
(That will be better and purer for you.) then He said,
فَإِن لَّمْ تَجِدُواْ
(But if you find not.) meaning, if he is unable to do so due to poverty,
فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(then verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.) He only commanded those who are financially able to give this type of charity. Allah the Exalted said,
أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ
(Are you afraid of spending in charity before your private consultation) meaning, are you afraid that the order to give charity before speaking privately to the Prophet remains in effect forever
فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُواْ وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَءَاتُواْ الزَّكَوةَ وَأَطِيعُواْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(If then you do it not, and Allah has forgiven you, then perform Salah and give Zakah and obey Allah and His Messenger. And Allah is All-Aware of what you do.) Therefore, Allah abrogated the obligation of giving this charity. It was said that none has implemented this command before except its abrogation, `Ali bin Abi Talib. `Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas:
فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً
(spend something in charity before your private consultation.) "The Muslims kept asking Allah's Messenger ﷺ questions until it became difficult on him. Allah wanted to lighten the burden from His Prophet , upon him be peace. So when He said this, many Muslims were afraid to pay this charity and stopped asking. Afterwards, Allah sent down this Ayah,
أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُواْ وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلوةَ وَءَاتُواْ الزَّكَوةَ
(Are you afraid of spending in charity before your private consultation If then you do it not, and Allah has forgiven you, then perform Salah and give Zakah) Thus Allah made things easy and lenient for them." `Ikrimah and Al-Hasan Al-Basri commented on Allah's statement:
فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً
(spend something in charity before your private consultation.) "This was abrogated by the next Ayah:
أَءَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَـتٍ
(Are you afraid of spending in charity before your private consultation...)." Sa`id bin Abi `Arubah reported from Qatadah and Muqatil bin Hayyan, "People kept questioning Allah's Messenger ﷺ until they made things difficult for him. Allah provided a way to stop their behavior by this Ayah. One of them would need to speak to Allah's Prophet about a real matter, but could not do so until he gave in charity. This became hard on people and Allah sent down relief from this requirement afterwards,
فَإِن لَّمْ تَجِدُواْ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(But if you find not, then verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful)." Ma`mar reported from Qatadah that the Ayah,
إِذَا نَـجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَكُمْ صَدَقَةً
(When you (want to) consult the Messenger in private, spend something in charity before your private consultation.) was abrogated after being in effect for only one hour of a day. `Abdur-Razzaq recorded that Mujahid said that `Ali said, "No one except me implemented this Ayah, until it was abrogated," and he was reported to have said that it remained in effect for merely an hour.
نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کی منسوخ شرط اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہوجاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کرسکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔ پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرمایا اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف حضرت علی ؓ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے حضور سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ حضرت علی ؓ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کرسکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھناکر میں نے دس درہم لے لئے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دیدیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کرسکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی سے پوچھا کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہئے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو بہت ہوئی۔ فرمایا پھر آدھا دینار کہا ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں آپ نے فرمایا اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر ؟ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ نے فرمایا واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کردی، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مسلمان برابر حضور ﷺ سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کردیئے جو حضور ﷺ پر گراں گزرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کردی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کردی اور اس حکم کو منسوخ کردیا، عکرمہ اور حسن بصری کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، حضرت قتادہ اور حضرت مقاتل بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت قتادہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا حضرت علی ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کرسکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہوگیا۔
14
View Single
۞أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مَّا هُم مِّنكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡ وَيَحۡلِفُونَ عَلَى ٱلۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
Did you not see those who befriended those upon whom is Allah’s wrath? They are neither of you nor of these – and they swear a false oath, whereas they know.
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسی جماعت کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا، نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ اُن میں سے ہیں اور جھوٹی قَسمیں کھاتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Hypocrites
Allah chastises the hypocrites for secretly aiding and supporting the disbelievers even though, in reality, they were neither with the disbelievers nor with the Muslims. Allah the Exalted said in another Ayah,
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَلاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً
((They are) swaying between this and that, belonging neither to these nor to those; and he whom Allah sends astray, you will not find for him a way.)(4:143) Allah said here,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم
(Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah) referring to the Jews with whom the hypocrites were allies in secret. Allah said,
مَّا هُم مِّنكُمْ وَلاَ مِنْهُمْ
(They are neither of you nor of them,) meaning, that these hypocrites are neither with the believers, nor with their allies the Jews,
وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they swear to a lie while they know.) meaning, the hypocrites lie when they vow, knowing that they are lying, which is called the vow of Al-Ghamus. We seek refuge with Allah from their ways. When the hypocrites met the believers they said that they believed and when they went to the Messenger, they swore to him by Allah that they were believers. They knew that they were lying in their vow, and they knew that they did not declare their true creed. This is why Allah witnessed here that they lie in their vows and know that they are lying, even though their statement (about the Prophet being Allah's Prophet) is true in essence. Allah the Exalted said,
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.) meaning, Allah has prepared a painful torment for the hypocrites on account of their evil deeds, their aid and support of the disbelievers and their deceit and betrayal of the believers. The statement of Allah the Exalted,
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah,) meaning, the hypocrites pretended to be believers and concealed disbelief under the shield of their false oaths. Many were unaware of their true stance and were thus deceived by their oaths. Because of this, some people were hindered from the Path of Allah
فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(so they shall have a humiliating torment.) meaning, as recompense for belittling the significance of swearing by the Mighty Name of Allah, while lying and concealing betrayal. Allah the Exalted said,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا
(Their children and their wealth will avail them nothing against Allah.) meaning, none of their possessions can avert the affliction when it is sent their way,
أُولَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.) Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together;) referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out,
فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something.) meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said,
وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(And they think that they have something) meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs;
أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ
(Verily, they are liars!) stressing that they are lying, Allah then said;
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَـنُ فَأَنسَـهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ
(The Shaytan has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allah.) meaning, Shaytan has taken over their hearts to the point that he made them forget Allah the Exalted and Most Honored. This is what the devil does to those whom he controls. Abu Dawud recorded that Abu Ad-Darda' said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَة»
(Any three in a village or desert among whom the Salah is not called for, will have the Shaytan control them. Therefore, adhere to the Jama`ah, for the wolf eats from the strayed sheep.) Za'idah added that As-Sa'ib said that Jama`ah, refers to, "Praying in congregation." Allah the Exalted said,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ
(They are the party of Shaytan.) referring to those who are controlled by the devil and, as a result, forgot the remembrance of Allah,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!)
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
15
View Single
أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدًاۖ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Allah has kept prepared a severe punishment for them; indeed they commit extremely evil deeds.
اللہ نے اُن کے لئے سخت عذاب تیار فرما رکھا ہے، بیشک وہ برا (کام) ہے جو وہ کر رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Hypocrites
Allah chastises the hypocrites for secretly aiding and supporting the disbelievers even though, in reality, they were neither with the disbelievers nor with the Muslims. Allah the Exalted said in another Ayah,
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَلاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً
((They are) swaying between this and that, belonging neither to these nor to those; and he whom Allah sends astray, you will not find for him a way.)(4:143) Allah said here,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم
(Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah) referring to the Jews with whom the hypocrites were allies in secret. Allah said,
مَّا هُم مِّنكُمْ وَلاَ مِنْهُمْ
(They are neither of you nor of them,) meaning, that these hypocrites are neither with the believers, nor with their allies the Jews,
وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they swear to a lie while they know.) meaning, the hypocrites lie when they vow, knowing that they are lying, which is called the vow of Al-Ghamus. We seek refuge with Allah from their ways. When the hypocrites met the believers they said that they believed and when they went to the Messenger, they swore to him by Allah that they were believers. They knew that they were lying in their vow, and they knew that they did not declare their true creed. This is why Allah witnessed here that they lie in their vows and know that they are lying, even though their statement (about the Prophet being Allah's Prophet) is true in essence. Allah the Exalted said,
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.) meaning, Allah has prepared a painful torment for the hypocrites on account of their evil deeds, their aid and support of the disbelievers and their deceit and betrayal of the believers. The statement of Allah the Exalted,
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah,) meaning, the hypocrites pretended to be believers and concealed disbelief under the shield of their false oaths. Many were unaware of their true stance and were thus deceived by their oaths. Because of this, some people were hindered from the Path of Allah
فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(so they shall have a humiliating torment.) meaning, as recompense for belittling the significance of swearing by the Mighty Name of Allah, while lying and concealing betrayal. Allah the Exalted said,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا
(Their children and their wealth will avail them nothing against Allah.) meaning, none of their possessions can avert the affliction when it is sent their way,
أُولَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.) Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together;) referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out,
فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something.) meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said,
وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(And they think that they have something) meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs;
أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ
(Verily, they are liars!) stressing that they are lying, Allah then said;
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَـنُ فَأَنسَـهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ
(The Shaytan has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allah.) meaning, Shaytan has taken over their hearts to the point that he made them forget Allah the Exalted and Most Honored. This is what the devil does to those whom he controls. Abu Dawud recorded that Abu Ad-Darda' said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَة»
(Any three in a village or desert among whom the Salah is not called for, will have the Shaytan control them. Therefore, adhere to the Jama`ah, for the wolf eats from the strayed sheep.) Za'idah added that As-Sa'ib said that Jama`ah, refers to, "Praying in congregation." Allah the Exalted said,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ
(They are the party of Shaytan.) referring to those who are controlled by the devil and, as a result, forgot the remembrance of Allah,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!)
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
16
View Single
ٱتَّخَذُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ جُنَّةٗ فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ
They use their oaths as a shield therefore preventing from Allah’s way – so for them is a disgraceful punishment.
انہوں نے اپنی (جھوٹی) قَسموں کو ڈھال بنا لیا ہے سو وہ (دوسروں کو) راہِ خدا سے روکتے ہیں، پس اُن کے لئے ذِلّت انگیز عذاب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Hypocrites
Allah chastises the hypocrites for secretly aiding and supporting the disbelievers even though, in reality, they were neither with the disbelievers nor with the Muslims. Allah the Exalted said in another Ayah,
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَلاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً
((They are) swaying between this and that, belonging neither to these nor to those; and he whom Allah sends astray, you will not find for him a way.)(4:143) Allah said here,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم
(Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah) referring to the Jews with whom the hypocrites were allies in secret. Allah said,
مَّا هُم مِّنكُمْ وَلاَ مِنْهُمْ
(They are neither of you nor of them,) meaning, that these hypocrites are neither with the believers, nor with their allies the Jews,
وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they swear to a lie while they know.) meaning, the hypocrites lie when they vow, knowing that they are lying, which is called the vow of Al-Ghamus. We seek refuge with Allah from their ways. When the hypocrites met the believers they said that they believed and when they went to the Messenger, they swore to him by Allah that they were believers. They knew that they were lying in their vow, and they knew that they did not declare their true creed. This is why Allah witnessed here that they lie in their vows and know that they are lying, even though their statement (about the Prophet being Allah's Prophet) is true in essence. Allah the Exalted said,
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.) meaning, Allah has prepared a painful torment for the hypocrites on account of their evil deeds, their aid and support of the disbelievers and their deceit and betrayal of the believers. The statement of Allah the Exalted,
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah,) meaning, the hypocrites pretended to be believers and concealed disbelief under the shield of their false oaths. Many were unaware of their true stance and were thus deceived by their oaths. Because of this, some people were hindered from the Path of Allah
فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(so they shall have a humiliating torment.) meaning, as recompense for belittling the significance of swearing by the Mighty Name of Allah, while lying and concealing betrayal. Allah the Exalted said,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا
(Their children and their wealth will avail them nothing against Allah.) meaning, none of their possessions can avert the affliction when it is sent their way,
أُولَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.) Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together;) referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out,
فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something.) meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said,
وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(And they think that they have something) meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs;
أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ
(Verily, they are liars!) stressing that they are lying, Allah then said;
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَـنُ فَأَنسَـهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ
(The Shaytan has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allah.) meaning, Shaytan has taken over their hearts to the point that he made them forget Allah the Exalted and Most Honored. This is what the devil does to those whom he controls. Abu Dawud recorded that Abu Ad-Darda' said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَة»
(Any three in a village or desert among whom the Salah is not called for, will have the Shaytan control them. Therefore, adhere to the Jama`ah, for the wolf eats from the strayed sheep.) Za'idah added that As-Sa'ib said that Jama`ah, refers to, "Praying in congregation." Allah the Exalted said,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ
(They are the party of Shaytan.) referring to those who are controlled by the devil and, as a result, forgot the remembrance of Allah,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!)
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
17
View Single
لَّن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
Their wealth and their children will be of no use to them before Allah; they are the people of hell; they are to remain in it forever.
اللہ (کے عذاب) سے ہرگز نہ ہی اُن کے مال انہیں بچا سکیں گے اور نہ اُن کی اولاد ہی (انہیں بچا سکے گی)، یہی لوگ اہلِ دوزخ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Hypocrites
Allah chastises the hypocrites for secretly aiding and supporting the disbelievers even though, in reality, they were neither with the disbelievers nor with the Muslims. Allah the Exalted said in another Ayah,
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَلاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً
((They are) swaying between this and that, belonging neither to these nor to those; and he whom Allah sends astray, you will not find for him a way.)(4:143) Allah said here,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم
(Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah) referring to the Jews with whom the hypocrites were allies in secret. Allah said,
مَّا هُم مِّنكُمْ وَلاَ مِنْهُمْ
(They are neither of you nor of them,) meaning, that these hypocrites are neither with the believers, nor with their allies the Jews,
وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they swear to a lie while they know.) meaning, the hypocrites lie when they vow, knowing that they are lying, which is called the vow of Al-Ghamus. We seek refuge with Allah from their ways. When the hypocrites met the believers they said that they believed and when they went to the Messenger, they swore to him by Allah that they were believers. They knew that they were lying in their vow, and they knew that they did not declare their true creed. This is why Allah witnessed here that they lie in their vows and know that they are lying, even though their statement (about the Prophet being Allah's Prophet) is true in essence. Allah the Exalted said,
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.) meaning, Allah has prepared a painful torment for the hypocrites on account of their evil deeds, their aid and support of the disbelievers and their deceit and betrayal of the believers. The statement of Allah the Exalted,
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah,) meaning, the hypocrites pretended to be believers and concealed disbelief under the shield of their false oaths. Many were unaware of their true stance and were thus deceived by their oaths. Because of this, some people were hindered from the Path of Allah
فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(so they shall have a humiliating torment.) meaning, as recompense for belittling the significance of swearing by the Mighty Name of Allah, while lying and concealing betrayal. Allah the Exalted said,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا
(Their children and their wealth will avail them nothing against Allah.) meaning, none of their possessions can avert the affliction when it is sent their way,
أُولَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.) Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together;) referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out,
فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something.) meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said,
وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(And they think that they have something) meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs;
أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ
(Verily, they are liars!) stressing that they are lying, Allah then said;
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَـنُ فَأَنسَـهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ
(The Shaytan has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allah.) meaning, Shaytan has taken over their hearts to the point that he made them forget Allah the Exalted and Most Honored. This is what the devil does to those whom he controls. Abu Dawud recorded that Abu Ad-Darda' said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَة»
(Any three in a village or desert among whom the Salah is not called for, will have the Shaytan control them. Therefore, adhere to the Jama`ah, for the wolf eats from the strayed sheep.) Za'idah added that As-Sa'ib said that Jama`ah, refers to, "Praying in congregation." Allah the Exalted said,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ
(They are the party of Shaytan.) referring to those who are controlled by the devil and, as a result, forgot the remembrance of Allah,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!)
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
18
View Single
يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيَحۡلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍۚ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ
The day when Allah will raise them all, they will swear in His presence the way they now swear in front of you, and they will assume that they have achieved something; pay heed! Indeed it is they who are the liars.
جس دن اللہ اُن سب کو (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے گا تو وہ اُس کے حضور (بھی) قَسمیں کھا جائیں گے جیسے تمہارے سامنے قَسمیں کھاتے ہیں اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ کسی (اچھی) شے (یعنی روِش) پر ہیں۔ آگاہ رہو کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Hypocrites
Allah chastises the hypocrites for secretly aiding and supporting the disbelievers even though, in reality, they were neither with the disbelievers nor with the Muslims. Allah the Exalted said in another Ayah,
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَلاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً
((They are) swaying between this and that, belonging neither to these nor to those; and he whom Allah sends astray, you will not find for him a way.)(4:143) Allah said here,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم
(Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah) referring to the Jews with whom the hypocrites were allies in secret. Allah said,
مَّا هُم مِّنكُمْ وَلاَ مِنْهُمْ
(They are neither of you nor of them,) meaning, that these hypocrites are neither with the believers, nor with their allies the Jews,
وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they swear to a lie while they know.) meaning, the hypocrites lie when they vow, knowing that they are lying, which is called the vow of Al-Ghamus. We seek refuge with Allah from their ways. When the hypocrites met the believers they said that they believed and when they went to the Messenger, they swore to him by Allah that they were believers. They knew that they were lying in their vow, and they knew that they did not declare their true creed. This is why Allah witnessed here that they lie in their vows and know that they are lying, even though their statement (about the Prophet being Allah's Prophet) is true in essence. Allah the Exalted said,
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.) meaning, Allah has prepared a painful torment for the hypocrites on account of their evil deeds, their aid and support of the disbelievers and their deceit and betrayal of the believers. The statement of Allah the Exalted,
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah,) meaning, the hypocrites pretended to be believers and concealed disbelief under the shield of their false oaths. Many were unaware of their true stance and were thus deceived by their oaths. Because of this, some people were hindered from the Path of Allah
فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(so they shall have a humiliating torment.) meaning, as recompense for belittling the significance of swearing by the Mighty Name of Allah, while lying and concealing betrayal. Allah the Exalted said,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا
(Their children and their wealth will avail them nothing against Allah.) meaning, none of their possessions can avert the affliction when it is sent their way,
أُولَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.) Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together;) referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out,
فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something.) meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said,
وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(And they think that they have something) meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs;
أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ
(Verily, they are liars!) stressing that they are lying, Allah then said;
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَـنُ فَأَنسَـهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ
(The Shaytan has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allah.) meaning, Shaytan has taken over their hearts to the point that he made them forget Allah the Exalted and Most Honored. This is what the devil does to those whom he controls. Abu Dawud recorded that Abu Ad-Darda' said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَة»
(Any three in a village or desert among whom the Salah is not called for, will have the Shaytan control them. Therefore, adhere to the Jama`ah, for the wolf eats from the strayed sheep.) Za'idah added that As-Sa'ib said that Jama`ah, refers to, "Praying in congregation." Allah the Exalted said,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ
(They are the party of Shaytan.) referring to those who are controlled by the devil and, as a result, forgot the remembrance of Allah,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!)
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
19
View Single
ٱسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَأَنسَىٰهُمۡ ذِكۡرَ ٱللَّهِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱلشَّيۡطَٰنِ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
The devil has overpowered them, so they forgot the remembrance of Allah; they are the devil’s group; pay heed! Indeed it is the devil’s group who are the losers.
اُن پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے سو اُس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے، یہی لوگ شیطان کا لشکر ہیں۔ جان لو کہ بیشک شیطانی گروہ کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Chastising the Hypocrites
Allah chastises the hypocrites for secretly aiding and supporting the disbelievers even though, in reality, they were neither with the disbelievers nor with the Muslims. Allah the Exalted said in another Ayah,
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذلِكَ لاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَلاَ إِلَى هَـؤُلاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً
((They are) swaying between this and that, belonging neither to these nor to those; and he whom Allah sends astray, you will not find for him a way.)(4:143) Allah said here,
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم
(Have you not seen those who take as friends a people upon whom is the wrath of Allah) referring to the Jews with whom the hypocrites were allies in secret. Allah said,
مَّا هُم مِّنكُمْ وَلاَ مِنْهُمْ
(They are neither of you nor of them,) meaning, that these hypocrites are neither with the believers, nor with their allies the Jews,
وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
(and they swear to a lie while they know.) meaning, the hypocrites lie when they vow, knowing that they are lying, which is called the vow of Al-Ghamus. We seek refuge with Allah from their ways. When the hypocrites met the believers they said that they believed and when they went to the Messenger, they swore to him by Allah that they were believers. They knew that they were lying in their vow, and they knew that they did not declare their true creed. This is why Allah witnessed here that they lie in their vows and know that they are lying, even though their statement (about the Prophet being Allah's Prophet) is true in essence. Allah the Exalted said,
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ
(Allah has prepared for them a severe torment. Evil indeed is that which they used to do.) meaning, Allah has prepared a painful torment for the hypocrites on account of their evil deeds, their aid and support of the disbelievers and their deceit and betrayal of the believers. The statement of Allah the Exalted,
اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
(They have made their oaths a screen. Thus they hinder (others) from the path of Allah,) meaning, the hypocrites pretended to be believers and concealed disbelief under the shield of their false oaths. Many were unaware of their true stance and were thus deceived by their oaths. Because of this, some people were hindered from the Path of Allah
فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
(so they shall have a humiliating torment.) meaning, as recompense for belittling the significance of swearing by the Mighty Name of Allah, while lying and concealing betrayal. Allah the Exalted said,
لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلـدُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا
(Their children and their wealth will avail them nothing against Allah.) meaning, none of their possessions can avert the affliction when it is sent their way,
أُولَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ
(They will be the dwellers of the Fire to dwell therein forever.) Allah the Exalted said,
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً
(On the Day when Allah will resurrect them all together;) referring to the Day of Resurrection when He will gather them all together and leave none of them out,
فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(then they will swear to Him as they swear to you. And they think that they have something.) meaning, they will swear to Allah the Exalted and Most Honored that they were following the guidance and the correct path, just as they used to swear to the believers in this worldly life. Verily, those who live following on a certain path will most likely die while on it. Thus, they will be resurrected upon their path. The hypocrites will think that their vows will help them with Allah, just as they helped with the people, who were obliged to treat them as they pretended to be, Muslim. This is why Allah said,
وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ
(And they think that they have something) meaning, on account of swearing to their Lord (that they used to be believers). Allah rebukes this idea of theirs;
أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ
(Verily, they are liars!) stressing that they are lying, Allah then said;
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَـنُ فَأَنسَـهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ
(The Shaytan has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allah.) meaning, Shaytan has taken over their hearts to the point that he made them forget Allah the Exalted and Most Honored. This is what the devil does to those whom he controls. Abu Dawud recorded that Abu Ad-Darda' said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say,
«مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ، لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَة»
(Any three in a village or desert among whom the Salah is not called for, will have the Shaytan control them. Therefore, adhere to the Jama`ah, for the wolf eats from the strayed sheep.) Za'idah added that As-Sa'ib said that Jama`ah, refers to, "Praying in congregation." Allah the Exalted said,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَـنِ
(They are the party of Shaytan.) referring to those who are controlled by the devil and, as a result, forgot the remembrance of Allah,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, it is the party of Shaytan that will be the losers!)
دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
20
View Single
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ فِي ٱلۡأَذَلِّينَ
Indeed those who oppose Allah and His Noble Messenger, are among the most despicable.
بیشک جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عداوت رکھتے ہیں وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
The Opponents of Allah and His Messenger are the Losers
Allah and His Messenger shall prevail Allah the Exalted asserts that the rebellious and stubborn disbelievers who defy Him and His Messenger , those who do not embrace the religion and stay away from Truth, are in one area, while the guidance is in another area,
أُوْلَـئِكَ فِى الاٌّذَلِّينَ
(They will be among those most humiliated.) they are among the miserable, the cast out, banished from goodness; they are the humiliated ones in this life and the Hereafter. Allah said,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, I and My Messengers shall be the victorious.") meaning, He has decreed, written in the First Book, and decided in the decree that He has willed -- which can never be resisted, changed or prevented -- that final victory is for Him, His Book, His Messengers and the faithful believers, in this life and the Hereafter:
إِنَّ الْعَـقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ
(Surely, the (good) end is for those who have Taqwa.)(11:49),
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in the life of this world and on the Day when the witnesses will stand forth, the Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.)(40:51-52) Allah said here,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, I and My Messengers shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) meaning, the Almighty, All-Powerful has decreed that He shall prevail over His enemies. Indeed, this is the final judgement and a matter ordained; the final triumph and victory are for the believers in this life and the Hereafter
The Believers do not befriend the Disbelievers
Allah the Exalted said,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred.) Meaning, do not befriend the deniers, even if they are among the closest relatives. Allah said,
لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ إِلاَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً وَيُحَذِّرْكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
(Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, and whoever does that will never be helped by Allah in any way, except if you indeed fear a danger from them. And Allah warns you against Himself.) (3:28), and,
قُلْ إِن كَانَ ءَابَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَنُكُمْ وَأَزْوَجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَلٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَـرَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَـكِنُ تَرْضَوْنَهَآ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَأْتِىَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَـسِقِينَ
(Say: If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your kindred, the wealth that you have gained, the commerce in which you fear a decline, and the dwellings in which you delight are dearer to you than Allah and His Messenger, and striving hard and fighting in His cause, then wait until Allah brings about His decision (torment). And Allah guides not the people who are the rebellious.)(9:24) Sa`id bin `Abdul-`Aziz and others said that this Ayah,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day...) was revealed in the case of Abu `Ubaydah `Amir bin `Abdullah bin Al-Jarrah when he killed his disbelieving father, during the battle of Badr. This is why when `Umar bin Al-Khattab placed the matter of Khilafah in the consultation of six men after him, he said; "If Abu `Ubaydah were alive, I would have appointed him the Khalifah." It was also said that the Ayah,
وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ
(even though they were their fathers), was revealed in the case of Abu `Ubaydah, when he killed his father during the battle of Badr, while the Ayah,
أَوْ أَبْنَآءَهُمْ
(or their sons) was revealed in the case of Abu Bakr As-Siddiq when he intended to kill his (disbelieving) son, `Abdur-Rahman, (during Badr), while the Ayah,
أَوْ إِخْوَنَهُمْ
(or their brothers) was revealed about the case of Mus`ab bin `Umayr, who killed his brother, `Ubayd bin `Umayr, during Badr, and that the Ayah,
أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
(or their kindred) was revealed about the case of `Umar, who killed one of his relatives during Badr, and also that this Ayah was revealed in the case of Hamzah, `Ali and Ubaydah bin Al-Harith. They killed their close relatives `Utbah, Shaybah and Al-Walid bin `Utbah that day. Allah knows best. A similar matter is when Allah's Messenger ﷺ consulted with his Companions about what should be done with the captives of Badr. Abu Bakr As-Siddiq thought that they should accept ransom for them so the Muslims could use the money to strengthen themselves. He mentioned the fact that the captured were the cousins and the kindred, and that they might embrace Islam later on, by Allah's help. `Umar said, "But I have a different opinion, O Allah's Messenger! Let me kill so-and-so, my relative, and let `Ali kill `Aqil (`Ali's brother), and so-and-so kill so-and-so. Let us make it known to Allah that we have no mercy in our hearts for the idolators." Allah said,
أُوْلَـئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ
(For such He has written faith in their hearts, and strengthened them with Ruh from Himself.) means, those who have the quality of not befriending those who oppose Allah and His Messenger , even if they are their fathers or brothers, are those whom Allah has decreed faith, meaning, happiness, in their hearts and made faith dear to their hearts and happiness reside therein. As-Suddi said that the Ayah,
كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ
(He has written faith in their hearts,) means, "He has placed faith in their hearts." Ibn `Abbas said that,
وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ
(and strengthened them with Ruh from Himself.) means, "He gave them strengths." Allah's statement,
وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ
(And He will admit them to Gardens under which rivers flow, to dwell therein. Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him.) was explained several times before. Allah's statement,
رِّضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ
(Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him.) contains a beautiful secret. When the believers became enraged against their relatives and kindred in Allah's cause, He compensated them by being pleased with them and making them pleased with Him from what He has granted them of eternal delight, ultimate victory and encompassing favor. Allah's statement,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(They are the party of Allah. Verily, the party of Allah will be the successful.) indicates that they are the party of Allah, meaning, His servants who are worthy of earning His honor. Allah's statement,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(Verily, the party of Allah will be the successful.) asserts their success, happiness and triumph in this life and the Hereafter, in contrast to those, who are the party of the devil,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, the party of Shaytan will be the losers!) This is the end of the Tafsir of Surat Al-Mujadilah. All praise and thanks are due to Allah.
جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان دار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوجائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب وقہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔ پھر فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں، ایک اور جگہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ولی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں، ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھر بار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ اس کے رسول ﷺ کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ حضرت سعید بن عبدالعزیز ؒ فرماتے ہیں یہ آیت حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح ؓ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کردیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لئے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنالیں اس وقت حضرت ابو عبیدہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور حضرت معصب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور حضرت عمر اور حضرت حمزہ اور حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا واللہ اعلم۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہوسکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہوجائیں مشرکوں سے جہاد کرنے کے لئے آلات حرب جمع کرلیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے۔ لیکن حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کردیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئے اور حضرت علی کے حوالے عقیل کر دیجئے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئے وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محب سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جمالی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت بچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنادیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کردیا تھا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہوگیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہوگئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے، حضرت ابو حازم اعرج نے حضرت زہری ؒ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکو کار ہیں اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آجائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ (ابن ابی حاتم) نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں فرمایا اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے، حضرت سفیان فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں (ابو احمد عسکری) الحمد اللہ سورة مجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
21
View Single
كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغۡلِبَنَّ أَنَا۠ وَرُسُلِيٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ
Allah has already decreed that, “I will indeed be victorious, and My Noble Messengers”; indeed Allah is Almighty, the Most Honourable.
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ یقینا میں اور میرے رسول ضرور غالب ہو کر رہیں گے، بیشک اللہ بڑی قوت والا بڑے غلبہ والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Opponents of Allah and His Messenger are the Losers
Allah and His Messenger shall prevail Allah the Exalted asserts that the rebellious and stubborn disbelievers who defy Him and His Messenger , those who do not embrace the religion and stay away from Truth, are in one area, while the guidance is in another area,
أُوْلَـئِكَ فِى الاٌّذَلِّينَ
(They will be among those most humiliated.) they are among the miserable, the cast out, banished from goodness; they are the humiliated ones in this life and the Hereafter. Allah said,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, I and My Messengers shall be the victorious.") meaning, He has decreed, written in the First Book, and decided in the decree that He has willed -- which can never be resisted, changed or prevented -- that final victory is for Him, His Book, His Messengers and the faithful believers, in this life and the Hereafter:
إِنَّ الْعَـقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ
(Surely, the (good) end is for those who have Taqwa.)(11:49),
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in the life of this world and on the Day when the witnesses will stand forth, the Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.)(40:51-52) Allah said here,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, I and My Messengers shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) meaning, the Almighty, All-Powerful has decreed that He shall prevail over His enemies. Indeed, this is the final judgement and a matter ordained; the final triumph and victory are for the believers in this life and the Hereafter
The Believers do not befriend the Disbelievers
Allah the Exalted said,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred.) Meaning, do not befriend the deniers, even if they are among the closest relatives. Allah said,
لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ إِلاَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً وَيُحَذِّرْكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
(Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, and whoever does that will never be helped by Allah in any way, except if you indeed fear a danger from them. And Allah warns you against Himself.) (3:28), and,
قُلْ إِن كَانَ ءَابَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَنُكُمْ وَأَزْوَجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَلٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَـرَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَـكِنُ تَرْضَوْنَهَآ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَأْتِىَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَـسِقِينَ
(Say: If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your kindred, the wealth that you have gained, the commerce in which you fear a decline, and the dwellings in which you delight are dearer to you than Allah and His Messenger, and striving hard and fighting in His cause, then wait until Allah brings about His decision (torment). And Allah guides not the people who are the rebellious.)(9:24) Sa`id bin `Abdul-`Aziz and others said that this Ayah,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day...) was revealed in the case of Abu `Ubaydah `Amir bin `Abdullah bin Al-Jarrah when he killed his disbelieving father, during the battle of Badr. This is why when `Umar bin Al-Khattab placed the matter of Khilafah in the consultation of six men after him, he said; "If Abu `Ubaydah were alive, I would have appointed him the Khalifah." It was also said that the Ayah,
وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ
(even though they were their fathers), was revealed in the case of Abu `Ubaydah, when he killed his father during the battle of Badr, while the Ayah,
أَوْ أَبْنَآءَهُمْ
(or their sons) was revealed in the case of Abu Bakr As-Siddiq when he intended to kill his (disbelieving) son, `Abdur-Rahman, (during Badr), while the Ayah,
أَوْ إِخْوَنَهُمْ
(or their brothers) was revealed about the case of Mus`ab bin `Umayr, who killed his brother, `Ubayd bin `Umayr, during Badr, and that the Ayah,
أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
(or their kindred) was revealed about the case of `Umar, who killed one of his relatives during Badr, and also that this Ayah was revealed in the case of Hamzah, `Ali and Ubaydah bin Al-Harith. They killed their close relatives `Utbah, Shaybah and Al-Walid bin `Utbah that day. Allah knows best. A similar matter is when Allah's Messenger ﷺ consulted with his Companions about what should be done with the captives of Badr. Abu Bakr As-Siddiq thought that they should accept ransom for them so the Muslims could use the money to strengthen themselves. He mentioned the fact that the captured were the cousins and the kindred, and that they might embrace Islam later on, by Allah's help. `Umar said, "But I have a different opinion, O Allah's Messenger! Let me kill so-and-so, my relative, and let `Ali kill `Aqil (`Ali's brother), and so-and-so kill so-and-so. Let us make it known to Allah that we have no mercy in our hearts for the idolators." Allah said,
أُوْلَـئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ
(For such He has written faith in their hearts, and strengthened them with Ruh from Himself.) means, those who have the quality of not befriending those who oppose Allah and His Messenger , even if they are their fathers or brothers, are those whom Allah has decreed faith, meaning, happiness, in their hearts and made faith dear to their hearts and happiness reside therein. As-Suddi said that the Ayah,
كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ
(He has written faith in their hearts,) means, "He has placed faith in their hearts." Ibn `Abbas said that,
وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ
(and strengthened them with Ruh from Himself.) means, "He gave them strengths." Allah's statement,
وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ
(And He will admit them to Gardens under which rivers flow, to dwell therein. Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him.) was explained several times before. Allah's statement,
رِّضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ
(Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him.) contains a beautiful secret. When the believers became enraged against their relatives and kindred in Allah's cause, He compensated them by being pleased with them and making them pleased with Him from what He has granted them of eternal delight, ultimate victory and encompassing favor. Allah's statement,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(They are the party of Allah. Verily, the party of Allah will be the successful.) indicates that they are the party of Allah, meaning, His servants who are worthy of earning His honor. Allah's statement,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(Verily, the party of Allah will be the successful.) asserts their success, happiness and triumph in this life and the Hereafter, in contrast to those, who are the party of the devil,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, the party of Shaytan will be the losers!) This is the end of the Tafsir of Surat Al-Mujadilah. All praise and thanks are due to Allah.
جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان دار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوجائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب وقہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔ پھر فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں، ایک اور جگہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ولی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں، ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھر بار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ اس کے رسول ﷺ کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ حضرت سعید بن عبدالعزیز ؒ فرماتے ہیں یہ آیت حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح ؓ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کردیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لئے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنالیں اس وقت حضرت ابو عبیدہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور حضرت معصب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور حضرت عمر اور حضرت حمزہ اور حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا واللہ اعلم۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہوسکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہوجائیں مشرکوں سے جہاد کرنے کے لئے آلات حرب جمع کرلیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے۔ لیکن حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کردیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئے اور حضرت علی کے حوالے عقیل کر دیجئے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئے وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محب سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جمالی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت بچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنادیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کردیا تھا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہوگیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہوگئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے، حضرت ابو حازم اعرج نے حضرت زہری ؒ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکو کار ہیں اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آجائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ (ابن ابی حاتم) نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں فرمایا اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے، حضرت سفیان فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں (ابو احمد عسکری) الحمد اللہ سورة مجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
22
View Single
لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَـٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
You will not find the people who believe in Allah and the Last Day, befriending those who oppose Allah and His Noble Messenger, even if they are their fathers or their sons or their brothers or their tribesmen; it is these upon whose hearts Allah has ingrained faith, and has aided them with a Spirit from Himself; and He will admit them into Gardens beneath which rivers flow, abiding in them forever; Allah is pleased with them, and they are pleased with Him; this is Allah’s group; pay heed! Indeed it is Allah’s group who are the successful.
آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اللہ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اللہ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے
Tafsir Ibn Kathir
The Opponents of Allah and His Messenger are the Losers
Allah and His Messenger shall prevail Allah the Exalted asserts that the rebellious and stubborn disbelievers who defy Him and His Messenger , those who do not embrace the religion and stay away from Truth, are in one area, while the guidance is in another area,
أُوْلَـئِكَ فِى الاٌّذَلِّينَ
(They will be among those most humiliated.) they are among the miserable, the cast out, banished from goodness; they are the humiliated ones in this life and the Hereafter. Allah said,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى
(Allah has decreed: "Verily, I and My Messengers shall be the victorious.") meaning, He has decreed, written in the First Book, and decided in the decree that He has willed -- which can never be resisted, changed or prevented -- that final victory is for Him, His Book, His Messengers and the faithful believers, in this life and the Hereafter:
إِنَّ الْعَـقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ
(Surely, the (good) end is for those who have Taqwa.)(11:49),
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ - يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in the life of this world and on the Day when the witnesses will stand forth, the Day when their excuses will be of no profit to the wrongdoers. Theirs will be the curse, and theirs will be the evil abode.)(40:51-52) Allah said here,
كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ
(Allah has decreed: "Verily, I and My Messengers shall be the victorious." Verily, Allah is All-Powerful, Almighty.) meaning, the Almighty, All-Powerful has decreed that He shall prevail over His enemies. Indeed, this is the final judgement and a matter ordained; the final triumph and victory are for the believers in this life and the Hereafter
The Believers do not befriend the Disbelievers
Allah the Exalted said,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ يُوَآدُّونَ مَنْ حَآدَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ أَوْ أَبْنَآءَهُمْ أَوْ إِخْوَنَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day, making friendship with those who oppose Allah and His Messenger, even though they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred.) Meaning, do not befriend the deniers, even if they are among the closest relatives. Allah said,
لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ إِلاَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً وَيُحَذِّرْكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
(Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, and whoever does that will never be helped by Allah in any way, except if you indeed fear a danger from them. And Allah warns you against Himself.) (3:28), and,
قُلْ إِن كَانَ ءَابَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَنُكُمْ وَأَزْوَجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَلٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَـرَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَـكِنُ تَرْضَوْنَهَآ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَأْتِىَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لاَ يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَـسِقِينَ
(Say: If your fathers, your sons, your brothers, your wives, your kindred, the wealth that you have gained, the commerce in which you fear a decline, and the dwellings in which you delight are dearer to you than Allah and His Messenger, and striving hard and fighting in His cause, then wait until Allah brings about His decision (torment). And Allah guides not the people who are the rebellious.)(9:24) Sa`id bin `Abdul-`Aziz and others said that this Ayah,
لاَّ تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الاٌّخِرِ
(You will not find any people who believe in Allah and the Last Day...) was revealed in the case of Abu `Ubaydah `Amir bin `Abdullah bin Al-Jarrah when he killed his disbelieving father, during the battle of Badr. This is why when `Umar bin Al-Khattab placed the matter of Khilafah in the consultation of six men after him, he said; "If Abu `Ubaydah were alive, I would have appointed him the Khalifah." It was also said that the Ayah,
وَلَوْ كَانُواْ ءَابَآءَهُمْ
(even though they were their fathers), was revealed in the case of Abu `Ubaydah, when he killed his father during the battle of Badr, while the Ayah,
أَوْ أَبْنَآءَهُمْ
(or their sons) was revealed in the case of Abu Bakr As-Siddiq when he intended to kill his (disbelieving) son, `Abdur-Rahman, (during Badr), while the Ayah,
أَوْ إِخْوَنَهُمْ
(or their brothers) was revealed about the case of Mus`ab bin `Umayr, who killed his brother, `Ubayd bin `Umayr, during Badr, and that the Ayah,
أَوْ عَشِيرَتَهُمْ
(or their kindred) was revealed about the case of `Umar, who killed one of his relatives during Badr, and also that this Ayah was revealed in the case of Hamzah, `Ali and Ubaydah bin Al-Harith. They killed their close relatives `Utbah, Shaybah and Al-Walid bin `Utbah that day. Allah knows best. A similar matter is when Allah's Messenger ﷺ consulted with his Companions about what should be done with the captives of Badr. Abu Bakr As-Siddiq thought that they should accept ransom for them so the Muslims could use the money to strengthen themselves. He mentioned the fact that the captured were the cousins and the kindred, and that they might embrace Islam later on, by Allah's help. `Umar said, "But I have a different opinion, O Allah's Messenger! Let me kill so-and-so, my relative, and let `Ali kill `Aqil (`Ali's brother), and so-and-so kill so-and-so. Let us make it known to Allah that we have no mercy in our hearts for the idolators." Allah said,
أُوْلَـئِكَ كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ
(For such He has written faith in their hearts, and strengthened them with Ruh from Himself.) means, those who have the quality of not befriending those who oppose Allah and His Messenger , even if they are their fathers or brothers, are those whom Allah has decreed faith, meaning, happiness, in their hearts and made faith dear to their hearts and happiness reside therein. As-Suddi said that the Ayah,
كَتَبَ فِى قُلُوبِهِمُ الإِيمَـنَ
(He has written faith in their hearts,) means, "He has placed faith in their hearts." Ibn `Abbas said that,
وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ
(and strengthened them with Ruh from Himself.) means, "He gave them strengths." Allah's statement,
وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ
(And He will admit them to Gardens under which rivers flow, to dwell therein. Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him.) was explained several times before. Allah's statement,
رِّضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ
(Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him.) contains a beautiful secret. When the believers became enraged against their relatives and kindred in Allah's cause, He compensated them by being pleased with them and making them pleased with Him from what He has granted them of eternal delight, ultimate victory and encompassing favor. Allah's statement,
أُوْلَـئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(They are the party of Allah. Verily, the party of Allah will be the successful.) indicates that they are the party of Allah, meaning, His servants who are worthy of earning His honor. Allah's statement,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
(Verily, the party of Allah will be the successful.) asserts their success, happiness and triumph in this life and the Hereafter, in contrast to those, who are the party of the devil,
أَلاَ إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَـنِ هُمُ الخَـسِرُونَ
(Verily, the party of Shaytan will be the losers!) This is the end of the Tafsir of Surat Al-Mujadilah. All praise and thanks are due to Allah.
جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان دار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوجائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب وقہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔ پھر فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں، ایک اور جگہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ولی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں، ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھر بار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ اس کے رسول ﷺ کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ حضرت سعید بن عبدالعزیز ؒ فرماتے ہیں یہ آیت حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح ؓ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کردیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لئے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنالیں اس وقت حضرت ابو عبیدہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور حضرت معصب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور حضرت عمر اور حضرت حمزہ اور حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا واللہ اعلم۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہوسکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہوجائیں مشرکوں سے جہاد کرنے کے لئے آلات حرب جمع کرلیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے۔ لیکن حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کردیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئے اور حضرت علی کے حوالے عقیل کر دیجئے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئے وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محب سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جمالی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت بچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنادیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کردیا تھا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہوگیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہوگئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے، حضرت ابو حازم اعرج نے حضرت زہری ؒ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکو کار ہیں اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آجائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ (ابن ابی حاتم) نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں فرمایا اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے، حضرت سفیان فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں (ابو احمد عسکری) الحمد اللہ سورة مجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔