الانشقاق — Al inshiqaq
Ayah 15 / 25 • Meccan
1,012
15
Al inshiqaq
الانشقاق • Meccan
بَلَىٰٓۚ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرٗا
Surely yes, why not? Indeed his Lord is seeing him.
کیوں نہیں! بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتۡ
When the heaven breaks apart.
جب (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ
And it listens to the command of its Lord – and that befits it.
اور اپنے رب کا حکمِ (اِنشقاق) بجا لائیں گے اور (یہی تعمیلِ اَمر) اُس کے لائق ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
وَإِذَا ٱلۡأَرۡضُ مُدَّتۡ
And when the earth is spread out.
اور جب زمین (ریزہ ریزہ کر کے) پھیلا دی جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
وَأَلۡقَتۡ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتۡ
And it unburdens itself of all that is in it, and becomes empty.
اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ اسے نکال باہر پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ
And it listens to the command of its Lord – and that befits it.
اور (وہ بھی) اپنے رب کا حکمِ (اِنشقاق) بجا لائے گی اور (یہی اِطاعت) اُس کے لائق ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدۡحٗا فَمُلَٰقِيهِ
O man, indeed you have to surely run towards your Lord, and to meet him.
اے انسان! تو اپنے رب تک پہنچنے میں سخت مشقتیں برداشت کرتا ہے بالآخر تجھے اسی سے جا ملنا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
فَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ
So whoever is given his record of deeds in his right hand –
پس جس شخص کا نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابٗا يَسِيرٗا
Soon an easy account will be taken from him.
تو عنقریب اس سے آسان سا حساب لیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورٗا
And he will return to his family rejoicing.
اور وہ اپنے اہلِ خانہ کی طرف مسرور و شاداں پلٹے گا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
10
View Single
وَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهۡرِهِۦ
And whoever is given his record of deeds behind his back –
اور البتہ وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
11
View Single
فَسَوۡفَ يَدۡعُواْ ثُبُورٗا
Soon he will pray for death.
تو وہ عنقریب موت کو پکارے گا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
12
View Single
وَيَصۡلَىٰ سَعِيرًا
And will go into the blazing fire.
اور وہ دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
13
View Single
إِنَّهُۥ كَانَ فِيٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورًا
Indeed he used to rejoice in his home.
بیشک وہ (دنیا میں) اپنے اہلِ خانہ میں خوش و خرم رہتا تھا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
14
View Single
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
He assumed that he does not have to return.
بیشک اس نے یہ گمان کر لیا تھا کہ وہ حساب کے لئے (اللہ کے پاس) ہرگز لوٹ کر نہ جائے گا
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
15
View Single
بَلَىٰٓۚ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرٗا
Surely yes, why not? Indeed his Lord is seeing him.
کیوں نہیں! بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Which was revealed in Makkah
The Prostration of Recitation in Surat Al-Inshiqaq
It is reported from Abu Salamah that while leading them in prayer, Abu Hurayrah recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) and he prostrated during its recitation. Then when he completed the prayer, he informed them that the Messenger of Allah ﷺ prostrated during its recitation. This was recorded by Muslim and An-Nasa'i on the authority of Malik. Al-Bukhari recorded from Abu Rafi` that he prayed the Night prayer with Abu Hurayrah) recited,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder.) then he prostrated. So Abu Rafi` said something to him about it (questioning it). Abu Hurayrah replied, "I prostrated behind Abul-Qasim (the Prophet ), and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him."
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
Splitting the Heavens asunder and stretching the Earth forth on the Day of Resurrection
Allah says,
إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ
(When the heaven is split asunder,) This refers to the Day of Judgement.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا
(And listens to and obeys its Lord) meaning, it listens to its Lord and obeys His command to split apart. This will occur on the Day of Judgement.
وَحُقَّتْ
(and it must do so.) meaning, it is right for it to obey the command of its Lord, because it is great and cannot be rejected, nor overcome. Rather it overpowers everything and everything is submissive to it. Then Allah says,
وَإِذَا الاٌّرْضُ مُدَّتْ
(And when the earth is stretched forth,) meaning, when the earth is expanded, spread out and extended. Then He says,
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
(And has cast out all that was in it and became empty.) meaning, it throws out the dead inside of it, and it empties itself of them. This was said by Mujahid, Sa`id, and Qatadah.
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
(And listens to and obeys its Lord, and it must do so.) The explanation of this is the same as what has preceded.
The Recompense for Deeds is True
Allah says,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) meaning, `verily you are hastening to your Lord and working deeds.'
فَمُلَـقِيهِ
(and you will meet.) `Then you will meet that which you did of good or evil.' A proof for this is what Abu Dawud At-Tayalisi recorded from Jabir, that the Messenger of Allah ﷺ said,
«قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ (مَنْ) شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيه»
(Jibril said, "O Muhammad! Live how you wish, for verily you will die; love what you wish, for verily you will part with it; and do what you wish, for verily you will meet it (your deed).) There are some people who refer the pronoun back to the statement "your Lord." Thus, they hold the Ayah to mean, "and you will meet your Lord." This means that He will reward you for your work, and pay you for your efforts. Therefore, both of these two views are connected. Al-`Awfi recorded from Ibn `Abbas that he said explaining,
يأَيُّهَا الإِنسَـنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحاً
(O man! Verily, you are returning towards your Lord with your deeds and actions, a sure returning,) "Whatever deed you do, you will meet Allah with it, whether it is good or bad."
The Presentation and the Discussion that will take place during the Reckoning
Then Allah says,
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ بِيَمِينِهِ - فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(Then as for him who will be given his Record in his right hand, he surely, will receive an easy reckoning,) (84:7-8) meaning, easy without any difficulty. This means that he will not be investigated for all the minute details of his deeds. For verily, whoever is reckoned like that, he will certainly be destroyed. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that the Messenger of Allah ﷺ said,
«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّب»
(Whoever is interrogated during the reckoning, then he will be punished.) `A'ishah then said, "But didn't Allah say,
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَاباً يَسِيراً
(He surely will receive an easy reckoning,)" The Prophet replied,
«لَيْسَ ذَاكِ بِالْحِسَابِ، وَلَــكِنْ ذلِكِ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّب»
(That is not during to the Reckoning, rather it is referring to the presentation. Whoever is interrogated during the Reckoning on the Day of Judgement, then he will be punished.) This Hadith has also been recorded by Al-Bukhari, Muslim, At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Jarir. In reference to Allah's statement,
وَيَنقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And will return to his family Masrur!) This means that he will return to his family in Paradise. This was said by Qatadah and Ad-Dahhak. They also said, "Masrur means happy and delighted by what Allah has given him." Allah said;
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـبَهُ وَرَآءَ ظَهْرِهِ
(But whosoever is given his Record behind his back,) meaning, he will be given his Book in his left hand, behind his back, while his hand is bent behind him.
فَسَوْفَ يَدْعُو ثُبُوراً
(He will invoke destruction,) meaning, loss and destruction.
وَيَصْلَى سَعِيراً - إِنَّهُ كَانَ فِى أَهْلِهِ مَسْرُوراً
(And he shall enter a blazing Fire, and made to taste its burning. Verily, he was among his people in joy!) meaning, happy. He did not think about the consequences, nor feared what (future) was in front of him. His light happiness will be followed by long grief.
إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
(Verily, he thought that he would never return!) meaning, he used to believe that he would not return to Allah, nor would Allah bring him back (to life) after his death. This was said by Ibn `Abbas, Qatadah and others. Allah then says,
بَلَى إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيراً
(Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him!) meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کردی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل ؑ اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چناچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کرلے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کرلے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کرلے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہوجائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت (فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84۔ الانشقاق :8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور ﷺ یہ آسان حساب کیا ہے ؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا، طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔
16
View Single
فَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلشَّفَقِ
So by oath of the late evening’s light.
سو مجھے قَسم ہے شفق (یعنی شام کی سرخی یا اس کے بعد کے اُجالے) کی
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
17
View Single
وَٱلَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ
And by oath of the night and all that gathers in it.
اور رات کی اور ان چیزوں کی جنہیں وہ (اپنے دامن میں) سمیٹ لیتی ہے
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
18
View Single
وَٱلۡقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ
And by oath of the moon when it is full.
اور چاند کی جب وہ پورا دکھائی دیتا ہے
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
19
View Single
لَتَرۡكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٖ
You will surely go up level by level.
تم یقیناً طبق در طبق ضرور سواری کرتے ہوئے جاؤ گے
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
20
View Single
فَمَا لَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
What is the matter with them that they do not accept faith?
تو انہیں کیا ہو گیا ہے کہ (قرآنی پیشین گوئی کی صداقت دیکھ کر بھی) ایمان نہیں لاتے
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
21
View Single
وَإِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقُرۡءَانُ لَا يَسۡجُدُونَۤ۩
And when the Qur’an is recited to them, they do not fall prostrate? (Command of Prostration # 13)
اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو (اللہ کے حضور) سجدہ ریز نہیں ہوتے
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
22
View Single
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
In fact the disbelievers keep denying.
بلکہ کافر لوگ (اسے مزید) جھٹلا رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
23
View Single
وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا يُوعُونَ
And Allah well knows what they conceal in their hearts.
اور اللہ (کفر و عداوت کے اس سامان کو) خوب جانتا ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
24
View Single
فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
Therefore give them the glad tidings of a painful punishment.
سو آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیں
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔
25
View Single
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونِۭ
Except those who believed and did good deeds – for them is a reward that will never end.
مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لئے غیر منقطع (دائمی) ثواب ہے
Tafsir Ibn Kathir
Swearing by the Various Stages of Man's Journey
It has been reported from `Ali, Ibn `Abbas, `Ubadah bin As-Samit, Abu Hurayrah, Shaddad bin Aws, Ibn `Umar, Muhammad bin `Ali bin Al-Husayn, Makhul, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani, Bukayr bin Al-Ashaj, Malik, Ibn Abi Dhi'b, and `Abdul-`Aziz bin Abi Salamah Al-Majishun, they all said, "Ash-Shafaq is the redness (in the sky).`Abdur-Razzaq recorded from Abu Hurayrah that he said, "Ash-Shafaq is the whiteness." So Ash-Shafaq is the redness of the horizon, either before sunset, as Mujahid said or after sunset, as is well known with the scholars of the Arabic Language. Al-Khalil bin Ahmad said, "Ash-Shafaq is the redness that appears from the setting of sun until the time of the last `Isha' (when it is completely dark). When that redness goes away, it is said, `Ash-Shafaq has disappeared."' Al-Jawhari said, "Ash-Shafaq is the remaining light of the sun and its redness at the beginning of the night until it is close to actual nighttime (darkness)." `Ikrimah made a similar statement when he said, "Ash-Shafaq is that what is between Al-Maghrib and Al-`Isha'." In the Sahih of Muslim, it is recorded from `Abdullah bin `Amr that the Messenger of Allah ﷺ said,
«وَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَق»
(The time of Al-Maghrib is as long as Ash-Shafaq has not disappeared.)" In all of this, there is a proof that Ash-Shafaq is as Al-Jawhari and Al-Khalil have said. Ibn `Abbas, Mujahid, Al-Hasan and Qatadah, all said that,
وَمَا وَسَقَ
(and what it Wasaqa) means "What it gathers." Qatadah said, "The stars and animals it gathers." `Ikrimah said,
وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
(And by the night and what it Wasaqa,) "What it drives into due to its darkness, because when it is nighttime everything goes to its home." Concerning Allah's statement,
وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ
(And by the moon when it Ittasaqa.) Ibn `Abbas said, "When it comes together and becomes complete." Al-Hasan said, "When it comes together and becomes full." Qatadah said, "When it completes its cycle." These statements refer to its light when it is completed and becomes full, as the idea was initiated with "The night and what it gathers." Allah said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) Al-Bukhari recorded from Mujahid that Ibn `Abbas said,
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقاً عَن طَبقٍ
(You shall certainly travel from stage to stage.) "Stage after stage. Your Prophet has said this." Al-Bukhari recorded this statement with this wording. `Ikrimah said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Weaned after he was breast feeding, and an old man after he was a young man." Al-Hasan Al-Basri said,
طَبَقاً عَن طَبقٍ
(From stage to stage.) "Stage after stage. Ease after difficulty, difficulty after ease, wealth after poverty, poverty after wealth, health after sickness, and sickness after health."
The Disapproval of Their Lack of Faith, giving Them Tidings of the Torment, that the Ultimate Pleasl
Allah said,
فَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِىءَ عَلَيْهِمُ الْقُرْءَانُ لاَ يَسْجُدُونَ
(What is the matter with them, that they believe not And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate.) meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence Concerning Allah's statement,
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ
(Nay, those who disbelieve deny.) meaning, from their mannerism is rejection, obstinacy, and opposition to the truth.
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
(And Allah knows best what they gather,) Mujahid and Qatadah both said, "What they conceal in their chests."
فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(So, announce to them a painful torment.) meaning, `inform them, O Muhammad, that Allah has prepared for them a painful torment.' Then Allah says,
إِلاَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ
(Save those who believe and do righteous good deeds,) This is a clear exception meaning, `but those who believe.' This refers to those who believe in their hearts. Then the statement, "and do righteous good deeds," is referring to that which they do with their limbs.
لَهُمْ أَجْرٌ
(for them is a reward) meaning, in the abode of the Hereafter.
غَيْرُ مَمْنُونٍ
(that will never come to an end.) Ibn `Abbas said, "Without being decreased." Mujahid and Ad-Dahhak both said, "Without measure." The result of their statements is that it (the reward) is without end. This is as Allah says,
عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ
(A gift without an end.) (11:108) As-Suddi said, "Some of them have said that this means without end and without decrease." This is the end of the Tafsir of Surat Al-Inshiqaq. All praise and thanks are due to Allah, and He is the giver of success and freedom from error.
پیشین گوئی شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے مغربی کناروں پر ظاہر ہوتی ہے حضرت علی حضرت ابن عباس حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابوہریرہ، حضرت شداد بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمر، محمد بن علی بن حسین مکحول، بکر بن عبداللہ مزنی، بکیر بن الشیخ، مالک بن ابی ذئب، عبدالعزیز بن ابو سلمہ، ماجشون یہی فرماتے ہیں کہ شفق اس سرخی کو کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مراد سفیدی ہے، پس شفق کناروں کی سرخی کو کہتے ہیں وہ طلوع سے پہلے ہو یا غروب کے بعد اور اہل سنت کے نزدیک مشہور یہی ہے، خلیل کہتے ہیں عشاء کے وقت تک یہ شفق باقی رہتی ہے، جوہری کہتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے بعد جو سرخی اور روشنی باقی رہتی ہے اسے شفق کہتے ہیں۔ یہ اول رات سے عشاء کے وقت تک رہتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں مغرب سے لے کر عشاء تک، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے مغرب کا وقت شفق غائب ہونے تک ہے، مجاہد سے البتہ یہ مروی ہے کہ اس سے مراد سارا دن ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ مراد سورج ہے، غالباً اس مطلب کی وجہ اس کے بعد کا جملہ ہے تو گویا روشنی اور اندھیرے کی قسم کھائی، امام ابن جریر فرماتے ہیں دن کے جانے اور رات کے آنے کی قسم ہے۔ اوروں نے کہا ہے سفیدی اور سرخی کا نام " شفق " ہے اور قول ہے کہ یہ لفظ ان دونوں مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ وسق کے معنی ہیں جمع کیا یعنی رات کے ستاروں اور رات کے جانوروں کی قسم، اسی طرح رات کے اندھیرے میں تمام چیزوں کا اپنی اپنی جگہ چلے جانا، اور چاند کی قسم جبکہ وہ پورا ہوجائے اور پوری روشنی والا بن جائے، لترکبن الخ کی تفسیر بخاری میں مرفوع حدیث سے مروی ہے۔ کہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف چڑھتے چلے جاؤ گے، حضرت انس فرماتے ہیں جو سال آئے گا وہ اپنے پہلے سے زیادہ برا ہوگا۔ میں نے اسی طرح تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے اس حدیث سے اور اوپر والی حدیث کے الفاظ بالکل یکساں ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ (اللہ اعلم) اور یہ مطلب بھی اسی حدیث کا بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد ذات نبی ہے ﷺ اور اس کی تائید حضرت عمر ابن مسعود ابن عباس اور عام اہل مکہ اور اہل کوفہ کی قرأت سے بھی ہوتی ہے۔ ان کی قرأت ہے لترکبن۔ شعبی کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اے نبی تم ایک آسمان کے بعد دوسرے آسمان پر چڑھو گے، مراد اس سے معراج ہے، یعنی منزل بمنزل چڑھتے چلے جاؤ گے سدی کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق منزلیں طے کرو گے۔ جیسے حدیث میں ہے، کہ تم اپنے سے اگلے لوگوں کے طریقوں پر چڑھو گے بالکل برابر برابر یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہو تو تم بھی یہی کرو گے، لوگوں نے کہا اگلوں سے مراد آپ کی کیا یہود و نصرانی ہیں ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ؟ حضرت مکحول فرماتے ہیں ہر بیس سال کے بعد تم کسی نہ کسی ایسے کام کی ایجاد کرو گے جو اس سے پہلے نہ تھا، عبداللہ فرماتے ہیں، آسمان پھٹے گا پھر سرخ رنگ ہوجائے گا۔ پھر بھی رنگ بدلتے چلے جائیں گے، ابن مسعود فرماتے ہیں کبھی تو آسمان دھواں بن جائے گا پھر پھٹ جائے گا۔ حضرت سعید بن جیبر فرماتے ہیں یعنی بہت سے لوگ جو دنیا میں پست و ذلیل تھے آخرت میں بلندو ذی عزت بن جائیں گے، اور بہت سے لوگ دنیا میں مرتبے اور عزت والے تھے وہ آخرت میں ذلیل و نامراد ہوجائیں گے۔ عکرمہ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ پہلے دودھ پیتے تھے پھر غذا کھانے لگے، پہلے جوان تھے پھر بڈھے ہوئے۔ حسن بصری فرماتے ہیں نرمی کے بعد سختی سختی کے بعد نرمی، امیری کے بعد فقیری، فقیری کے بعد امیری، صحت کے بعد بیماری، بیماری کے بعد تندروستی، ایک مرفوع حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم غفلت میں ہے وہ پروا نہیں کرتا کہ کس لیے پیدا کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتے سے کہتا ہے اس کی روزی اس کی اجل، اس کی زندگی، اس کا بدیا نیک ہونا لکھ لے پھر وہ فارغ ہو کر چلا جاتا ہے، اور دوسرا فرشتہ آتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے سمجھ آجائے پھر وہ فرشتہ اٹھ جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کا نامہ اعمال لکھنے والے آجاتے ہیں۔ موت کے وقت وہ بھی چلے جاتے ہیں اور ملک الموت آجاتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں پھر قبر میں اس کی روح لوٹا دی جاتی ہے، ملک الموت چلے جاتے ہیں قیامت کے دن نیکی بدی کے فرشتے آجائیں گے اور اس کی گردن سے اس کا نامہ اعمال کھول لیں گے، پھر اس کے ساتھ ہی رہیں گے، ایک سائق ہے دوسرا شہید ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آیت (لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ 22) 50۔ ق :22) تو اس سے غافل تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت لترکبن الخ پڑھی یعنی ایک حال سے دوسرا حال پھر فرمایا لوگو تمہارے آگے بڑے بڑے ہم امور آ رہے ہیں جن کی برداشت تمہارے بس کی بات نہیں لہذا اللہ تعالیٰ بلندو برتر سے مدد چاہو، یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے، منکر حدیث ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں لیکن اس کا مطلب بالکل صحیح اور درست ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ امام ابن جریر نے ان تمام اقوال کو بیان کر کے فرمایا ہے کہ صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ اے محمد ﷺ سخت سخت کاموں میں ایک کے بعد ایک سے گزرنے والے ہیں اور گو خطاب حضور ﷺ سے ہی ہے لیکن مراد سب لوگ ہیں کہ وہ قیامت کی ایک کے بعد ایک ہولناکی دیکھیں گے، پھر فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا یہ کیوں نہیں ایمان لاتے ؟ اور انہیں قرآن سن کر سجدے میں گر پڑنے سے کونسی چیز روکتی ہے، بلکہ یہ کفار تو الٹا جھٹلاتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں اور سرکشی میں اور برائی میں پھنسے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جنھیں یہ چھپا رہے ہیں بخوبی جانتا ہے، تم اے نبی ﷺ انہیں خبر پہنچا دو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب تیار کر رکھے ہیں، پھر فرمایا کہ ان عذابوں سے محفوط ہونے والے بہترین اجر کے مستحق ایماندار نیک کردار لوگ ہیں، انہیں پورا پورا بغیر کسی کمی کے حساب اور اجر ملے گا، جیسے اور جگہ ہے آیت (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ01008) 11۔ ھود :108) بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بلا احسان لیکن یہ معنی ٹھیک نہیں ہر آن پر لحظہ اور ہر وقت اللہ تعالیٰ عز و جل کے اہل جنت پر احسان و انعام ہوں گے بلکہ صرف اس کے احسان اور اس کے فعل و کرم کی بنا پر انہیں جنت نصیب ہوئی نہ کہ ان کے اعمال کی وجہ سے پس اس مالک کا تو ہمیشہ اور مدام والا احسان اپنی مخلوق پر ہے ہی، اس کی ذات پاک ہر طرح کی ہر وقت کی تعریفوں کے لائز ہمیشہ ہمیشہ ہے، اسی لیے اہل جنت پر اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کا الہام اسی طرح کیا جائے جس طرح سانس بلا تکلیف اور بےتکلف بلکہ بےارادہ چلتا رہتا ہے، قرآن فرماتا ہے آیت (واخر دعوٰ ھم ان الحمد اللّٰہ رب العالمین) یعنی ان کا آخری قول یہی ہوگا کہ سب تعریف جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے ہی ہے، الحمد اللہ سورة انشقاق کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ ہمیں توفیق خیر دے اور برائی سے بچائے، آمین۔